Ayah 5:101یا ایہا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء اے ایمان والو ! ایسی فضول باتیں مت پوچھو۔ یعنی ایسی باتیں مت پوچھا کرو جن کا کرنا تم پر دشوار ہو جیسے ہر سال حج کرنے کا سوال حج کے متعلق سوال کرنے والے حضرت عکاشہ بن محصن تھے ابن جریر نے حضرت ابوہریرہ ؓ کے حوالہ سے یہی لکھا ہے۔
خلیل ‘ سیبویہ اور جمہور اہل بصرہ کے نزدیک لفظ اشیاء اسم جمع ہے یعنی لفظاً مفرد اور معنی جمع ہے اس لفظ کی اصل شیئاءٌ تھی بروزن فَعْلَاءٌ جیسے حمراء دونوں ہمزوں کے درمیان الف تھا اور چونکہ دوسری ہمزہ تانیث کی ہے اس لئے یہ لفظ غیر منصرف ہے۔ دو ہمزوں کا اجتماع چونکہ ثقیل تھا اس لئے اوّل ہمزہ کو (جو لام کلمہ کی جگہ پر تھی) اس کی جگہ سے ہٹا کر شروع میں لے آئے اب اس کا وزن لفعاۂ ہوگیا بعض اشیاء کی اصل اَشْیِءَآءٌبروزن اَفْعِلَاءٌ تھی یہ شی کی جمع ہے شَئٌ اصل میں شَیِّءٌتھی یا شَِّیءٌ بروزن صدیقٌتھی۔ بعض لوگوں نے کہا جس طرح ابیات بیت کی جمع ہے اسی طرح اشیاء بروزن افعال شیءٌکی جمع ہے اور شیءٌ بغیر کسی تعلیل کے اپنی اصل پر ہے۔ چونکہ غیر منصرف ہونے کے دو سبب اس میں موجود نہیں ہیں اسلئے اس لفظ کا عدم انصراف شاذ ہے۔
ان تبدلکم تسوکم کہ اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تم کو ناگوار گزریں یعنی اگر تم کو ان باتوں کے کرنے کا حکم دے دیا جائے تو تم پر دشواری آپڑے۔
وان تسئلو عنہا حین ینزل القرآن تبدلکم اور قرآن اترنے کے زمانہ میں تم ایسی باتیں دریافت کرو تو تم سے ظاہر کردی جائیں یعنی رسول کی زندگی میں اگر تم ایسی باتیں پوچھو تو احتمال ہے کہ ظاہر کردی جائیں اور تم کو ان سخت احکام کی تعمیل پر مامور کردیا جائے دونوں شرطیہ جملے یعنی ان تبدلکم اور ان تَسْءَلُوْا اشیاء کی صفت ہیں۔ مطلب یہ کہ ایسی باتیں نہ پوچھو کہ تمہارے پوچھنے کے بعد یہ دو نتیجے برآمد ہونے کا احتمال ہو۔
مسئلہ امر کا صیغہ بغیر قید کے احناف کے نزدیک نہ تکرار عمل کا موجب ہے نہ تکرار کا احتمال رکھتا ہے (یعنی بغیر قید کے امر کا صیغہ ہو تو صرف ایک مرتبہ تعمیل حکم کو چاہتا ہے دوبارہ تعمیل کا مقتضی نہیں اگر ایک مرتبہ امر کے مطابق عمل کرلیا جائے تو وجوب ساقط ہوجاتا ہے بلکہ دوبارہ وجوب عمل کا احتمال بھی نہیں ہوتا) پس رسول اللہ ﷺ : کا ارشاد لوقلت نعم لوجبت اور آیت اِنْ تُبْدَلْکُمْ تسوْکمکا مطلب یہ ہے کہ حج کا وجوب (جو عمر بھر میں ایک بار تھا اور دوسرے احکام کا وجوب جن کی ادائیگی عمر بھر میں ایک دفعہ کافی تھی) رسول اللہ ﷺ کے نعم فرمانے اور تمہارے سوال کی وجہ سے احکام کے بوضاحت بیان کے بعد منسوخ ہوجاتا گویا امر مطلق منسوخ ہوجاتا اور رسول اللہ کا فرمان مذکور اور آیت مندرجہ امر مطلق کی ناسخ ہوجاتی آیت مذکورہ کو امر مطلق کا بیان نہیں قرار دیا جاسکتا کیونکہ اگر اس کو بیان کہا جائے گا تو ظاہر ہے کہ قبل از سوال بیان نہ ہوگا بلکہ سوال کے بعد ہوگا حالانکہ بیان کی ضرورت سوال سے پہلے بھی تھی اور وقت ضرورت سے بیان کا تاخر جائز نہیں۔
دوسری بات یہ بھی ہے کہ بیان (جدید نزول حکم پر موقوف نہیں بلکہ) عقل ‘ غور اور تلاش لغت سے بھی ہوجاتا ہے (مگر نسخ بغیر حکم جدید کے نہیں ہوتا) اس تقریر سے واضح ہوگیا کہ مجمل یا مشکل یا خفی کے متعلق سوال کرنے میں کوئی ہرج نہیں (نہ اس کی ممانعت آیت سے مستفاد ہے) رسول اللہ ﷺ : کا ارشاد ہے عاجز کی شفا پوچھ لینا ہے۔ درحقیقت ممانعت ایسے حکم کو دریافت کرنے کی ہے جو (مثبت منفی کسی طور پر) شریعت میں نہیں آیا (اور خواہ نخواہ سوال کرنے کا یہ نتیجہ نکلے کہ حکم نازل ہوجائے) جیسے ہر سال حج کرنے کے متعلق سوال یا بنی اسرائیل کو جو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا اس کے رنگ کے متعلق سوال۔
عفی اللہ عنہا ایسی چیزیں جن کو اللہ کرنے کا حکم دینے سے اللہ نے درگزر کی ہو یہ بھی ترجمہ ہوسکتا ہے کہ جو کچھ تم سوال کرچکے اللہ نے اس کو تو معاف کردیا آئندہ پھر ایسا نہ کرنا۔ اس صورت میں یہ جملہ استینافیہ ہوگا (یعنی ترکیب لفظی کے اعتبار سے کلام سابق سے مربوط نہ ہوگا)
واللہ غفور رحیم اور اللہ بڑی مغفرت اور بڑے حلم والا ہے یعنی معاف کردیتا ہے اگر تمہاری طرف سے قصور یا زیادتی ہوجائے تو فوراً سزا نہیں دیتا۔
Ayah 5:102قد سالہا قوم من قبلکم : تم (1) [ حضرت ابی ؓ بن کعب کی قرأت میں اس طرح آیا ہے قد سالہا قوم بینت لہم فاصبحوا بہا کافرین۔ اخرجہ ابن جریر وابن المنذر ] سے پہلے بھی کچھ لوگوں نے ایسے سوال کئے تھے۔ (2) [ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غضب ناک حالت میں باہر تشریف لائے غصہ سے چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا پھر جا کر ممبر پر تشریف فرما ہوگئے اس وقت ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا میرے باپ دادا کہاں ہیں۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا دوزخ میں۔ پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا میرا باپ کون ہے فرمایا تیرا باپ فلاں شخص ہے حضرت عمر ؓ بن خطاب نے (ناراضگی کی یہ کیفیت دیکھی تو) کھڑے ہو کر عرض کیا ہم اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر محمد ﷺ کے نبی ہونے پر اور قرآن کے دستور ہونے پر راضی ہیں یا رسول اللہ ﷺ ہمارا دور جاہلیت شرک ابھی گزرا ہے (اور اسلام میں ابھی داخل ہوئے ہیں اس لئے ہماری گستاخی قابل معافی ہے) اور اللہ ہی خوب واقف ہے کہ ہمارے باپ دادا کون تھے (اور کہاں ہیں) یہ سن کر حضور ﷺ : کا غصہ فرو ہوا اور آیت یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَسْءَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ ۔۔ نازل ہوئی۔] سالہا کی ضمیر اشیاء کی طرف راجع ہے اور عَنْمحذوف ہے (یعنی ان چیزوں کے متعلق سوال کئے تھے) یا ھاضمیر مسئلہ کی طرف راجع ہے جس پر لفظ لا تسالوا دلالت کر رہا ہے (اس وقت عن محذوف قرار دینے کی ضرورت نہ ہوگی)
بیضاوی نے من قبلکم کا تعلق سَألَہَا سے قرار دیا ہے قوءٌکی صفت نہیں قرار دیا (ہمارا ترجمہ بھی اس کے موافق ہے) کیونکہ ظرف زمان نہ صفت ہوسکتا ہے نہ حال نہ خبر۔ لیکن یہ استدلال قابل اعتراض ہے ظرف کی اسناد ایسی چیز کی طرف درست ہیں جس کے اندر اس چیز کا وقوع متعین نہیں جیسے الہلال یوم الجمعہہلال کا ظہور یوم جمعہ میں متعین نہیں اس لئے اس مثال میں تعین کو ظاہر کرنے کے لئے یوم جمعہ کی اسناد وقوع ہلال کی طرف کی گئی۔
بنی اسرائیل کو جب گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے گائے کی کیفیت اور رنگ دریافت کرنا شروع کیا۔ ثمود نے حضرت صالح ( علیہ السلام) سے (پہاڑ سے) اونٹنی برآمد کرنے کی درخواست کی تھی اور کچھ لوگوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے درخواست کی کہ خوان آسمان سے اتر کر آئے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل نے پیغمبر وقت سے سوال کیا کہ ہمارے لئے کوئی بادشاہ مقرر کرو جس کے جھنڈے کے نیچے رہ کر ہم اللہ کی راہ میں جالوت سے لڑیں۔
ثم اصبحوا بہا کافرین پھر اس سوال کی وجہ سے وہ کافر ہوگئے۔ کیونکہ سوال کے بعد جو ان کو حکم دیا گیا اس کی انہوں نے اطاعت نہیں کی۔
ابو ثعلبہ خشنی نے فرمایا اللہ نے کچھ فرائض مقرر کردیئے ہیں تم (سوال کر کے) ان سے آگے نہ بڑھو کچھ باتوں کی ممانعت کردی ہے اس کی (خلاف ورزی کر کے) پردہ دری نہ کرو۔ کچھ حدود بندی کردی ہے ان حدود سے تجاوز نہ کرو کچھ چیزوں (کے ظاہر کرنے) سے بغیر نسیان کے اس نے درگزر کی ہے کہ تم ان کو (سوال کر کر کے) نہ اکھاڑو۔ بخاری نے بحوالۂ قتادہ حضرت انس بن مالک ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ سوالات کئے اور اتنے مبالغہ کے ساتھ کئے کہ آپ ﷺ : غضب ناک ہوگئے اور ممبر پر تشریف لے جا کر فرمایا آج جس چیز کے متعلق تم سوال کرو گے میں اس کا جواب کھول کر دے دوں گا (پوچھو کیا پوچھتے ہو) یہ سن کر میں دائیں بائیں دیکھنے لگا میں نے دیکھا کہ ہر شخص کپڑے میں سر لپیٹے رو رہا تھا ایک آدمی تھا جو اپنا نسب غیر باپ سے جوڑتا تھا۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرا باپ کون ہے فرمایا حذافہ۔ اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے عرض کیا ہم اللہ کے رب ہونے سے اسلام کے دین ہونے سے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے سے راضی ہیں اور فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آج کی طرح کوئی دن کبھی میں نے نہیں دیکھا نہ خیر میں نہ شر میں۔ میرے سامنے جنت اور دوزخ کی تصویر لائی گئی (یعنی میری نظر کے سامنے دونوں کو لایا گیا) یہاں تک کہ دیوار سے پرے میں نے دونوں کو دیکھ لیا۔ قتادہ ؓ اس حدیث کو بیان کرتے وقت آیت یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَْسألُوْا عَنْ اَشْیَاءَ ۔۔ کا ذکر کر رہے تھے۔
یونس نے بروایت زہری عبیداللہ بن عبداللہ کا قول نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن حذافہ کی ماں نے عبداللہ سے کہا میں نے تجھ سے زیادہ ماں کا نافرمان بیٹا کوئی نہیں سنا تجھے کچھ اندیشہ نہ ہوا کہ اگر دور جاہلیت کی عورتوں کی طرح تیری ماں سے کوئی نازیبا حرکت سرزد ہوگئی تو لوگوں کے سامنے تو اس کو رسوا کرنے لگا۔ عبداللہ نے کہا خدا کی قسم اگر وہ حبشی غلام سے میرا جوڑ ملا دیتے تو میں اسی سے اپنے کو ملا دیتا۔
روایت میں آیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم دور جاہلیت سے ابھی نکلے ہیں آپ ہم سے درگزر فرمائیے اللہ آپ سے درگزر فرمائے گا یہ سن کر حضور ﷺ : کا غصہ فرو ہوا۔
بخاری نے حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ سے بطور استہزاء سوال کر رہے تھے ایک کہہ رہا تھا میرا باپ کون ہے دوسرا کہہ رہا تھا میری اونٹنی گم ہوگئی ہے بتائیے میری اونٹنی کہاں ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حافظ ابن حجر نے لکھا ہے دونوں واقعات ہوسکتے ہیں اور دونوں کے متعلق آیت کا نزول ہوسکتا ہے مگر حضرت ابن عباس ؓ کی روایت کی سند تمام روایات سے زیادہ صحیح ہے۔ میں کہتا ہوں اگر آیت کا نزول حج کے سوال کے متعلق قرار دیا جائے تو سیاق قرآنی کے زیادہ مناسب ہے لیکن اگر آیت کے نزول کا تعلق باپ کا نام دریافت کرنے سے جوڑا جائے تو آیت کا معنی یہ ہوگا کہ ایسی چیزیں دریافت نہ کرو کہ اگر تم پر ان کا اظہار کردیا جائے تو تم کو برا لگے یعنی اگر تمہارا صحیح نسب ظاہر کردیا جائے اور غیر باپ کا نام بتادیا جائے تو تمہاری رسوائی ہو اور تم کو دکھ پہنچے۔ مجاہد نے کہا اس آیت کا نزول اس وقت ہوا جب لوگوں نے بحیرۂ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام کا حکم دریافت کیا تھا دیکھو متصل آیت میں انہی کا حکم بیان فرمایا ہے۔
Ayah 5:103ما جعل اللہ من بحیرۃ ولا سآئبۃ ولا وصیلۃ ولاحام اللہ نے نہ بحیرہ کو مشروع کیا ہے نہ سائبہ کو نہ وصیلہ کو نہ حامی کو۔ یعنی اللہ نے ان کی اجازت نہیں دی نہ ان کا حکم جاری کیا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا جو اونٹنی پانچ مرتبہ بیاہ چکتی تھی اس کا کان چیر کر آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا نہ اس پر بوجھ لادا جاتا تھا نہ کوئی اس پر سوار ہوتا تھا نہ اس کا اون کاٹا جاتا تھا نہ کسی پانی اور چراگاہ سے اس کو روکا جاتا تھا۔ اگر پانچویں گیا ب میں نر بچہ پیدا ہوتا تو بچہ کو ذبح کر کے مرد عورتیں سب مل کر کھا سکتے اور اگر بچہ مادہ ہوتا تو اس کا بھی کان چیر دیتے تھے ایسی سانڈھنی کو بحیرہ کہا جاتا تھا۔
ابو عبیدہ نے کہا منت پر چھوڑے ہوئے سانڈھ اونٹ کو سائبہ کہا جاتا تھا اگر کسی بیمار کی صحت یا مسافر کی واپسی کے لئے منت مانی جاتی تھی تو مراد پوری ہونے پر اونٹ کو سانڈھ بنا کر چھوڑ دیا جاتا تھا اور کسی چراگاہ یا چشمہ سے اس کو نہیں روکا جاتا تھا نہ اس پر کوئی سوار ہوتا تھا گویا بحیرہ کی طرح اس کو بھی سانڈھ بنا دیا جاتا تھا۔ سائبہ نر بھی ہوتا اور مادہ بھی۔
بعض اہل لغت نے لکھا ہے کہ اگر کسی اونٹنی کے بارہ جھول تک مادہ بچہ پیدا ہوتا رہتا تھا تو اس کو آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا نہ اس پر کوئی سوار ہوتا تھا نہ اس کا اون کاٹا جاتا تھا اور سوائے مہمان کے نہ اس کا دودھ کوئی پی سکتا تھا۔ اس کے بعد (تیرہویں گیا ب میں) جو بچہ پیدا ہوتا اس کا کان چیر کر ماں کے ساتھ آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا اور جو سلوک ماں کے ساتھ کیا جاتا وہی بچہ کے ساتھ کیا جاتا تھا ایسی ماں کو سائبہ اور ایسے بچہ کو بحیرہ کہتے تھے۔
علقمہ نے کہا غلام کو (ہر چیز سے) آزاد قرار دیا جاتا تھا نہ اس کا حق ولاء مانا جاتا تھا نہ خون بہا نہ میراث (اس کے خلاف) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حق ولاء اس شخص کے لئے ہے جس نے آزاد کیا ہو۔ سائبہ بروزن فاعلہ بمعنی مفعول ہے یعنی آزاد کردہ جیسے عیشۃ راضیۃ میں راضیہ بمعنی مرضیۃ ہے یعنی پسندیدہ یا پسند کردہ۔ اگر کوئی بکری سات بار بیاہ چکتی اور ساتواں بچہ نر ہوتا تو اس کو ذبح کرتے اور مرد عورتیں سب کھا سکتے تھے اور اگر ساتواں بچہ مادہ ہوتا تو اس کو ذبح نہ کرتے ‘ بلکہ بکریوں میں چھوڑ دیتے تھے اور اگر ساتویں بیاہت میں نر ماہ دونوں پیدا ہوتے تو مادہ کے ساتھ نر کو چھوڑ دیتے اور ذبح نہ کرتے تھے اور کہتے تھے۔ اس مادہ نے نر کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ایسے مادہ کو وصیلہ کہا جاتا تھا اور اس مادہ کا دودھ عورتوں کے لئے حرام قرار دیا جاتا تھا اگر دونوں میں سے کوئی مرجاتا تو پھر مرد اور عورتیں سب اس کو کھا سکتے تھے۔
اگر کسی نر اونٹ کے تخم سے دس بچے پیدا ہو چکتے تو کہتے اب اس کی پشت (سوار ہونے اور بار اٹھانے سے) محفوظ ہوگئی اس کے بعد اس پر کوئی سوار نہ ہوتا نہ اس پر بوجھ لادا جاتا نہ کسی چراگاہ اور چشمہ سے اس کو روکا جاتا۔ اس کو حام کہا جاتا تھا اگر حام مرجاتا تو مرد اور عورتیں سب اس کو کھا سکتے تھے۔
بخاری نے سعید بن مسیب کا قول نقل کیا ہے کہ بحیرہ وہ اونٹنی ہوتی تھی جس کا دودھ بتوں کے لئے محفوظ مانا جاتا تھا کوئی اس کو دوہتا نہ تھا اور سائبہ وہ سانڈھنی ہوتی تھی جو دیوتاؤں کے نام پر آزاد چھوڑ دی جاتی تھی کوئی اس پر سوار نہ ہوتا تھا اور وصیلہ وہ اونٹنی ہوتی تھی جس کے پہلے بیاہت میں نر اور دوسرے گاب میں مادہ پیدا ہوتی تھی اگر مادہ کے بعد تیسری مرتبہ میں بھی مادہ بچہ پیدا ہوتا تو بتوں کے نام پر اس کو آزاد چھوڑ دیتے تھے اس کو وصیلہ کہتے تھے۔ حام وہ اونٹ ہوتا تھا جو محدود معین عدد میں جب جفتی کر چکتا اور اس کی نسل میں مقررہ عدد میں بچے پیدا ہو چکتے تو اس کو بتوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے تھے پھر اس پر کسی قسم کا بوجھ نہیں لادا جاتا تھا اس کو حام کہتے تھے۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے دیکھا کہ عمرو بن عامر خزاعی دوزخ کے اندر اپنی انتڑیاں گھسیٹے پھر رہا ہے اسی نے سب سے پہلے سائبہ بنانے کی رسم قائم کی۔
بغوی نے محمد بن اسحاق کی روایت سے حضرت ابوہریرہ ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اکثم بن جون خزاعی سے فرمایا اکثم میں نے دیکھا کہ عمرو بن لحی بن قمعہ بن خندف اپنی انتڑیاں دوزخ کے اندر کھینچے پھر رہا ہے میں نے نہیں دیکھا کہ کوئی کسی کا اتنا ہم شکل ہوتا جتنا تو عمرو سے اور عمرو تجھ سے مشابہ تھا۔ عمرو بن لحی نے ہی سب سے پہلے دین اسماعیلی کو بگاڑا۔ استھان قائم کئے بحیرہ اور سائبہ بنانے کی رسم ایجاد کی۔ وصیلہ کو وصیلہ اور حامی کو حامی بنانے کی بنیاد ڈالی۔ میں نے دیکھا کہ اس کی آنتوں کی بدبو سے دوزخیوں کو بھی اذیت ہو رہی تھی اکثم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا اس کا ہم شکل ہونے سے مجھے کچھ ضرر پہنچے گا۔ فرمایا نہیں۔ تو یقیناً مومن ہے اور وہ کافر تھا۔
ولکن الذین کفروا یفترون علی اللہ الکذب لیکن یہ کافر اللہ پر دروغ بندی کرتے ہیں۔ یعنی کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم کو یہ باتیں کرنے کا حکم دیا ہے۔
واکثرہم لا یعقلون اور ان میں سے اکثر جانتے بھی نہیں ہیں کہ حلال اور حرام قرار دینے کی وجہ کیا ہے بلکہ اپنے جاہل بزرگوں کی تقلید کرتے ہیں۔ آیت میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ بعض لوگ اپنے طریقہ کی غلطی کو جانتے ہیں مگر سرداری کی محبت اور باپ دادا کی تقلید ان کو اقرار حق سے روکتی ہے۔
Ayah 5:104واذا قلیل لہم تعالوا الی ما انزل اللہ والی الرسول اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (حلت و حرمت کے متعلق) اللہ نے جو حکم نازل کیا اور رسول نے جو کچھ فرمایا اس کی طرف آؤ (اس کو مانو اور عمل کرو)
قالوا حسبنا ما وجدنا علیہ ابآئنا تو کہتے ہیں جس طریقہ پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہی ہمارے لئے کافی ہے یہ کافروں کی کوتاہ فہمی کا اظہار ہے اور اس امر کی صراحت ہے کہ سوائے باپ دادا کی تقلید کے ان کے پاس اور کوئی دلیل نہیں ہے۔
او لو کان ابآء ہم لا یعلمون شیئا ولا یہتدون کیا اس حالت میں بھی تقلید اسلاف ان کے لئے کافی ہوگی جبکہ ان کے باپ دادا کچھ (صحیح) علم نہیں رکھتے تھے اور نہ ہدایت یافتہ تھے۔ اَوْ میں واو حالیہ ہے اور ہمزہ انکاریہ۔ یعنی کیا باپ دادا کی جہالت اور گمراہی کی تقلید بھی ان کے لئے کافی ہوسکتی ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ تقلید تو صرف ہدایت یافتہ علماء ہی کی مناسب ہے (نادان گمراہوں کی پیروی جہالت اور گمراہی ہے)
Ayah 5:105یا ایہا الذین امنوا علیکم انفسکم : (1) [ عفرہ کے آزاد کردہ غلام عمر کی روایت سے ابن ابی حاتم نے لکھا ہے کہ آیت یایہا الذین امنوا علیکم انفسکم کی وجہ نزول یہ ہے کہ بعض لوگ خود تو مسلمان ہوجاتے تھے مگر ان کے باپ بھائی کافر رہتے تھے ایسے مسلمانوں کو جب ایمان کی چاشنی مل گئی تو انہوں نے باپ اور بھائیوں کو بھی اسلام کی دعوت دی لیکن انہوں نے جواب دیا کہ ہم کو باپ دادا کا طریقہ کافی ہے اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔] اے ایمان والو ! اپنی فکر رکھو۔ یعنی اصلاح کو لازم قرار دو ۔
لا یضرکم من ضل اذا اہتدیتم جب تم راہ راست پر قائم رہو گے تو جو گمراہ ہے وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔
بعض علماء نے لکھا ہے کہ آیت کا نزول اس وقت ہوا تھا جب مسلمان کافروں کی حالت پر افسوس کرتے اور ان کے مسلمان ہوجانے کی تمنا کرتے تھے۔ احمد اور طبرانی نے حضرت ابو عامر ؓ اشعری کا بیان نقل کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کی تشریح دریافت کی کہ مَنْ ضَلُّسے کون لوگ مراد ہیں فرمایا کافر جو گمراہ ہیں تم کو کوئی ضرر نہ پہنچا سکیں گے جب کہ تم راہ راست پر ہو گے۔ مجاہد اور سعید بن جبیر نے کہا من ضل سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں یعنی اے مسلمانو ! اگر تم راہ راست پر قائم رہو گے تو اہل کتاب تم کو ضرر نہ پہنچا سکیں گے۔ لہٰذا تم ان سے جزیہ لو اور ان کو چھوڑ دو ۔
بعض علماء کا بیان ہے کہ (دور صحابہ میں) جب بعض لوگ مسلمان ہوتے تھے تو (بھائی بندوں کی طرف سے) ان سے کہا جاتا تھا تو نے اپنے باپ کو بیوقوف سمجھ رکھا ہے (اس کی تفصیل) عفرہ کے آزاد کردہ غلام حضرت عمر نے بیان کی ہے جس کو ابن ابی حاتم نے نقل کیا ہے کہ آیت ” یا ایہا الذین امنوا علیکم انفسکم “ کی وجہ نزول یہ تھی کہ بعض لوگ جب مسلمان ہوجاتے اور ان کے باپ یا بھائی کافر ہوتے تو چونکہ ایمان کی چاشنی اس مسلمان کے دل نشین ہو چکتی تھی۔ اس لئے وہ اپنے باپ اور بھائی کو بھی مسلمان ہوجانے کی دعوت دیتا تھا جواب میں وہ لوگ کہتے تھے باپ دادا کا طریقہ ہمارے لئے کافی ہے۔ اس پر آیت مذکورہ کا نزول ہوا۔
آیت کا مقصد یہ نہیں ہے کہ بھلائی کا حکم اور برائی سے بازداشت ترک کر دو (اور تبلیغ کو ختم کر دو ) کیونکہ بقدر طاقت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر خود ابتداء کے ذیل میں داخل ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا تھا لوگو ! تم آیت ” یٰاُیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ اَوْ یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ اِذَا اہْتَدَیْتُمْ “ پڑھتے ہو اور اس کا مطلب غلط سمجھتے ہو میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے لوگ اگر برائی کو دیکھ کر اس کو نہ بدلیں گے (یعنی بدلنے کی کوشش نہیں کریں گے) تو ہوسکتا ہے کہ اللہ سب کو عذاب میں عموماً مبتلا کر دے۔ رواہ ابن ماجۃ والترمذی۔ ترمذی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔
ابو داؤد کی روایت میں ہے اگر لوگ ظالم کو (ظلم کرتے) دیکھیں اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو ممکن ہے اللہ سب کو عموماً عذاب میں مبتلا کر دے۔ ایک اور روایت میں آیا ہے جن لوگوں کے اندر گناہ کئے جائیں اور لوگ ان کو بدل سکتے ہوں لیکن (باوجود قدرت کے) نہ بدلیں تو ہوسکتا ہے کہ اللہ عموماً سب پر عذاب لے آئے۔ دوسری روایت میں آیا ہے جس قوم میں گناہ کئے جاتے ہوں اور گناہ نہ کرنے والے کرنے والوں سے زیادہ ہوں۔ تیسری روایت میں آیا ہے لوگ بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے بازداشت کریں ورنہ شریر لوگوں کو اللہ تم پر مسلط کر دے گا پھر وہ تم کو بدترین عذاب کی تکلیفیں دیں گے اس وقت تم میں سے نیک لوگ بھی اگر تمہارے لئے دعا کریں گے تو ان کی دعا قبول نہ ہوگی۔
بغوی نے لکھا ہے کہ اس آیت کی تشریح میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو جب تک تمہاری بات مانی جائے اگر تمہاری بات لوٹا دی جائے تو پھر (تنہا) اپنی (اصلاح کی) فکر کرو۔ قرآن میں کچھ آیات ایسی نازل ہوئیں جن کا مصداق نزول سے پہلے ہی گزر چکا کچھ آیات ایسی نازل ہوئیں جن کا مصداق رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں موجود ہوگیا کچھ آیات کا مصداق رسول اللہ ﷺ کے تھوڑے زمانہ بعد واقع ہوگیا۔ کچھ آیات کا مصداق اب سے کچھ بعد آجائے گا۔ کچھ آیات کا مصداق آخر زمانہ میں واقع ہوگا اور کچھ آیات کا مصداق جن میں حساب ‘ جنت اور دوزخ کا ذکر ہے قیامت کے دن آئے گا پس جب تک تمہارے دل اور خواہشات متحد ہوں اور فرقہ بند ہو کر آپس میں گتھم گتھا نہ ہوجاؤ اور ایک دوسرے پر حملہ آور نہ ہو اس وقت تک بھلائی کی تبلیغ اور برائی سے بازداشت کرو اور جب دلوں میں اور خیالات میں پھوٹ پڑجائے اور فرقہ بند ہو کر آپس میں گتھم گتھا ہوجاؤ اور ایک دوسرے پر حملہ کرنے لگے اس وقت ہر شخص کو صرف اپنی (اصلاح کی) فکر کرنی چاہئے ایسے وقت میں اس آیت کا مصداق ‘ متحقق ہوگا۔ عبد بن حمید ‘ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابوالشیخ اور بیہقی نے شعب الایمان میں بحوالۂ ابوالعالیہ مذکورہ بالا بیان کی نسبت حضرت عبداللہ ؓ بن مسعود کی طرف کی ہے۔
ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوثعلبہ خشنی کا بیان نقل کیا ہے۔ حضرت ابو ثعلبہ ؓ نے کہا خدا کی قسم میں نے اس آیت کا مطلب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا (اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امر و نہی ترک کر کے بیٹھ رہو) بلکہ مطلب یہ ہے کہ بھلائی پر چلو اور برائی سے باہم روکتے رہو اور خود بھی باز رہو لیکن جب دیکھ لو کہ لوگ ہواوہوس کے بندے ہوگئے ہیں خواہشات کے پیچھے پڑے ہیں۔ دنیا کو (دین پر) ترجیح دی جا رہی ہے اور ہر شخص خود رائے ہوگیا ہے اپنے خیال میں مست ہے اور تم کو بھی کچھ کرنا ہی ہو (کچھ کرنے پر تم مجبور ہو) تو ایسے وقت میں صرف اپنے نفس (کی اصلاح) کی فکر کرو اور عوام کی فکر چھوڑ دو ۔ یہ امر یقینی ہے کہ تمہارے آگے کچھ مصائب کا زمانہ آئے گا۔ ان شدائد میں صبر رکھنا اتنا مشکل ہوگا جیسے انگاروں کی مٹھی میں دبانا اس وقت نیک عمل کرنے کا ثواب ان پچاس آدمیوں کے برابر ہوگا جنہوں نے اسی جیسی نیکی کی ہو صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ : کیا اس شخص کا اجر ان میں سے ہی پچاس آدمیوں کے برابر ہوگا فرمایا تمہارے پچاس آدمیوں کے برابر۔
بعض اہل روایت کا قول ہے کہ آیت مذکور کا نزول اہل بدعت کے حق میں ہوا تھا ابو جعفر رازی نے ذکر کیا ہے کہ صفوان بن محرز کے پاس ایک بدعتی نوجوان آیا اور اپنی کسی بات کا ذکر کرنے لگا صفوان نے کہا میں تم کو کلام اللہ کی ایک خاص آیت بتاتا ہوں جس میں اللہ نے اپنے اولیاء کا مخصوص طور پر ذکر کیا ہے فرمایا ہے (یا ایہا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اہتدیتم) ۔
الی اللہ مرجعکم جمیعا تم سب کی (یعنی گمراہ اور ہدایت یافتہ لوگوں کی) اللہ ہی کی طرف واپسی ہے۔
فینبئکم بما کنتم تعملون پھر وہی تم کو ان اعمال کی اطلاع دے گا جو تم کرتے رہے تھے۔
یعنی ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا کسی کو دوسرے کے قصور پر نہیں پکڑے گا۔ اس فقرہ میں گمراہ اور ہدایت یافتہ دونوں گروہوں کے لئے وعدہ اور وعید ہے۔ بغوی نے ذکر کیا ہے اور بخاری ‘ ابو داؤد اور ترمذی نے بھی بغوی کے بیان کی طرح حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ تمیم داری اور عدی بن بدر تجارت کے لئے شام کو گئے اس زمانہ میں یہ دونوں عیسائی تھے ان کے ساتھ عمرو ؓ بن عاص کے آزاد کردہ غلام بھی تھے۔ بدیل مسلمان تھے شام پہنچ کر بدیل بیمار ہوگئے (موت کا یقین ہوگیا تو) اپنے موجودہ سامان کی ایک فہرست لکھ کر سامان میں ہی ڈال دی اور ساتھیوں کو اطلاع نہیں دی بلکہ دونوں ساتھیوں کو وصیت کردی کہ میرا سامان میرے گھر پہنچا دینا پھر مرگئے دونوں ساتھیوں نے سامان کی تلاشی لی تو سامان میں چاندی کا ایک برتن ملا جس کا وزن تین سو مثقال تھا اور اس پر سنہری کام کیا ہوا تھا دونوں نے وہ برتن لے کر چھپالیا اور اپنے کاروبار سے فارغ ہو کر جب مدینہ لوٹے تو بدیل کے گھر والوں کو بدیل کا سامان پہنچا دیا بدیل کے گھر والوں نے سامان کی جانچ کی تو اس کے اندر موجودات کی ایک فہرست لکھی ہوئی ملی انہوں نے تمیم اور عدی سے آکر پوچھا کیا ہمارے آدمی نے اپنے سامان میں سے کوئی چیز فروخت کی تھی دونوں نے نفی میں جواب دیا۔ گھر والوں نے پوچھا تو کیا اس نے کوئی تجارت کی تھی دونوں نے جواب دیا نہیں۔ گھر والوں نے کہا تو کیا اس کی بیماری اتنی لمبی ہوگئی تھی کہ اس کو کوئی چیز خرچ کرنی پڑی تھی دونوں نے کہا نہیں اس وقت گھر والوں نے کہا ہمیں سامان میں ایک تحریر ملی ہے جس میں پورے سامان کی فہرست ہے مگر سامان میں چاندی کا ایک پیالہ سونے کے طمع والا جس کا وزن تین سو مثقال تھا موجود نہیں ہے دونوں نے جواب دیا۔ ہمیں معلوم نہیں ہم سے اس نے کہا تھا کہ سامان تمہارے پاس پہنچا دیں ہم نے پہنچا دیا ہم کو برتن کا کچھ علم نہیں غرض انہوں نے انکار کردیا اور معاملہ کی رپورٹ رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں پیش کی گئی اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 5:106یا ایہا الذین امنوا شہادۃ بینکم اذا حضر احدکم الموت حین الوصیۃ اثنن : اے مسلمانو ! تمہارے آپس میں دو آدمیوں کا وصی ہونا مناسب ہے جب کہ تم میں سے کسی کو موت آنے لگے کہ وصیت کے وقت۔ شَہَادۃ بینکممبتدا ہے اور اثنان خبر۔ اثنان سے پہلے لفظ شہادت محذوف ہے۔ الفاظ کے اعتبار سے جملۂ خبریہ ہے لیکن معنی امر کے ہیں مطلب یہ ہے کہ وصیت کے وقت دو آدمی موجود ہوں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اثنان شہادۃ (مصدر) کا فاعل ہو اور شہادۃ مبتدا ہو اور اس کی خبر اس سے پہلے محذوف ہو یعنی جس چیز کی وصیت مردہ نے کی ہے اس پر دو آدمیوں کی شہادت ہو۔ شہادت سے مراد ہے گواہ بنانا یعنی دو آدمیوں کو بلا لینا تاکہ میّت ان سے کہہ دے۔ قصہ کی رفتار اسی مفہوم پر دلالت کر رہی ہے جیسے دوسری آیت میں آیا ہے ولیشہد عذابہما طائفۃ من المؤمنین۔
دو کی قید احتیاطی ہے (ضروری اور لازم نہیں) ورنہ باجماع علماء وصیت کے وقت ایک وصی ہونا بھی کافی ہے اِذَا حَصْرَ ۔ شہادت کا ظرف زمان ہے یعنی جب موت کا وقت آجائے۔ مطلب یہ ہے کہ جب موت کی علامات نمودار ہوجائیں۔ حین الوصیۃ۔ حَضَرَکا ظرف ہے یا اِذَا حَضَرَسے بدل ہے بدل قرار دینے سے اس طرف اشارہ ہوجائے گا کہ موت کے وقت وصیت کو حقیر سمجھ کر ترک نہ کردیا جائے موت آنے کا وقت لازمی وصیت کا وقت ہے (بدل اصل مقصود ہوتا ہے اور مبدل منہ اس کی تمہید ہوتا ہے حضرت مفسر نے اسی ضابطہ کی طرف ایماء کیا ہے)
ذواعدل منکم جو تم میں سے ہوں اور نیک آدمی ہوں۔ تم میں سے یعنی مسلمانوں میں سے۔ کیونکہ نیک مسلمان ہی امانت دار بنائے جانے کا زیادہ اہل ہے۔
او اخران من غیرکم یا غیر مسلموں میں سے کوئی دوسرے دو آدمی ہوں۔
ان انتم ضربتم فی الارض فاصابثکم مصیۃ الموت . اگر تم کہیں سفر میں گئے ہو اور تم پر موت کا حادثہ آپڑے۔ پھر تم نے ان کو وصی بنایا ہو اور ان کو اپنا مال دے دیا ہو اور بعض وارث ان پر خیانت کا شبہ کریں اور وہ دونوں خیانت کے منکر ہوں۔ یہ تمام امور محذوف ہیں قصۂ بدیل ان کے حذف پر دلالت کر رہا ہے۔
تحبسونہما تم خیانت کا انکار کرنے والے دونوں وصیوں کو روکے رکھو یہ لفظ اثنان کی بھی صفت ہوسکتا ہے اور آخر انکی بھی یعنی وصیت کے وقت جو دونوں شخص موجود تھے ان میں سے ہر ایک کو روکے رکھو۔
من بعد الصلوۃ نماز کے بعد یعنی عصر کی نماز کے بعد کیونکہ یہی وقت لوگوں کے بھی زیادہ اجتماع کا ہے اور شب و روز کے ملائکہ کے ملنے کا بھی بعض کے نزدیک عام نماز مراد ہے۔
فیقسمن باللہ ان ارتبتم لا تشتری بہ ثمنا ولو کان ذا قربی ولا نکتم شہادۃ اللہ انا اذا لمن الاثمین اگر تم کو شبہ ہو (تو نماز کے بعد دونوں میں سے ہر ایک کو روک رکھو) پھر وہ اللہ کی قسم کھائیں (اور کہیں) کہ اس قسم کے عوض ہم کوئی دنیوی نفع لینا نہیں چاہتے اگرچہ کوئی قرابت دار ہی ہو اور اللہ کی بات کو ہم پوشیدہ نہیں رکھیں گے (ورنہ) اس حالت میں سخت گناہگار ہوں گے۔
یعنی اگر کسی وارث کو شبہ ہو اور وہ دونوں وصیوں کو خائن قرار دے اور وصی خیانت کا انکار کریں تو حاکم وصیوں سے قسم لے اور دونوں وصی قسم کھائیں لیکن وارثوں کو خیانت کا شبہ نہ ہو تو وصیوں کو قسم دینے کی ضرورت نہیں۔
اِنِ ارْتَبْتُمْکی شرط بطور معترضہ ہے قسم کا جواب لاَ نَشْتَرِیْہے لا نشتری بہ یعنی ہم قسم یا للہ کے عوض نہیں لیں گے۔ ثمنا یعنی دنیوی مال مراد یہ ہے کہ ہم لالچ میں آکر جھوٹی قسم نہیں کھاتے۔ ولو کان ذاقربی سے یہ مراد ہے کہ وصی خواہ میّت کا قرابت دار ہی ہو اور وارث اس پر خیانت کا شبہ کریں تو اس سے بھی قسم لی جائے گی قسم لینے کا حکم صرف اجنبی اور غیر کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہے۔ شہادۃ اللّٰہ یعنی وہ شہادت جس کو ادا کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ شہادت سے مراد ہے حق کو ظاہر کرنا اور سچ سچ کہنا ‘ خواہ اپنی ذات کے خلاف پڑے۔ اِنَّا اِذًا یعنی اگر ہم حق پوشی کریں گے تو اس حالت میں ہم پکے گناہگار ہوں گے۔
اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ نے عصر کی نماز کے بعد تمیم اور عدی کو بلوا کر ممبر کے پاس اس طرح قسم لی کہ قسم ہے اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ ہم نے اس چیز میں کوئی خیانت نہیں کی جو بدیل نے ہم کو دیا تھا دونوں نے یہ قسم کھائی اور رسول اللہ ﷺ نے ان کو آزاد کردیا پھر ایک طویل مدت کے بعد وہ برتن ان دونوں کے پاس پایا گیا۔ سعید بن جبیر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ وہ برتن مکہ میں ملا اور جن لوگوں کے پاس ملا تھا انہوں نے کہا کہ تمیم و عدی سے یہ خریدا ہے یہ خبر بنی سہم کو پہنچی تو وہ تمیم و عدی کے پاس گئے۔ تمیم و عدی نے کہا ہم نے یہ برتن بدیل سے خرید لیا تھا بنی سہم نے کہا تم نے تو پہلے یہ کہا تھا کہ بدیل نے کوئی چیز نہیں فروخت کی کہنے لگے فروخت کرنے کا کوئی ثبوت تو ہمارے پاس تھا نہیں اس لئے ہم نے پسند نہیں کیا کہ اس کے موجود ہونے کا تم سے اقرار کریں پوشیدہ رکھنے کی یہی وجہ ہوئی بنی سہم نے رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں مرافعہ کیا تو آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 5:107فان عثر علی انہما استحقا اثما پھر اگر اطلاع ملے کہ وصی گناہ کے مستوجب ہوئے ہیں یعنی انہوں نے اپنی خیانت کی وجہ سے ایسا فعل کیا ہے جو موجب گناہ ہے مطلب یہ کہ الزام خیانت کو اپنے اوپر سے دفع کرنے کے لئے انہوں نے جھوٹی قسمیں کھائی ہوں یا خریدنے کا دعویٰ کیا ہو یا ایسی ہی کوئی اور حرکت کی ہو۔ عشرٌ کا اصل معنی ہے کسی چیز پر گرپڑنا۔ یہاں مراد ہے اطلاع ملنا۔
فاخران یقومن مقامہا تو دونوں وصیوں کے مقام پر (قسم کھانے کے لئے) دو آدمی دوسرے کھڑے ہوں۔
وارثوں میں سے دو (مدعی) شخصوں کو شاہد اس لئے قرار دیا کہ انہوں نے اپنے حق کا دعویٰ کیا ہے اور شریعت نے بھی ان کے حق کو تسلیم کیا ہے اور وہ دونوں سابق شاہدوں (وصیوں) کے گناہ کو ظاہر کر رہے ہیں تو گویا وصیوں کے گناہ کی شہادت دے رہے ہیں۔ میّت کے اقربا میں دو گواہوں کی شرط اس وجہ سے لگائی گئی کہ مذکورۂ بالا واقعہ میں ایسا ہی تھا ورنہ اگر میّت کا وارث ایک ہوگا تو اسی سے قسم لی جائے گی یا اگر دو سے زائد وارث ہوں گے تو سب سے قسم لی جائے گی (گویا دو ہونے کی شرط اس وقت ضروری ہے جب وارث صرف دو ہوں ورنہ ضروری نہیں ایک بھی قسم کھانے والا ہوسکتا ہے اور دو سے زائد بھی) کیونکہ وصی میّت سے خریدنے یا کسی اور طرح سے نزاعیٰ چیز کے مالک ہونے کے مدعی ہوتے ہیں اور وارث ان کے دعویٰ کا انکار کرتے ہیں (اور وصیوں کے پاس گواہ نہیں ہوتے لہٰذا مدعی علیہ پر قسم عائد ہوگی)
من الذین استحق علیہم الاولین ان وارثوں میں سے جن کے اندر سے قریب ترین رشتہ رکھنے والے دو آدمی مستحق ہوئے ہیں یعنی وارثوں میں سے جو دو شخص میّت سے قریب ترین رشتہ رکھنے کی وجہ سے اس امر کے مستحق ہوں کہ تمام وارث اپنے اندر سے انتخاب کر کے ان کو ادائے شہادت کے لئے مقرر کردیں اور ان کے ذریعہ سے وصیوں کی دروغ بانی ظاہر کردیں۔ اس مطلب پر عَلَیْہمکی ضمیر وارثوں کی طرف راجع ہوگی اور اس کا تعلق استحق سے ہوگا اور اَلْاَوْلَیَانِ اِسْتَحَقّکا فاعل قرار پائے گا۔
بعض قرأتوں میں اُسْتُحِقَّفعل مجہول آیا ہے اس صورت میں علیہمکا معنی ہوگا یعنی ان کے معاملہ میں ان کے سبب سے جیسے علی مَلْکِسلیمان کا معنی فی ملک سلیمان ہے۔ مطلب یہ کہ جن کے معاملہ کی وجہ سے دونوں قسم کھانے والے گناہ کے مستوجب ہوئے۔ اَلْاَوْلَیِاِن اٰخَرانِکی صفت ہے کیونکہ اخراناگرچہ نکرہ اور الاولیان معرفہ ہے لیکن اخران کی صفت من الذین ہے اور نکرہ موصوفہ معرفہ کا حکم رکھتا ہے یا الاولیان اخران یا یقومان کی ضمیر سے بدل ہے یا مبتدا محذوف کی خبر ہے یعنی ہما الاولیان۔
الاولیان سے مراد ایسے قریبی رشتہ دار جن سے زیادہ میّت کا کوئی قرابت دار نہ ہو۔
فیقسمن باللہ لشہادتنا احق من شہادتہما وما اعتدینا انا اذا لمن الظالمین پھر یہ دونوں رشتہ دار اللہ کی قسم کھائیں کہ بالیقین ہماری یہ قسم ان دونوں (وصیوں) کی قسم سے زیادہ راست ہے اور ہم نے ذرا تجاوز نہیں کیا ہم اس حالت میں سخت ظالم ہوں گے۔ یعنی وصیوں کی خیانت ظاہر کرنے اور دعوئے خرید کی تردید کرنے کے لئے وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ان وصیوں کی قسم سے ہماری قسم زیادہ قابل قبول ہے اور قسم کھانے میں ہم حق سے تجاوز نہیں کر رہے ہیں اگر ہم حق سے ہٹیں گے تو بےجا حرکت کے مرتکب ہوں گے حق کی جگہ باطل کو اختیار کرنے والے ہوجائیں گے۔ آیت میں شہادت سے مراد ہے قسم جیسے دوسری آیت میں آیا ہے (فشہادۃ احدہم اربع شہادات باللوفہ انہ لمن الصدقین) بخاری کی روایت میں آیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو بدیل سہمی کے قریب ترین اقرباء میں سے دو آدمیوں نے کھرے ہو کر قسم کھائی۔ ترمذی کی روایت ہے کہ عمرو ؓ بن عاص اور ان کے ساتھ ایک دوسرے آدمی نے کھڑے ہو کر قسم کھائی تھی۔ بغوی نے دوسرے آدمی کا نام مطلب بن وداعہ سہمی ذکر کیا ہے اور بیان کیا ہے کہ عصر کے بعد ان دونوں نے قسم کھائی۔ شاید ان دونوں نے اس بات کی قسم کھائی ہوگی کہ ہم کو بدیل کا وصیوں کے ہاتھ برتن فروخت کرنا معلوم نہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے تمیم داری کا ایک بیان ترمذی نے نقل کیا ہے۔ لیکن دوسرے اہل حدیث نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔ تمیم داری نے کہا میں اور عدی بن بدا عیسائی تھے اور شام کو آجایا کرتے تھے چناچہ ہم دونوں تجارت کی غرض سے شام کو گئے حّ ِ تھے وہاں ہمارے پاس بنی سہم کا ایک آزاد کردہ غلام تھا جس کا نام بدیل بن ابی مریم تھا کچھ تجارت کا مال لے کر پہنچا اس کے پاس چاندی کا ایک پیالہ بھی تھا اتفاقاً وہاں وہ بیمار ہوگیا اور اس نے ہم کو وصیت کی کہ اس کا متروکہ سامان اس کے گھر والوں کو پہنچا دیں۔ یہ وصیت کر کے وہ مرگیا اور ہم دونوں نے وہ پیالہ لے کر ہزار درہم میں فروخت کر کے قیمت تقسیم کرلی پھر جب بدیل کے گھر والوں کے پاس پہنچے تو بدیل کا جو سامان ہمارے پاس تھا ہم نے وہ ان کو دے دیاسامان میں پیالہ ان کو نہیں ملا تو ہم سے پوچھا ہم نے کہا اس کے علاوہ تو بدیل نے ہم کو کوئی اور چیز دی نہیں۔ کچھ مدت کے بعد جب میں مسلمان ہوگیا اور مجھے اس گناہ کا احساس ہوا تو میں بدیل کے رشتہ داروں کے پاس گیا اور اظہار واقعہ کے بعد پانچ سو درہم ان کو دے دیئے اور کہہ دیا کہ اتنے ہی میرے ساتھی کے پاس ہیں لوگ اس کو لے کر رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں پہنچے حضور ﷺ نے ان سے گواہ طلب کئے ان کو گواہ نہ ملے تو حضور ﷺ نے حکم دیا کہ عدی سے قسم لے لیں عدی نے قسم کھالی اس پر آیت (یایہا الذین امنوا شہادۃ بینکم۔۔ سے۔۔ ان ثرد ایمان بعدایمانہم) تک نازل ہوئی تو عمرو ؓ بن العاص اور ان کے ساتھ ایک اور آدمی نے کھرے ہو کر قسم کھالی اور عدی بن بدا سے پانچ سو درہم نکلوا لئے گئے۔
Ayah 5:108ذلک یعنی وارثوں کے شبہ کی صورت میں وصیوں سے قسم لینا اور وصی خریدنے کا دعویٰ کریں تو وارثوں کو قسم کھلوانا۔
ادنی ان یاتوا بالشہادۃ علی وجہہا او یخافوا ان ترد ایمان بعد ایمانہم قریب ترین ذریعہ ہے اس امر کا کہ وہ (وصی) واقعہ کو ٹھیک طور پر ظاہر کریں یا اس بات سے ڈر جائیں کہ ان سے قسمیں لینے کے بعد بھی قسمیں لوٹائی جائیں گی۔
یَاتْواکی ضمیر وصیوں کی طرف راجع ہے اور شہادت سے مراد ہے اظہارِ حق اور میّت کی کی ہوئی وصیت کا بیان علی وجمعا سے مراد یہ ہے کہ جیسی وصیت تھی بغیر خیانت کے ویسا ہی ظاہر کردیں۔ یخافوا کا عطف یا توا پر ہے۔ تُرَدَّ ایْمانٌ کا یہ مطلب ہے کہ وصیوں کے انکار کے بعد پھر وارثوں سے قسم لی جائے گی۔
واتقوا اللہ اور اللہ سے ڈرو اس جملہ کا عطف محذوف جملہ پر ہے یعنی اللہ کے احکام کی پابندی کرو اور اللہ سے ڈرو۔
واسعموا اور (اللہ نے تم کو جو حکم دیا ہے اس کو گوش قبول سے) سنو۔
واللہ لا یہدی القوم الفسقین (اگر تم اللہ سے نہیں ڈرو گے اور اس کا حکم نہیں سنو گے تو اللہ کے دائرۂ اطاعت سے خارج ہوجاؤ گے) اور دائرۂ اطاعت سے خارج ہونے والے لوگوں کو اللہ ہدایت نہیں فرماتا یعنی (دنیا میں) کسی دلیل کی ہدایت نہیں کرتا یا (آخرت میں) جنت کا راستہ نہیں بتائے گا۔
ہماری اس تشریح پر آیات مذکورہ کی شان نزول سے مطابقت ہوجائے گی اور کسی جملہ کو منسوخ قرار دینے کی ضرورت نہ ہوگی کیونکہ وارثوں کے دعوے کا اگر وصی انکار کرے تو اس پر قسم کا عائد ہونا اور وصی اگر مال خیانت کو میّت سے خرید لینے کا دعویٰ کرے اور وارث منکر ہوں تو وارثوں پر قسم کا عائد ہونا غیر منسوخ اور محکم حکم ہے اور علماء کے نزدیک یہ امر تسلیم شدہ ہے کہ سورة مائدہ کی کوئی آیت منسوخ نہیں۔
لیکن حسن ‘ زہری اور عکرمہ نے آیت کا تفسیری مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ میّت مرنے کے وقت اگر کسی کے متعلق کچھ وصیت کرنی چاہے تو دو آدمیوں کو گواہ بنا لے تاکہ موصی لہٗ کے لئے وہ حاکم کے سامنے جا کر شہادت دے سکیں بظاہر آیت (لاَ تَشَّتَرِیْ بِہٖ ثَمَنًا وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰی) اسی مطلب پر دلالت کر رہی ہے مقصد یہ ہے کہ گواہ کہیں کہ موصیٰ لہٗ اگرچہ ہمارا قرابت دار ہے مگر ہم کسی لالچ میں آکر زیادہ مال کی وصیت کی شہادت نہیں دیں گے اس صورت میں ذواعدل منکم اواخران من غیرکمکا مطلب یہ ہوگا کہ دو گواہ وصیت کرنے والے کے قبیلہ کے ہوں یا کسی اور قبیلہ خاندان کے۔
مسئلہ کسی معاملہ میں مسلمان کے خلاف کافر کی شہادت قابل قبول نہیں۔ یہ مسئلہ مسلمہ ہے لیکن اکثر اہل تفسیر یہاں تک کہ حضرت ابن عباس ؓ حضرت ابو موسیٰ اشعری ‘ سعید بن مسیب ‘ ابراہیم نخعی ‘ سعید بن جبیر ‘ مجاہد اور عبیدہ نے آیت کی تفسیر میں منکم سے مراد مسلمانوں میں سے اور من غیرکم سے مراد کافروں میں سے ہونے کی صراحت کی ہے (اس تفسیر پر لازم آتا ہے کہ مسلمان پر کافر کی شہادت قابل قبول ہو) لہٰذا نخعی اور علماء کی ایک جماعت نے تو اس آیت کو منسوخ قرار دیا ہے اور بیان کیا ہے کہ ابتدائی دور میں یہ حکم تھا مسلمان پر کافر کی شہادت مان لینے کا جواز تھا لیکن پھر یہ حکم منسوخ کردیا گیا اب مسلمان پر کافر کی شہادت ناقابل سماعت ہے۔
بعض علماء کا قول ہے کہ آیت محکم ہے اگر مسلمان نہ ملیں تو کافروں کو شاہد بنانا درست ہے۔ قاضی شریح نے کہا سفر کی حالت میں اگر وصیت پر گواہ بنانے کے لئے مسلمان نہ ملیں تو کافروں کو گواہ بنایا جاسکتا ہے مگر یہ حکم صرف وصیت کو گواہ بنانے کا ہے وصیت کے علاوہ اور کسی مسئلہ کا گواہ کافروں کو نہیں بنایا جاسکتا۔
شعبی نے بیان کیا کہ دقوقا میں ایک مسلمان کا وقت وفات آپہنچا اور اس نے کچھ وصیت کرنی چاہی مگر کوئی مسلمان گواہ ملا نہیں آخر اس نے اہل کتاب میں سے دو آدمیوں کو وصیت کا گواہ بنا دیا اور دونوں شخص اس کا متروکہ سامان لے کر کوفہ میں پہنچے اور حضرت ابو موسیٰ ؓ اشعری کی خدمت میں حاضر ہو کر سامان پیش کردیا اور وصیت کی اطلاع دے دی۔ اشعری نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کے بعد ایسا واقعہ کوئی اور پیش نہیں آیا۔ پھر آپ نے دونوں سے قسم لی اور ان کی شہادت کے مطابق حکم نافذ کردیا۔
میں کہتا ہوں اگر آیت کو محکم مانا جائے تو اگر کسی وجہ سے غیر مسلم گواہوں کے بیان میں کوئی جھوٹ محسوس ہو تو وارثوں سے قسم لی جائے (کہ یہ غیر مسلم گواہ غلط کہتے ہیں)
Ayah 5:109یوم یجمع اللّٰہ الرسول جس روز اللہ پیغمبروں کو جمع کرے گا یعنی قیامت کے دن۔ یوم یجمعکا تعلق یا تو لا یہدی سے یعنی جس روز اللہ پیغمبروں کو جمع کرے گا اس روز کافروں کو جنت کا راستہ نہیں دکھائے گا یا اتقوا کے مفعول سے بدل ہے یا اسمعوا کا مفعول ہے اور مضاف محذوف ہے یعنی روز قیامت کی خبر سنو یا فعل محذوف کا مفعول ہے یعنی یاد کرو اور ڈرو روز قیامت سے۔
فیقول ماذا اجبتم پھر فرمائے گا تم کو (امت کی طرف سے) کیا جواب دیا گیا۔ ماذا۔ اجبتم کا مفعول مطلق ہے (یعنی کس قسم کا تم کو جواب دیا گیا) قوم کو سرزنش کرنے کے لئے انبیاء سے یہ سوال کیا جائے گا جیسے دوسری آیت میں ہے اذا الموودۃ سئلت بای ذنب قتلت کہ زندہ درگور کی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا کہ کس قصور پر تجھے قتل کیا گیا (یہ سوال بھی قاتل کو سرزنش کرنے کے لئے کیا جائے گا)
قالوا لا علم لنا پیغمبر عرض کریں گے ہم کو اس کا کچھ علم نہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ ‘ حسن ؓ ‘ مجاہد اور سدی نے کہا قیامت کی ہولناکیاں اور لرزدہ انگیزیاں دلوں کو ان کی جگہ سے ہلا دیں گے اور پیغمبر گھبرا جائیں گے۔ گھبراہٹ میں کوئی جواب نہ بن پڑے گا اور عرض کریں گے ہم کو کچھ علم نہیں پھر جب ہوش و حواس کچھ ٹھکانے آئیں گے تو اپنی اپنی امتوں کے متعلق شہادت دیں گے۔ ابن جریج نے کہا آیت کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر عرض کریں گے ہم کو معلوم نہیں کہ امت والوں کا مآل کار کیا رہا ہمارے بعد انہوں نے (دین میں) کیا کیا نئی باتیں ملا دیں اور دلوں کے اندر کیا کیا خیالات چھپائے رکھے۔
انک انت علام الغیوب بس تو ہی ڈھکی چھپی باتوں کو بخوبی جاننے والا ہے ہم جس سے لاعلم ہیں اس سے تو واقف ہے اور ہم کو تو صرف اپنے سامنے کی باتوں سے واقفیت ہے۔ ابوبکر ؓ اور حمزہ ؓ نے قرآن میں ہر جگہ غیوب یکسرغین پڑھا ہے باقی قراء کے نزدیک غیوب بضم غین ہے۔
حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (قیامت کے دن) حوض پر میرے پاس کچھ لوگ آ رہے ہوں گے کہ میں ان کو پہچان لوں گا لیکن ان کو میرے پاس پہنچنے سے پرے ہی روک لیا جائے گا میں کہوں گا یہ تو میرے پیارے صحابی ہیں یہ تو میرے پیارے ساتھی ہیں جواب ملے گا تم کو علم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی باتیں دین میں نکال رکھی تھیں۔ رواہ البخاری وغیرہ۔ اسی کے ہم معنی وہ آیت ہے جس میں حضرت عیسیٰ کے قول کی نقل کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا ہے (کنت شہیدا ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم) ۔
ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا ہم کو کوئی علم نہیں صرف اتنا علم ہے جس سے تو ہم سے زیادہ واقف ہے۔ بعض علماء نے کہا مطلب یہ ہے کہ تیرے علم کے مقابلہ میں ہم کو کوئی علم نہیں۔ بعض نے کہا مطلب یہ ہے جس امر کو تو ہم سے زیادہ جانتا ہے اس کو ہم سے دریافت کرنے کی کیا حکمت ہے اس کا ہم کو علم نہیں۔
Ayah 5:110اذ قال اللہ جب اللہ نے فرمایا۔ یہ یوم یجمع سے بدل ہے یعنی اس روز پیغمبروں سے جواب طلبی کر کے کافروں کو سرزنش کی جائے گی اور پیغمبروں کے ہاتھ پر جو معجزات ظاہر کئے گئے تھے جن کو بعض لوگوں نے جادو قرار دیا تھا اور علامت نبوت ماننے سے انکار کردیا تھا اور بعض نے نشان الوہیت سمجھ کر پیغمبروں کو معبود بنا رکھا تھا ان معجزات کو شمار کر کے کافروں کو توبیخ کی جائے گی۔
یا اذ قالمفعول ہے اور اس کا فعل محذوف ہے یعنی یاد کرو۔
یعیسی بن مریم اذکر نعمتی علیک وعلی والدتک اے عیسیٰ بن مریم ! میرے اس احسان کو یاد کر جو تیرے اوپر اور تیری ماں پر تھا۔ نعمت کا لفظ اگرچہ مفرد ہے لیکن معنی جمع کے ہیں کیونکہ اس سے مراد اسم جنس ہے۔
والدہ سے مراد مریم ( علیہ السلام) ہیں جن کو اللہ نے پاک کردیا تھا اور سارے جہان کی عورتوں پر ان کو فضیلت دی تھی۔ حسن نے کہا نعمت کو یاد کرنے سے مراد ہے شکر کرنا۔
اذ ایدتک بروح القدس جب روح القدس کے ذریعہ سے میں نے تجھے طاقت عطا کی تھی۔ اِذْا یَّدْتُّ نعمتی کا مفعول فیہ ہے یا حال ہے۔ روح القدس سے مراد ہے جبرئیل ( علیہ السلام) یا وہ کلام جو لوگوں کو ابدی زندگی عطا فرمانے والا اور دلوں کو گناہوں سے پاک کرنے والا تھا ‘ روح القدس پاکی پیدا کرنے والا کلام اور وہ کلام جس سے مردے زندہ ہوجاتے تھے۔
تکلم الناس فی المہد وکہلا کہ تو گہوارے میں ہونے کی حالت اور ادھیڑ عمر میں ہونے کی حالت میں (برابر ایک ہی طرح کا) کلام لوگوں سے کرتا تھا یعنی بچپن اور شیرخوارگی کی عمر میں بھی تیرا کلام ویسا ہی پُر حکمت اور عاقلانہ ہوتا تھا جیسا متوسط عمر کا کلام اس آیت سے لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) آسمان سے اتریں گے کیونکہ جس وقت ان کو اٹھایا گیا اس وقت ان کی عمر متوسط نہ تھی (غالباً 33 برس تھی) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے تیس سال کی عمر میں عیسیٰ ( علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا تیس ماہ آپ نے رسالت کی حالت میں گزارے پھر اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔
بعض افاضل کا قول ہے کہ آیت سے بچپن اور متوسط عمر کے کلام کا ایک جیسا ہونا ثابت نہیں ہوتا بلکہ اولیٰ یہ ہے کہ کھلا کے لفظ کو تشبیہ بلیغ قرار دیا جائے یعنی حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) بچپن میں اسی طرح لوگوں سے کلام کرتے تھے جیسا اس عمر میں کرتے تھے جبکہ وہ ادھیڑ عمر والے کی طرح ہوگئے تھے (یعنی 32 یا 33 برس کے) اس مطلب پر آیت سے نزول عیسیٰ ( علیہ السلام) پر استدلال نہیں کیا جاسکتا۔
واذا علمتک الکتب والحکمۃ والتوارۃ والانجیل اور جب میں نے تجھے سکھائیں کتابیں اور سمجھ کی باتیں اور توریت اور انجیل ‘ اذ یدتک پر اس کا عطف ہے۔
واذا تخلق من الطین کہیءۃ الطیر اور جب تو پرندہ کی شکل ایسی شکل گارے کا بناتا تھا۔
باذنی فتنفخ فیہا فتکون طیرا باذنی . میرے حکم سے پھر اس پر پھونک مارتا تھا اور وہ میرے حکم سے (زندہ) پرندہ بن جاتا تھا۔
وتبری الاکمہ والابرص باذنی اور میرے حکم سے مادر زاد اندھے کو اور برص کے بیمار کو اچھا کردیتا تھا۔
واذا تخرج الموتی باذنی اور یاد کے قابل ہے وہ وقت جب میرے حکم سے تو مردوں کو (زندہ کرکے قبروں کے اندر سے) باہر نکال کھڑا کرتا تھا۔
واذا کففت بنی اسرائیل عنک اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تیرے قتل سے باز رکھا اور پھیر دیا۔
اس جملہ کا عطف اذ علمتک پر ہے۔ بنی اسرائیل سے مراد ہیں وہ یہودی جنہوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔
اذ جئتہم بالبینت جب تو ان کے پاس معجزات (مذکورۂ بالا) لے کر پہنچا تھا۔ یہ کففت کا مفعول فیہ ہے (یعنی بنی اسرائیل کو قتل کرنے سے اللہ نے اس وقت باز رکھا تھا جب تو نے ان کے سامنے معجزات ظاہر کئے تھے)
فقال الذین کفروا منہم ان ہذا الا سحر مبین اور ان میں سے کافروں نے کہا تھا کہ یہ تو صرف کھلا ہوا جادو ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔
حمزہ اور کسائی نے اس جگہ اور سورة ہود اور الصف میں الاساحر پڑھا ہے اس قرأت پر یہاں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف اور سورة ہود میں رسول اللہ ﷺ : کی طرف اشارہ ہوجائے گا۔
Ayah 5:111واذا اوحیت الی الحواریین اور جب میں نے حواریوں کے دل میں ڈالا۔ اس کا عطف اذ کففت پر ہے وحی کرنے سے اس جگہ مراد ہے دل میں ڈالنا۔ عبد بن حمید نے قتادہ ؓ : کا اور ابوالشیخ نے سدی کا یہی قول بیان کیا ہے۔ بعض علماء کے نزدیک وحی سے مراد ہے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی زبانی حکم بھیجنا۔
ان امنوا بی وبرسولی کہ مجھ پر اور میرے پیغمبر پر ایمان لاؤ۔ اَنْمصدریہ ہے یا اوجیت کی تفسیر ہے۔
قالوا امنا تو انہوں نے کہا ہم ایمان لائے۔
واشہد باننا مسلمون اور (اے عیسیٰ ) آپ گواہ رہیں کہ ہم مخلص ہیں۔