5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 5:41

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے پیغمبر! جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں (کچھ تو) ان میں سے (ہیں) جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں ہیں اور (کچھ) ان میں سے جو یہودی ہیں ان کی وجہ سے غمناک نہ ہونا یہ غلط باتیں بنانے کے لیے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں اور ایسے لوگوں (کے بہکانے) کے لیے جاسوس بنے ہیں جو ابھی تمہارے پاس نہیں آئے (صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت ہونے) کے بعد بدل دیتے ہیں (اور لوگوں سے) کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہی (حکم) ملے تو اسے قبول کر لینا اور اگر یہ نہ ملے تو اس سے احتراز کرنا اور اگر کسی کو خدا گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لیے تم کچھ بھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہیں رکھتے یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پاک کرنا نہیں چاہا ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے

یایہا الرسول لا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر اے پیغمبر آپ کو ان لوگوں کی حرکت رنجیدہ نہ بنائے جو کفر میں تیزی کے ساتھ جا رہے ہیں۔ جس چیز کا شرعاً اعتقاد اور بشرط امکان اقرار بھی ضروری ہے۔ اس کا انکار کفر ہے۔ امام احمد اور مسلم نے حضرت براء بن عازب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک یہودی جس کو سزائے تازیانہ دے کر منہ کالا کردیا گیا تھا رسول اللہ ﷺ : کی طرف سے گزرا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا تمہاری کتاب میں زانی کی شرعی سزا یہی ہے یہودیوں نے جواب دیا جی ہاں۔ آپ نے ایک یہودی عالم کو طلب فرمایا اور اس سے فرمایا میں تجھے اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ پر توریت نازل کی تھی کیا زانی کی شرعی سزا تم کو کتاب میں یہی ملتی ہے۔ یہودی عالم نے کہا نہیں خدا کی قسم (توریت میں یہ حد زنا نہیں ہے) اگر آپ مجھے قسم نہ دیتے تو میں آپ سے نہ بیان کرتا۔ ہماری کتاب میں زانی کی سزا سنگسار کرنا ہے لیکن ہمارے بڑے آدمیوں میں جب زنا کی کثرت ہوگئی تو ہمارا یہ طریقہ ہوگیا کہ بڑا آدمی پکڑا جاتا تو ہم اس کو بغیر سزا دیئے چھوڑ دیتے اور کمزور کو پکڑا جاتا تو اس پر حد شرعی جاری کرتے۔ آخر ہم نے آپس میں کہا کہ کوئی ایسی سزا تجویز کر لینی چاہئے جو اونچے اور نیچے دونوں طبقوں والوں کو ہم دے سکیں چناچہ اتفاق آراء کے بعد ہم نے تجویز کی کہ منہ کالا کرنا اور کوڑے مار زنا کی سزا ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے کہا اے اللہ ان لوگوں نے تو تیرے حکم کو مردہ کردیا میں ہی سب سے پہلے تیرے حکم کو زندہ کر رہا ہوں۔ اس کے بعد آپ نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دے دیا اور اس کو پتھر مار مار کر ہلاک کردیا گیا۔ اس پر اللہ نے آیت یٰاَ یُّہَا الرَّسُوْلُ لاَ یَحْزُنْکَ ۔۔ ہُمُ الظَّالِمُوْنَ تک نازل فرمائی۔ اس آیت میں یہودیوں کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے اِنْ اُوْتِیْتُمْ ہٰذَا فَخُذُوْہ یعنی یہودیوں نے کہا تھا چلو محمد کے پاس چلیں ‘ اگر وہ کالا منہ کرنے اور کوڑے مارنے کا فتویٰ دے دیں تو اس پر عمل کرنا اور سنگسار کرنے کا فیصلہ کریں تو مت ماننا۔ بغوی نے یہ قصہ اس طرح لکھا ہے کہ خیبر کے بڑے آدمیوں میں سے ایک عورت و مرد نے زنا کا ارتکاب کیا۔ دونوں شادی شدہ تھے۔ توریت میں کت خدا زانیوں کی سزا رجم تھی لیکن یہودیوں نے ان کے بڑے آدمی ہونے کی وجہ سے سنگسار کی سزا دینی مناسب نہ سمجھی اور (مدینہ کے) بنی قریظہ کے پاس پیام بھیجا کہ محمد سے جا کر پوچھو اگر شادی شدہ مرد و عورت زنا کریں تو ان کی سزا کیا ہے۔ اگر وہ کوڑے مارنا تجویز کریں تو مان لینا اور سنگسار کردینا تجویز کریں تو نہ ماننا۔ یہ پیام سن کر بنی قریظہ اور بنی نضیر نے کہا خدا کی قسم وہ تو ایسا فیصلہ کریں گے جو تم کو پسند نہ ہوگا۔ اس کے بعد کعب بن اشرف ‘ سعید بن عمرو ‘ مالک بن الضیف اور لبابہ بن ابی الحقیق وغیرہ خدمت گرامی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ محمد ﷺ بتائیے شادی شدہ زانی اور زانیہ کی آپ کی کتاب میں کیا سزا ہے۔ حضور نے فرمایا کیا تم میرے فیصلہ کو پسند کرو گے۔ یہودیوں نے کہا جی ہاں اتنے میں جبرئیل ( علیہ السلام) رجم کا حکم لے کر نازل ہوئے۔ آپ نے ان کو سنگسار کرنے کے حکم کی اطلاع دے دی مگر انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے (ایک یہودی عالم) ابن صوریا کا حلیہ اور حالات رسول اللہ ﷺ سے بیان کر کے کہا۔ آپ کے اور ان یہودیوں کے درمیان ابن صوریا (کی شہادت) کو فیصلہ کن قرار دے دیا گیا (آپ ابن صوریا کو طلب کرائیں) رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں سے فرمایا۔ کیا تم اس جوان سے واقف ہو جو ابھی بےریش و بروت ہے ‘ گورے رنگ کا ہے۔ ایک آنکھ سے کانا اور فدک کا باشندہ ہے جس کو ابن صوریا کہا جاتا ہے۔ یہودیوں نے کہا جی ہاں۔ حضور نے فرمایا تو وہ کیسا آدمی ہے اور تم میں اس کا کیا درجہ ہے۔ یہودیوں نے کہا جتنے علماء تورات اس زمین پر اس وقت رہ گئے ہیں ان میں وہ سب سے بڑا عالم توریت ہے۔ یہودیوں نے ابن صوریا کو بلوایا۔ جب وہ آگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم ابن صوریا ہو۔ اس نے کہا جی ہاں۔ فرمایا کیا تم (احکام تورات کے اس وقت کے) علماء میں سب سے بڑے عالم ہو۔ ابن صوریا نے کہا یہ لوگ ایسا ہی خیال کرتے ہیں۔ حضور نے یہودیوں سے فرمایا کیا تم ابن صوریا کو اپنے اور میرے درمیان پنچ بنانے پر راضی ہو۔ یہودیوں نے کہا جی ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے ابن صوریا سے فرمایا۔ میں تم کو اس خدا کی قسم دیتا ہوں جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ جس نے موسیٰ پر تورات نازل کی۔ تم کو مصر سے نکالا۔ تم کو بچانے کے لئے سمندر کو پھاڑ دیا۔ تم کو بچا لیا اور فرعونیوں کو غرق کردیا۔ جس نے تم پر (تیہ میں) بادل کا سایہ (روز دھوپ کے وقت) کیا اور تم پر من وسلویٰ نازل کیا اور اپنی کتاب تم پر نازل کی جس کے اندر ان چیزوں کا ذکر ہے جو اللہ نے حرام یا حلال کردی تھیں۔ کیا تمہاری کتاب میں شادی شدہ زانی کی سزا سنگسار کردینا ہے۔ ابن صوریا نے کہا جی ہاں۔ قسم ہے اس کی جس کی آپ نے مجھے یاددہانی کی ہے اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ میرے جھوٹ بولنے اور بدل کر بتانے سے مجھے توریت جلا ڈالے گی تو میں آپ سے اقرار نہ کرتا۔ لیکن محمد ﷺ : آپ کی کتاب میں کیا سزا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا اگر چار عادل آدمی گواہی دیں کہ اس نے اس میں اس طرح دخول کیا ہے جیسے سرمہ دانی میں سلائی تو سنگسار کرنا واجب ہے۔ ابن صوریا نے کہا قسم ہے اس کی جس نے موسیٰ پر توریت نازل کی۔ موسیٰ پر توریت میں بھی اللہ نے اسی طرح نازل فرمایا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا تو امر خداوندی کو ترک کرنے کا تمہارے لئے اوّل ترین باعث کیا ہوا۔ ابن صوریا نے کہا ہم بڑے آدمی کو پکڑتے تھے تو اس کو (بغیر سزا دیئے) چھوڑ دیتے تھے اور چھوٹے کو پکڑتے تھے تو اس پر حد شرعی جاری کرتے تھے مگر جب بڑے لوگوں میں زنا کی کثرت ہوگئی یہاں تک کہ ہمارے بادشاہ کے چچا کے بیٹے نے زنا کیا تو ہم نے اس کو سنگسار نہیں کیا۔ لیکن جب کسی دوسرے خاندان کے ایک شخص نے ارتکاب کیا تو بادشاہ نے اس کو سنگسار کرا دینا چاہا۔ اس پر مجرم کے خاندان والے اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا جب تک بادشاہ کے چچا کے بیٹے کو سنگسار نہیں کیا جائے گا ہم اپنے آدمی کو سنگسار نہیں کرنے دیں گے۔ اس وقت علماء کا اجتماع ہوا اور مشورہ کیا گیا کہ رجم سے کم کوئی سزا ایسی تجویز کرنی چاہئے جو بڑے چھوٹے سب کو دی جائے۔ چناچہ ہم نے ضرب تازیانہ اور کالا منہ کرنے کی سزا تجویز کردی ‘ غرض اس قصہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے رجم کا حکم دے دیا اور دونوں کو مسجد کے دروازہ کے پاس سنگسار کردیا گیا اور حضور ﷺ نے کہا الٰہی جب ان لوگوں نے تیرے حکم کو مردہ کردیا تو سب سے پہلے میں ہی اس کو زندہ کر رہا ہوں۔ اس پر آیت مذکورہ کا نزول ہوا۔ بغوی نے اپنی سند سے حضرت ابن عمر ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ کچھ یہودی رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ہمارے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا ہے (کیا سزا دی جائے) حضور نے فرمایا سنگسار کرنے کے متعلق تمہاری کتاب میں کیا لکھا ہے۔ یہودیوں نے کہا (ہماری کتاب میں لکھا ہے کہ) ہم ان کو رسوا کریں اور کوڑے لگائیں۔ عبداللہ بن سلام نے کہا تم نے جھوٹ کہا توریت میں آیت رجم موجود ہے۔ لوگ توریت لے آئے کھول کر ایک آدمی نے تلاوت شروع کی آیت رجم پر تو ہاتھ رکھ دیا اور اس سے اوّل و آخر کو ملا کر پڑھ دیا۔ حضرت عبداللہ نے کہا ہاتھ ہٹاؤ۔ اس نے ہاتھ ہٹایا تو آیت رجم سامنے آگئی۔ آخر یہودی بول اٹھے۔ محمد ﷺ نے سچ کہا۔ توریت میں آیت رجم موجود ہے۔ حضور نے حکم دے کر دونوں کو سنگسار کرا دیا۔ حضرت عبداللہ کا بیان ہے میں نے دیکھا کہ سنگ باری کے وقت مرد عورت پر جھکا ہوا تھا کہ عورت پر پڑنے والے پتھر اپنے اوپر روک لے۔ امام احمد نے مسند میں حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت سے لکھا ہے کہ فدک کے رہنے والوں میں سے ایک شخص نے زنا کیا۔ باشندگان فدک نے مدینہ کے یہودیوں کو لکھا کہ محمد ﷺ سے مسئلہ پوچھو۔ اگر وہ کوڑے مارنے کا حکم دیں تو مان لینا اور سنگسار کرنے کا حکم دیں تو نہ ماننا۔ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا۔ اس سے آگے امام احمد کی روایت میں بھی قصہ کا بیان اسی طرح ہے جس طرح مسلم کی روایت میں ہے۔ غرض حضور ﷺ نے سنگسار کرنے کا حکم دے دیا اور اس کو پتھر مار کر ہلاک کردیا گیا۔ اس پر آیت فَاِنْ جَآءُْ وَکَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ الخ نازل ہوئی۔ بیہقی نے دلائل میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے بعض علماء روایت نے لکھا ہے کہ آیت مذکورہ کا نزول قصاص کے متعلق ہوا تھا۔ قصہ یہ ہوا کہ بنی نضیر کو بنی قریظہ پر برتری حاصل تھی۔ بنی قریظہ نے کہا ہم اور ہمارے نضیری بھائی ایک ہی باپ کی اولاد ہیں۔ ہمارا سب کا مذہب ایک ہے اور پیغمبر بھی ایک ہے لیکن بنی نضیر جب ہمارے کسی آدمی کو قتل کردیتے ہیں تو ہم کو قصاص نہیں دیتے۔ خون بہا کے ستر وسق (کھجوریں) دے دیتے ہیں اور ہم اگر ان کے کسی آدمی کو قتل کردیتے ہیں تو قاتل کو قتل کرتے ہیں اور ہم سے دگنی دیت یعنی 120 وسق چھوارے لیتے ہیں اگر مقتول عورت ہوتی ہے تو اس کے عوض ہمارے مرد کو قتل کرتے ہیں اور مقتول مرد ہوتا ہے تو ایک آدمی کے عوض دو کو قتل کرتے ہیں اور مقتول غلام کے عوض ہمارے آزاد کو قتل کرتے ہیں اور (قتل سے کم درجہ کی) دوسری چوٹوں کے عوض ہم سے دو گناہ بدلہ لیتے ہیں۔ اب ہمارا اور ان کا فیصلہ آپ فرما دیں۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اسی طرح امام احمد اور ابو داؤد نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ اللہ نے یہ آیت یہودیوں کے دو گروہوں کے حق میں نازل فرمائی۔ جاہلیت کے زمانہ میں ایک گروہ کو دوسرے گروہ پر چیرہ دستی حاصل تھی۔ دونوں فریقوں کا باہم معاہدۂ مصالحت طے ہوگیا تھا کہ غالب فریق مغلوب فریق کا کوئی آدمی مار ڈالے گا تو پچاس وسق دیت ہوگی اور مغلوب گروہ غالب قبیلہ کے کسی آدمی کو قتل کر دے گا تو سو وسق دیت ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ : کی مدینہ میں تشریف آوری تک اسی پر عمل ہوتا تھا۔ جب حضور ﷺ تشریف لے آئے تو (اتفاقاً ) مغلوب فریق نے غالب فریق کے ایک آدمی کو مار ڈالا۔ غالب گروہ نے سو دسق دیت طلب کی۔ مغلوب فریق نے کہا کیا ایسا کبھی (دنیا میں) ہوا ہے کہ جن دو قبیلوں کا نسب ایک ہو۔ وطن ایک ہو۔ دین ایک ہو اور پھر ایک قبیلہ والوں کی دیت دوسرے قبیلہ والوں سے آدھی ہو۔ پہلے ہم نے یہ معاہدہ تمہارے ظلم ‘ دباؤ اور خوف کی وجہ سے کیا تھا۔ اب محمد آگئے ہیں۔ ہم دیت کے سو وسق نہیں دیں گے۔ اس نزاع کی وجہ سے جنگ چھڑنے ہی والی تھی کہ دونوں فریق محمد ﷺ : کی خدمت میں معاملہ پیش کرنے پر راضی ہوگئے اور کچھ لوگوں کو (جو واقع میں مخلص مسلمان نہ تھے منافق تھے) حضور ﷺ : کی خدمت میں بھیجا تاکہ آپ کی رائے معلوم کریں۔ اس پر آیت یٰایُّہَا الرَّسُوْلُ لاَ یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَنازل فرمائی۔ من الذین قالوا امنا بافواہہم ولم نومن قلوبہم (کفر میں تیزی سے بڑھنے والے کچھ تو) ان لوگوں میں سے ہیں جو منہ سے کہتے ہیں۔ ہم ایمان لے آئے حالانکہ ان کے دل مؤمن نہیں ہیں۔ من الذین قالوا۔ الذین یسارعونکا بیان ہے۔ امنا مقولہ ہے۔ بافواہہمکا تعلق قالوا سے ہے ‘ امنا سے نہیں ہے۔ ومن الذین ہادوا اور (کچھ) یہودیوں میں سے ہیں۔ سمعون للکذب وہ جھوٹی باتیں خوب سنتے ہیں۔ سماعونخبر ہے۔ مبتدا محذوف ہے یعنی ہم سماعون۔ ہم ضمیر منافقوں اور یہودیوں دونوں کی طرف راجع ہے یا صرف منافقوں کی طرف۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ من الذین ہادواخبر ہو اور سماعون مبتدا۔ یعنی یہودیوں میں سے کچھ لوگ جھوٹی باتیں خوب سنتے ہیں۔ [ اَلْمَآءِدَۃ : 5 ][ اَلْمَآءِدَۃ : 5 ][ اَلْمَآءِدَۃ : 5 ][ اَلْمَآءِدَۃ : 5 ][ اَلْمَآءِدَۃ : 5 ] لِلْکَذِبِمیں لام زائد ہے صرف مفید تاکید ہے یا یوں کہا جائے کہ سماعونکا مفہوم ہے سن کر قبول کرنے والے۔ مراد یہ ہے کہ علماء یہود جو جھوٹی باتیں گڑھتے ہیں۔ یہ لوگ ان کو قبول کرتے ہیں۔ یا لام علت کے لئے ہے۔ یعنی یہ لوگ آپ کا کلام اس لئے سنتے ہیں کہ اس میں کمی بیشی اور تغیر تبدل کر کے آپ پر بہتان تراشی کریں۔ بعض علماء کے نزدیک لام بمعنی الیٰ ہے۔ یعنی اپنے علماء کے جھوٹ کی طرف کان لگاتے ہیں۔ سمعون لقوم اخرین لم یاتوک ان یہودیوں تک پہنچانے کے لئے سنتے ہیں جو آپ کے پاس نہیں آئے۔ خواہ انتہائی بغض کی وجہ سے یا غرور کی وجہ سے۔ مطلب یہ ہے کہ بنی قریظہ کے جاسوس اہل خیبر کے لئے جاسوسی کرتے ہیں۔ یحرفون الکلم بگاڑتے رہتے ہیں کلام کو یعنی تورات میں آیت رجم و قصاص وغیرہ جو نازل کی گئی ہیں ان میں تحریف (تبدیل) کرتے ہیں۔ الکلم کا لفظ اسم جنس ہے یا اسم جمع بہرحال جمع نہیں ہے۔ اسی لفظی رعایت کی وجہ سے آئندہ فقرہ میں مفرد کی ضمیر اس کی طرف راجع کی گئی ہے۔ من بعد مواضعہ بعد اسکے کہ وہ اپنے مواقع پر ہوتا ہے۔ یعنی اللہ نے جو الفاظ تورات میں جن مقامات پر رکھ دیئے ہیں ان میں تبدیلی کرتے ہیں۔ تحریف سے مراد یا لفظی ہے یعنی ایک لفظ کو ہٹا کر دوسرا لفظ اس جگہ رکھ دیتے تھے۔ یا معنوی یعنی الفاظ کا وہ مطلب نہیں لیتے تھے جو اصلاً مراد ہوتا تھا۔ یقولون ان اوتیتم ہذا کہتے ہیں اگر تم کو یہ دیا جائے یعنی اگر محمد ﷺ تم کو اس تحریف شدہ حکم کی طرح حکم دیں۔ فخذوہ تو اس کو لے لینا یعنی اس پر عمل کرنا۔ وان لم توتوہ اور اگر تم کو وہ (محرف شدہ حکم) نہ دیا جائے یعنی اگر محمد اس تحریف شدہ حکم کے خلاف فیصلہ دیں۔ فاحذروا تو اس سے اجتناب کرنا۔ یعنی محمد کے فیصلہ کو قبول نہ کرنا۔ ومن یرد اللہ فتنتہ اور اللہ جس کو گمراہی میں ڈالنا یا تباہ کرنا یا عذاب دینا چاہے گا۔ فلن تملک لہ من اللہ شیئا آپ اللہ کی طرف سے اس کی امداد پر کچھ قابو نہیں رکھ سکتے۔ یعنی اللہ کی طرف سے آپ کو یہ طاقت نہیں مل سکتی کہ مراد خداوندی کو دفع کرسکو۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی مراد کو دفع کرنے کا تم کو بالکل قابو نہیں ہوسکتا۔ آیت بتارہی ہے کہ معتزلہ فرقہ (جو اللہ کی مراد اور ارادہ میں تلازم کا قائل نہیں) کا قول غلط ہے۔ اللہ کی مراد اور ارادہ میں انفکاک نہیں ہوسکتا۔ اولئک الذین لم یرد اللہ ان یطہر قلوبہم یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو پاک کرنا اللہ نے نہیں چاہا۔ یعنی کفر سے پاک کرنا نہیں چاہا۔ معتزلہ کہتے ہیں کہ اللہ تمام بندوں سے ایمان کا خواستگار ہے۔ کفر نہیں چاہتا۔ یہ آیت ان کے قول کے خلاف محکم دلیل ہے (معتزلہ نے امر اور ارادہ میں فرق نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ جس طرح اللہ ایمان کا حکم دیتا ہے کفر کا حکم نہیں دیتا لیکن اس کے حکم کے خلاف لوگ کفر و معصیت کرتے ہیں۔ گویا اس دنیا میں حکم خدا کے خلاف بندوں کی طرف سے ہوتا رہتا ہے۔ اسی طرح اللہ بندوں سے ایمان ہی چاہتا ہے لیکن بندے کفر کرتے ہیں گویا اللہ کے ارادہ کے خلاف عمل کرتے ہیں پس ارادۂ خداوندی کے خلاف بندوں کی طرف سے عمل کا اظہار ہوتا ہے اور مراد و ارادہ میں انفکاک ہوجاتا ہے۔ اشاعرہ کہتے ہیں امر خداوندی کے خلاف تو ہونا ممکن ہے اور ہو رہا ہے لیکن ارادۂ الٰہی خیر و شر دونوں کو حاوی ہے۔ ارادۂ خداوندی کے خلاف ہونا ناممکن ہے۔ اللہ اگر ارادۂ خیر کرے تو کوئی شر کی طرف نہیں جاسکتا اور ارادۂ شر کرے تو کوئی خیر کی طرف نہیں لاسکتا۔ جس طرح اس آیت میں صراحت ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں کو کفر سے پاک کرنا نہیں چاہا اس لئے پیغمبر بھی کچھ نہیں کرسکتے لیکن اس کے باوجود ایمان لانے کا حکم ان کو دیا گیا (اگرچہ وہ ایمان نہیں لائے) لہم فی الدنیا خزی انہی کے لئے دنیا میں ذلت ہے۔ خواہ مارے جانے کی جیسے بنی قریظہ مار گئے یا جزیہ ادا کرنے اور مسلمانوں سے خائف رہنے کی۔ ولہم فی الاخرۃ عذاب عظیم اور آخرت میں انہی کے لئے بڑا عذاب ہوگا۔ عذاب عظیم سے مراد ہے دوزخ میں ہمیشہ رہنا لَہُمْکی ضمیر یا صرف یہودیوں کی طرف لوٹ رہی ہے یا منافقوں اور یہودیوں دونوں کی طرف راجع ہے۔
Ayah 5:42

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

(یہ) جھوٹی باتیں بنانے کے جاسوسی کرنے والے اور (رشوت کا) حرام مال کھانے والے ہیں اگر یہ تمہارے پاس (کوئی مقدمہ فیصل کرانے کو) آئیں تو تم ان میں فیصلہ کر دینا یا اعراض کرنا اور اگر ان سے اعراض کرو گے تو وہ تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے اور اگر فیصلہ کرنا چاہو تو انصاف کا فیصلہ کرنا کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

سمعون للکذب اکالون للسحت جھوٹ کو خوب سننے والے اور بڑے حرام خور ہیں۔ سَمَّاعُوْنَ کی تکرار محض تاکید کے لئے ہے۔ سحت سے مراد حرام روزی ہے۔ اصل لغت میں سحت کا وضعی معنی ہے ہلاکت۔ اللہ نے فرمایا ہے فیسحتکم بعذاب یعنی یہلککم اخفش نے کہا ہر غیر حلال کمائی کو سحت کہا جاتا ہے۔ اس آیت کا نزول یہودی حکام جیسے کعب بن اشرف وغیرہ کے حق میں ہوا۔ یہ لوگ رشوتیں لے کر مقدمات کی ڈگریاں دے دیا کرتے تھے اور رشوت دینے والے کی جھوٹی باتیں سن کر قبول کرلیا کرتے تھے اور فریق ثانی کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے تھے۔ حسن۔ قتادہ۔ مقاتل اور ضحاک نے کہا سحت وہ رشوت ہے جو مقدمہ کے فیصلہ کے سلسلہ میں لی جائے۔ حسن نے کہا باطل کو حق بنانے اور حق کو باطل قرار دینے کے لئے حاکم کو جو رشوت دی جائے وہ سحت ہے لیکن اگر ظلم کو دفع کرنے کے لئے حاکم کو رشوت دی جائے تو کوئی ہرج نہیں یعنی جان و مال کے بچاؤ کے لئے اگر حاکم کو بطور رشوت کچھ دیا جائے تو دینے والے پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔ لینے والے کے لئے تو بہرحال حرام ہے۔ میں کہتا ہوں یہی حکم اس وقت ہے کہ مدعی حق پر ہو لیکن اس کو اندیشہ ہو کہ حاکم بغیر رشوت لئے میرا حق نہیں دلوائے گا اور فریق ثانی کے ظلم کو دفع نہیں کرے گا تو اس صورت میں رشوت دینا جائز ہے لیکن حاکم کے لئے حق کا فیصلہ دینے کے لئے رشوت لینا بھی ناجائز ہے۔ حضرت ابن سعد نے فرمایا ہے کہ اگر کسی نے کسی کا حق دلانے یا ظلم کو دفع کرنے کے لئے حاکم سے سفارش کی اور حاکم کو کچھ دیا اور حاکم نے اس کو قبول کرلیا تو حرام ہے۔ لوگوں نے کہا ابو عبدالرحمن ہمارا تو یہ خیال ہے کہ ناجائز فیصلہ کرنے کے لئے کچھ لینا سحت ہے (جائز حکم کے لئے کچھ لینا تو رشوت نہیں ہے) فرمایا ناجائز فیصلہ کے لئے لینا تو کفر ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا انزل اللّٰہ فاولئک ہم الکافرون مسروق کا بیان ہے میں نے حضرت عمر بن خطاب سے عرض کیا فرمائیے کیا ناجائز فیصلہ کے لئے رشوت لینا سحت ہے۔ فرمایا نہیں وہ تو کفر ہے۔ سحت تو یہ ہے کہ بادشاہ کے پاس کسی کو قرب و عزت حاصل ہو اور کسی شخص کی بادشاہ سے کوئی ضرورت وابستہ ہو مگر یہ مصاحب سلطانی بغیر کچھ ہدیہ تحفہ لئے صاحب غرض کے کام نہ کرے۔ حضرت عمر ؓ : کا ارشاد منقول ہے سحت کے دو طریقے ہیں جن سے لوگ (حرام) کھاتے ہیں (ناجائز) فیصلہ کی رشوت اور زانیہ کی بھاڑ۔ لیث کی روایت ہے کہ (کسی مقدمہ کے دونوں فریق) مدعی اور مدعیٰ علیہ حضرت عمر ؓ کی طرف آگے بڑھے۔ حضرت عمر ؓ نے ان کو ٹھہرا دیا وہ پھر بڑھے۔ حضرت نے پھر ٹھہرا دیا (تیسری بار) وہ پھر آگے بڑھے تو آپ نے ان کا فیصلہ کردیا۔ اس کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا (پہلی بار) دونوں آگے آئے تھے تو مجھے ایک کی طرف اپنے اندر ایسا جھکاؤ محسوس ہوا جو دوسرے کی طرف نہ تھا۔ میں نے اس حالت میں فیصلہ کرنا مناسب نہ سمجھا۔ دوسری مرتبہ بڑھے تب بھی کچھ کیفیت مجھے اندر محسوس ہوئی اس حالت میں بھی فیصلہ کرنا مناسب نہ سمجھا۔ آخر میں جب تیسری بار بڑھے تو اوّل کیفیت بالکل زائل ہوچکی تھی اس وقت میں نے فیصلہ کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اللہ کی لعنت فیصلہ کے لئے رشوت دینے اور لینے والے پر۔ رواہ احمد والترمذی وصححہ والحاکم عن ابی ہریرۃ۔ بغوی نے حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت سے بھی یہ حدیث مرفوعاً بیان کی ہے۔ امام احمد نے ضعیف اسناد سے حضرت ثوبان کی مرفوع روایت نقل کی ہے۔ اللہ لعنت کرے رشوت دینے والے اور رشوت دلوانے والے پر جو رشوت کے لین دین میں دوڑا پھرتا ہے۔ فائدہ ابن ہمام نے لکھا ہے رشوت چند طرح کی ہوتی ہے (1) رشوت دے کر مقام قضا حاصل کرنا۔ اس صورت میں قاضی قاضی نہیں ہوسکتا (یعنی رشوت دے کر قاضی بننا ناجائز ہے۔ ایسا قاضی اختیارات قضاء کا مالک نہیں ہوسکتا) (2) رشوت لے کر قاضی کا فیصلہ اس مقدمہ میں نافذ نہ ہوگا۔ خواہ فیصلہ اپنی جگہ حق ہی ہو کیونکہ بغیر کچھ لئے اجر حق قاضی پر لازم ہوتا ہے۔ مال کا لین دین دونوں ناجائز ہیں۔ (3) اگر تحصیل منفعت (جائزہ) یا دفع مضرت کے لئے کسی کو رشوت دی کہ حاکم وقت سے سفارش کرکے وہ معاملات ٹھیک کرا دے تو یہ مال لینے والے کے لئے حرام ہے۔ دینے والے کے لئے یہ فعل جائز ہے۔ لینے والے کیلئے جواز کی تدبیر یہ ہے کہ اپنے ایک دو دن محنت کرنے اور اپنا وقت صرف کرنے کا معاوضہ طے کرے اور وقت کو صرف کرنے اور محنت کرنے کی اجرت لے لے۔ اس صورت میں وہ مال سفارش کی رشوت نہ ہوگا۔ اسی طرح اگر جان و مال کا کسی سے ڈر ہو اور اس ڈر سے اس شخص کو کچھ دے دے تو لینے والے کے لئے حرام ہے ‘ دینے والے کے لئے جائز ہے۔ فائدہ محیط میں ہے کہ رشوت چند قسم کی ہوتی ہے۔ (1) باہم الفت و محبت بڑھانے کے لئے کسی کو کچھ دینا۔ یہ رشوت نہیں ہدیہ ہے اور جائز ہے۔ میں کہتا ہوں رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق فرمایا ہے باہم ہدیہ دو اس سے آپس کی محبت پیدا ہوگی (یا یوں ترجمہ ہوگا کہ باہم ہدیہ دو آپس میں محبت بڑھاؤ) (2) ایک شخص نے دوسرے کو ڈرایا اس نے ڈر کے مارے ڈرانے والے کو کچھ مال دے دیا تاکہ ازالۂ خوف ہوجائے یا حاکم کے ظلم سے جان و مال کو بچانے کے لئے حاکم کو کچھ مال دے دیا۔ یہ مال لینے والے کے لئے حلال نہیں۔ لیکن دینے والے کے لئے دینا جائز ہے یا نہیں عموماً مشائخ فقہاء اس کو جائز کہتے ہیں کیونکہ جان و مال کی حفاظت اور بچاؤ کے لئے یہ مال دیا جاتا ہے۔ (3) اگر کوئی شخص کسی کو اس غرض سے کچھ دے کہ حاکم سے سفارش کر کے اس کا کام ٹھیک کرا دے اس صورت میں اگر وہ کام ناجائز ہے تو اس کی سفارش کے لئے مال دینا بھی حرام ہے اور لینا بھی حرام ہے اور اگر کام جائز ہے اور مال اس لئے دیا گیا ہے کہ حاکم سے سفارش کر کے کام کرا دیا جائے اور حاکم کے سامنے مال لینے والا اس کی مدد کرے تو دینے والے کے لئے اس طرح دینا تو جائز ہے لیکن لینے والے کے لئے لینا بھی جائز ہے یا ناجائز ‘ یہ مسئلہ اختلافی ہے کوئی جائز کہتا ہے کوئی ناجائز۔ اس کو حلال بنانے کی تدبیر یہ ہے کہ درمیانی شخص اپنے وقت کی حد بندی کر کے صرف وقت اور محنت کا معاوضہ طے کرلے اور حاکم سے معاملہ طے کرانے کی مدد کا کوئی معاوضہ مقرر نہیں کیا مگر صاحب معاملہ نے خود ہی اس کے عوض کچھ دے دیا تو عام مشائخ کے نزدیک اس کا لینا مکروہ نہیں ہے۔ مگر بعض کے نزدیک مکروہ ہے حضرت ابن مسعود ؓ : کا قول بھی ایک روایت میں اسی طرح ہے۔ فان جآءوک پس اگر وہ (یہودی فیصلہ کرانے کے لئے) آپ کے پاس آئیں۔ فاحکم بینہم او اعرض عنہم تو آپ (چاہیں تو) ان کے مقدمہ کا فیصلہ کردیں یا (نہ چاہیں) نہ کریں۔ وان تعرض عنہم فلن یضروک شیئا اگر آپ ان کا فیصلہ نہ کریں گے تب بھی وہ آپ کو کوئی دکھ نہ پہنچا سکیں گے۔ اللہ نے اپنے رسول کو اختیار دے دیا کہ اگر غیر مسلم اپنا آپس کا مقدمہ لے کر آپ کے پاس آئیں تو فیصلہ کرنا نہ کرنا آپ کی مرضی پر موقوف ہے جو چاہیں کریں۔ بغوی نے لکھا ہے اگر ذمی کفار اپنے اندرونی مقدمہ کا فیصلہ کرانے کے لئے مسلم حاکم کے پاس آئیں تو کیا حاکم کو اب بھی ان کا فیصلہ چکانے اور نہ چکانے کا اختیار ہے۔ یہ مسئلہ اختلافی ہے۔ اکثر علماء کا خیال ہے کہ حاکم کو منفی مثبت دونوں اختیار ہیں۔ سورة مائدہ میں کوئی حکم منسوخ نہیں ہے۔ مسلم حکام کو اب بھی اختیار ہے کہ چاہیں تو اہل کتاب کے باہمی مقدمہ کا فیصلہ کردیں ‘ نہ چاہیں نہ کریں لیکن اگر کریں تو اسلامی فیصلہ کریں۔ نخعی ‘ شعبی ‘ عطاء اور قتادہ کا یہی قول ہے۔ بعض علماء کے نزدیک کفار کے باہمی مقدمہ کا فیصلہ کرنا مسلم حاکم پر واجب ہے اور سورة مائدہ کی یہ آیت منسوخ ہے اور ناسخ آیت وَاَنِ احْکمْ بَیْنَہُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہہے۔ یہ قول مجاہد اور عکرمہ کا ہے۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا یہی قول آیا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا سورة مائدہ کی دو آیتوں کے علاوہ تیسری کوئی آیت منسوخ نہیں ہے۔ پہلی آیت لا تحلوا شَعَاءِرَ اللّٰہِہے جس کی ناسخ آیت اُقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَۃً ہے۔ دوسری منسوخ آیت فَاِنْ جَآءُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْہُمْہے اس کی ناسخ آیت وَاَنِ احْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے۔ اگر دو کتابی (کافر) اپنا مقدمہ لے کر (مسلم) حاکم کے پاس آئیں تو حاکم پر ان کا مقدمہ فیصلہ کردینا واجب نہیں ہے۔ امام شافعی کا یہی قول ہے۔ لیکن اگر دونوں فریق یا دونوں میں سے کوئی ایک ذمی ہو تو فیصلہ کرنا واجب ہے کیونکہ مسلمانوں نے ہر ظلم کو دور کرنے کا ذمیوں سے عہد کیا ہے اور سورة مائدہ کی یہ آیت ذمیوں کے متعلق نہیں ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک بہرحال مقدمہ کا فیصلہ واجب ہے۔ فریقین مقدمہ کتابی ہوں یا ذمی یا ایک ذمی۔ میں کہتا ہوں فریقین ذمی کافر ہوں یا حربی اگر مسلمان حاکم کے سامنے اپنا مقدمہ لائیں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا حاکم پر واجب ہے۔ بادشاہ کی طرف سے وہ اس کا ذمہ دار بنا ہے۔ اسی طرح اگر صرف مدعی علیہ ذمی ہو یا مسلمان ہو تب بھی حاکم پر مقدمہ کا فیصلہ واجب ہے۔ مسلمان تو بہرحال مسلمان ہے اور ذمی اہل اسلام کی ذمہ داری میں آچکا ہے۔ ہاں اگر مدعیٰ علیہ حربی ہو تو چونکہ اس نے شریعت اسلامیہ کے احکام کا التزام نہیں کیا ہے ‘ اس لئے حاکم پر بھی اس کا فیصلہ کرنا واجب نہیں ہے۔ لیکن اگر دونوں مسلمان ہوں یا دونوں ذمی ہوں یا دونوں حربی ہوں یا ایک حربی اور ایک ذمی ہو اور دونوں جا کر کسی مسلمان سے فیصلہ کرانا چاہیں مگر یہ مسلمان حاکم عدالت نہ ہو بلکہ اس کی حیثیت پنچ کی ہو تو پنچ بننا اور فیصلہ کرنا مناسب نہیں۔ فیصلہ کر دے یا نہ کرے دونوں باتوں کا اختیار ہے۔ وانم حکمت فاحکم بینہم بالقسط اور اگر آپ ان کے باہمی مقدمہ کا فیصلہ کریں تو انصاف کے ساتھ کریں۔ ان اللہ یحب المقسطین حقیقت یہی ہے کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے نے ارشاد فرمایا انصاف کرنے والے اللہ کے پاس نور کے ممبروں پر ہوں گے۔ رواہ مسلم۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے اعلیٰ مرتبہ والا منصف خوش اخلاق حاکم ہوگا اور بدترین مرتبہ والا ظالم جاہل حاکم ہوگا۔ (شعب الایمان)
Ayah 5:43

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

اور یہ تم سے (اپنے مقدمات) کیونکر فیصل کرایں گے جبکہ خود ان کے پاس تورات (موجود) ہے جس میں خدا کا حکم (لکھا ہوا) ہے (یہ اسے جانتے ہیں) پھر اس کے بعد اس سے پھر جاتے ہیں اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے

وکیف یحکمونک عندہم التوراۃ فیہا حکم اللہ تعجب ہے کہ یہ آپ کو پنچ بنا رہے ہیں حالانکہ ان کے پاس تورات موجود ہے جس کے اندر اللہ کا حکم درج ہے۔ استفہام بقجی ہے یعنی تعجب ہے کہ یہ لوگ ایسے نبی کو پنچ بنا رہے ہیں جس پر ان کا ایمان نہیں اور اس حکم کا فیصلہ کرا رہے ہیں جو ان کو خود معلوم ہے۔ تورات میں موجود ہے یعنی زانی کو سنگسار کردینا مگر یہ اس پر عمل نہیں کرتے۔ خلاصہ مطلب یہ ہے کہ تحکیم سے ان کا مطلب طلب حق اور اقامت شرع نہیں بلکہ سہل ترین حکم کی خواہش ہے۔ خواہ وہ اللہ کا حکم نہ ہو۔ ثم یتولون من بعد ذلک وما اولئک بالمؤمنین پھر (جب آپ ان کی تورات کے موافق حکم دیتے ہیں تو) اس کے بعد وہ منہ پھیر جاتے ہیں (بات یہ ہے کہ) یہ ایماندار ہی نہیں ہیں۔ اللہ کی کسی کتاب پر ایمان نہیں ہے۔ نہ آپ کی کتاب پر ‘ نہ توریت پر۔ ورنہ توریت پر عمل کرتے اور توریت کی جو کتاب تصدیق و تائید کر رہی ہے اس پر ان کا ایمان ہوتا۔
Ayah 5:44

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

بیشک ہم نے توریت نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے اسی کے مطابق انبیاء جو (خدا کے) فرمانبردار تھے یہودیوں کو حکم دیتے رہے ہیں اور مشائخ اور علماء بھی کیونکہ وہ کتاب خدا کے نگہبان مقرر کیے گئے تھے اور اس پر گواہ تھے (یعنی حکم الہٰی کا یقین رکھتے تھے) تو تم لوگوں سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لینا اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں

انا انزلنا التوراۃ فیہا ہدی ونور ہم نے توریت نازل کی ہے جس کے اندر ہدایت اور نور ہے۔ اس سے اللہ کے احکام معلوم ہوجاتے ہیں اور اگر دل سخت نہ پڑگئے ہیں تو ان میں روشنی پیدا ہوجاتی ہے۔ یحکم بہا النبیون اس کے ذریعہ سے انبیاء فیصلے کرتے تھے۔ یعنی موسیٰ اور موسیٰ کے بعد والے انبیاء جن میں سب سے آخری نبی محمد ﷺ ہیں۔ رجم کا فیصلہ کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی یہی فیصلہ کیا۔ حسن اور سدی نے کہا النبیون سے مراد رسول اللہ ﷺ : کی ذات ہے۔ آپ نے سنگسار کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا (کسی جماعت کے سردار کے لئے جمع کا صیغہ استعمال کرلیا جاتا ہے) اس جگہ بھی صیغۂ جمع اسی طرح آیا ہے جس طرح آیت اِنَّ اِبْرَاہِیْمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا میں ابراہیم کو امت فرمایا اور بجائے ماضی کے یَحْکُمُمضارع کا صیغہ یہ بتانے کے لئے استعمال کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ بھی مقصود آیت میں داخل ہے۔ بعض اہل تفسیر کا خیال ہے کہ نَبِیُّوْنَ سے مراد وہ انبیاء ہیں جو حضرت موسیٰ کے بعد اور حضرت عیسیٰ سے پہلے ہوئے۔ کیونکہ دوسری آیت میں وَقَّفْیَنَا عَلٰی اٰثَارِہِمْ بِعِیْسٰیآیا ہے (ہم ان سب کے پیچھے عیسیٰ کو لائے) لیکن اگر رسول اللہ ﷺ کو بھی نبی ونکے اندر داخل قرار دیا جائے گا تو پھر اس آیت میں تاویل کی جائے گی اور آثار ہم کی ضمیر بعض انبیاء کی طرف راجع کی جائے گی (کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے بعد تو حضرت عیسیٰ کو نہیں بھیجا گیا تھا تو گویا مطلب یہ ہوگا کہ محمد ﷺ کے علاوہ دوسرے انبیاء کے بعد ہم نے عیسیٰ کو بھیجا) جیسے آیت وَبُعُوْلَتُہْنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّمیں بعض عورتوں کی طرف ضمیر راجع ہے اسی لئے امام ابوحنیفہ نے فرمایا ہماری شریعت میں گزشتہ شریعتوں کے جو احکام منسوخ نہیں کردیئے گئے ان پر عمل کرنا واجب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں دنیا اور آخرت میں عیسیٰ بن مریم سے بہت زیادہ قرابت رکھتا ہوں۔ انبیاء علاقی بھائی ہیں۔ ان کی مائیں مختلف ہیں مگر دین سب کا ایک ہے۔ الحدیث متفق علیہ۔ یعنی دین سب کا ایک ہی ہے جو اللہ نے جاری کیا ہے مگر انبیاء کے تعدد کے لحاظ سے دنیا میں اس دین کے آنے کے طریقے مختلف ہیں۔ الذین اسلموا جو اللہ کے حکم کے مطیع تھے۔ لفظ اَسْلَمُوْا میں انبیاء کی مدح اور مسلمانوں کی عظمت کا اظہار اور یہودیوں پر طنز ہے کہ توریت کے حکم پر یہ نہیں چلتے اور اللہ کے حکم کی اطاعت نہیں کرتے۔ للذین ہادوا ان لوگوں کے لئے جو کفر سے تائب ہوگئے۔ اس کا تعلق یا تو انزلنا سے ہے یعنی ہم نے توریت ان لوگوں کے لئے نازل کی جو کفر سے تائب ہوگئے تھے۔ یا فِیْہَا ہُدًی وَنُوْرٌسے ہے یعنی توریت کے اندر ہدایت اور نور ان لوگوں کے لئے ہے جو کفر سے تائب ہوگئے۔ یا یَحْکُمُسے اس کا تعلق ہے۔ یعنی یہودیوں کے مقدمات کا فیصلہ توریت سے انبیاء کرتے تھے۔ بعض علماء نے کہا اس آخری شق پر لِلَّذِیْنَمیں لام بمعنی علیہو گا جیسے وَاِنْ اَسَأْتُمْ فَلَہَا میں فَلَہَا کا معنی ہے فَعَلَیْہَا (اگر بدی کرو گے تو اپنے نفس کا ہی نقصان کرو گے) یا جیسے اولٰءِکَ لَہُمُ اللَّعْنَۃُمیں لَہُمُبمعنی عَلَیْہِمْہے (ان ہی لوگوں پر لعنت ہے) میں کہتا ہوں اس تشریح پر آیت کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انبیاء توریت کے ذریعہ سے یہودیوں کے کفر کی وجہ سے ان کے خلاف حکم دیتے تھے کیونکہ تورات کا فیصلہ یہودیوں کے خلاف یہ تھا کہ جب کوئی رسول تمہاری کتاب کی تصدیق کرنے والا آئے تو اس کو ضرور ماننا اور اس کی مدد کرنا۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ للذین ہادوا کی قید دلالت کر رہی ہے کہ اس آیت میں انبیاء سے مراد وہ انبیاء بنی اسرائیل ہیں جو موسیٰ کے بعد آئے تھے اور ان کو حکم دیا گیا تھا کہ توریت کے احکام پر عمل کریں۔ وہ انبیاء مراد نہیں ہیں جو احکام توریت پر عمل کرنے پر مامور نہ تھے۔ جیسے عیسیٰ اور محمد ﷺ ۔ اسی طرح آیت لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِّنْکُمُ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًابھی دلالت کر رہی ہے کہ عیسیٰ اور محمد کے احکام پر مامور نہ تھے۔ بیضاوی کے اس قول کی بناء امام شافعی کے اس مسلمہ پر ہے کہ گزشتہ شریعتیں ہمارے لئے دلیل نہیں ہیں۔ ہم کہتے ہیں آیت لِکُلٍّ جَعْلَنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا اس امر پر دلالت نہیں کرتی کہ توریت کے تمام احکام منسوخ کردیئے گئے۔ ہاں یہ ضرور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ توریت کے بعض یا اکثر احکام کو منسوخ کردیا گیا اور جب تک قرآن اور حدیث سے ثابت نہ ہوجائے کہ فلاں حکم جو اللہ نے دیا تھا منسوخ کردیا گیا۔ ہمارے لئے واجب العمل رہے گا کیونکہ اللہ نے خود فرما دیا فَبِہُدَہُمُ افْتَدِہْ ۔ والربانیون اور اہل اللہ یعنی زاہد ‘ صوفی اپنے مریدوں کے اخلاق کو درست کرنے اور دلوں کو صاف و شستہ بنانے کے لئے توریت کے مطابق حکم دیتے تھے۔ والاحبار اور ماہر علماء بھی۔ احبار کا واحد حبر اور حبر ہے۔ حبر زیادہ فصیح ہے۔ ماہر عالم کو حبر کہتے ہیں۔ بعض علماء نے حبر کا معنی جمال لکھا ہے۔ حدیث میں آیا ہے دوزخ سے ایک آدمی ایسی حالت میں نکلے گا کہ اس کا حسن و جمال جا چکا ہوگا۔ تحبیر بمعنی تحسین لفظ حبر (بمعنی جمال) سے ہی بنا ہے۔ علماء جمال امت ہیں۔ جمال علم سے آراستہ ہوتے ہیں اس لئے علماء کو احبار کہا جاتا ہے۔ بما استحفظوا من کتاب اللہ بوجہ اس کے کہ ان کو کتاب اللہ کی نگہداشت کا حکم دیا گیا تھا استحفاظ سے مراد یہ ہے کہ علماء کو توریت کی نگہداشت اور اس کے مطابق عمل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ بھولنے اور عمل نہ کرنے کی ممانعت اور الفاظ میں کاٹ چھانٹ اور معنی میں ردوبدل سے بازداشت کردی گئی تھی۔ خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ انبیاء اور ان کے متبعین کو چونکہ توریت کی نگہداشت (حفاطت پر مامور کردیا گیا تھا) اس لئے وہ لوگوں کو توریت کے مطابق حکم دیتے تھے۔ وکانوا علیہ شہدآء اور وہ (اللہ کی کتاب یا نگہداشت کتاب کی طلب پر) اقراری ہوگئے تھے۔ لوگوں کو کتاب کی تعلیم دیتے تھے اور صاف صاف بیان کرتے تھے۔ فلا تخشوا الناس پس (اے حکام اگر تمہارے فیصلے لوگوں کے مقصد کے خلاف ہوں تو پرواہ نہ کرو) تم لوگوں سے نہ ڈرو۔ واخشون اور (میری کتاب و احکام کو ترک کرنے میں) مجھ سے ڈرو۔ ابن عساکر اور حکیم ترمذی نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اگر آدمی آدمی سے ڈرے تو اس شخص پر اسی آدمی کو مسلط کیا جاتا ہے۔ جس سے وہ ڈرتا ہے اور اگر آدمی اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتا ہو تو اللہ اپنے سوا کسی کو اس پر قابو نہیں دیتا اور جو آدمی آدمی سے امید رکھتا ہے اس کو اسی سے وابستہ کردیا جاتا ہے اور اگر اللہ کے سوا کسی سے امید نہ رکھے تو اللہ اپنے سوا کسی اور کے سپرد اس کو نہیں کرتا۔ ولا تشتروا بایتی اور میرے (نازل کئے ہوئے) احکام کے عوض نہ لو۔ ثمنا قلیلا حقیر معاوضہ یعنی دنیوی اسباب و سامان۔ یعنی اللہ کے احکام کے مقابلہ میں رشوت وغیرہ نہ لو۔ اس آیت سے صراحتاً ثابت ہے کہ توریت کے جن احکام کا منسوخ ہونا ثابت نہیں ان کی مکلف یہ امت بھی ہے۔ ومن لم یحکم بما انزل اللہ اور جس نے اللہ کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہیں دیا یعنی اللہ کے احکام کی توہین کی اور ان کا انکار کرتے ہوئے ان کے مطابق حکم نہیں دیا۔ کذا قال عکرمۃ۔ فاولئک ہم الکافرون وہ ہی کافر ہیں (یعنی اس بات کو نہیں مانتے کہ احکام خداوندی کو حقیر سمجھنے کا ان کو حکم نہیں دیا گیا) بعض علماء کے نزدیک کافروں سے مراد فاسق ہیں۔ بعض نے کہا کفر سے مراد ہے حق پوشی۔ حضرت ابن عباس اور طاؤس نے فرمایا یہ وہ کفر نہیں جو دین سے خارج کر دے جیسے اللہ اور روز آخرت کا انکار دین سے خارج کردیتا ہے بلکہ اس نے احکام خداوندی کے خلاف حکم دیا۔ اس نے حق کو چھپایا۔
Ayah 5:45

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کے لیے تورات میں یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں کا اسی طرح بدلہ ہے لیکن جو شخص بدلہ معاف کر دے وہ اس کے لیے کفارہ ہوگا اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ بےانصاف ہیں

وکتبنا علیہم فیہا اور ہم نے توریت میں بنی اسرائیل پر فرض کردیا تھا۔ ان النفس بالنفس کہ جان کے بدلے جان یعنی قاتل آزاد ہو یا غلام۔ مرد ہو یا عورت۔ مسلمان ہو یا ذمی۔ مقتول کے بدلہ میں اس کو قتل کیا جائے۔ ہماری شریعت میں اس مسئلہ کی تحقیق سورة بقرہ کی آیت الحر بالحر کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ والعین بالعین اور آنکھ آنکھ کے عوض پھوڑی جائے۔ والانف بالانف اور ناک ناک کے بدلہ میں کاٹی جائے۔ والاذن بالاذن اور کان کان کے عوض کاٹا جائے۔ والسن بالسن اور دانت دانت کے عوض اکھاڑا جائے۔ والجروح قصاص اور (خاص) زخموں کا یہی بدلہ ہے۔ یہ خاص کے بعد عام کا ذکر ہے۔ لفظ قصاص چونکہ اپنے اندر مثلیت کا مفہوم رکھتا ہے اس لئے جہاں تک مثلیت ممکن ہوگی بدلہ لیا جائے گا اور مثلیت کسی طرح ممکن نہ ہوگی تو قصاص (یعنی جسمانی بدلہ) نہیں لیا جائے گا۔ مثلاً اگر جوڑ سے قصداً کاٹ دیا ہو تو کاٹنے والے کا ہاتھ بھی اسی جوڑ سے کاٹا جائے گا۔ خواہ ہاتھوں کی لمبائی (اور موٹائی) میں اختلاف ہو یہی حکم ٹانگ ‘ سر ‘ ناک ‘ کان کی لو کاٹنے اور دانت توڑنے کا ہے۔ اگر ضرب کی وجہ سے آنکھ باہر نکل پڑے تو بدلہ ناممکن ہے کیونکہ مثلیت نہیں ہوسکتی۔ لیکن اگر آنکھ اپنی جگہ باقی ہو اور بینائی جاتی رہے تو بدلہ واجب ہے کیونکہ مثلیت ممکن ہے ‘ بدلہ کا طریقہ یہ ہوگا کہ آئینہ کو خوب گرم کیا جائے گا اور مارنے والے کے چہرہ پر تر روئی رکھی جائے گی اور پھر گرم آئینہ کو آنکھ کے قریب لایا جائے گا (آئینہ کی تپش تر روئی پر لگے گی تو اس سے ایک خاص قسم کی بھاپ اٹھ کر پتلی پر لگے گی) اس طرح آنکھ کی روشنی جاتی رہے گی۔ صحابہ ؓ کی ایک جماعت کا قول اسی طرح آیا ہے۔ کفایہ میں ہے کہ ایسا ایک واقعہ حضرت عثمان ؓ کے زمانہ میں ہوا تھا۔ حضرت عثمان ؓ نے صحابہ سے مسئلہ پوچھا لیکن کسی نے کوئی (شافی) جواب نہیں دیا۔ اتنے میں حضرت علی ؓ تشریف لے آئے اور آپ نے یہ ترکیب بتائی۔ کسی صحابی نے اس کی تردید نہیں کی گویا اتفاق آراء ہوگیا۔ حضرت عثمان نے اسی طرح حکم جاری کردیا۔ سوائے دانت کے اور کسی ہڈی (کو توڑنے) کا بدلہ نہیں ہے۔ مسئلہ : امام ابوحنیفہ اور امام احمد کے نزدیک زخم کا بدلہ اس وقت لیا جائے گا۔ جب زخم کا اندماں ہوجائے۔ امام شافعی کے نزدیک (بھرنے کا انتظار نہیں کیا جائے گا) فوراً بدلہ لیا جائے گا۔ احناف کی دلیل حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص کو زخمی کیا گیا تھا۔ اس نے فوراً بدلہ لینے کی درخواست کی مگر رسول اللہ ﷺ نے زخمی کے اچھا ہونے تک زخمی کرنے والے سے بدلہ لینے کی ممانعت فرما دی۔ (رواہ الدارقطنی) مسئلہ : اگر آدھی بانہہ سے ہاتھ کاٹ دیا یا جوف تک گہرا زخم پہنچا دیا۔ مگر مجروح اچھا ہوگیا تو بدلہ نہیں لیا جائے گا کیونکہ مثلیت کا امکان نہیں۔ اوّل صورت میں ہڈی کی شکست ہے جس کا کوئی ضابطہ نہیں اور دوسری صورت میں موت سے بچ جانا درالوقوع ہے۔ بظاہر تو ایسی ضرب ہلاکت تک پہنچا دیتی ہے۔ امام شافعی کے نزدیک اگر بازو توڑ دیا جائے اور الگ کردیا تو کہنی سے ہاتھ کاٹا جائے گا اور اگر درمیانی کلائی سے توڑا تو پہنچے سے کاٹا جائے گا۔ دوسری ہڈیاں توڑنے (اور اعضاء کو الگ کردینے) کا بھی یہی حکم ہے کہ قریب ترین جوڑ سے ضارب کے اسی عضو کو کاٹا جائے گا۔ بقیہ حصہ کا فیصلہ کسی پنچ کے ذریعہ سے ہوگا۔ مسئلہ : زبان اور عضو مخصوص کو کاٹنے کا بھی امام صاحب کے نزدیک قصاص نہیں کیونکہ یہ دونوں عضو پھیلتے اور سکڑتے ہیں اس لئے ممکن نہیں ہاں اگر حشفہ کو کاٹ دیا ہے تو بدلہ لیا جائے گا (کیونکہ کاٹنے کی حد معین ہے) امام ابو یوسف ‘ امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک اگر زبان اور عضو مخصوص کو جڑ سے کاٹ دیا تو چونکہ مماثلت ممکن ہے اس لئے بدلہ لیا جائے گا۔ اگر پورا ہونٹ جڑ تک کاٹ لیا تو بدلہ لیا جائے گا۔ مماثلت ممکن ہے اور کچھ حصہ کاٹ لیا تو بدلہ نہ ہوگا مماثلت کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔ مسئلہ : لنجے ہاتھ کے عوض تندرست ہاتھ اور دائیں کے عوض بایاں یا بائیں کے عوض میں دایاں نہیں کاٹا جائے گا۔ یہ فیصلہ اجماعی ہے۔ مسئلہ : اگر مضروب کی آنکھ اپنی جگہ تھی مگر نابینا تھی یا ہاتھ لنجا تھا یا زبان گونگی تھی۔ یا ذکر سن (بیکار) تھا یا انگلی زائد تھی اور ان اعضاء کو ضارب نے کاٹ دیا تو جمہور کے نزدیک کسی عادل پنچ سے فیصلہ کرایا جائے گا اور امام احمد کے نزدیک صحیح عضو کی دیت کا ایک تہائی ادا کرنا ہوگا کیونکہ عمرو بن شعیب کے دادا (حضرت عبداللہ) کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک تہائی دیت دینے کا فیصلہ صادر فرمایا اس آنکھ کا جو اپنی جگہ قائم ہو مگر بےنور ہو اور شل ہاتھ کا جب اس کو کاٹ دیا گیا ہو اور ناکارہ دانت کا جب اس کو اکھاڑ دیا گیا ہو۔ رواہ البیہقی من طریق النسائی۔ حضرت ابن عباس ؓ کی موقوف حدیث میں ہے کہ شل ہاتھ کی ایک تہائی دیت ہے اور آنکھ اگر اپنی جگہ قائم ہو اور بےنور ہو تو ایک تہائی دیت ہے۔ مسئلہ : اگر مقطوع کا ہاتھ صحیح اور قاطع کا ہاتھ شل ہو یا انگلیاں کم ہوں تو امام صاحب کے نزدیک مقطوع کو اختیار ہے چاہے قاطع کے شل ہاتھ کو کاٹے یا پورا پورا مالی تاوان لے لے۔ پورا جسمانی بدل لینے کا تو امکان ہی نہیں ہے لہٰذا یا اپنے حق سے کم (جسمانی) بدل لینا پڑے گا یا مالی بدل لے گا۔ امام شافعی کے نزدیک مالی بدل لینے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں۔ مسئلہ : اگر کھوپڑی کے دائیں بائیں دونوں ابھاروں کے درمیان ضرب لگی کہ دونوں ابھاروں کے درمیان کا پورا حصہ زخمی ہوگیا لیکن ضارب (کا سر بڑا ہونے کی وجہ سے) اتنا زخم اس کے سر کے دونوں ابھاروں کے درمیانی حصہ پر پورا نہ آسکتا ہو اس صورت میں زخمی کو اختیار ہے کہ اپنے زخم کے ناپ کے برابر ضارب کے سر پر زخم لگائے۔ خواہ دائیں ابھار سے شروع کرے یا بائیں ابھار سے یا مالی تاوان لے لے اس کے برعکس صورت ہو تب بھی یہی اختیار ہوگا۔ مسئلہ : امام صاحب کے نزدیک دانت توڑنے کا بھی ویسا ہی جسمانی بدلہ ہے جیسا دانت اکھاڑنے کا۔ امام شافعی کے نزدیک دانت توڑنے کا جسمانی بدلہ نہیں کیونکہ مثلیت ناممکن ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر ریتی سے ریتا جائے تو اصل شکست سے مماثلت ہوسکتی ہے۔ حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ دانت کا بدلہ لینے کا رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا۔ رواہ النسائی۔ حضرت انس ؓ کی ہی ایک روایت یہ بھی ہے کہ انس بن مالک کی پھوپھی ربیع نے انصار کی ایک لڑکی کا دانت توڑ دیا۔ انصار رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے بدلہ لینے کا حکم دے دیا۔ یہ حکم سن کر انس بن مالک کے چچا حضرت انس بن نضر بولے یا رسول اللہ ﷺ اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انس بدلہ اللہ کا فرض حکم ہے۔ اس کے بعد مدعی راضی ہوگئے اور مالی عوض انہوں نے قبول کرلیا۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ اگر اللہ کے اعتماد پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ ان کی قسم پوری کردیتا ہے۔ متفق علیہ۔ مسئلہ : نفس سے کم ضرب میں شبہ عمد نہیں ہوتا۔ ضرب یا قصداً ہوگی یا ضرب خطا۔ قتل نفس سے کم میں شبہ عمد کا حکم عمد کا ہے۔ مسئلہ : امام ابوحنیفہ کے نزدیک قتل نفس سے کم ضرب کا قصاص مرد و عورت ‘ آزاد و غلام اور باہم دو غلاموں کے درمیان جاری نہیں ہوسکتا۔ باقی تینوں اماموں کے نزدیک تمام مذکورہ صورتوں میں بدلہ لیا جائے گا۔ ہاں اگر آزاد غلام کا ہاتھ کاٹ ڈالے تو قصاص نہ ہوگا۔ کیونکہ ان کا مسلمہ ضابطہ ہے کہ آزاد سے غلام کا قصاص نہیں ہوسکتا۔ اللہ نے فرمایا ہے الحر بالحر الخیہ آیت اپنے عمومی حکم کے لحاظ سے امام ابوحنیفہ کے خلاف محکم ثبوت ہے۔ امام ابوحنیفہ کے قول کی دلیل یہ ہے کہ اطراف بدن کی پوزیشن مال کی طرح ہے اور تفاوت قیمت سے مال کی مماثلت ختم ہوجاتی ہے لیکن شریعت نے اطراف کی قیمت معین کردی ہے۔ قتل نفس کی حالت اس سے جدا ہے۔ روح اور جسم کا تعلق منقطع کرنے سے زندگی ختم ہوجاتی ہے اور روح میں کوئی تفاوت نہیں۔ مسئلہ : اطراف بدن کا قصاص مسلم و ذمی کے درمیان امام ابوحنیفہ کے نزدیک جاری ہوگا کیونکہ امام صاحب کے نزدیک مسلم و ذمی کے اطراف کا مالی معاوضہ برابر ہے لیکن امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک اگر مسلم غیر مسلم کے اطراف قطع کر دے تو قصاص نہ ہوگا کیونکہ ان کے نزدیک قتل کافر پر بھی مسلم سے قصاص نہیں لیا جاسکتا۔ سورة بقرہ میں یہ مسئلہ گزر چکا ہے۔ فمن تصدق بہ فہو کفارۃ لہ پس (حقداروں میں سے) جو کوئی (قصور وار کے) قصاص سے درگزر کرے گا تو معاف کرنے والے کے لئے یہ فعل کفارہ ہوجائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص حسن بصری شعبی اور قتادہ نے یہی مطلب بیان کیا ہے۔ ایک انصاری راوی ہیں کہ آیت : فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہٖ فَہُوَ کَفَّاَرَۃُ لَّہٗکے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس سے مراد وہ شخص ہے جس کا دانت توڑ دیا گیا ہو یا ہاتھ یا کوئی اور حصہ کاٹ دیا گیا یا اس کو زخمی کردیا گیا ہو اور وہ معاف کر دے تو اللہ اسی کے بقدر اس کے گناہ ساقط کردیتا ہے۔ اگر اس نے چہارم دیت معاف کردی ہوگی تو اس کے گناہوں کا چہارم حصہ ساقط کردیا جائے گا اور اگر ایک تہائی دیت معاف کی ہوگی تو گناہوں کا ایک تہائی حصہ ساقط کردیا جائے گا اور اگر پوری دیت معاف کی ہوگی تو پورے گناہ ساقط کردیئے جائیں گے۔ اخرجہ ابن مردویہ۔ طبرانی نے الکبیر میں حسن سند سے حضرت عبادہ بن صامت کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اپنے جسم کے کسی حصہ (کے دکھ) کو معاف کردیا۔ اللہ اسی کے بقدر اس کے گناہ ساقط فرما دے گا۔ طبرانی اور بیہقی نے سنجرہ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کو دکھ دیا گیا تو اس نے صبر کیا اور اس کو دیت دی گئی تو شکر کیا اور جس پر ظلم کیا گیا تو اس نے معاف کردیا اور اگر خود ظلم کیا تو مغفرت کا طلبگار ہوا۔ ان سب لوگوں کے لئے (عذاب آخرت سے) امن ہے اور یہ ہدایت یافتہ ہیں۔ ترمذی اور ابن ماجہ نے لکھا ہے کہ حضرت ابو درداء نے فرمایا میں نے خود سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے جس شخص کو کوئی جسمانی اذیت دی جائے اور وہ معاف کر دے تو اللہ اس عمل کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور گناہ کو ساقط فرماتا ہے۔ ہمارے شیخ و امام (حضرت مرزا جان جاناں) کو جب زخمی کیا گیا اور ایسا زخمی کیا گیا کہ اسی سے آپ کی وفات ہوگئی اور امیر الامرا (نواب نجف خان) نے آپ کے پاس پیام بھیجا کہ میں آپ کے مجرم سے قصاص لوں گا تو شیخ نے فرمایا تم میرے مجرم سے کچھ تعرض نہ کرو۔ شیخ نے اس کو معاف کردیا۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک لہ کی ضمیر مجرم کی طرف راجع ہے۔ مجرم کا ذکر اگرچہ صراحتاً نہیں آیا مگر کلام سابق سے سمجھا ضرور جاتا ہے۔ اس وقت آیت کا مطلب اس طرح ہوگا کہ اگر حقدار معاف کردیں گے تو یہ معافی مجرم کے حق میں گناہ کا کفارہ ہوجائے گی اور جس طرح بدلہ چکانے کے بعد آخرت کا کوئی مواخذہ اس کے ذمہ باقی نہیں رہتا۔ اسی طرح معافی کے بعد بھی آخرت میں اس کا مواخذہ نہ ہوگا۔ رہا معاف کرنے والے کا ثواب تو وہ اللہ کے ذمہ ہے۔ اللہ نے خود فرمایا ہے فَمَنْ عَفٰی وَاصْلَحَ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِبغوی نے لکھا ہے یہ تفسیر حضرت ابن عباس کے قول میں آئی ہے۔ مجاہد ‘ ابراہیم اور زید بن اسلم کا بھی یہی قول ہے۔ آیت کا تیسرا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص اپنی طرف سے خود قصاص دے دے گا یعنی قصاص شرعی مستحق قصاص کو بخوشی دے دے گا تو یہ فعل اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اللہ نے فرمایا ہے فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یَّا اُوْلِی الالْبَابِ ۔ ومن لم یحکم بما انزل اللہ اور اللہ نے (قصاص وغیرہ کا) جو حکم نازل کیا ہے جو لوگ اس کے مطابق حکم نہیں دیں گے۔ فاولئک ہم الظالمون تو وہ ہی ظالم (ستم ڈھانے والے) ہوں گے کہ حکم الٰہی کی تعمیل سے باز رہے۔
Ayah 5:46

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

اور ان پیغمبروں کے بعد انہی کے قدموں پر ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلی کتاب (ہے) تصدیق کرتی ہے اور پرہیزگاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے

وقفینا علی اثارہم بعیسی ابن مریم اور ہم نے ان انبیاء کے بعد عیسیٰ بن مریم کو بھیجا۔ مصدقا لما بین یدیہ من التوارۃ کہ وہ اپنے سے پہلے والی کتاب یعنی توریت کی تصدیق کرتے تھے۔ واتیناہ الانجیل فیہ ہدی ونور اور ہم نے ان کو انجیل دی جس کے اندر ہدایت اور روشنی تھی۔ ومصدقا لمابین یدیہ من التوراۃ اور جو اپنے سے پہلے والی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والی تھی۔ وہدی وموعظۃ للمتقین پرہیزگاروں کے لئے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی۔ فیہ ہدیً جملہ حالیہ ہے اور مصدقاً کا عطف فیہ ہدی پر ہے۔ چونکہ انجیل سے فائدہ اٹھانے والے صرف وہی لوگ ہیں جو اہل تقویٰ ہوں اس لئے خصوصیت کے ساتھ پرہیزگاروں کے لئے انجیل کو ہدایت و نصیحت قرار دیا۔
Ayah 5:47

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

اور اہل انجیل کو چاہیئے کہ جو احکام خدا نے اس میں نازل فرمائے ہیں اس کے مطابق حکم دیا کریں اور جو خدا کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ نافرماں ہیں

ولیحکم اہل الانجیل بما انزل اللہ فیہ اور (حکم دے دیا گیا کہ) انجیل والے اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکم دیں۔ ایک شبہنزول قرآن کے بعد انجیل کو منسوخ کردیا گیا۔ پھر ولیحکم بصیغۂ امر کس طرح صحیح ہوگا۔ امر تو حال یا استقبال کے لئے آتا ہے (امر کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ فوراً یا آئندہ اس حکم کی تعمیل کی جائے۔ گزشتہ کے متعلق اب حکم دینا ناقابل تصور ہے) ۔ جوابانجیل کے تمام احکام منسوخ نہیں کئے گئے اور جو احکام منسوخ کئے گئے ہیں اور قرآن کی وجہ سے ان کو ترک کردیا گیا ہے تو اس کا حکم بھی انجیل میں ہی موجود تھا (تو گویا یہ بھی حکم انجیل کی تعمیل ہوئی) اب اگر منسوخ ہونے کے بعد اس منسوخ پر عمل کیا جائے گا تو حکم انجیل کی خلاف ورزی ہوگی۔ اہل انجیل سے مراد ہے حضرت عیسیٰ کی وہ امت جو رسول اللہ ﷺ : کی بعثت سے پہلے گزر چکی اور امت اسلامیہ جو رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد امت محمدیہ قرار پائی (یعنی حضور ﷺ کی بعثت کے بعد یہ ہی امت اسلامیہ انجیل والی ہے کیونکہ انجیل کے احکام پر یہ ہی چلتی ہے اور قرآن سے جو احکام انجیل منسوخ کردیئے گئے ان پر نہیں چلتی کیونکہ قرآن سے ان کے منسوخ ہوجانے کی صراحت خود انجیل میں پہلے سے موجود تھی اس طرح منسوخ شدہ احکام پر نہ چلنا بھی حکم انجیل کے مطابق ہے) (1) [ شبہ کا زیادہ واضح جواب وہ ہے جو مترجم نے ترجمہ میں اشارتا بین القوسین عبارت کو زیادہ کر کے ظاہر کردیا ہے اس پر غور کیا جائے ] ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الفاسقون اور جو لوگ اللہ کی نازل کردہ کتاب کے مطابق حکم نہیں دیتے وہ اللہ کی اطاعت سے باہر ہونے والے ہیں۔ یا (فاسقوں سے مراد کافر ہیں یعنی) ایمان سے خارج ہیں۔ کیونکہ اللہ کے احکام کو حقیر جانتے ہیں۔