Ayah 5:97خلاصہ تفسیر
خدا تعالیٰ نے کعبہ کو جو کہ ادب کا مکان ہے، لوگوں (کی مصلحتوں) کے قائم رہنے کا سبب قرار دے دیا ہے اور (اسی طرح) عزت والے مہینہ کو بھی اور (اسی طرح) حرم میں قربانی ہونے والے جانور کو بھی اور (اسی طرح) ان جانوروں کو بھی جن کے گلے میں (اس نشانی کے لئے) پٹے ہوں (کہ یہ اللہ کی نیاز ہیں حرم میں ذبح ہوں گے) یہ (قرارداد علاوہ اور دنیوی مصلحتوں کے) اس (دینی مصلحت کے) لئے (بھی) ہے تاکہ (تمہارا اعتقاد درست اور پختہ ہو اس طرح سے کہ تم ان مصالح سے استدلال کرکے) اس بات کا یقین (ابتدائً یا کمالاً) کرلو کہ بیشک اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں اور زمین کے اندر کی چیزوں کا علم (کامل) رکھتے ہیں (کیونکہ ایسا حکم مقرر کرنا جس میں آئندہ کے ایسے مصالح مرعی ہوں کہ عقول بشریہ ان کو نہ سوچ سکیں دلیل ہے کمال صفت علمیہ کی) اور (ان معلومات مذکورہ کے ساتھ تعلق علم کامل سے استدلال کرکے یقین کر لو کہ) بیشک اللہ تعالیٰ سب چیزوں کو خوب جانتے ہیں، (کیونکہ ان معلومات کے علم پر کسی چیز نے مطلع نہیں کیا، معلوم ہوا کہ علم ذاتی کی نسبت جمیع معلوم کے ساتھ یکساں ہوتی ہے) تم یقین سے جان لو کہ اللہ تعالیٰ سزا بھی سخت دینے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت اور رحمت والے بھی ہیں (تو ان کے احکام کی خلاف مت کیا کرو اور جو احیاناً ہوگیا ہو، موافق قواعد شرعیہ کے توبہ کرلو) رسول ﷺ کے ذمہ تو صرف پہنچانا ہے، (سو وہ خوب پہنچا چکے اب تمہارے پاس کوئی عذر و حیلہ نہیں رہا) اور اللہ تعالیٰ سب جانتے ہیں جو کچھ تم (زبان یا جوارح سے) ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ (دل میں) پوشیدہ رکھتے ہو (سو تم کو چاہیے کہ اطاعت ظاہر و باطن دونوں سے کرو) آپ (اے محمد ﷺ ان سے یہ بھی) فرما دیجئے کہ ناپاک اور پاک (یعنی گناہ اور اطاعت یا گناہ کرنے والا اور اطاعت کرنے والا) برابر نہیں، (بلکہ خبیث مبغوض ہے اور طیب مقبول ہے، پس اطاعت کرکے مقبول بننا چاہئے، معصیت کرکے مبغوض نہ ہونا چاہئے، اگرچہ اے دیکھنے والے) تجھ کو ناپاک کی کثرت (جیسا اکثر دنیا میں یہی واقع ہوتا ہے) تعجب میں ڈالتی ہو (کہ باوجود ناپسندیدہ ہونے کے یہ کثیر کیوں ہے، مگر یہ سمجھ لو کہ کثرت جو کسی حکمت سے ہے دلیل محمود ہونے کی نہیں، جب کثرت پر مدار نہیں یا یہ کہ جب اللہ تعالیٰ کے علم و عقاب پر بھی مطلع ہوگئے) تو (اس کو مت دیکھو بلکہ) خدا تعالیٰ (کے خلاف حکم کرنے) سے ڈرتے رہو تاکہ تم (پورے طور سے) کامیاب ہو (کہ وہ جنت اور رضائے حق ہے)
معارف و مسائل
امن و اطمینان کے چار ذرائع
پہلی آیت میں حق تعالیٰ نے چار چیزوں کو لوگوں کے قیام وبقاء اور امن و اطمینان کا سبب بتلایا ہے۔
اول کعبہ، لفظ کعبہ عربی زبان میں ایسے مکان کو کہتے ہیں جو مربع یعنی چوکور ہو، عرب میں قبیلہ خثعم کا بنایا ہوا ایک اور مکان بھی اسی نام سے موسوم تھا، جس کو کعبہ یمانیہ کہا جاتا تھا، اسی لئے بیت اللہ کو اس کعبہ سے ممتاز کرنے کے لئے لفظ کعبہ کے ساتھ البیت الحرام کا لفظ بڑھایا گیا۔
لفظ قیام اور قوام اسم مصدر ہے، اس چیز کو کہا جاتا ہے جس پر کسی چیز کا قیام وبقاء موقوف ہو، اس لئے قیمٰاً للناس کے معنے یہ ہوئے کہ کعبہ اور اس کے متعلقات لوگوں کے قیام وبقاء کا سبب اور ذریعہ ہیں۔
اور لفظ ناس لغت میں عام انسانوں کے لئے بولا جاتا ہے، اس جگہ قرینہ مقام کی وجہ سے خاص مکہ والے یا اہل عرب بھی مراد ہوسکتے ہیں اور عام دنیا کے انسان بھی، اور ظاہر یہی ہے کہ پورے عالم کے انسان اس میں داخل ہیں، البتہ مکہ اور عرب والے ایک خاص خصوصیت رکھتے ہیں، اس لئے مطلب آیت کا یہ ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے کعبہ بیت اللہ اور جن چیزوں کا ذکر آگے آتا ہے، ان کو پورے عالم انسانیت کے لئے قیام وبقاء اور امن و سکون کا ذریعہ بنادیا ہے، جب تک دنیا کا ہر ملک، ہر خطہ اور ہر سمت کے لوگ اس بیت اللہ کی طرف متوجہ ہو کر نماز ادا کرتے رہیں اور بیت اللہ کا حج ہوتا رہے یعنی جن پر حج فرض ہو وہ حج ادا کرتے رہیں اس وقت تک یہ پوری دنیا قائم اور محفوظ رہے گی۔ اور اگر ایک سال بھی ایسا ہوجائے کہ کوئی حج نہ کرے یا کوئی شخص بیت اللہ کی طرف متوجہ ہو کر نماز ادا نہ کرے تو پوری دنیا پر عذاب عام آجائے گا۔
بیت اللہ پورے عالم کا عمود ہے
اسی مضمون کو امام تفسیر حضرت عطار رحمة اللہ علیہ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہےلو ترکزہ عاماً واحدا لم ینظروا ولم یؤ خروا (بحر محیط) اس سے معلوم ہوا کہ معنوی طور پر بیت اللہ اس پورے عالم کا عمود ہے، جب تک اس کا استقبال اور حج ہوتا رہے گا دنیا قائم رہے گی، اور اگر کسی وقت بیت اللہ کا یہ احترام ختم ہوا تو دنیا بھی ختم کردی جائے گی، رہا یہ معاملہ کہ نظام عالم اور بیت اللہ میں جوڑ اور ربط کیا ہے ؟ سو اس کی حقیقت معلوم ہونا ضروری نہیں، جس طرح مقناطیس اور لوہے اور کہربا اور تنکے کے ربط باہمی کی حقیقت کسی کو معلوم نہیں، مگر وہ ایک ایسی حقیقت ہے جو مشاہدہ میں آتی ہے اس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا، بیت اللہ اور نظام عالم کے باہمی ربط کی حقیقت کا ادراک بھی انسان کے قبضہ میں نہیں، وہ خالق کائنات کے بتلانے ہی سے معلوم ہوسکتا ہے، بیت اللہ کا پورے عالم کی بقاء کے لئے سبب ہونا تو ایک معنوی چیز ہے ظاہری نظریں اس کو نہیں پاسکتیں، لیکن عرب اور اہل مکہ کے لئے اس کا موجب امن و سلامتی ہونا طویل تجربات اور مشاہدات سے ثابت ہے۔
بیت اللہ کا وجود امن عالم کا سبب ہے
عام دنیا میں قیام امن کی صورت حکومتوں کے قوانین اور ان کی گرفت ہوتی ہے، اس کی وجہ سے ڈاکو، چور، قتل و غارت گری کرنے والے کی جرأت نہیں ہوتی، لیکن جاہلیت عرب میں نہ کوئی باقاعدہ حکومت قائم تھی، اور نہ امن عامہّ کے لئے کوئی قانون عام تھا، سیاسی نظام محض قبائلی بنیادوں پر قائم تھا۔ ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ کی جان و مال عزت و آبرو سب ہی چیزوں پر جب چاہے حملہ کرسکتا تھا، اس لئے کسی قبیلہ کے لئے کسی وقت امن و اطمینان کا موقع نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کو حکومت کے قائم مقام ذریعہ امن بنادیا جس طرح حکومت کے قانون کی خلاف ورزی کرنے کی جرأت کوئی سمجھدار انسان نہیں کرسکتا، اسی طرح بیت اللہ شریف کی حرمت و تعظیم حق تعالیٰ نے زمانہ جاہلیت میں بھی عام لوگوں کے دلوں میں اس طرح پیوست کردی تھی کہ اس کے احترام کے لئے اپنے سارے جذبات و خواہشات کو پیچھے ڈال دیتے تھے۔
عرب جاہلیت جو اپنی جنگ جوئی اور قبائلی تعصب میں پوری دنیا میں ضرب المثل تھی اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ اور اس کے متعلقات کی اتنی حرمت و تعظیم ان کے دلوں میں پیوست کردی تھی کہ ان کا کیسا بھی جانی دشمن یا سخت سے سخت مجرم ہو اگر وہ حرم شریف میں داخل ہوجائے تو انتہائی غم و غصہ کے باوجود اس کو کچھ نہ کہتے، باپ کا قاتل حرم میں بیٹے کو ملتا تو بیٹا نیچے نظریں کرکے گزر جاتا تھا۔
اسی طرح جو شخص حج وعمرہ کے لئے نکلا ہو یا جو جانور حرم شریف میں قربانی کے لئے لایا گیا ہو اس کا بھی اتنا احترام عرب میں عام تھا کہ کوئی برے سے برا شخص بھی اس کو کوئی گزند نہ پہنچاتا تھا، اور اگر وہ جانی دشمن بھی ہے تو ایسی حالت میں جبکہ اس نے حج وعمرہ کی کوئی علامت احرام یا قلادہ باندھا ہوا ہو اس کو قطعاً کچھ نہ کہتے تھے۔
سنہ 6 ہجری یعنی جب رسول کریم ﷺ صحابہ کرام کی ایک خاص جماعت کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھ کر بقصد بیت اللہ روانہ ہوئے اور حدود حرم کے قریب مقام حدیبیہ پر قیام فرما کر حضرت عثمان غنی ؓ کو چند رفیقوں کے ساتھ مکہ بھیجا کہ مکہ کے سرداروں سے کہہ دیں کہ مسلمان اس وقت کسی جنگ کی نیت سے نہیں بلکہ عمرہ ادا کرنے کے لئے آئے ہیں اس لئے ان کی راہ میں کوئی مزاحمت نہ ہونی چاہئے۔
قریشی سرداروں نے بہت سے بحث و مباحثہ کے بعد اپنا ایک نمائندہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بھیجا، آنحضرت ﷺ نے اس کو دیکھا تو فرمایا کہ یہ شخص حرمات بیت اللہ کا خاص لحاظ رکھنے والا ہے، اس لئے اپنے قربانی کے جانور جن پر قربانی کا نشان کیا ہوا ہے اس کے سامنے کردو، اس نے جب یہ ہدایا (قربانی کے جانور) دیکھے تو اقرار کیا کہ بیشک ان لوگوں کو بیت اللہ سے ہرگز نہیں روکنا چاہئے۔
خلاصہ یہ ہے کہ حرم محترم کا احترام زمانہ جاہلیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب میں ایسا رکھ دیا تھا کہ اس کی وجہ سے امن وامان قائم رہتا تھا، اس احترام کے نتیجہ میں صرف حرم شریف کے اندر آنے جانے والے اور وہ لوگ مامون ہوجاتے تھے جو حج وعمرہ کے لئے نکلے ہیں، اور حج کی کوئی علامت ان پر موجود ہے، اطراف عالم کے لوگوں کو اس سے کوئی نفع امن و اطمینان کا حاصل نہ ہوتا تھا، لیکن عرب میں جس طرح بیت اللہ کے مکان اور اس کے گردوپیش کے حرم محترم کا احترام عام تھا اسی طرح حج کے مہینوں کا بھی خاص احترام تھا کہ ان مہینوں کو اشہر حرم کہتے تھے، ان کے ساتھ رجب کو بھی بعض نے شامل کرلیا تھا، ان مہینوں میں حرم سے باہر بھی قتل و قتال کو تمام عرب حرام سمجھتا اور پرہیز کرتا تھا۔
اسی لئے قرآن کریم نے قیما للناس ہونے میں کعبہ کے ساتھ تین اور چیزوں کو شامل فرمایا ہے، اول اشھر الحرام یعنی عزت و عظمت کا مہینہ، یہاں چونکہ لفظ شھر مفرد لایا گیا ہے، اس لئے عام مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس جگہ ”شہر حرام“ سے مراد ماہ ذی الحجہ ہے، جس میں حج کے ارکان و اعمال ادا کئے جاتے ہیں، اور بعض نے فرمایا کہ لفظ اگرچہ مفرد ہے مگر مراد اس سے جنس ہے، اس لئے سب ہی اشہر حرم (عزت کے مہینے) اس میں داخل ہیں۔
دوسری چیز ھدی، ہے، ھدی اس جانور کا کہا جاتا ہے جس کی قربانی حرم شریف میں کی جائے، ایسے جانور جس شخص کے ساتھ ہوں عام عرب کا معمول تھا کہ اس کو کچھ نہ کہتے تھے، وہ امن و اطمینان کے ساتھ سفر کرتا اور اپنا مقصد پورا کرسکتا تھا، اس لئے ھدی بھی قیام امن کا ایک سبب ہوئی۔
تیسری چیز قلائد ہیں، قلائد قلادہ کی جمع ہے، گلے کے ہار کو کہا جاتا ہے۔ جاہلیت عرب کی رسم یہ تھی کہ جو شخص حج کے لئے نکلتا تو اپنے گلے میں ایک ہار بطور علامت کے ڈال لیتا تھا، تاکہ اس کو دیکھ کر لوگ سمجھ لیں کہ یہ حج کے لئے جارہا ہے کوئی تکلیف نہ پہنچائیں، اسی طرح قربانی کے جانوروں کے گلے میں بھی اس طرح کے ہار ڈالے جاتے تھے۔ ان کو بھی قلائد کہتے ہیں، اس لئے قلائد بھی قیام امن و سکون کا ایک ذریعہ بن گئے۔
اور اگر غور کیا جائے تو یہ تینوں چیزیں شہر حرام، ھدی اور قلائد سب کے سب بیت اللہ کے متعلقات میں سے ہیں، ان کا احترام بھی بیت اللہ ہی کے احترام کا ایک شعبہ ہے، خلاصہ یہ ہے کہ بیت اللہ اور اس کے متعلقات کو اللہ تعالیٰ نے پورے عالم انسانیت کے لئے عموماً اور عرب اور اہل مکہ کے لئے خصوصاً ان کے تمام امور دین و دنیا دونوں کے لئے قیام و قوام بنادیا ہے۔
قیماً للناس کی تفسیر میں بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ بیت اللہ اور حرم محترم سب کے لئے جائے امن بنایا گیا ہے، بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد اہل مکہ کے لئے وسعت رزق ہے، کہ باوجود اس کے کہ اس زمین میں کوئی چیز پیدا نہیں ہوتی، مگر اللہ تعالیٰ دنیا بھر کی چیزیں وہاں پہنچاتے رہتے ہیں۔
بعض نے کہا کہ اہل مکہ جو کہ بیت اللہ کے خادم اور محافظ کہلاتے تھے ان کو لوگ اللہ والے سمجھ کر ہمیشہ ان کیساتھ تعظیم کا معاملہ کرتے تھے، قیما للناس سے ان کا یہ خاص اعزاز مراد ہے۔
امام عبداللہ رازی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ ان سب اقوال میں کوئی اختلاف نہیں لفظ قیماً للناس کے مفہوم میں یہ سب چیزیں داخل ہیں، کہ اللہ تعالیٰ کو سب لوگوں کے بقاء و قیام اور معاش و معاد کی صلاح و فلاح کا ذریعہ بنایا ہے، اور اہل عرب اور اہل مکہ کو خصوصیت کے ساتھ اس کی برکات ظاہرہ اور باطنہ سے نوازا ہے۔
آخر آیت میں ارشاد فرمایا ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ، یعنی ہم نے بیت اللہ کو اور اس کے متعلقات کو لوگوں کے لئے ذریعہ امن وامان اور قیام وبقاء بنادیا ہے، جس کا مشاہدہ اہل عرب خصوصیت کے ساتھ کرتے رہتے ہیں، یہ اس لئے کہا گیا کہ سب لوگ یہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی ہر چیز کو پورا پورا جانتے ہیں، اور وہی اس کا انتظام کرسکتے ہیں۔
Ayah 5:98دوسری آیت میں ارشاد فرمایا گیا اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ وَاَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ، یعنی ”سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب والے ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ بہت مغفرت کرنے والے رحم فرمانے والے ہیں“۔ اس میں بتلا دیا کہ جو احکام حلال و حرام کردیئے گئے ہیں، وہ عین حکمت و مصلحت ہیں، ان کی تعمیل ہی میں تمہارے لئے خیر ہے، ان کی خلاف ورزی سخت وبال و عذاب ہے، ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ انسانی بھول اور غفلت سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اللہ تعالیٰ فوراً عذاب نہیں دیتے، بلکہ توبہ کرنے والوں اور شرمندہ ہونے والوں کے لئے مغفرت کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔
Ayah 5:99تیسری آیت میں ارشاد فرمایامَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ ، یعنی ”ہمارے رسول ﷺ کے ذمہ تو اتنا ہی کام ہے کہ ہمارے احکام مخلوق کو پہنچادیں، پھر وہ مانیں نہ مانیں اس کا نفع و ضرر انہی کو پہنچتا ہے، ان کی نافرمانی سے ہمارے رسول ﷺ کا کچھ نقصان نہیں، اور یہ بھی سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی فریب نہیں دیا جاسکتا، وہ تمہارے ظاہر و باطن اور کھلے اور چھپے ہر کام سے واقف ہیں۔
Ayah 5:100چوتھی آیت میں ارشاد فرمایاقُلْ لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ ، عربی زبان میں طیّب اور خبیث دو متقابل لفظ ہیں، طیّب ہر چیز کے عمدہ اور جیّد کو اور خبیث ہر چیز کے ردی اور خراب کو کہا جاتا ہے، اس آیت میں اکثر مفسرین کے نزدیک خبیث سے مراد حرام یا ناپاک ہے، اور طیّب سے مراد حلال اور پاک، معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بلکہ ہر عقل سلیم کے نزدیک پاک و ناپاک یا حلال و حرام برابر نہیں ہوسکتے۔
اس جگہ لفظ خبیث اور طیّب اپنے عموم کے اعتبار سے حرام و حلال مال و دولت کو بھی شامل ہے، اور اچھے برے انسانوں کو بھی، اور بھلے برے اعمال و اخلاق کو بھی، مطلب آیت کا واضح ہے کہ کسی عقل سلیم کے نزدیک نیک و بد اور بھلا برا برابر نہیں ہوتا اسی فطری قانون کے مطابق اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال و حرام یا پاک و ناپاک چیزیں برابر نہیں اسی طرح اچھے اور برے اعمال و اخلاق برابر نہیں، اسی طرح نیک و بد انسان برابر نہیں۔
آگے ارشاد فرمایا وَلَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيْثِ ، یعنی اگرچہ دیکھنے والوں کو بعض اوقات خراب اور خبیث چیزوں کی کثرت مرعوب کردیتی ہے، اور گردوپیش میں خبیث و خراب چیزوں کے پھیل جانے اور غالب آجانے کے سبب انہی کو اچھا سمجھنے لگتے ہیں، مگر یہ انسانی علم و شعور کی بیماری اور احساس کا قصور ہوتا ہے۔
آیت کا شان نزول
آیت کے شان نزول کے متعلق بعض روایات میں ہے کہ جب اسلام میں شراب کو حرام اور اس کی خریدو فروخت کو بھی ممنوع قرار دے دیا گیا تو ایک شخص نے جس کا کاروبار شراب فروشی کا تھا، اور اس ذریعہ سے اس نے کچھ مال جمع کر رکھا تھا، آنحضرت ﷺ سے سوال کیا، کہ یا رسول اللہ ﷺ ! یہ مال جو شراب کی تجارت سے میرے پاس جمع ہوا ہے اگر میں اس کو کسی نیک کام میں خرچ کروں تو کیا وہ میرے لئے مفید ہوگا ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اس کو حج یا جہاد وغیرہ میں خرچ کروگے تو وہ اللہ کے نزدیک مچھر کے ایک پر کے برابر بھی قیمت نہ رکھے گا، اللہ تعالیٰ پاک اور حلال چیز کے سوا کسی چیز کو قبول نہیں فرماتے۔
حرام مال کی یہ بےتوقیری تو آخرت کے اعتبار سے ہوئی اور اگر گہری نظر سے معائنہ کیا جائے اور سب کاموں کے آخری انجام کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ دنیا کے کاروبار میں بھی حلال و حرام مال برابر نہیں ہوتے، حلال سے جتنے فوائد اور اچھے نتائج اور حقیقی آرام و راحت نصیب ہوتی ہے وہ کبھی حرام سے نہیں ہوتی۔
تفسیر درمنثور میں بحوالہ ابن ابی حاتم نقل کیا ہے کہ زمانہ تابعین کے خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبد العزیز رحمة اللہ علیہ نے جب سابق امراء کے زمانہ کے عائد کئے ہوئے ناجائز ٹیکس بند کئے، اور جن لوگوں سے ناجائز طور پر اموال لئے گئے وہ واپس کئے اور سرکاری بیت المال خالی ہوگیا اور آمدنی بہت محدود ہوگئی، تو ایک صوبہ کے گورنر نے ان کی خدمت میں خط لکھا کہ بیت المال کی آمدنی بہت گھٹ گئی ہے، فکر ہے کہ حکومت کے کاروبار کس طرح چلیں گے، حضرت عمر بن عبد العزیز رحمة اللہ علیہ نے جواب میں یہی آیت تحریر فرما دی، لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيْثِ اور لکھا کہ تم سے پہلے لوگوں نے ظلم و جور کے ذریعہ جتنا خزانہ بھرا تھا تم اس کے بالمقابل عدل و انصاف قائم کرکے اپنے خزانہ کو کم کرلو اور کوئی پرواہ نہ کرو ہماری حکومت کے کام اسی کم مقدار سے پورے ہوں گے۔
یہ آیت اگرچہ ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہے کہ اعداد و شمار کی کمی زیادتی کوئی چیز نہیں، کثرت و قلت سے کسی چیز کی اچھائی یا برائی کو نہیں جانچا جاسکتا، انسانوں کے سر پر ہاتھ شمار کرکے اکیاون (51) ہاتھوں کو اننچاس (49) کے مقابلہ میں حق و صداقت کا معیار نہیں کہا جاسکتا۔
بلکہ اگر دنیا کے ہر طبقہ کے حالات پر ذرا بھی نظر ڈالی جائے تو سارے عالم میں بھلائی کی مقدار اور تعداد کم اور برائی کی تعداد میں کثرت نظر آئے گی، ایمان کے مقابلہ میں کفر، تقویٰ و طہارت اور دیانت و امانت کے مقابلہ میں فسق و فجور، عدل و انصاف کے مقابلہ میں ظلم و جور، علم کے مقابلہ میں جہل، عقل کے مقابلہ میں بےعقلی کی کثرت کا مشاہدہ ہوگا، جس سے اس کا یقین لازمی ہوجاتا ہے کہ کسی چیز یا کسی جماعت کی تعدادی کثرت اس کے اچھے یا حق پر ہونے کی قطعاً دلیل نہیں ہوسکتی، بلکہ کسی چیز کی اچھائی اور بہتری اس چیز اور اس جماعت کے ذاتی حالات و کیفیات پر دائر ہوتی ہے، حالات و کیفیات اچھی ہیں تو وہ اچھی اور بری ہیں تو بری ہیں، قرآن کریم نے اسی حقیقت کو وَلَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيْثِ کے الفاظ میں واضح فرما دیا ہے۔
ہاں عدد کی کثرت کو اسلام نے بھی بعض مواقع میں فیصلہ کن قرار دیا ہے وہ اس جگہ جہاں قوت دلیل اور ذاتی خوبیوں کے موازنہ کا فیصلہ کرنے والا کوئی صاحب اقتدار حاکم نہ ہو، ایسے موقع پر عوام کا جھگڑا چکانے کے لئے عددی کثرت کو ترجیح دے دیجاتی ہے، جیسے نصب امام کا مسئلہ ہے، وہاں کوئی امام و امیر فیصلہ کرنے والا موجود نہیں، اس لئے کثرت رائے کو بعض دفعہ قطع نزاع کے لئے ترجیح دے دیگئی، یہ ہرگز نہیں کہ جس چیز کو زیادہ تعداد کے لوگوں نے اختیار کرلیا وہی چیز حلال اور جائز اور حق ہے۔
آخر آیت میں ارشاد فرمایا فاتَّقُوا اللّٰهَ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ، یعنی اے عقل والو اللہ سے ڈرو، جس میں اشارہ فرما دیا کہ کسی چیز کی تعدادی کثرت کا مرغوب ہونا یا کثرت کو بمقابلہ قلت کے حق و صحیح کا معیار قرار دینا عقلاء کا کام نہیں، اسی لئے عقلاء کو خطاب کرکے ان کو اس غلط رویہ سے روکنے کے لئے فاتقوا اللّٰہ کا حکم دیا گیا۔
Ayahs 5:101–102خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو ایسی (فضول) باتیں مت پوچھو (جن میں احتمال ہو کہ) اگر تم سے ظاہر کردی جاویں تو تمہاری ناگواری کا سبب ہو (یعنی یہ احتمال ہو کہ جواب تمہاری منشاء کے خلاف آیا تو تمہیں ناگوار ہوگا) اور (جن میں یہ احتمال ہو کہ) اگر تم زمانہ نزول قرآن (اور وحی) میں ان باتوں کو پوچھو تو تم سے ظاہر کردی جاویں (یعنی سوال کرنے میں تو یہ دوسرا احتمال ہو کہ جواب مل جائے اور جواب ملنے میں وہ پہلا احتمال ہو کہ ناگوار گذرے، اور یہ دونوں احتمال جو مجموعی طور پر علّت نہی سوال کی ہیں واقعی ہیں پس ایسا سوال ممنوع ہے، خیر) سوالات گذشتہ (جو اس وقت تک کرچکے ہو وہ تو) اللہ تعالیٰ نے معاف کردیئے، (مگر آئندہ مت کرنا) اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے ہیں (اس لئے گذشتہ سوالات معاف کردیئے اور) بڑے حلم والے ہی (اس لئے اگر آئندہ کے خلاف ورزی پر دنیا میں سزا نہ دے تو دھوکہ میں مت پڑجانا کہ آگے بھی کوئی عذاب و سزا نہ ہوگی) ایسی باتیں تم سے پہلے (زمانہ میں) اور (امتوں کے) لوگوں نے بھی (اپنے پیغمبروں سے) پوچھی تھیں پھر (ان کو جواب ملا تو) ان باتوں کا حق نہ بجالائے (یعنی ان جوابوں میں جو متعلق احکام کے تھے ان کے موافق عمل نہ کیا، اور جو متعلق واقعات کے تھے ان سے متاثر نہ ہوئے، پس کہیں تم کو بھی ایسی ہی نوبت نہ پیش آئے، اس لئے بہتری اسی میں ہے کہ ایسے سوالات چھوڑ دو) اللہ تعالیٰ نے نہ بحیرہ کو مشروع کیا ہے اور نہ سائبہ کو اور نہ وصیلہ کو اور نہ حامی کو لیکن جو لوگ کافر ہیں وہ (ان رسوم کے باب میں) اللہ تعالیٰ پر جھوٹ لگاتے ہیں (کہ خدا تعالیٰ ان اعمال سے خوش ہیں) اور اکثر کافر (دین کی) عقل نہیں رکھتے اور (اس سے کام نہیں لیتے بلکہ محض اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی ایسی جہالتیں کرتے ہیں)۔
معارف و مسائل
بے ضرورت سوال کرنے کی ممانعت
ان آیات میں اس بات پر تنبیہ کی گئی ہے کہ بعض لوگوں کو احکام الٓہیہ میں بلاضرورت تدقیق اور بال کی کھال نکالنے کا شوق ہوتا ہے، اور جو احکام نہیں دیئے گئے ان کے متعلق بغیر کسی داعیہ ضرورت کے سوالات کیا کرتے ہیں، اس آیت میں ان کو یہ ہدایت دی گئی کہ وہ ایسے سوالات نہ کریں جن کے نتیجہ میں ان پر کوئی مشقت پڑجائے یا ان کو خفیہ رازوں کے اظہار سے رسوائی ہو۔
شان نزول
ان آیات کا شان نزول مسلم کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ جب حج کی فرضیت نازل ہوئی تو اقرع بن حابس ؓ نے سوال کیا کہ کیا ہر سال ہمارے ذمہ حج فرض ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے ان کے سوال کا جواب نہ دیا، تو مکرر سوال کیا، حضور ﷺ نے پھر بھی سکوت فرمایا، انہوں نے تیسری مرتبہ پھر سوال کیا، تو اس وقت رسول اللہ ﷺ نے عتاب کے ساتھ تنبیہ فرمائی کہ اگر میں تمہارے جواب میں یہ کہہ دیتا کہ ہاں ہر سال حج فرض ہے تو ایسا ہی ہوجاتا اور پھر تم اس کو پورا نہ کرسکتے، اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ جن چیزوں کے متعلق میں تمہیں کوئی حکم نہ دوں ان کو اسی طرح رہنے دو ، ان میں کھود کرید کر کے سوالات نہ کرو، تم سے پہلے بعض امتیں اسی کثرت سوال کے ذریعہ ہلاک ہوچکی ہیں، کہ جو چیزیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے فرض نہیں کی تھیں سوال کر کر کے ان کو فرض کرا لیا، اور پھر اس کی خلاف ورزی میں مبتلا ہوگئے، تمہارا وظیفہ یہ ہونا چاہئے کہ جس کام کا میں حکم دوں اس کو مقدور بھر پورا کرو اور جس چیز سے منع کردوں اس کو چھوڑ دو (مراد یہ ہے کہ جن چیزوں سے سکوت کیا جائے ان کے متعلق کھود کرید نہ کرو)۔
آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت اور سلسلہ وحی ختم ہے
اس آیت میں ایک ضمنی جملہ یہ بھی ارشاد فرمایا گیا کہ وَاِنْ تَسْــــَٔـلُوْا عَنْهَا حِيْنَ يُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ ۭعَفَا اللّٰهُ عَنْهَا ۭ، یعنی نزول قرآن کے زمانہ میں اگر تم ایسے سوالات کرو گے تو بذریعہ وحی ان کا جواب آجائے گا، اس میں نزول قرآن کے ساتھ مقیّد کرکے اس کی طرف اشارہ فرما دیا کہ نزول قرآن کی تکمیل کے بعد نبوت وحی کا سلسلہ بند کردیا جائے گا۔
ختم نبوت اور سلسلہ وحی کے انقطاع کے بعد ایسے سوالات کا اگرچہ یہ اثر نہ ہوگا کہ نئے احکام آجائیں جو چیزیں فرض نہیں ہیں وہ فرض ہوجائیں، یا بذریعہ وحی کسی کا خفیہ راز آشکارا ہوجائے، لیکن بےضرورت سوالات گھڑ گھڑ کر ان کی تحقیقات میں پڑنا یا بےضرورت چیزوں کے متعلق سوالات کرنا بعد انقطاع نبوت کے بھی مذموم اور ممنوع ہی رہے گا، کیونکہ اس میں اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کرنا ہے، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ، یعنی مسلمان ہونے کی ایک خوبی یہ ہے کہ آدمی فضول باتوں کو چھوڑ دیتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ بہت سے مسلمان جو بالکل فضول چیزوں کی تحقیق میں لگے رہتے ہیں کہ موسیٰ ؑ کی والدہ کا کیا نام تھا، اور نوح ؑ کی کشتی کا طول و عرض کیا تھا جن کا کوئی اثر انسان کے عمل پر نہیں، ایسے سوالات کرنا مذموم ہے، خصوصاً جبکہ یہ بھی معلوم ہو کہ ایسے سوالات کرنے والے حضرات اکثر ضروری اور اہم مسائل دین سے بیخبر ہوتے ہیں، فضول کاموں میں پڑنے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ آدمی ضروری کاموں سے محروم ہوجاتا ہے، رہا یہ معاملہ کہ حضرات فقہاء نے خود ہی بہت سی مفروضہ صورتیں مسائل کی نکال کر اور سوالات قائم کرکے ان کے احکام بیان کردیئے ہیں سو یہ بےضرورت چیز نہ تھی، آنے والے واقعات نے بتلا دیا کہ آئندہ نسلوں کو ان کی ضرورت تھی، اس لئے وہ فضول اور لایعنی سوالات نہ تھے، اسلام کی تعلیمات میں یہ بھی ایک تعلیم ہے کہ علم ہو یا عمل کوئی کام ہو یا کلام جب تک اس میں کوئی دینی یا دنیوی فائدہ پیش نظر نہ ہو اس میں لگ کر وقت ضائع نہ کریں۔
Ayah 5:103بحیرہ سائبہ وغیرہ کی تعریف
بحیرہ، سائبہ وصیلہ، حامی، یہ سب زمانہ جاہلیت کے رسوم و شعائر سے متعلق ہیں، مفسرین نے ان کی تفسیر میں بہت اختلاف کیا ہے، ممکن ہے ان میں سے ہر ایک لفظ کا اطلاق مختلف صورتوں پر ہوتا ہو، ہم صرف سعید بن المسیب کی تفسیر صحیح بخاری سے نقل کرتے ہیں۔
بحیرہجس جانور کا دودھ بتوں کے نام پر وقف کردیتے تھے، کوئی اپنے کام میں نہ لاتا تھا۔
سائبہجو جانور بتوں کے نام پر ہمارے زمانہ کے سانڈ کی طرح چھوڑ دیا جاتا تھا۔
حامینر اونٹ جو ایک خاص عدد سے جفتی کرچکا ہو، اسے بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے۔
وصیلہجو اونٹنی مسلسل مادہ بچہ جنے درمیان میں نر بچہ پیدا نہ ہو اسے بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے۔
علاوہ اس کے کہ یہ چیزیں شعائر شرک میں سے تھیں جس جانور کے گوشت یا دودھ یا سواری وغیرہ سے منتفع ہونے کو حق تعالیٰ نے جائز رکھا اس کی حلت و حرمت پر اپنی طرف سے قیود لگانا گویا اپنے لئے منصب تشریع تجویز کرنا تھا، اور بڑی ستم ظریفی یہ تھی کہ اپنی ان مشرکانہ رسوم کو حق تعالیٰ کی خوشنودی اور قربت کا ذریعہ تصور کرتے تھے، اس کا جواب دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہرگز یہ رسوم مقرر نہیں کیں ان کے بڑوں نے خدا پر یہ بہتان باندھا، اور اکثر بےعقل عوام نے اسے قبول کرلیا، الغرض یہاں یہ تنبیہ کی گئی کہ جس طرح فضول و بےکار سوالات کرکے احکام شرعیہ میں تنگی اور سختی کرنا جرم ہے اس سے کہیں بڑھ کر یہ جرم ہے کہ بدون حکم شارع کے محض اپنی آراء و ہواء سے حلال و حرام تجویز کر لئے جائیں (فوائد عثمانی رحمة اللہ علیہ)
Ayah 5:104ربط آیات
اوپر رسم پرست کفار کی ایک جہالت کا ذکر تھا، اور ایسی ایسی جہالتیں ان کی بہ کثرت تھیں، جن کو سن کر مؤمنین کو رنج اور افسوس ہوتا تھا، اس لئے آگے مؤمنین کو اس کے متعلق ارشاد ہے کہ تم کیوں اس غم میں پڑے ہو، تم کو اپنی اصلاح کا اور دوسرے کی اصلاح میں بقدر وسعت وقدرت کوشش کرنے کا حکم ہے، باقی کوشش پر ثمرہ مرتب ہونا تمہارے اختیار سے خارج ہے، اس لئے ”کار خودکن کار بےگانہ مکن“ پر عمل کرو۔
خلاصہ تفسیر
جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو احکام نازل فرمائے ہیں ان کی طرف اور رسول ﷺ کی طرف (جن پر وہ احکام نازل ہوئے ہیں) رجوع کرو (جو امر اس سے حق ثابت ہو حق سمجھو اور جو باطل ہو باطل سمجھو) تو کہتے ہیں کہ ہم کو (ان احکام اور رسول ﷺ کی ضرورت نہیں ہم کو) وہی (طریقہ) کافی ہے جس پر ہم نے اپنے بڑوں کو دیکھا ہے (حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ) کیا (وہ طریقہ ان کے لئے ہر حال میں کافی ہے) اگرچہ ان کے بڑے (دین کی) نہ کچھ سمجھ رکھتے ہوں اور نہ (کسی آسمانی کتاب کی) ہدایت رکھتے ہوں، اے ایمان والو اپنی (اصلاح کی) فکر کرو (اصل کام تمہارے ذمہ یہ ہے، باقی دوسروں کی اصلاح کے متعلق یہ ہے کہ جب تم اپنی طرف سے اپنی قدرت کے مطابق اصلاح کی سعی کر رہے ہو مگر دوسرے پر اثر نہیں ہوتا تو تم اثر مرتب نہ ہونے کی فکر میں نہ پڑو کیونکہ) جب تم (دین کی) راہ پر چل رہے ہو (اور واجبات دین کو ادا کر رہے ہو اس طرح کہ اپنی بھی اصلاح کر رہے ہو اور دوسروں کی اصلاح میں بھی کوشش کر رہے ہو) تو جو شخص (باوجود تمہاری سعی اصلاح کے بھی) گمراہ رہے تو اس (کے گمراہ رہنے) سے تمہارا کوئی نقصان نہیں (اور جیسا اصلاح وغیرہ میں حد سے زیادہ فکر و غم سے منع کیا جاتا ہے ایسے ہی ہدایت سے ناامید ہونے کی صورت میں غصہ میں آکر دنیا ہی میں ان پر سزا نازل ہونے کی تمنا بھی ممنوع ہے، کیونکہ حق و باطل کا مکمل فیصلہ تو آخرت میں ہوگا، چنانچہ) اللہ ہی کے پاس تم سب کو جانا ہے پھر وہ تم سب کو بتلا دیں گے جو کچھ تم سب کیا کرتے تھے (اور جتلا کر حق پر ثواب اور باطل پر عذاب کا حکم نافذ فرما دیں گے)۔
معارف و مسائل
آیات کا شان نزول
جاہلیت کی رسموں میں ایک تقلید آباء بھی تھی، جس نے ان کو ہر برائی میں مبتلا اور ہر بھلائی سے محروم رکھا تھا، تفسیر درمنثور میں بحوالہ ابن ابی حاتم نقل کیا ہے کہ ان میں سے کوئی خوش نصیب اگر حق بات کو مان کر مسلمان ہوجاتا تو اس کو یوں عار دلائی جاتی تھی کہ تو نے اپنے باپ دادوں کو بیوقوف ٹھہرایا، کہ ان کے طریق کو چھوڑ کر دوسرا طریق اختیار کرلیا۔ ان کی اس گمراہی در گمراہی پر یہ آیت نازل ہوئی، وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یعنی جب ان کو کہا جاتا کہ تم اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حقائق اور احکام اور رسول کی طرف رجوع کرو جو ہر حیثیت سے حکمت و مصلحت اور تمہارے لئے صلاح و فلاح کے ضامن ہیں تو ان کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں ہوتا کہ ہم کو تو وہی طریقہ کافی ہے، جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو دیکھا۔
یہ وہ شیطانی استدلال ہے جس نے لاکھوں انسانوں کو معمولی سمجھ بوجھ اور علم و ہنر رکھنے کے باوجود گمراہ کیا، قرآن کریم نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایااَوَلَوْ كَانَ اٰبَاۗؤ ُ هُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يَهْتَدُوْنَ ، غور کرنے والوں کے لئے قرآن کے اس ایک جملہ نے کسی شخص یا جماعت کی اقتداء کرنے کا ایک صحیح اصول بیان کرکے اندھوں کے لئے بینائی کا اور جاہل و غافل کے لئے انکشاف حقیقت کا مکمل سامان فراہم کردیا ہے، وہ یہ کہ یہ بات تو معقول ہے کہ نہ جاننے والے جاننے والوں کی، ناواقف لوگ واقف کاروں کی پیروی کریں، جاہل آدمی عالم کی اقتداء کرے لیکن یہ کوئی معقول بات نہیں کہ علم و عقل اور ہدایت کے معیار سے ہٹ کر اپنے باپ دادا یا کسی بھائی بند کی اقتداء کو اپنا طریقہ کار بنا لیا جائے، اور بغیر یہ جانے ہوئے کہ یہ مقتداء خود کہاں جا رہا ہے، اور ہمیں کہاں پہنچائے گا اس کے پیچھے لگ لیا جائے۔
اسی طرح بعض لوگ کسی کی اتباع و اقتداء کا معیار لوگوں کی بھیڑ کو بنا لیتے ہیں جس طرف یہ بھیڑ دیکھی اسی طرف چل پڑے، یہ بھی ایک نامعقول حرکت ہے، کیونکہ اکثریت تو ہمیشہ دنیا میں بیوقوفوں یا کم عقلوں کی اور عمل کے لحاظ سے بدعملوں کی رہتی ہے، اس لئے لوگوں کی بھیڑ حق و ناحق یا بھلے برے کی تمیز کا معیار نہیں ہوسکتی۔
نااہل کو مقتداء بنانا ہلاکت کو دعوت دینا ہے
قرآن کریم کے اس جملہ نے سب کو ایک واضح حکمت کا سبق دیا کہ ان میں سے کوئی چیز مقتداء و پیشواء بنانے کے لئے ہرگز کافی نہیں، بلکہ ہر انسان پر سب سے پہلے تو یہ لازم ہے کہ اپنی زندگی کا مقصد اور اپنے سفر کا رخ متعین کرے، پھر اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے یہ دیکھے کہ کون ایسا انسان ہے جو اس مقصد کا راستہ جاننے والا بھی ہو، اور اس راستہ پر چل بھی رہا ہو، جب کوئی ایسا انسان مل جائے تو بیشک اس کے پیچھے لگ لینا اس کو منزل مقصود پر پہنچا سکتا ہے، یہی حقیقت ہے ائمہ مجتہدین کی تقلید کی کہ وہ دین کو جاننے والے بھی ہیں اور اس پر عمل پیرا بھی، اس لئے نہ جاننے والے ان کا اتباع کرکے دین کے مقصد یعنی اتباع خدا اور رسول ﷺ کو حاصل کرسکتے ہیں اور جو گم کردہ راہ ہو، منزل مقصود کو خود ہی نہ جانتا ہو، یا جان بوجھ کر منزل کے خلاف سمت چل رہا ہو اس کے پیچھے چلنا ہر عقل مند کے نزدیک اپنی سعی و عمل کو ضائع کرنا، بلکہ اپنی ہلاکت کو دعوت دینا ہے، اس علم و حکمت اور روشن خیالی کے زمانہ میں بھی افسوس ہے کہ لکھے پڑھے ہوش و عقل والے لوگ اس حقیقت کو نظر انداز کئے ہوئے ہیں اور آج کی بربادی اور تباہی کا سب سے بڑا سبب نااہل اور غلط مقتداؤں اور لیڈروں کے پیچھے چلنا ہے۔
اقتداء کا معیار
قرآن کریم کے اس جملہ نے اقتداء کا نہایت معقول اور واضح معیار دو چیزوں کو بنایا ہے، علم اور اہتداء، علم سے مراد منزل مقصود اور اس تک پہنچنے کے طریقوں کا جاننا ہے اور اہتداء سے مراد اس مقصد کی راہ پر چلنا، یعنی صحیح علم پر عمل مستقیم۔
خلاصہ یہ ہوا کہ جس شخص کو مقتداء بناؤ تو پہلے یہ دیکھو کہ جس مقصد کے لئے اس کو مقتداء بنایا ہے وہ اس مقصد اور اس کے طریق سے پوری طرح واقف بھی ہے یا نہیں، پھر یہ دیکھو کہ وہ اس کی راہ پر چل بھی رہا ہے ؟ اور اس کا عمل اپنے علم کے مطابق ہے یا نہیں ؟
غرض کسی کو مقتداء بنانے کے لئے علم صحیح اور عمل مستقیم کے معیار سے جانچنا ضروری ہے، محض باپ دادا ہونا یا بہت سے لوگوں کا لیڈر ہونا، یا صاحب مال و دولت ہونا یا صاحب حکومت و سلطنت ہونا ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جس کو معیار اقتداء سمجھا جائے۔
کسی پر تنقید کرنے کا مؤ ثر طریقہ
قرآن کریم نے اس جگہ تقلید آبائی کے خوگر لوگوں کی غلطی کو واضح فرمایا، اور اس کے ساتھ ہی کسی دوسرے پر تنقید اور اس کی غلطی ظاہر کرنے کا ایک خاص مؤ ثر طریقہ بھی بتلا دیا، جس سے مخاطب کی دل آزاری یا اس کو اشتعال نہ ہو، کیونکہ دین آبائی کی تقلید کرنے والوں کے جواب میں یوں نہیں فرمایا کہ تمہارے باپ دادا جاہل یا گمراہ ہیں، بلکہ ایک سوالیہ عنوان بنا کر ارشاد فرمایا کہ کیا باپ دادا کی پیروی اس حالت میں بھی کوئی معقول بات ہوسکتی ہے جب کہ باپ دادا، نہ علم رکھتے ہوں نہ عمل۔
Ayah 5:105اصلاح خلق کی فکر کرنے والوں کو ایک تسلی
دوسری آیت میں اصلاح خلق کی فکر میں سب کچھ قربان کرنے والے مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ جب تم نے حق کی تبلیغ وتعلیم میں مقدوربھر کوشش کرلی، اور نصیحت و خیر خواہی کا حق ادا کردیا، تو پھر بھی اگر کوئی گمراہی پر جما رہے تو تم اس کی فکر میں نہ پڑو، اس حالت میں دوسروں کی گمراہی یا غلط کاری سے تمہارا کوئی نقصان نہ ہوگا، ارشاد فرمایا
يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ، یعنی اے مسلمانوں تم اپنی فکر کرو، جب تم راہ پر چل رہے تو جو شخص گمراہ رہے تو اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔
اس آیت کے ظاہری الفاظ سے چونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہر انسان کو صرف اپنے عمل اور اپنی اصلاح کی فکر کافی ہے، دوسرے کچھ بھی کرتے رہیں اس پر دھیان دینے کی ضرورت نہیں، اور یہ بات قرآن کریم کی بیشمار تصریحات کے خلاف ہے، جن میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اسلام کا اہم فریضہ اور اس امت کی امتیازی خصوصیات قرار دیا ہے، اسی لئے اس آیت کے نازل ہونے پر کچھ لوگوں کو شبہات پیش آئے، رسول کریم ﷺ سے سوالات کئے گئے، آپ ﷺ نے توضیع فرمائی، کہ یہ آیت احکام امر بالمعروف کے منافی نہیں، امر بالمعروف کو چھوڑ دو گے تو مجروموں کے ساتھ تم بھی ماخوذ ہوگے، اسی لئے تفسیر بحر محیط میں حضرت سعید ابن جبیر رحمة اللہ علیہ سے آیت کی یہ تفسیر نقل کی ہے کہ تم اپنے واجبات شرعیہ کو ادا کرتے رہو جن میں جہاد اور امر بالمعروف بھی داخل ہے، یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی جو لوگ گمراہ رہیں تو تم پر کوئی نقصان نہیں، قرآن کریم کے الفاظ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ میں غور کریں، تو یہ تفسیر خود واضح ہوجاتی ہے، کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب تم راہ پر چل رہے ہو تو دوسروں کی گمراہی تمہارے لئے مضر نہیں، اور ظاہر ہے کہ جو شخص امر بالمعروف کے فریضہ کو ترک کردے وہ راہ پر نہیں چل رہا ہے۔
تفسیر درمنثور میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا واقعہ نقل کیا ہے کہ ان کے سامنے کسی نے یہ سوال کیا کہ فلاں فلاں حضرات میں باہمی سخت جھگڑا ہے، ایک دوسرے کو مشرک کہتے ہیں، تو ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ کیا تمہارا خیال ہے کہ تمہیں کہہ دوں گا کہ جاؤ ان لوگوں سے قتال کرو، ہرگز نہیں، جاؤ ان کو نرمی کے ساتھ سمجھاؤ، قبول کریں تو بہتر اور نہ کریں تو ان کی فکر چھوڑ کر اپنی فکر میں لگ جاؤ، پھر یہی آیت آپ نے جواب کی شہادت میں تلاوت فرمائی۔
گناہوں کی روک تھام کے بارے میں حضرت صدیق اکبر ؓ کا ایک خطبہ
آیت کے ظاہری الفاظ سے سرسری نظر میں جو شبہ ہوسکتا تھا اس کے پیش نظر حضرت صدیق اکبر ؓ نے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کو بےموقع استعمال کرتے ہو، کہ امر بالمعروف کی ضرورت نہیں خوب سمجھ لو کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جو لوگ کوئی گناہ ہوتا ہوا دیکھیں اور (مقدوربھر) اس کو روکنے کی کوشش نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرموں کے ساتھ ان دوسرے لوگوں کو بھی عذاب میں پکڑلے۔
یہ روایت ترمذی، ابن ماجہ میں موجود ہے اور ابوداؤد کے الفاظ میں اس طرح ہے کہ جو لوگ کسی ظالم کو ظلم کرتے ہوئے دیکھیں اور اس کو ظلم سے (اپنی قدرت کے موافق) نہ روکیں تو اللہ تعالیٰ سب کو عذاب میں پکڑ لیں گے۔
معروف اور منکر کے معنی
گزشتہ تفصیل سے یہ بات معلوم ہوچکی کہ ہر مسلمان پر یہ لازم ہے کہ وہ منکر یعنی ناجائز امور کی روک تھام کرے یا کم از کم ان سے اظہار نفرت کرے، اب یہ معلوم کیجئے کہ معروف اور منکر کس کو کہتے ہیں۔
لفظ معروف، معرفہ سے اور منکر انکار سے ماخوذ ہے، معرفہ کہتے ہیں کسی چیز کو غور وفکر کرکے سمجھنے یا پہچاننے کو، اس کے بالمقابل انکار کہتے ہیں نہ سمجھنے یا نہ پہچاننے کو، یہ دونوں لفظ متقابل سمجھے جاتے ہیں، قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد ہے(آیت) یعرفون نعمت اللّٰہ ثم ینکرونھا، یعنی اللہ کی قدرت کاملہ کے مظاہر دیکھ کر اس کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں مگر پھر ازروئے عناد انکار کرتے ہیں، گویا ان نعمتوں کو جانتے نہیں، اس سے معلوم ہوا کہ لغوی معنی کے اعتبار سے معروف و منکر کے یہ معنی بیان فرمائے ہیں کہ معروف ہر اس فعل کو کہا جاتا ہے جس کا مستحسن یعنی اچھا ہونا عقل یا شرع سے پہچانا ہوا ہو، اور منکر ہر اس فعل کا نام ہے جو ازروئے عقل و شرع اوپر اور نہ پہچانا ہوا ہو، یعنی برا سمجھا جاتا ہو، اس لئے امر بالمعروف کے معنی اچھے کام کی طرف بلانے کے اور نہی عن المنکر کے معنی برے کام سے روکنے کے ہوگئے۔
ائمہ مجتہدین کے مختلف اقوال میں کوئی منکر شرعی نہیں ہوتا
لیکن اس جگہ گناہ وثواب یا اطاعت و معصیت کے بجائے معروف و منکر کا لفظ استعمال کرنے میں شاید اس طرف اشارہ ہو کہ وہ دقیق اور اجتہادی مسائل جن میں قرآن و سنت کے اجمال یا ابہام کی وجہ سے دو رائیں ہو سکتی ہیں، اور اسی بناء پر ان میں فقہاء امت کے اقوال مختلف ہیں، وہ اس دائرہ سے خارج ہیں، ائمہ مجتہدین جن کی شان اجتہاد علماء امت میں مسلم ہے، اگر کسی مسئلہ میں ان کے دو مختلف قول ہوں تو ان میں سے کسی کو بھی منکر شرعی نہیں کہا جاسکتا۔ بلکہ اس کی دونوں جانبیں معروف میں داخل ہیں، ایسے مسائل میں ایک رائے کو راجح سمجھنے والے کے لئے یہ حق نہیں ہے کہ دوسرے پر ایسا انکار کرے جیسا کہ گناہ پر کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ صحابہ وتابعین میں بہت سے اجتہادی اختلافات اور متضاد اقوال کے باوجود یہ کہیں منقول نہیں کہ وہ ایک دوسرے پر ایسا انکار کرے جیسا کہ کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ صحابہ وتابعین میں بہت سے اجتہادی اختلافات اور متضاد اقوال کے باوجود یہ کہیں منقول نہیں کہ وہ ایک دوسرے پر فاسق یا گنہگار ہونے کا فتویٰ لگاتے ہوں، بحث و تمحیص اور مناظرے و مکالمے سب کچھ ہوتے تھے، اور ہر ایک اپنی رائے کی ترجیح کی وجوہ بیان کرتا اور دوسرے پر اعتراض کرتا تھا۔ لیکن کوئی کسی کو اس اختلاف کی وجہ سے گنہگار نہ سمجھتا تھا۔
خلاصہ یہ ہے کہ اجتہادی اختلاف کے موقع پر یہ تو ہر ذی علم کو اختیار ہے کہ جس جانب کو راجح سمجھے اسے اختیار کرے، لیکن دوسرے کے فعل کو منکر سمجھ کر اس پر انکار کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے، اس سے واضح ہوا کہ اجتہادی مسائل میں جنگ و جدل یا منافرت پھیلانے والے مقالات و مضامین امر بالمعروف یا نہی عن المنکر میں داخل نہیں اس مسائل کو محاذ جنگ بنانا صرف ناواقفیت یا جہالت ہی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
Ayahs 5:106–108ربط آیات
اوپر مصالح دینیہ کے متعلق احکام تھے، آگے مصالح دنیویہ کے متعلق بعض احکام کا ذکر کیا گیا ہے، اور اس میں اشارہ کردیا کہ حق تعالیٰ اپنی رحمت سے مثل اصلاح معاد کے اپنے بندوں کی معاش کی اصلاح بھی فرماتے ہیں (بیان القرآن)
شان نزول
آیات مذکورہ کے نزول کا واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص ”بُدیل“ نامی جو مسلمان تھا دو شخصوں تمیم و عدی کے ساتھ جو اس وقت نصرانی تھے۔ بغرض تجارت ملک شام کی طرف گیا، شام پہنچ کر بدیل بیمار ہوگیا، اس نے اپنے مال کی فہرست لکھ کر اسباب میں رکھ دی، اور اپنے دونوں رفیقوں کو اطلاع نہ کی، مرض جب زیادہ بڑھا، تو اس نے دونوں نصرانی رفقاء کو وصیت کی کہ کل سامان میرے وارثوں کو پہنچا دینا۔ انہوں نے سب سامان لاکر وارثوں کے حوالہ کردیا، مگر چاندی کا ایک پیالہ جس پر سونے کا ملمع یا نقش ونگار تھا اس میں سے نکال لیا، وارثوں کو فہرست اسباب میں سے دستیاب ہوئی۔ انہوں نے اوصیا سے پوچھا کہ میّت نے کچھ مال فروخت کیا تھا یا کچھ زیادہ بیمار رہا کہ معالجہ وغیرہ میں خرچ ہوا ہو۔ ان دونوں نے اس کا جواب نفی میں دیا، آکر معاملہ نبی کریم ﷺ کی عدالت میں پیش ہوا، چونکہ وارثوں کے پاس گواہ نہ تھے تو ان دونوں نصرانیوں سے قسم لی گئی کہ ہم نے میّت کے مال میں کسی طرح کی خیانت نہیں کی، نہ کوئی چیز اس کی چھپائی، آخر قسم پر فیصلہ ان کے حق میں کردیا گیا، کچھ مدت کے بعد ظاہر ہوا کہ وہ پیالہ ان دونوں نے مکہ میں کسی سنار کے ہاتھ فروخت کیا ہے، جب سوال ہوا تو کہنے لگے کہ ہم نے میّت سے خرید لیا تھا، چونکہ خریداری کے گواہ موجود نہ تھے اس لئے ہم نے پہلے اس کا ذکر نہیں کیا، مبادا ہماری تکذیب کردی جائے۔
میّت کے وارثوں نے پھر نبی کریم ﷺ کی طرف رجوع کیا، اب پہلی صورت کے برعکس اوصیا خریداری کے مدعی اور وارث منکر تھے، شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے وارثوں میں سے دو شخصوں نے جو میّت سے قریب تر تھے قسم کھائی کہ پیالہ میّت کی ملک تھا، اور یہ دونوں نصرانی اپنی قسم میں جھوٹے ہیں۔ چناچہ جس قیمت پر انہوں نے فروخت کیا تھا (ایک ہزار درہم پر) وہ وارثوں کو دلائی گئی۔
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو تمہارے آپس (کے معاملات) میں (مثلاً ورثا کو مال سپرد کرنے کے لئے) دو شخص وصی ہونا مناسب ہے (گو بالکل وصی نہ بنانا بھی جائز ہے) جب تم میں سے کسی کو موت آنے لگے (یعنی) جب وصیت کرنے کا وقت ہو (اور) وہ دو شخص ایسے ہوں کہ دیندار ہوں اور تم میں سے (یعنی مسلمانوں میں سے) ہوں یا غیر قوم کے دو شخص ہوں اگر (مسلمان نہ ملیں مثلاً) تم کہیں سفر میں گئے ہو پھر تم پر واقعہ موت کا پڑجائے (اور یہ سب امور واجب نہیں، مگر مناسب اور بہتر ہیں، ورنہ جس طرح بالکل وصی نہ بنانا جائز ہے اسی طرح اگر ایک وصی ہو یا عادل نہ ہو یا حضر میں غیر مسلم کو بنا دے سب جائز ہے، پھر ان اوصیاء کا یہ حکم ہے کہ) اگر (کسی وجہ سے ان پر) تم کو (اے ورثاء) شبہ ہو تو (اے احکام مقدمہ اس طرح فیصل کرو کہ اول ورثاء سے چونکہ وہ مدعی ہیں اس امر پر گواہ طلب کرلو کہ انہوں نے فلاں چیز مثلاً جام لے لیا ہے، تو جھوٹی قسم کھانے والا کچھ نہ کچھ شرماتا ہے، نیز وقت بھی معظم ہے، کچھ اس کا بھی خیال ہوتا ہے، اور مقصود اس سے تغلیظ یمین کی ہے، زمان متبرک و مکان اجتماع خلق کے ساتھ) پھر دونوں (اس طرح) خدا کی قسم کھا دیں کہ (صیغہ حلف کے ساتھ یہ کہیں کہ) ہم اس قسم کے عوض کوئی (دنیا) کا نفع نہیں لینا چاہتے (کہ دنیا کا نفع حاصل کرنے کے لئے قسم میں سچ بولنے کو چھوڑ دیں) اگرچہ (اس واقعہ میں ہمارا) کوئی قرابت دار بھی (کیوں نہ) ہوتا (جس کی مصلحت کو اپنی مصلحت سمجھ کر ہم جھوٹی قسم کھاتے اور اب تو کوئی ایسا بھی نہیں، جب دوہری مصلحتوں کی وجہ سے بھی ہم جھوٹ نہ بولتے تو ایک مصلحت کے لئے تو ہم کیوں ہی جھوٹ بولیں گے) اور اللہ کی (طرف سے جس) بات (کہنے کا حکم ہے اس) کو ہم پوشیدہ نہ کریں گے (ورنہ) ہم (اگر ایسا کریں تو) اس حالت میں سخت گنہگار ہوں گے (یہ تغلیظ قولی ہے جس سے مقصود استحضار ہے وجوب صدق و حرمت کذب و عظمت الٓہیہ کا جو مانع ہو دروغ حلفی سے، اب ان دونوں تغلیظ کے بعد اگر حاکم کی رائے ہو تو بلا تغلیظ اصل مضمون کی قسم کھاویں، مثلاً ہم کو میّت نے پیالہ نہیں دیا، اور اس پر مقدمہ فیصل کردینا چاہئے، چناچہ اس آیت کے واقعہ میں ایسا ہی ہوا) پھر (اس کے بعد) اگر (کسی طریق سے ظاہراً) اس کی اطلاع ہو کہ وہ دونوں وصی کسی گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں (مثلاً واقعہ آیت میں جس کو پہلے ذکر کردیا گیا ہے، جب پیالہ مکہ میں ملا اور دونوں وصیوں نے دریافت کرنے پر میّت سے خریدنے کا دعویٰ کیا جس سے میّت سے لے لینے کا اقرار لازم آتا ہے۔ اور وہ ان کے پہلے قول کا مخالف ہے، جس میں مطلقاً لینے ہی سے انکار کیا تھا، چونکہ اقرار بالمضر حجت ہے، اس لئے ظاہراً ان کا خائن اور کاذب ہونا معلوم ہوا) تو (ایسی صورت میں مقدمہ کا رخ بدل جائے گا، وصی جو کہ پہلے مدعا علیہ تھے اب خریدنے کے مدعی ہوگئے اور ورثاء جو کہ پہلے مدعی خیانت کے تھے اب مدعا علیہ ہوگئے، اس لئے اب فیصلہ کی یہ صورت ہوگئی کہ اول وصیوں سے گواہ خریدنے کے طلب کئے جائیں، اور جب وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو) ان (وارث) لوگوں میں سے جن کے مقابلہ میں (ان اوصیاء کی جانب سے) گناہ (مذکور) کا ارتکاب ہوا تھا اور (جو کہ شرعاً مستحق میراث ہوں مثلاً صورت واقعہ آیت میں) دو شخص (تھے) جو سب (ورثہ) میں باعتبار (استحقاق میراث) قریب تر ہیں جہاں (حلف کے لئے) وہ دونوں (اس طرح) خدا کی قسم کھاویں کہ (صیغہ حلف کے ساتھ یہ کہیں کہ) بالیقین ہماری یہ قسم (بوجہ اس کے کہ بالکل اشتباہ سے ظاہراً و حقیقتا پاک ہے) ان دونوں (اوصیاء) کی اس قسم سے زیادہ راست ہے (کیونکہ اس کی حقیقت کا گو ہم کو علم نہیں، لیکن ظاہراً تو وہ مشتبہ ہوگئی) اور ہم نے (حق سے) ذرا تجاوز نہیں کیا (ورنہ) ہم (اگر ایسا کریں تو) اس حالت میں سخت ظالم ہوں گے (کیونکہ پرایا مال جان بوجھ کر بلا اجازت لے لینا ظلم ہے، یہ بھی تغلیظ ہے، جو حاکم کی رائے پر ہے، پھر اصل مضمون پر قسم لی جائے، جس کا صیغہ بوجہ اس کے کہ فعل غیر پر ہے یہ ہوگا کہ خدا کی قسم ہمارے علم میں میّت نے ان مدعیوں کے ہاتھ جام فروخت نہیں کیا، اور چونکہ علم کی واقعیت و عدم واقعیت کی کوئی ظاہری سبیل نہیں ہوسکتی، اس لئے اس کی واقعیت پر زیادہ موکد قسم لی گئی، جیسا لفظ احق دال ہے، جس کا حاصل یہ ہوا کہ اس کا مدار چونکہ میرے ہی اوپر ہے اس لئے قسم کھاتا ہوں کہ جیسا اس میں کذب ظاہری کا ثبوت نہیں ہوسکتا اسی طرح حقیقت میں کذب بھی نہیں ہے، اور یہ قرینہ مفید ہے کہ یہاں حلف علم پر ہے، اور چونکہ اس کا کذب بلا اقرا کبھی ثابت نہیں ہوسکتا، اس لئے اس میں جو حق تلفی ہوگی وہ اشد درجہ کا ظلم ہوگا، عجب نہیں کہ یہاں ظالمین اس لئے کہا گیا ہو) یہ (قانون جو مجموعہ آیتین میں مذکور ہوا) بہت قریب ذریعہ ہے اس امر کا کہ وہ (اوصیاء) لوگ واقعہ کو ٹھیک طور پر ظاہر کریں (اگر سپردگی مال زائد کی نہیں ہوئی قسم کھالیں، اور اگر ہوئی ہے تو گناہ سے ڈر کر انکار کردیں، یہ حکمت تو تحلیف اوصیاء میں ہے) یا اس بات سے ڈر (کر قسم کھانے سے رک) جائیں کہ ان سے قسم لینے کے بعد (ورثا پر) قسمیں متوجہ کی جائیں گی (پھر ہم کو خفیف ہونا پڑے گا، یہ حکمت تحلیف ورثا میں ہے، اور ان سب شقوق میں حق دار کو اس کا حق پہنچایا ہے کہ جو مشروع و مطلوب ہے، کیونکہ اگر تخلیف اوصیاء مشروع نہ ہوتا اور اوصیاء مال کے سپرد کرنے میں سچے ہوتے تو ان کی تہمت رفع کرنے کا کوئی طریقہ نہ ہوتا۔ اور اگر وہ چھوٹے ہوتے تو ورثاء کے اثباتِ حق کا کوئی طریقہ نہ ہوتا۔ اور اب سچے ہونے کے وقت براءة کا حق ثابت ہوجاتا ہے، اور اگر تحلیف ورثاء مشروع نہ ہوتا اور شرعاً انکا حق ہوتا تو اثباتِ حق کی کوئی صورت نہ تھی۔ اور اگر شرعاً انکا حق نہ ہوتا تو اوصیاء کے اثباتِ حق کا کوئی طریقہ نہ تھا، اور اب ورثاء کا حق ہونے کے وقت ان کا اثباتِ حق ہوسکتا ہے، اور حق نہ ہونے کے وقت قسم کے انکار سے اوصیاء کا حق ثابت ہوجائے گا۔ پس دو شقیں تحلیف ورثاء کی حکمت میں ہیں، اور (آیت) یاتوا بالشھادة۔ دونوں کو شامل ہے اور دو شقیں تحلیف ورثاء کی حکمت میں ہیں، جن میں سے دوسری شق تو تحلیف اوصیاء کی پہلی شق میں متداخل ہے اور پہلی شق او یخافوا کی مدلول ہے، پس مجموعہ ہر دو تحلیف میں سب شقوق کی رعایت ہوگئی) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو (اور معاملات و حقوق میں جھوٹ مت بولو) اور (ان کے احکام کو) سنو (یعنی مانو) اور (اگر خلاف کرو گے تو فاسق ہوجاؤ گے) اللہ تعالیٰ فاسق لوگوں کو (قیامت کے روز فرمانبرداروں کے درجات کی طرف) رہنمائی نہ کریں گے (بلکہ نجات پانے کے وقت بھی ان سے کم رہیں گے تو ایسا خسارہ کیوں گوارا کرتے ہو)۔
معارف و مسائل
مسئلہ 1: میّت جس شخص کو مال سپرد کرکے اس کے متعلق کسی کو دینے دلانے کیلئے کہہ جاوے وہ وصی ہے، اور وصی ایک شخص بھی ہوسکتا ہے، اور زیادہ بھی۔
مسئلہ 2: وصی کا مسلمان اور عادل ہونا خواہ حالت سفر ہو یا حضر افضل ہے لازم نہیں۔
مسئلہ 3: نزاع میں جو امر زائد کا مثبت ہو وہ مدعی اور دوسرا مدعا علیہ کہلاتا ہے۔
مسئلہ 4: اوّل مدعی سے گواہ لئے جاتے ہیں، اگر موافق ضابطہ شرعی کے پیش کردے، مقدمہ وہ پاتا ہے، اور اگر پیش نہ کرسکے تو مدعا علیہ سے قسم لی جاتی ہے اور مقدمہ وہ پاتا ہے، البتہ اگر قسم سے انکار کر جائے تو پھر مدعی مقدمہ پالیتا ہے۔
مسئلہ 5: قسم کی تغلیظ زمان یا مکان کے ساتھ جیسا کہ آیت مذکورہ میں کی گئی ہے، حاکم کی رائے پر ہے، لازم نہیں، اس آیت سے بھی لزوم ثابت نہیں ہوتا اور دوسری آیات و روایات سے اطلاق ثابت ہے۔
مسئلہ 6: اگر مدعا علیہ کسی غیر کے فعل کے متعلق قسم کھاوے تو الفاظ یہ ہوتے ہیں کہ مجھ کو اس فعل کی اطلاع نہیں۔
مسئلہ 7: اگر میراث کے مقدمہ میں وارث مدعا علیہ ہوں تو جن کو شرعاً میراث پہنچتی ہے ان پر قسم آوے گی خواہ وہ واحد ہو یا متعدد اور جو وارث نہیں ان پر قسم نہ ہوگی (بیان القرآن)۔
ایک کافر کی شہادت دوسرے کافر کے معاملہ میں قابل قبول ہے
(قولہ تعالیٰ) يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ (الی قولہ) اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَيْرِكُمْ ، اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آنے لگے تو دو ایسے آدمیوں کو وصی بناؤ جو تم میں سے ہوں اور نیک ہوں اور اگر اپنی قوم کے آدمی نہیں ہیں تو غیر قوم (یعنی کافر) سے بناؤ۔
اس سے امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ نے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے کہ کفار کی شہادت بعض کی بعض سے جائز ہے، کیونکہ اس آیت میں کفار کی شہادت مسلمانوں پر جائز قرار دی ہے، جیسا کہ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَيْرِكُمْ ، سے ظاہر ہے تو کفار کی شہادت بعض کی بعض پر بطرق اولیٰ جائز ہے، لیکن بعد میں (آیت) یایھا الذین امنوا اذا تداینتم بدین، سے کفار کی بعض کی بعض پر اسی طرح باقی ہے (قرطبی، احکام القرآن للجصّاص)۔
امام صاحب کے مسلک کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ ایک یہودی نے زنا کرلیا تو اس کے لوگوں نے اس کا چہرہ سیاہ کرکے آنحضرت ﷺ کے دربار میں پیش کیا۔ آپ ﷺ نے اس کی حالت دیکھ کر وجہ دریافت فرمائی تو انہوں نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے تو آپ ﷺ نے گواہوں کی شہادت کے بعد اس کو رجم کرنے کا حکم دیا (جصاص)
جس شخص پر کسی کا حق ہو وہ اس کو قید کرا سکتا ہے
(قولہ تعالیٰ) تَحْبِسُوْنَهُمَا، اس آیت سے ایک اصول معلوم ہوا کہ جس آدمی پر کسی کا کوئی حق واجب ہو اس کو اس حق کی خاطر ضرورت کے وقت قید کیا جاسکتا ہے (قرطبی)
(قولہ تعالیٰ) مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوة (صلوٰة سے عصر کی نماز مراد ہے، اس وقت کو اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت کی تعظیم اہل کتاب بہت کرتے تھے، جھوٹ بولنا ایسے وقت میں خصوصاً ان کے ہاں ممنوع تھا، اس سے معلوم ہوا کہ قسم میں کسی خاص وقت یا خاص مقام وغیرہ کی قید لگا کر تغلیظ کرنا جائز ہے (قرطبی)