Ayah 5:40بعد کی آیت میں ارشاد فرمایااَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ یعنی کیا آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت و حکومت صرف اللہ کی ہے، اور اس کی یہ شان ہے کہ جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے جس کو چاہتا ہے بخش دیتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے“۔
اس آیت کا ربط و مناسب پچھلی آیات سے یہ ہے کہ پچھلی آیات میں ڈاکہ اور چوری کی حدود شرعیہ جن میں ہاتھ پاؤں یا صرف ہاتھ کاٹ ڈالنے کے سخت احکام ہیں، ظاہر نظر میں یہ احکام شرافت انسانی اور اس کے اکرم المخلوقات ہونے کے منافی ہیں، اس شبہ کے ازالہ کے لئے اس آیت میں اللہ جل شانہ نے پہلے اپنا مالک حقیقی ہونا سارے جہان کے لئے بیان فرمایا، پھر اپنے قادر مطلق ہونے کا ذکر فرمایا، اور ان کے درمیان یہ ارشاد فرمایا کہ وہ صرف سزا یا عذاب ہی نہیں دیتے، بلکہ معاف بھی فرماتے ہیں، اور اس معافی اور سزا کا مدار ان کی حکمت پر ہے، کیونکہ وہ جس طرح مالک مطلق اور قادر مطلق ہیں اسی طرح حکیم مطلق بھی ہیں، جس طرح ان کی قدرت و سلطنت کا احاطہ کوئی انسانی طاقت نہیں کرسکتی، اسی طرح ان کی حکمتوں کا پورا احاطہ بھی انسانی عقل و دماغ نہیں کرسکتے، اور اصول کے ساتھ غور و فکر کرنے والوں کو بقدر کفایت کچھ علم ہو بھی جاتا ہے جس سے ان کے قلوب مطمئن ہوجاتے ہیں۔
اسلامی سزاؤں کے متعلق اہل یورپ اور ان کی تعلیم و تہذیب سے متاثر لوگوں کا یہ عام اعتراض ہے کہ یہ سزائیں سخت ہیں، اور بعض ناعاقیت اندیش لوگ تو یہ کہنے سے بھی باز نہیں رہتے کہ یہ سزائیں وحشیانہ اور شرافت انسانی کے خلاف ہیں۔
اس کے متعلق پہلے تو یہ سامنے رکھئے جو اس سے پہلے بیان ہوچکا ہے، کہ قرآن کریم نے صرف چار جرموں کی سزائیں خود مقرر اور معین کردی ہیں، جن کو شرعی اصطلاح میں حد کہا جاتا ہے، ڈاکہ کی سزا داہنا ہاتھ اور بایاں پیر، چوری کی سزا داہنا ہاتھ پہنچنے پر سے کاٹنا، زنا کی سزا بعض صورتوں میں سو کوڑے لگانا اور بعض میں سنگسار کرکے قتل کردینا، زنا کی جھوٹی تہمت کسی پر لگانے کی سزا اسی (80) کوڑے پانچویں حد شرعی شراب پینے کی ہے، جو باجماع صحابہ اسی (80) کوڑے مقرر کئے گئے ہیں ان پانچ جرائم کے سوا تمام جرائم کی سزا حاکم وقت کی صواب دید پر ہے، کہ جرم اور مجرم اور اس کے ماحول پر نظر کرکے جتنی اور جیسی چاہے سزا دے اس میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سزاؤں کی تحدید و تعیین کا کوئی خاص نظام اہل علم و اہل رائے کے مشورہ سے مقرر کرکے قاضی یا جج کو ان کا پابند کردیا جائے، جیسا کہ آج کل عموماً اسمبلیوں کے ذریعہ تعزیری قوانین متعین کئے جاتے ہیں، اور قاضی یا جج مقررہ حدود کے اندر سزا جاری کرتے ہیں، البتہ ان پانچ جرائم میں جن کی سزائیں قرآن یا اجماع سے متعین کردی گئی ہیں، اور ان میں کسی فرد یا جماعت یا اسمبلی کو تغیر و تبدل کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ مگر ان میں بھی اگر جرم کا ثبوت شریعت کے مقرر کردہ ضابطہ شہادت سے نہ ہوسکے، یا جرم کا ثبوت تو ملے مگر اس جرم پر جن شرائط کے ساتھ یہ سزا جاری کی جاتی ہے وہ شرائط مکمل نہ ہوں۔ اور نفس جرم قاضی یا جج کے نزدیک ثابت ہو تو اس صورت میں بھی حد شرعی جاری نہ ہوگی بلکہ تعزیری سزا دی جائے گی، اسی کے ساتھ یہ شرعی ضابطہ بھی مقرر اور مسلم ہے کہ شبہ کا فائدہ مجرم کو پہنچتا ہے۔ ثبوت جرم یا جرم کی شرائط میں سے کسی چیز میں شبہ پڑجائے تو حد شرعی ساقط ہوجاتی ہے، مگر نفس جرم کا ثبوت ہوجائے تو تعزیری سزا دی جائے گی۔
اس سے معلوم ہوا کہ ان پانچ جرائم میں بہت سی صورتیں ایسی نکلیں گی کہ ان میں حدود شرعیہ کا نفاذ نہیں ہوگا، بلکہ تعزیری سزائیں صواب دید حاکم کے مطابق دی جائیں گی، تعزیری سزائیں چونکہ شریعت اسلام نے متعین نہیں کیں بلکہ ہر زمانہ اور ہر ماحول کے مطابق عام قوانین ممالک کی طرح ان میں تغیر و تبدل اور کمی بیشی کی جاسکتی ہے، اس لئے ان پر تو کسی کو کسی اعتراض کی گنجائش نہیں۔ اب بحث صرف پانچ جرائم کی سزاؤں میں اور ان کی بھی مخصوص صورتوں میں رہ گئی، مثال کے طور پر چوری کو لے لیجئے اور دیکھئے کہ شریعت اسلام میں ہاتھ کاٹنے کی سزا مطلقاً ہر چوری پر عائد نہیں، کہ جس کو عرف عام میں چوری کہا جاتا ہے۔ بلکہ سرقہ جس پر سارق کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اس کی ایک مخصوص تعریف ہے جس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے کہ کسی کا مال محفوظ جگہ سے سامان حفاظت توڑ کر ناجائز طور پر خفیہ طریقہ سے نکال لیا جائے اس تعریف کی رو سے بہت سی صورتیں جن کو عرفاً چوری کہا جاتا ہے، حد سرقہ کی تعریف سے نکل جاتی ہیں، مثلاً محفوظ مکان کی شرط سے معلوم ہوا کہ عام پبلک مقامات مثلاً مسجد، عیدگاہ، پارک، کلب، اسٹیشن، ویٹنگ روم، ریل، جہاز وغیرہ میں عام جگہوں پر رکھے ہوئے مال کی کوئی چوری کرے یا درختوں پر لگے ہوئے پھل چرالے، یا شہد کی چوری کرے تو اسی طرح وہ آدمی جس کو آپ نے اپنے گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے رکھی ہے خواہ وہ آپ کا نوکر ہو یا مزدور ہو یا معمار ہو، یا کوئی دوست عزیز ہو وہ اگر آپ کے مکان سے کوئی چیز لے جائے تو وہ اگرچہ عرفی چوری میں داخل اور تعزیری سزا کا مستحق ہے، مگر ہاتھ کاٹنے کی شرعی سزا اس پر جاری نہ ہوگی، کیونکہ وہ آپ کے گھر میں آپ کی اجازت سے داخل ہوا، اس کے حق میں حفاظت مکمل نہیں۔
اسی طرح اگر کسی نے کسی کے ہاتھ میں سے زیور یا نقد چھین لیا، یا دھوکہ دے کر کچھ وصول کرلیا، یا امانت لے کر مکر گیا، یہ سب چیزیں حرام و ناجائز اور عرفی چوری میں ضرور داخل ہیں۔ مگر ان سب کی سزا تعزیری ہے، جو حاکم کی صواب دید پر موقوف ہے، شرعی سرقہ کی تعریف میں داخل نہیں۔ اس لئے اس پر ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔
اسی طرح کفن کی چوری کرنے والے کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا، کیونکہ اول تو وہ محفوظ جگہ نہیں، دوسرے کفن میّت کی ملکیت نہیں، ہاں اس کا یہ فعل سخت حرام ہے، اس پر تعزیری سزا حسب صواب دید حاکم جاری کی جائے گی، اسی طرح اگر کسی نے ایک مشترک مال میں چوری کرلی جس میں اس کا بھی کچھ حصہ ہے، خواہ میراث کا مشترک مال تھا یا شرکت تجارت کا مال تھا، تو اس صورت میں چونکہ لینے والے کی ملکیت کا بھی کچھ اس میں شامل ہے اس ملکیت کے شبہ کی وجہ سے حد شرعی ساقط ہوجائے گی تعزیری سزا دی جائے گی۔
یہ سب شرائط تو تکمیل جرم کے تحت میں ہیں، جن کا اجمالی خاکہ آپ نے دیکھا ہے اب دوسری چیز تکمیل ثبوت ہے۔ حدود کے نفاذ میں شریعت اسلام نے ضابطہ شہادت بھی عام معاملات سے ممتاز اور بہت محتاط بنایا ہے۔ زنا کی سزا میں تو دو گواہوں کے بجائے چار گواہوں کو شرط قرار دیدیا، اور وہ بھی جبکہ وہ ایسی عینی گواہی دیں جس میں کوئی لفظ مشتبہ نہ رہے۔ چوری وغیرہ کے معاملہ میں اگرچہ دو ہی گواہ کافی ہیں مگر ان دو کے لئے عام شرائط شہادت کے علاوہ کچھ مزید شرطیں عائد کی گئی ہیں، مثلاً دوسرے معاملات میں مواقع ضرورت میں قاضی کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ کسی فاسق آدمی کے بارے میں اگر قاضی کو یہ اطمینان ہوجائے کہ عملی فاسق ہونے کے باوجود یہ جھوٹ نہیں بولتا تو قاضی اس کی گواہی کو قبول کرسکتا ہے۔ لیکن حدود میں قاضی کو اس کی گواہی قبول کرنے کا اختیار نہیں۔ عام معاملات میں ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی پر فیصلہ کیا جاسکتا ہے، مگر حدود میں دو مردوں کی گواہی ضروری ہے۔ عام معاملات میں شریعت اسلام نے تمادی کو (یعنی مدّت دراز گزر جانے کو) کوئی عذر نہیں قرار دیا۔ واقعہ کے کتنے ہی عرصہ کے بعد کوئی گواہی دے تو قبول کی جاسکتی ہے، لیکن حدود میں اگر فوری گواہی نہ دی بلکہ ایک مہینہ یا اس سے زائد دیر کرکے گواہی دی تو وہ قابل قبول نہیں۔
حد سرقہ کے نفاذ کی شرائط کا اجمالی خاکہ جو اس وقت بیان کیا گیا ہے، یہ سب فقہ حنفی کی نہایت مستند کتاب بدائع الصنائع سے ماخوذ ہے۔
حاصل ان تمام شرائط کا یہ ہے کہ حد شرعی صرف اس صورت میں جاری ہوگی جبکہ شریعت مقدسہ کے مقرر کردہ ضابطہ کے مطابق جرم بھی مکمل ہو، اور اس کا ثبوت بھی مکمل، اور مکمل جرائم کی سزائیں بمقتضائے حکمت سخت مقرر کی ہیں۔ وہیں حدود شرعیہ کے نفاذ میں انتہائی احتیاط بھی ملحوظ رکھی ہے۔ حدود کا ضابطہ شہادت بھی عام معاملات کے ضابطہ شہادت سے مختلف اور انتہائی احتیاط پر مبنی ہے۔ اس میں ذرا سی کمی رہ جائے تو حد شرعی تعزیری سزا میں منتقل ہوجاتی ہے، اسی طرح تکمیل جرم کے سلسلہ میں کوئی کمی پائی جائے جب بھی حد شرعی ساقط ہو کر تعزیری سزا رہ جاتی ہے، جس کا عملی رخ یہ ہوتا ہے کہ حدود شرعیہ کے نفاذ کی نوبت شاذ و نادر کبھی پیش آتی ہے۔ عام حالات میں حدود والے جرائم میں بھی تعزیری سزائیں جاری کی جاتی ہیں۔ لیکن جب کہیں تکمیل جرم تکمیل ثبوت کے ساتھ جمع ہوجائے گو وہ ایک فیصد ہی ہو تو سزا نہایت سخت عبرتناک دی جاتی ہے۔ جس کی ہیبت لوگوں کے قلب و دماغ پر مسلط ہوجائے۔ اور اس جرم کے پاس جاتے ہوئے بھی بدن پر لرزہ پڑنے لگے جو ہمیشہ کے لئے انسداد جرائم اور امن عامہ کا ذریعہ بنتی ہے۔ بخلاف مروجہ تعزیری قوانین کے کہ وہ جرائم پیشہ لوگوں کی نظر میں ایک کھیل ہیں جس کو وہ بڑی خوشی سے کھیلتے ہیں۔ جیل خانہ میں بیٹھے ہوئے بھی آئندہ اس جرم کو خوبصورتی سے کرنے کے پروگرام بناتے رہتے ہیں۔ جن ممالک میں حدود شرعیہ نافذ کی جاتی ہیں ان کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو حقیقت سامنے آجائے گی، کہ وہاں نہ آپ کو بہت سے لوگ ہاتھ کٹے ہوئے نظر آئیں گے، نہ سالہا سال میں آپ کو کوئی سنگساری کا واقعہ نظر پڑتا ہے۔ مگر ان شرعی سزاؤں کی دھاک قلوب پر ایسی ہے کہ وہاں چوری، ڈاکہ اور بےحیائی کا نام نظر نہیں آتا سعودی عربیہ کے حالات سے عام مسلمان براہ راست واقف ہیں۔ کیونکہ حج وعمرہ کے سلسلہ میں ہر طبقہ و ہر ملک کے لوگوں کی وہاں حاضری رہتی ہے۔ دن میں پانچ مرتبہ ہر شخص یہ دیکھتا ہے کہ دکانیں کھلی ہوئی ہیں، لاکھوں کا سامان ان میں پڑا ہوا ہے، اور ان کا مالک بغیر دکان بند کئے ہوئے نماز کے وقت حرم شریف میں پہنچ جاتا ہے، اور نہایت اطمینان کے ساتھ نماز ادا کرنے کے بعد آتا ہے۔ اس کو کبھی یہ وسوسہ بھی پیش نہیں آتا کہ اس کی دکان سے کوئی چیز غائب ہوگئی ہوگی۔ پھر یہ ایک دن کی بات نہیں، عمر یوں ہی گزرتی ہے۔ دنیا کے کسی متمدن اور مہذب ملک میں ایسا کرکے دیکھئے تو ایک دن میں سینکڑوں چوریاں اور ڈاکے پڑجائیں گے۔ تہذیب انسانی اور حقوق انسانی کے دعویدار عجیب ہیں، کہ جرائم پیشہ لوگوں پر تو رحم کھاتے ہیں مگر پورے عالم انسانیت پر رحم نہیں کھاتے، جن کی زندگی ان جرائم پیشہ لوگوں نے اجیرن بنا رکھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک مجرم پر ترس کھانا پوری انسانیت پر ظلم کرنے کا مرادف اور امن عامہ کو مختل کرنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رب العالمین جو نیکوں، بدوں، اتقیاء، اولیاء اور کفار و فجار سب کو رزق دیتا ہے۔ سانپوں، بچھوؤ ں، شیروں، بھیڑیوں کو رزق دیتا ہے اور جس کی رحمت سب پر وسیع ہے اس نے جب حدود شرعیہ کے احکام قرآن میں نازل فرمائے تو ساتھ ہی یہ بھی فرمایاولا تاخذکم بھما رافۃ فی دین اللّٰہ یعنی ”اللہ کی حدود جاری کرنے میں ان مجرموں پر ہرگز ترس نہ کھانا چاہیے“۔ اور دوسری طرف قصاص کو عالم انسانی کی حیات قرار دیا، (آیت) ولکم فی القصاص حیوۃ یا اولی الالباب معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی حدود کے خلاف کرنے والے یہ چاہتے ہی نہیں کہ جرائم کا انسداد ہو، ورنہ جہاں تک رحمت و شفقت کا معاملہ ہے وہ شریعت اسلام سے زیادہ کون سکھا سکتا ہے۔ جس نے عین میدان جنگ میں اپنے قاتل دشمنوں کا حق پہچانا ہے۔ اور حکم دیا ہے کہ عورت سامنے آجائے تو ہاتھ روک لو، بچہ سامنے آجائے تو ہاتھ روک لو، بوڑھا سامنے آجائے تو ہاتھ روک لو، مذہبی عالم جو تمہارے مقابلہ پر قتال میں شریک نہ ہو اپنے طرز کی عبادت میں مشغول ہو اس کو قتل نہ کرو۔
اور سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ ان اسلامی سزاؤں پر اعتراض کے لئے ان لوگوں کی زبانیں اٹھتی ہیں جن کے ہاتھ ابھی تک ہیروشیما کے لاکھوں بےگناہ، بےقصور انسانوں کے خون سے رنگین ہیں۔ جن کے دل میں شاید کبھی مقاتلہ اور مقابلہ کا تصور بھی نہ آیا ہو۔ ان میں عورتیں بچے بوڑھے سب ہی داخل ہیں اور جن کی آتش غضب ہیروشیما کے حادثہ سے بھی ٹھنڈی نہیں ہوئی بلکہ روز کسی خطرناک سے خطرناک نئے بم کے بنانے اور تجربہ کرنے میں مشغول ہیں، ہم اس کے علاوہ کیا کہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی آنکھوں سے خود غرضی کے پردے ہٹا دے اور دنیا میں امن قائم کرنے کے صحیح اسلامی طریقوں کی طرف ہدایت کرے۔
Ayah 5:41ربط آیات
سورة مائدہ کے تیسرے رکوع میں اہل کتاب کا ذکر چلا آرہا تھا، درمیان میں قدر قلیل اور بعض مضامین خاص خاص مناسبات سے آگئے تھے۔ اب آگے پھر اہل کتاب ہی کا ذکر دور تک چلا گیا ہے۔ اہل کتاب میں یہود و نصاریٰ کے دو فرقے تو تھے ہی، ایک تیسرا فرقہ اور شامل ہوگیا تھا، جو حقیقت میں یہودی تھے، مگر منافقانہ طور پر مسلمان ہوگئے تھے۔ مسلمانوں کے سامنے اپنا اسلام ظاہر کرتے تھے اور اپنے ہم مذہب یہودیوں میں بیٹھتے تو اسلام اور مسلمانوں کا استہزاء کرتے تھے، مذکورہ تین آیتیں انہی تینوں فرقوں کے ایسے اعمال سے اور حالات سے متعلق ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام اور ہدایات کے مقابلہ میں اپنی خواہشات اور رائیوں کو مقدم رکھتے ہیں اور احکام و ہدایات کے مقابلہ میں اپنی خواہشات اور رائیوں کو مقدم رکھتے ہیں اور احکام و ہدایات میں تاویلیں کرکے اپنی خواہشات کے مطابق بنانے کی فکر میں رہتے ہیں۔ آیات مذکورہ میں ایسے لوگوں کی دنیا و آخرت میں رسوائی اور انجام بد کا بیان ہے۔ اس کے ضمن میں مسلمانوں کے لئے چند اصول ہدایات اور احکام شرعیہ کا بیان ہے۔
شان نزول
آیات مذکورہ کے نزول کا سبب دو واقعات ہیں جو رسول کریم ﷺ کے عہد مبارک میں مدینہ کے قرب و جوار میں رہنے والے یہودی قبائل میں پیش آئے۔ ایک واقعہ قتل و قصاص کا اور دوسرا واقعہ زنا اور اس کی سزا کا ہے۔
یہ بات تو کسی تاریخ عالم کے جاننے والے پر مخفی نہیں کہ اسلام سے پہلے ہر جگہ، ہر خطہ اور ہر طبقہ میں ظلم و جور کی حکومت تھی، قوی ضعیف کو، عزت والا بےعزت کو غلام بنائے رکھتا تھا۔ قوی اور عزت والے کے لئے قانون اور تھا اور کمزور و بےعزت کے لئے قانون دوسرا تھا۔ جیسے آج بھی اپنے آپ کو مہذب اور متمدّن کہنے والے بہت سے ممالک میں کالے اور گورے کا قانون الگ الگ ہے۔ محسن انسانیت رسول عربی ﷺ نے ہی آکر ان امتیازات کو مٹایا۔ اولاد آدم کے حقوق کی مساوات کا اعلان کیا اور انسان کو انسانیت اور آدمیت کا سبق دیا۔ رسول کریم ﷺ کے مدینہ طیبہ تشریف لانے سے پہلے حوالی مدینہ میں یہود کے دو قبیلے بنو قریظہ اور بنو نضیر آباد تھے۔ ان میں سے بنو نضیر قوت و شوکت اور دولت و عزت میں بنو قریظہ سے زیادہ تھے۔ یہ لوگ آئے دن بنو قریظہ پر ظلم کرتے رہتے تھے اور وہ چار ونا چار اس کو سہتے تھے۔ یہاں تک کہ بنو نضیر نے بنو قریظہ کو اس ذلت آمیز معاہدہ پر مجبور کیا کہ اگر بنو نضیر کا کوئی آدمی بنو قریظہ کے کسی شخص کو قتل کر دے تو اس کا قصاص یعنی جان کے بدلے میں جان لینے کا ان کو حق نہ ہوگا۔ بلکہ صرف ستر وسق کھجوریں اس کے خون بہا کے طور پر ادا کی جائیں گی۔ (وسق عربی اوزان کا ایک پیمانہ ہے جو ہمارے وزن کے اعتبار سے تقریباً پانچ من دس سیر کا ہوتا ہے) اور اگر معاملہ برعکس ہو کہ بنو قریظہ کا کوئی آدمی بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کر دے تو قانون یہ ہوگا کہ اس کے قاتل کو قتل بھی کیا جائے گا اور ان سے خون بہا بھی لیا جائے گا۔ اور وہ بھی بنو نضیر کے خون بہا سے دوگنا یعنی ایک سو چالیس وسق کھجوریں اور صرف یہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی کہ ان کا مقتول اگر عورت ہوگی تو اس کے بدلہ میں بنو قریظہ کے ایک مرد کو قتل کیا جائے گا۔ اور اگر مقتول مرد ہے تو اس کے معاوضہ میں بنو قریظہ کے آزاد کو قتل کیا جائے گا۔ اور اگر بنو نضیر کے آدمی کا کسی نے ایک ہاتھ کاٹا ہے تو بنو قریظہ کے آدمی کے دو ہاتھ کاٹے جائیں گے۔ ایک کان کاٹا ہے تو ان کے دو کان کاٹے جائیں گے۔ یہ قانون تھا جو اسلام سے پہلے ان دونوں قبیلوں کے درمیان رائج تھا اور بنو قریظہ اپنی کمزوری کی بناء پر اس کے ماننے پر مجبور تھے۔
جب رسول کریم ﷺ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے اور مدینہ ایک دار السلام بن گیا یہ دونوں قبائل ہنوز نہ اسلام میں داخل ہوئے تھے نہ کسی معاہدہ کی رو سے اسلامی احکام کے پابند تھے، مگر اسلامی قانون کی عدل گستری اور عام سہولتوں کو دور سے دیکھ رہے تھے، اس عرصہ میں یہ واقعہ پیش آیا کہ بنو قریظہ کے ایک آدمی نے بنو نضیر کے کسی آدمی کو مارڈالا، تو بنو نضیر نے معاہدہ مذکور کے مطابق بنو قریظہ سے دوگنی دیت یعنی خون بہا کا مطالبہ کیا۔ بنو قریضہ اگرچہ نہ اسلام میں داخل تھے، نہ نبی کریم ﷺ سے اس وقت ان کا کوئی معاہدہ تھا۔ لیکن یہ لوگ یہودی تھے۔ ان میں بہت سے لکھے پڑھے لوگ بھی تھے جو تورات کی پیشین گوئیوں کے مطابق جانتے تھے کہ آنحضرت ﷺ ہی نبی آخر الزماں ہیں۔ جن کے آنے کی خوشخبری توریت نے دی ہے۔ مگر تعصب مذہبی یا دنیوی لالچ کی وجہ سے ایمان نہ لائے تھے۔ اور یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ آپ ﷺ کا مذہب مساوات انسانی اور عدل و انصاف کا علمبردار ہے۔ اس لئے بنو نضیر کے ظلم سے بچنے کے لیے ان کو ایک سہار ملا اور انہوں نے دوگنی دیت دینے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ہم تم ایک ہی خاندان سے ہیں۔ ایک ہی وطن کے باشندے ہیں اور ہم دونوں کا مذہب بھی ایک یعنی یہودیت ہے۔ یہ غیر منصفانہ معاملہ جو آج تک تمہاری زبردستی اور ہماری کمزوری کے سبب ہوتا رہا اب ہم اس کو گوارا نہ کریں گے۔
اس جواب پر بنو نضیر میں اشتعال پیدا ہوا اور قریب تھا کہ جنگ چھڑ جائے، مگر پھر کچھ بڑے بوڑھوں کے مشورہ سے یہ طے پایا کہ اس معاملہ کا فیصلہ آنحضرت ﷺ سے کرایا جائے، بنو قریظہ کی تو یہ عین مراد تھی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آنحضرت ﷺ بنو نضیر کے ظلم کو برقرار نہ رکھیں گے۔ بنو نضیر بھی باہمی گفت و شنید اور صلح کی بناء پر اس کے لئے مجبور تو ہوگئے مگر اس میں یہ سازش کی کہ آپ ﷺ کے پاس مقدمہ کے جانے سے پہلے کچھ ایسے لوگوں کو آگے بھیجا جو اصل میں تو انہی کے ہم مذہب یہودی تھے، مگر منافقانہ طور پر اسلام کا اظہار کرکے رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے جاتے تھے۔ اور مطلب ان کا یہ تھا کہ یہ لوگ کسی طرح مقدمہ اور اس کے فیصلہ سے پہلے اس معاملہ میں آنحضرت ﷺ کا عندیہ اور نظریہ معلوم کرلیں اور یہی تاکید ان لوگوں کو کردی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے مطالبہ کے موافق فیصلہ فرما دیا تو اس کو قبول کرلینا اور اس کے خلاف کوئی حکم آیا تو ماننے کا وعدہ نہ کرنا۔
سبب نزول کا یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ بغوی نے نقل کیا ہے اور مسند احمد و ابوداؤد میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے اس کا خلاصہ منقول ہے (مظہری)۔
اسی طرح ایک دوسرا واقعہ زنا کا ہے جس کی تفصیل بغوی رحمة اللہ علیہ نے اس طرح نقل کی ہے کہ خیبر کے یہودیوں میں یہ واقعہ پیش آیا اور تورات کی مقرر کردہ سزا کے موافق ان دونوں کو سنگسار کرنا لازم تھا۔ مگر یہ دونوں کسی بڑے خاندان کے آدمی تھے۔ یہودیوں نے اپنی قدیم عادت کے موافق یہ چاہا کہ ان کے لئے سزا میں نرمی کی جائے۔ اور ان کو یہ معلوم تھا کہ مذہب اسلام میں بڑی سہولتیں دی گئی ہیں۔ اس بناء پر اپنے نزدیک یہ سمجھا کہ اسلام میں اس سزا میں بھی تخفیف ہوگی، خیبر کے لوگوں نے اپنی برادری بنی قریظہ کے لوگوں کے پاس پیغام بھیجا کہ اس معاملہ کا فیصلہ محمد ﷺ سے کرا دیں اور دونوں مجرموں کو بھی ساتھ بھیج دیا۔ منشاء ان کا بھی یہ تھا کہ اگر آپ ﷺ کوئی ہلکی سزا جاری کردیں تو مان لیا جائے ورنہ انکار کردیا جائے۔ بنو قریظہ کو پہلے تو تردّد ہوا کہ معلوم نہیں آپ ﷺ کیسا فیصلہ کریں اور وہاں جانے کے بعد ہمیں ماننا پڑے، مگر کچھ دیر گفتگو کے بعد یہی فیصلہ رہا کہ ان کے چند سردار حضور ﷺ کی خدمت میں ان مجرموں کو لے جائیں اور آپ ﷺ ہی سے اس کا فیصلہ کرائیں۔
چناچہ کعب ابن اشرف وغیرہ کا ایک وفد ان کو ساتھ لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ شادی شدہ مرد و عورت اگر بدکاری میں مبتلا ہوں تو ان کی کیا سزا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم میرا فیصلہ مانو گے ؟ انہوں نے اقرار کیا، اس وقت جبریل امین اللہ تعالیٰ کا یہ حکم لے کر نازل ہوئے کہ ان کی سزا سنگسار کرکے قتل کردینا ہے۔ ان لوگوں نے جب یہ فیصلہ سنا تو بوکھلا گئے اور ماننے سے انکار کردیا۔
جبریل ؑ نے رسول اللہ ﷺ کو مشورہ دیا کہ آپ ان لوگوں سے یہ کہیں کہ میرے اس فیصلہ کو ماننے یا نہ ماننے کے لئے ابن صوریا کو حَکَم بنادو۔ اور ابن صوریا کے حالات وصفات رسول کریم ﷺ کو بتلا دئیے۔ آپ ﷺ نے آنے والے وفد سے کہا کہ کیا تم اس نوجوان کو پہچانتے ہو جو سفید رنگ مگر ایک آنکھ سے معذور ہے۔ فدک میں رہتا ہے جس کو ابن صوریا کہا جاتا ہے۔ سب نے اقرار کیا۔ آپ ﷺ نے دریافت کیا کہ آپ لوگ اس کو کیسا سمجھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ علماء یہود میں روئے زمین پر اس سے بڑا کوئی عالم نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا، اس کو بلاؤ۔
چناچہ وہ آگیا، آپ ﷺ نے اس کو قسم دے کر پوچھا کہ اس صورت میں تورات کا حکم کیا ہے ؟ یہ بولا، کہ قسم ہے اس ذات کی جس کی قسم آپ ﷺ نے مجھ کو دی ہے۔ اگر آپ ﷺ قسم نہ دیتے اور مجھے یہ خطرہ نہ ہوتا کہ غلط بات کہنے کی صورت میں تورات مجھے جلا ڈالے گی تو میں یہ حقیقت ظاہر نہ کرتا، حقیقت یہ ہے کہ حکم اسلام کی طرح تورات میں بھی یہ ہی حکم ہے کہ ان دونوں کو سنگسار کرکے قتل کرایا جائے۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ پھر تم پر کیا آفت آئی کہ تم تورات کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہو، ابن صوریا نے بتلایا کہ اصل بات یہ ہے کہ زنا کی سزا، شرعی تو ہمارے مذہب میں یہ ہی ہے، مگر ہمارا ایک شہزادہ اس جرم میں مبتلا ہوگیا۔ ہم نے اس کی رعایت کرکے چھوڑ دیا، سنگسار نہیں کیا۔ پھر یہی جرم ایک معمولی آدمی سے سرزد ہوا، اور ذمہ داروں نے اس کو سنگسار کرنا چاہا تو مجرم کے جتھہ کے لوگوں نے احتجاج کیا کہ اگر شرعی سزا اس کو دینی ہے تو اس سے پہلے شہزادے کو دو ، ورنہ ہم اس پر یہ سزا جاری نہ ہونے دیں گے۔ یہ بات بڑھی تو سب نے مل کر صلح کرلی کہ سب کے لئے ایک ہی ہلکی سزا تجویز کردی جائے اور تورات کا حکم چھوڑ دیا جائے۔ چناچہ ہم نے کچھ مار پیٹ اور منہ کالا کر کے جلوس نکالنے کی سزا تجویز کردی اور اب یہی سب میں رواج ہوگیا۔
خلاصہ تفسیر
اے رسول ﷺ جو لوگ کفر (کی باتوں) میں دوڑ دوڑ گرتے ہیں (یعنی بےتکلف رغبت سے ان باتوں کو کرتے ہیں) آپ ﷺ کو وہ مغموم نہ کریں (یعنی آپ ﷺ ان کے کفریات سے مغموم و متاسف نہ ہوں) خواہ وہ ان لوگوں میں سے ہوں جو اپنے منہ سے تو (جھوٹ موٹ) کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور ان کے دل یقین (یعنی ایمان) لائے نہیں (مراد منافقین ہیں جو کہ ایک واقعہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے) اور خواہ وہ ان لوگوں میں سے ہوں جو کہ یہودی ہیں (جیسا دوسرے واقعہ میں یہ لوگ حاضر ہوئے تھے) یہ (دونوں قسم کے) لوگ (پہلے سے دین کے باب میں اپنے علمائے محرفین سے) غلط باتیں سننے کی خاطر سے کان دھر دھر سنتے ہیں، جس قوم کے یہ حالات ہیں کہ (ایک تو) وہ آپ کے پاس (فرط تکبر و عداوت سے خود) نہیں آئے (بلکہ دوسروں کو بھیجا، اور دوسروں کو بھیجا بھی تو طلب حق کے لئے نہیں بلکہ شاید اپنے احکام محرفہ کے موافق کوئی بات مل جائے، کیوں کہ پہلے سے) کلام (الہٰی) بعد اس کے کہ وہ (کلام) اپنے (صحیح) مواقع پر (قائم) ہوتا ہے (لفظاً یا معنیً یا دونوں طرح) بدلتے رہتے ہیں (چنانچہ اسی عادت کے موافق خون بہا اور رجم کے حکم کو بھی اپنے رسم مخترع سے بدل دیا، پھر اس احتمال سے کہ شاید شریعت محمدیہ ﷺ سے اس رسم کو سہارا لگ جائے یہاں اپنے جاسوسوں کو بھیجا۔ تیسرے صرف یہی نہیں کہ اپنی رسم محرّف کے موافق بات کی تلاشی ہی تک رہتے بلکہ مزید یہ ہے کہ جانے والوں سے) کہتے ہیں کہ اگر تم کو (وہاں جاکر) یہ حکم (محرف) ملے تب تو اس کو قبول کرلینا (یعنی اس کے موافق عملدرامد کرنے کا اقرار کرلینا) اور اگر تم کو یہ حکم (محرف) نہ ملے تو (اس کے قبول کرنے سے) احتیاط رکھنا (پس اس بھیجنے والی قوم میں جن کی جاسوسی کرنے یہ لوگ آئے ہیں چند خرابیاں ہوئیں۔ اول تکبر و عداوت جو سبب ہے خود حاضر نہ ہونے کا۔ دوسرے طلب حق نہ ہونا بلکہ حق کو محرف کرکے اس کی تائید کی فکر ہونا۔ تیسرے اوروں کو بھی قبول حق سے روکنا۔ یہاں تک آنے والوں اور بھیجنے والوں کی الگ الگ مذمت تھی۔ آگے ان سب کی مذمت ہے) اور (اصل یہ ہے کہ) جس کا خراب (اور گمراہ) ہونا خدا ہی کو منظور ہو (گو یہ تخلیقی منظوری اس گمراہ کے عزم گمراہی کے بعد ہوتی ہے) تو اس کے لئے اللہ سے (اے عام مخاطب) تیرا کچھ زور نہیں چل سکتا (کہ اس گمراہی کو نہ پیدا ہونے دے، یہ تو ایک عام قاعدہ ہوا اب یہ سمجھو کہ) یہ لوگ ایسے (ہی) ہیں خدا تعالیٰ کو ان کے دلوں کا (کفریات سے) پاک کرنا منظور نہیں ہوا (کیونکہ یہ عزم ہی نہیں کرتے، اس لئے اللہ تعالیٰ تطہیر تخلیقی نہیں فرماتے بلکہ ان کے عزم گمراہی کی وجہ سے تخلیقاً ان کا خراب ہی ہونا منظور ہے۔ پس قاعدہ مذکور کے موافق کوئی شخص ان کو ہدایت نہیں کرسکتا، مطلب یہ ہے کہ جب یہ خود خراب رہنے کا عزم رکھتے ہیں اور عزم کے بعد اس فعل کی تخلیق عادت الہیہ ہے، اور تخلیق الہٰی کو کوئی روک نہیں سکتا، پھر ان کے اوپر آنے کی توقع کیا کی جائے۔ اس سے رسول اللہ ﷺ کو زیادہ تسلی ہو سکتی ہے، جس سے کلام شروع بھی ہوا تھا۔ پس آغاز و انجام کلام کا مضمون تسلی سے ہوا۔ آگے ان اعمال کا ثمرہ فرماتے ہیں کہ) ان (سب) لوگوں کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان (سب) کے لئے سزائے عظیم ہے (یعنی دوزخ، چناچہ منافقین کی یہ رسوائی ہوئی کہ مسلمانوں کو ان کا نفاق معلوم ہوگیا۔ اور سب ذلت سے دیکھتے تھے اور یہود کے قتل و قید و جلاوطنی کا ذکر روایات میں مشہور ہے، اور عذاب ظاہر ہی ہے) یہ لوگ (دین کے باب میں) غلط باتوں کے سننے کے عادی ہیں (جیسا پہلے آچکا) بڑے حرام (مال) کے کھانے والے ہیں (اسی حرص نے ان کو احکام میں غلط بیانی کا جس کے عوض کچھ نذرانہ وغیرہ ملتا ہے خوگر کردیا۔ جب ان لوگوں کی یہ حالت ہے) تو اگر یہ لوگ (اپنا کوئی مقدمہ لے کر) آپ ﷺ کے پاس (فیصلہ کرانے) آویں تو (آپ ﷺ مختار ہیں) خواہ آپ ﷺ ان (کے معاملہ) میں فیصلہ کر دیجئے یا ان کو ٹال دیجئے اور اگر آپ ﷺ (کی یہی رائے قرار پائے کہ آپ ﷺ ان کو ٹال ہی دیں تو (یہ اندیشہ نہ کیجئے کہ شاید ناخوش ہو کر عداوت نکالیں کیونکہ) ان کی مجال نہیں کہ آپ ﷺ کو ذرا بھی ضرر پہنچا سکیں (کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے نگہبان ہیں) اور اگر (فیصلہ کرنے پر رائے قرار پائے اور) آپ ﷺ فیصلہ کریں تو ان میں عدل (یعنی قانون اسلام) کے موافق فیصلہ کیجئے، بیشک حق تعالیٰ عدل کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں (اور اب وہ عدل منحصر ہوگیا ہے قانون اسلام میں۔ پس وہی لوگ محبوب ہوں گے جو اس قانون کے موافق فیصلہ کریں) اور (تعجب کی بات ہے کہ) وہ (دین کے معاملہ میں) آپ ﷺ سے کیسے فیصلہ کراتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس تورات (موجود) ہے جس میں اللہ کا حکم (لکھا) ہے (جس کے ماننے کا ان کو دعویٰ ہے۔ اول تو یہی بات بعید ہے) پھر (یہ تعجب اس سے اور پختہ ہوگیا کہ) اس (فیصلہ لانے) کے بعد (جب آپ ﷺ کا فیصلہ سنتے ہیں تو اس فیصلہ سے بھی) ہٹ جاتے ہیں (یعنی اول تو اس حالت میں فیصلہ لانے ہی سے تعجب ہوتا تھا۔ لیکن اس احتمال سے رفع ہوسکتا تھا کہ شاید آپ ﷺ کا حق پر ہونا ان پر واضح ہوگیا ہو اس لئے آگئے ہوں۔ لیکن جب اس فیصلہ کو نہ مانا تو وہ تعجب پھر تازہ ہوگیا کہ اب تو وہ احتمال بھی نہ رہا۔ پھر کیا بات ہوگی جس کے واسطے یہ فیصلہ لائے ہیں) اور (اسی سے ہر عاقل کو اندازہ ہوگیا کہ) یہ لوگ ہرگز اعتقاد والے نہیں (یہاں اعتقاد سے نہیں آئے اپنے مطلب کے واسطے آئے تھے اور جب نہ ماننا عدم اعتقاد کی دلیل ہے تو اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جیسے حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان کو اعتقاد نہیں اسی طرح اپنی کتاب کے ساتھ بھی پورا اعتقاد نہیں ورنہ اس کو چھوڑ کر کیوں آتے۔ غرض دونوں طرف سے گئے کہ جس سے انکار ہے اس سے بھی اعتقاد نہیں اور جس سے دعویٰ اعتقاد ہے اس سے بھی نہیں۔
معارف و مسائل
یہ تین آیتیں اور ان کے بعد کی آیات جن اسباب و واقعات کے ماتحت نازل ہوئی ہیں ان کا تفصیلی بیان پہلے آچکا ہے۔ جن کا خلاصہ یہ ہے کہ یہودیوں کی یہ پرانی خصلت تھی کہ کبھی اقرباء پروری کے تحت، کبھی جاہ و مال کے لالچ میں لوگوں کی خواہش کے مطابق فتوی بنادیا کرتے تھے۔ خصوصاً سزاؤں کے معاملہ میں یہ عام رواج ہوگیا تھا کہ جب کسی بڑے آدمی سے جرم سرزد ہوتا تو تورات کی سخت سزا کو معمولی سزا میں تبدیل کردیتے تھے۔ ان کے اسی حال کو آیت مذکورہ میں ان الفاظ سے بیان فرمایا ہےی ۭيُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ۔
جب رسول کریم ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لے گئے اور شریعت اسلام کا عجیب و غریب نظام ان کے سامنے آیا جس میں سہولت و آسانی کی بڑی رعایتیں بھی تھیں اور جرائم کے انسداد کے لئے سزاؤں کا ایک معقول انتظام بھی، اس وقت ان لوگوں کو جو تورات کی سخت سزاؤں کو بدل کر آسان کرلیا کرتے تھے یہ موقعہ بھی ہاتھ آیا کہ ایسے معاملات میں رسول کریم ﷺ کو حَکَم بنادیں، تاکہ آپ کی شریعت کے آسان اور نرم احکام سے فائدہ بھی اٹھالیں۔ اور تحریف تورات کے مجرم بھی نہ بنیں، مگر اس میں بھی یہ شرارت رہتی تھی کہ باقاعدہ حکم بنانے سے پہلے کسی ذریعہ سے اپنے معاملے کا حکم بطور فتویٰ کے معلوم کرلیں۔ پھر آپ ﷺ کا یہ حکم اگر اپنی خواہشات کے موافق ہو تو حکم بنا کر فیصلہ کرا لیں ورنہ چھوڑ دیں۔ اس سلسلہ کے جو واقعات ذکر کئے گئے ہیں ان میں چونکہ آنحضرت ﷺ کو اذیت پہنچی تھی اس لئے شروع آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی کہ اس پر آپ مغموم نہ ہوں یہ انجام کار آپ ﷺ کے لئے خیر ہے۔
پھر یہ اطلاع دی کہ یہ لوگ مخلصانہ طور پر آپ ﷺ کو حَکَم نہیں بنا رہے، بلکہ ان کی نیتوں میں فساد ہے، پھر بعد کی آیت میں آپ ﷺ کو اختیار دیا کہ آپ ﷺ چاہیں ان کے معاملہ کا فیصلہ فرمادیں یا ٹال دیں، آپ ﷺ کو اختیار ہے۔ اور یہ بھی اطلاع دے دی کہ اگر آپ ﷺ ٹالنا چاہیں تو یہ آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے،۔
(آیت) فاحکم بینھم اواعرض عنھم الآیة کا یہی مضمون ہے۔ اور اس کے بعد کی آیت میں ارشاد ہے کہ اگر آپ ﷺ فیصلہ دینا ہی پسند کریں تو اس میں آپ کو یہ ہدایت دی گئی کہ فیصلہ عدل و انصاف کے مطابق ہونا چاہیے۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ فیصلہ اپنی شریعت کے مطابق فرما دیں۔ کیونکہ رسول کریم ﷺ کی بعثت کے بعد تمام پہلی شریعتیں اور ان کے قوانین منسوخ ہوچکی ہیں۔ بجُز ان کے جن کو قرآن کریم اور شریعت مصطفوی ﷺ میں باقی رکھا گیا ہے۔ اسی لئے بعد کی آیات میں قانون الہٰی کے خلاف کسی دوسرے قانون یا رسم و رواج پر فیصلہ صادر کرنے کو ظلم اور فسق و کفر قرار دیا گیا ہے۔
اسلامی حکومت میں غیر مسلموں کے مقدمات کا ضابطہ
یہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہودی جنہوں نے اپنے مقدمات کو رسول کریم ﷺ کی عدالت میں بھیجا نہ ان کا رسول کریم ﷺ اور آپ کی شریعت پر ایمان تھا۔ نہ یہ کہ مسلمانوں کے زیر حکم ذمی تھے۔ البتہ رسول کریم ﷺ سے ان کا معاہدہ ترک جنگ کا ہوگیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ چاہیں ٹال دیں اور چاہیں فیصلہ اپنی شریعت کے مطابق فرما دیں۔ کیونکہ ان لوگوں کی کوئی ذمہ داری اسلامی حکومت پر نہیں ہے اور اگر یہ ذمی ہوتے اور اسلامی حکومت کی طرف رجوع کرتے تو حاکم مسلم پر فیصلہ کرنا فرض ہوتا، ٹال دینا جائز نہ ہوتا۔ کیونکہ ان کے حقوق کی نگرانی اور ان سے ظلم کا رفع کرنا حکومت اسلامیہ کا فرض ہے۔ اسی لئے آئندہ آنے والی ایک آیت میں یہ بھی ارشاد ہے(آیت) وان احکم بینھم۔ یعنی اگر یہ لوگ اپنا معاملہ آپ ﷺ کے پاس لائیں تو آپ ﷺ اس کا فیصلہ اپنی شریعت کے مطابق فرما دیں۔
اور دوسری آیت ان غیر مسلموں کے متعلق ہے جو مسلمانوں کے ذمی اسلامی ملک کے شہری اور زیر حکومت رہتے ہیں۔
اب یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ پہلی آیت اختیار اور دوسری آیت دونوں میں آنحضرت ﷺ کو ہدایت یہ ہے کہ جب ان غیر مسلموں کے معاملہ میں فیصلہ کریں تو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم یعنی اپنی شریعت کے مطابق کریں۔ ان غیر مسلموں کی خواہشات یا ان کے مذہب کے مطابق فیصلہ نہ دیں۔
اس کی توضیح یہ ہے کہ یہ حکم ان معاملات کے متعلق ہے جن کا ذکر ان آیات کے شان نزول میں آپ سن چکے ہیں کہ ایک معاملہ سزائے قتل اور خوں بہا کا تھا، دوسرا زنا اور اس کی سزا کا۔ ان جیسے معاملات یعنی جرائم کی سزاؤں میں ساری دنیا کا یہی دستور ہے کہ پورے ملک کا ایک ہی قانون ہوتا ہے۔ جس کو جنرل قانون کہتے ہیں، اس جنرل قانون میں طبقات یا مذاہب کی وجہ سے کوئی فرق نہیں کیا جاتا۔ مثلاً چور کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے تو یہ صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص نہیں بلکہ ہر باشندہ ملک کے لئے یہی سزا ہوگی۔ اسی طرح قتل و زنا کی سزائیں بھی سب کے لئے عام ہوں گی۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ غیر مسلموں کے شخصی اور خالص مذہبی معاملات کا فیصلہ بھی شریعت اسلام کے مطابق کرنا ضروری ہو۔
خود نبی کریم ﷺ نے شراب اور خنزیر کو مسلمانوں کے لئے تو حرام قرار دیا اور اس پر سزا مقرر فرمائی، مگر غیر مسلموں کو اس میں آزاد رکھا۔ غیر مسلموں کے نکاح، شادی وغیرہ شخصی معاملات میں کبھی مداخلت نہیں فرمائی۔ ان کے مذہب کے مطابق جو نکاح صحیح ہیں ان کو قائم رکھا۔
مقام ہجر کے مجوسی اور نجران اور وادی قرای کے یہودی و نصاریٰ اسلامی حکومت کے ذمی بنے اور آنحضرت ﷺ کو یہ معلوم تھا کہ مجوسیوں کے نزدیک اپنی ماں بہن سے بھی نکاح حلال ہے، اسی طرح یہود و نصاریٰ میں بغیر عدت گزراے یا بغیر گواہوں کے نکاح معتبر ہے۔ مگر آپ ﷺ نے ان کے شخصی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں فرمائی اور ان کے نکاحوں کو برقرار تسلیم کیا۔
خلاصہ یہ ہے کہ غیر مسلم جو اسلامی حکومت کے باشندے ہیں ان کے شخصی اور ذاتی اور مذہبی معاملات کا فیصلہ انہی کے مذہب و خیال پر چھوڑا جائے گا اور اگر فصل مقدمات کی ضرورت پیش آئے گی تو انہی کے مذہب کا حاکم مقرر کرکے فیصلہ کرایا جائے گا۔
البتہ اگر یہ حاکم مسلم کے پاس رجوع ہوں اور اس کے فیصلہ پر فریقین رضامند ہوں تو پھر مسلم حاکم فیصلہ اپنی شریعت کے مطابق ہی کرے گا، کیونکہ اب وہ فریقین کی طرف سے بنائے ہوئے ثالث کا حکم رکھتا ہے۔ آیت کریمہ (آیت) وان احکم بینھم بما انزل اللّٰہ۔ جو آگے آنے والی ہے، اس میں شریعت اسلام کے مطابق فیصلہ دینے کا حکم جو نبی کریم ﷺ کو دیا گیا ہے تو اس بناء پر کہ معاملہ قانون عام یعنی جنرل قانون کا ہے جس میں کسی فرقہ کو مستثنیٰ نہیں کیا جاسکتا۔ اور یا اس بناء پر کہ یہ لوگ خود رسول کریم ﷺ کو حَکَم تسلیم کرکے آپ ﷺ ہی سے فیصلہ کرنے کے لئے آئے تو ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کا فیصلہ نہ ہی ہونا چاہیے جس پر آپ ﷺ کا ایمان ہے اور آپ کی شریعت کا حکم ہے۔
بہرحال آیات مذکور میں سے پہلی آیت میں اول آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی۔ اس کے بعد یہودیوں کی سازش سے آپ ﷺ کو باخبر کیا گیايٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ سے آخر تک۔ اسی کا بیان ہے جس سے یہ انکشاف کرایا گیا کہ آپ ﷺ کی خدمت میں آنے والا وفد منافقین کا ہے۔ جن کا خفیہ گٹھ جوڑ یہودیوں کے ساتھ ہے اور انہی کا بھیجا ہوا آ رہا ہے۔ اس کے بعد آنے والے وفد کی چند بری خصلتوں کا بیان فرما کر مسلمانوں کو اس کی برائی پر متنبہ فرمایا اور ضمنی طور پر یہ ہدایت فرما دی کہ یہ خصلتیں کافرانہ ہیں۔ ان سے بچنے اور دور رہنے کا اہتمام کیا جائے۔
Ayahs 5:42–43یہود کی ایک بری خصلت
پہلی خصلت یہ بتائی سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ للسُّحْتِ۔ یعنی یہ لوگ جھوٹی اور غلط باتیں سننے کے عادی ہیں۔ اپنے کو عالم کہلانے والے غدار یہودیوں کے ایسے اندھے متبع ہیں کہ احکام تو ارت کی کھلی خلاف ورزی دیکھنے کے باوجود ان کی پیروی کرتے رہتے ہیں اور ان کی غلط سلط بیان کی ہوئی کہانیاں سنتے رہتے ہیں۔
عوام کے لئے علماء کے اتباع کا ضابطہ
اس میں جس طرح تحریف کرنے والوں اور احکام خدا و رسول میں غلط چیزیں شامل کرنے والوں کے لئے وعیدیں ہیں۔ اسی طرح ان لوگوں کو بھی سخت مجرم قرار دیا ہے جو ایسے لوگوں کو امام بنا کر موضوع اور غلط روایات سننے کے عادی ہوگئے ہیں اس میں مسلمانوں کے لئے ایک اہم اصولی ہدایت یہ ہے کہ اگرچہ جاہل عوام کے لئے دین پر عمل کرنے کا راستہ صرف یہی ہے کہ علماء کے فتوے اور تعلیم پر عمل کریں لیکن اس ذمہ داری سے عوام بھی بری نہیں کہ فتویٰ لینے اور عمل کرنے سے پہلے اپنے مقتداؤں کے متعلق اتنی تحقیق تو کرلیں جتنی کوئی بیمار کسی ڈاکٹر یا حکیم سے رجوع کرنے سے پہلے کیا کرتا ہے۔ کہ جاننے والوں سے تحقیق کرتا ہے کہ اس مرض کے لئے کونسا ڈاکٹر ماہر ہے، کون سا حکیم اچھا ہے۔ اس کی ڈگریاں کیا کیا ہیں۔ اس کے مطب میں جانے والے زیر علاج لوگوں پر کیا گزرتی ہے۔ اپنی امکانی تحقیق کے بعد بھی اگر وہ کسی غلط ڈاکٹر یا حکیم کے جال میں پھنس گیا یا اس نے کوئی غلطی کردی تو عقلاء کے نزدیک وہ قابل ملامت نہیں ہوتا۔ لیکن جو شخص بلا تحقیق کسی عطائی کے جال میں جا پھنسا اور پھر کسی مصیبت میں گرفتار ہوا تو وہ عقلاء کے نزدیک خود اپنی خودکشی کا ذمہ دار ہے۔
یہی حال عوام کے لئے دینی امور کے بارے میں ہے کہ اگر انہوں نے اپنی بستی کے اہل علم و فن اور تجربہ کار لوگوں سے تحقیق حال کرنے کے بعد کسی عالم کو اپنا مقتدیٰ بنایا اور اس کے فتوے پر عمل کیا تو وہ عند الناس بھی معزور سمجھا جائے گا۔ اور عند اللہ بھی، ایسے ہی معاملہ کے متعلق حدیث میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہےفان اثمہ علی من افتی۔ یعنی ایسی صورت میں اگر عالم اور مفتی نے غلطی کرلی اور کسی مسلمان نے ان کے غلط فتوے پر عمل کرلیا تو اس کا گناہ اس پر نہیں بلکہ اس عالم و مفتی پر ہے۔ اور وہ بھی اس وقت جبکہ اس عالم نے جان بوجھ کر ایسی غلطی کی ہو یا امکانی خور و خوض میں کمی کی ہو یا یہ کہ وہ عالم ہی نہ تھا اور لوگوں کو فریب دے کر اس منصب پر مسلط ہوگیا۔
لیکن اگر کوئی شخص بلا تحقیق محض اپنے خیال سے کسی کو عالم و مقتدیٰ قرار دے کر اس کے قول پر عمل کرے۔ اور وہ فی الواقع اس کا اہل نہیں تو اس کا وبال تنہا اس مفتی اور عالم پر نہیں ہے بلکہ یہ شخص بھی برابر کا مجرم ہے، جس نے تحقیق کئے بغیر اپنے ایمان کی باگ ڈور کسی ایسے شخص کے حوالہ کردی، ایسے ہی لوگوں کے بارے میں یہ ارشاد قرآنی آیا ہے سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ ، یعنی یہ لوگ جھوٹی باتیں سننے کے عادی ہیں، اپنے مقتداؤں کے علم و عمل اور امانت و دیانت کی تحقیق کئے بغیر ان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، اور ان سے موضوع اور غلط روایات سننے اور ماننے کے عادی ہوگئے ہیں۔
قرآن کریم نے یہ حال یہودیوں کا بیان کیا ہے اور مسلمانوں کو سنایا ہے کہ وہ اس سے محفوظ رہیں۔ لیکن آج کی دنیا میں مسلمانوں کی بہت بڑی بربادی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ دنیا کے معاملات میں تو بڑے ہوشیار، چُست و چالاک ہیں، بیمار ہوتے ہیں تو بہتر سے بہتر ڈاکٹر حکیم کو تلاش کرتے ہیں، کوئی مقدمہ پیش آتا ہے تو اچھے سے اچھا وکیل بیرسٹر ڈھونڈھ لاتے ہیں، کوئی مکان بنانا ہے تو اعلیٰ سے اعلیٰ آرکٹیکٹ اور انجنیئر کا سراغ لگا لیتے ہیں۔ لیکن دین کے معاملہ میں ایسے سخی ہیں کہ جس کی داڑھی اور کرتہ دیکھا اور کچھ الفاظ بولتے ہوئے سن لیا، اس کو مقتداء، عالم، مفتی، رہبر بنا لیا، بغیر اس تحقیق کے کہ اس نے باقاعدہ کسی مدرسہ میں بھی تعلیم پائی ہے یا نہیں ؟ علماء ماہرین کی خدمت میں رہ کر علم دین کا کچھ ذوق پیدا کیا ہے یا نہیں، کچھ علمی خدمات کی ہیں یا نہیں، سچے بزرگوں اور اللہ والوں کی صحبت میں رہ کر کچھ تقویٰ و طہارت پیدا کی ہے یا نہیں ؟
اس کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمانوں میں جو لوگ دین کی طرف متوجہ بھی ہوتے ہیں ان کا بہت بڑا حصہ جاہل واعظوں اور دکاندار پیروں کے جال میں پھنس کر دین کے صحیح راستہ سے دور جا پڑتا ہے، ان کا علم دین صرف وہ کہانیاں رہ جاتی ہیں جن میں نفس کی خواہشات پر زد نہ پڑے، وہ خوش ہیں کہ ہم دین پر چل رہے ہیں۔ اور بڑی عبادت کر رہے ہیں، مگر حقیقت وہ ہوتی ہے جس کو قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے(آیت) الذین ضل سعیہم فی الحیوة۔ یعنی وہ لوگ ہیں جن کی سعی و عمل دنیا ہی میں برباد ہوچکی ہے اور وہ اپنے نزدیک یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے بڑا اچھا عمل کیا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے ان منافق یہودیوں کا حال سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ کے لفظوں میں بیان کرکے ایک اہم اور بڑا اصول بتلادیا کہ جاہل عوام کو علماء کی پیروی تو ناگزیر ہے مگر ان پر لازم ہے کہ بلاتحقیق کسی کو عالم و مقتداء نہ بنالیں اور ناواقف لوگوں سے غلط سلط باتیں سننے کے عادی نہ ہوجائیں۔
پارٹ 2
یہود کی ایک دوسری بری خصلت
ان منافقین کی دوسری بری خصلت یہ بتلائی کہ اَكّٰلُوْنَ للسُّحْتِ۔ یعنی یہ لوگ بظاہر تو آپ ﷺ سے ایک دینی معاملہ کا حکم پوچھنے آئے ہیں لیکن در حقیقت ان کا مقصد نہ دین ہے نہ دینی معاملہ کا حکم معلوم کرنا ہے، بلکہ یہ ایک ایسی یہودی قوم کے جاسوس ہیں جو اپنے تکبر کی وجہ سے آپ ﷺ تک خود نہیں آئے، ان کی خواہش کے مطابق صرف یہ چاہتے ہیں کہ سزائے زنا کے بارے میں آپ ﷺ کا نظریہ معلوم کرکے ان کو بتلا دیں، پھر ماننے نہ ماننے کا فیصلہ خود کریں گے اس میں مسلمانوں کو اس پر تنبیہ ہے کہ کسی عالم دین سے فتویٰ دریافت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ دریافت کرنے والے کی نیت حکم خدا اور رسول ﷺ کو معلوم کرکے اس کا اتباع کرنا ہو محض مفتیوں کی رائے معلوم کرکے اپنی خواہش کے موافق حکم تلاش کرنا کھلا ہوا اتباع نفس و شیطان ہے اس سے بچنا چاہیے۔
تیسری بری خصلت کتاب اللہ کی تحریف
تیسری بری خصلت ان لوگوں کی یہ بیان فرمائی کہ یہ لوگ اللہ کے کلام کو اس کے موقع سے ہٹا کر غلط معنی پہناتے اور احکام خدا تعالیٰ کی تحریف کرتے ہیں، اس میں یہ صورت بھی داخل ہے کہ تو ارت کے الفاظ میں کچھ رد و بدل کردیں، اور یہ بھی کہ الفاظ تو وہی رہیں ان کے معنی میں لغو قسم کی تاویل و تحریف کریں یہودی ان دونوں قسموں کی تحریف کے عادی ہیں۔
مسلمانوں کے لئے اس میں یہ تنبیہ ہے کہ قرآن کریم کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے خود ذمہ لیا ہے، اس میں لفظی تحریف کی تو کوئی جرأت نہیں کرسکتا، کہ لکھے ہوئے صحیفوں کے علاوہ لاکھوں انسانوں کے سینوں میں محفوظ کلام میں ایک زیر و زبر کی غلطی کوئی کرتا ہے تو فوراً پکڑا جاتا ہے، معنوی تحریف بظاہر کی جاسکتی ہے اور کرنے والوں نے کی بھی ہے، مگر اس کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام فرما دیا ہے کہ اس امت میں قیامت تک ایک ایسی جماعت قائم رہے گی جو قرآن و سنت کے صحیح مفہوم کی حامل ہوگی، اور تحریف کرنے والوں کی قلعی کھول دے گی۔
چوتھی بری خصلت رشوت خوری
دوسری آیت میں ان کی ایک اور بری خصلت یہ بیان فرمائی ہےیہ لوگ سخت کھانے کے عادی ہیں، سُحت کے لفظی معنی کسی چیز کو جڑ بنیاد سے کھود کر برباد کرنے کے ہیں، اسی معنی میں قرآن کریم نے فرمایا ہے (آیت) فیسحتکم بعذاب، یعنی اگر تم اپنی حرکت سے باز نہ آؤ گے تو اللہ تعالیٰ اپنے عذاب سے تمہارا استیصال کر دے گا، یعنی تمہاری جڑ بنیاد ختم کردی جائے گی، قرآن مجید میں اس جگہ لفظ سحت سے مراد رشوت ہے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ، ابراہیم نخعی رحمة اللہ علیہ، حسن بصری رحمة اللہ علیہ، مجاہد رحمة اللہ علیہ، قتادہ رحمة اللہ علیہ، ضحاک رحمة اللہ علیہ وغیرہ ائمہ تفسیر نے اس کی تفسیر رشوت سے کی ہے۔
رشوت کو سحت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ نہ صرف لینے دینے والوں کو برباد کرتی ہے بلکہ پورے ملک و ملت کی جڑ بنیاد اور امن عامہ کو تباہ کرنے والی ہے، جس ملک یا جس محکمہ میں رشوت چل جائے وہاں قانون معطل ہو کر رہ جاتا ہے اور قانون ملک ہی وہ چیز ہے جس سے ملک و ملت کا امن برقرار رکھا جاتا ہے، وہ معطل ہوگیا تو نہ کسی کی جان محفوظ رہتی ہے نہ آبرو نہ مال، اس لئے شریعت اسلام میں اس کو سحت فرما کر اشد حرام قرار دیا ہے، اور اس کے دروازہ کو بند کرنے کے لئے امراء و حکام کو جو ہدیے اور تحفے پیش کئے جاتے ہیں ان کو بھی صحیح حدیث میں رشوت قرار دے کر حرام کردیا گیا ہے (جصاص)۔
رشوت کی تعریف شرعی یہ ہے کہ جس کا معاوضہ لینا شرعاً درست نہ ہو اس کا معاوضہ لیا جائے، مثلاً جو کام کسی شخص کے فرائض میں داخل ہے اور اس کا پورا کرنا اس کے ذمہ لازم ہو اس پر کسی فریق سے معاوضہ لینا جیسے حکومت کے افسر اور کلرک سرکاری ملازمت کی رو سے اپنے فرائض ادا کرنے کے ذمہ دار ہیں، وہ صاحب معاملہ سے کچھ لیں تو یہ رشوت ہے یا لڑکی کے ماں باپ اس کی شادی کرنے کے ذمہ دار ہیں کسی سے اس کا معاوضہ نہیں لے سکتے، وہ جس کو رشتہ دیں اس سے کچھ معاوضہ لیں تو وہ رشوت ہے، یا صوم و صلوٰة اور حج اور تلاوت قرآن عبادات ہیں جو مسلمان کے ذمہ ہیں، ان پر کسی سے کوئی معاوضہ لیا جائے تو وہ رشوت ہے۔ تعلیم قرآن اور امامت اس سے مستثنیٰ ہیں (علیٰ فتوی المتاخرین)۔
پھر جو شخص رشوت لے کر کسی کا کام حق کے مطابق کرتا ہے وہ رشوت لینے کا گناہگار ہے اور یہ مال اس کے لئے سُحت اور حرام ہے، اور اگر رشوت کی وجہ سے حق کے خلاف کام کیا تو یہ دوسرا شدید جرم، حق تلفی اور حکم خداوندی کو بدل دینے کا اس کے علاوہ ہوگیا، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس سے بچائے۔