Ayah 5:5الیوم احل لکم الطیبت اب (تکمیل دین کے بعد) تمہارے لئے تمام پاکیزہ (حلال) چیزیں (قیامت تک کے لئے) جائز کردی گئیں۔ تکمیل دین کے بعد چونکہ کوئی حکم منسوخ نہیں کیا گیا اس لئے قیامت تک یہ حلت باقی رہے گی ‘ اس فقرہ کی تکرار تاکید کے لئے ہے۔
طیبٰت (پاکیزہ) خبائث (ناپاک گندہ) کی ضد ہے۔ اس جگہ طیبات کا لفظ مجمل ہے جن احادیث مبارکہ میں طیبات و خبائث کی تفصیل آئی ہے وہ اس مجمل کا بیان ہوجائیں گی۔ اس کے بعد اس واقعہ پر جس کے متعلق نص کا ورود ہوا ہے دوسری مشابہ چیز کو قیاس کرلیا جائے گا۔ (1) [ اصل بات یہ ہے کہ قرآن مجید شارع ہے اور حدیث شارع یعنی قرآن دستور ہے اور حدیث نے اس کی شرح کی ہے اور آئین کا اظہار کیا ہے مجمل کی وضاحت حدیث سے ہوتی ہے پھر اہل اجتہاد غور کرتے ہیں اور حکم کی علت کو سمجھتے ہیں اگر قرآن یا حدیث میں علت اور سبب بیان کردیا گیا ہے تو جہاں وہ سبب پایا جاتا ہے وہاں وہی حکم نافذ کرتے ہیں جو اصل نص میں موجود ہے اور اگر علت منصوص نہیں ہوتی تو مجتہد خود غور کر کے علت کا استنباط کرتا ہے اور اسی علت قیاسیہ کی روشنی میں تمام جزئیات کے احکام کا استنباط و استخراج کرتا ہے اس کی مزید تشریح اصول فقہ کی کتابوں میں بیان کردی گئی ہے۔] طیب اور خبیث کو پہچاننے کا ضابطہ یہ ہے کہ نص (یعنی قرآن و حدیث) نے جس حکم کو حلال کہا ہے اس کو طیب کہا جائے گا اور جس کو حرام قرار دیا ہے اس کو خبیث کہا جائے گا اور جس کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے اور خبیث و فاسق کہا ہے وہ خبیث و حرام ہوگا۔ مثلاً حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانچ (جانور) ہیں جن کو حرم کے اندر احرام کی حالت میں قتل کردینے میں کوئی گناہ نہیں چوہا کوا چیل بچھو کاٹنے والا کتا۔ متفق علیہ۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانچ (جانور) فاسق (یعنی ایذا رساں) ہیں حل و حرم میں ان کو قتل کیا جاسکتا ہے سانپ ‘ کوا ‘ چوہا ‘ کاٹنے والا کتا اور چیل۔ متفق علیہ۔
سانپ کے متعلق حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے جب سے ان سے ہماری جنگ ہوئی ہم نے ان سے صلح نہیں کی۔ جو شخص ڈر کے مارے ان کو (قتل کرنے سے) چھوڑ دے گا وہ ہم میں سے نہیں۔ رواہ ابو داؤد۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمام سانپوں کو قتل کر دو جو ان کے انتقام سے ڈرے گا مجھ سے نہ ہوگا (یعنی اس کا تعلق مجھ سے نہ ہوگا ‘ میری جماعت میں سے نہ ہوگا) رواہ ابو داؤد والنسائی۔
اور جس کے متعلق نص نہیں آئی (قرآن و حدیث میں) اس کو نہ طیب کہا گیا نہ خبیث) تو وہاں قیاس سے کام لیا جائے گا۔ عرب کی نفیس سلیم طبیعت جس کو پاکیزہ مانے گی اس کو طیب اور جس کو ان کی طبیعت ناپاک اور گندہ سمجھے گی اس کو خبیث قرار دیا جائے گا۔ تمام صحابہ ؓ مردار کھانے والے جانور سے نفرت کرتے تھے۔ ابن ابی شیبہ نے نخعی کے طریق سے یہی نقل کیا ہے اسی لئے جمہور علماء کا فیصلہ ہے کہ جو چوپایہ یا پرندہ مردار خوار ہے وہ حرام ہے۔
اگر کسی جانورکو قتل کرنے کی ممانعت آگئی ہو تو جب تک کوئی دوسری دلیل موجود نہ ہو صرف ممانعت قتل سے ہم اس کو حرام یا مکروہ نہیں قرار دے سکتے تینوں اماموں کا یہی قول ہے لیکن امام شافعی (رح) اس کو حرام کہتے ہیں ہدہد اور مور کی حلت (بر قول جمہور) اور حرمت (برقول شافعی) اسی وجہ سے ہے بنائے اختلاف یہی ہے۔
مسئلہ : جو جانور کیلوں والا ہو (یعنی اس کے دانت پھاڑنے والے ہوں) جیسے شیر ‘ چیتا ‘ بھیڑیا۔ کتا ‘ بلّی (گیڈر ‘ لومڑی وغیرہ) وہ تینوں اماموں کے نزدیک حرام ہے اور امام مالک کے نزدیک مکروہ۔
ہر وہ پرندہ جس کے ناخن والے پنجے ہوں جیسے باز شکرا چیل وغیرہ وہ تینوں اماموں کے نزدیک حرام اور امام مالک کے نزدیک مکروہ ہے۔ امام مالک (رح) نے فرمایا آیت میں آیا ہے : قُلْ لَّااَجِدُ فِیْمَا اَوْحِیَ اِلَّی مُحَّرمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمَہٗ لہٰذا جس کی حرمت کا ذکر آیات میں نہیں وہ حرام نہیں ‘ امام مالک (رح) کی یہی دلیل ہے۔
ہم کہتے ہیں اس آیت سے تو اتنا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے نزول کے وقت سوائے ان چیزوں کے جن کا ذکر اس میں آیا ہے اور کوئی جانور حرام نہیں کیا گیا تھا لیکن اس کے نزول کے بعد بھی ان مذکورات کے علاوہ کسی اور کو حرام نہیں کیا گیا اس کا ثبوت اس آیت سے نہیں ہوتا اس آیت کی تشریح اس کی تفسیر کے وقت انشاء اللہ آئے گی اور مذکورات آیت کے علاوہ بعض دوسری چیزوں کی حرمت۔ نزول آیت کے بعد صحیح احادیث میں آچکی ہے جن کو امت اسلامیہ نے قبول کیا ہے مثلاً حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر کیلوں والے درندہ اور ہر ناخن دار پنجوں والے پرندہ (کے کھانے) کی ممانعت فرمائی ہے۔ رواہ مسلم۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر کیلوں والے درندے کو کھانا حرام ہے۔ رواہ مسلم۔ ابن عبدالبر نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت کی صحت پر اجماع ہے۔ عبداللہ بن احمد (رح) نے زیادات مسند میں حضرت علی ؓ کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔ مگر یہ روایت معلل ہے۔ امام احمد (رح) نے بھی ایسی ہی حدیث حضرت جابر ؓ کی روایت سے نقل کی ہے۔ یہ بھی حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلی اور اس کی قیمت کو کھانے کی ممانعت فرما دی۔ رواہ ابو داؤد والترمذی۔
مسئلہ : امام اعظم کے نزدیک بجو اور لومڑی حرام ہے اور امام مالک کے نزدیک مکروہ امام شافعی اور امام احمد ان کو حلال کہتے ہیں ایک روایت میں آیا ہے کہ امام احمد کے نزدیک لومڑی حلال نہیں۔
صاحب ہدایہ نے لکھا ہے یہ دونوں درندوں میں داخل ہیں۔ کفایہ میں ہے ان کے کیلے ہوتے ہیں اور کیلوں سے ہی یہ لڑتے ہیں اس لئے ان کو بھی بھیڑئیے کی طرح کھانا جائز نہیں۔
امام شافعی (رح) نے حضرت جابر ؓ کے قول سے استدلال کیا ہے کہ جب حضرت جابر ؓ سے دریافت کیا گیا کیا بجو شکار ہے ؟ فرمایا ہاں دریافت کیا گیا کیا اس کو کھایا جاسکتا ہے فرمایا ہاں۔ پوچھا گیا کیا یہ رسول اللہ ﷺ سے آپ نے سنا ہے ؟ فرمایا ہاں۔ یہ روایت امام شافعی (رح) اور اصحاب سنن نے بیان کی البتہ ابو داؤد اور بیہقی نے نہیں بیان کی۔ بخاری اور ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے۔ ابن عبدالبر نے عبدالرحمن بن ابی عمارہ راوی کی وجہ سے اس کو معلل قرار دیا ہے مگر ابو ذرعہ اور نسائی نے اس کو ثقہ کہا ہے۔ امام شافعی نے یہ بھی کہا ہے کہ صرف صفا اور مروہ کے درمیان بجو گوشت کا فروخت کیا جاتا ہے اور کہیں نہیں بیچا جاتا۔ ابو داؤد کی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بجو کے متعلق دریافت کیا فرمایا شکار ہے اور اگر محرم بحالت احرام اس کا شکار کرلے تو مینڈھے کی قربانی دی جائے۔
میں کہتا ہوں بجو کا شکار قرار دینا اور اس کو شکار کرنے کی صورت میں مینڈھے کی قربانی کا حکم اس کی حلت کو نہیں چاہتا محرم اگر کسی ایسے جانور کو شکار کرلے جس کا گوشت حرام ہے تب بھی (بصورت قربانی) بدلہ دینا واجب ہوتا ہے شکار تو ہر اس جانور کو کہتے ہیں جو جنگلی ہو اور بالطبع محفوظ ہو (خواہ حلال ہو یا حرام) رہی بجو کے حلال ہونے والی حدیث تو اس میں اتنی قوت نہیں جتنی حرمت سباع والی حدیث میں ہے اور اگر حلت و حرمت میں کہی تعارض ہو رہا ہو تو احتیاطاً حرمت کو ترجیح دی جاتی ہے حرمت کو ترجیح دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس صورت میں نسخ کی تکرار لازم نہیں آتی۔
ترمذی نے خزیمہ ؓ بن جریر کی روایت سے لکھا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کیا بجو کو کوئی کھاتا ہے۔ یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس روایت میں ایک راوی عبدالکریم بن امیہ ہے جو بالاتفاق ضعیف ہے۔
مسئلہ : زمین کے کیڑے مکوڑے جیسے چوہا گرگٹ وغیرہ تینوں اماموں کے نزدیک حرام اور امام مالک کے نزدیک مکروہ ہیں۔ ائمہ ثلثہ کی دلیل حضرت ام شریک والی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گرگٹ کو قتل کردینے کا حکم دیا اور فرمایا یہ ابراہیم کی آگ میں (بھڑکانے کے لئے) پھونکیں مارتا تھا۔ متفق علیہ۔
حضرت سعد ؓ بن ابی وقاص کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گرگٹ کو قتل کردینے کا حکم دیا اور اس کو فویسق فرمایا۔ رواہ مسلم۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے پہلی ضرب میں گرگٹ کو مار ڈالا اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دوسری ضرب سے (قتل کرنے میں) اس سے کم اور تیسری ضرب سے (قتل کرنے میں) اس سے کم (نیکیاں لکھی جاتی ہیں) رواہ مسلم۔
حل و حرم کے اندر چوہے کو قتل کرنے کا حکم اور اس کو فاسق فرمانے کا بیان گزشتہ حدیثوں میں آچکا ہے لہٰذا گرگٹ اور چوہے پر قیاس کرتے ہوئے تمام حشرت الارض کو حرام قرار دیا جائے گا۔
سیہی ‘ امام مالک (رح) و امام شافعی (رح) کے نزدیک حلال اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک حرام ہے کیونکہ یہ بھی حشرات الارض میں سے ہے۔ ابو داؤد نے عیسیٰ بن نمیلہ کے باپ کی روایت سے بیان کیا ہے۔ عیسیٰ کے باپ کا بیان ہے میں حضرت ابن عمر ؓ کے پاس موجود تھا کہ آپ سے سیہی کا مسئلہ پوچھا گیا آپ نے فوراً آیت قل لا اجد فیما اوحی الی۔۔ پڑھ دی وہاں ایک بوڑھا آدمی موجود تھا اس نے کہا میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو یہ کہتے سنا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے سیہی کا ذکر آیا تو حضور ﷺ نے فرمایا وہ خبائث میں سے ایک خبیثہ ہے حضرت ابن عمر ؓ نے شیخ کا بیان سن کر فرمایا اگر یہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے تو بیشک ویسا ہی ہوگا جیسا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیہقی نے لکھا ہے اس کی سند میں ضعف ہے اور اس حدیث کی روایت میں صرف یہی سند آئی ہے۔
مسئلہ : گوہ اور گھونس امام اعظم کے نزدیک حرام اور امام مالک (رح) و شافعی (رح) کے نزدیک حلال ہے امام احمد کے نزدیک گوہ حلال ہے اور گھونس کے متعلق آپ ﷺ کے دو قول (منفی و مثبت) مروی ہیں۔ گوہ کو حلال قرار دینے والوں نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گوہ کو نہ میں کھاتا ہوں نہ اس کو حرام کہتا ہوں۔ رواہ البخاری و مسلم۔
حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ خالد بن ولید نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ام المؤمنین حضرت میمونہ ؓ کے گھر گیا۔ حضرت میمونہ ؓ : حضرت ابن عباس ؓ کی بھی خالہ تھیں اور حضرت خالد بن ولید کی بھی۔ ام المؤمنین کے پاس گوہ کا بھنا ہوا گوشت رکھا تھا آپ ؓ نے رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں پیش کیا حضور ﷺ نے اس سے ہاتھ کھینچ لیا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا گوہ حرام ہے ‘ فرمایا نہیں مگر میری سرزمین میں پائی نہیں جاتی۔ مجھے اس سے گھن آتی ہے۔ حضرت خالد ؓ : کا بیان ہے یہ سن کر میں نے اس کو اپنی طرف کھینچ لیا اور کھانے لگا اور رسول اللہ ﷺ مجھے کھاتا دیکھتے رہے۔ متفق علیہ۔
امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا گوہ حشرات میں سے ہے (اور حشرات کی حرمت منصوص قطعی ہے) اور نص صریح سے ایسی روایات کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہدایہ میں ہے کہ جب حضرت عائشہ ؓ نے گوہ کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو حضور ﷺ نے ممانعت فرما دی۔ مجھے یہ حدیث معلوم نہیں۔ (2) [ یہ حدیث صاحب مشکوٰۃ نے باب ما یحل اکلہ وما لا یحل اکلہ کے اندر عبدالرحمن بن شبل کی روایت سے بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گوہ کا گوشت کھانے کی ممانعت فرما دی تھی۔ رواہ ابو داؤد۔ تفسیر مظہری کے اصل نسخہ میں یہی عبارت ہے۔ لہٰذا یہ الفاظ کہ مجھے یہ حدیث معلوم نہیں۔ غلط معلوم ہوتے ہیں۔]
مسئلہ : مردہ ٹڈی کھانا حلال ہے جس طرح بھی مری ہو۔ امام مالک کے نزدیک صرف وہ ٹڈی نہ کھائی جائے جو اپنی موت سے بغیر خارجی سبب کے مری ہو یعنی مکروہ ہے جمہور نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ ہمارے لئے دو مردار اور دو خون حلال کردیئے گئے ہیں دو مردار تو ٹڈی اور مچھلی ہیں اور دو خون کلیجی اور تلی ہیں۔ رواہ الشافعی و احمد و ابن ماجۃ والدارقطنی والبیہقی من روایۃ عبدالرحمن بن زید بن اسلم۔ عبدالرحمن بن زید راوی ضعیف متروک ہے۔ دارقطنی نے اس حدیث کو زید بن اسلم کی روایت سے حضرت ابن عمر ؓ پر موقوفاً نقل کیا ہے۔ یعنی ابن عمر ؓ کا قول قرار دیا ہے یہی زیادہ صحیح ہے۔ ابوذرعہ اور ابو حاتم نے بھی اس کے موقوف ہونے کو ہی صحیح کہا ہے۔
خطیب نے اس کی تخریج اس طرح کی ہے مسور بن الصلت از زید بن اسلم از عطاء بن یسار از حضرت ابو سعید خدری۔ اس سلسلہ میں امام احمد (رح) نے مسور کی تکذیب کی ہے اور ابن حبان نے کہا کہ یہ ثقات کی طرف موضوعات کی نسبت کرتا ہے۔
مسئلہ : گدھے اور خچر کا گوشت تینوں اماموں کے نزدیک حرام ہے اور امام مالک کے نزدیک مکروہ ہے۔ حضرت ابو ثعلبہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام کردیا ہے۔ متفق علیہ۔ امام احمد کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے یہ منادی کرائی کہ جو شخص میرے رسول ﷺ ہونے کی شہادت دیتا ہے اس کو (معلوم ہونا چاہئے کہ) پالتو گدھوں کا گوشت حلال نہیں۔ حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گھریلو گدھوں کے گوشت کی ممانعت فرما دی اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت دے دی تھی۔ متفق علیہ۔ حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن پالتو گدھوں اور خچر اور کیلے والے درندوں اور ناخن دار پنجوں والے پرندوں کے گوشت کو حرام کردیا تھا۔ رواہ الترمذی۔ ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔
امام احمد (رح) کی روایت کے یہ الفاظ ہیں رسول اللہ ﷺ نے پالتو گدھوں ‘ لومڑیوں ‘ کیلوں والے درندوں اور ناخن دار پنجوں والے پرندوں کے گوشت کو حرام کردیا۔ حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت دے دی اور گدھے کے گوشت کی ممانعت کردی۔ ترمذی نے اس روایت کو صحیح کہا ہے اور نسائی نے بھی اس کو بیان کیا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ خیبر کے دن رسول اللہ ﷺ نے ہر کیلے والے درندوں اور پالتوں گدھوں (کے گوشت) کو حرام کردیا۔ رواہ احمد۔ حضرت براء بن عازب ؓ : کا بیان ہے کہ خیبر کے دن کچھ گدھے ہمارے ہاتھ لگ گئے کچھ دیر میں اچانک رسول اللہ ﷺ کے منادی نے آواز لگائی ہانڈیاں الٹ دو ۔ متفق علیہ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کی روایت ہے کہ خیبر کے سال رسول اللہ ﷺ نے نکاح متعہ کی اور پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت فرما دی۔ متفق علیہ۔ اس موضوع کی احادیث حضرت ابو سلیط ؓ ‘ انس ؓ ابن عباس ؓ ‘ سلمہ ؓ بن اکوع ‘ عبداللہ ؓ بن ابی اوفی ‘ خالد ؓ بن ولید ‘ عمرو ؓ بن شعیب کے دادا ‘ مقدام بن معدیکرب اور عمرو ؓ بن دینار کی روایات سے آئی ہیں۔
مسئلہ : گھوڑے کا گوشت کھانا جمہور کے نزدیک حلال ہے صاحبین کا بھی یہی قول ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام ابو مالک کے نزدیک مکروہ ہے تحریمی یا تنزیہی۔ دونوں روایات آئی ہیں۔ صاحب ہدایہ نے کراہت تحریم کو زیادہ صحیح قرار دیا ہے۔
جمہور کی دلیل حضرت جابر ؓ کی وہی حدیث ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے گھوڑوں (کے گوشت) کی اجازت دے دی۔ دوسری حدیث حضرت اسماء ؓ کی ہے اسماء نے فرمایا۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جبکہ ہم مدینہ میں تھے ایک گھوڑے کو ذبح کر کے کھایا متفق علیہ ‘ امام احمد کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ ہم نے اور رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں نے۔
امام ابوحنیفہ (رح) نے آیت والْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرِ لِتُرَکَبُوْہَا وَزِیْنَۃً سے استدلال کیا ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بطور احسان گھوڑوں ‘ خچروں اور گدھوں کے دو فوائد بیان کئے ہیں سواری اور زینت ‘ کھانا تو سب سے بڑا فائدہ تھا اگر اس کی اجازت ہوتی تو بدرجۂ اولیٰ اس کا بھی اظہار کیا جاتا اعلیٰ احسان کا ذکر ترک نہ کیا جاتا۔ دوسری حدیث حضرت خالد ؓ بن ولید کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حرام ہے گوشت پالتو گدھوں اور پالتو گھوڑوں کا۔ دوسری روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گھوڑوں خچروں اور گدھوں کا گوشت کھانے کی ممانعت فرما دی۔ امام احمد نے یہ حدیث نقل کرنے کے بعد اس کو منکر قرار دیا ہے۔ موسیٰ بن ہارون نے کہا اس حدیث کے راوی صالح بن یحییٰ اور یحییٰ بن مقدام غیر معروف ہیں صرف مقدام کے ذیل میں ان کی معرفت ہوتی ہے ورنہ خود مجہول ہیں۔ دارقطنی نے بھی اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔
ابن جوزی نے لکھا ہے کہ یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ بھی آئی ہے کہ خیبر کے دن رسول اللہ ﷺ نے گدھوں خچروں اور گھوڑوں کا گوشت حرام کردیا۔ واقدی نے کہا کہ حضرت خالد ؓ تو خیبر کے بعد مسلمان ہوئے تھے (خیبر میں موجود ہی نہ تھے)
مسئلہ : امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک نیولا مکروہ ہے کیونکہ یہ بھی حشراتی درندوں میں سے ہے۔
مسئلہ : تینوں اماموں کے نزدیک رخم ‘ بغاث ‘ ابقع (چت کبرا کوا) اور گدھ مکروہ ہے یہ سب مردار خوار ہیں۔ کھیتی والے کوے میں کوئی ہرج نہیں ‘ یہ دانہ خور ہے۔ شکاری پرندہ نہیں ہے نہ عقعق (ایک قسم کا کوا) میں کوئی ہرج ہے کیونکہ اس کی خوراک مخلوط ہوتی ہے (دانہ بھی اور مردار کا گوشت بھی) یہ مرغی کے مشابہ ہے امام ابو یوسف (رح) اس کو مکروہ کہتے ہیں کیونکہ اس کی بیشتر خوراک مردار کا گوشت ہے۔
مسئلہ : گندگی خور چوپایہ ہو یا پرندہ اس کا گوشت انڈے اور دودھ امام احمد کے نزدیک حرام ہے جب تک اس کو بند کر کے ایک مدت تک نہ رکھا جائے۔ پرندے کو تین دن اونٹ کو چالیس دن گائے کو تیس دن۔ بکری کو سات دن اور مرغی کو تین دن بند رکھا جائے ایک روایت میں سب کے لئے تین دن کی مدت بیان کی گئی ہے۔ باقی تینوں اماموں کے نزدیک اگر گندگی خور جانور کے گوشت اور دودھ میں بدبو پیدا ہوجائے تو اس کو کھانا مکروہ تحریمی ہے اس کو اتنی مدت تک بند رکھا جائے کہ نجاست کی بدبو جاتی رہے۔ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گندگی خور جانور کو کھانے اور اس کا دودھ پینے کی ممانعت فرما دی۔ رواہ ابو داؤد والترمذی و ابن ماجۃ۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گندگی خور بکری کے دودھ کی ممانعت فرما دی۔ رواہ احمد۔
حضرت عبداللہ ؓ بن عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گندگی خور اونٹوں کا گوشت کھانے ان کا دودھ پینے اور ان پر سوار ہونے کی ممانعت فرما دی۔ تاوقتیکہ چالیس روز تک (بند رکھ کر) ان کو چارہ نہ کھلایا جائے۔ رواہ البیہقی والدارقطنی۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابراہیم بن مہاجر ہے ابن جوزی نے اسماعیل اور ابراہیم دونوں کو ضعیف کہا ہے۔ امام احمد ‘ ابو داؤد ‘ نسائی اور حاکم نے عمرو بن شعیب کے دادا کی روایت سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پالتو گدھوں اور گندگی خور جانوروں کا گوشت کھانے اور ان پر سوار ہونے کی ممانعت فرمائی ہے۔
مسئلہ : دریائی جانوروں میں سے سوائے مچھلی کے امام ابو حنفیہ کے نزدیک اور کوئی جانور حلال نہیں۔ امام مالک کے نزدیک سب دریائی جانور کھائے جاسکتے ہیں یہاں تک کہ کیکڑا ‘ مینڈک دریائی کتا اور دریائی سور بھی ‘ مگر دریائی سور امام مالک کے نزدیک مکروہ ہے بعض روایات میں آیا ہے کہ آپ نے اس کے حلال حرام ہونے میں توقف اختیار کیا۔ امام احمد نے کہا مینڈک ‘ مگرمچھ اور کو سج کے علاوہ دریا میں جو جانور پیدا ہوتا اور رہتا ہے اس کو کھانا حلال ہے مگر مچھلی کے علاوہ دوسرے دریائی جانوروں کو ذبح کرنا ضروری ہے جیسے دریائی سور ‘ دریائی کتا ‘ دریائی انسان۔ امام شافعی (رح) کے ساتھیوں میں اختلاف ہے بعض کا قول امام مالک (رح) (رحمہم اللہ) کے قول کی طرح ہے۔ بعض کا قول امام ابوحنیفہ (رح) کے قول کی طرح۔ بعض نے کہا جن دریائی جانوروں کے ہم شکل خشکی میں پائے جاتے ہیں ان کو نہ کھایا جائے جیسے دریائی کتا ‘ سور ‘ انسان ‘ سانپ بچھو ‘ چوہا اور جن کے ہم شکل خشکی میں نہ ہوں ان کو کھایا جاسکتا ہے بعض نے کہا مینڈک ‘ مگرمچھ ‘ دریائی سانپ ‘ بچھو ‘ کیکڑا ‘ کچھوا حرام ہیں ‘ باقی سب حلال امام مالک (رح) کی دلیل یہ آیت ہے اُحِلَّ لَکُمْ صُیْدَ البِحْرِیہ آیت عام ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے وہ یعنی سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مرا ہوا (بغیر ذبح کے) حلال ہے۔
اس دلیل کا جواب یہ ہے کہ آیت میں صید (کا معنی مصدری ہے یعنی اس) کا معنی ہے شکار کرنا کیونکہ دوسری آیت میں آیا ہے وَحُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَادُمْتُمْ حُرُمًاجب تک احرام کی حالت میں ہو ‘ تمہارے لئے خشکی کے جانوروں کو شکار کرنا حرام کردیا گیا ہے ظاہر ہے کہ اس جگہ صید کا معنی ہے شکار کرنا (شکار کا جانور مراد نہیں ہے) کیونکہ غیر محرم اگر احرام والے کی مدد کے بغیر خشکی کے حلال جانور کا شکار کرلے تو محرم کے لئے اس کو کھانا جائز ہے (اس لئے آیت کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ خشکی کا جانور محرم کے لئے بحالت احرام مطلقاً جائز ہے) رہی حدیث تو اس میں میتہ سے مراد صرف مچھلی ہے۔
حضرت جابر ؓ کی روایت میں آیا ہے جس کو دارقطنی نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سمندر کا کوئی جانور ایسا نہیں کہ اللہ نے بنی آدم کے لئے اس کا تزکیہ نہ کردیا ہو (یعنی بغیر ذبح کئے اس کو کھانا حلال نہ کردیا ہو اور ظاہر ہے کہ اس حدیث میں جانور سے مراد صرف مچھلی ہے ہر جانور مراد نہیں ہے کیونکہ) دوسری حدیث میں آیا ہے ہر نون کو بنی آدم کے لئے ذبیحہ (یعنی ذبیحہ کے حکم میں) کردیا گیا ہے اور نون کا معنی ہے مچھلی اور حدیث کی رفتار بتارہی ہے کہ ہر سمندری جانور کو ذبح کرنے سے مستغنی بنا دینا مقصود نہیں ہے بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ مچھلی کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
مچھلی کے علاوہ بعض دوسرے سمندری جانوروں کی حلت حضرت جابر ؓ کی روایت سے معلوم ہوتی ہے حضرت جابر ؓ : کا بیان ہے میں جیش خبط کے ساتھ جہاد میں شریک تھا ابو عبیدہ کمانڈر تھے ہم سخت بھوک زدہ ہوگئے (کھانے کو کچھ موجود نہ تھا) سمندر نے ایک اتنی بڑی مچھلی مردہ باہر نکال پھینکی تھی کہ ہم نے اتنی بڑی مچھلی نہیں دیکھی اس کو عنبر کہا جاتا تھا ہم نے نصف ماہ تک اسی کو کھایا ابو عبیدہ نے اس کی ایک ہڈی لے کر کھڑی کی تو اس کے (کمانچے کے) نیچے سے اونٹ سوار نکل گیا جب ہم خدمت گرامی میں پہنچے تو ہم نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا حضور ﷺ نے فرمایا خداداد رزق کھاؤ اور اگر تمہارے پاس ہو تو ہم کو بھی کھلاؤ چناچہ ہم نے اس میں سے کچھ حضور ﷺ کے لئے بھیج دیا اور آپ ﷺ نے اس کو کھایا۔ متفق علیہ۔ حنفیہ اس کے جواب میں کہتے ہیں عنبر ایک قسم کی مچھلی ہی تھی دیکھو حضرت جابر ؓ نے اس کو حوت کے لفظ سے تعبیر کیا تھا۔
مینڈک اور وہ تمام دریائی جانور جن سے انسانی ذوق نفرت کرتا اور لطیف طبیعت گھن کھاتی ہے اس کی حرمت پر آیت وَیُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبَآءِثَدلالت کرتی ہے اور ایک حدیث بھی آئی ہے جو عبدالرحمن بن عثمان نے بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک طبیب نے کچھ دوا بیان کی اور مینڈک کو اس میں شامل کرنے کا بھی ذکر کیا لیکن حضور ﷺ نے مینڈک کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔ رواہ احمد و ابوداؤد والنسائی والبیہقی۔ بیہقی نے لکھا ہے کہ مینڈک کی ممانعت کی روایات میں سب سے زیادہ قوی یہی روایت ہے۔
مسئلہ : پانی کے اوپر مردہ مچھلی تیرنے والی امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک مکروہ ہے جمہور کے نزدیک مکروہ نہیں۔ جمہور کے قول کی تائید ایک تو حضرت جابر والی روایت سے ہوتی ہے جس میں عنبر کا کنارہ پر پڑا ہونا مذکور ہے۔ دوسری حدیث یہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہُوَ الْحِلُّ میتۃ۔
ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ حضرت جابر ؓ کی روایت میں ہے سمندر نے ایک مردہ مچھلی پھینک دی تھی اس کا مطلب یہ ہے کہ سمندر کے پھینکنے سے (باہر آ کر) جو مچھلی مرگئی تھی۔ یہ تو بالاتفاق حلال ہے میتۃ البحر وہی مچھلی ہوسکتی ہے جس کی موت کا فاعل سمندر ہو یعنی سمندر کے کسی عمل سے وہ مری ہو وہ مچھلی میتۃ البحر نہیں ہوسکتی جو (کنارہ پر آنے سے پہلے) کسی بیماری کی وجہ سے سمندر ہی میں مرگئی ہو۔
حنفیہ نے حضرت جابر ؓ کی روایت سے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو مردہ ہونے کی حالت میں پانی کے اوپر تیر رہی ہو اس کو نہ کھاؤ اور سمندر جس کو چھوڑ کر سمٹ گیا ہو (یعنی بھاٹا کی حالت میں جو مچھلی بھاٹا کے ساتھ نہ جاسکے اور رہ جائے) اور جو کنارہ پر رہ گئی ہو اس کو کھا سکتے ہو۔ یہ حدیث دارقطنی نے ابو احمد زبیری کے طریق سے مرفوعاً بیان کی ہے اور صراحت کی ہے کہ ابو احمد کے علاوہ اور کسی طریق سے اس کو مرفوعاً نہیں ذکر کیا گیا۔ وکیع عبدالرزاق اور مومل وغیرہ نے اس کو موقوفاً نقل کیا ہے ابو ایوب سجستانی ‘ عبداللہ بن عمرو بن جریح حماد بن سلمہ اور زہیر وغیرہ نے بھی بروایت ابو الزبیر اس کو موقوفاً نقل کیا ہے اور یہی صحیح بھی ہے۔
دارقطنی نے ایک اور طریق سے حدیث کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں سمندر جس (مچھلی) کو کھول کر چلا جائے اور جس کو ڈال جائے اس کو کھاؤ اور جس کو مردہ یا پانی پر (مردہ ہونے کی حالت میں) تیرتا پاؤ اس کو نہ کھاؤ۔ دارقطنی نے لکھا یہ حدیث صرف عبدالعزیز نے بروایت وہب بیان کی ہے اور عبدالعزیز ضعیف ناقابل احتجاج ہے امام احمد نے اس کو ضعیف کہا ہے اور حدیث کو غیر صحیح قرار دیا ہے نسائی نے اس کو متروک کہا ہے۔
ابوداؤد نے ایک دوسرے سلسلہ سے بالفاظ ذیل روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو (مچھلی) سمندر (کنارہ پر) پھینک دے یا اس کو چھوڑ کر سمٹ جائے تو اس کو کھاؤ اور جو سمندر میں مرجائے اور اوپر تیرنے لگے اس کو مت کھاؤ۔ اس سند میں ایک راوی اسماعیل بن امیہ متروک ہے ابو داؤد نے لکھا ہے اس حدیث کو سفیان ایوب اور حماد نے ابو الزبیر کی روایت سے نقل کیا ہے مگر سب نے حضرت جابر ؓ پر اس کو موقوف کردیا (مرفوعاً نہیں بیان کیا)
مسئلہ : باجماع علماء خرگوش حلال ہے حضرت انس ؓ کا بیان ہے۔ مرانظہران میں میں نے ایک خرگوش پکڑ لیا اور لے کر ابو طلحہ کے پاس آیا ابو طلحہ نے اس کو ذبح کر کے اس ایک سرین و ران رسول اللہ کی خدمت میں بھیج دیا اور حضور ﷺ نے اس کو قبول کرلیا۔ متفق علیہ۔
فائدہ : حضرت ابو موسیٰ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مرغی کا گوشت کھایا۔ متفق علیہ۔
فائدہ : حضرت سفینہ کا بیان ہے میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سرخاب کا گوشت کھایا۔ رواہ ابو داؤد۔
وطعام الذین اوتوا الکتب حل لکم اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے۔ طعام سے مراد ہے ذبیحہ۔ کیونکہ دوسرے کھانوں کی حلت اہل کتاب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔
الذین اوتوا الکتب میں یہود و نصاریٰ داخل ہیں اور صائبین بھی داخل ہیں بشرطیکہ کسی نبی کے دین پر ان کا ایمان اور کسی آسمانی کتاب کا ان کو اقرار ہو ستارہ پرست صابی اس میں داخل نہیں ہیں۔
اہل کتاب سے مراد بھی ہر کتابی ہے حربی ہو یا ذمی عجمی ہو یا عربی تغلبی ہو (یا بکری) امام اعظم (رح) کا یہی قول ہے لیکن باقی تینوں اماموں کے نزدیک قبیلۂ تغلب کے عیسائیوں کا ذبیحہ حلال نہیں (وہ مشرک تھے) ابن جوزی نے لکھا ہے ہمارے سلسلہ کے اصحاب نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عرب کے عیسائیوں کے ذبیحوں کی ممانعت فرما دی ہے۔ ابن جوزی نے حضرت علی ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ بنی تغلب کے عیسائیوں کا ذبیحہ نہ کھاؤ انہوں نے سوائے شراب پینے کے نصرانیت سے اور کوئی چیز نہیں لی۔ امام شافعی نے بھی صحیح سند سے حضرت علی ؓ : کا یہ قول نقل کیا ہے۔ عبدالرزاق نے ابراہیم نخعی کے سلسلہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت علی ؓ بنی تغلب کے نصاریٰ کے ذبیحہ کو (کھانے) اور ان کی عورتوں (سے نکاح کرنے) کو مکروہ قرار دیتے تھے۔
میں کہتا ہوں کہ اس مبحث کی کوئی مرفوع صحیح حدیث مجھے معلوم نہیں ہوئی اور اگر کوئی صحیح مرفوع حدیث مل بھی جائے تو وہ حدیث آحاد ہوگی جو قرآن کو نسخ نہیں کرسکتی۔
بغوی نے لکھا ہے اللہ کی مراد تمام یہودیوں ‘ عیسائیوں اور ان لوگوں کے ذبیحے ہیں جو رسول اللہ ﷺ : کی بعثت سے پہلے اہل کتاب کے مذہب میں داخل ہوچکے تھے۔ لیکن حضور ﷺ : کی بعثت کے بعد جن غیر لوگوں نے عیسائیت یا یہودیت اختیار کی ان کے ذبیحے حلال نہیں۔
میں کہتا ہوں کہ یہ شرط لغو ہے۔ صاحب ہدایہ نے لکھا ہے مرتد کا ذبیحہ حلال نہیں یعنی جس مسلمان نے اسلام کو چھوڑ کر یہودیت یا عیسائیت یا مجوسیت یا بت پرستی اختیار کرلی ہو ‘ اس کے ہاتھ کا ذبیحہ نہ کھایا جائے اس کا کوئی دین نہیں وہ اختیار کردہ مذہب پر بھی قائم نہیں رہے گا ہاں کوئی کتابی اگر اپنے مذہب کو چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرلے تو ذبح کے وقت جو اس کا مذہب ہوگا وہی قابل اعتبار ہوگا۔ گزشتہ مذہب کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ صاحب کفایہ نے لکھا ہے کہ اگر کوئی یہودی یا عیسائی مجوسی ہوجائے تو اس کا ذبیحہ حلال نہ ہوگا وہ اصلی مجوسی مانا جائے گا لیکن اگر کوئی مجوسی یہودی یا عیسائی بن جائے تو اس کا ذبیحہ اور شکار حلال ہوجائے گا۔
مسئلہ : اگر کوئی یہودی حضرت عزیر کے نام پر یا عیسائی حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے نام پر ذبح کرے تو ذبیحہ حلال نہیں۔ کفایہ میں ہے کتابی کا ذبیحہ اس وقت حلال ہے جب عزیر مسیح (وغیرہ) کے نام پر اس نے ذبح نہ کیا ہو ورنہ حلال نہیں جیسے مسلمانوں کا وہ ذبیحہ حلال نہیں جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کے نام پر ذبح کیا گیا ہو اللہ نے فرمایا ہے وَمَا اُہِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ ۔
بغوی نے لکھا ہے اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا حلال نہیں۔ اکثر اہل علم حلت کے قائل ہیں ‘ شعبی ‘ عطاء خراسانی اور مکحول کا یہی قول ہے۔ شعبی سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی عیسائی مسیح کے نام پر ذبح کرے تو کیا حکم ہے شعبی نے جواب دیا حلال ہے کیونکہ اللہ نے عیسائیوں کے ذبیحوں کو حلال قرار دیا ہے اور وہ خوب واقف ہے کہ عیسائی (ذبح کے وقت) کیا کہتے ہیں۔
حسن نے فرمایا اگر کوئی یہودی یا عیسائی ذبح کے وقت اللہ کے سوا کسی اور کا نام لے اور تم سن رہے ہو تو اس کو نہ کھاؤ اور اگر تم وہاں موجود نہ ہو (اور خود نہیں سن رہے ہو) تو کھالو اللہ نے وہ تمہارے لئے حلال کردیا ہے۔
میں کہتا ہوں ہمارے نزدیک صحیح پہلا قول ہے کہ اگر کوئی کتابی قصداً اللہ کا نام ترک کر دے اور کسی اور کے نام پر ذبح کرے اور یہ بات یقینی معلوم ہوجائے یا ان کی عمومی حالت یہی ہو (یعنی مسیح وغیرہ کے نام پر ذبح کرنے کا ان کا دستور ہو ‘ خواہ ہم کو یقینی معلوم نہ ہو کہ غیر اللہ کے نام پر انہوں نے ذبح کیا ہے) تو نہ کھاؤ۔ عرب کے عیسائیوں کے ذبیح کھانے کی ممانعت کی بنا یہی ہے اور حضرت علی ؓ کے قول مذکور کی بھی یہی علت ہے کیونکہ حضرت علی ؓ کو بنی تغلب کے عیسائیوں کی اس حرکت کا شاید علم ہو کہ وہ ذبح کے وقت اللہ کا نام نہیں لیتے یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کرتے ہیں عجمی عیسائیوں کے ذبیحہ کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے کا ان کا دستور ہی ہو تو اس ذبیحہ کو نہ کھایا جائے اور یہ حقیقت ہے کہ اس زمانہ کے عیسائی ذبح نہیں کرتے بلکہ چوٹ مار کر قتل کرتے ہیں اس لئے ان کا ذبیحہ حلال نہیں۔
وطعامکم حل لہم اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے۔
ایک سوال : جب رسول اللہ ﷺ : کی بعثت تمام لوگوں کے لئے ہے اور آپ کی شریعت ایک ہی ہے تو پھر بعض کے لئے بعض چیزوں کی حلت اور بعض کے لئے انہی چیزوں کی حرمت کا کیا معنی اور اس اختلاف احکام کی کیا علت ہے۔
جواب : مطلب یہ ہے کہ کچھ چیزیں سب کے لئے حلال ہیں جیسے سمندر کا پانی اور بعض چیزوں کی حلت کچھ شرطوں کے ساتھ مشروط ہے جیسے نماز کے جواز کے لئے وضو کی شرط ہے یا تمام عبادات کے لئے اللہ رسول پر ایمان رکھنے اور اخلاص نیت کی شرط ہے اور مال کی حلت کے لئے خود اس کا مالک ہونا یا مالک کی اجازت سے کھانا شرط ہے پس مسلمانوں کا ذبیحہ کافروں کے لئے حلال ہے آخرت میں اس ذبیحہ کو کھانے کی وجہ سے ان کو عذاب نہ ہوگا جس طرح ان کاموں کو کرنے کی وجہ سے عذاب نہ ہوگا جو بس لوگوں کے لئے جائز ہیں اور ان کے لئے ایمان کی شرط نہیں ہے مجوسیوں کی ذبیحہ کی حالت اس سے الگ ہے اس کو کھانا مردار کی طرح سب کے لئے ناجائز ہے اس کو کھانے پر کافروں کو عذاب ہوگا۔ جس طرح ایمان لانا فرض ہے اور ترک ایمان پر عذاب ہوگا اور وہ فرائض جن کا وجوب ایمان پر موقوف ہے ادا نہ کرنے پر بھی عذاب ہوگا اور ممنوعات کے ارتکاب پر بھی عذاب ہوگا اللہ نے فرمایا : مَا سَلَکُمْ فِیْ سَقَرٍ قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ الخ آیت میں جو اہل کتاب کے لئے مسلمانوں کے ذبیحہ کی حلت کی صراحت کی گئی ہے اس کی غرض اس فرق کو ظاہر کرنا ہے جو مسلمانوں کے ذبیحہ اور مسلمانوں کی عورتوں کے درمیان ہے کہ ان کا ذبیحہ تو سب کے لئے حلال ہے مگر مسلم عورتوں سے نکاح کی حلت کے لئے ایماندار ہونے کی شرط ہے۔
زجاج کے نزدیک آیت میں حلت کا خطاب مؤمنوں سے مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب کو کھانا کھلانا تمہارے لئے حلال ہے بیضاوی نے زجاج کے مطلب کو زیادہ صحیح الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اہل کتاب کو کھانا کھلانے اور ان کے ہاتھ فروخت کرنے میں مسلمانوں پر کوئی گناہ نہیں اگر اہل کتاب کے لئے مسلمانوں کا کھانا حلال نہ ہوتا تو پھر مسلمانوں کے لئے اہل کتاب کو کھلانا بھی ناجائز ہوتا۔ حقیقت میں اس کا راز وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کردیا کہ مسلمانوں کا ذبیحہ کھانے کے لئے ایمان کی شرط نہیں ہے ہاں مسلم عورتوں سے نکاح کے لئے ایماندار ہونے کی شرط ہے۔
والمحصنت من المؤمنت والمحصنت من الذین اوتوا الکتب من قبلکم اور پارسا عورتیں ایمان والیوں میں سے اور پارسا عورتیں ان لوگوں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی۔
اس کا عطف الطیبات پر ہے۔ بغوی نے کہا : المحصنٰتسے کیا مراد ہے۔ علماء کا اس کے متعلق اختلاف ہے اکثر علماء کے نزدیک اس لفظ سے مراد ہیں آزاد عورتیں جو باندیاں نہ ہوں مؤمن ہوں۔ یا کتابی نیک چلن ہوں یا بدرفتار۔ مجاہد کا بھی یہی قول ہے۔ مجاہد نے صراحت کی ہے کہ کتابی عورت سے جو باندی ہو نکاح ناجائز ہے کیونکہ اللہ نے آیت : مِمَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ فَتَیَاتِکُمْ الْمُوْمِنٰتِمیں باندیوں سے نکاح کی شرط کے طور پر لْمُوْمِنٰتِ کیقید لگائی ہے۔
بعض علماء کے نزدیک : المحصنات سے پاک دامن عورتیں مراد ہیں خواہ مسلمان آزاد ہوں یا باندیاں یا کتابی باندیاں۔ بدچلن عورتیں خواہ مسلمان ہوں یا کتابی بہرحال ان سے نکاح حرام ہے۔ حسن کا یہی قول ہے شعبی نے کہا کہ کتابیہ عورت کے محصن ہونے سے یہ مراد ہے کہ وہ زنا سے پاکدامن ہو اور غسل جنابت کرتی ہو۔
میں کہتا ہوں بغوی کے اس قول کا مدار اس امر پر ہے کہ مفہوم مخالف کا اعتبار کیا جائے (پس آزاد عورتوں میں سے جواز نکاح کی آیت میں صراحت ہے اور آزاد نہ ہوں باندیاں ہوں تو ان سے نکاح کا عدم جواز بطور مفہوم معلوم ہوجائے گا) مگر امام ابوحنیفہ (رح) : تو مفہوم مخالف کا اعتبار نہیں کرتے اور بدچلن کتابیہ باندی کے ساتھ نکاح کو جائز قرار دیتے ہیں کیونکہ آیت وَاُحِلَّ لَکُمْ مَاوَرَآءَ ذٰلِکُمْعام ہے (بدچلن کتابیہ باندی بھی اس کے ذیل میں آتی ہے) البتہ امام شافعی کے نزدیک مفہوم مخالف معتبر ہے مگر والمحصنت من المؤمنات میں وہ بھی مفہوم مخالف کا اعتبار نہیں کرتے اور مسلم بدچلن عورت سے (خواہ وہ آزاد ہو یا باندی ہو) نکاح کو جائز قرار دیتے ہیں اسی لئے بیضاوی نے لکھا ہے کہ مؤمنت میں سے محصنت کی تخصیص صرف ترغیب اولیٰ کے لئے ہے (یعنی نکاح اگرچہ غیر محصنات مؤمنات سے بھی جائز ہے مگر محصنات سے نکاح کرنا افضل اور اولیٰ ہے بس محصنات سے نکاح کرنے کی ترغیب کے لئے مؤمنات کے ساتھ المحصنات کی قید لگائی) لیکن جب والمحصنات من المؤمنات میں محصناتکا مفہوم مخالف معتبر نہیں تو والمحصنات من الذین اوتوا الکتب میں مفہوم مخالف کا اعتبار کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ واللہ اعلم۔
اس آیت کے عموم کا تقاضا ہے کہ حربی کتابیہ کے ساتھ بھی نکاح جائز ہو اجماع علماء بھی اسی پر ہے۔ (3) [ حضرت عمر ؓ نے فرمایا تھا مسلمان نصرانی عورت سے نکاح کرسکتا ہے مگر عیسائی مرد مسلمان عورت سے نکاح نہیں کرسکتا۔] حضرت ابن عباس ؓ فرماتے تھے کہ حربی کتابیہ کے ساتھ نکاح ناجائز ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ہر کتابی عورت سے نکاح کو ناجائز قرار دیتے تھے خواہ آزاد ہو یا باندی ‘ ذمی ہو یا حربی ‘ کیونکہ ہر کتابی عورت مشرکات کے ذیل میں آتی ہے اللہ نے فرمایا ہے قالَتِ الْیَہُوْدُ عُزیْرُ ابْنُ اللّٰہ وقَالَتَ النَّصَارٰی الْمِسْیُح ابْنَ اللّٰہِ (یہودی عزیر ( علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا اور نصاریٰ مسیح کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں) اور مشرک عورتوں سے نکاح حرام ہے اللہ نے فرمایا ہے ولا تَنْکِحُوْا الْمُشْرکَاتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّجب تک مشرک عورتیں ایمان نہ لائیں ان سے نکاح نہ کرو۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا آیت مندرجہ میں المحصنت سے مسلمان عورتیں مراد ہیں مگر یہ تفسیر غلط ہے کیونکہ اس کی شہادت لغت سے نہیں ملتی۔ پھر یہ قول اجماع کے بھی خلاف ہے۔ حرہ کتابی عورت سے جواز نکاح پر اجماع ہوچکا ہے اختلاف صرف کتابیہ باندی سے نکاح کرنے میں ہے اس کی تفصیل ہم نے سورة النساء میں کی ہے۔ ہاں کتابی عورت سے نکاح باتفاق علماء مکروہ ضرور ہے۔ اس میں ایک کافرہ کے ساتھ ہر وقت کا رہن سہن اور محبت و دوستی کرنی لازم ہے پھر اولاد ہوگی تو وہ اخلاق کفر اختیار کرے گی۔ ہر بچہ اپنی ماں سے مانوس ہوتا اور اس کا طور طریقہ سیکھتا ہے۔ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ حضرت طلحہ ؓ اور حضرت کعب ؓ بن مالک نے کتابی عورتوں سے نکاح کیا تھا حضرت عمر ؓ ان پر غصے ہوئے تو ان حضرات نے کہا امیر المؤمنین ہم طلاق دیئے دیتے ہیں۔ یہ قصہ بتارہا ہے کہ کتابی عورت سے نکاح درست ہے نکاح درست نہ ہوتا تو طلاق دینے کا کیا معنی ہے۔ ہاں جواز کے ساتھ کراہت بھی معلوم ہوتی ہے (ورنہ حضرت عمر ؓ غصے کیوں ہوتے)
فائدہ : صابی عورتوں سے نکاح کے متعلق امام ابوحنیفہ (رح) اور صاحبین (رح) میں اختلاف ہے امام صاحب کا خیال ہے کہ صابی فرقہ زبور کو مانتا ہے اس کا شمار اہل کتاب میں اس لئے نکاح جائز ہے۔ صاحبین (رح) ناجائز ہونے کے قائل ہیں کیونکہ ان کے خیال میں صابی ستارہ پرست ہوتے ہیں ان کا شمار مشرکوں میں ہے صاحب ہدایہ نے لکھا ہے اس اختلاف کی بنا صرف اختلاف خیال ہے صابی مذہب کیا ہے اس کی حقیقت کو سمجھنے میں امام اعظم اور ان کے شاگردوں میں اختلاف ہے واقع میں کوئی اختلاف نہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) و حضرت شیث ( علیہ السلام) کے صحیفوں پر ایمان رکھنے والی عورتوں کے ساتھ بھی امام اعظم کے نزدیک نکاح درست ہے۔
مسئلہ : مستصفی میں ہے کہ عیسائی عورت سے نکاح کا جواز اس وقت ہے جب وہ مسیح کو الٰہ نہ کہتی ہو اگر الوہیت مسیح کا اس کا عقیدہ ہو تو اس سے نکاح ناجائز ہے۔ مبسوط شیخ الاسلام میں ہے اگر اہل کتاب مسیح یا عزیر کو الٰہ کہتے ہوں تو ان کا ذبیحہ نہ کھایا جائے نہ ان کی عورتوں سے نکاح کیا جائے (وہ مشرک ہیں) بعض علماء نے اسی فیصلہ پر فتویٰ ہونا بیان کیا ہے مگر دلائل (آیات و احادیث) پر اگر نظر کی جائے تو ہر کتابی کا ذبیحہ کھانا اور ہر کتابی عورت سے نکاح کرنا جائز قرار پائے گا۔ (انتہیٰ کلام شیخ الاسلام)
ابن ہمام نے شیخ الاسلام کی موافقت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہر نصرانی کا ذبیحہ حلال ہے خواہ وہ تثلیث کا قائل ہو یا نہ ہو۔ آیت میں جو ہر کتابی کے ذبیحہ کو بےقید حلال قرار دیا ہے ابن ہمام کا قول اس کے موافق ہے۔
میں کہتا ہوں یہ بات کھلی ہوئی ہے کہ آیت میں اہل کتاب سے مراد وہ کتابی ہیں جو مشرک نہ ہوں موحد ہوں کیونکہ مشرک عورتوں سے نکاح کی ممانعت تو اللہ نے خود کردی ہے فرمایا ولا تَنْکِحُوْا الْمُشْرَکَاتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّاور یہ بات کہنا کہ صرف مشرک کتابیہ سے نکاح کی حرمت ( والمحصنات من الذین اوتوا الکتاب سے) منسوخ کردی گئی بعید از دانش ہے۔ بت پرست کے شرک اور کتابی کے شرک میں کوئی فرق نہیں۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہودیوں کے متعلق جو اللہ نے قالت الیہود عزیر ابن اللہ اور عیسائیوں کے متعلق قانت النصاری المسیح ابن اللّٰہ فرمایا ہے وہ صرف اہل کتاب کے دو فرقے تھے (یعنی یہودیوں کا ایک مختصر فرقہ عزیر کو ابن اللہ اور عیسائیوں کا ایک قلیل گروہ مسیح کو ابن اللہ کہتا تھا) جن کا اب کہیں وجود نہیں ہے۔ ابن ہمام نے لکھا ہے ہمارے ملک کے یہودی توحید کے قائل ہیں اور اللہ کو عزیر ( علیہ السلام) کا باپ ہونے سے پاک کہتے ہیں ‘ ہاں نصاریٰ میں سے ہم نے کوئی شخص ایسا نہیں پایا جو مسیح کے ابن اللہ ہونے کا قائل نہ ہو۔ حضرت علی ؓ نے جو بنی تغلب کے عیسائیوں کا ذبیحہ کھانے اور ان کی عورتوں سے نکاح کرنے کی ممانعت فرمائی تھی اس سے ہمارے مذکورہ بالا قول کی تائید ہوتی ہے (کہ عیسائی مسیح کی ابنیت کے قائل ہیں)
اذآ اتیتموہن اجورہن جبکہ تم ان کے مہر ادا کر دو ۔
حلت نکاح کو ادائے مہر سے مشروط کرنے سے غرض دو باتوں کا اظہار ہے مہر کے وجوب کی تاکید اور ادائے مہر کے افضل و اولیٰ قرار دینے کے بعد ادائیگی کی ترغیب۔ بعض علماء نے کہا ادائے مہر سے مراد ہے مہر کا اقرار اور التزام کرلینا اور اقرار مہر نکاح سے ہوتا ہے گویا یوں فرمایا کہ جب تم تحلیل فروج کے ارادہ سے نکاح کرو۔
محصنین اس طرح سے کہ تم بیوی بناؤ۔
غیر مسافحین نہ تو علانیہ بدکاری کرو یعنی زنا کے ذریعہ سے پانی کو بہاتے اور ضائع کرتے نہ پھرو کہ کوئی مزنیہ ہو تم اس سے زنا کرو۔
ولا متخذی اخدان نہ خفیہ آشنائی یعنی مقررہ داشتہ عورتوں سے زنا کرنے والے نہ ہوں۔
خدنکا اطلاق مرد و عورت دونوں پر ہوتا ہے۔
ومن یکفر بالایمان اور جو ایمان یعنی قوانین اسلام کا انکار کرے گا۔
فقد حبط عملہ اس کے اعمال (یعنی نیک اعمال) اکارت جائیں گے کیونکہ قبول اعمال کے لئے ایمان کی شرط ہے۔
وہو فی الاخرب من الخسرین اور وہ آخرت میں گھاٹا پانے والوں میں سے ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس کے ثواب میں گھاٹا ہوگا۔