Ayah 5:54(آیت) ” نمبر 54 تا 56۔
اس صورت میں اور اس مقام پر مسلمانوں کو یہ تنبیہ کرنا کہ وہ مرتد نہ ہوجائیں ‘ اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ ارتداد اور یہود ونصاری کے ساتھ دوستی اور تعلق موالات کے درمیان گہرا ربط ہے۔ خصوصا اس ریمارک کے بعد کہ جو شخص ان کے ساتھ محبت وموالات کا تعلق قائم کرے گا وہ انہیں میں شمار ہوگا ۔ وہ جماعت مسلمہ سے خارج تصور ہوگا اور ان کافر اور آدمی ہوگا ۔ (آیت) ’ ومن یتولھم منکم فانہ منھم) (تم میں سے جو ان کے ساتھ موالات کرے گا وہ ان میں سے ہوگا) اس مفہوم کی رو سے یہ دوسری پکار پہلی ہی تاکید وتائید ہوگی اور اس پکار کے بعد جو تیسری پکار آرہی ہے وہ بھی اس مفہوم پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہاں اہل کتاب اور کفار دونوں کے ساتھ تعلق موالات کی ممانعت کا ذکر ہے اور ان کو ایک صف میں کھڑا کردیا گیا ہے کہ اہل کتاب اور کفار کے ساتھ موالات کا درجہ ایک ہی ہے اور یہ کہ اسلام میں اہل کتاب اور دوسرے کفار کے ساتھ بعض تعلقات میں جو فرق کیا گیا ہے وہ ہدایات تعلق موالات پر لاگو نہیں ہیں ان میں موالات شامل نہیں ہے ۔
(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ مَن یَرْتَدَّ مِنکُمْ عَن دِیْنِہِ فَسَوْفَ یَأْتِیْ اللّہُ بِقَوْمٍ یُحِبُّہُمْ وَیُحِبُّونَہُ أَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ أَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ یُجَاہِدُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَلاَ یَخَافُونَ لَوْمَۃَ لآئِمٍ ذَلِکَ فَضْلُ اللّہِ یُؤْتِیْہِ مَن یَشَاء ُ وَاللّہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(54)
” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ‘ اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے ۔ (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے ‘ جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے ‘ جسے چاہے عطا کرتا ہے ۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے ۔
کسی ایک گروہ اور جماعت کو اللہ کے کام پر لگانا اللہ کی منشا کو پورا کرنا ہے ۔ اگر ایسا گروہ اس کرہ ارض پر اللہ کے دین کی اقامت کے لئے دست قدرت کا آلہ کار ہو ‘ اور اور اس کے ذریعے دنیا میں عوام الناس پر اللہ کی حکومت قائم ہو ‘ ان کی زندگی میں اللہ کے احکام وہدایت نافذ ہوں ‘ انہی کے مطابق ان کی انتظامیہ ہو ‘ ان کی عدالتوں میں اسلامی شریعت نافذ ہو اور بھلائی ‘ خیر ‘ پاکیزگی اور ترقی کا دور دورہ ہو اور یہ اسلامی نظام کی وجہ سے دنیا کو حاصل ہو تو اس گروہ کا اس کام کے منتخب ہونا اور کیا جانا ہی اللہ تعالیٰ کا عظیم فضل وکرم ہے ۔ اب اگر کوئی اپنے آپ کو اللہ کے اس فضل وکرم سے محروم کرتا ہے تو یہ اس کی اپنی بدبختی ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ غنی بادشاہ ہے اور ان محروم ہونے والوں کے علاوہ بھی اللہ کے علم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس فضل وکرم کے مستحق ہیں ۔
یہاں اللہ تعالیٰ ان مختاران الہی کی جو تصویر کشی فرماتے ہیں اس کے خدوخال نہایت ہی واضح ہیں اور ان کی صفات کا ذکر بھی نہایت ہی واضح طور پر کردیا گیا ہے ۔ یہ تصویر نہایت ہی روشن اور پرکشش ہے ۔
(آیت) ” فسوف یاتی اللہ بقوم یحبونہ “۔ (5 : 54) ” اللہ بہت سے لوگ پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا “۔ یعنی ان کے اور ان کے رب کے درمیان رابطہ اور تعلق محبت کے متبادل تحفے ہوں گے ۔ محبت کیا ہے ؟ ایک روح ہے جو نہایت ہی لطیف ‘ روشن ‘ پر رونق اور نہایت ہی ہشاش وبشاش روح ہے ۔ جو اس قوم اور اللہ تعالیٰ کے درمیان رابطے کا کام دیتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ محبت کرتا ہے ۔ یہ ایک ایسا امر ہے جس کی قدروقیمت کا ادراک صرف اس شخص کو ہو سکتا ہے جس کو معرفت ربانی حاصل ہو اور انہیں صفات سے متصف ہو جو اللہ نے خود بیان کی ہیں ۔ نیز صرف وہی شخص اس کا تصور کرسکتا ہے جس کے حس ‘ شعور اور نفس وشخصیت پر ان صفات کا پر تو پڑا ہو۔ یہ فضل وکرم اسی شخص کے ادراک میں آسکتا ہے جو اس داتا کی حقیقت سے واقف ہو ‘ جو جانتا ہو کہ اللہ کون ہے ؟ اس عظیم کائنات کا مالک اور صانع کون ہے ؟ اور اس کائنات میں اس چھوٹے سے کیڑے انسان کا بھی وہ خالق ہے جو نہایت اونچی عظمتوں والے کے اقتدار میں ہے اور وہ اس کی خدمت میں ہے جو خالص اسی کا ہے اور اس کی بادشادہی میں ہے ۔ اور وہ ذات کون ہے اور یہ انسان کیا ہے جس پر ذات فضل وکرم کر رہی ہے ۔ اس کے ساتھ محبت کر رہی ہے حالانکہ انسان خود اس کا بنایا ہوا ہے ۔ وہ پاک ہے ‘ جلیل القدر ‘ عظیم المرتبہ ‘ الحی ‘ الدائم ‘ الارفیع ‘ الابدی ‘ الاول ‘ الاخر اور الظاہر والباطن ہے ۔
کسی بندے کا اپنے اللہ کے ساتھ محبت کرنا اس بندے کے لئے ایک نعمت ہے اور اس کی صرف وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس کو اس کا ذوق ہو اور اللہ کی جانب سے کسی بند کے ساتھ محبت کرنا تو ایک عظیم بات ہے اور یقینا عظیم اور بھرپور اور فضل جزیل ہے ۔ اسی طرح اللہ کا اپنے بندوں کو ہدایت دینا ‘ ان کی تعریف کرنا بھی ایک بہت بڑا اعزاز ہے ۔ ان کے اندر اس ذوق جمیل کا پیدا ہونا اور ایک ایسا ذوق محبت پیدا ہونا جس کی دنیا کی محبتوں میں کوئی نظیر نہ ہو ‘ تو یہ بھی ایک عظیم وانعام واکرام ہے اور ایک عظیم فضل وکرم ہے ۔
جس طرح اللہ کی جانب سے بندے کے ساتھ محبت ناقابل بیان ہے اسی طرح بندے کی جانب سے اللہ کے ساتھ محبت بھی ناقابل بیان ہے ۔ دنیا کے محبت کرنے والوں کے کلام میں اور عبادات میں اس کا اظہار ممکن نہیں ہے ۔ اور یہ وہ شعبہ ہے جس میں صوفیا میں سے واصل باللہ لوگ ہی برتری کے حامل ہیں ۔ لیکن صوفیوں کے لباس میں ‘ نام نہاد صوفیوں کی جو فوجیں پھرتی نظر آتی ہیں اور عوام کے درمیان معروف ہیں ان میں ایسے واصل باللہ بہت ہی کم نظر آئیں گے ۔ اس سلسلے میں رابعہ عدویہ کے کچھ اشعار میرے ذہن کی اسکرین پر آتے ہیں ۔ وہ کہتی ہیں :
فلیتک تحلوا والحیاۃ مریرۃ
ولیتک ترضی والانام غضاب
(اے کاش کہ آپ میٹھے ہوں اور زندگی کڑوی ہو اور اے کاش کہ آپ راضی ہوں اور تمام لوگ مجھ پر غضبناک ہوں)
ولیست الذی بینی وبینک عامر
وبینی وبین العلمین خراب :
(اے کاش کہ میرے اور آپ کے درمیان ہے وہ بستا رہے اور میرے اور لوگوں کے درمیان جو ہے وہ خراب ہو) یعنی تعلق ورابطہ ۔
اذا صح منک الحب فالکل ھین
وکل الذی فوق التراب تراب :
(اگر آپ کی جانب سے محبت درست ہوجائے تو پھر سب کچھ آسان اور حقیقت یہ ہے کہ اس مٹی کے اوپر جو مخلوق بھی چلتی پھرتی ہے وہ مٹی ہی ہے)
اللہ جل شانہ کی طرف سے اپنے بندوں میں سے ایک بندے کے ساتھ یوں اظہار محبت اور ایک عاجز بندے کی طرف سے اللہ کے ساتھ اظہار محبت جو منعم حقیقی ہے اور جو حقیقی فضل کرنے والا ہے ایک انعام ہے ۔ یہ محبت اس پوری کائنات میں پھیل جاتی ہے اور یہ محبت بھی ہر زندہ چیز کا مزاج بن جاتی ہے ہے پھر ایک فضا ہوتی ہے اور ایک سایہ ہوتا ہے جو اس پورے وجود کائنات پر چھا جاتا ہے اور انسان جو محبت بھی ہے اور محبوب بھی ‘ اس کی زندگی کا پیمانہ تو اس محبت سے پوری طرح بھر جاتا ہے ۔
اسلامی تصور حیات ایک مومن اور اس کے رب کے درمیان اس طرح کا محبوب رابطہ قائم کرتا ہے جو نہایت ہی عجیب اور نہایت ہی پیارا ہوتا ہے ۔ یہ دائمی محبت کا رابطہ ایسا نہیں ہوتا کہ اچانک قائم ہوجائے یا ایک چمک پیدا ہو اور چلی جائے ۔ یہ اسلامی تصور حیات میں ایک بنیادی اور حقیقی عنصر ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
(آیت) ” ان الذین وعملوا الصلحت سیجعل لھم الرحمن ودا) ” وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے رحمن محبت کرنے والا ہے) اور دوسری جگہ ہے ۔ (آیت) ” ان ربی رحیم ودود “۔ ” بیشک میرا رب رحم کرنے والا اور محبت کرنے والا ہے ) اور دوسری جگہ ہے ۔ (آیت) ” واذا سئلک عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوۃ الداع اذا دعان) ” اور جب تم سے میرے بندے ‘ میرے بارے میں پوچھیں و بیشک میں قریب ہوں میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں ‘ جب وہ پکارتا ہے ۔ “ (آیت) ” والذین امنوا اشد حب اللہ) ” اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اللہ کے ساتھ شدید محبت رکھتے ہیں ۔ “
اور دوسری جگہ ہے ۔ (آیت) ” قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ‘ ” کہہ دیجئے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اطاعت کرو ‘ تم سے اللہ محبت کرے گا) وغیرہ وغیرہ بیشمار ایسی آیات ہیں جو اس مضمون کا ظاہر کرتی ہیں۔
ان لوگوں پر تعجب ہے کہ وہ اس مضمون کی آیا پڑھتے ہیں اور پھر بھی کہتے ہیں کہ اسلامی تصور حیات ایک خشک سخت اور کرخت تصور ہے اور اس میں خدا بندے کے درمیان تعلق قہر وغضب سزا گوشمالی اور سختی اور دوری کا تعلق ہے ۔ اس میں کوئی ایسا تصور نہیں جس طرح مسیحی تصور میں مسیح کو اقانیم الوہیت میں سے ایک اقنوم تصور کیا جاتا ہے ۔ اور لوگوں میں اور اللہ میں ایک گہرا ربط بلکہ من تو شدم تو من شدی کا تصور پیدا ہوتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تصور حیات کی صفائی اور اس میں حقیقت الوہیت اور مقام بندگی کے اندر مکمل فرق و امتیاز کرنے کی وجہ سے ‘ الفت و محبت کی پرنم فضا میں کوئی کمی نہیں آتی ۔ اللہ اور بندے کے درمیان اس تصور میں نہایت ہی گہرا ربط موجود ہے لیکن یہ ربط وتعلق رحمت اور عدل کا تعلق ہے ۔ اس تعلق کا ایک رخ باہم محبت ہے تو دوسرا رخ مکمل پاکیزگی کا ہے ۔ ایک طرف محبت ہے اور دوسری جانب اللہ کی ذات کے لئے پاکیزگی ہے یہ نہایت ہی جامع اور مانع تصور ہے ۔ اور اس سے وہ تمام بشری تقاضے پورے ہوتے ہیں جو اپنے رب کے حوالے سے انسان کو درکار ہیں۔
چناچہ اس ” مومن رجمنٹ “ کی صفت سے متعلق ‘ جسے اس دین کے لئے اٹھایا گیا ہے اس آیت میں یہ الفاظ آتے ہیں اور بار بار ذہن میں پھرتے ہیں۔ (آیت) ” یحبھم ویحبونہ “۔ (وہ اللہ سے محبت کرتا اور اللہ اس سے محبت کرتے ہیں)
اس فضائے محبت میں جب یہ رجمنٹ اپنے عظیم فرائض کی ادائیگی کے لئے نکلتی ہے اور یہ بوجھ اٹھاتی ہے تو اس کے دل میں یہ شعور ہوتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے اس خصوصی خدمت کے لئے بھرتی کیا ہے اور وہ اللہ جل شانہ کی خصوصی رجمنٹ ہے ۔
اس کے بعد اس رجمنٹ کی باقی خصوصیات بیان کی جاتی ہیں ۔ (آیت) ” اذلۃ علی المومنین “۔ (5 : 54) (مومنوں پر نرم ہوں گے) یہ ایک ایسی صفت ہے جو اطاعت ‘ نرمی اور یسر سے لی گئی ہے اور لفظ یہ استعمال کیا ہے کہ وہ مومنین کے مقابلے میں اپنے آپ کو ذلیل کر کے رکھیں گے ۔ لیکن اگر کوئی مومنین کے مقابلے میں اپنے نفس کو ذلیل کرتا ہے تو وہ ذلت نہیں ہے اور نہ اس میں توہین کا پہلو ہے اس لئے کہ ایک مومن دوسرے مومن کے مقابلے میں اپنے نفس کو ذلیل کرتا ہے تو وہ ذلت نہیں ہے اور نہ اس میں توہین کا پہلو ہے اس لئے ایک مومن دوسرے مومن کے مقابلے میں نہایت ہی نرم ہوتا ہے ‘ سخت اور نافرمان نہیں ہوتا ۔ آسان اور نرم ‘ جلدی لبیک کہنے والا ‘ روادار ‘ محبت کرنے والا ہوتا ہے ۔ اس لئے اس کے لئے اس لفظ کے استعمال میں ذلت بمعنی حقارت کا مفہوم نہیں ہے بلکہ اس سے اخوت ‘ محبت ‘ عدم تکلف ‘ نفسیاتی اتحاد اور نظریاتی لگاؤ کے معانی کا اظہار ہوتا ہے ۔ ایک مومن اور دوسرے مومن کے درمیان کوئی پردہ اور راز نہیں رہتا۔
جب انسان بعض چیزیں اپنی ذات کے لئے اٹھا رکھتا ہے تو یہ جذبہ اسے اپنے دوسرے بھائی کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ‘ بخیل اور کنجوس بنا دیتا ہے ۔ لیکن جب ایک شخص اپنے آپ کو ایک کمپنی یا رجمنٹ کا فرد بنا لیتا ہے تو وہ اپنا سب کچھ اس کے لئے قربان کردیتا ہے اور اس کی انفرادیت کا دائرہ محدود ہوجاتا ہے ۔ پھر اس کمپنی کے علاوہ وہ اپنے لئے کچھ اٹھا نہیں رکھتا جبکہ ان کی کمپنی اخوت اسلامی کی کمپنی ہوتی ہے اور وہ اللہ کے نام اور نظام پر جمع ہوئے ہیں۔ اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ محبت الہی ہی ان میں مشترک ہے اور یہ اسے باہم تقسیم کرتے ہیں ۔
(آیت) ” اعزۃ علی الکفرین “۔ (5 : 54) (جو کفار پر سخت ہوں گے) یعنی کافروں کے مقابلے میں ان کے اندر برتری ‘ ناپسندیدگی اور برتری کے جذبات پائے جاتے ہیں اور چونکہ مقابلہ کفار کے ساتھ ہے اس لئے ان کے مقابلے میں ان جذبات کا ہونا مناسب ہے ۔ ان جذبات کا اظہار ان کے مقابلے میں محض ذاتی عزت کے اظہار کے لئے نہیں ہے اور نہ صرف اپنی خودی بلند کرنا مطلوب ہوتا ہے بلکہ ان کی جانب سے عزت کا اظہار اسلامی نظریہ حیات کی طرف سے عزت کا اظہار ہوگا اس جھنڈے کی برتری ہوگی جس کے نیچے اہل ایمان کھڑے ہوں گے اور اہل کفار کے مقابلے میں ہوں گے ۔ اس سے اس بات کا اظہار ہوگا کہ ان کے پاس جو کچھ ہے وہ خیر ہے اور ان کا مقام یہ ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے ساتھ لے کر اس بھلائی کے تابع کردیں ، یہ نہیں ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ مل کر اس چیز کے تابع ہوجائیں جس کے وہ دوسرے حامل ہیں اور وہ خیر نہیں ہے ۔ اس اظہار برتری اور سختی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے اندر دین کے بارے میں خود اعتمادی ہے اور وہ ہوا وہوس کے دین پر قابو پا چکے ہیں ۔ انکے ہاں اللہ کی قوت تمام دوسری قوتوں پر غالب ہے اور اللہ کی جماعت تمام احزاب پر غالب ہے ۔ اگر وہ بعض معرکوں میں شکست بھی کھا جائیں تو پھر بھی وہ بلند عزم لئے ہوئے ہیں کیونکہ اسلامی جدوجہد کی طویل راہ میں بھی کبھی لغزش بھی تو ہو سکتی ہے ۔
(آیت) ” یجاھدون فی سبیل اللہ ولا یخافون لومۃ لائم “۔ (5 : 54) ” وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے ۔ “ یہ جہاد فی سبیل اللہ ہوگا ‘ یہ اس لئے ہوگا کہ زمین پر اسلامی نظام قائم کیا جائے ‘ یہ اس لئے ہوگا کہ لوگوں پر اللہ کی بادشاہت کا اعلان کیا جائے ‘ یہ اس لئے ہوگا کہ ملک کے اندر اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے ہوں اور ملک کے اندر بھلائی ترقی اور اصلاح بین الناس کا دور دورہ ہو ۔ یہ ہے ایک دوسری صفت اسلامی رجمنٹ کی ۔ اور اسے اللہ تعالیٰ نے محض اس لئے قائم کیا ہے کہ وہ اس کی زمین پر وہ فریضہ سرانجام دے جو اللہ کو مطلوب ہے۔
یہ رجمنٹ فی سبیل اللہ جہاد کرے گی ‘ اپنے ذاتی مقصد کے لئے نہ کرے گی ۔ نہ اپنی قوم کے کسی مقصد کے لئے لڑے گی ‘ نہ اپنے وطنی مقاصد میں سے کسی مقصد کے لئے لڑے گی ‘ نہ اپنے وطنی مقاصد میں سے کسی مقصد کے لئے لڑے گی ‘ نہ وہ کسی نسل کے لئے کام کرے گی ۔ اس رجمنٹ کے ارکان صرف اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور یہ جہاد اسلامی نظام حیات کے قیام کے لئے ہے ‘ اللہ کی حکومت کے قیام کے لئے ہے ‘ اور اللہ کی شریعت کے نفاذ کے لیے ہے اور اس راہ میں تمام لوگوں کی بھلائی ہے ۔ اس میں ان کی ذاتی کوئی غرض نہیں ہے ‘ نہ ان کا اپنا کوئی حصہ ہے ۔ یہ گروہ صرف اللہ کے لئے ہے اور اس میں کوئی اور شریک نہیں ہے ۔
یہ رجمنٹ اللہ کے راستے میں لڑنے مرنے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا کوئی لحاظ نہ رکھے گی ۔ اس کو لوگوں کا کیا خوف ہوگا اور وہ کیا پرواہ کرے گی وہ تو اللہ کی محبت میں سرشار ہوگی اور یہی محبت اس کے لئے امام ضامن ہے ۔ لوگوں کے ہاں رائج مقامات قیام پر وہ سٹاپ نہ کرے گی ۔ سوسائٹی کی اقدار اس کی نظروں میں ہیچ ہوں گی اور جاہلیت کے ہاں معروف اس کے لئے معروف نہ ہوگا ۔ وہ تو سنت الہی کی رجمنٹ ہوگی اور وہ اسلامی نظام حیات پیش کرنے والی ہوگی ۔ لوگوں کی ملامت سے تو وہ لوگ ڈرتے ہیں جو اپنی اقدار اور ہدایات لوگوں کی خواہشات کے مطابق کرنے والی ہوں گی ۔ لوگوں کی ملامت سے تو وہ لوگ ڈرتے ہیں جو اقدار اور ہدایات لوگوں کی خواہشات کے مطابق تشکیل دیتے ہیں اور جن کی قوت اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں لیکن جس جماعت کا رخ اللہ کی اقدار اور پیمانوں کی طرف ہوگا وہ تو کلمہ حق کو عوام کی اقدار اور پیمانوں پر غالب کرنے کی سعی کرے گی اور لوگوں کی خواہشات کے برعکس کام کرے گی تو وہ لوگوں سے کیا ڈرے گی ۔ جس شخص کی قوت اور اقدار کا سرچشمہ ذات باری ہو ‘ تو کیا پرواہ ہو سکتی ہے کہ لوگ کیا کہتے ہیں اور کیا کرتے ہیں ۔ وہ تو یہ سمجھے گا کہ گویا لوگ سرے سے موجود ہی نہیں ہیں ۔ ان لوگوں کی صورت حالات جو ہو سو ہو ‘ ان لوگوں کی تہذیب و تمدن جو ہو سو ہو ‘ وہ اپنی راہ پر رواں دواں رہے گا ۔
ہم لوگ تو دیکھتے ہیں کہ لوگ کیا کہتے ہیں ‘ لوگ کرتے ہیں ‘ لوگوں کے پاس کیا فکر وعمل ہے ‘ لوگ کن اصطلاحات میں بات کرتے ہیں ‘ لوگوں کی عملی زندگی کیا ہے اور ان میں کیا اقدار اور پیمانے ملحوظ ہیں ۔ ہمارا یہ رویہ اس وجہ سے ہے کہ ہم نے اصل اصول کو بھلا دیا ہے جس کے مطابق ہم نے ان اعتبارات کے مقابلے میں ایک پیمانہ بنانا ہے ‘ جس کے مطابق ہم نے اپنے حساب کو درست کرنا ہے اور جس کے مطابق ہم نے آپ کو تولنا ہے ۔ اور وہ اصول ہے اسلامی نظام حیات اسلامی شریعت اور اللہ کے احکام اصل بات یہ ہے کہ یہی ہے اصول حق اور اس کے ماسوا سب باطل ہے ۔ اگرچہ یہ لاکھوں کروڑوں کے لئے معروف ومتداول ہو۔ اگرچہ کئی نسلیں اسے صدیوں تک مانتی چلی آئی ہوں ۔
کسی صورت حال ‘ کسی رواج ‘ کسی عادت یا کسی قدر کی یہ کوئی قیمت (VAlue) نہیں ہے کہ وہ موجود ہے یا وہ امر واقعہ ہے یا لاکھوں لوگ اس کے ماننے والے والے ہیں یا لاکھوں لوگ اس طرح زندگی بسر کرتے ہیں یا تمام لوگ اسے اصول حیات تسلیم کرتے ہیں ۔ اس قسم کے پیمانے کو اسلامی تصور حیات سلیم نہیں کرتے بلکہ کسی صورت حال ‘ کسی رواج ‘ کسی عادت ‘ کسی قدر کی قیمت یہ ہوگی کہ اسلامی تصور حیات میں اس کی کوئی قیمت ہے یا نہیں ہے اس لئے کہ تمام اقدار اور پیمانوں کا معیار اسلامی نظام ہے ۔
یہ وجہ ہے کہ یہ اسلامی رجمنٹ اللہ کی راہ میں جہاد کرے گی اور وہ کسی امامت کرنے والے کی ملامت سے خوف نہ کھائے گی ، یہ ہے نشانی ان مومنین کی جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس رجمنٹ میں بھرتی کیا ہوگا ۔ اور یہ بھرتی بھی اللہ کرے گا اور پھر اس رجمنٹ کے سپاہیوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو بہت گہرا پیار ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ اپنے ان بہادروں کی نشانیاں بتا رہا ہے ۔ ان کے پتے بتا رہا ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ان بہادروں کے دلوں میں جو اطمینان ہوگا اور جس ثابت قدمی کے ساتھ راہ جہاد پر وہ رواں دواں ہوں گے یہ بھی اللہ کا فضل وکرم ہوگا ۔
(آیت) ” ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشآء واللہ واسع علیم “۔ (5 : 54) ” وہ جسے چاہتا ہے ذرائع دے دیتا ہے اور علم کے مطابق دیتا ہے ۔ اور اللہ کا دین بہت ہی وسیع ہے اور اس کے لئے جسے چاہتا ہے منتخب کرلیتا ہے “۔ اب اللہ تعالیٰ دھمکی کے بعد ‘ اس بات کا تعین فرماتے ہیں کہ اہل ایمان کی دوستی اور موالات کس کے ساتھ ہوگی اس کی تصریح کی جاتی ہے ۔
Ayah 5:55(آیت) ” إِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّہُ وَرَسُولُہُ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ الَّذِیْنَ یُقِیْمُونَ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ وَہُمْ رَاکِعُونَ (55)
” تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور رسول اللہ اور اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں ‘ زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں ۔
بطریق حصریہ فیصلہ دیا جاتا ہے جس میں کسی تاویل اور لیپاپوتی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی اور نہ اسلامی تحریک کو پگھلانے اور اسلامی تصور حیات کو ڈھیلا کرنے کی کوئی گنجائش رہتی ہے ۔
اس کے سوا کوئی اور بات ممکن بھی نہ تھی اس لئے کہ یہ مسئلہ اپنی اصلیت کے اعتبار سے نظریاتی مسئلہ ہے ۔ پھر اس نظریہ کو لے کر ایک تحریک برپا کرنے کا مسئلہ ہے اور اس میں دوستی اور موالات کا خالصۃ اللہ کے لئے ہونا ضروری ہے صرف اللہ ہی پر بھروسہ کرنا ضروری ہے تاکہ دین صرف اسلام ہوجائے اور اسلامی صفوں میں اور ان صفوں کے درمیان مکمل جدائی ہوجائے جو صفیں اسلام کو دین تسلیم نہیں کرتیں جو اسلام کو منہاج حیات نہیں بتاتیں ۔ یہ تمام دو ٹوک پالیسیاں اس لئے ہیں کہ اسلامی تحریک کے اندر سنجیدگی ہو اور اس کا اپنا نظام ہو ۔ اس میں صرف ایک ہی قیادت کے لئے دوستی اور وفاداری ہو اور اتحاد ویقین ایک ہی رجمنٹ کے افراد کے اندر ہو اس لئے کہ یہ اتحاد اس گروہ کے درمیان ہے جسے نظریات کی اساس پر اٹھایا گیا ہے ۔
اب اس رجمنٹ کے بعض دوسرے اوصاف گنوائے جاتے ہیں ۔ یہ اس کے ممتاز اوصاف ہیں اور یہ اس لئے گنوائے جاتے ہیں کہ اسلام محض ایک عنوان ہی نہ ہو ، محض جھنڈا اور علامت ہی نہ ہو ‘ محض زبانی جمع خرچ نہ ہو یا اس طرح نہ ہو کہ وہ ایک نسب کی طرح پشت درپشت سے منتقل ہوتا ہو یا محض ایک صفت ہو جو اچھے لوگوں میں پائی جاتی ہے بلکہ وہ ایک علمی دین ہو۔
(آیت) ” ْ الَّذِیْنَ یُقِیْمُونَ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ وَہُمْ رَاکِعُونَ (55)
” وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں ‘ زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں ۔ ان کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں ۔ صرف نماز ادا نہیں کرتے بلکہ قائم کرتے ہیں اقامت صلوۃ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ نماز پورے طور پر ادا کرتے ہیں اور ان کی نماز سے وہ آثار نمودار ہوتے ہیں جن کا ذکر اللہ نے فرمایا ہے ۔
(آیت) ” ان الصلوۃ تنھی عن الفحشآء والمنکر) (نماز فحاشی اور منکر سے روکتی ہے) اور جس شخص کی نماز اسے فحاشی اور برائیوں کے ارتکاب سے نہیں روکتی اس نے گویا نماز ادا نہیں کی ۔ اگر اس نے نماز قائم کی ہوتی تو نماز اسے برائیوں سے روکتی ۔
ان کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ زکوۃ دیتے ہیں ۔ یعنی اللہ کی عبادت کرتے ہوئے مال میں سے اللہ کا حق ادا کرتے ہیں ۔ یہ ایک قسم کی مالی عبادت ہے اور اسے دل کی رغبت اور رضا مندی سے ادا کیا جانا چاہئے اس لئے کہ زکوۃ محض ٹیکس نہیں ہے کہ اسے بادل ناخواستہ ادا کیا جائے ۔ زکوۃ بھی عبادت ہے بلکہ یہ مالی عبادت ہے اور یہ اسلامی نظام کی خصوصیت ہے کہ وہ ایک حکم کے ذریعے مختلف مقاصد کو حاصل کرلیتا ہے ۔ رہے انسانوں کے بنائے ہوئے نظام تو ان میں ایسی کوئی خصوصیت نہیں ہے کہ ایک پہلو میں ہدف کو پورا کرلیں اور دوسرا پہلو سرے سے غائب ہو۔
کسی معاشرے کی اصلاح صرف اس بات سے نہیں ہوتی کہ اس میں لوگوں سے مال محض ٹیکس کے طور پر لیا جائے یا دولت مندوں سے مال لیا جائے اور فقراء کو دیا جائے اور یہ کام حکومت اور قوم کے نام پر کیا جائے یا اسے مالیے کا نام دیاجائے ، ایسی صورتوں میں صرف ایک مقصد پورا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ محتاجوں تک دولت کا ایک حصہ پہنچ جاتا ہے ۔ رہی زکوۃ تو اس کے نام اور مفہوم دونوں سے پاکیزگی اور نشوونما کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس سے ایک طرف سے انسانی ضمیر کے لئے پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور دوسرے طرف مال کی پاکیزگی بھی حاصل ہوتی ہے کیونکہ یہ اللہ کی عبادت ہوتی ہے اور اس میں ادا کرنے والے کے جذبات اپنے فقراء بھائیوں کی طرف نہایت ہی محبت کے ہوتے ہیں ۔ زکوۃ دینے والا ایک عبادت کر رہا ہوتا ہے اور اس پر اسے قیامت میں اجر اور جزاء ملتی ہے ۔ نیز اس سے اس دنیا میں بھی معاشی ترقی ہوتی ہے اور مال میں برکت اور اضافہ ہوتا ہے ۔ پھر اس کے ذریعہ جو فقراء مال لیتے ہیں ان کے جذبات بھی مجروح نہیں ہوتے ۔ اس لئے کہ یہ لوگ اس کو اللہ کا فضل سمجھتے ہیں کہ اللہ نے ان کے لئے اغنیاء کی دولت میں حصہ رکھ چھوڑا ہے ۔ اس طرح ان کے دلوں میں اغنیاء کے خلاف عداوت وبغض پیدا نہیں ہوتا ۔ (اور یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ اسلامی معاشرے میں اغنیاء بھی حلال ذرائع سے مال کماتے ہیں وہ کسی کا حق نہیں مارتے ۔ وہ اپنا نصیب جمع کرتے ہیں) سب سے آخر مین یہ کہ زکوۃ کی شکل میں بڑے خوشگوار انداز میں ایک مالی ٹیکس بھی عائد ہوجاتا ہے اور نہایت ہی پاکیزگی ‘ نہایت ہی طہارت اور بڑھوتری کے ساتھ ۔
غرض زکوۃ کی ادائیگی ان لوگوں کی نہایت ہی ممتاز علامت ہے جو شریعت کا اتباع کرتے ہیں ۔ یہ ان کی جانب سے عملی اقرار ہے کہ وہ اللہ کی حکومت اور اس کے اقتدار اعلی کو تسلیم کرتے ہیں ۔
(آیت) ” وھم رکعون “۔ (5 : 55) (اور وہ رکوع کرتے ہیں) یہ ان کی شان اور صفت ہے ‘ یعنی یہ گویا ان کا وصف لازم ہے اور ان کی اصلی حالت ہی یہ ہے کہ وہ رکوع میں ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یقیمون الصلوۃ پر اکتفاء نہ کیا گیا اور راکعون بھی کہا گیا ‘ اس لئے کہ راکعون گویا ان کی ایک منفرد اور نہایت ہی ممتاز صفت ہے ۔ اسم فاعل کے ساتھ یہ صفت لا کر یہ تاثر دیا گیا کہ وہ دائما ایسا کرتے رہتے ہیں اور اس لئے اسے نمایاں کرکے بیان کیا گیا ۔۔۔۔۔ ایسے مقامات پر قرآن کی تعبیرات کے اندر نہایت ہی گہری اشاریت پائی جاتی ہے اگر کسی کو ادبی ذوق ہو ۔
اب اس رجمنٹ کے ساتھ اللہ کا وعدہ کیا ہے ؟ وہ اللہ پر اعتماد کرتی ہے ‘ وہ اللہ سے دعا کرتی ہے ‘ وہ اللہ سے موالات کرتی ہے ‘ وہ رسول اللہ ﷺ اور مومنین کی دوست ہے ۔ پھر دوسری جانب اسلامی صفوں کے سوا تمام صفوں سے کٹ چکی ہے اور خاصل اللہ کے لئے ہوگئی ہے ۔ اس کے ساتھ اب کیا وعدہ ہے ؟
Ayah 5:56(آیت) ” ومن یتول اللہ ورسولہ والذین امنوا فان حزب اللہ ھم الغلبون (56) (5 : 55۔ 56)
” اور جو اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنا لے اور اسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے ۔
ایمان کے اصول کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے غلبے کا وعدہ کیا ہے ۔ اور ایمانی اصل اور ایمانی قاعدہ یہ ہے کہ موالات اور دوستی صرف اللہ ‘ رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے ہو۔ پہلے یہ حکم دیا گیا کہ اگر تم یہودیوں کے ساتھ موالات کرو گے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم اسلامی صفوں سے خارج تصور ہوگا ‘ تمہارا شمار یہودونصاری میں ہوگا اور معنوی اعتبار سے تمہارا یہ عمل دین سے ارتداد ہوگا۔
یہ لمحہ فکریہ قرآن میں بار بار آتا ہے ‘ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ایک مسلمان سے یہ توقع کرتا ہے کہ وہ اسلام کو مطلقا خیر سمجھے اور اس پر چلے ۔ اس لئے نہیں کہ وہ غالب ہوگا یا اسے زمین کے اندر اقتدار اعلی نصیب ہوگا ۔ تمکن فی الارض اور غلبہ تو ایمان کے آثار ہیں اور اپنے وقت پر ضرور نمودار ہوتے ہیں اور یہ اس لئے نمودار ہوتے ہیں کہ اللہ کی تقدیر پردے سے ظاہر ہو کہ اس نے اس دین کو اس کرہ ارض پر غالب کرنا ہے ۔ غلبے کا ویہ وعدہ اس لئے نہیں ہے کہ لوگ اس وعدے کے بل بوتے پر دین میں داخل ہوجائیں ۔ محض غلبہ مقصود نہیں ہے ‘ نہ اس میں ان کی ذات اور شخصیت کا کوئی فائدہ ہے ‘ یہ تو اللہ کی تقدیر ہوتی ہے جو مسلمانوں کے ہاتھوں ازپس پردہ تقدیر نمودار ہوتی ہے ۔ یہ غلبہ جو انہیں نصیب ہوتا ہے تو یہ ان کے نظریہ حیات کے لئے ہوتا ہے ‘ ان کی ذات کے لئے نہیں ہوتا ۔ ان کے لئے اگر کچھ ہے تو وہ اس راہ جدوجہد کرنے کا ثواب اخروی ہے اور یہ اخروی ثواب انہیں اس جدوجہد کے ان نتائج پر بھی ملے گا ۔ مثلا کرہ ارض پر اگر دین غالب ہوجاتا ہے تو اس زمین پر جو اصلاحی کام ہوتا ہے ‘ اس تمام کا ثواب انہیں ملے گا ۔
بعض اوقات اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ساتھ غلبے کا وعدہ کرتا ہے تاکہ وہ ثابت قدم ہوجائیں اور ان کے سامنے جو مشکلات بھیانک صورت میں کھڑی ہیں ان کے اثرات سے وہ آزاد ہوجائیں ۔ یہ مشکلات بعض نہایت ہی تباہ کن ہوتی ہیں ۔ جب وہ انجام کا یقین حاصل کرلیتے ہیں تو ان کے دل قوی ہوجاتے ہیں اور وہ مشکلات کو انگیز کرلیتے ہیں ۔ وہ مشکل گھاٹی کو سر کرلیتے ہیں اور پرامید ہوجاتے ہیں کہ اللہ ان کے ہاتھوں اس امت کے لئے کوئی بھلائی برپا کردے گا ۔ ان کو جہاد کا ثواب ملے گا اور دین کے غلبے کا ثواب ملے گا اور اس پر جو نتائج مرتب ہوں گے ان کا ثواب بھی ملے گا ۔
غرض اس مقام پر اس آیت کے لانے سے معلوم ہوتا پر اس آیت کے لانے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں جماعت مسلمہ کے شب وروز کیا تھے اور یہ کہ ایسی خوشخبری کی ضرورت تھی ۔ چناچہ یہ فیصلہ دیا گیا کہ غلبہ حزب اللہ ہی کا ہوگا ۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ یہ آیات کس دور میں نازل ہوئیں ۔
ان حالات میں ہمارے لئے تمام نتائج کا خلاصہ اس مختصر فیصلے میں دے دیا جاتا ہے کہ حزب اللہ کو غلبہ ہوگا اور ایک مومن مطمئن ہوجاتا ہے کہ بس یہی ہے سنت الہیہ کہ حزب اللہ غالب ہوگی اگرچہ بعض معرکوں میں اسے بظاہر شکست بھی ہوجائے ‘ اس لئے کہ بعض ظاہری حالات کے ہوتے ہوئے بھی اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے ۔ ہاں بعض مراحل تحریک میں شکست بھی نظر آتی ہے ۔ اس وعدے کے تحقق کی راہ بہرحال ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ موالات صرف اللہ رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کے لئے ہو۔
اب ذرا اس امر پر غور کریں کہ قرآن مجید نے اہل ایمان کو ان لوگوں کے ساتھ تعلق موالات قائم کرنے سے بار بار منع کیا ہے جو اہل ایمان کے نظریے کے خلاف ہیں ۔ اور ان کے لئے نئے نئے انداز اختیار کئے ہیں تاکہ یہ بات ان کے احساس و شعور کا حصہ بن جائے اور یہ اصول ان کے ایمان کا حصہ بن جائے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلامی تصور حیات میں اس اصول کی کس قدر زیادہ اہمیت ہے ۔
اس سلسلے میں جب اہل ایمان کے نام پہلی پکار جاری ہوئی تو وہ براہ راست تھی اور اس میں ان کو منع کیا گیا کہ اہل کتاب کے ساتھ تعلق موالات قائم کریں ۔ اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ فتح لے آئیں گے یا کوئی اور حکم جاری کردیں گے اور اس طرح تمام راز فاش ہوجائیں گے ۔ دوسری پکار میں ان کو اس بات سے ڈرایا گیا کہ اگر وہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ اللہ کے دشمنوں سے تعلق موالات کریں گے تو مرتد ہوجائیں گے بلکہ چاہئے کہ تم ایک ایسی رجمنٹ کے سپاہی بن جاؤ جو اللہ کی خاص رجمنٹ ہے ۔ جس سے اللہ کو پیار ہے اور اس کو بھی اللہ سے محبت ہے ۔ اور یہی اللہ کی پارٹی ہے جسے غلبہ نصیب ہوگا ۔
اب یہاں ایک تیسری پکار ہمارے سامنے آتی ہے اس میں اہل ایمان کے جذبہ حمیت دین کو ابھارا جاتا ہے کہ دیکھو یہ لوگ تو تمہارے دین ‘ تمہارے طریقہ عبادت کے نہ صرف یہ کہ مخالف ہیں بلکہ وہ تمہارے طریقوں کے ساتھ سخت مذاق بھی کرتے ہیں اس تیسری پکار میں اللہ تعالیٰ نے ان کو منع کیا کہ وہ اہل کتاب کے ساتھ ساتھ دوسرے کفار کے ساتھ بھی تعلق موالات نہ رکھیں اور خدا خوفی کا رویہ اپنائیں ۔ اگر وہ مومن ہیں تو اللہ کی ان ہدایات پر اچھی طرح غور کریں اور اس پکار میں اہل کتاب اور کفار کی ایک دائمی صفت کا ذکر کیا ہے کہ یہ لوگ بےعقل ہیں ۔
Ayahs 5:57–58(آیت) ” نمبر 57 تا 58۔
” ہاں یہ صورت حال سخت ہیجان انگیز ہوتی بشرطیکہ کسی کے اندر ایمانی حمیت کا جذبہ موجود ہو اور وہ یہ سمجھتا ہو کہ اگر اس کے سامنے اس کے دین کی توہین کردی گئی ‘ اس کی عبادت کی توہین کردی گی اور اس کے نظریہ حیات اور موقف کی توہین کردی گئی تو اس کی کوئی عزت اور آبرو نہ رہے گی لہذا ایسے لوگوں سے ترک تعلق ہی ایک خدائی امر ہے ۔ اہل ایمان اور ایسے لوگوں کے درمیان دوستی یا تعلق موالات کس طرح قائم ہوسکتا ہے ۔ یہ حرکات وہ لوگ کرتے بھی اس لئے ہیں کہ ان کی عقل وخرد میں خرابی ہے اس لئے کہ اللہ کے دین اور مسلمانوں کے طریقہ عبادت کے ساتھ مذاق تو وہ لوگ کرتے ہیں جن کی عقل وخرد میں خرابی ہے اس لئے کہ اللہ کے دین اور مسلمانوں کے طریقہ عبادت کے ساتھ مذاق تو وہ لوگ کرتے ہیں جن کی عقل متوازن نہیں ہوتی ۔ جب عقل صحت مند اور درست ہو تو وہ اپنے ماحول سے ایمان کے اشارات پاتی رہتی ہے اور جب عقل اور فہم میں خلل واقعہ ہوجاتا ہے تو وہ اپنے اردگرد پھیلے ہوئے اشارات ایمان کا ادراک نہیں کرسکتی ۔ اس خلل کی وجہ سے انسان اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے درمیان ‘ تعلقات میں بھی خلل پیدا ہوجاتا ہے اس لئے کہ یہ پوری کائنات ہی اس بات پر شاید عادل ہے کہ اللہ ہی انسان کی بندگی کا مستحق ہے اور اگر عقل صحت مند ہو اور اس میں کوئی خلل نہ ہو تو اس کے اندر اس کائنات کی عظمت اور اس کے بنانے والے کی عظمت و جلالت پیدا ہوتی ہے اس لئے کوئی درست اور سلیم عقل اہل اسلام کے طریقہ عبادت کے ساتھ مزاح نہیں کرسکتی ۔
اسلامی عبادات کے ساتھ یہ مذاق اہل کتاب یہودیوں کی طرف سے بھی ہوتا تھا اور اہل کفر کی طرف سے بھی ۔ یہ مزاح اس وقت ہو رہا تھا جب یہ قرآن حضور اکرم ﷺ کے قلب پر اتر رہا تھا اور جماعت مسلمہ اسے اخذ کر رہی تھی ‘ البتہ سیرت رسول ﷺ سے کوئی ایسا واقعہ منقول نہیں ہے کہ نصاری کی طرف سے بھی یہ مذاق ہوا ہو ۔ لیکن قرآن کریم جماعت مسلمہ کے لئے ایک دائمی اصول وضع کر رہا تھا ‘ مسلمانوں کی زندگی کا ایک دائمی منہاج اور دائمی نظریہ تشکیل پا رہا تھا اور اللہ کو یہ بھی علم تھا کہ زمانے کی گردشیں کیا ہوں گی اور دیکھئے کہ بعد کے ادوار میں دین کے دشمنوں اور تحریک اسلامی کے دشمنوں نے اس امت کے ساتھ کیا سلوک کیا اور یہ سلوک ان لوگوں نے کیا جو اپنے آپ کو نصاری کہتے تھے اور یہ لوگ تعداد میں یہودیوں کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ تھے ۔ بلکہ یہود اور دوسرے کفار سے مل کر بھی زیادہ تھے ۔ یہ لوگ اسلام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور صدیوں تک اسلام کی دشمنی دلوں میں اٹھائے پھرے ۔ اسلام کے خلاف انہوں نے جنگیں جاری رکھیں اور یہ محاربت اس وقت سے شروع ہوگئی جب حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے دور میں سلطنت روم کے ساتھ مسلمانوں کی مڈبھیڑ ہوئی اور یہ مڈبھیڑ صلاح الدین ایوبی کے وقت تک صلیبی جنگوں کی شکل میں جاری رہی ۔ اس کے بعد عالم اسلام کے خلاف تمام مغربی ممالک نے جمع ہو کر یہاں سے خلاف اسلامیہ کو ختم کیا ۔ اس کے بعد مغربی استعمار پیدا ہوا ‘ جس کی آغوش میں صلیبیت چھپی ہوئی تھی اور کبھی کبھار اس استعمار کی زبان سے اس کا اظہار بھی ہوجاتا تھا ۔ اس استعمار کے زیر سایہ مسیحی تبلیغ آئی اور مسیحی تبلیغ اور استعمار دونوں اندر سے ملے ہوئے تھے ۔ آج بھی ان لوگوں کے خلاف یہود ونصاری کی جہ جنگ جاری ہے جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور احیائے اسلام کے لئے کسی بھی جگہ کام کرتے ہیں اور ان حملوں میں یہودی ‘ عیسائی اور تمام مشرکین بحیثیت ملت واحدہ شریک ہیں۔
قرآن اس لئے آیا کہ یہ مسلمانوں کے لئے کتاب ہدایت ہے اور قیامت تک کے لئے ہے اور یہ کتاب ہی اس امت کے تصورات کو تشکیل دیتی ہے ۔ امت کے لئے اجتماعی نظام بناتی ہے اور اس کے لئے تحریکی خطوط وضع کرتی ہے چناچہ یہاں اس نے ایک مستقل اصول رکھ دیا کہ امت مسلمہ کا کوئی فرد اللہ ‘ رسول اللہ اور مومنین کے سوا کسی اور کے ساتھ تعلق موالات قائم نہ کرے گا اور یہ اصول منفی طور پر ان کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے کہ وہ یہود ونصاری اور کافروں کے ساتھ کوئی تعلق مولات قائم ہی نہ کرے اور اس بات کا فیصلہ نہایت ہی سختی سے کیا جاتا ہے اور اسے اس طرح مختلف انداز سے بار بار لایا جاتا ہے ۔
دین اسلام اہل اسلام کو رواداری کا حکم دیتا ہے ۔ اہل کتاب کے ساتھ اسلام عموما حسن معاملہ کا حکم دیتا ہے ۔ اہل کتاب میں سے جو لوگ اپنے آپ کو نصاری کہتے ہیں ‘ ان کے ساتھ اسلام خصوصی طور پر رواداری کا حکم دیتا ہے لیکن اسلام ان لوگوں کے ساتھ بھی تعلق موالات کی ممانعت کا حکم دیتا ہے اس لئے کہ رواداری اور حسن معاملہ اور حسن سلوک اخلاقی معاملات ہیں اور موالات کا تعلق نظریہ حیات اور تنظیم کے ساتھ ہے ۔ تعلق موالات دراصل ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا معاہدہ ہوتا ہے اور اس سے دونوں فریق ایک دوسرے کی مدد کرنے اور باہم تعاون کرنے کے پابند ہوجاتے ہیں اور مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان تعاون ممکن نہیں ہے ۔ کفار کا مال تو اس بھی زیادہ بدتر ہے جیسا کہ اس سے قبل ہم وضاحت کرچکے ہیں ۔ مسلمانوں کے ساتھ موالات صرف دین ‘ اقامت دین اور جہاد میں ہو سکتی ہے اور ان معاملات میں ایک غیر مسلم کے درمیان تعاون کسی طرح ممکن نہیں ہے ۔
یہ مسئلہ نظریاتی اور دو ٹوک ہے ۔ اس معاملے میں صرف فیصلہ کن اور سخت موقف ہی اختیار کیا جاسکتا ہے اور یہی ایک مسلم کے شایان شان ہے ‘ دو ٹوک سنجیدگی ۔
اہل ایمان کے نام ان سخت نداہائے ثلاثہ سے فارغ ہو کر اب حضور نبی کریم ﷺ کو پکارا جاتا ہے کہ آپ خود اہل کتاب کی طرف متوجہہو کر ذرا ان سے پوچھیں کہ آخر تم بتاؤ کہ ہمارے ساتھ تمہاری جانب سے کی جانے والی اس دشمنی کے اسباب کیا ہیں ؟ تم ہم سے کیوں ناراض ہو ؟ محض اس لئے کہ ہم اللہ وحدہ پر ایمان لائے ہیں اور موجودہ کتاب کے ساتھ ان کتب پر بھی ایمان لائے ہیں جو ہم سے پہلے تم پر نازل ہوئی ہیں اور اب جو باران رحمت آ رہا ہے ہم اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ دشمنی بس یہی تو ہے کہ ہم مسلمان پورا پورا ایمان لاتے ہیں اور تم اہل کتاب فسق وفجور میں مبتلا ہو۔ حضور ﷺ کا یہ خطاب ان کے لئے نہایت ہی رسوا کن ہے لیکن اس خطاب سے اس معاملے کی اچھی طرح وضاحت بھی ہوتی ہے اور یہ فیصلہ کن خطاب ہے اور اس سے تعین ہوجاتا ہے کہ مابہ الافتراق کیا ہے ۔
یہ سوال اہل کتاب سے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق کیا جارہا ہے ۔ ایک جانب سے یہ سوال مظہر حقیقت ہے کہ اہل کتاب اور اہل ایمان کے درمیان اصل صورت حال ہے کیا ؟ اور یہ کہ وہ کیا اسباب اور وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اہل کتاب نے دین اسلام اور جماعت مسلمہ کے خلاف یہ موقف اختیار کیا ہے ۔ دوسری جانب سے یہ استفہام انکاری ہے اور بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے جو موقف اختیار کیا ہے ‘ وہ ان کے شایان شان نہیں ہے ۔ جن اسباب کی وجہ سے وہ اس دشمنی پر تلے ہوئے ہیں ان کا تقاضا یہ نہیں ہے جو وہ کرتے ہیں ۔ یہ اہل اسلام کے لئے ایک فہمائش بھی ہے اور ان کو یہ نفرت دلائی جاتی ہے کہ وہ اس قوم سے ہر گز تعلق موالات قائم نہ کریں اور یہ بالواسطہ اسی موقف کی تائید ہے جو اس سے قبل نداہائے ثلاثہ کے تحت بیان کیا گیا کہ ہر گز ان لوگوں سے یہ تعلق قائم نہ کرو ۔
اہل کتاب حضور ﷺ کے وقت بھی حضور ﷺ اور تحریک اسلامی کے ساتھ محص اس لئے دشمنی رکھتے تھے کہ یہ لوگ ایمان باللہ پر جمے ہوئے تھے ۔ قرآن کریم پر ایمان لاتے تھے ۔ اور سابقہ کتب پر بھی ایمان لاتے تھے اور اس کے سوا اہل ایمان کا اور کوئی جرم نہ تھا ‘ اور آج بھی وہ یہی دشمنی رکھتے ہیں ۔
یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ محض اس لئے دشمنی کرتے ہیں کہ ہو مسلمان ہیں اور یہود و نصاری نہیں ہیں اور یہود ونصاری کی حالت یہ ہے کہ وہ خود ان کتب سے بھی روگردانی اختیار کرچکے ہیں جو ان کی طرف نازل ہوئیں۔ ان کے فسق وفجور کی اور دلیلوں کے علاوہ یہ بھی ایک بڑی قوی دلیل ہے کہ وہ آخری رسالت پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ یہ آخری رسالت تمام سابقہ رسالتوں کی تصدیق کرتی ہے ۔ اور ان کی ہدایات کے لئے مہیمن ہے ماسوائے ان کے کہ جو خرافات انہوں نے اپنائے ہیں اور جو تحریفات انہوں نے اس میں خود کی ہیں۔
وہ اسلام کے خلاف یہ شعلہ بار جنگ کیوں جاری رکھے ہوئے ہیں جو کبھی ٹھنڈی نہیں ہوتی اور گزشتہ چودہ صدیوں سے وہ اسے بھڑکا رہے ہیں یہ جنگ اس وقت سے برپا ہے جب سے مدینہ میں ایک اسلامی ریاست قائم ہوئی ہے ‘ اسلامی شخصیت نمودار ہوئی ہے اور مسلمانوں کا نقشہ عالم پر ایک مستقل وجود بنا ہے ۔ یہ وجود ان کے دین کی وجہ سے نمودار ہوا ہے ۔ انکے تصور حیات کی وجہ سے بنا ہے اور اسلامی نظام حیات کی وجہ سے بنا ہے اور اسلامی منہاج حیات کے قیام کے لئے بنا ہے ۔
غرض مسلمانوں کے خلاف وہ یہ چومکھی لڑائی اس لئے لڑ رہے ہیں کہ وہ سب سے پہلے مسلمان ہیں اور یہ لوگ اپنی اس جنگ کو اس وقت تک ختم نہ کریں گے جب تک مسلمانوں کو اپنے دین سے الٹے پاؤں پھیر کر نہ لے جائیں اور جب تک ان کو غیر مسلم نہ بنا دیں ۔ ان کی یہ خواہش اس لئے ہے کہ وہ خود اپنے دین کو چھوڑ کر فاسق ہوگئے ہیں اس لئے وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ کوئی دوسرا بھی صحیح مومن اور دین پر اچھی طرح چلنے والا دنیا میں رہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری جگہ اس حقیقت کو رسول اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے ۔
(آیت) ” ولن ترضی عنک الیھود ولاالنصاری حتی تتبع ملتھم “۔ اور آپ سے یہود ونصاری ہر گز راضی نہ ہوں گے ‘ جب تک آپ ان کی ملت کے تابع نہ ہوجائیں “۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس صورت میں اللہ نے واضح طور اہل کتاب کے سامنے ان کے اصل اغراض ومقاصد رکھ دیئے ہیں کہ وہ دشمنی کیوں کرتے ہیں۔
Ayah 5:59(آیت) ” نمبر 59۔
“ اللہ تعالیٰ اپنے سچے کلام میں اس حقیقت کو بار بار دہراتے ہیں اور اہل کتاب اس حقیقت کو پگھلا کر ختم کرنا چاہتے ہیں ‘ اسے دبانا چاہتے ہیں ۔ اس کا انکار کرنا چاہتے ہیں اور اہل کتاب کے علاوہ اکثر نام نہاد مسلمان بھی اس حقیقت کے خلاف ہیں اور وہ مادیت اور الحاد کے عنوان سے اہل اسلام اور اہل کتاب کے درمیان دوستی اور موالات قائم کرنا چاہتے ہیں ‘ جو قرآن کی اس پالیسی کے خلاف ہے ۔
آج بھی اہل کتاب اسی برف کو پگھلانا چاہتے ہیں بلکہ اسے دبا کر اس کے آثار کو مٹانا چاہتے ہیں ۔ اور یہ کام وہ اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اسلامی ممالک کے باشندوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں یا ان باشندوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں جن کے آباؤ اجداد مسلمان تھے ۔ یہ اہل کتاب اس فہم کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو مسلمانوں کے اندر ربانی منہاج تربیت نے پیدا کردیا تھا اور جب تک مسلمانوں کے اندر یہ فہم و شعور زندہ ہے صلیبی استعمار ان کے مقابلے میں جم نہیں سکتا چہ جائیکہ وہ خود عالم اسلام میں کالونیاں بنائے ۔ اہل کتاب کو جب صلیبی جنگ میں شکست فاش ہوئی اور اس کے بعد جب وہ عیسائیت کی تبلیغ میں بھی ناکام رہے ‘ تو ان کے سامنے اس کے سوا اور کوئی چارہ کار بھی نہ تھا کہ مکروفریب کی راہ اختیار کریں اور ان آبادیوں کے درمیان یہ تصورات پھیلائیں ‘ جو مسلمانوں کی وارث ہیں ‘ کہ اب دین کے نام پر تمام جنگ جو ئیاں ختم ہوچکی ہیں اور یہ تو ایک تاریک دور تھا جس کے اندر تمام اقوام کے اندر مذہبی جنگیں ہوئیں ، اب تو دنیا کو نئی روشنی مل گئی ہے ‘ اب تو ترقی کا دور ہے اور اب تو کسی دینی نظریہ حیات کے مطابل لڑنا نہ جائز ہے ‘ نہ مناسب ‘ اور نہ ہی اس دنیا کے مفاد میں ہے ۔ آج تو مادی دور ہے اور اب جنگ منڈیوں اور خام مال پر ہوگی ۔ لہذا مسلمانوں یا مسلمانوں کے وارثوں کو چاہئے کہ وہ کسی دینی کشمکش یا کسی تحریک احیائے دین کے متعلق نہ سوچیں ۔
اور جب اہل کتاب اس بات سے مطمئن ہوجاتے ہیں کہ اہل اسلام اب اپنی سرحدوں کے بارے میں بےفکر ہوگئے ہیں اور ان کے فکر و شعور سے یہ ترک موالات محو ہوگئی ہے تو اب وہ اپنا استعماری جال پھیلاتے ہیں ۔ خصوصا پھر وہ بڑی آزادی سے عالم اسلام کے اندر استعماری جال پھیلاتے ہیں ۔ اب وہ عالم اسلام میں مسلمانوں کے غیظ وغضب سے محفوظ ہوگئے ہیں اور جب انہوں نے مسلمانوں کو تھپکی دے کر سلا دیا تو اب ان کو محض نظریاتی فتح ہی حاصل نہ ہوگئی بلکہ اب ان کے لئے عالم اسلام میں ہر قسم کی لوٹ اور مار کے راستے بھی کھل گئے ‘ تب انہوں نے اپنی نو آبادیاں قائم کرلیں ‘ مسلمانوں کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور نظریاتی فتح کے بعد اب وہ مادی دنیا پر بھی قابض ہوگئے اور صورت حال یہ ہوگئی کہ مسلمانوں اور اہل کتاب کے اندر کوئی فرق ہی نہ رہا۔ دونوں قریب قریب ایک جیسے ہوگئے عالم اسلام کے اندر اب اہل کتاب کے ایجنٹ کام کر رہے ہیں جو استعماری طاقتوں نے جگہ جگہ بٹھا رکھے ہیں ۔ بعض اعلانیہ طور پر بٹھا رکھے ہیں اور بعض ان کے خفیہ ایجنٹ ہیں ۔ وہ بھی یہی بات دہراتے ہیں کیونکہ اہل کتاب کے ایجنٹ ہیں اور یہ لوگ اسلامی حدود کے اندر یہ کام کرتے ہیں ۔ یہ ایجنٹ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ صلیبی جنگیں دراصل صلیبی جنگیں ہی نہ تھیں وہ مسلمان جنہوں نے اسلامی جھنڈوں کے نیچے یہ جنگیں لڑیں وہ مسلمان ہی نہ تھے وہ تو قوم پرست تھے ۔ سبحان اللہ ۔
ایک تیسرا فریق جو نہایت کم عقل فریق ہے ‘ اسے مغرب میں صلیبیت کی جانشیں استعماری قوتیں یہ دعوت دیتی ہیں کہ آؤ ہم بھائی بھائی بن جائیں ۔ مذہب کا دفاع کریں اور ملحدین کی تردید کریں ۔ یہ فریب خوردہ ان کی اس دعوت کو قبول کرتے ہیں لیکن یہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ صلیبیوں کی یہ مغربی اولاد جب بھی اسلام اور الحاد کی جنگ ہوتی ہے ‘ یہ ملحدین کے ساتھ صف آراء ہوجاتی ہے ۔ ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں ‘ جب بھی مسلمانوں کا مقابلہ ملحدین کے ساتھ ہو ۔ صدیوں سے ان کا یہ طرز عمل بالکل جاری ہے ۔ آج بھی ان کے لئے مادیت کی جنگ کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ وہ زیادہ تراہمیت اس جنگ کو دیتے ہیں جو وہ اسلام کے خلاف برپا کئے ہوئے ہیں اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ مادی اور ملحد دشمن ایک وقتی اور عارضی دشمن ہے اور اسلام ایک مستقل اور ٹھوس نظریہ ہے جو ان کے لئے ایک مستقل دشمن ہے ۔ یہ جنگ انہوں نے اس لئے شروع کر رکھی ہے کہ اسلامی قوتوں کے اند بظاہر جو بیداری پیدا ہو رہی ہے یہ اسے ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز یہ لوگ الحاد کے خلاف جنگ میں بیوقوف مسلمانوں کو جھونک کر اپنا مفاد محفوظ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ملحدین مغربی اور صلیبی استعمار کے سیاسی مخالف ہیں اور یہ دونوں معرکے گویا اسلام کے خلاف ہوں گے ۔ اور یاد رہے کہ صلیبیوں اور ملحدین دونوں کے خلاف مسلمانوں کے پاس صرف نظریاتی ہتھیار ہے اور وہ فہم و فراست ہے جو ان کے اندر قرآن کریم کی یہ آیات پیدا کرنا چاہتی ہیں ۔
یہ ایک گہرا کھیل ہے اور یہ اہل اسلام کو دھوکے میں ڈال دیتا ہے ۔ بظاہر اہل کتاب اور صیلبی دوستی کا اظہار کرتے ہیں اور یہ فریب خوردہ مسلمان ان اہل کتاب کو مخلص سمجھتے ہیں ۔ وہ اہل اسلام کو اتحاد ‘ بھائی چارے اور موالات کی دعوت دیتے ہیں اور مقصد یہ بتاتے ہیں کہ مذہب کا دفاع کرتے ہیں لیکن فریب خوردہ مسلمان چودہ سو سال کی تاریخ کو بھول جاتے ہیں جس میں ان کا رویہ عداوت کا رہا ہے اور اس میں کوئی استثناء بھی نہیں ہے ۔ پھر تاریخ تو بڑی بات ہے اور بہت طویل ہے لیکن یہ لوگ اللہ کی ان واضح تعلیمات کو بھی بھول جاتے ہیں جو انہیں ان کا رب براہ راست دے رہا ہے یہ ایسی تعلیم ہے کہ یہ لاریب ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ اس سے کوئی پہلوتہی نہیں ہو سکتی بشرطیکہ اللہ پر اعتماد ہو ‘ اور اس بات کا یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان نہایت ہی سنجیدہ ہے ۔
یہ فریب دینے والے اور فریب خوردہ لوگ اس سلسلے میں اپنی پالیسی کے حق میں قرآن کریم کی وہ آیات پیش کرتے ہیں اور حضور اکرم ﷺ کی وہ احادیث پیش کرتے ہیں جن کے اندر اہل کتاب کے ساتھ حسن معاملہ کرنے پر زور دیا گیا ہے اور یہ کہ معیشت اور طرز عمل میں ان کے ساتھ رواداری کا سلوک کیا جائے ۔ لیکن یہ لوگ قرآن کریم کی ان تنبیہات وتحذیرات اور فیصلہ کن ممانعت کو بھلا دیتے ہیں جو قرآن کریم اہل کتاب کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے خلاف کرتا ہے اور تفصیل کے ساتھ بتاتا ہے کہ اس حکم کے اسباب کیا ہیں اور یہ کہ اس سلسلے میں اسلامی تحریک کا منصوبہ کیا ہے اور کیا ہونا چاہئے ۔ اسلامی تنظیم کن خطوط پر ہونا چاہئے اور ان کے ساتھ دوستی اور موالات کے تعلقات کو بالکل ختم کرنا چاہئے کیونکہ مسلمانوں کے نزدیک باہم موالات اور باہم دگر نصرت صرف اسلامی نظام کے قیام کے لئے ہوتی ہے اور اسلام کو عملی زندگی میں قائم کرنے لئے ہوتی ہے ۔ تحریک امامت دین کے نصب العین کے بارے میں ہمارے اور اہل کتاب کے درمیان کوئی نکتہ اشتراک سرے سے موجود ہی نہیں ہے ۔ اگرچہ مسلمانوں اور اہل کتاب کے دین میں انکی تحریفات سے پہلے کئی نکات مشترک تھے ۔ لیکن اب تو صورت حالات یہ ہے کہ وہ ہمارے دشمن ہی اس لئے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور اقامت دین کے نصب العین کے حامل ہیں اور وہ ہم سے راضی تب ہی ہوسکتے ہیں کہ ہم اس نصب العین کو چھوڑ کر یہودی یا عیسائی بن جائیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نص صریح (البقرہ : 12) میں فرمایا ۔
یہ لوگ قرآن مجید کے حصے بخرے کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ اسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اس سے وہ اجزاء لیتے ہیں جو انہیں پسند ہیں اور ان کی دعوت کی تائید کرتے ہیں ۔ مسلمانوں کو غافل کرتے ہیں ۔ اگرچہ وہ اپنی درست کیوں نہ ہوں اور یہ لوگ ان آیات کو چھوڑ دیتے ہیں جوان کی اس فریب کارانہ پالیسی کے بالکل خلاف ہیں۔
ہم اس کو ترجیح دیتے ہیں کہ ہم اس مسئلے میں اللہ کی بات سنیں ۔ اللہ کا کلام اس سلسلے میں نہایت ہی دوٹوک اور قطعی ہے ۔ رہا ان فریب کاروں کا کلام تو وہ ہم سنیں یا نہ سنیں برابر ہے ۔
ذرا چند منٹ کے لئے ٹھہرئیے ! اور اس موضوع پر غور کیجئے ۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی ازلی دشمنی کا سبب یہ بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کے ایمان باللہ ‘ ایمان بالرسول اور ایمان بالکتب کے جامع عقیدے کی وجہ سے یہ لوگ ان کے دشمن بنے ہوئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ایک اور اہم بات بھی بتاتے ہیں۔
(آیت) ” وان اکثرکم فسقون “۔ (5 : 59) ” اور تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں ۔ “ ان کا یہ فسق وفجور بھی اس عداوت اسلام کے اسباب میں سے ایک سبب ہے اس لئے کہ ایک کج رو شخص کو راست رو شخص بہت ہی برا معلوم ہوتا ہے ۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے اور اس کی تصدیق قرآن کریم کا یہ فقرہ کرتا ہے ۔ یہ ایک گہرا نفسیاتی اشارہ ہے اس لئے کہ جو شخص کسی راہ سے کجروی اختیار کرتا ہے وہ یہ دیکھ ہی نہیں سکتا کہ کچھ اور لوگ اس راہ پر چلیں ۔ اگر وہ ایسے لوگوں کو دیکھے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ فسق وفجور میں مبتلا ہوگیا ہے اور صحیح راہ سے منحرف ہوگیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں کا راہ حق پر قائم رہنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ منحرف ہوگیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ منحرف شخص جادہ حق پر مستقیم شخص کا دشمن ہوتا ہے اور پھر اس سے محض اس لئے انتقام لیتا ہے کہ وہ سچا ہے یہ انتقامی کاروائی اس لئے ہوتی ہے کہ یہ منحرف شخص اس صالح کو بھی گھیر گھار کر اپنی راہ پر ڈال دے اور اگر وہ بہت ہی سخت ہو اور بات مان کر نہ دیتا ہو تو اسے سے سے ختم کردے ۔
یہ ایک دائمی اصول ہے اور یہ حضور اکرم ﷺ کے دور میں اہل کتاب اور اہل اسلام کے تعلقات کے بارے میں ہی درست نہیں ہے بلکہ یہ مطلق اہل کتاب اور اہل اسلام کی پالیسیوں پر صادق آتا ہے ۔ جو شخص بھی کسی صالح گروہ اور اصول پسند جماعت سے نکلتا ہے اس کی سعی یہی ہوتی ہے کہ وہ تمام لوگوں کو اس جماعت سے منحرف کر دے اور فساق وفجار اور اشرار کے معاشرے میں جنگ ہمیشہ صالح لوگوں کے خلاف ہوتی ہے ۔ تمام فساق صالحین کے خلاف جمع ہوجاتے ہیں اور جو لوگ اصولوں سے منحرف ہوچکے ہوتے ہیں ‘ وہ تمام لوگ ان کے دشمن ہوتے ہیں جو اصولوں پر جمے ہوتے ہیں ۔ یہ جنگ ایک قدرتی جنگ ہوتی ہے اور یہ اسی اصول پر برپا ہوتی ہے جس کی طرف اس قرآنی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے ۔
اللہ کے علم میں یہ بات پہلے سے تھی کہ شر کی طرف سے ہر وقت بھلائی کی دشمنی ہوتی رہے گی اور حق کے مقابلے میں باطل ہمیشہ کھڑا ہوگا اور ثابت قدمی کے مظاہر کو دیکھ کر فساق وفجار جلیں گے اور جو لوگ اصولوں پر جمے ہوئے ہوں گے ان پر ان فساق وفجار اور منحرفین کو بہت ہی غصہ آئے گا ۔
اللہ کو یہ بھی علم تھا کہ بھلائی ‘ سچائی ‘ استقامت اور اصول پرستی کو اپنی مدافعت کرنا ہوگی اور ان کو شر باطل ‘ فسق اور انحراف کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ لڑنی ہوگی ۔ یہ ایک ایسا حتمی معرکہ ہوگا کہ جس میں اہل حق کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی نہ ہوگا کہ بس وہ اس معرکے میں کود جائیں اور باطل کا مقابلہ کریں ۔ اگر وہ یہ معرکہ آرائی نہ کریں گے تو باطل از خود ان پر حملہ آور ہوجائے گا اور سچائی اس سے کسی طرح جان نہ چھڑا سکے گی کیونکہ باطل کا مقصد اسے سرے سے مٹانا ہوتا ہے ۔
یہ ایک نہایت ہی غافلانہ اور احمقانہ سوچ ہوگی کہ کوئی حق پرست ‘ اصلاح پسند ‘ صاحب استقامت اور اصولی شخص یہ سوچے کہ ‘ شر ‘ باطل اور فسق وفجور کے داعی اسے آرام سے چھوڑ دیں گے اور وہ حق و باطل کے اس معرکے سے بچ نکلیں گے یا حق و باطل کے درمیان کوئی مصالحت یامعاہدہ صلح ہو سکتا ہے ۔ اگر نہیں ‘ تو ان کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ ہر وقت اس اٹل معرکے کے لئے تیار رہیں اور خوب سوچ کر ساتھ اور اچھی تیاری کے ساتھ رہیں اور موہوم امن کے لئے دشمن کی چالوں میں نہ آئیں ورنہ دشمن انہیں کھا کر چاٹ جائے گا۔
اس کے بعد جب ہم مطالعہ جاری رکھتے ہیں تو حضور اکرم ﷺ کو اہل کتاب کے مقابلے کے لئے ہدایات دی جاتی ہیں ۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے یہ بات واضح طور پر بتا دی گئی تھی کہ اہل کتاب کے دل میں اسلامی نظام اور مسلمانوں کے خلاف اس قدر گہری دشمنی کیوں ہے ؟ اب یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ قدیم کے کچھ اوراق الٹے جاتے ہیں اور یہ کہ انہوں نے اپنے رب کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا ؟