5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsمعارف القرآن

Ayah 5:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 5:11 in the Quran reader

اے ایمان والو یاد رکھو احسان اللہ کا اپنے اوپر جب قصد کیا لوگوں نے کہ تم پر ہاتھ چلادیں پھر روکدئیے تم سے ان کے ہاتھ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور اللہ ہی پر چاہیے بھروسہ ایمان والوں کو

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو اللہ تعالیٰ کے انعام کو یاد کرو جو تم پر ہوا ہے، جب کہ ایک قوم (یعنی کفار قریش ابتدائے اسلام میں جب کہ مسلمان ضعیف تھے) اس فکر میں تھے کہ تم پر (اس طرح) دست درازی کریں (کہ تمہارا خاتمہ ہی کردیں) سو اللہ تعالیٰ نے ان کا قابو تم پر (اس قدر) نہ چلنے دیا (اور آخر میں تم کو غالب کردیا۔ پس اس نعمت کو یاد کرو) اور (احکام کے امتثال میں) اللہ تعالیٰ سے ڈرو (کہ اس نعمت کا یہ شکریہ ہے) اور (آئندہ بھی) اہل ایمان کو حق تعالیٰ پر اعتماد رکھنا چاہیے (جس نے پہلے تمہارے سب کام بنائے ہیں آئندہ بھی آخرت تک امید رکھو اتقوا اللہ میں خوف دلایا اور امر بالتوکل میں امید اور یہی دو عمل معین امتثال ہیں) اور اللہ تعالیٰ نے (حضرت موسیٰ ؑ کے واسطے سے) بنی اسرائیل سے (بھی) عہد لیا تھا (جس کا بیان عنقریب آتا ہے) اور (ان عہود کی تاکید کے لئے) ہم نے ان میں سے (موافق عدد ان کے قبائل کے) بارہ سردار مقرر کئے (کہ ہر ہر قبیلہ پر ایک ایک سردار رہے جو اپنے ماتحتوں پر ہمیشہ ایفاء عہود کی تاکید رکھے) اور (مزید تاکید عہد کے لئے ان سے) اللہ تعالیٰ نے یوں (بھی) فرمایا دیا کہ میں تمہارے پاس ہوں (تمہارے برے بھلے کی سب مجھ کو خبر رہے گی، مطلب یہ ہے کہ عہد لیا پھر اس کی تاکید در تاکید فرمائی اور اس عہد کا خلاصہ مضمون یہ تھا کہ) اگر تم نماز کی پابندی رکھو گے اور زکوٰة ادا کرتے رہو گے اور میرے سب رسولوں پر (جو آئندہ بھی نئے نئے آتے رہیں گے) ایمان لاتے رہو گے اور (دشمنوں کے مقابلہ میں) ان کی مدد کرتے رہو گے اور (علاوہ زکوٰة کے اور مصارف خیر میں بھی صرف کرکے) اللہ تعالیٰ کو اچھے طور پر (یعنی اخلاص کے ساتھ) قرض دیتے رہو گے تو میں ضرور تمہارے گناہ تم سے دور کر دوں گا اور ضرور تم کو (بہشت کے) ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے (محلات کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی اور جو شخص اس (عہد و پیمان لینے) کے بعد بھی کفر کرے گا تو وہ بیشک راہ راست سے دور جا پڑا۔ معارف و مسائل سورة مائدہ کی ساتویں آیت جو پہلے گزر چکی ہے، اس میں حق تعالیٰ نے مسلمانوں سے ایک عہد و میثاق لینے اور ان کے ماننے اور تسلیم کرلینے کا ذکر فرمایا ہے۔ واذکروا نعمة اللّٰہ علیکم ومیثاقہ تا واتقوا اللّٰہ۔ یہ میثاق خدا اور رسول کی اطاعت اور احکام شرعیہ کے اتباع کا میثاق ہے۔ جس کا اصطلاحی عنوان کلمہ لا اللّٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ہے۔ اور ہر کلمہ گو مسلمان اس میثاق کا پابند ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں میثاق کی بعض اہم دفعات یعنی خاص خاص احکام شرعیہ کا بیان فرمایا ہے جس میں دوست دشمن سب کے لئے عدل و انصاف اور رواداری کی تعلیم دی گئی ہے۔ یہ میثاق خود بھی اللہ تعالیٰ کا ایک بڑا انعام ہے، اسی لئے اس کو اذکرو نعمۃ اللہ سے شروع کیا گیا ہے۔ آیت مذکورہ کو پھر اسی جملہ اذکروا نعمت اللّٰہ علیکم سے شروع کرکے یہ بتلانا منظور ہے کہ مسلمانوں نے اپنے اس عہد و میثاق کی پابندی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا و آخرت میں قوت و بلندی اور درجات عالیہ عطاء فرمائے اور دشمنوں کے ہر مقابلہ میں ان کی امداد فرمائی۔ دشمنوں کا قابو ان پر نہ چلنے دیا۔ اس آیت میں خاص طور پر اس کا ذکر ہے کہ دشمنوں نے بارہا رسول کریم ﷺ اور مسلمانوں کے مٹا دینے اور قتل و غارت کردینے کے منصوبے بنائے اور تیاریاں کیں، مگر اللہ تعالیٰ نے سب کو خائب و خاسر کردیا۔ ارشاد ہے کہ ”ایک قوم اس فکر میں تھی کہ تم پر دست درازی کرے، مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ہاتھ تم سے روک دیئے“۔ مجموعی حیثیت سے تو ایسے واقعات تاریخ اسلام میں بیشمار ہیں کہ کفار کے منصوبے فضل خداوندی سے خاک میں مل گئے۔ لیکن بعض خاص خاص اہم واقعات بھی ہیں جن کو حضرات مفسرین نے اس آیت کا مصداق قرار دیا ہے۔ مثلاً مسند الرزاق میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ‘ کسی جہاد میں رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام ایک منزل پر قیام پذیر ہوئے صحابہ کرام مختلف حصوں میں اپنے اپنے ٹھکانوں پر آرام کرنے لگے۔ رسول کریم ﷺ تن تنہا ایک درخت کے نیچے ٹھہر گئے۔ اور اپنے ہتھیار ایک درخت پر لٹکا دیئے۔ دشمنوں میں سے ایک گاؤں والا موقع غنیمت جان کر جھپٹا اور آتے ہی رسول کریم ﷺ کی تلوار پر قبضہ کرلیا۔ اور آپ پر وہ تلوار کھینچ کر بولا من یمنعک منی اب بتلائیے کہ آپ کو میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے بےدھڑک فرمایا کہ ”اللہ عزوجل“ گاؤں والے نے پھر وہی کلمہ دہرایا۔ من یمنعک منی آپ ﷺ نے پھر اسی بےفکری کے ساتھ فرمایا ”اللہ عزوجل“۔ دو تین مرتبہ اسی طرح کی گفتگو ہوتی رہی، یہاں تک کہ غیبی قدرت کے رعب نے اس کو مجبور کرا کہ تلوار کو میان میں داخل کرکے رکھ دیا۔ اس وقت رسول کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو بلایا اور یہ واقعہ سنایا۔ یہ گاؤں والا ابھی تک آپ کی پہلو میں بیٹھا ہوا تھا، آپ ﷺ نے اس کو کچھ نہیں کہا۔ (ابن کثیر) اسی طرح بعض صحابہ کرام سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ کعب بن اشرف یہودی نے ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ کو اپنے گھر میں بلا کر قتل کرنے کی سازش کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس کی اطلاع کردی اور ان کی ساری سازش خاک میں مل گئی (ابن کثیر) اور حضرت مجاہد، عکرمہ وغیرہ سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ کو ایک دیوار کے نیچے بٹھا کر باتوں میں مشغول کیا اور دوسری طرف عمرو بن جحش کو اس کام پر مقرر کردیا کہ دیوار کے پیچھے سے اوپر چڑھ کر پتھر کی ایک چٹان آپ ﷺ کے اوپر ڈال دے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ان کے ارادہ پر مطلع فرمایا اور آپ ﷺ فوراً وہاں سے اٹھ گئے (ابن کثیر)۔ ان واقعات میں کوئی تضاد نہیں، سب کے سب آیت مذکورہ کا مصداق ہو سکتے ہیں۔ آیت مذکورہ میں رسول کریم ﷺ اور مسلمانوں کی غیبی حفاظت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا واتقوا اللّٰہ وعلی اللّٰہ فلیتوکل المؤ منون۔ اس میں ایک ارشاد تو یہ ہے کہ یہ انعام خداوندی صرف رسول کریم ﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اس نصرت و امداد اور غیبی حفاظت کا اصلی سبب تقویٰ اور توکل ہے جو قوم یا فرد جس زمانہ اور جس مکان میں ان دو وصفوں کو اختیار کرے گا اس کو بھی ایسی ہی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت و حمایت ہوگی۔ کسی نے خوب کہا ہے فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس جملہ کو آیات سابقہ کے مجموعہ کے ساتھ لگایا جائے۔ جن میں بدترین دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک اور عدل و انصاف کے احکام دئے گئے ہیں تو پھر اس جملہ میں اس طرف اشارہ ہوگا کہ ایسے سخت دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک اور رواداری کی تعلیم بظاہر ایک سیاسی غلطی اور دشمنوں کو جرأت و ہمت دلانے کے مرادف ہے، اس لئے اس جملہ میں مسلمانوں کو اس پر متنبہ کیا گیا کہ اگر تم تقویٰ شعار اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والے رہو تو یہ رواداری اور حسن سلوک تمہارے لئے قطعاً مضر نہیں ہوگا۔ اور دشمنوں کو مخالفت کی جرأت کے بجائے تمہارے زیر اثر لانے اور اسلام سے قریب کرنے کا سبب بنے گا۔ نیز تقویٰ اور خوف خدا ہی وہ چیز ہے جو کسی انسان کو، عہدو میثاق کی پابندی پر ظاہراً و باطناً مجبور کرسکتا ہے۔ جہاں یہ تقویٰ یعنی خوف خدا نہیں ہوتا وہاں عہد و میثاق کا وہی حشر ہوتا ہے جو آج کل عام لوگوں میں دیکھا جاتا ہے، اس لئے اوپر کی جس آیت میں میثاق کا ذکر ہے، وہاں بھی آخر آیت میں واتقوا اللّٰہ فرمایا گیا تھا۔ اور یہاں پھر اس کا اعادہ کیا گیا، نیز اس پوری آیت میں اس طرف بھی اشارہ فرمایا گیا ہے کہ مسلمانوں کی فتح و نصرت صرف ظاہری سازو سامان کی مرہون منت نہیں، بلکہ ان کی اصل طاقت کا راز تقویٰ اور توکل میں مضمر ہے۔
Ayah 5:12

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 5:12 in the Quran reader

اور لے چکا ہے اللہ عہد بنی اسرائیل سے اور مقرر کئے ہم نے ان میں سے بارہ سردار اور کہا اللہ نے میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم قائم رکھو گے نماز اور دیتے رہو گے زکوٰة اور یقین لاؤ گے میرے رسولوں پر اور مدد کرو گے ان کی اور قرض دو گے اللہ کو اچھی طرح کا قرض تو البتہ دور کردوں گا میں تم سے گناہ تمہارے اور داخل کردوں گا تم کو باغوں میں کہ جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں پھر جو کوئی کافر ہوا تم میں سے اس کے بعد تو وہ بیشک گمراہ ہوا سیدھے راستے سے۔

اس آیت میں مسلمانوں سے عہد و میثاق لینے اور ان کے ایفاء عہد پر دنیا و آخرت میں اس کے بیش بہا نتائج کا ذکر کرنے کے بعد معاملہ کا دوسرا رخ سامنے لانے کے لئے دوسری آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ یہ عہد و میثاق لینا صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص نہیں، بلکہ ان سے پہلے دوسری امتوں سے بھی اسی قسم کے میثاق لئے گئے تھے۔ مگر وہ اپنے عہد و میثاق میں پورے نہ اترے۔ اس لئے ان پر طرح طرح کے عذاب مسلط کئے گئے۔ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے بھی ایک عہد لیا تھا۔ اور ان سے عہد لینے کی یہ صورت اختیار کی گئی تھی کہ پوری قوم بنی اسرائیل جو بارہ خاندانوں پر مشتمل تھی انہیں سے ہر خاندان سے ایک سردار چنا گیا، اور ہر خاندان کی طرف سے اس کے سردار نے ذمہ داری اٹھائی کہ میں اور میرا پورا خاندان اس میثاق الہٰی کی پابندی کرے گا۔ اس طرح ان بارہ سرداروں نے پوری قوم بنی اسرائیل کی ذمہ داری لے لی۔ ان کے ذمہ یہ تھا کہ خود بھی اس میثاق کی پابندی کریں اور اپنے خاندان سے بھی کرائیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عزت و فضیلت کے معاملہ میں اسلام کا اصل اصول تو یہ ہے کہ بندہ عشق شدی ترک نسب کن جامی کہ دریں راہ فلاں بن فلاں چیزے نیست رسول کریم ﷺ نے حجة الوداع کے تاریخی خطبہ میں پوری وضاحت کے ساتھ اس کا اعلان فرمادیا ہے کہ اسلام میں عرب و عجم، کالے گورے اور اونچی نیچی ذات، پات کا کوئی اعتبار نہیں۔ جو اسلام میں داخل ہوگیا وہ سارے مسلمانوں کا بھائی ہوگیا۔ حسب، نسب، رنگ، وطن، زبان کے امتیازات جو جاہلیت کے بت تھے ان سب کو اسلام نے توڑ ڈالا، لیکن اس کے معنیٰ یہ نہیں کہ انتظامی معاملات میں نظم قائم رکھنے کے لئے بھی خاندانی خصوصیات کا لحاظ نہ کیا جائے۔ یہ فطری امر ہے کہ ایک خاندان کے لوگ اپنے خاندان کے جانے پہچانے آدمی پر بہ نسبت دوسروں کے زیادہ اعتماد کرسکتے ہیں۔ اور یہ شخص ان کی پوری نفسیات سے واقف ہونے کی بنا پر ان کے جذبات و خیالات کی زیادہ رعایت کرسکتا ہے۔ اسی حکمت عملی پر مبنی تھا کہ بنی اسرائیل کے بارہ خاندانوں سے جب عہد لیا گیا تو ہر خاندان کے ایک ایک سردار کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ اور اسی انتظامی مصلحت اور مکمل اطمینان و سکون کی رعایت اس وقت بھی کی گئی جب کہ قوم بنی اسرائیل پانی نہ ہونے کی وجہ سے سخت اضطراب میں تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے دعا کی اور بح کے لئے علیحدہ علیحدہ جاری کر دئے۔ سورة اعراف میں قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کے اس احسان عظیم کا اس طرح ذکر فرمایا ہے۔ وقطعنہم اثنتی عشرة اسباطا امما اور فانبجست منہ اثنتا عشرة عینا ہم نے بانٹ دیئے ان کے بارہ خاندان بارہ جماعتوں میں۔ پھر پھوٹ نکلے پتھر سے بارہ چشمے (ہر ایک خاندان کے لئے جدا جدا)۔ اور یہ بارہ کا عدد بھی کچھ عجیب خصوصیات اور مقبولیت رکھتا ہے۔ جس وقت انصار مدینہ رسول کریم ﷺ کو مدینہ کے لئے دعوت دینے کے لیے حاضر ہوئے اور آپ ﷺ نے ان سے بذریعہ بیعت معاہدہ لیا تو اس معاہدہ میں بھی انصار کے بارہ سرداروں نے ذمہ داری لے کر آنحضرت ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی تھی ان میں تین سردار قبیلہ اوس کے اور نو قبیلہ خزرج کے تھے (ابن کثیر)۔ اور صحیحین میں حضرت جابر بن سمرة ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں کا کام اور نظام اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک کہ بارہ خلیفہ ان کی قیادت کریں گے۔ امام ابن کثیر نے اس روایت کو نقل کرکے فرمایا کہ اس حدیث کے کسی لفظ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ بارہ امام یکے بعد دیگرے مسلسل ہوں گے۔ بلکہ ان کے درمیان فاصلہ بھی ہوسکتا ہے۔ چناچہ چار خلفاء صدیق اکبر، فاروق اعظم، عثمان غنی، علی المرتضیٰ ؓ مسلسل ہوئے اور درمیان کی کچھ مدت کے بعد پھر حضرت عمر بن عبد العزیز باجماع خلیفہ برحق مانے گئے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ بنی اسرائیل سے معاہدہ لینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارہ خاندانوں کے بارہ سرداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا اور ان سے ارشاد فرمایاانی معکم یعنی میں تمہارے ساتھ ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے میثاق کی پابندی کی اور دوسروں سے پابندی کرانے کا عزم کیا تو میری امداد و نصرت تمہارے ساتھ ہوگی۔ اس کے بعد آیت مذکورہ میں اس میثاق کی چند اہم دفعات اور بنی اسرائیل کی عہد شکنی اور ان پر عذاب الہٰی کا ذکر ہے۔ میثاق کی دفعات کا ذکر کرنے سے پہلے ایک جملہ یہ ارشاد فرمایا کہانی معکم جس میں دو باتیں بتلا دی گئیں ہیں۔ ایک یہ کہ اگر میثاق پر قائم رہے تو میری امداد تمہارے ساتھ رہے گی اور تم ہر قدم پر اس کا مشاہدہ کرو گے۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اور ہر جگہ تمہارے ساتھ ہے، اور اس میثاق کی نگرانی فرما رہا ہے، تمہارا کوئی عزم و ارادہ اور فکر و خیال یا حرکت و عمل اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔ وہ تمہاری خلوتوں کے رازوں کو بھی دیکھتا اور سنتا ہے۔ وہ تمہارے دلوں کی نیتوں اور ارادوں سے بھی واقف ہے۔ میثاق کی خلاف ورزی کرکے تم کسی طرح بھی اس کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ اس کے بعد میثاق کی دفعات میں سب سے پہلے اقامت صلوة کا ذکر ہے۔ اور پھر اداء زکوٰة کا۔ اس سے معلوم ہوا کہ نماز اور زکوٰة کے فرائض اسلام سے پہلے حضرت موسیٰ ؑ کی قوم پر بھی عائد تھے۔ اور دوسرے قرآنی اشارات و روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ فرائض صرف بنی اسرائیل ہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر پیغمبر اور ہر شریعت میں ہمیشہ عائد رہے ہیں۔ تیسرا نمبر میثاق میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سب رسولوں پر ایمان لائیں اور ان کے مقصد رشدو ہدایت میں ان کی امداد کریں۔ بنی اسرائیل میں چونکہ بہت سے رسول آنے والے تھے، اس لئے ان کو خصوصیت سے اس کی تاکید فرمائی گئی اور اگرچہ ایمانیات کا درجہ عملیات، نماز، زکوٰة سے رتبةً مقدم ہے۔ مگر میثاق میں مقدم اس کو رکھا گیا جس پر بالفعل عمل کرنا تھا۔ آنے والے رسول تو بعد میں آئیں گے، ان پر ایمان لانے اور ان کی امداد کرنے کا وقوع بھی بعد میں ہونے والا تھا اس لئے اس کو موخر بیان فرمایا گیا۔ چوتھا نمبر میثاق میں یہ ہے کہاقرضتم اللّٰہ قرضاً حسناً (یعنی تم اللہ تعالیٰ کو قرض دو ، اچھی طرح کا قرض)۔ اچھی طرح کے قرض کا مطلب یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ ہو، کوئی دنیوی غرض اس میں شامل نہ ہو، اور اللہ کی راہ میں اپنی محبوب چیز خرچ کرے۔ ردّی اور بیکار چیزیں دے کر نہ ٹالے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کو قرض دینے سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ قرض کا بدلہ قانوناً و عرفاً اور اخلاقاً واجب الاداء سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ یقین کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں خرچ کریں کہ اس کا بدلہ ضرور ملے گا۔ اور زکوٰة فرض کا ذکر مستقلاً کرنے کے بعد اس جگہ قرض حسن کا ذکر یہ بتلا رہا ہے کہ اس سے مراد زکوٰة کے علاوہ دوسرے صدقات و خیرات ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمان صرف زکوٰة ادا کرکے ساری مالی ذمہ داریوں سے سبکدوش نہیں ہوجاتا۔ زکوٰة کے علاوہ بھی کچھ اور مالی حقوق انسان کے ذمہ لازم ہیں۔ کسی جگہ مسجد نہیں تو تعمیر مسجد اور دینی تعلیم کے لئے حکومت متکفل نہیں ہے تو دینی تعلیم کا انتظام مسلمانوں ہی پر لازم ہے۔ فرق اتنا ہے کہ زکوٰة فرض عین اور یہ فرض کفایہ ہے فرض کفایہ کے معنیٰ یہ ہیں کہ قوم کے چند افراد یا کسی جماعت نے ان ضرورتوں کو پورا کردیا تو دوسرے مسلمان سبکدوش ہوجاتے ہیں اور اگر کسی نے بھی نہ کیا تو سب گنہگار ہوتے ہیں۔ آج کل دینی تعلیم اور اس کے مدارس جس کسمپرسی اور بےکسی کے عالم میں ہیں ان کو وہی لوگ جانتے ہیں، جنہوں نے اس کو دین کی اہم خدمت سمجھ کر قائم کیا ہوا ہے۔ زکوٰة ادا کرنے کی حد تک مسلمان جانتے ہیں کہ ہمارے ذمہ فرض ہے۔ اور یہ جاننے کے باوجود بہت کم افراد ہیں جو زکوٰة ادا کرتے ہیں۔ اور ادا کرنے والوں میں بھی بہت کم افراد ہیں جو پورا حساب کرکے پوری زکوٰة ادا کرتے ہیں، اور جو خال خال پوری زکوٰة ادا کرنے والے بھی ہیں تو وہ بالکل یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ اب ہمارے ذمہ اور کچھ نہیں۔ ان کے سامنے مسجد کی ضرورت آئے تو زکوٰة کا مال پیش کرتے ہیں اور دینی مدارس کی ضرورت پیش آئے تو صرف زکوٰة کا مال دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ فرائض زکوٰة کے علاوہ مسلمانوں پر عائد ہیں اور قرآن کریم کی اس آیت اور اس کی امثال بہت سی آیات نے اس کو واضح کردیا ہے۔ میثاق کی اہم دفعات بیان کرنے کے بعد بھی یہ بتلا دیا کہ اگر تم نے میثاق کی پابندی کی تو اس کی جزاء یہ ہوگی کہ تمہارے پچھلے گناہ بھی معاف کر دئے جائیں گے اور دائمی راحت و عافیت کی بےمثال جنت میں رکھا جائے گا اور آخر میں یہ بھی بتلا دیا کہ ان تمام واضح بیانات و ارشادات کے بعد بھی اگر کسی نے کفر و سرکشی اختیار کی تو وہ ایک صاف سیدھی راہ چھوڑ کر اپنے ہاتھوں تباہی کے گڑھے میں جاگرا۔۔
Ayah 5:13

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

سو ان کے عہد توڑنے پر ہم نے ان پر لعنت کی اور کردیا ہم نے ان کے دلوں کو سخت پھیرتے ہیں کلام کو اس کے ٹھکانے سے اور بھول گئے نفع اٹھانا اس نصیحت سے جو ان کو کی گئی تھی اور ہمیشہ تو مطلع ہوتا رہتا ہے ان کی کسی دغا پر مگر تھوڑے لوگ ان میں سے سو معاف کر اور درگزر کر ان سے اللہ دوست رکھتا ہے احسان کرنے والوں کو

خلاصہ تفسیر (لیکن بنی اسرائیل نے عہد مذکورہ کو توڑا ڈالا، اور توڑنے کے بعد طرح طرح کے عقوبات میں جیسے مسخ اور ذلت وغیرہ گرفتار ہوئے۔ پس یہ جو ان کو عنایت و الطاف الہیہ سے بعد ہوا) تو صرف ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت (یعنی اس کے آثار) سے دور کردیا (اور یہی حقیقت ہے لعنت کی) اور (اسی لعنت کے آثار سے یہ ہے کہ) ہم نے ان کے قلوب کو سخت کردیا (کہ حق بات کا ان پر اثر ہی نہیں ہوتا اور اس سخت دلی کے آثار سے یہ ہے کہ) وہ لوگ (یعنی ان میں کے علماء) کلام (الہٰی یعنی توریت) کو اس کے (الفاظ یا مطالب کے) مواقع سے بدلتے ہیں (یعنی تحریف لفظی یا تحریک معنوی کرتے ہیں) اور (اس تحریف کا اثر یہ ہوا کہ) وہ لوگ جو کچھ ان کو (توریت میں) نصیحت کی گئی تھی اس میں سے اپنا ایک بڑا حصہ (نفع کا جو کہ ان کو عمل کرنے سے نصیب ہوتا) فوت کر بیٹھے (کیونکہ زیادہ مشق ان کی اس تحریف کے مضامین متعلقہ بتصدیق رسالت محمدیہ میں ہوتی تھی، اور ظاہر ہے کہ ایمان سے زیادہ بڑا حصہ کیا ہوگا۔ غرض نقض میثاق پر لعنت مرتب ہوئی اور لعنت پر قساوت وغیرہ اور قساوت پر تحریف اور تحریف پر فوت حظ عظیم اور وجہ ترتیب ظاہر ہے) اور (پھر یہ بھی کہ جتنا کرچکے اس پر بس کریں بلکہ حالت یہ ہے کہ) آپ کو آئے دن (یعنی ہمیشہ دین کے باب میں) کسی نہ کسی (نئی) خیانت کی اطلاع ہوتی رہتی ہے جو ان سے صادر ہوتی رہتی ہے بجز ان کے معدو دے چند شخصوں کے (جو کہ مسلمان ہوگئے تھے) سو آپ ان کو معاف کیجئے اور ان سے درگزر کیجئے (یعنی جب تک شرعی ضرورت نہ ہو۔ ان کی خیانتوں کا اظہار اور ان کو فضیحت نہ کیجئے) بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوش معاملہ لوگوں سے محبت کرتا ہے (اور بلا ضرورت فضیحت نہ کرنا خوشی معاملگی ہے) اور جو لوگ (نصرت دین کے دعوے سے) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ ہم نے ان سے بھی ان کا عہد (مثل عہد یہود کے) لیا تھا، سو وہ بھی جو کچھ ان کو (انجیل وغیرہ میں) نصیحت کی گئی تھی اس میں سے اپنا ایک بڑا حصہ (نفع کا جو کہ ان کو عمل کرنے سے نصیب ہوتا) فوت کر بیٹھے (کیونکہ وہ امر جس کو فوت کر بیٹھے توحید ہے اور ایمان ہے جناب رسول اللہ ﷺ پر جس کا حکم ان کو بھی ہوا تھا اور اس کا حظ عظیم ہونا ظاہر ہے جب توحید کو چھوڑ بیٹھے) تو ہم نے ان میں باہم قیامت تک کے لئے بغض و عداوت ڈال دیا (یہ تو دنیوی عقوبت ہوئی) اور عنقریب (آخرت میں) کہ وہ بھی قریب ہی ہے، ان کو اللہ تعالیٰ ان کا کیا ہوا جتلا دیں گے (پھر سزا دیں گے)۔ معارف و مسائل آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل نے اپنی بدبختی سے ان واضح ہدایات پر کان نہ دھرے اور میثاق کی مخالفت کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کردیا۔ بنی اسرائیل پر ان کی بدعملی اور سرکشی کی سزا میں دو طرح کے عذاب آئے۔ ایک ظاہری اور محسوس جیسے پتھراؤ یا زمین کا تختہ الٹ دینا وغیرہ۔ جن کا ذکر قرآن کریم کی آیات میں مختلف مقامات پر آیا ہے۔ دوسری قسم عذاب کی معنوی اور روحانی ہے کہ سرکشی کی سزا میں ان کے دل و دماغ مسخ ہوگئے۔ ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہ رہی۔ وہ اپنے گناہوں کے وبال میں مزید گناہوں میں مبتلا ہوتے چلے گئے۔ ارشاد ہےفَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً ۚ۔ یعنی ہم نے ان کے بدعہدی اور میثاق کی خلاف ورزی کی سزا میں ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا، اور ان کے دلوں کو سخت کردیا کہ اب ان میں کسی چیز کی گنجائش نہ رہی۔ اسی رحمت سے دوری اور دلوں کی سختی کو قرآن کریم نے سورة مطففین میں ران کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہےکلا بل ران علی قلوبھم ماکانوا یکسبون یعنی قرآنی آیات بینات اور کھلی ہوئی نشانیوں سے انکار کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر ان کے گناہوں کی وجہ سے زنگ بیٹھ گیا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ ‘ انسان جب اول کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے، جس کی برائی کو وہ ہر وقت ایسا محسوس کرتا ہے جیسے کسی صاف سفید کپڑے پر ایک سیاہ داغ لگ جائے وہ ہر وقت نظر کو تکلیف دیتا ہے۔ پھر اگر اس نے متنبہ ہو کر توبہ کرلی اور آئندہ گناہ سے باز آگیا تو وہ نقطہ مٹا دیا جاتا ہے۔ اور اگر اس نے پرواہ نہ کی بلکہ دوسرے گناہوں میں مبتلا ہوتا چلا گیا تو ہر گناہ پر ایک نقطہ سیاہ کا اضافہ ہوتا رہے گا۔ یہاں تک کہ اس کا صفحہ قلب ان نقطوں سے بالکل سیاہ ہوجائے گا۔ اس وقت اس کے قلب کی یہ حالت ہوجائے گی۔ جیسے کوئی برتن اوندھا رکھا ہو کہ اس میں کوئی چیز ڈالی جائے تو فوراً باہر آجاتی ہے، اس لئے کوئی خیر اور نیکی کی بات اس کے دل میں نہیں جمتی، اس وقت اس کے دل کی یہ کیفیت ہوجاتی ہے کہ لا یعرف معروفا ولا ینکر منکرا۔ یعنی اب نہ وہ کسی نیکی کو نیکی سمجھتا ہے نہ برائی کو برائی بلکہ معاملہ برعکس ہونے لگتا ہے کہ عیب کو ہنر، بدی کو نیکی، گناہ کو ثواب سمجھنے لگتا ہے۔ اور اپنی طغیانی اور سرکشی میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہ اس کے گناہ کی نقد سزا ہے جو اس کو دنیا ہی میں مل جاتی ہے۔ بعض اکابر نے فرمایا ہےان من جزاء الحسنة الحسنة بعدھا وان من جزاء السئیۃ السیئۃ بعدھا۔ یعنی نیکی کی ایک نقد جزاء یہ ہے کہ اس کے بعد اس کو دوسری نیکی کی توفیق ہوتی ہے۔ اسی طرح گناہ کی نقد سزا یہ ہے کہ ایک گناہ کے بعد اس کا دل دوسرے گناہوں کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔ معلوم ہوا کہ طاعات اور معاصی میں تجاذب ہے کہ زر زر کشد در جہاں گنج گنج ایک نیکی دوسری نیکی کو دعوت دیتی ہے اور ایک بدی دوسری بدی کو اور گناہ کو ساتھ لے آتی ہے۔ بنی اسرائیل کو عہد شکنی کی نقد سزا حسب ضابطہ ان کو یہ ملی کہ وہ رحمت خداوندی سے دور ہوگئے، جو سب سے بڑا وسیلہ نجات ہے اور ان کے دل سخت ہوگئے جس کی نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ(آیت) يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِه۔ یعنی یہ لوگ کلام الہٰی کو اس کے ٹھکانے سے پھیر دیتے ہیں۔ یعنی خدا کے کلام میں تحریف کرتے ہیں۔ کبھی اس کے الفاظ میں اور کبھی معنی میں، کبھی تلاوت میں، تحریف کی یہ سب اقسام قرآن کریم اور کتب حدیث میں بیان کی گئی ہیں۔ جس کا قدرے اعتراف آج کل بعض یورپین عیسائیوں کو بھی کرنا پڑا ہے۔ (تفسیر عثمانی) اس معنوی سزا کا یہ نتیجہ ہوا کہ (آیت) وَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ۔ یعنی نصیحت جو ان کو کی گئی تھی کہ اس سے نفع اٹھانا بھول گئے۔ اور پھر فرمایا کہ ان کی یہ سزا ایسی ان کے گلے کا ہار بن گئی(آیت) وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰي خَاۗىِٕنَةٍ مِّنْهُمْ۔ یعنی آپ ہمیشہ ان کی کسی دغا فریب پر مطلع ہوتے رہیں گے۔ (آیت) اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ۔ بجز تھوڑے لوگوں کے جیسے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ وغیرہ جو پہلے اہل کتاب کے دین پر تھے پھر سچے مسلمان ہوگئے۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کی بداعمالیوں اور بداخلاقیوں کا جو بیان آیا بظاہر اس کا مقتضٰی یہ تھا کہ رسول کریم ﷺ ان سے انتہائی نفرت اور حقارت کا معاملہ کریں، ان کو پاس نہ آنے دیں۔ اس لئے آیت کے آخری جملہ میں رسول کریم ﷺ کو یہ ہدایت دی گئی کہ (آیت) فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ۔ یعنی آپ ان کو معاف کریں اور ان کی بدعملی سے درگزر کریں۔ ان سے منافرت کی صورت نہ رکھیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے ایسے حالات کے باوجود اپنے طبعی تقاضے پر عمل نہ کریں یعنی منافرت کا برتاؤ نہ کریں۔ کیونکہ ان کی سخت دلی اور بےحسی کے بعد اگرچہ کسی وعظ وپند کا ان کے لئے مؤ ثر ہونا مستبعد ہے۔ لیکن رواداری اور حسن خلق کا معاملہ ایسا کیمیا ہے کہ اس کے ذریعہ ان بےحسوں میں بھی حس پیدا ہو سکتی ہے۔ اور ان میں حس پیدا ہو یا نہ ہو، بہر حال اپنے اخلاق و معاملات کو درست رکھنا تو ضروری ہے، احسان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ اس کے ذریعہ مسلمانوں کو تو اللہ تعالیٰ کا اور قرب حاصل ہو ہی جائے گا۔
Ayah 5:14

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

اور وہ جو کہتے ہیں اپنے کو نصارٰی ان سے بھی لیا تھا ہم نے عہد ان کا پھر بھول گئے نفع اٹھانا اس نصیحت سے جو ان کو کی گئی تھیں پھر ہم نے لگا دی آپس میں ان کے دشمنی اور کینہ قیامت کے دن تک اور آخر جتا دے گا ان کو اللہ جو کچھ کرتے تھے۔

(آیت) وَمِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰٓى اَخَذْنَا مِيْثَاقَهُمْ۔ اس آیت سے پہلی آیت میں یہود کی عہد شکنی اور عذاب کا ذکر تھا، اس آیت میں کچھ نصاریٰ کا حال بیان فرمایا ہے۔ عیسائی فرقوں میں باہمی عداوت اس آیت میں حق تعالیٰ نے عیسائیوں کی عہد شکنی کی یہ سزا بیان کی ہے کہ ان کے آپس میں افتراق اور بغض و عداوت ڈال دیا گیا جو قیامت تک چلتا رہے گا۔ اس پر آج کل کے عیسائیوں کے حالات سے یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ وہ تو سب باہم متحد نظر آتے ہیں۔ جواب یہ ہے کہ یہ حال ان لوگوں کا بیان کیا گیا ہے جو واقعی عیسائی ہیں۔ اور عیسائی مذہب کے پابند ہیں اور جو خود اپنے مذہب کو بھی چھوڑ کر دہریئے بن گئے۔ وہ درحقیقت عیسائیوں کی فہرست سے خارج ہیں چاہے وہ قومی طور پر اپنے آپ کو عیسائی کہتے ہوں۔ ایسے لوگوں میں اگر وہ مذہبی افتراق اور باہمی عداوت نہ ہو تو وہ اس آیت کے منافی نہیں۔ کیونکہ افتراق و اختلاف تو مذہب کی بنیاد پر تھا، جب مذہب ہی نہ رہا تو اختلاف بھی نہ رہا اور آیت میں بیان ان لوگوں کا ہے جو مذہباً نصاریٰ اور عیسائی ہیں ان کا اختلاف و افتراق مشہور و معروف ہے۔ حاشیہ بیضاوی میں تیسیر سے نقل کیا ہے کہ نصاریٰ میں اصل تین فرقے تھے، ایک فسطوریہ جو عیسیٰ ؑ کو خدا کا بیٹا کہتے تھے۔ دوسرا یعقوبیہ جو خود عیسیٰ ؑ کو خدا کے ساتھ متحد مانتے تھے۔ تیسرا ملکائیہ جو عیسیٰ ؑ کو تین خداؤں میں سے ایک مانتے تھے۔ اور ظاہر ہے کہ اتنے بڑے اختلاف عقائد کے ساتھ باہم عداوت ضروری ہے۔
Ayahs 5:15–18

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

اے کتاب والو تحقیق آیا ہے تمہارے پاس رسول ہمارا ظاہر کرتا ہے تم پر بہت سی چیزیں جن کو تم چھپاتے تھے کتاب میں سے اور درگزر کرتا ہے بہت سی چیزوں سے بیشک تمہارے پاس آئی ہے اللہ کی طرف سے روشنی اور کتاب ظاہر کرنیوالی

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

جس سے اللہ ہدایت کرتا ہے اس کو جو تابع ہو اس کی رضا کا سلامتی کی راہیں اور نکالتا ہے ان کو اندھیروں سے روشنی میں اپنے حکم سے اور ان کو چلاتا ہے سیدھی راہ

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

بیشک کافر ہوئے جنہوں نے کہا کہ اللہ تو وہی مسیح ہے مریم کا بیٹا تو کہہ دے پھر کس کا بس چل سکتا ہے اللہ کے آگے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کرے مسیح مریم کے بیٹے کو اور اس کی ماں کو اور جتنے لوگ ہیں زمین میں سب کو اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ درمیان ان دونوں کے ہے پیدا کرتا ہے جو چاہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 5:18 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہود اور نصاریٰ ہم بیٹے ہیں اللہ کے اور اس کے پیارے تو کہہ پھر کیوں عذاب کرتا ہے تم کو تمہارے گناہوں پر کوئی نہیں بلکہ تم بھی ایک آدمی ہو اس کی مخلوق میں بخشے جس کو چاہے اور عذاب کرے جس کو چاہے اور اللہ ہی کے لئے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ دونوں کے بیچ میں ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

خلاصہ تفسیر اے اہل کتاب (یعنی یہود و نصاریٰ) تمہارے پاس ہمارے یہ رسول (محمد ﷺ آئے ہیں (جن کے کمال علمی کا تو یہ حال ہے کہ) کتاب (کے مضامین) سے جن چیزوں کو تم چھپالیتے ہو، ان میں سے بہت سی باتوں کو (جن کے اظہار میں کوئی شرعی مصلحت ہو ظاہراً تحصیل علوم نہ فرمانے کے باوجود خالص وحی کے ذریعہ واقف ہوکر) تمہارے سامنے صاف صاف کھول دیتے ہیں اور (کمال علمی و اخلاقی کا یہ عالم ہے کہ جن چیزوں کو تم نے چھپالیا تھا ان میں سے) بہت سے امور کو (جاننے اور باخبر ہونے کے باوجود اخلاقاً ان کے اظہار سے) درگزر فرماتے ہیں (جبکہ ان کے اظہار میں کوئی شرعی مصلحت نہ ہو، صرف تمہاری رسوائی ہی ہوتی ہو۔ اور یہ کمال علمی دلیل نبوت ہے اور کمال اخلاقی اس کا مؤ ید اور مؤ کد ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے دوسرے معجزات کے علاوہ خود تمہارے ساتھ آپ کا یہ برتاؤ آپ کی نبوت ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ اور اسی رسول کے ذریعہ) تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشن چیز آئی ہے اور (وہ) ایک کتاب واضح (ہے) کہ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جو رضائے حق کے طالب ہوں۔ سلامتی کی راہیں بتلاتے ہیں (یعنی جنت میں جانے کے طریقے جو خاص عقائد و اعمال ہیں تعلیم فرماتے ہیں کیونکہ در حقیقت مکمل سلامتی تو جنت ہی میں ہو سکتی ہے کہ نہ اس میں کوئی کمی ہوتی ہے اور نہ زوال کا خطرہ) اور ان کو اپنی توفیق سے (کفر و معصیت کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان و اطاعت کے) نور کی طرف لے آتے ہیں اور ان کو (ہمیشہ) راہ راست پر قائم رکھتے ہیں۔ بلاشبہ وہ لوگ کافر ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عین مسیح بن مریم ہے، آپ ان سے یوں پوچھئے کہ اگر ایسا ہے تو بتلاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم (جن کو تم اللہ کا عین سمجھتے ہو) اور ان کی اولاد (حضرت مریم) کو اور جتنے زمین میں آباد ہیں۔ ان سب کو (موت سے) ہلاک کرنا چاہیں تو (کیا) کوئی شخص ایسا ہے جو خدا تعالیٰ سے ذرا بھی ان کو بچا سکے۔ (یعنی اتنی بات کو تو تم بھی مانتے ہو کہ ان کو ہلاک کرنا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے، تو جس ذات کا ہلاک کرنا دوسرے کے قبضہ میں ہو وہ خدا کیسے ہوسکتا ہے۔ اس سے عقیدہ الوہیت مسیح کا باطل ہوگیا) اور (جو حقیقتا خدا اور سب کا معبود ہے یعنی) اللہ تعالیٰ (اس کی یہ شان ہے کہ اس) ہی کے لئے خاص ہے حکومت آسمانوں پر اور زمین پر اور جتنی چیزیں ان دونوں کے درمیان ہیں ان پر اور وہ جس چیز کو (جس طرح) چاہیں پیدا کردیں۔ اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر پوری قدرت ہے اور یہود و نصاریٰ (دونوں فریق) دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے محبوب ہیں۔ (مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ کے یہاں ہماری ایک خصوصیت ہے کہ ہم گناہ بھی کریں تو اس پر اتنی ناراضی نہیں ہوتی جتنی دوسروں پر ہوتی ہے جیسے باپ کو اپنے بیٹے کی نافرمانی پر اتنا اثر نہیں ہوتا، جتنا کسی غیر آدمی کے ایسے ہی فعل پر ہوتا ہے۔ ان کے اس خیال باطل کے ابطال کے لئے آنحضرت ﷺ کو خطاب ہے کہ) آپ (ان سے) یہ پوچھئے کہ اچھا پھر تم کو تمہارے گناہوں کے عوض (آخرت میں) عذاب کیوں دیں گے (جس کے تم بھی قائل ہو جیسا کہ یہود کا قول تھا (آیت) لن تمسنا النار الا ایاما معدودة یعنی اگر ہمیں عذاب جہنم ہوا بھی تو چند روز ہی ہوگا اور خود حضرت مسیح ؑ کا قول قرآن میں مذکور ہے۔ (آیت) انہ من یشرک باللّٰہ فقد حرم اللّٰہ علیہ الجنة۔ یعنی جس شخص نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کردیتے ہیں۔ جو بوجہ التزام کے مثل اقرار نصاریٰ کے ہے)۔ خلاصہ یہ ہے کہ آخرت کے عذاب کا جب تمہیں خود بھی اقرار ہے تو یہ بتلاؤ کہ کیا کوئی باپ اپنے بیٹے یا محبوب کو عذاب بھی دیا کرتا ہے۔ اس لئے اپنے آپ کو خدا کی اولاد کہنا باطل ہے۔ یہاں یہ شبہ نہیں کیا جاسکتا کہ بعض اوقات باپ بھی اپنی اولاد کی اصلاح و تربیت کے لئے تادیباً سزا دیتا ہے تو سزا ہونا بیٹا ہونے کے منافی نہیں۔ کیونکہ باپ کی سزا تادیب کے لئے ہوئی ہے تاکہ وہ آئندہ ایسا کام نہ کرے۔ اور آخرت میں تادیب کا کوئی مقام نہیں۔ کیونکہ وہ دار العمل نہیں دار الجزاء ہے۔ وہاں آگے کوئی کام کرنے، یا کسی کام سے روکنے کا کوئی احتمال نہیں۔ جس کو تادیب کہا جائے، اس لئے وہاں جو سزا ہوگی وہ خالص سزا اور تعذیب ہی ہو سکتی ہے۔ جو اولاد یا محبوب ہونے کے قطعاً منافی ہے، اس لئے معلوم ہوا کہ تمہاری کوئی خصوصیت اللہ کے یہاں نہیں)۔ بلکہ تم بھی منجملہ دوسری مخلوقات کے ایک معمولی آدمی ہو۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گے بخشیں گے جس کو چاہیں گے سزا دیں گے اور اللہ تعالیٰ ہی کی ہے سب حکومت آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی اور جو کچھ ان کے درمیان ان میں بھی اور اللہ ہی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے (اس کے سوا کوئی پناہ نہیں)۔ معارف و مسائل اس آیت میں نصاریٰ کے ایک ہی قول کی تردید کی گئی ہے جو ان کے ایک فرقہ کا عقیدہ ہے یعنی یہ کہ حضرت مسیح (معاذ اللہ) عین اللہ تعالیٰ ہیں۔ مگر تردید جس دلیل سے کی گئی ہے، وہ تمام فرقوں کے عقائد باطلہ پر حاوی ہے جو بھی توحید کے خلاف ہیں۔ خواہ وہ خدا کا بیٹا ہونے کا عقیدہ ہو یا تین خداؤوں میں سے ایک خدا ہونے کا عقیدہ فاسد ہو۔ اس سے سب کا رد اور ابطال ہوگیا۔ اور اس جگہ حضرت مسیح اور ان کی والدہ کا ذکر فرمانے میں دو حکمتیں ہو سکتی ہیں اول تو یہ کہ حضرت مسیح ؑ کا حق تعالیٰ کے سامنے یہ عجز کہ وہ اپنے آپ کو اللہ سے بچا سکتے ہیں نہ اپنی ماں کو جن کی خدمت و حفاظت کو شریف بیٹا اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس میں اس فرقہ کے خیال کی بھی تردید ہوگئی، جو حضرت مریم کو تین خداؤں میں سے ایک خدا مانتے ہیں۔ اور اس جگہ حضرت مسیح اور مریم (علیہما السلام) کی موت کو بطور فرض کے ذکر فرمایا ہے۔ حالانکہ نزول قرآن کے وقت حضرت مریم کی موت محض فرضی نہیں تھی بلکہ واقع ہوچکی تھی۔ اس کی وجہ یا تو تغلیب ہے۔ یعنی اصل میں موت عیسیٰ ؑ کو بطور فرض کے بیان کرنا تھا، ماں کا ذکر بھی اسی عنوان کے ضمن میں کردیا گیا اگرچہ ان کی موت واقع ہوچکی تھی اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ مراد یہ ہے کہ جس طرح حضرت مریم پر ہم موت مسلط کرچکے ہیں۔ حضرت مسیح اور دوسری سب مخلوق پر بھی اسی طرح مسلط کردینا ہمارے قبضہ میں ہے۔ اور (آیت) یخلق ما یشآء میں عیسائیوں کے اسی عقیدہ باطلہ کے منشاء کو باطل کرنا ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح ؑ کو خدا بنانے کا اصل منشاء ان کے یہاں یہ ہے کہ ان کی پیدائش ساری دنیا کے قاعدوں کے خلاف بغیر باپ کے صرف ماں سے ہوئی ہے۔ اگر وہ بھی انسان ہوتے تو قاعدہ کے مطابق ماں اور باپ دونوں کے ذریعہ پیدا ئش ہوتی۔ اس جملہ میں اس کا جواب دے دیا کہ اللہ تعالیٰ کو سب طرح قدرت کاملہ حاصل ہے کہ جو چاہے، جس طرح چاہے پیدا کر دے۔ جیسا کہ (آیت): ان مثل عیسیٰ عند اللّٰہ کمثل آدم میں اسی شبہ کا ازالہ فرمایا ہے کہ حضرت مسیح ؑ کی تخلیق عام قانون قدرت سے الگ ہونا ان کی خدائی کی دلیل نہیں ہوسکتی۔ دیکھو حضرت آدم ؑ کو تو حق تعالیٰ نے ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا فرما دیا تھا۔ ان کو سب قدرت ہے، وہی خالق ومالک اور لائق عبادت ہیں۔ دوسرا کوئی ان کا شریک نہیں ہوسکتا۔
Ayah 5:19

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:19 in the Quran reader

اے کتاب والو آیا ہے تمہارے پاس رسول ہمارا کھولتا ہے تم پر رسولوں کے انقطاع کے بعد کبھی تم کہنے لگو کہ ہمارے پاس نہ آیا کوئی خوشی یا ڈر سنانے والا سو آچکا تمہارے پاس خوشی اور ڈر سنانے والا اور اللہ پر چیز پر قادر ہے۔

خلاصہ تفسیر اے اہل کتاب تمہارے پاس یہ ہمارے رسول (محمد ﷺ آپہنچے جو کہ تم کو (شریعت کی باتیں) صاف صاف بتلاتے ہیں۔ ایسے وقت میں کہ رسولوں (کے آنے کا) سلسلہ (مدت سے) موقوف تھا (اور شرائع سابقہ مفقود اور گم ہوچکی تھیں اور انبیاء کا سلسلہ عرصہ دراز تک بند رہنے سے ان گم شدہ شرائع کے دوبارہ دریافت ہونے کا امکان بھی نہ رہا تھا۔ اس لئے اب کسی رسول کے آنے کی ضرورت شدید تھی تو ایسے وقت آپ کا تشریف لانا بڑی نعمت اور غنیمت سمجھنا چاہیے) تاکہ تم (قیامت میں) یوں نہ کہنے لگو (کہ دین کے معاملہ میں غلطی اور کوتاہی میں ہم اس لئے معزور ہیں کہ) ہمارے پاس (کوئی رسول جو کہ) بشیر اور نذیر (ہو جس سے ہم کو دین کا صحیح علم اور عمل پر ابھار پیدا ہوتا) نہیں آیا سو (اب اس عذر کی گنجائش نہیں رہی کیونکہ) تمہارے پاس بشیر و نذیر (یعنی محمد ﷺ آچکے ہیں (اب نہ مانو تو اپنے انجام کو خود سمجھ لو) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتے ہیں (کہ جب چاہیں رحمت سے اپنے انبیاء بھیج دیں جب چاہیں حکمت سے ان کو روک لیں اس لئے کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ جب مدت دراز سے انبیاء کا سلسلہ بند ہے تو اب کوئی رسول نہیں آسکتا۔ کیونکہ یہ سلسلہ ایک مدت تک موقوف رکھنا حق تعالیٰ کی حکمت سے تھا، اس نے سلسلہ نبوت بند اور ختم کردینے کا کوئی اعلان اس وقت تک نہیں کیا تھا۔ بلکہ پچھلے تمام انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ یہ خبریں بھی دے دیتھیں کہ آخر زمانے میں ایک خاص رسول خاص شان اور خاص صفات کے ساتھ آنے والے ہیں۔ جن پر بنوت کا اختتام ہوگا۔ اس اعلان کے مطابق خاتم الانبیاء ﷺ تشریف لے آئے۔ معارف و مسائل (آیت) علی فترة من الرسل۔ فترت کے لفظی معنی سست ہونے، ساکن ہونے اور کسی کام کو معطل اور بند کردینے کے آتے ہیں۔ اس آیت میں ائمہ تفسیر نے فترت کے یہی معنی بیان فرمائے ہیں۔ اور مراد اس سے کچھ عرصہ کے لئے سلسلہ نبوت و انبیاء بند رہنا ہے جو حضرت عیسیٰ کے بعد خاتم الانبیاء ﷺ کی بعثت تک کا زمانہ ہے۔ زمانہ فترت کی تحقیق حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کے درمیان ایک ہزار سات سو سال کا زمانہ ہے۔ اس تمام مدّت میں انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ اس میں کبھی فترت نہیں ہوئی۔ صرف بنی اسرائیل میں سے ایک ہزار انبیاء اس عرصہ میں مبعوث ہوئے۔ اور غیر بنی اسرائیل میں سے جو انبیاء ہوئے وہ ان کے علاوہ ہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ ؑ کی ولادت اور نبی کریم ﷺ کی بعثت کے درمیان صرف پانچ سو سال کا عرصہ ہے۔ اس میں سلسلہ انبیاء بند رہا، اسی لئے اس زمانہ کو زمانہ فترت کہا جاتا ہے۔ اس سے پہلے کبھی اتنا زمانہ انبیاء کی بعثت سے خالی نہیں رہا۔ (قرطبی مع ایضاح) حضرت موسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ کے درمیان کی مدّت، اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ سے خاتم الانبیاء ﷺ کے درمیان کے درمیان کی مدت میں اور بھی مختلف روایات میں جن میں اس سے کم وبیش مدتیں بیان ہوئی ہیں۔ مگر اصل مقصد پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے حضرت سلمان فارسی سے روایت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ اور خاتم الانبیاء (علیہما السلام) کے درمیان کا زمانہ چھ سو سال کا تھا اور اس پوری مدت میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوئے جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے مشکوٰة شریف میں حدیث آئی ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انا اولی الناس بعیسیٰ۔ یعنی میں حضرت عیسیٰ ؑ کے ساتھ سب لوگوں سے زیادہ قریب ہوں اور اس کا مطلب آخر حدیث میں یہ بیان فرمایا، لیس بیننا نبی یعنی ہم دونوں کے درمیان کوئی نبی مبعوث نہیں ہوئے۔ اور سورة یٰسین میں جو تین رسولوں کا ذکر ہے وہ در حقیقت حضرت عیسیٰ ؑ کے فرستادہ قاصد تھے۔ جن کو لغوی معنیٰ کے اعتبار سے رسول کہا گیا ہے۔ اور خالد بن سنان عربی کا جو بعض نے اس زمانہ فترت میں ہونا بیان کیا ہے اس کے متعلق تفسیر روح المعانی میں بحوالہ شہاب بیان کیا ہے کہ ان کا نبی ہونا تو صحیح ہے مگر زمانہ ان کا حضرت عیسیٰ ؑ سے پہلے ہے بعد میں نہیں۔ زمانہ فترت کے احکام آیت مذکورہ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر بالفرض کوئی قوم ایسی یو کہ ان کے پاس نہ کوئی رسول اور نہ کوئی پیغمبر آیا اور نہ ان کے نائبین پہنچے، اور نہ پچھلے انبیاء کی شریعت ان کے پاس محفوظ تھی تو یہ لوگ اگر شرک کے علاوہ کسی غلط کاری اور گمراہی میں مبتلا ہوجاویں تو وہ معزور سمجھے جاویں گے۔ وہ مستحق عذاب نہیں ہوں گے۔ اسی لئے حضرات فقہاء کا اہل فترت کے معاملہ میں اختلاف ہے کہ وہ بخشے جاویں گے یا نہیں۔ جمہور کا رجحان یہ ہے کہ امید اسی کی ہے کہ وہ بخش دیئے جاویں گے جب کہ وہ اپنے اس مذہب کے پابند رہے ہوں جو غلط ان کے پاس حضرت موسیٰ یا عیسیٰ (علیہما السلام) کی طرف منسوب ہو کر موجود تھا۔ بشرطیکہ وہ توحید کے مخالف اور شرک میں مبتلا نہ ہوں۔ کیونکہ مسئلہ توحید کسی نقل کا محتاج نہیں۔ وہ ہر انسان ذرا سا غور کرے تو اپنی ہی عقل سے معلوم کرسکتا ہے۔ ایک سوال اور جواب یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ جن اہل کتاب یہود و نصاریٰ کو اس آیت میں خطاب ہے، ان کے لئے اگرچہ زمانہ فترت میں کوئی رسول نہیں پہنچا۔ مگر ان کے پاس تورات اور انجیل تو موجود تھی۔ ان کے علماء بھی تھے تو پھر قیامت میں ان کے لئے یہ عذر کرنے کا کیا موقع تھا کہ ہمارے پاس کوئی ہدایت نہیں پہنچی تھی۔ جواب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک تک تورات و انجیل اصلی باقی نہیں رہی تھی۔ تحریفات ہو کر ان میں جھوٹے قصے کہانیاں داخل ہوگئیں تھیں۔ اس لئے ان کا وجود عدم برابر تھا اور اتفاق سے کہیں کوئی اصلی نسخہ کسی کے پاس گمنام جگہ میں محفوظ رہا بھی تو وہ اس کے منافی نہیں۔ جیسا کہ بعض علماء ابن تیمیہ وغیرہ نے لکھا ہے کہ تورات و انجیل کے اصلی نسخے کہیں کہیں موجود تھے۔ خاتم الانبیاء ﷺ کے مخصوص کمالات کی طرف اشارہ اس آیت میں اہل کتاب کو مخاطب کرکے یہ ارشاد فرمانا کہ ہمارے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ ایک طویل فترت کے بعد آئے ہیں۔ اس میں ایک اشارہ اس طرف بھی ہے کہ تم لوگوں کو چاہیئے کہ آپ کے وجود کو غنیمت کبریٰ اور بڑی نعمت سمجھیں کیونکہ مدت دراز سے یہ سلسلہ بند تھا، اب تمہارے لئے پھر کھولا گیا ہے۔ دوسرا اشارہ اس طرف بھی ہے کہ آپ کا تشریف لانا ایسے زمانے اور ایسے مقام میں ہوا ہے، جہاں علم اور دین کی کوئی روشنی موجود نہ تھی۔ مخلوق خدا خدا سے نہ آشنا ہو کر بت پرستی میں لگ گئی تھی۔ ایسے زمانے میں ایسی قوم کی اصلاح کوئی آسان کام نہ تھا۔ ایسے جاہلیت کے زمانے میں ایسی بگڑی ہوئی قوم آپ کے حوالہ ہوئی۔ آپ کے فیض صحبت اور نور نبوت سے تھوڑے ہی عرصہ میں یہ قوم ساری دنیا کے لئے علم، عمل، اخلاق، معاملات، معاشرت اور تمام زندگی کے شعبوں میں استاد اور قابل تقلید قرار دی گئی۔ جس سے رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت اور آپ کی پیغمبرانہ تعلیم کا تمام انبیاء سابقین میں افضل و اعلیٰ ہونا مشاہدہ سے ثابت ہوگیا۔ جو ڈاکٹر کسی مایوس العلاج مریض کا علاج کرے اور ایسی جگہ میں کرے جہاں طبی آلات اور دوائیں بھی مفقود ہوں۔ اور پھر وہ اس کے علاج میں اتنا کامیاب ہو کہ یہ لب دم مریض نہ صرف یہ کہ تندرست ہوگیا بلکہ ایک حاذق اور ماہر ڈاکٹر بھی بن گیا۔ تو اس ڈاکٹر کے کمال میں کسی کو کیا شبہ رہ سکتا ہے۔ اسی طرح طویل زمانہ فترت کے بعد جب کہ ہر طرف کفر و معصیت کی ظلمت ہی ظلمت چھائی ہوئی تھی۔ آپ کی تعلیمات اور تربیت نے ایسا اجالا کردیا کہ اس کی نظیر کسی پچھلے دور میں نظر نہیں آئی تو سارے معجزات ایک طرف، تنہا یہ معجزہ انسان کو آپ پر ایمان لانے کے لئے مجبور کرسکتا ہے۔
Ayah 5:20

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم کو اے قوم یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر جب پیدا کئے تم میں نبی اور کردیا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو جو نہیں دیا تھا کسی کو جہان میں

خلاصہ تفسیر۔ اور وہ وقت بھی ذکر کے قابل ہے جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم (یعنی بنی اسرائیل) سے (اول ترغیب جہاد کی تمہید میں یہ) فرمایا کہ اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کے انعام کو جو کہ تم پر ہوا ہے، یاد کرو جب کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں بہت سے پیغمبر بنائے (جیسے حضرت یعقوب ؑ اور حضرت یوسف ؑ اور خود حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ہارون ؑ وغیرہم اور کسی قوم میں پیغمبروں کا ہونا ان کا دنیوی اور دینی شرف ہے۔ یہ تو نعمت معنوی دی) اور (حسیِّ نعمت یہ دی کہ) تم کو صاحب ملک بنایا (چنانچہ فرعون کے ملک پر ابھی قابض ہوچکے ہو) اور تم کو (بعض بعض) وہ چیزیں دی ہیں جو دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیں (جیسا دریا میں راستہ دینا دشمن کو عجیب طور پر غرق کرنا جس کے بعد دفعةً غایت ذلت و زحمت سے نہایت رفعت و راحت میں پہنچ گئے یعنی اس میں تم کو خاص امتیاز دیا پھر اس تمہید کے بعد اصلی مقصود کے ساتھ ان کو خطاب فرمایا کہ) اے قوم میری (ان نعمتوں اور احسانوں کا مقتضا یہ ہے کہ تم کو جو اس جہاد کے متعلق حکم خداوندی ہوا ہے اس پر آمادہ رہو اور) اس متبرک ملک (یعنی شام کے دار الحکومت) میں (جہاں یہ عمالقہ حکمران ہیں جہاد کے ارادہ سے) داخل ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے حصہ میں لکھ دیا ہے (اس لئے قصد کرتے ہی فتح ہوگی) اور پیچھے (وطن کی طرف) واپس مت چلو کہ پھر بالکل خسارہ میں پڑجاؤ گے (دنیا میں بھی کہ توسیع ملک سے محروم رہو گے اور آخرت میں کہ ترک فریضہ جہاد سے گنہگار رہو گے)۔ کہنے لگے اے موسیٰ وہاں تو بڑے بڑے زبردست آدمی (رہتے) ہیں اور ہم تو وہاں پر ہرگز قدم نہ رکھیں گے۔ جب تک کہ وہ (کسی طرح) وہاں سے نہ نکل جائیں ہاں اگر وہ وہاں سے کہیں چلے جاویں تو ہم بیشک جانے کو تیار ہیں (موسیٰ ؑ کی تائید قول کے لئے) ان دو شخصوں نے (بھی) جو کہ (اللہ سے) ڈرنے والوں (یعنی متقیوں) میں سے تھے (اور) جن پر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا تھا (کہ اپنے عہد پر ثابت رہے تھے ان کم ہمتوں کو سمجھانے کے طور پر) کہا کہ تم ان پر (چڑھائی کرکے اس شہر کے) دروازہ تک تو چلو سو جس وقت تم دروازہ میں قدم رکھو گے اس وقت غالب آجاؤ گے (مطلب یہ ہے کہ جلدی فتح ہوجاوے گا، خواہ رعب سے بھاگ جائیں یا تھوڑا ہی مقابلہ کرنا پڑے) اور اللہ تعالیٰ پر نظر رکھو اگر تم ایمان رکھتے ہو (یعنی تم ان کی تنومندی پر نظر مت کرو مگر ان لوگوں پر فہمائش کا اصلاً اثر نہیں ہوا بلکہ ان دو بزرگوں کو تو انہوں نے قابل خطاب بھی نہ سمجھا بلکہ موسیٰ ؑ سے نہایت لا ابالی پن اور گستاخی کے ساتھ) کہنے لگے کہ اے موسیٰ ہم تو (ایک بات کہہ چکے ہیں کہ ہم) ہرگز کبھی بھی وہاں قدم نہ رکھیں گے جب تک کہ وہ لوگ وہاں موجود ہیں (اگر ایسا ہی لڑنا ضرور ہے) تو آپ اور آپ کے اللہ میاں چلے جائیے اور دونوں (جاکر) لڑ بھڑ لیجئے ہم تو یہاں سے سرکتے نہیں (موسیٰ ؑ نہایت زِچ اور پریشان ہوئے اور تنگ آکر) دعا کرنے لگے کہ اے میرے پروردگار (میں کیا کروں ان پر کچھ بس نہیں چلنا) ہاں اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر البتہ (پورا) اختیار رکھتا ہوں کہ آپ ہم دونوں (بھائیوں) کے اور اس بےحکم قوم کے درمیان (مناسب) فیصلہ فرما دیجئے (یعنی جس کی حالت کا جو مقتضا ہو وہ ہر ایک کے لئے تجویز فرما دیجئے) ارشاد ہوا (بہتر) تو (ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ) یہ ملک ان کے ہاتھ چالیس برس تک نہ لگے گا (اور گھر جانا بھی نصیب نہ ہوگا راستہ ہی نہ ملے گا) یوں ہی (چالیس برس تک) زمین میں سرمارتے پھریں گے (حضرت موسیٰ ؑ نے جو یہ فیصلہ سنا جس کا گمان نہ تھا خیال یہ تھا کہ کوئی معمولی تنبیہ ہوجاوے گی تو طبعاً مغموم ہونے لگے۔ ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ جب ان سرکشوں کے لئے ہم نے یہ تجویز کیا تو یہی مناسب ہے) سو آپ اس بےحکم قوم (کی اس حالت زار) پر (ذرا) غم نہ کیجئے۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ سے پہلی آیت میں اس میثاق کا ذکر تھا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی اطاعت کے بارے میں بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا۔ اور اس کے ساتھ ان کی عام عہد شکنی، اور میثاق کی خلاف ورزی اور اس پر سزاؤں کا بیان تھا۔ ان آیات مذکورہ میں ان کی عہد شکنی کا ایک خاص واقعہ مذکور ہے۔ وہ یہ ہے کہ جب فرعون اور اس کا لشکر غرق دریا ہوگئے اور موسیٰ ؑ اور ان کی قوم بنی اسرائیل فرعون کی غلامی سے نجات پاکر حکومت مصر کے مالک بن گئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنا مزید انعام اور ان کے آبائی وطن ملک شام کو بھی ان کے قبضہ میں واپس دلانے کے لئے بذریعہ موسیٰ ؑ ان کو یہ حکم دیا کہ وہ جہاد کی نیت سے ارض مقدسہ یعنی ملک شام میں داخل ہوں۔ اور ساتھ ہی ان کو یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ اس جہاد میں فتح ان کی ہی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقدس زمین کو ان کے حصہ میں لکھ دیا ہے وہ ضرور ان کو مل کر رہے گی۔ مگر بنی اسرائیل اپنی طبعی خصوصیات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے انعامات، غرق فرعون اور فتح مصر وغیرہ کا آنکھوں سے مشاہدہ کرلینے کے باوجود یہاں بھی عہد و میثاق پر پورے نہ اترے۔ اور جہاد شام کے اس حکم الہٰی کے خلاف ضد کرکے بیٹھ گئے۔ جس کی سزا ان کو قدرت کی طرف سے اس طرح ملی کہ چالیس سال تک ایک محدود علاقہ میں محصور و مقید ہو کر رہ گئے کہ بظاہر نہ ان کے گرد کوئی حصار تھا، نہ ان کے ہاتھ پاؤں کسی قید میں جکڑے ہوئے تھے۔ بلکہ کھلے میدان میں تھے۔ اور اپنے وطن مصر کی طرف واپس چلے جانے کے لئے ہر روز صبح سے شام تک سفر کرتے تھے۔ مگر شام کو پھر وہیں نظر آتے تھے جہاں سے صبح چلے تھے۔ اسی دوران حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کی وفات ہوگئی۔ اور یہ لوگ اسی طرح وادی تیہ میں حیران و پریشان پھرتے رہے۔ ان کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسرے پیغمبر ان کی ہدایت کے لئے بھیجے۔ چالیس برس اس طرح پورے ہونے کے بعد پھر ان کی باقی ماندہ نسل نے اس وقت کے پیغمبر کی قیادت میں جہاد شام و بیت المقدس کا عزم کیا اور اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ پورا ہوا کہ یہ ارض مقدس تمہارے حصہ میں لکھ دی گئی ہے۔ اور یہ اجمال ہے اس واقعہ کا جو آیات مذکورہ میں بیان ہوا ہے۔ اب اس کی تفصیل قرآنی الفاظ میں دیکھئے۔ حضرت موسیٰ ؑ کو جب یہ ہدایت ملی کہ اپنی قوم کو بیت المقدس اور ملک شام فتح کرنے کے لئے جہاد کا حکم دیں تو انہوں نے پیغمبرانہ حکمت و موعظت کے پیش نظر یہ حکم سنانے سے پہلے ان کو اللہ تعالیٰ کے وہ انعامات یاد دلائے جو بنی اسرائیل پر اب تک ہوچکے تھے۔ ارشاد فرمایا (آیت) اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَاۗءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا وہ فضل و انعام یاد کرو جو تم پر ہوا ہے کہ تمہاری قوم میں بہت سے انبیاء بھیجے اور تم کو صاحب ملک بنادیا اور تمہیں وہ نعمتیں بخشیں جو دنیا جہان میں کسی کو نہیں ملیں۔ اس میں تین نعمتوں کا بیان ہے جن میں سے پہلی نعمت ایک روحانی اور معنوی نعمت ہے کہ ان کی قوم میں مسلسل انبیاء بکثرت بھیجے گئے۔ جس سے بڑھ کر اخروی اور معنوی اعزاز کوئی نہیں ہوسکتا۔ تفسیر مظہری میں نقل کیا ہے کہ کسی قوم اور کسی امت میں انبیاء کی کثرت اتنی نہیں ہوئی کہ جتنی بنی اسرائیل میں ہوئی ہے۔ امام حدیث ابن ابی حاتم نے بروایت اعمش نقل کیا ہے کہ قوم بنی اسرائیل کے آخری دور میں جو حضرت موسیٰ ؑ سے لے کر عیسیٰ ؑ تک ہے۔ صرف اس دور میں ایک ہزار انبیاء بنی اسرائیل میں بھیجے گئے۔ دوسری نعمت جس کا ذکر اس آیت میں ہے، وہ دینوی اور ظاہری نعمت ہے کہ ان کو ملوک یعنی صاحب ملک و سلطنت بنادیا گیا۔ اس میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل جو مدت سے فرعون اور قوم فرعون کے غلام بنے ہوئے دن رات ان کے مظالم کا شکار رہتے تھے، آج اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمن کو نیست و نابود کرکے ان کو ان کی حکومت و سلطنت کا مالک بنادیا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ انبیاء کے معاملہ میں تو ارشاد ہوا کہ (آیت) جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَاۗءَ یعنی تمہاری قوم میں سے بہت سے لوگوں کو انبیاء بنادیا گیا جس کا مفہوم یہ ہے کہ پوری قوم انبیاء نہیں تھی۔ اور یہی حقیقت بھی ہے کہ انبیاء معدوددے چند ہوتے ہیں اور پوری قوم ان کی امت اور متبع ہوتی ہیں۔ اور جہاں دنیا کے ملک و سلطنت کا ذکر آیا تو وہاں فرمایاوَجَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا۔ یعنی بنادیا تم کو ملوک جس کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ تم سب کو ملوک بنادیا۔ لفظ ملوک ملک کی جمع ہے۔ جس کے معنی عرف عام میں بادشاہ کے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جس طرح پوری قوم نبی اور پیغمبر نہیں ہوتی، اسی طرح کسی ملک میں پوری قوم بادشاہ بھی نہیں ہوتی۔ بلکہ قوم کا ایک فرد یا چند افراد حکمران ہوتے ہیں۔ باقی قوم ان کے تابع ہوتی ہے۔ لیکن قرآنی الفاظ نے ان سب کو ملوک قرار دیا۔ اس کی ایک وجہ تو وہ ہے جو بیان القرآن میں بعض اکابر کے حوالہ سے بیان کی گئی ہے کہ عرف عام میں جس قوم کا بادشاہ ہوتا ہے اس کی سلطنت و حکومت کو اسی پوری قوم کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ جیسے اسلام کے قرون وسطی میں بنی امیہ اور بنی عباس کی حکومت کہلاتی تھی۔ اسی طرح ہندوستان میں غزنوی اور غوریوں کی حکومت پھر مغلوں کی حکومت پھر انگریزوں کی حکومت پوری قوم کے افراد کی طرف منسوب کی جاتی تھی۔ اس لئے جس قوم کا ایک حکمران ہو وہ پوری قوم حکمران اور بادشاہ کہلاتی ہے۔ اس محاورہ کے مطابق پوری قوم بنی اسرائیل کو قرآن کریم نے ملوک قرار دیا۔ اس میں اشارہ اس طرف بھی ہوسکتا ہے کہ اسلامی حکومت در حقیقت عوامی حکومت ہوتی ہے۔ عوام ہی کو اپنا امیر و امام منتخب کرنے کا حق ہوتا ہے اور عوام ہی اپنی اجتماعی رائے سے اس کو معزول بھی کرسکتے ہیں۔ اس لئے صورةً اگرچہ فرد واحد حکمران ہوتا ہے مگر درحقیقت وہ حکومت عوام ہی کی ہوتی ہے۔ دوسری وجہ وہ ہے جو ابن کثیر اور تفسیر مظہری وغیرہ میں بعض سلف سے نقل کی ہیں کہ لفظ ملک بادشاہ کے مفہوم سے زیادہ عام ہے۔ ایسے شخص کو ملک کہہ دیا جاتا ہے۔ جو آسودہ حال ہو، مکان، جائیداد، نوکر چاکر رکھتا ہو۔ اس مفہوم کے اعتبار سے اس وقت بنی اسرائیل سے ہر فرد ملک کا مصداق تھا۔ اس لئے ان سب کو ملوک فرمایا گیا۔ تیسری نعمت جس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ وہ معنوی اور ظاہری دونوں قسم کی نعمتوں کا مجموعہ ہے کہ فرمایا(آیت) وَّاٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤ ْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ یعنی تم کو وہ نعمتیں عطا فرمائیں جو دنیا جہان میں کسی کو نہیں دی گئیں ان نعمتوں میں معنوی، شرف اور نبوت و رسالت بھی داخل ہے، اور ظاہری حکومت و سلطنت اور مال و دولت بھی البتہ یہاں یہ سوال ہوسکتا ہے کہ بنص قرآن امت محمدیہ ساری امتوں سے افضل ہے۔ ارشاد قرآنی(آیت) کنتم خیر امة اخرجت للناس اور وکذلک جعلنکم امة وسطا۔ اس پر شاہد ہے اور حدیث نبوی کی بیشمار روایات اس کی تائید میں ہیں۔ جواب یہ کہ اس آیت میں دنیا کے ان لوگوں کا ذکر ہے جو بنی اسرائیل کے موسوی عہد میں موجود تھے۔ کہ اس وقت پورے عالم میں کسی کو وہ نعمتیں نہیں دی گئی تھیں جو بنی اسرائیل کو ملی تھیں۔ آئندہ زمانہ میں کسی امت کو ان سے بھی زیادہ نعمتیں مل جائیں یہ اس کے منافی نہیں۔