Ayah 5:67تبلیغ کی تاکید اور آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس کا ایک اثر طبعی طور پر بتقاضائے بشریت یہ بھی ہوسکتا تھا کہ آنحضرت ﷺ سے مایوس ہو کر یا مجبور ہو کر تبلیغ و رسالت میں کچھ کمی ہوجائے اور دوسرا اثر یہ بھی ہوسکتا تھا کہ آپ ﷺ مخالفت اور دشمنی اور ایذاء رسانی کی پرواہ کئے بغیر تبلیغ رسالت میں لگے رہیں، اور اس کے نتیجہ میں آپ ﷺ کو دشمنوں کے ہاتھ سے تکالیف و مصائب کا سامنا ہو۔ اس لئے تیسری آیت میں ایک طرف تو رسول اللہ ﷺ کو یہ تاکیدی حکم دے دیا گیا کہ جو کچھ آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جائے وہ سب کا سب بغیر کسی جھجک کے آپ لوگوں کو پہنچا دیں، کوئی برا مانے یا بھلا۔ اور مخالفت کرے یا قبول کرے، اور دوسری طرف رسول اللہ ﷺ کو یہ خوشخبری دے کر مطمئن بھی کردیا گیا کہ تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں یہ کفار آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ خود آپ ﷺ کی حفاظت فرمائیں گے۔
اس آیت میں ایک جملہ تو یہ قابل غور ہے کہ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ، مراد اس کی یہ ہے کہ اگر کوئی ایک حکم خداوندی بھی آپ نے امت کو نہ پہنچایا تو آپ ﷺ اپنے فرض پیغمبری سے سبکدوش نہیں ہوں گے، یہی وجہ تھی کہ رسول کریم ﷺ نے تمام عمر اس فریضہ کی ادائیگی میں اپنی پوری ہمت و قوت صرف فرمائی اور حجة الوداع کا مشہور خطبہ جو ایک حیثیت سے اسلام کا آئین اور دستور تھا اور دوسری حیثیت سے ایک رؤف و رحیم اور ماں باپ سے زیادہ شفیق پیغمبر ﷺ کی آخری وصیت تھی۔
حجة الوداع کے موقع پر آنحضرت ﷺ کی ایک نصیحت
اس خطبہ میں آپ نے صحابہ کرام کے ایک عظیم مجمع کے سامنے اہم ہدایات فرمانے کے بعد مجمع سے سوال فرمایا
الا ھل بلغت۔ دیکھو ! کیا میں نے آپ کو دین پہنچا دیا ؟ صحابہ کرام نے اقرار فرمایا کہ ضرور پہنچایا۔ اس پر ارشاد فرمایا کہ آپ اس پر گواہ رہو، اسی کے ساتھ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ فلیبلغ الشاھد الغائب، ”یعنی جو لوگ اس مجمع میں حاضر ہیں وہ غائبوں تک میری بات پہنچا دیں“۔ غائبین میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جو اس وقت دنیا میں موجود تھے، مگر مجمع میں حاضر نہ تھے۔ اور وہ لوگ بھی داخل ہیں جو ابھی پیدا نہیں ہوئے، ان کو پیغام پہنچانے کا طریقہ علم دین کی نشر و اشاعت تھی جس کو حضرات صحابہ ؓ وتابعین رحمة اللہ علیہم نے پوری کوشش سے انجام دیا۔
اسی کا یہ اثر تھا کہ عام حالات میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول کریم ﷺ کے ارشادات و کلمات کو اللہ کی ایک بھاری امانت کی طرح محسوس فرمایا، اور مقدور بھر اس کی کوشش کی کہ آپ ﷺ کی زبان مبارک سے سنا ہوا کوئی جملہ ایسا نہ رہ جائے جو امت کو نہ پہنچے۔ اگر کسی خاص سبب یا مجبوری سے کسی نے کسی خاص حدیث کو لوگوں سے بیان نہیں کیا تو اپنی موت سے پہلے دو چار آدمیوں کو ضرور سنا دیا، تاکہ وہ اس امانت سے سبکدوش ہوجائیں۔ صحیح بخاری میں حضرت معاذ ؓ کی ایک حدیث اپنی موت کے وقت بیان فرمائی، تاکہ اس امانت کے نہ پہنچانے کی وجہ سے گنہگار نہ ہوجائیں۔
آیت کے دوسرے جملہ واللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ، میں بشارت دی گئی ہے کہ ہزاروں مخالفتوں کے باوجود دشمن آپ ﷺ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔
حدیث میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے چند صحابہ کرام آنحضرت ﷺ کی حفاظت کے لئے عام طور پر ساتھ لگے رہتے تھے۔ اور سفر و حضر میں آپ کی حفاظت کرتے تھے۔ اس آیت کے نزول کے بعد آپ ﷺ نے ان سب کو رخصت کردیا کہ اب کسی پہرہ اور حفاظت کی ضرورت نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کام خود اپنے ذمہ لے لیا ہے۔
ایک حدیث میں حضرت حسن ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب مجھے تبلیغ و رسالت کے احکام ملے تو میرے دل میں اس کی بڑی ہیبت تھی، کہ ہر طرف سے لوگ میری تکذیب اور مخالفت کریں گے، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو سکون و اطمینان حاصل ہوگیا۔ (تفسیر کبیر)
چناچہ اس آیت کے نزول کے بعد کسی کی مجال نہیں ہوئی کہ تبلیغ و رسالت کے مقابلہ میں آنحضرت ﷺ کو کوئی گزند پہنچا سکے۔ جنگ و جہاد میں عارضی طور سے کوئی تکلیف پہنچ جانا اس کے منافی نہیں۔
Ayah 5:68ربط آیات
اوپر اہل کتاب کو اسلام کی ترغیب تھی، آگے ان کے موجودہ طریقہ کا جس کے حق ہونے کے وہ مدعی تھے عند اللہ ناکارہ اور نجات میں ناکافی ہونا اور نجات کا اسلام پر موقوف ہونا مذکور ہے۔ اور اس کے بعد بھی ان کے اصرار علی الکفر پر رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی کا مضمون ارشاد فرمایا ہے اور درمیان میں ایک خاص مناسبت اور ضرورت سے تبلیغ کا مضمون آگیا تھا۔
خلاصہ تفسیر
آپ ﷺ (ان یہود و نصاریٰ سے) کہئے کہ اے اہل کتاب تم کسی راہ پر بھی نہیں (کیونکہ غیر مقبول راہ پر ہونا مثل بےراہی کے ہے) جب تک کہ توریت کی اور انجیل کی اور جو کتاب (اب) تمہارے پاس (بواسطہ رسول اللہ ﷺ کے) تمہارے رب کی طرف سے بھیجی گئی ہے (یعنی قرآن) اس کی بھی پوری پابندی نہ کروگے (جس کے معنی اور ترغیب اور برکات اوپر مذکور ہوئے ہیں) اور (اے محمد ﷺ چونکہ ان میں اکثر لوگ تعصب مذموم میں مبتلا ہیں اس لئے یہ) ضرور (ہے کہ) جو مضمون آپ ﷺ کے رب کی طرف سے بھیجا جاتا ہے وہ ان سے بہتوں کی سرکشی اور کفر کی ترقی کا سبب ہوجاتا ہے (اور اس میں ممکن ہے کہ آپ کو رنج و غم ہو، لیکن جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہ لوگ متعصب ہیں) تو آپ ان کافر لوگوں (کی اس حالت) پر غم نہ کیا کیجئے، یہ تحقیقی بات ہے کہ اور یہودی اور فرقہ صائبین اور نصاریٰ (ان سب میں) جو شخص یقین رکھتا ہو اللہ (کی ذات وصفات) پر اور قیامت پر اور کارگزاری اچھی کرے (یعنی موافق قانون شریعت کے) ایسوں پر (آخرت میں) نہ کسی طرح کا اندیشہ ہے اور نہ وہ مغموم ہوں گے۔
معارف و مسائل
اہل کتاب کو شریعت الٓہیہ کے اتباع کی ہدایت
پہلی آیت میں اہل کتاب، یہود و نصاریٰ کو شریعت الٓہیہ کے اتباع کی ہدایت اس عنوان سے فرمائی گئی تھی کہ اگر تم نے احکام شرعیہ کی پابندی نہ کی تو تم کچھ نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ شریعت اسلام کی پابندی کے بغیر تمہارے سارے کمالات اور اعمال سب اکارت ہیں۔ تم کو اللہ تعالیٰ نے ایک کمال فطری یہ عطا فرمایا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی اولاد ہو، دوسرے تورات و انجیل کے عملی کمالات بھی تمہیں حاصل ہیں، تم میں سے بہت سے آدمی درویش منش بھی ہیں، مجاہدات و ریاضیات کرتے ہیں، مگر ان سب چیزوں کی قیمت اور وزن اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اس پر موقوف ہے کہ تم شریعت الٓہیہ کا اتباع کرو۔ اس کے بغیر نہ کوئی نسبی فضیلت کام آوے گی نہ علمی تحقیقات تمہاری نجات کا سامان بنیں گی نہ تمہارے مجاہدات و ریاضیات۔
اس ارشاد میں مسلمانوں کو بھی یہ ہدایت مل گئی کہ کوئی درویشی اور سلوک و طریقت، مجاہدات و ریاضیات اور کشف والہام اس وقت تک اللہ کے نزدیک فضیلت اور نجات کی چیز نہیں جب تک کہ شریعت کی پوری پابندی نہ ہو۔
اس آیت میں شریعت الٓہیہ کی پیروی کے لئے تین چیزوں کے اتباع کی ہدایت کی گئی ہے۔ اول تورات، دوسرے انجیل جو یہود و نصاریٰ کے لئے پہلے نازل ہوچکی تھیں، تیسری وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ ، یعنی جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے پاس بھیجا گیا۔
جمہور مفسرین، صحابہ ؓ وتابعین رحمة اللہ علیہم کا اس پر اتفاق ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہے جو تمام امت دعوت کے لئے بشمول یہود و نصاریٰ نبی کریم ﷺ کے واسطہ سے بھیجا گیا، اس لئے معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ جب تک تم تورات، انجیل اور قرآن کے لائے ہوئے احکام پر صحیح صحیح اور پورا پورا عمل نہ کرو گے تمہارا کوئی نسبی یا علمی کمال اللہ کے نزدیک مقبول و معتبر نہیں ہوگا۔
یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ اس آیت میں تورات و انجیل کی طرح قرآن کا مختصر نام ذکر کردینے کے بجائے ایک طویل جملہ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ استعمال فرمایا گیا ہے۔ اس میں کیا حکمت ہے ؟ ہوسکتا ہے کہ اس میں ان احادیث کے مضمون کی طرف اشارہ ہو جن میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس طرح مجھے علم و حکمت کا خزانہ قرآن کریم دیا گیا، اسی طرح دوسرے علوم و معارف بھی عطا کئے گئے ہیں۔ جن کو ایک حیثیت سے قرآن کریم کی تشریح بھی کہا جاسکتا ہے حدیث کے الفاظ یہ ہیں
ترجمہ ”یاد رکھو ! کہ مجھے قرآن دیا گیا اور اس کے ساتھ اسی کے مثل اور بھی علوم دیئے گئے، آئندہ زمانہ میں ایسا ہونے والا ہے کہ کوئی شکم سیر راحت پسند یہ کہنے لگے کہ تم کو صرف قرآن کافی ہے، جو اس میں حلال ہے صرف اس کو حلال سمجھو، اور جو اس میں حرام ہے صرف اس کو حرام سمجھو، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کو اللہ کے رسول ﷺ نے حرام ٹھہرایا ہے وہ بھی ایسے ہی حرام ہے جیسی اللہ تعالیٰ کے کلام کے ذریعہ حرام کی ہوئی اشیاء حرام ہیں“۔ (ابو داؤد، ابن ماجہ، دارمی وغیرہا)۔
احکام کی تین اقسام
اور خود قرآن بھی اسی مضمون کا شاید ہے(آیت) وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی، یعنی رسول اللہ ﷺ کوئی بات اپنی طرف سے نہیں کہتے، جو کچھ آپ فرماتے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوتا ہے، اور جن حالات میں رسول اللہ ﷺ کوئی بات اپنے اجتہاد اور قیاس کے ذریعہ فرماتے ہیں اور بذریعہ وحی پھر اس کے خلاف آپ کو کوئی ہدایت نہیں ملتی تو انجام کار وہ قیاس اور اجتہاد بھی حکم وحی ہوجاتا ہے۔
جس کا خلاصہ یہ ہوا کہ رسول کریم ﷺ نے جو احکام امت کو دیئے ان میں ایک تو وہ ہیں جو قرآن کریم میں صراحةً مذکور ہیں، دوسرے وہ ہیں جو صراحةً قرآن میں مذکور نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ پر جداگانہ وحی کے ذریعہ نازل ہوئے، تیسرے وہ جو آپ ﷺ نے اپنے اجتہاد و قیاس سے کوئی حکم دیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف کوئی حکم نازل نہیں فرمایا، وہ بھی بحکم وحی ہوگیا، یہ تینوں قسم کے احکام و اجب الاتباع ہیں اور وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ میں داخل ہیں۔
شاید آیت مذکورہ میں قرآن کا مختصر نام چھوڑ کر یہ طویل جملہ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ اسی طرف اشارہ کرنے کے لئے لایا گیا ہو کہ ان تمام احکام کا اتباع لازم و واجب ہے جو صراحةً قرآن میں مذکور ہوں، یا رسول اللہ ﷺ نے وہ احکام دیئے ہوں۔
دوسری بات اس آیت میں یہ قابل غور ہے کہ اس میں یہود و نصاریٰ کو تورات، انجیل، قرآن تینوں کے احکام پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، حالانکہ ان میں سے بعض بعض کے لئے ناسخ ہیں۔ انجیل نے تورات کے بعض احکام کو منسوخ ٹھہرایا اور قرآن نے تورات اور انجیل کے بہت سے احکام کو منسوخ قرار دیا۔ تو پھر تینوں کے مجموعہ پر عمل کیسے ہو ؟
جواب واضح ہے کہ ہر آنے والی کتاب نے پچھلی کتاب کے جن احکام کو بدل دیا، تو بدلے ہوئے طریقہ پر عمل کرنا ہی ان دونوں کتابوں پر عمل کرنا ہے۔ منسوخ شدہ احکام پر عمل کرنا دونوں کتابوں کے مقتضاء کے خلاف ہے۔
آنحضرت ﷺ کو ایک تسلی
آخر میں رسول اللہ ﷺ کی تسلی کے لئے ارشاد فرمایا کہ اہل کتاب کے ساتھ ہماری اس رعایت و عنایت کے باوجود ان میں بہت سے لوگ ایسے ہوں گے کہ اس عنایت ربانی سے کوئی فائدہ نہ اٹھائیں گے، بلکہ ان کا کفر وعناد اور بڑھ جائے گا، آپ ﷺ اس سے غمگین نہ ہوں، اور ایسے لوگوں پر ترس نہ کھائیں۔
Ayah 5:69چار قوموں کو ایمان اور عمل صالح کی ترغیب اور آخرت میں نجات کا وعدہ
دوسری آیت میں حق تعالیٰ شانہ نے چار قوموں کو مخاطب کرکے ایمان اور عمل صالح کی ترغیب اور اس پر فلاح آخرت کا وعدہ فرمایا۔ ان میں سے پہلے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا، یعنی مسلمان ہیں، دوسرے الَّذِيْنَ هَادُوْا، یعنی یہود، تیسرے صابئون، اور چوتھے نصاریٰ۔ ان میں تین قومیں مسلمان، یہود، نصاریٰ معروف و مشہور اور دنیا کے اکثر خطوں میں موجود ہیں۔ صابئون یا صابہ کے نام سے آج کل کوئی قوم معروف نہیں۔ اسی لئے اس کی تعیین میں علماء و ائمہ کے اقوال مختلف ہیں۔ امام تفسیر ابن کثیر نے بحوالہ قتادہ رحمة اللہ علیہ ایک یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ صابئون وہ لوگ ہیں جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور قبلہ کے خلاف نماز پڑھتے ہیں اور آسمانی کتاب زبور کی تلاوت کرتے ہیں (جو حضرت داؤد ؑ پر نازل ہوئی تھی)۔
قرآن کریم کے اس سیاق سے بظاہر اسی کی تائید ہوتی ہے کہ چار آسمانی کتابیں جن کا قرآن مجید میں ذکر ہے، تورات، زبور، انجیل اور قرآن، اس میں ان چار کتابوں کے ماننے والوں کا ذکر آگیا۔
اسی مضمون کی ایک آیت تقریباً انہی الفاظ کے ساتھ سورة بقرہ کے ساتویں رکوع میں گزر چکی ہے(آیت) ان الذین امنوا والذین ھادوا تا ولا ھم یحزنون اس میں بتقاضائے مقام بعض الفاظ کی تقدیم و تاخیر کے سوا کوئی فرق نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک امتیاز کا مدار عمل صالح پر ہے
خلاصہ مضمون ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ ہمارے دربار میں کسی کی نسبی، وطنی اور قومی خصوصیت کچھ نہیں جو شخص پوری اطاعت اعتقاد اور عمل صالح اختیار کرے گا، خواہ وہ پہلے سے کیسا ہی ہو، ہمارے یہاں مقبول اور اس کی خدمت مشکور ہے اور یہ ظاہر ہے کہ بعد نزول قرآن کے پوری اطاعت مسلمان ہونے میں منحصر ہے۔ کیونکہ کتب سابقہ تورات و انجیل میں بھی اس کی ہدایات موجود ہیں، اور قرآن کریم تو سراسر اسی کے لئے نازل ہوا۔ اسی لئے نزول قرآن اور بعثت خاتم الانبیاء ﷺ کے بعد قرآن اور رسول کریم ﷺ پر ایمان لائے بغیر نہ تورات و انجیل کا اتباع صحیح ہوسکتا ہے نہ زبور کا۔ تو مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ ان تمام اقوام میں سے جو مسلمان ہوجائے گا آخرت میں نجات وثواب کا مستحق ہوگا۔ اس میں اس خیال کا جواب ہوگیا کہ یہ کفر و معصیت اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف شرارتیں جو اب تک کرتے رہے ہیں۔ مسلمان ہوجانے کے بعد ان کا کیا انجام ہوگا۔ معلوم ہوا کہ پچھلے سب گناہ اور خطائیں معاف کردی جائیں گی اور آخرت میں نہ ان لوگوں کو اندیشہ رہے گا نہ کوئی غم و رنج پیش آئے گا۔
مضمون پر نظر کرنے سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مسلمانوں کا ذکر نہ ہونا چاہیے کیونکہ وہ تو ایمان و اطاعت کے اس مقام پر ہیں جو اس آیت میں مطلوب ہے۔ یہاں ذکر صرف ان لوگوں کا کرنا چاہئے جن کو اس مقام کی طرف بلانا ہے۔ مگر اس طرز خاص میں کہ مسلمانوں کا ذکر بھی ان کے ساتھ ملا دیا گیا ایک خاص بلاغت پیدا ہوگئی۔ اس کی ایسی مثال ہے کہ کوئی حاکم یا بادشاہ کسی ایسے موقع پر یوں کہے کہ ہمارا قانون عام ہے، خواہ کوئی موافق ہو یا مخالف جو شخص اطاعت کرے گا وہ مورد عنایت و انعام ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ موافق کو بھی ذکر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ ہم کو جو موافقین کے ساتھ عنایت ہے وہ کسی نسبی یا قومی خصوصیت کی بناء پر نہیں بلکہ ان کی صفت اطاعت پر تمام عنایت و انعام کا مدار ہے۔ اگر مخالف بھی اطاعت اختیار کرے گا وہ بھی اسی لطف و عنایت کا مستحق ہوگا۔
متذکرہ چار قوموں کو خطاب کرکے جس امر کی ہدایت دی گئی اس کے تین جز ہیں، ایمان باللہ، ایمان بالیوم الآخر اور عمل صالح۔
ایمان بالرسالة کے بغیر نجات نہیں
ظاہر ہے کہ اس آیت میں تمام ایمانیات اور عقائد اسلام کی تفصیلات بیان کرنا منظور نہیں، نہ اس کا کوئی موقع ہے۔ اسلام کے چند بنیادی عقائد ذکر کر کے تمام اسلامی عقائد کی طرف اشارہ کرنا اور اس کی طرف دعوت دینا مقصود ہے اور نہ یہ کوئی ضروری بات ہے کہ ہر آیت میں جہاں ایمان کا ذکر آئے اس کی ساری تفصیلات وہیں ذکر کی جائیں اس لئے اس جگہ ایمان بالرسول ﷺ یا ایمان بالنبوة کا ذکر صراحۃ نہ ہونے سے کسی ادنی فہم و عقل اور انصاف و دانش رکھنے والے کو کسی شبہ کی گنجائش نہ تھی۔ خصوصاً جبکہ پورا قرآن اور اس کی سینکڑوں آیتیں ایمان بالرسالت کی تصریحات سے لبریز ہیں جن میں یہ تصریحات موجود ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور ارشادات رسول ﷺ پر مکمل ایمان لائے بغیر نجات نہیں، اور کوئی ایمان و عمل بغیر اس کے مقبول و معتبر نہیں۔ لیکن ملحدین کا ایک گروہ جو کسی نہ کسی طرح قرآن میں اپنے مکروہ نظریات کو ٹھونسنا چاہتا ہے، اور انہوں نے اس آیت میں صراحةً ذکر رسالت نہ ہونے سے ایک نیا نظریہ قائم کرلیا جو قرآن و سنت کی بیشمار تصریحات کے قطعاً خلاف ہے۔ وہ یہ کہ ہر شخص اپنی اپنے مذہب یہودی، نصرانی یہاں تک کہ ہندو بت پرست رہتے ہوئے بھی اگر صرف اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو اور نیک کام کرے تو نجات آخرت کا مستحق ہوسکتا ہے۔ نجات اخروی کے لئے اسلام میں داخل ہونا ضروری نہیں (نعوذ باللہ منہ)
جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے تلاوت قرآن کی توفیق اور اس پر صحیح ایمان عطا فرمایا ہے۔ ان کے لئے قرآنی تصریحات سے اس مغالطہ کا دور کردینا کسی بڑے علم و نظر کا محتاج نہیں، قرآن کریم کا اردو ترجمہ جاننے والے حضرات بھی اس تخیل کی غلطی کو بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔ چند آیات بطور مثال کے یہ ہیں
(آیت) کل امن باللّٰہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ لا نفرق بین احد من رسلہ۔
”سب ایمان لائے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اس طرح کہ اس کے رسولوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے
اس آیت میں واضح طور پر ایمان کی جو تفصیلات بیان فرمائی ہیں ان میں یہ بھی واضح کردیا کہ کسی ایک یا چند رسولوں پر ایمان لے آنا قطعاً نجات کے لئے کافی نہیں بلکہ تمام رسولوں پر ایمان شرط ہے اگر کسی ایک رسول پر بھی ایمان نہ لایا تو اس کا ایمان اللہ کے نزدیک معتبر اور مقبول نہیں۔
دوسری جگہ ارشاد ہے(آیت)
ان الذین یکفرون باللّٰہ تا اولئک ہم الکفرون حقا۔
”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کردیں، (کہ اللہ پر تو ایمان لائیں مگر اس کے رسولوں پر ایمان نہ ہو) اور وہ کہتے ہیں کہ ہم مانتے ہیں بعضوں کو اور نہیں مانتے بعضوں کو اور وہ چاہیں کہ کفر و اسلام کے بیچ بیچ کا ایک راستہ نکال لیں تو سمجھ لو کہ وہ ہی اصل میں کافر ہیں“۔
رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے
لوکان موسیٰ حیاً لما وسعہ الا اتباعی،
”یعنی اگر بالفرض آج حضرت موسیٰ ؑ بھی زندہ ہوتے تو ان کو میرے اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا“۔
تو اب کسی کا یہ کہنا کہ ہر مذہب والے اپنے اپنے مذہب پر عمل کریں تو بغیر آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے اور بغیر مسلمان ہوئے وہ جنت اور فلاح آخرت پاسکتے ہیں قرآن کریم کی مذکورہ آیات کی کھلی مخالفت ہے۔
اس کے علاوہ اگر ہر مذہب و ملت ایسی چیز ہے کہ اس پر ہر زمانہ میں عمل کرلینا نجات اور فلاح کے لئے کافی ہے تو پھر خاتم الانبیاء ﷺ کی بعثت اور نزول قرآن ہی بےمعنی ہوجاتا ہے اور ایک شریعت کے بعد دوسری شریعت بھیجنا فضول ہوجاتا ہے سب سے پہلا رسول ایک شریعت ایک کتاب لے آتا، وہ کافی تھی۔ دوسرے رسولوں، کتابوں شریعتوں کے بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔ زیادہ سے زیادہ ایسے لوگوں کا وجود کافی ہوتا جو اس شریعت و کتاب کو باقی رکھنے اور اس پر عمل کرنے اور کرانے کا اہتمام کرتے جو عام طور پر ہر امت کے علماء کا فریضہ رہا ہے۔ اور اس صورت میں قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ (آیت) لکل جعلنا منکم شرعة ومنھاجا، یعنی ہم نے تم میں سے ہر امت کے لئے ایک خاص شریعت اور خاص راستہ بنایا ہے۔ یہ سب بےمعنی ہوجاتا ہے۔
اور پھر اس کا کیا جواز رہ جاتا ہے، کہ رسول کریم ﷺ نے اپنے اوپر اور اپنی کتاب قرآن پر ایمان نہ رکھنے والے تمام یہود و نصاریٰ سے اور دوسری قوموں سے نہ صرف تبلیغی جہاد کیا۔ بلکہ قتل و قتال اور سیف وسنان کی جنگیں بھی لڑی۔ اور اگر انسان کے مومن اور مقبول عند اللہ ہونے کے لئے صرف اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان لے آنا کافی ہو تو بیچارہ ابلیس کس جرم میں مردود ہوتا کیا اس کو اللہ پر ایمان نہ تھا، یا وہ روزآخرت اور قیامت کا منکر تھا۔ اس نے تو عین حالت غضب میں بھی (آیت) الی یوم یبعثون کہہ کر ایمان بالآخرت کا اقرار کیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ مغالطہ صرف اس نظریہ کی پیداوار ہے کہ مذہب کو برادری کے نوتہ کی طرح کسی کو تحفہ میں دیا جاسکتا ہے اور اس کے ذریعہ دوسری قوموں سے رشتے جوڑے جاسکتے ہیں۔ حالانکہ قرآن کریم نے کھول کھول کر واضح کردیا ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ رواداری ہمدردی، احسان و سلوک اور مروت سب کچھ کرنا چاہئے، لیکن مذہب کی حدود کی پوری حفاظت اور اس کی سرحدوں کی پوری نگرانی کے ساتھ۔
قرآن کریم کی مذکورہ آیت میں اگر بالفرض ایمان بالرسول ﷺ کا ذکر بالکل نہ ہوتا تو دوسری آیات قرآن جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے جن میں اس کی اشد تاکید موجود ہے وہ کافی تھیں۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو خود اس آیت میں بھی ایمان بالرسول کی طرف واضح اشارہ ہے۔ کیونکہ اصطلاح قرآن میں ایمان باللہ وہی معتبر ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی بتلائی ہوئی ساری چیزوں پر ایمان ہو۔ قرآن میں کریم نے اپنی اس اصطلاح کو ان الفاظ میں واضح فرما دیا ‘ (آیت) فان امنوا بمثل ما امنتم بہ فقد اھتدوا، یعنی جس طرح کا ایمان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تھا صرف وہی ایمان باللہ کہلانے کا مستحق ہے اور ظاہر ہے کہ ان کے ایمان کا بہت بڑا رکن ایمان بالرسول ﷺ تھا۔ اس لئے مَن آمَنَ باللّٰہ کے لفظوں میں خود ایمان بالرسول داخل ہے۔
Ayahs 5:70–71خلاصہ تفسیر
ہم نے بنی اسرائیل سے (اول توریت میں تمام پیغمبروں کی تصدیق و اطاعت کا) عہد لیا اور (اس عہد کے یاد دلانے کو) ہم نے ان کے پاس بہت پیغمبر بھیجے (لیکن ان کی یہ حالت تھی کہ) جب کبھی ان کے پاس کوئی پیغمبر ایسا حکم لایا جس کو ان کا جی نہ چاہتا تھا (تب ہی ان کے ساتھ مخالفت سے پیش آئے) سو بعضوں کو (تو) جھوٹا بتلایا اور بعضوں کو (بیدھڑک) قتل ہی کر ڈالتے تھے اور (ہمیشہ ہر شرارت پر جب چند روز سزا سے مہلت دی گئی) یہی گمان کیا کہ کچھ سزا نہ ہوگی اس (گمان) سے اور بھی اندھے اور بہرے (کی طرح) بن گئے (کہ نہ دلائل صدق انبیاء کو دیکھا نہ ان کے کلام کو سنا) پھر (ایک مدت کے بعد) اللہ تعالیٰ نے ان پر (رحمت کے ساتھ) توجہ فرمائی (کہ اور کسی پیغمبر کو بھیجا کہ اب بھی راہ پر آویں مگر) پھر بھی (اسی طرح) اندھے اور بہرے بنے رہے یعنی (سب تو نہیں مگر) ان میں سے بہتیرے، اور اللہ تعالیٰ ان کے (ان) اعمال کو خوب دیکھنے والے ہیں (یعنی ان کا گمان غلط تھا، چناچہ ان کو وقتاً فوقتاً سزا بھی ہوتی رہی، مگر ان کا یہی شیوہ رہا۔ حتی کہ اب آپ ﷺ کے ساتھ اسی طرح تکذیب و خلاف کا برتاؤ کیا)۔
معارف و مسائل
بنی اسرائیل کی عہد شکنی r
ۭكُلَّمَا جَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰٓى اَنْفُسُهُمْ ، یعنی جب بنی اسرائیل کے پاس ان کا رسول کوئی حکم لاتا جو ان کے مذاج کے مطابق نہ ہوتا تو عہدو پیمان توڑ کر خدا سے غداری کرتے پھرتے۔ اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں میں سے کسی کو جھٹلایا، کسی کو قتل کیا، یہ تو ان کے ”ایمان باللہ اور عمل صالح“ کا حال تھا۔ ”ایمان بالیوم الآخر“ کا اندازہ اس سے کرلو کہ اس قدر شدید مظالم اور باغیانہ جرائم کا ارتکاب کرکے بالکل بےفکر ہو بیٹھے۔ گویا ان حرکات کا کوئی خمیازہ بھگتنا نہیں پڑے گا۔ اور ظلم و بغاوت کے خراب نتائج کبھی سامنے نہ آئیں گے۔ یہ خیال کرکے خدائی نشانات اور خدائی کلام کی طرف سے بالکل ہی اندھے اور بہرے ہوگئے اور جو نا کرنے کے کام تھے وہ کئے۔ حتیٰ کہ بعض انبیاء کو قتل اور بعض کو قید کیا۔ آخر خدا تعالیٰ نے ان پر بخت نصر کو مسلط کیا۔ پھر ایک مدت دراز کے بعد بعض ملوک فارس نے بخت نصر کی قید ذلت و رسوائی سے چھڑا کر بابل سے بیت المقدس کو واپس کیا۔ اس وقت لوگوں نے توبہ کی اور اصلاح حال کی طرف متوجہ ہوئے۔ خدا نے توبہ قبول کی لیکن کچھ زمانہ کے بعد پھر وہی شرارتیں سوجھیں اور بالکل اندھے بہرے ہو کر حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہما السلام) کے قتل کی جرأت کی اور حضرت عیسیٰ ؑ کے قتل پر تیار ہوگئے۔ (فوائد عثمانی)
Ayah 5:72خلاصہ تفسیر
بیشک وہ لوگ کافر ہوچکے جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ عین مسیح بن مریم ہے (یعنی دونوں میں اتحاد ہے) حالانکہ (حضرت) مسیح نے خود فرمایا تھا کہ اے بنی اسرائیل تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے (اور اس قول میں اپنے مربوب اور بندہ ہونے کی تصریح ہے، پھر ان کو الٓہ کہنا وہی بات ہے کہ مدعی سست گواہ چست) بیشک جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ (خدائی میں یا خدائی خصوصیات میں) شریک قرار دے گا سو اس پر اللہ تعالیٰ جنت کو حرام کر دے گا، اور اس کا ٹھکانا (ہمیشہ کے لئے) دوزخ ہے، اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا (کہ دوزخ سے بچا کر جنت میں پہنچا سکے، اور جیسے عقیدہ اتحاد کفر ہے اسی طرح عقیدہ تثلیث بھی کفر ہے پس) بلا شبہ وہ لوگ بھی کافر ہیں، جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین (معبودوں) میں کا ایک ہے۔ حالانکہ بجز ایک معبود (حق) کے اور کوئی معبود (حق) نہیں (نہ دو اور نہ تین۔ جب یہ عقیدہ بھی کفر و شرک ہے تو اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ الخ میں جو سزا مذکور ہے وہ اس پر بھی مرتب ہوگی) اور اگر یہ (دونوں عقیدہ کے) لوگ اپنے اقوال (کفریہ) سے باز نہ آئے تو (سمجھ رکھیں کہ) جو لوگ ان میں کافر رہیں گے ان پر (آخرت میں) دردناک عذاب واقع ہوگا کیا (ان مضامین توحید و وعید کو سنکر) پھر بھی (اپنے ان عقائد و اقوال سے) خدا تعالیٰ کے سامنے توبہ نہیں کرتے اور اس سے معافی نہیں چاہتے، حالانکہ اللہ تعالیٰ (جب کوئی توبہ کرتا ہے تو) بڑی مغفرت کرنے والے (اور) بڑی رحمت فرمانے والے ہیں (حضرت) مسیح ابن مریم (عین خدا یا جزِو خدا) کچھ بھی نہیں صرف ایک پیغمبر ہیں جس سے پہلے اور بھی پیغمبر (اہل معجزات) گزر چکے ہیں (جن کو عیسائی خدا نہیں مانتے۔ پس اگر پیغمبری یا خرق عادت دلیل اُلوہیت ہے تو سب کو الٓہ (خدا) ماننا چاہیئے۔ اور اگر دلیل الو ہیت نہیں ہے تو حضرت مسیح کو کیوں الٓہ کہا جاوے۔ غرض جب اوروں کو الٓہ نہیں کہتے تو عیسیٰ ؑ کو بھی مت کہو) اور (اسی طرح) ان کی والدہ (بھی الٓہ یا جزو الٓہ نہیں بلکہ وہ) ایک ولی بی بی ہیں (جیسی اور بیبیاں بھی ولی ہوچکی ہیں، اور دونوں حضرات کے الٓہ نہ ہونے کے دلائل میں سے ایک سہل دلیل یہ ہے کہ) دونوں (حضرات) کھانا کھایا کرتے تھے (اور جو شخص کھانا کھاتا ہے وہ اس کا محتاج ہوتا ہے اور کھانا کھانا خواص مادیات سے ہے۔ اور احتیاج اور مادیت خاصہ ممکن الوجود کا ہے، جس کا وجود ضروری نہ ہو، اور ممکن یعنی جس کا وجود ہی ضروری نہ ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا) دیکھئے تو (سہی) ہم کیونکر صاف صاف دلائل ان سے بیان کر رہے ہیں۔ پھر دیکھئے وہ الٹے کدھر جا رہے ہیں۔ آپ ﷺ (ان سے) فرمائیے کیا خدا کے سوا ایسی (مخلوق) کی عبادت کرتے ہو جو نہ تم کو کوئی ضرر پہنچانے کا اختیار رکھتا ہو اور نہ نفع پہنچانے کا (اختیار رکھتا ہو اور عاجز ہونا خود خدائی کے منافی ہے) حالانکہ اللہ تعالیٰ سب سنتے ہیں جانتے ہیں (پھر بھی خدا سے نہیں ڈرتے اور اپنے کفر و شرک سے باز نہیں آتے)۔
Ayahs 5:73–76معارف و مسائل
(قولہ تعالیٰ) اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ، یعنی حضرت مسیح، روح القدس اور اللہ یا مسیح، مریم اور اللہ تینوں خدا ہیں (العیاذ باللہ) ان میں ایک حصہ دار اللہ ہوا، پھر وہ تینوں ایک اور وہ ایک تین ہیں، عیسائیوں کا عام عقیدہ یہ ہے، اور اس خلاف عقل و ہدایت عقیدہ کو گول مول اور پیچدار عبارتوں سے ادا کرتے ہیں، اور جب کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تو اس کو ماوراء العقل حقیقت قرار دیتے ہیں (قوائد عثمانی رحمة اللہ علیہ)
مسیح ؑ کی الوہیت کی تردید
(قولہ تعالیٰ) قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ، یعنی جس طرح اور انبیاء دنیا میں آئے اور کچھ دن رہ کر چل بسے، ان کو دوام اور بقاء حاصل نہ تھا جو الوہیت کی شان ہے، اسی طرح حضرت مسیح ؑ (جو انہی کی طرح ایک انسان ہیں) کو دوام اور بقاء حاصل نہیں، لہذا وہ الٓہ نہیں ہو سکتے۔
ذرا غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ جو شخص کھانے پینے کا محتاج ہے وہ تقریباً دنیا کی ہر چیز کا محتاج ہے۔ زمین، ہوا، پانی، سورج اور حیوانات سے اسے استغناء نہیں ہوسکتا۔ غلہ کے پیٹ میں پہنچنے اور ہضم ہونے تک خیال کرو بالواسطہ یا بلا واسطہ کتنی چیزوں کی ضرورت ہے۔ پھر کھانے سے جو اثرات و نتائج پیدا ہوں گے ان کا سلسلہ کہاں تک جاتا ہے۔ احتیاج و افتقار کے اس طویل الذیل سلسلہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہم الوہیت مسیح و مریم کے ابطال کو بشکل استدلال یوں بیان کرسکتے ہیں کہ مسیح و مریم اکل و شرب کی ضرورت سے مستغنی نہ تھے۔ جو مشاہدہ اور تواتر سے ثابت ہے اور جو اکل و شرب سے مستغنی نہ ہو وہ دنیا کی کسی چیز سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔ پھر تم ہی کہو کہ جو ذات تمام انسانوں کی طرح اپنی بقاء میں عالم اسباب سے مستغنی نہ ہو وہ خدا کیونکر بن سکتی ہے۔ یہ ایسی قوی اور واضح دلیل ہے جسے عالم و جاہل یکساں طور پر سمجھ سکتے ہیں، یعنی کھانا پینا الوہیت کے منافی ہے۔ اگرچہ نہ کھانا بھی کوئی الوہیت کی دلیل نہیں ورنہ سارے فرشتے خدا بن جائیں (معاذ اللہ) (فوائد عثمانی)
حضرت مریم بتول ؑ نبی تھیں یا ولی ؟
حضرت مریم کی ولایت اور نبوت کے بارے میں اختلاف ہے۔ آیت مذکورہ میں مقام مدح میں لفظ ”صدیقہ“ سے بظاہر اشارہ اسی طرف معلوم ہوتا ہے کہ آپ ”ولی“ تھیں۔ نبی نہیں کیونکہ مقام مدح میں اعلیٰ درجہ کو ذکر کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کو نبوت حاصل ہوتی تو یہاں ”نبیہ“ کہا جاتا۔ حالانکہ یہاں ”صدیقہ“ کہا گیا ہے، جو ولایت کا مقام ہے (روح ملخصاً)
جمہور امت کی تحقیق یہی ہے کہ خواتین میں نبوت نہیں آئی یہ منصب رجال ہی کے لئے مخصوص رہا ہے، (آیت) وما ارسلنا من اہل القری (یوسف، رکوع 21) (فوائد عثمانی)
Ayah 5:77خلاصہ تفسیر
آپ ﷺ (ان نصاریٰ سے) فرمائیے کہ اے اہل کتاب تم اپنے دین (کے معاملہ) میں ناحق کا غلو (اور افراط) مت کرو اور اس (افراط کے باب) میں ان لوگوں کے خیالات (یعنی بےسند باتوں) پر مت چلو جو (اس وقت سے) پہلے خود بھی غلطی میں پڑچکے ہیں اور (اپنے ساتھ) اور بہتوں کو (لے کر ڈوبے ہیں اور) غلطی میں ڈال چکے ہیں اور (وہ ان کی غلطی اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ حق مفقود ہوگیا ہو اس کا پتہ نہ لگتا ہو بلکہ) وہ لوگ راہ راست (کے ہوتے ہوئے قصداً اس) سے دور (اور علیحدہ) ہوگئے تھے (یعنی جب ان کی غلطی دلائل سے ثابت ہوگئی پھر ان کا اتباع کیوں نہیں چھوڑتے) بنی اسرائیل میں جو لوگ کافر تھے ان پر (اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت) لعنت کی گئی تھی (زبور اور انجیل میں جس کا ظہور حضرت) داود ؑ اور (حضرت) عیسیٰ بن مریم ؑ کی زبان سے (ہوا یعنی زبور اور انجیل میں کافروں پر لعنت لکھی تھی، جیسے قرآن مجید میں بھی ہے (آیت) فلعنة اللہ علیہ الکفرین، چونکہ یہ کتابیں حضرت داود اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر نازل ہوئیں، اس لئے یہ مضمون ان کی زبان سے ظاہر ہوا اور) یہ لعنت اس سبب سے ہوئی کہ انہوں نے حکم کی (اعتقادی) مخالفت کی (جو کہ کفر ہے) اور (اس مخالفت میں) حد سے (بہت دور) نکل گئے (یعنی کفر بھی شدید تھا، پھر شدید کے ساتھ مدید بھی تھا۔ یعنی اس پر استمرار رکھا، چنانچہ) جو برا کام (یعنی کفر) انہوں نے (اختیار) کر رکھا تھا اس سے (آئندہ کو) باز نہ آتے تھے (بلکہ اس پر مصر تھے، پس ان کے کفر شدید اور مدید کے سبب ان پر شدید لعنت ہوئی) واقعی ان کا (یہ) فعل (مذکور یعنی کفر پھر وہ بھی شدید اور مدید) بیشک برا تھا (کہ اس پر یہ سزا مرتب ہوئی) آپ ﷺ ان (یہود) میں بہت سے آدمی دیکھیں گے کہ (مشرک) کافروں سے دوستی کرتے ہیں (چنانچہ یہود مدینہ اور مشرکین مکہ میں مسلمانوں کی عداوت کے علاقہ سے جس کا منشاء اتحاد فی الکفر تھا باہم خوب سازگاری تھی) جو کام انہوں نے آگے (بھگتنے) کے لئے کیا ہے (یعنی کفر جو سبب تھا دوستی کفار اور عداوت مؤمنین کا) وہ بیشک برا ہے کہ (اس کے سبب) اللہ تعالیٰ ان پر (ہمیشہ کے لئے) ناخوش ہوا اور (اس ناخوشی دائمی کا ثمرہ یہ ہوگا کہ) یہ لوگ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے، اور اگر یہ (یہودی) لوگ اللہ پر ایمان رکھتے اور پیغمبر (یعنی موسیٰ علیہ السلام) پر (ایمان رکھتے جس کا ان کو دعویٰ ہے) اور اس کتاب پر (ایمان رکھتے) جو ان (پیغمبر) کے پاس بھیجی گئی تھی (یعنی تورات) تو ان (مشرکین) کو دوست نہ بناتے، لیکن ان میں زیادہ لوگ (دائرہ) ایمان سے خارج ہی ہیں (اس لئے کافروں کے ساتھ ان کا اتحاد اور دوستی ہوگئی)۔
معارف و مسائل
بنی اسرائیل کی کجروی کا ایک دوسرا پہلو
(قولہ تعالیٰ) قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ پچھلی آیات میں بنی اسرائیل کی سرکشی اور ان کے ظلم کو بیان کیا گیا تھا، کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول جو ان کے لئے حیات جاودانی کا پیغام اور ان کی دنیا و آخرت سنوارنے کا دستور العمل لے کر آئے تھے ان کی قدر ومنزلت پہچاننے اور تعظیم و تکریم کرنے کے بجائے انہوں نے ان کے ساتھ برا سلوک کیا کہ، (آیت) فریقا کذبوا وفریقا یقتلون، یعنی بعض انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلایا اور بعض کو قتل کر ڈالا۔
مذکورہ آیات سے انھیں بنی اسرائیل کی کجروی کا دوسرا رخ بتلایا گیا ہے کہ یہ جاہل یا تو سرکشی اور نافرمانی کے اس کنارے پر تھے کہ اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا، اور بعض کو قتل کر ڈالا، اور یا گمراہی اور کجروی کے اس کنارے پر پہنچ گئے کہ رسولوں کی تعظیم میں غلو کرکے ان کو خدا ہی بنادیا، (آیت) لقد کفر الذین قالو ان اللہ ھو المسیح ابن مریم۔ یعنی وہ بنی اسرائیل کافر ہوگئے، جنہوں نے کہا کہ اللہ تو عیسیٰ ابن مریم ہی کا نام ہے۔
یہاں تو یہ قول صرف نصاریٰ کا مذکور ہے۔ دوسری جگہ یہی غلو اور گمراہی یہود کی بھی بیان فرمائی گئی ہے(آیت) وقالت الیھود عزیر ابن اللہ وقالت النصریٰ المسیح ابن اللہ، یعنی یہود نے تو یہ کہہ دیا کہ حضرت عزیر ؑ اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ نے یہ کہہ دیا کہ عیسیٰ ابن مریم ؑ اللہ کے بیٹے ہیں۔
غلو کے معنی حد سے نکل جانے کے ہیں۔ دین میں غلو کا مطلب یہ ہے کہ اعتقاد و عمل میں دین نے جو حدود مقرر کی ہیں ان سے آگے بڑھ جائیں مثلاً انبیاء کی تعظیم کی حد یہ ہے کہ ان کو خلق خدا میں سب سے افضل جانے۔ اس حد سے آگے بڑھ کر انہی کو خدا یا خدا کا بیٹا کہہ دینا اعتقادی غلو ہے۔
بنی اسرائیل کی افراط و تفریط
انبیاء اور رسل کے معاملہ میں بنی اسرائیل کے یہ دو متضاد عمل کہ یا تو ان کو جھوٹا کہیں اور قتل تک سے دریغ نہ کریں، اور یا یہ زیادتی کہ ان کو خود ہی خدا یا خدا کا بیٹا قرار دیدیں، یہ وہی افراط وتفریط ہے جو جہالت کے لوازم سے ہے، عرب کا مشہور مقولہ الجاہل اما مفرط اومفرط یعنی جاہل آدمی کبھی اعتدال اور میانہ روی پر نہیں رہتا، بلکہ یا افراط میں مبتلا ہوتا ہے یا تفریط میں۔ افراط کے معنی حد سے آگے بڑھنے کے ہیں اور تفریط کے معنی ہیں فرض کی ادائیگی میں کوتاہی اور کمی کرنے کے اور یہ افراط وتفریط یہ بھی ممکن ہے کہ بنی اسرائیل کی دو مختلف جماعتوں کی طرف سے عمل میں آئی ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک ہی جماعت کے یہ دو مختلف عمل مختلف انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ہوئے ہوں کہ بعض کی تکذیب و قتل تک نوبت پہنچ جائے اور بعض کو خدا کے برابر بنادیا جائے۔
ان آیات میں اہل کتاب کو مخاطب کر کے جو ہدایت ان کو اور قیامت تک آنے والی نسلوں کو دی گئی ہیں وہ دین و مذہب اور اس کی پیروی میں ایک بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی ہیں کہ اس سے ذرا ادھر ادھر ہونا انسان کو گمراہیوں کے غار میں دھکیل دیتا ہے اس لئے اس کی تشریح سمجھ لیجئے۔
اللہ جل شانہ تک رسائی کا طریقہ
حقیقت یہ ہے کہ سارے جہان اور اس کی موجودات کا خالق ومالک صرف ایک اللہ جل شانہ ہے۔ اسی کا ملک ہے اور اسی کا حکم ہے، اسی کی اطاعت ہر انسان پر لازم ہے۔ لیکن بیچارہ خاکی نژاد انسان اپنی مادی ظلمتوں اور پستیوں میں گھرا ہوا ہے۔ اس کی ساری رسائی اس ذات قدوس تک یا اس کے احکام و ہدایات معلوم کرنے تک کس طرح ہو، اللہ جل شانہ نے اپنے فضل سے اس کے لئے دو واسطے مقرر کردیئے جن کے ذریعے انسان کو حق تعالیٰ کی پسند و ناپسند اور مامورات و منہیات کا علم ہو سکے، ایک اپنی کتابیں جو انسان کے لئے قانون اور ہدایت نامہ کی حیثیت رکھتی ہیں، دوسرے اپنے ایسے مخصوص و مقبول بندے جن کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں سے چن لیا ہے اور ان کو اپنی پسند و ناپسند کا عمل نمونہ اور اپنی کتاب کی عملی شرح بنا کر بھیجا ہے، جن کو دینی اصطلاح میں رسول یا نبی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ تجربہ شاہد ہے کہ کوئی کتاب خواہ کتنی ہی جامع اور مفصل کیوں نہ ہو کسی انسان کی اصلاح و تربیت کے لئے کافی نہیں ہوتی، بلکہ فطری طور پر انسان کا مربی و مصلح صرف انسان ہی ہوسکتا ہے۔ اس لئے حق تعالیٰ نے انسان کی اصلاح و تربیت کے لئے دو سلسلے رکھے، ایک کتاب اللہ اور دوسرے رجال اللہ، جن میں انبیاء (علیہم السلام) اور پھر ان کے نائبین علماء و مشائخ سب داخل ہیں۔ رجال اللہ کے اس سلسلہ کے متعلق زمانہ قدیم سے دنیا افراط وتفریط کی غلطیوں میں مبتلا رہی ہے اور مذاہب میں جتنے مختلف فرقے پیدا ہوئے وہ سب اسی ایک غلطی کی پیداوار ہیں کہ کہیں ان کو حد سے بڑھا کر رجال پرستی تک نوبت پہنچا دی گئی اور کہیں ان سے بالکل قطع نظر کرکے حسبنا کتاب اللّٰہ کو غلط معنٰے پہنا کر اپنا شعار بنا لیا گیا۔ ایک طرف رسول کو بلکہ پیروں کو بھی عالم الغیب اور خاص خدائی صفات کا مالک سمجھ لیا گیا اور پیر پرستی بلکہ قبر پرستی تک پہنچ گئے۔ دوسری طرف اللہ کے رسول کو بھی محض ایک قاصد اور چٹھی رساں کی حیثیت دے دیگئی۔ آیات متذکرہ میں رسولوں کی توہین کرنے والوں کو بھی کافر قرار دیا گیا۔ اور ان کو حد سے بڑھا کر خدا تعالیٰ کے برابر کہنے والوں کو بھی کافر قرار دیا گیا۔ آیت لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ اسی مضمون کی تمہید ہے، جس نے واضح کردیا کہ دین اصل میں چند حدود وقیود ہی کا نام ہے۔ اس حدود کے اندر کوتاہی کرنا اور کمی کرنا جس طرح حرام ہے اسی طرح ان سے آگے بڑھنا اور زیادتی کرنا بھی جرم ہے، جس طرح رسولوں اور ان کے نائبوں کی بات نہ ماننا ان کی توہین کرنا گناہ عظیم ہے اسی طرح ان کو اللہ تعالیٰ کی صفات مخصوصہ کا مالک یا مساوی سمجھنا اس سے زیادہ گناہ عظیم ہے۔
علمی تحقیق و تدقیق غلو نہیں
آیت مذکورہ میں لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ کے ساتھ لفظ غیر الحق لایا گیا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ ناحق کا غلو مت کرو، یہ لفظ محققین اہل تفسیر کے نزدیک تاکید کیلئے استعمال ہوا ہے، کیونکہ غلو فی الدین ہمیشہ ناحق ہوتا ہے۔ اس میں حق ہونے کا احتمال ہی نہیں اور علامہ زمحشری وغیرہ نے اس جگہ غلو کی دو قسمیں قرار دی ہیں، ایک ناحق اور باطل جس کی ممانعت اس جگہ کی گئی ہے۔ دوسرے حق اور جائز جس کی مثال ہیں انہوں نے علمی تحقیق و تدفیق کو پیش کیا ہے۔ جیسا کہ عقائد کے مسائل میں حضرات متکلمین کا اور فقی مسائل میں فقہاء رحمہم اللہ کا طریقہ رہا ہے، ان کے نزدیک یہ بھی اگرچہ غلو ہے۔ مگر غلو حق اور جائز ہے، اور جمہور کی تحقیق یہ ہے کہ یہ غلو کی تعریف میں داخل ہی نہیں، قرآن و سنت کے مسائل میں گہری نظر اور موشگافی جس حد تک رسول کریم ﷺ اور صحابہ وتابعین سے ثابت ہے وہ غلو نہیں اور جو غلو کی حد تک پہنچے وہ اس میں بھی مذموم ہے۔
بنی اسرائیل کو معتدل راہ کی ہدایت
مذکورہ آیت کے آخر میں موجود وہ بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایاوَلَا تَتَّبِعُوْٓا اَهْوَاۗءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَاَضَلُّوْا كَثِيْرًا وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ۔ یعنی اس قوم کے خیالات کا اتباع نہ کرو جو تم سے پہلے خود بھی گمراہ ہوچکے تھے۔ اور دوسروں کو بھی انہوں نے گمراہ کر رکھا ہے، اس کے بعد ان کی گمراہی کی حقیقت اور وجہ کو ان الفاظ سے بیان فرمایا وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ یعنی یہ لوگ صراط مستقیم سے ہٹ گئے تھے جو افراط وتفریط کے درمیان معتدل راہ تھی۔ اسی طرح اس آیت میں غلو اور افراط وتفریط کی مہلک غلطی کا بیان بھی آگیا۔ اور درمیانی راہ صراط مستقیم پر قائم رہنے کا بھی۔
Ayahs 5:78–81بنی اسرائیل کا انجام بد
دوسری آیت میں ان بنی اسرائیل کا انجام بدذکر کیا گیا ہے جو اس افراط وتفریط کی گمراہی میں مبتلا تھے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوئی، اول داؤد ؑ کی زبان سے جس کے نتیجے میں ان کی صورتیں مسخ ہو کر خنزیر بن گئے، پھر حضرت عیسیٰ ؑ کی زبان سے یہ لعنت ان پر مسلط ہوئی، جس کا اثر دنیا میں یہ ہوا کہ مسخ ہو کر بندر بن گئے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس جگہ بتقاضائے مقام صرف دو پیغمبروں کی زبانی ان پر لعنت ہونے کا ذکر کیا گیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ان پر لعنت کی ابتداء حضرت موسیٰ ؑ سے ہوئی اور انتہا حضرت خاتم الانبیاء ﷺ پر ہوئی۔ اس طرح مسلسل چار پیغمبروں کی زبانی ان لوگوں پر لعنت مسلط ہوئی جنہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کی مخالفت کی یا جنہوں نے ان کو حد سے آگے بڑھا کر خدا تعالیٰ کی صفات کا شریک بنادیا۔
آخری دونوں آیتوں میں کفار کے ساتھ گہری دوستی اور موالات کی ممانعت اور اس کے تباہ کن نتائج کا بیان فرمایا گیا جس میں اس کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ بنی اسرائیل کی یہ ساری کجروی اور گمراہی نتیجہ تھی ان کے غلط قسم کے ماحول اور کفار کے ساتھ دلی دوستی کرنے کا۔ جس نے ان کو تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیا تھا