5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 5:58

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:58 in the Quran reader

اور جب تم لوگ نماز کے لیے اذان دیتے ہو تو یہ اسے بھی ہنسی اور کھیل بناتے ہیں یہ اس لیے کہ سمجھ نہیں رکھتے

واذا نادیتم الی الصلوٰۃ اتخذوہا ہزوا ولعبا اور جب تم نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو وہ نماز کا کا مذاق اور کھیل بناتے ہیں۔ اتخذوہا کی ضمیر نماز کی طرف راجع ہے یا نداء کی طرف۔ اذا نادیتمکا عطف اتخذوا پر ہے یعنی ایسے لوگوں کو دوست نہ بناؤ جو تمہاری نماز کا مذاق اڑاتے ہیں اور کھیل بناتے ہیں۔ ابن ابی حاتم نے سدی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ مدینہ میں ایک عیسائی تھا جب مؤذن کو اشہد ان محمد رسول اللّٰہکہتے سنتا تو کہتا اللہ جھوٹے کو جلا دے ایک رات اس کا خادم آگ لے کر آیا نصرانی اور اس کی بیوی سو رہے تھے اتفاق سے آگ کی ایک چنگاری اڑ کر عیسائی پر جا پڑی جس سے وہ خود بھی جل گیا اور اس کی بیوی بھی۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ کفار جب اذان سنتے تو جل جاتے ایک بار رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر انہوں نے عرض کیا محمد تم نے ایک ایسی بدعت نکالی ہے کہ تم سے پہلے کسی امت میں اس کی نظیر کہیں سننے میں نہیں آئی اگر تم نبوت کے مدعی ہو تو اس بدعت کو ایجاد کر کے تم نے گزشتہ انبیاء کی کیوں مخالفت کی۔ اگر اس میں کوئی بھلائی ہوتی تو انبیاء اس بھلائی کے زیادہ مستحق تھے انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا ‘ یہ مینڈھے کی طرح چیخنا تم نے کہاں سے سیکھا۔ کیسی بری آواز ہوتی ہے اور یہ کام کتنا قبیح ہے اس پر آیت وَمَنْ اَحْسَنَ قَوْلاً مِمَّنْ دَعَا اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًانازل ہوئی اور یہ آیت بھی اتری۔ ذلک بانہم قوم لا یعقلون یہ (حق سے استہزاء) اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ سمجھتے نہیں۔ کیوں کہ عقل کا تقاضا تو یہ تھا کہ استہزاء نہ کرتے اور کسی چیز کی اچھائی برائی پر غور کرتے۔ یہ آیت بتارہی ہے کہ کافروں میں دینی سمجھ نہیں ہوتی خواہ دنیا کے معاملات میں کتنے ہی ہوشیار ہوں اس سے معلوم ہوا کہ عقل و حواس سے سوچنا اور انجان چیزوں پر غور کرنا حصول علم کی علت موجبہ نہیں (اگرچہ فلاسفہ صحیح غور وفکر کو حصول علم کا لازمی سبب قرار دیتے ہیں) بلکہ اللہ کا قانون اور دستور ہے کہ اگر آدمی صحیح غور و فکر کرتا ہے تو خدا انجان چیز کا علم عطا کردیتا ہے۔ (تو گویا غور و فکر ! اور نتیجہ کے درمیان اصل چیز اللہ کی مشیت ہے) ۔ ابن جریر نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے بیان کیا کہ کچھ یہودی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حاضر ہونے والوں میں ابو یاسر بن اخطب رافع بن ابی رافع اور عاری بن عمرو بھی تھے ‘ ان لوگوں نے حضور ﷺ سے دریافت کیا ‘ آپ کا ایمان کن کن پیغمبروں پر ہے (یعنی آپ کس کس کو پیغمبر مانتے ہیں) حضور ﷺ نے فرمایا میں ایمان رکھتا ہوں اللہ پر اور جو کچھ ابراہیم ‘ اسماعیل ‘ اسحاق ‘ یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوا اور جو کچھ موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا گیا اور جو کچھ (دوسرے) انبیاء کو اللہ کی طرف سے عطا کیا گیا سب پر میرا ایمان ہے۔ ہم ان میں سے کسی ایک کی بھی تفریق نہیں کرتے (کہ بعض کو سچا جانیں اور بعض کو جھوٹا) ہم تو اللہ کے فرمانبردار ہیں ‘ عیسیٰ کا نام سن کر یہودیوں نے عیسیٰ کو پیغمبر ماننے سے انکار کردیا اور بولے ہم نہ عیسیٰ کو مانتے ہیں نہ اس کو جو عیسیٰ کو (پیغمبر) مانتا ہے۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ یہودیوں نے کہا خدا کی قسم تم لوگوں میں زیادہ دنیا و دین میں کوئی دوسرا کم نصیب اور تمہارے دین سے زیادہ برا دین ہمارے علم میں بھی نہیں آیا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 5:59

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:59 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب! تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوا اس کے کہ ہم خدا پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر بدکردار ہیں

قل یاہل الکتاب ہل الکتاب ہل تنقمون منا الا ان امنا باللّٰہ وما انزل الینا وما انزل من قبل آپ کہہ دیں اے اہل کتاب کیا تم کو ہماری بس یہ بات بری لگتی ہے کہ ہم اللہ اور اس کتاب کو جو ہمارے پاس بھیجی گئی اور ان کتابوں کو جو اس سے پہلے نازل کی گئیں مانتے ہیں ‘ استفہام انکاری ہے یعنی ہمارا یہ ایمان تم کو برا نہ لگنا چاہئے اسکی خوبی تو کھلی ہوئی ہے۔ نقمۃ ‘ برا عیب ‘ انتقام برائی کا بدلہ۔ تنقمونتم برا جانتے ہو ‘ عیب دار سمجھتے ہو ‘ مکروہ قرار دیتے ہو مناہم سے یعنی ہمارے کردار اور اطوار میں سے۔ وان اکثرکم فاسقون اور یقیناً تم میں سے اکثر کافر ہیں۔ واو حالیہ ہے اور پورا جملہ تنمقون کی ضمیر سے حال ہے ‘ مطلب یہ کہ تم میں سے اکثر کافر ہیں۔ آسمانی کتابوں کے منکر ہیں اور ہمارے اوصاف تمہارے اوصاف سے اچھے ہیں۔ ہم آسمانی کتابوں کا اقرار کرتے ہیں ‘ تم اچھی بات کو برا سمجھتے ہو اور بری بات کو برا نہیں جانتے یا واو عاطفہ ہے امنا پر عطف ہے یعنی تم کو ہماری یہ بات بری لگتی ہے کہ ہم تمہارے مخالف ہیں ہم مؤمن ہیں اور تم ایمان سے خارج (اس جملہ کی ترکیب و ترتیب حضرت مولف نے بعض دوسری وجوہ سے بیان کی ہے لیکن معنی میں زیادہ فرق پیدا نہیں ہوتا اس لئے ہم نے چند سطروں کا اس جگہ ترجمہ دینا مناسب سمجھا) یا واو بمعنی مع ہے یعنی تم ہمارے ایمان لانے کو برا سمجھتے ہو باوجودیکہ خود تم میں سے اکثر کافر ہیں۔ ایک شبہ : عام اہل نحو کے نزدیک مفعول معہ کے لئے مصاحبت ضروری ہے اس لئے آیت مذکورہ میں واو بمعنی مع نہیں ہوسکتا ہاں اخفش کے نزدیک چونکہ مقارنت وجود کافی ہے اس لئے مذکورہ جملہ کو مفعول معہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ جواب : جمہور کے نزدیک مفعول معہ ہونے کے لئے بیشک مصاحبت شرط ہے لیکن ہر واو جو بمعنی مع ہو اس کے مدخول کا مفعول معہ ہونا تو ضروری نہیں پھر مفعول معہ ہونے کی شرط ہر اس واو میں جو بمعنی مع ہو کیسے لاگو ہوسکتی ہے۔ جملۂ مذکورہ محل جر میں بھی ہوسکتا ہے اس وقت مطلب اس طرح ہوگا چونکہ ہمارا ایمان اللہ پر اور اللہ کی کتابوں پر اور تمہاری اکثریت کے کافر ہونے پر ہے ‘ ہماری یہ ہی بات تم کو بری لگتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خبر محذوف ہو اور جملۂ مذکورہ مبتدا ہو مطلب اس طرح ہوگا یہ تو تم کو بھی معلوم ہے کہ تم میں سے اکثرفاسق ہیں لیکن مال اور سرداری کی محبت تم کو انصاف سے کام نہیں لینے دیتی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تنقمون کی علت ہو مطلب یوں ہوگا ہماری کسی بات کو تم اور کسی وجہ سے برا نہیں جانتے صرف اس وجہ سے برا جانتے ہو کہ ہم مؤمن ہیں اور تم میں سے اکثر کافر ہیں۔
Ayah 5:60

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

کہو کہ میں تمہیں بتاؤں کہ خدا کے ہاں اس سے بھی بدتر جزا پانے والے کون ہیں؟ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور جن پر وہ غضبناک ہوا اور (جن کو) ان میں سے بندر اور سور بنا دیا اور جنہوں نے شیطان کی پرستش کی ایسے لوگوں کا برا ٹھکانہ ہے اور وہ سیدھے رستے سے بہت دور ہیں

قل ہل انبئکم بشر من ذلک مثوبۃ عند اللہ (اے محمد ان یہودیوں سے) آپ کہہ دیں کہ کیا میں تم کو ایسا طریقہ بتاؤں جو پاداش ملنے میں اس طریقہ سے (جس کو تم معیوب اور برا سمجھتے ہو) زیادہ برا ہے۔ مثوبۃ اور عقوبت ‘ پاداش عمل اوّل اچھی پاداش کے ساتھ مخصوص ہے اور دوسرا بری پاداش کے ساتھ ‘ لیکن اس جگہ بجائے عقوبت کے لفظ مثوبت کا استعمال بطور استہزاء ہے جیسے دوسری آیت میں آیا ہے بَشِرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍان کو دردناک عذاب کی خوش خبری دے دو (عذاب کی خبر تکلیف دہ ہوتی ہے بشارت نہیں ہوتی لیکن بشارت کا استعمال بطور استہزاء کیا گیا ہے) بغوی نے لکھا ہے کہ ایمان باللہ وبالرسول اگرچہ بری بات قطعاً نہیں ہے لیکن یہودیوں نے چونکہ کہا تھا کہ ہم نے دنیا و دین میں کم نصیب تم سے بڑھ کر نہیں دیکھا اور نہ کسی مذہب کو تمہارے مذہب سے زیادہ برا پایا ان کی تردید میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا جس کو تم برا قرار دیتے ہو ‘ اس سے بھی برا ‘ ان لوگوں کا طریقہ ہے الخ یہی اسلوب ادا دوسری آیت میں اختیار کیا ہے ‘ فرمایا ہے ا انبئکم بشرمن ذلکم النار۔ من لعنہ اللہ وغضب علیہ وجعل منہم القردۃ والخنازیر وعبد الطاغوت یہ ان لوگوں کا طریقہ ہے جن پر اللہ نے لعنت کی اور غضب نازل کیا ‘ اور ان میں سے (بعض کو) بندر اور بعض کو سور بنا دیا اور انہوں نے شیطان کی پوجا کی۔ عبد ماضی کا صیغہ ہے الطاغوت مفعول ہے اس کا عطف لعنہ پر ہے ‘ الطاغوت سے مراد یا بچھڑا ہے شیطان کی تعبیر بچھڑے سے بطور مجاز کی گئی ہے معبودیت باطلہ کی صفت میں دونوں شریک ہیں یا شیطان ہی مراد ہے کیونکہ شیطانی اغوا سے ہی انہوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی ‘ بعض علماء کا قول ہے کہ اس سے مراد کاہن اور وہ سب مقتدا ہیں جن کے احکام پر وہ گناہوں کے معاملہ میں بھی چلتے تھے۔ اولئک شر مکانا ایسے لوگ بدترین مقام والے ہیں یعنی ہر برے سے برے ہیں۔ بدترین مقام والے کہنے میں ان کے برے ہونے کا پُر قوت اظہار ہے۔ واضل عن سوآء السبیل اور راہ راست سے بھی بالکل بھٹکے ہوئے ہیں۔
Ayah 5:61

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے حالانکہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لیکر جاتے ہیں اور جن باتوں کو یہ مخفی رکھتے ہیں خدا ان کو خوب جانتا ہے

واذا جآء و کم قالوا امنا اور (منافق) جب آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم آپ پر ایمان لے آئے (حالانکہ دلوں میں کفر کو چھپائے ہوتے ہیں) وقد دخلوا بالکفر وہم قد خرجوا بہ باوجودیکہ کفر لے کر آئے اور کفر لے کر ہی نکلے یعنی امنا بک جھوٹ کہتے ہیں جس طرح کافر آئے تھے ویسے ہی آپ کے پاس سے گئے آپ کی نصیحت کا کوئی اثر نہیں لیا۔ واللہ اعلم بما کانوا یکتمون اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ چھپائے رکھتے ہیں ‘ اس آیت میں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب کی منافقوں کو دھمکی ہے۔
Ayah 5:62

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

اور تم دیکھو گے کہ ان میں اکثر گناہ اور زیادتی اور حرام کھانے میں جلدی کر رہے ہیں بےشک یہ جو کچھ کرتے ہیں برا کرتے ہیں

وتری کثیرا منہم اور ان (یہودیوں یا منافقوں) میں سے آپ بہتوں کو دیکھیں گے۔ یسارعون فی الاثم والعدوان واکلہم السحت تیزی کے ساتھ گھستے ہوئے گناہ اور ظلم اور حرام خوری میں۔ بعض علماء کے نزدیک اثم سے مراد گناہ اور عدوان سے مراد ظلم ہے (جیسا ہم نے ترجمہ کیا ہے) اور بعض علماء کے نزدیک اثم سے مراد ہے توریت کی بعض آیات کو چھپانا اور عدوان سے مراد ہے توریت میں کچھ اپنی طرف سے بڑھانا۔ حرام خوری کا خصوصیت کے ساتھ ذکر اس لئے کیا کہ وہ رشوتیں کھا کر رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے سے روکتے۔ تحریف توریت پر آمادہ کرتے اور اللہ پر دروغ تراشی کرتے تھے۔ یہ وصف خصوصیت کے ساتھ قابل مذمت تھا۔ لبئس ما کانوا یعملون بلاشبہ ان کے یہ اعمال برے ہیں ‘ پہلے ان کی بداعتقادی کو ظاہر کیا اور اس آیت میں بداعمال کا ذکر کیا تاکہ ان کے منافق ہونے کا ثبوت واضح ہوجائے۔
Ayah 5:63

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

بھلا ان کے مشائخ اور علماء انہیں گناہ کی باتوں اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کرتے؟ بلاشبہ وہ بھی برا کرتے ہیں

لولا ینہہم الربانیون والاحبار عن قولہم الاثم واکلہم السحت مشائخ اور علماء ان کو گناہ کی باتیں کہنے (یعنی جھوٹ کہنے) اور حرام کھانے سے کیوں منع نہیں کرتے ‘ اس آیت میں مشائخ و علماء کو سخت زجر ہے کیونکہ ان کا فرض تو یہ تھا کہ دوسروں کو برائی سے روکیں بجائے روکنے کے وہ برائی کا حکم دیتے بلکہ خود بھی کرتے تھے ‘ بعض اہل تفسیر کے نزدیک الربانیون سے علماء نصاریٰ اور احباء سے علماء یہود مراد ہیں۔ لبئس ما کانوا یصنعون یقیناً ان کی یہ بری عادت ہے۔ یَعْمَلُوْنَسے یَصْنَعُوْنَمیں زیادہ زور اور بلاغت ہے ‘ کیونکہ صنع کا معنی ہے مشاق ہوجانے اور عادی بن جانے کے بعد کسی کام کا کرنا (گویا گناہ کرنے کی ان کی عادت اور مشق ہوگئی ہے) اس لئے یصنعونکے لفظ سے خواص کی مذمت فرمائی۔ صاحب مدارک نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا قرآن میں یہ شدید ترین آیت ہے کہ برائی سے بازداشت نہ کرنے والے کو مرتکب گناہ کی طرح وعید کی گئی ہے بلکہ برائی سے نہ روکنے والوں کو دھمکی زیادہ قوت کی حامل ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ بھلائی کو ترک کرنا گناہ سے زیادہ برا ہے کیونکہ معصیت میں تو نفس کے لئے لذت ہوتی ہے طبیعت کا جھکاؤ ہوتا ہے لیکن بھلائی کے ترک میں نہ لذت ہوتی ہے نہ میلان طبع اس لئے بھلائی کا ترک زیادہ مذمت کے قابل ہے۔
Ayah 5:64

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

اور یہود کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ (گردن سے) بندھا ہوا ہے (یعنی الله بخیل ہے) انہیں کے ہاتھ باندھے جائیں اور ایسا کہنے کے سبب ان پر لعنت ہو (اس کا ہاتھ بندھا ہوا نہیں) بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں وہ جس طرح (اور جتنا) چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور (اے محمد) یہ (کتاب) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی اس سے ان میں سے اکثر کی شرارت اور انکار اور بڑھے گا اور ہم نے ان کے باہم عداوت اور بغض قیامت تک کے لیے ڈال دیا ہے یہ جب لڑائی کے لیے آگ جلاتے ہیں خدا اس کو بجھا دیتا ہے اور یہ ملک میں فساد کے لیے دوڑے پھرتے ہیں اور خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

وقالت الیہود ید اللہ مغلولۃ اور یہودیوں نے کہا اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ عکرمہ ‘ ضحاک اور قتادہ نے کہا کہ یہودی بڑے مال دار فراخ دست اور دولت مند تھے لیکن جب انہوں نے اللہ کی نافرمانی اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی تو اللہ نے جو فراخی اور کشائش ان کو عطا فرمائی تھی تنگی سے بدل دی اس وقت انہوں نے اللہ کو بخیل کہنا شروع کردیا اور بنی قینقاع کے سردار فخاص بن عازورا نے کہا اللہ کا ہاتھ تو رزق دینے سے بندھ گیا۔ ابوالشیخ ابن حبان نے اپنی تفسیر میں حضرت ابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے کہ لیکن طبرانی نے حضرت ابن عباس کا بیان اس طرح نقل کیا ہے کہ ایک یہودی نے جس کو نباش بن قیس کہا جاتا تھا کہا کہ تیرا رب بخیل ہے کچھ دیتا نہیں۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ قول مذکور کا قائل فخاص یا بناش تھا لیکن دوسرے لوگوں نے چونکہ اس کو منع نہیں کیا اور وہ بھی اس قول پر راضی رہے تو اللہ نے اس قول میں ان کو شریک قرار دیا اور اس بات کی نسبت سب کی طرف کردی۔ ہاتھ باندھنے اور کھلنے سے مراد ہوتا ہے بخل اور سخاوت کرنا۔ دوسری آیت میں آیا ہے ولا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰی عُنْقِکَ وَلاَ تَبْسُطْہَا کُلَّ الْبَسْطِ ۔ غلت ایدیہم ایدیہم ولعنوا بما قالوا انہی کے ہاتھ بندھ گئے اور اس کہنے کی وجہ سے ان پر ٹھپکار پڑی۔ غلتیا بددعا کے طور پر فرمایا اس وقت ترجمہ اس طرح ہوگا انہی کے ہاتھ بندھ جائیں یعنی یہ مفلس محتاج ہوجائیں یا ہاتھ بندھنے سے حقیقتاً ہاتھ بندھ جانا مراد ہے یعنی دنیا میں ہتھکڑیاں پہننا قید ہوجانا یا دوزخ کے اندر طوق و زنجیروں سے جکڑا جانا۔ بل یداہ اللہ مبسوطتان (اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا نہیں) بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں ‘ اللہ کا ہاتھ ہونا بھی دیکھنے اور سننے کی طرح اللہ کی ایک مخصوص صفت ہے جس کی حقیقت کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا ہم پر اس کو ماننا اور ایمان لانا فرض ہے لیکن انسانی ہاتھ پر اس کو قیاس نہ کرنا چاہئے ‘ انسانی ہاتھ کی ہر حالت اور کیفیت سے وہ پاک ہے اہل سنت کے تمام ائمہ سلف کا قول ہے کہ ان صفات کا جس طرح ذکر آیا ہے اسی کو مانا جائے اور کسی کیفیت کا بیان نہ کیا جائے۔ حضرت عمرو بن عنسہ کا بیان ہے میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا حضور ﷺ فرما رہے تھے ‘ رحمن کے دائیں ہاتھ کی طرف ‘ اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو نہ پیغمبر ہوں گے نہ شہید مگر انبیاء اور شہیداء ان کے مرتبہ اور قرب پر رشک کریں گے ان کے چہروں کا نور دیکھنے والوں کی نگاہوں کو چندھیا دے گا عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ وہ کون لوگ ہوں گے ‘ فرمایا وہ ان لوگوں کی جماعتیں ہوں گی جو اپنے اپنے قبائل سے نکل کر ذکر خدا کے لئے جمع ہوتے ہیں اور جس طرح پاکیزہ چیزوں کا کھانا مرغوب ہوتا ہے اسی طرح پاکیزہ کلام ان کو مرغوب ہوتا ہے۔ رواہ الطبرانی بسند جید۔ (1) [ ان جماعتوں سے مراد پاک باطن خانقاہ نشین صوفیہ اور مدارس اسلامیہ کے طلبہ ہیں۔ از مولف ] متاخرین علماء نے دست خدا کی تاویل کی ہے اور قدرت قبضہ وغیرہ بطور مجاز مراد لیا ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ دونوں ہاتھوں کے کشادہ ہونے سے انتہائی سخاوت مراد ہے ‘ دو ہاتھ کہنے سے اس طرح اشارہ ہے کہ وہ قطعاً بخیل نہیں ہے کامل طور پر سخی ہے کیونکہ سخی کی انتہائی سخاوت یہی ہوتی ہے کہ وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا مال دے۔ دنیا اور آخرت کی عطا کی طرف بھی اس سے اشارہ ہے (ایک ہاتھ سے دنیا اور دوسرے ہاتھ سے آخرت کے انعام) یا یوں کہو کہ اللہ کی طرف سے عطا دو طرح کی ہوتی ہے ایک ڈھیل دینے کے لئے دوسری عزت افزائی کے لئے (دونوں ہاتھوں سے دینے سے اس طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے) ینفق کیف یشآء وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے ‘ یعنی اپنی حکمت کے مطابق کبھی کبھی روزی میں فراخی دیتا ہے کبھی تنگی کردیتا ہے۔ ایک وہم یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ کسی انسان کی روزی کی تنگی کا باعث شاید بخل عطاء ہو اس وہم کو دور کرنے اور مفہوم سخاوت کو پختہ کرنے کے لئے فرما دیا کہ وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ ولیزیدن کثیرا منہم ما انزل الیک من ربک طغیانا وکفرا اور جو قرآن آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے بھیجا جاتا ہے وہ ان میں سے بہتوں کی مزید سرکشی اور ترقی کفر کا سبب ہوجاتا ہے ‘ جس طرح عمدہ طاقتور غذا سے تندرست کی صحت اور بیمار کی بیماری میں ترقی ہوتی ہے اسی طرح قرآن مجید سے ان کے خبث وطن کی وجہ سے سرکشی اور کفر کا ان کے اندر اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کی تشریح بعض علماء نے یہ کی ہے کہ جب کوئی آیت اترتی تھی تو وہ اس کا انکار کرتے تھے اس طرح کفر اور سرکشی میں اضافہ ہوتا جاتا تھا ‘ بعض علماء نے یہ توضیح کی کہ نزول قرآن کے وقت وہ حسد کرتے اور کفر میں آگے بڑھتے چلے جاتے تھے ‘ نزول قرآن کی جانب اضافۂ کفر کی نسبت ایسی ہے جیسے کسی چیز کی نسبت سبب بعید کی طرف مجازاً کردی جاتی ہے۔ والقینا بینہم العداوۃ والبغضآء الی یوم القیامۃ اور ہم نے ان (یہودیوں اور عیسائیوں) کے درمیان قیامت کے دن تک دشمنی اور بغض ڈال دیا۔ حسن و مجاہد نے بینہم کی ضمیر کا مرجع یہود و نصاریٰ کو قرار دیا ہے۔ بعض علماء کے نزدیک صرف یہودیوں کے مختلف فرقے مراد ہیں یعنی اللہ نے یہودیوں کے فرقوں میں دین کے سلسلہ میں اختلاف ڈال دیا کہ قیامت تک ان کے درمیان نہ اتفاق قومی ہوگا نہ اتحاد قلبی۔ کلما او قدوا نارا للحرب اطفاہا اللہ اور جب بھی انہوں نے لڑائی کی آگ بھڑکائی اللہ نے اس کو بجھا دیا۔ حسن نے اس کا یہ مطلب بیان کیا کہ جب بھی یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے جنگ کرنے اور آپ ﷺ کے خلاف شرارت برپا کرنے کا ارادہ کیا ‘ اللہ نے ان کے درمیان اختلاف پیدا کردیا جس کی وجہ سے ان کی شرارت رک گئی اللہ نے ان کو ناکام و مقہور کردیا اور اپنے دین و پیغمبر کو نصرت عنایت فرما دی۔ قتادہ نے کہا آیت میں یہودیوں کی ہر جنگ مراد ہے جب انہوں نے فساد مچایا اور توریت کے حکم کی خلاف ورزی کی تو اللہ نے ضطنوس رومی کو ان پر مسلط کردیا پھر دین کو تباہ کردیا تو مجوسیوں (کیرش) کو ان پر مسلط کیا پھر فساد پھیلایا تو مسلمانوں کو ان پر مسلط کیا ہر بستی میں تم کو یہودی سب سے زیادہ ذلیل دکھائی دیں گے۔ ویسعون فی الارض فسادا اور یہ زمین میں تباہی پھیلاتے پھرتے ہیں یعنی لڑائیاں اور فتنے برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں یَسْعَوْنَ کا ترجمہ یَطْلُبُوْنَ سے بھی ہوسکتا ہے یعنی فساد و کفر کی طلب اور دین اسلام کو مٹانے کی کوشش اور اپنی کتابوں سے رسول اللہ ﷺ کے ذکر کو محو کردینے کی سعی کرتے ہیں۔ واللہ لا یحب المفسدین اور اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا اس لئے ان کو سزا دے۔ (2) [ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا امت موسیٰ کے اکہتر فرقے بن گئے جن میں سے ستر دوزخی اور ایک جنتی ہوا اور امت عیسیٰ بہتر فرقوں میں بٹ گئی جن میں ایک جنتی اور اکہتر دوزخی ہوئے اور میری امت آئندہ تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی جن میں ایک جنتی اور بہتر دوزخی ہوں گے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ (جنتی) کون ہوں گے۔ فرمایا جماعتیں جماعتیں (یعنی اہل جماعت) رواہ ابن مردویہ من طریق یعقوب بن زید بن طلحۃ عن زید بن اسلم عن انس۔ یعقوب بن زید (جو مذکورہ حدیث کا ایک راوی ہے) نے کہا جب حضرت علیٰ بن ابی طالب اس حدیث کو مرفوعاً بیان کرتے تھے تو یہ آیت پڑھتے تھے۔ وَلَوْ اَنَّ اَہْلَ الْکِتَابِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا۔۔ سَآء مَا یَعْمَلُوْنَتک میں کہتا ہوں کہ نجات یافتہ فرقہ وہ ہے جو اللہ کی کتاب کو پکڑے ہوئے ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے جب فرمایا کہ (ایسا) اس وقت ہوگا جب علم جاتا رہے گا تو زیاد بن لبید نے کہا (یا رسول اللہ ﷺ علم کیسے جاتا رہے گا ہم قرآن پڑھتے ہیں اپنے بچوں کو بھی پڑھائیں گے اور ہمارے بچے اپنے بچوں کو پڑھائیں گے اور وہ اپنے بچوں کو پڑھائیں گے قیامت تک یوں ہی سلسلہ جاری رہے گا ‘ فرمایا ابن لبید تیری ماں تجھے روئے ‘ میں تو تجھے مدینہ کے لوگوں میں بڑا سمجھ دار جانتا تھا کیا یہ یہودی اور عیسائی توریت اور انجیل نہیں پڑھتے ہیں لیکن توریت و انجیل کے اندر جو (ہدایت) ہے اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ابن جریر نے جبیر بن سیر کی روایت سے بھی یہ حدیث بیان کی ہے اس روایت میں یہ الفاظ ہیں ‘ پھر آپ نے پڑھا وَلَوْ اَنَّہُمْ اَقَامُوا التَّوْرَاۃَ وَالْاِنْجِیْلَ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِمْ مِّنْ رَّبِّہِمْ لاَکَلُوْا مِنْ فَوِقِہِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِہِمْ ۔]
Ayah 5:65

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو ہم ان سے ان کے گناہ محو کر دیتے اور ان کو نعمت کے باغوں میں داخل کرتے

ولو ان اہل الکتاب امنوا اور اگر اہل کتاب (محمد ﷺ اور قرآن پر) ایمان لے آتے۔ واتقوا اور (کفر و معاصی سے) پرہیز رکھتے۔ لکفرنا عنہم سیاتہم تو ہم ان سے ان کے گناہ ساقط کرتے ‘ یعنی گزشتہ گناہ خواہ کتنے ہی بڑے ہوتے معاف کردیتے ‘ حضرت عمرو بن عاص کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہاتھ پھیلائیے میں آپ سے بیعت کروں گا۔ حضور ﷺ نے نے ہاتھ پھیلا دیا مگر میں نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا فرمایا عمرو کیا بات ہے میں نے عرض کیا میں ایک شرط کرنی چاہتا ہوں ‘ فرمایا وہ کیا ہے بیان کرو میں نے عرض کیا میں یہ شرط لگانی چاہتا ہوں کہ میرے (گزشتہ) قصور معاف کردیئے جائیں ‘ فرمایا عمرو کیا تم کو نہیں معلوم کہ اسلام سابق گناہوں کو ڈھا دیتا ہے اور ہجرت بھی پہلے کئے ہوئے گناہوں کو گرا دیتی ہے اور حج بھی گزشتہ گناہوں کو منہدم کردیتا ہے۔ رواہ مسلم۔ ولادخلنا ہم جنات النعیم اور بیشک ہم انکو راحت کی جنتوں میں داخل کرتے کیونکہ جنت میں داخلہ کی شرط ایمان ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قسم ہے اس کی جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے جو یہودی اور عیسائی میری رسالت کی خبر سن لے پھر اس پر ایمان نہ لائے جو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے اور اسی حالت میں مرجائے تو ضرور دوزخی ہوگا ‘ رواہ مسلم من حدیث ابی ہریرہ ؓ ۔
Ayah 5:66

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھتے (تو ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ) اپنے اوپر سے پاؤں کے نیچے سے کھاتے ان میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں

ولو انہم اقاموا التوراۃ والانجیل اور اگر وہ توریت و انجیل کو قائم رکھتے یعنی ان کے ضوابط و احکام کی پابندی رکھتے اور ان پر عمل کرتے ان میں بگاڑ نہ پیدا کرتے اور نہ ان کی کوئی آیت (وحکم) پوشیدہ رکھتے انہی احکام میں سے ایک حکم یہ بھی تھا کہ محمد ﷺ پر ایمان لائیں گے اور آپ ﷺ کے جو اوصاف اللہ نے توریت میں بیان کردیئے ہیں ان کو کھول کر بیان کریں گے۔ وما انزل الیہم من ربہم اور ان کتابوں کو بھی قائم رکھتے جو اللہ نے ان کے پاس بھیجی ہیں یعنی قرآن ‘ زبور اور تمام آسمانی کتابیں چونکہ اہل کتاب سب ہی کتابوں پر ایمان لانے پر مامور تھے اس لئے گویا سب کتابیں انہی کے پاس بھیجی گئیں۔ لاکلوا من فوقہم ومن تحت ارجلہم تو اپنے اوپر سے اور اپنے قدموں کے نیچے سے کھاتے ‘ فراء نے کہا اس سے مراد ہے رزق کی انتہائی فراخی ‘ عرب کہتے ہیں فلاں شخص از سر تا پا خیر میں ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا اوپر سے بارش ہوتی اور نیچے زمین سرسبز ہوجاتی اور کھیتیاں پیدا ہوتیں۔ اسی کی طرح دوسری آیت میں آیا ہے وَلَوْ اَنَّ اَہْلَ الْقُریٰ اٰمَنُوْا وَاتَّقُوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَرَکَاتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِاگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور ممنوعات سے بچتے تو ہم آسمان و زمین سے ان کے لئے برکتوں کے دروازے کھول دیتے ‘ حاصل مطلب یہ ہے کہ ان پر رزق کی تنگی اللہ کے بخیل بن جانے کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ ان کے کفر و معاصی کی نحوست کی وجہ سے ہوئی۔ منہم امۃ مقتصدۃ ان میں کچھ لوگ تو عادل ہیں نہ افراط میں مبتلا ہیں نہ تفریط میں ‘ حضرت عبداللہ بن سلام اور آپ جیسے دوسرے مؤمنین اہل کتاب کا یہ گروہ تھا۔ وکثیر منہم سآء ما یعملون اور ان میں سے بہتوں کے اعمال خراب ہیں ‘ یعنی حق سے عناد ‘ اللہ کی کتاب میں تحریف اور اس سے روگردانی اور رسول اللہ ﷺ سے عداوت یہ سب ان کی بری حرکتیں ہیں۔ ابوالشیخ نے حسن (بصری) کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ نے اپنا پیام دے کر مجھے مبعوث فرمایا میں نے اپنے دل میں بڑی تنگی محسوس کی اور خیال کیا کہ لوگ ضرور میری تکذیب کریں گے لیکن اللہ نے مجھے وعید آمیز حکم دیا کہ یا تو پیام پہنچاؤ ورنہ میں تم کو عذاب دوں گا۔ اس وقت آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 5:67

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:67 in the Quran reader

اے پیغمبر جو ارشادات خدا کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہنچا دو اور اگر ایسا نہ کیا تو تم خدا کے پیغام پہنچانے میں قاصر رہے (یعنی پیغمبری کا فرض ادا نہ کیا) اور خدا تم کو لوگوں سے بچائے رکھے گا بیشک خدا منکروں کو ہدایت نہیں دیتا

یایہا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک اے پیغمبر آپ کے پاس آپ (1) [ ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور ابن عساکر نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ آیت یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من رب ک، غدیر خم کے دن حجرت علی بن ابی طالب کے حق میں نازل ہوئی، ابن مردویہ نے حضرت ابن مسعود کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ کے زمانہ میں ہم (یہ آیت اس طرح) پڑھتے تھے۔ یا ایاھ الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک ان علیا مولی المومنین وان لم تفعل فما بلغت رسالہ واللہ یعصمک من الناس۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت مذکورہ غدیر خم کے دن نازل ہوئی لیکن غدیر خم کے دن اس کا نزول تسلیم کرنا ہدایت اور روایت دونوں کے خلاف ہے اس آیت بلکہ پوری سورت کی رفتار بتارہی ہے کہ غدیر خم کے دن اس آیت کا نزول نہیں ہوا۔ بخاری نے صحیح میں حجرت عائشہ کی روایت سے اور اسی کی تائید میں ترمذی اور حاکم نے بھی حضرت عائشہ کی روایت سے اور طبرانی نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے جو احادیث بیان کی ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ اس آیت کا نزول غزوہ خندق میں ہوا۔ ایک یہ امر قابل غور ہے کہ غدیر خم میں سرکار والا کا نزول اجلال اس زمانہ میں ہوا جب تبلیغ کا کام ختم ہوگیا تھا، قرآن کا کوئی حصہ بلا تبلیغ کے نہیں رہا تھا اور حج وداع میں عرفہ کے دن آیت الیوم اکملکت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا۔ نازل ہوچکی تھی پھر کس طرح حکم تبلیغ دیا جاسکتا تھا۔ اور بلغ ما انزل الیک من ربک کہنا کس طرح صحیح ہوگا۔ اور جزیرہ عرب میں کوئی مشرک باقی نہیں رہا تھا، پھر واللہ یعصمک من الناس ان للہ لا یھدی القوم الکافرین۔ کا کیا معنی ہوگا۔ اس کے علاوہ اس آیت سے پہلے اور اس کے بعد جو کلام ہے اس کے بعد جو کلام ہے اس میں یہودیوں اور عیسائیوں کا کچھ تذکرہ ہے چناچہ فرمایا ہے یا ایھا الذین امنوا اذکرو نعمۃ اللہ علیکم از ھم قوم ان یبسطوا الیکم ایدھیھم فکف ایدھیھم۔ اور آگے فرمایا ہے یا اھل الکتاب لستم علی شی حتی تقیموا التوراۃ والانجیل اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تبلیغ سے مراد آیت رجم و قصاص ہے جو بروایت ابن حبا، حسن کے قول پر یہودیوں کے قصہ میں نازل ہوئی۔ واللہ اعلم ] کے رب کی طرف سے جو (پیام) بھیجا گیا ہے وہ (لوگوں تک) پہنچا دو ‘ یعنی جو کچھ بھی نازل ہوا ہے سب پہنچا دو کوئی حصہ باقی نہ رہنا چاہئے ‘ کسی سے خوف نہ کرو نہ اپنے ضرر کا اندیشہ کرو۔ مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا جو شخص تم سے کہے کہ محمد ﷺ نے اللہ کے نازل کردہ کلام میں سے کوئی حصہ چھپالیا وہ جھوٹا ہے کیونکہ اللہ خود فرما رہا ہے یا ایہا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک بعض علماء کا قول ہے کہ بلغ ما انزل الیک من ربک میں آیت رجم و قصاص کی تبلیغ کا حکم ہے جو یہودیوں کے قصہ میں نازل ہوئی۔ بعض اہل روایت کے نزدیک آیت یا ایہا الرسولکا نزول حضرت زینب بنت حجش اور ان کے نکاح کے متعلق ہوا ‘ بعض کے نزدیک جہاد کے متعلق اس کا نزول ہوا ‘ صورت واقعہ یہ ہوئی کہ منافقوں کو حکم جہاد ناگوار ہوا تھا اسی کے متعلق اللہ نے فرمایا ہیفاذا انزلت سورة محکمۃ وذکر فیہا القتال رایت الذین فی قلوبہم مرض ینظرون الیک نظر المغشی علیہ من الموتبعض مسلمانوں کو یہ بھی حکم پسند نہ تھا اسی کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے الم تر الی الذین قیل لہم کفوا ایدیکم الخ رسول اللہ ﷺ نے جب بعض لوگوں کی اس ناپسندیدگی اور کراہت طبع کو دیکھا تو جہاد کی ترغیب دینے سے کچھ رکنے لگے اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ جب آیت یا ایہا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربکنازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے عرض کیا ‘ اے میرے رب میں کیا تدبیر کروں میں تنہا ہوں یہ سب میرے خلاف جمع ہوجائیں گے اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔ وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ اور اگر آپ نے (ایسا) نہیں کیا تو (بالکل) اس کا پیام نہیں پہنچا یعنی اگر آپ نے ہر حکم نہیں پہنچا اور کوئی حکم پہنچانے سے چھوڑ دیا تو گویا آپ نے کوئی پیام نہیں پہنچایا کیونکہ بعض حصّوں کو چھپانے سے وہ حصہ بھی بیکار ہوجاتا ہے جو پہنچا دیا گیا ہو جیسے نماز کے بعض ارکان ادا نہ کرنے سے پوری نماز بیکار ہوجاتی ہے ‘ اگر بعض احکام کی تبلیغ ترک ہوجائے تو ظاہر ہے کہ لوگوں کا ایمان اس متروک حصہ پر نہ ہوگا اور لوگ اس کو اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہیں مانیں گے اس طرح بعض پر ایمان اور بعض کا انکار ہوگا اور اس کو ایمان نہیں کہا جاسکتا جیسے یہودی کہتے تھے کہ ہم بعض کو تو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں (اور قرآن کی نظر میں یہودیوں کا یہ ایمان عدم ایمان کی طرح قرار پایا) اس کے علاوہ ایک امر یہ بھی ہے کہ بعض حصوں کو چھپانا اسی طرح عذاب کی دعوت دیتا ہے جس طرح سب کو پوشیدہ رکھنا یہ ایسا ہی ہے جیسے اللہ نے (ایک آدمی کے قتل کے متعلق) فرمایا ہے فَکَانَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا۔ واللہ یعصمک من الناس اور اللہ لوگوں سے آپ کی حفاظت کرے گا یعنی آپ تبلیغ احکام میں لوگوں سے نہ ڈریں آپ اگرچہ تنہا ہیں لیکن وہ آپ کو قتل نہ کرسکیں گے ‘ اس تفسیری مطلب پر یہ شبہ وارد نہیں کیا جاسکتا کہ (اللہ نے جب حفاظت کا وعدہ کرلیا تھا تو) پھر رسول اللہ ﷺ کا سر کیسے زخمی کیا گیا اور آپ کا دانت کس طرح توڑ دیا گیا اور طرح طرح کی ایذائیں کیوں دی گئیں۔ (اس شبہ کا جواب صاف ہے کہ آیت میں قتل سے حفاظت کا وعدہ کیا گیا ہے ہر ایذاء سے محفوظ رکھنے کا وعدہ نہیں ہے) بعض لوگوں نے اس شبہ کا یہ جواب دیا ہے کہ (کافروں کی طرف سے ہر طرح کی ایذا رسانی اور) سر مبارک کا زخمی ہونا اس آیت کے نزول سے پہلے کا واقعہ ہے کیونکہ سورة مائدہ قرآن کی تمام سورتوں سے آخر میں نازل ہوئی تھی۔ ترمذی اور حاکم نے حضرت عائشہ ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا چوکیدارا (رات کو) کیا جاتا تھا یہاں تک کہ اللہ نے واللّٰہُ یعصمک من الناس آیت نازل فرمائی۔ (اس کے بعد آپ نے لوگوں سے اپنی حفاظت ترک کرا دی اور) خیمہ کے اندر سے سر نکال کر فرمایا لوگو ‘ واپس چلے جاؤ اللہ نے میری حفاظت کردی ہے ‘ اسی حدیث میں ہے کہ یہ آیت لیلی فراشی ہے یعنی رات کو جب رسول اللہ ﷺ اپنے بستر پر تھے اس وقت اس کا نزول ہوا۔ بخاری نے حضرت عائشہ کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (اپنی حفاظت کی خاطر شب کو) بیدار رہتے تھے ‘ جب مدینہ میں تشریف لائے تو فرمایا اگر میرے رفقاء میں سے کوئی شخص آج رات میرا پہرا دیتا تو مناسب تھا اتنے میں ہم نے ہتھیاروں کی کچھ آواز سنی حضور ﷺ نے فرمایا کون ہے ادھر سے آواز آئی میں سعد بن ابی وقاص ہوں ‘ حضور ﷺ : کا پہرہ دینے آیا ہوں (اس کے بعد) رسول اللہ ﷺ سو گئے۔ طبرانی نے ابو سعید خدری کی روایت سے لکھا ہے کہ منجملہ حفاظتی گارڈ کے رسول اللہ ﷺ کے چچا عباس بھی تھے پھر جب آیت : واللّٰہ یعصمک من الناس نازل ہوئی تو آپ نے پہرہ چوکی چھوڑ دیا۔ طبرانی نے عصمہ بن مالک حطمی کا بیان نقل کیا ہے کہ رات میں ہم رسول اللہ ﷺ کا پہرہ دیا کرتے تھے آخر جب آیت : واللّٰہ یعصمک من الناس نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے چوکی پہرہ چھوڑ دیا۔ ابن حبان نے صحیح میں حضرت ابوہریرہ کا بیان نقل کیا ہے کہ جب سفر میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ہم رکاب ہوتے (اور کہیں پڑاؤ ہوتا تو) حضور ﷺ کے لئے ہم سب سے بڑا درخت اور اس کا سایہ چھوڑ دیتے تھے۔ آپ ﷺ اس کے نیچے فروکش ہوتے تھے ایک روز آپ ایک درخت کے نیچے اترے اور تلوار درخت میں لٹکا دی (اور سو گئے) اچانک ایک آدمی نے آکر تلوار لے لی اور بولا محمد اب مجھ سے تم کو کون بچائے گا حضور ﷺ نے فرمایا اللہ بچائے گا تلوار رکھ دے اس نے فوراً تلوار رکھ دی اور آیت : واللّٰہ یعصمک من الناسنازل ہوئی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ محمد بن کعب قرظی نے بھی ابوہریرہ ؓ کی روایت سے اسی طرح نقل کیا ہے اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ اس دیہاتی کا ہاتھ کپکپانے لگا ‘ تلوار ہاتھ سے گرگئی اور سر درخت سے مارنے لگا یہاں تک کہ اسکا دماغ پارہ پارہ ہوگیا اور اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ غزوۂ بنی انمار میں بمقام ذات الرقیع ایک اونچے درخت کے نیچے فروکش ہوئے آپ ﷺ ایک کنوئیں کے مَن پر پاؤں لٹکائے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے کہ قبیلۂ بنی نجار کے (ایک شخص) وارث نے کہا میں محمد کو قتل کئے دیتا ہوں لوگوں نے پوچھا تو ان کو کیسے قتل کر دے گا۔ بولا میں ان سے جا کر کہوں گا ذرا مجھے اپنی تلوار دیجئے جب وہ دے دیں گے تو میں ان کو قتل کر دوں گا چناچہ وہ خدمت گرامی میں آیا اور عرض کیا محمد ذرا مجھے اپنی تلوار تو دکھائیے ‘ حضور ﷺ نے اس کو دے دی مگر اس کا ہاتھ لرزنے لگا حضور ﷺ نے فرمایا تیرے مقصد میں رکاوٹ پیدا ہوگی ‘ اس پر اللہ نے آیت یا ایہا الرسول بلغ۔۔ نازل فرمائی ‘ بخاری نے بھی یہ قصہ اسی طرح لکھا ہے مگر اس میں نزول آیت کا ذکر نہیں ہے۔ اس آیت کے نزول کے اسباب میں سے ایک عجیب سبب نزول یہ بھی آیا ہے کہ (مکہ میں) رسول اللہ ﷺ : کسی محافظ کے زیر حفاظت رہتے تھے ‘ روز ابو طالب آپ کی حفاظت کیلئے آپ کے ہمراہی میں کسی ایک ہاشمی کو بھیج دیا کرتے تھے جب یہ آیت نازل ہوگئی اور اسکے بعد بھی جب ابو طالب نے حضور ﷺ کے ساتھ محافظ کو بھیجنا چاہا تو آپ ﷺ نے فرمایا چچا اللہ نے جن و انس سے میری حفاظت کردی ہے۔ ابن مردویہ نے حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت سے بھی ایسا ہی واقعہ نقل کیا ہے ‘ یہ قصہ چاہتا ہے کہ یہ آیت مکی ہو مگر ظاہر اس کے خلاف ہے۔ ان اللہ لا یہدی القوم الکافرین یقیناً اللہ ان کافر لوگوں کو راہ نہیں دے گا۔ یعنی اللہ کافروں کو قدرت نہیں دے گا کہ وہ اپنا مقصد حاصل کرسکیں اور آپ کو قتل اور دین اسلام کو مٹا سکیں ‘ بغوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے بطور استہزاء جواب دیا ہم تو تم سے پہلے ہی اسلام لے آئے ہیں مذاق کے لہجہ میں یہ بھی کہنے لگے جس طرح نصاریٰ نے عیسیٰ کو حنان بنا لیا ہے اسی طرح ہم تم کو حنان بنانا چاہتے ہیں (غالباً اس جگہ حنان کا ترجمہ رفیق شفیق مہربان ہے) جب حضور ﷺ نے یہ حالت دیکھی تو خاموش ہو رہے اس پر آیت یا ایہا الرسول۔۔ نازل ہوئی اور اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ (یہودیوں سے) فرما دیں یا اہل الکتاب لستم علی شی الخابن جزیر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رافع اور سلام بن مشکم اور مالک بن الضیف نے آکر عرض کیا محمد کیا تمہارا یہ دعویٰ نہیں کہ تم ابراہیم کی شریعت اور دین پر ہو اور ان کے پاس جو کچھ (اللہ کی طرف سے آیا) تھا تمہارا اس پر ایمان ہے حضور ﷺ نے فرمایا بیشک میرا یہی قول ہے لیکن تم لوگوں نے نئی باتیں ایجاد کرلی ہیں اور شریعت ابراہیم میں جو کچھ ہے تم اس کے منکر ہو اور جن چیزوں کو لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کرنے کا تم کو حکم دیا گیا تھا تم نے ان کو چھپالیا ہے کہنے لگے جو کچھ ہمارے ہاتھوں میں ہے ہم تو وہی لیں گے ہم یقیناً حق و ہدایت پر ہیں اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 5:68

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے اور یہ (قرآن) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو

قل یاہل الکتاب لستم علی شی آپ کہہ دیں اے اہل کتاب تم کسی (صحیح) بات پر نہیں ہو یعنی کسی ایسے دین پر نہیں ہو جو اللہ کے نزدیک قابل اعتبار ہو ‘ یا آیت کی توجیہ اس طرح کی جائے کہ اہل کتاب کا مذہب اللہ کے نزدیک معتبر نہیں تھا اور نماز کی طرح دین کا بھی قابل اعتمار وجود وہی ہے جو شرعی ہو جس کا شریعت نے اعتبار کیا ہو (اس کے علاوہ دین کا کوئی وجود نہیں) اور اہل کتاب کا دین شرعاً غیر معتبر ہے اس لئے یہ کہنا صحیح ہے کہ تم کسی دین پر نہیں ہو۔ حتی تقیموا التوراۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم یہاں تک کہ تم توریت و انجیل کو اور ان (کتابوں اور صحیفوں) کو قائم کرو جو تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں (یعنی زبور و قرآن وغیرہ) ۔ توریت و انجیل وغیرہ کو قائم رکھنے کا ایک تقاضا تو یہ ہے کہ ان کے اندر جو اصول دین بیان کئے گئے ہیں ان کو مانا جائے۔ دوسرا تقاضا یہ ہے کہ محمد اور قرآن کو مانا جائے اور توریت میں رسول اللہ ﷺ کے جو اوصاف بیان کئے گئے ہیں ان کو بیان کیا جائے ‘ تیسرا تقاضا یہ ہے کہ توریت کے مسائل فروعیہ پر عمل کیا جائے جب تک ان کا منسوخ ہونا ثابت نہ ہوجائے اور جب ان کا منسوخ ہونا ثابت ہوجائے تو اس حکم ناسخ پر عمل کیا جائے جو اللہ نے نازل فرمایا ہو۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ سابقہ شریعتوں پر عمل کرنا واجب ہے (بشرطیکہ قرآن سے ان کا منسوخ ہونا ثابت نہ ہو اگر نسخ ہوجائے تو ناسخ پر عمل کرنا ہی شریعت سابقہ پر عمل کرنا ہے) ولیزیدین کثیرا منہم ما انزل الیک من ربک طغیانا وکفرا اس آیت کا ترجمہ اور تفسیری بیان اوپر گزر چکا ہے۔ فلا تاس علی القوم الکافرین پس آپ ان کافروں کا غم نہ کریں ‘ یعنی ان پر رحم کھا کر نہ ان کی ایذا رسانی سے ڈر کر ‘ ان کی سرکشی حد سے بڑھ چکی ہے۔
Ayah 5:69

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان لائیں گے اور عمل نیک کریں گے خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا ستارہ پرست یا عیسائی ان کو (قیامت کے دن) نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ غمناک ہوں گے

ان الذین امنوا والذین ہادوا والصائبون والنصاری من امن باللہ ولیوم الاخر وعمل صالحا فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون اس آیت کا ترجمہ اور تفسیری بیان سورة بقرہ میں گزر چکا ہے مزید اعادہ کی ضرورت نہیں ‘ اس جگہ صرف اتنا بیان کرنا ہے کہ الصائبین کو اس مقام پر الصائبون واؤ کے ساتھ کیوں ذکر کیا گیا انکا اسم تو منصوب ہوتا ہے اور انکے اسم پر اس کا عطف ہے۔ لہٰذا اس کو منصوب ہونا چاہئے ‘ علماء کوفہ اور کسائی و مبرد کے مسلک پر تو کسی تاویل کی ضرورت نہیں اہل کوفہ کے نزدیک انکا عمل صرف اسم پر ہوتا ہے معطوف پر نہیں ہوتا۔ اس لئے الصائبونکا عطف انکے اسم کے محل پر ہوجائے گا معطوف سے پہلے خبر انکے گزرنے کی شرط نہیں کیونکہ انکا عمل خبر میں ہوتا ہی نہیں ہے ‘ کسائی اور مبرد کے نزدیک تو یہی ترکیب درست ہے کیونکہ انکا اسم اس جگہ مبنی ہے (یعنی الذین) انکا عمل اپنے اسم پر ہی ظاہر نہیں ہوا تو معطوف پر کیا اثر ہوسکتا ہے۔ لیکن علماء بصرہ اور سیبویہ کے نزدیک اسم ان پر معطوف کا مرفوع ہونا اس وقت درست ہوگا جب انکی خبر بھی پہلے گزر چکی ہو ورنہ دو عاملوں کا ایک خبر پر اجتماع لازم آئے گا ایک ان دوسرا معنی ابتدا اور اس جگہ انکی خبر الصائبون سے پہلے مذکور نہیں اس لئے تاویل کرنی پڑے گی ‘ سیبویہ نے کہا الصائبون مبتدا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے یعنی الصائبون کذلک اس جملہ کو یحزنونکے بعد آنا چاہئے تھا لیکن خبر سے پہلے لانے میں یہ بتانا مقصود ہے کہ باوجودیکہ صابی لامذہب ہوتے ہیں لیکن اگر ان کے افکار ایمانیہ اور اعمال صحیح ہوں تو ان کی بھی مغفرت ہوجائے گی ان لوگوں کا ذکر ہی کیا ہے جو کسی مذہب کے حامل ہیں اگر ان کا ایمان صحیح اور عمل درست ہوگا تو ان کی مغفرت تو بدرجۂ اولیٰ ہوگی۔ یہ بھی جائز ہے کہ الصائبون والنصاری دونوں مل کر مبتدا ہو اور بعد کو آنے والا جملہ اس کی خبر ہو اور ان الذین کی خبر محذوف ہو جس طرح شاعر کا شعر ہے۔ نحن بما عندنا وانت بما عندک راض والرای مختلف نحن کی خبر راضون محذوف ہے یعنی جو کچھ ہمارے پاس ہے ہم اس پر خوش ہیں اور جو کچھ تیرے پاس ہے تو اس پر راضی ہے اور خیالات جدا جدا ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الصائبون سے پہلے اَلَّذِیْنَ ہم محذوف ہو یعنی الذین ہم الصائبون اور اب اس کا عطف اَلَّذِیْنَ سابق پر ہوجائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس جگہ ان (عامل نہیں ہے بلکہ) نعم کے معنی میں ہے اور اس کے بعد آنے والا لفظ مبتدا ہے اور الصائبونکا عطف مبتدا پر ہے ‘ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ الصائبون نصب کی حالت میں ہی ہے اور مبنی برفتحہ ہے اس کی حالت نصیبی یاء کے ساتھ بھی جائز ہے اور واو کے ساتھ بھی (جیسے الذین اور الذون)
Ayah 5:70

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

ہم نے بنی اسرائیل سے عہد بھی لیا اور ان کی طرف پیغمبر بھی بھیجے (لیکن) جب کوئی پیغمبر ان کے پاس ایسی باتیں لےکر آتا جن کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو وہ (انبیاء کی) ایک جماعت کو تو جھٹلا دیتے اور ایک جماعت کو قتل کر دیتے تھے

لقد اخذنا میثاق بنی اسرائیل اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل سے وعدہ لے لیا تھا ‘ یعنی تورات میں حکم دیا تھا کہ تورات پر ایمان لاؤ اس پر عمل کرو تمام انبیاء پر اور خصوصاً محمد پر ایمان لاؤ۔ وارسلنا الیہم رسلا اور ہم نے ان کے پاس پیغمبر بھیجے تاکہ ان کو نصیحت کریں اور دینی امور کھول کر بتائیں۔ کلما جآء ہم رسول بما لا تہوی انفسہم (لیکن) جب بھی کوئی پیغمبر کوئی ایسی تعلیم لے کر پہنچا جو ان کی خواہشات نفس کے خلاف تھی (اور تعلیم توریت کے موافق تھی) اس کلام میں اس بات پر دلالت ہے کہ بنی اسرائیل نے تورات کی مخالفت کی اور جو عہد و پیمان کئے تھے ان کو توڑ ڈالا۔ فریقا کذابوا (انبیاء کے) ایک گروہ کی تو انہوں نے تکذیب کی اور قتل نہیں کیا۔ وفریقا یقتلون اور ایک فریق کو (تکذیب کے بعد) قتل کر ڈالتے تھے۔ بجائے ماضی کے مضارع کا صیغہ استعمال کرنے سے غرض یہ ہے کہ حال گزشتہ کا استحضار اور قتل انبیاء کی عظمت کا اظہار اور اس امر پر تنبیہ ہوجائے کہ ان کی پہلے بھی یہی عادت تھی اور آئندہ بھی یہی رہے گی اس کے علاوہ آیات کا مقطع بھی ہم آواز ہوجاتا ہے۔ یا فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَسے مراد یہ ہے کہ محمد ﷺ سے یہ لوگ جنگ کرتے اور آپ ﷺ کے کھانے میں زہر ملاتے اور آپ پر جادو کرتے ہیں اور ان ترکیبوں سے آپ کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔
Ayah 5:71

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہو گئے پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہو گئے اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

وحسبوا ان لا تکون فتنۃ اور ان کا گمان یہ تھا کہ (انبیاء کی تکذیب اور قتل سے) کوئی وبال (ان پر) نہیں آئے گا یعنی ان پر کوئی مصیبت اور عذاب نہیں آئے گا۔ فعموا وصموا پس (موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد) یہ اندھے اور بہرے ہوگئے تھے یعنی دین اور دلائل کو دیکھنے سے اندھے اور حق بات سننے سے بہرے ہوگئے کیونکہ ان کا گمان ہی باطل تھا۔ ثم تاب اللہ علیہم پھر اللہ نے ان پر رحم فرمایا یعنی جب عیسیٰ ( علیہ السلام) پر یہ ایمان لائے اور توبہ کی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ ثم عموا وصموا پھر (عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد دوبارہ) یہ اندھے بہرے ہوگئے۔ محمد ﷺ کا انکار کردیا۔ کثیر منہم ان میں سے بہتیرے۔ اس صورت میں لفظ کثیر عموا وصموا کی ضمیر سے بدل ہوگا جیسے کلام عربی میں آتا ہے اکلوا فی البر اغیث (جمہور اہل نحو کا قول ہے کہ اگر فاعل ظاہر ہو تو فعل کو مفرد لایا جائے گا لیکن آیت اور مثال مذکور میں کثیر اور البراغیث باوجودیکہ فاعل اور ظاہر ہیں پھر بھی فعل کو بصیغۂ جمع لایا گیا۔ اس شبہ کا جواب جمہور نے یہ دیا ہے کہ کثیر اور البراغیث فاعل نہیں ہیں بلکہ ضمیر فاعلی سے بدل ہیں) یا اس طرح ترجمہ ہوگا کہ ایسے ان میں بہت ہیں اس وقت کثیرخبر ہوگی اور مبتدا محذوف ہوگا یعنی اولئک کثیر۔ واللہ بصیر بما یعملون اور اللہ ان کے عمل کو خوب دیکھ رہا ہے۔ یعنی ان کے اعمال کی انکو سزا دے گا۔
Ayah 5:72

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

وہ لوگ بےشبہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ مریم کے بیٹے (عیسیٰ) مسیح خدا ہیں حالانکہ مسیح یہود سے یہ کہا کرتے تھے کہ اے بنی اسرائیل خدا ہی کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص خدا کے ساتھ شرک کرے گا خدا اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ہو المسیح ابن مریم بیشک کافر ہوگئے وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ( علیہ السلام) بن مریم ( علیہ السلام) ہے۔ یعنی فرقۂ ملکانیہ اور یعقوبیہ جو حلول و اتحاد کا قائل ہے (مسیح کے اندر اللہ کا حلول مانتا اور دونوں کو متحد قرار دیتا ہے) وقال المسیح یبنی اسرائیل اعبدوا اللہ ربی وربکم اور مسیح نے کہا اے بنی اسرائیل اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے یعنی جس طرح تم کو پالتا ہے اسی طرح مجھے بھی پالتا ہے اور رب و مربوب کے درمیان نہ اتحاد ممکن ہے نہ حلول۔ انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ جو کسی کو اللہ کا شریک بنائے گا یقیناً اللہ نے اس کے لئے جنت حرام کردی ہے۔ یعنی اللہ کے خالص تنزیہ کے مقام میں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا خواہ کسی دوسرے کو مستحق معبودیت قرار دے یا کسی اور کو واجب الوجود مانے یا اللہ کی کسی اور خاص صفت اور مخصوص فعل میں ساجھی تسلیم کرے (یوں تو مخلوق خالق کے ساتھ بہت سے امور میں شریک ہے مثلاً مخلوق بھی موجود ہے اور خالق بھی ‘ مخلوق بھی حاکم اور عالم اور صاحب ارادہ اور سمیع وبصیر ہے اور خالق بھی۔ مگر خالق کی صفات کامل اور مخلوق کی صفات ناقص مخلوق کی صفات ممکن و حادث اور خالق کی صفات واجب و قدیم۔ مخلوق کی صفات فنا پذیر اور خالق کی صفات لازوال ہیں۔ اس کے علاوہ خالق کی بعض صفات و افعال مخصوص ہیں۔ مخلوق کی ان میں شرکت برائے نام بھی نہیں۔ پس مقام تنزیہ میں اللہ کا کوئی شریک نہیں صرف اسی کی ذات وصفات ہر عیب و نقصان اور زوال و حدث سے پاک ہے۔ غالباً حضرت مفسر نے اسی مضمون کی طرف ترجمہ میں اشارہ کیا ہے) جنت صرف موحد متقیوں کے لئے تیار کی گئی ہے اس لئے گویا اس نے اپنے اس حکم کی وجہ سے جنت کو مشرکوں کے لئے حرام کردیا ہے (یعنی مشرکوں کا جنت میں داخلہ ناممکن اور محال ہے اگرچہ اللہ کے لئے کوئی ممکن چیز محال نہیں ہے اور جنت میں مشرکوں کا داخلہ بجائے خود ممکن ہے لیکن اللہ نے چونکہ صراحت کردی ہے کہ جنت صرف اہل ایمان کے لئے تیار کی گئی ہے اس لئے مشرکوں کا جنت میں داخلہ ناممکن ہوگیا۔ یعنی باوجود ممکن الذات ہونے کے مشرکوں کا جنت میں جانا ممتنع بالغیر ہوگیا۔ (مترجم) وماوہ النار اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جو مشرکوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ وما للظلمین من انصار اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ ضمیر کی جگہ لفظ ظالمین صراحت کے ساتھ ذکر کرنے سے اس امر پر تنبیہ ہے کہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ من انصار میں من زائد ہے یعنی ان کا کوئی مددگار نہیں۔ لفظ ناصر (مفرد) کی جگہ انصار (بصیغہ جمع) لانے سے ان کے گمان کا بطلان بطور استہزاء ظاہر کرنا ہے کیونکہ ان کا دعویٰ اور گمان تھا کہ ہمارے مددگار بہت ہیں۔ بعض علماء نے کہا اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ (اگر بفرض محال ان کا کوئی مددگار بھی ہو تب بھی ایک کی مدد کافی نہ ہوگی بلکہ) مدد کے لئے بہت مددگاروں کی ضرورت ہوگی اور مددگاروں کی جماعت ان کو نصیب نہ ہوگی۔ اِنَّہٗ مَنْ یشُّرْکُ باللّٰہِ الخ اللہ کا کلام بھی ہوسکتا ہے اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے کلام کا تکملہ بھی۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا یہ کلام کلام اللہ نے اس امر سے آگاہ کرنے کے لئے نقل فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل نے عیسیٰ کے متعلق جو کچھ کہا وہ عیسیٰ کی عظمت کو ظاہر کرنے اور ان کا مقرب بننے کے لئے کہا مگر مسیح نے خود ان کی تردید کی اور اظہار مخالفت کیا۔ پھر دوسرے (حق پرست) لوگوں کا تو ذکر ہی کیا ہے (جس چیز کا انکار عیسیٰ نے خود کیا دوسرے حق پرست لوگ اس چیز کی نسبت ان کی طرف کیسے کرسکتے ہیں)
Ayah 5:73

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:73 in the Quran reader

وہ لوگ (بھی) کافر ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ اس معبود یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اگر یہ لوگ ایسے اقوال (وعقائد) سے باز نہیں آئیں گے تو ان میں جو کافر ہوئے ہیں وہ تکلیف دینے والا عذاب پائیں گے

لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثۃ یقیناً وہ لوگ کافر ہوگئے۔ جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے۔ یعنی فرقۂ مرقوسیہ اور نصطوریہ کافر ہیں جو تین اقانیم (اصول) کے قائل ہیں۔ تین سے مراد بعض کے نزدیک اللہ عیسیٰ اور جبرئیل ہیں۔ اللہ مرتبۂ ذات کا نام ہے اور عیسیٰ صفت علم کا اور جبرئیل ( علیہ السلام) صفت حیات کا بعض کے نزدیک تین سے مراد ہیں اللہ (باپ) عیسیٰ (بیٹا) اور مریم (بیوی) اور تینوں الٰہ ہیں۔ اس قول کی تائید اللہ کے اس قول سے ہوتی ہے جو قیامت کے دن اللہ عیسیٰ سے فرمائے گا اَاَنْتَ قُلْتَ للنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰہَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ۔ وما من الہ الا الہ واحد حالانکہ ایک معبود کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ مِنْ اِلٰہٍمیں مِن زائد ہے جو مفید عموم ہے اور خبر محذوف ہے یعنی عالم ہستی اور ممکنات میں کوئی دوسرا واجب الوجود موجود ہی نہیں ہے کہ واجب الوجود اور موجد عالم ہونے کی وجہ سے مستحق معبودیت ہو سکے۔ صرف ایک معبود موجود ہے جس کا کوئی شریک نہیں نہ ذات و ماہیت میں نہ کسی وصف خصوصی میں۔ وان لم ینتہوا عما یقولون لیمسن الذین کفروا منہم عذاب الیم اور اگر یہ لوگ اپنے ان اقوال سے باز نہ آئے تو جو لوگ ان میں سے کافر رہیں گے ان پر دردناک عذاب واقع ہوگا۔ یعنی اگر الفاظ شرک سے باز نہ آئیں گے اور توحید کامل کا اقرار نہ کریں گے مِنْہُمْ میں منبیانیہ ہے یا تبعیضیہ ہے یعنی ان کافروں میں سے وہ لوگ جو مرتے دم تک کفر پر قائم رہے۔ اَلَّذِیْنَ کَفُرْوَا صراحت کے ساتھ ذکر کیا ہمضمیر نہیں ذکر کی (حالانکہ مقام کا تقاضا تھا کہ ضمیر لائی جاتی۔ مرجع پہلے مذکور ہے اور کافر ہونے کا ذکر بھی آچکا ہے) تاکہ دوبارہ ان کے کافر ہونے کی شہادت ہوجائے اور صراحت کے ساتھ معلوم ہوجائے کہ مرتے دم تک کفر پر قائم رہنے والوں کے لئے دردناک عذاب ہے۔ اسی لئے آگے فرمایا۔
Ayah 5:74

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:74 in the Quran reader

تو یہ کیوں خدا کے آگے توبہ نہیں کرتے اور اس سے گناہوں کی معافی نہیں مانگتے اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

افلا یتوبون الی اللہ ویستغفرون الی اللہ ویستغفرونہ واللہ غفور رحیم تو کیا وہ (شرک کو چھوڑ کر) اللہ کی طرف رجوع اور (گزشتہ شرک کی) معافی کی طلب نہیں کریں گے اور اللہ تو بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے اگر وہ توبہ کرلیں گے تو ان پر رحم فرمائے گا اور بخش دے گا۔ یعنی تعجب ہے کہ اللہ کے غفور و رحیم ہونے کے باوجود وہ توبہ و استغفار نہ کریں۔
Ayah 5:75

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 5:75 in the Quran reader

مسیح ابن مریم تو صرف (خدا) کے پیغمبر تھے ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے اور ان کی والدہ (مریم خدا کی) ولی اور سچی فرمانبردار تھیں دونوں (انسان تھے اور) کھانا کھاتے تھے دیکھو ہم ان لوگوں کے لیے اپنی آیتیں کس طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں پھر (یہ) دیکھو کہ یہ کدھر الٹے جا رہے ہیں

ما المسیح ابن مریم الا رسول مسیح بن مریم تو اور کچھ نہ تھے صرف رسول تھے یعنی مسیح کے اندر صرف رسالت بھی صفت ربوبیت نہ تھی (آیت میں حصر حقیقی نہیں کیونکہ مسیح کے اندر سوائے وصف رسالت کے اور اوصاف بھی تھے) ایک وصف خصوصی یہ ہی تھا کہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے بلکہ حصر اضافی ہے) یعنی نصاریٰ جو الوہیت مسیح کے قائل ہیں عیسیٰ میں یہ وصف نہ تھا صرف رسالت تھی (رسالت سے اونچا کوئی مرتبہ نہ تھا) ۔ قد خلت من قبلہ الرسل مسیح سے پہلے (بھی) پیغمبر گزر چکے ہیں۔ یہ بھی گزر جائیں گے یعنی مسیح بھی پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر ہیں اور (ہر رسول ممکن حادث تھا جس کا عدم جائز تھا اس لئے یہ بھی) ممکن جائز العدم ہیں۔ اللہ نے ان کو کچھ خصوصی معجزات عطا فرما دیئے تھے جیسے مبروص اور مادر زاد نابینا کو بھلا چنگا کردینا اور مردوں کو زندہ کردینا لیکن موسیٰ کو بھی خاص معجزات دیئے تھے ان کی لاٹھی کو زندہ چلتا پھرتا سانپ بنا دینے کی ان کو طاقت عطا فرما دی ‘ مردوں کو زندہ کرنے سے لاٹھی کا زندہ سانپ بنا دینا زیادہ عجیب ہے (مردہ تو پہلے زندہ تھا اور لاٹھی کبھی زندہ ہی نہ تھی) عیسیٰ کو اللہ نے بغیر باپ کے پیدا کیا تو آدم کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا (ظاہر ہے تخلیق عیسیٰ سے تخلیق آدم زیادہ عجیب ہے) ۔ وامہ صدیقۃ اور مسیح کی ماں صدیقہ تھی یعنی دوسری عورتوں کی طرح ایک عورت تھی لیکن دوسری عورتوں پر اپنی سچائی کی وجہ سے فضیلت رکھتی تھی اللہ کے احکام اور انبیاء کی تصدیق کرتی تھی۔ کانا یاکلان الطعام دونوں کھانا کھاتے تھے یعنی کھانے کے ضرورت مند تھے (کھانے سے پاک اور بےنیاز نہ تھے) آیات میں اوّل مسیح و مریم کے کمالات و فضائل کا ذکر کیا اور بتادیا کہ یہ فضائل استحقاق الوہیت نہیں پیدا کرتے ‘ دوسروں کو بھی اللہ نے اسی طرح کے فضائل عطا فرمائے ہیں۔ پھر مسیح و مریم کی وہ کمزوریاں اور نقائص ذکر فرمائیں جو حدوث کی علامت اور ربوبیت کے منافی ہیں۔ اور یہ ظاہر فرما دیا کہ مسیح و مریم بھی تغیر پذیر کائنات میں سے تھے اس کے بعد آگے بطور تعجب فرمایا۔ انظر کیف نبی ن لہم الایت ثم انظر انی یوفکون دیکھئے تو ہم کس طرح ان سے دلائل بیان کر رہے ہیں پھر دیکھئے وہ کدھر الٹے جا رہے ہیں۔ یعنی حق کو سننے اور غور کرنے سے کس طرح پھرے جا رہے ہیں۔ ثم انظر میں لفظ ثمدونوں تعجبوں کے تفاوت کو ظاہر کر رہا ہے۔ اللہ کا طرز بیان عجیب ہے لیکن اس سے بھی زیادہ تعجب آفریں ان کا اعراض ہے واضح طور پر جانتے ہیں کہ عیسیٰ حوادث لیل و نہار سے پاک نہ تھے نہ ان کی اپنی ہستی تھی نہ وہ اپنی ہستی کو خود باقی رکھنے کے مالک تھے وجود اور بقاء دونوں میں محتاج تھے اس کے باوجود امکان و حدوث کے دائرہ سے وہ عیسیٰ کو باہر خیال کرتے ہیں۔ جب انہوں نے عیسیٰ کے اندر کچھ خدادا و خاص صفات کا مشاہدہ کیا تو الوہیت عیسیٰ کے قائل ہوگئے اور رب و مربوب کا فرق ان کو دکھائی نہ دیا۔