Ayah 5:44خلاصہ تفسیر
ربطیہ سورة مائدہ کا ساتواں رکوع ہے اس میں حق تعالیٰ نے یہود، نصاریٰ اور مسلمانوں کو یکجائی طور پر ایک اہم اور خاص حکم شرع پر متنبہ فرمایا ہے، جس کا ذکر سورة مائدہ میں متفرق طور پر اوپر سے چلا آیا ہے، اور وہ معاملہ ہے اللہ جل شانہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان کی خلاف ورزی کا اور اس کے بھیجے ہوئے احکام میں تغیر وتبدل اور تحریف و تاویل کا جو یہود و نصاریٰ کی دائمہ خصلت و عادت بن گیا تھا۔
اس رکوع میں حق تعالیٰ نے اول اہل تورات یہود کو مخاطب فرما کر ان کو اس کج روی اور اس کے انجام بد پر ابتدائی دو آیتوں میں متنبہ فرمایا، اور اس کے ضمن میں قصاص کے متعلق بعض احکام بھی اس مناسبت سے ذکر فرما دیئے کہ پچھلی آیتوں میں جو واقعہ یہود کی سازش کا ذکر کیا گیا ہے وہ قصاص کے متعلق تھا کہ بنو نضیر دیت اور قصاص میں مساوات کے قائل نہ تھے بلکہ بنو قریظہ کو اپنے سے کم دیت لینے پر مجبور کر رکھا تھا، ان دونوں آیتوں میں یہود کو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قانون کے خلاف اپنا قانون جاری کرنے پر سخت تنبیہ فرمائی اور ایسا کرنے والوں کو کافر اور ظالم قرار دیا۔
اس کے بعد تیسری آیت میں اہل انجیل نصاریٰ کو اسی مضمون کا خطاب فرما کر اللہ کے نازل کئے ہوئے قانون کے خلاف کوئی قانون جاری کرنے پر سخت تنبیہ فرمائی، اور ایسا کرنے والوں کو سرکش و نافرمان قرار دیا۔
اس کے بعد چوتھی، پانچویں اور چھٹی آیت میں رسول کریم ﷺ کو مخاطب بنا کر مسلمانوں کو اسی مضمون کے متعلق ہدایات دیں گئیں کہ وہ اہل کتاب کی اس بیماری میں مبتلا نہ ہوجائیں، کہ جاہ و مال کے لالچ میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو بدلنے لگیں، یا اس کے قانون کے خلاف کوئی قانون اپنی طرف سے جاری کرنے لگیں۔
اس کے ضمن میں ایک اور اہم اصولی مسئلہ یہ بھی بیان فرما دیا کہ اگرچہ اصول عقائد اور اطاعت حق جل شانہ، کے معاملہ میں تمام انبیاء (علیہم السلام) ایک ہی عقیدہ اور ایک ہی طریقہ کے پابند ہیں، لیکن بہ تقاضائے حکمت ہر پیغمبر کو اس کے زمانہ کی مناسب شریعت دی گئی ہے جس میں بہت سے فروعی اور جزوی احکام مختلف ہیں، اور یہ بتلایا کہ ہر پیغمبر کو جو شریعت دی گئی، اس کے زمانہ میں وہی مقتضائے حکمت اور واجب الاتباع تھی، اور جب اس کو منسوخ کرکے دوسری شریعت لائی گئی تو اس وقت وہی عین حکمت و مصلحت اور واجب الاتباع ہوگئی، اس میں شریعتوں کے مختلف ہوتے رہنے اور بدلتے رہنے کی ایک خاص حکمت کی طرف بھی اشارہ فرما دیا۔
ہم نے (موسیٰ علیہ الالسلام پر) توریت نازل فرمائی تھی جس میں (عقائد صحیحہ کی بھی) ہدایت تھی اور (احکام عملیہ کا بھی) وضوح تھا، انبیاء (بنی اسرائیل) جو کہ (باوجود لاکھوں آدمیوں کے مقتداء ومطاع ہونے کے) اللہ تعالیٰ کے مطیع تھے اس (توراة) کے موافق یہود کو حکم دیا کرتے تھے اور (اسی طرح ان میں کے) اہل اللہ اور علماء بھی (اسی کے موافق کہ وہی اس وقت کی شریعت تھی حکم دیتے تھے) بوجہ اس کے کہ ان (اہل اللہ و علماء) کو اس کتاب اللہ (پر عمل کرنے اور کرانے) کی نگہداشت کا حکم (حضرت انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ سے) دیا گیا تھا اور وہ اس کے (یعنی اس پر عمل کرنے کرانے کے) اقراری ہوگئے تھے (یعنی چونکہ ان کو اس کا حکم ہوا تھا اور انہوں نے اس حکم کو قبول کرلیا تھا، اس لئے ہمیشہ اس کے پابند رہے) سو (اے اس زمانہ کے رؤ سا و علماء یہود جب ہمیشہ سے تمہارے سب مقتداء توریت کو ماننے آئے ہیں تو) تم بھی (تصدیق رسالت محمدیہ ﷺ کے باب میں جس کو حکم توریت میں ہے) لوگوں سے (یہ) اندیشہ مت کرو (کہ ہم تصدیق کرلیں گے تو عام لوگوں کی نظر میں ہماری جاہ میں فرق آئے گا) اور (صرف) مجھ سے ڈرو (کہ تصدیق نہ کرنے پر سزا دوں گا) اور میرے احکام کے بدلہ میں (دنیا کی) متاع قلیل (جو کہ تم کو اپنے عوام سے وصول ہوتی ہے) مت لو (کہ یہی حُبِّ جاہ و حبِّ مال تم کو باعث ہوتی ہیں تصدیق نہ کرنے پر) اور (یاد رکھو کہ) جو شخص خدا تعالیٰ کے نازل کئے ہوئے کے موافق حکم نہ کرے (بلکہ غیر حکم شرعی کو قصداً حکم شرعی بتلا کر اس کے موافق حکم کرے) سو ایسے لوگ بالکل کافر ہیں (جیسا اے یہود تم کر رہے ہو کہ عقائد میں بھی مثل عقیدہ رسالت محمدیہ ﷺ اور اعمال میں بھی جیسے حکم رجم وغیرہ اپنے مخترعات کو حکم الٓہی بتلا کر ضلال واضلال میں مبتلا ہو رہے ہو) اور ہم نے ان (یہود) پر اس (توراة) میں یہ بات فرض کی تھی کہ (اگر کوئی کسی کو ناحق عمداً قتل یا زخمی کرے اور صاحب حق دعویٰ کرے تو) جان بدلے جان کے اور آنکھ بدلے آنکھ کے اور ناک بدلے ناک کے اور کان بدلے کان کے اور دانت بدلے دانت کے اور (اسی طرح دوسرے) خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے پھر جو شخص (اس قصاص یعنی بدلہ لینے کا مستحق ہو کر بھی) اس (قصاص) کو معاف کر دے وہ (معاف کرنا) اس (معاف کرنے والے) کے لئے (اس کے گناہوں کا) کفارہ (یعنی گناہوں کے دور ہونے کا سبب) ہوجائے گا (یعنی معاف کرنا موجب ثواب ہے) اور (چونکہ یہود نے ان احکام کو چھوڑ رکھا تھا اس لئے مکرر وعید سناتے ہیں کہ) جو شخص خدا تعالیٰ کے نازل کئے ہوئے کے موافق حکم نہ کرے (جس کے معنی اوپر گزرے) سو ایسے لوگ بالکل ستم ڈھا رہے ہیں (یعنی بہت برا کام کر رہے ہیں) اور ہم نے ان (نبیوں) کے پیچھے (جن کا ذکر (آیت) یحکم بھا النبیون میں آیا ہے) عیسیٰ بن مریم ؑ کو اس حالت میں (پیغمبر بنا کر) بھیجا کہ وہ اپنے سے قبل کی کتاب یعنی توریت کی تصدیق فرماتے تھے (جو کہ لوازم رسالت سے ہے کہ تمام کتب الٓہیہ کی تصدیق کرے) اور ہم نے ان کو انجیل دی جس میں (توریت ہی کی طرح عقائد صحیحہ کی بھی) ہدایت تھی اور (احکام عملیہ کا بھی) وضوح تھا اور وہ (انجیل) اپنے سے قبل کی کتاب یعنی توریت کی تصدیق (بھی) کرتی تھی (کہ یہ بھی لوازم کتاب الٓہی سے ہے) اور وہ سراسر ہدایت اور نصیحت تھی خدا سے ڈرنے والوں کے لئے اور (ہم نے انجیل دے کر حکم کیا تھا کہ) انجیل والوں کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اس میں نازل فرمایا ہے اس کے موافق حکم کیا کریں اور (اے اس زمانہ کے نصاریٰ سن رکھو کہ) جو شخص خدا تعالیٰ کے نازل کئے ہوئے کے موافق حکم نہ کرے (اور اس کے معنی اوپر گزر چکے ہیں) تو ایسے لوگ بالکل بےحکمی کرنے والے ہیں (اور انجیل رسالت محمدیہ ﷺ کی خبر دے رہی ہے، تو تم اس کے خلاف کیوں چل رہے ہو) اور (توراة و انجیل کے بعد) ہم نے یہ کتاب (مسمیٰ بقرآن) آپ ﷺ کے پاس بھیجی ہے جو خود بھی صدق (و راستی) کے ساتھ موصوف ہے اور اس سے پہلے جو (آسمانی) کتابیں (آچکی) ہیں (جیسے توراة و انجیل و زبور) ان کی بھی تصدیق کرتی ہے، (کہ وہ نازل من اللہ ہیں) اور (چونکہ وہ کتاب مسمی بقرآن قیامت تک محفوظ و معمول بہ ہے، اور اس میں ان کتب سماویہ کی تصدیق موجود ہے اس لئے وہ کتاب) ان کتابوں (کے صادق ہونے کے مضمون) کی (ہمیشہ کے لئے) محافظ ہے (کیونکہ قرآن میں ہمیشہ یہ محفوظ رہے گا کہ وہ کتب نازل من اللہ ہیں جب قرآن ایسی کتاب ہے) تو ان (اہل کتاب) کے باہمی معاملات میں (جب کہ آپ کے اجلاس میں پیش ہوں) اسی بھیجی ہوئی کتاب کے موافق فیصلہ فرمایا کیجئے اور یہ جو سچی کتاب آپ کو ملی ہے اس سے دور ہو کر ان کی (خلاف شرع) خواہشوں (اور فرمائشوں) پر (آئندہ بھی) عملدرآمد نہ کیجئے (جیسا اب تک باوجود ان کی درخواست والتماس کے آپ ﷺ نے صاف انکار فرمایا، یعنی یہ آپ کی رائے نہایت ہی درست ہے، اسی پر ہمیشہ قائم رہئے، اور اے اہل کتاب تم کو اس قرآن کے حق جاننے سے اور اس کے فیصلہ کو ماننے سے کیوں انکار ہے ؟ کیا دین جدید کا آنا کچھ تعجب کی بات ہے ؟ آخر) تم میں سے ہر ایک (امت) کے لئے (اس کے قبل) ہم نے خاص شریعت اور خاص طریقت تجویز کی تھی (مثلاً یہود کی شریعت و طریقت توراة تھی، اور نصاریٰ کی شریعت اور طریقت انجیل تھی، پھر اگر امت محمدیہ ﷺ کے لئے شریعت و طریقت قرآن مقرر کیا گیا، جس کا حق ہونا بھی دلائل سے ثابت ہے تو وجہ انکار کیا) اور اگر اللہ تعالیٰ کو (سب کا ایک ہی طریقہ رکھنا) منظور ہوتا تو (وہ اس پر بھی قدرت رکھتے تھے کہ) تم سب (یہود و نصاریٰ و اہل اسلام) کو (ایک ہی شریعت دے کر) ایک ہی امت میں کردیتے (اور شرع جدید نہ آتی جس سے تم کو توحّش ہوتا ہے) لیکن (اپنی حکمت سے) ایسا، نہیں کیا (بلکہ ہر امت کو جدا جدا طریقہ دیا) تاکہ جو دین تم کو (ہر زمانہ میں نیا نیا) دیا ہے اس میں تم سب کا (تمہارے اظہار اطاعت کے لئے) امتحان فرما دیں (کیونکہ اکثر طبعی امر ہے کہ نئے طریقہ سے وحشت اور مخالفت کی طرف حرکت ہوتی ہے، لیکن جو شخص عقل صحیح و انصاف سے کام لیتا ہے، وہ اس ظہور حقیقت کے بعد اپنی طبیعت کو موافقت پر مجبور کردیتا ہے، اور یہ ایک امتحان عظیم ہے۔ پس اگر سب کی ایک ہی شریعت ہوتی تو اس شریعت کی ابتداء کے وقت جو لوگ ہوتے ان کا امتحان تو ہوجاتا، لیکن دوسرے جو ان کے مقلّد اور اس طریق سے مالوف ہوتے ان کا امتحان نہ ہوتا، اور اب ہر امت کا امتحان ہوگیا، اور امتحان کی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ انسان کو جس چیز سے روکا جائے خواہ معمول ہو یا متروک اس پر حرص ہوتی ہے، اور یہ امتحان شرائع کے تعدّد میں اقویٰ ہے، کہ منسوخ سے روکا جاتا ہے، اور شریعت کے اتحاد میں گو معاصی سے روکتے، لیکن ان میں حقیقت کا تو شبہ نہیں ہوتا، اس لئے امتحان اس درجہ کا نہیں، ان دونوں امتحانوں کو مجموعہ ہر امت کے سلف اور خلف سب کو عام ہوگیا، جیسا کہ صورت اوّل کو صرف سلف سے خصوصیت ہے، پس جب شرع جدید میں یہ حکمت ہے) ، تو (تعصب کو چھوڑ کر) مفید باتوں کی طرف (یعنی ان عقائد و اعمال و احکام کی طرف جن پر قرآن مشتمل ہے) دوڑو (یعنی قرآن پر ایمان لاکر اس پر چلو ایک روز) تم سب کو خدا ہی کے پاس جانا ہے پھر وہ تم سب کو جتلا دے گا جس میں تم (باوجود وضوح حق کے دنیا میں خواہ مخواہ) اختلاف کیا کرتے تھے (اس لئے اس اختلاف بےجا کو چھوڑ کر حق کو جو کہ اب منحصر ہے قرآن میں قبول کرلو) اور (چونکہ ان اہل کتاب نے ایسی بلند پروازی کی کہ آپ سے درخواست اپنے موافق مقدمہ طے کردینے کی کرتے ہیں، جہاں کہ اس کا احتمال ہی نہیں، اس لئے ان کے حوصلے پست کرنے کو اور اس کو سنا کر ہمیشہ ہمیشہ ان کے ناامید کردینے کو) ہم (مکرر) حکم دیتے ہیں کہ آپ ان (اہل کتاب) کے باہمی معاملات میں (جب کہ آپ ﷺ کے اجلاس میں پیش ہوں) اس بھیجی ہوئی کتاب کے موافق فیصلہ فرمایا کیجئے اور ان کی (خلاف شرع) خواہشوں (اور فرمائشوں) پر (آئندہ بھی) عملدرآمد نہ کیجئے (جیسا اب تک بھی نہیں کیا) اور ان سے یعنی ان کی اس بات سے (آئندہ بھی مثل سابق) احتیاط رکھئے کہ وہ آپ کو خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کسی حکم سے بھی بچلاویں (یعنی گو اس کا احتمال نہیں لیکن اس کا قصد بھی رہے تو موجب ثواب بھی ہے) پھر (باوجود وضوح قرآن اور اس کے فیصلہ کے حق ہونے کے بھی) اگر یہ لوگ (قرآن سے اور آپ ﷺ کے فیصلہ سے جو موافق قرآن کے ہوگا) اعراض کریں تو یہ یقین کرلیجئے کہ بس خدا ہی کو منظور ہے کہ ان کے بعض جرموں پر (دنیا ہی میں) ان کو سزا دیدیں (اور وہ بعض جرم فیصلہ نہ ماننا ہے اور حقانیت قرآن کے نہ ماننے کی سزا پوری آخرت میں ملے گی، کیونکہ پہلا جرم ذمّی ہونے کے خلاف ہے، اور دوسرا جرم ایمان کے خلاف حربیت کی سزا دنیا میں ہوتی ہے اور کفر کی سزا آخرت میں، چناچہ یہود کی سرکشی اور عہد شکنی جب حد سے تجاوز ہوئی تو ان کو سزا قتل اور قید اور اخراج وطن کی دی گئی) اور (اے محمد ﷺ ان کے یہ حالات سن کر آپ ﷺ کو رنج ضرور ہوگا، لیکن آپ ﷺ زیادہ غم نہ کیجئے، کیونکہ) زیادہ آدمی تو (دنیا میں ہمیشہ سے) بےحکم ہی ہوتے (آئے) ہیں یہ لوگ (فیصلہ قرآنی سے جو کہ عین عدل ہے اعراض کرکے) پھر کیا زمانہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں (جس کو انہوں نے برخلاف شرائع سماویہ کے خود مخترع کرلیا تھا، جس کا ذکر دو واقعوں کے ضمن میں اس رکوع سے پہلے رکوع (آیت) یا ایھا الرسول کی تمہید میں گزر چکا ہے، حالانکہ وہ سراسر عدل اور دلیل کے خلاف ہے، یعنی اہل علم ہو کر علم اعراض کرنا اور جہل کا طالب ہونا عجب در عجب ہے) اور فیصلہ کرنے میں اللہ سے کون اچھا (فیصلہ کرنے والا) ہوگا (بلکہ کوئی مساوی بھی نہیں، پس خدائی فیصلہ کو چھوڑ کر دوسرے کے فیصلہ کا طالب ہونا عین جہل نہیں تو کیا ہے، لیکن یہ بات بھی) یقین (و ایمان) رکھنے والوں (ہی) کے نزدیک (کیونکہ اس کا سمجھنا موقوف ہے قوت عقلیہ کی صحت پر اور وہ کفار اس سے بےنصیب ہیں)۔
معارف و مسائل
آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت میں ارشاد فرمایا
اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ،”یعنی ہم نے اپنی کتاب تورات بھیجی جس میں حق کی طرف رہنمائی اور ایک خاص نور تھا“۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ آج جو شریعت توراة کو منسوخ کیا جا رہا ہے تو اس میں تورات کی کوئی تنقیص نہیں، بلکہ تغیر زمانہ کے سبب سے تغیر احکام کی ضرورت کے ماتحت ایسا کیا گیا، ورنہ تورات بھی ہماری نازل کردہ کتاب ہے، اس میں بنی اسرائیل کے لئے اصول ہدایت بھی مذکور ہیں، اور ایک خاص نور بھی ہے، جو روحانی طور پر ان کے قلوب پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اس کے بعد ارشاد فرمایايَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِيْنَ هَادُوْا وَالرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ ”یعنی تورات کو ہم نے اس لئے نازل کیا تھا کہ جب تک اس کی شریعت کو منسوخ نہ کیا جائے اس وقت تک آنے والے انبیاء اور ان کے نائب اللہ والے اور علماء سب اسی تورات کے مطابق فیصلے کیا کریں، اسی قانون کو دنیا میں چلایا کریں، اس میں انبیاء (علیہم السلام) کے نائبین کو دو قسموں میں ذکر فرمایا ہے، پہلے ربانیون دوسرے احبار، لفظ ربانی رب کی طرف منسوب ہے، جس کے معنی ہیں اللہ والا، اور احبار، حبر کی جمع ہے، یہود کے محاورہ میں عالم کو حبر کہا جاتا تھا، اگرچہ یہ بات بظاہر ہے کہ جو اللہ والا ہوگا ضروری ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام کا علم بھی ہو، ورنہ بغیر علم کے عمل نہیں ہوسکتا، اور بغیر احکام الہیہ کی اطاعت و عمل کے کوئی شخص اللہ والا نہیں ہو سکتا، اسی طرح اللہ کے نزدیک عالم اسی کو کہا جاتا ہے جو اپنے علم پر عمل بھی کرتا ہو، ورنہ وہ عالم جو احکام الٓہیہ سے واقف ہونے کے باوجود ضروری فرائض و واجبات پر بھی عمل نہیں کرتا نہ اس کی طرف کوئی دھیان دیتا ہے وہ اللہ و رسول کے نزدیک جاہل سے بدتر ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر اللہ والا عالم ہوتا ہے، اور ہر عالم اللہ والا ہوتا ہے۔ مگر اس جگہ ان دونوں کو الگ الگ بیان فرما کر اس بات پر متنبہ فرما دیا کہ اگرچہ اللہ والے کے لئے علم ضروری اور عالم کے لئے عمل ضروری ہے، لیکن جس پر جس رنگ کا غلبہ ہو اس کے اعتبار سے اس کا نام رکھا جاتا ہے، جس شخص کی توجہ زیادہ تر عبادات و عمل اور ذکر اللہ میں مصروف ہے اور علم دین صرف بقدر ضرورت حاصل کرلیتا ہے وہ زبانی یعنی اللہ والا کہلاتا ہے، جس کو آج کل کی اصطلاح میں شیخ، مرشد، پیر وغیرہ کے نام دیئے جاتے ہیں، اور جو شخص عملی مہارت پیدا کرکے لوگوں کو احکام شرعیہ بتلانے سکھلانے کی خدمت میں زیادہ مشغول ہے اور فرائض و واجبات اور سنن مؤ کدہ کے علاوہ دوسری نفلی عبادات میں زیادہ وقت نہیں لگا سکتا، اس کو حبر یا عالم کہا جاتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس میں شریعت و طریقت اور علماء و مشائخ کی اصلی وحدت کو بھی بتلا دیا، اور طریقہ کار اور غالب مشغلہ کے اعتبار سے ان میں فرق کو بھی واضح کردیا جس سے معلوم ہوگیا کہ علماء اور صوفیاء کوئی دو فرقے یا دو گروہ نہیں، بلکہ دونوں کا مقصد زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری ہے، البتہ اس مقصد کے حصول کے لئے ان کے طریق کار صورةً متغائر نظر آتے ہیں۔
اس کے بعد ارشاد فرمایابِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَكَانُوْا عَلَيْهِ شُهَدَاۗءَ ، یعنی یہ انبیاء اور ان کے دونوں قسم کے نائبین علماء و مشائخ تورات کے احکام جاری کرنے کے پابند اس لئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے توراة کی حفاظت ان کے ذمہ لگا دی تھی اور انہوں نے اس کی حفاظت کا عہدوپیمان کرلیا تھا۔
یہاں تک تورات کے کتاب الہی ہونے اور ہدایت و نور ہونے کا اور اس کا ذکر تھا کہ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے سچے نائبین مشائخ اور علماء نے اس کی حفاظت فرمائی، اس کے بعد موجودہ زمانہ کے یہودیوں کو ان کی کجروی پر اور اس کجروی کے اصلی سبب پر متنبہ فرمایا گیا کہ تم نے بجائے اس کے کہ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چل کر تورات کی حفاظت اور تفصیل کے ساتھ نبی آخر الزمان محمد مصطفیٰ ﷺ کے آنے کی خبر اور یہود کو ان پر ایمان لانے کی ہدایت مذکور تھی، ان لوگوں نے اس کی خلاف ورزی کی اور رسول کریم ﷺ پر ایمان لانے کے بجائے آپ کی مخالفت شروع کردی اور ساتھ ہی ان کی اس مہلک غلطی کا سبب بھی بیان فرما دیا، کہ وہ تمہاری حب جاہ اور حب مال ہے، تم رسول کریم ﷺ کو رسول برحق جاننے کے باوجود آپ ﷺ کے اتباع سے اس لئے گھبراتے ہو کہ اب تو تم اپنی قوم کے مقتدا مانے جاتے ہو، یہودی عوام تمہارے پیچھے چلتے ہیں، اگر تم نے اسلام قبول کرلیا تو تم ایک فرد مسلم کی حیثیت میں آجاؤ گے یہ چودھراہٹ ختم ہوجائے گی، دوسرے ان لوگوں نے یہ پیشہ بنا لیا تھا کہ بڑے لوگوں سے رشوت لے کر ان کے لئے احکام تورات میں تحریف کرکے آسانیاں پیدا کردی تھیں۔ اس پر متنبہ فرمانے کے لئے موجود زمانہ کے یہود کو فرمایا کہ
فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِيْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا، یعنی تم لوگوں سے نہ ڈرو کہ وہ تمہارا اتباع چھوڑ دیں گے یا مخالف ہوجائیں گے، اور تم دنیا کی متاع قلیل لے کر ان کے لئے احکام الٓہی میں گڑبڑ نہ کرو کہ یہ تمہارے لئے دین و دنیا کی بربادی ہے، کیونکہ ۭوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ ، یعنی جو لوگ اللہ کے نازل کئے ہوئے احکام کو واجب نہیں سمجھتے اور ان پر فیصلہ نہیں دیتے، بلکہ ان کے خلاف فیصلہ کرتے ہیں، وہ کافر و منکر ہیں، جن کی سزا دائمی عذاب جہنم ہے۔
Ayahs 5:45–46اس کے بعد دوسری آیت میں احکام قصاص اس حوالہ سے بیان کئے گئے ہیں، کہ ہم نے یہ احکام تورات میں نازل کئے ہیں، ارشاد ہےوَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بالنَّفْسِ ۙوَالْعَيْنَ بالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بالسِّنِّ ۙ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ، یعنی ہم نے یہود کے لئے توراة میں یہ حکم قصاص نازل کردیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلہ ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور خاص زخموں کا بدلہ ہے۔
بنو قریظہ، بنو نضیر کا جو مقدمہ حضور ﷺ کے سامنے پیش ہوا تھا وہ بنو نضیر نے اپنی قوت و شوکت کے بل بوتہ پر بنو قریظہ کو اس پر مجبور کر رکھا تھا کہ بنو نضیر کے کسی آدمی کو ان کا آدمی قتل کر دے تو اس کا قصاص بھی جان کے بدلے جان سے لیا جائے اور اس کے علاوہ خون بہا یعنی دیت بھی لی جائے، اور اگر معاملہ برعکس ہو کہ بنو نضیر کا آدمی بنو قریضہ کے آدمی کو مار ڈالے تو کوئی قصاص نہیں، صرف دیت یعنی خون بہا دیا جائے وہ بھی بنو نضیر سے آدھا۔
اس آیت میں حق تعالیٰ نے ان لوگوں کی اس چوری کا پردہ چاک کردیا کہ خود توراة میں بھی قصاص اور دیت کی مساوات کے احکام موجود ہیں یہ لوگ جان بوجھ کر ان سے روگردانی کرتے ہیں، اور محض حیلہ جوئی کے لئے اپنا مقدمہ حضور ﷺ کے پاس لاتے ہیں۔
آخر آیت میں ارشاد فرمایاوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ، یعنی جو اللہ کے نازل کردہ احکام پر حکم نہ دیں وہ ظالم ہیں، کیونکہ احکام خداوندی کے منکر اور باغی ہیں، تیسری آیت میں اول حضرت عیسیٰ ؑ کی بعثت کا ذکر ہے کہ وہ پچھلی کتاب یعنی توریت کی تصدیق کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے، پھر انجیل کا ذکر ہے کہ وہ بھی توریت کی طرح ہدایت اور نور ہے۔
Ayah 5:47چوتھی آیت میں ارشاد فرمایا کہ اہل انجیل کو چاہیے کہ جو قانون اللہ تعالیٰ نے انجیل میں نازل فرمایا ہے اس کے مطابق احکام نافذ کریں۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے خلاف حکم جاری کریں وہ نافرمان اور سرکش ہیں۔
Ayahs 5:48–50قرآن تورات و انجیل کا بھی محافظ ہے
پانچویں اور چھٹی آیات میں نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے کہ ہم نے آپ ﷺ پر قرآن نازل کیا جو اپنے سے پہلی کتابوں تورات و انجیل کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ اور ان کا محافظ بھی ہے، کیونکہ جب اہل تورات نے تورات میں اور اہل انجیل نے انجیل میں تحریف اور تغیر و تبدل کیا تو قرآن ہی وہ محافظ و نگران ثابت ہوا جس نے ان کی تحریفات کا پردہ چاک کرکے حق اور حقیقت کو روشن کردیا اور تورات و انجیل کی اصلی تعلیمات آج بھی قرآن ہی کے ذریعہ دنیا میں باقی ہیں جبکہ ان کتابوں کے وارثوں اور ان کی پیروی کے مدعیوں نے ان کا حلیہ ایسا بگاڑ دیا ہے، کہ حق و باطل کا امتیاز ناممکن ہوگیا جو اہل تورات اور اہل انجیل کو دیا گیا تھا کہ آپ کے احکام اور فیصلے سب اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق ہونے چاہئیں۔ اور یہ لوگ جو آپ سے اپنی خواہشات کے مطابق فیصلہ کرانا چاہتے ہیں، ان کے مکر سے باخبر رہیں۔ اس ارشاد کی ایک خاص وجہ یہ تھی کہ یہود کے چند علماء آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہم یہود کے علماء اور پیشوا ہیں، اگر ہم مسلمان ہوگئے تو وہ بھی سب مسلمان ہوجائیں گے۔ حق تعالیٰ نے اس پر متنبہ فرمایا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کے مسلمان ہوجانے کے پیش نظر عدل و انصاف اور اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قانون کے خلاف فیصلہ ہرگز نہ دیں۔ اور اس کی پرواہ نہ کریں کہ یہ مسلمان ہوں گے یا نہیں۔
شرائع انبیاء میں جزوی اختلاف اور اس کی حکمت
اس آیت میں دوسری ہدایت کے ساتھ ایک اہم اصولی سوال کا جواب بھی بیان فرمایا گیا ہے وہ یہ کہ جب تمام انبیاء (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں، اور ان پر نازل ہونے والی کتابیں اور صحیفے اور ان کی شریعتیں سب اللہ جل شانہ کی ہی طرف سے ہیں، تو پھر ان کی کتابوں اور شریعتوں میں اختلاف کیوں ہے ؟ اور آنے والی شریعت و کتاب پچھلی شریعت و کتاب کو منسوخ کیوں کرتی ہے، اس کا جواب مع حکمت خدا وندی کے اس آیت میں بیان کیا گیالِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا ۭوَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ ، یعنی ہم نے تم میں سے ہر طبقہ کے لئے ایک خاص شریعت اور خاص طریق عمل بنایا ہے، جس میں اصول مشترک اور متفق علیہ ہونے کے باوجود فروعی احکام میں کچھ اختلافات بمصلحت ہوتے ہیں، اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس کے لئے کچھ مشکل نہ تھا کہ تم سب کو ایک ہی امت ایک ہی ملت بنا دیتا، سب کی ایک ہی کتاب ایک ہی شریعت ہوتی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو اس لئے پسند نہیں کیا کہ لوگوں کی آزمائش مقصود تھی کہ کون لوگ ہیں جو عبادت کی حقیقت سے واقف ہو کر ہر وقت گوش برآواز رہتے ہیں کہ جو حکم ملے اس کی تعمیل کریں، جو نئی کتاب یا شریعت آئے اس کا اتباع کریں، اور پہلی شریعت و کتاب ان کو کتنی محبوب ہو، اور آبائی مذہب ہوجانے کے سبب اس کا ترک کرنا ان پر کتنا ہی شاق ہو، مگر وہ ہر وقت گوش برآواز اطاعت کے لئے تیار رہتے ہیں، اور کون ہیں جو اس حقیقت سے غافل ہو کر کسی خاص شریعت یا کتاب کو مقصد بنا بیٹھے اور اس کو ایک آبائی مذہب کی حیثیت سے لئے ہوئے ہیں اس کے خلاف کسی حکم خداوندی پر کان نہیں دھرتے۔
اختلاف شرائع میں یہ ایک بڑی حکمت ہے جس کے ذریعہ ہر زمانے ہر طبقہ کے لوگوں کو صحیح عبادت و عبودیت کی حقیقت سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ درحقیقت عبادت نام ہے بندگی اور اطاعت و پیروی کا جو نماز، روزہ، حج، زکوٰة یا ذکر و تلاوت میں منحصر نہیں اور نہ یہ چیزیں اپنی ذات میں مقاصد ہیں، بلکہ ان سب کا مقصد صرف ایک حکم الٓہی کی اطاعت ہے، یہی وجہ ہے کہ جن اوقات میں نماز کی ممانعت فرمائی گئی ہے، ان میں نماز کوئی کار ثواب نہیں بلکہ الٹا گناہ کا موجب ہے۔ ایام عیدین وغیرہ جن میں روزہ رکھنا ممنوع ہے تو اس وقت روزہ رکھنا گناہ ہے۔ نویں ذی الحجہ کے علاوہ کسی دن کسی مہینہ میں میدان عرفات میں جمع ہو کر دعا و عبادت کرنا کار ثواب نہیں جبکہ نویں ذی الحجہ میں سب سے بڑی عبادت یہی ہے اسی طرح تمام دوسری عبادات کا حال ہے۔ جب تک ان کے کرنے کا حکم ہے تو وہ عبادات ہیں اور جب اور جس حد پر ان کو روک دیا جائے تو وہ بھی حرام و ناجائز ہوجاتی ہیں۔ جاہل عوام اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتے، جو عبادات ان کی عادات بن جاتی ہیں بلکہ جن قومی رسوم کو وہ عبادات سمجھ کر اختیار کرلیتے ہیں، صریح احکام خدا اور رسول کو بھی ان کے پیچھے نظر انداز کردیتے ہیں یہیں سے بدعات و محدثات دین کا جزو بن جاتی ہیں، جو پچھلی شریعتوں اور کتابوں کی تحریف کا سبب ہوئی ہیں، اللہ جل شانہ نے مختلف پیغمبروں پر مختلف کتابیں اور شریعتیں نازل فرما کر انسانوں کو یہی سکھایا ہے کہ کسی ایک عمل یا ایک قسم عبادت کو مقصود نہ بنالیں۔ بلکہ صحیح معنی میں اللہ کے فرمانبردار بندے بنیں، اور جس وقت پچھلے عمل کو چھوڑ دینے کا حکم ہو فوراً چھوڑ دیں، اور جن عمل کے کرنے کا ارشاد ہو فوراً اس پر عمل پیرا ہوں۔
اس کے علاوہ اختلاف شرائع کی ایک بڑی حکمت یہ بھی ہے کہ دنیا کے ہر دور اور ہر طبقہ کے انسانوں کے مزاج و طبائع مختلف ہوتی ہیں۔ زمانہ کا اختلاف طبیعت انسانی پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتا ہے، اگر سب کے لئے فروعی احکام ایک ہی کردیئے جائیں تو انسان بڑی مشکل میں مبتلا ہوجائے، اس لئے حکمت الہیہ کا تقاضا یہ ہوا کہ ہر زمانہ اور ہر مزاج کے جذبات کی رعایت رکھ کر فروعی احکام میں مناسب تبدیلی کی جائے۔ یہاں ناسخ و منسوخ کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ حکم دینے والے کو پہلے حالات معلوم نہ تھے تو ایک حکم دیدیا۔ پھر نئے حالات سامنے آئے تو اس کو منسوخ کردیا، یا پہلے غفلت و غلطی سے کوئی حکم صادر کردیا تھا، پھر متنبہ ہوا تو بدل دیا، بلکہ شرائع میں ناسخ و منسوخ کی مثال بالکل ایک حکیم یا ڈاکٹر کے نسخہ کی مثال ہے کہ جس میں دوائیں تدریجاً بدل جاتی ہیں کہ حکیم ڈاکٹر کو پہلے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ تین روز اس دوا کا استعمال کرنے کے بعد مریض پر یہ کیفیات طاری ہوجائیں گی اس وقت فلاں دوا دی جائے گی، جب وہ پچھلا نسخہ منسوخ کرکے دوسرا دیتا ہے تو یہ کہنا صحیح نہیں ہوتا کہ پچھلا نسخہ غلط تھا اس لئے منسوخ کیا گیا، بلکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ پچھلے ایام میں وہی نسخہ صحیح اور ضروری تھا، اور بعد کے حالات میں یہی دوسرا نسخہ صحیح اور ضروری ہے۔
آیات مذکورہ میں آئے ہوئے صریح اور ضمنی احکام کا خلاصہ
اول ابتدائی آیات سے معلوم ہوا کہ یہود کا مقدمہ جو آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش ہوا تھا۔ اور آپ ﷺ نے اس کا فیصلہ فرمایا تو یہ فیصلہ شریعت تورات کے مطابق تھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ پچھلی شریعتوں میں جو احکام الہیہ نافذ تھے جب تک قرآن یا وحی الٓہی نے ان کو منسوخ نہ کیا ہو، وہ بدستور باقی رہتے ہیں، جیسا کہ یہود کے مقدمات میں قصاص کی مساوات اور سزائے زنا میں سنگساری کا حکم تورات میں بھی تھا، پھر قرآن نے بھی اس کو بعینہ باقی رکھا۔
اسی طرح دوسری آیت میں زخموں کے قصاص کا حکم جو بحوالہ تورات بیان کیا گیا ہے اسلام میں بھی یہی حکم آنحضرت ﷺ نے جاری فرمایا۔ اسی بنا پر جمہور علماء اسلام کے نزدیک ضابطہ یہ ہے کہ پچھلی شریعتوں کے وہ احکام جن کو قرآن نے منسوخ نہ کیا ہو وہ ہماری شریعت میں بھی نافذ اور واجب الاتباع ہیں، یہی وجہ ہے کہ آیات مذکورہ میں اہل تورات کو تورات کے مطابق اور اہل انجیل کو انجیل کے مطابق حکم دینے اور عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، حالانکہ یہ دونوں کتابیں اور ان کی شریعتیں آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد منسوخ ہوچکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تورات و انجیل کے جو احکام قرآن نے منسوخ نہیں کئے وہ آج بھی واجب الاتباع ہیں۔
تیسرا حکم ان آیات میں یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کئے ہوئے احکام کے خلاف حکم دینا بعض صورتوں میں کفر ہے جبکہ اعتقاد میں بھی اس کو حق نہ جانتا ہو، اور بعض صورتوں میں ظلم و فسق ہے، جبکہ عقیدہ کی رو سے تو ان احکام کو حق مانتا ہے، مگر عملاً اس کے خلاف کرتا ہے۔
چوتھا حکم ان آیات میں یہ آیا ہے کہ رشوت لینا مطلقاً حرام ہے۔ اور خصوصاً عدالتی فیصلہ پر رشوت لینا اور بھی زیادہ اشد ہے۔
پانچواں حکم ان آیات سے یہ واضح ہوا کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی شریعتیں اصول میں تو بالکل متفق اور متحد ہیں، مگر جزوی اور فروعی احکام ان میں مختلف ہیں اور یہ اختلاف بڑی حکمتوں پر مبنی ہے۔
Ayah 5:51خلاصہ تفسیر۔
آیات مذکورہ میں تین اہم اصولی مضامین کا بیان ہے جو مسلمانوں کی اجتماعی اور ملی وحدت و شیرازہ بندی کے بنیادی اصول ہیں
اول یہ کہ مسلمان غیر مسلموں سے رواداری، ہمدردی، خیر خواہی، عدل و انصاف اور احسان و سلوک سب کچھ کرسکتے ہیں، اور ایسا کرنا چاہیے کہ ان کو اس کی تعلیم دی گئی ہے۔ لیکن ان سے ایسی گہری دوستی اور خلط ملط جس سے اسلام کے امتیازی نشانات گڈ مڈ ہوجائیں اس کی اجازت نہیں۔ یہی وہ مسئلہ ہے جو ”ترک موالات“ کے نام سے معروف ہے۔
دوسرا مضمون یہ ہے کہ اگر کسی وقت کسی جگہ مسلمان اسی بنادی اصول سے ہٹ کر غیر مسلموں سے ایسا غلط ملط کرلیں تو یہ نہ سمجھیں کہ اس سے اسلام کو کوئی گزند اور نقصان پہنچے گا۔ کیونکہ اسلام کی حفاظت اور بقاء کی ذمہ داری حق تعالیٰ نے لی ہے، اس کو کوئی نہیں مٹا سکتا، اگر کوئی قوم بِرَٹ جائے اور حدود شرعیہ کو توڑ کر فرض کرلو کہ اسلام ہی کو چھوڑ بیٹھے تو اللہ تعالیٰ کسی دوسری قوم کو کھڑا کردیں گے جو اسلام کے اصول و قانون کو قائم کرے گی۔
تیسرا مضمون یہ ہے کہ جب ایک طرف منفی پہلو معلوم ہوگیا تو مسلمان کی گہری دوستی تو صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ اور ان پر ایمان لانے والوں ہی کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ یہ اجمال ہے ان مضامین کا جو مذکورہ بالا پانچ آیتوں میں بیان ہوئے ہیں۔ اب ان آیتوں کی مختصر تفسیر دیکھئے
اے ایمان والو تم (منافقوں کی طرح) یہود و نصاریٰ کو (اپنا) دوست مت بنانا وہ (خود ہی) ایک دوسرے کے دوست ہیں (یعنی یہودی یہودی باہم اور نصرانی نصرانی باہم، مطلب یہ ہے کہ دوستی ہوتی ہے مناسبت سے، سو ان میں باہم تو مناسبت ہے مگر تم میں اور ان میں کیا مناسبت) اور (جب جملہ مذکورہ سے معلوم ہوا کہ دوستی ہوتی ہے تناسب سے تو) جو شخص تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے گا بیشک وہ (کسی خاص مناسبت کے اعتبار سے) ان ہی میں سے ہوگا (اور گویہ یہ امر ظاہر ہے لیکن) یقینا اللہ تعالیٰ (اس امر کی) سمجھ ہی نہیں دیتے ان لوگوں کو جو (کفار سے دوستی کرکے) اپنا نقصان کر رہے ہیں (یعنی دوستی میں منہمک ہونے کی وجہ سے یہ بات ان کی سمجھ ہی میں نہیں آتی، اور چونکہ ایسے لوگ اس امر کو نہیں سمجھتے) اسی لئے (اے دیکھنے والے) تم ایسے لوگوں کو کہ جن کے دل میں (نفاق کا) مرض ہے دیکھتے ہو کہ دوڑ دوڑ کر ان (کفار) میں گھستے ہیں (اور ملامت کرے تو حیلہ بازی اور سخن سازی کے لئے یوں) کہتے ہیں کہ (ہمارا ملنا ان کے ساتھ دل سے نہیں، بلکہ دل سے تو تمہارے ساتھ ہیں صرف ایک مصلحت سے ان کے ساتھ ملتے ہیں وہ یہ کہ) ہم کو اندیشہ ہے کہ (شاید انقلاب زمانہ سے) ہم پر کوئی حادثہ پڑجائے (جیسے قحط ہے، تنگی ہے، اور یہ یہودی ہمارے ساہوکار ہیں ان سے قرض ادھار مل جاتا ہے، اگر ظاہری میل جول قطع کردیں گے تو وقت پر ہم کو تکلیف ہوگی، ظاہراً نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ کا یہ مطلب لیتے تھے۔ لیکن دل میں اور مطلب لیتے کہ شاید آخر میں مسلمانوں پر کفار کے غالب آجانے سے پھر ہم کو ان کی احتیاج پڑے اس لئے ان سے دوستی رکھنا چاہئے) سو قریب امید (یعنی وعدہ) ہے کہ اللہ تعالیٰ (مسلمانوں کی کامل) فتح (ان کفار کے مقابلہ میں جن سے یہ دوستی کر رہے ہیں) فرما دے (جس میں مسلمانوں کی کوشش کا بھی دخل ہوگا) یا کسی اور بات کا خاص اپنی طرف سے (ظہور فرما دے۔ یعنی ان کے نفاق کا علی التعیین بذریعہ وحی کے عام اظہار فرما دیں جس میں مسلمانوں کی تدبیر کا اصلاً دخل نہیں۔ مطلب یہ کہ مسلمانوں کی فتح اور ان کی پردہ دری دونوں امر قریب ہونے والے ہیں) پھر (اس وقت) اپنے (سابق) پوشیدہ دلی خیالات پر نادم ہوں گے۔ (کہ ہم کیا سمجھتے تھے کہ کفار غالب آویں گے اور یہ کیا برعکس ہوگیا۔ ایک ندامت تو اپنے خیال کی غلطی پر کہ امر طبعی ہے۔ دوسری ندامت اپنے نفاق پر جس کی بدولت آج رسوا ہوئے، مَآ اَ سَرُّوْا میں یہ دونوں داخل ہیں، اور یہ تیسری ندامت کہ کفار کے ساتھ دوستی کرنے پر رائگاں ہی گئی۔ اور مسلمانوں سے بھی برے بنے۔ چونکہ دوستی مَآ اَ سَرُّوْا پر مبنی تھی۔ لہذا ان دو ندامتوں کے ذکر سے یہ تیسری بلا ذکر صریح خود مفہوم ہوگئی) اور (جب اس زمانہ فتح میں ان لوگوں کا نفاق بھی کھل جائے گا تو آپس میں) مسلمان لوگ (تعجب سے) کہیں گے ارے کیا یہ وہی لوگ ہیں کہ بڑے مبالغہ سے (ہمارے سامنے) قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم (دل سے) تمہارے ساتھ ہیں (یہ تو کچھ اور ہی ثابت ہوا اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ) ان لوگوں کی ساری کاروائیاں (کہ دونوں فریق سے بھلا رہنا چاہتے تھے سب) غارت گئیں جس سے (دونوں طرف سے) ناکام رہے (کیونکہ کفار تو مغلوب ہوگئے۔ ان کا ساتھ دینا محض بیکار ہے اور مسلمانوں کے سامنے قلعی کھل گئی، ان سے اب بھلا بننا دشوار۔ وہی مثل ہوگئی ”ازیں سو راندہ ازاں سو ماندہ) اے ایمان والو (یعنی جو لوگ وقت نزول اس آیت کے ایمان والے ہیں) جو شخص تم میں سے اپنے (اس) دین سے پھرجائے تو (اسلام کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ اسلامی خدمات انجام دینے کے لئے) اللہ تعالیٰ بہت جلد (ان کی جگہ) ایسی قوم کو پیدا کر دے گا جن سے اللہ تعالیٰ کو محبت ہوگی اور ان کو اللہ تعالیٰ سے محبت ہوگی مہربان ہوں گے وہ مسلمانوں پر، تیز ہوں گے کافروں پر (کہ ان سے) جہاد کرتے ہوں گے اللہ کی راہ میں اور (دین اور جہاد کے مقدمہ میں) وہ لوگ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ کریں گی (جیسا منافقین کا حال ہے کہ دبے دبائے جہاد کے لئے جاتے تھے۔ مگر اندیشہ لگا رہتا تھا کہ کفار جن سے دل میں دوستی ہے ملامت کریں گے، یا اتفاق سے جن کے مقابلہ میں جہاد ہے وہی اپنے دوست اور عزیز ہوں تو سب دیکھتے سنتے طعن کریں گے کہ ایسوں کو مارنے گئے تھے) یہ (صفات مذکورہ) اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، جس کو چاہیں عطا فرما دیں اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں (کہ اگر چاہیں تو سب کو یہ صفات دے سکتے ہیں لیکن) بڑے علم والے (بھی) ہیں (ان کے علم میں جس کو دینا مصلحت ہوتا ہے اس کو دیتے ہیں) تمہارے دوست تو (جن سے تم کو دوستی رکھنا چاہئے) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ اور ایماندار لوگ ہیں جو کہ اس حالت سے نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں کہ ان (کے دلوں) میں خشوع ہوتا ہے، (یعنی عقائد، اخلاق و اعمال بدنی و مالی سب کے جامع ہیں) اور جو شخص (موافق مضمون مذکور) اللہ سے دوستی رکھے گا اور اس کے رسول سے اور ایمان دار لوگوں سے سو (وہ اللہ کے گروہ میں داخل ہوگیا اور) اللہ کا گروہ بیشک غالب ہے (اور کفار مغلوب ہیں، غالب سے مغلوب کی سازگاری اور دوستی کی فکر کرنا محض نازیبا ہے) اے ایمان والو ! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب (آسمانی یعنی تورات و انجیل) مل چکی ہے (مراد یہود و نصاریٰ) جو ایسے ہیں کہ انہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنا رکھا ہے (جو علامت ہے تکذیب کی) ان کو اور (اسی طرح) دوسرے کفار کو (بھی جیسے مشرکین وغیرہ) دوست مت بناؤ (کیونکہ اصل علّت کفر و تکذیب تو مشترک ہے) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو اگر تم ایمان دار ہو (یعنی ایمان دار تو ہو ہی پس جس چیز سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے اس کو مت کرو) اور (جیسے اصول دین کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں، اسی طرح فروع کے ساتھ بھی چنانچہ) جب تم نماز کے لئے (اذان کے ذریعہ سے) اعلان کرتے ہو تو وہ لوگ (تمہاری) اس (عبادت) کے ساتھ (جس میں اذان اور نماز دونوں آگئیں) ہنسی اور کھیل کرتے ہیں (اور) یہ (حرکت) اس سبب سے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ بالکل عقل نہیں رکھتے (ورنہ امر حق کو سمجھتے اور اس کے ساتھ ہنسی نہ کرتے)۔
معارف و مسائل
پہلی آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ یہود و نصاریٰ سے موالات (یعنی گہری دوستی) نہ کریں جیسا کہ عام غیر مسلموں کا اور یہود و نصاریٰ کا خود یہی دستور ہے کہ وہ گہری دوستی کو صرف اپنی قوم کے لئے مخصوص رکھتے ہیں، مسلمانوں سے یہ معاملہ نہیں کرتے۔
پھر اگر کسی مسلمان نے اس کی خلاف ورزی کرکے کسی یہود یا نصرانی سے گہری دوستی کرلی تو وہ اسلام کی نظر میں بجائے مسلمان کے اسی قوم کا فرد شمار ہونے کے قابل ہے۔
شان نزول
امام تفسیر ابن جریر نے بروایت عکرمہ ؓ بیان فرمایا ہے کہ یہ آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہے، وہ یہ کہ رسول کریم ﷺ نے مدینہ طیبہ میں تشریف فرما ہونے کے بعد ان اطراف کے یہود و نصاریٰ سے ایک معاہدہ اس پر کرلیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف نہ خود جنگ کریں گے، نہ کسی جنگ کرنے والی قوم کی امداد کریں گے۔ بلکہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔ اسی طرح مسلمان نہ ان لوگوں سے جنگ کریں گے نہ ان کے خلاف کسی قوم کی امداد کریں گے بلکہ مخالف کا مقابلہ کریں گے۔ کچھ عرصہ تک یہ معاہدہ جانبین سے قائم رہا، لیکن یہودی اپنی سازشی فطرت اور اسلام دشمن طبیعت کی وجہ سے اس معاہدہ پر زیادہ قائم نہ رہ سکے اور مسلمانوں کے خلاف مشرکین مکہ سے سازش کرکے ان کو قلعہ میں بلانے کے لئے خط لکھ دیا۔ رسول کریم ﷺ پر جب اس سازش کا انکشاف ہوا تو آپ ﷺ نے ان کے مقابلہ کے لئے ایک دستہ مجاہدین کا بھیج دیا۔ بنو قریظہ کے یہ یہودی ایک طرف تو مشرکین مکہ سے یہ سازش کر رہے تھے اور دوسری طرف مسلمانوں میں گھسے ہوئے بہت سے مسلمانوں سے دوستی کے معاہدے کئے ہوئے تھے۔ اور اس طرح مسلمانوں کے خلاف مشرکین کے لئے جاسوسی کا کام انجام دیتے تھے۔ اس لئے یہ آیت مذکورہ نازل ہوئی جس نے مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ کی گہری دوستی سے روک دیا، تاکہ مسلمانوں کی خاص خبریں معلوم نہ کرسکیں۔ اس وقت بعض صحابہ کرام حضرت عبادہ بن صامت وغیرہ نے تو کھلے طور پر ان لوگوں سے اپنا معاہدہ ختم اور ترک موالات کا اعلان کردیا۔ اور بعض لوگ جو منافقانہ طور پر مسلمانوں سے ملے ہوئے تھے یا ابھی ایمان ان کے دلوں میں رچا نہیں تھا ان لوگوں سے قطع تعلق کردینے میں یہ خطرات محسوس کرتے تھے کہ ممکن ہے کہ مشرکین و یہود کی سازش کامیاب ہوجائے اور مسلمان مغلوب ہوجائیں تو ہمیں ان لوگوں سے بھی ایسا معاملہ رکھنا چاہئے کہ اس وقت ہمارے لئے مصیبت نہ ہوجائے۔ عبداللہ بن ابی بن سلول نے اسی بناء پر کہا کہ ان لوگوں سے قطع تعلق میں تو مجھے خطرہ ہے۔ اس لئے ایسا نہیں کرسکتا اس پر دوسری آیت نازل ہوئی۔
Ayah 5:52فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْهِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ۔
یعنی ترک موالات کا حکم شرعی سن کر وہ لوگ جن کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے اپنے کافر دوستوں کی طرف دوڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان سے قطع تعلق کرنے میں تو ہمارے لئے خطرات ہیں۔
اللہ جل شانہ نے ان کے جواب میں فرمایافَعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَ بالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَيُصْبِحُوْا عَلٰي مَآ اَ سَرُّوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِيْنَ ، یعنی یہ لوگ تو اس خیال میں ہیں کہ مشرکین اور یہود مسلمانوں پر غالب آجائیں گے، مگر اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما چکے ہیں کہ ایسا نہیں ہوگا۔ بلکہ قریب ہے کہ مکہ فتح ہوجائے، یا فتح مکہ سے پہلے اللہ تعالیٰ ان منافقین کے نفاق کا پردہ چاک کرکے ان کو رسوا کر دے، تو اس وقت یہ لوگ اپنے مخفی خیالات پر نادم ہوں گے۔
Ayah 5:53تیسری آیت میں اس کی مزید تشریح اس طرح بیان فرمائی کہ جب منافقین کے نفاق کا پردہ چاک ہوگا اور ان کی دوستی کے دعو وں اور قسموں کی حقیقت کھلے گی تو مسلمان حیرت میں رہ جائیں گے اور کہیں گے کہ کیا یہ وہی ہیں جو ہم سے اللہ تعالیٰ کی مغلظ قسمیں کھا کر دوستی کا دعویٰ کرتے تھے اور آج ان کا یہ حشر ہوا کہ ان کے سب اسلامی اعمال جو محض دکھلاوے کے لئے کیا کرتے تھے ضائع ہوگئے۔ اور اللہ جل شانہ نے ان آیات میں جو فتح مکہ اور منافقین کی رسوائی کا ذکر فرمایا ہے وہ چند روز کے بعد سب نے آنکھوں سے دیکھ لیا۔