Ayah 5:33جرم و سزا کے چند قرآنی ضابطے
اِنَّمَا جَزٰۗؤ ُ ا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادً۔
خلاصہ تفسیر
جو لوگ اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول ﷺ سے لڑتے ہیں اور (اس لڑنے کا مطلب یہ ہے کہ) ملک میں فساد (یعنی بدامنی) پھیلاتے پھرتے ہیں (مراد اس سے رہزنی یعنی ڈکیتی ہے، ایسے شخص پر جس کو اللہ نے قانون شرعی سے جس کا اظہار رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے ہوا ہے امن دیا ہو یعنی مسلمان پر اور ذمی پر، اور اسی لئے اس کو اللہ اور رسول ﷺ سے لڑنا کہا گیا ہے، کہ اس نے اللہ کے دئیے ہوئے امن کو توڑا، اور چونکہ رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے اس کا ظہور ہوا اس لئے رسول کا تعلق بھی بڑھا دیا غرض جو لوگ ایسی حرکت کرتے ہیں) ان کی یہی سزا ہے کہ (ایک حالت میں تو) قتل کئے جائیں (وہ حالت یہ ہے کہ ان رہزنوں نے کسی کو صرف قتل کیا ہو اور مال لینے کی نوبت نہ آئی ہو) یا (اگر دوسری حالت ہوئی ہو تو) سولی دیئے جائیں (یہ وہ حالت ہے کہ انہوں نے مال بھی لیا ہو اور قتل بھی کیا ہو) یا (اگر تیسری حالت ہوئی ہو تو) ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے (یعنی داہنا ہاتھ بایاں پاؤ ں) کاٹ دیئے جائیں (یہ وہ حالت ہے کہ صرف مال لیا قتل نہ کیا ہو) یا (اگر چوتھی حالت ہوئی ہو تو) زمین پر (آزادانہ آباد رہنے) سے نکال (کر جیل میں بھیج) دیئے جائیں (یہ وہ حالت ہے کہ نہ مال لیا ہو نہ قتل کیا ہو قصد کرنے کے بعد ہی گرفتار ہوگئے ہوں) یہ (سزائے مذکور تو) ان کے لئے دنیا میں سخت رسوائی (اور ذلت) ہے، اور ان کو آخرت میں (جو) عذاب عظیم ہوگا (سو الگ) ہاں مگر جو لوگ قبل اس کے کہ تم ان کو گرفتار کرو توبہ کرلیں تو (اس حالت میں) جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ (اپنے حقوق) بخش دیں گے (اور توبہ قبول کرنے میں) مہربانی فرما دیں گے (مطلب یہ کہ اوپر جو سزا مذکور ہوئی ہے، وہ حد اور حق اللہ کے طور پر ہے جو کہ بندہ کے معاف کرنے سے معاف نہیں ہوتی قصاص و حق العبد کے طور پر نہیں جو کہ بندہ کے معاف کرنے سے معاف ہوجاتا ہے، پس جب کہ قبل گرفتاری کے ان لوگوں کا تائب ہونا ثابت ہوجاوے تو حد ساقط ہوجاوے گی، جو کہ حق اللہ تھا، البتہ حق العبد باقی رہے گا، پس اگر مال لیا ہوگا تو اس کا ضمان دینا ہوگا، اور اگر قتل کیا ہوگا تو اس کا قصاص لیا جاوے گا، لیکن اس ضمان و قصاص کے معاف کرنے کا حق صاحب مال و ولی مقتول کو حاصل ہوگا)۔
معارف و مسائل
قرآنی قوانین کا عجیب و غریب انقلابی اسلوب
پہلی آیتوں میں ہابیل کا واقعہ قتل اور اس کا جرم عظیم ہونا مذکور تھا، مذکورہ آیات میں اور ان کے بعد قتل و غارت گری، ڈاکہ زنی اور چوری کی شرعی سزاؤں کا بیان ہے، ڈاکہ اور چوری کی سزاؤں کے درمیان خوف خدا اور بذریعہ طاعات اس کا قرب حاصل کرنے کی تلقین ہے، قرآن کریم کا یہ اسلوب نہایت لطیف طریقہ پر ذہنی انقلاب پیدا کرنے والا ہے، کہ وہ دنیا کی تعزیرات کی کتابوں کی طرح صرف جرم و سزا کے بیان پر کفایت نہیں کرتا، بلکہ ہر جرم و سزا کے ساتھ خوف خدا و آخرت مستحضر کرکے انسان کا رخ ایک ایسے عالم کی طرف موڑ دیتا ہے، جس کا تصور اس کو ہر عیب و گناہ سے پاک کردیتا ہے، اور اگر حالات و واقعات پر غور کیا جائے تو ثابت ہوگا کہ خوف خدا و آخرت کے بغیر دنیا کا کوئی قانون، پولیس اور فوج دنیا میں انسداد جرائم کی ضمانت نہیں دے سکتی، قرآن کریم کا یہی اسلوب حکیمانہ اور مربّیانہ طرز ہے، جس نے دنیا میں انقلاب برپا کیا، اور ایسے انسانوں کا ایک معاشرہ پیدا کیا جو اپنے تقدس میں فرشتوں سے بھی اونچا مقام رکھتے ہیں۔
شرعی سزاؤں کی تین قسمیں
ڈاکہ اور چوری کی شرعی سزائیں جن کا ذکر آیات مذکورہ میں ہے، ان کی تفصیل اور متعلقہ آیات کی تفسیر بیان کرنے سے پہلے مناسب ہے کہ ان سزاؤں سے متعلق شرعی اصطلاحات کی کچھ وضاحت کردی جائے، جن سے ناواقفیت کی وجہ سے بہت سے لکھے پڑھے لوگوں کو بھی اشکالات پیش آتے ہیں، دنیا کے عام قوانین میں جرائم کی تمام سزاؤں کو مطلقاً تعزیرات پاکستان کا نام دیا جاتا ہے، خواہ وہ کسی جرم سے متعلق ہو، تعزیرات ہند، تعزیرات پاکستان وغیرہ کے ناموں سے جو کتابیں شائع ہو رہی ہیں، وہ ہر قسم کے جرائم اور ہر طرح کی سزاؤں پر مشتمل ہیں، لیکن شریعت اسلام میں معاملہ ایسا نہیں، بلکہ جرائم کی سزاؤں کی تین قسمیں قرار دی گئیں۔
حدود، قصاص، تعزیرات، ان تینوں قسموں کی تعریف اور مفہوم سمجھنے سے پہلے ایک یہ بات جان لینا ضروری ہے کہ جن جرائم سے کسی دوسرے انسان کو تکلیف یا نقصان پہنچتا ہے اس میں مخلوق پر بھی ظلم ہوتا ہے، اور خالق کی بھی نافرمانی ہوتی ہے، اس لئے ہر ایسے جرم میں حق اللہ اور حق العبد دونوں شامل ہوتے ہیں، اور انسان دونوں کا مجرم بنتا ہے۔
لیکن بعض جرائم میں حق العبد کی حیثیت کو زیادہ اہمیت حاصل ہے، اور بعض میں حق اللہ کی حیثیت زیادہ نمایاں ہے، اور احکام میں مدار کار اسی غالب حیثیت پر رکھا گیا ہے۔
دوسری بات یہ جاننا ضروری ہے کہ شریعت اسلام نے خاص خاص جرائم کے علاوہ باقی جرائم کی سزاؤں کے لئے کوئی پیمانہ متعین نہیں کیا، بلکہ قاضی کے اختیار میں دیا ہے کہ ہر زمانہ اور ہر مکان اور ہر ماحول کے لحاظ سے جیسی اور جتنی سزا انسداد جرم کے لئے ضروری سمجھے وہ جاری کرے، یہ بھی جائز ہے کہ ہر جگہ اور ہر زمانے کی اسلامی حکومت شرعی قواعد کا لحاظ رکھتے ہوئے قاضیوں کے اختیارات پر کوئی پابندی لگاوے اور جرائم کی سزاؤں کا کوئی خاص پیمانہ دے کر اس کا پابند کر دے، جیسا کہ قرون متاخرہ میں ایسا ہوتا رہا ہے، اور اس وقت تمام ممالک میں تقریباً یہی صورت رائج ہے۔
اب سمجھئے کہ جن جرائم کی کوئی سزا قرآن و سنت نے متعین نہیں کی بلکہ حکام کی صواب دید پر رکھا ہے، ان سزاؤں کو شرعی اصطلاح میں ”تعزیرات“ کہا جاتا ہے، اور جن جرائم کی سزائیں قرآن و سنت نے متعین کردی ہیں وہ دو قسم پر ہیں، ایک وہ جن میں حق اللہ کا غالب قرار دیا گیا ہے ان کی سزا کو ”حد“ کہا جاتا ہے جس کی جمع ”حدود“ ہے، دوسرے وہ جن میں حق العبد کو ازروئے شرع غالب مانا گیا ہے، اس کی سزا کو“ قصاص“ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے حدود و قصاص کا بیان پوری تفصیل و تشریح کے ساتھ خود کردیا ہے باقی تعزیری جرائم کی تفصیلات کو بیان رسول ﷺ اور حکام وقت کی صواب دید پر چھوڑ دیا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے جن جرائم کی سزا کو بطور حق اللہ متعین کرکے جاری کیا ہے ان کو حدود کہتے ہیں، اور جن کو بطور حق العبد جاری فرمایا ہے ان کو قصاص کہتے ہیں، اور جن جرائم کی سزا کا تعین نہیں فرمایا اس کو تعزیر کہتے ہیں، سزا کی ان تینوں قسموں کے احکام بہت سی چیزوں میں مختلف ہیں، جو لوگ اپنے عرف عام کی بناء پر ہر جرم کی سزا کو تعزیر کہتے ہیں اور شرعی اصطلاحات کے فرق پر نظر نہیں کرتے ان کو شرعی احکام میں بکثرت مغالطے پیش آئے ہیں۔
تعزیری سزائیں حالات کے ماتحت ہلکی سے ہلکی بھی کی جاسکتی ہیں، سخت سے سخت بھی اور معاف بھی کی جاسکتی ہیں، ان میں حکام کے اختیارات وسیع ہیں، اور حدود میں کسی حکومت یا کسی حاکم و امیر کو ادنیٰ تغیر و تبدّل یا کمی بیشی کی اجازت نہیں ہے، اور نہ زمان و مکان کے بدلنے کا ان پر کوئی اثر پڑتا ہے، نہ کسی امیر و حاکم کو اس کے معاف کرنے کا حق ہے، شریعت اسلام میں حدود صرف پانچ ہیں، ڈاکہ، چوری، زنا، تہمت زنا کی سزائیں، یہ سزائیں قرآن کریم میں منصوص ہیں، پانچویں شراب خوری کی حد ہے، جو اجماع صحابہ کرام سے ثابت ہوئی ہے، اس طرح کل پانچ جرائم کی سزائیں معین ہوگئیں، جن کو ”حدود“ کہا جاتا ہے، یہ سزائیں جس طرح کوئی حاکم و امیر کم یا معاف نہیں کرسکتا، اسی طرح توبہ کرلینے سے بھی دنیوی سزا کے حق میں معافی نہیں ہوتی، ہاں آخرت کا گناہ مخلصانہ توبہ سے معاف ہو کر وہاں کا کھاتہ بیباق ہوجاتا ہے، ان میں سے صرف ڈاکو کی سزا میں ایک استثناء ہے کہ ڈاکو اگر فتاری سے قبل توبہ کرے اور معاملات سے اس کی توبہ پر اطمینان ہوجائے تو بھی یہ حد ساقط ہوجائے گی، گرفتاری کے بعد کی توبہ معتبر نہیں، اس کے علاوہ دوسری حدود توبہ سے بھی دنیا کے حق میں معاف نہیں ہوتیں، خواہ یہ توبہ گرفتاری سے قبل ہو یا بعد میں، تمام تعزیری جرائم میں حق کے موافق سفارشات سنی جاسکتی ہیں، حدود اللہ میں سفارش کرنا بھی جائز نہیں، اور ان کا سننا بھی جائز نہیں، رسول کریم ﷺ نے اس کی سخت ممانعت فرمائی ہے، حدود کی سزائیں عام طور پر سخت ہیں، اور ان کے نفاذ کا قانون بھی سخت ہے، کہ ان میں کسی کو کسی کمی بیشی کی کسی حال میں اجازت نہیں، نہ کوئی ان کو معاف کرسکتا ہے، جہاں سزا اور قانون کی سختی رکھی گئی ہے وہیں معاملہ کو معتدل کرنے کے لئے تکمیل جرم اور تکمیل ثبوت جرم کے لئے شرطیں بھی نہایت کڑی رکھی گئی ہیں، ان شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی مفقود ہو تو حد ساقط ہوجاتی ہے، بلکہ ادنیٰ سا شبہ بھی ثبوت میں پایا جائے تو حد ساقط ہوجاتی ہے، اسلام کا مسلم قانون اس میں یہ ہے کہ الحدود تندرء بالشبھات یعنی حدود کو ادنیٰ شبہ سے ساقط کردیا جاتا ہے۔
یہاں یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ جن صورتوں میں حد شرعی کسی شبہ یا کسی شرط کی کمی کی وجہ سے ساقط ہوجائے تو یہ ضروری نہیں کہ مجرم کو کھلی چھٹی مل جائے جس سے اس کو جرم پر اور جرأت پیدا ہو، بلکہ حاکم اس کے مناسب حال اس کو تعزیری سزا دے گا اور شریعت کی تعزیری سزائیں بھی عموماً بدنی اور جسمانی سزائیں ہیں، جن میں عبرت انگیز ہونے کی وجہ سے انسداد جرائم کا مکمل انتظام ہے، فرض کیجئے کہ زنا کے ثبوت پر صرف تین گواہ ملے، اور گواہ عادل ثقہ ہیں جن پر چھوٹ کا شبہ نہیں ہو سکتا، مگر ازروئے قانون شرع چوتھا گواہ نہ ہونے کی وجہ سے اس پر حد شرعی جاری نہیں ہوگی، لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اس کو کھلی چھٹی دے دیجائے، بلکہ حاکم وقت اس کو مناسب تعزیری سزا دے گا جو کوڑے لگانے کی صورت میں ہوگی، یا چوری کے ثبوت کے لئے جو شرائط مقرر ہیں اس میں کوئی کمی یا شبہ پیدا ہونے کی وجہ سے اس پر حدّ شرعی ہاتھ کاٹنے کی جاری نہیں ہوسکتی، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بالکل آزاد ہوگیا، بلکہ اس کو دوسری تعزیری سزائیں حسب حال دی جائیں گی۔
قصاص کی سزا بھی حدود کی طرح قرآن میں متعین ہے، کہ جان کے بدلہ میں جان لی جائے زخموں کے بدلہ میں مساوی زخم کی سزا دی جائے، لیکن فرق یہ ہے کہ حدود کو بحیثیت حق اللہ نافذ کیا گیا ہے، اگر صاحب حق انسان معاف بھی کرنا چاہے تو معاف نہ ہوگا، اور حد ساقط نہ ہوگی، مثلاً جس کا مال چوری کیا ہے وہ معاف بھی کر دے تو چوری کی شرعی سزا معاف نہ ہوگی، بخلاف قصاص کے کہ اس میں حق العبد کی حیثیت کو قرآن و سنت نے غالب قرار دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ قاتل پر جرم قتل ثابت ہوجانے کے بعد اس کو ولی مقتول کے حوالہ کردیا جاتا ہے وہ چاہے تو قصاص لے لے، اور اس کو قتل کرا دے، اور چاہے معاف کر دے۔
اسی طرح زخموں کے قصاص کا بھی یہی حال ہے، یہ بات آپ پہلے معلوم کرچکے ہیں کہ حدود یا قصاص کے ساقط ہوجانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ مجرم کو کھلی چھٹی مل جائے بلکہ حاکم وقت تعزیری سزا جتنی اور جیسی مناسب سمجھے دے سکتا ہے، اس لئے یہ شبہ نہ ہونا چاہیئے کہ اگر خون کے مجرم کو اولیاء مقتول کے معاف کرنے پر چھوڑ دیا جائے تو قاتلوں کی جرأت بڑھ جائے گی اور قتل کی واردات عام ہوجائیں گی، کیونکہ اس شخص کی جان لینا تو ولی مقتول کا حق تھا وہ اس نے معاف کردیا، لیکن دوسرے لوگوں کی جانوں کی حفاظت حکومت کا حق ہے، وہ اس حق کے تحفظ کے لئے اس کو عمر قید کی یا دوسری قسم کی سزائیں دے کر اس خطرہ کا انسداد کرسکتی ہے۔
یہاں تک شرعی سزاؤں حدود، قصاص اور تعزیرات کی اصطلاحات شرعیہ اور ان کے متعلق ضروری معلومات کا بیان ہوا، اب ان کے متعلق آیات کی تفسیر اور حدود کی تفصیل دیکھئے، پہلی آیت میں ان لوگوں کی سزا کا بیان ہے جو اللہ اور رسول ﷺ کے ساتھ مقابلہ اور محاربہ کرتے ہیں، اور زمین میں فساد مچاتے ہیں۔
یہاں پہلی بات قابل غور یہ ہے کہ اللہ و رسول ﷺ کے ساتھ محاربہ اور زمین میں فساد کا کیا مطلب ہے، اور کون لوگ اس کے مصداق ہیں، لفظ ”محاربہ“ حرب سے ماخوذ ہے، اور اس کے اصلی معنی سلب کرنے اور چھین لینے کے ہیں، اور محاورات میں یہ لفظ سَلَم کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے، جس کے معنی امن و سلامتی کے ہیں، تو معلوم ہوا کہ حرب کا مفہوم بدامنی پھیلانا ہے، اور ظاہر ہے کہ اِکّا دکا چوری یا قتل و غارت گری سے امن عامہ سلب نہیں ہوتا، بلکہ یہ صورت جبھی ہوتی ہے جبکہ کوئی طاقتور جماعت رہزنی اور قتل و غارت گری پر کھڑی ہوجائے، اس لئے حضرات فقہاء نے اس سزا کا مستحق صرف اس جماعت یا فرد کو قرار دیا ہے جو مسلح ہو کر عوام پر ڈاکے ڈالے، اور حکومت کے قانون کو قوت کے ساتھ توڑنا چاہے جس کو دوسرے لفظوں میں ڈاکو یا باغی کہا جاسکتا ہے، عام انفرادی جرائم کرنے والے چورگرہ کٹ وغیرہ اس میں داخل نہیں ہیں (تفسیر مظہری)۔
دوسری بات یہاں یہ قابل غور ہے کہ اس آیت میں محاربہ کو اللہ اور رسول ﷺ کی طرف منسوب کیا ہے حالانکہ ڈاکو یا بغاوت کرنے والے جو مقابلہ یا محاربہ کرتے ہیں وہ انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے، وجہ یہ ہے کہ کوئی طاقتور جماعت جب طاقت کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے قانون کو توڑنا چاہے تو اگرچہ ظاہر میں اس کا مقابلہ عوام اور انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے لیکن درحقیقت اس کی جنگ حکومت کے ساتھ ہے اور اسلامی حکومت میں جب قانون اللہ اور رسول ﷺ کا نافذ ہو تو یہ محاربہ بھی اللہ و رسول ﷺ ہی کے مقابلہ میں کہا جائیگا۔
خلاصہ یہ ہے کہ پہلی آیت میں جس سزا کا ذکر ہے یہ ان ڈاکوؤں اور باغیوں پر عائد ہوتی ہے جو اجتماعی قوت کے ساتھ حملہ کرکے امن عامہ کو برباد کریں، اور قانون حکومت کو اعلانیہ توڑنے کی کوشش کریں اور ظاہر ہے کہ اس کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں، مال لوٹنے، آبرو پر حملہ کرنے سے لے کر قتل و خونریزی تک سب اس کے مفہوم میں شامل ہیں، اسی سے مقاتلہ اور محاربہ میں فرق معلوم ہوگیا کہ لفظ مقاتلہ خون ریز لڑائی کے لئے بولا جاتا ہے مگر کوئی قتل ہو یا نہ ہو، اور گو ضمناً مال بھی لوٹا جائے، اور لفظ محاربہ طاقت کے ساتھ بدامنی پھیلانے اور سلامتی کو سلب کرنے کے معنی میں ہے۔ اسی لئے یہ لفظ اجتماعی طاقت کے ساتھ عوام کی جان و مال و آبرو میں سے کسی چیز پر دست درازی کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے، جس کو رہزنی، ڈاکہ اور بغاوت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اس جرم کی سزا قرآن کریم نے خود متعین فرما دی اور بطور حق اللہ یعنی سرکاری جرم کے نافذ کیا، جس کو اصطلاح شرع میں حد کہا جاتا ہے، اب سنئے کہ ڈاکہ اور رہزنی کی شرعی سزا کیا ہے آیت مذکورہ میں، رہزنی کی چار سزائیں مذکور ہیں
اَنْ يُّقَتَّلُوْٓا اَوْ يُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُـقَطَّعَ اَيْدِيْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ۔ ”یعنی اس کو قتل کیا جائے یا سولی چڑھایا جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مختلف جانبوں سے کاٹ دیئے جائیں یا ان کو زمین سے نکال دیا جائے“۔ اس میں سے پہلی سزاؤں میں مبالغہ کا لفظ باب تفعیل سے استعمال فرمایا جو تکرار فعل اور شدت پر دلالت کرتا ہے، اس میں صیغہ جمع استعمال فرما کر اس طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ ان کا قتل یا سولی چڑھانا یا ہاتھ پاؤں کاٹنا عام سزاؤں کی طرح نہیں کہ جس فرد پر جرم ثابت ہو صرف اسی فرد پر سزا جاری کی جائے بلکہ یہ جرم جماعت میں سے ایک فرد سے بھی صادر ہوگیا تو پوری جماعت کو قتل یا سولی یا ہاتھ پاؤں کاٹنے کی سزا دی جائے گی۔
نیز اس طرف بھی اشارہ کردیا گیا کہ یہ قتل و صلب وغیرہ قصاص کے طور پر نہیں کہ اولیاء مقتول کے معاف کردینے سے معاف ہوجائے، بلکہ یہ حد شرعی بحیثیت حق اللہ کے نافذ کی گئی ہے جن لوگوں کو نقصان پہنچا ہے وہ معاف بھی کردیں تو شرعاً سزا معاف نہ ہوگی، یہ دونوں حکم بصیغہ تفعیل ذکر کرنے سے مستفاد ہوئے (تفسیر مظہری وغیرہ)۔
رہزنی کی یہ چار سزائیں حرف اَو کے ساتھ ذکر کی گئی ہیں، جو چند چیزوں میں اختیار دینے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اور تقسیم کار کے لئے بھی، اسی لئے فقہاء امت صحابہ وتابعین کی ایک جماعت حرف اَو کو تخییر کے لئے قرار دے کر اس طرف گئی ہے کہ ان چار سزاؤں میں امام و امیر کو شرعاً اختیار دیا گیا ہے کہ ڈاکوؤں کی قوت و شوکت اور جرائم کی شدت و خفت پر نظر کرکے ان کے حسب حال یہ چاروں سزائیں یا ان میں سے کوئی ایک جاری کرے۔
سعید بن مسیب ؓ، عطاء ؓ داؤد رحمة اللہ علیہ، حسن بصری رحمة اللہ علیہ، ضحاک رحمة اللہ علیہ، نخغی رحمة اللہ علیہ، مجاہد رحمة اللہ علیہ، اور ائمہ اربعہ رحمة اللہ علیہم میں سے امام مالک رحمة اللہ علیہ کا یہی مذہب ہے اور امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ، شافعی رحمة اللہ علیہ، احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ اور ایک جماعت صحابہ ؓ وتابعین رحمة اللہ علیہم نے حرف اَو کو اس جگہ تقسیم کار کے معنے میں لے کر آیت کا مفہوم یہ قرار دیا کہ رہزنوں اور رہزنی کے مختلف حالات پر مختلف سزائیں مقرر ہیں، اس کی تائید ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے، جس میں بروایت ابن عباس ؓ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو بردہ اسلمی سے معاہدہ صلح کا فرمایا تھا، مگر اس نے عہد شکنی کی، اور کچھ لوگ مسلمان ہونے کے لئے مدینہ طیبہ آرہے تھے، ان پر ڈاکہ ڈالا، اس واقعہ میں جبرئیل امین یہ حکم سزا لے کر نازل ہوئے، کہ جس شخص نے کسی کو قتل بھی کیا اور مال بھی لوٹا اس کو سولی چڑھایا جائے، اور جس نے صرف قتل کیا مال نہیں لوٹا اس کو قتل کیا جائے، اور جس نے کوئی قتل نہیں کیا صرف مال لوٹا ہے اس کے ہاتھ پاؤں مختلف جانبوں سے کاٹ دیئے جائیں، اور جو ان میں سے مسلمان ہوجائے اس کا جرم معاف کردیا جائے، اور جس نے قتل و غارت گری کچھ نہیں کیا صرف لوگوں کو ڈرایا جس سے امن عامّہ مختل ہوگیا، اس کو جلاوطن کیا جائے، اگر ان لوگوں نے دار الاسلام کے کسی مسلم یا غیر مسلم شہری کو قتل کیا ہے مگر مال نہیں لوٹا تو ان کی سزا اَنْ يُّقَتَّلُوْٓا یعنی ان سب کو قتل کردیا جائے اگرچہ فعل قتل بلاواسطہ صرف بعض افراد سے صادر ہوا ہو، اور اگر کسی کو قتل بھی کیا مال بھی لوٹا تو ان کی سزا يُصَلَّبُوْٓا ہے، یعنی ان کو سولی چڑھایا جائے، جس کی صورت یہ ہے کہ ان کو زندہ سولی پر لٹکایا جائے، پھر نیزہ وغیرہ سے پیٹ چاک کیا جائے، اور اگر ان لوگوں نے صرف مال لوٹا ہے کسی کو قتل نہیں کیا تو اس کی سزا اَوْ تُـقَطَّعَ اَيْدِيْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ ہے، یعنی ان کے داہنے ہاتھ گٹوں پر سے اور بائیں پاؤں ٹخنوں پر سے کاٹ دیئے جائیں، اور اس میں بھی یہ مال لوٹنے کا عمل بلاواسطہ اگرچہ بعض سے صادر ہوا ہو، مگر سزا سب کے لئے یہی ہوگی، کیونکہ کرنے والوں نے جو کچھ کیا ہے اپنے ساتھیوں کے تعاون و امداد کے بھروسہ پر کیا ہے، اس لئے سب شریک جرم ہیں اور اگر ابھی تک قتل و غارت گری کا کوئی جرم ان سے صادر نہیں ہوا تھا کہ پہلے ہی گرفتار کر لئے گئے تو ان کی سزا اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ہے، یعنی ان کو زمین سے نکال دیا جائے۔
زمین سے نکالنے کا مفہوم ایک جماعت فقہاء کے نزدیک یہ ہے کہ ان کو دار الاسلام سے نکال دیا جائے، اور بعض کے نزدیک یہ ہے کہ جس مقام پر ڈاکہ ڈالا ہے وہاں سے نکال دیا جائے، حضرت فاروق اعظم ؓ اس قسم کے معاملات میں یہ فیصلہ فرمایا کہ اگر مجرم کو یہاں سے نکال کر دوسرے شہروں میں آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہاں کے لوگوں کو ستائے گا اس لئے ایسے مجرم کو قید خانہ میں بند کردیا جائے، یہی اس کا زمین سے نکالنا ہے کہ زمین میں کہیں چل پھر نہیں سکتا، امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ نے بھی یہی اختیار فرمایا ہے۔
رہا یہ سوال کہ اس طرح کے مسلح حملوں میں آج کل عام طور پر صرف مال کی لوٹ کھسوٹ یا قتل و خون ریزی ہی پر اکتفاء نہیں ہوتا بلکہ اکثر عورتوں کی عصمت دری اور اغوا وغیرہ کے واقعات بھی پیش آتے ہیں اور قرآن مجید کا جملہ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا، اس قسم کے تمام جرائم کو شامل بھی ہے تو وہ کس سزا کا مستحق ہوں گے، اس میں ظاہر یہی ہے کہ امام و امیر کو اختیار ہوگا کہ ان چاروں سزاؤں میں سے جو ان کے مناسب حال دیکھے وہ جاری کرے اور بدکاری کا شرعی ثبوت بہم پہنچے تو حدّ زنا جاری کرے۔
اسی طرح اگر صورت یہ ہو کہ نہ کسی کو قتل کیا نہ مال لوٹا، مگر کچھ لوگوں کو زخمی کردیا تو زخموں کے قصاص کا قانون نافذ کیا جائے گا (تفسیر مظہری)۔
آخر آیت میں فرمایا ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَاوَلَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ یعنی یہ سزائے شرعی جو دنیا میں ان پر جاری کی گئی ہے، یہ تو دنیا کی رسوائی ہے اور سزا کا ایک نمونہ ہے، اور آخرت کی سزا اس سے بھی سخت اور دیرپا ہے اس سے معلوم ہوا کہ دنیاوی سزاؤ ں، حدودو قصاص یا تعزیرات سے بغیر توبہ کے آخرت کی سزا معاف نہیں ہوتی، ہاں سزا یافتہ شخص دل سے توبہ کرلے تو آخرت کی سزا معاف ہوجائے گی۔
Ayah 5:34دوسری آیت اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهِمْ میں ایک استثناء ذکر کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ ڈاکو اور باغی اگر حکومت کے گھیرے میں آنے اور ان پر قابو پانے سے پہلے پہلے جب کہ ان کی قوت و طاقت بحال ہے، اس حالت میں اگر توبہ کرکے رہزنی سے خود ہی باز آجائیں تو ڈاکہ کی یہ حد شرعی ان سے ساقط ہوجائے گی، یہ استثناء عام قانون حدود سے مختلف ہے، کیونکہ دوسرے جرائم چوری زنا وغیرہ میں جرم کرنے اور قاضی کی عدالت میں جرم ثابت ہوجانے کے بعد اگر مجرم سچے دل سے توبہ بھی کرے تو گو اس توبہ سے آخرت کی سزا معاف ہوجائے گی، مگر دنیا میں حد شرعی معاف نہ ہوگی، جیسا کہ چند آیتوں کے بعد چوری کی سزا کے تحت میں اس کا تفصیلی بیان آئے گا۔
حکمت اس استثناء کی یہ ہے کہ ایک طرف ڈاکوؤں کی سزا میں یہ شدت اختیار کی گئی ہے کہ پوری جماعت میں کسی ایک سے بھی جرم کا صدور ہو تو سزا پوری جماعت کو دی جاتی ہے، اس لئے دوسری طرف سے استثناء کے ذریعہ معاملہ کو ہلکا کردیا گیا، کہ توبہ کرلیں تو سزائے دنیا بھی معاف ہوجائے، اس کے علاوہ اس میں ایک سیاسی مصلحت بھی ہے کہ ایک طاقتور جماعت پر ہر وقت قابو پانا آسان نہیں ہوتا، اس لئے ان کے واسطے ترغیب کا دروازہ کھلا رکھا گیا، کہ وہ توبہ کی طرف مائل ہوجائیں۔
نیز اس میں یہ بھی مصلحت ہے کہ قتل نفس ایک انتہائی سزا ہے، اس میں قانون اسلام کا رخ یہ ہے کہ اس کا وقوع کم سے کم ہو اور ڈاکہ کی صورت میں ایک جماعت کا قتل لازم آتا ہے اس لئے ترغیبی پہلو سے ان کو اصلاح کی دعوت بھی ساتھ ساتھ جاری رکھی گئی، اسی کا یہ اثر تھا کہ علی اسدی جو مدینہ طیبہ کے قرب میں ایک جتھہ جمع کر کے آنے جانے والوں پر ڈاکہ ڈالتا تھا، ایک روز قافلہ میں کسی قاری کی زبان سے یہ آیت اس کے کان میں پڑگئی، (آیت) یعبادی الذین اسرفوا۔ قاری کے پاس پہنچے، اور دوبارہ پڑھنے کی درخواست کی دوسری مرتبہ آیت سنتے ہی اپنی تلوار میان میں داخل کی، اور رہزنی سے توبہ کرکے مدینہ طیبہ پہنچے، اس وقت مدینہ پر مروان بن حکم حاکم تھے، حضرت ابوہریرہ ؓ ان کا ہاتھ پکڑ کر امیر مدینہ کے پاس لے گئے، اور قرآن کی آیت مذکورہ پڑھ کر فرمایا کہ آپ اس کو کوئی سزا نہیں دے سکتے۔
حکومت بھی ان کے فساد و رہزنی سے عاجز ہو رہی تھی سب کو خوشی ہوئی۔
اسی طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے زمانہ میں حارثہ بن بدر بغاوت کرکے نکل گیا، اور قتل و غارت گری کو پیشہ بنالیا، مگر پھر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور توبہ کرکے واپس آیا، تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس پر حد شرعی جاری نہیں فرمائی۔
یہاں یہ بات قابل یادداشت ہے کہ حد شرعی کے معاف ہوجانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ حقوق العباد جن کو اس نے ضائع کیا ہے وہ بھی معاف ہوجائیں، بلکہ اگر کسی کا مال لیا ہے اور وہ موجود ہے تو اس کا واپس کرنا ضروری ہے، اور کسی کو قتل کیا ہے یا زخمی کیا ہے تو اس کا قصاص اس پر لازم ہے، البتہ چونکہ قصاص حق العبد ہے تو اولیاء مقتول یا صاحب حق کے معاف کرنے سے معاف ہوجائے گا، اور جو کوئی مالی نقصان کسی کو پہنچایا ہے اس کا ضمان ادا کرنا یا اس سے معاف کرانا لازم ہے، امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ اور جمہور فقہاء کا یہی مسلک ہے، اور اگر غور کیا جائے تو یہ بات یوں بھی ظاہر ہے کہ حقوق العباد سے خلاصی حاصل کرنا خود توبہ کا ایک جز ہے، بدون اس کے توبہ ہی مکمل نہیں ہوتی، اس لئے کسی ڈاکو کو تائب اسی وقت مانا جائے گا جب وہ حقوق العباد کو ادا یا معاف کرالے۔
Ayahs 5:35–36خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو اللہ تعالیٰ (کے احکام کی مخالفت) سے ڈرو (یعنی معاصی چھوڑدو) اور (اطاعت کے ذریعہ) خدا تعالیٰ کا قرب ڈھونڈو (یعنی اطاعات ضروریہ کے پابند رہو) اور تم (پورے) کامیاب ہوجاؤ گے (اور کامیابی اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا حاصل ہونا اور دوزخ سے نجات ہے) یقینا جو لوگ کافر ہیں اگر (بالفرض) ان (میں سے ہر ایک) کے پاس دنیا بھر کی تمام چیزیں ہوں (جس میں تمام دفائن و خزائن بھی آگئے) اور (انہی چیزوں پر کیا منحصر ہے بلکہ) ان چیزوں کے ساتھ اتنی ہی چیزیں اور بھی ہوں تاکہ وہ اس کو دے کر روز قیامت کے عذاب سے چھوٹ جاویں تب بھی وہ چیزیں ہرگز ان سے قبول نہ کی جاویں گی (اور عذاب سے نہ بچیں گے بلکہ) ان کو دردناک عذاب ہوگا (پھر بعد عذاب میں داخل ہوجانے کے) اس بات کی خواہش (و تمنا) کریں گے کہ دوزخ سے (کسی طرح) نکل آویں اور (یہ خواہش کبھی پوری نہ ہوگی اور) وہ اس سے کبھی نہ نکلیں گے اور ان کو عذاب دائمی ہوگا (یعنی کسی تدبیر سے نہ سزا ٹلے گی نہ دوام سزا ٹلے گا)۔
اور جو مرد چوری کرے اور (اسی طرح) جو عورت چوری کرے سو (ان کا حکم یہ ہے کہ اے حکام) ان دونوں کے داہنے ہاتھ (گٹے پر) سے کاٹ ڈالو ان کے (اس) کردار کے عوض میں (اور یہ عوض) بطور سزا کے (ہے) اللہ کی طرف سے، اور اللہ تعالیٰ بڑی قوت والے ہیں، (جو سزا چاہیں مقرر فرما دیں اور) بڑی حکمت والے ہیں (کہ مناسب ہی سزا مقرر فرماتے ہیں) پھر جو شخص (موافق قاعدہ شرعیہ کے) توبہ کرلے اپنی اس زیادتی (یعنی چوری) کرنے کے بعد اور (آئندہ کے لئے) اعمال کی درستگی رکھے (یعنی چوری وغیرہ نہ کرے، اپنی توبہ پر قائم رہے) تو بیشک اللہ تعالیٰ اس (کے حال) پر (رحمت کے ساتھ) توجہ فرماویں (کہ توبہ سے پچھلا گناہ معاف فرما دیں گے، اور استقامت علی التوبہ سے مزید عنایت فرمادیں گے) بیشک خدا تعالیٰ بڑی مغفرت والے ہیں (کہ اس کا گناہ معاف کردیا) بڑی رحمت والے ہیں (کہ آئندہ بھی مزید عنایت کی اے مخاطب) کیا تم نہیں جانتے (یعنی سب جانتے ہیں) کہ اللہ ہی کے لئے ثابت ہے حکومت سب آسمانوں کی اور زمین کی وہ جس کو چاہیں سزا دیں اور جس کو چاہیں معاف کردیں، اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر پوری قدرت ہے۔
معارف و مسائل
آیات متذکرہ سے پہلی آیات میں ڈاکو اور بغاوت کی شرعی سزا اور اس کے احکام کی تفصیل مذکور تھی، اور آگے تین آیتوں کے بعد چوری کی شرعی سزا کا بیان آنے والا ہے، اس کے درمیان تیں آیتوں میں تقویٰ ، اطاعت و عبادت، جہاد کی ترغیب اور کفر وعناد اور معصیت کی تباہ کاری کا بیان فرمایا گیا ہے، قرآن کریم کے اس طرز خاص میں غور کرو تو معلوم ہوگا کہ قرآن کریم کا عام اسلوب یہ ہے کہ وہ محض حاکمانہ طور پر تعزیر و سزا کا قانون بیان کرکے نہیں چھوڑ دیتا، بلکہ مربّیانہ انداز میں ذہنوں کو جرائم سے باز رہنے کے لئے ہموار بھی کرتا ہے، خدا تعالیٰ اور آخرت کے خوف اور جنت کی دائمی نعمتوں اور راحتوں کو مستحضر کرکے ان کے قلوب کو جرم سے متنفر بناتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اکثر قانون جرم و سزا کے پیچھے اتَّقُوا اللّٰهَ وغیرہ کا اعادہ کیا جاتا ہے، یہاں بھی پہلی آیت میں تین چیزوں کا حکم دیا گیا ہے
اول اتَّقُوا اللّٰهَ۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرو، کیونکہ خوف خدا وہی چیز ہے جو انسان کو حقیقی طور پر خفیہ و اعلانیہ جرائم سے روک سکتی ہے۔
دوسرا ارشاد ہے وابْتَغُوْٓا اِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ یعنی اللہ کا قرب تلاش کرو، لفظ وسیلہ وسل مصدر سے مشتق ہے، جس کے معنی ملنے اور جڑنے کے ہیں، یہ لفظ سین اور صاد دونوں سے تقریباً ایک ہی معنی میں آتا ہے، فرق اتنا ہے کہ وصل بالصاد مطلقاً ملنے اور جوڑنے کے معنی میں ہے اور وسل بالسین رغبت و محبت کے ساتھ ملنے کے لئے مستعمل ہوتا ہے۔
صحاح جوہری اور مفردات القرآن راغب اصفہانی میں اس کی تصریح ہے، اس لئے صاد کے ساتھ وصلہ اور وصیلہ ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو دو چیزوں کے درمیان میل اور جوڑ پیدا کردے۔ خواہ وہ میل اور جوڑ رغبت و محبت سے ہو یا کسی دوسری صورت سے، اور سین کے ساتھ لفظ وسیلہ کے معنی اس چیز کے ہیں جو کسی کو کسی دوسرے سے محبت ورغبت کے ساتھ ملا دے۔ (لسان العرب، مفردات، راغب)
اللہ تعالیٰ کی طرف وسیلہ ہر وہ چیز ہے جو بندہ کو رغبت و محبت کے ساتھ اپنے معبود کے قریب کر دے، اس لئے سلف صالحین وتابعین نے اس آیت میں وسیلہ کی تفسیر اطاعت و قربت اور ایمان و عمل صالح سے کی ہے، بروایت حاکم حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا کہ وسیلہ سے مراد قربت و اطاعت ہے اور ابن جریر رحمة اللہ علیہ نے حضرت عطا رحمة اللہ علیہ اور مجاہد رحمة اللہ علیہ اور حسن بصری رحمة اللہ علیہ سے بھی یہی نقل کیا ہے۔
اور ابن جریر رحمة اللہ علیہ وغیرہ نے حضرت قتادہ رحمة اللہ علیہ سے اس آیت کی تفسیر یہ نقل کی ہےتقربوا الیہ بطاعتہ والعمل بما یرضیہ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف تقرب حاصل کرو، اس کی فرمانبرداری اور رضامندی کے کام کرکے، اس لئے آیت کی تفسیر کا خلاصہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب تلاش کرو، بذریعہ ایمان اور عمل صالح کے۔
اور مسند احمد رحمة اللہ علیہ کی ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ وسیلہ ایک اعلیٰ درجہ ہے جنت کا جس کے اوپر کوئی درجہ نہیں ہے، تم اللہ تعالیٰ سے دعاء کرو کہ وہ درجہ مجھے عطا فرما دے۔
اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب مؤ ذن اذان کہے تو تم بھی وہی کلمات کہتے رہو جو مؤ ذن کہتا ہے، اس کے بعد مجھ پر درود پڑھو اور میرے لئے وسیلہ کی دعا کرو۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ وسیلہ ایک خاص درجہ ہے جنت کا، جو رسول کریم ﷺ کے ساتھ مخصوص ہے، اور آیت مذکورہ میں ہر مومن کو وسیلہ طلب کرنے اور ڈھونڈنے کا حکم بظاہر اس خصوصیت کے منافی ہے، مگر جواب واضح ہے کہ جس طرح ہدایت کا اعلیٰ مقام رسول کریم ﷺ کے لئے مخصوص ہے اور آپ ﷺ ہمیشہ اس کے لئے دعا کیا کرتے تھے، مگر اس کے ابتدائی اور متوسط درجات تمام مؤمنین کے لئے عام ہیں، اسی طرح وسیلہ کا اعلیٰ درجہ رسول کریم ﷺ کے لئے مخصوص ہے، اور اس کے نیچے کے درجات سب مؤمنین کے لئے، آپ ﷺ ہی کے واسطہ اور ذریعہ سے عام ہیں۔
حضرت مجدّد الف ثانی رحمة اللہ علیہ نے اپنے مکتوبات میں اور قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمة اللہ علیہ نے تفسیر مظہری میں اس پر متنبہ فرمایا ہے کہ لفظ وسیلہ میں محبت ورغبت کا مفہوم شامل ہونے سے اس طرف اشارہ ہے کہ وسیلہ کے درجات میں ترقی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت پر موقوف ہے، اور محبت پیدا ہوتی ہے اتباع سنت سے، کیونکہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) فاتبعونی یحببکم اللّٰہ، اس لئے جتنا کوئی اپنی عبادات، معاملات، اخلاق، معاشرت اور زندگی کے تمام شعبوں میں رسول کریم ﷺ کی سنت کا اتباع کرے گا اتنا ہی اللہ تعالیٰ کی محبت اس کو حاصل ہوگی، اور وہ خود اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ہوجائے گا، اور جتنی زیادہ محبت بڑھے گی اتنا ہی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا۔
لفظ وسیلہ کی لغوی تشریح اور صحابہ وتابعین کی تفسیر سے جب یہ معلوم ہوگیا کہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب کا ذریعہ بنے وہ انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کے قرب ہونے کا وسیلہ ہے، اس میں جس طرح ایمان اور عمل صالح داخل ہیں اسی طرح انبیاء و صالحین کی صحبت و محبت بھی داخل ہے کہ وہ بھی رضائے الہٰی کے اسباب میں سے ہے، اور اسی لئے ان کو وسیلہ بنا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا درست ہوا، جیسا کہ حضرت عمر ؓ نے قحط کے زمانہ میں حضرت عباس ؓ کو وسیلہ بنا کر اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا مانگی، اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔
اور ایک روایت میں رسول کریم ﷺ نے خود ایک نابینا صحابی کو اس طرح دعا مانگنے کی تلقین فرمائی اللہم انی اسئالک واتوجہ الیک بنبیک محمد نبی الرحمة (منار)۔
آیت مذکورہ میں اول تقویٰ کی ہدایت فرمائی گئی، پھر اللہ تعالیٰ سے ایمان اور اعمال صالحہ کے ذریعہ تقرب حاصل کرنے کی، آخر میں ارشاد فرمایاوَجَاهِدُوْا فِيْ سَبِيْلِهٖ ، یعنی جہاد کرو اللہ کی راہ میں، اگرچہ اعمال صالحہ میں جہاد بھی داخل تھا، لیکن اعمال صالحہ میں جہاد کا اعلیٰ مقام بتلانے کے لئے اس کو علیحدہ کرکے بیان فرما دیا گیا۔ جیسا کہ حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہےوذروة سنامہ الجھاد، یعنی اسلام کا اعلیٰ مقام جہاد ہے دوسرے اس جگہ جہاد کو اہمیت کے ساتھ ذکر کرنے کی یہ حکمت بھی ہے کہ پچھلی آیتوں میں فساد فی الارض کا حرم و ناجائز ہونا اور اس کی دینوی اخروی سزاؤں کا بیان آیا تھا، جہاد بھی ظاہر کے اعتبار سے فساد فی الارض کی صورت معلوم ہوتی ہے، اس لئے ممکن تھا کہ کوئی ناواقف جہاد اور فساد میں فرق نہ سمجھے، اس لئے فساد فی الارض کی ممانعت کے بعد جہاد کا حکم اہمیت کے ساتھ ذکر کرکے دونوں کے فرق کی طرف لفظ فی سبیلہ سے اشارہ فرما دیا۔ کیونکہ ڈاکہ، بغاوت وغیرہ میں جو قتل قتال اور مال لوٹا جاتا ہے وہ محض اپنی ذاتی اغراض و خواہشات اور ذلیل مقاصد کے لئے ہوتا ہے، اور جہاد میں اگر اس کی نوبت آئے بھی تو محض اللہ کا کلمہ بلند کرنے اور ظلم و جور کو مٹانے کے لئے ہے جن میں زمین آسمان کا فرق ہے، دوسری اور تیسری آیت میں کفر و شرک اور معصیت کا وبال عظیم ایسے انداز میں بتلایا گیا ہے کہ اس پر ذرا بھی غور کیا جائے تو وہ انسان کی زندگی میں ایک انقلاب عظیم پیدا کر دے، اور کفر و شرک اور معصیت سب کو چھوڑنے پر مجبور کر دے۔
وہ یہ ہے کہ عام طور پر انسان جن گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے وہ اپنی خواہشات ضروریات یا اہل و عیال کی خواہشات کے لئے ہوتا ہے، اور ان سب کا حصول مال و دولت جمع کرنے سے ہوتا ہے، اس لئے مال و دولت جمع کرنے میں حلال و حرام کی تمیز کئے بغیر لگ جاتا ہے اس آیت میں اللہ جل شانہ نے ان کی اس بدمستی کے علاج کے لئے فرمایا کہ آج چند روزہ زندگی اور اس کی راحت کے لئے جن چیزوں کو تم ہزاروں محنتوں کوششوں کے ذریعہ جمع کرتے ہو اور پھر بھی سب جمع نہیں ہوتیں، اس ناجائز ہوس کا انجام یہ ہے کہ قیامت کا عذاب جب سامنے آئے گا تو اس وقت اگر یہ لوگ چاہیں کہ دنیا میں حاصل کئے مال و دولت اور ساز و سامان سب کو فدیہ دے کر اپنے آپ کو عذاب سے بچالیں تو یہ ناممکن ہے۔ بلکہ فرض کرلو کہ ساری دنیا کا مال و دولت اور پورا سامان اسی ایک شخص کو مل جائے، اور پھر اسی پر بس نہیں، اتنا ہی اور بھی مل جائے اور یہ سب کو اپنے عذاب سے بچنے کے لئے فدیہ بنانا چاہیے تو کوئی چیز قبول نہ ہوگی۔ اور اس کو عذاب آخرت سے نجات نہ ہوگی۔
Ayah 5:37تیسری آیت میں یہ بھی واضح کردیا کہ کفار کا یہ عذاب دائمی ہوگا، جس سے وہ کبھی نجات نہ پائیں گے۔
Ayah 5:38چوتھی آیت میں پھر جرائم کی سزاؤں کی طرف عود کیا گیا، اور چوری کی سزائے شرعی کا بیان فرمایا گیا، شرعی سزاؤں کی تین قسمیں جو پہلے بیان ہوچکی ہیں چوری کی سزا ان کی قسم حدود میں داخل ہے، کیونکہ قرآن کریم نے اس سزا کو خود متعین فرمایا، حکام کی صوابدید پر نہیں چھوڑا اور بطور حق اللہ کے متعین فرمایا ہے، اس لئے اس کو حد سرقہ کہا جاتا ہے، آیت میں ارشاد ہے
وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَهُمَا جَزَاۗءًۢ بِمَا كَسَـبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ یعنی ”چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹ دو ان کے کردار کے بدلہ میں، اور اللہ زبردست حکمت والا ہے“۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ قرآنی احکام میں خطاب عام طور پر مردوں کو ہوتا ہے اور عورتیں بھی اس میں تبعا شامل ہوتی ہیں۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰة اور جملہ احکام میں قرآن و سنت کا یہی اصول ہے، لیکن چوری کی سزا اور زنا کی سزا میں صرف مردوں کے ذکر پر اکتفاء نہیں فرمایا، بلکہ دونوں صنفوں کو الگ الگ کرکے حکم دیا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ معاملہ حدود کا ہے جن میں ذرا سا بھی شبہ پڑجائے تو ساقط ہوجاتی ہیں، اس لئے عورتوں کے لئے ضمنی خطاب پر کفایت نہیں فرمائی، بلکہ تصریح کے ساتھ ذکر فرمایا۔
دوسری بات اس جگہ قابل غور یہ ہے کہ لفظ سرقہ کا لغوی مفہوم اور شرعی تعریف کیا ہے ؟ قاموس میں ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا مال کسی محفوظ جگہ سے بغیر اس کی اجازت کے چھپ کرلے لے، اس کو سرقہ کہتے ہیں۔ یہی اس کی شرعی تعریف ہے۔ اور اس تعریف کی رو سے سرقہ ثابت ہونے کے لئے چند چیزیں ضروری ہوئیں
اول یہ کہ وہ مال کسی فرد یا جماعت کی ذاتی ملکیت ہو، چُرانے والے کی اس میں نہ ملکیت ہو نہ ملکیت کا شبہ ہو۔ اور نہ ایسی چیزیں ہوں جس میں عوام کے حقوق مساوی ہیں، جیسے رفاہ عام کے ادارے اور ان کی اشیاء اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی شخص نے کوئی ایسی چیز لے لی جس میں اس کی ملکیت یا ملکیت کا شبہ ہے یا جس میں عوام کے حقوق مساوی ہیں تو حد سرقہ اس پر جاری نہ کی جائے گی۔ حاکم اپنی صوابدید کے موافق تعزیری سزا جاری کرسکتا ہے۔
دوسری چیز تعریف سرقہ میں مال محفوظ ہوتا ہے، یعنی مقفل مکان کے ذریعہ یا کسی نگران چوکیدار کے ذریعہ محفوظ ہونا، جو مال کسی محفوظ جگہ میں نہ ہو اس کو کوئی شخص اٹھالے تو وہ بھی حد سرقہ کا مستوجب نہیں ہوگا اور مال کے محفوظ ہونے میں شبہ بھی ہوجائے تو بھی حد ساقط ہوجائے گی۔ گناہ اور تعزیری سزا کا معاملہ جدا ہے۔
تیسری شرط بلا اجازت ہونا ہے، جس مال کے لینے یا اٹھا کر استعمال کرنے کی کسی کو اجازت دے رکھی ہو، وہ اس کو بالکل لے جائے تو حد سرقہ عائد نہیں ہوگی، اور اجازت کا شبہ بھی پیدا ہوجائے تو حد ساقط ہوجائے گی۔
چوتھی شرط چھپا کرلینا ہے کیونکہ دوسرے کا مال اعلانیہ لوٹا جائے تو وہ سرقہ نہیں بلکہ ڈاکہ ہے، جس کی سزا پہلے بیان ہوچکی ہے، غرض خفیہ نہ ہو تو حدّ سرقہ اس پر جاری نہ ہوگی۔
ان تمام شرائظ کی تفصیل سننے سے آپ کو یہ معلوم ہوگیا کہ ہمارے عرف میں جس کو چوری کہا جاتا ہے وہ ایک عام اور وسیع مفہوم ہے، اس کے تمام افراد پر حدّسرقہ یعنی ہاتھ کاٹنے کی سزا شرعاً عائد نہیں ہے، بلکہ چوری کی صرف اس صورت پر یہ حد شرعی جاری ہوگی جس میں یہ تمام شرائط موجود ہوں۔
اس کے ساتھ ہی یہ بھی آپ معلوم کرچکے ہیں کہ جن صورتوں میں چوری کی حد شرعی ساقط ہوجاتی ہے، تو یہ لازم نہیں ہے کہ کھلی چھٹی مل جائے، بلکہ حاکم وقت اپنی صوابدید کے مطابق اس کو تعزیری سزا دے سکتا ہے جو جسمانی، کوڑوں کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔
اسی طرح یہ بھی نہ سمجھا جائے کہ جن صورتوں میں سرقہ کی کوئی شرط مفقود ہونے کی وجہ سے حد شرعی جاری نہ ہو تو وہ شرعاً جائز و حلال ہے، کیونکہ اوپر بتلایا جا چکا ہے کہ یہاں گناہ اور عذاب آخرت کا ذکر نہیں، دنیوی سزا اور وہ بھی خاص قسم کی سزا کا ذکر ہے۔ ویسے کسی شخص کا مال بغیر اس کی خوش دلی کے کسی طرح بھی لے لیا جائے تو وہ حرام اور عذاب آخرت کا موجب ہے، جیسا کہ آیت قرآن کریم (آیت) لاتاکلوا اموالکم بالباطل۔ میں اس کی تصریح موجود ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چوری میں جو الفاظ قرآن کریم کے آتے ہیں وہی زنا کی سزا میں ہیں، مگر چوری کے معاملہ میں مرد کا ذکر پہلے عورت کا بعد میں ہے۔ اور زنا میں اس کے برعکس عورت کا ذکر پہلے کیا گیا۔ چوری کی سزا میں ارشاد ہےوَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ اور زنا کی سزا میں فرمایا ہے(آیت) الزانیة والزانی، اس عکس ترتیب کی حکمتیں حضرات مفسرین نے کئی لکھی ہیں، ان میں زیادہ دل کو لگنے والی بات یہ ہے کہ جرم مرد کے لئے بہ نسبت عورت کے زیادہ شدید ہے، کیونکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے کسب معاش کی وہ قوت بخشی ہے جو عورت کو حاصل نہیں۔ اس پر کسب معاش کے اتنے دروازے کھلے ہونے کے باوجود چوری کے ذلیل جرم میں مبتلا ہو، یہ اس کے جرم کو بڑھا دیتا ہے، اور زنا کے معاملہ میں عورت کو حق تعالیٰ طبعی حیاء و شرم کے ساتھ ایسا ماحول بخشا ہے کہ ان سب چیزوں کے ہوتے ہوئے اس بےحیائی پر اترنا اس کے لئے نہایت شدید جرم ہے، اس لئے چوری میں مرد کا ذکر مقدم ہے اور زنا میں عورت کا۔
آیت مذکورہ کے الفاظ میں چوری کی شرعی سزا بیان کرنے کے بعد دو جملے ارشاد فرمائے ہیں، ایک (آیت) جَزَاۗءًۢ بِمَا كَسَـبَا یعنی یہ سزا بدلہ ہے ان کی بدکرداری کا، دوسرا جملہ فرمایا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ اس میں دو لفظ ہیں نکال اور من اللّٰہ، لفظ ”نکال“ کے معنے عربی لغت میں ایسی سزا کے ہیں جس کو دیکھ کر دوسروں کو بھی سبق ملے، اور اقدام جرم سے باز آجائیں، اس لئے ”نکال“ کا ترجمہ ہمارے محاورہ کے موافق عبرت خیز سزا کا ہوگیا۔ اس میں اشارہ ہے کہ ہاتھ کاٹنے کی سخت سزا خاص حکمت پر مبنی ہے، کہ ایک پر سزا جاری ہوجائے، تو سب کے سب کانپ اٹھیں، اور اس جرم قبیح کا انسداد ہوجائے۔ دوسرا لفظ ”من اللہ“ کا بڑھا کر ایک اہم مضمون کی طرف اشارہ فرمایا جو یہ ہے کہ چوری کے جرم کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس نے کسی دوسرے انسان کا مال بغیر حق کے لے لیا۔ جس سے اس پر ظلم ہوا۔ دوسری یہ کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کی، پہلی حیثیت سے یہ سزا مظلوم کا حق ہے۔ اور اس کا مقتضٰی یہ ہے کہ جس کا حق ہے اگر وہ سزا کو معاف کر دے تو معاف ہوجائے گی۔ جیسا قصاص کے تمام مسائل میں یہی معمول ہے۔ دوسری حیثیت سے یہ سزا حق اللہ کی خلاف ورزی کرنے کی ہے اس کا مقتضٰی یہ ہے کہ جس شخص کی چوری کی ہے، اگر وہ معاف بھی کر دے تو معاف نہ ہو۔ جب تک خود اللہ تعالیٰ معاف نہ فرما دیں۔ جس کو اصطلاح شرع میں حد یا حدود کہا جاتا ہے۔ لفظ من اللّٰہ سے اس دوسری حیثیت کو متعین کرکے اس طرف اشارہ فرما دیا کہ یہ سزا حد ہے قصاص نہیں ہے، یعنی سرکاری جرم کی حیثیت سے یہ سزا دی گئی ہے، اس لئے جس کی چوری کی ہے اس کے معاف کرنے سے بھی سزا ساقط نہیں ہوگی۔
آخر آیت میں واللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ فرما کر اس شبہ کا جواب دے دیا جو آج کل عام طور پر زبان زد ہے کہ یہ سزا بڑی سخت ہے، اور بعض گستاخ یا ناواقف تو یوں کہنے سے بھی نہیں جھجکتے کہ یہ سزا وحشیانہ ہے، نعوذ باللہ منہ، اشارہ اس کی طرف فرمایا کہ اس سخت سزا کی تجویز محض اللہ تعالیٰ کے قوی اور زبردست ہونے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ان کے حکیم ہونے پر بھی مبنی ہے، جن شرعی سزاؤں کو آج کل کے عقلاء یورپ سخت اور وحشیانہ کہتے ہیں ان کی حکمت اور ضرورت اور فوائد کی بحث انہی آیات کی تفسیر کے بعد مفصل آئے گی۔
Ayah 5:39دوسری آیت میں ارشاد فرمایافَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَاَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ يَتُوْبُ عَلَيْهِ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ یعنی ”جو شخص اپنی بدکرداری اور چوری سے باز آگیا اور اپنے عمل کی اصلاح کرلی تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرما دیں گے کیونکہ اللہ بہت بخشنے والے اور مہربان ہیں“۔ ڈاکہ زنی کی شرعی سزا جس کا بیان چند آیات پہلے آیا ہے اس میں بھی معافی کا ذکر ہے، اور چوری کی سزا کے بعد بھی معافی کا ذکر ہے، لیکن دونوں جگہ کہ معافی کے بیان میں ایک خاص فرق ہے، اور اسی فرق کی بناء پر دونوں سزاؤں میں معافی کا مفہوم فقہاء کے نزدیک مختلف ہے، ڈاکہ زنی کی سزا میں تو حق تعالیٰ نے بطور استثناء کے ذکر فرمایا(آیت) الا الذین تابو تا ان تقدروا علیہم۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ڈاکہ زنی کی جو شرعی سزا آیت میں مذکور ہے۔ اس سے یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ ڈاکوؤں پر حکومت کا قابو چلنے اور گرفتار ہونے سے پہلے جو توبہ کرے اس کو یہ سزائے شرعی معاف کردی جائے گی۔ اور چوری کی سزا کے بعد جو معافی کا ذکر ہے اس میں اس سزائے دنیوی سے استثناء نہیں، بلکہ آخرت کے اعتبار سے ان کی توبہ مقبول ہونے کا بیان ہے جس کی طرف (آیت) فان اللّٰہ یتوب علیہ۔ میں اشارہ موجود ہے کہ حکام وقت اس توبہ کی وجہ سے شرعی سزا نہ چھوڑیں گے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے جرم کو معاف فرما کر آخرت کی سزا سے نجات دیں گے، اسی لئے حضرات فقہاء تقریباً اس پر متفق ہیں کہ ڈاکو اگر گرفتار ہونے سے پہلے توبہ کرلیں تو ڈاکہ کی شرعی سزا ان پر جاری نہ ہوگی۔ مگر چور اگر چوری کرنے کے بعد خواہ گرفتاری سے پہلے یا بعد میں چوری سے توبہ کرے تو حد سرقہ جو دنیوی سزا ہے وہ معاف نہ ہوگی، گناہ کی معافی ہو کر آخرت کے عذاب سے نجات پا جانا اس کے منافی نہیں۔