5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 5:95

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 5:95 in the Quran reader

مومنو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے تو (یا تو اس کا) بدلہ (دے اور وہ یہ ہے کہ) اسی طرح کا چارپایہ جسے تم میں دو معتبر شخص مقرر کردیں قربانی (کرے اور یہ قربانی) کعبے پہنچائی جائے یا کفارہ (دے اور وہ) مسکینوں کو کھانا کھلانا (ہے) یا اس کے برابر روزے رکھے تاکہ اپنے کام کی سزا (کا مزہ) چکھے (اور) جو پہلے ہو چکا وہ خدا نے معاف کر دیا اور جو پھر (ایسا کام) کرے گا تو خدا اس سے انتقام لے گا اور خدا غالب اور انتقام لینے والا ہے

یایہا الذین امنوا لا تقتلوا الصید وانتم حرم اے مسلمانو ! بحالت احرام شکار کو نہ مارو۔ یعنی اس حیوان کو قتل نہ کرو جو اصل خلقت کے لحاظ سے جنگلی اور محفوظ القتل ہو۔ خواہ اس کا گوشت کھایا جاتا ہو یا نہ کھایا جاتا ہو۔ کذا فی القاموس۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے صید کی یہی تعریف کی ہے اور یہی مراد لی ہے۔ لیکن ان جانوروں کو حکم سے الگ قرار دیا ہے جن کے قتل کا جواز احادیث میں آگیا ہے یعنی سانپ ‘ بچھو ‘ چوہا ‘ چیل ‘ کوا اور لاگو درندہ ‘ جو لاگو نہ ہو اس کو قتل کرنا جائز نہیں۔ اسی بناء پر کتے کو خصوصاً کٹ کھنے کتے کو قتل کرنا جائز قرار دیا ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ ہر کتا شکار ہے (یعنی اصل خلقت کے اعتبار سے جنگلی ہے) کتے کا پالتو بن جانا عارضی ہے (سکھانے سے پالتو بن جاتا ہے) کچھ لوگ کہتے ہیں کتا طبعاً جنگلی نہیں ہے اس لئے اس کو شکار نہیں قرار دیا جاسکتا۔ صحیحین میں حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا محرم کن جانوروں کو قتل کرسکتا ہے فرمایا ان (مندرجۂ ذیل) جانوروں کو (بحالت احرام) قتل کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے بچھو ‘ چوہا ‘ کوا ‘ چیل ‘ کٹ کھنا کتا ‘ صحیحین میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں بھی انہی پانچ کا ذکر ہے۔ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ کلب سے مراد درندہ ہے کلب کا اطلاق عام درندہ پر ہوتا ہے عتبہ بن ابی لہب کے قصہ میں رسول اللہ ﷺ نے دعا کی تھی الٰہی اپنے کتوں میں سے کسی کتے کو (یعنی کسی درندہ کو) اس پر مسلط فرما دے (چنانچہ عتبہ کو شیر نے پھاڑ کھایا) اللہ نے فرمایا ہے من الجوارح مکلبین۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا اگر لغتہً لفظ کلب کا اطلاق ہر درندہ پر تسلیم بھی کرلیا جائے تب بھی عرفاً اس لفظ کا غالب استعمال صرف کتے ہی کے لئے ہوتا ہے اور حدیث مذکورہ بالا (یعنی جس حدیث میں پانچ جانوروں کو قتل کرنے کی اجازت ہے) کو عرف عام پر محمول کرنا اولیٰ ہے (لہٰذا کلب سے مراد کتا ہی ہے ہر درندہ مراد نہیں ہے) ابو عوانہ نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے چھ جانوروں کا ذکر کیا ہے۔ سانپ کا ذکر مزید ہے۔ یہ روایت بطریق بخاری ہے۔ ابو داؤد نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا محرم سانپ کو بچھو کو چوہے کو کٹ کھنے کتے کو چیل کو اور عادی درندہ کو قتل کرسکتا ہے کوے کو قتل نہ کرے کوئی اینٹ پتھر اس پر پھینک سکتا ہے۔ ترمذی نے بھی یہ حدیث نقل کی ہے مگر اس روایت میں عادی درندہ کا ذکر نہیں ہے۔ حسن نے کہا جس کوّے کو قتل کرنے کی ممانعت ہے اس سے مراد کھیتی کا کوا ہے۔ ابن خزیمہ اور ابن المنذر نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے جو حدیث نقل کی ہے اس میں سات جانوروں کا ذکر ہے۔ پانچ وہی مشہور اور دو مزید یعنی بھیڑیا اور چیتا۔ لیکن ابن خزیمہ نے لکھا ہے کہ حدیث کا اصل لفظ کلب عقور ہے۔ راوی نے اس لفظ کی تشریح میں (اپنی طرف سے) بھیڑیا اور چیتا کہا ہے۔ سعید ؓ بن مسیب کی مرسل روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا محرم سانپ اور بھیڑیئے کو قتل کر دے۔ یہ روایت ابن ابی شیبہ اور سعید بن منصور اور ابو داؤد نے نقل کی ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ مسلم نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے صرف چار کا ذکر کیا ہے مشہور پانچ میں سے بچھو کا ذکر ساقط کردیا ہے۔ ایک شبہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک حدیث احاد سے حکم قرآن کی تخصیص جائز نہیں (یعنی اگر حکم قرآن عام ہوگا اور حدیث نے اس میں کچھ تخصیص کی ہوگی تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک تخصیص نہیں ہوگی) پھر اس جگہ قرآن میں لفظ صید عام ہے حدیث احاد سے اس کی تخصیص کس طرح جائز ہوگئی۔ جواب اس حدیث کو تمام علمائے امت نے صحیح مانا اور قبول کیا ہے اس لئے اس کا مرتبہ حدیث مشہور کی طرح ہوگیا اور حدیث مشہور سے تخصیص قرآن جائز ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ باجماع صحابہ ؓ یہ بات تو ثابت ہے کہ بعض قسم کے شکار محرم قتل کرسکتا ہے گویا قرآن مجید کا لفظ صید عام ہے مگر مخصوص بالبعض اور اس بعض مخصوص کی تعیین احادیث سے ہوگئی۔ امام شافعی (رح) اور امام احمد کے نزدیک جس جانور کا گوشت کھانا حلال ہے اس کو محرم قتل نہیں کرسکتا اور جس جانور کا گوشت حلال نہیں اس کو قتل کرسکتا ہے ممانعت صرف ماکول اللحم صید کو قتل کرنے کی ہے۔ کیونکہ احادیث میں کچھ جانوروں کا حکم حرمت سے تخصیص کی گئی ہے جن میں سے کچھ تو شکاری درندے ہیں کچھ ہلاک کردینے والے کیڑے مکوڑے ہیں کچھ ایسے پرندے ہیں جو درندے اور شکاری نہیں ہیں (جیسے چیل کوا) مگر گوشت ان کا بھی ناپاک (حرام) ہے۔ اس پر غور کرنے سے ہم کو معلوم ہوا کہ خبیث اللحم ہونا جواز صید کی علت ہے لہٰذا تخصیص بالحدیث کرنے کے بعد ہم نے علت قیاسیہ نکال کر قیاس سے حکم جواز انہی جانوروں پر محدود کردیا جو خبیث اللحم ہیں (اور آیت کا حکم حرمت اس شکار پر محدود ہوگیا جو ماکول اللحم ہے) میں کہتا ہوں خبث اللحم کو جواز قتل کی علت قرار دینا ہی غلط ہے کیونکہ گوشت کی ناپاکی کی وجہ سے اباحت قتل کسی مصلحت پر مبنی نہیں ہوسکتی (گوشت کی ناپاکی یا پاکی محرم کے لئے شکار کا جواز یا عدم جواز نہیں پیدا کرسکتی) اس لئے قیاس ہی جائز نہیں ہے۔ میرے نزدیک قابل فتویٰ وہ قول ہے جس کو صاحب بدائع نے اختیار کیا ہے کہ صحرائی جانور کچھ ماکول ہوتے ہیں (یہ تو سب صید ہیں ان کو بحالت احرام شکار کرنا حرام ہے) اور کچھ غیر ماکول۔ غیر ماکول کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ انسان کو ابتدائی طور پر دکھ پہنچانے والے ہیں کچھ ایسے نہیں ہوتے ابتدائی دکھ پہنچانے وال ‘ غیر ماکول جانوروں کو قتل کرنا جائز ہے جو از صید کی علت مرحجہ ابتدائی اذیت رسانی ہے (یعنی جو جانور عموماً ابتدائی طور پر اذیت رساں ہوتے ہیں ان کو بحالت احرام قتل کرنے درست ہے) ایک روایت میں امام ابو یوسف کا بھی یہی قول آیا ہے کذا فی فتویٰ قاضی خاں۔ ایذاء کی صورتیں مختلف ہوتی ہیں (1) بدن میں زہر پہنچانا جیسے بچھو کرتا ہے ‘ اس علت میں عقرب (بچھو) کے تحت تمام زہریلے جانور جو ڈنک مارتے اور ڈستے ہیں آگئے۔ (2) کترنا سوراخ کرنا۔ جیسے چوہا کرتا ہے چوہے کے تحت اس علت کی وجہ سے نیولا آگیا ہے۔ (3) جھپٹا مارنا جیسے کوا اور چیل جھپٹا مار کرلے جاتے ہیں اس علت کی وجہ سے شکرا ‘ باز ‘ شاہین وغیرہ چیل کوے کے ذیل میں آگئے۔ (4) حملہ کر کے کاٹنا اس مناسبت سے کٹ کھنے کتے کے تحت ہر درندہ آگیا۔ پالتو پلا چونکہ جنگلی جانور نہیں ہے اس لئے امام صاحب کے نزدیک وہ صید میں داخل نہیں ہے۔ صحیح یہ ہے کہ پالتو پلا بھی اصلاً جنگلی جانور ہی ہے اس کا پالتو ہونا عارضی ہے۔ اس کے برخلاف وہ چوپائے ہیں جو خلقتاً تو پالتو ہیں لیکن کبھی بھاگ کر جنگلی بن جاتے ہیں (جیسے کوئی گائے بھینس گھوڑا بیل جنگلی بن جاتا ہے) اس کا شمارجنگلی جانوروں میں نہیں ہوسکتا۔ مسئلہ شکاری کو اشارہ سے شکار بتانا یا ایسی حرکت کرنا جس سے شکاری شکار کو دیکھ لے باجماع علماء قتل کے حکم میں ہے شکار کا جانور جنگلی ہونے اور آنکھوں سے دوررہنے کی وجہ سے قتل ہونے سے محفوظ ہوتا ہے۔ لیکن اشارہ کرنے والے کے اشارہ کی وجہ سے اس کا امن سے رہنا ختم ہوجاتا ہے۔ اس لئے اشارہ بھی قتل کا حکم رکھتا ہے۔ صحیحین کی حدیث ہے کہ سب صحابہ ؓ نے احرام باندھا ہوا تھا حضرت ابو قتادہ ؓ محرم نہ تھے ‘ اثناء سفر میں لوگوں نے ایک گورخر دیکھا اور ابو قتادہ نے حملہ کر کے اس کو قتل کردیا اور ذبح کرکے اس کا گوشت لائے اور سب نے وہ گوشت کھایا اس حدیث کے آخر میں ہے کہ صحابہ جب رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کیا تم میں سے کسی نے ابو قتادہ ؓ کو حملہ کرنے کے لئے کہا گیا تھا یا گورخر کی طرف اشارہ کیا تھا ‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا جی نہیں فرمایا تو جو گوشت باقی رہ گیا ہے اس کو (بھی) کھا سکتے ہو۔ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے کھانے کے جواز کے لئے اشارہ نہ کرنے کی شرط لگائی (جس سے معلوم ہوا کہ محرم کے لئے شکار کی طرف اس طرح اشارہ کرنا کہ غیر محرم کو معلوم ہوجائے اور وہ شکار کرلے جائز نہیں ہے) مسئلہ پرندہ کے انڈوں کا حکم بھی شکار کا ہے۔ داؤد ظاہری کے نزدیک انڈوں کو توڑنے کا کچھ ضمان نہیں۔ اب آگے حدیث اوراقوال صحابہ ؓ ذکر کریں گے جن سے ثابت ہو رہا ہے کہ انڈوں کو توڑنے کا محرم پر ضمان ہے۔ مسئلہ محرم نے اگر شکار کیا یا ذبح کیا تو جمہور کے نزدیک وہ مردار ہے اسکا کھانا نہ احرام والے کو جائز ہے نہ غیر محرم کو۔ ثوری (رح) اور ابو ثور (رح) اور کچھ دوسرے علماء کے نزدیک اس کو کھانا جائز ہے وہ ایسا ہی ہے جیسے چور کسی چوری کے جانور کو ذبح کر دے ‘ شافعیہ کا قول بھی یہی ہے۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ محرم کا ذبح کرنا ہی گناہ ہے یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی قصداً ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لے لہٰذا محرم کا ذبیحہ ایسا ہی ہوگا جیسے غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ ‘ چور کی حالت اس سے غیر ہے ‘ چور اپنے لئے چوری کے جانور کو ذبح کرتا ہے۔ ذبح میں کوئی خرابی نہیں لیکن چونکہ اس جانور سے دوسرے شخص کے حق کا تعلق ہے اس لئے ذبیحہ صحیح ہونے کے باوجود حق غیر کا ضمان دینا پڑے گا اور اس طرح حق غیر کی تلافی ہوجائے گی۔ مسئلہ اگر غیر محرم نے شکار کیا مگر محرم نے اس کو شکار کرنے کو کہا تھا یا اشارہ کیا تھا یا اپنی کسی حرکت سے رہنمائی کی تھی تو محرم کیلئے اس کا کھانا حرام ہے۔ ابو قتادہ ؓ والی حدیث ہم اوپر نقل کرچکے ہیں لیکن غیر محرم کے لئے اس کو کھانا جمہور کے نزدیک حلال ہے۔ ومن قتلہ منکم اور تم میں سے (یعنی احرام بند مسلمانوں میں سے) جس نے شکار کو قتل کردیا۔ معتمدا جان بوجھ کر۔ سعید بن جبیر ‘ داؤد ‘ ابو ثور اور ابو منذر شافعی کا قول ہے اور ایک روایت میں امام احمد کا بھی یہی قول آیا ہے کہ متعمداً کی شراط اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ اگر غلطی سے یا اپنے احرام کو بھول کر یا کسی کے جبر کرنے سے یا اسی قسم کے کسی اور عذر کی وجہ سے محرم نے شکار کو قتل کردیا تو مندرجۂ آیت ضمان اس پر واجب نہ ہوگا۔ مجاہد اور حسن کا قول ہے کہ مندرجۂ آیت ضمان اس وقت واجب ہوگا جب قتل قصداً جان بوجھ کر کیا ہو اور اپنے احرام کو بھولا ہوا ہو لیکن اگر احرام کی حالت بھی پیش نظر ہو اور جانتا ہو کہ میں محرم ہوں تو اس کا کوئی کفارہ نہیں۔ ضمان ادا کرنے سے جرم کی تلافی نہیں ہوگی ایسے آدمی کا معاملہ اللہ کے سپرد رہے گا (خواہ وہ آخرت میں عذاب دے یا رحمت سے معاف فرما دے) ۔ جمہور علماء اور چاروں امام قائل ہیں کہ مندرجۂ آیت پاداش بہرحال واجب ہے خواہ قصداً قتل کیا ہو یا اپنے احرام کو بھول کر قتل کیا ہو یا غلطی سے مارا ہو یا حرمت نہ معلوم ہونے کی حالت میں شکار کیا ہو یا کسی کے اکراہ سے ایسا کیا ہو۔ زہری نے کہا قصداً قتل کرنے والے پر پاداش کا وجوب قرآن سے ثابت ہے اور غلطی سے قتل کرنے والے پر وجوب حدیث میں موجود ہے اور مفہوم مخالف حنفیہ کے نزدیک حجت نہیں ہے (یعنی متعمداً کے لفظ سے یہ مفہوم اخذ کرنا کہ جس نے قصداً نہ قتل کیا ہو اس پر پاداش واجب نہیں۔ حنفیہ کے نزدیک ناقابل تسلیم ہے) اور جو لوگ مفہوم مخالف کے قائل ہیں ان کے نزدیک بھی مفہوم مخالف ایک ظنی دلیل ہے اور حدیث کی صراحت (خواہ دلیل ظنی کی حیثیت رکھتی ہو مگر) مفہوم مخالف کی ظنیت سے زیادہ قوی ہے (اس لئے حدیث میں جو غلطی سے قتل کرنے والے کے لئے پاداش کو واجب قرار دیا ہے اسی پر عمل کیا جائے گا) پھر اجماع تو سب سے قوی دلیل ہے (اور مخطی یا ناسی کے قتل کو موجب جزاء اجماع نے قرار دیا ہے) کیونکہ اجماع دلیل قطعی ہے (ظنی نہیں ہے) ۔ ابن جوزی نے حضرت جابر ؓ کی روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے بجو (کو قتل کرنے) کا مسئلہ دریافت کیا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ شکار ہے اگر محرم بجو کو قتل کر دے تو حضور ﷺ نے اس کی پاداش میں ایک مینڈھے کی قربانی واجب قرار دی۔ رواہ الترمذی۔ ترمذی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ جو لوگ حکم جزاء کو مطلق قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک متعمداً کی قید (احترازی نہیں ہے بلکہ) آئندہ آیت وَمَنْ عاد فینتقم اللّٰہ منہ کی تمہید ہے۔ مسئلہ اگر کوئی شخص شکار کرنا چاہتا ہو اور کوئی محرم اس کو زبان سے یا ہاتھ کے اشارہ سے شکار بتادے اور وہ قتل کر دے تو امام ابوحنیفہ (رح) اور امام احمد کے نزدیک بتانے والے محرم پر پاداش عائد ہوگی امام شافعی (رح) اور امام مالک (رح) کے نزدیک بتانے والا گناہ گار نہ ہوگا پاداش اس پر عائد نہ ہوگی جیسے کوئی شخص کسی روزہ دار کو کسی عورت کی طرف زبان یا اشارہ سے رہنمائی کرے اور روزہ دار اس سے جا کر جماع کرلے تو بتانے والے پر کفارہ نہیں پڑے گا نہ روزہ دار کے جماع کرنے سے بتانے والے کا روزہ ٹوٹے گا۔ ہاں بتانے والا گناہگار ضرور ہوگا رہنمائی قتل نہیں ہے اور کفارہ قاتل پر عائد ہوتا ہے۔ ہم کہتے ہیں بتانا درحقیقت قتل ہی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اشارہ کو قتل کے مساوی قرار دیا ہے جیسا کہ ابو قتادہ والی حدیث سے ظاہر ہے پھر ایک بات یہ بھی ہے کہ اگر بتانے والے پر پاداش عائد نہیں کی جائے گی تو بتانے کا گناہ بتانے والے پر باقی رہے گا۔ کیونکہ بتانا باجماع امت ممنوع ہے اور قتل کا گناہ کفارہ سے دور ہوجاتا ہے اس صورت میں قتل سے زیادہ بتانے کا گناہ قرار پائے گا (جو بداہت کے خلاف ہے) ۔ ایک شبہ اگر بتانا قتل کے مساوی ہے تو بتانے کے بعد بتانے والے پر پاداش کا وجوب ہونا چاہئے خواہ بتانے کے بعد شکاری شکار کو قتل کرے یا نہ کرے۔ جواب بتانا قتل کا سبب ہے جیسے تیر مارنا قتل کا سبب ہے لیکن صرف تیر مارنا موجب پاداش نہیں جب تک شکار مارا نہ جائے اسی طرح بتانے کے بعد اگر شکار قتل نہ کیا جائے تو موجب پاداش نہیں کیونکہ جب تک قتل نہ ہوگا نہ بتانے کو سبب قتل کہا جاسکتا ہے نہ تیر یا پتھر مارنے کو۔ فجزآء مثل ما قتل من النعم تو اس پر پاداش واجب ہے برابر اس جانور کے جس کو اس نے قتل کیا ہے جزاءٌپر فاء اس لئے لایا گیا کہ مبتدا معنئ شرط کو مشتمل ہے یعنی اس پر پاداش واجب ہے امام ابوحنیفہ (رح) اور امام ابو یوسف (رح) کے نزدیک قربانی کا جانور قیمت میں شکار کے برابر ہونا چاہئے (یعنی مثل معنوی مراد ہے) کیونکہ مطلق مثل تو وہی ہوتا ہے جو صورت اور حقیقت دونوں میں مثل ہو یعنی قربانی کا جانور شکار کا ہم نوع ہو اور یہ بالاجماع مراد نہیں ہے لامحالہ مثل معنوی ہی مراد ہوگا یعنی جو قیمت میں شکار کے برابر ہو۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بعض قسم کے شکار کی تو بالاجماع قیمت ہی کا حساب لگانا ضروری ہے مثلاً اس جانور کا شکار کیا ہو جس کا اونٹ گائے بھینس بکری مینڈھے وغیرہ میں سے کوئی مثل نہ ہو یا کبوتر سے چھوٹا ہو مثلاً چڑیا ٹڈی وغیرہ ہو لہٰذا مثل معنوی مراد لینا ہی ضروری ہے ورنہ (اگر بعض اقسام میں مثل معنوی اور بعض اقسام میں مثل صوری مراد لیا جائے گا تو) ایک وقت میں ایک لفظ کا حقیقی اور مجازی دونوں معنی مراد لینا یا عموم مشترک مراد لینا لازم آئے گا (یعنی اگر لفظ مثل کو صوری اور معنوی مثلیت میں مشترک قرار دیا جائے گا اور اس لفظ کو ایک ایسے معنی کے لئے موضوع مانا جائے گا جو صوری و معنوی دونوں کے درمیان مشترک ہے اور دونوں معنی بیک وقت مراد لئے جائیں گے تو عموم اشتراک مراد لینا پڑے گا اگر مثل صوری کو حقیقی اور مثل معنوی کو مجازی معنی کہا جائے گا اور دونوں معنی بیک وقت مراد ہوں گے تو حقیقت و مجاز کا اجتماع لازم آئے گا اور احناف کے نزدیک دونوں ناجائز ہیں) ایک بات یہ بھی ہے کہ شرع میں جہاں لفظ مثل بلاقید آیا ہے اس سے مراد یا نوعی مثل ہوتا ہے یا وہ چیز جو قیمت میں برابر ہو اللہ فرماتا ہے : فَمَنِ اعْتَدیٰ عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اَعْتَدیٰ عَلَیْکُمْاگر کسی نے تم پر زیادتی کی ہو تو جیسی اور جتنی زیادتی اس نے کی ہو اتنا اور ویسا ہی انتقام تم لے سکتے ہو۔ اب اگر ہلاک کردہ چیز کوئی مثلی ہے کہ اس کا نوعی مثل مل سکتا ہے تو ایسی جگہ مثل سے مراد نوعی مثل ہوگا اور نوعی مثل ممکن نہ ہو تو قیمت کے لحاظ سے مثل مراد ہوگا کیونکہ مثل کا لفظ مشترک معنوی ہے (یعنی اس کے معنی کے دو فرد ہیں نوعی اور قیمتی) اور چونکہ حیوانات میں اوصاف کے لحاظ سے تفاوت ہوتا ہی ہے خواہ ایک ہی نوع کے ہیں اس لئے بالاجماع کامل بہمہ جہت مساوات و مثلیت کا تو اعتبار ہی نہیں ہے بلکہ ایک نوع میں داخل ہونے کے باوجود قیمت کی مماثلت کا اعتبار ہے۔ پھر جہاں نوعی اشتراک بھی نہ ہو صرف ظاہری شکل کی مشابہت ہو مثلاً شتر مرغ اور اونٹ کہ دونوں کی گردنیں اور ٹانگیں لمبی ہوتی ہیں یا شکل میں بھی مشابہت نہ ہو مثلاً کبوتر کو شکار کرنے کے کفارہ میں بکری کی قربانی (حاصل یہ کہ صوری مشابہت کی کوئی ضرورت نہیں خواہ ظاہری شکل میں مشابہت ہوجائے یا نہ ہوجائے اور نوعی اشتراک ہو یا نہ ہو بہرحال قیمت میں مماثلت ہونی چاہئے) ۔ امام مالک (رح) امام شافعی (رح) امام احمد (رح) اور امام محمد (رح) : کا قول ہے کہ مثل سے مراد ہے وہ پالتو چوپایہ (بکری بھیڑ گائے بھینس اونٹ) جو تخلیقی طور پر (اور جسمانیت میں) شکار کے مشابہ ہو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا بجو شکار ہے اور اس کو مارنے میں ایک بکری (کی قربانی) ہے۔ رواہ ابو داؤد بروایت عبداللہ۔ حاکم نے مستدرک میں اور امام احمد اور ابن حبان اور اصحاب سنن نے یہ حدیث حضرت جابر ؓ کی روایت سے نقل کی ہے۔ حاکم کی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے کہ بجو شکار ہے اگر احرام بند شخص نے اس کو مارا ہو تو اس کے شکار (کے کفارہ) میں ایک مینڈھا (یعنی اس کی قربانی) ہے حاکم نے اس روایت کو صحیح الاسناد کہا ہے۔ امام مالک نے مؤطا میں نیز امام شافعی نے صحیح سند سے بیان کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے بجو کے شکار میں ایک مینڈھا اور ہرن کے شکار میں بکری (بطور کفارہ قربانی کرنے) کا فیصلہ کیا تھا۔ امام شافعی (رح) اور بیہقی نے بیان کیا کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے جنگلی چوہے کے شکار کے عوض بکری کا نر یا مادہ بچہ قربانی کرنے کا فیصلہ کیا۔ بیہقی کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا حرم کا کبوتر شکار کرنے میں ایک بکری ہے اور دو انڈوں کو توڑنے میں ایک درہم اور شتر مرغ کے شکار میں ایک اونٹ ہے اور نیل گائے میں پالتو گائے (یابھینس) اور گورخر کے شکار میں ایک گائے (کی قربانی) ہے۔ ایک دلیل موال کہ اور شوافع کی یہ ہے کہ اللہ نے آگے من النعم فرمایا ہے۔ نعم سے مراد ہیں اونٹ یا گائے یا بکری۔ یہ مثل کی صفت ہے اور ظاہر ہے کہ قیمت چوپایہ نہیں ہوتی (اس لئے مثل سے مراد قیمت نہیں ہوسکتی) حنفیہ نے مالک (رح) و شافعی (رح) کے استدلال کا یہ جواب دیا ہے کہ مثلیت کے جو اندازے رسول اللہ ﷺ کے فرمان اور صحابہ ؓ کے آثار میں بیان کئے گئے ہیں ان میں ظاہر شکل کی مشابہت کو دخل نہیں صرف قیمت کا اعتبار کیا گیا ہے۔ رہا من النعم کے لفظ سے استدلال تو یہ بھی غلط ہے من النعممثل کی صفت نہیں ہے بلکہ قتلکا مفعول محذوف ہے ضمیر مفعول سے من النعم حال ہے یعنی مقتول شکار اگر چوپایوں میں سے ہو مطلب یہ کہ اگر مقتول چوپایہ ہو تو اس کی مثل دینا واجب ہے لفظ نعمکا اطلاق جیسے پالتو چوپایوں پر ہوتا ہے اسی طرح جنگلی چوپایوں پر بھی ہوتا ہے۔ کذا قال ابو عبیدہ ؓ ۔ صاحب قاموس نے بھی یہی لکھا ہے۔ حنفیہ کی اس تفسیر پر یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ کلام کا مقصود تو ہر شکار کی پاداش کا وجوب ہے خواہ شکار چوپایہ ہو یا پرندہ اگر ضمیر مفعول سے من النعم کو حال کہا جائے گا تو پھر پاداش کا وجوب چوپایہ کو شکار کرنے کے ساتھ مخصوص ہوگا اور یہ مقصود کے خلاف ہے۔ میرے نزدیک صحیح تفسیر یہی ہے کہ من النعم مثل کی صفت ہے اور مثل سے مراد وہ پالتو چوپایہ ہے جو قیمت میں شکار کی مثل ہو بعض اوصاف میں مماثلت مراد نہیں ہے۔ شکار کرنے والا محرم اگر جرم کے کفارہ میں قربانی دے تو پالتو چوپایوں میں سے جس کی قیمت شکار کے برابر ہو یا شکار سے زائد ہو اس کی قربانی کرے گورخر نیل گائے اور ہر وہ شکار جس کی قیمت بکری کی قیمت سے زائد ہو۔ گائے کی قربانی کرنا چاہئے خواہ شکار کی قیمت بکری سے تو زائد ہو مگر گائے کی قیمت سے کم ہو اور گائے میں کوئی شرط نہیں کہ بہت بڑھیا ہو یا گھٹیا ‘ مگر اتنی گھٹیا بھی نہ ہو کہ اس کی قیمت شکار کی قیمت سے بھی کم ہو اور اگر شکار کی قیمت گائے سے زائد ہو تو اونٹ کی قربانی کرنی چاہئے ‘ خواہ شکار کی قیمت گائے کی قیمت سے زائد ہونے کے باوجود اونٹ کی برابر نہ ہو اور اگر شکار اونٹ سے بھی زائد قیمتی ہو تو ایک اونٹ اور ایک بکری ‘ یا ایک گائے اور ایک بکری یا ایک اونٹ اور ایک گائے یا دو اونٹ یا دو گائے یا دو بکریاں۔ غرض شکار جتنا قیمتی ہو اس کی قیمت کا لحاظ کر کے قربانی کرے۔ شکار کی قیمت سے کم نہ ہونی چاہئے۔ اگر شکار کی قیمت اس بکری کی قیمت کے برابر ہو جس کی قربانی کرنا جائز ہے (یعنی ناک کان آنکھ ہاتھ پاؤں دم سب سالم ہر طرح سے بےعیب اور شریعت کی قائم کردہ معیار عمر کے مطابق) تو ایسی ہی بکری کی قربانی دے جس کی قربانی جائز ہے۔ اگر شکار کی قیمت پوری بکری کی قیمت سے کم ہو مثلاً بجو ‘ جنگلی ‘ چوہا ‘ ہرن ‘ گرگٹ ‘ گوہ ‘ لومڑی وغیرہ تو بکری کے بچے مختلف عمر کے (جیسے شکار کی قیمت ہو) قربانی میں پیش کرے لیکن بکری کے بچے ایسے ہوں کہ ان کی قیمت شکار کی قیمت سے کم نہ ہو۔ کبوتر اور کبوتر سے کم درجہ کے شکار کے عوض اگر قربانی دینا چاہے تو بکری کی قربانی دے مگر بکری ایسی ہو جس پر لفظ بکری کا اطلاق ہوسکتا ہو (یعنی نہ بےعیب کی شرط ہے نہ کسی عمر کی نہ تندرست کی) ہمارا یہ قول ہمارے نزدیک قابل فتویٰ ہے اور جمہور کے مسلک کے مطابق بھی ہے کیونکہ کفارہ کی قربانی میں جمہور کے نزدیک ایسا جانور ہونے کی شرط نہیں ہے کہ اس کی قربانی بھی جائز ہو۔ مگر امام صاحب کے نزدیک کفارہ کی قربانی ایسی ہونی چاہئے جس کی قربانی شرعاً درست ہو اس لئے جس شکار کی قیمت بکری سے کم ہو مثلاً بجو گرگٹ اس کے کفارہ کے لئے ایسی بکری ہونی ضروری ہے جس کی قربانی جائز ہو۔ امام مالک کا قول ہے کہ شکار کا چھوٹا ہو یا بڑا صحیح سالم ہو یا عیب دار بہرحال کفارہ کی قربانی اس جانور کی دینی صحیح ہوگی جس کی قربانی شرعاً درست ہے (یعنی مقرر کردہ معیار عمر کے مطابق تندرست بےعیب) ۔ امام اعظم (رح) اور امام مالک (رح) کے قول کی دلیل یہ ہے کہ (لفظ) ہدی (مطلق ہے اور مطلق کا رجوع کامل کی طرف ہوتا ہے اور ہدی کامل) وہی ہے جس کی قربانی درست ہو اسی لئے ہدی تمتع میں اور حج کے دوران ان تمام جرائم کے کفارہ میں جن میں قربانی ضروری ہے صرف وہی قربانی دینا جائز ہے جس کی قربانی شرعاً درست ہو۔ ہماری (یعنی جمہور کی) دلیل یہ ہے کہ صحابہ ؓ نے بکری کا چھوٹا بچہ واجب قرار دیا ہے (اور چھوٹے بچے کی قربانی شرعاً درست نہیں ہے) پھر آیت میں لفظ ہدی مطلق نہیں ہے کہ فرد کامل کی طرف رجوع کیا جائے جیسا کہ ہدی تمتع وغیرہ میں ہوتا ہے بلکہ ہدی سے وہ ہدی مراد ہے جو مقتول چوپایہ کی مثل ہو خواہ صورت میں مماثلت ہو جیسا کہ امام شافعی کا قول ہے یا قیمت میں برابری ہو جیسا کہ احناف کا قول ہے۔ لہٰذا قربانی کے قابل جانور ضروری قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں۔ ہم نے آیت کی جو تفسیر کی ہے اس سے صحابہ ؓ کے اقوال کا ٹکراؤ نہیں ہوتا صحابہ ؓ نے خرگوش کے معاوضہ میں بھیڑے کو قرار دیا تھا اور بھیڑے کی قیمت خرگوش کی قیمت کے برابر ہوتی ہے اور چونکہ اونٹ اور گائے میں سب سے کم درجہ کی قربانی بکری ہے اور بکری (یعنی اس کے بچہ) کی قیمت بھی کبوتر کی قیمت کے قریب ہے (یعنی گائے اور اونٹ کی قیمت کبوتر کی قیمت سے بہت زیادہ ہوتی ہے بکری کی قیمت اتنی زائد نہیں ہوتی) اس لئے کبوتر کے عوض بکری کی قربانی کو قرار دیا۔ رہا جسمانی مماثلت کا فقدان تو جسمانی مماثلت کی ضرورت پر کوئی دلیل نہیں۔ بیہقی نے عطاء خراسانی کی روایت سے جو حضرت عمر ؓ حضرت عثمان ؓ :‘ حضرت علی ؓ ‘ حضرت زید بن ثابت ؓ ‘ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت معاویہ ؓ کے اقوال بیان کئے ہیں کہ محرم اگر شتر مرغ کا شکار کرلے تو کفارہ میں اونٹ کی قربانی دی جائے اور امام مالک (رح) نے ابو عبیدہ ؓ بن عبداللہ بن مسعود کا قول بیان کیا ہے کہ میرے باپ کا تحریری قول یہی ہے امام مالک (رح) نے یہ بھی فرمایا میں برابر سنتا رہا ہوں کہ شتر مرغ کے عوض اونٹ کی قربانی ہے اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ شتر مرغ کے عوض اونٹ کی تعیین صرف جسمانی مشابہت یعنی لمبی گردن اور لمبی ٹانگیں ہونے کی وجہ سے کی گئی قیمت کو اس تعیین میں کوئی دخل نہیں ہے۔ یہ آثار ضعف اور انقطاع سے خالی نہیں ہیں (اس لئے ناقابل استدلال ہیں) امام شافعی (رح) نے کہا یہ روایات علماء حدیث کے نزدیک ثابت نہیں نہ قیاس اس کا شاہد ہے کہ ہم نعامہ کا عوض اونٹ کو قرار دیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعض قسم کے شتر مرغ بعض زمانوں میں اونٹ کی برابر قیمت رکھتے ہوں اسی لئے بعض صحابہ ؓ نے شتر مرغ کا عوض اونٹ کو قرار دیا اور صحابہ ؓ کے بعد آنے والے لوگوں نے خیال کرلیا کہ صحابی نے شتر مرغ کے عوض اونٹ کو صرف جسمانی مشابہت کی وجہ سے قرار دیا پھر تابعین کے اس خیال کی اتنی شہرت ہوئی کہ امام مالک (رح) نے فرمایا میں برابر سنتا رہا ہوں کہ شتر مرغ کے عوض اونٹ کی قربانی ہے۔ ایک شبہ بیہقی نے عکرمہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا میں نے بحالت احرام ایک خرگوش مار ڈالا آپ کا میرے متعلق کیا حکم ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا خرگوش چار ہاتھ پاؤں سے چلتا ہے اور بکری کا بچہ بھی چار ارکان سے چلتا ہے خرگوش جگالی کرتا ہے بکری کا بچہ بھی جگالی کرتا ہے خرگوش پتیاں کھاتا ہے بکری کا بچہ بھی سبزی کھاتا ہے لہٰذا خرگوش کے عوض تم بکری کے بچہ کی قربانی دو ۔ یہ اثر صاف بتارہا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے ظاہری مشابہت کا اعتبار کیا۔ ابن ابی شیبہ نے عطاء کا قول نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے ایک کبوتر اور دو کبوتر کے چوزوں کو حجرہ کے اندر بند کردیا بند کر کے عرفات اور منا کو چلا گیا واپس آیا تو دیکھا تینوں مرچکے ہیں وہ شخص حضرت ابن عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور واقعہ عرض کیا ‘ آپ نے اس پر تین بکریوں کی قربانی لازم قرار دی اور آپ کے ساتھ ایک اور شخص نے بھی یہی فیصلہ کیا (کیونکہ قرآنی آیت میں مثلیت کی جانچ کے لئے دو صالح مسلمانوں کی رائے کو ضروری قرار دیا ہے) ثوری (رح) ابن ابی شیبہ (رح) ‘ شافعی (رح) اور بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث بھی اسی جیسی نقل کی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کبوتر کے عوض بکری کی قربانی کا وجوب قیمت کی یکسائی کے لحاظ سے نہیں ہے ورنہ دو چوزوں اور ایک کبوتر کے عوض ایک بکری بھی کافی تھی بلکہ اس سے زائد کبوتروں کے لئے ایک بکری کافی ہوجاتی۔ ہم کہتے ہیں بعض آثار صحابہ ؓ بیشک دلالت کر رہے ہیں کہ صورت و جسمانیت کا لحاظ رکھا گیا ہے لیکن یہ بات صحابہ ؓ کی رائے پر مبنی ہے کسی روایت (یعنی حدیث) پر اس کی بناء نہیں اور جب قرآنی آیت کی مخالفت ہو رہی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ بعض صحابہ کی رائے مانی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (فَجَزَآءُ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ ) اور یہ یقینی امر ہے کہ نہ اونٹ شتر مرغ کی مثل ہے نہ بکری کبوتر کی مثل ‘ نہ جسمانی بناوٹ و صورت میں نہ حقیقت میں ‘ اگر بعض اوصاف میں مشابہت بھی ہے تو وہ ایسی مشابہت ہے جو ناقابل اعتبار ہے نہ عرف میں اس کا اعتبار ہے نہ لغت میں ورنہ تمام حیوانات باہم مثل ہوجائیں گے کسی نہ کسی صفت میں تو ہر ایک کو دوسرے سے مشابہت ہوتی ہی ہے۔ یحکم بہ ذواعدل منکم جس کا فیصلہ تم میں سے دو معتبر شخص کردیں یعنی پاداش کا فیصلہ یا مثل ہونے کا فیصلہ دو معتبر مسلمان کردیں۔ اکثر حنفیہ قائل ہیں کہ مثل ہونے کی جانچ کے لئے ایک شخص کا فیصلہ بھی کافی ہے۔ بکثرت صحابہ ؓ نے انفرادی فیصلے کئے ہیں یہ انفرادی فیصلے روایات میں آئے ہیں۔ اگر دو کا اجتماعی فیصلہ ہو تو زیادہ اچھا ہے تاکہ غلطی سے بخوبی احتیاط ہوجائے۔ امام شافعی اور جمہور علماء کے نزدیک فیصلہ کے لئے تعداد یعنی دو ہونا بھی ضروری ہے اور دونوں کا صالح ہونا بھی ‘ فتویٰ بھی اسی پر ہونا چاہئے۔ حکم آیت کا بھی یہی تقاضا ہے اور عمل صحابہ بھی اسی کا شاہد ہے۔ (1) [ میمون بن مہران کی روایت ہے کہ ایک بدو حضرت ابوبکر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں نے بحالت احرام ایک شکار مار دیا میں کیا پاداش ادا کروں۔ حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے دریافت کیا آپ کی کیا رائے ہے بدو بولا میں آپ کے پاس آیا ہوں آپ اللہ کے رسول ﷺ کے جانشین ہیں میں آپ سے پوچھتا ہوں اور آپ دوسروں سے پوچھتے ہیں حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا کیا تم کو اللہ کے اس فرمان کا انکار ہے اللہ نے فرمایا ہے (یَحْکُم بِہٖ ذَوَاعَدَلٍ مِّنْکُمْ ) اس حکم کی تعمیل میں اپنے ساتھی سے مشورہ لے رہا ہوں جب دونوں کی رائے متفق ہوجائے گی تو ہم ویسا ہی تجھے حکم دے دیں گے۔ ابوبکر مزنی کی روایت میں ہے کہ دو آدمی احرام بند تھے ایک نے ایک ہرن کو ہنکا دیا اور دوسرے نے قتل کردیا پھر دونوں حضرت عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عمر ؓ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے ان کی رائے دریافت کی حضرت عبدالرحمن نے کہا میری رائے میں بکری ہونی چاہئے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا میری بھی یہی رائے ہے پھر فرمایا دونوں بکری کی قربانی دو ۔ جب دونوں واپس لوٹے تو ایک نے دوسرے سے کہا امیر المؤمنین کو جواب معلوم نہ تھا تب ہی تو اپنے ساتھی سے دریافت کیا۔ حضرت عمر ؓ نے یہ بات سن لی فوراً واپس بلوایا اور کہنے والے کا استقبال درہ کی ضرب سے کرتے ہوئے فرمایا ‘ حالت احرام میں شکار بھی مارتے ہو اور شرعی فیصلے سے آنکھیں بھی بند رکھتے ہو اللہ نے فرمایا ہے (یحکم بہ ذواعدل منکم) اللہ نے فیصلہ کے لئے تنہا عمر ؓ کو پسند نہیں کیا اس لئے میں نے اپنے ساتھی سے مدد لی۔] (اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ کتابی یا آن لائن نسخے سے ملاحضہ فرمائیں۔ طوالت کے باعث اس سے زیادہ نقل نہیں کیا جا رہا)
Ayah 5:96

اُحِلَّ لَكُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِ١ۚ وَ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 5:96 in the Quran reader

تمہارے لیے دریا (کی چیزوں) کا شکار اور ان کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے (یعنی) تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لیے اور جنگل (کی چیزوں) کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں رہو تم پر حرام ہے اور خدا سے جس کے پاس تم (سب) جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہو

احل لکم صید البحر تمہارے لئے سمندر سے شکار کرنا حلال کردیا گیا ہے۔ وطعامہ اور اس کی غذا (حلال کردی گئی ہے) طعامہ کی ضمیر یا صید کی طرف راجع ہے یعنی شکار سے بنا ہوا کھانا یا البحر کی طرف راجع ہے یعنی سمندر سے حاصل کیا ہوا کھانا۔ (1) [ حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اس آیت کی تشریح میں فرمایا صید البحر وہ (خوردنی) اشیاء ہیں جو سمندر کے اندر موجود ہوں اور طعام سے مراد وہ (خوردنی) اشیاء ہیں جن کو سمندر نے اگل کر باہر پھینک دیا ہو۔ حارث بن نوفل ؓ راوی ہیں کہ دورانِ حج میں حضرت عثمان ؓ بن عفان کی خدمت میں اس شکار کا گوشت پیش کیا گیا جس کو غیر محرم نے شکار کیا تھا۔ آپ نے اس میں سے کھالیا مگر حضرت علی ؓ نے نہیں کھایا۔ حضرت عثمان ؓ نے فرمایا بخدا ہم نے یہ نہ خود شکار کیا نہ حکم دیا نہ اشارہ کیا حضرت علی ؓ نے فرمایا وَحُرَّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدُالْبَرَّ مَادُمْتُمْ حَرَمًا۔ حسن راوی ہیں کہ اگر محرم کیلئے شکار نہ کیا گیا بلکہ غیر محرم کے لئے کسی دوسرے غیر محرم کیلئے شکار کیا ہو تو ایسے شکار کے گوشت کو حضرت عمر بن خطاب ؓ محرم کے لئے بھی حلال جانتے تھے لیکن حضرت علی ؓ مکروہ قرار دیتے تھے۔ رواہ ابن ابی شیبہ۔] بعض علماء کا قول ہے کہ صید البحر سے مراد وہ آبی حیوان ہے جو پانی سے باہر زندہ نہیں رہتا اور طعام البحر سے مراد ہے سمندری کھانا۔ امام مالک نے ہر سمندری جانور کے کھانے کے جواز پر اسی سے استدلال کیا ہے۔ مسئلہ کی پوری تفصیل سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ حضرت عمر ؓ بن خطاب نے فرمایا صید البحروہ ہے جس کو (سمندر سے) شکار کیا جائے اور طعام البحروہ ہے جس کو سمندر خود باہر پھینک دیتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ :‘ حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابن عمر ؓ : کا قول ہے کہ طعام البحر وہ ہے جس کو پانی مردہ حالت میں کنارہ پر پھینک دیتا ہے۔ سعید بن جبیر بن سعیب مسیب ؓ ‘ عکرمہ قتادہ نخعی اور مجاہد نے کہا صید البحر وہ ہے جو تازہ پکڑا گیا ہو اور طعام البحر ہے وہ جس کو نمک لگا دیا گیا ہو۔ متاعا لکم وللسیارۃ (مذکورۂ بالا صید البحر کو حلال کیا گیا ہے) تمہارے لئے یعنی اہل اقامت کے اور مسافروں کے فائدے کے لئے اہل اقامت تازہ تازہ پکڑ کر کھاتے ہیں اور مسافر اس کے ٹکڑے کر کے توشۂ سفر کے طور پر لے جاتے ہیں۔ وحرم علیکم صید البر ما دمتم حرما اور جب تک تم احرام بند ہو خشکی کا شکار کرنا تم پر حرام کردیا گیا ہے۔ بعض علماء کے نزدیک آیت کا مطلب اس طرح ہے کہ خشکی کا شکار (کھانا) محرم کے لئے مطلقاً حرام کردیا گیا ہے خواہ غیر محرم نے اس کو شکار کیا ہو اور محرم نے حکم نہ دیا ہو ‘ نہ مدد کی ہو نہ اشارہ کیا ہو بلکہ محرم کے لئے شکار بھی نہ کیا گیا ہو۔ بہرحال محرم کے لئے حرام ہے۔ یہ قول حضرت ابن عباس ؓ کا ہے۔ طاؤس (رح) اور سفیان ثوری (رح) : کا یہی قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ابواء یا ودّان میں فروکش تھے صعب بن جثامہ لیثی نے حضور ﷺ کے لئے گورخر کا گوشت بطور ہدیہ بھیجا ‘ آپ نے واپس کردیا اور صعب کے چہرہ پر کچھ رنج کے آثار دیکھ کر فرمایا ہم نے کسی اور بات کی وجہ سے واپس نہیں کیا ہے ‘ بات صرف یہ ہے کہ ہم احرام بند ہیں (متفق علیہ) نسائی کی روایت میں (اتنا زائد) آیا ہے کہ ہم شکار نہیں کھائیں گے سعید نے ابن عباس ؓ : کا قول اتنا مزید بیان کیا ہے کہ ہم اگر احرام بند نہ ہوتے تو قبول کرلیتے۔ اس کے جواب میں امام بخاری کی وہ صراحت نقل کی ہے جس میں آیا ہے کہ گورخر زندہ تھا اور زندہ شکار کو ذبح کرنا محرم کے لئے جائز نہیں۔ اہل روایت نے امام مالک (رح) سے بھی یہی تاویل نقل کی ہے مگر یہ توجیہ درست نہیں ہے کیونکہ اسحاق نے مسند میں اپنی سند سے بروایت موسیٰ از محمد بن عمرو بن علقمہ از زہری بیان کیا ہے کہ گورخر کا گوشت پیش کیا تھا (اور گوشت زندہ کا نہیں ہوسکتا) طبرانی نے زہری کی روایت سے لکھا ہے کہ گورخر کی ٹانگ پیش کی تھی۔ مسلم (رح) کی روایت میں ہے کہ گورخر کا سرین تھا جس سے خون ٹپک رہا تھا۔ مسلم کی دوسری روایت میں سرین کی جگہ ٹانگ کا لفظ آیا ہے۔ مسلم کی تیسری روایت میں سعید کی روایت دو طرح سے آئی ہے کہ ایک میں گورخر کا لفظ آیا ہے اور دوسری میں گورخر کا پہلو۔ بہرحال تمام روایات میں اس امر پر اتفاق ہے کہ وہ شکار رسول اللہ ﷺ نے قبول نہیں فرمایا۔ ہاں وہب اور بیہقی نے عمرو بن امیہ کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ : حجفہ میں فروکش ہوئے کہ ایک گورخر کا سرین پیش کیا گیا آپ نے اس میں سے خود بھی کھایا اور لوگوں نے بھی کھایا اس روایت کی سند حسن ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ دونوں قصوں کا تعلق جدا جدا دو واقعوں سے تھا صحیحین میں جو واقعہ منقول ہے وہ ابواء یا ودان کا ہے اور وہب کے بیان کئے ہوئے قصہ کا تعلق حجفہ سے ہے حجفہ اور ابواء کا فاصلہ 13 میل ہے اور حجفہ سے ودان آٹھ میل پر ہے۔ اسی موضوع کی ایک حدیث حضرت علی ؓ کی روایت سے بھی آئی ہے حضرت علی ؓ نے فرمایا تھا کہ کیا تم واقف ہو کہ رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں کسی شکار کا ایک عضو بطور ہدیہ پیش کیا گیا آپ ﷺ نے قبول نہیں کیا اور فرمایا میں احرام بند ہوں۔ حضرت علی ؓ نے یہ خطاب قبیلۂ اشجع کے ایک شخص سے کیا تھا اور اس کو قسم دی تھی۔ اس شخص نے جواب میں کہا جی ہاں۔ رواہ ابو داؤد والطحاوی۔ مسلم (رح) نے بھی اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔ لیکن قرن اوّل کے بعد مسلمانوں کا اس امر پر اجماع ہوگیا تھا کہ اگر غیر محرم اپنے لئے شکار کرے تو محرم کے لئے اس کا کھانا حلال ہے۔ صحیح احادیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود بھی ایسے شکار کا گوشت کھایا اور صحابہ ؓ : کو بھی کھانے کی اجازت دی۔ حضرت ابو قتادہ ؓ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس (شکار) کا جو گوشت بچ گیا ہو وہ تم (لوگ) کھالو۔ بعض صحیح روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود بھی اس کو کھایا۔ صعب بن جثامہ کی بعض روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود بھی اس میں سے کھایا۔ مسلم نے نقل کیا کہ معاذ ؓ بن عبدالرحمن بن عثمان تیمی کے باپ (عبدالرحمن) نے بیان کیا کہ ہم احرام کی حالت میں حضرت طلحہ ؓ بن عبداللہ کے ساتھ تھے۔ حضرت طلحہ ؓ : کو ایک پرندہ (یعنی شکار کیا ہوا) ہدیہ میں پیش کیا گیا آپ اس وقت سو رہے تھے۔ ہم میں سے بعض آدمیوں نے تو اس کو کھالیا اور بعض نے کھانے سے پرہیز رکھا ‘ طلحہ بیدار ہوئے تو آپ نے کھانے والوں کی موافقت کی اور فرمایا ہم نے رسول اللہ ﷺ : کی ہم رکابی میں شکار کھایا تھا۔ عمرو بن سلمہ ضمیری نے بہزی کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ : مکہ جانے کے ارادہ سے احرام بند برآمد ہوئے۔ روحا کے مقام میں پہنچے تو ایک زخمی گورخر پر نظر پڑی (جو ذبح کیا ہوا تھا) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو رہنے دو ممکن ہے اس کو شکار کرنے والا آجائے کچھ دیر کے بعد بہزی آگئے۔ بہزی نے اس کا شکار کیا تھا۔ بہزی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ : آپ کو اختیار ہے جیسا چاہیں اس میں تصرف کریں حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ : کو حکم دیا (کہ اس کو تقسیم کر دو ) حسب الحکم حضرت ابوبکر ؓ نے قافلہ والوں کو اس کا گوشت بانٹ دیا۔ رواہ مالک و اصحاب السنن۔ ابن خزیمہ نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔ تقریر سابق سے ظاہر ہوگیا کہ آیت میں صید سے مراد ہے شکار کرنا۔ مسئلہ اگر غیر محرم ‘ محرم کے لئے شکار کرے تو کیا حکم ہے ؟ امام اعظم (رح) کے نزدیک غیر محرم کا شکار کیا ہوا سب کے لئے جائز ہے یہاں تک کہ وہ محرم بھی اس میں کھا سکتا ہے جس کے لئے شکار کیا گیا ہو۔ امام مالک (رح) کے نزدیک اگر محرم کے لئے غیر محرم نے شکار کیا تو کسی کے لئے حلال نہیں یہاں تک کہ غیر محرم بھی اس کو نہیں کھا سکتا۔ امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) : کا قول ہے کہ اگر غیر محرم نے محرم کے لئے شکار کیا خواہ احرام باندھنے کے بعد کیا یا احرام باندھنے سے پہلے۔ بہرحال محرم کے لئے اس کو کھانا درست نہیں۔ البتہ غیر محرم اس کو کھا سکتا ہے اور وہ محرم بھی کھا سکتا ہے جس کی نیت سے شکار نہ کیا گیا ہو۔ حضرت عثمان کا قول بھی یہی بیان کیا گیا ہے۔ امام مالک (رح) نے مؤطا میں حضرت عبداللہ بن ابی بکر ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن عامر نے فرمایا میں نے مقام العرج میں حضرت عثمان ؓ بن عفان کو دیکھا گرمی کا زمانہ تھا آپ احرام بند تھے اور چہرہ کو چادر سے ڈھانکے ہوئے تھے کچھ دیر کے بعد شکار کا گوشت پیش کیا گیا آپ نے ساتھیوں سے فرمایا تم لوگ کھاؤ ‘ عرض کیا گیا کیا آپ نہیں کھائیں گے۔ فرمایا میری حالت تمہاری طرح نہیں ہے میرے لئے شکار کیا گیا ہے (اس لئے میرے لئے حلال نہیں) ۔ (مذکورۂ بالا) بعض روایات میں آیا ہے کہ غیر محرم کا شکار کیا ہوا رسول اللہ ﷺ نے کھایا اور بعض روایات میں آیا ہے کہ نہیں کھایا بلکہ لوٹا دیا۔ تینوں اماموں نے ان دونوں روایتوں کو تطبیق دینے کے لئے یہ توجیہ کی کہ حضور ﷺ نے وہ گوشت تو کھالیا جو غیر محرم نے اپنے لئے شکار کیا تھا اور اس شکار کا گوشت نہیں کھایا جو حضور ﷺ کے لئے یا کسی دوسرے محرم کے لئے شکار کیا گیا تھا۔ ہم کہتے ہیں کسی حدیث میں اس تفصیل کا کہیں پتہ نہیں (لہٰذا یہ تفصیل خود ساختہ ہے) ہمارے نزدیک دونوں روایتوں میں تطبیق دینے کی بہترین توجیہ یہ ہوسکتی ہے کہ اگر غیر محرم نے شکار کیا ہو تو اس کا کھانا (محرم اور غیرمحرم) سب کے لئے جائز ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ محرم اس کو نہ کھائے چناچہ رسول اللہ ﷺ نے کھا کر جواز کا اظہار فرما دیا اور نہ کھا کر تنبیہ فرما دی کہ نہ کھانا مستحب ہے۔ ایک سوال اگر احادیث میں باہم تعارض ہو اور ایک حدیث کو (روایتاً ) دوسری پر ترجیح نہ ہو تو قیاس کا تقاضا ہے کہ تحریم پر احتیاطاً عمل کیا جائے۔ جوابہم کہتے ہیں بیشک یہ ضابطہ ہے لیکن ہم نے اس جگہ اس قول کو اختیار نہیں کیا تاکہ اجماع کی مخالفت لازم نہ آئے کیونکہ بعض قسم کے شکار محرم کے لئے باجماع علماء حلال ہیں۔ محرم کے لئے اگر شکار کیا جائے تو تینوں اماموں کے نزدیک وہ حرام ہے۔ حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خشکی کا شکار تمہارے لئے حلال ہے جب کہ تم احرام بند ہو بشرطیکہ تم نے خود شکار نہ کیا ہو اور نہ تمہارے لئے شکار کیا گیا ہو ‘ اخرجہ الترمذی والنسائی و ابن خزیمہ و احمد۔ امام مالک (رح) نے فرمایا کہ جو شکار محرم نے خود کیا ہو یا کسی غیر محرم نے اس کیلئے کیا ہو ‘ دونوں کو رسول اللہ ﷺ نے برابر قرار دیا اس سے معلوم ہوا کہ محرم کے لئے جو شکار کیا گیا ہو اس کا حکم بھی اسی شکار کی طرح ہے جو محرم نے خود کیا ہو (اور محرم کا خود کیا ہوا شکار تو سب کے لئے حرام ہے لہٰذا) جو شکار محرم کے لئے اس کے احرام بند ہونے کی حالت میں دوسروں نے کیا ہو وہ بھی مردار کی طرح سب لوگوں کے لئے حرام ہے۔ امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) نے فرمایا احاد کی احاد پر ترجیح چاہتی ہے کہ محرم کے لئے خود اسی کا کیا ہوا شکار یا اس کے لئے غیر محرم کا کیا ہوا شکار حرام ہو۔ لیکن اگر کسی غیر محرم نے یا کسی دوسرے محرم نے شکار کیا ہو یا غیر محرم کے لئے شکار کیا گیا ہو یا کسی دوسرے محرم کے لئے شکار کیا گیا ہو تو ان تمام مسائل کا حکم حدیث کے اندر مذکور نہیں ہے باہر سے معلوم ہوتا ہے۔ ہم کہتے ہیں یہ حدیث اس قابل ہی نہیں ہے کہ اس کو دلیل میں پیش کیا جاسکے کیونکہ اس کی روایت کا مدار عمرو بن ابی عمرو پر ہے۔ امام احمد کی روایت میں عمرو از مرد انصار از جابر ؓ : کا سلسلہ ہے اور ترمذی وغیرہ کی روایت میں عمرو از مطلب از جابر آیا ہے گویا امام احمد کی روایت میں عمرو کا راوی ایک نامعلوم انصاری ہے اور ترمذی کی روایت میں عمرو کا راوی مطلب ہے اور ترمذی نے خود صراحت کی ہے کہ حضرت جابر ؓ سے مطلب کا سماع ثابت نہیں۔ پھر عمرو بن ابی عمرو جو مطلب کا آزاد کردہ غلام تھا (ثقہ نہیں ہے) یحییٰ بن معین نے کہا ہے کہ اس کی حدیث ناقابل دلیل ہے نیز یحییٰ اور ابو داؤد دونوں نے اس کے متعلق صراحت کی ہے کہ یہ قوی نہیں ہے البتہ امام احمد نے فرمایا ہے کہ اس میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ پھر استدلال مذکور استدلال بالمفہوم ہے اور استدلال بالمفہوم ہمارے نزدیک جائز نہیں ہے۔ حضرت ابو قتادہ ؓ کی حدیث کو بھی اس امر کے ثبوت میں پیش کیا جاتا ہے کہ اگر غیر محرم ‘ محرم کے لئے شکار کرے تو جس کے لئے شکار کیا گیا ہو اس کے لئے کھانا جائز نہیں ہے۔ ابو قتادہ ؓ : کا بیان ہے کہ حدیبیہ کے زمانہ میں میں رسول اللہ ﷺ کے ہم رکاب نکلا میرے ساتھی احرام بند تھے مگر میں نے احرام نہیں باندھا تھا مجھے ایک گورخر نظر آیا اور حملہ کر کے میں نے اس کا شکار کرلیا اور رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں اس کا تذکرہ کردیا اور یہ بھی عرض کردیا کہ میں نے احرام نہیں باندھا تھا غیر محرم ہونے کی حالت میں حضور ﷺ کے لئے میں نے یہ شکار کیا ہے حضور ﷺ نے صحابہ ؓ : کو کھانے کا حکم دے دیا (یعنی غیر محرم صحابہ ؓ : کو کھانے کی اجازت دے دی) حسب اجازت صحابہ ؓ نے کھایا مگر حضور ﷺ نے نہیں کھایا کیونکہ میں نے حضور ﷺ : کو اطلاع دے دی کہ آپ ﷺ کے لئے میں نے یہ شکار کیا ہے۔ اخرجہ اسحاق و ابن خزیمہ والدارقطنی۔ اس استدلال کا جواب یہ ہے کہ ابن خزیمہ اور ابوبکر نیشاپوری اور دارقطنی سب نے بالاتفاق صراحت کی ہے کہ صرف معمر نے اس روایت میں یہ الفاظ زیادہ بیان کئے ہیں کہ آپ کے لئے میں نے یہ شکار کیا ہے اور حضور ﷺ نے خود اس میں سے نہیں کھایا۔ معمر کے علاوہ یہ الفاظ کسی نے نقل نہیں کئے شاید یہ معمر کے واہمہ کی ایجاد ہے۔ ذہبی نے لکھا ہے کہ معمر بن راشد کے (نقل احادیث میں) کچھ اوہام (خود ساختہ ذہول) ہیں۔ میں کہتا ہوں تمام صحیح روایات میں باتفاق آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی اس شکار کا گوشت کھایا تھا۔ پھر معمر والی روایت تو امام مالک (رح) کے مسلک کے خلاف جا رہی ہے اس میں صراحت ہے کہ حضور ﷺ نے صحابہ ؓ : کو کھانے کا حکم دیا اور انہوں نے کھایا اس سے معلوم ہوا کہ اگر محرم کے لئے شکار کیا گیا ہو تو دوسرے سب لوگوں کے لئے وہ شکار حلال ہے حالانکہ امام مالک (رح) سب لوگوں کے لئے اس کو حرام کہتے ہیں۔ واتقوا اللہ الذین الیہ تحشرون اور اس اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس کے پاس تم جمع کئے جاؤ گے۔
Ayah 5:97

جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ١ؕ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 5:97 in the Quran reader

خدا نے عزت کے گھر (یعنی) کعبے کو لوگوں کے لیے موجب امن مقرر فرمایا ہے اور عزت کے مہینوں کو اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں یہ اس لیے کہ تم جان لو کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے خدا سب کو جانتا ہے اور یہ کہ خدا کو ہر چیز کا علم ہے

جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیما للناس اور اللہ نے کعبہ کو جو ادب کا مکان ہے لوگوں کے قائم رہنے کا سبب قرار دیا ہے۔ کعبہ مربع ہے اس لئے اس کو کعبہ کہا جاتا ہے ہر مربع گھر کو عرب کعبہ کہتے ہیں۔ مقاتل نے کہا کعبہ دوسرے مکانوں سے منفرد ہے اس لئے اس کو کعبہ کہا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک اونچا ہونے کی وجہ سے کعبہ کو کعبہ کہا جاتا ہے۔ کعبہ کا لغوی معنی ہے ابھرنا اور بلند ہونا پاؤں کے ٹخنے کو اسی لئے کعب کہا جاتا ہے جو لڑکی بالغ ہونے کے قریب ہو اور اس کے پستان اٹھ آئے ہوں اس کے لئے عرب کہتے ہیں تکعبت۔ البیت الحرام یعنی اللہ نے اس کو حرم بنایا اور اس کی حرمت کی عظمت ظاہر فرمائی۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا آسمان و زمین کی پیدائش کے دن ہی اللہ نے کعبہ کو حرم بنا دیا تھا۔ قیاماً یعنی لوگوں کے دین اور دنیا کی درستگی کا ذریعہ دین کی درستی کا ذریعہ ہونا تو ظاہر ہے کہ اس کا حج کیا جاتا ہے اور دوسرے شعائر کی ادائیگی اس کے ذریعہ سے ہوتی ہے اور دنیوی درستی کا ذریعہ ہونا اس لئے ہے کہ حرم کے اندر لوٹ کھسوٹ قتل و غارت کی ممانعت کردی گئی ہے اور یہاں پہنچ کر لوگوں کا مال ‘ جان محفوظ ہوجاتا تھا۔ والشہر الحرام اور حرمت والے مہینوں کو اللہ نے لوگوں کے دین دنیا کی درستگی کا ذریعہ بنایا۔ الشہر سے مراد ہے جنس شہر (یعنی واحد مراد نہیں ہے) حرمت والے چار ماہ ہیں رجب ‘ ذی قعدہ ‘ ذی الحجہ ‘ محرم۔ اللہ نے ان چاروں مہینوں کو لوگوں کے لئے پُر امن رہنے کے مہینے بنا دیا ان مہینوں میں (عرب) لڑنے مرنے کٹنے لٹنے سے محفوظ رہتے تھے۔ والہدی والقلآئد اور نیاز کے جانوروں کو اور قلائدکو اللہ نے باعث امن بنایا۔ ہدی و قلائد کی تفسیر اسی سورت کے شروع میں گزر چکی۔ ذلک یہ یعنی باعث درستی بنانا۔ یا احرام وغیرہ کی حرمت کا حکم دینا۔ زجاج نے کہا ذٰلِکَ سے اشارہ ان غیبی اطلاعات اور پیشین گوئیوں کی جانب ہے جن کا کچھ بیان اسی سورت میں کردیا گیا ہے مثلاً فرمایا ہے : سماعون للکذب۔ سماعون لقوم اخرینیا جیسے ان کی تحریف کتب کی اطلاع دی گئی ہے۔ لتعلموا ان اللہ یعلم ما فی السموات وما فی الارض اس لئے ہے تاکہ تم کو معلوم ہوجائے کہ اللہ ان تمام چیزوں سے واقف ہے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں۔ ضرر واقع ہونے سے پہلے ایسے احکام جاری کرنا کہ آنے والا ضرر دفع ہوجائے اور منافع حاصل ہوجائے۔ بتاتا ہے کہ شارع کا علم کامل اور اس کا حکم پُر حکمت ہے ‘ اسی طرح غیب کی خبریں دینے سے خبر دینے والے کے علم کی ہمہ گیری معلوم ہوتی ہے۔ وان اللہ بکل شی علیم اور یہ بھی معلوم ہوجائے کہ اللہ ہر شے سے بخوبی واقف ہے۔ یہ خاص کے بعد عام کا ذکر اور اطلاق کے بعد مبالغہ ہے۔
Ayah 5:98

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ Open ayah 5:98 in the Quran reader

جان رکھو کہ خدا سخت غداب دینے والا ہے اور یہ کہ خدا بخشنے والا مہربان بھی ہے

اعلموا ان اللہ شدیا العقاب وان اللہ غفور رحیم جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے اور یہ بھی جان لو کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا مہربان (بھی) ہے۔ اس آیت میں (ثواب کا) وعدہ اور (عذاب کی) دھمکی ہے جو اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرے اور خلاف ورزی پر جما رہے اس کے لئے عذاب کی دھمکی ہے اور جو احکام کی پابندی کرے اور خلاف ورزی سے باز رہے اس کے لئے ثواب کا وعدہ ہے۔ ابوالشیخ نے بروایت حسن بیان کیا کہ وفات کے قریب حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا اللہ نے نرمی کی آیت سختی کی آیت کے ساتھ اور سختی کی آیت نرمی کی آیت کے ساتھ ذکر فرمائی تاکہ مومؤ کے دل میں رغبت بھی پیدا ہو اور خوف بھی۔ اللہ سے تمناء باطل نہ کرنے لگے اور خود اپنے کو تباہی میں نہ ڈالے۔
Ayah 5:99

مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:99 in the Quran reader

پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام خدا کا پہنچا دینا ہے اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ مخفی کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے

ما علی الرسول الا البلاغ پیغمبر ﷺ : کی ذمہ داری صرف (اللہ کا پیام) پہنچانے کی ہے اور وہ اپنا فرض تبلیغ ادا کرچکے اور تمہارے خلاف حجت تمام ہوگئی اب تعمیل میں کوتاہی کرنے کا تمہارے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ رسول اللہ ﷺ : کو جو حکم دیا گیا ہے اس پر پابند ہونے کی اس آیت میں پُر زور تاکید ہے۔ واللہ یعلم ما تبدون وما تکتمون تم لوگ جو کچھ ظاہر کرتے اور چھپاتے ہو اللہ سب سے بخوبی واقف ہے خواہ تصدیق ہو یا تکذیب عمل ہو یا ارادہ۔ اصبہانی نے ترغیب میں نیز واحدی نے حضرت جابر ؓ کی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شراب کی حرمت کا ذکر کیا۔ یہ سن کر ایک اعرابی نے عرض کیا ‘ میری تو یہی تجارت تھی ‘ اسی سے میں نے مال کمایا ہے اگر اسی مال میں سے میں کچھ اللہ کی اطاعت میں صرف کروں تو کیا مجھے (آخرت میں) کچھ فائدہ ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ صرف پاک (کمائی) قبول فرماتا ہے اس پر رسول اللہ ﷺ کے قول کی تائید میں آیت ذیل نازل ہوئی۔ (1) [ ابن ابی حاتم نے یعقوب اسکندرانی کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت عمر ؓ بن عبدالعزیز کو کسی گورنر نے تحریر بھیجی کہ لگان کی آمدنی ٹوٹ گئی حضرت عمر ؓ بن عبدالعزیز نے جواب میں لکھا۔ اللہ فرماتا ہے ناپاک اور پاک برابر نہیں خواہ ناپاک کی کثرت تمہارے دل کو لبھا رہی ہو۔ اگر انصاف ‘ بھلائی اور اصلاح میں تم اس درجہ پر پہنچ سکو جس پر تمہارا سابق ظلم ‘ گناہ اور اللہ کی نافرمانی میں پہنچ گیا تھا تو ایسا کرو۔ وَلاَ قُوَّۃَ الاَّ باللّٰہِ ۔]
Ayah 5:100

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 5:100 in the Quran reader

کہہ دو کہ ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں گو ناپاک چیزوں کی کثرت تمہیں خوش ہی لگے تو عقل والو خدا سے ڈرتے رہو تاکہ رستگاری حاصل کرو

قل لا یستوی الخبیث والطیب ناپاک اور پاک برابر نہیں۔ الفاظ کا عموم دلالت کر رہا ہے کہ اللہ کے نزدیک برا اچھا برابر نہیں خواہ برے اور کھرے آدمی ہوں یا اعمال۔ اس فقرہ میں اچھے عمل اور حلال مال کی ترغیب دی گئی ہے۔ ولو اعجبک کثرۃ الخبیث اگرچہ ناپاک کی کثرت تمہارے دل کو لبھائے۔ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی بےدلی کے زیادہ عمل سے بہتر ہوتا ہے اور تھوڑا حلال مال راہ خدا میں خرچ کرنا ‘ زیادہ حرام مال خرچ کرنے سے افضل ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے چھوارے کا ایک ٹکڑا (پاک کمائی کا) خیرات کیا اور اللہ پاک (مال) کو ہی قبول کرتا ہے تو اللہ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کو لیتا ہے اور اس کو بڑھاتا چلا جاتا ہے جیسے تم لوگ اپنے بکری کے بچہ (پر ہاتھ پھیر کر اس) کو بڑھاتے ہو ‘ یہاں تک کہ وہ چھوارے کا ٹکڑا پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔ متفق علیہ اور مخلص نیکوکار (خواہ تھوڑے ہوں) زمین بھر بدکاروں سے اللہ کے نزدیک بہتر ہیں۔ حضرت سہل بن سعد راوی ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ : کی طرف سے گزرا۔ حضور ﷺ کے پاس اس وقت ایک آدمی اور بیٹھا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا اس (گزرنے والے) آدمی کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے اس شخص نے جواب دیا یا رسول اللہ ﷺ یہ شخص شریف لوگوں میں سے ہے اس قابل ہے کہ اگر کہیں اپنے نکاح کا پیام بھیجے تو اس کا پیام قبول کرلیا جائے اور اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش مانی جائے۔ رسول اللہ ﷺ یہ کلام سن کر خاموش رہے اتنے میں ایک اور آدمی ادھر سے گزرا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے۔ صحابی ؓ نے عرض کیا حضور ! یہ تو ایک غریب مسلمان ہے بس اس قابل ہے کہ اگر کہیں نکاح کی درخواست بھیجے تو قبول نہ کی جائے اور سفارش کرے تو اس کی سفارش مانی نہ جائے اور اگر کچھ کہے تو اس کی بات سنی نہ جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ شخص اس جیسے زمین بھر لوگوں سے بہتر ہے۔ متفق علیہ۔ فاتقوا اللہ پس اللہ سے تقویٰ رکھو۔ تاکہ اللہ کے نزدیک تمہارا شمار پاک لوگوں میں ہوجائے اور پاک عمل و مال کو خواہ کتنا ہی تھوڑا ہو ناپاک کے مقابلہ میں (خواہ کتنا ہی زائد ہو) اختیار کرو۔ بغوی نے لکھا ہے فاتقوا اللّٰہ کا مطلب (اس جگہ) یہ ہے کہ حاجیوں (کے جان مال) سے کچھ تعرض نہ کرو خواہ وہ حاجی مشرک ہی ہوں (فتح مکہ سے پہلے مشرک بھی کعبہ کا حج کرنے آتے تھے) شریح کا قصہ شروع سورت میں گزر چکا ہے۔ یا اولی الالباب اے دانشمندو ! یعنی اے صحیح عقل والو۔ لعلکم تفلحون اس امید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ یعنی تقویٰ کی وجہ سے کامیاب ہونے کی امید کرتے ہوئے (اللہ کا تو کوئی فعل امید کے زیر اثر نہیں ہوسکتا کیونکہ امید غیر یقینی حالت میں ہوتی ہے اور اللہ کا کوئی عمل قطعی اور یقینی نتیجہ سے خالی نہیں ہوتا۔ اس لئے قرآن مجید میں جہاں لفظ لعلّآیا ہے اس سے پیدا ہونے والی امید کا رجوع اللہ کی طرف نہیں ہوتا بلکہ بندہ کی طرف ہوتا ہے اسی لئے مفسر رحمۃ اللہ نے آیت کا ترجمہ اس طرح کیا کہ اللہ سے تقویٰ رکھو یہ امید رکھتے ہوئے کہ تم کامیاب ہوجاؤ گے) احمد اور ترمذی اور حاکم نے حضرت علی ؓ کی روایت سے اور ابن جریر نے حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابو امامہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ جب آیت وللّٰہ علی الناس حج البیتنازل ہوئی تو صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ : کیا ہر سال (حج فرض ہے) حضور ﷺ خاموش رہے صحابہ ؓ نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ : کیا ہر سال فرمایا نہیں۔ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (ہر سال) واجب ہوجاتا دوسری روایت میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تم کو اندیشہ نہ ہوا کہ (شاید) میں ہاں کہہ دوں اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (ہر سال) حج واجب ہوجاتا اور ہر سال واجب ہوجاتا تو پھر تم سے اس کی ادائیگی ہو نہ سکتی اگر میں تم کو چھوڑے رکھوں تو تم بھی مجھے (بغیر سوال کئے) چھوڑے رکھو تم سے پہلے کے لوگ زیادہ پوچھ پاچھ اور انبیاء سے زیادہ سوالات کرنے سے ہی برباد ہوئے اگر میں تم کو کسی بات کا حکم دوں تو تم سے جہاں تک ہو سکے اس کی تعمیل کرو اور جب کسی بات کی ممانعت کر دوں تو اس سے باز رہو ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔