5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 5:26

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

خدا نے فرمایا کہ وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کر دیا گیا (کہ وہاں جانے نہ پائیں گے اور جنگل کی) زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کرو

قال فانہا محرمۃ علیہم اللہ نے فرمایا وہ سرزمین ان کے لئے حرام کردی گئی یعنی ان کو وہاں داخل ہونے سے روک دیا گیا وہاں ان کا داخلہ نہ ہوگا یہ وہاں نہ رہ سکیں گے۔ تحریم سے مراد تحریم تعبدی (یعنی حکم ممانعت) نہیں ہے (داخلہ کا وجوبی حکم تو دیا گیا ہی تھا ‘ جو بدستور برقرار تھا) بلکہ تحریم سے مراد ہے محروم کردینا۔ اربعین سنۃ چالیس برس تک۔ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً کا بظاہر تعلق مُحَرَّمَۃٌسے ہے اس صورت میں تحریم داخلہ محدود ہوگی دوامی نہ ہوگی اور کَتَبَ اللّٰہَ لَکُمْکا معنی اگر لوح محفوظ میں لکھنا اور مقدر کردینا ہی ہو تب بھی دونوں آیتوں میں کوئی تعارض نہ ہوگا (کیونکہ تحریم دوامی نہ تھی وقتی تھی) اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ جو اسرائیلی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے فرماں پزیر تھے ان کو ساتھ لے کر آپ اریحا گئے اور اریحا کو فتح کیا۔ یوشع ہر اوّل دستہ میں تھے۔ انہوں نے جا کر عمالقہ سے جنگ کی ‘ پھر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اریحا میں قیام پذیر رہے ‘ پھر اللہ نے آپ کو طلب فرما لیا اور آپ کی قبر مبارک کسی کو معلوم نہیں۔ یہ قصہ آگے آئے گا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ تمام اقوال میں یہ قول سب سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ باتفاق علماء یہ بات ثابت ہے کہ عوج بن عنق کو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے قتل کیا تھا۔ میں کہتا ہوں کہ آیات : وَاِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نَصْبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْبِتُ الْاَرْضُ مِنْ بَقْلِہَا وَقثآءِہَا وَفُوْمِہَا وَعَدَسِہَا وَبَصَلِہَا۔۔ اِہْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَکُمْ مَا سَاَلْتُمْتک بتارہی ہیں کہ جب بنی اسرائیل کو تیہ سے نجات دے کر کسی بستی میں اتارا گیا تو اس وقت تک حضرت موسیٰ زندہ تھے اور یہ واقعہ چالیس سال کے بعد کا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً کا تعلق یَتِیْمُوْنَسے ہے۔ یتیمون فی الارض (یعنی چالیس برس تک) اسی زمین میں حیراں و سرگردان پھرتے رہیں گے۔ نکلنے کا راستہ نہیں ملے گا۔ اس صورت میں تحریم دوامی ہوگی۔ جس جس نے لن ندخلہا کہا تھا کوئی بھی ارض مقدسہ میں داخل نہ ہوسکا۔ سب تیہ میں ہی مر کھپ کر رہ گئے۔ ان کی نسل نے حضرت یوشع ( علیہ السلام) کے ساتھ جا کر عمالقہ سے جنگ کی۔ چالیس سال کے اندر جب تمام منکر مرگئے اور ان کی اولاد بڑھ کر جوان ہوگئی تو حضرت یوشع کے ہمرکاب یہ لوگ گئے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت ہارون کی وفات تیہ کے اندر ہی ہوئی اور آپ کی وفات کے بعد حضرت یوشع ( علیہ السلام) ارض مقدسہ میں داخل ہوئے۔ کذا اخرج ابن جریر و ابن ابی حاتم عن ابن عباس ؓ ۔ بغوی نے لکھا ہے اس روایت پر قصہ اس طرح ہوا کہ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی وفات ہوگئی اور چالیس سال کی مدت گزر گئی تو اللہ نے حضرت یوشع کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت یوشع نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اللہ نے عمالقہ سے جنگ کرنے کا حکم دیا ہے۔ سب نے آپ کی تصدیق کی اور آپ کے ہاتھ پر بیعت (جہاد) کرلی اور اریحا کی طرف روانہ ہوگئے ‘ ساتھ ساتھ میثاق والا صندوق بھی تھا۔ اریحا پہنچ کر شہر کا محاصرہ کرلیا اور چھ ماہ تک محاصرہ جاری رکھا ساتواں مہینہ شروع ہوتے ہی سنکھ پھونکا گیا اور یکدم نعرہ مارا فوراً شہر پناہ کی دیوار گر پڑی اور بنی اسرائیل نے شہر میں گھس کر عمالقہ سے مار دھاڑ شروع کردی آخر ان کو شکست دے دی اور یکدم حملہ کر کے قتل کرنے لگے۔ بنی اسرائیل کا گروہ کا گروہ ایک ایک عملیقی کی گردن پر چڑھ کر کاٹنے کے لئے زور لگاتا تھا مگر کاٹ نہ پاتا تھا۔ یہ جنگ جمعہ کے دن ہوئی تھی۔ دن بھر جاری رہی پھر بھی شام تک پوری نہ ہوئی سورج غروب ہونے لگے اور سنیچر کا دن شروع ہونے والا تھا۔ حضرت یوشع نے دعا کی اے اللہ ! سورج کو میری طرف لوٹا دے اور سورج سے فرمایا تو اللہ کی تعمیل حکم میں لگا ہوا ہے اور میں بھی اسی کی فرماں پذیری میں مشغول ہوں تو ٹھہر جا تاکہ اللہ کے دشمنوں سے میں انتقام لے لوں یوں سورج کو لوٹا دیا گیا اور دن ایک گھنٹہ بڑھا دیا گیا۔ آخر حضرت یوشع نے سب کو قتل کردیا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت یوشع نے پھر شاہان شام کا پیچھا کیا۔ یہاں تک کہ 31 بادشاہوں کو قتل کیا اور تمام ملک شام پر تسلط حاصل کرلیا اور اپنی طرف سے حاکم ہر طرف مقرر کردیئے اور مال غنیمت جمع کرلیا مگر (مال غنیمت کو جلانے کے لئے) آگ آسمان سے نہیں اتری (یوشع ( علیہ السلام) پریشان ہوئے کہ خدا جانے کیا قصور ہوگیا) وحی آئی کہ کسی نے مال غنیمت میں کچھ چوری کی ہے۔ بنی اسرائیل کو حکم دو کہ وہ (از سر نو) تمہاری بیعت کریں۔ حسب الحکم سب نے بیعت کی۔ بیعت کرتے وقت ایک شخص کا ہاتھ حضرت یوشع کے ہاتھ سے چمٹ گیا۔ حضرت یوشع نے فرمایا تیرے پاس کیا ہے وہ شخص سونے کا بنا ہوا بیل کا ایک سر لے آیا جو جواہرات سے مرصع تھا ‘ اس آدمی نے مال غنیمت میں سے اس کو چرایا تھا۔ حضرت یوشع نے وہ سر قربانی کے مال میں شامل کردیا اور چور کو بھی اسی میں ڈال دیا اور (آسمان سے) ایک آگ آکر سب کو کھا گئی۔ پھر کچھ مدت کے بعد حضرت یوشع کی وفات ہوگئی اور کوہ افرائیم میں آپ کو دفن کیا گیا آپ کی عمر 126 سال ہوئی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد 26 برس آپ نے بنی اسرائیل کا انتظام کیا۔ فلا تاس علی القوم الفسقین . اور ان بدکار لوگوں کا رنج نہ کرو۔ یہ خطاب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو اس وقت کیا گیا جب آپ کو بددعا کرنے پر پشیمانی ہوئی تھی۔ الفاسقین کے لفظ سے اس طرف واضح اشارہ ہے کہ فاسق ہونے کی وجہ سے لوگ اسی کے مستحق ہیں۔ روایت میں آیا ہے کہ بنی اسرائیل چھ فرسخ کے اندر چالیس سال تک گھومتے رہے دن بھر کوشش کر کے چلتے لیکن شام کو اسی جگہ ہوتے جہاں سے چلنا شروع کرتے۔ ابوالشیخ ” العظمۃ “ میں اور ابن جریر نے وہب بن منبہ کا قول اسی طرح نقل کیا ہے لیکن اس روایت میں چھ فرسخ کا ذکر نہیں ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل چھ لاکھ جنگی سپاہی تھے بعض اقوال میں آیا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت ہارون ان کے ساتھ نہیں تھے مگر صحیح یہ ہے کہ ساتھ میں موجود تھے اور تیہ میں موجودگی آپ کے لئے بطور سزا نہ تھی بلکہ ترقی درجات کا باعث اور (اخروی) راحت کا سبب تھی سزا تو صرف (نافرمان) بنی اسرائیل کے لئے تھی۔ تیہ میں ابر کا سایہ تمام لوگوں پر پانچ یا چھ فرسخ تک ہوتا تھا۔ ابن جریر نے ربیع بن انس کا یہی قول نقل کیا ہے رات میں روشنی کا ایک ستون نمودار ہوجاتا تھا جس سے اجالا ہوجاتا تھا۔ کھانے کے لئے من وسلویٰ تھا اور پینے کیلئے اس پتھر سے پانی پھوٹ نکلتا تھا جو بنی اسرائیل ساتھ لئے پھرتے تھے جب تیہ کی مدت ختم ہوگئی تو حکم ہوا۔ بستی میں جا کر اترو۔ پھر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے عمالقہ سے جہاد کیا اور اریحا کو فتح کیا اور حکم دیا گیا کہ (شہر کے) دروازہ میں سر جھکائے استغفار کرتے داخل ہو۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی وفات کا قصّہ سدی نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی کہ میں ہار ون کو وفات دینے والا ہوں تم ان کو فلاں پہاڑ پر لے آؤ حسب الحکم موسیٰ ( علیہ السلام) اور ہارون مقررہ پہاڑ کی طرف گئے وہاں ایک عجیب درخت دیکھا کہ ایسا درخت کبھی نہیں دیکھا تھا اور ایک مکان بھی نظر آیا جس کے اندر تخت بچھا ہوا تھا اور تخت پر بستر لگا ہوا تھا جس سے خوشبو مہک رہی تھی۔ حضرت ہارون نے یہ منظر دیکھ کر پسند کیا اور بولے موسیٰ میں تو اس تخت پر سونا چاہتا ہوں۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا سو جاؤ۔ حضرت ہارون نے کہا اندیشہ یہ ہے کہ کہیں گھر والا آکر ناراض نہ ہو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا اس کا اندیشہ نہ کرو ‘ گھر والے سے میں نمٹ لوں گا۔ حضرت ہارون نے کہا موسیٰ ( علیہ السلام) ! میرے ساتھ آپ بھی سو جائیں۔ اب گھر والا آجائے گا تو مجھ پر اور آپ پر دونوں پر غصہ ہوگا چناچہ دونوں سو گئے اور (سوتے میں ہی) حضرت ہارون کی وفات ہوگئی۔ وفات سے پہلے موت کا احساس کر کے حضرت ہارون نے کہا موسیٰ ( علیہ السلام) میری آنکھوں کو بند کر دو ۔ جب وفات ہوگئی تو وہ مکان درخت اور تخت سب آسمان کی طرف اٹھا لئے گئے اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) تنہا بغیر ہارون کے لوٹ آئے۔ تنہا آتا دیکھ کر بنی اسرائیل بولے چونکہ قوم والے ہارون سے محبت کرتے تھے اس لئے موسیٰ ( علیہ السلام) کو حسد ہوا اور انہوں نے ہارون ( علیہ السلام) کو قتل کردیا۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا ارے کم بختو ! ہارون تو میرا بھائی تھا۔ کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ میں نے اس کو قتل کردیا جب لوگوں نے یہ بات بہت زیادہ کہی تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھی اور اللہ سے دعا کی آپ کی دعا سے تخت اتر آیا اور لوگوں نے آسمان و زمین کے درمیان معلق تخت دیکھ لیا تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے قول کی تصدیق کی۔ حضرت علی ؓ بن ابی طالب کا قول روایت میں آیا ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) اور ہارون ( علیہ السلام) پہاڑ پر چڑھے۔ وہاں ہارون ( علیہ السلام) کی وفات ہوگئی ‘ تو بنی اسرائیل نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہا تم نے ہارون کو قتل کیا ہے (تہمت قتل لگا کر کم بختوں نے) حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو دکھ پہنچایا تو اللہ کے حکم سے فرشتے ہارون کو اٹھا کر بنی اسرائیل کی طرف سے لے کر گزرے اور فرشتوں نے (باہم) ہارون کی موت کا چرچا کیا اس وقت بنی اسرائیل کو ہارون کی موت کا یقین ہوا اور اللہ نے ان کی تہمت تراشی سے موسیٰ ( علیہ السلام) کو نجات دی۔ پھر ملائکہ ہی ہارون کا جنازہ لے گئے اور کہیں دفن کردیا۔ آپ کے مقام دفن کا معائنہ سوائے ایک رخم (ایک قسم کا گدھا کے) اور کسی نے نہیں کیا۔ مگر اس رخم کو اللہ نے گونگا بہرا بنا دیا۔ عمرو بن میمون کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) تیہ ہی میں تھے کہ حضرت ہارون ( علیہ السلام) کا انتقال ہوگیا دونوں بزرگ پہاڑ کے کسی غار کی طرف گئے تھے۔ وہاں حضرت ہارون کی وفات ہوگئی۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ان کو دفن کر کے واپس آئے تو بنی اسرائیل بولے ہم کو چونکہ ہارون ( علیہ السلام) سے محبت تھی (اس حسد کی وجہ سے) آپ نے ان کو قتل کردیا۔ حضرت ہارون ( علیہ السلام) سے واقع میں بھی بنی اسرائیل کو محبت تھی۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے عاجزی کے ساتھ اللہ سے دعا کی اللہ نے وحی بھیجی کہ بنی اسرائیل کو ہارون کی قبر کی طرف لے جاؤ۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سب کو لے کر ہارون کی قبر پر پہنچے اور وہاں پہنچ کر آواز دی ہارون ( علیہ السلام) فوراً حضرت ہارون ( علیہ السلام) سر جھاڑتے ہوئے قبر سے نکل آئے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے پوچھا کیا میں نے تم کو قتل کیا ہے۔ حضرت ہارون نے کہا نہیں۔ میں تو اپنی موت مرا ہوں۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا تو اپنی خوابگاہ کو لوٹ جاؤ (حضرت ہارون ( علیہ السلام) واپس لوٹ گئے) اور بنی اسرائیل بھی لوٹ آئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کا قصّہ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو موت گوارا نہ تھی اور اللہ نے چاہا کہ موسیٰ کی نظر میں موت محبوب ہوجائے اس لئے یوشع بن نون کو پیغمبری سے سرفراز فرمایا۔ حضرت یوشع صبح شام حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے پاس جاتے تھے اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ان سے پوچھتے تھے اے اللہ کے نبی اللہ نے آپ کے پاس کیا نیا پیام بھیجا۔ حضرت یوشع ( علیہ السلام) کچھ نہیں بیان کرتے تھے اور جواب دیتے تھے۔ اے نبی اللہ کیا اتنے اتنے سال میں آپ کی صحبت میں نہیں رہا تو کیا اتنی طویل مدت میں جب تک آپ نے خود ہی ذکر نہیں کیا میں نے کبھی آپ سے سوال کیا۔ اللہ نے کیا نیا پیام آپ کے پاس بھیجا ہے۔ آپ نے اپنی طرف سے خود ہی بیان کردیا تو کردیا جب موسیٰ ( علیہ السلام) نے یہ جواب سنا تو زندگی سے نفرت اور موت سے رغبت ہوگئی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا موت کا فرشتہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے پاس آیا اور کہا اپنے رب کا بلاوا قبول کیجئے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ملک الموت کے طمانچہ مارا جس سے اس کی ایک آنکھ پھوٹ گئی ملک الموت نے اللہ سے جا کر عرض کیا کہ تو نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیجا تھا جو مرنا نہیں چاہتا اور اس نے میری آنکھ پھوڑ دی۔ اللہ نے دوبارہ ملک الموت کو آنکھ عطا کر کے حکم دیا کہ میرے بندے کے پاس واپس جا کر کہو کہ کیا تو زندہ رہنے کا خواستگار ہے اگر تیری خواہش یہی ہے تو اپنا ہاتھ کسی بیل کی پشت پر رکھ جتنے بال تیرے ہاتھ میں آئیں گے اتنے ہی سال تو زندہ رہے گا (ملک الموت نے جا کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو اللہ کا پیام پہنچا دیا) حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے پوچھا پھر کیا ہوگا۔ ملک الموت نے کہا پھر آپ کو مرنا ہوگا۔ حضرت موسیٰ نے کہا پھر تو ابھی صحیح اور دعا کی پروردگار ! مجھے ارض مقدس کے اتنے قریب پہنچا دے کہ ایک اینٹ پھینکنے کے بقدر فاصلہ رہ جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں وہاں ہوتا تو تم کو موسیٰ ( علیہ السلام) کی قبر راستہ کے کنارہ پر سرخ ٹیلہ کے قریب دکھا دیتا۔ رواہ البخاری و مسلم۔ وہب نے بیان کیا کہ ایک بار حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کسی کام سے باہر گئے آپ نے وہاں دیکھا کہ فرشتوں کی ایک جماعت قبر کھود رہی ہے کہ نہ ایسی قبر کبھی دیکھی تھی نہ وہ رونق ‘ شادابی اور تروتازگی جو اس قبر میں تھی کبھی دیکھی پوچھا اللہ کے فرشتو ! یہ قبر کس لئے کھود رہے ہو۔ فرشتوں نے کہا ایک ایسے بندہ کے لئے جو اللہ کے ہاں بڑی عزت والا ہے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا وہ بندہ بڑے مرتبہ والا ہوگا جس کی خوابگاہ کی طرح میں نے کبھی نہیں دیکھی۔ ملائکہ نے کہا اے صفی اللہ کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ یہ خواب گاہ آپ کی ہوجائے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا میں تو یہی چاہتا ہوں فرشتوں نے کہا تو اس میں اتر کر لیٹ جائیے اور اپنے رب کی طرف توجہ کیجئے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اس قبر میں لیٹ گئے اور اللہ کی طرف توجہ کی ‘ پھر بہت ہی ہلکی سی سانس لی اور اللہ نے آپ کی روح قبض کرلی۔ حضرت موسیٰ کی عمر 120 برس کی ہوئی۔
Ayah 5:27

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 5:27 in the Quran reader

اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے (ہیں) پڑھ کر سنا دو کہ جب ان دونوں نے خدا (کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کروں گا اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے

واتل علیہم نبا ابنی ادم بالحق اور ان کو سنائیے آدم ( علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کی سچی خبر۔ یعنی ایسی خبر جو گزشتہ انبیاء کی کتابوں کی صراحت کے موافق ہے۔ اذ قربا قربانا جب دونوں نے قربانی پیش کی۔ قربان وہ چیز جو بطور بھینٹ پیش کی جائے ‘ جس سے اللہ کا قرب حاصل کرنا مقصود ہو خواہ وہ ذبیحہ ہو یا کوئی اور چیز۔ جیسے حلوان اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی کو دی جائے۔ اصل لغت میں قربان مصدر ہے ‘ اسی لئے تثنیہ نہیں لایا گیا (باوجودیکہ ہر ایک کی قربانی جدا جدا تھی) بعض علماء نے لکھا ہے کہ قَرَّبَا کا مطلب ہے قَرَّبَ کُلُّ واَحدٍِ منِہُمَا یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنی قربانی پیش کی۔ قربانی پیش کرنے کا قصہ اہل علم نے اس طرح ذکر کیا ہے کہ حضرت حوّ اء کے بطن سے ہر مرتبہ میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوتی تھی۔ کل بیس مرتبہ میں چالیس بچے پیدا ہوئے سب سے پہلے قابیل اور اس کی ہمزاد اقلیمیا کی ولادت ہوئی ‘ دوسری مرتبہ میں ہابیل اور اس کی ہمزاد لبودا ہوئے ‘ آخر میں ابوالمغیث اور ام المغیث کی پیدائش ہوئی۔ حضرت ابن عباس ؓ : کا قول مروی ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کی زندگی میں ہی آپ کی اولاد اور اولاد کی نسل چالیس ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ محمد بن اسحاق نے بعض علماء اسرائیلیات کے حوالے سے لکھا ہے کہ قابیل اور اس کی بہن کی پیدائش جنت میں ہوئی تھی۔ ان کی پیدائش پر حضرت حوا کے نہ دکھ ہوا تھا نہ درد نہ تکان نہ خون آیا نہ اخراج مشیمہ ہوا۔ لیکن جب جنت سے زمین پر ان کو اتارا گیا اور ہابیل اور اس کی بہن کی پیدائش ہوئی تو دکھ درد بھی ہوا اور ماندگی بھی اور خون بھی نکلا اور اخراج مشیمہ بھی۔ بعض اہل علم کا بیان ہے کہ زمین پر اترنے کے سو برس کے بعد حضرت آدم نے حضرت حوا سے قربت کی اور (زمین پر) قابیل اور اس کی بہن کی پیدائش ہوئی۔ پھر دو سال کے بعد ہابیل اور اس کی بہن کی پیدائش ہوئی۔ یہ آخری فقرہ کلبی کا ہے۔ حضرت آدم ( علیہ السلام) کی اولاد جب جوان ہوجاتی تو آپ ایک بطن کے لڑکے اور دوسرے بطن کی لڑکی کا باہم نکاح کردیتے تھے بلکہ ہر لڑکے کو اختیار تھا کہ اپنی ہمزاد لڑکی کے علاوہ جس : بطن کی لڑکی سے نکاح کرنا چاہے کرلے۔ چناچہ قابیل و ہابیل ( علیہ السلام) جب نکاح کے قابل ہوئے تو اللہ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کے پاس حکم بھیجا کہ دونوں میں سے ہر ایک کا دوسرے کی ہمزاد لڑکی سے نکاح کردیں۔ ہابیل تو اس حکم پر رضامند ہوگیا مگر قابیل ناخوش ہوگیا کیونکہ اس کی ہمزاد زیادہ حسین تھی۔ کہنے لگا میں اس کا زیادہ مستحق ہوں۔ ہم دونوں کی پیدائش جنت میں ہوئی تھی اور ان دونوں کی زمین پر۔ حضرت آدم ( علیہ السلام) نے فرمایا تیری ہمزاد تیرے لئے حلال نہیں۔ قابیل نے یہ بات ماننے سے انکار کردیا اور بولا یہ کوئی اللہ کا حکم نہیں ہے ‘ صرف آپ کی رائے ہے حضرت آدم نے فرمایا تو تم دونوں قربانی پیش کرو جس کی قربانی قبول ہوجائے گی وہی اس کا مستحق قرار پائے گا۔ قربانی کے قبول و عدم قبول کا معیار یہ تھا کہ آسمان سے ایک سفید آگ آکر قربانی کو کھا جاتی تھی اور قربانی قبول ہوجاتی تھی اور اگر آگ نہ آتی تھی تو غیر مقبول قرار پاتی تھی اور پھر چرندے ‘ پرندے ‘ درندے (جن کی خوراک ہوتی تھی وہ) کھالیتے تھے۔ حسب مشورہ دونوں قربانی پیش کرنے کے لئے نکلے۔ قابیل کاشتکار تھا ‘ اس نے بہت ہی ردی قسم کا ایک ڈھیر غلہ پیش کیا اور دل میں یہ خیال چھپائے رکھا کہ میری قربانی قبول ہو یا نہ ہو مجھے پرواہ نہیں۔ ہابیل میری بہن سے نکاح نہیں کرسکتا تھا۔ ہابیل بکریوں والا تھا اس نے نہایت عمدہ مینڈھا قربانی میں پیش کیا اور اللہ کی خوشنودی کے حصول کی نیت رکھی دونوں نے اپنی اپنی قربانی پہاڑ پر رکھ دی پھر حضرت آدم ( علیہ السلام) نے دعا کی اور آسمان سے ایک آگ آئی۔ فتقبل من احدہما ولم یتقبل من الاخر پس ایک (یعنی ہابیل) کی قربانی قبول کرلی گئی ( آگ نے اس کو کھالیا) اور دوسرے (یعنی قابیل) کی قربانی نہیں قبول کی گئی۔ قابیل کو اس پر بڑا غصہ آیا اور دل میں جلن کو چھپائے رکھا۔ جب حضرت آدم کعبہ کی زیارت کے لئے مکہ کو تشریف لے گئے تو قابیل ہابیل کے پاس پہنچا اور قال لاقتلنک ہابیل ( علیہ السلام) نے کہا میں تجھے ضرور مار ڈالوں گا۔ قال ہابیل ( علیہ السلام) نے کہا کیوں ؟ قابیل نے کہا اس لئے کہ اللہ نے تیری قربانی قبول کرلی اور میری قربانی رد کردی (اگر) تو میری خوبصورت بہن سے اور میں تیری بدصورت بہن سے نکاح کرلوں گا تو لوگ کہیں گے کہ تو مجھ سے بہتر ہے اور تیری اولاد میری اولاد پر فخر کرے گی۔ ہابیل نے جواب دیا میرا کیا قصور ہے۔ انما یتقبل اللہ من المتقین اللہ انہی کی (قربانی) قبول فرماتا ہے جو اس سے ڈرتے ہیں۔ اس آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ حاسد کو چاہئے کہ اپنی ناکامی کا سبب اپنی کوتاہی کو سمجھے اور جس سبب سے محسود کامیاب ہوتا ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ محسود کے نصیب کے زوال کی کوشش نہ کرے اس سے حاسد کا نقصان ہی ہوگا کچھ فائدہ نہ ہوگا اور طاعت اسی مؤمن کی قبول کی جاتی ہے جو ممنوعات اور بری حرکتوں سے بچتا رہے بشرطیکہ اس کی نیت میں خلوص ہو۔ آیت مذکورہ کی تفسیر میں ابن ابی شیبہ نے ضحاک کا قول نقل کیا ہے کہ متقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو شرک سے بچتے ہیں۔ میں کہتا ہوں شاید اس آیت سے مراد یہ ہے کہ قربانی اسی کی قبول کی جاتی ہے جو دونوں میں حق پر ہو جو باطل پر ہو اس کی قربانی قبول نہیں کی جاتی۔ موسیٰ بن اعین سے اس آیت کا معنی پوچھا گیا تو فرمایا متقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو حلال چیزوں سے بھی حرام چیزوں (میں مبتلا ہوجانے) کے ڈر سے بچتے ہیں۔ ابن ابی الدنیا نے حضرت علی ؓ کا ارشاد نقل کیا ہے آپ نے فرمایا تقویٰ کے ساتھ کوئی (چھوٹا اور تھوڑا) عمل بھی قلیل نہیں ہوتا۔ جو عمل قبول ہوجائے وہ قلیل کیسے ہوسکتا ہے۔ ابن ابی الدنیا نے بیان کیا کہ عمر بن عبدالعزیز نے ایک شخص کو لکھا میں تجھے اس تقویٰ کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں جس کے سوا کوئی چیز مقبول نہیں اور صرف انہی لوگوں پر رحم کیا جاتا ہے جو اہل تقویٰ ہوں اور محض تقویٰ کا ہی ثواب ملے گا (اس کے بغیر کسی عمل کا ثواب نہیں) تقویٰ کا وعظ کہنے والے بہت ہیں مگر اس پر عمل کرنے والا تھوڑے ہیں۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا ہے کہ حضرت ابو درداء نے فرمایا ‘ اگر یہ امر ثابت ہوجائے کہ اللہ نے میری ایک نماز قبول فرما لی ہے تو یہ بات ساری دنیا اور موجودات دنیا سے میری نظر میں زیادہ محبوب ہوگی کیونکہ اللہ فرماتا ہے کہ اللہ صرف تقویٰ والوں کا عمل قبول فرماتا ہے۔ ابن عساکر نے ہشام بن یحییٰ کی روایت سے یحییٰ کا بیان نقل کیا ہے کہ کوئی مانگنے والا حضرت ابن عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے اپنے لڑکے کو حکم دیا کہ اس کو ایک درہم دے دو لڑکے نے ایک درہم دے دیا جب سائل واپس چلا گیا تو بیٹے نے کہا ابا اس نے آپ کا دیا ہوا درہم قبول کرلیا۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ اللہ نے ایک سجدہ یا ایک درہم کا صدقہ قبول فرما لیا تو پھر موت سے زیادہ محبوب مجھے کوئی غائب چیز نہ ہوگی (ساری دنیا میرے پاس سے چلی جائے مجھے کچھ پرواہ نہ ہوگی میں موت کا مشتاق ہوجاؤں گا) تم جانتے ہو اللہ کس کا عمل قبول کرتا ہے۔ صرف تقویٰ والوں کا عمل قبول فرماتا ہے۔ ابن عساکر نے بیان کیا کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا اگر میرے علم میں آجائے کہ اللہ میرا ایک عمل قبول فرما رہا ہے تو یہ بات زمین بھر سونے سے میرے لئے زیادہ محبوب ہوگی۔ حضرت عامر بن عبداللہ کے مرنے کا وقت آیا تو رونے لگے لوگوں نے کہا آپ کیوں روتے ہیں آپ تو ایسے ایسے ‘ یعنی بڑے عبادت گزار تھے فرمایا میں نے سنا ہے اللہ فرماتا ہے کہ تقویٰ والوں کا عمل ہی اللہ قبول فرماتا ہے (اور معلوم نہیں اس کی نظر میں میں تقویٰ والا ہوں یا نہیں ہوں)
Ayah 5:28

لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:28 in the Quran reader

اور اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے مجھ پر ہاتھ چلائے گا تو میں تجھ کو قتل کرنے کے لئے تجھ پر ہاتھ نہیں چلاؤں گا مجھے تو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے

لئن بسطت الی یدک لتقتلنی ما انا بباسط یدی الیک لا قتلک (ہابیل نے جواب میں کہا) اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے میری طرف ہاتھ بڑھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لئے دست درازی نہیں کروں گا۔ انی اخاف اللہ رب العلمین کیونکہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہان کا مالک ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ نے فرمایا بخدا مقتول قاتل سے زیادہ طاقتور تھا لیکن تقویٰ نے اس کو دست درازی کرنے سے روکا یعنی اللہ کے ڈر سے اس نے خود سپردگی سے کام لیا۔ اس کی وجہ یا تو یہ تھی کہ اس وقت دفاع جائز نہ تھا۔ مجاہد کا بیان ہے کہ اس زمانہ میں حکم تھا کہ اگر کوئی کسی کو قتل کرنا چاہے تو مقتول ہونے والا دفاع نہ کرے صبر سے کام لے یا ہابیل نے اس امر کو اختیار جو افضل تھا (یعنی اپنے دفاع کے لئے قتل کردینا اگرچہ جائز تھا مگر مقتول ہوجانا قاتل ہونے سے افضل تھا اس لئے انہوں نے مقتول ہونے کو پسند کیا) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔ اللہ کا مقتول بندہ ہوجا قاتل بندہ نہ ہو۔ اخرجہ ابن سعد فی الطبقات من حدیث عبداللہ۔ ہماری شریعت میں بھی خود سپردگی اور عدم دفاع جائز ہے جیسا حضرت عثمان ؓ نے کیا ابن سعد نے لکھا ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا میں محاصرۂ خانہ کے زمانہ میں حضرت عثمان ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں آپ کی مدد کرنے حاضر ہوا ہوں (آپ جس طرح حکم دیں مدد کرسکتا ہوں) فرمایا ابوہریرہ ؓ کیا تم کو یہ بات پسند ہوگی کہ تم سب لوگوں کو جن کے اندر میں بھی شامل ہوں قتل کر ڈالو میں نے عرض کیا نہیں۔ فرمایا تو بس اگر ایک آدمی کو بھی قتل کرو گے تو گویا سب کو قتل کردیا (مَنْ قَتَلَ نَفْسًا فَکَانَّمَا قَتْلَ النَّاسَ جَمِیْعًا) عبدالرزاق اور ابن جریر نے حسن کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا آدم کے دو بیٹوں کو بطور مثل یہاں بیان کیا گیا ہے تم اسی کی پیروی کرو جو دونوں میں بہتر ہو۔ عبد بن حمید کی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے تم اسی کی مشابہت حاصل کرو جو دونوں میں بہتر تھا جو برا تھا اس کے مشابہ نہ بنو۔ لئن بسطت کی جزاء میں ہابیل نے ماانا بباسط (جملۂ اسمیہ) کہا اور اس فعل میں بھی نفی کو باء کے ساتھ پختہ کردیا اس سے غرض یہ تھی کہ وہ اس فعل شنیع سے اپنی بیزاری کا کامل اظہار کرنا اور قاتل ہونے کی نسبت سے بھی بچنا چاہتے تھے (اسی لئے یوں نہیں کہا کہ میں تجھے قتل نہیں کروں گا بلکہ ارادۂ قتل کی بھی نفی کردی اور ارادۂ قتل کا جس عمل سے ظہور ہوسکتا تھا اس کا بھی انکار کردیا اور کہہ دیا کہ میں قتل کے ارادہ سے تیری طرف ہاتھ بھی نہیں بڑھاؤں گا بلکہ ہاتھ بڑھانے والا ہی نہیں ہوں گا)
Ayah 5:29

اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 5:29 in the Quran reader

میں چاہتا ہوں کہ تو میرے گناہ میں بھی ماخوذ ہو اور اپنے گناہ میں بھی پھر (زمرہ) اہل دوزخ میں ہو اور ظالموں کی یہی سزا ہے

انی ارید ان تبوآ باثمی واثمک میں چاہتا ہوں کہ تو (اللہ کی طرف) میرا گناہ اور اپنا گناہ (دونوں گناہ) لے کر لوٹے یعنی جب تو مجھے قتل کر دے گا تو میری گناہوں کا بوجھ بھی تجھ پر پڑجائے گا اور اپنے پچھلے گناہوں کا اور اس قتل کے گناہ کا سب کا بار سمیٹ لے گا (تیرا کوئی گناہ معاف نہ ہوگا بلکہ میرے گناہ بھی تجھ پر پڑیں گے) کذا روی ابن نجیح عن مجاہد۔ فتکون من اصحب النار وذلک جزآؤ الظلمین پھر تو دوزخیوں میں سے ہوجائے گا اور یہی ظالموں کی سزا ہے۔ قیامت کے دن مظلوم کو ‘ ظالم کی نیکیاں ظلم کے عوض دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں نہ ہوں گی یا ادائے حقوق کے لئے کافی نہ ہوں گی تو ظالم پر مظلوم کے گناہ ڈال دیئے جائیں گے اور پھر اس کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میری امت میں مفلس وہ آدمی ہوگا جو نماز ‘ روزہ ‘ زکوٰۃ (سب کچھ) لے کر آئے گا (لیکن) کسی کو گالی دی ہوگی۔ کسی کا مال کھایا ہوگا کسی کا خون بہایا ہوگا کسی کو مارا ہوگا ‘ لہٰذا اس کی کچھ نیکیاں اس کو اور کچھ نیکیاں اس کو دے دی جائیں گی اور حقوق کی ادائیگی پوری پھر بھی نہ ہوگی اور نیکیاں باقی نہ رہیں گی تو حقداروں کے گناہ اس پر ڈال دیئے جائیں گے۔ پھر اس کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ مسلم۔ ایک شبہ : مؤمن کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی کو بدبخت اور گناہگار بنانے کا خواہش مند ہو۔ پھر ہابیل نے کیسے کہا میں چاہتا ہوں تو میرے اور اپنے گناہ سمیٹ کرلے جائے۔ جواب : کلام کا حقیقی معنی مراد نہیں ہے۔ ہابیل کا مقصد یہ ہرگز نہ تھا کہ قابیل اس کو قتل کر دے اور قاتل گناہگار بن جائے بلکہ جب اس کو معلوم ہوگیا کہ اس کو قاتل بننا ہے یا مقتول ہونا تو اس نے قاتل نہ ہونے کا ارادہ کرلیا (اور مقتول ہونے کو ترجیح دی) اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ اس کا بھائی قاتل ہوجائے اور قتل کا گناہ ہابیل پر نہ ہو (بلکہ قابیل پر ہو)
Ayah 5:30

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 5:30 in the Quran reader

مگر اس کے نفس نے اس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اس نے اسے قتل کر دیا اور خسارہ اٹھانے والوں میں ہو گیا

فطوعت لہ نفسہ قتل اخیہ پھر اس کے جی نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کردیا۔ لَہٗ کا لفظ زیادتی ربط کے لئے بڑھایا گیا ہے۔ جیسے حَفِظْتُ لِزَیدٍ مَالَہٗمیں نے زید کے لئے اس کے مال کی حفاظت کی۔ گویا قابیل نے اپنے نفس کو قتل ہابیل کی دعوت دی اور نفس مان گیا۔ صحاح میں ہے کہ طَوَّعَتْمیں اطاعت سے زیادہ زور ہے۔ قابیل نے جب ہابیل کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ کس طرح قتل کرے۔ ابن جریح کا بیان ہے کہ شیطان بھیس بدل کر اس کے سامنے آیا اور ایک پرندہ کو پکڑ کر پرندہ کا سر پتھر پر رکھ کر اوپر سے دوسرا پتھر مار دیا اور اس طرح سر کچل کر قتل کردیا قابیل نے بھی یہ سب کچھ دیکھا اور ہابیل کا سر پتھر پر رکھ کر کچل کر قتل کیا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ ہابیل نے خود سپردگی سے کام لیا اور بعض کا قول ہے کہ سوتے میں سر پر پتھر مار کر قابیل نے قتل کردیا۔ فقتلہ فاصبح من الخسرین پھر اس نے ہابیل کو قتل کردیا ‘ اور قتل کے بعد خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگیا۔ دنیا میں بھی ساری عمر مارا مارا پریشان پھرتا رہا اور آخرت میں بھی جنت کی بجائے دوزخ میں گیا۔ ہابیل کی عمر بیس سال ہوئی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا قابیل نے ہابیل کو کوہ نور (غالباً یہ لفظ ثور ہے۔ واللہ اعلم) پر قتل کیا تھا بعض کے نزدیک کوہ حرا کی گھاٹی کے پاس مارا تھا۔ قتل کرنے کے بعد لاش کو کھلے میدان میں چھوڑ دیا اور کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ نعش کا کیا کرے کیونکہ روئے زمین پر یہ پہلا انسانی مردہ تھا۔ ادھر درندوں نے کھانا چاہا مجبوراً بوری میں بھر کر پشت پر لادے چالیس روز اور بقول حضرت ابن عباس سال بھر تک پھرتا رہا جب لاش بگڑنے لگی اور پرندے و درندے بھی گھیرے رہے کہ کب لاش کو پھینکے اور وہ کھائیں اس وقت اللہ نے دو کوے بھیجے ‘ دونوں باہم لڑے اور ایک نے دوسرے کو قتل کردیا پھر چونچ اور پنجوں سے زمین میں گڑھا کھود کر مردہ کوے کو اس میں ڈال کر اوپر سے مٹی ڈال دی اور اس طرح مردے کوے کو چھپا دیا۔ قابیل یہ تماشا دیکھ رہا تھا آیت ذیل میں اسی طرف ایماء ہے۔
Ayah 5:31

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ١ؕ قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ٤ۚۛۙ Open ayah 5:31 in the Quran reader

اب خدا نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیونکر چھپائے کہنے لگا اے ہے مجھ سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ اس کوے کے برابر ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا پھر وہ پشیمان ہوا

فبعث اللہ غرابا یبحث فی الارض لیریہ کیف یورای سواۃ اخیہ اس کے بعد اللہ نے ایک کوا بھیجا کہ وہ زمین کھودتا تھا تاکہ وہ (اللہ یا کوا) قابیل کو بتادے کہ بھائی کی لاش کو کس طرح چھپائے۔ اس جگہ اراء تکا معنی ہے بتادینا تعلیم دینا۔ دکھانا مراد نہیں ہے کیونکہ دیکھنے میں کوے کا دفن کرنا آیا تھا۔ ہابیل کی لاش کو دفن کرنا اور چھپانا تو نہیں دکھایا گیا۔ سواۃ سے مراد ہے مردہ لاش۔ مردہ لاش کو دیکھنا برا معلوم ہوتا ہے (سوۃ کا لغوی ترجمہ برائی ہے) بعض کے نزدیک جسم کا قابل ستر حصہ مراد ہے جس کی بےپردگی جائز نہیں۔ کوے کو دفن کرنے کی تدبیر بتائی اور براہ راست قابیل کو نہیں بتائی بلکہ کوے کو رہنما بنایا یہ تنبیہ ہے۔ اس امر پر کہ اللہ کی نظر میں قابیل کوے سے بھی زیادہ حقیر تھا اسی لئے تو کوے کو اس کا معلم اور اس کو کوے کا شاگرد بنایا۔ قال یویلتی اعجزت ان اکون مثل ہذا الغراب فاواری سواۃ اخی قابیل نے کہا ہائے افسوس کیا میں اس کوے کی طرح ہونے سے بھی گیا گزرا کہ اپنے بھائی کی لاش کو چھپا دیتا۔ ویلتی میں آخری الف بجائے یاء متکلم کے آیا ہے اصل میں وَیْلَتِیتھا ویلۃ (اور ویلٌ) حسرت و افسوس کا کلمہ ہے اس کا معنی ہے ہلاکت۔ یا کلمہ ندبہ (نوحہ) ہے جیسے یاحَسْرَتَا۔ اَعَجَزْتُمیں استفہام سے مراد ہے اظہار تعجب۔ فاواریکا عطف اکون پر ہے۔ یہ استفہام کا جواب نہیں ہے ورنہ مطلب اس طرح ہوجائے گا کہ اگر میں عاجز ہوتا تو بھائی کی لاش کو چھپا دیتا (گویا اصل مطلب الٹ جائے گا) فاصبح من الندمین پھر (سال بھر تک پشت پر لادے پھرنے پر) پشیمان ہوگیا۔ بعض نے کہا بھائی کی جدائی پر پشیمان ہوا اور بعض نے قتل پر پشیمان ہونا مراد لیا ہے قتل پر پشیمان ہونے سے یہ مراد نہیں کہ اس کو اپنے اس جرم پر ندامت ہوئی اور خیال ہوا کہ میں نے گناہ کا کام کیا بلکہ ندامت اس بات پر ہوئی کہ قتل کرنے کی وجہ سے ماں باپ کو بھی ناراض کیا اور فائدہ بھی کچھ نہ ہوا۔ مطلب بن عبداللہ بن حنطب کا بیان ہے کہ جب آدم ( علیہ السلام) کے بیٹے نے اپنے بھائی کو قتل کردیا تو زمین میں لرزہ آگیا۔ پھر پانی کی طرح مقتول کا خون زمین نے پی لیا (سطح زمین پر خون کا کوئی نشان نہیں رہا) اور اللہ نے قابیل کو ندا کی تیرا بھائی کہاں ہے۔ قابیل نے کہا مجھے نہیں معلوم۔ میں اس کا نگراں نہیں تھا۔ اللہ نے فرمایا تیرے بھائی کا خون مجھے زمین سے پکار رہا ہے تو نے کس وجہ سے اپنے بھائی کو قتل کیا۔ قابیل نے کہا اگر میں نے اس کو قتل کیا ہے تو اس کا خون کہاں ہے (اللہ نے کوئی جواب نہیں دیا) اسی دن سے اللہ نے خون کو زمین میں جذب ہونے کی ممانعت کردی۔ روایت میں آیا ہے کہ قتل کے بعد قابیل کا بدن کالا پڑگیا۔ حضرت آدم ( علیہ السلام) نے قابیل سے بھائی کے متعلق دریافت کیا تو قابیل نے کہا میں اس کا ذمہ دار نہ تھا۔ حضرت آدم ( علیہ السلام) نے فرمایا یہ بات نہیں بلکہ تو نے اس کو قتل کیا ہے اسی وجہ سے تیرا بدن کالا ہوگیا۔ حضرت آدم قابیل سے بیزار ہوگئے اور اس کے بعد سو برس تک کبھی نہیں ہنسے۔ مقاتل بن سلیمان نے بروایت ضحاک حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تو اس زمانہ میں حضرت آدم مکہ میں تھے قتل ہونے کے بعد درخت خاردار ہوگئے۔ کھانے سڑنے لگے ‘ پھلوں میں ترشی پیدا ہوگئی۔ پانی شور ہوگیا ‘ اور زمین غبار آلود بن گئی (یعنی ہابیل کی شہادت سے پہلے ایسی کوئی بات نہ تھی ‘ نہ درختوں میں کانٹے ہوتے تھے نہ کھانا سڑتا تھا نہ پھلوں میں ترشی اور پانی میں نمکینی تھی نہ زمین پر غبار ہوتا تھا) حضرت آدم ( علیہ السلام) نے فرمایا زمین پر ضرور کوئی نیا واقعہ ہوا ہے۔ چناچہ آپ ہندوستان آگئے۔ یہاں آکر دیکھا کہ قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا ہے۔ آپ فوراً یہ شعر پڑھنے لگے۔ سب سے پہلے آپ نے ہی شعر کہے۔ (ترجمہ) بستیاں اور بستیوں کے رہنے والے بدل گئے۔ روئے زمین غبار آلود اور بدنما ہوگیا۔ ہر مزہ دار چیز کا مزہ اور رنگدار چیز کا رنگ بگڑ گیا اور خوبصورت چہروں کی شگفتگی معدوم ہوگئی۔ میمون بن مہران کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول آیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا جو شخص کہتا ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) نے یہ شعر کہے ہیں وہ جھوٹا ہے۔ اللہ اور اللہ کے رسول پر دروغ بندی کرتا ہے محمد ﷺ اور تمام انبیاء شعر (نہ کہنے) میں برابر ہیں۔ ہاں جب قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا تو حضرت آدم نے کچھ دردناک کلام کہا جو سریانی زبان میں تھا اور حضرت شیث ( علیہ السلام) سے فرمایا بیٹے تو میرا وصی ہے اس کلام کو یاد کرلے تاکہ آئندہ لوگوں میں یہ منتقل ہوتا رہے اور لوگ اس کو سن کر ہابیل پر رقت کا اظہار کرتے رہیں چناچہ آپ کا وہ دردناک کلام برابر منتقل ہوتا رہا ‘ یہاں تک کہ یعرب بن قحطان کو پہنچا۔ یعرب عربی بھی بولتا تھا اور سریانی بھی اور شعر بھی کہتا تھا اسی نے سب سے پہلے تحریر عربی ایجاد کی۔ یعرب نے حضرت آدم کے کلام کو (ترجمہ میں) کچھ پیچھے آگے کر کے موزوں کردیا۔ مذکورۂ بالا اشعار میں کچھ شعر اور بھی ہیں جن میں سے دو شعر مندرجہ ذیل ہیں (ترجمہ) کیا وجہ کہ میں آنسو بہانے میں بخل سے کام لوں حالانکہ ہابیل کو قبر نے اپنے اندر سما لیا۔ میں پوری زندگی اپنے اوپر غم دیکھتا رہوں گا۔ کاش میں اپنی زندگی سے راحت پاسکتا۔ ہابیل کی شہادت کے پانچ سال بعد جب حضرت آدم ( علیہ السلام) کی عمر ایک سو تیس برس کی ہوگئی تو حضرت حوا کے بطن سے شیث ( علیہ السلام) پیدا ہوئے آپ کا نام ہبۃ اللہ تھا یعنی آپ ہابیل کے قائم مقام ہوئے۔ اللہ نے آپ کو رات دن کی ساعتوں کا علم دیا اور ہر ساعت کی ایک عبادت کی تعلیم دے دی۔ اللہ نے آپ پر پچاس صحیفے نازل فرمائے اور آپ حضرت آدم ( علیہ السلام) کے وصی اور جانشین قرار پائے۔ قابیل کا قصہ یہ ہوا کہ اس سے کہہ دیا گیا جا مردود مارا مارا پھر ‘ تجھے امن نصیب نہ ہو ‘ تو جس کو دیکھے اس کی طرف مطمئن نہ رہے ‘ قابیل اپنی بہن اقلیما کا ہاتھ پکڑ کر عدن علاقہ یمن کو بھاگ گیا۔ وہاں اس سے ابلیس نے آکر کہا ہابیل چونکہ آگ کو پوجتا تھا اس لئے آگ نے اس کی قربانی کھالی تو بھی آگ (کے لئے آتشکدہ) قائم کرتا کہ آگ تیرے اور تیری نسل کے لئے ہوجائے قابیل نے حسب مشورہ آتشکدہ بنا دیا اور سب سے پہلے اسی نے آگ کی پوجا کی۔ قابیل کی اولاد نے آلات لہو بانسری ‘ ڈھول ‘ باجے ‘ عود اور طنبورے بنائے اور لہو و لعب ‘ شراب خواری ‘ زنا ‘ عیاشی اور آتش پرستی میں منہمک ہوگئے آخر حضرت نوح کے زمانہ میں اللہ نے سب کو طوفان بھیج کر غرق کردیا اور حضرت شیث کی نسل باقی رہ گئی۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص ظلم سے قتل کیا جاتا ہے اس کی خون کا ایک حصہ آدم کے پہلے بیٹے کی گردن پر ہوتا ہے کیونکہ قتل کا دستور سب سے پہلے اسی نے ایجاد کیا ہے۔ رواہ البخاری۔ بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عمرو ؓ کا قول لکھا ہے کہ آدم ( علیہ السلام) کا قاتل بیٹا (دوسرے) دوزخیوں کے عذاب کا آدھا حصہ صحیح طور پر تقسیم کر کے اپنے لئے لے لے گا (یعنی سارے دوزخیوں کا آدھا عذاب اس پر ہوگا) ابن عساکر نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ جو شخص اپنے بھائی کو سال بھر چھوڑے رکھے گا (یعنی قطع تعلق رکھے گا) وہ اللہ کے سامنے قابیل کے گناہ کا حامل ہوجائے گا۔ سوائے دوزخ میں داخلہ کے اس کو قابیل سے کوئی چیز جدا نہیں کرے گی (یعنی قیامت کے دن وہ قابیل کا ساتھی ہوگا۔ مگر دوزخ میں قابیل سے الگ ہوگا کیونکہ قابیل کا عذاب سخت اور طویل ہوگا)
Ayah 5:32

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ١ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ١٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ Open ayah 5:32 in the Quran reader

اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لا چکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ اعتدال سے نکل جاتے ہیں

من اجل ذلک اسی وجہ سے یعنی ابن آدم سے جرم عظیم صادر ہونے اور قتل کا دروازہ بند کرنے کی وجہ سے۔ اَجَلَ شَرًّایا جَل (ماضی و مضارع) شر کو کھینچ کر لایا۔ قاموس میں ہے اجل الشر علیہم مرتکب شر ہوا اور شر کو ان پر بھڑکایا۔ لفظ اجل کا یہ وضعی لغوی مفہوم ہے اس کے بعد کسی جرم کی علت اور سبب بیان کرنے کیلئے اس لفظ کا استعمال ہونے لگا۔ پھر استعمال میں مزید توسیع کی گئی تو ہر چیز کی علت بیان کرنے کے لئے اس کا استعمال کرنے لگے۔ (یعنی اجل کا معنی علت و سبب ہوگیا) کتبنا علی بنی اسرائیل ہم نے بنی اسرائیل کے لئے (یہ حکم) لکھ دیا (مقرر کردیا) یعنی حکم ذیل کی ابتدا سبب مذکور کی وجہ سے ہوئی۔ من قتل نفسا بغیر نفس او فساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا کہ جس نے کسی کو بغیر جرم قتل کے یا بدون کسی فساد کے جو زمین پر اس سے پھیلا ہوا قتل کردیا تو گویا اس نے سب آدمیوں کو قتل کردیا۔ (1) [ عبد بن حمید ‘ ابن جریر اور ابن المنذر نے مجاہد کا قول اس آیت کی تشریح کے ذیل میں نقل کیا ہے کہ یہ آیت اسی طرح ہے جیسے سورة النساء میں آیا ہے : وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِدًا فَجِزَاءَ ہٗ جَہَنَّمْ خٰلِدًا فِیْہَا وَغَضَبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّلَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا یعنی اگر سب آدمیوں کو بھی قتل کر دے تو بس اتنا ہی عذاب ہوگا جتنا ایک آدمی کو قتل کرنے سے ہوگا اس سے زیادہ نہ ہوگا۔] فساد کے تحت حربی کافروں کا فساد ‘ رہزنوں کی رہزنی اور زنا وغیرہ داخل ہے یعنی ان اشیاء کے بغیر اگر کسی نے قتل کیا تو گویا سب آدمیوں کو مار ڈالا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ آیت کا مطلب مختلف طور پر بیان کیا گیا ہے۔ عکرمہ کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا جس نے کسی نبی یا خلیفۂ وقت کو قتل کیا اس نے گویا سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے کسی پیغمبر یا خلیفۂ عادل کی مدد کی اس نے گویا سب لوگوں کو زندہ کردیا۔ مجاہد نے کہا ناحق اگر کسی نے کسی ایک کو قتل کردیا تو اس جرم کی وجہ سے وہ دوزخ میں اسی طرح جائے گا جس طرح تمام آدمیوں کو قتل کرنے کی وجہ سے جاتا اور جو شخص ایک آدمی کے قتل سے اپنے کو بچائے رہا تو گویا اس نے سب لوگوں کے قتل سے اپنے کو بچا لیا۔ قتادہ ؓ نے کہا اللہ نے اس آیت میں ایک فرد کے قتل کے جرم کی عظمت اور قتل نہ کرنے کے ثواب کی بزرگی ظاہر کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس نے کسی ایک مسلمان کے ناحق قتل کو حلال سمجھا تو اس پر اتنا بڑا گناہ ہوا جیسے سب لوگوں کے قتل کا ہوتا۔ ومن احیاہا فکانما احیا الناس جمیعا اور جس نے ایک آدمی کو بھی زندہ رکھا گویا اس نے سب کو زندہ رکھا یعنی جو شخص ایک آدمی کے قتل سے مجتنب رہا یا اسباب ہلاکت سے کسی ایک کو بچا لیا مثلاً ناحق قتل سے ڈوبنے سے جلنے سے دیوار کے نیچے دبنے سے بچا لیا اس کا ثواب اتنا بڑا ہوگا۔ جیسے اس نے سب آدمیوں کو بچا لیا۔ حسن نے کہا ایک آدمی کو بھی ناحق قتل کرنے سے اسی طرح قصاص واجب ہوگا جس طرح سب لوگوں کو قتل کرنے سے واجب ہوتا اور جس نے ایک (واجب القصاص قاتل) کو معاف کردیا۔ قصاص نہ لیا تو گویا اس نے سب کو زندگی عطا کی۔ تمام اقوال کا حاصل صرف یہ ہے کہ اللہ نے قتل نفس اور احیاء نفس کی عظمت کا اظہار فرمایا ہے تاکہ قتل سے لوگ بچتے رہیں اور احیاء نفس کی کوشش کریں۔ حضرت براء بن عازب ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (کل) دنیا کی تباہی اللہ کے نزدیک ایک مؤمن کے ناحق خون کے مقابلہ میں حقیر ہے۔ رواہ ابن ماجۃ بسند حسن۔ بیہقی کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ اگر (تمام) آسمانوں والے اور (کل) زمین والے ایک مؤمن کے خون میں شریک ہوجائیں تو سب کو اللہ دوزخ میں بھیج دے گا۔ بیہقی کی دوسری روایت میں ناحق خون بہانے کا لفظ آیا ہے۔ مسلم نے حضرت عبداللہ ؓ بن عمر کی روایت سے ابن ماجہ کی روایت کی طرح حدیث نقل کی ہے۔ نسائی نے حضرت بریدہ ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ اللہ کے نزدیک مؤمن کا قتل (کل) دنیا کے زوال سے بھی بڑا ہے۔ ابن ماجہ نے لکھا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ : کعبہ کا طواف کر رہے تھے اور فرما رہے تھے تو کیسا پاکیزہ ہے ‘ تیری خوشبو کیسی اچھی ہے۔ تیری عظمت کس قدر بڑی ہے۔ تیری عزت کتنی عظیم ہے لیکن قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مؤمن کے مال و خون کی عزت و حرمت تیری حرمت سے بڑھ کر ہے۔ سلیمان بن علی ؓ کا قول ہے میں نے حسن (رح) (بصری) سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا۔ ابو سعید کیا یہ آیت ہمارے متعلق بھی ہے یا صرف بنی اسرائیل کے لئے تھی۔ فرمایا بیشک (ہمارے لئے بھی ہے) قسم ہے وحدہٗ لاشریک کی بنی اسرائیل کے خون اللہ کی نظر میں ہمارے خونوں سے زیادہ عزت والے نہیں تھے۔ ولقد جآء تہم رسلنا بالبینت اور بیشک ہمارے پیغمبر بنی اسرائیل کے پاس کھلے معجزات لے کر پہنچے۔ ثم ان کثیرا منہم بعد ذلک پھر اس کے بعد ان میں سے بہت لوگ یعنی مذکورہ بالاجرم کی وجہ سے ہمارے اس سخت حکم اور پیغمبروں کے واضح معجزات کے بعد۔ پیغمبروں کو واضح معجزات دے کر صرف حکم کے استحکام اور عہد کی تجدید کے لئے بھیجا گیا تھا تاکہ لوگ ایسے جرائم کے ارتکاب سے اجتناب رکھیں مگر ان تمام باتوں کے بعد بھی ان میں سے بہت آدمی۔ فی الارض لمسرفون زمین پر حدود (الٰہیہ) سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ یعنی قتل کرتے ہیں۔ اللہ کے حکم کی پرواہ نہیں کرتے۔ اسراف کا معنی ہے حد اعتدال سے ہٹ جانا۔