Ayahs 5:82–86ربط آیات
اوپر یہود کا مشرکین سے دوستی رکھنا مذکور تھا، آگے ان کا مع مشرکین کے مسلمانوں سے عداوت رکھنا مذکور ہے جو اس دوستی کا اصلی سبب تھا اور چونکہ ہر معاملہ ایک درجہ میں شمار نہیں کیا، جس میں کوئی بڑا داعی ہے اس لئے یہود و نصاریٰ میں بھی سب کو ایک درجہ میں شمار نہیں کیا۔ جس میں کوئی خوبی تھی اس کا بھی اظہار کیا گیا، مثلاً نصاریٰ کی ایک خاص جماعت میں یہ بسنت ان یہود کے تعصب کا کم ہونا۔ اور ان نصاریٰ میں جنہوں نے حق قبول کرلیا تھا ان کا مستحق حسن ثناء و حسن جزا ہونا مذکور ہے۔ اور یہ خاص جماعت حبشہ کے نصاریٰ کی ہے، جنہوں نے مسلمانوں کو جبکہ ہجرت مدینہ کے قبل اور وہ اپنا وطن مکہ چھوڑ کر حبشہ چلے گئے تھے۔ کچھ تکلیف نہیں دی اور جو اور نصرانی ایسا ہی ہو وہ بھی حکما انہی میں داخل ہے اپنا وطن مکہ چھوڑ کر حبشہ چلے گئے تھے۔ کچھ تکلیف نہیں دی اور جو اور نصرانی ایسا ہی ہو وہ بھی حکماً انہیں میں داخل ہے اور ان میں سے جنہوں نے حق قبول کرلیا تھا وہ نجاشی بادشاہ اور ان کے مصاحب ہیں کہ حبشہ میں بھی قرآن سن کر روئے اور مسلمان ہوگئے۔ پھر تیس آدمی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قرآن سن کر رو دیے اور اسلام قبول کیا، یہی اس آیت کا شان نزول ہے۔
خلاصہ تفسیر
(غیر مؤمنین میں) تمام آدمیوں سے زیادہ مسلمانوں سے عداوت رکھنے والے آپ ﷺ ان یہود اور ان مشرکین کو پاویں گے اور ان (غیر مومن آدمیوں) میں مسلمانوں کے ساتھ دوستی رکھنے کے قریب تر (بہ نسبت اوروں کے) ان لوگوں کو پائیں گے جو اپنے کو نصاریٰ کہتے ہیں (قریب تر کا یہ مطلب ہے کہ دوست تو وہ بھی نہیں، مگر دوسرے کفار مذکورین سے غنیمت ہیں) یہ (دوستی سے قریب تر ہونا اور عداوت میں کم ہونا) اس سبب سے ہے کہ ان (نصاریٰ) میں بہت سے علم دوست عالم ہیں، اور بہت سے تارک دنیا درویش ہیں، (اور جب کسی قوم میں ایسے لوگ بکثرت ہوتے ہیں تو عوام میں بھی حق کے ساتھ زیادہ عناد نہیں رہتا، اگرچہ خواص و عوام حق کو قبول بھی نہ کریں) اور اس سبب سے ہے کہ یہ (نصاریٰ) لوگ متکبر نہیں ہیں (قسیسین و رہبان سے جلدی متاثر ہوجاتے ہیں، اور نیز تواضع کا خاصہ ہے امر حق کے سامنے نرم ہوجانا اس لئے ان کو عداوت زیادہ نہیں، پس قسیسین و رہبان یعنی علماء و مشائخ کا وجود اشارہ ہے علت فاعلہ کی طرف اور عدم استکبار قابلیت کی طرف، بخلاف یہود و مشرکین کے کہ محب دنیا اور متکبر ہیں، اور گو یہود میں بھی بعض علماء حقانی تھے جو مسلمان ہوگئے تھے، لیکن بوجہ ان کی قلت کے عوام میں اثر نہیں پہنچتا تھا، اس لئے ان میں عناد ہے۔ جو سبب ہوجاتا ہے شدت عداوت کا، اسی لئے یہود تو مومن ہی کم ہوئے اور مشرکین میں سے جب عناد نکل گیا تب مومن ہونا شروع ہوئے) اور (بعضے ان میں جو کہ آخر میں مسلمان ہوگئے تھے ایسے ہیں کہ) جب وہ اس (کلام) کو سنتے ہیں جو کہ رسول ﷺ کی طرف بھیجا گیا ہے (یعنی قرآن) تو آپ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہتی ہوئی دیکھتے ہیں، اس سبب سے کہ انہوں نے (دین) حق (یعنی اسلام) کو پہچان لیا (مطلب یہ کہ حق کو سن کر متاثر ہوتے ہیں اور) یوں کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم مسلمان ہوگئے تو ہم کو بھی ان لوگوں کے ساتھ لکھ لیجئے (یعنی ان میں شمار کرلیجئے) جو (محمد ﷺ اور قرآن کے حق ہونے کی) تصدیق کرتے ہیں اور ہمارے پاس کونسا عذر ہے کہ اللہ تعالیٰ پر (حسب تعلیم شریعت محمد ﷺ اور جو (دین) حق ہم کو (اب) پہنچا ہے اس پر ایمان نہ لاویں اور (پھر) اس بات کی امید (بھی) رکھیں کہ ہمارا رب ہم کو نیک (مقبول) لوگوں کی معیّت میں داخل کر دے گا، (بلکہ یہ امید موقوف اسلام پر ہے، اس لئے مسلمان ہونا ضروری ہے) سو ان (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ ان کے (اس) قول (مع الاعتقاد) کی پاداش میں ایسے باغ (بہشت کے) دیں گے جن کے (محلات کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی (اور) یہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے، اور نیکوکاروں کی یہی جزا ہے، اور (برخلاف ان کے) جو لوگ کافر رہے اور ہماری آیات (و احکام) کو جھوٹا کہتے رہے وہ لوگ دوزخ (میں رہنے) والے ہیں۔
معارف و مسائل
بعض اہل کتاب کی حق پرستی
ان آیات میں مسلمانوں کے ساتھ عداوت یا مودّت کے معیار سے ان اہل کتاب کا ذکر فرمایا گیا ہے جو اپنی حق پرستی اور خدا ترسی کی وجہ سے مسلمانوں سے بغض و عداوت نہیں رکھتے تھے۔ مگر ان اوصاف کے لوگ یہود میں بہت کم، کالعدم تھے۔ جیسے حضرت عبداللہ ابن سلام وغیرہ۔ نصاریٰ میں نسبتاً ایسے لوگوں کی تعداد زیادہ تھی، خصوصاً آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک میں ملک حبشہ کا بادشاہ نجاشی اور وہاں کے حکام و عوام میں ایسے لوگوں کی بڑی تعداد تھی اور اسی سبب سے جب مکہ مکرمہ کے مسلمان قریش کے مظالم سے تنگ آگئے تو رسول کریم ﷺ نے ان کو حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کا مشورہ دیا، اور فرمایا کہ میں نے سنا ہے کہ حبشہ کا بادشاہ خود ظلم کرتا ہے نہ کسی کو کسی پر ظلم کرنے دیتا ہے، اس لئے مسلمان کچھ عرصہ کے لئے وہاں چلے جائیں۔
اس مشورہ پر عمل کرتے ہوئے پہلی مرتبہ گیارہ حضرات حبشہ کی طرف نکلے، جن میں حضرت عثمان غنی رضٰ اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کی زوجہ محترمہ رسول کریم ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہ ؓ بھی شامل تھیں، اس کے بعد حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ کی سر کردگی میں مسلمانوں کا ایک بڑا قافلہ جو عورتوں کے علاوہ بیاسی مردوں پر مشتمل تھا، حبشہ پہنچ گیا، شاہ حبشہ اور وہاں کے باشندوں نے ان کا شریفانہ استقبال کیا، اور یہ لوگ امن و عافیت سے وہاں رہنے لگے۔
قریش مکہ کے غیظ و غضب نے ان کو اس پر بھی نہ رہنے دیا، کہ یہ لوگ کسی دوسرے ملک میں اپنی زندگی عافیت سے گزار لیں، انہوں نے اپنا ایک وفد بہت سے تحفے دے کر شاہ حبشہ کے پاس روانہ کیا، اور یہ درخواست کی کہ ان مسلمانوں کو اپنے ملک سے نکال دیں، مگر شاہ حبشہ نے حالات کی تحقیق کی، اور حضرت جعفر ابی طالب ؓ اور ان کے رفقاء سے اسلام اور پیغمبر اسلام کے حالات معلوم کئے، ان حالات اور اسلام کی تعلیمات کو حضرت عیسیٰ ؑ اور انجیل کی پیشینگوئی کے عین مطابق پایا، جس میں حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی بعثت کا ذکر اور ان کی تعلیمات کا مختصر خاکہ، اور ان کا اور ان کے صحابہ کا حلیہ وغیرہ مذکور تھا، اس سے متاثر ہو کر شاہ حبشہ نے قریشی وفد کے ہدئیے، تحفے واپس کردیئے اور ان کو صاف جواب دے دیا کہ میں ایسے لوگوں کو اپنے ملک سے نکلنے کا کبھی حکم نہیں دے سکتا۔
حضرت جعفر بن ابی طالب کی تقریرکا شاہ حبشہ پر اثر !
حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے نجاشی کے دربار میں اسلام اور اس کی تعلیمات کا ایک مختصر مگر جامع خاکہ کھینچ دیا تھا، اور پھر ان حضرات کے قیام نے نہ صرف اس کے دل میں بلکہ وہاں کے حکام و عوام سب کے دل میں اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی سچی محبت و عظمت پیدا کردی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب رسول کریم ﷺ نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمائی، اور وہاں آپ ﷺ کا اور صحابہ کرام کا مطمئن ہوجانا معلوم ہوا اور مہاجرین حبشہ نے مدینہ طیبہ جانے کا عزم کیا تو نجاشی شاہ حبشہ نے ان کے ساتھ اپنے ہم مذہب نصاریٰ کے بڑے بڑے علماء مشائخ کا ایک وفد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بھیجا، جو ستر آدمیوں پر مشتمل تھا، جن میں باسٹھ حضرات حبشہ کے اور آٹھ شام کے تھے۔
شاہ حبشہ کے وفد کی درگاہ رسالت ﷺ میں حاضری
یہ وفد رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ایک درویشانہ اور راہبانہ لباس میں ملبوس حاضر ہوا، رسول اللہ ﷺ نے ان کو سورة یسین پڑھ کر سنائی، یہ لوگ سنتے جاتے تھے، اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، سب نے کہا کہ یہ کلام اس کلام کے کتنا مشابہ ہے جو حضرت عیسیٰ ؑ پر نازل ہوتا تھا، اور یہ سب کے سب مسلمان ہوگئے۔
ان کی واپسی کے بعد حبشہ نجاشی نے بھی اسلام کا اعلان کردیا، اور اپنا ایک خط دے کر اپنے صاحبزادے کو ایک دوسرے وفد کا قائد بنا کر بھیجا، مگر سوء اتفاق سے یہ کشتی دریا میں غرق ہوگئی، الغرض حبشہ کا بادشاہ اور حکام و عوام نے اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ نہ صرف شریفانہ اور عادلانہ سلوک کیا بلکہ بالآخر خود بھی مسلمان ہوگئے۔
جمہور مفسرین نے فرمایا کہ آیات متذکرہ انہی حضرات کے بارے میں نازل ہوئیں ہیںوَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰى، اور بعد کی آیات میں ان کا خوف حق تعالیٰ سے رونا اور حق کو قبول کرنا بیان فرمایا گیا ہے، اس پر بھی جمہور مفسرین کا اتفاق ہے کہ اگرچہ یہ آیات نجاشی اور اس کے بھیجے ہوئے وفد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں لیکن الفاظ میں عموم ہے اس لئے اس کا حکم ان تمام نصاریٰ کے لئے عام اور شامل ہے جو اہل حبشہ کی طرح حق پرست اور انصاف پسند ہوں، یعنی اسلام سے پہلے انجیل کے متبع تھے، اور اسلام آنے کے بعد اسلام کے پیرو ہوگئے۔
یہود میں بھی اگرچہ چند حضرات اسی شان کے موجود تھے جو عہد موسوی میں تورات پر عامل رہے، پھر اسلام آنے کے بعد اسلام کے حلقہ بگوش ہوگئے، لیکن یہ اتنی کم تعداد تھی کہ امتوں اور قوموں کے ذکر کے وقت اس کا ذکر نہیں کیا جاسکتا ہے، باقی یہود کا حال کھلا ہوا تھا، کہ وہ مسلمانوں کی عداوت اور بنچ کنی میں سب سے آگے تھے، اسی لئے صدر آیت میں یہود کا یہ حال ذکر فرمایا۔
لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَھُوْدَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا، یعنی مسلمانوں کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود ہیں۔
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ اس آیت میں نصاریٰ کی ایک خاص جماعت کی مدح فرمائی گئی ہے جو خدا ترسی اور حق پرستی کی حامل تھی، اس میں نجاشی اور اس کے اعوان و انصار بھی داخل ہیں اور دوسرے نصاریٰ بھی جو ان صفات کے حامل تھے، یا آئندہ زمانہ میں داخل ہوں، لیکن اس کے یہ معنی نہ آیات سے نکلتے ہیں اور نہ ہو سکتے ہیں کہ نصاریٰ خواہ کیسے بھی گمراہ ہوجائیں اور اسلام دشمنی میں کتنے ہی سخت اقدام کریں ان کو بہر حال مسلمانوں کا دوست سمجھا جائے، اور مسلمان ان کی دوستی کی طرف ہاتھ بڑھائیں۔ کیونکہ یہ بداہتہ غلط اور واقعات کے قطعاً خلاف ہے، اس لئے امام ابوبکر جصاص رحمة اللہ علیہ نے احکام القرآن میں فرمایا کہ بعض جاہل جو یہ خیال کرتے ہیں کہ ان آیات میں مطلقاً نصاریٰ کی مدح ہے اور وہ علی الاطلاق یہود سے بہتر ہیں۔ یہ سراسر جہالت ہے، کیونکہ اگر عام طور پر دونوں جماعتوں کے مذہبی عقائد کا موازنہ کیا جائے تو نصاریٰ کا مشرک ہونا زیادہ واضح ہے۔ اور مسلمانوں کے ساتھ معاملات کو دیکھا جائے تو آج کل کے عام نصاریٰ نے بھی اسلام دشمنی میں یہودیوں سے کم حصہ نہیں لیا، وہاں یہ صحیح ہے کہ نصاریٰ میں ایسے لوگوں کی کثرت ہوئی ہے، جو خدا ترس اور حق پرست تھے، اسی کے نتیجہ میں ان کو قبول اسلام کی توفیق ہوئی۔ اور یہ آیات ان دونوں جماعتوں کے مابین اسی فرق کو ظاہر کرنے کے لئے نازل ہوئی ہیں۔ خود اسی آیت کے آخر میں قرآن نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں واضح فرما دیا ہےذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ ، یعنی جن نصاریٰ کی مدح ان آیات میں کی گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں علماء اور خدا ترس، تارک الدنیا حضرات ہیں، اور ان میں تکبر نہیں کہ دوسروں کی بات پر غور کرنے کے لئے تیار نہ ہوں، مقابلہ سے معلوم ہوا کہ یہود کے یہ حالات نہ تھے۔ ان میں خدا ترسی اور حق پرستی نہ تھی، ان کے علماء نے بھی بجائے ترک دنیا کے اپنے علم کو صرف ذریعہ معاش بنا لیا تھا۔ اور طلب دنیا میں ایسے مست ہوگئے تھے کہ حق و ناحق اور حلال و حرام کی بھی پرواہ نہ رہی تھی۔
قوم و ملت کی اصلی روح حق پرست علماء و مشائخ ہیں
آیت مذکورہ کے بیان سے ایک اہم بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ قوم و ملت کی اصلی روح حق پرست، خدا ترس علماء و مشائخ ہیں۔ ان کا وجود پوری قوم کی حیات ہے جب تک کسی قوم میں ایسے علماء و مشائخ موجود ہوں جو دنیوی خواہشات کے پیچھے نہ چلیں، خدا ترسی ان کا مقام ہو تو وہ قوم خیر و برکت سے محروم نہیں ہوتی۔
Ayahs 5:87–88ربط آیات
یہاں تک اہل کتاب کے متعلق گفتگو تھی۔ آگے پھر عود ہے احکام فرعیہ کی طرف، جن کا ذکر کچھ شروع سورت میں اور کچھ درمیان میں بھی ہوا ہے، اور باعتبار خصوصیت مقام کے ایک ربط خاص بھی منقول ہے، وہ یہ کہ اوپر مقام مدح میں رہبانیت کا ذکر آیا ہے، گو وہ باعتبار اس کے ایک جز و خاص یعنی ترک حب دنیا کے ہے، لیکن احتمال تھا کہ کوئی رہبانیت کی مساوی خصوصیات کو قابل مدح سمجھا جائے، اس لئے اس مقام پر اس تحریم حلال کی ممانعت زیادہ مناسب معلوم ہوئی۔ (بیان القرآن ملحضاً)
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تمہارے واسطے حلال کی ہیں (خواہ وہ کھانے پینے اور پہننے کی قسم سے ہوں یا منکوحات کی قسم سے ہوں) ان میں لذیز (اور مرغوب) چیزوں کو (قسم و عہد کرکے اپنے نفسوں پر) حرام مت کرو اور حدود (شرعیہ) سے (جو کہ تحلیل و تحریم کے باب میں مقرر ہیں) آگے مت نکلو بیشک اللہ تعالیٰ حدِّ (شرعی) سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتے اور خدا تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال مرغوب چیزیں کھاؤ (برتو) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو (یعنی تحریم حلال خلاف رضائے حق ہے، ڈرو، اور اس کا ارتکاب مت کرو)۔
معارف و مسائل
ترک دنیا اگر حدود آلہیہ کے اندر ہو تو جائز ورنہ حرام ہے
مذکورہ آیات میں یہ بتلایا ہے کہ اگرچہ ترک دنیا اور ترک شہوات و لذات ایک درجہ میں محبوب و پسندیدہ ہے مگر اس میں بھی حدود آلہیہ سے تجاوز کرنا مذموم اور حرام ہے، جس کی تفصیل یہ ہے
کسی حلال چیز کو حرام قرار دینے کے تین درجات
کسی حلال چیز کو حرام قرار دینے کے تین درجے ہیں، ایک یہ کہ اعتقاداً اس کو حرام سمجھ لیا جائے، دوسرے یہ کہ قولاً کسی چیز کو اپنے لئے حرام کرے، مثلاً قسم کھالے کہ ٹھنڈا پانی نہ پیوں گا یا فلاں قسم کا حلال کھانا نہ کھاؤں گا، یا فلاں جائز کام نہ کروں گا۔ تیسرے یہ کہ اعتقاد و قول تو کچھ نہ ہو محض عملاً ہمیشہ کے لئے کسی حلال چیز کو چھوڑ دینے کا عزم کرے۔
پہلی صورت میں اگر اس چیز کا حلال ہونا قطعی ہونا قطعی دلائل سے ثابت ہو تو اس کا حرام سمجھنے والا قانون الٓہی کی صریح مخالفت کی وجہ سے کافر ہوجائے گا۔
اور دوسری صورت میں اگر الفاظ قسم کھا کر اس چیز کو اپنے اوپر حرام قرار دیا ہے، تو قسم ہوجائے گی، قسم کے الفاظ بہت ہیں، جو کتب فقہ میں مفصل مذکور ہیں، ان میں ایک مثال یہ ہے کہ صراحةً کہے کہ اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ فلاں چیز نہ کھاؤں گا، یا فلاں کام نہ کروں گا، یا یہ کہے کہ میں فلاں چیز یا فلاں کام کو اپنے اوپر حرام کرتا ہوں، اس کا حکم یہ ہے کہ بلا ضرورت ایسی قسم کھانا گناہ ہے اس پر لازم ہے کہ اس قسم کو توڑ دے اور کفارہ قسم ادا کرے جس کی تفصیل آگے آئے گی۔
تیسری قسم جس میں اعتقاد اور قول سے کسی حلال کو حرام نہ کیا ہو، بلکہ عمل میں ایسا معاملہ کرے جیسا حرام کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ دائمی طور پر اس کے چھوڑنے کا التزام کرے اس کا حکم یہ ہے کہ اگر حلال کو چھوڑنا ثواب سمجھتا ہے تو یہ بدعت اور رہبانیت ہے، جس کا گناہ عظیم ہونا قرآن و سنت میں منصوص ہے، اس کے خلاف کرنا واجب اور ایسی پابندی پر قائم رہنا گناہ ہے، ہاں اگر ایسی پابندی بہ نیت ثواب نہ ہو بلکہ کسی دوسری وجہ سے ہو مثلاً کسی جسمانی یا روحانی بیماری کے سبب سے کسی خاص چیز کو دائمی طور پر چھوڑ دے تو اس میں کوئی گناہ نہیں، بعض صوفیائے کرام اور بزرگوں سے حلال چیزوں کے چھوڑنے کی جو روایات منقول ہیں وہ سب اسی قسم میں داخل ہیں کہ انہوں نے اپنے نفس کے لئے ان چیزوں کو مضر سمجھا، یا کسی بزرگ نے مضر بتلایا، اس لئے بطور علاج چھوڑ دیا، اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
آخر روایات میں فرمایا وَلَا تَعْتَدُوْا ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ ، یعنی اللہ کی حدود سے آگے نہ بڑھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔
حد سے بڑھنے کا مطلب یہی ہے کہ کسی حلال چیز کو بلا کسی عذر کے ثواب سمجھ کر چھوڑ دے، جس کو ناواقف آدمی تقویٰ سمجھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ تعدّی اور ناجائز ہے، اس لئے دوسری آیت میں ارشاد ہے
وَّاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤ ْمِنُوْنَ ، یعنی جو رزق حلال پاک اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو دیا ہے اس کو کھاؤ اور اللہ تعالیٰ سے جس پر تمہارا ایمان ہے ڈرتے رہو۔
اس آیت میں واضح فرما دیا کہ حلال پاک چیزوں کا ثواب سمجھ کر چھوڑ دینا تقویٰ نہیں، بلکہ تقویٰ اس میں ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھ کر استعمال کرے، اور شکر ادا کرے، ہاں کسی جسمانی یا روحانی مرض کی وجہ سے بطور علاج کسی چیز کو چھوڑے تو وہ اس میں داخل نہیں۔
Ayah 5:89ربط آیات
اوپر تحریم طیبات کا ذکر تھا، چونکہ وہ بعض اوقات بذریعہ قسم کے ہوتی ہے، اس لئے آگے قسم کھانے کا حکم مذکور ہے
خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ تم سے (دینوی) مواخدہ نہیں فرماتے (یعنی کفارہ واجب نہیں کرتے) تمہاری قسموں میں لغو قسم (توڑنے) پر لیکن ایسا) مواخذہ اس پر فرماتے ہیں کہ تم قسموں کو (آئندہ بات پر) مستحکم کردو (اور پھر اس کو توڑ دو) سو اس (قسم کے توڑنے) کا کفارہ (یہ ہے کہ) دس محتاجوں کو کھانادینا اوسط درجہ کا جو اپنے گھر والوں کو (معمولی طور پر) کھانے کو دیا کرتے ہو یا ان (دس محتاجوں کو) کپڑا دینا (اوسط درجہ کا) یا غلام یا لونڈی آزاد کرنا (یعنی تینوں میں جس کو چاہے اختیار کرلے) اور جس کو (ان تینوں میں سے ایک کا بھی) مقدور نہ ہو تو (اس کا کفارہ) تین دن کے (متواتر) روزے ہیں یہ (جو مذکور ہوا) کفارہ ہے تمہاری (ایسی) قسموں کا جب کہ تم قسم کھالو (اور پھر اس کو توڑ دو اور کفارہ نہ دو اور اللہ تعالیٰ نے جس طرح یہ حکم برعایت تمہارے دنیوی و دینی مصالح کے بیان فرمایا ہے) اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے واسطے اپنے (دوسرے) احکام (بھی) بیان فرماتے ہیں تاکہ تم (اس نعمت یعنی مصالح خلق کی رعایت کا) شکر کرو۔
معارف و مسائل
قسم کھانے کی چند صورتیں اور ان سے متعلقہ احکام
اس آیت میں قسم کھانے کی چند صورتوں کا بیان ہے، بعض کا بیان سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے اور خلاصہ سب کا یہ ہے کہ اگر کسی گذشتہ واقعہ پر جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے اس کو اصطلاح فقہاء میں یمین غموس کہتے ہیں، مثلاً ایک شخص نے کوئی کام لیا ہے، اور وہ جانتا ہے کہ میں نے یہ کام کیا ہے، اور پھر جان بوجھ کر قسم کھالے کہ میں نے یہ کام نہیں کیا، یہ جھوٹی قسم سخت گناہ کبیرہ اور موجب وبال دنیا و آخرت ہے مگر اس پر کوئی کفارہ واجب نہیں ہوتا، توبہ و استغفار لازم ہے اسی لئے اس کو اصطلاح فقہاء میں یمین غموس کہا جاتا ہے، کیونکہ غموس کے معنی ڈوبا دینے والے کے ہیں، یہ قسم انسان کو گناہ اور وبال میں غرق کردینے والی ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ کسی گذشتہ واقعہ پر اپنے نزدیک سچا سمجھ کر قسم کھائے اور واقع میں وہ غلط ہو، مثلاً کسی ذریعہ سے یہ معلوم ہوا کہ فلاں شخص آگیا ہے، اس پر اعتماد کرکے اس نے قسم کھالی کہ وہ آگیا ہے، پھر معلوم ہوا کہ یہ واقعہ کے خلاف ہے، اس کو یمین لغو کہتے ہیں، اسی طرح بلا قصد زبان سے لفظ قسم نکل جائے تو اس کو بھی یمین لغو کہا جاتا ہے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ نہ اس پر کفارہ ہے نہ گناہ۔
تیسری صورت قسم کی یہ ہے کہ آئندہ زمانے میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائے اس کو یمین منعقدہ کہا جاتا ہے، اس کا حکم یہ ہے کہ اس قسم کو توڑنے کی صورت میں کفارہ واجب ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں اس پر گناہ بھی ہوتا ہے، بعض میں نہیں ہوتا۔
اس جگہ قرآن کریم کی آیت مذکورہ میں بظاہر لغو سے وہی قسم مراد ہے جس پر کفارہ نہیں خواہ گناہ ہو یا نہ ہو، کیونکہ بالمقابل عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَان مذکور ہے، جس سے معلوم ہوا کہ یہاں مواخذہ سے مراد دنیا کا مواخذہ ہے، جو کفارہ کی صورت میں ہوتا ہے۔
اور سورة بقرہ کی آیت میں ارشاد ہے (آیت) لا یؤ اخذکم اللّٰہ باللغو فی ایمانکم ولکن یؤ اخذکم بما کسبت قلوبکم۔ اس میں لغو سے مراد وہ قسم ہے جو بلا قصد و ارادہ زبان سے نکل جائے، یا اپنے نزدیک سچی بات سمجھ کر قسم کھالے، مگر وہ واقع میں غلط نکلی، اس کے بالمقابل وہ قسم مذکور ہے جس میں قصداً جھوٹ بولا گیا ہو، جس کو یمین غموس کہتے ہیں، اس لئے اس آیت کا حاصل یہ ہوا کہ یمین لغو پر تو کوئی گناہ نہیں، بلکہ گناہ یمین غموس پر ہے، جس میں قصد کرکے جھوٹ بولا گیا ہو تو سورة بقرہ میں حکم آخرت کے گناہ کا بیان ہے، اور سورة مائدہ کی آیت متذکرہ میں دنیوی حکم یعنی کفارہ کا، جس کا حاصل یہ ہوا کہ یمین لغو پر اللہ تعالیٰ تم سے مواخذہ نہیں کرتا، یعنی کفارہ واجب نہیں کرتا، بلکہ کفارہ صرف اس قسم پر لازم کرتا ہے، جو آئندہ زمانہ میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں منعقد کی ہو، اور پھر اس کو توڑ دیا ہو، اس کے بعد کفارہ کی تفصیل اس طرح ارشاد فرمائی ہے
فَكَفَّارَتُهٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيْنَ ، یعنی تین کاموں میں سے کوئی ایک اپنے اختیار سے کرلیا جائے، اول یہ کہ دس مسکینوں کو متوسط درجہ کا کھانا صبح و شام دو وقت کھلا دیا جائے، یا یہ کہ دس مسکینوں کو بقدر ستر پوشی کپڑا دے دیا جائے، مثلاً ایک پاجامہ یا تہبند یا لمبا کرتہ، یا کوئی مملوک غلام آزاد کردیا جائے۔
اس کے بعد ارشاد ہے فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ ، یعنی اگر کسی قسم توڑنے والے کو اس مالی کفارہ کے ادا کرنے پر قدرت نہ ہو کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلا سکے نہ کپڑا دے سکے اور نہ غلام آزاد کرسکے تو پھر اس کا کفارہ یہ ہے کہ تین دن روزے رکھے، بعض روایات میں اس جگہ تین روزے پے در پے مسلسل رکھنے کا حکم آیا ہے، اسی لئے امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ اور بعض دوسرے ائمہ کے نزدیک کفارہ قسم کے تین روزے مسلسل ہونا ضروری ہیں۔
آیت مذکورہ میں کفارہ قسم کے متعلق اول لفظ اطعام آیا ہے، اور اطعام کے معنی عربی لغت کے اعتبار سے کھانا کھلانے کے بھی آتے ہیں، اور کسی کو کھانا دیدینے کے بھی، اس لئے فقہاء رحمہم اللہ نے آیت مذکورہ کا یہ مفہوم قرار دیا ہے کہ کفارہ دینے والے کو دونوں باتوں کا اختیار ہے کہ دس مسکینوں کی دعوت کرکے کھانا کھلاوے، یا کھانا ان کی ملکیت میں دیدے، مگر پہلی صورت میں یہ ضروری ہے کہ متوسط درجہ کا کھانا جو وہ عادةً اپنے گھر کھاتا ہے دس مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھلادے، اور دوسری صورت میں ایک مسکین کو بقدر ایک فطرہ کے دیدے، مثلاً پونے دو سیر گیہوں یا اس کی قیمت تینوں میں جو چاہے اختیار کرے، لیکن روزہ رکھنا صرف اس صورت میں کافی ہوسکتا ہے جب کہ ان تینوں میں سے کسی پر قدرت نہ ہو۔
قسم ٹوٹنے سے پہلے کفارہ کی ادائیگی معتبر نہیں
آخر آیت میں تنبیہ کے لئے دو امر ارشاد فرمائے گئے ہیں، اول ۭذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ ، یعنی یہ ہے کفارہ تمہاری قسم کا جب تم نے قسم کھائی امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ اور دوسرے اکثر ائمہ کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تم کسی آئندہ کام کرنے یا نہ کرنے پر حلف کرو اور پھر اس کی خلاف ورزی ہوجائے تو اس کا کفارہ وہ ہے جو اوپر ذکر کیا گیا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ کفارہ کی ادائیگی قسم ٹوٹنے کے بعد ہونی چاہیے قسم توڑنے سے پہلے اگر کفارہ دے دیا جائے تو وہ معتبر نہ ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ کفارہ لازم ہونے کا سبب قسم توڑنا ہے جب تک قسم نہیں ٹوٹی تو کفارہ واجب ہی نہیں ہوا، تو جیسے وقت سے پہلے نماز نہیں ہوتی، رمضان سے پہلے رمضان کا روزہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح قسم ٹوٹنے سے پہلے قسم کا کفارہ بھی ادا نہیں ہوتا۔
اس کے بعد ارشاد فرمایاوَاحْفَظُوْٓا اَيْمَانَكُمْ ، یعنی اپنی قسموں کی حفاظت کرو، مطلب یہ ہے کہ اگر کسی چیز کی قسم کھالی ہے تو بلا ضرورت شرعی یا طبعی قسم کو نہ توڑو، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ قسم کھانے میں جلد بازی سے کام نہ لو، اپنی قسم کو محفوظ رکھو، جب تک شدید مجبوری نہ ہو قسم نہ کھاؤ (مظہری)۔
Ayah 5:90ربط آیات
اوپر حلال چیزوں کے ترک خاص کی ممانعت تھی، آگے بعض حرام چیزوں کے استعمال کی ممانعت ہے۔
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں شیطانی کام ہیں، سو ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم کو (بوجہ ان کو مضرتوں سے بچنے کے جو آگے مذکور ہیں) فلاح ہو (اور وہ مضرتیں دنیوی بھی ہیں اور دینی بھی جن کا بیان یہ ہے کہ) شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے آپس میں (برتاؤ میں) عداوت اور (دلوں میں) بغض واقع کر دے (چنانچہ ظاہر ہے کہ شراب میں تو عقل نہیں رہتی، گالی گلوچ دنگہ فساد ہوجاتا ہے، جس سے بعد میں بھی طبعاً کدورت باقی رہتی ہے، اور جوئے میں جو شخص مغلوب ہوتا ہے اس کو غالب پر غیظ ہوتا ہے، اور جب اس کو رنج ہوگا دوسرے پر بھی اس کا اثر پہنچے گا، یہ تو دنیوی مضرت ہوئی) اور (شیطان یوں چاہتا ہے کہ اسی شراب اور جوئے کے ذریعہ سے) اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے (جو کہ اللہ کی یاد کا سب سے افضل طریقہ ہے) تم کو باز رکھے (چنانچہ یہ بھی ظاہر ہے، کیونکہ شراب میں تو اس کے ہوش ہی بجا نہیں ہوتے اور قمار میں غالب کو تو سرور و نشاط اس درجہ ہوتا ہے کہ وہ اس میں غرق ہوتا ہے، اور مغلوب کو مغلوب ہونے کا رنج و اضمحلال اور پھر غالب آنے کی کوشش اس درجہ ہوتی ہے کہ اس سے فراغ نہیں ہوتا، یہ دینی مضرت ہوئی۔ جب ایسی بری چیزیں ہیں) سو (بتلاؤ) اب بھی باز آؤ گے ؟ اور تم (جمیع احکام میں) اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے رہو اور رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو اور (مخالفت حکم سے) احتیاط رکھو اور اگر (اطاعت سے) اعراض کرو گے تو یہ جان رکھو کہ ہمارے رسول کے ذمہ صرف صاف صاف (حکم کا) پہنچا دینا تھا (اور وہ اس کو بخوبی انجام دے چکے اور تم کو احکام پہنچا چکے اب تمارے پاس کسی عذر کی گنجائش نہیں رہی)۔
معارف و مسائل
کائنات کی تخلیق انسان کے نفع کے لئے ہے
ان آیات میں بتلانا یہ منظور ہے کہ مالک کائنات نے ساری کائنات کو انسان کی خدمت کے لئے پیدا فرمایا، اور ہر ایک چیز کو انسان کی خاص خاص خدمت پر لگا دیا ہے، اور انسان کو مخدوم کائنات بنایا ہے، انسان پر صرف ایک پابندی لگا دی کہ ہماری مخلوقات سے نفع اٹھانے کی جو حدود ہم نے مقرر کردی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو، جن چیزوں کو تمہارے لئے حلال طیب بنادیا ہے ان سے احتراز کرنا بےادبی اور ناشکری ہے اور جن چیزوں کے کسی خاص استعمال کو حرام قرار دے دیا ہے، اس میں خلاف ورزی کرنا نافرمانی اور بغاوت ہے، بندہ کا کام یہ ہے مالک کی ہدایت کے مطابق اس کی مخلوقات کا استعمال کرے، اسی کا نام عبدیت ہے۔
پہلی آیت میں شراب، جوا، بت اور جُوئے کے تیر، چار چیزوں کی حرمت کا بیان ہے۔ اسی مضمون کی ایک آیت تقریباً ایسے ہی الفاظ کے ساتھ سورة بقرہ میں بھی آچکی ہے۔ (آیت) یایھا الذین امنوا۔ ، اس میں ان چار چیزوں کو رجس فرمایا، رجس عربی زبان میں ایسی گندی چیز کو کہا جاتا ہے جس سے انسان کی طبعیت کو گھن اور نفرت پیدا ہو، یہ چاروں چیزیں ایسی ہیں کہ اگر انسان ذرا بھی عقل سلیم اور طبع سلیم رکھتا ہو تو خود بخود ہی ان چیزوں سے اس کو گھن اور نفرت ہوگی۔
ازلام کی تشریح
ان چار چیزوں میں سے ایک ازلال ہے، جو زلم کی جمع ہے، ازلام ان تیروں کو کہا جاتا ہے جن پر قرعہ اندازی کرکے عرب میں جوا کھیلنے کی رسم جاری تھی، جس کی صورت یہ تھی کہ دس آدمی شرکت میں ایک اونٹ ذبح کرتے تھے، پھر اس کا گوشت تقسیم کرنے کے لئے بجائے اس کے کہ دس حصے برابر کرکے تقسیم کرتے اس میں اس طرح جوا کھیلتے کہ دس عدد تیروں میں سات تیروں پر کچھ مقررہ حصوں کے نشانات بنا رکھتے تھے، کسی پر ایک کسی پر دو یا تین اور تین تیروں کو سادہ رکھا ہوا تھا، ان تیروں کو ترکش میں ڈال کر ہلاتے تھے، پھر ایک ایک شریک کے لئے ایک ایک تیر ترکش میں سے نکالتے، اور جتنے حصوں کا تیر کسی کے نام پر نکل آئے وہ ان حصوں کا مستحق سمجھا جاتا تھا، اور جس کے نام پر سادہ تیر نکل آئے وہ حصہ سے محروم رہتا تھا، جیسے آج کل بہت سی قسمیں لاٹری کے طریقہ پر بازاروں میں جاری ہیں، اس طرح کی قرعہ اندازی، قمار یعنی جوا ہے جو ازروئے قرآن کریم حرام ہے۔
قرعہ اندازی کی جائز صورت
ہاں ایک طرح کی قرعہ اندازی جائز اور رسول کریم ﷺ سے ثابت ہے وہ یہ کہ جب حقوق سب کے مساوی ہوں اور حصے بھی مساوی تقسیم کر دئیے گئے ہوں پھر ان میں سے حصوں کی تعیین بذریعہ قرعہ اندازی کرلی جائے، مثلاً ایک مکان چار شریکوں میں تقسیم کرنا ہے تو قیمت کے لحاظ سے چار حصے برابر لگا لئے گئے، اب یہ تعین کرنا کہ کونسا حصہ کس شریک کے پاس رہے، اس کا تعیین اگر آپس میں مصالحت و رضا مندی سے نہ ہو تو یہ بھی جائز ہے کہ قرعہ اندازی کرکے جس کے نام پر جس طرف کا حصہ نکل آئے اس کو دے دیا جائے، یا کسی چیز کے خواہش مند ایک ہزار ہیں، اور سب کے حقوق مساوی ہیں مگر جو چیز تقسیم کرنا ہے وہ کل سو ہیں، تو اس میں قرعہ اندازی سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
ازلام کی قرعہ اندازی کے ذریعہ گوشت تقسیم کرنے کی جاہلانہ رسم کی حرمت سورة مائدہ ہی کی آیت میں پہلے آچکی ہے۔ (آیت) وان تستقسموا بالازلام۔
خلاصہ یہ ہے کہ آیت مذکورہ میں جن چار چیزوں کا حرام ہونا مذکور ہے ان میں سے دو یعنی میسر اور الازلام نتیجہ کے اعتبار سے ایک ہی ہیں، باقی دو میں ایک انصاب ہے جو نصب کی جمع ہے، ایسے چیز کو نصب کہا جاتا ہے جو عبادت کے لئے کھڑی کی گئی ہو خواہ بت ہو یا کوئی درخت پتھر وغیرہ۔
شراب اور جوئے کے جسمانی اور روحانی مفاسد
آیت کے شان نزول اور اس کے بعد والی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں اصل مقصود دو چیزوں کی حرمت اور مفاسد کا بیان کرنا ہے، یعنی شراب اور جوا، انصاب یعنی بتوں کا ذکر اس کے ساتھ اس لئے ملا دیا گیا ہے کہ سننے والے سمجھ لیں کہ شراب اور جوئے کا معاملہ ایسا سخت جرم ہے جیسے بت پرستی۔
ابن ماجہ کی ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا شارب الخمر کعابدالوثن۔ یعنی ”شراب پینے والا ایسا مجرم ہے جیسے بت کو پوجنے والا“۔ اور بعض روایات میں ہےشارب الخمر کعابد الات والعزی۔ ”یعنی شراب پینے والا ایسا ہے جیسا لات و عزی کی پرستش کرنے والا“۔
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ یہاں شراب اور جوئے کی شدید حرمت اور ان کی روحانی اور جسمانی خرابیوں کا بیان ہے، اول روحانی اور معنوی خرابیاں رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ کے الفاظ میں بیان کیں، جن کا مفہوم یہ ہے کہ یہ چیزیں فطرت سلیمہ کے نزدیک گندی قابل نفرت چیزیں اور شیطانی جال ہیں، جن میں پھنس جانے کے بعد انسان بیشمار مفاسد اور ملک خرابیوں کے گڑھے میں جاگرتا ہے، یہ روحانی مفاسد بیان فرمانے کے بعد حکم دیا گیا فاجْتَنِبُوْهُ کہ جب یہ چیزیں ایسی ہیں تو ان سے اجتناب کرو اور پرہیز کرو۔
آخر میں فرمایا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ، جس میں بتلا دیا گیا کہ تمہاری فلاح دنیا و آخرت اسی پر موقوف ہے کہ ان چیزوں سے پرہیز کرتے رہو۔
Ayah 5:91اس کے بعد دوسری آیت میں شراب اور جوئے کے دنیوی اور ظاہری مفاسد کا بیان اس طرح فرمایا گیا
اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ۔ ”یعنی شیطان یہ چاہتا ہے کہ تمہیں شراب اور جوئے میں مبتلا کرکے تمہارے درمیان بغض و عداوت کی بنیادیں ڈال دے“۔
ان آیات کا نزول بھی کچھ ایسے ہی واقعات کے بارے میں ہوا ہے کہ شراب کے نشہ میں ایسی حرکات صادر ہوئیں جو باہمی غیظ و غضب اور پھر جنگ و جدل کا سبب بن گئیں اور یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکہ شراب کے نشہ میں جب آدمی عقل کھو بیٹھتا ہے تو اس سے ایسی حرکات کا صدور لازمی جیسا ہوجاتا ہے۔
اسی طرح جوئے کا معاملہ ہے کہ ہارنے والا اگرچہ اپنی ہار مان کر اس وقت نقصان اٹھا لیتا ہے، مگر اپنے حریف پر غیظ و غضب اور بغض و عداوت اس کے لازمی اثرات میں سے ہے، حضرت قتادہ رحمة اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بعض عرب کی عادت تھی کہ جوئے میں اپنے اہل و عیال اور مال و سامان سب کو ہرا کر انتہائی رنج و غم کی زندگی گزارتے تھے۔
آخر آیت میں پھر ان چیزوں کی ایک اور خرابی ان الفاظ میں ارشاد فرمائیوَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ۔ ”یعنی یہ چیزیں تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے غافل کردیتی ہیں“۔
یہ خرابی روحانی اور اخروی خرابی ہے، جس کو دنیوی خرابی کے بعد مکرر ذکر فرماتے ہیں، اس میں اشارہ ہوسکتا ہے کہ اصل قابل نظر اور قابل فکر وہ زندگی ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہے، عقل مند کے نزدیک اسی کی خوبی مطلوب و مرغوب ہونی چاہئے، اور اسی کی خرابی سے ڈرنا چاہئے، دنیا کی چند روزہ زندگی کی خوبی نہ کوئی قابل فخر چیز ہے، نہ خرابی زیادہ قابل رنج و غم ہے، کہ اس کی دونوں حالتیں چند روز میں ختم ہوجانے والی ہیں
دوران بقا چو باد صحرا بگذشت
تلخی و خوشی وزشت و زیبا بگذشت
اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ذکر اللہ اور نماز سے غفلت یہ دنیا و آخرت اور جسم و روح دونوں کے لئے مضر ہے، آخرت اور روح کے لئے مضر ہونا تو ظاہر ہے کہ اللہ سے غافل، بےنماز کی آخرت تباہ اور روح مردہ ہے، اور ذرا غور سے دیکھا جائے تو اللہ سے غافل کی دنیا بھی وبال جان ہوتی ہے کہ جب اللہ سے غافل ہو کر اس کا انتہائی مقصود مال و دولت اور عزت و جاہ ہوجائے تو وہ اتنے بکھیڑے اپنے ساتھ لاتے ہیں کہ وہ خود ایک مستقل غم ہوتے ہیں جس میں مبتلا ہو کر انسان اپنے مقصود المقاصد یعنی راحت و آرام اور اطمینان و سکون سے محروم ہوجاتا ہے، اور ان اسباب راحت میں ایسا مست ہوجاتا ہے کہ خود راحت کو بھی بھول جاتا ہے، اور اگر کسی وقت یہ مال و دولت یا عزت و جاہ جاتے رہیں یا ان میں کمی آجائے تو ان کے غم اور رنج کی انتہاء نہیں رہتی، غرض یہ خالص دنیا دار انسان دونوں حالتوں میں رنج و فکر اور غم واندوہ میں گھرا رہتا ہے،
اگر دنیا نباشد درد مندیم
وگرباشد بمہرش پائے بندیم
بخلاف اس شخص کے جس کا دل اللہ کی یاد سے روشن اور نور نماز سے منوّر ہے، دنیا کے مال و منال اور جاہ و منصب اس کے قدموں پر گرتے ہیں، اور ان کی صحیح راحت و آرام پہنچاتے ہیں، اور اگر یہ چیزیں جاتی رہیں تو ان کے قلوب اس سے متا ثر نہیں ہوتے، ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ
نہ شادی داد سامانے نہ غم آورد نقصانے
بہ پیش ہمت ما ہرچہ آمد بود مہمانے
خلاصہ یہ ہے کہ ذکر اللہ اور نماز سے غفلت اگر غور دیکھا جائے تو اخروی اور دنیوی دونوں طرح کی خرابی ہے، اس لئے ممکن ہے کہ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ سے خالص اخروی اور روحانی مضرت بیان کرنا مقصود ہو، اور اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ سے خالص دنیوی اور جسمانی خرابی بتلانا ہو، اور وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ سے دین و دنیا کی مشترک تباہی و بربادی کا ذکر کرنا مقصود ہو۔
یہاں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ ذکر اللہ میں تو نماز بھی داخل ہے، پھر نماز کو علیحدہ بیان کرنے میں کیا حکمت ہے، وجہ یہ ہے کہ اس میں نماز کی اہمیت اور ذکر اللہ کی تمام اقسام میں افضل و اشرف ہونے کی طرف اشارہ کرنے کے لئے نماز کو مستقل طور پر ذکر فرمایا گیا ہے۔
اور تمام دینی اور دنیوی، جسمانی اور روحانی خرابیوں کی تفصیل بتلانے کے بعد ان چیزوں سے باز رکھنے کی ہدایت ایک عجیب دل نواز انداز سے فرمائی ہے، ارشاد ہوتا ہےفَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ ، یعنی یہ ساری خرابیاں تمہارے علم میں آگئیں تو اب بھی ان سے باز آؤ گے۔
ان دونوں آیتوں میں شراب و جوئے وغیرہ کی حرمت اور شدید ممانعت کا بیان تھا، جو قانون الٓہی کی ایک دفعہ ہے،
Ayah 5:92تیسری آیت میں اس حکم کو آسان کرنے اور اس پر عمل کو سہل بنانے کے لئے قرآن کریم نے اپنے خاص اسلوب بیان کے تحت ارشاد فرمایا
وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا۔
جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم تمہارے فائدہ کے لئے ہے، اگر تم نہ مانو تو نہ اللہ جل شانہ کا کوئی نقصان ہے نہ اس کے رسول کا، اللہ تعالیٰ کا اس نفع و نقصان سے بالاتر ہونا تا ظاہر تھا، رسول کے متعلق کسی کو یہ خیال ہوسکتا تھا کہ جب ان کی بات نہ مانی گئی تو ان کے اجر وثواب یا قدر ومنزلت میں شاید کچھ فرق آجائے، اس شبہ کے ازالہ کے لئے ارشاد فرمایافَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَلٰي رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ ، یعنی اگر تم میں سے کوئی بھی ہمارے رسول ﷺ کی بات نہ مانے جب بھی اس کی قدرومنزلت میں کوئی فرق نہیں آتا، کیونکہ جتنا کام ان کے سپرد تھا وہ کرچکے، یعنی صاف صاف طور پر واضح کرکے اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچا دینا، اس کے بعد جو شخص نہیں مانتا وہ اپنا نقصان کرتا ہے ہمارے رسول ﷺ کا اس سے کچھ نہیں بگڑتا۔
Ayahs 5:93–96ربط آیات
لباب میں مسند احمد سے بروایت ابی ہریرہ ؓ منقول ہے کہ جب اوپر کی آیت میں تحریم خمرو میسر نازل ہوچکی تو بعض لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ بہت سے آدمی جو کہ شراب پیتے تھے اور قمار کا مال کھاتے تھے تحریم سے پہلے مر گئے، اور اب معلوم ہوا کہ وہ حرام ہے ان کا کیا حال ہوگا، اس پر آیت ليْسَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا الخ نازل ہوئی۔
اور پیچھے (آیت) یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت میں تحریم طیبات کی ممانعت کا ذکر تھا، اب آیت يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَيْء الخ سے بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ خاص حالات میں خاص خاص چیزوں کو حرام قرار دیدیں (بیان القرآن)۔
خلاصہ تفسیر
ایسے لوگوں پر جو ایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جس کو وہ کھاتے پیتے ہوں (اور اس وقت وہ حلال ہوگی بعد میں حرام ہوجاوے اور ان کو گناہ کیسے ہوتا) جبکہ (گناہ کا کوئی امر مقتضی نہ ہو بلکہ ایک امر مانع موجود ہو وہ یہ کہ) وہ لوگ (خدا کے خوف سے اس وقت کی ناجائز چیزوں سے) پرہیز رکھتے ہوں اور (دلیل اس خوف کی یہ ہو کہ وہ لوگ) ایمان رکھتے ہوں (جو کہ خدا سے ڈرنے کا سبب ہے) اور نیک کام کرتے ہوں (جو کہ خوف خدا کی علامت ہے، اور اسی حالت پر وہ عمر بھر رہیں، چناچہ اگر وہ حلال چیز جس کو پہلے کھاتے پیتے تھے آگے کبھی چل کر حرام ہوجائے تو) پھر (اسے سے بھی اسی خوف خدا کے سبب) پرہیز کرنے لگتے ہوں اور (اس خوف کی بھی دلیل مثل سابق یہی ہو کہ وہ لوگ) ایمان رکھتے ہوں اور خوب نیک عمل کرتے ہوں (جو کہ موقوف ہیں ایمان پر، پس یہاں بھی سبب اور علامت خوف خدا کے مجتمع ہیں، مطلب یہ کہ ہر بار کی مکرر سہ کرّر تحریم میں ان کا یہی عمل درآمد ہو کچھ دو تین بار کی خصوصیت نہیں، پس باوجود مانع اور استمرار مانع کے ہمارے فضل سے بعید ہے کہ وہ گناہ گار ہوں) اور (ان کی یہ خاص طریقہ مذکور کی نیکوکاری صرف لزوم گناہ سے مانع ہی نہیں بلکہ وجود ثواب و محبوبیت کو مقتضی بھی ہے، کیونکہ) اللہ تعالیٰ ایسے نیکوکاروں سے محبت رکھتے ہیں (پس ان میں مبغوض ہونے کا احتمال تو کب ہوسکتا ہے، یہ تو غیر مبغوض ہونے سے گزر کر محبوب ہونے کا درجہ رکھتے ہیں)۔
اے ایمان والو اللہ تعالیٰ قدرے شکار سے تمہارا امتحان کرے گا جن تک (بوجہ تم سے دور دور نہ بھاگنے کے) تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے پہنچ سکیں گے (مطلب امتحان کا یہ کہ حالت احرام میں وحوش کے شکار کرنے کو تم پر حرام کر کے جیسا آگے تصریحاً آتا ہے ان وحوش کو تمہارے آس پاس پھراتے رہیں گے) تاکہ اللہ تعالیٰ (ظاہر طور پر بھی) معلوم کرے کہ کون شخص اس (حرمت) کے بعد (جس پر ابتلاء بھی دلالت کر رہا ہے) حدّ (شرعی) سے نکلے گا (یعنی شکار ممنوع کا مرتکب ہوگا) اس کے واسطے دردناک سزا (مقرر) ہے (چنانچہ شکاری جانور اسی طرح آس پاس لگے پھرتے تھے، چونکہ صحابہ میں بہت سے شکار کے عادی تھے اس میں ان کی اطاعت کا امتحان ہو رہا تھا، جس میں وہ پورے اترے، آگے ممانعت کی زیادہ تصریح ہے کہ) اے ایمان والو وحشی شکار کو (باستثناء ان کے کہ جن کو شرع نے مستثنیٰ کردیا) قتل مت کرو، جبکہ تم حالت احرام میں ہو (اسی طرح جبکہ وہ شکار حرم میں ہو گو شکاری احرام میں نہ ہو اس کا بھی یہی حکم ہے) اور جو شخص تم میں اس کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تو اس پر (اس کے فعل کی) پاداش واجب ہوگی جو کہ (باعتبار قیمت کے) مساوی ہوگی اس جانور کے جس کو اس نے قتل کیا ہے جس (کے تخمینہ) کا فیصلہ تم میں سے دو معتبر شخص کردیں (کہ دینداری میں بھی قابل اعتبار ہوں، اور تجربہ و بصیرت میں بھی، پھر اس قاتل کو تخمینہ قیمت کے بعد اختیار ہے) خواہ (اس قیمت کا کوئی ایسا جانور خرید لے کہ) وہ پاداش (کا جانور) خاص چوپاؤں میں سے ہو (یعنی اونٹ، گائے، بھینس، بھیڑ، بکری، نر ہو یا مادہ) بشرطیکہ نیاز کے طور پر کعبہ (کے پاس) تک (یعنی حرم کے اندر) پہنچائی جائے اور خواہ (اس قیمت کے برابر غلّہ بطور) کفارہ (کے) مساکین کو دے دیا جائے (یعنی ایک مسکین کو بقدر ایک صدقة الفطر کے دیا جائے) اور خواہ اس (غلہ) کے برابر روزے رکھ لئے جائیں (برابری کی صورت یہ ہے کہ ہر مسکین کے حصہ یعنی فطرہ کے بدلے ایک روزہ اور یہ پاداش اس لئے مقرر کی ہے) تاکہ اپنے کئے کی شامت کا مزہ چکھے (بخلاف اس شخص کے جس نے قصداً شکار نہ کیا ہو کہ گو اس پر بھی جزاء تو یہی واجب ہے مگر وہ فعل کی سزا نہیں، بلکہ محل محترم یعنی شکار حرم جو کہ حرم کی وجہ سے محترم یا احرام کی وجہ سے کالمحترم ہوگیا ہے اس کا ضمان اور جزاء ہے اور اس جزاء کے ادا کردینے سے) اللہ تعالیٰ نے گذشتہ کو معاف فرما دیا اور جو شخص پھر ایسی ہی حرکت کرے گا (چونکہ اکثر عود میں ایک گونہ پہلی بار سے زیادہ جرأت ہوتی ہے) تو (اس وجہ سے علاوہ جزاء مذکور کے جو کہ اصل فعل یا محل کا عوض ہے آخرت میں) اللہ تعالیٰ اس سے (اس جرأت کا) انتقام لیں گے (البتہ اگر توبہ کرلے تو انتقام کا سبب ختم ہوجاوے گا) اور اللہ تعالیٰ زبردست ہیں انتقام لے سکتے ہیں، تمہارے لئے (حالت احرام میں) دریا (یعنی پانی) کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا (سب) حلال کیا گیا ہے تمہارے انتقاع کے واسطے (اور تمھارے) مسافروں کے (انتقاع کے) واسطے (کہ سفر میں اسی کو توشہ بنادیں) اور خشکی کا شکار (گو بعض صورتوں میں کھانا حلال ہے مگر) پکڑنا (یا اس میں معین ہونا) تمہارے لئے حرام کیا گیا ہے، جب تک تم حالت احرام میں رہو اور اللہ تعالیٰ (کی مخالفت) سے ڈرو، جس کے پاس جمع (کرکے حاضر) کئے جاؤ گے۔
معارف و مسائل
محققین نے لکھا ہے کہ تقویٰ (یعنی مضار دینی سے مجتنب ہونے کے) کئی درجے ہیں۔ اور ایمان و یقین کے مراتب بھی بلحاظ قوت و ضعف متفاوت ہیں تجربہ اور نصوص شرعیہ سے ثابت ہے کہ جس قدر آدمی ذکر و فکر، عمل صالح اور جہاد فی سبیل اللہ میں ترقی کرتا ہے اسی قدر خدا کے خوف اور اس کی عظمت و جلال کے تصور سے قلب معمور اور ایمان و یقین مضبوط و مستحکم ہوتا رہتا ہے۔ مراتب سیر الی اللہ کی اسی ترقی و عروج کی طرف اس آیت میں تقویٰ اور ایمان کی تکرار سے اشارہ فرمایا اور سلوک کے آخری مقام ”احسان“ اور اس کے ثمرہ پر بھی تنبیہ فرمادی۔ (تفسیر عثمانی)
مسئلہصید جو کہ حرم اور احرام ہے عام ہے، خواہ ماکول یعنی حلال جانور ہو یا غیر ماکول (یعنی حرام) (الاطلاق الآیة)
مسئلہصید یعنی شکار، ان جانوروں کو کہا جاتا ہے جو وحشی ہوں، عادةً انسانوں کے پاس نہ رہتے ہوں، پس جو خلقةً اہلی ہوں جیسے بھیڑ، بکری، گائے، اونٹ، ان کا ذبح کرنا اور کھانا درست ہے۔
مسئلہالبتہ جو دلیل سے مستثنیٰ ہوگئے ہیں اور ان کو پکڑنا، قتل کرنا حلال ہے، جیسے دریائی جانور کا شکار، لقولہ تعالیٰ اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ ، اور بعضے خشکی کے جانور، جیسے کوا اور چیل اور بھیڑیا اور سانپ اور بچھو اور کاٹنے والا کتا، اسی طرح جو درندہ خود حملہ کرے اس کا قتل بھی جائز ہے، حدیث میں ان کا استثناء مذکور ہے، اس سے معلوم ہوا کہ الصید میں الف لام عہد کا ہے۔
مسئلہجو حلال شکار غیر احرام اور غیر حرم میں کیا جائے اس کا کھانا محرم کو جائز ہے، جب یہ اس کے قتل وغیرہ میں معین یا مشیر یا بتلانے والا نہ ہو، حدیث میں ایسا ہی ارشاد ہے، اور آیت کے الفاظ لَا تَقْتُلُوا میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ یہاں لَا تَقْتُلُوا فرمایا ہے لا تاکلوا نہیں فرمایا۔
مسئلہشکار حرم کو جس طرح قصداً قتل کرنے پر جزاء واجب ہے، اسی طرح خطاء و نسیان میں بھی واجب ہے۔ (اخرجہ الروح)
مسئلہجیسا پہلی بار میں جزاء واجب ہے اسی طرح دوسری تیسری بار قتل کرنے میں بھی واجب ہے۔
مسئلہحاصل جزاء کا یہ ہے کہ جس زمان اور جس مکان میں یہ جانور قتل ہوا ہے بہتر تو یہ ہے کہ دو عادل شخص سے اور جائز یہ بھی ہے کہ ایک ہی عادل شخص سے اس جانور کی قیمت کا تخمینہ کرائے، پھر اس میں یہ تفصیل ہے کہ وہ مقتول جانور اگر غیر ماکول ہے تب تو یہ قیمت ایک بکری کی قیمت سے زیادہ واجب نہ ہوگی، اور اگر وہ جانور ماکول تھا تو جس قدر تخمینہ ہوگا وہ سب واجب ہوگا۔ اور دونوں حال میں آگے اس کو تین صورتوں میں اختیار ہے، خواہ تو اس قیمت کا کوئی جانور حسب شرائط قربانی کے خریدلے، اور حدود جرم کے اندر ذبح کر کے فقراء کو بانٹ دے، اور یا اس قیمت کے برابر غلّہ حسب شرائط صدقہ فطر کے فی مسکین نصف صاع فقراء کو دیدے، اور یا بحساب فی مسکین نصف صاع جتنے مساکین کو وہ غلّہ پہنچ سکتا ہو اتنے شمار سے روزے رکھ لے اور تقسیم غلّہ اور روزوں میں حرم کی قید نہیں، اور اگر قیمت نصف صاع سے بھی کم واجب ہوئی ہے تو اختیار ہے خواہ ایک مسکین کو دیدے، یا ایک روزہ رکھ لے اسی طرح اگر فی مسکین نصف صاع دے کر نصف صاع سے کم بچ گیا تو بھی یہی اختیار ہے کہ خواہ وہ بقیہ ایک مسکین کو دیدے یا ایک روزہ رکھ لے، نصف صاع کا وزن ہمارے وزن کے اعتبار سے پونے دو سیر ہوتا ہے۔
مسئلہتخمینہ مذکور میں جتنے مساکین کا حصہ قرار پاوے اگر ان کو دو وقت کھانا شکم سیر کرکے کھلاوے تب بھی جائز ہے
مسئلہاگر اس قیمت کے برابر ذبح کے لئے جانور تجویز کیا، مگر کچھ قیمت بچ گئی تو اس بقیہ میں اختیار ہے خواہ دوسرا جانور خریدلے یا اس کا غلّہ دیدے، یا غلّہ کے حساب سے روزے رکھ لے، جس طرح قتل میں جزاء واجب ہے اسی طرح ایسے جانور کو زخمی کرنے میں بھی تخمینہ کرایا جائے گا کہ اس سے جانور کی کس قدر قیمت کم ہوگئی اس مقدار قیمت میں پھر وہی تین مذکورہ صورتیں جائز ہوں گی۔
مسئلہمحرم کو جس جانور کا شکار کرنا حرام ہے اس کا ذبح کرنا بھی حرام ہے، اگر اس کو ذبح کرے گا تو اس کا حکم مردار کا سا ہوگا (وفی لاتقتلوا اشارة الیٰ ان ذبحہ کالقتل)۔
مسئلہاگر جانور کے قتل ہونے کی جگہ جنگل ہے تو جو آبادی اس سے قریب ہو وہاں کے اعتبار سے تخمینہ کیا جائے گا۔
مسئلہاشارہ دلالت و اعانت شکار میں مثل شکار کرنے کے حرام ہے۔