5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsمعارف القرآن

Ayah 5:5

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ١٘ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ١٘ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 5:5 in the Quran reader

آج حلال ہوئیں تم کو سب ستھری چیزیں اور اہل کتاب کا کھانا تم کو حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کو حلال ہے اور حلال ہیں تم کو پاک دامن عورتیں مسلمان اور پاک دامن عورتیں ان میں سے جن کو دی گئی کتاب تم سے پہلے جب دو ان کو مہر ان کے قید میں لانے کو نہ مستی نکالنے کو اور نہ چھپی آشنائی کرنے کو اور جو منکر ہوا ایمان سے تو ضائع ہوئی محنت اس کی اور آخرت میں وہ ٹوٹے والوں میں ہے۔

خلاصہ تفسیر آج (تم پر جیسے دینی ابدی انعام ہوا کہ اکمال دین سے مشرف کئے گئے۔ اسی طرح ایک معتدبہ دنیوی ابدی انعام بھی ہوا کہ) تمہارے لئے حلال چیزیں (کہ اس سے پہلے حلال کردی گئی تھیں ہمیشہ کے لئے) حلال رکھی گئیں (کہ کبھی منسوخ نہ ہوں گی) اور جو لوگ (تم سے پہلے آسمانی) کتاب دئے گئے ہیں (یعنی یہود و نصاریٰ) ان کا ذبیحہ (بھی) تم کو حلال ہے اور (اس کا حلال ہونا ایسا ہی یقینی ہے جیسا) تمہارا ذبیحہ ان کو حلال ہے اور پارسا عورتیں بھی جو مسلمان ہوں (تم کو حلال ہیں) اور (جیسا مسلمان عورتوں کا حلال ہونا یقینی ہے اسی طرح) پارسا عورتیں ان لوگوں میں سے بھی جو تم سے پہلے کتاب (آسمانی) دئے گئے ہیں (تم کو حلال ہیں) جب تم ان کو ان کا معاوضہ دے دو (یعنی مہر دینا گو شرط نہیں مگر واجب ہے اور عورتیں مذکورہ جو حلال کی گئی ہیں تو) اس طرح سے کہ تم (ان کو) بیوی بناؤ (یعنی نکاح میں لاؤ جن کی شرطیں شرع میں معلوم ہیں) نہ تو علانیہ بدکاری کرو اور نہ خفیہ آشنائی کرو (یہ سب احکام شرعیہ ہیں جن پر ایمان لانا فرض ہے) اور جو شخص ایمان (لانے کی چیزوں) کے ساتھ کفر کرے گا (مثلاً حلال قطعی کی حلت کا یا حرام قطعی کی حرمت کا انکار کرے گا) تو اس شخص کا (ہر نیک) عمل غارت (اور اکارت) جاوے گا اور وہ شخص آخرت میں بالکل زیاں کار ہوگا (بس حلال کو حلال سمجھو اور حرام کو حرام سمجھو)۔ معارف و مسائل سورة مائدہ کی پہلی آیت میں بہیمة الانعام یعنی پالتو جانور بکری، گائے، بھینس وغیرہ کا حلال ہونا بیان فرمایا گیا ہے اور تیسری آیت میں نو قسم کے حرام جانوروں کی تفصیل ہے مگر اس تفصیل سے اس کے ابتدائی جملہ میں اس پورے باب کا خلاصہ اس طرح بیان فرما دیا ہے کہ اس میں جانوروں کی حلت و حرمت کا خاصہ بھی معلوم ہوگیا۔ اور اس کا ایک معیار و اصول بھی۔ ارشاد ہےالیوم احل لکم الطیبت یعنی آج تمہارے لئے حلال ہوئیں سب صاف ستھری چیزیں۔ آج سے مراد وہ دن ہے جس میں یہ آیت اور اس سے پہلی آیات نازل ہوئی ہیں۔ یعنی حجة الوداع 10 ھ کا یوم عرفہ۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے آج تمہارے لئے دین کامل مکمل کردیا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ کی نعمت تم پر مکمل ہوگئی، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی پاکیزہ چیزیں جو پہلے بھی تمہارے لئے حلال تھیں، دائمی طور پر حلال رکھی گئیں۔ اور ان کے منسوخ ہونے کا احتمال ختم ہوا۔ کیونکہ سلسلہ وحی ختم ہونے والا ہے۔ اس جملہ میں طیبات حلال ہونے کا بیان ہے اور ایک دوسری آیت میں ارشاد ہےیحل لہم الطیبت ویحرم علیہم الخبائث۔ یعنی حلال کرتا ہے ان کے لئے طیبات اور حرام کرتا ہے ان پر خبائث۔ اس میں طیبات کے بالمقابل خبائث لاکر ان دونوں لفظوں کی حقیقت واضح کردی گئی۔ لُغت میں طیبات صاف ستھری اور مرغوب چیزوں کو کہا جاتا ہے۔ اور خبائث اس کے بالمقابل گندی اور قابل نفرت چیزوں کے لئے بولا جاتا ہے۔ اس لئے آیت کے اس جملہ نے یہ بتلا دیا کہ جتنی چیزیں صاف ستھری مفید اور پاکیزہ ہیں وہ انسان کے لئے حلال کی گئیں، اور جو گندی قابل نفرت اور مضر ہیں وہ حرام کی گئی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ انسان دوسرے جانوروں کی طرح نہیں ہے کہ اس کا مقصد زندگی دنیا میں کھانے، پینے، سونے، جاگنے اور جینے مرنے تک محدود ہو۔ اس کو قدرت نے مخدوم کائنات کسی خاص مقصد سے بنایا ہے اور وہ مقصد اعلیٰ پاکیزہ اخلاق کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے بد اخلاق انسان در حقیقت انسان کہلانے کے قابل نہیں۔ اسی لئے قرآن کریم نے ایسے لوگوں کے متعلق فرمایابل ہم اضل۔ یعنی وہ چوپاؤں سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔ اور جب انسان کی انسانیت کا مدار اصلاح اخلاق پر ہو تو ضروری ہے کہ جتنی چیزیں انسانی اخلاق کو گندہ اور خراب کرنے والی ہیں ان سے اس کا مکمل پرہیز کرایا جائے۔ انسان کے اخلاق پر اس کے گرد و پیش کی چیزوں اور اس کی سوسائٹی کا اثر پڑنا بدیہی طور پر ہر شخص جانتا ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ جب گردوپیش کی چیزوں سے انسانی اخلاق متاثر ہوتے ہیں تو جو چیزیں انسان کے بدن کا جزو بنتی ہیں ان سے اخلاق کس قدر متاثر ہوں گے۔ اس لئے کھانے پینے کی ساری چیزوں میں اس کی احتیاط لازمی ہوئی۔ چوری، ڈاکہ، رشوت، سود، قمار وغیرہ کی حرام آمدنی جس کے بدن کا جزو بنے گی، وہ لازمی طور پر اس کو انسانیت سے دور اور شیطانیت سے قریب کر دے گی اسی لئے قرآن کریم کا ارشاد ہےیا ایھا الرسل کلوا من الطیبت واعملوا صالحا، عمل صالح کے ساتھ اکل حلال کا حکم دیا گیا ہے۔ کیونکہ اکل حلال کے بغیر عمل صالح متصور نہیں۔ بالخصوص گوشت جو انسان کے بدن کا جزو اہم بنتا ہے اس میں اس کی احتیاط سب سے زیادہ ضروری ہے کہ کوئی ایسا گوشت اس کی غذا میں داخل نہ ہو جو اس کے اخلاق کو خراب کرے اسی طرح وہ گوشت جو جسمانی طور پر انسان کے لئے مضر ہے کہ بیماری اور ہلاکت کے جراثیم اس میں ہیں۔ اس سے انسان کے پرہیز کا ضروری ہونا تو سبھی جانتے ہیں۔ جتنی چیزیں شریعت نے خبائث قرار دی ہیں۔ وہ یقینی طور پر انسان کے جسم یا روح یا دونوں کو خراب کرنے والی اور انسانی جان یا اخلاق کو تباہ کرنے والی ہیں۔ اس لئے ان کو حرام کردیا گیا۔ اس کے بالمقابل طیبات سے انسان کے جسم و روح کی تربیت اور اخلاق فاضلہ کا نشوونما ہوتا ہے ان کو حلال قرار دیا گیا۔ غرض قرآن پاک کے جملہ احل لکم الطیبت نے حلت و حرمت کا فلسفہ بھی بتلا دیا اور اصول بھی۔ اب یہ بات کہ کونسی چیزیں طیبات یعنی صاف ستھری مفید اور مرغوب ہیں اور کون سی خبائث یعنی گندی، مضر اور قابل نفرت ہیں۔ اس کا اصل فیصلہ طبائع سلیمہ کی رغبت و نفرت پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن جانوروں کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے، ہر زمانہ کے سلیم الطبع انسان ان کو گندہ اور قابل نفرت سمجھتے رہے ہیں، جیسے مردار جانور، خون۔ البتہ بعض اوقات جاہلانہ رسوم طبیعت پر غالب آجاتی ہیں تو اچھے اور برے کی تمیز اٹھ جاتی ہے یا بعض چیزوں کا خبث مخفی ہوتا ہے۔ ایسے معاملات میں انبیاء (علیہم السلام) کا فیصلہ سب کے لئے حجت ہے کیونکہ افراد انسانی میں سب سے زیادہ سلیم الطبع انسان انبیاء (علیہم السلام) ہیں جن کو حق تعالیٰ نے مخصوص طور پر فطرت سلیمہ سے نوازا اور ان کی تربیت کا خود تکفل فرمایا۔ ان کے گرد و پیش اپنے فرشتوں کا پہرہ لگایا جس سے ان کے قلب و دماغ اور اخلاق کسی غلط ماحول سے متاثر نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے جن چیزوں کو خبائث قرار دیا وہ حقیقةً خبائث ہیں اور جن کو طیبات سمجھا وہ حقیقةً طیبات ہیں۔ چناچہ نوح ؑ کے زمانہ سے خاتم الانبیاء ﷺ کے عہد مبارک تک ہر پیغمبر نے مردار جانور اور خنزیر وغیرہ کو حرام کرنے کا اپنے اپنے وقت میں اعلان فرمایا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ یہ چیزیں ایسی خبائث ہیں کہ ہر زمانے کے سلیم الطبع حضرات نے ان کو گندی اور مضر چیز سمجھا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ دہلوی نے حجة اللہ البالغہ میں بیان فرمایا ہے کہ جتنے جانور شریعت اسلام نے حرام قرار دئے ہیں، ان سب پر غور کیا جائے تو سمٹ کر یہ سب دو اصولوں کے تحت آجاتے ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی جانور اپنی فطرت و طبیعت کے اعتبار سے خبیث ہو۔ دوسرے یہ کہ اس کے ذبح کا طریقہ غلط ہو، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ذبیحہ کے بجائے میتہ یعنی مردار قرار دیا جائے گا۔ سورة مائدہ کی تیسری آیت میں نو چیزوں کو حرام بتایا ہے۔ ان میں خنزیر قسم اول میں داخل ہے۔ باقی آٹھ قسم دوم میں۔ قرآن کریم نے ویحرم علیہم الخبٰئث فرما کر اجمالی طور پر تمام خبیث جانوروں کے حرام ہونے کا حکم دیا۔ اور اس کی تفصیل میں سے چند چیزیں قرآن نے صراحةً بیان فرما دیں۔ جیسے لحم خنزیر اور دم مسفوحٍ وغیرہ۔ باقی چیزوں کا بیان رسول اکرم ﷺ کے سپرد فرمایا۔ آنحضرت ﷺ نے کسی جانور کے خبیث ہونے کی ایک علامت یہ بتلائی کہ کسی قوم کو بطور عذاب کے جس جانور کی شکل میں مسخ و تبدیل کیا گیا ہو تو یہ علامت اس کی ہے کہ یہ جانور طبعاً خبیث ہے کہ جن لوگوں پر حق تعالیٰ کا غضب نازل ہوا ان کو اس جانور کی شکل دی گئی۔ مثلاً قرآن کریم میں ہے وجعل منھم القردة والخنازیر یعنی بعض قوموں کو خنزیر اور بندر کی شکل میں بطور عذاب کے مسخ کیا گیا ہے۔ جس سے ثابت ہوا کہ جانوروں کی یہ دونوں قسمیں بالطبع خبائث میں داخل ہیں۔ ان کو باقاعدہ ذبح بھی کردیا جائے تو بھی حلال نہیں ہوسکتے۔ اور بہت سے جانور ایسے بھی ہیں کہ افعال و آثار سے ان کا خبیث ہونا عام طبائع خود بھی محسوس کرلیتی ہیں۔ مثلاً درندے جانور، جن کا کام ہی دوسرے جانوروں کو زخمی کرنا، پھاڑنا کھانا ہے اور سخت دلی ہے۔ اسی لئے رسول کریم ﷺ سے بھیڑیے کے متعلق کسی نے دریافت کیا تو فرمایا کہ کیا کوئی انسان اس کو کھا سکتا ہے۔ اسی طرح بہت سے ایسے جانور ہیں جن کی خصلت ایذا رسانی، چیزوں کو اچک لینا ہے۔ جیسے سانپ، بچھو، چھپکلی، مکھی، چیل اور باز وغیرہ۔ اسی لئے رسول کریم ﷺ نے ایک ضابطہ کے طور پر بیان فرمایا کہ ہر درندہ جانور جو دانتوں سے پھاڑ کھاتا ہے جیسے ثیر، بھیڑیا وغیرہ اور پرندوں میں وہ جانور جو اپنے پنجے سے شکار کرتے ہیں جیسے باز، شکرہ وغیرہ یہ سب حرام ہیں۔ یا ایسے جانور جن کی طبیعت میں خست اور ذِلّت یا نجاسات کے ساتھ ملوث ہونا ہے، جیسے چوہا یا مردار خور جانور گدھا وغیرہ، یہ سب چیزیں ایسی ہیں کہ ان جانوروں کے طبعی خواص اور ان کا مضر ہونا ہر انسان جو معمولی سلامت طبع رکھتا ہو محسوس کرتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جن جانوروں کو شریعت اسلام نے حرام قرار دیا ہے ان میں سے ایک قسم تو وہ ہے جن میں ذاتی طور پر خبث پایا جاتا ہے۔ دوسری قسم وہ ہے کہ ان کی ذات میں کوئی خبث نہیں۔ مگر جانوروں کے ذبح کرنے کا جو طریقہ اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دیا ہے اس طریقہ پر اس کو ذبح نہیں کیا گیا، خواہ سرے سے ذبح ہی نہیں کیا گیا ہو جیسے جھٹکا کرکے مارا ہو یا چوٹ کے ذریعہ مارا ہوا جانور یا ذبح تو کیا مگر اس پر اللہ کے نام کے بجائے کسی غیر اللہ کا نام لیا یا کسی کا بھی نہ لیا اور جان بوجھ کر اللہ کے نام کو بوقت ذبح چھوڑ دیا تو یہ ذبح بھی شرعاً معتبر نہیں بلکہ ایسا ہی ہے جیسے کسی جانور کو بغیر ذبح کے ہلاک کردیا ہو۔ یہاں ایک بات خاص طور پر قابل غور ہے کہ انسان جو کچھ کھاتا پیتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتیں ہیں۔ مگر جانوروں کے سوا اور کسی چیز کے کھانے پکانے پر یہ پابندی نہیں کہ اللہ اکبر یا بسم اللہ کہہ کر ہی کھایا پکایا جائے اس کے بغیر وہ حلال ہی نہ ہو، زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ ہر چیز کھانے پینے کے وقت بسم اللہ کہنا مستحب قرار دیا جاتا ہے۔ بخلاف جانوروں کے ان کے ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا واجب قرار دیا گیا اور جان بوجھ کر کوئی اس وقت اللہ کا نام ترک کر دے تو جانور کو مردار اور حرام قرار دیا گیا اس میں حکمت کیا ہے۔ غور کیا جائے تو فرق واضح ہے کہ جانداروں کی جانیں ایک حیثیت سے سب برابر ہیں۔ اس لئے ایک جاندار کے لئے دوسرے جاندار کو فنا کرنا اور ذبح کرکے کھا لینا بظاہر جائز نہ ہونا چاہیئے۔ اب جن کے لئے یہ جائز کیا گیا تو ان پر اللہ تعالیٰ کا ایک بھاری انعام ہے۔ اس لئے جانور کو ذبح کرنے کے وقت اس نعمت الہیہ کا استحضار اور ادائے شکر ضروری قرار دیا گیا۔ بخلاف غلہ، دانہ، پھل وغیرہ کہ ان کی پیدائش ہی اس لئے ہے کہ انسان ان کو فنا کرکے اپنی ضرورت پوری کرے۔ اس لئے ان پر صرف بسم اللہ کہنا مستحب کے درجہ میں رکھا گیا ہے، واجب اور ضروری نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ زمانہ جاہلیت سے یہ رسم جاری تھی کہ مشرکین جانوروں کے ذبح کے وقت اپنے بتوں کے نام لیا کرتے تھے۔ شریعت اسلام نے ان کی اس کافرانہ رسم کو ایک بہترین عبادت میں تبدیل کردیا کہ اللہ کا نام لینا ضروری قرار دیا۔ اور اس مشرکانہ رسم کو مٹانے کی مناسب صورت یہی تھی کہ غلط نام کے بجائے کوئی صحیح نام تجویز کردیا جائے۔ ورنہ چلی ہوئی رسم و عادت کا چھوٹنا مشکل ہوتا۔ یہاں تک آیت کے پہلے جملے کی تشریح تھی۔ دوسرا جملہ یہ ہے۔ وطعام الذین حل لہم۔ یعنی اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا اہل کتاب کے لئے حلال۔ اس جگہ جمہور صحابہ وتابعین کے نزدیک کھانے سے مراد ذبیحہ جانور ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس، ابو الدرداء، ابراہیم، قتادہ، سدی، ضحاک، مجاہد، ؓ اجمعین سے یہی منقول ہے (روح المعانی وجصاص) کیونکہ دوسری قسم کے کھانوں میں اہل کتاب اور بت پرست، مشرکین سب برابر ہیں کہ روٹی، آٹا، دال، چاول، پھل وغیرہ جن میں ذبح کی ضرورت نہیں۔ وہ کسی بھی جائز طریقہ پر حاصل ہو تو مسلمان کو اس کا کھانا جائز ہے۔ اور مسلمانوں سے ان کو ملے تو ان کے لئے حلال ہے۔ اس لئے خلاصہ مضمون اس جملہ کا یہ ہوا کہ اہل کتاب کا ذبیحہ مسلمان کے لئے اور مسلمان کا ذبیحہ اہل ِ کتاب کے لئے حلال ہے۔ اب اس جگہ چند مسائل قابل غور ہیں۔ اول یہ کہ اہل کتاب قرآن و سنت کی اصطلاح میں کون لوگ ہیں۔ کتاب سے کیا مراد ؟ اور کیا اہل کتاب ہونے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ لوگ اپنی کتاب پر صحیح طور پر ایمان و عمل رکھتے ہوں۔ اس میں یہ تو ظاہر ہے کہ کتاب کے لغوی معنی یعنی ہر لکھا ہوا ورق تو مراد ہو نہیں سکتا۔ وہ ہی کتاب مراد ہو سکتی ہے جو اللہ کی طرف سے آئی ہو۔ اس لئے باتفاق امت کتاب سے مراد وہ آسمانی کتاب مراد ہے جس کا کتاب اللہ ہونا بتصدیق قرآن یقینی ہو۔ جیسے تورات، انجیل، زبور، صحف موسیٰ و ابراہیم وغیرہ۔ اس لئے وہ قومیں جو کسی ایسی کتاب پر ایمان رکھتی اور اس کو وحی الہٰی قرار دیتی ہوں جس کا کتاب اللہ ہونا قرآن و سنت کے یقینی ذرائع سے ثابت نہیں۔ وہ قومیں اہل کتاب میں داخل نہیں ہوں گی۔ جیسے مشرکین مکہ، مجوس، بت پرست ہندو، بدھ آریہ، سکھ وغیرہ۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہود و نصاری جو تورات و انجیل رکھنے والے ہیں وہ باصطلاح قرآن اہل کتاب میں داخل ہیں۔ تیسری ایک قوم جس کو صابئین کہتے ہیں ان کے حالات مشتبہ ہیں۔ جن حضرات کے نزدیک یہ لوگ زبور داؤد ؑ پر ایمان رکھتے ہیں وہ ان کو بھی اہل کتاب میں شامل قرار دیتے ہیں۔ اور جن کو یہ تحقیق ہوا کہ زبور سے ان کا کوئی تعلق نہیں، یہ نجوم پرست قوم ہیں۔ وہ ان کو بت پرستوں اور مجوس کے ساتھ شریک قرار دیتے ہیں۔ بہرحال یقینی طور پر جن کو باتفاق اہل کتاب کہا جاتا ہے وہ یہود و نصاریٰ ہیں۔ تو قرآن حکیم کے اس حکم کا حاصل یہ ہوا کہ یہود و نصاریٰ کا ذبیحہ مسلمانوں کے لئے اور مسلمانوں کا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے۔ اب رہا یہ معاملہ کہ یہود و نصاریٰ کو اہل کتاب کہنے اور سمجھنے کے لئے کیا یہ شرط ہے کہ وہ صحیح طور پر اصلی تورات و انجیل پر عمل رکھتے ہوں۔ یا محرف تورات اور انجیل کا اتباع کرنے والے اور عیسیٰ و مریم (علیہما السلام) کو خدا کا شریک قرار دینے والے بھی اہل کتاب میں داخل ہیں۔ سو قرآن کریم کی بیشمار تصریحات سے واضح ہے کہ اہل کتاب ہونے کے لئے صرف اتنی بات کافی ہے کہ وہ کسی آسمانی کتاب کے قائل ہوں اور اس کی اتباع کرنے کے دعویدار ہوں۔ خواہ وہ اس کے اتباع میں کتنی گمراہیوں میں جا پڑے ہوں۔ قرآن کریم نے جن کو اہل کتاب کا لقب دیا۔ انھیں کے بارے میں یہ بھی جا بجا ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ اپنی آسمانی کتابوں میں تحریف کرتے ہیں۔ یحرفون الکلم عن مواضعہ۔ اور یہ بھی فرمایا کہ یہود نے حضرت عزیر ؑ کو خدا کا بیٹا قرار دے دیا اور نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو، وقالت الیھود عزیر نِ ابن اللہ وقالت النصری المسیح ابن اللّٰہ۔ ان حالات وصفات کے باوجود جب قرآن نے ان کو اہل کتاب قرار دیا تو معلوم ہوا کہ یہود و نصاریٰ جب تک یہودیت و نصرانیت کو بالکل نہ چھوڑ دیں وہ اہل کتاب میں داخل ہیں۔ خواہ وہ کتنے ہی عقائد فاسدہ اور اعمال سیہ میں مبتلا ہوں۔ امام جصاص نے احکام القرآن میں نقل کیا ہے کہ حضرت فاروق اعظم ؓ کے عہد خلافت میں آپ کے کسی عامل یا گورنر نے ایک ایک خط لکھ کر یہ دریافت کیا کہ یہاں کچھ لوگ ایسے ہیں جو تورات پڑھتے ہیں اور یوم السبت یعنی ہفتہ کے دن کی تعظیم بھی یہود کی طرح کرتے ہیں مگر قیامت پر ان کا ایمان نہیں، ایسے لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔ حضرت فاروق اعظم ؓ نے تحریر فرمایا کہ وہ اہل کتاب ہی کا ایک فرقہ سمجھے جائیں گے۔ صرف نام کے یہودی و نصرانی جو در حقیقت دہریے ہیں وہ اس میں داخل نہیں۔ آج کل یورپ کے عیسائی اور یہودیوں میں ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو اپنی مردم شماری کے اعتبار سے یہودی یا نصرانی کہلاتے ہیں مگر در حقیقت وہ خدا کے وجود اور کسی مذہب ہی کے قائل نہیں۔ نہ تورات و انجیل کو خدا کی کتاب مانتے ہیں اور نہ موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) کو اللہ کا نبی و پیغمبر تسلیم کرتے ہیں۔ یہ ظاہر ہے کہ وہ شخص مردم شماری کے نام کی وجہ سے اہل کتاب کے حکم میں داخل نہیں ہوسکتے۔ نصاریٰ کے بارے میں جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ ان کا ذبیحہ حلال نہیں اس کی وجہ یہ بتلائی کہ یہ لوگ دین نصرانیت میں سے بجز شراب نوشی کے اور کسی چیز کے قائل نہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد یہ ہے کہ ابن جوزی نے سند صحیح کے ساتھ حضرت علی ؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ نصاری بنی تغلب کے ذبائح کو نہ کھاؤ۔ کیونکہ انہوں نے مذہب نصرانیت میں سے شراب نوشی کے سوا کچھ نہیں لیا۔ امام شافعی نے بھی سند صحیح کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے۔ تفسیر مظھری 34، جلد 3 مائدہ)۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کو بنی تغلب کے متعلق یہی معلومات تھیں کہ وہ بےدین ہیں نصرانی نہیں۔ اگرچہ نصرانی کہلاتے ہیں۔ اس لئے ان کے ذبیحہ سے منع فرمایا۔ جمہور صحابہ وتابعین کی تحقیق یہ تھی کہ یہ بھی عام نصرانیوں کی طرح ہیں۔ بالکل دین کے منکر نہیں۔ اس لئے انہوں نے ان کا ذبیحہ بھی حلال قرار دیا۔ وقال جمھور الامة ان ذبیحة کل نصرانی حلال سواء کان من بنی تغلب او غیرھم وکذلک الیھود (تفسیر قرطبی ص 78، جلد 6) اور جمہور امت کہتے ہیں کہ نصرانی کا ذیحہ حلال ہے۔ خواہ بنی تغلب میں سے ہو، یا ان کے سوا کسی دوسرے قبیلہ اور جماعت سے ہو، اسی طرح ہر یہودی کا ذبیحہ بھی حلال ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جن نصرانیوں کے متعلق یہ بات یقینی طور پر معلوم ہوجائے کہ وہ خدا کے وجود ہی کو نہیں مانتے یا حضرت موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) کو اللہ کا نبی نہیں مانتے۔ وہ اہل کتاب کے حکم میں نہیں۔ طعام اہل کتاب سے کیا مراد ہے ؟ طعام کے لغوی معنی کھانے کی چیز کے ہیں۔ جس میں ازروئے لغت عربی ہر قسم کی کھانے کی چیزیں داخل ہیں۔ لیکن جمہور امت کے نزدیک اس جگہ طعام سے مراد صرف اہل کتاب کے ذبائح کا گوشت ہے، کیونکہ گوشت کے سوا دوسری اشیاء خوردنی میں اہل کتاب اور دوسرے کفار میں کوئی امتیاز اور فرق نہیں۔ کھانے پینے کی خشک چیزیں، گیہوں، چنا، چاول اور پھل وغیرہ ہر کافر کے ہاتھ کا حلال و جائز ہے۔ اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں اور جس کھانے میں انسانی صنعت کو دخل ہے۔ اس میں چونکہ کفار کے برتنوں اور ہاتھوں کی طہارت کا کوئی بھروسہ نہیں اس لئے احتیاط اس میں ہے کہ اس سے اجتناب کیا جائے۔ بلا ضرورت شدیدہ استعمال نہ کریں۔ مگر اس میں جو حال مشرکین، بت پرستوں کا ہے، وہی اہل کتاب کا بھی ہے کہ نجاست کا احتمال دونوں میں برابر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اہل کتاب اور دوسرے کفار کے طعام میں جو فرق شرعاً ہوسکتا ہے وہ صرف ان کے ذبائح کے گوشت میں ہے۔ اس لئے آیت مذکورہ میں باتفاق امت طعام اہل کتاب سے مراد ان کے ذبائح ہیں۔ امام تفسیر قرطبی نے لکھا ہے۔ لفظ طعام ہر کھانے کی چیز کے لئے بولا جاتا ہے جس میں ذبائح بھی داخل ہیں اور اس آیت میں طعام کا لفظ خاص ذبائح کے لئے استعمال کیا گیا ہے اکثر علماء تفسیر کے نزدیک، اور اہل کتاب کے طعام میں سے جو چیزیں مسلمانوں کے لئے حرام ہیں۔ وہ اس عموم خطاب میں داخل نہیں۔ (قرطبی ص 77، ج 6) اس کے بعد امام قرطبی نے مزید تفصیل اس طرح بیان فرمائی ہے۔ علماء کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ چیزیں جن میں ذبح کی ضرورت نہیں ہوتی مثلاً وہ کھانا جس میں تصرف نہیں کرنا پڑتا جیسے میوہ اور گندم وغیرہ اس کا کھانا جائز ہے۔ اس لئے کہ اس میں کسی کا مالک بننا چنداں مضر نہیں ہے۔ البتہ وہ کھانا جس میں انسان کو کچھ عمل کرنا پڑتا ہے اس کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جس میں کوئی ایسا کام کرنا پڑے جس کا دین سے کوئی تعلق نہ ہو، مثلاً آٹے سے روٹی بنانا، زیتون سے تیل نکالنا وغیرہ، تو کافر ذمی کی ایسی چیزوں سے اگر کوئی بچنا چاہے تو وہ محض طبعی کراہت کی بناء پر ہوگا۔ اور دوسری قسم وہ ہے، جس میں عمل ذبح کرنا پڑتا ہے جس کے لئے دین اور نیت کی ضرورت ہے۔ تو اگرچہ قیاس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ کافر کی نماز اور عبادتوں کی طرح اس کا عمل ذبح بھی قبول نہ ہونا چاہیئے تھا، لیکن اللہ نے اس امت کے لئے خاص طور پر ان کے ذبائح حلال کردیئے اور حضرت ابن عباس ؓ کی نص نے اس مسئلہ کو خلاف قیاس ثابت کیا ہے۔ (قرطبی سورة مائدہ ص 77، ج 6) خلاصہ یہ ہے کہ طعام اہل کتاب سے مراد اس آیت میں باتفاق علماء تفسیر وہ طعام ہے جس کی حلت مذہب اور عقیدہ پر موقوف ہے یعنی ذبیحہ۔ اسی لئے اس طعام میں اہل کتاب کے ساتھ امتیازی معاملہ کیا گیا۔ کیونکہ وہ بھی اللہ کی بھیجی ہوئی کتابوں اور پیغمبروں پر ایمان کے مدعی ہیں۔ اگرچہ ان کی تحریفات نے ان کے دعوی کو مجروح کردیا۔ یہاں تک کہ شرک و کفر میں مبتلا ہوگئے۔ بخلاف بت پرست مشرکین کے کہ وہ کسی آسمانی کتاب یا نبی یا رسول پر ایمان لانے کا دعویٰ بھی نہیں رکھتے۔ اور جن کتابوں یا شخصیتوں پر ان کا ایمان ہے۔ وہ نہ اللہ کی بھیجی ہوئی کتابیں ہیں اور نہ ان کا رسول و نبی ہونا اللہ کے کسی کلام سے ثابت ہے۔ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہونے کی حکمت اور وجہ زیر بحث مسئلہ کا یہ تیسرا سوال ہے۔ اس کا جواب اکثر صحابہ وتابعین اور ائمہ تفسیر کی طرف سے یہ ہے کہ تمام کفار میں سے اہل کتاب یہود و نصاریٰ کا ذبیحہ اور ان کی عورتوں سے نکاح حلال قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دین میں سینکڑوں تحریفات ہونے کے باوجود ان دو مسئلوں میں ان کا مذہب بھی اسلام کے بالکل مطابق ہے۔ یعنی وہ ذبیحہ پر اللہ کا نام لینا عقیدةً ضروری سمجھتے ہیں۔ اس کے بغیر جانور کو مردار میتہ اور ناپاک و حرام قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح مسئلہ نکاح میں جن عورتوں سے اسلام میں نکاح حرام ہے ان کے مذہب میں بھی حرام ہے، اور جس طرح اسلام میں نکاح کا اعلان اور گواہوں کے سامنے ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح ان کے موجودہ مذہب میں بھی یہی احکام ہیں۔ امام تفسیر ابن کثیر نے یہی قول اکثر صحابہ وتابعین کا نقل فرمایا ہے۔ ان کی عبارت یہ ہے۔ ابن عباس، ابو امامہ مجاہد رحمة اللہ علیہ، سعید بن جبیر رحمة اللہ علیہ، عکرمہ رحمة اللہ علیہ، عطاء رحمة اللہ علیہ، حسن رحمة اللہ علیہ، ابراہیم نخعی رحمة اللہ علیہ اور مقاتل بن حیان رحمة اللہ علیہ نے طعام اہل کتاب کی تفسیر ان کے ذبائح کے ساتھ کی ہے۔ اور یہ مسئلہ مسلمانوں کے لئے یہاں اجماعی ہے کہ ان کے ذبیح مسلمانوں کے لئے حلال ہیں۔ کیونکہ وہ غیر اللہ کے لئے ذبح کرنے کو حرام سمجھتے ہیں۔ اور اپنے ذبیحوں پر خدا کے سوا اور کسی کا نام نہیں لیتے۔ اگرچہ وہ اللہ کے بارے میں ایسی باتوں کے معتقد ہوں۔ جن سے باری تعالیٰ پاک اور بلند وبالا ہے۔ (ابن کثیر مائدہ ص 19 ج 3) ابن کثیر کے اس بیان میں ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ تمام مذکور الصدر حضرات صحابہ وتابعین کے نزدیک طعام اہل کتاب سے ان کے ذبائح مراد ہیں۔ اور ان کے حلال ہونے پر امت کا اجماع ہے دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ان سب حضرات کے نزدیک ذبائح اہل کتاب کے حلال ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کے مذہب میں بہت سی تحریفات کے باوجود ذبیحہ کا مسئلہ اسلامی شریعت کے مطابق باقی ہے کہ غیر اللہ کے نام پر ذبح کئے ہوئے جانور کو وہ بھی حرام کہتے ہیں۔ اور ذبیحہ پر اللہ کا نام لینا ضروری سمجھتے ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شان میں وہ تثلیث کے مشرکانہ عقیدہ کے قائل ہوگئے۔ اور اللہ اور مسیح بن مریم کو ایک ہی کہنے لگے۔ جس کا قرآن کریم نے ان الفاظ میں ذکر فرمایا۔ لقد کفر الذین قالو ان اللہ ھو المسیح ابن مریم بیشک کافر ہوگئے وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ اللہ تو مسیح بن مریم ہیں۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ ذبیحہ کے متعلق تمام قرآنی آیات جو سورة بقرہ اور سورة انعام میں آئی ہیں، جن میں غیر اللہ کے نام پر ذبح کئے ہوئے جانور کو بھی اور اس جانور کو بھی جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا، حرام قرار دیا ہے۔ یہ سب آیتیں اپنی جگہ پر محکم اور معمول بہا ہیں۔ سورة مائدہ کی آیت جس میں طعام اہل کتاب کو حلال قرار دیا ہے، وہ بھی ان آیات کے حکم سے مختلف نہیں کیونکہ طعام اہل کتاب کو حلال قرار دینے کی وجہ ہی یہ ہے کہ ان کے موجودہ مذہب میں بھی غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور، اور وہ جانور جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا حرام ہے۔ موجودہ زمانے میں تورات و انجیل کے جو نسخے اب بھی موجود ہیں ان میں بھی ذبیحہ اور نکاح کے احکام تقریباً وہی ہیں جو قرآن کریم اور اسلام میں ہیں۔ جن کی تفصیل عنقریب ذکر کی جائے گی۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ بعض جاہل عوام اپنے مذہب کے اس حکم کے خلاف کچھ عمل کرتے ہوں، جیسا کہ خود مسلمانوں کے جاہل عوام میں بھی بہت سی جاہلانہ رسمیں شامل ہوگئی ہیں مگر ان کو مذہب اسلام نہیں کہا جاسکتا۔ نصاریٰ کے جاہل عوام کے طرز عمل کو دیکھ کر ہی بعض حضرات تابعین نے یہ فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے طعام اہل کتاب کو حلال قرار دیا اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ اپنے ذبائح کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں۔ کوئی اس پر مسیح یا عزیر کا نام لیتا ہے، کوئی بغیر تسمیہ کے ذبح کرتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ آیت مائدہ جس میں طعام اہل کتاب کو حلال قرار دیا ہے۔ اس آیت نے اہل کتاب کے ذبائح کے حق میں سورة بقرہ اور سورة انعام کی ان آیتوں میں تخصیص یا ایک قسم کا نسخ قرار دیا ہے جن میں غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے کو یا بغیر اللہ کے نام کے ذبح کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔ بعض اکابر علماء کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ جن حضرات تابعین نے اہل کتاب کے متروک التسمیہ ذبیحہ اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کئے ہوئے جانور کو حلال فرمایا ہے۔ ان کے نزدیک بھی اہل کتاب کا اصل مذہب تو اسلامی احکام سے مختلف نہیں ہے۔ مگر ان کے جاہل عوام یہ غلطیاں کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ان حضرات نے جاہل اہل کتاب کو بھی عام اہل کتاب کے حکم سے الگ نہیں کیا۔ اور ذبیحہ اور نکاح کے معاملہ میں ان کا بھی وہی حکم رکھا جو ان کے آباء و اجداد اور اصل مذہب کے پیرؤں کا ہے کہ ان کے ذبیحہ اور ان کی عورتوں سے نکاح جائز ہے۔ ابن عربی نے احکام القرآن میں لکھا ہے کہ میں نے اپنے استاد ابو الفتح مقدسی سے سوال کیا کہ موجودہ نصاریٰ تو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرتے ہیں، مثلاً مسیح یا عزیر کا نام بوقت ذبح لیتے ہیں تو ان کا ذبیحہ کیسے حلال ہوسکتا ہے۔ اس پر ابو الفتح مقدسی نے فرمایا۔ (ان کا حکم اپنے آباء و اجداد کا سا ہے۔ (آج کے اہل کتاب کا) یہ حال اللہ کو معلوم تھا، لیکن اللہ نے ان کو ان کے آباء کے تابع بنادیا ہے۔ (احکام ابن عربی ص 229، جلد اول) اس کا حاصل یہ ہوا کہ اسلاف امت میں جن حضرات علماء نے اہل کتاب کے ایسے ذبائح کی اجازت دے دی ہے جن پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا بلکہ غیر اللہ کا لیا گیا۔ ان کے نزدیک بھی اصل مذہب اہل کتاب کا یہی ہے کہ یہ چیزیں ان کے مذہب میں بھی حرام ہیں مگر ان حضرات نے غلط کار عوام کو بھی اس حکم میں شامل رکھا جو اصل اہل کتاب کا حکم ہے۔ اس لئے ان کے ذبیحہ کو بھی حلال قرار دے دیا۔ اور جمہور صحابہ وتابعین اور ائمہ مجتہدین نے اس پر نظر فرمائی کہ اہل کتاب کے جاہل عوام جو غیر اللہ کے نام یا بغیر اللہ کے نام کے ذبح کرتے ہیں۔ یہ اسلامی حکم کے تو خلاف ہے ہی، خود نصاریٰ کے موجودہ مذہب کے بھی خلاف ہے۔ اس لئے ان کے عمل کا احکام پر کوئی اثر نہیں ہونا چاہیئے۔ انہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کا ذبیحہ طعام اہل کتاب میں داخل ہی نہیں۔ اس لئے اس کے حلال ہونے کی کوئی وجہ نہیں اور ان کے غلط عمل کی وجہ سے آیات قرآنی میں نسخ یا تخصیص کا قول اختیار کرنا کسی طرح صحیح نہیں۔ اسی لئے تمام ائمہ تفسیر ابن جریر، ابن کثیر، ابوحیان وغیرہ اس پر متفق ہیں کہ سورة بقرہ اور انعام کی آیات میں کوئی نسخ واقع نہیں ہوا۔ یہی جمہور صحابہ وتابعین کا مذہب ہے جیسا کہ بحوالہ ابن کثیر اوپر نقل ہوچکا ہے۔ اور تفسیر بحر محیط میں بالفاظ ذیل مذکور ہے۔ وذھب الی ان الکتابی اذا لم یذکر اللہ علی۔۔ تا۔۔ ما ذبح واھل بہ ل غیر اللہ۔ (بحر محیط ص 431 ج 4) ان کا مذہب یہ ہے کہ کتابی اگر ذبیحہ پر اللہ کا نام نہ لے اور اللہ کے سوا کوئی نام لے تو اس کا کھانا جائز نہیں۔ یہی قول ہے ابو الدردا، عبادہ بن صامت اور صحابہ کرام کی ایک جماعت کا۔ اور یہی ابوحنیفہ، ابو یوسف، محمد، زفر اور مالک کا مذہب ہے۔ نخعی اور ثوری اس کے کھانے کو مکروہ قرار دیتے ہیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ صحابہ وتابعین اور اسلاف امت کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اہل کتاب کا اصل مذہب زمانہ نزول قرآن میں بھی یہی تھا کہ جس جانور پر غیر اللہ کا نام لیا جائے یا قصدًا اللہ کا نام چھوڑا جائے وہ حرام ہے۔ اسی طرح نکاح کی حلت و حرمت میں بھی اہل کتاب کا اصل مذہب موجودہ زمانے تک اکثر چیزوں میں اسلامی شریعت کے مطابق ہے اس کے خلاف جو کچھ اہل کتاب میں پایا گیا، وہ جاہل عوام کے اغلاط ہیں ان کا مذہب نہیں ہے۔ موجودہ تورات اور انجیل جو مختلف زبانوں میں چھپی ہوئی ملتی ہیں۔ ان سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ ملاحظہ ہوں ان کے مندرجہ ذیل اقوال۔ بائبل کے عہد نامہ قدیم میں موجودہ زمانہ کے یہود و نصاریٰ دونوں کے نزدیک مسلم ہے۔ ذبیحہ کے متعلق یہ احکام ہیں۔ (1) جو جانور خود بخود مر گیا ہو۔ اور جس کو درندوں نے پھاڑا ہو۔ ان کی چربی اور کام میں لاؤ تو لاؤ، تم اسے کسی حال میں نہ کھانا۔ (احبارے۔ 24) (2) پر گوشت کو تو اپنے سب پھاٹکوں کے اندر اپنے دل کی رغبت اور خداوند اپنے دی ہوئی برکت کے موافق ذبح کرکے کھا سکے گا لیکن تم خون کو بالکل نہ کھانا۔ (استثناء 1215 (3) تم بتوں کی قربانیوں کے گوشت اور لہو اور گھونٹے ہوئے جانوروں اور حرام کاری سے پرہیز کرو۔ (عہد نامہ جدید کتاب اعمال 15، 29) (4) عیسائیوں کا سب سے بڑا پیشوا اپولس کرنتھیون کے نام پہلے خط میں لکھتا ہے کہ جو قربانی غیر قومیں کرتی ہیں شیاطین کے لئے قربانی کرتی ہیں، نہ کہ خدا کے لئے اور میں نہیں چاہتا کہ تم شیاطین کے شریک ہو۔ تم خداوند کے پیالے اور شیاطین کے پیالے دونوں میں سے نہیں پی سکتے۔ (کرنتھیون 202010) (5) کتاب اعمال حواریین میں ہے۔ ہم نے یہ فیصلہ کرکے لکھا تھا کہ وہ صرف بتوں کی قربانی کے گوشت سے اور لہو اور گلا گھونٹے ہوئے جانوروں اور حرام کاری سے اپنے آپ کو بچائے رکھیں۔ (اعمال 1225) یہ تورات و انجیل کے وہ تصریحات ہیں جو آج کل کی بائبل سوسائیٹیوں نے چھاپی ہوئی ہیں، جن میں سینکڑوں تحریفات و ترمیمات کے بعد بھی بعینہ قرآن کریم کے احکام کے مطابق یہ چیزیں باقی ہیں۔ قرآن کریم کی آیت یہ ہے کہ ‘ حرمت علیکم المیتة والدم ولحم تا وما ذبح علی النصیب (المائدہ 3) تم پر حرام کردیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت۔ اور جس پر اللہ کے سوا اور کسی کا نام پکارا گیا ہو۔ اور گلا گھونٹا ہوا، اور چوٹ کھا کر مرا ہوا۔ اور گر کر مرا ہوا، اور سینگ کھا کر مرا ہوا اور جسے درندہ نے کھا یا ہو، اِلاّ یہ کہ تم نے اس کو پاک کرلیا ہو، اور وہ جانور جو بتوں کے نام پر ذبح کیا جائے۔ اس آیت نے میتہ یعنی خود مرا ہوا جانور اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ اور گلا گھونٹا ہوا جانور اور چوٹ سے مارا یا اونچی جگہ سے گر کر مرا ہوا، یا سینگوں کی چوٹ سے مارا ہوا، اور جس کو درندوں نے پھاڑا ہو سب حرام قرار دیئے ہیں۔ تورات و انجیل کی مذکورہ تصریحات میں بھی ”لحم خنزیر“ کے علاوہ تقریباً سبھی کو حرام قرار دیا ہے۔ صرف چوٹ سے یا اونچی جگہ سے گر کر سینگوں سے مرنے والے جانور کی تفصیل اگرچہ مذکور نہیں ہے۔ مگر وہ سب تقریباً خود مرے یا گلا گھونٹ کر مارے ہوئے کے حکم میں داخل ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم نے ذبیحہ پر اللہ کے نام لینے کی تاکید فرمائی ہے۔ فکلوا مما ذکر اسم اللہ علیہ۔ اور جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کو حرام کیا ہے۔ ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ۔ بائبل میں کتاب استثناء کی عبارت مذکور نمبر 2 سے بھی اس کی تاکید مفہوم ہوتی ہے کہ جانور کو اللہ کے نام سے ذبح کیا جائے۔ اسی طرح نکاح کے معاملات بھی اہل کتاب کا مذہب اکثر چیزوں میں شریعت اسلام کے مطابق ہے۔ ملاحظہ ہو۔ احبار 6، ، 18 تا 19 جس میں ایک طویل فہرست محرمات کی دی گئی ہے اور جن میں بیشتر وہی ہیں جن کو قرآن نے حرام کیا ہے، یہاں تک کہ جمع بین الاختین۔ یعنی دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنے کی حرمت اور حالت حیض میں صحبت کا حرام ہونا بھی اس میں مصرح ہے۔ نیز بائبل میں اس کی بھی تصریح ہے کہ بت پرست اور مشرک اقوام سے نکاح جائز نہیں۔ موجودہ تورات کے الفاظ یہ ہیں ”تو ان سے بیاہ، شادی بھی نہ کرنا۔ نہ ان کے بیٹوں کو اپنی بیٹیاں دینا اور نہ اپنے بیٹوں کے لئے ان کی بیٹیاں لینا۔ کیونکہ وہ میرے بیٹوں کو میری پیروی سے برگشتہ کردیں گے۔ تاکہ وہ اور معبودوں کی عبادت کریں“۔ (استثناء 734) خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن میں اہل کتاب کے ذبائح اور ان کی عورتوں سے نکاح کو حلال اور دوسرے کفار کے ذبائح اور نساء کو حرام قرار دینے کی وجہ ہی یہ ہے کہ ان دونوں مسئلوں میں اہل کتاب کا اصل مذہب آج تک بھی اسلامی قانون کے مطابق ہے اور جو کچھ اس کے خلاف ان کے عوام میں پایا جاتا ہے وہ جاہلوں کے اغلاط ہیں۔ ان کا مذہب نہیں ہے۔ اسی لئے جمہور صحابہ وتابعین اور ائمہ مجتہدین کے نزدیک۔ سورة بقرہ، انعام اور مائدہ کی تمام آیات میں کوئی تضاد، یا نسخ، یا تخصیص نہیں ہے۔ اور جن علماء وتابعین نے غلط کار عوام کے عمل کو بھی تبعاً اہل کتاب کے حکم میں شامل رکھا اور آیات بقرہ و انعام میں نسخ یا تخصیص کا قول اختیار کیا ہے۔ اس کی بھی بنیاد یہ ہے کہ نصاریٰ جن کا قول یہ ہے کہ ان اللہ ھو المسیح ابن مریم۔ یعنی اللہ تو عیسیٰ بن مریم ہی ہیں۔ یہ لوگ اگر اللہ کا نام بھی لیں تو اس سے مراد عیسیٰ بن مریم ہی لیتے ہیں۔ اس لئے ان کے ذبیحہ میں اللہ کا نام لینا یا مسیح کا نام لینا برابر ہوگیا۔ اس بنا پر ان حضرات تابعین نے ذبائح اہل کتاب میں اس کی اجازت دے دی ہے۔ ابن عربی نے احکام القرآن میں اس بنیاد کی وضاحت فرمائی ہے۔ (احکام ابن عربی ص 229، ج 1)
Ayahs 5:6–7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:6 in the Quran reader

اے ایمان والو جب تم اٹھو نماز کو تو دھو لو اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک اور مل لو اپنے سر کو اور پاؤں ٹخنوں تک اور اگر تم کو جنابت ہو تو خوب پاک ہو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں یا کوئی تم میں آیا ہے جائے ضرور سے یا پاس گئے ہو عورتوں کے پھر نہ پاؤ تم پانی تو قصد کرو مٹی پاک کا اور مل لو اپنے منہ اور ہاتھ اس سے اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر تنگی کرے و لیکن چاہتا ہے کہ تم کو پاک کرے اور پورا کرے اپنا احسان تم پر تاکہ تم احسان مانو

وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ١ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 5:7 in the Quran reader

اور یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر اور عہد اس کا جو تم سے ٹھرایا تھا جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور مانا اور ڈرتے رہو اللہ سے اللہ خوب جانتا ہے دلوں کی بات

ربط آیات پچھلی آیات میں کچھ احکام شرعیہ وہ ذکر کر کیے گئے جن کا تعلق انسان کی دنیوی زندگی اور کھانے پینے سے ہے۔ اس آیت میں چند احکام شرعیہ متعلق عبادات کے ذکر کئے گئے ہیں۔ خلاصہ تفسیر اے ایمان والو جب تم نماز کو اٹھنے لگو (یعنی نماز پڑھنے کا ارادہ کرو اور تم کو اس وقت وضو نہ ہو) تو (وضو کرلو یعنی) اپنے چہروں کو دھوؤ اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت (دھوؤ) اور اپنے سروں پر (بھیگا) ہاتھ پھیرو۔ اور اپنے پیروں کو بھی ٹخنوں سمیت (دھوؤ) اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو (نماز سے پہلے) سارا بدن پاک کرلو اور اگر تم بیمار ہو (اور پانی کا استعمال مضر ہو) یا حالت سفر میں ہو (اور پانی نہیں ملتا جیسا آگے آتا ہے، یہ تو عذر کی حالت ہوئی) یا (اگر مرض و سفر کا عذر بھی نہ ہو بلکہ ویسے ہی وضو یا غسل ٹوٹ جاوے اس طرح سے کہ مثلاً) تم میں سے کوئی شخص (پیشاب یا پائخانہ کے) استنجے سے (فارغ ہو کر) آیا ہو (جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے) یا تم نے بیبیوں سے قربت کی ہو (جس سے غسل ٹوٹ گیا ہو اور) پھر (ان ساری صورتوں میں) تم کو پانی (کے استعمال کا موقع) نہ ملے (خواہ بوجہ ضرر کے یا پانی نہ ملنے کے) تو (ان سب حالتوں میں) تم پاک زمین سے تیمم کرلیا کرو یعنی اپنے چہروں اور ہاتھوں پر پھیرلیا کرو۔ اس زمین (کی جنس) پر سے (ہاتھ مار کر) اللہ تعالیٰ کو (ان احکام کے مقرر فرمانے سے) یہ منظور نہیں کہ تم پر کوئی تنگی ڈالیں (یعنی یہ منظور ہے کہ تم پر کوئی تنگی نہ رہے، چناچہ احکام مذکورہ میں خصوصاً اور جمیع احکام شرعیہ میں عموماً رعایت سہولت و مصلحت کی ظاہر ہے) لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ تم کو پاک صاف رکھے (اس لئے طہارت کے قواعد اور طرق مشروع کئے اور کسی ایک طریق پر بس نہیں کیا گیا کہ اگر وہ نہ ہو تو طہارت ممکن ہی نہ ہو، مثلاً صرف پانی کو مطہر رکھا جاتا تو پانی نہ ہونے کے وقت طہارت حاصل نہ ہوسکتی، یہ طہارت ابدان تو خاص احکام طہارت ہی میں ہے۔ اور طہارت قلوب تمام اطاعات میں عام ہے پس یہ تطہیر دونوں کو شامل ہے اور اگر یہ احکام نہ ہوتے تو کوئی طہارت حاصل نہ ہوتی) اور یہ (منطور ہے) کہ تم پر اپنا انعام تام فرما دے۔ (اس لئے احکام کی تکمیل فرمائی تاکہ ہر حال میں طہارت بدنی و قلبی جس کا ثمرہ رضا و قرب ہے جو اعظم نعم ہے حاصل کرسکو) تاکہ تم (اس عنایت کا) شکر ادا کرو (شکر میں امتثال بھی داخل ہے) اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کے انعام کو جو تم پر ہوا ہے یاد کرو (جس میں بڑا انعام یہ ہے کہ تمہاری فلاح کے طریقے تمہارے لئے شروع کر دئے) اور اس کے اس عہد کو بھی (یاد کرو) جس کا تم سے معاہدہ کیا ہے جبکہ تم نے (اس کا التزام بھی کرلیا تھا کہ عہد لینے کے وقت تم نے) کہا تھا کہ ہم نے (ان احکام کو) سُنا اور مان لیا (کیونکہ اسلام لانے کے وقت ہر شخص اسی مضمون کا عہد کرتا ہے) اور اللہ تعالیٰ (کی مخالفت) سے ڈرو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ دلوں کی باتوں کی پوری خبر رکھتے ہیں (اس لئے جو کام کرو اس میں اخلاص و اعتقاد بھی ہونا چاہیے صرف منافقانہ امتثال کافی نہیں۔ مطلب یہ کہ ان احکام میں اول تو تمہارا ہی نفع پھر تم نے اپنے سر بھی رکھ لیا ہے۔ پھر مخالفت میں ضرر ان وجوہ سے امتثال ہی ضروری ہوا اور وہ بھی دل سے ہونا چاہیے ورنہ مثل عدم امتثال ہی کے ہے)۔
Ayahs 5:8–10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:8 in the Quran reader

اے ایمان والو کھڑے ہوجایا کرو اللہ کے واسطے گواہی دینے کو انصاف کی اور کسی قوم کی دشمنی کے باعث انصاف کو ہرگز نہ چھوڑو عدل کرو یہی بات زیادہ نزدیک ہے تقوٰی سے اور ڈرتے رہو اللہ سے اللہ کو خوب خبر ہے جو تم کرتے ہو

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:9 in the Quran reader

وعدہ کیا اللہ نے ایمان والوں سے اور جو نیک عمل کرتے ہیں کہ ان کے واسطے بخشش اور بڑا ثواب ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 5:10 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور جھٹلائیں ہماری آیتیں وہ ہیں دوزخ والے

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو اللہ تعالیٰ (کی خوشنودی) کے لئے (احکام کی) پوری پابندی کرنے والے (اور شہادت کی نوبت آوے تو) انصاف کی شہادت ادا کرنے والے رہو، اور کسی خاص گروہ کی عداوت تم کو اس پر باعث نہ ہوجاوے کہ تم (ان کے معاملات میں) عدل نہ کرو (ضرور ہر معاملہ میں) عدل کیا کرو وہ (یعنی عدل کرنا) تقویٰ سے زیادہ قریب ہے (یعنی اس سے تقویٰ کے ساتھ موصوف کہلاتا ہے) اور (تقویٰ اختیار کرنا تم پر فرض ہے، چناچہ حکم ہوا ہے کہ) اللہ تعالیٰ (کی مخالفت) سے ڈرو (یہی حقیقت ہے تقویٰ کی پس عدل جو کہ اس فرض تقویٰ کا موقوف علیہ ہے نیز فرض ہوگا) بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی تمہارے سب اعمال کی پوری اطلاع ہے (پس مخالفین احکام کو سزا ہوجاوے تو بعید نہیں) اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں سے جو ایمان لے آئے اور (انہوں نے) اچھے کام کئے وعدہ کیا ہے کہ ان کے لئے مغفرت اور ثواب عظیم ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہمارے احکام کو جھوٹا بتلایا ایسے لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں۔ معارف و مسائل مذکورہ تین آیتوں میں سے پہلی آیت کا مضمون تقریباً ان ہی الفاظ کے ساتھ سورة نساء میں بھی گذر چکا ہے۔ فرق اتنا ہے کہ وہاں کونوا قوامین بالقسط شھداءللہ ارشاد ہوا تھا اور یہاں کونوا قومین للہ شھداء بالقسط فرمایا گیا ہے۔ ان دونوں آیتوں میں الفاظ کے تقدم اور تاخر کی ایک لطیف وجہ ابوحیان نے تفسیر بحر محیط میں ذکر کی ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کو عدل و انصاف سے روکنے اور ظلم وجود میں مبتلا کرنے کے عادتاً دو سبب ہوا کرتے ہیں ایک اپنے نفس یا اپنے دوستوں، عزیزوں کی طرف داری، دوسرے کسی شخص کی دشمنی و عداوت۔ سورة نساء کی آیت کا روئے سخن پہلے مضمون کی طرف ہے اور سورة مائدہ کی اس آیت کا روئے سخن دوسرے مضمون کی طرف۔ اسی لئے سورة نساء میں اس کے بعد ارشاد ہے ولو علی انفسکم اوالوالدین و الاقربین یعنی عدل و انصاف پر قائم رہو، چاہے وہ عدل و انصاف کا حکم خود تمہارے نفوس یا تمہارے والدین اور عزیزوں و دوستوں کے خلاف پڑے۔ اور سورة مائدہ کی اس آیت میں جملہ مذکور کے بعد یہ ارشاد ہے ولا یجرمنکم شنان قوم علی الا تعدلوا۔ یعنی کسی قوم کی عداوت و دشمنی تمہیں اس پر آمادہ نہ کردے کہ تم انصاف کے خلاف کرنے لگو۔ یہی وجہ ہے کہ سورة نساء کی آیت میں قسط یعنی انصاف کو مقدم کرکے ارشاد فرمایاکونوا قوامین بالقسط شھداء للہ اور سورة مائدہ کی آیت میں للہ کو مقدم کرکے ارشاد فرمایا کونوا قومین للّٰہ شھداء بالقسط۔ اگرچہ انجام اور نتیجہ کے اعتبار سے یہ دونوں عنوان ایک ہی مقصد کو ادا کرتے ہیں۔ کیونکہ جو شخص انصاف پر کھڑا ہوگا، وہ اللہ ہی کے لئے کھڑا ہوگا۔ اور جو شخص اللہ ہی کے لئے کھڑا ہوا ہے وہ ضرور انصاف ہی کرے گا۔ لیکن اپنے نفس اور دوستوں عزیزوں کی رعایت کے مقام میں یہ خیال گزر سکتا ہے کہ ان تعلقات کی رعایت بھی تو اللہ ہی کے لئے ہے۔ اس لئے وہاں لفظ قسط کو مقدم لا کر اس کی طرف ہدایت کردی کہ وہ رعایت اللہ کے لئے نہیں ہو سکتی جو عدل و انصاف کے خلاف ہو۔ اور سورة مائدہ میں دشمنوں کے ساتھ عدل و انصاف برتنے کا حکم دینا تھا تو وہاں لفظ للہ کو مقدم لاکر انسانی فطرت کو جذبات میں مغلوب ہونے سے نکال دیا۔ کہ تم لوگ اللہ کے لئے کھڑے ہو جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ دشمنوں کے ساتھ بھی انصاف کرو۔ خلاصہ یہ ہے کہ سورة نساء اور مائدہ کی دونوں آیتوں میں دو چیزوں کی طرف ہدایت ہے۔ ایک یہ کہ خواہ معاملہ دوستوں سے ہو یا دشمنوں سے عدل و انصاف کے حکم پر قائم رہو۔ نہ کسی تعلق کی رعایت سے اس میں کمزوری آنی چاہیے اور نہ کسی دشمنی و عداوت سے۔ دوسری ہدایت ان دونوں آیتوں میں اس کی بھی ہے کہ سچی شہادت اور حق بات کے بیان کرنے سے پہلو تہی نہ کی جائے۔ تاکہ فیصلہ کرنے والوں کو حق اور صحیح فیصلہ کرنے میں دشواری پیش نہ آئے۔ قرآن کریم نے اس مضمون پر کئی آیتوں میں مختلف عنوانات سے زور دیا ہے اور اس کی تاکید فرمائی ہے کہ لوگ سچی گواہی دینے میں کوتاہی اور سستی نہ برتیں۔ ایک آیت میں نہایت صراحت و وضاحت کے ساتھ یہ حکم دیا۔ ولا تکتموا الشھادۃ تا اثم قلبہ۔ یعنی گواہی کو چھپاؤ نہیں اور جو شخص چھپائے گا اس کا دل گنہگار ہوگا۔ جس سے سچی گواہی دینا واجب اور اس کا چھپانا شخت گناہ ثابت ہوا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی قرآن حکیم نے اس پر بھی نظر رکھی ہے کہ لوگوں کو سچی گواہی دینے سے روکنے والی چیز دراصل یہ ہے کہ گواہ کو بار بار عدالتوں کی حاضری اور فضول قسم کی وکیلانہ جرح سے سابقے پڑتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جس شخص کا نام کسی گواہی میں آگیا وہ ایک مصیبت میں مبتلا ہوگیا۔ اپنے کاروبار سے گیا اور مفت کی زحمت میں مبتلا ہوا۔ اس لئے قرآن کریم نے جہاں سچی گواہی دینے کو لازم و واجب قرار دیا، وہیں یہ بھی ارشاد فرمایا دیاولا یضار کاتب ولا شھید۔ یعنی معاملہ کی تحریر لکھنے والوں اور گواہوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ آج کی عدالتوں اور ان میں پیش ہونے والے مقدمات کی اگر صحیح تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ موقع پر موجود اور سچے گواہ شاذونادر کہیں ملتے ہیں۔ سمجھ دار شریف آدمی جہاں کوئی ایسا واقع دیکھتا ہے وہاں سے بھاگتا ہے کہ کہیں گواہی میں نام نہ آجائے۔ پولیس ادھر ادھر کے گواہوں سے خانہ پری کرتی ہے اور نتیجہ اس کا وہی ہوسکتا ہے جو رات و دن مشاہدہ میں آرہا ہے کہ فیصد دس پانچ مقدمات میں بھی حق و انصاف پر فیصلہ نہیں ہوسکتا اور عدالتیں بھی مجبور ہیں، جیسی شہادتیں ان کے پاس پہنچتی ہیں وہ انہی کے ذریعہ کوئی نتیجہ نکال سکتی ہیں اور انہیں کی بنیاد پر فیصلہ کرسکتی ہیں۔ مگر اس بنیادی غلطی کو کوئی نہیں دیکھ سکتا کہ اگر گواہوں کے ساتھ شریفانہ معاملہ کیا جائے اور ان کو بار بار پریشان نہ کیا جائے تو اچھے بھلے نیک اور سچے آدمی قرآنی تعلیمات کے پیش نظر گواہی میں آنے سے باز نہ رہیں گے۔ مگر جو کچھ ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ معاملہ کی ابتدائی تحقیق جو پولیس کرتی ہے وہ ہی با ربار بلا کر گواہ کو اتنا پریشان کردیتی ہے کہ وہ آئندہ اپنی اولاد کو کہہ کر مرتا ہے کہ کبھی کسی معاملہ کے گواہ نہ بننا۔ پھر اگر معاملہ عدالت میں پہنچتا ہے تو وہاں تاریخوں پر تاریخیں لگتی ہیں۔ ہر تاریخ پر اس ناکردہ گناہ کو حاضری کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔ اس طولانی ضابطہ کاروائی نے جو انگریز اپنی یادگار چھوڑ گیا ہے، ہماری ساری عدالتوں اور محکموں کو گندہ کیا ہوا ہے۔ قدیم سادہ طرز پر جو آج بھی حجاز اور بعض دوسرے ممالک میں رائج ہے نہ مقدمات کی اتنی کثرت ہو سکتی ہے اور نہ ان میں اتنا طول ہوسکتا ہے نہ گواہوں کو گواہی دینا مصیبت بن سکتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ضابطہ شہادت اور ضابطہ کاروائی اگر قرآنی تعلیمات کے مطابق بنایا جائے تو اس کی برکات آج بھی آنکھوں سے مشاہدہ ہونے لگیں۔ قرآن نے ایک طرف واقعہ سے باخبر لوگوں پر سچی شہادت ادا کرنے کو لازم و واجب قرار دے دیا ہے تو دوسری طرف لوگوں کو ایسی ہدایتیں دے دی ہیں کہ گواہوں کو بلاوجہ پریشان نہ کیا جائے۔ کم سے کم وقت میں ان کا بیان لے کر فارغ کردیا جائے۔ امتحانات کے نمبر، سند و سرٹیفکٹ اور انتخابات کے ووٹ سب شہادت کے حکم میں داخل ہیں۔ آخر میں ایک اور اہم بات بھی یہاں جاننا ضروری ہے، وہ یہ کہ لفظ شہادت اور گواہی کا جو مفہوم آج کل عرف میں مشہور ہوگیا ہے وہ تو صرف مقدمات و خصومات میں کسی حاکم کے سامنے گواہی دینے کے لئے مخصوص سمجھا جاتا ہے۔ مگر قرآن و سنت کی اصطلاح میں لفظ شہادت اس سے زیادہ وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ مثلاً کسی بیمار کو ڈاکٹری سرٹیفیکٹ دینا کہ یہ ڈیوٹی ادا کرنے کے قابل نہیں یا نوکری کرنے کے قابل نہیں۔ یہ بھی ایک شہادت ہے۔ اگر اس میں واقعہ کے خلاف لکھا گیا تو وہ جھوٹی شہادت ہو کر گناہ کبیرہ ہوگیا۔ اسی طرح امتحانات میں طلباء کے پرچوں پر نمبر لگانا بھی ایک شہادت ہے۔ اگر جان بوجھ کر یا بےپراوئی سے نمبروں میں کمی بیشی کردی تو وہ بھی جھوٹی شہادت ہے۔ اور حرام اور سخت گناہ ہے۔ کامیاب ہونے والے فارغ التحصیل طلباء کو سند یا سرٹیفکٹ دینا اس کی شہادت ہے کہ وہ متعلقہ کام کی اہلیت و صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر وہ شخص واقع میں ایسا نہیں ہے تو اس سرٹیفیکٹ یا سند پر دستخط کرنے والے سب کے سب شہادت کا ذبہ کے مجرم ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح اسمبلیوں اور کونسلوں وغیرہ کے انتخاب میں کسی امیدوار کو ووٹ دینا بھی ایک شہادت ہے۔ جس میں ووٹ دہندہ کی طرف سے اس کی گواہی ہے کہ ہمارے نزدیک یہ شخص اپنی استعداد اور قابلیت کے اعتبار سے بھی اور دیانت و امانت کے اعتبار سے بھی قومی نمائندہ بننے کے قابل ہے۔ اب غور کیجئے کہ ہمارے نمائندوں میں کتنے ایسے ہوتے ہیں جن کے حق میں یہ گواہی سچی اور صحیح ثابت ہوسکے۔ مگر ہمارے عوام ہیں کہ انہوں نے اس کو محض ہار جیت کا کھیل سمجھ رکھا ہے۔ اس لئے ووٹ کا حق کبھی پیسوں کے عوض میں فروخت ہوتا ہے، کبھی کسی دباؤ کے تحت استعمال کیا جاتا ہے، کبھی ناپائدار دوستوں اور ذلیل وعدوں کے بھروسہ پر اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اور تو اور لکھے پڑھے دینددار مسلمان بھی نااہل لوگوں کو ووٹ دیتے وقت کبھی یہ محسوس نہیں کرتے کہ ہم یہ جھوٹی گواہی دے کر مستحق لعنت و عذاب بن رہے ہیں۔ نمائندوں کے انتخاب کے لئے ووٹ دینے کی ازروئے قرآن ایک دوسری حیثیت بھی ہے جس کو شفاعت یا سفارش کہا جاتا ہے کہ ووٹ دینے والا گویا یہ سفارش کرتا ہے فلاں امیدوار کو نمائندگی دی جائے۔ اس کا حکم قرآن کریم کے الفاظ میں پہلے بیان ہوچکا ہے۔ ارشاد ہے۔ ومن یشفع شفاعة حسنة یکن لہ نصیب منھا تا کفل منھا۔ یعنی جو شخص اچھی اور سچی سفارش کرے گا، تو جس کے حق میں سفارش کی ہے اس کے نیک عمل کا حصہ اس کو بھی ملے گا اور جو شخص بری سفارش کرتا ہے، یعنی کسی نااہل اور برے شخص کو کامیاب بنانے کی سعی کرتا ہے اس کو اس کے برے اعمال کا حصہ ملے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ امیدوار اپنی کارکردگی کے پنج سالہ دور میں غلط اور ناجائز کام کرے گا، ان سب کا وبال ووٹ دینے والے کو بھی پہنچے گا۔ ووٹ کی ایک تیسری شرعی حیثیت وکالت کی ہے کہ ووٹ دینے والا اس امیدوار کو اپنی نمائندگی کے لئے وکیل بناتا ہے۔ لیکن اگر یہ وکالت اس کے کسی شخصی حق کے متعلق ہوتی اور اس کا نفع نقصان صرف اس کی ذات کو پہنچتا تو اس کا یہ خود ذمہ دار ہوتا مگر یہاں ایسا نہیں۔ کیونکہ یہ وکالت ایسے حقوق کے متعلق ہے جن میں اس کے ساتھ پوری قوم شریک ہے۔ اس لئے اگر کسی نااہل کو اپنی نمائندگی کے لئے ووٹ دے کر کامیاب بنایا تو پوری قوم کے حقوق کو پامال کرنے کا گناہ بھی اس کی گردن پر رہا۔ خلاصہ یہ کہ ہمارا ووٹ تین حیثیتیں رکھتا ہے۔ ایک شہادت، دوسرے شفاعت اور تیسرے حقوق مشترکہ میں وکالت۔ تینوں حیثیتوں میں جس طرح نیک صالح قابل آدمی کو ووٹ دینا موجب ثواب عظیم ہے اور اس کے ثمرات اس کو ملنے والے ہیں۔ اسی طرح نااہل یا غیر متدین شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت بھی ہے اور بری شفاعت بھی اور ناجائز وکالت بھی اور اس کے تباہ کن ثمرات بھی اس کے نامہ اعمال میں لکھے جائیں گے۔ اس لئے ہر مسلمان ووٹر پر فرض ہے کہ ووٹ دینے سے پہلے اس کی پوری تحقیق کرلے کہ جس کو ووٹ دے رہا ہے وہ کام کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں اور دیانت دار ہے یا نہیں، محض غفلت و بےپرواہی سے بلاوجہ ان عظیم گناہوں کا مرتکب نہ ہو۔