Ayahs 5:44–45(آیت) ” نمبر 44 تا 45۔
اللہ کی جانب سے جو دین بھی آیا ہے وہ اس لئے آیا ہے تاکہ وہ نظام زندگی بنے اور لوگوں کی عملی زندگی کا وہ نظام ہو ۔ ہر دین میں اس لئے آیا ہے کہ وہ انسانیت کی قیادت کرے ۔ انسان کو منظم کرے ‘ اسے صحیح راستہ دکھائے اور اسے غلطیوں اور سیاہ کاریوں سے بچائے ، دین محض اس لئے نہیں آتا کہ وہ انسانی شعور میں ایک عقیدہ اور نظریہ ہو ‘ یا وہ محض اس لئے بھی نہیں آتا کہ کلیسا اور مساجد میں چند مراسم عبودیت کے طور پر جاری رہے ۔ یہ دونوں باتیں اگرچہ انسانی کے عقیدہ وعمل کے لئے ضروری ہیں لیکن صرف عقیدہ اور مراسم عبودیت سے انسانی زندگی کی تنظیم ‘ توجہیہ اور سیاہ کاریوں سے بچاؤ ممکن نہیں ہے جب تک دین کی اساس پر پورا نظام زندگی ‘ نظام قانون اور نظام معاشرت نافذ نہ ہو ‘ جب تک ان چیزوں کو عملا نافذ نہ کیا جائے ‘ جب تک مسند اقدار پر ایسے لوگ نہ پائے جائیں جو اس حاکمیت اور قانون کے مطابق حکمرانی کریں اور جب تک ایسی حکومت نہ ہو جو اسلامی قوانین اور ہدایت کی خلاف ورزی پر گرفت کرنے والی ہو اور اسلامی سزائیں نافذ کرنے والی ہو ۔ اس وقت تک قانون اسلام کا نفاذ ممکن نہیں ہے ۔
انسانی زندگی اس وقت تک استوار نہیں ہو سکتی جب تک نظریہ حیات ‘ مراسم عبودیت اور قانون ایک ہی منبع سے اخذ نہ کئے جائیں ۔ اس منبع کی حکمرانی دلوں پر بھی ہو ‘ ذات الصدور پر بھی ہو اور انسانی کی عملی حرکات و سکنات پر بھی ہو ۔ وہ اس دنیا میں بھی لوگوں کو اجر دیتاہو اور آخرت میں بھی وہ لوگوں کو اجر دیتا ہو اور حساب و کتاب لیتا ہو۔
جب انسانی زندگی پر حکمرانی مختلف ہوجائے اور رشد وہدایت کے منابع مختلف ہوجائیں مثلا ضمیر اور ایمان پر حکمرانی ایک الہ کی ہو اور ظاہری نظم ونسق اور قانون پر حکمرانی دوسرے حاکم کی ہو اور آخرت کی جزاء کا مالک اور ہو اور دنیا میں سزا دینے والی طاقت کوئی اور ہو تو ایسے حالات میں انسانی کی ذات دو مختلف حکمرانوں کے درمیان ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہے اس کی شخصیت کے اندر دو مختلف رجحانات ہوتے اور اس کی زندگی دو طرح کے متضاد طرز ہائے عمل میں بٹ جاتی ایسے حالات میں زندگی کے اندر وہ بگاڑ پیدا ہوتا ہے جس کی طرف قرآن کریم نے مختلف طریقوں سے اشارہ کیا ہے ۔
(آیت) ” لو کان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا “۔ (اگر زمین و آسمان میں زیادہ الہ ہوتے تو ان میں فساد برپا ہوجاتا)
(آیت) ” لواتبع الحق اھوائھم لفسدت والارض ومن فیھن “ (اگر حق ان کی خواہشات کے تابع ہوجائے تو زمین ‘ آسمانوں اور ان کے اندر جو کچھ ہے وہ فساد کا شکار ہوجائے)
(آیت) ” ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر ولا تتبع اھواء الذین لا یعلمون “۔ (پھر ہم نے آپ کو شریعت پر قائم کیا ہے پس آپ اس کی اطاعت کریں اور ان لوگوں کی خواہشات کی اطاعت نہ کریں جو نہیں جانتے)
یہی وجہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو دین بھی آیا ہے وہ اس لئے آیا ہے کہ وہ زندگی کا نظام بنے ۔ یہ دین کسی گاؤں کے لئے ہو ‘ کسی قوم کے لئے ہو یا پوری کی پوری انسانیت کے لئے ہو ‘ بشرطیکہ وہ دین حق میں اور اس کے ساتھ شریعت ہو ۔ ہر دین میں ایک طرف تو ایک نظریہ حیات ہوتا ہے اور دوسری جانب اس میں زندگی کی تفصیلی ہدایات کے لئے ایک شریعت ہوتی ہے ۔ اس میں اللہ کی بندگی کے لئے کچھ مراسم عبودیت ہوتے ہیں۔ یہ تین پہلو ہر دین کے بنیادی عناصر ترکیبی ہوتے ہیں جہاں بھی کوئی دین اللہ کی طرف سے آیا ہے ‘ اس میں یہ تین پہلو ضرور ہوتے ہیں ۔ انسانی زندگی تب ہی استوار اور درست ہوسکتی ہے جب دین کو زندگی کا نظام بنا دیا جائے ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے میری کتابیں الاسلام ومشکلات الحضارہ اور المستقبل لہذا الدین اور خصائص التصور الاسلامی ومقوماۃ)
قرآن کریم میں ایسے شواہد موجود ہیں کہ سابقہ ادیان میں سے بعض ایک محدود علاقے کے لئے تھے مثلا ایک گاؤں کے لئے یا ایک شہر کے لئے یا کسی ایک قبیلے کے لئے لیکن یہ ادیان بھی مکمل نظام زندگی پر مشتمل تھے اور وہ اس گاؤں اور قریہ کے اس وقت کے حالات کے لئے ایک پورا نظام حیات تھے ۔ یہاں قرآن کریم بڑے ادیان یہودیت ‘ نصرانیت اور اسلام کے بارے میں کہتا ہے ۔
(آیت) ” انا انزلنا التورۃ فیھا ھدی ونور (5 : 44) (ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی ۔
تورات جس شکل میں اسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا تھا ‘ ایک کتاب تھی ‘ جسے بنی اسرائیل کی راہنمائی کے لئے بھیجا گیا تھا ۔ یہ جادہ حق پر انکے لئے روشنی کامینار تھی اور ان کے لئے زندگی گزارنے کا ایک ماڈل تھی ۔ اس میں نظریہ حیات ‘ مراسم عبودیت اور ملک کے لئے سول لا تینوں شعبے تھے ۔
(آیت) ” یَحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّونَ الَّذِیْنَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِیْنَ ہَادُواْ وَالرَّبَّانِیُّونَ وَالأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُواْ مِن کِتَابِ اللّہِ وَکَانُواْ عَلَیْْہِ شُہَدَاء
” سارے نبی ‘ جو مسلم تھے اسی کے مطابق ان یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے اور اسی طرح ربانی اور احبار بھی (اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے) کیونکہ انہیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے)
اللہ تعالیٰ نے تورات کو صرف اس لئے نہیں نازل کیا تھا کہ اس میں صرف نظریہ حیات اور عقائد کے بارے میں راہنمائی ہو۔ اس کے اندر عقائد اور مراسم عبودیت کی تفصیل بھی تھی ‘ بلکہ وہ نور وہدایت تھی اس معنی میں کہ اس کے اندر ایک قانونی نظام کی تفصیلات تھیں اور ایک مکمل نظام تھا کیونکہ انسان کی پوری زندگی کو اس نظام کے حدود کے اندر رکھنا ضروری تھا ۔ تورات کے مطابق وہ تمام نبی فیصلے کرتے رہے جو اپنے آپ کو مسلم سمجھتے تھے اور انہوں نے سرتسلیم خم کرلیا تھا ۔ انہوں نے اپنی زندگی کا کوئی حصہ اپنے لئے محفوظ نہ کر رکھا تھا بلکہ پوری زندگی اللہ کے حوالے کردی تھی ۔ وہ کسی معاملے میں اپنی مرضی نہ کرتے تھے ‘ نہ اپنی حکمرانی کرتے تھے ‘ وہ اللہ کے حق حاکمیت میں اپنے آپ کو شریک کرتے تھے ۔ یہ ہے اسلام اپنے حقیقی مفہوم میں ۔ یہ پیغمبر یہودیوں اور اس تورات کے ذریعہ حکومت کرتے تھے اور تورات اس سلسلے میں ان کا دستور اور قانون شریعت تھی ۔ نبیوں کے علاوہ ربانی اور احبار بھی اسی کے مطابق فیصلے کرتے رہے ۔ یہ لوگ ان کے علماء اور قاضی تھے اور ان کا یہ فریضہ تھا کہ وہ تورات کی حکمرانی کو قائم رکھیں ۔ وہ اس بات کے گواہ رہیں کہ انہوں نے یہ حق ادا کردیا تھا ۔ یہ شہادت وہ اس طرح دیں کہ ان کی اپنی زندگی تورات کے نظام کے مطابق گزرے اور وہ یہ شہادت بھی دیں کہ ان کی قوم نے تورات کو قائم کیا تھا ۔ انہوں نے اس کے مطابق فیصلے کئے تھے ۔
تورات کے بارے میں بات ختم ہونے سے پہلے ہی روئے سخن جماعت مسلمہ کی طرف پھرجاتا ہے تاکہ انہیں اس بات کی طرف متوجہ کیا جاسکے کہ آیا وہ بھی اپنی کتاب کے مطابق فیصلے کرتے ہیں یا نہیں ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ بعض اوقات لوگوں کی ذاتی خواہشات ‘ ان کا عناد اور ان کی جدوجہد اس راہ میں رکاوٹ بنتی ہو ۔ ایسے مشکل حالات میں پھر کتاب اللہ کے محافظین کے فرائض کیا ہوتے ہیں اور لوگوں کی مخالفت اور کتاب اللہ سے روگردانی کی سزا کیا ہے ۔
(آیت) ” فَلاَ تَخْشَوُاْ النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلاَ تَشْتَرُواْ بِآیَاتِیْ ثَمَناً قَلِیْلاً وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْکَافِرُونَ (44)
” پس (اے گروہ یہود) تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑ دو جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں)
اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات بہرحال تھی کہ اللہ کے احکام کے مطابق فیصلے کئے جانے کی راہ میں بہرحال ہر دور میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی اور بعض لوگ اس کی مخالفت کریں گے ۔ بعض انسان ایسے بھی ہوں گے جو خوشی اور تسلیم ورضا کے ساتھ اسے قبول نہ کریں گے نیز بعض بااثر اور بڑے لوگ اور بعض نافرمان اور موروثی طور پر حکومتوں پر قابض ہوجانے والے لوگ اس کی مخالفت کریں گے ۔ یہ مخالفت وہ اس لئے کریں گے کہ انہوں نے اللہ کے حق حاکمیت کی چادر خود اپنے اوپر اوڑھ رکھی ہوتی ہے ۔ اب اسلامی نظام میں انہیں یہ چادر اترتی نظر آتی ہے اور حاکمیت کا حق صرف اللہ کے لئے مخصوص ہوجاتا ہے یہ لوگوں کے لئے جو قوانین بناتے ہیں اور جن کا اذن اللہ نے نہیں دیا ہوتا اب وہ ایسا نہیں کرسکتے ۔ اسی طرح مفاد پرست اور مادہ پرست عناصر کے مفادات بھی اس کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں جو لوگوں کا استحصال کرتے ہیں اور عوام پر مظالم ڈھاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا عادلانہ نظام ایسے مظالم کو جاری رکھنے کی کبھی اجازت نہ دے گا ۔ اسی طرح اسلامی نظام کے نفاذ کی راہ میں وہ لوگ بھی آڑے آتے ہیں جو عیاش اور نفس پرست اور لذت کام و ہن کے دلدادہ ہوتے ہیں ‘ جو دنیا کے سازو سامان پر فخر کرتے ہیں اور ذاتی مفادات کے بندے ہوتے ہیں ۔ ان کو یہ خطرہ ہوتا ہے کہ اسلامی شریعت انہیں پاکیزہ زندگی بسر کرنے پر مجبور کرے گی اور اگر وہ پاکیزہ زندگی بسر نہ کریں گی تو انہیں سزا کا سامنا کرنا ہوگا ۔ ان اطراف وجہات کے علاوہ اور بھی کئی قسم کے موانع اور رکاوٹیں سامنے آیا کرتی ہیں علی الخصوص ایسے لوگوں کی طرف سے جو از روئے فطرت بھلائی نہیں چاہتے اور نیکی اور انصاف کا دور دورہ دیکھ نہیں سکتے ۔
یہ بات اللہ کے علم میں تھی کہ اسلامی شریعت کے نفاذ کی راہ میں مختلف اطراف سے یہ رکاوٹیں سامنے آئیں گی ۔ اللہ کو یہ بھی معلوم تھا کہ اسلام کے محافظین اور مجاہدین وشہداء کو ان رکاوٹوں کا سامنا کرنا ہوگا اور انکو ان کے بالمقابل بڑی مضبوطی سے کھڑا ہونا ہوگا اور جانی ومالی نقصانات انہیں برداشت کرنے ہوں گے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ انہیں پکارتے ہیں۔
(آیت) ” فلا تخشوا الناس واخشون “۔ (5 : 44) (تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو) اس طرح جب وہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں گے تو وہ کسی کے ڈر کی وجہ سے شریعت کے نفاذ میں سستی نہ کریں گے ۔ یہ ڈر کئی جہات سے ہو سکتا ہے ‘ ایک تو ان لوگوں کے کی طرف سے جو سرے سے اسلامی نظام قانون کے آگے جھکتے ہی نہیں اور وہ اسلامی شریعت کو تسلیم ہی نہیں کرتے ‘ وہ اللہ کو قانون ساز تسلیم ہی نہیں کرتے یا وہ لوگ شریعت کا نفاذ اس لئے نہیں چاہتے کہ اس کی وجہ سے ان کے استحصالی نظام پر زد پڑتی ہے جس کے ساتھ ان کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں ‘ اور جس کے وہ عادی ہوچکے ہیں ۔ یا یہ لوگ عام گمراہ اور منحرف طبقات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جن کے اوپر شریعت کے احکام بہت ہی بھاری ہوتے ہیں اور وہ اس سے پریشان ہوتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ ان تمام طبقات سے نہ ڈرتے ہوئے یا دوسرے لوگوں سے ڈرتے ہوئے وہ اللہ کے احکام کے نفاذ سے نہیں رکتے اس لئے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ ہم اس سے ڈریں اور ڈرنا بھی اسی سے چاہئے ۔
اللہ تعالیٰ کو اس بات کا بھی علم تھا کہ کتاب کی حفاظت کرنے والے اور اسلام کی راہ میں شہادت دینے والے ایسے بھی ہوسکتے ہیں کہ دنیا کی اس مختصر زندگی کی خواہشات انہیں ورغلا دیں ‘ یہ محافظین اسلام دیکھتے ہیں کہ اہالیان حکومت ‘ مالدار طبقات اور شہوت پرست اور عیاش لوگ اسلام کے نفاذ کی راہ میں حائل ہیں۔ اس بات کا امکان تھا کہ اہل دین ان طبقات کے ساتھ ریاکاری کرتے ہوئے دنیا کے مفادات کی غرض سے ان کے الہ کار بن جائیں ‘ جیسا کہ ہر دور میں ہر دین کے علمائے سوء ایسا ہی کرتے چلے آئے ہیں اور خصوصا علمائے بنی اسرائیل یہ بری حرکت ہمیشہ کرتے آئے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو پکارا ۔
(آیت) ” ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا “۔ (5 : 44) (اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے پر بیچنا چھوڑ دو )
اس کی متعدد صورتیں ہوتی ہیں مثلا سچائی کے مقام پر خاموش ہوجانا ‘ یا احکام میں تحریف کرنا یا ایسے فتوے جاری کرنا جس میں حق باطل دونوں ملے جلے ہوں ۔
رہی یہ بات کہ ثمن قلیل سے مراد کیا ہے ؟ تو ہر قیمت ‘ قیمت قلیلہ ہے اگرچہ دین میں تحریف کرکے پوری دنیا کسی کی ملکیت میں آجائے ۔ لیکن ان علمائے سوء کی حاصل کردہ قیمت صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ کچھ مفادات ‘ کچھ وظائف ‘ کچھ القاب اور دوسرے چھوٹے چھوٹے مفادات حاصل کرتے ہیں اور ان کے عوض دین بیچتے ہیں ‘ لیکن اس فعل پر انہیں یقینا جہنم رسید ہونا ہوگا ۔
اگر باڑ فصل کو کھانے لگے اور اگر چوکیدار ہی ڈاکو بن جائے اور اگر گواہ جھوٹ بکنے لگے تو اس سے برا اور کیا ہوگا ۔ جن لوگوں کے لئے ” دینداروں “ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں ‘ جن لوگوں کو علماء کہا جاتا ہے ‘ اگر وہ خیانت کرنے لگیں ‘ اگر وہ زیادتی کرنے لگیں ‘ دین کے احکام چھپائیں ‘ اللہ کی شریعت کے نفاذ کے بارے میں سکوت اختیار کرلیں ‘ آیات کا مفہوم بدل دیں اور بااثر لوگوں کے لئے احکام شریعت میں تبدیلی کردیں تو پھر ایسے لوگوں کے لئے اللہ کا نہایت ہی موزوں فیصلہ ہے ۔
(آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون “۔ (5 : 44) (اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے تو وہی لوگ کافر ہیں) دو ٹوک بات ہے لفظ من استعمال کرکے اس کے مفہوم کے اندر عمومیت (GenerAlizAtion) پیدا کردی گئی ہے ۔ من موصولہ اور شرطیہ ہے اور آگے فا کے بعد جملہ جواب شرط ہے یوں یہ حکم مخصوص حالات اور زمان ومکان کی قید سے نکل آتا ہے اور ایک عام حکم بن جاتا ہے ‘ جو بھی اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرے ‘ خواہ وہ کسی نسل اور قبیلے سے ہو ‘ کافر سمجھا جائے گا ۔
اس حکم کی علت وہی ہے جو ہم نے بیان کردیں ہے کہ جو شخص اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا وہ اللہ کے حق حاکمیت کا انکار کرتا ہے ۔ حاکمیت اللہ کی خصوصیات میں سے اہم خصوصیت ہے اور حاکمیت کا براہ راست تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی شریعت ماخذ قانون ہو۔ اور جو اس کے مطابق فیصلے نہ کرے اور اللہ کے حق حاکمیت کا انکار کرے اور اللہ کی اس خصوصیت کا حق اپنے لئے حاصل کرے تو پھر وہ کافر ہوجائے گا ۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسلام اور ایمان کے معنی کیا رہ جاتے ہیں زبان سے تو ایمان واسلام کا دعوی ہو اور عمل جو اظہار مافی الضمیر کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے ‘ اس سے انسان کفر کا اظہار کرے تو زبانی اظہار اسلام یقینا بےمعنی ہوجاتا ہے ۔
اس دو ٹوک ‘ قطعی اور عام حکم کے بارے میں لیت ولعل سے کام لینا محض حقیقت کا سامنا کرنے سے فرار ہے ۔ اس قسم کے قطعی اور دو ٹوک حکم میں تاویلات کرنے کا مقصد صرف یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے واضح احکام کا مفہوم بدل کر رکھ دیاجائے ۔ لہذا کوئی شخص جس پر یہ قطعی حکم منطبق ہوتا ہے وہ اس صریح اور موکد حکم کے نتائج سے کسی طرح بھی فرار اختیار نہیں کرسکتا ۔
دین اسلام کے اس اصولی اور اساسی قاعدے کے بیان کے بعد اب روئے سخن تورات کی طرف پھرجاتا ہے ۔ تورات میں بھی اللہ تعالیٰ نے احکام شریعت نافذ کئے تھے اور نبیوں ‘ اہل دین اور علماء کو یہ حکم تھا کہ قانون تورات کے مطابق فیصلے کریں اس لئے کہ ان کو شریعت تورات پر محافظ بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ بھی تھے ۔
(آیت) ” وَکَتَبْنَا عَلَیْْہِمْ فِیْہَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْْنَ بِالْعَیْْنِ وَالأَنفَ بِالأَنفِ وَالأُذُنَ بِالأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ (5 : 45)
” تورات میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان ‘ آنکھ کے بدلے آنکھ ‘ ناک کے بدلے ناک ‘ کان کے بدلے کان ‘ دانت کے بدلے دانت ‘ اور تمام زخموں کیلئے برابر کا بدلہ ‘ ۔ “
یہ احکام جو تورات میں نازل ہوئے تھے ‘ اسلامی شریعت میں بحال رکھے تھے اور اسلامی شریعت کا جزء بن گئے تھے یوں وہ قیامت تک شرعی احکام قرار پائے کیونکہ مسلمانوں کی شریعت قیامت تک کے لئے ہے ۔ اگرچہ ان احکام کا نفاذ صرف دارالاسلام میں ہو سکے گا ۔ اس لئے کہ عملا صرف ایسا ہی ممکن ہے اور جو حکومت ان احکام کو نافذ کرتی ہے ‘ اسکا اقتدار دارالاسلام کے حدود کے اندر ہوتا ہے ۔ لیکن مسلمانوں کی استطاعت میں جب بھی یہ بات آئے تو ان پر فرض ہے کہ وہ اسلامی شریعت کو دارالاسلام سے باہر بھی نافذ کریں اس لئے اسلامی شریعت تمام انسانوں کے لئے ہے اور وہ حدود وقیود کی پابند نہیں ہے کیونکہ اللہ کا ارادہ یہی ہے ۔
مذکورہ بالا احکام تورات کو اسلامی شریعت کا جزء بناتے وقت ان احکام کے ساتھ ‘ ایک قانونی دفعہ کا اضافہ کردیا گیا ۔ (آیت) ” فمن تصدق بہ فھو کفارۃ لہ “۔ (5 : 45) (پس جو قصاص کا صدقہ کر دے تو وہ اس کے لئے کفارہ ہے)
تورات میں یہ دفعہ نہ تھی ۔ احکام تورات کے مطابق یہ جرائم قابل راضی نامہ (CompoundAblc) نہ تھے ان میں مستغیث نہ معافی دے سکتا تھا اور نہ صلح ممکن تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کفارہ نہ تھا ۔
یہاں مناسب ہے کہ فی ظلال القرآن کی مناسبت سے جرائم قصاص کے بارے میں ایک مختصر بات کردی جائے ۔
اسلامی شریعت قصاص کے بارے میں پہلا اصول مساوات کا متعین کرتی ہے ۔ خون سب کا یکساں ہوتا ہے اور سزا بھی سب کے لئے یکساں ہے ۔ اسلام کے بغیر کسی دوسری شریعت میں جان کے بدلے جان کی مساوات نہیں ہے ۔ چناچہ اسلام میں جان کے بدلے جان اور عضو کے بدلے وہی عضو ہے ۔ اس بارے میں علاقے ‘ طبقے ‘ نسب ‘ خون اور قوم کا کوئی امتیاز یا لحاظ نہیں ہے ۔
جان کے بدلے جان ‘ آنکھ کے بدلے آنکھ ‘ ناک کے بدلے ناک ‘ کان کے بدلے کان ‘ دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں پورا پورا بدلہ ہے ۔ اس بارے میں کوئی امتیاز کوئی نسلی ‘ طبقاتی اور قومی فرق نہیں ہے ۔ حاکم و محکوم کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔ سب کے سب اسلامی شریعت کی نظر میں برابر ہیں ۔ اور یہ اس لئے کہ سب کے سب ایک جوڑے آدم وحوا سے پیدا ہوئے ہیں ۔ ابو کم آدم والام حواء ۔
اسلامی شریعت نے اس دنیا کو جس زریں اصول سے متعارف کرایا وہ اصول مساوات ہے اور مساوات دے کر اسلام نے انسان کو گویا ایک نیا جنم دیا ۔ اس سے پہلے انسان کو حقیقی مساوات نصیب نہ ہوئی تھی ۔ اس مساوات کا پہلا اصول یہ تھا کہ تمام لوگ قانون کی نظروں میں برابر ہوں گے ۔ وہ ایک ہی پلیٹ فارم سے انصاف حاصل کریں گے ۔
دوسرے یہ کہ سب سے ایک ہی پیمانے کے مطابق قصاص لیا جائے گا ۔ اور سب کی ایک ہی ہوگی ۔
انسان کے بنائے ہوئے نظام اور قونین کو اس درجہ مساوات تک پہنچنے کے لئے صدیاں سفر کرنا پڑا اور اسلامی شریعت ہی سے متاثر ہو کر دنیا کے قانونی نظاموں نے صرف بعض پہلوؤں کے اعتبار سے اسلامی مساوات کو حاصل کیا۔ اگرچہ عملا وہ ایسی مساوات قائم نہیں کرسکے جو اسلام نے قائم کی ۔
یہود جن پر نازل شدہ تورات میں انسانی مساوات کے زریں اصول درج تھے انہوں نے ان قوانین سے رو گردانی کی ۔ اور یہ روگردانی انہوں نے اپنے اور دوسرے لوگوں ہی کے درمیان نہ کی جس طرح قرآن ان کا یہ قول نقل کرتا ہے ۔
(آیت) ” لیس علینا فی الامیین سبیل “۔ (ہم پر امی لوگوں کے بارے میں کوئی مواخذہ نہ ہوگا) بلکہ وہ خود اپنے اندر بھی مساوات قائم نہ کرسکے ۔ خصوصا وہ قانونی مساوات پر عمل پیرا نہ تھے جیسا کہ وہ بنو نضیر کو برتر اور بنی قریظہ کو ذلیل قبیلہ سمجھتے تھے اور دونوں کے لئے سزائیں علیحدہ علیحدہ تھیں اور جب حضور اکرم ﷺ مبعوث ہوئے تو آپ نے ان کے درمیان قانونی مساوات قائم فرمائی ۔ آپ نے ان میں سے ذلیل لوگوں کی جان کو معزز لوگوں کی جان کے برابر قرار دیا ۔
اس عظیم اصول پر قانون قصاص نافذ کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ سخت غیرت آموز سزا ہے اور اس کے ہوتے ہوئے ہر شخص اقدام قتل ‘ اقدام ضرر شدید اور اعضاء کے توڑنے کے بارے میں کوئی قدم اٹھانے سے پہلے بار بار سوچتا ہے کہ وہ یہ اقدام کرے یا نہ کرے ۔ اس لئے کہ اسے علم ہوتا ہے کہ اگر اس نے قتل کیا تو اسے سولی پر چڑھنا ہوگا ‘ اور اس کا نسب ‘ اس کی سماجی حیثیت اور اس کا رنگ ونسل اسے کوئی فائدہ نہ دے سکے گا ۔ اسے ویسی ہی سزا ملے گی جیسا وہ جرم کرے گا ۔ اگر وہ کسی کا ہاتھ ‘ پاؤں یا دوسرے اعضاء ضائع کرے گا تو اس کے بھی وہی اعضا ضائع ہوں گے ۔ اگر وہ آنکھ ‘ کان اور ناک ضائع کرے گا تو اس کے یہی اعضاء ضائع ہوں گے ۔ اور اگر کوئی یہ سمجھے کہ اسے صرف قید ہونا ہے تو وہ کبھی بھی ایسے جرائم سے باز نہ آئے گا چاہے سزائے قید لمبی ہو۔ اس لئے کہ جسمانی سزا ‘ جسمانی نقص اور شکل کا بگڑنا بمقابلہ مصائب سزائے قید زیادہ اذیت ناک ہے جیسا کہ ہم حد سرقہ کے بیان میں قطع ید کے ضمن میں تفصیلات بیان کر آئے ہیں۔
پھر مزید یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ سزائے قصاص ایک ایسی سزا ہے کہ انسان کی فطرت اس کے اجراء کے بعد مطمئن ہوجاتی ہے اور نفس انسانی سے بغض اور کینہ دور ہوجاتا ہے ۔ دل کے زخم مندمل ہوجاتے ہیں اور انتقام کی آگ بجھ جاتی ہے ‘ جسے عرصہ اور جاہلی انتقام بھڑکاتا رہتا ہے ۔ اس لئے کہ اگرچہ بعض لوگ قتل میں دیت اور زخموں کا تاوان وصول کرلیتے ہیں لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اجرائے سزائے قصاص پر اصرار کرتے ہیں ۔
اسلام نے قانون سازی کرتے وقت فطرت انسانی کے جذبات کو ملحوظ رکھا ہے جیسا کہ تورات کی شریعت نے اس کی سختی سے پابندی کی اور مکمل قصاص کے نفاذ سے فطرت انسانی کو مطمئن کیا ۔ لیکن اسلامی شریعت میں قصاص لینے والے کے لئے یہ اصول بھی رکھا کہ وہ معاف کرسکے بشرطیکہ قصاص لینے پر اسے اختیار ہوجائے ۔ (آیت) ” فمن تصدق بہ فھو کفارۃ لہ (5 : 45) (اور جو قصاص کا صدقہ کر دے تو وہ اس کے لئے کفارہ ہے)
یعنی جو خوش دلی کے ساتھ قصاص معاف کر دے تو اس کے عوض اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے کے گناہ معاف کر دے گا ۔ بعض اوقات لوگ عفو و درگزر کی طرف مائل ہو سکتے ہیں ‘ انہیں انہیں کی جانب سے عفو و درگزر کی امید ہو سکتی ہے ۔ خصوصا ان لوگوں کی طرف سے جن لوگوں کو مالی معاوضے کی ضرورت نہیں ہوتی ‘ اور قصاص کے نفاذ سے بھی ان کی تسلی نہیں ہوتی کیونکہ ان کا جو عزیز ان سے جدا ہوگیا یا انہیں ذاتی طور پر جو نقصان ہوا اور ناقابل تلافی تھا اس لئے کہ مقتول کے وارث کو کیا ملے گا اگر قاتل کو قتل بھی کردیا جائے ۔ یا اگر اس کا بھائی وغیرہ جدا ہوگیا تو مالی مفادات سے اسے کیا حاصل ہوگا ؟ اس سے تو صرف اس دنیا میں انصاف اور امن وامان حاصل ہو سکتے ہیں لیکن ورثاء یا مجرم کے دل میں احساس ہمیشہ کے لئے زندہ رہتا ہے اگر لوگوں کو اللہ کی جانب سے مغفرت کی امید ہو تو ان کے دل صاف ہو سکتے ہیں اور دلوں سے کینہ کی میل دور ہو سکتی ہے ۔
امام احمد نے وکیع ‘ یونس ‘ ابو السفر کے واسطے سے روایت کی ہے ۔ ابو السفر کہتے ہیں کہ ایک قریشی نے ایک انصاری کا دانت توڑ دیا ۔۔۔ اس نے حضرت معاویہ ؓ سے تعاون چاہا ۔ معاویہ نے کہا ہم اسے راضی کردیں گے ‘ لیکن انصاری نے اصرار کیا کہ قانون قصاص نافذ کیا جائے ‘ تو امیر معاویہ ؓ نے کہا کہ تم جانو اور یہ انصاری جانیں ‘ اس مجلس میں ابو الدرداء بیٹھے ہوئے تھے ۔ انہوں نے فرمایا میں نے حضور ﷺ سے سنا کوئی مسلمان اگر دوسرے مسلمان کے ہاتھوں کوئی زخم اٹھائے اور پھر اسے معاف کردے تو اللہ تعالیٰ اس کا مرتبہ بلند کردیں گے یا اس کی کوتاہیوں میں سے کوئی کوتاہی معاف کردیں گے ۔ اس پر انصاری نے کہا میں معاف کرتا ہوں “۔
یوں اس شخص کا دل راضی ہوگیا اور مطمئن ہوگیا حالانکہ وہ حضرت معاویہ ؓ کی جانب سے کسی بھی مالی تاوان پر راضی نہ ہوا تھا جس کی طرف حضرت معاویہ ؓ نے اشارہ فرمایا تھا ۔
یہ تو ہے علیم و خیبر کی شریعت جو اس نے اپنی مخلوق کے لئے وضع فرمائی ہے جس میں لوگوں کے میلانات اور احساسات کا لحاظ رکھا گیا ہے ‘ جس میں لوگوں کی دلی رضا مندی کا بہت بڑا دخل ہے اور جس کی وجہ سے لوگوں کے اندر اطمینان ‘ سلامتی اور دلی رضا پیدا ہوتی ہے ۔
یہ بتانے کے بعد کہ یہ تورات کی شریعت تھی اور اب یہ اسلامی شریعت کا جزء ہے ایک عام حکم دے دیا جاتا ہے ۔
(آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الظلمون “۔ (5 : 45) (جن لوگوں نے اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کیا وہ لوگ ظالم ہیں) یہ ایک عام تعبیر ہے ۔ یہاں کوئی ایسا قرینہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ہم اسے مخصوص کہہ سکیں لیکن ایسے لوگوں کی جدید صفت الظالمون لائی گئی ہے ۔
الظالمون سے تعبیر کرنے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ شاید اس تعبیر اور پہلی تعبیر الکافرون کے درمیان کوئی فرق ہے ۔ بلکہ جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہونے کے ساتھ ظالم بھی ہیں ۔ وہ کافر اس لئے ہیں کہ وہ اللہ کی حاکمیت کے منکر ہیں ‘ اس لئے کہ حاکمیت خاصہ خدا ہے اور قانون سازی صرف اللہ کرسکتا ہے اور اگر کوئی خود اپنا قانون بناتا ہے تو وہ خود حاکمیت کا مدعی ہے اور اپنے لئے حق قانون سازی حاصل کرتا ہے ۔ وہ ظالم اس لئے ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ کی شریعت کے بجائے اپنی شریعت پر چلاتا ہے ۔ حالانکہ اللہ کی شریعت ان کے لئے مناسب ہے اور ان کے حالات کی اصلاح اس سے ہوسکتی ہے ۔ اور ظلم وہ اس لئے بھی کر رہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتا ہے اور اپنے آپ کو کفر کی سزا کا مستحق بناتا ہے اور اپنی ذات اور تمام لوگوں کی زندگیوں کو فساد میں مبتلا کرتا ہے ۔
یہ مفہوم عربیت کے قواعد کا تقاضا ہے کیونکہ عربیت کی رو سے مسند الیہ اور فعل شرط ایک ہے یعنی (آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ “۔ (45) اب اس شرط کا ایک پہلا جواب ہے اور ایک دوسرا جواب ہے ۔ یہاں دوسرا جواب شرط پہلے جواب شرط پر مستزاد ہوگا اور دونوں کا مسند الیہ شرط میں ” من “ ہوگا جو مطلق ہے اور عام ہے ۔
اب یہ بتایا جاتا ہے کہ تورات کے بعد بھی یہ حکم جاری ہی رہا ۔
Ayahs 5:46–47(آیت) ” نمبر 46 تا 47۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو انجیل عطا ہوئی تاکہ وہ لوگوں کے لئے نظام زندگی قرار پائے ۔ انجیل میں بذات خود کوئی نیا شرعی نظام نہ تھا ‘ البتہ انجیل میں تورات کے قانونی نظام میں نہایت ہی خفیف تبدیلیاں کی گئی تھیں ۔ انجیل نے خود تورات کے نظام قانون اور نظریات کی تصدیق کی ‘ صرف چند تبدیلیاں لائی گئیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انجیل کے اندر امت مسلمہ کے لئے ہدایت ‘ نئی روشنی اور نصیحت اتاری یہ کس کے لئے ؟ ان لوگوں کے لئے جو خدا ترس تھے ۔ اس لئے متقی لوگ وہ ہوں گے جو ہدایت ‘ روشنی اور وعظ ونصیحت اللہ کی کتابوں سے اخذ کرتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں کو یہ کتابیں ہدایات دیتی ہیں ۔ رہے وہ دل جو خشک ‘ پتھر کی طرح بےجان اور سخت ہوتے ہیں تو کوئی نصیحت ان تک نہیں پہنچتی ۔ ان دلوں کو کلام کے اندر کوئی مفہوم نظر نہیں آتا ۔ ان کو ہدایات کے اندر روح نظر نہیں آتی ان کو ایمان کے اندر کوئی ذائقہ نظر نہیں آتا ۔ وہ ان ہدایات ‘ ان انوار سے کوئی راہ نہیں پاتے اور نہ ہی دعوت و پکار لبیک کہتے ہیں ۔ نور اور روشنی موجود ہوتی ہے لیکن ان کی بصارت اور بصیرت کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ راہنمائی موجود ہوتی ہے لیکن اس راہنمائی کا ادراک صرف بلند روحوں کو ہوتا ہے ۔ نصیحت موجود ہوتی ہے لیکن صرف فہم رکھنے والے دل ہی نصیحت لیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انجیل میں بھی ہدایت ‘ نور اور اہل تقوی کے لئے نصیحت درج فرمائی اور اہل انجیل کے لئے اسے نظام حیات قرار دیا ۔ اور ان کے لیے قوانین کا ماخذ بنایا یعنی انجیل صراف اہل انجیل کے لئے نظام حیات تھی ۔ وہ تمام لوگوں کے لئے نہ تھی ‘ کیونکہ انجیل کی دعوت عام نہ تھی لیکن اس کا نفاذ تورات کی طرح ‘ ہر رسالت کی طرح اور ہر رسول کی دعوت کی طرح ضروری تھا ‘ جو رسول کریم ﷺ سے پہلے گزرے تھے اور جن کی دعوت نبی کریم ﷺ کی دعوت اور شریعت کے مطابق تھی ۔ لہذا شرائع سابقہ کا جو حصہ اسلام کے مطابق ہے وہ اسلام کی شریعت اور قرآن کی شریعت کا حکم دکھتا ہے جیسا کہ حکم قصاص کے ضمن میں ہم کہہ آئے ہیں۔
یعنی اہل انجیل سے بھی مطالبہ یہی تھا کہ وہ انجیل کی شریعت کے مطابق اپنے فیصلے کریں ۔
(آیت) ” ولیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ “۔ (5 : 47) (ہمارا حکم تھا کہ اہل انجیل اسی قانون کے مطابق فیصلہ کریں جسے اللہ نے اتارا) یعنی اصل الاصول یہی تھا کہ اللہ کے احکام کے مطابق فیصلے کئے جائیں ۔ اہل انجیل اور یہودیوں دونوں کی کوئی حیثیت نہ تھی جب تک وہ اسلام سے قبل تورات کو نافذ کرتے تھے ۔ اسلام کے آنے کے بعد اب تو سب دنیا کے انسانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اسلام شریعت نافذ کریں ۔ یہ شریعت اب سب کی شریعت ہے اور یہ اب آخری رسالت اور آخر شریعت ہے ۔
(آیت) ” بما انزل اللہ فیہ ومن لم یحکم بما انزل فاولئک ھم الفسقون “۔ (5 : 47) (جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں)
یہاں بھی آیت نہایت ہی عام اور مطلق ہے ۔ اور اس سے قبل اس قسم کے فعل پر صفت کفر اور ظلم کا جو اطلاق ہوا تھا ‘ صف کفر ان دونوں پر مستزاد ہے ۔ یہاں فاسقوں سے مراد کوئی اور لوگ نہیں ہیں بلکہ وہی کافرون اور ظالمون ہیں جنہوں یہاں صفت فاسقون سے بھی متصف کیا گیا ہے اور جو بھی اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہ کرے گا وہ اس صفت سے متصف ہوگا ۔
کفر اس لئے ہوگا کہ اللہ کی شریعت کا انکار کرنے سے اللہ کی حاکمیت کا انکار ہوگا ۔ ظلم اس لئے ہوگا کہ لوگوں پر اللہ کے سوا کوئی اور قانون نافذ کرکے ظلم ہوگا اور اس قانون کے ذریعے ان کی زندگیوں میں فساد برپا ہوگا اور فسق اس لئے ہوگا کہ اللہ کے نظام حیات سے خارج ہونے والا خود بخود فاسق ہوجاتا ہے ۔ غرض یہ تمام صفات اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہ کرنے کے فعل کے ساتھ لازم ہیں اور ایسا فاعل ان تمام صفات کا مرتکب ہوتا ہے ۔ اور ان میں کوئی تفریق نہیں ہے۔
اب بات حضور اکرم ﷺ کی آخری رسالت تک آپہنچتی ہے ۔ اب آخری شریعت یعنی اسلامی شریعت کے بارے بات ہوتی ہے ۔ اس میں اسلام کو اپنی آخری شکل میں پیش کردیا گیا تاکہ وہ تمام انسانوں کا دین بن جائے اور اسلام کی شریعت تمام لوگوں کی شریعت ہو ۔ نیز اس کے اندر ان تمام ہدایات کو جمع کرکے محفوظ کردیا جائے جو اس سے پہلے کسی بھی رسول کو دی گئی تھی اور یہ شریعت اس وقت تک نافذ رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کو لپیٹ نہیں لیتا ۔ یہ ایک ایسا نظام زندگی ہے جس پر اسلامی زندگی ہر پہلو کے اعتبار سے قائم ہوتی ہے ۔ اس کے دائرے کے اندر زندگی محدود ہوجاتی ہے اور اس کے محور کے اندر گھومتی ہے ۔ انسان اپنے اعتقادات و تصورات اسی سے اخذ کرتا ہے ۔ اپنا اجتماعی نظام بھی اس کے مطابق استوار کرتا ہے ‘ اور وہ اپنے انفرادی اور سوشل روابط اسی کے مطابق ڈھالتا ہے ۔ اور یہ شریعت اس لئے اتاری گئی ہے کہ یہ عدالتوں میں رائج ہو ‘ اس کے مطابق نظام استوار ہو ‘ کتابوں اور دفتروں کے اندر اس کا دور دورہ ہو اور اس کی پیروی اور اس کا نفاذ نہایت دقت کے ساتھ ہو ۔ اس کا کوئی جزء متروک نہ ہو ‘ اس کا کوئی جزء بدلا نہ گیا ہو ‘ چاہے چھوٹے معاملات سے متعلق ہو یا بڑے معاملات سے اس لئے کہ یا تو شریعت اسلامی ہوگی اور یہ جاہلیت ہوگی ۔ اس شریعت کے نفاذ کے سلسلے میں ان نیت سے تساہل اور مداہنت کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ اس بہانے بہت سے لوگوں کو اسلام کے نام پر جمع کردیا جائے ‘ اس لئے کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا ۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اس کی شریعت کی حکمرانی قائم ہو ‘ پھر جو ہوتا ہے ہو۔
Ayah 5:48(آیت) ” نمبر 48 تا 50۔
انسان جب اس تعبیر کی صفائی پر غور کرتا ہے اور اس دوٹوک فیصلے پر نگاہ ڈالتا ہے اور اس مکمل اختیار پر غور کرتا ہے اس میں ان تمام امور کی پیش بندی کردی گئی ہے جو ترک شریعت کے بارے میں کسی انسان کے دل میں آسکتے ہیں ۔ جب انسان غور کرتا تو وہ حیران رہ جاتا ہے کہ کوئی مسلمان ان ہدایات کے باوجود کسی طرح شریعت کو ترک کرسکتا ہے ۔ یہ ترک وہ حالات اور ضروریات کے بہانے سے کرتا ہے اور پھر بھی دعوائے اسلام کرتا ہے ۔ اس سے زیادہ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ کوئی شخص اسلامی شریعت کو کلیۃ ترک کردے اور پھر بھی یہ کہے کہ وہ مسلمان ہے ۔ ان لوگوں کی جرات کا عالم یہ ہے کہ انہوں نے اپنے گلے سے اسلام کا طوق اتار پھینکا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے آپ کو بدستور مسلمان کہتے ہیں ۔ پوری کی پوری شریعت کو انہوں نے اپنی زندگی سے یکسر خارج کردیا ہے ۔ وہ اللہ کی حاکمیت کا اقرار ہی نہیں کرتے اور یہ یوں کہ وہ قانون سازی کو اللہ کے ساتھ مخصوص نہیں کرتے اور یہ بات نہیں مانتے کہ اسلامی شریعت ہر قسم کے حالات اور ہر قسم کے اوقات میں قابل عمل ہے اور یہ کہ ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم تمام حالات میں شریعت کو نافذ کریں ۔
(آیت) ” وانزلنا الیک الکتب بالحق “ (5 : 48) (پھر اے نبی ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے)
یہ حق اس طرح ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے آئی ہے اور اللہ تعالیٰ اس بات کا مستحق ہے کہ وہ شریعت نازل کرے اور لوگوں پر قانون ڈیوٹیاں عائد کرے ۔ پھر اس کتاب کے مشمولات تمام حق ہیں ‘ نظریات سچے ہیں ‘ قوانین سچے ہیں ‘ جو قصے اور خبریں اس میں درج ہیں وہ سچے ہیں اور جو ہدایات اس میں دی گئی ہیں وہ برحق دی گئی ہیں۔
(آیت) ” مصدقا لما بین یدیہ من الکتب ومھیمنا علیہ “ (5 : 48) (اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ ونگہبان ہے)
اس طرح یہ دین الہی کی آخری مکمل شکل ہے اور آخری ماخذ اور مرجع ہے ۔ یہ آخری نظام زندگی ہے ‘ آخری قانون ہے اور اس کے بعد قانون و شریعت اور نظام ودستور میں کوئی تبدیلی نہ ہوگی اور کوئی ترمیم وتنسیخ ہوگی ۔
اس اصول کا قدرتی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے تمام اختلافات اس کتاب کی طرف لوٹائیں تاکہ یہ کتاب اس بارے میں فیصلہ کرے ‘ چاہے ان اختلافات کا تعلق اعتقادات اور تصورات کے ساتھ ہو ‘ جو عموما ادیان سماوی کے حاملین اور علماء کے درمیان ہوتا رہا ہے یا یہ اختلاف خود مسلمانوں کے اندر پایا جاتا ہو تو وہ مرجع اور ماخذ جس کی طرف وہ اپنی پوری زندگی کے امور میں رجوع کریں گے وہ یہی کتاب ہے ۔ اور ان معاملات میں انسانوں میں سے بڑے سے بڑے افراد کی ذاتی رائے کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔ اگر اس رائے کی پشت پر قرآن وسنت سے کوئی دلیل نہیں ہے ۔
چناچہ اس اصول اور حقیقت کا براہ راست تقاضا یہ سامنے آتا ہے ۔
(آیت) ” فاحکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھوآء ھم عما جآءک من الحق “۔ (5 : 48) (لہذا تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو) ابتداء یہ حکم رسول اللہ ﷺ کو دیا گیا ہے ‘ یعنی ان اہل کتاب کے بارے میں جو آپ کے پاس فیصلے لے کر آتے تھے ۔ لیکن یہ حکم اس سبب نزول کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ایک عام حکم ہے اور ہر زمان ومکان کے لئے ہے اس لئے کہ آپ کے بعد کوئی جدید رسول آنے والا نہیں ہے ۔ نہ آپ کے بعد کوئی جدید رسالت بھیجی جانے والی ہے کہ اس حکم میں کوئی تبدیلی لائی جاسکے کہ اب قرآن مرجع نہیں رہا ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس دین کو مکمل کردیا ہے اور اس طرح مسلمانوں پر اپنی نعمت تمام کردی ہے اور ان تمام اہل ایمان کے لئے یہ اسلامی نظام حیات پسند کرلیا ہے اب اس میں کسی ترمیم اور تبدیلی کا کوئی راستہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی اصول کے مطابق اللہ کے کسی حکم کو تبدیل کرکے اسکی جگہ دوسرا حکم نافذ کرسکتے ہیں ۔ جس وقت اللہ تعالیٰ نے اس دین کو لوگوں کے لئے پسند فرمایا تو اللہ کو علم تھا کہ یہ دین تمام لوگوں کے لئے اپنے اندر گنجائش رکھتا ہے اور جب اس دین کو ہدایت کا مرجع بنایا گیا تو اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ اس میں سب کے لئے فلاح اور بھلائی ہے ۔ یہ تمام لوگوں کی زندگی کے تمام مسائل قیامت تک حل کرسکتا ہے اور یہ کہ اس کے اندر کوئی تبدیلی (اس سے روگردانی تو بڑی بات ہے) موجب کفر ہے ۔ ایسا فعل کرنے والا دین سے خارج ہے اگرچہ زبانی طور پر وہ لاکھ مرتبہ اپنے آپ کو مسلمان کہے ۔ یہ اس دین کی اس نوعیت کا لازمی نتیجہ ہے ۔
اللہ کو علم تھا کہ اس راہ میں لوگ لمبی چوڑی معذرتیں پیش کریں گے اور یہ معذرتیں اس لئے پیش کی جائیں گی کہ اللہ کے نازل کردہ قانون سے پھر کر ان لوگوں کے بنائے ہوئے قوانین پر عمل کیا جائے جو جعلی طور پر حاکم بن گئے ‘ یا محکوم ہیں۔ بعض حالات میں مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کے متعلق بعض لوگوں کے دلوں میں اندیشے پیدا ہوں گے ‘ لیکن ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی اکرم ﷺ کو دو بار اس بارے میں متنبہ کیا آپ ایسے لوگوں کی خواہشات اور خدشات کی پیروی نہ کریں اور ایسے لوگوں کے فتنے سے بچیں۔
ان خدشات میں سے پہلا خدشہ یہ ہے کہ انسان کے اندر ایک فطری جذبہ ہوتا ہے کہ اس سے سب لوگ خوش رہیں اور تمام طبقات اور تمام رجحانات کے لوگوں کا لحاظ رکھا جائے ۔ ان کے وہ رجحانات جن کا اسلامی شریعت کے ساتھ تضاد آتا ہے ان میں ان کا لحاظ رکھا جائے ۔ اور معمولی باتوں میں نرمی کی جائے یا ان معاملات میں تساہل کیا جائے جو بظاہر شریعت کے دائرہ اثر میں نہیں آتے ۔
روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو یہودیوں نے یہ پیشکش کی کہ وہ ایمان لے آئیں گے اگر آپ بعض احکام کے بارے میں ان کے ساتھ مصالحت کرلیں ان میں سے ایک رجم کا حکم تھا اور یہ تنبیہ خصوصا ایسے موقع پر نازل ہوئی جیسا کہ اس سے ظاہر ہے ۔ لیکن ان آیات میں جو حکم دیا گیا ہے وہ کسی خصوصی سبب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے عام ہے ۔ یہ حکم مختلف احوال کے لئے ہو سکتا ہے اور حاملین شریعت کو ہر دور میں ایسے حالات پیش آسکتے ہیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ تھی کہ وہ اس معاملے میں نہایت ہی دو ٹوک بات کردیں اور انسانی خواہش کا ہر خفیہ راستہ بند کردیں جن میں انسان حالات اور واقعات کے مطابق پوری شریعت کے نفاذ میں تساہل کرتا ہے یا بعض لوگوں کی دلجوئی کے لئے تساہل کرتا ہے جبکہ لوگوں کی خواہشات اور میلانات مختلف ہوتے ہیں ۔ چناچہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ سے کہا کہ اگر اللہ چاہتا تو لوگوں کو ایک امت بنا دیتا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے لئے ایک نظام اور منہاج مقرر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو جو شریعت عنایت فرمائی تھی انہیں اس کے بارے میں آزمائش میں ڈال دیا اور اس دنیا کی زندگی کے لئے انہیں جو کچھ دیا گیا اس کے بارے میں بھی ان کی آزمائش ہوگی ۔ ہر ایک اپنے لئے ایک طریقہ وضع کرلیتا ہے ۔ اس کے بعد تمام لوگ لوٹائے جائیں گے ۔ اللہ ان کو حقیقت سے آگاہ فرمائے گا اور انہوں نے جو جو طریقے اختیار کئے ان پر ان کا محاسبہ کرے گا ۔ اس لئے ان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ شریعت میں کوئی سستی اور تساہل برتیں اور اس طرح مختلف مسالک اور مشارب کے لوگوں کو جمع کرنے کی سعی کریں ‘ اس لئے کہ یہ اجتماع ممکن ہی نہیں ہے ۔
(آیت) ” لیبلوکم فی ما اتکم فاستبقوا الخیرت ، الی اللہ مرجعکم جمیعا فینبئکم بما کنتم فیہ تختلفون (5 : 48)
” ہم نے تم ” انسانوں “ میں سے ہر ایک کیلئے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی ۔ اگر تمہارا خدا چاہتا تو تم سب کو ایک امت بھی بنا سکتا تھا ‘ لیکن اس نے یہ اس لئے کیا کہ جو کچھ اس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ، لہذا بھلائیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے ‘ پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو ۔
اللہ تعالیٰ نے اس طرح شیطان کی تمام راہیں بند کردیں ۔ یعنی وہ سب راہیں جو بظاہر اچھی تھیں اور ان کے ذریعے تالیف قلب ہو سکتی تھی ۔ خصوصا ایسی صورت میں جبکہ شریعت کے نفاذ میں بعض امور پر سودا بازی کی جائے اور اس تساہل کے ذریعہ تمام لوگوں کو راضی رکھا جائے ۔ یا شریعت میں تساہل کے ذریعہ ” قومی اتحاد کا حصول “ جیسے نعرے لگائے جائیں ۔
اسلامی شریعت ایک نہایت ہی قیمتی سرمایہ ہے ۔ وہ اس سے زیادہ قیمتی ہے کہ اس کے بعض اجزاء کی قیمت پر کسی ایسے مقصد کو حاصل کرنے کی سعی کی جائے جسے اللہ کی تقدیر نے نہیں چاہا ۔ اللہ ہی نے تو لوگوں کو پیدا کیا ہے اور ان میں سے ہر شخص کو علیحدہ علیحدہ استعداد دی ہے اور لوگوں کے مسالک ومشارب بالکل مختلف اور متنوع ہیں ۔ ہر ایک کو اپنا طریقہ اور اپنا منہاج ہے ۔ اور یہ اللہ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ لوگوں کو اس طرح مختلف طبائع کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے ۔ اللہ نے ان پر ہدایت پیش کی اور انہوں نے اسی طرح چھوڑ دیا کہ وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی سعی کریں ۔ یہ مسابقت ان کے درمیان ایک قسم کا ابتلاء ہے اور اسی ابتلاء آزمائش کی وجہ سے قیامت کے دن جب سب لوگ اللہ کے ہاں جائیں گے تو انہیں جزاوسزا ہوگی ۔
اس لئے کہ یہ کٹ حجتی ہوگی اور ایک ناکام کوشش ہوگی کہ کوئی شخص لوگوں کو اسلامی شریعت کے کسی حصے کو قربان کرکے جمع کرے یا لوگوں کی اصلاح اور ان کی معاشی حالات درست کرنے کے لئے شریعت کی کوئی انوکھی تعبیر کی جائے۔ اسلامی شریعت میں تبدیلی یا اس سے روگردانی کی وجہ سے دنیا میں فساد ہی برپا ہو سکتا ہے ۔ اصلاح نہیں ہو سکتی ۔ اس طرح تو صرف یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ لوگ اللہ کے درست اور سیدھے منہاج سے روگردانی کرلیں ، لوگوں کی زندگیوں میں عدل و انصاف کا نام و نشان نہ رہے اور بعض لوگ بعض دوسروں کے غلام بن جائیں ۔ پھر ان میں سے بعض ‘ بعض دوسروں کے لئے الہ اور رب کا مقام حاصل کرلیں ۔ یہ ایک عظیم شروفساد ہوگا اور اس عظیم شر کو محض ایک موہوم مقصد کے لئے برپا ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جبکہ یہ مقصد ہو بھی ناممکن الحصول ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ اصول رکھا ہی نہیں ہے کہ تمام لوگ ایک ہی راہ پر آجائیں ۔ یہ مقصد اس حکمت اور اسکیم کے بھی خلاف ہے جس کے تحت اللہ تعالیٰ نے مختلف راستے مختلف منہاج اور مختلف ذوق پیدا کئے ہیں ۔ وہی تو ہے جو سچائی کا بھی خالق ہے ‘ اور تمام امور اول اور آخر سب اس کے ہاتھ میں ہیں اور اسی کی طرف تمام لوگوں کو لوٹنا ہے ۔
ایسے مقاصد کے لئے شریعت کے کسی حصے کو حذف کردینے کی کوئی کوشش اس آیت کی رو سے ایک ناکام کوشش ہے اور انسانوں کی عملی زندگی اس بات کی شاہد ہے ۔ اس کے لئے کسی عملی جواز کی ضرورت نہیں ہے ۔ اور اس بات پر ارادہ الہی سے بھی کوئی دلیل نہیں ہے اور اسلامی شعور کے اندر بھی ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ اسلامی شعور اور احساس تو یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا ارادہ بروئے کار آئے ۔ بعض لوگ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ‘ وہ یہاں تک کہتے ہیں ہم اسلامی نظام شریعت اس لئے نافذ نہیں کرتے کہ اس سے ہمارے ملک میں سیاحوں کی آمد کم ہوجائے گی ۔ بالکل وہ ایسا ہی کہتے ہیں ۔
چناچہ قرآن کریم اس حقیقت کی دوبارہ وضاحت کرتا ہے پہلی آیت تو یہ بھی ۔
(آیت) ” فاحکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھوآء ھم عما جآءک من الحق “۔ (5 : 48) (پس آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں اس سچائی کے مطابق جو اللہ نے نازل کی ہے اور اتباع نہ کریں ان کی خواہشات بمقابلہ اس کے جو سچائی تمہارے پاس آئی) اس سے یہ مراد ہو سکتی تھی کہ پوری شریعت کو نہ چھوڑ دیا جائے محض لوگوں کی خواہشات کی وجہ سے ۔ لیکن اگر شریعت کا حصہ چھوڑنا پڑے تو اس کے بارے میں یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ بعض (آیت) ” بما انزل اللہ (5 : 48) کا بھی چھوڑنا منع ہے ۔
Ayah 5:49(آیت) ” وان احکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھوآء ھم واحذرھم ان یفتنوک عن بعض ما انزل اللہ الیک “۔ (5 : 49) (پس اے نبی ﷺ تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو ۔ ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اس ہدایت سے ذرہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں جو خدا نے تمہاری طرف نازل کی ہے)
یہ تنبیہ بہت ہی شدید ہے اور بہت ہی مفصل ہے ۔ یہ صورت حال کی حقیقی تصور کشی ہے اس لئے کہ یہ ایک عظیم فتنہ ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس سے خبردار رہیں اور تمام فیصلے اللہ کی شریعت کے مطابق کریں ۔ اگر مکمل شریعت نہ ہوگی تو پھر مکمل خواہش پرستی ہوگی جس سے اللہ تعالیٰ ڈراتے ہیں ۔
اگلی آیت میں بعض خدشات اور پریشانیوں کو دور کیا جاتا ہے اور رسول خدا ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اگر یہ لوگ شریعت کے بڑے احکام سے پہلے شریعت کے چھوٹے احکام نافذ کرنا پسند نہیں کرتے اور اگر یہ لوگ اسلام کو مکمل دین کے طور پر اختیار نہیں کرتے ۔ یا اسلامی شریعت کے مطابق اپنے فیصلے نہیں لے جاتے ۔ (یہ اس دور کی بات ہے جب شریعت کے مطابق فیصلے اختیاری تھے ابھی تک شریعت کا نظام حتمی طور پر نافذ نہ ہوا تھا ۔ جب دارالاسلام مکمل طور پر قائم ہوگیا تھا تو پھر شریعت کے مطابق فیصلے کرانا لازم کردیا گیا) تو پھر یہ لوگ اللہ کے عذاب کے لئے تیار رہیں ۔
(آیت) ” فان تولوا فاعلم انما یرید اللہ ان یصیبھم ببعض ذنوبھم وان کثیرا من الناس لفسقون (5 : 49)
” پھر اگر یہ اس سے منہ موڑیں تو جان لو کہ اللہ نے ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں ان کو مبتلائے مصیبت کرنے کا ارادہ ہی کرلیا ہے ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ ان لوگوں میں سے اکثر فاسق ہیں ۔
اگر یہ لوگ منہ پھیر لیں تو آپ پر کیا ذمہ داری ہے آپ اپنی جگہ شریعت کو پوری قوت کے ساتھ تھامے رہیں اور اللہ کے احکام نافذ کریں ۔ ان لوگوں کا اعراض اور روگردانی آپ کی گرفت کو ڈھیلا نہ کر دے اور آپ کو اپنے موقف سے ہٹا نہ دے ۔ یہ لوگ تو اعراض اس لئے کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں سخت مصیبت میں ڈالنے والے ہیں ۔ یہ اللہ کی اسکیم ہے کہ یہ لوگ برے نتائج کا شکار ہوں ‘ نہ آپ ‘ نہ اللہ کی شریعت اور نہ اللہ کا دین متاثر ہوگا اور نہ اسلامی محاذ متاثر ہوگا جس نے شریعت کو پوری طرح پکڑ رکھا ہے ۔ ہاں یہ بات انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ لوگوں کی اکثریت فسق وفجور میں مبتلا رہتی ہے اس لئے وہ اسلام سے نکلتے ہیں اور منحرف ہوجاتے ہیں ۔ (آیت) ” وان کثیر من الناس لفسقون “۔ (5 : 49) بیشک لوگوں کی اکثریت فسق وفجور میں مبتلا رہتی ہے ۔ یہ لوگ اس طرح رہیں گے اور آپ اس صورت حال کو بدل نہیں سکتے ۔ اس میں شریعت کا بھی کوئی قصور نہیں ہے اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اکثریت کو راہ مستقیم پر استوار کردیا جائے ۔
اس طرح ایک مومن کے نفس کے اندر شیطان کی وسوسہ اندازی کے تمام راستے بند کردیئے جاتے ہیں اور ایک مومن اپنی راہ پر دلیل کے ساتھ چلتا ہے ۔ اسلامی شریعت اور اسلامی احکام میں سے کسی حکم کے چھوڑنے کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا ۔ یہ کام کسی دنیاوی غرض کے لئے بھی نہیں ہو سکتا ۔ اور نہ حالات میں سے کسی حال میں ہو سکتا ہے ۔
یہاں آکر قرآن کریم انسانوں کو دوراہئے پر لا کر کھڑا کردیتا ہے ۔ یا تو انہوں نے حکم اور قانون کی راہ اختیار کرنی ہوگی یا وہ جاہلیت کی راہ اپنائیں گے ۔ ان دوراہوں کے درمیان نہ تیسری راہ ہے اور نہ ان کے متبادل اور کوئی راہ ہے ۔ دنیا میں اللہ کے احکام نافذ ہوں گے اور لوگوں کی زندگی میں اسلامی شریعت نافذ ہوگی یعنی یا انسانیت کی قیادت اسلامی نظام کرے گا اور یا احکام جاہلیت نافذ ہوں گے ‘ قانون سرکشی نافذ ہوگا اور غلامی کا نظام جاری رہے گا ۔ اب اس دورا ہے پر لوگوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں ۔