Ayah 5:109ربط آیات
اوپر احکام مختلفہ کا ذکر ہوا اور درمیان میں ان پر عمل کی ترغیب اور ان کی مخالفت پر ترغیب فرمائی گئی، اسی کی تاکید کے لئے اگلی آیت میں قیامت کے ہولناک واقعات یاد دلاتے ہیں، تاکہ اطاعت کا زیادہ باعث اور مخالفت سے زیادہ مانع ہو اور اکثر طرز قرآن مجید کا یہی ہے، پھر ختم سورت میں اہل کتاب کا مکالمہ ذکر فرمایا ہے، جو ماقبل متعدد آیات میں مذکور ہوچکا، جس سے مقصد اہل کتاب کو حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق بعض مضامین سنانا ہے جن سے ان کی عبدیت کا اثبات اور الوہیت کی نفی ہے (اگرچہ اس مخاطبت کا وقوع قیامت میں ہوگا)۔
خلاصہ تفسیر
(وہ دن بھی کیسا ہولناک ہوگا) جس روز اللہ تعالیٰ تمام پیغمبروں کو (مع ان کی امتوں کے) جمع کریں گے پھر (ان امتوں میں جو عاصی ہوں گے بغرض توبیخ ان کے سنانے کو ان پیغمبروں سے) ارشاد فرمائیں گے کہ تم کو (ان امتوں کی طرف سے) کیا جواب ملا تھا، وہ عرض کریں گے کہ (ظاہری جواب تو ہم کو معلوم ہے اور اس کو بیان بھی کردیں گے، لیکن ان کے دل میں جو کچھ ہو اس کی) ہم کو کچھ خبر نہیں (اس کو آپ ہی جانتے ہیں کیونکہ) آپ بیشک پوشیدہ باتوں کے پورے جاننے والے ہیں (مطلب یہ کہ ایک دن ایسا ہوگا اور اعمال و احوال کی تفتیش ہوگی، اس لئے تم کو مخالفت و معصیت سے ڈرتے رہنا چاہیئے، اور اسی روز عیسیٰ ؑ سے ایک خاص گفتگو ہوگی) جبکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کہ اے عیسیٰ بن مریم میرا انعام یاد کرو (تاکہ لذت تازہ ہو) جو تم پر اور تمہاری والدہ پر (مختلف اوقات میں مختلف صورتوں سے ہوا ہے مثلاً) جب کہ میں تم کو روح القدس (یعنی جبرئیل علیہ السلام) سے امداد اور تائید دی (اور) تم آدمیوں سے (دونوں حالتوں میں یکساں) کلام کرتے تھے (ماں کی) گود میں بھی اور بڑی عمر میں بھی (دونوں کلاموں میں کچھ تفاوت نہ تھا) اور جب کہ میں نے تم کو (آسمانی) کتابیں اور سمجھ کی باتیں اور (بالخصوص) توریت و انجیل تعلیم کیں، اور جب کہ تم گارے سے ایک شکل بناتے تھے، جیسے پرندہ کی شکل ہوتی ہے میرے حکم سے پھر تم اس (مصنوعی ہیئت) کے اندر پھونک مار دیتے تھے جس سے وہ (سچ مچ کا جاندار) پرندہ بن جاتا تھا، میرے حکم سے اور تم اچھا کردیتے تھے مادرزاد اندھے کو اور برص (جذام) کے بیمار کو میرے حکم سے اور جب کہ تم مردوں کو (قبروں سے) نکال (اور جلا کر) کھڑا کرلیتے تھے میرے حکم سے اور جب کہ میں نے بنی اسرائیل (میں سے جو آپ کے مخالف تھے ان) کو تم سے (یعنی تمہارے قتل و اہلاک سے) سے باز رکھا جب (انہوں نے تم کو ضرر پہنچانا چاہا جبکہ) تم ان کے پاس (اپنی نبوت کی) دلیلیں (معجزات) لے کر آئے تھے پھر ان میں جو کافر تھے انہوں نے کہا تھا کہ یہ (معجزات) بجز کھلے جادو کے اور کچھ بھی نہیں۔
معارف و مسائل
قیامت میں انبیاء علیہم الصلوٰة والسلام سے سب سے پہلے سوال ہوگا
(قولہٰ تعالیٰ) يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ ، قیامت میں اگرچہ اول سے آخر تک پیدا ہونے والے تمام انسان ایک کھلے میدان میں کھڑے ہوں گے، اور کسی خطہ، کسی ملک اور کسی زمانہ کا انسان ہو وہ اس میدان میں حاضر ہوگا۔ اور سب سے ان کے عمر بھر کے اعمال کا حساب لیا جائے گا، لیکن بیان میں خصوصیت کے ساتھ انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کیا گیا، يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ ، یعنی اس دن کو یاد کرو، جس دن اللہ تعالیٰ سب رسولوں کو حساب کے لئے جمع فرمائیں گے، مراد یہ ہے کہ جمع تو سارے عالم کو کیا جائے گا، مگر سب سے پہلے سوال انبیاء (علیہم السلام) سے ہوگا، تاکہ پوری مخلوق دیکھ لے، کہ آج کے دن کوئی حساب اور سوال و جواب سے مستثنیٰ نہیں، پھر رسولوں سے جو سوال کیا جائے گا وہ یہ ہے کہ ماذآ اُجِبْتُمْ ، یعنی جب آپ لوگوں نے اپنی اپنی امتوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے دین حق کی طرف بلایا تو ان لوگوں نے آپ کو کیا جواب دیا تھا ؟ اور کیا انہوں نے آپ کے بتلائے ہوئے احکام پر عمل کیا ؟ یا انکار و مخالفت ؟
اس سوال کے مخاطب اگرچہ انبیاء (علیہم السلام) ہوں گے، لیکن در حقیقت سنانا ان کی امتوں کو مقصود ہوگا، کہ امتوں نے جو اعمال نیک یا بد کئے ہیں ان کی شہادت سب سے پہلے ان کے رسولوں سے لی جائے گی، امتوں کے لئے یہ وقت بڑا نازک ہوگا، کہ وہ تو اس ہوش ربا ہنگامہ میں انبیاء (علیہم السلام) کی شفاعت کے متوقع ہوں گے۔ ادھر انبیاء (علیہم السلام) ہی سے ان کے متعلق یہ سوال ہوجائے گا تو ظاہر ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کوئی غلط یا خلاف واقع بات تو کہہ نہیں سکتے، اس لئے مجرموں اور گنہگاروں کو اندیشہ یہ ہوگا کہ جب خود انبیاء (علیہم السلام) ہی ہمارے جرائم کے شاہد بنیں گے، تو اب کون ہے جو کوئی شفاعت یا مدد کرسکے۔
انبیاء (علیہم السلام) اس سوال کا جواب یہ دیں گےقَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا، یعنی ہمیں ان کے ایمان و عمل کا کوئی علم نہیں، آپ خود ہی تمام غیب کی چیزوں سے پورے باخبر ہیں۔
ایک شبہ کا ازالہ
یہاں سوال یہ ہے کہ ہر رسول کی امت کے وہ لوگ جو ان کی وفات کے بعد پیدا ہوئے ان کے بارے میں تو انبیاء (علیہم السلام) کا یہ جواب صحیح اور صاف ہے، کہ ان کے ایمان و عمل سے وہ باخبر نہیں، کیونکہ غیب کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں، لیکن ایک بہت بڑی تعداد امت میں ان لوگوں کی بھی تو ہے جو خود انبیاء (علیہم السلام) کی انتھک کوششوں سے انہی کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے، اور پھر ان کے احکام کی پیروی ان کے سامنے کرتے رہے، اسی طرح وہ کافر جنہوں نے انبیاء کی بات نہ مانی اور مخالفت دشمنی سے پیش آئے، ان کے بارے میں یہ کہنا کیسے صحیح ہوگا کہ ہمیں ان کے ایمان و عمل کا علم نہیں، تفسیر بحر محیط میں ہے کہ امام ابو عبداللہ رازی رحمة اللہ علیہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ یہاں دو چیزیں الگ الگ ہیں، ایک علم جس کے معنی یقین کامل کے ہیں، اور دوسرے ظن یعنی غلبہ گمان، اور ظاہر ہے کہ ایک انسان کسی دوسرے انسان کے سامنے ہونے کے باوجود اس کے ایمان و عمل کی گواہی اگر دے سکتا ہے تو محض ظن، یعنی غلبہ گمان کے اعتبار سے دے سکتا ہے، ورنہ دلوں کا راز اور حقیقی ایمان جس کا تعلق دل سے ہے وہ تو کسی کو یقینی طور پر بغیر وحی الٓہی کے معلوم نہیں ہوسکتا، ہر امت میں منافقین کے گروہ رہے ہیں، جو ظاہر میں ایمان بھی لاتے تھے اور احکام کی پیروی بھی کرتے تھے، مگر ان کے دلوں میں ایمان نہ تھا، اور نہ پیروی کا کوئی جذبہ، وہاں جو کچھ تھا سب ریاکاری تھی، ہاں دنیا کے تمام احکام ظاہر افعال پر دائر ہوتے تھے، جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہے اور احکام خداوندی کا اتباع کرے، اور خلاف اسلام و ایمان اس سے کوئی قول و فعل ثابت نہ ہو، انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتیں اس کو مومن صالح کہنے پر مجبور تھے، خواہ وہ دل میں مومن مخلص ہو یا منافق اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا
نحن نحکم بالظواہم واللّٰہ متولی السرائر
”یعنی ہم تو ظاہر اعمال پر حکم جاری کرتے ہیں، دلوں کے مخفی رازوں کا متولی خود اللہ جل شانہ ہے“۔
اسی ضابطہ کے تحت دنیا میں انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے نائب خلفاء و علماء ظاہری اعمال پر حسن ظن کے مطابق کسی کے مومن صالح ہونے کی شہادت دے سکتے تھے لیکن آج وہ عالم دنیا جس کا سارا مدار ظن و گمان پر تھا ختم ہوچکا، یہ محشر کا میدان ہے جہاں بال کی کھال نکالی جائے گی، حقائق کو آشکار کیا جائے گا، مجرموں کے مقابلہ میں پہلے دوسرے لوگوں سے شہادتیں لی جائیں گی، ان سے اگر مجرم مطمئن نہ ہوا اور اپنے جرم کا اعتراف نہ کیا تو خاص قسم کے سرکاری گواہ برؤے کار لائے جائیں گے، ان کے منہ اور زبان پر تو مہر سکوت لگا دی جائے گی، اور مجرم کے ہاتھوں پاؤں اور کھال سے گواہی لی جائے گی، وہ ہر فعل کی پوری حقیقت بیان کردیں گے، (آیت) الیوم نختم علیٰ۔ اس وقت انسانوں کو معلوم ہوگا کہ میرے تمام اعضاء رب العالمین کی خفیہ پولیس تھے، ان کے بیان کے بعد انکار کی کوئی صورت باقی نہ رہے گی۔
خلاصہ یہ کہ اس عالم کا کوئی حکم محض ظن وتخمین پر نہیں چلے گا، بلکہ علم و یقین پر ہر چیز کا مدار ہوگا، اور یہ ابھی معلوم ہوچکا کہ کسی شخص کے ایمان و عمل کا حقیقی اور یقینی علم سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا، اس لئے انبیاء (علیہم السلام) سے جب محشر میں یہ سوال ہوگا کہ ماذآ اُجِبْتُمْ ؟ تو وہ اس سوال کی حقیقت کو پہچان لیں گے کہ یہ سوال عالم دنیا میں نہیں ہو رہا جس کا جواب ظن کی بنیاد پر دیا جاسکے، بلکہ یہ سوال محشر میں ہو رہا ہے، جہاں یقین کے سوا کوئی بات چلنے والی نہیں، اس لئے ان کا یہ جواب کہ ہمیں ان کے متعلق کوئی علم نہیں، یعنی علم یقینی نہیں بالکل بجا اور درست ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب، انبیاء (علیہم السلام) کی انتہائی شفقت کا ظہور
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امتوں کے قبول و عدم قبول، اطاعت یا نافرمانی کے جو واقعات ان کے سامنے پیش آئے ان سے جس طرح کا علم بظن غالب ان کو حاصل ہوا، اس سوال کے جواب میں وہ تو بیان کردینا چاہئے تھا، صرف اس علم کے درجہ یقین کا حوالہ اللہ تعالیٰ پر کیا جاسکتا ہے، مگر یہاں انبیاء (علیہم السلام) نے اپنی معلومات اور پیش آمدہ واقعات کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا، علم الٓہی کے حوالے کر کے خاموش ہوگئے۔
حکمت اس میں یہ تھی کہ انبیاء (علیہم السلام) اپنی امتوں اور عام خلق اللہ پر بےانتہا شفیق ہوتے ہیں، ان کے متعلق ایسی کوئی بات اپنی زبان سے کہنا پڑتا، یہاں علم یقین نہ ہونے کا عذر موجود تھا، اس عذر سے کام لے کر اپنی زبانوں سے اپنی امتوں کے خلاف کچھ کہنے سے بچ سکتے تھے اس طرح اس سے بچ گئے۔
محشر میں پانچ چیزوں کا سوال
خلاصہ یہ کہ اس آیت میں قیامت کے ہولناک منظر کی ایک جھلک سامنے کردی گئی ہے کہ موقف حساب میں اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ برگزیدہ و مقبول رسول کھڑے ہیں، اور لرز رہے ہیں تو دوسروں کا کیا حال ہوگا، اس لئے اس روز کی فکر آج سے چاہئے، اور فرصت عمر کو اس حساب کی تیاری کے لئے غنیمت سمجھنا چاہئے۔
ترمذی شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا
لا تزول قدما ابن ادم۔ الخ۔
”یعنی کسی آدمی کے قدم محشر میں اس وقت تک آگے نہ سرک سکیں گے جب تک اس سے پانچ سوالوں کا جواب نہ لے لیا جائے، ایک یہ کہ اس نے اپنی عمر کے طویل و کثیر لیل و نہار کس کام میں خرچ کئے، دوسرے یہ کہ خصوصیت سے جوانی کا زمانہ جو قوت عمل کا زمانہ تھا، اس کو کن کاموں میں خرچ کیا، تیسری یہ کہ ساری عمر میں جو مال اس کو حاصل ہوا وہ کہاں اور کن حلال یا حرام طریقوں سے کمایا، چوتھے یہ کہ مال کو کن جائز یا ناجائز کاموں میں خرچ کیا، پانچویں یہ کہ اپنے علم پر کیا عمل کیا ؟“
اللہ تعالیٰ نے غایت رحمت و شفقت سے اس امتحان کا پرچہ سوالات بھی پہلے ہی نبی کریم ﷺ کے ذریعہ امت کو بتلا دیا، اب ان کا کام صرف اتنا رہ گیا کہ ان سوالات کا حل سیکھے، اور محفوظ رکھے، امتحان سے پہلے ہی سوالات بتلا دینے کے بعد بھی کوئی ان میں فیل ہوجائے تو اس سے زیادہ کون محروم ہوسکتا ہے۔
Ayah 5:110حضرت عیسیٰ ؑ سے خصوصی سوال و جواب
پہلی آیت میں تو عام انبیاء (علیہم السلام) کا حال اور ان سے سوال و جواب کا تذکرہ تھا، دوسری آیت میں اور اس کے بعد ختم سورت تک کی نو آیات میں خصوصیت سے بنی اسرائیل کے آخری پیغمبر حضرت عیسیٰ ؑ کا تذکرہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے مخصوص انعامات کی کچھ تفصیل کا بیان ہے، اور محشر میں ان سے ایک خصوصی سوال اور اس کے جواب کا ذکر ہے جو اگلی آیتوں میں آرہا ہے۔
حاصل اس سوال و جواب کا بھی بنی اسرائیل اور تمام مخلوق کو یہ ہولناک منظر دکھلانا ہے کہ اس میدان میں جب روح اللہ اور کلمة اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ آپ کی امت نے جو آپ کو خدا کا شریک بنایا، تو وہ ساری عزت و عظمت اور عصمت و نبوت کے باوجود کس قدر گھبرا کر اپنی براءت بارگاہ عزوجلال میں پیش فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نہیں بار بار مختلف عنوانات سے اس کی نفی کرتے ہیں کہ میں نے ان کو یہ تعلیم نہ دی تھی، اول عرض کیا(آیت) سبحنک ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق ”یعنی پاک ہیں آپ میری کیا مجال تھی کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے حق نہ تھا“۔
اپنی براءت کا دوسرا پہلو اس طرح اختیار فرماتے ہیں کہ خود حق تعالیٰ کو اپنا گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ اگر میں ایسا کہتا تو آپ کو ضرور اس کا علم ہوتا، کیونکہ آپ تو میرے دل کے بھید سے بھی واقف ہیں، قول و فعل کا تو کیا کہنا، آپ تو علاّم الغیوب ہیں۔
اس ساری تمہید کے بعد اصل سوال کا جواب دیتے ہیں۔
حضرت عیسیٰ ؑ کا جواب بارگاہ ایزدی میں۔
یعنی یہ کہ میں نے ان کو وہی تعلیم دی تھی جس کا آپ نے مجھے حکم فرمایا تھا، (آیت) ان اعبدو اللّٰہ ربی وربکم، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی، پھر اس تعلیم کے بعد جب تک میں ان لوگوں کے اندر رہا تو میں ان کے اقوال و افعال کا گواہ تھا (اس وقت تک ان میں کوئی ایسے نہ کہتا تھا) پھر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا تو پھر یہ لوگ آپ ہی کی نگرانی میں تھے، آپ ہی ان کے اقوال و افعال سے پورے واقف ہیں۔
حضرت عیسیٰ ؑ پر چند مخصوص انعامات کا ذکر
ان آیات میں حضرت عیسیٰ ؑ کے جس سوال و جواب کا ذکر کیا گیا ہے، اس سے پہلے ان مخصوص انعامات کا بھی ذکر ہے جو خصوصی طور پر حضرت عیسیٰ ؑ پر مبذول ہوئے، اور بشکل معجزات ان کو عطا فرمائے گئے۔ اس مجموعہ میں ایک طرف انعامات خاصہ کا اور دوسری طرف جواب طلبی کا منظر دکھلا کر بنی اسرائیل کی ان دونوں قوموں کو تنبیہ کی گئی ہے، جن میں سے ایک نے تو ان کی توہین کی اور طرح طرح کی تہمتیں لگائیں اور ستایا، اور دوسری قوم نے ان کو خدا یا خدا کا بیٹا بنادیا، انعامات کا ذکر کرکے پہلی قوم کو اور سوال و جواب کا ذکر کرکے دوسری قوم کو تنبیہ کی گئی، یہاں جن انعامات کا تفصیلی ذکر کئی آیتوں میں کیا گیا ان میں سے ایک جملہ زیادہ قابل غور ہے۔ جس میں ارشاد ہوا ہےتُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا یعنی ایک خصوصی معجزہ جو حضرت عیسیٰ ؑ کو دیا گیا وہ یہ ہے کہ آپ لوگوں سے بچہ ہونے کی حالت میں بھی کلام کرتے ہیں، اور ادھیڑ عمر ہونے کی حالت میں بھی۔
اس میں پہلی بات کا معجزہ اور خصوصی انعام ہونا تو ظاہر ہے، ابتداء ولادت میں بچے کلام کرنے کے قابل نہیں ہوا کرتے، کوئی بچہ ماں کی گود یا گہوارہ میں بولنے لگے تو یہ اس کا خصوصی امتیاز ہوگا، ادھیڑ عمر میں بولنا یا کلام کرنا جو مذکور ہے وہ تو کوئی قابل ذکر چیز نہیں، ہر انسان اس عمر میں بولا ہی کرتا ہے، اور کلام کرتا ہے، لیکن حضرت عیسیٰ ؑ ادھیڑ عمر کو پہنچنے کے بعد جب ہی ہوسکتا ہے جب وہ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں، جیسا کہ مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے، اور قرآن و سنت کی تصریحات سے ثابت ہے اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح حضرت عیسیٰ ؑ کا بچپن میں کلام کرنا معجزہ تھا اسی طرح ادھیڑ عمر میں کلام کرنا بھی، بوجہ اس دنیا میں دوبارہ آنے کے معجزہ ہی ہے
Ayah 5:111خلاصہ تفسیر
اور جب کہ میں نے حواریین کو (انجیل میں تمہاری زبانی) حکم دیا کہ تم مجھ پر اور میرے رسول (عیسیٰ علیہ السلام) پر ایمان لاؤ انہوں نے (جواب میں تم سے) کہا کہ ہم (خدا اور رسول یعنی آپ پر) ایمان لائے اور آپ شاہد رہئے کہ ہم (خدا کے اور آپ کے) پورے فرمانبردار ہیں، وہ وقت یاد رکھنے کے قابل ہے جب کہ حواریین نے (حضرت عیسیٰ ؑ سے) عرض کیا کہ اے عیسیٰ ابن مریم (علیہم السلام) کیا آپ کے رب ایسا کرسکتے ہیں (یعنی کوئی امر مثل خلاف حکمت ہونے وغیرہ کے اس سے مانع تو نہیں) کہ ہم پر آسمان سے کچھ کھانا (پکا پکایا) نازل فرمادیں آپ نے فرمایا کہ خدا سے ڈرو اگر تم ایمان دار ہو (مطلب یہ کہ تم تو ایمان دار ہو اس لئے خدا سے ڈرو اور معجزات کی فرمائش سے کہ بےضرورت ہونے کی وجہ سے خلاف ادب ہے بچو) وہ بولے کہ (ہمارا مقصود بےضرورت فرمائش کرنا نہیں ہے، بلکہ ایک مصلحت سے اس کی درخواست کرتے ہیں وہ یہ کہ) ہم (ایک تو) یہ چاہتے ہیں کہ (برکت حاصل کرنے کو) اس میں سے کھائیں اور (دوسرے یہ چاہتے ہیں کہ) ہمارے دلوں کو (ایمان پر) پورا اطمینان ہوجاوے اور (مطلب اطمینان کا یہ ہے کہ) ہمارا یقین اور بڑھ جاوے کہ آپ نے (دعویٰ رسالت میں) ہم سے سچ بولا ہے (کیونکہ جس قدر دلائل بڑھتے جاتے ہیں دعوے کا یقین بڑھتا جاتا ہے) اور (تیسرے یہ چاہتے ہیں کہ) ہم (ان لوگوں کے سامنے جنہوں نے یہ معجزہ نہیں دیکھا) گواہی دینے والوں میں سے ہوجاویں (کہ ہم نے ایسا معجزہ دیکھا ہے تاکہ ان کے سامنے اثبات رسالت کرسکیں، اور ان کی ہدایت کا یہ ذریعہ بن جاوے) عیسیٰ ابن مریم ؑ نے (جب دیکھا کہ اس درخواست میں ان کی غرض صحیح ہے تو حقیقتاً اللہ تعالیٰ سے) دعا کی کہ اے اللہ ہمارے پروردگار ہم پر آسمان سے کھانا نازل فرمائیے کہ وہ (مائدہ) ہمارے لئے یعنی ہم میں جو اوّل (یعنی موجودہ زمانہ میں) ہیں اور جو بعد (کے زمانہ میں آنے والے) ہیں، سب کے لئے ایک خوشی کی بات ہوجاوے (حاضرین کی خوشی تو کھانے سے اور درخواست قبول ہونے سے اور بعد والوں کی خوشی اپنے سلف پر انعام ہونے سے، اور یہ غایت تو خاص ہے مؤمنین کے ساتھ) اور (میری پیغمبری پر) آپ کی طرف سے ایک نشان ہوجائے، (کہ مؤمنین کا یقین بڑھ جاوے اور منکرین حاضرین یا غائبین پر حجت ہوجاوے اور یہ مقصد مؤمنین وغیرہ سب کے لئے عام ہے) اور آپ ہم کو (وہ مائدہ) عطا فرمائیے، اور آپ سب عطا کرنے والوں سے اچھے ہیں (کیونکہ سب کا دینا اپنے نفع کے لئے اور آپ کا دینا مخلوق کے نفع کے لئے ہے، اس لئے ہم اپنے منافع کو پیش کرکے آپ سے مائدہ کی درخواست کرتے ہیں) حق تعالیٰ نے (جواب میں) ارشاد فرمایا کہ (آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ) میں وہ کھانا (آسمان سے) تم لوگوں پر نازل کرنے والا ہوں پھر جو شخص تم میں سے اس کے بعد (اس کی) ناحق شناسی کرے گا (یعنی اس کے حقوق واجبہ عقلاً و نقلاً ادا نہ کرے گا) تو میں اس کو ایسی سزا دوں گا کہ وہ سزا (اس وقت کے) جہان والوں میں سے کسی کو نہ دوں گا
Ayahs 5:112–113معارف و مسائل
مومن کو معجزات کا مطالعہ نہیں کرنا چاہئے
(قولہ تعالی) قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤ ْمِنِيْنَ جب حواریوں نے عیسیٰ ؑ سے آسمان سے مائدہ کے اترنے کا مطالبہ کیا تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ اگر تم ایمان دار ہو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، اس سے معلوم ہوا کہ ایمان دار بندہ کو لائق نہیں کہ وہ اس قسم کی فرمائشیں کرکے خدا کو آزمائے، اور اس سے خرق عادت کی چیزوں کا مطالبہ کرے، بلکہ اس کو چاہئے کہ روزی وغیرہ کو انہی ذرائع سے طلب کرے جو قدرت نے مقرر کر رکھے ہیں۔
Ayahs 5:114–115جب نعمت غیر معمولی بڑی ہو تو ناشکری کا وبال بھی بڑا ہوتا ہے
(قولہ تعالی) فَاِنِّىْٓ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّآ اُعَذِّبُهٗٓ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب نعمت غیر معمولی اور نرالی ہوگی تو اس کی شکر گزاری کی تاکید بھی معمولی سے بہت بڑھ کر ہونی چاہئے، اور ناشکری پر عذاب بھی غیر معمولی اور نرالا آئے گا۔
مائدہ آسمان سے نازل ہوا تھا یا نہیں ؟ اس بارے میں مفسرین حضرات کا اختلاف ہے جمہور نزول کے قائل ہیں، چناچہ ترمذی کی حدیث میں عمار بن یاسر ؓ سے منقول ہے کہ مائدہ آسمان سے نازل ہوا، اس میں روٹی اور گوشت تھا، اور اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ ان لوگوں نے (یعنی بعض نے) خیانت کی، اور اگلے دن کے لئے اٹھا کر رکھا، پس بندر اور خنزیر کی صورت میں مسخ ہوئے (نعوذ باللہ من غضب اللہ)
اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس میں سے کھاتے بھی تھے، جیسا ناکل میں ان کی یہ غرض بھی مذکور ہے، البتہ آگے کے لئے رکھ لینا ممنوع تھا۔ (بیان القرآن)
Ayahs 5:116–117خلاصہ تفسیر
اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جبکہ اللہ تعالیٰ (قیامت میں حضرت عیسیٰ ؑ سے کفار نصاریٰ کے سنانے کے لئے) فرمائیں گے کہ اے عیسیٰ ابن مریم (ان لوگوں میں جن کا عقیدہ تثلیث کا تھا، یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عیسیٰ ؑ اور حضرت مریم (علیہما السلام) کو شریک الوہیت مانتے تھے تو) کیا تم نے ان لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھ کو (یعنی عیسیٰ ؑ کو) اور میری ماں (حضرت مریم علیہما السلام) کو بھی علاوہ خدا کے معبود قرار دے دو تو عیسیٰ ؑ عرض کریں گے کہ (توبہ توبہ) میں تو (خود اپنے عقیدہ میں) آپ کو (شریک سے) منزّہ سمجھتا ہوں (جیسا کہ آپ واقع میں بھی منزّہ (پاک) ہیں ایسی حالت میں) مجھ کو کسی طرح زیبا نہ تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھ کو کوئی حق نہیں (نہ باعتبار اپنے عقیدے کے کہ میں موحّد یعنی ایک خدا کا قائل ہوں اور نہ باعتبار پیغامِ الٓہی پہنچانے کے کہ مجھ کو ایسا کوئی پیغام نہیں دیا گیا تھا، اور دلیل میری اس نہ کہنے کی یہ ہے کہ) اگر میں نے (واقع میں) کہا ہوگا تو آپ کو اس کا (یقینا) علم ہوگا (مگر جب آپ کے علم میں بھی میں نے نہیں کہا تو واقع میں بھی نہیں کہا اور کہنے کی صورت میں آپ کو اس کا علم ہونا اس لئے ضروری ہے کہ) آپ تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتے ہیں (تو جو زبان سے کہتا اس کا علم تو کیوں نہ ہوتا) اور میں (تو مثل دیگر مخلوقات کے اتنا عاجز ہوں کہ) آپ کے علم میں جو کچھ ہے اس کو (بدون آپ کے بتلائے ہوئے) نہیں جانتا (جیسے دیگر مخلوقات کا بھی یہی حال ہے پس) تمام غیبوں کے جاننے والے آپ ہی ہیں (سو جب اپنا اس قدر عجز اور آپ کا کمال مجھ کو معلوم ہے تو الوہیت میں شرکت کا دعویٰ کیسے کرسکتا ہوں، یہاں تک تو اس بات کے کہنے کی نفی ہوئی، آگے اس کی نقیض کے کہنے کا اثبات ہے کہ) میں نے تو ان سے (اور کچھ نہیں کہا، صرف وہی بات) جو آپ نے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرو جو میرا بھی رب ہے، اور تمہارا بھی رب ہے، اور (یہاں تک تو عیسیٰ ؑ نے اپنی حالت کے متعلق عرض کیا، آگے ان لوگوں کی حالت کے متعلق عرض کرتے ہیں کیونکہ ءَاَنْتَ قُلْتَ للنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ میں گو تصریحاً تو سوال اس کا ہے کہ آپ نے ایسا کلمہ کہا ہے یا نہیں، لیکن اشارةً اس کا بھی سوال معلوم ہوتا ہے کہ یہ عقیدہ تثلیث کہاں سے پیدا ہوا پس عیسیٰ ؑ اس باب میں یوں عرض کریں گے کہ) میں ان (کی حالت) پر مطلع رہا جب تک ان میں (موجود) رہا (سو اس وقت تک کا حال تو میں نے مشاہدہ کیا ہے اس کے متعلق بیان کرسکتا ہوں) پھر جب آپ نے مجھ کو اٹھا لیا (یعنی اوّل بار میں تو زندہ آسمان کی طرف اور دوسری بار میں وفات کے طور پر) تو (اس وقت صرف) آپ ان (کے احوال) پر مطلع رہے (اس وقت مجھ کو خبر نہیں کہ ان کی گمراہی کا سبب کیا ہوا اور کیونکر ہوا) اور آپ ہر چیز کی پوری خبر رکھتے ہیں (یہاں تک تو اپنا اور ان کا معاملہ عرض کیا آگے ان کے اور حق تعالیٰ کے معاملات کے متعلق عرض کرتے ہیں کہ) اگر آپ ان کو (اس عقیدہ پر) سزا دیں تو (جب بھی آپ مختار ہیں، کیونکہ) یہ آپ کے بندے ہیں (اور آپ ان کے مالک، اور مالک کو حق ہے کہ بندوں کو ان کے جرائم پر سزا دے) اور اگر آپ ان کو معاف فرما دیں تو (جب بھی آپ مختار ہیں کیونکہ) آپ زبردست (قدرت والے) ہیں (تو معافی پر بھی قادر ہیں اور) حکمت والے (بھی) ہیں (تو آپ کی معافی بھی حکمت کے موافق ہوگی، اس لئے اس میں بھی کوئی برائی نہیں ہوسکتی، مطلب یہ ہے کہ دونوں حال میں آپ مختار ہیں میں کچھ دخل نہیں دیتا)
(غرض عیسیٰ ؑ نے معروض اوّل سُبْحٰنَكَ الخ میں اپنی تبرّی ان اہل تثلیث کے عقیدے سے اور اس کی تعلیم سے، دوسری عرض وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ الخ میں اپنی تبرّی ان کے اس عقیدہ کے مفصل سبب جاننے تک سے، اور عرض سوم اِنْ تُعَذِّبْهُمْ الخ میں اتنی تبرّی ان کے باب میں کوئی تحریک کرنے تک سے ظاہر کردی، اور یہی مقصود تھا حق تعالیٰ کا عیسیٰ ؑ کے ساتھ ان مخاطبات سے، پس ان میں ان کفار کو پوری زجر اپنی نادانی پر اور حسرت اپنی ناکامی پر ہوگی)۔
معارف و مسائل
فوائد مہمہ
قولہ تعالیٰ وَاِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الخ، اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والے ہیں، لہذا عیسیٰ ؑ سے سوال اس لئے نہیں فرما رہے کہ ان کو معلوم نہیں ہے، بلکہ اس سے مقصود ان کی قوم نصاریٰ کی ملامت اور سرزنش ہے کہ جس کو تم الٓہ مان رہے ہو وہ خود تمہارے عقیدے کے خلاف اپنی عبدیت کا اقرار کر رہا ہے، اور تمہارے بہتان سے وہ بری ہے (ابن کثیر)
فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ حضرت مسیح ؑ کی موت یا رفع الی السّماء وغیرہ کی بحث سورة آل عمران میں (آیت) انی متوفیک ورفعک کے تحت گزر چکی ہے، وہاں ملاحظہ کیا جائے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ اس آیت سے عیسیٰ ؑ کی موت اور رفع الی السّماء کے انکار پر استدلال صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ یہ گفتگو قیامت کے روز ہوگی، اور اس وقت آسمان سے نزول کے بعد آپ کو موت حقیقی حاصل ہوچکی ہوگی، چناچہ ابن کثیر نے بروایت ابو موسیٰ اشعری ایک حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب قیامت کا روز ہوگا تو انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتیں بلائی جائیں گی، پھر عیسیٰ ؑ کو بلایا جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ ان کو اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، اور ان کو نزدیک کرکے فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بیٹے مریم کے (آیت) اذکر نعمتی علیک وعلی والدتک۔ عیسیٰ ؑ انکار کریں گے کہ پروردگار میں نے نہیں کہا ہے، پھر نصاریٰ سے سوال ہوگا تو یہ لوگ کہیں گے کہ ہاں اس نے ہم کو یہی حکم دیا تھا، اس کے بعد ان کو دوزخ کی طرف ہانکا جائے گا۔
Ayah 5:118قولہ تعالیٰ اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ یعنی آپ اپنے بندوں پر ظلم اور بیجا سختی نہیں کرسکتے، اس لئے اگر ان کو سزا دیں گے تو عین عدل و حکمت پر مبنی ہوگی، اور فرض کیجئے معاف کردیں تو یہ معافی بھی ازراہ عجز نہ ہوگی، کیونکہ آپ عزیز (زبردست اور غالب) ہیں، اس لئے کوئی مجرم آپ کے قبضہ قدرت سے نکل کر بھاگ نہیں سکتا، کہ اس پر آپ قابو نہ پاسکیں، اور چونکہ حکیم (حکمت والے) ہیں، اس لئے یہ بھی ممکن نہیں کہ کسی مجرم کو یونہی بےموقع چھوڑ دیں، بہر حال جو فیصلہ آپ ان مجرمین کے حق میں کریں گے وہ بالکل حکیمانہ اور قادرانہ ہوگا۔ حضرت مسیح ؑ کا یہ کلام چونکہ محشر میں ہوگا جہاں کفار کے حق میں کوئی شفاعت اور استدعاء رحم وغیرہ نہیں ہو سکتی، اس لئے حضرت مسیح نے ”عزیر حکیم“ کی جگہ ”غفور رحیم“ وغیرہ صفات کو اختیار نہیں فرمایا، برخلاف اس کے حضرت ابراہیم ؑ نے دنیا میں اپنے پروردگار سے عرض کیا تھا، (آیت) رب انھن اضللن ، (اے پروردگار ان بتوں نے بہت سے آدمیوں کو گمراہ کردیا تو جو ان میں سے میرے تابع ہوا وہ میرا آدمی ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو پھر تو غفور رحیم ہے) یعنی ابھی موقع ہے کہ تو اپنی رحمت سے آئندہ ان کو توبہ اور رجوع الی الحق کی توفیق دے کر پچھلے گناہوں کو معاف فرما دے (فوائد عثمانی)
ابن کثیر رحمة اللہ علیہ نے بروایت ابوذر ؓ نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک مرتبہ پوری رات ایک ہی آیت پڑھتے رہے، اور وہ آیت اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ، ہے پھر جب صبح ہوئی تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ یہی آیت پڑھتے رہے، رکوع اسی سے اور سجدے اسی سے کرتے رہے، یہاں تک کہ صبح ہوگئی، تو فرمایا کہ میں نے اپنے پروردگار سے اپنے واسطے شفاعت کی درخواست کی تو مجھے عطا فرمائی، اور وہ انشاء اللہ تعالیٰ ملنے والی ہے، ایسے شخص کے واسطے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیا ہو۔
دوسری روایت میں آتا ہے کہ آپ نے مذکورہ آیت پڑھ کر آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور کہا اللھم امتی یعنی میرے پاک پروردگار میری امت کی طرف نظر رحمت فرما، اور آپ رونے لگے، اس پر اللہ تعالیٰ نے بذریعہ جبرئیل امین رونے کی وجہ دریافت فرمائی، تو آپ ﷺ نے جبرئیل امین کو اپنے مذکورہ قول سے آگاہ کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل سے فرمایا کہ پھر جاؤ اور (حضرت) محمد ﷺ سے کہہ دو کہ ہم عنقریب تیری امت کے بارے میں تم کو رضا مند کردیں گے، اور تم کو ناخوش نہ کریں گے۔
Ayahs 5:119–120ربط آیات
اوپر دونوں رکوع میں قیامت کے دن اعمال و احوال کا حساب و کتاب اور سوال و جواب کا ذکر ہے، اب آگے اس تفتیش و محاسبہ کا نتیجہ ذکر کیا جاتا ہے۔
خلاصہ تفسیر
(ان تمام مکالمات مذکورہ کے بعد) اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کہ یہ (قیامت کا دن) وہ دن ہے کہ جو لوگ (دنیا میں باعتبار عقائد و اعمال اور اقوال کے) سچے تھے (کہ وہ سچا ہونا اب ظاہر ہو رہا ہے، جن میں انبیاء جن سے خطاب ہو رہا ہے اور مومنین جن کے ایمان کی انبیاء و ملائکہ سب شہادت دیں گے، سب داخل ہیں، اور اس میں اشارہ تصدیق رسل و تصدیق عیسیٰ ؑ کی طرف بھی ان مخاطبات میں ہوگیا، غرض یہ سب حضرات جو دنیا میں سچے تھے) ان کا سچا ہونا (آج) ان کے کام آوے گا (اور وہ کام آنا یہ ہے کہ) ان کو (جنت کے) باغ (رہنے کو) ملیں گے جن کے (محلات کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے (اور یہ نعمتیں ان کو کیوں نہ ملیں کیونکہ) اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور خوش اور یہ اللہ تعالیٰ سے راضی اور خوش ہیں (اور جو شخص راضی ومرضی ہو اس کو ایسی ہی نعمتیں ملتی ہیں) یہ (جو کچھ مذکور ہوا) بڑی بھاری کامیابی ہے (کہ دنیا کی کوئی کامیابی اس کے برابر نہیں ہوسکتی)۔
ربط آیات
اب سورت ختم ہونے کو ہے۔ پوری سورت میں کچھ اصولی اور فروعی احکام بیان ہوئے ہیں، اس لئے آخر میں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا مالک ہے، اس لئے اسے یہ احکام دینے کا حق ہے۔ اور بندوں کو یہ احکام پوری طرح ماننے چاہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں وہ نافرمانی کی صورت میں سزا اور فرماں برداری کی صورت میں انعام دینے پر قادر ہیں۔ چناچہ فرمایا گیا اللہ ہی کی ہے سلطنت آسمانوں کی اور زمین کی، اور ان چیزوں کی جو ان (آسمانوں اور زمین) میں موجود ہیں، اور وہ ہر شے پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔
معارف و مسائل
فائدہ
قَال اللّٰهُ هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ ، عام طور پر واقع کے مطابق قول کو صدق اور خلاف واقع کو کذب سمجھا جاتا ہے، لیکن قرآن و سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ صدق و کذب عام ہے یعنی قول اور عمل دونوں کو شامل ہے، چناچہ اس حدیث میں خلاف واقع عمل کو کذب کہا گیا ہے، من تحلی بما لم یعط کان کلابس ثوبی زور۔ (مشکوۃ) ، ”یعنی اگر کوئی اپنے آپ کو ایسے زیور سے آراستہ کرے جو اس کو نہیں دیا گیا، یعنی کسی ایسی صفت یا عمل کا دعویٰ کرے جو اس میں نہیں ہے تو گویا اس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہنے۔
ایک دوسری حدیث میں علانیہ اور تنہائی میں اچھی طرح نماز پڑھنے والے کو سچا بندہ کہا گیا ہے، ارشاد ہے
ان العبد اذا صلی فی العلانیہ الخ۔
(ترجمہ) ”یعنی جو آدمی علانیہ اچھی طرح نماز پڑہتا ہے اور وہ تنہائی میں بھی اسی طرح ادا کرتا ہے تو ایسے آدمی کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ میرا سچ مچ بندہ ہے“۔
رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ، یعنی اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے، ایک حدیث میں آتا ہے کہ جنت ملنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ بڑی نعمت یہ ہے کہ میں تم سے راضی ہوا اب کبھی تم پر ناراض نہ ہوں گا۔
ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ یعنی یہی بڑی کامیابی ہے، ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کیا کامیابی ہوگی کہ مالک و خالق جل جلالہ راضی ہیں۔
فللّٰہ الحمد اولہ واخرہ،