Ayah 5:54چوتھی آیت میں یہ بتلایا ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ گہری دوستی اور خلط ملط کی جو ممانعت کی گئی ہے یہ خود مسلمانوں ہی کے مفاد کی خاطر ہے، ورنہ اسلام وہ دین حق ہے جس کی حفاظت کا ذمہ حق تعالیٰ نے خود لے لیا ہے، کسی فرد یا جماعت کی کجروی یا نافرمانی تو بجائے خود ہے۔ اگر مسلمانوں کا کوئی فرد یا جماعت سچ مچ اسلام ہی کو چھوڑ بیٹھے اور بالکل ہی مرتد ہو کر غیر مسلموں میں مل جائے اس سے بھی اسلام کو کوئی گزند نہیں پہنچ سکتا کیونکہ قادر مطلق جو اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہے فوراً کوئی دوسری قوم میدان عمل میں لے آئے گا جو اللہ تعالیٰ کے دین کی حفاظت اور اشاعت کے فرائض انجام دے گی۔ اس کے کام نہ کسی ذات پر موقوف ہیں نہ کسی بڑی سے بڑی جماعت یا ادارہ پر وہ جب چاہتے ہیں تو تنکوں سے شہتیر کا کام لے لیتے ہیں ورنہ شہتیر پڑے کھاد ہوتے رہتے ہیں۔ کسی نے خوب کہا ہے
ان المقادیر اذا ساعدت
الحقت العاجز بالقادر
”یعنی تقدیر الٓہی جب کسی کی مددگار ہوجاتی ہے تو ایک عاجز و بیکار سے قادر و توانا کا کام لے لیتی ہے“۔ اس آیت میں جہاں یہ ذکر فرمایا کہ مسلمان اگر مرتد ہوجائیں تو پروا نہیں، اللہ تعالیٰ ایک دوسری جماعت کھڑی کر دے گا، وہاں اس پاکباز جماعت کے کچھ اوصاف بھی بیان فرماتے ہیں کہ یہ جماعت ایسے اوصاف کی حامل ہوگی، دین کی خدمت کرنے والوں کو ان اوصاف کا خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ آیت سے معلوم ہوا کہ ان اوصاف و عادات کے حامل لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول و محبوب ہیں۔
ان کی پہلی صفت قرآن کریم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت رکھے گا اور وہ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھیں گے۔ اس صفت کے دو جز ہیں، ایک ان لوگوں کی محبت اللہ تعالیٰ کے ساتھ، یہ تو کسی نہ کسی درجہ میں انسان کے اختیار میں سمجھی جاسکتی ہے کہ ایک انسان کو کسی کے ساتھ اگر طبعی محبت نہ ہو تو کم از کم عقلی محبت اپنے عزم و ارادہ کے تابع رکھ سکتا ہے۔ اور طبعی محبت بھی اگرچہ اختیار میں نہیں، مگر اس کے بھی اسباب اختیاری ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال اور قدرت کاملہ اور انسان پر اس کے اختیارات و انعامات کا مراقبہ اور تصور لازمی طور پر انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت طبعی بھی پیدا کردیتا ہے۔
لیکن دوسرا جز یعنی اللہ تعالیٰ کی محبت ان لوگوں کے ساتھ ہوگی، اس میں تو بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اختیار وعمل کا کوئی دخل اس میں نہیں، اور جو چیز ہماری قدرت و اختیار سے باہر ہے اسے سنانے اور بتلانے کا بھی بظاہر کوئی حاصل نہیں نکلتا۔
لیکن قرآن کریم کی دوسری آیت میں غور کریں تو معلوم ہوگا کہ محبت کے اس جز کے اسباب بھی انسان کے اختیار میں ہیں۔ اگر وہ ان اسباب کا استعمال کرے تو اللہ تعالیٰ کی محبت ان کے ساتھ لازمی ہوگی۔ اور وہ اسباب (آیت) قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی۔ میں مذکور ہیں یعنی اے رسول ﷺ لوگوں کو بتلا دیجئے کہ اگر تم کو اللہ تعالیٰ سے محبت ہے تو میرا اتباع کرو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تم سے محبت فرمانے لگیں گے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو شخص یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت فرمائیں اس کو چاہئے کہ سنت رسول اللہ ﷺ کو اپنی زندگی کا محور بنالے، اور زندگی کے ہر شعبے اور ہر کام میں سنت کے اتباع کا التزام کرے، تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس سے محبت فرمائیں گے۔ اور اسی آیت سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ کفر و ارتداد کا مقابلہ وہی جماعت کرسکے گی جو متبع سنت ہو، نہ احکام شرعیہ کی تعمیل میں کوتاہی کرے اور نہ اپنی طرف سے خلاف سنت اعمال کو اور بدعات کو جاری کرے۔
دوسری صفت اس جماعت کی یہ بتلائی گئی ہے کہ اَذِلَّةٍ عَلَي الْمُؤ ْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ ، اس میں لفظ اذلّہ حسب تصریح قاموس ذلیل یا ذلول دونوں کی جمع ہو سکتی ہے۔ ذلیل کے معنی عربی زبان میں وہی ہیں جو اردو وغیرہ میں معروف ہیں۔ اور ذلول کے معنی ہیں نرم اور سہل الانقیاد، یعنی جو آسانی سے قابو میں آجائے۔ جمہور مفسرین کے نزدیک اس جگہ یہی معنی مراد ہیں، یعنی یہ لوگ مسلمانوں کے سامنے نرم ہوں گے۔ اگر کسی معاملہ میں اختلاف بھی ہوا تو آسانی سے قابو میں آجائیں گے۔ جھگڑا چھوڑ دیں گے۔ اگرچہ وہ اپنے جھگڑے میں حق بجانب بھی ہوں۔ جیسا کہ حدیث صحیح میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہےانا زعیم ببیت فی ربض الجنة لمن ترک المراء وھو محق، ”یعنی میں اس شخص کو وسط جنت میں گھر دلوانے کی ذمہ داری لیتا ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے“۔
تو حاصل اس لفظ کا یہ ہوا کہ یہ لوگ مسلمانوں سے اپنے حقوق اور معاملات میں کوئی جھگڑا نہ رکھیں گے۔ دوسرا لفظ اَعِزَّةٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ آیا۔ اس میں بھی اَعِزّة، عزیز کی جمع ہے، جس کے معنی غالب، قوی اور سخت کے آتے ہیں، مراد یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ اور اس کے دین کے مخالفوں کے مقابلہ میں سخت اور قوی ہیں اور وہ ان پر قابو نہ پاسکیں گے۔
اور دونوں جملوں کو ملانے کا حاصل یہ نکل آیا کہ یہ ایک ایسی قوم ہوگی جس کی محبت و عداوت اور دشمنی اپنی ذات اور ذاتی حقوق و معاملات کے بجائے صرف اللہ اور اس کے رسول اور اس کے دین کی خاطر ہوگی۔ اسی لئے ان کی لڑائی کا رخ اللہ و رسول کے فرماں برداروں کی طرف نہیں بلکہ اس کے دشمنوں اور نافرمانوں کی طرف ہوگا۔ یہی مضمون ہے سورة فتح کی اس آیت کا(آیت) اشداء علی الکفار رحمآء بینھم۔
پہلی صفت کا حاصل حقوق کی تکمیل تھا اور دوسری صفت کا حاصل حقوق العباد اور معاملات کا اعتدال ہے۔ تیسری صفت اس جماعت کی یہ بیان فرمائیيُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ، یعنی یہ لوگ دین حق کی اشاعت اور برتری کے لئے جہاد کرتے رہیں گے اس کا حاصل یہ ہے کہ کفر و ارتداد کے مقابلہ کے لئے صرف معروف قسم کی عبادت گزاری اور نرم و سخت ہونا کافی نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اقامت دین کا جذبہ بھی ہو۔ اسی جذبہ کی تکمیل کے لئے چوتھی صفت یہ بتلائی گئی وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَاۗىِٕمٍ ، یعنی اقامت دین اور کلمہ حق کے سربلند کرنے کی کوشش میں یہ لوگ کسی ملامت کی پروا نہ کریں گے۔
غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کسی تحریک کو چلانے والے کی راہ میں دو قسم کی چیزیں حائل ہوا کرتی ہیں۔ ایک مخالف قوت کا زور دوسرے اپنوں کے لعن طعن اور ملامت، اور تجربہ شاہد ہے کہ جو لوگ تحریک چلانے کے لئے عزم لے کر کھڑے ہوتے ہیں اور اکثر حالات میں مخالف قوت سے تو مغلوب نہیں ہوتے، قید و بند اور زخم و خون سب کچھ برداشت کر لتے ہیں۔ لیکن اپنوں کے طعنوں اور تشنیع و تقبیح سے بڑے بڑے عزم والوں کے قدم میں لغزش آجاتی ہے۔ شاید اسی لئے حق تعالیٰ نے اس جگہ اس کی اہمیت جتلانے کے لئے اس پر اکتفاء فرمایا کہ یہ لوگ کسی کی ملامت کی پروا کئے بغیر اپنا جہاد جاری رکھتے ہیں۔
آخر آیت میں یہ بھی بتلا دیا کہ یہ صفات اور خصائل حسنہ اللہ تعالیٰ ہی کے انعام ہیں، وہی جس کو چاہتے ہیں عطا فرماتے ہیں، انسان محض اپنے سعی و عمل سے بغیر فضل خدا وندی کے ان کو حاصل نہیں کرسکتا۔
آیت کے الفاظ کی تشریح سے یہ واضح ہوچکا کہ اگر مسلمانوں میں کچھ لوگ مرتد بھی ہوجائیں تو دین اسلام کو کوئی گزند نہ پہنچے گا۔ بلکہ اس کی حفاظت و حمایت کیلئے اللہ جل شانہ ایک اعلیٰ اخلاق و اعمال کی جماعت کو کھڑا کردیں گے۔
جمہور مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ آیت درحقیقت آنے والے فتنہ کی پیشن گوئی اور اس کا ہمت کے ساتھ مقابلہ کرکے کامیاب ہونے والی جماعت کے لئے بشارت ہے آنے والا وہ فتنہ ارتداد ہے جس کے کچھ جراثیم تو عہد نبوت کے بالکل آخری ایام میں پھیلنے لگے تھے۔ اور پھر بعد وفات آنحضرت ﷺ کے عام ہو کر پورے جزیرة العرب میں اس کا طوفان کھڑا ہوگیا اور بشارت پانے والی وہ جماعت صحابہ کرام ؓ کی ہے جس نے خلیفہ اول صدیق اکبر ؓ کے ساتھ مل کر اس فتنہ ارتداد کا مقابلہ کیا۔
واقعات یہ تھے کہ سب سے پہلے تو مسیلمہ کذّاب نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ شریک نبوت ہونے کا دعویٰ کیا، اور یہاں تک جرأت کی کہ آپ کے قاصدوں کو یہ کہہ کر واپس کردیا کہ اگر بمصلحت تبلیغ و اصلاح یہ دستور عام نہ ہوتا کہ قاصدوں اور سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تمہیں قتل کردیتا، مسیلمہ اپنے دعوے میں کذاب تھا۔ پھر آپ کو اس کے خلاف جہاد کا موقع نہیں ملا، یہاں تک کہ وفات ہوگئی۔
اسی طرح یمن میں قبیلہ مذجج کے سردار اسودعنسی نے اپنی نبوت کا اعلان کردیا رسول کریم ﷺ نے اپنی طرف سے مقرر کئے ہوئے حاکم یمن کو اس کا مقابلہ کرنے کا حکم دیدیا، مگر جس رات میں اس کو قتل کیا گیا اس کے اگلے دن ہی آنحضرت ﷺ کی وفات ہوگئی، صحابہ کرام تک اس کی خبر ربیع الاول کے آخر میں پہنچی، اسی طرح کا واقعہ قبیلہ بنو اسد میں پیش آیا کہ ان کا سردار طلیحہ بن خویلد خود اپنی نبوت کا مدعی بن گیا۔
یہ تین قبیلوں کی جماعتیں تو آنحضرت ﷺ کے مرض وفات ہی میں مرتد ہوچکی تھیں۔ آپ ﷺ کی وفات کی خبر نے اس فتنہ ارتداد کو ایک طوفانی شکل میں منتقل کردیا۔ عرب کے سات قبیلے مختلف مقامات پر اسلام اور اس کی حکومت سے منحرف ہوگئے اور خلیفہ وقت ابوبکر صدیق ؓ کو اسلامی قانون کے مطابق زکوٰة ادا کرنے سے انکار کردیا۔
وفات سرور کائنات کے بعد ملک و ملت کی ذمہ داری خلیفہ اول حضرت صدیق اکبر ؓ پر عائد ہوئی۔ ایک طرف ان حضرات پر اس حادثہ عظیم کا صدمہ جانگداز اور دوسری طرف یہ فتنوں اور بغاوتوں کے سیلاب عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد جو صدمہ میرے والد حضرت ابوبکر صدیق ؓ پر پڑا اگر وہ مضبوط پہاڑوں پر بھی پڑجاتا تو ریزہ ریزہ ہوجاتے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر و استقامت کا وہ اعلیٰ مقام عطا فرمایا تھا کہ تمام آفات و مصائب کا پورے عزم و ہمت کے ساتھ مقابلہ کیا اور بالآخر کامیاب ہوئے۔
بغاوتوں کا مقابلہ ظاہر ہے کہ طاقت استعمال کرکے ہی کیا جاسکتا ہے۔ مگر حالات کی نزاکت اس حد کو پہنچ گئی تھی کہ صدیق اکبر ؓ نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا تو کسی کی رائے نہ ہوئی کہ اس وقت بغاوتوں کے مقابلہ میں کوئی سخت قدم اٹھایا جائے۔ خطرہ یہ تھا کہ حضرات صحابہ اگر اندرونی جنگ میں مشغول ہوجائیں تو بیرونی طاقتیں اس جدید اسلامی ملک پر دوڑ پڑیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے صدیق کے قلب کو اس جہاد کے لئے مضبوط فرما دیا اور آپ ؓ نے ایک ایسا بلیغ خطبہ صحابہ کرام کے سامنے دیا کہ اس جہاد کے لئے ان کا بھی شرح صدر ہوگیا۔ اس خطبہ میں اپنے پورے عزم و استقلال کو ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ
”جو لوگ مسلمان ہونے کے بعد رسول کریم ﷺ کے دیئے ہوئے احکام اور قانون اسلام کا انکار کریں تو میرا فرض ہے کہ میں ان کے خلاف جہاد کروں، اگر میرے مقابلہ پر تمام جن وانس اور دنیا کے شجر و حجر سب کو جمع کر لائیں، اور کوئی میرا ساتھی نہ ہو، تب بھی میں تنہا اپنی گردن سے اس جہاد کو انجام دوں گا“۔
اور یہ فرما کر گھوڑے پر سوار ہوئے اور چلنے لگے، اس وقت صحابہ کرام آگے آئے اور صدیق اکبر ؓ کو اپنی جگہ بٹھلا کر مختلف محاذوں پر مختلف حضرات کی روانگی کا نقشہ بن گیا۔
اسی لئے حضرت علی مرتضیٰ ؓ ، حسن بصری رحمة اللہ علیہ، ضحاک رحمة اللہ علیہ قتادہ وغیرہ جمہور ائمہ تفسیر نے بیان فرمایا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں آئی ہے وہی سب سے پہلے اس قوم کا مصداق ثابت ہوئے۔ جن کے من جانب اللہ میدان عمل میں لائے جانے کا آیت مذکورہ میں ارشاد ہے۔
مگر یہ اس کے منافی نہیں کہ کوئی دوسری جماعت بھی اس آیت کی مصداق ہو، اس لئے جن حضرات نے اس آیت کا مصداق حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ یا دوسرے صحابہ کرام کو قرار دیا ہے، وہ بھی اس کا مخالف نہیں بلکہ صحیح یہی ہے کہ یہ سب حضرات بلکہ قیامت تک آنے والا وہ مسلمان جو قرآنی ہدایات کے مطابق کفر و ارتداد کا مقابلہ کریں گے، اسی آیت کے مصداق میں داخل ہوں گے۔ بہرحال صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت حضرت صدیق اکبر ؓ کے زیر ہدایت اس فتنہ ارتداد کے مقابلہ کے لئے کھڑی ہوگئی۔ حضرت خالد بن ولید ؓ کو ایک بڑا لشکر دے کر مسیلمہ کذاب کے مقابلہ پر یمامہ کی طرف روانہ کیا۔ وہاں مسیلمہ کذاب کی جماعت نے اچھی خاصی طاقت پکڑ لی تھی۔ سخت معرکے ہوئے، بالآخر مسیملہ کذاب حضرت وحشی ؓ کے ہاتھوں مارا گیا اور اس کی جماعت تائب ہو کر پھر مسلمانوں میں مل گئی۔ اسی طرح طلیحہ بن خویلد کے مقابلہ پر بھی حضرت خالد ؓ ہی تشریف لے گئے۔ وہ فرار ہو کر کہیں باہر چلا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو خود بخود ہی اسلام کی دوبارہ توفیق بخشی اور مسلمان ہو کر لوٹ آئے۔
خلافت صدیقی کے پہلے مہینہ ربیع الاول کے آخر میں اسود عنسی کے قتل اور اس کی قوم کے مطیع و فرمانبردار ہوجانے کی خبر پہنچ گئی اور یہی خبر سب سے پہلی فتح کی خبر تھی جو حضرت صدیق اکبر ؓ کو ان حالات میں پہنچی تھی۔ اسی طرح دوسرے قبائل مانعین زکوٰة کے مقابلہ میں بھی ہر محاذ پر اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کو فتح مبین نصیب فرمائی۔
اس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد جو تیسری آیت کے آخر میں مذکور ہے فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ ، یعنی اللہ والوں کی جماعت ہی غالب آ کر رہے گی۔ اس کی عملی تفسیر دنیا نے آنکھوں سے دیکھ لی۔ اور جبکہ تاریخی اور واقعاتی رنگ میں یہ بات بدیہی طور پر ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد قبائل عرب میں فتنہ ارتداد پھیلا اور اللہ تعالیٰ نے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے جو قوم کھڑی فرمائی وہ صدیق اکبر ؓ اور ان کے ساتھی صحابہ کرام ہی تھے۔ تو اس آیت ہی سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ جو اوصاف اس جماعت کے قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں وہ سب صدیق اکبر ؓ اور ان کے رفقائے کار صحابہ کرام میں موجود تھے۔ یعنی
اول یہ کہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرتے ہیں۔
دوسرے یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں۔
تیسرے یہ کہ یہ سب حضرات مسلمانوں کے معاملات میں نہایت نرم ہیں اور کفار کے معاملہ میں تیز،
چوتھے یہ کہ ان کا جہاد ٹھیک اللہ کی راہ میں تھا جس میں انہوں نے کسی کی ملامت وغیرہ کی پرواہ نہیں کی۔
آخر آیت میں اس حقیقة الحقائق کو واضح فرما دیا کہ یہ سب صفات کمال پھر ان کا ہر وقت استعمال پھر ان کے ذریعہ اسلامی مہم میں کامیابی یہ سب چیزیں نری تدبیر یا طاقت یا جماعت کے بل بوتہ پر حاصل نہیں ہوا کرتیں، بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہی جس کو چاہتے ہیں یہ نعمت عطاء فرماتے ہیں۔
Ayah 5:55سابقہ چار آیات میں مسلمانوں کو کافروں کے ساتھ گہری دوستی رکھنے سے منع فرمایا گیا پانچویں آیت میں مثبت طور پر یہ بتلایا گیا کہ مسلمانوں کو گہری دوستی اور رفاقت خاص کا تعلق جن سے ہوسکتا ہے وہ کون ہیں۔ ان میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ اور پھر اس کے رسول ﷺ کا ذکر ہے کہ درحقیقت مومن کا ولی و رفیق ہر وقت ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہی ہوسکتا ہے۔ اور اس کے تعلق کے سوا ہر تعلق اور ہر دوستی فانی ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کا تعلق بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ کا تعلق ہے اس سے الگ نہیں۔ تیسرے نمبر میں مسلمانوں کے رفیق اور مخلص دوست ان مسلمانوں کو قرار دیا ہے جو صرف نام کے مسلمان نہیں، بلکہ سچے مسلمان ہیں جن کی تین صفات اور علامات یہ بتلائی ہیں
(آیت) الذین یقیمون الصلوة الخ۔
اول یہ کہ وہ نماز کو اس کے پورے آداب و شرائط کے ساتھ پابندی سے ادا کرتے ہیں۔ دوسری یہ کہ اپنے مال میں سے زکوٰة ادا کرتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ وہ لوگ متواضع اور فروتنی کرنے والے ہیں اپنے اعمال خیر پر ناز اور تکبر نہیں کرتے۔
اس آیت کا تیسرا جملہ (آیت) وہم راکعون، میں لفظ رکوع کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں۔ اسی لئے ائمہ تفسیر میں سے بعض نے فرمایا کہ رکوع سے مراد اس جگہ اصطلاحی رکوع ہے جو نماز کا ایک رکن ہے۔ اور یقیمون الصلوة کے بعد وھم راکعون کا جملہ اس مقصد سے لایا گیا کہ مسلمانوں کی نماز کو دوسرے فرقوں کی نماز سے ممتاز کردینا مقصود ہے۔ کیونکہ نماز تو یہود و نصاریٰ بھی پڑھتے ہیں، مگر اس میں رکوع نہیں ہوتا، رکوع صرف اسلامی نماز کا امتیازی وصف ہے (مظہری)۔
مگر جمہور مفسرین نے فرمایا کہ لفظ رکوع سے اس جگہ اصطلاحی رکوع مراد نہیں۔ بلکہ اس کے لغوی معنی مراد ہیں۔ یعنی جھکنا، تواضع اور عاجزی و انکساری کرنا، تفسیر بحر محیط میں ابوحیان نے اور تفسیر کشاف میں زمخشری نے اسی کو اختیار کیا ہے اور تفسیر مظہری وبیان القرآن وغیرہ میں بھی اسی کو لیا گیا ہے، تو معنی اس جملہ کے یہ ہوگئے کہ ان لوگوں کو اپنے اعمال صالحہ پر ناز نہیں بلکہ تواضع اور انکساری ان کی خصلت ہے۔
اور بعض روایات میں ہے کہ یہ جملہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں ایک خاص واقعہ کے متعلق نازل ہوا ہے۔ وہ یہ کہ ایک روز حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نماز میں مشغول تھے۔ جب آپ رکوع میں گئے تو کسی سائل نے آ کر سوال کیا، آپ کرم اللہ وجہہ نے اسی حالت رکوع میں اپنی ایک انگلی سے انگوٹھی نکال کر اس کی طرف پھینک دی، غریب فقیر کی حاجت روائی میں اتنی دیر کرنا بھی پسند نہیں فرمایا کہ نماز سے فارغ ہو کر اس کی ضرورت پوری کریں۔ یہ مسابقت فی الخیرات اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسند آئی۔ اور اس جملہ کے ذریعہ اس کی قدر افزائی فرمائی گئی۔
اس روایت کی سند میں علماء و محدثین کو کلام ہے لیکن روایت کو صحیح قرار دیا جائے تو اس کا حاصل یہ ہوگا کہ مسلمانوں کی گہری دوستی کے لائق نماز و زکوٰة کے پابند عام مسلمان ہیں اور ان میں خصوصیت کیساتھ حضرت علی کرم اللہ وجہہ۔ اس دوستی کے زیادہ مستحق ہیں۔ جیسا کہ ایک دوسری صحیح حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہےمن کنت مولاہ فعلی مولاہ، (رواہ احمد از مظہری) ”یعنی میں جس کا دوست ہوں تو علی کرم اللہ وجہہ بھی اس کے دوست ہیں“۔
اور ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہےاللھم وال من والاہ وعاد من عاداہ، ”یعنی یا اللہ آپ محبوب بنالیں اس شخص کو جو محبت رکھتا ہو علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے، اور دشمن قرار دیں اس شخص کو جو دشمنی کرے علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے“۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اس خاص شرف کے ساتھ غالباً اس لئے نوازا گیا ہے کہ رسول کریم ﷺ پر آئندہ پیش آنے والا فتنہ منکشف ہوگیا تھا، کہ کچھ لوگ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے عداوت و دشمنی رکھیں گے، اور ان کے مقابلہ پر علم بغاوت اٹھائیں گے، جیسا کہ خوارج کے فتنہ میں اس کا ظہور ہوا۔
بہر حال آیت مذکورہ کا نزول خواہ اسی واقعہ کے متعلق ہوا ہو مگر الفاظ آیت کے عام ہیں، جو تمام صحابہ کرام اور سب مسلمانوں کو شامل ہیں، ازروئے حکم کسی فرد کی خصوصیت نہیں۔ اسی لئے جب کسی نے حضرت امام باقر رحمة اللہ علیہ سے پوچھا کہ اس آیت میں والَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سے کیا حضرت علی کرم اللہ وجہہ مراد ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ بھی مومنین میں داخل ہونے کی حیثیت سے اس آیت کا مصداق ہیں۔
اس کے بعد دوسری آیت میں ان لوگوں کو فتح و نصرت اور دنیا پر غالب آنے کی بشارت دی گئی ہے جو مذکورہ آیات قرآنی کے احکام کی تعمیل کرکے غیروں کی گہری دوستی سے باز آجائیں اور صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ اور ایمان والوں کو اپنا دوست بنائیں۔
Ayah 5:56ارشاد فرمایا
وَمَنْ يَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ ، اس میں ارشاد فرمایا کہ ان احکام الٓہیہ کی تعمیل کرنے والے مسلمان اللہ کا گروہ ہیں اور پھر یہ خوش خبری سنا دی کہ اللہ کا گروہ ہی انجام کار سب پر غالب آکر رہے گا۔
آنے والے واقعات نے اس کی ایسی تصدیق کردی کہ ہر آنکھوں والے نے دیکھ لیا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سب پر غالب آ کر رہے۔ جو طاقت ان سے ٹکرائی پاش پاش ہوگئی خلیفہ اول صدیق اکبر ؓ کے مقابلہ پر اندرونی فتنے اور بغاوتیں کھڑی ہوئیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو سب پر غالب فرمایا۔ حضرت فاروق اعظم ؓ کے مقابلہ پر دنیا کی سب سے بڑی طاقتیں قیصر و کبری آگئیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ اور پھر ان کے بعد کے خلفاء اور مسلمانوں میں جب تک ان احکام کی پابندی رہی کہ مسلمانوں نے غیروں کے ساتھ خلط ملط اور گہری دوستی کے تعلقات قائم نہیں کئے وہ ہمیشہ مظفر و منصور نظر آئے۔
Ayahs 5:57–58چھٹی آیت میں پھر بطور تاکید کے اس حکم کا اعادہ فرمایا گیا ہے جو شروع رکوع میں بیان ہوا تھا۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ اے ایمان والو ! تم ان لوگوں کو اپنا رفیق یا گہرا دوست نہ بناؤ، جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل قرار دیتے ہیں۔ اور یہ دو گروہ ہیں۔ ایک اہل کتاب، دوسرا عام کفار و مشرکین۔
امام ابوحیان نے بحر محیط میں فرمایا کہ لفظ کفار میں تو اہل کتاب بھی داخل تھے پھر خصوصیت کے ساتھ اہل کتاب کا مستقل ذکر اس جگہ غالباً اس لئے فرمایا گیا کہ اہل کتاب اگرچہ ظاہر میں بہ نسبت دوسرے کفار کے اسلام کے ساتھ قریب تھے، مگر تجربہ نے یہ بتلایا کہ ان میں سے بہت کم لوگوں نے اسلام کو قبول کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عہد رسالت اور مابعد کے ایمان لانے والے لوگوں کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو ان میں کثرت عام کفار کی نکلے گی، اہل کتاب میں سے مسلمان ہونے والوں کی تعداد بہت کم ہوگی۔
اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اہل کتاب کو اس پر ناز ہے کہ ہم دین الٓہی اور کتاب آسمانی کے پابند ہیں، اس فخر و ناز نے ان کو حق قبول کرنے سے باز رکھا۔ اور مسلمانوں کے ساتھ تمسخر و استہزاء کا معاملہ بھی زیادہ تر انہوں نے کیا، اسی شرارت پسندی کا ایک واقعہ وہ ہے جو ساتویں آیت میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہےوَاِذَا نَادَيْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّلَعِبًا، یعنی جب مسلمان نماز کے لئے اذان دیتے ہیں تو یہ لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کا واقعہ بحوالہ ابن ابی حاتم تفسیر مظہری میں یہ نقل کیا ہے کہ مدینہ طیبہ میں ایک نصرانی تھا، وہ جب اذان میں اشھد ان محمد الرسول اللّٰہ کا لفظ سنتا تو یہ کہا کرتا تھا احرق اللّٰہ الکاذب یعنی جھوٹے کو اللہ تعالیٰ جلا دے۔
آخر کار اس کا یہ کلمہ ہی اس کے پورے خاندان کے جل کر خاک ہوجانے کا سبب بن گیا، جس کا واقعہ یہ پیش آیا کہ رات کو جب یہ سو رہا تھا اس کا نوکر کسی ضرورت سے آگ لے کر گھر میں آیا اس کی چنگاری اڑ کر کسی کپڑے پر گر پڑی اور سب کے سو جانے کے بعد وہ بھڑک اٹھی۔ اور سب کے سب جل کر خاک ہوگئے۔
اس آیت کے آخر میں فرمایاۭذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ ، یعنی دین حق کے ساتھ اس تمسخر و استہزاء کی وجہ اس کے سوا نہیں ہو سکتی کہ یہ لوگ بےعقل ہیں۔
تفسیر مظہری میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بےعقل فرمایا ہے حالانکہ امور دنیا میں ان کی عقل و دانش مشہور و معروف ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسا ہوسکتا ہے کہ کوئی انسان ایک قسم کے کاموں میں ہوشیار عقلمند ہو مگر دوسری قسم میں یا وہ عقل سے کام نہیں لیتا یا اس کی عقل اس طرف چلتی نہیں، اس لئے اس میں بیوقوف لا یعقل ثابت ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے اسی مضمون کو دوسری آیت میں اس طرح بیان فرمایا ہے
(آیت) یعلمون ظاہرا تاہم غفلون، یعنی یہ لوگ دنیاوی زندگی کے سطحی امور کو تو خوب جانتے ہیں مگر انجام اور آخرت سے غافل ہیں۔
Ayah 5:59خلاصہ تفسیر
آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب تم ہم میں کیا عیب پاتے ہو بجز اس کے کہ ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور اس کتاب پر جو ہمارے پاس بھیجی گئی ہے (یعنی قرآن) اور اس کتاب پر (بھی) جو (ہم سے) پہلے بھیجی جا چکی ہے (یعنی تمہاری کتاب تورات و انجیل) باوجود اس کے کہ تم میں اکثر لوگ ایمان سے خارج ہیں (کہ نہ قرآن کا ایمان ہے جس کا خود ان کو بھی اقرار ہے اور نہ تورات و انجیل پر ایمان ہے، کیونکہ ان پر ایمان ہوتا تو ان میں رسول اللہ ﷺ اور قرآن پر ایمان لانے کی ہدایت موجود ہے اس پر بھی ضرور ایمان ہوتا، قرآن کا انکار اس پر شاہد ہے کہ تورات و انجیل پر بھی ان کا ایمان نہیں ہے۔ یہ حال تو تم لوگوں کا ہوا اور ہم اس کے برعکس سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ تو عیب ہم میں نہیں خود تم میں ہے غور کرو) اور آپ ﷺ (ان سے) کہہ دیجئے کہ (اگر اس پر بھی تم ہمارے طریقہ کو برا سمجھتے ہو تو آؤ) کیا میں (اچھے برے میں موازنہ کرنے کے لئے) تم کو ایسا طریقہ بتلاؤں جو (ہمارے) اس (طریقہ) سے بھی (جس کو تم برا سمجھ رہے ہو) خدا کے یہاں سزا ملنے میں زیادہ برا ہو، وہ ان اشخاص کا طریقہ ہے جن کو (اس طریقہ کی وجہ سے) اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے دور کردیا ہو اور ان پر غضب فرمایا ہو اور ان کو بندر اور سور بنادیا ہو اور انہوں نے شیطان کی پرستش کی ہو (اب دیکھ لو کہ ان میں کون سا طریقہ برا ہے، آیا وہ طریقہ جس میں غیر اللہ کی عبادت اور اس پر یہ وبال ہوں، یا وہ طریقہ جو سراسر توحید اور نبوت انبیاء کی تصدیق ہو۔ یقینا موازنہ یہی ہے کہ) ایسے اشخاص (جن کا طریقہ ابھی ذکر کیا گیا ہے آخرت میں) مکان کے اعتبار سے بھی (جو ان کو سزا کے طور پر ملے گا) بہت برے ہیں (کیونکہ یہ مکان دوزخ ہے) اور (دنیا میں) راہ راست سے بھی بہت دور ہیں (اشارہ یہ ہے کہ تم لوگ ہم پر ہنستے ہو، حالانکہ استہزاء کے قابل تمہارا طریقہ ہے کیونکہ یہ سب خصلتیں تم میں پائی جاتی ہیں، کہ یہود نے گو سالہ پرستی کی اور نصاریٰ نے حضرت مسیح ؑ کو خدا بنا لیا، پھر اپنے علماء و مشائخ کو خدائی کے اختیارات سپرد کر دئے، اسی لئے یہودیوں نے جب یوم سبت کے احکام کی خلاف ورزی کی تو اللہ کا عذاب آیا، وہ بندر بنا دیئے گئے، اور نصاریٰ کی درخواست پر آسمانی مائدہ نازل ہونے لگا۔ انہوں نے پھر بھی ناشکری کی تو ان کو بندر اور سور بنادیا گیا۔ آگے ان کی ایک خاص جماعت کا ذکر ہے جو منافق تھے کہ مسلمانوں کے سامنے اسلام کا اظہار کرتے تھے اور اندرونی طور پر یہودی ہی تھے) اور جب یہ (منافق) لوگ تم لوگوں کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں حالانکہ وہ کفر ہی کو لے کر (مسلمانوں کی مجلس میں) آئے تھے اور کفر ہی لے کر چلے گئے اور اللہ تعالیٰ تو خوب جانتے ہیں جس کو یہ (اپنے دل میں) چھپائے ہوئے ہیں (اس لئے ان کا نفاق اللہ تعالیٰ کے سامنے کام نہیں دے گا اور کفر کی بدترین سزا سے سابقہ پڑے گا)۔
معارف و مسائل
اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ. میں حق تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے خطاب میں سب کے بجائے اکثر کو خارج از ایمان فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو ہر حال میں مومن ہی رہے، جب تک رسول اللہ ﷺ کی بعثت نہیں ہوتی تھی وہ احکام تورات و انجیل کے تابع اور ان پر ایمان رکھتے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے اور قرآن نازل ہوا تو آپ ﷺ پر ایمان لائے اور عمل قرآن کے تابع کرنے لگے۔
Ayahs 5:60–61تبلیغ و دعوت میں مخاطب کی رعایت
یہاں قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ میں جو حال ایک مثال کے انداز میں ایسے لوگوں کا بیان کیا ہے جن پر اللہ کی لعنت و غضب ہے اس کے مصداق در حقیقت خود یہی مخاطب تھے۔ مقام اس کا تھا کہ ان پر ہی یہ الزام عائد کیا جاتا کہ تم ایسے ہو، مگر قرآن کریم نے طرز بیان بدل کر اس کو ایک مثال کی صورت دیدی۔ جس میں پیغمبرانہ دعوت کا ایک خاص اسلوب بتلایا گیا کہ عنوان بیان ایسا اختیار کرنا چاہئے جس سے مخاطب کو اشتعال پیدا نہ ہو۔
Ayah 5:62خلاصہ تفسیر
اور آپ ان (یہودیوں) میں بہت آدمی ایسے دیکھتے ہیں جو دوڑ دوڑ کر گناہ (یعنی جھوٹ) اور ظلم اور حرام (مال) کھانے پر گرتے ہیں واقعی ان کے یہ کام برے ہیں (یہ تو عوام کا حال تھا آگے خواص کا حال ہے کہ) ان کو مشائخ اور علماء گناہ کی بات کہنے سے (باوجود علم مسئلہ و اطلاع واقعہ کے) کیوں نہیں منع کرتے، واقعی ان کی یہ عادت بری ہے۔
معارف و مسائل
یہود کی اخلاقی تباہ حالی
آیت مذکورہ میں سے پہلی آیت میں اکثر یہود کی اخلاقی گراوٹ اور عملی بربادی کا ذکر ہے، تاکہ سننے والوں کو نصیحت ہو کہ ان افعال اور ان کے اسباب سے بچتے رہیں۔
اگرچہ عام طور پر یہودیوں کا یہی حال تھا لیکن ان میں کچھ اچھے لوگ بھی تھے۔ قرآن کریم نے ان کو مستثنیٰ کرنے کے لئے لفظ کثیراً استعمال فرمایا، اور ظلم وتعدی اور حرام خوری دونوں اگرچہ لفظ اثم یعنی گناہ کے مفہوم میں داخل ہیں۔ لیکن ان دونوں قسم کے گناہوں کی تباہ کاری اور ان کی وجہ سے پورے امن و اطمینان کی بربادی واضح کرنے کے لئے خصوصیت کے ساتھ ان کا ذکر علٰیحدہ کردیا (بحر محیط)۔
اور تفسیر روح المعانی وغیرہ میں ہے کہ ان لوگوں کے متعلق دوڑ دوڑ کر گناہوں پر گرنے کا عنوان اختیار کر کے قرآن کریم نے اس کی طرف اشارہ فرمایا، کہ یہ لوگ ان بری خصلتوں کے عادی مجرم ہیں۔ اور یہ برے اعمال ان کے ملکات راسخہ بن کر ان کی رگ و پے میں اس طرح پیوست ہوگئے ہیں کہ بلا ارادہ بھی یہ لوگ اسی طرف چلتے ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ نیک عمل ہو یا بد جب کوئی انسان اس کو بکثرت کرتا ہے تو رفتہ رفتہ وہ ایک ملکہ راسخہ اور عادت بن جاتی ہے۔ پھر اس کے کرنے میں اس کو کوئی مشقت اور تکلیف باقی نہیں رہتی، بری خصلتوں میں یہود اسی حد پر پہنچے ہوئے تھے۔ اس کو ظاہر کرنے کے لئے ارشاد فرمایايُسَارِعُوْنَ فِي الْاِثْمِ ، اور اسی طرح اچھی خصلتوں میں انبیاء و اولیاء کا حال ہے۔ ان کے بارے میں بھی قرآن کریم نے (آیت) یسارعون فی الخیرات کے الفاظ استعمال فرمائے۔
Ayah 5:63اصلاح اعمال کا طریقہ
اصلاح اعمال کا سب سے زیادہ اہتمام کرنے والے حضرات صوفیائے کرام اور اولیاء اللہ ہیں۔ ان حضرات نے انہی ارشادات قرآنیہ سے یہ اہم اصول اخذ کیا ہے کہ جتنے برے یا بھلے اعمال انسان کرتا ہے اصل میں ان کا اصل سرچشمہ وہ مخفی ملکات اور اخلاق ہوتے ہیں جو انسان کی طبیعت ثانیہ بن جاتے ہیں۔ اسی لئے برے اعمال اور جرائم کی روک تھام کے لئے ان کی نظر انہی مخفی ملکات پر ہوتی ہے اور ان کی اصلاح کردیتے ہیں تو تمام اعمال خود بخود درست ہونے لگتے ہیں۔ مثلاً کسی کے دل میں مال دنیا کی حرص کا غلبہ ہے، وہ اس کے نتیجہ میں رشوت بھی لیتا ہے سود بھی کھاتا ہے اور موقع ملے تو چوری اور ڈاکہ تک بھی نوبت پہنچ جاتی ہے۔ حضرات صوفیائے کرام ان جرائم کا الگ الگ علاج کرنے کے بجائے وہ نسخہ استعمال کرتے ہیں جس سے ان سب جرائم کی بنیاد منہدم ہوجائے، اور وہ ہے دنیا کی ناپائیداری اور اس کی عیش و عشرت کے زہر آلود ہونے کا استحضار۔
اسی طرح کسی کے دل میں تکبر، غرور ہے یا وہ غصہ میں مغلوب ہے اور دوسروں کی تحقیر و توہین کرتا ہے۔ دوستوں اور پڑوسیوں سے لڑتا ہے۔ یہ حضرات فکر آخرت اور خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کو مستحضر کرنے والا نسخہ استعمال کرتے ہیں۔ جن سے یہ اعمال بد خودبخود ختم ہوجاتے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس قرآنی اشارہ سے معلوم ہوا کہ انسان میں کچھ ملکات ہوتے ہیں جو طبیعت ثانیہ بن جاتے ہیں یہ ملکات خیر اور بھلائی کے ہیں تو نیک عمل خود بخود ہونے لگتے ہیں، اسی طرح ملکات برے ہیں تو برے اعمال کی طرف انسان خودبخود دوڑنے لگتا ہے، مکمل اصلاح کے لئے ان ملکات کی اصلاح ضروری ہے۔
علماء پر عوام کے اعمال کی ذمہ داری
دوسری آیت میں یہود کے مشائخ اور علماء کو اس پر سخت تنبیہ کی گئی کہ وہ ان لوگوں کو برے اعمال سے کیوں نہیں روکتے۔ قرآن میں اس جگہ دو لفظ استعمال کئے گئے ہیں، ایک ربٰنیون، جس کا ترجمہ ہے اللہ والے، یعنی عابد، زاہد، جن کو ہمارے عرف میں درویش یا پیر یا مشائخ کہا جاتا ہے۔ اور دوسرا لفظ احبار استعمال فرمایا، یہود کے علماء کو احبار کہا جاتا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اصل ذمہ داری ان دو طبقوں پر ہے ایک مشائخ، دوسرے علماء اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ ربانیون سے مراد وہ علماء ہیں جو حکومت کی طرف سے مامور اور بااقتدار ہوں اور احبار سے مراد عام علماء ہیں، اس صورت میں جرائم سے روکنے کی ذمہ داری حکام اور علماء دونوں پر عائد ہوجاتی ہے اور بعض دوسری آیات میں اس کی تصریح بھی ہے۔
علماء و مشائخ کیلئے تنبیہ
آخر آیت میں فرمایا لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ یعنی ان مشائخ و علماء کی یہ سخت بری عادت ہے کہ اپنا فرض منصبی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ بیٹھے، قوم کو ہلاکت کی طرف جاتا ہوا دیکھتے ہیں اور یہ ان کو نہیں روکتے۔
علماء مفسرین نے فرمایا کہ پہلی آیت جس میں عوام کی غلط کاریوں کا ذکر تھا، اس کے آخر میں تو لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ارشاد فرمایا گیا، وجہ یہ ہے کہ عربی لغت کے اعتبار سے لفظ فعل تو ہر کام کو شامل ہے۔ خواہ باقصد ہو یا بلا قصد اور لفظ عمل صرف اس کام کے لئے بولا جاتا ہے جو قصد و ارادہ سے کیا جائے، اور لفظ صنع اور صنعت کا ایسے کام کے لئے اطلاق کیا جاتا ہے جس میں قصد و اختیار بھی ہو اور اس کو بار بار بطور عادت اور مقصد کے درست کرکے کیا جائے، اس لئے عوام کی بدعملی کے نتیجہ میں تو صرف لفظ عمل اختیار فرمایا، ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ ، اس میں اس کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے کہ ان کے علماء و مشائخ کی یہ غلط روش کہ یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ اگر ہم ان کو منع کریں گے تو یہ ہمارا کہنا سنیں گے اور باز آجائیں گے، پھر بھی ان لوگوں کے نذرانوں کے لالچ یا بداعتقاد ہوجانے کے خوف سے ان کے دلوں میں حمایت حق کا کوئی داعیہ پیدا نہیں ہوتا، یہ ان بدکاروں کے اعمال بد سے زیادہ اشد ہے۔
جس کا حاصل یہ ہوا کہ جس قوم کے لوگ جرائم اور گناہوں میں مبتلا ہوں گے اور ان کے مشائخ و علماء کو یہ بھی اندازا ہو کہ ہم ان کو روکیں گے تو یہ باز آجائیں گے، ایسے حالات میں اگر یہ کسی لالچ یا خوف کی وجہ سے ان جرائم اور گناہوں کو نہیں روکتے تو ان کا جرم اصل مجرموں، بدکاروں کے جرم سے بھی زیادہ اشد ہے، اس لئے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ مشائخ و علماء کے لئے پورے قرآن میں اس آیت سے زیادہ سخت تنبیہ کہیں نہیں، اور امام تفسیر ضحاک نے فرمایا کہ میرے نزدیک مشائخ علماء کے لئے یہ آیت سب سے زیادہ خوفناک ہے (ابن جریر و ابن کثیر)
وجہ یہ ہے کہ اس آیت کی رو سے ان کا جرم تمام چوروں، ڈاکوؤں اور ہر طرح کے بدکاروں کے جرم سے بھی زیادہ سخت ہوجاتا ہے (العیاذ باللہ) مگر یاد رہے کہ یہ شدت اور وعید اسی صورت میں ہیں جبکہ مشائخ وعلماء کو اندازہ بھی ہو کہ ان کی بات سنی اور مانی جائے گی اور جس جگہ قرائن یا تجربہ سے یہ گمان غالب ہو کہ کوئی سنے گا نہیں، بلکہ اس کے مقابلہ میں ان کو ایذائیں دی جائیں گی تو وہاں حکم یہ ہے کہ ان کی ذمہ داری تو ساقط ہوجاتی ہے۔ لیکن افضل و اعلیٰ پھر بھی یہی رہتا ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے یہ حضرات اپنا فرض ادا کریں، اور اس میں کسی کی ملامت یا ایذاء کی فکر نہ کریں۔ جیسا کہ چند آیات میں پہلے اللہ تعالیٰ کے مقبول مجاہدین کی صفات میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ولا یخافون لومة لٓآئم، یعنی یہ لوگ اللہ کے راستہ میں اور حق ظاہر کرنے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جس جگہ بات سننے اور ماننے کا احتمال غالب ہو وہاں مشائخ وعلماء پر بلکہ ہر مسلمان پر جس کو اس کام کا جرم و گناہ ہونا معلوم ہو فرض ہے، کہ گناہ کو روکنے اور منع کرنے میں مقدرور بھر کوشش کرے، خواہ ہاتھ سے یا زبان سے، یا کم از کم اپنے دل کی نفرت اور اعراض سے اور جس جگہ غالب گمان یہ ہو کہ اس کی بات نہ سنی جائے گی، یا یہ کہ اس کے خلاف دشمنی بھڑک اٹھے گی تو ایسی حالت میں منع کرنا اور روکنا فرض تو نہیں رہتا، مگر افضل واعلیٰ بہرحال ہے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکے متعلق یہ تفصیلات صحیح احادیث سے مستفاد ہیں، خود نیک عمل اختیار کرنے اور برے اعمال سے بچنے کے ساتھ دوسروں کو بھی نیکی کی طرف ہدایت اور برائی سے روکنے کا فریضہ عام مسلمانوں پر اور بالخصوص علماء و مشائخ پر ڈال کر اسلام نے دنیا میں امن و اطمینان پیدا کرنے کا ایک ایسا زریں اصول بنادیا ہے کہ اس پر عمل ہونے لگے تو پوری قوم بہت آسانی کے ساتھ تمام برائیوں سے پاک ہو سکتی ہے۔
اصلاح امت کا طریقہ
اسلام کے قرون اولیٰ میں اور قرون ما بعد میں بھی جب تک اس پر عمل ہوتا رہا مسلمانوں کی پوری قوم علم و عمل، اخلاق و کردار کے اعتبار سے پوری دنیا میں سربلند اور ممتاز رہی، اور جب سے مسلمانوں نے اس فریضہ کو نظر انداز کردیا، اور جرائم کی روک تھام کو صرف حکومت اور اس کی پولیس کا فرض سمجھ کر خود اس سے علٰحدہ ہو بیٹھے تو اس کا نتیجہ وہی ہوا جو آج ہر جگہ سامنے ہے کہ ماں، باپ اور پورا خاندان دیندار اور پابند شریعت ہے مگر اولاد اور متعلقین اس کے برعکس ہیں۔ ان کا نظری اور فکری رخ بھی اور ہے اور عملی طریقے بھی جداگانہ ہیں، اسی لئے ملّت کی اجتماعی اصلاح کے لئے قرآن و حدیث میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر خاص طور سے زور دیا گیا ہے۔ قرآن نے اس کام کو امت محمدیہ ﷺ کی خصوصیات میں شمار فرمایا ہے۔ اور اس کی خلاف ورزی کرنے کو سخت گناہ اور موجب عذاب قرار دیا ہے۔ حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب کسی قوم میں گناہ کے کام کئے جائیں اور کوئی آدمی اس قوم میں رہتا ہے اور ان کو منع نہیں کرتا تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں پر عذاب بھیج دے (بحر محیط)۔
گناہوں پر اظہار نفرت نہ کرنے پر وعید
مالک بن دینار رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ فلاں بستی کو تباہ کردو، فرشتوں نے عرض کیا اس بستی میں تو آپ کا فلاں عبادت گزار بندہ بھی ہے، حکم ہوا کہ اس کو بھی عذاب چکھاؤ، کیونکہ ہماری نافرمانیوں اور گناہوں کو دیکھ کر اس کو بھی غصہ نہیں آیا۔ اور اس کا چہرہ غصہ سے کبھی متغیر نہیں ہوا۔
حضرت یوشع ابن نون ؑ پر اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ آپ کی قوم کے ایک لاکھ آدمی عذاب سے ہلاک کئے جائیں گے، جن میں چالیس ہزار نیک لوگ ہیں اور ساٹھ ہزار بدعمل۔ حضرت یوشع ؑ نے عرض کیا کہ رب العالمین بدکرداروں کی ہلاکت کی وجہ تو ظاہر ہے، لیکن نیک لوگوں کو کیوں ہلاک کیا جا رہا ہے ؟ تو ارشاد ہوا کہ یہ نیک لوگ بھی ان بدکرداروں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے تھے۔ ان کے ساتھ کھانے پینے اور ہنسی دل لگی کے شریک رہتے تھے، میری نافرمانیاں اور گناہ دیکھ کر کبھی ان کے چہروں پر کوئی ناگواری کا اثر تک نہ آیا (یہ سب روایات بحر محیط سے منقول ہیں)۔
Ayahs 5:64–65ربط آیات
گزشتہ آیات میں یہود کے بعض احوال کا ذکر تھا، آگے ان آیات سے بھی مزید بعض خاص حالات بیان کئے گئے ہیں، جن کا قصہ یہ ہوا کہ نباش بن قیس، اور فخاص رئیس یہود قینقاع نے حق تعالیٰ کی جناب میں گستاخانہ الفاظ بخل وغیرہ کے کہے، جس کا بیان آگے آتا ہے، اس پر اگلی آیت نازل ہوئی، کذا فی اللباب بروایة الطبرانی عن ابن عباس وبروایة ابی الشیخ عنہ
خلاصہ تفسیر
اور یہود نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بند ہوگیا ہے (یعنی نعوذ باللہ بخل کرنے لگا ہے، درحقیقت) انہی کے ہاتھ بند ہیں (یعنی واقع میں خود عیب بخل میں مبتلا ہیں، اور خدا پر عیب دھرتے ہیں) اور اپنے اس کہنے سے یہ رحمت (الٓہی) سے دور کر دئیے گئے، (جس کا اثر دنیا میں ذلت اور قید اور قتل وغیرہ ہوا، اور آخرت میں عذاب جہنم، اور حاشا وکلا کہ خدا تعالیٰ میں اس کا احتمال بھی ہو) بلکہ ان کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں (یعنی بڑے جواد و کریم ہیں، لیکن چونکہ حکیم بھی ہیں اس لئے) جس طرح چاہتے ہیں خرچ کرتے ہیں (پس یہود پر جو تنگی ہوئی اس کی علت حکمت ہے کہ ان کے کفر کا وبال ان کو چکھانا مقصود ہے نہ کہ بخل اس کی علت ہو) اور (یہود کے کفر اور سرکشی کی یہ حالت ہے کہ ان کو یہ توفیق نہ ہوگی کہ مثلاً اپنے قول کا بطلان بدلیل سن لیا تو اس سے توبہ کرلیں، نہیں بلکہ) جو مضمون آپ ﷺ کے پاس آپ ﷺ کے پروردگار کی طرف سے بھیجا جاتا ہے، وہ ان میں سے بہتوں کی سرکشی اور کفر کی ترقی کا سبب ہوجاتا ہے (اس طرح سے کہ وہ اس کا بھی انکار کرتے ہیں، تو کچھ تو پہلا طغیان اور کفر تھا پھر اور بڑھ گیا) اور (ان کے کفر سے جو ان پر لعنت یعنی رحمت سے دوری واقع کی گئی ہے اس کے آثار دنیویہ میں سے ایک یہ ہے کہ) ہم نے ان میں باہم (دین کے باب میں) قیامت تک عداوت اور بغض ڈال دیا (چنانچہ ان میں مختلف فرقے ہیں، اور ہر فرقہ دوسرے کا دشمن، چناچہ باہمی عداوت و بغض کی وجہ سے) جب کبھی (مسلمانوں کے ساتھ) لڑائی کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں (یعنی لڑنے کا ارادہ کرتے ہیں) حق تعالیٰ اس کو فرد کردیتے ہیں، (اور بجھا دیتے ہیں، یعنی مرعوب ہوجاتے ہیں، یا لڑ کر مغلوب ہوجاتے ہیں، یا آپس کے اختلاف کی وجہ سے اتفاق کی نوبت نہیں آتی) اور (جب لڑائی سے وہ جاتے ہیں تو اپنی عداوت دوسری طرح نکالتے ہیں کہ) ملک میں (خفیہ) فساد کرتے پھرتے ہیں (جیسے نو مسلموں کو بہکانا، لگائی بجھائی کرنا، عوام کو توریت کے محرف مضامین سنا کر اسلام سے روکنا) اور اللہ تعالیٰ (چونکہ) فساد کرنے والوں کو محبوب نہیں رکھتے (یعنی مبغوض رکھتے ہیں، اس لئے اس فساد کی ان کو خوب سزا ہوگی خواہ دنیا میں بھی ورنہ آخرت میں تو ضرور) اور اگر یہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ جن امور حقہ کے منکر ہیں، جیسے رسالت محمدیہ ﷺ و حقیت قرآن ان سب پر) ایمان لے آتے اور (رسول اللہ ﷺ کے واسطہ سے جن امور کو کفر و معصیت ہونا بتلایا گیا ہے ان سب سے) تقویٰ (یعنی پرہیز) اختیار کرتے تو ہم ضرور ان کی تمام (گزشتہ) برائیاں (کفر اور شرک اور معاصی جن میں سب اقوال و احوال آگئے) معاف کردیتے اور (معاف کرکے) ضرور ان کو چین (اور آرام) کے باغوں میں (یعنی بہشت میں) داخل کرتے (تو یہ برکات اخرویہ ہوئیں) اور اگر یہ لوگ (ایمان اور تقویٰ مذکور اختیار کرتے جس کو بعنوان دیگر یوں کہا جاتا ہے کہ) توریت کی اور انجیل کی اور جو کتاب ان کے پروردگار کی طرف سے (اب) ان کے پاس (بواسطہ رسول اللہ ﷺ کے) بھیجی گئی (یعنی قرآن) اس کی پوری پابندی کرتے (یعنی ان میں جس جس بات پر عمل کرنے کو لکھا ہے سب پر پورا عمل کرتے، اس میں تصدیق رسالت بھی آگئی، اور اس سے احکام محرفہ و منسوخہ نکل گئے، کیونکہ ان کتب کا مجموعہ ان پر عمل کرنے کو نہیں بتلاتا بلکہ منع کرتا ہے) تو یہ لوگ (بوجہ اس کے کہ) اوپر سے (یعنی آسمان سے پانی برستا) اور نیچے سے (یعنی زمین سے پیداوار ہوتی) خوب فراغت سے کھاتے (برتتے، یہ ایمان کی برکات دینویہ کا ذکر ہوا، لیکن کفر پر مصر رہے، اس لئے تنگی میں پکڑے گئے، جس پر بعض نے حق تعالیٰ کی شان میں بخل کی نسبت کرکے گستاخی کی، مگر پھر بھی سب یہود و نصاریٰ برابر نہیں، چنانچہ) ان (ہی) میں ایک جماعت راہ راست پر چلنے والی (بھی) ہے (جیسے یہود میں حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی، اور نصاریٰ میں حضرت نجاشی اور ان کے ساتھی، لیکن ایسے قلیل ہی ہیں) اور (باقی) زیادہ ان میں ایسے ہی ہیں کہ ان کے کردار بہت برے ہیں (کیونکہ کفر وعناد سے بدتر کیا کردار ہوگا) اے رسول ﷺ جو کچھ آپ ﷺ کے رب کی جانب سے آپ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے آپ (لوگوں کو) سب پہنچا دیجئے اور اگر (بفرض محال) آپ ﷺ ایسا نہ کریں گے تو (ایسا سمجھا جاوے گا جیسے) آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام بھی نہیں پہنچایا (کیونکہ یہ مجموعہ فرض ہے، تو جیسا کل کے اخفاء سے یہ فرض فوت ہوتا ہے اس طرح بعض کے اخفاء سے بھی وہ فرض فوت ہوتا ہے) اور (تبلیغ کے باب میں کفار کا کچھ خوف نہ کیجئے، کیونکہ) اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو لوگوں سے (یعنی اس سے کہ آپ ﷺ کے مقابل ہو کر قتل و ہلاک کر ڈالیں) محفوظ رکھے گا (اور) یقینا اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو (اس طرح قتل و ہلاک کر ڈالنے کے واسطے آپ ﷺ تک) راہ نہ دیں گے۔
معارف و مسائل
یہود کی ایک گستاخی کا جواب
قولہ تعالیٰ وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ يَدُاللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ، اس آیت میں یہود کا ایک سنگین جرم اور ایک بدترین کلمہ یہ ذکر کیا گیا کہ وہ کم بخت یہ کہنے لگے کہ (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ تنگ دست ہوگیا۔
واقعہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے یہودیوں کو مال دار صاحب وسعت بنایا تھا، مگر جب رسول کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے، اور آپ ﷺ کی دعوت ان کو پہنچی، تو ان ظالموں نے اپنی قومی چودھراہٹ اور اپنی جاہل رسوم سے حاصل ہونے والے نذرانوں کی خاطر اس دعوت حق سے روگردانی اور رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی تو اس کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے ان پر دنیا بھی تنگ کردی یہ تنگ دست ہوگئے، اس پر ان نالائقوں کی زبان سے ایسے کلمات نکلنے لگے کہ (معاذ اللہ) خدائی خزانہ میں کمی آگئی یا اللہ تعالیٰ نے بخل اختیار کرلیا، اس کے جواب میں اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ ہاتھ تو انہی کہنے والوں کے بندھیں گے، اور ان پر لعنت ہوگی، جس کا اثر آخرت میں عذاب اور دنیا میں ذلت و رسوائی کی صورت میں نمودار ہوگا، اللہ تعالیٰ کے ہاتھ تو ہمیشہ کھلے ہوئے ہیں، اس کی جودو سخا ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گی، مگر جس طرح وہ غنی اور صاحب وسعت ہیں اسی طرح حکیم بھی ہیں، حکمت کے ساتھ اس کے تقاضہ کے مطابق خرچ فرماتے ہیں، جس پر مناسب سمجھتے ہیں وسعت فرماتے ہیں اور جس پر مناسب سمجھتے ہیں تنگی اور تنگدستی مسلط فرما دیتے ہیں۔
پھر فرمایا کہ یہ سرکش لوگ ہیں آپ ﷺ پر جو قرآنی بینات اترتی ہیں ان سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ان کا کفر و انکار اور سخت ہوتا جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے شر سے بچانے کے لئے خود ان کے فرقوں میں اختلاف شدید ڈال دیا ہے، جس کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف نہ ان کو کھلی جنگ کرنے کا حوصلہ ہوسکتا ہے اور نہ اس کی کوئی سازش چل سکتی ہےكُلَّمَآ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّـلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ میں ظاہر جنگ کی ناکامی اور ۙوَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا میں خفیہ سازشوں کی ناکامی کا ذکر ہے۔
احکام الہٰیہ پر پورا عمل دنیا میں بھی برکات کا سبب ہے
آیت نمبر 64 میں یہود کو ہدایت دی گئی کہ تورات اور انجیل کی ہدایات اور انبیاء (علیہم السلام) کے ارشادات سے ان لوگوں نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا، حرص دنیا میں مبتلا ہو کر سب کو بھلا بیٹھے۔ جس کے نتیجہ میں دنیا میں بھی تنگدستی کا شکار ہوئے، لیکن اگر اب بھی یہ لوگ ایمان اور خدا ترسی کے طریقہ کو اختیار کرلیں تو ہم ان کی سب پچھلی خطائیں معاف کردیں، اور ان کو نعمتوں سے بھرے ہوئے باغات عطاء کردیں۔
Ayah 5:66احکام الٰہیہ پر پورا عمل کس طرح ہوتا ہے
(قولہ تعالیٰ) وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ ، اس آیت میں اسی ایمان اور تقویٰ کی کچھ تفصیل مذکور ہے، جس پر دنیوی برکات آرام و راحت کا وعدہ پچھلی آیت میں کیا گیا ہے، اور تفصیل یہ ہے کہ تورات و انجیل اور ان کے بعد جو آخری کتاب قرآن بھیجی گئی اس کو قائم کریں، یہاں عمل کرنے کے بجائے لفظ ”اقامت“ یعنی قائم کرنے کا لایا گیا، مراد یہ ہے کہ ان کی تعلیمات پر پورا پورا صحیح عمل جب ہوگا کہ نہ اس میں کوتاہی اور کمی ہو اور نہ زیادتی، جس طرح کسی عمود کو قائم اسی وقت کہا جاسکتا ہے جب وہ کسی طرف مائل نہ ہو، سیدھا کھڑا ہو
اس کا حاصل یہ ہوا کہ یہود اگر آج بھی تورات و انجیل اور قرآن کریم کی ہدایات پر ایمان لے آئیں، اور ان پر پورا پورا عمل مطابق ہدایات کے کریں، نہ عملی کوتاہی میں مبتلا ہوں نہ غلو اور تعدی میں، کہ خود ساختہ چیزوں کو دین قرار دیدیں، تو آخرت کی موعودہ نعمتوں کے مستحق ہوں گے، اور دنیا میں بھی ان پر رزق کے دروازے اس طرح کھول دیئے جائیں گے، کہ اوپر سے رزق برسے گا اور نیچے سے ابلے گا، نیچے اوپر سے مراد بظاہر یہ ہے کہ آسانی کے ساتھ مسلسل رزق عطا ہوگا (تفسیر کبیر)۔
اوپر کی آیت میں تو صرف آخرت کی نعمتوں کا وعدہ تھا، اس آیت میں دنیاوی آرام و راحت کا وعدہ بھی بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا گیا، اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ یہود کی بدعملی اور احکام توریت و انجیل میں تحریف و تاویل اور توڑ مروڑ کی بڑی وجہ ان کی دنیا پرستی اور حرص مال تھی، اور یہ وہ آفت تھی جس نے ان کو قرآن کریم اور رسول کریم ﷺ کی آیات بینات دیکھنے کے باوجود ان کی اطاعت سے روکا ہوا تھا، ان کو خطرہ یہ تھا کہ اگر ہم مسلمان ہوجائیں گے تو ہماری یہ چودھراہٹ ختم ہوجائے گی، اور دینی پیشوا ہونے کی حیثیت سے جو نذرانے اور ہدایا ملتے ہیں ان کا سلسلہ بند ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس وسوسہ کو دور کرنے کے لئے یہ بھی وعدہ فرما لیا کہ اگر وہ سچے طور پر ایمان اور عمل صالح اختیار کرلیں تو ان کی دنیوی دولت و راحت میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی بلکہ زیادتی ہوجائے گی۔
ایک شبہ کا جواب
اس تفصیل سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ خاص وعدہ ان یہودیوں کے ساتھ کیا گیا تھا جو آنحضرت ﷺ کے عہد میں موجود اور آپ کے مخاطب تھے۔ وہ اگر ان احکام کو مان لیتے تو دنیا میں بھی ان کو ہر طرح کی نعمت و راحت دے دی جاتی۔ چناچہ اس وقت جن حضرات نے ایمان اور عمل صالح اختیار کرلیا ان کو یہ نعمتیں پوری ملیں جیسے نجاشی سلطان حبشہ اور عبداللہ بن سلام ؓ ، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جب کوئی ایمان و عمل صالح کا پابند ہوجائے تو دنیا میں اس کے لئے رزق کی وسعت ضروری ہوگی، اور جو نہ ہو تو اس کے لئے رزق کی تنگی ضروری ہوگی۔ کیونکہ یہاں کوئی عام قاعدہ ضابطہ بیان فرمانا مقصود نہیں، ایک خاص جماعت سے خاص حالات میں وعدہ کیا گیا ہے۔
البتہ ایمان اور عمل صالح پر عام قاعدہ اور ضابطہ کی صورت سے حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی عطا ہونے کا وعدہ عام ہے۔ مگر وہ وسعت رزق کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے اور ظاہری تنگدستی کی صورت میں بھی جیسا کہ انبیاء و اولیاء (علیہم السلام) کے حالات اس پر شاہد ہیں کہ سب کو ہمیشہ وسعت رزق تو نہیں ملی لیکن پاکیزہ زندگی سب کو عطا ہوئی۔
آخر آیت میں بتقاضائے عدل و انصاف یہ بھی فرما دیا کہ جو کجروی اور بدعملی یہود کی بیان کی گئی ہے یہ سب یہود کا حال نہیں، بلکہ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۭ، ان میں ایک تھوڑی سی جماعت راہ راست پر بھی ہے، لیکن ان کی اکثریت بدکار، بد عمل ہے، راہ راست پر ہونے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو پہلے یہودی یا نصرانی تھے، پھر قرآن کریم اور رسول کریم ﷺ پر ایمان لے آئے۔ ان دونوں آیتوں میں اور ان سے پہلے مسلسل دو رکوع میں یہود و نصاریٰ کی کجروی وبے راہی اور ضد وہٹ دھرمی اور مخالف اسلام سازشوں کا ذکر چلا آرہا تھا۔