5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 5:76

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 5:76 in the Quran reader

کہو کہ تم خدا کے سوا ایسی چیز کی کیوں پرستش کرتے ہو جس کو تمہارے نفع اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں؟ اور خدا ہی (سب کچھ) سنتا جانتا ہے

قل اتعبدون من دون اللہ مالا یملک لکم ضرا ولا نفعا آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی پوجا کرتے ہو جو نہ تمہارے کسی نقصان پر قابو رکھتی ہیں نہ نفع پر یعنی کیا عیسیٰ کی پوجا کرتے ہو۔ عیسیٰ کے تمام افعال دوسرے انسانوں کی طرح اللہ ہی کے پیدا کئے ہوئے تھے اس لئے حقیقت میں کچھ بھی اپنا نہ تھا۔ سب کچھ خداداد تھا جس طرح دنیا میں اللہ دکھ اور مصیبت میں مبتلا کرنے اور آخرت میں عذاب دینے کی قدرت رکھتا ہے ویسا عیسیٰ کو قابو نہیں اور جس طرح اللہ دنیا میں جسمانی صحت اور روزی کی وسعت اور آخرت میں جنت دینے کا اختیار رکھتا ہے۔ ویسا اختیار عیسیٰ کو نہیں۔ ماکی وضع لغوی ان چیزوں کے لئے ہے جو فطرتاً قوت ادراک سے خالی ہوں لیکن اس جگہ عیسیٰ مراد ہیں (تو مَنْہونا چاہئے جس کی وضع عاقل کے لئے ہے) گویا دوسری عاجز مخلوق کی طرح عیسیٰ کو بھی قرار دیا اور اس امر پر تنبیہ کی کہ مسح بھی (گویا) اس مخلوق کے ہم جنس تھے جو ذی عقل نہیں پھر حامل الوہیت کیسے ہوسکتے ہیں۔ حصول نفع سے دفع ضرر کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے اس لئے ضرر کا ذکر نفع سے پہلے کیا۔ واللہ ہو السمیع العلیم اور اللہ ہی سننے اور جاننے والا ہے یعنی اقوال و عقائد سے واقف ہے۔ قول و عقیدہ کے مطابق سزا جزا دے گا۔ ہوضمیر فصل مفید حصر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسیح حقیقتاً نہ سننے کے مالک تھے نہ دیکھنے کے نہ جاننے کے نہ دوسرے اوصاف کے ان کے یہ تمام اوصاف خداداد تھے۔
Ayah 5:77

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ Open ayah 5:77 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب! اپنے دین (کی بات) میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) پہلے گمراہ ہوئے اور اَور بھی اکثروں کو گمراہ کر گئے اور سیدھے رستے سے بھٹک گئے

قل یاہل الکتب لا تغلوا فی دینکم آپ کہہ دیجئے اے حاملان کتاب اپنے دین (کے معاملہ) میں مبالغہ سے کام نہ لو یعنی حد اعتدال سے ہٹ کر افرا ط وتفریط میں مبتلا نہ ہو۔ عیسیٰ کے عبداللہ اور رسول اللہ ہونے کا یقین رکھنا صحیح دین الٰہی ہے (اس عقیدہ سے تجاوز نہ کرو) یہودیوں نے اپنے دین میں تفریط کی اور حضرت عیسیٰ کی رسالت کے منکر ہوگئے اور عیسائیوں نے عیسیٰ کے معاملہ میں افراط سے کام لیا اور انکے الٰہ ہونے کے مدعی ہوگئے۔ بعض علماء کے نزدیک یا اہل الکتاب سے صرف نصاریٰ کو خطاب ہے۔ غیر الحق ناحق۔ یعنی افراط وتفریط نہ کرو ناحق۔ اس لفظ سے مفہوم غلو کی تاکید ہوگئی کیونکہ غلو تو ناحق ہوتا ہی ہے یا غیر الحق (مفعول مطلق نہیں بلکہ) دِیْنِکُمْسے حال ہے یعنی اپنے باطل دین میں غلو نہ کرو۔ دین باطل میں غلو کرنے سے مراد ہے دین باطل پر جما رہنا۔ ولا تتبعوا اہوآء قوم قد ضلوا من قبل اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو اس سے پہلے گمراہ رہ چکے تھے یعنی اپنے ان اسلاف کی تقلید نہ کرو جو بعثت محمدی سے پہلے اپنی شریعت میں خود ہی گمراہ ہوگئے تھے۔ واضلو عن کثیرا اور بہتوں کو گمراہ بھی کردیا تھا یعنی بدعت اور گمراہی میں لوگ ان کے پیرو ہوگئے تھے۔ وضلو عن سوآء السبیل اور (بعثت محمدی کے بعد تکذیب اور مخالفت کی وجہ سے) سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔ یعنی دین اسلام سے بھٹک گئے۔ بعض علماء نے کہا آیت میں اوّل ضلالت سے مراد ہے کفر اور دوسری ضلالت سے مراد ہے گمراہ کرنا۔ بعض نے کہا اوّل ضلالت سے مراد ہے عقلی گمراہی اور دوسری ضلالت سے مراد ہے شریعت کے بتائے ہوئے راستہ سے بھٹک جانا۔
Ayah 5:78

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ Open ayah 5:78 in the Quran reader

جو لوگ بنی اسرائیل میں کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی یہ اس لیے کہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے

لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل لعنت کی گئی ان لوگوں پر جنہوں نے کفر کیا تھا بنی اسرائیل میں سے۔ یعنی یہودیوں پر۔ علی لسان داؤد و عیسیٰ ابن مریم داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبانی۔ یعنی داؤد کی زبانی زبور میں اور عیسیٰ کی زبانی انجیل میں۔ اوّل الذکر کافروں سے اہل ایلہ مراد ہیں کہ سینچر کے دن کی حرمت کی انہوں نے خلاف ورزی کی تھی اور حضرت داؤد نے ان کے لئے بددعا کی تھی اور کہا تھا الٰہی ان پر لعنت کر اور ان کو عبرت بنا دے چناچہ ان کی شکلیں بندروں کی طرح کردی گئیں اور اصحاب مائدہ جب ایمان نہ لائے تو حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے ان کو بددعا دی اور کہا الٰہی ان پر لعنت کر اور ان کو عبرت کی نشانی بنا دے چناچہ وہ مسخ کر کے سور بنا دیئے گئے۔ یہ لوگ پانچ ہزار تھے۔ ذلک بما عصوا وکانوا یعتدرون یہ (لعنت) ان کی نافرمانی اور حد سے تجاوز کرنے کی وجہ سے ہوئی۔
Ayah 5:79

كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 5:79 in the Quran reader

(اور) برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے بلاشبہ وہ برا کرتے تھے

کانوا لا ینتاہوں عن منکر فعلوہ (نافرمانی اور حد سے تجاوز کرنے کی تشریح یہ ہے کہ) وہ آپس میں برے کام (دوبارہ) کرنے سے نہ روکتے تھے یا یہ مطلب ہے کہ جب بعض لوگ برے کام کرنے کا ارادہ کرتے تھے تو دوسرے لوگ ان کو منع نہیں کرتے تھے۔ برائی سے منع نہ کرنے کا تقاضا ہے کہ سب پر عذاب آجائے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے میں نے خود سنا آپ فرما رہے تھے کہ لوگ جب ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو اغلب ہے کہ اللہ کا عذاب ان سب پر آجائے۔ رواہ الاربعۃ۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ نسائی کی روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ جب لوگ برے کام (ہوتے) دیکھیں اور ان کو نہ بدلیں۔ ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ جن لوگوں کے اندر گناہ کئے جا رہے ہوں اور وہ گناہوں کو بدل دینے کی طاقت رکھنے کے باوجود نہ بدلیں تو اغلب ہے کہ اللہ کا عذاب ان سب پر آجائے۔ آیت کا دوسرا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ برے کاموں سے باز نہ رہتے تھے بلکہ ان پر جمے رہتے تھے۔ تَنَاہٰی عَنِ الْاَمْرِ فلاں شخص فلاں کام سے رک گیا یا باز رہا۔ لبئس ما کانوا یفعلون ان کی یہ حرکتیں بری تھیں۔ اس جملہ میں ان کی بدکرداری پر تعجب اور پُر شوکت مذمت ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن مسعود : کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے بنی اسرائیل میں سے اگر کوئی شخص گناہ کرتا تھا تو دوسرا شخص اس کو منع کرتا تھا۔ لیکن دوسرے روز صبح کو یہی منع کرنے والا اسی مرتکب گناہ کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا اور کھاتا پیتا تھا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کل گناہ میں اس کو آلودہ اس نے دیکھا ہی نہ تھا۔ جب اللہ نے ان کی یہ حالت ملاحظہ فرمائی تو سب کے دل ایک جیسے کردیئے اور کچھ لوگوں کو ان میں سے بندر اور سؤر بنا ڈالا اور داؤد و عیسیٰ کی زبانی ان پر لعنت کی اس کا سبب ان کی نافرمانی اور حدود و ممانعت سے تجاوز تھا۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم کو ضرور نیکی کی ہدایت اور برائی سے بازداشت اور بیوقوف کے ہاتھوں پر گرفت اور حق پر اجتماعی موافقت کرنی لازم ہے۔ ورنہ تمہارے دلوں کو بھی اللہ ایک جیسا کر دے گا (یعنی سب کے دلوں پر مہر لگا دے گا) اور جس طرح ان پر لعنت کی اسی طرح تم پر بھی لعنت کرے گا۔ رواہ الترمذی و ابو داؤد۔ من حدیث عبداللہ بن مسعود مرفوعاً ۔ (1) [ شاید عبدالرحمن بن مسعودسہو کاتب ہے صحیح عبداللہ بن مسعود ہے۔ مترجم ]
Ayah 5:80

تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 5:80 in the Quran reader

تم ان میں سے بہتوں کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں انہوں نے جو کچھ اپنے واسطے آگے بھیجا ہے برا ہے (وہ یہ) کہ خدا ان سے ناخوش ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں (مبتلا) رہیں گے

تری کثیرا منہم آپ ان (یہودیوں میں سے) بہتوں کو دیکھ رہے ہیں جیسے کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی۔ یتولون الذین کفروا کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں۔ کافروں سے مراد ہیں مکہ کے مشرک۔ یہ یہودی مکہ کے مشرکوں کے پاس اس غرض سے گئے تھے کہ ان کے لشکر کو رسول اللہ ﷺ پر چڑھا لائیں۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاہد اور حسن کا قول ہے کہ منہم کی ضمیر منافقوں کی طرف راجع ہے کیونکہ منافق یہودیوں کے دوست تھے۔ لبئس ما قدمت لہم انفسہم ان سخط اللہ علیہم وفی العذاب ہم خالدون جو کام انہوں نے آگے کے لئے کیا ہے وہ بیشک برا ہے کہ اللہ ان پر ناخوش ہوا اور عذاب ہی میں یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے۔ اگر اَنْ سَخِطَ اللّٰہ کو مخصوص بالذم قرار دیا جائے تو سخط سے مراد ہوگا موجب غضب و عذاب اور اگر مخصوص بالذم کو محذوف مانا تو اَنْ سَخِطَ ۔۔ علت ذم ہوگی۔
Ayah 5:81

وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:81 in the Quran reader

اور اگر وہ خدا پر اور پیغمبر پر اور جو کتاب ان پر نازل ہوئی تھی اس پر یقین رکھتے تو ان لوگوں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں اکثر بدکردار ہیں

ولو کانوا یومنون باللہ والنبی وما انزل الیہ ما اتخذوہم اولیاء اور اگر یہ لوگ اللہ پر ایمان رکھتے اور پیغمبر پر اور اس کتاب پر جو پیغمبر کے پاس بھیجی گئی تھی تو انکو (کبھی) دوست نہ بناتے۔ یعنی اگر یہودی یا منافق ایماندار ہوتے تو مکہ کے کافروں سے (مسلمانوں کے مقابلہ میں) دوستی نہ کرتے یا یہ مطلب کہ اگر منافق ایماندار ہوتے تو یہودیوں سے دوستی نہ کرتے کیونکہ اللہ اور آسمانی کتابوں پر ایمان اس سے روکتا ہے۔ (تقاضائے ایمان کے خلاف ہے کہ اللہ کے دشمنوں سے اللہ کے دوستوں کے مقابلہ میں دوستی کی جائے ‘ 12) ولکن کثیرا منہم فاسقون لیکن ان میں سے بہت سے لوگ فاسق ہیں یعنی اللہ کے احکام کی پابندی سے باہر ہیں۔
Ayah 5:82

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 5:82 in the Quran reader

(اے پیغمبرﷺ!) تم دیکھو گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور دوستی کے لحاظ سے مومنوں سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے

لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین امنوا الیہود والذین اشرکوا آپ اہل ایمان کا سب سے سخت دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے۔ ابوالشیخ اور ابن مردویہ نے حضرت ابی کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہودی جب بھی مسلمان کو تنہائی میں پاتا ہے تو اس کے دل میں خیال آتا ہے کہ مسلمان کو قتل کر دوں۔ مشرکوں سے مراد ہیں عرب کے مشرک کیونکہ وہ خواہشات نفسانی میں غرق تھے۔ اسلاف کے اندھے پیروکار تھے۔ تحقیق سے ان کا دور کا بھی تعلق نہ تھا۔ انبیاء کی تکذیب اور عداوت کے ہمیشہ سے عادی تھے۔ ولتجدن اقربہم مودۃ للذین امنوا الذین قالوا ان نصاری اور جو لوگ اپنے نصاری ہونے کے قائل ہیں ان کو آپ اہل ایمان کی دوستی کے سب سے زیادہ قریب پائیں گے۔ بغوی نے لکھا ہے اس جگہ تمام نصاریٰ مراد نہیں ہیں کیونکہ مسلمانوں کی دشمنی میں تو عام نصاریٰ بھی ویسے ہی شدید ہیں جیسے مسلمانوں کو قتل کرنے ‘ تباہ کرنے ‘ قید کرنے ‘ مسلمانوں کی بستیوں کو برباد کرنے ‘ مسجدوں کو ڈھانے اور قرآن مجید کو جلانے میں یہودی سخت ہیں ‘ دونوں فرقوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ آیت میں صرف وہ عیسائی مراد ہیں جو مسلمان ہوگئے جیسے نجاشی اور ان کے ساتھی۔ نسائی ابن ابی حاتم اور طبرانی نے حضرت عبداللہ بن زبیر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت نجاشی کے اور ان کے ساتھیوں کے متعلق ہوا۔ ابن ابی حاتم وغیرہ نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ آیت میں عیسائیوں کا وہ وفد مراد ہے جو حبشہ سے حضرت جعفر کے ساتھ آیا تھا۔ عطا کا بھی یہی قول ہے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک تمام یہودی اور تمام عیسائی مراد ہیں کیونکہ عموماً یہودی سنگدل اور عیسائی ان کے مقابلہ میں نرم دل ہوتے ہیں اور عیسائی مشرکوں کی امداد کم کرتے تھے۔ یہودی مشرکوں کے بڑے حامی تھے۔ میں کہتا ہوں کہ واقعۂ نزول کچھ بھی ہو ‘ خواہ نجاشی کا قصّہ ہو یا کوئی دوسرا۔ الفاظ کے عموم کا تقاضا ہے کہ کوئی معین جماعت مراد نہ ہو کیونکہ جو یہودی مسلمان ہوگئے جیسے عبداللہ بن سلام اور کعب بن احبار وغیرہ وہ بھی مسلمان ہونے والے عیسائیوں سے کم درجہ پر نہ تھے (پھر مسلمان عیسائیوں کو اقرب المودت کہنا اور مسلم یہودیوں کو اقرب المودت کے گروہ سے خارج قرار دینا کوئی معنی نہیں رکھتا) حق بات یہ ہے کہ نصاریٰ سے مراد وہی نصاریٰ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے صحیح اور سچی عیسائیت پر تھے جن میں سے حضرت نجاشی اور آپ کے رفقاء بھی تھے۔ مسیح کو اللہ یا اللہ کو تین میں کا تیسرا کہنے والے (کفار) مراد نہیں ہیں عیسائیوں کے یہ باطل فرقے تو یہودیوں کی طرح خواہش پرست اور سنگ دل تھے جیسے نجران کے باشندے تھے البتہ جو صحیح عیسائیت پر تھے اور انجیل کے صحیح عالم تھے وہ منتظر تھے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد ایک پیغمبر کا آنا ضروری ہے جن کا نام احمد ہوگا یہ لوگ سچے علم اور صحیح عمل کے شیدائی دنیا سے روگرداں صاف دل پاک باطن تھے۔ پہلے حضرت عیسیٰ پر ایمان لا چکے تھے جس کی وجہ سے ان کے دل روشن ہوگئے تھے۔ اس کی تائید آئندہ متصل آیت سے ہورہی ہے۔ ذلک بان منہم قسیسین ورہبانا یہ اس سبب سے ہے کہ ان میں بہت سے علم دوست عالم ہیں اور بہت سے تارک دنیا درویش ہیں۔ یعنی اہل ایمان سے نصاریٰ کے اقرب المودت ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں علماء اور مشائخ ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ رومی زبان میں قس اور قسیس کا معنی ہے عالم قاموس میں ہے قسیس صدر علماء نصاریٰ ۔ قسیس کسی چیز کی تلاش اور جستجو کرنا۔ صحاح میں ہے قسیس عالم عابد سردار نصاریٰ اور قس کا معنیٰ ہے کسی چیز کو رات میں تلاش کرنا علماء اور عبادت گزار مشائخ بھی رات کو ہی علم اور توجہ کی یکسوئی کے طلبگار ہوتے ہیں۔ رہبان راہب کی جمع ہے جیسے راکب کی جمع رکبان آتی ہے۔ رہبان سے مراد ہیں عبادت گزار خانقاہ نشین لوگ۔ قاموس میں ہے رہب (باب سمع) وہ ڈر گیا۔ اور ترہب کا معنی ہے عبادت گزاری۔ وانہم لا یستکبرون اور یہ وجہ بھی ہے کہ وہ غرور نہیں کرتے یعنی جب ان کو قبول حق کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ یہودیوں کی طرح دعوت کو پائے حقارت سے نہیں ٹھکراتے۔ قتادہ نے کہا کچھ اہل کتاب نے شریعت عیسوی پر قائم تھے۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تو آپ کی بھی تصدیق کی اور ایمان لے آئے۔ اللہ نے اس آیت میں انہی کی تعریف فرمائی اور انہی کے متعلق آیت ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُہْبَانًاالخ نازل فرمائی۔ میں کہتا ہوں قتادہ نے جن عیسائیوں کا بیان کیا ہے کہ وہ بعثت سے پہلے بھی دین حق پر تھے اور بعثت کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے وہ ہی رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد میں مراد ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا تھا تین شخص ایسے ہیں جن کو دوہرا ثواب ملے گا (ان میں سے) ایک وہ اہل کتاب ہے جو اپنے نبی پر بھی ایمان لایا اور (بعثت کے بعد) محمد ﷺ پر بھی ایمان لایا۔ الحدیث۔ متفق علیہ عن ابی موسیٰ الاشعری۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ قریش نے باہم مشورہ کر کے طے کرلیا کہ مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دے کر دین اسلام سے برگشتہ کریں گے۔ چناچہ طرح طرح سے دکھ اور جسمانی تکلیفیں دینے لگے۔ جس کو دکھ اٹھانا تھا اس نے اٹھایا اور جس کو اللہ نے بچانا چاہا بچا لیا۔ رسول اللہ ﷺ : کو اللہ نے آپ کے چچا ابو طالب کی وجہ سے امان میں رکھا لیکن ساتھیوں کا دکھ جب انتہا کو پہنچ گیا اور ان کو محفوظ رکھنے کی کوئی تدبیر نظر نہ آئی تو آپ نے ملک حبش کو نکل جانے کا حکم دے دیا کیونکہ اس وقت جہاد کی اجازت نہیں ہوئی تھی۔ حضور ﷺ نے فرمایا وہاں کا بادشاہ نیک ہے نہ وہ ظلم کرتا ہے نہ اس کے پاس پہنچ کر کسی پر ظلم کیا جاسکتا ہے تم لوگ وہاں چلے جاؤ۔ جب اللہ مسلمانوں کے لئے (یہاں) کوئی کشائش پیدا کر دے گا تو دیکھا جائے گا۔ شاہ حبشہ سے مراد نجاشی تھا۔ نجاشی شاہ حبش کا لقب تھا جیسے (شاہ روم کا لقب) قیصر اور (شاہ ایران کا لقب) کسریٰ تھا اس نجاشی کا نام اصحمہ تھا۔ حبشی زبان میں نجاشی کا معنی ہے عطیہ۔ حسب الحکم گیارہ مرد اور چار عورتیں (سب سے پہلے ترک وطن کر کے) حبش کو چل دیئے۔ حضرت عثمان بن عفان ‘ آپ کی اہلیہ حضرت رقیہ جو رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھیں ‘ حضرت زبیر بن العوام ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود ‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف ‘ حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ ‘ حضرت ابو حذیفہ کی بی بی ‘ حضرت سہلہ بنت سہیل بن عمرو ‘ حضرت مصعب بن عمیر ‘ حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد اور آپ کی بی بی ‘ حضرت ام سلمہ بنت امیہ ‘ حضرت عثمان بن مظعون ‘ حضرت عامر بن ربیعہ اور آپ کی بی بی ‘ حضرت لیلی بنت ابی حیثمہ ‘ حضرت حاطب بن عمرو حضرت سہیل بن بیصار ؓ ۔ رجب 5 نبوت کو روانہ ہوئے اور سمندر پر پہنچ کر نصف دینار میں ایک کشتی کرایہ پر لے کر ملک حبش کو چلے گئے۔ یہ ہی پہلی ہجرت ہوئی۔ کچھ مدت کے بعد حضرت جعفر بن ابی طالب بھی چلے گئے اور آپ کے بعد پیہم مسلمان حبش کو ہجرت کرنے لگے عورتوں اور بچوں کے علاوہ صرف مردوں کی تعداد 82 ہوگئی جو حبش میں پہنچ گئے۔ قریش کے علم میں جب یہ بات آئی کہ مسلمان حبش میں پناہ گیر ہوگئے ہیں تو انہوں نے عمرو بن عاص کو حبش بھیجا۔ نجاشی اور اس کے سرداروں کے لئے عمرو بن عاص کے ساتھ کچھ تحفے ہدئیے بھی کردیئے تاکہ شاہ حبش مسلمانوں کو واپس لوٹا دے لیکن ان کی یہ تدبیر ناکام ہوئی اور اللہ نے مسلمانوں کو محفوظ رکھا۔ یہ قصہ ہم سورة آل عمران کی آیت اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرَاہِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ وَہٰذَا النَّبِیُّکی تفسیر میں لکھ چکے ہیں۔ عمرو بن عاص اور ان کا ساتھی جب ناکام واپس لوٹ آئے تو نجاشی نے بڑی خاطر مدارات کے ساتھ مسلمانوں کو رکھا۔ مدت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے (مدینہ کو) ہجرت کی اور 6 ھ ؁ میں حضرت عمرو بن امیہ ضمری کے ہاتھ نامۂ مبارک نجاشی کے نام روانہ کیا جس میں لکھا تھا کہ اگر ام حبیبہ راضی ہوں تو ان کا نکاح مجھ سے کر دو اور مسلمانوں کو میرے پاس واپس بھیج دو ۔ حضرت ام حبیبہ بنت ابو سفیان اپنے شوہر کے ساتھ ہجرت کر کے چلی گئی تھیں لیکن حبش میں ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا (تو رسول اللہ ﷺ نے نجاشی کو نامۂ مبارک لکھا) حسب الحکم نجاشی نے اپنی باندی ابرہہ کو چار سو دینار دے کر حضرت ام حبیبہ کے پاس بھیجا اور ابرہہ کے ذریعہ سے رسول اللہ ﷺ کا پیام نکاح حضرت ام حبیبہ کو پہنچایا ‘ حضرت ام حبیبہ نے یہ پیام سن کر خوشی کے مارے ابرہہ کو اپنے کنگن دے دیئے اور خالد بن سعید بن العاص کو وکیل بنا دیا۔ خالد نے چار سو دینار مہر پر رسول اللہ ﷺ کا نکاح حضرت ام حبیبہ سے کردیا۔ نجاشی نے رقم مہر حضرت ام حبیبہ کو دے دی۔ ابرہہ جب مہر کی اشرفیاں لے کر حضرت ام حبیبہ کی خدمت میں پہنچی تو آپ نے پچاس اشرفیاں اس کو عطا فرمائیں۔ ابرہہ نے لینے سے انکار کردیا اور عرض کیا مجھے بادشاہ نے نہ لینے کی ہدایت کردی ہے۔ میں تو بادشاہ کی توشہ خانہ کی مہتمم ہوں میں محمد رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کرتی اور ان پر ایمان لاتی ہوں ‘ میری آپ سے یہ درخواست ہے کہ جب آپ پہنچیں تو حضور ﷺ کو میرا سلام عرض کردیں۔ حضرت ام حبیبہ نے فرمایا بہت اچھا۔ بادشاہ نے اپنی عورتوں کو حکم دیا کہ حضرت ام حبیبہ کو (جو خوشبوئیں موجود ہوں جیسے) عود ‘ عنبر بھیج دیں۔ حضرت ام حبیبہ کا بیان ہے کہ ہم حبش سے مدینہ کو روانہ ہوگئے۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ خیبر میں تھے جو حضور ﷺ کے پاس جانا چاہتے تھے وہ خیبر کو چلے گئے مگر میں مدینہ میں رہی۔ جب رسول اللہ ﷺ خیبر سے مدینہ کو واپس آگئے تو میں خدمت گرامی میں حاضر ہوئی۔ آپ ﷺ مجھ سے نجاشی کا حال پوچھنے لگے۔ میں نے ابرہہ کا سلام پہنچایا۔ حضور ﷺ نے سلام کا جواب دیا اس پر آیت عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِنْہُمْ مَّوَدَّۃً نازل ہوئی یعنی ام حبیبہ کے ساتھ نکاح ہونے کی وجہ سے امید ہے کہ تمہارے دشمنوں کی (ابو سفیان وغیرہ) دشمنی کو اللہ دوستی سے بدل دے گا۔ چناچہ ابوسفیان کو جب ام حبیبہ کے نکاح کی اطلاع پہنچی تو وہ بولا نر ہے اس کی ناک کو ٹھونکا نہیں جاسکتا (یعنی محمد ﷺ شریف بہادر ہیں ان میں کوئی عیب نہیں) حضرت جعفر کے ساتھ نجاشی نے اپنے بیٹے ارہا بن اصحمہ بن الجر کو ساٹھ حبشیوں کے جماعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا تھا اور ایک عرضداشت بھی بھیجی تھی جس میں لکھا تھا یا رسول اللہ ﷺ میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں آپ کی (گزشتہ کتابوں میں بھی) تصدیق کی گئی ہے میں نے آپ کی اور آپ کے چچا کے بیٹے کی بیعت کرلی ہے اور اللہ رب العالمین کا فرمان بردار ہوگیا ہوں۔ میں آپ کی خدمت میں اپنے بیٹے ارہا کو بھیج رہا ہوں اگر آپ کا حکم ہوگا تو خود بھی حاضر ہوجاؤں گا۔ والسلام علیک یا رسول اللہ۔ یہ قافلہ حضرت جعفر اور آپ کے ساتھیوں کے بعد ایک کشتی میں سوار ہوا لیکن وسط سمندر میں پہنچ کر ارہا ڈوب گیا۔ حضرت جعفر اور آپ کے ستر ساتھی اونی کپڑے پہنے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے ان میں 62 حبشی تھے اور 8 شامی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو پوری سورة یاسین پڑھ کر سنائی۔ یہ لوگ سن کر رونے لگے اور سب ایمان لے آئے اور عرض کیا یہ کلام تو اس کلام سے بہت ہی مشابہ ہے جو عیسیٰ ( علیہ السلام) پر اترتا تھا اس پر آیت وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃَ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّا نَصَارٰی نازل ہوئی۔ اس آیت میں وہی عیسائی مراد ہیں جن کو نجاشی نے بھیجا تھا اور جو حضرت جعفر کے ساتھ آئے تھے یہ ستر آدمی تھے اور خانقاہوں والے تھے۔ مقاتل و کلبی نے ان کی تعداد چالیس بیان کی ہے جن میں 32 حبشی اور آٹھ شامی تھے اور عطاء کے قول میں کل تعداد اسّی بیان کی گئی ہے۔ چالیس نجرانی (یمنی) جو بنی حارث کے قبیلہ میں سے تھے اور 32 حبشی اور 8 شامی رومی۔ ابن ابی شیبہ ‘ ابن ابی حاتم اور واحدی نے ابن شہاب کے سلسلہ سے سعید بن المسیب اور ابوبکر بن عبدالرحمن اور عروہ بن زبیر کی روایت مرسلاً بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرو بن امیہ ضمری کو نامۂ مبارک دے کر نجاشی کے پاس بھیجا۔ حضرت عمرو نے جا کر نامۂ مبارک نجاشی کو پہنچا دیا۔ نجاشی نے خط پڑھ کر مشائخ و علماء کو بلایا اور حضرت جعفر کو مع رفقاء کے بھی طلب کیا۔ حضرت جعفر نے سب کو سورة مریم پڑھ کر سنائی سن کر سب ایمان لے آئے اور سب کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ آیت وَلَتجدن اقربہم مودۃ۔۔ فاکتبنا مع الشاہدینان ہی کے متعلق اللہ نے نازل فرمائی۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کی روایت سے لکھا ہے کہ نجاشی نے اپنے خاص مصاحبین میں سے ایک بزرگ شخص کو جس کا نام فلاس تھا رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں بھیجا۔ حضور ﷺ نے اس کو سورة یٰسین پڑھ کر سنائی۔ سن کر (فلاس اور اس کے ساتھی) سب رونے لگے اور انہیں کے متعلق آیت مذکورہ کا نزول ہوا۔ نسائی نے حضرت عبداللہ بن زبیر کا قول لکھا ہے کہ آیت مذکورہ کا نزول نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے متعلق ہوا۔
Ayah 5:83

وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ١ۚ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:83 in the Quran reader

اور جب اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو (سب سے پہلے) پیغمبر (محمدﷺ) پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی اور وہ (خدا کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ لے

واذا سمعوا ما انزل الی الرسول تری اعینہم تفیض من الدمع اور جب وہ اس (کلام) کو سنتے ہیں جو رسول ﷺ کے پاس بھیجا گیا ہے تو آپ ان کی آنکھوں کو آنسو بہاتے دیکھتے ہیں۔ طبرانی نے بھی نسائی کی مذکورہ بالا روایت کی طرح بیان کیا ہے مگر واقعہ کو ذرا تفصیل سے بیان کیا ہے۔ میں کہتا ہوں نجاشی یا وفد نجاشی کے متعلق آیت کا نزول حکم کی تخصیص کو نہیں چاہتا کہ انہی کے ساتھ حکم مخصوص ہو کیونکہ الفاظ کا عموم معتبر ہوتا ہے واقعہ کی خصوصیت ناقابل اعتبار ہے۔ واذا سمعوا کا عطف لا یستکبرون پر ہے رونے کا ذکر کرنے سے مقصود ہے ان کے دلوں کی رقت کا خوفِ الٰہی کی شدت کا قبول حق کی طرف سبقت کرنے کا اور پیام حق سے سرکشی نہ کرنے کا اظہار۔ فیض کا معنی ہے کسی چیز کا بھرنے کے بعد چھلک جانا۔ بھرنے کی جگہ چھلکنے کا لفظ کلام میں زور پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا یا یوں کہا جائے کہ کثرت گریہ کی وجہ سے (بجائے آنسووں کے) آنکھوں کو چھلکنے والا قرار دینے میں کثرت بکاء کو ظاہر کرنا مقصود ہے (بہنے والی چیز پانی ہے آنکھ یا نہر نہیں بہتی مگر مجازاً ظرف بول کر مظروف مراد لے لیا جاتا ہے یا ظرف کی طرف فعل کی نسبت مبالغۃً کردی جاتی ہے) ۔ مما عرفوا من الحق اس سبب سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا۔ مِمَّا عَرَفُوا میں منابتدائیہ ہے یا تعلیلیہ یعنی حق کو پہچاننے کی وجہ سے اور ما موصولہ ہی اور من الحق میں منبیانیہ ہی یعنی جو حق انہوں نے پہچان لیا اس کے سبب سے ان کی آنکھیں آنسو بہاتی ہیں۔ یا من الحق میں منتبعیضیہ ہے یعنی حق کو کسی قدر پہچاننے کے بعد ان پر گریہ طاری ہوگیا۔ اگر پورے حق کو پہچان لیتے تو کیا حال ہوتا۔ عطاء کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول آیا ہے کہ سننے والوں سے مراد ہیں نجاشی اور ان کے ساتھی۔ حبش میں (نجاشی کے دربار میں) حضرت جعفر ؓ نے ان کو کہیٰعص پڑھ کر سنائی تھی تو جب تک آپ پڑھتے رہے وہ لوگ روتے رہے) ۔ یقولون ربنا امنا فاکتبنا مع الشہدین۔ کہتے ہیں اے ہمارے رب ہم نے (تیرے رسول محمد ﷺ اور اس کتاب کو جو تو نے محمد ﷺ پر نازل کی ہے) مان لیا تو ہم کو بھی انہی لوگوں کے ساتھ لکھ لے جو تصدیق کرنے والے ہیں (اٰمنّاسے مراد گزشتہ ایمان کو بیان کرنا نہیں ہے بلکہ) ایمان لانے سے مراد ہے اب ایمان لانا اور دائرۂ مؤمنین میں داخل ہونا۔ رَبَّنَاکالفظ ظاہر کر رہا ہے کہ وہ منافقوں کی طرح ایمان نہیں لائے بلکہ سچے دل سے انہوں نے تصدیق کی۔ الشاہدین سے مراد ہے امت محمدیہ جو (قیامت کے دن) پیغمبروں کی طرف سے شہادت دے گی (کہ ان پیغمبروں نے اپنی اپنی امتوں کو پیام ہدایت پہنچا دیا تھا) ۔ نو مسلم عیسائیوں نے اپنی دعا میں یہ لفظ اس لئے کہا کہ ان کو انجیل پڑھنے سے معلوم ہوگیا تھا کہ امت محمدیہ ﷺ : پیغمبروں کی طرف سے شہادت دے گی یا شاہدین سے مراد ہیں نبوت محمدیہ ﷺ اور حقانیت قرآن کی شہادت دینے والے یعنی مسلمان۔ شہادت (سے مراد تصدیق ہے کیونکہ شہادت) وہی ہوتی ہے جو اندرون قلب اور سچے دل سے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے متعلق (باوجودیکہ وہ زبانی اقرار کرتے تھے) فرمایا ہے۔ (وَاللّٰہ یَشْہَدُ اِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لَکَاذِبُوْنَ ) گویا الشاہدینکا لفظ کہہ کر انہوں نے اس امر کا اظہار کیا کہ ہمارا ایمان سچے دل سے ہے منافقوں کی طرح نہیں اور اس دلیل آیت میں اس طرح بیان کی۔
Ayah 5:84

وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 5:84 in the Quran reader

اور ہمیں کیا ہوا ہے کہ خدا پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) داخل کرے گا

وما لنا لا نؤمن باللہ وما جآء نا من الحق ولا نطمع ان یدخلنا ربنا مع القوم الصلحین۔ اور کیا وجہ کہ ہم اللہ پر اور اس حق پر جو ہمارے پاس آگیا ہے ایمان نہ لائیں اور اس بات کی امید نہ کریں کہ ہمارا رب ہم کو نیک لوگوں کے گروہ میں شامل کر دے۔ القوم الصلحین سے مراد ہیں ایماندار مسلمان جن کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے (وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزُّبْورِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ ) ہم نے نصیحت کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔ نَطْمَعُکا عطف نُؤمِنُپر ہے (یعنی حرف نفی کے تحت ہے اسی کے موافق ہم نے ترجمہ کیا ہے) یعنی کیا عذر ہے کہ ہم ایمان نہ لائیں اور امید نہ کریں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لانؤمن پر عطف ہو یعنی کیا وجہ کہ ہم اللہ پر اور کلام حق پر ایمان بھی نہ لائیں اور پھر نیک لوگوں کے زمرہ میں شامل کئے جانے کی امید بھی رکھیں عدم ایمان کے ساتھ تو امید جمع نہیں ہوسکتی یہ بھی ممکن ہے کہ نومن کی ضمیر سے نطمعحال ہو یعنی کیا وجہ کہ ہم ایمان نہ لائیں ایسی حالت میں کہ ہم کو زمرۂ صالحین میں شامل ہونے کی امید بھی لگی ہوئی ہے۔ مطلب یہ کہ جب انعام خداوندی کی ہم کو امید ہے تو اس امید کا تو تقاضا یہ ہے کہ ہم ایمان لائیں مقتضی موجود ہے تو مقتضٰی کا نہ ہونا بعید از عقل ہے۔ بغوی نے لکھا ہے یہ سوال کا جواب ہے یہودیوں نے عار دلائی تھی اور کہا تھا تم ایمان لے آئے اس کی کیا وجہ تو انہوں نے مذکورۂ بالا جواب دیا ‘ یہ بھی کہا گیا کہ جب وہ لوگ اپنی قوم کے پاس مسلمان ہونے کے بعد لوٹ کر گئے تو انہوں نے ملامت کی اس وقت ان لوگوں نے مذکورہ جواب دیا لیکن جواب بالکل فصل و قطع کلام کو چاہتا ہے اس لئے اس پر حرف عطف نہیں لایا جاسکتا اور یہاں حرف عطف موجود ہے اس لئے کچھ تاویل کرنی ہوگی مثلاً کچھ کلام محذوف مان کر اس پر عطف قرار دیا جائے گا۔
Ayah 5:85

فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:85 in the Quran reader

تو خدا نے ان کو اس کہنے کے عوض (بہشت کے) باغ عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور نیکو کاروں کا یہی صلہ ہے

فاثا بہم اللہ بما قالوا جنت تجری من تحتہا الانہر خلدین فیہا :” سو اللہ ان کے اس قول کی جزا میں جنتیں عطا فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی (اور ہمیشہ ان جنتوں میں رہیں گے “۔ یعنی خلوص اعتقاد کے بعد انہوں نے اظہار ایمان کیا اس کے عوض اللہ ان کو جنت عطا فرمائے گا۔ خلوص اعتقاد کا ظہور ان کے رونے سے ہو رہا ہے کہ کلام حق کو سننے کے بعد وہ رونے لگے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ قول کا (حقیقی) معنی ہی یہ ہے کہ عقیدہ کے بعد قول ہو جیسے بولتے ہیں یہ فلاں شخص کا قول ہے یعنی پختہ خیال ہے۔ وذلک جزآء المحسنین۔ ” اور یہ (جنت) نیکوکاروں کی جزاء ہے “۔ یعنی ان نیکوکاروں کی جزاء اعمال ہے جو حضور قلب اور انتہائی خشوع سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا احسان (عبادت کی انتہائی خوبی) یہ ہے کہ تم اپنے رب کی عبادت اس طرح کرو گویا (وہ تمہارے سامنے ہے اور) تم اس کو دیکھ رہے ہو اور اگر یہ نہ ہو تو پھر یہ (یقین رکھو) کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ قرآن مجید کا ضابطہ یہ ہے کہ ترغیب کے بعد خوف بھی دلاتا ہے دونوں کو جوڑ کر (یعنی متصل ‘ 12) بیان کرتا ہے اس لئے آئندہ آیت میں کافروں کی سزا کا ذکر کیا اور چونکہ اہل ایمان کے ذکر میں قلبی تصدیق معرفت حق اور اقرار قولی کو بیان کیا تھا اس لئے (اس کے مقابل) انکار حق اور تکذیب کا ذکر کیا اور فرمایا۔
Ayah 5:86

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 5:86 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں

والذین کفروا وکذبوا بایتنا اولئک اصحب الجحیم ” اور جن لوگوں نے (اللہ اور اللہ کے پیام حق کو) نہ مانا (یعنی دل سے انکار کیا) اور (زبانوں سے) تکذیب کی وہی لوگ دوزخی ہیں “۔ ترمذی وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ جب میں گوشت کھا لیتا ہوں تو میری خواہش مردانہ میں ہیجان پیدا ہوجاتا ہے اس لئے میں نے اپنے لئے گوشت حرام کرلیا ہے اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 5:87

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 5:87 in the Quran reader

مومنو! جو پاکیزہ چیزیں خدا نے تمہارے لیے حلال کی ہیں ان کو حرام نہ کرو اور حد سے نہ بڑھو کہ خدا حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

یایہا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما اہل اللہ لکم ” اے ایمان والو ! اللہ نے جو چیزیں تمہارے لئے حلال کردی ہیں ان میں (خصوصیت کے ساتھ) پسندیدہ مرغوب اشیاء کو حرام نہ بناؤ۔ طیبت سے مراد ہیں پسندیدہ مزے دار چیزیں جو مرغوب طبع ہوں۔ ترتیب آیات میں ایک خاص خوبی ہے اوّل نصاریٰ کی تعریف فرمائی اور ان کی رہبانیت کو قابل مدح صفت قرار دیا اور نفسانی جوش کو توڑنے کی ترغیب دی پھر اس کے بعد حد مقررہ سے آگے بڑھنے اور حلال کو حرام کی حدود میں داخل کردینے کی ممانعت فرما دی۔ ولا تعتدوا ان اللہ لا یحب المعتدین۔ اور (حلال کو حرام بنا کر) حدود مقررہ سے آگے نہ بڑھو اللہ حد سے آگے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا یا یہ مطلب ہے کہ حلال کی حد سے آگے بڑھ کر حرام کے دائرہ میں نہ داخل ہو (یعنی حرام کے مرتکب نہ ہو) اس وقت آیت میں حرام کو حلال اور حلال کو حرام بنانے کی ممانعت اور اعتدال کی راہ اختیار کرنے کی دعوت ہوگی۔ یہ مقصد بھی ہوسکتا ہے کہ پاکیزہ چیزوں کو استعمال کرنے میں اسراف (اعتدال سے زیادتی) اختیار نہ کرو۔ ابن جریر نے بسند عوفی بیان کیا ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون اور بعض دوسرے صحابیوں ؓ نے عورتوں اور گوشت کو اپنے لئے حرام بنا لیا تھا اور چھریاں لے کر مردانہ آلات کو کاٹ ڈالنے کا محکم ارادہ کرلیا تھا تاکہ نفسانی خواہش کی جڑ ہی کٹ جائے اور عبادت کے لئے فراغتِ دل حاصل ہوجائے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن جریر نے ایسا ہی قصّہ مرسلاً عکرمہ ‘ ابو قلابہ مجاہد ‘ ابو مالک نخعی اور سدی وغیرہ کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔ سدی کی روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ یہ صحابی دس تھے۔ جن میں حضرت عثمان ؓ بن مظعون اور حضرت علی ؓ بن ابی طالب بھی شامل تھے۔ سدی کی روایت میں ان حضرات کی تعداد دس آئی ہے جن میں حضرت ابن مظعون ؓ اور حضرت علی ؓ بن ابی طالب کا بھی ذکر ہے۔ عکرمہ کی روایت ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے ان میں سے ابن مظعون ؓ ‘ علی ؓ :‘ ابن مسعود ؓ :‘ مقداد بن اسود اور حذیفہ کے آزاد کردہ سالم ؓ : بھی تھے۔ مجاہد کی رایت میں صرف ابن مظعون اور عبداللہ بن عمرو ؓ (بن عاص) کی صراحت ہے۔ ابن عساکر نے تاریخ میں سدی صغیر کے سلسلے سے بروایت کلبی بحوالۂ ابو صالح حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول صحابہ ؓ : کی ایک جماعت کے متعلق ہوا تھا اس جماعت میں ابوبکر ؓ ‘ عمر ؓ ‘ علی ؓ ‘ ابن مسعود ؓ ‘ عثمان بن مظعون ؓ ‘ مقداد ؓ بن اسود اور حذیفہ ؓ کے آزاد کردہ سالم ؓ شامل تھے۔ سب نے باتفاق آراء طے کرلیا تھا کہ آلات مردانگی قطع کردیں گے عورتوں سے کنارہ کش ہوجائیں گے گوشت اور چکنائی نہیں کھائیں گے۔ کمبل (ٹاٹ ‘ 12) کا لباس پہنیں گے۔ کھانا بقدر بقاء زندگی کھائیں گے اور سادھوؤں کی طرح سیاحت میں بسر کریں گے۔ بغوی نے اہل تفسیر کی روایت سے لکھا ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے وعظ فرمایا اور قیامت کا تذکرہ کیا جس کو سن کر لوگوں کے دلوں میں رقت پیدا ہوئی اور رونے لگے اور حضرت عثمان ؓ بن مظعون کے مکان میں دس صحابی ؓ جمع ہوئے۔ عثمان ؓ بن مظعون حجی ‘ ابوبکرصدیق ؓ :‘ علی ؓ بن ابی طالب ‘ عبداللہ بن مسعود : ؓ ‘ عبداللہ ؓ بن عمرو ‘ ابوذر ؓ : غفاری ‘ ابو حذیفہ ؓ کے آزاد کردہ سالم ؓ :‘ مقداد ؓ بن اسود ‘ سلمان ؓ فارسی ‘ معقل ؓ بن مقرن ؓ مشورہ کے بعد بالاتفاق طے پایا کہ سب کے سب تارک الدنیا ہو کر ٹاٹ (یعنی کھدر ‘ 12) کا لباس پہن لیں گے ‘ آلات مردانگی کو قطع کرلیں گے ‘ ہمیشہ روزے رکھیں گے رات بھر نمازیں پڑھیں گے بستر پر نہیں سوئیں گے ‘ گوشت اور چربی نہیں کھائیں گے ‘ عورتوں کے اور خوشبو کے پاس بھی نہیں جائیں گے اور سیاحت میں بسر کریں گے جونہی اس کی اطلاع رسول اللہ : ﷺ کو پہنچی۔ حضور اقدس : ﷺ حضرت عثمان ؓ بن مظعون کے مکان پر تشریف لے گئے ‘ عثمان ؓ سے ملاقات نہیں ہوئی عثمان ؓ کی بیوی خولاء ام حکیم بنت ابی امیہ موجود تھیں خولاء عطر ساز تھیں ‘ حضور اقدس : ﷺ نے اس سے دریافت کیا مجھے تمہارے شوہر کے متعلق جو اطلاع ملی ہے کیا وہ صحیح ہے خولاء رسول اللہ : ﷺ سے جھوٹ بولنا نہیں چاہتی تھیں اور نہ شوہر کا راز فاش کرنا مناسب سمجھتی تھیں اس لئے کہنے لگیں یا رسول اللہ : ﷺ اگر عثمان ؓ نے یہ بات آپ ﷺ سے کہی ہے تو صحیح کہا ہے ‘ رسول اللہ : ﷺ واپس تشریف لے آئے۔ حضرت ابن مظعون ؓ جب گھر پہنچے تو بیوی نے اطلاع دی۔ فوراً عثمان ؓ اور ان کے ساتھی حضور : ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے سرکار ﷺ والا نے ارشاد فرمایا مجھے اطلاع ملی ہے کہ تم لوگوں کا فلاں فلاں باتوں پر اتفاق ہوگیا ہے کیا یہ صحیح نہیں ہے۔ ابن مظعون نے کہا بیشک صحیح ہے۔ لیکن حضور ﷺ ہمارا مقصد صرف نیکی ہے حضور ﷺ نے فرمایا مجھے اس کا حکم نہیں دیا گیا ہے پھر فرمایا تم پر کچھ تمہاری جانوں کا بھی حق ہے روزے رکھو اور ناغہ بھی کرو قیام (رات کی عبادت) کرو اور نیند بھی لو۔ میں (رات کے کچھ حصّہ میں) اٹھتا ہوں (یعنی نماز پڑھتا ہوں) اور (کچھ حصّہ میں) سوتا بھی ہوں۔ روزے بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں گوشت اور چکنائی بھی کھاتا ہوں اور عورتوں سے قربت بھی کرتا ہوں جو میرے طریقہ سے اعراض کرے گا وہ مجھ سے (متعلق) نہ ہوگا۔ پھر لوگوں کو جمع کر کے حضور ﷺ نے ایک خطبہ دیا اور فرمایا کیا وجہ کہ جو کچھ لوگوں نے عورتوں کو اور کھانے کو اور خوشبو کو اور نیند کو اور دنیوی خواہشات کو بالکل حرام قرار دے رکھا ہے میں تم کو سنیاسی اور سادھو بن جانے کا حکم نہیں دیتا میرے دین میں گوشت اور عورتوں کو ترک کردینے اور خانقاہ نشین بن جانے کا حکم نہیں ہے میری امت کی سیاحت روزہ اور ان کی رہبانیت صرف جہاد ہے اللہ کی عبادت کرو کسی چیز کو اس کا ساجھی نہ قرار دو حج کرو ‘ عمرہ کرو ‘ نمازیں قائم کرو ‘ زکوٰۃ ادا کرو ‘ رمضان کے روزے رکھو اور سیدھی چال چلو۔ تمہارے امور درست ہوجائیں گے۔ تم سے پہلے والے لوگ شدت پسندی کی وجہ سے ہی تباہ ہوئے انہوں نے اپنے اوپر خود سختیاں عائد کیں تو اللہ نے بھی ان پر سختیاں کردیں گر جاؤں اور یہودی خانقاؤں میں بیٹھے ہوئے لوگ انہی کے پس ماندہ (نشانات) ہیں۔ اس پر اللہ نے آیت مذکورہ نازل فرمائی۔ بغوی نے سعد بن مسعود ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت عثمان ؓ بن مظعون نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے خصی بننے کی اجازت دے دیجئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا جس نے دوسرے کو خصی کیا اور جو خصی بنا (کوئی بھی) ہم سے (متعلق) نہیں ہے میری امت کے لئے خصی ہونے کی جگہ روزے رکھنا ہے۔ عثمان ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے سیاحت (یعنی کسی جگہ توطن پذیر نہ ہونے) کی اجازت دے دیجئے فرمایا میری امت کے لئے سیاحت جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم کو راہب سادھو بن جانے کی اجازت دے دیجئے فرمایا میری امت کے لئے رہبانیت مسجدوں میں بیٹھنا اور نماز کا انتظار کرنا ہے۔ صحیحین (بخاری و مسلم) میں حضرت انس ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ تین شخص امہات المؤمنین کی خدمت میں رسول اللہ ﷺ کی عبادت کے متعلق دریافت کرنے حاضر ہوئے جب ان کو رسول اللہ ﷺ کی عبادت (کی مقدار) بتائی گئی تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انہوں نے اس مقدار کو قلیل سمجھا اور کہنے لگے ہمارا رسول اللہ ﷺ سے کیا مقابلہ حضور ﷺ کے تو اگلے پچھلے قصور معاف کردیئے گئے تھے اس پر ایک شخص بولا میں تو ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا دوسرے نے کہا میں ہمیشہ روزے رکھوں گا ناغہ نہیں کروں گا تیسرا بولا میں عورتوں سے کنارہ کش رہوں گا۔ کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ اتنے میں حضور ﷺ تشریف لے آئے اور فرمایا تم لوگوں نے ایسا ایسا کہا تھا سن لو ‘ خدا کی قسم میں تم سے زیادہ اللہ کا خوف اور اس کی خشیت رکھتا ہوں ‘ لیکن روزے بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں (رات کو) نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں جو شخص میرے طریقے سے اعراض کرے گا وہ مجھ سے (متعلق) نہیں ہے۔ ابو داؤد نے حضرت انس ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے خود اپنے اوپر سختیاں نہ ڈالو ورنہ اللہ تم پر سختیاں ڈال دے گا جن لوگوں نے خود شدت پسندی کی اللہ نے بھی ان پر شدت ڈال دی یہ یہودی خانقاہوں اور عیسائی گرجاؤں والے ان ہی کے پس ماندہ (آثار) ہیں (اللہ فرماتا ہے) رہبانیت خود ان کی ایجاد کردہ تھی ہم نے ان پر رہبانیت فرض نہیں کی تھی۔ صحیحین میں حضرت عائشہ ؓ : کا بیان منقول ہے کہ (ایک بار) رسول اللہ : ﷺ نے کوئی کام کیا اور لوگوں کو بھی اس کی اجازت دے دی لیکن کچھ لوگوں نے اس کام سے علیحدہ رہنا پسند کیا رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع پہنچ گئی آپ ﷺ نے (لوگوں کو جمع کر کے) ایک تقریر کی اور اللہ تعالیٰ کی حمد کے بعد فرمایا کیا وجہ ہے کہ کچھ لوگ اس کام سے بچتے ہیں جو میں خود کرتا ہوں خدا کی قسم میں ان سے زیادہ خدا کو جانتا بھی ہوں اور اللہ کا خوف بھی ان سے زیادہ رکھتا ہوں۔ ابن ابی حاتم نے زید ؓ بن اسلم کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ نے ایک مہمان کی ضیافت پر اپنے گھر والوں کو مامور کیا اور (کھانے کے وقت) خود رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر رہے جب (رات کو) گھر پہنچے تو دیکھا کہ ان کے انتظار میں اہل خانہ نے مہمان کو کھانا نہیں کھلایا تھا۔ بیوی سے بولے تم نے میری وجہ سے میرے مہمان کو بھی کھانے سے روکے رکھا۔ اب یہ کھانا مجھ پر حرام ہے ‘ بیوی نے کہا تو مجھ پر بھی حرام ہے۔ مہمان نے کہا تو میرے لئے بھی حرام ہے۔ حضرت عبداللہ ؓ نے جب یہ معاملہ دیکھا تو (قسم توڑ کر) کھانے میں ہاتھ ڈال دیا اور کہا کھاؤ بسم اللہ۔ پھر حضور ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ واقعہ عرض کردیا اس پر آیت : (یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَّکُمْ وَلاَ تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ) نازل ہوئی۔
Ayah 5:88

وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 5:88 in the Quran reader

اور جو حلال طیّب روزی خدا نے تم کو دی ہے اسے کھاؤ اور خدا سے جس پر ایمان رکھتے ہو ڈرتے رہو

وکلوا مما رزقکم اللہ حللا طیبا ” اور اللہ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال دل پسند چیزیں کھاؤ “۔ عبداللہ بن مبارک نے کہا حلال وہ رزق ہے جو شرعی طریقوں سے حاصل کیا گیا ہو اور طیب وہ رزق ہے جو غذا بخش اور نمو آفریں ہو باقی غیر نباتی جامد چیزیں جیسے کیچڑ مٹی وغیرہ اور وہ چیزیں جو غذا بخش نہیں ہیں صرف دوا کے لئے تو ان کو کھانا جائز ہے اور بغیر دوا کے مکروہ ہے۔ حَلاَلاً ۔ کُلُوْا کا مفعول ہے اور مِمَّا رَزْقَکُمْ حال ہے جس کو حلالاً کے نکرہ ہونے کی وجہ سے مقدم کردیا گیا ہے اور مِمَّا میں منتبعیضیہ ہے مما میں اس امر کی صراحت ہے کہ کچھ رزق حلال ہوتا ہے اور کچھ حلال نہیں ہوتا۔ اہل حق کا یہی قول ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ منابتدائیہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ مِمَّا : مفعول ہو اور حلالاً حال ہو اور موصول کی طرف لوٹنے والی ضمیر محذوف ہو یا حلالاً کا موصوف محذوف ہو بہرحال ترکیب عبارت کچھ بھی قرار دی جائے اگر حرام کو رزق نہ کہا جائے (اور معتزلہ کے قول کو اختیار کیا جائے کہ حرام رزق نہیں ہوتا) تو پھر خصوصاً لفظ حلالاً : کو ذکر کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔ واتقوا اللہ ” اور اللہ سے ڈرو یہ امر سابق کی تاکید ہے “۔ الذی انتم بہ مومنون جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ اس فقرہ میں مزید تاکید ہے کیونکہ تمام اوامرو نواہی میں تقویٰ کو ملحوظ رکھنا تقاضائے ایمان ہے۔ بغوی نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ شیرینی یا شہد رسول اللہ ﷺ کو مرغوب خاطر تھا۔ رواہ البخاری۔ حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ : ﷺ کو سب سے زیادہ مرغوب روٹی کا ثرید اور دلیے کا ثرید تھا رواہ ابو داؤد۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ : ﷺ نے فرمایا کھانا کھا کر شکر ادا کرنے والا صابر روزہ دار کی طرح ہے۔ رواہ الترمذی۔ ابن ماجہ اور دارمی نے یہ حدیث سنان بن سنہ کی روایت سے بیان کی ہے۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ جب آیت (لاَ تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتٍ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ ) نازل ہوئی تو صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم ان قسموں کا کیا کریں جو حلال چیزوں کے سلسلے میں ہم کھاچکے ہیں۔ صحابہ ؓ نے مذکورۂ بالا (تین) امور کو ترک کرنے کے متعلق آپس میں بقسم معاہدہ کرلیا تھا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔