Ayah 5:32(آیت) ” نمبر : 32۔
اس وجہ سے ‘ یعنی انسانیت کے اندر ایسے لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے ‘ امن پسند ‘ صلح کل ‘ نیک فطرت اور پاک طینت لوگوں کے خلاف ایسے جرائم کے ارتکاب کی وجہ سے ‘ جو شر اور ظلم سے بہت دور بھاگتے ہیں ‘ اور اس وجہ سے کہ بعض نہایت ہی فطری سرپسندوں پر واعظ ونصیحت اور ڈراوا کوئی اثر نہیں کرتا اور اس وجہ سے کہ اگر شر انسان کے رگ وپے میں سرایت کر جائئے تو ایسے لوگوں کے ساتھ امن اور آشتی مفید مطلب نہیں ہوتی اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قتل نفس کو گناہ کبیرہ اور جرم عظیم قرار دیا ۔ اسے اس قدر عظیم جرم قرار دیا کہ گویا اس مجرم نے تمام موجودہ انسانی نسل کو قتل کردیا ۔ پھر جس عمل کے ذریعے ایک شخص کی جان بچ جائے تو گویا اس شخص اور اس عمل نے تمام لوگوں کو زندگی بخش دی ۔ یہ بات ہم نے بنی اسرائیل کے لئے شریعت لکھتے وقت مقرر کردی تھی ۔ (تفصیلات احکام قصاص میں آرہی ہیں)
کسی کے قصاص میں قتل کئے جانے کے علاوہ قتل کردینا یا فساد فی الارض کو دور کرنے کے لئے کسی کے قتل کے علاوہ ‘ قتل اس قدر عظیم جرم ہے جس طرح کوئی تمام انسانوں کو قتل کر دے ۔ ہر نفس دوسرے نفس کے برابر ہے ۔ زندگی کا حق ہر ایک نفس کو حاصل ہے ۔ لہذا کسی ایک نفس کا قتل کرنا گویا تمام نفوس سے حق زندگی چھین لینے کے برابر ہے اس لئے حق حیات میں تمام نفوس شریک ہیں ۔ اسی طرح قتل سے تحفظ کا حق بھی تمام نفوس کو حاصل ہے اور زندگی کا بچانا سب کے لیے لازمی ہے ۔ چاہے حالت زندگی میں دفاع کیا جائے یا مرنے کے بعد قصاص جاری کر کے زندگی کا دفاع کیا جائے تاکہ مجرم دوسرے نفوس پر دست درازی نہ کرے ۔ اس طرح گویا قانون قصاص تمام زندہ لوگوں کو زندگی دینے کا مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے ۔ کیونکہ قانون قصاص سے زندہ رہنے کا حق فراہم ہوتا ہے جس میں تمام لوگ شریک ہیں ۔
ان احکام کے سلسلے میں ہم نے جو تشریح کی ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم صرف دارالاسلام کے باشندوں پر منطبق ہوتا ہے ۔ مسلم ہوں ‘ ذمی ہوں یا مستامن ہوں۔ رہے اہل حرب (وہ لوگ جن سے مسلم حکومت پر سر جنگ ہے) تو ان کا خون مباح ہے الا یہ کہ ان کے اور دارالاسلام کے باشندوں کے درمیان کوئی معاہدہ ہوجائے ۔ اسی طرح ان کے مال اور جائیداد کو بھی تحفظ حاصل نہ ہوگا ‘ اس لئے ہمیں اس قانون اصول کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہئے ۔ یہ بات بھی ہمیں ذہن نشین کرنا چاہئے کہ دارالاسلام وہ مملکت ہے جس میں اسلامی شریعت نافذ ہو ‘ اور حکومت کے تمام ادارے اس کے مطابق چلتے ہوں اور دارالحرب اور سرزمین ہے جس میں شریعت نافذ نہ ہو اور کاروبار مملکت میں شریعت کے احکام نہ مانے جاتے ہوں ۔
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر یہ اصول فرض کردیا تھا ‘ اس لئے یہ لوگ اس وقت اہل کتاب تھے ۔ جب تک توراۃ کے مطابق وہ کاروبار حکومت چلاتے اس وقت تک وہ دارالاسلام تصور ہوتے بشرطیکہ وہ احکام شریعت تحریف شدہ نہ ہو ۔ لیکن بنی اسرائیل نے ہمیشہ حدود شریعت سے تجاوز کیا حالانکہ اس ان کے رسول ان کے سامنے واضح طور پر شریعت کے احکام لے کر آئے تھے ۔ خود رسول اللہ ﷺ کے دور میں اور ان کے بعد کے ادوار میں بھی آج تک ان میں ایسے لوگ بکثرت ہیں جو انکی شریعت توراۃ کی حدود سے تجاوز کرتے تھے ۔ قرآن کریم ان کے اس اسراف ‘ تجاوز اور دست درازی کو یہاں ریکارڈ کر رہا ہے جو بلاسبب تھی اور یہ بھی ریکارڈ پر لایا جاتا ہے کہ اللہ کے مقابلے میں اب ان کے پاس کوئی حجت نہیں ہے ‘ اس لئے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول آئے اور ان رسولوں نے شریعت کے احکام ان کے سامنے بیان کردیئے تھے ۔
(آیت) ” وَلَقَدْ جَاء تْہُمْ رُسُلُنَا بِالبَیِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ کَثِیْراً مِّنْہُم بَعْدَ ذَلِکَ فِیْ الأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ (32)
(مگر ان کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسول پے در پے ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں)
اور اس سے بڑا اسراف اور زیادتی اور کیا ہوگی کہ کوئی حدود اللہ سے تجاوز کرے اور اللہ کی شریعت پر دست درازی کرے ۔ اس طرح کہ یا تو اس میں تغیر وتبدل کرے اور یا اس کو مہمل چھوڑ دے ۔
سابقہ آیت میں یہ کہا گیا تھا کہ کسی کی جان لینا فساد فی الارض کے ضمن میں آتا ہے اور قاتل اور مفسد دونوں کی زندگی کو تحفظ سے متثنی کردیا گیا تھا ۔ اور یہ کہا گیا تھا کہ کسی کی ناحق جان لینا نہایت ہی گھناؤنا جرم ہے ۔ اس لئے کہ دارالاسلام میں ایک مسلم سوسائٹی کا امن وامان ‘ اور اس کی جانب سے بھلائی کے کاموں کو امن وامان اور سکون و اطمینان کے ساتھ سرانجام دینا بعینہ اسی طرح ضروری ہے جس طرح اسلامی مملکت میں افراد کا امن و سکون سے زندگی گزارنا ضروری ہے ۔ بلکہ اجتماعی امن کی ضرورت انفرادی امن سے زیادہ ہے اس لئے کہ افراد کو امن و سکون تب ہی نصیب ہوتا ہے جب سوسائٹی کو امن و سکون حاصل ہو ۔ نیز یہ بات اس سے بھی اہم ہے کہ اس قسم کی اعلیٰ اور فاضلانہ سوسائٹی کا امن متاثر نہ ہو اور ایسی سوسائٹی کو ہر قسم کے امن اور استحکام کی ضمانت حاصل ہو ۔ کیونکہ اس ضمانت سے اس قسم کی سوسائٹی میں افراد کو امن و سکون ملتا ہے اور وہ آزادی سے سرگرم رہ سکتے ہیں اور امن کے زیر سایہ ہی انسانی زندگی سکون کے ساتھ نشوونما پاتی ہے ۔ امن کی پر سکون فضا ہی میں ہر قسم کی بھلائی ‘ اخلاق فاضلہ ‘ پیداوار اور ترقی تسلسل کے ساتھ جاری رہ سکتی ہے ۔ ایسی ہی سوسائٹی اپنے افراد کو ضروریات زندگی کی ضمانت بھی دے سکتی ہے اور امن ہی ایسا ماحول اور ایسی فضا فراہم کرتا ہے جس کے اندر بھلائی کے بیج بوئے جاتے ہیں اور نشوونما پاتے ہیں ۔ اور اسی میں برائی کے بیج ختم کئے جاتے ہیں ۔ ایسی سوسائٹی کی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ وہ بیماریوں کا علاج کرنے سے بھی پہلے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کام کرتی ہے اور جہاں حفظان صحت کے اصول کام نہ کرسکیں وہاں پھر یہ علاج کرتی ہے ۔ یہ سوسائٹی ایک سلیم الفطرت شخص کے لئے کوئی ایسا موقع ہی باقی نہیں چھوڑتی جس میں وہ شر اور دست درازی پر آمادہ ہو ‘ ایسے حالات کے اندر اور ایسی سوسائٹی کے اندر پھر بھی اگر کوئی امن وامان کو تباہ کرنے پر آمادہ ہوتا ہے تو سمجھو کہ وہ مادہ خبیثہ ہے اور اسے بذریعہ آپریشن سوسائٹی کے وجود سے خارج کرنا ضروری ہے بشرطیکہ علاج کے دوسرے تمام طریقے ناکام ہوجائیں ۔۔۔۔۔ یہ ایسے ہی عناصر ہیں جن کے بارے میں اس آیت میں احکام آئے ہیں :
Ayah 5:33(آیت) ” نمبر 33 تا 34۔
یہ جرم جس کے بارے میں یہ آیت آئی ہے اس کی حدود کیا ہیں ؟ یعنی کسی مسلم سربراہ مملکت کے خلاف بغاوت کرنا ‘ جو حکومت شریعت کے مطابق چلا رہا ہو۔ یہ خروج ایک جمعیت کی شکل میں ہو اور کوئی گروہ اس مملکت کے خلاف مغاوت پر اتر آیا ہو اور اس نے ایسی روش اختیار کرلی ہو جس سے دارالاسلام کے لوگوں کے اندر خوف وہراس پیدا ہو اور اس گروہ کی جانب سے باشندگان دارالاسلام کو مالی ‘ جانی اور عزت کے نقصان کے خطرات لاحق ہوں ۔ بعض فقہاء نے یہ شرط بھی لگائی ہے کہ اس قسم کی واردات شہری علاقوں سے دور ہو جہاں مملکت کی انتظامیہ کی دسترس نہ ہو ۔ بعض فقہاء نے یہ بھی شرط رکھی ہے کہ اس قسم کی واردات شہری علاقوں سے دور ہو جہاں مملکت کی انتظامیہ کی دسترس نہ ہو ۔ بعض فقہاء نے یہ بھی شرط رکھی ہے کہ اس قسم کے باغیوں کے گروہ کا جمع ہوجانا اور دست درازی کا آغاز کرنا اور عملا اگر نہ بھی ہو تو بالقوہ یہ پوزیشن اختیار کرلینا ہی اس آیت کے انطیاق کے لئے کافی ہے چاہے یہ گروہ شہروں کے اندر ہو یا باہر ہو اور یہ آخری رائے عملا زیادہ قریب الفہم ہے تاکہ باغیوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے ۔
یہ باغی وہ لوگ تصور ہوں گے ‘ جو ایسے حاکم کے خلاف ہوں جو شریعت کے مطابق حکومت کر رہا ہو اور یہ باغی دارالاسلام کے ان باشندوں پر دست درازی کی پوزیشن میں ہوں ‘ جن کے ہاں شریعت جاری ہو ‘ (چاہے یہ لوگ ذمی ہوں ‘ مسلمان ہوں یامستامن ہوں) یہ لوگ صرف حکم کے خلاف باغی نہ ہوں اور صرف لوگوں کے خلاف بغاوت نہ ہو ‘ بلکہ اللہ اور رسول کے خلاف بھی بغاوت ہو ۔ اللہ کی شریعت سے محاربت ہو اور ایک ایسی سوسائٹی کے ساتھ محاربت ہو جو اس شریعت کی اساس پر قائم کی گئی ہو ۔ نیز ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے دارالاسلام کو خطرہ لاحق ہوگیا ہو ‘ ان کی یہ جنگ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی خلاف تصور ہوگی ۔ یہ جنگ شریعت کے خلاف تصور ہوگا اس لئے کہ اللہ کی شریعت کو معطل کرنے سے بڑا فساد اس دنیا میں اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔ اور نہ اس سے زیادہ بڑا فساد کوئی ہو سکتا ہے کہ دارالاسلام کے وجود کو خطرہ لاحق ہوجائے ۔
یہ لوگ چونکہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے محاربت کرتے ہیں اگرچہ بظاہر وہ جماعت مسلمہ ‘ اسلامی سوسائٹی اور اس کے سربراہ کے خلاف برسرپیکار ہوتے ہیں ‘ وہ اللہ تعالیٰ کے خلاف تو تلوار اٹھا ہی نہیں سکتے ‘ اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کی ذات کے خلاف تلوار اٹھا سکتے ہیں ‘ جبکہ آپ سے دنیا سے اٹھ چکے ہیں ۔ لیکن اگر کوئی جنگ اللہ کی شریعت کے خلاف ہو تو گویا وہ جنگ اللہ اور رسول کے خلاف ہو رہی ہے ۔ یہ جنگ اس سوسائٹی کے خلاف تصور ہوگی جس نے اللہ اور رسول کی شریعت کو اپنایا ہے اور اس علاقے کے خلاف ہوگی جس میں یہ شریعت نافذ ہو رہی ہو ۔
اس آیت کا ایک اور مفہوم بھی درج بالا مفہوم کے مطابق یہاں متعین ہوجاتا ہے ۔ وہ یہ کہ جس سربراہ مملکت کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق باغیوں کے خلاف آیت میں درج سزائیں دینے کا اختیار ہے وہ وہی سربراہ مملکت ہے جو اسلامی شریعت کے مطابق سربراہ بنا ہو اور جو شریعت کا نافذ کنندہ ہو ۔ ایسے بادشاہ کے علاوہ کسی اور بادشاہ یا سربراہ مملکت کو ایسے اختیارات نہ ہوں گے ۔
اس بات کی ہم فیصلہ کن وضاحت اس لئے کر رہے ہیں کہ حکومتوں کے بعض پٹھو جو ہر حکومت کو دسیتاب ہوجاتے ہیں ‘ وہ بعض حکومتوں کے لئے ایسی سزاؤں کے اختیارات ثابت کرتے ہیں ‘ جو شرعیت کی نافذ کنندہ نہیں ہوتیں حالانکہ وہ حکومتیں اپنے علاقے میں دارالاسلام قائم نہیں کرتیں اگرچہ وہ سمجھتی ہیں کہ ہم مسلمان ہیں ۔ اسے پٹھوؤں نے ہمیشہ ان حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ان حکومتوں کے خلاف اٹھنے والوں کو یہ قرآنی سزائیں دیں ‘ اور انہیں اللہ کی شریعت کے عنوان سے نافذ کریں ‘ حالانکہ ان لادین حکومتوں کے ارکان اللہ اور رسول کے باغی ہوتے ہیں بلکہ وہ ایسی حکومتوں کے ارکان ہوتے ہیں جو اللہ اور رسول کی باغی ہوتی ہیں ۔
غرض اگر کوئی حکومت دارالاسلام میں اسلامی شریعت کی اساس پر قائم نہ ہو ‘ تو اسے اپنے باغیوں پر وہ سزائیں نافذ کرنے کا شرعی اختیار نہیں ہے ۔ ایسی لادین حکومتوں کا شریعت کے ساتھ تعلق ہی کیا ہوتا ہے ؟ یہ حکومت ایسی ہوتی ہے جنہوں نے اللہ کے حق الوہیت اور حق حاکمیت پر دست درازی کی ہوئی ہوتی ہے ۔ ان کا قانون شریعت کے ساتھ تعلق ہی کیا رہتا ہے ؟
ایسے باغی دستوں کے لئے یہ سزائیں تب ہوں گی جب وہ اسلامی خلیفہ کے خلاف بغاوت کریں اور وہ خلیفہ کے خلاف بغاوت کریں اور وہ خلیفہ اسلامی شریعت کا نافذ کنندہ اور حامی ہو ۔ یہ لوگ دارالاسلام کے باشندوں کے لئے خطرہ ہوں ‘ ان کی جان ‘ مال اور آبرو ان سے محفوظ نہ ہو ‘ تو تب انکو قتل کیا جانا جائز اور فرض ہوگا اور ان کو سزائے موت دی جاسکے گی ۔ بعض فقہاء نے یہ کہا ہے کہ قتل کرنے کے بعد لاشوں کو لٹکا دیا جائے گا تاکہ وہ دوسروں کے لئے نمونہ عبرت ہوں اور یہ کہ ان کے ہاتھ کاٹے جائیں یعنی دائیں ہاتھ کے ساتھ بائیں پاؤں اور بائیں ہاتھ کے ساتھ دایاپاؤں ۔ (من خلاف) کا مفہوم یہ ہے ۔
اس آیت کے بارے میں فقہاء کے درمیان بہت ہی وسیع اختلاف رائے واقعہ ہوا ہے ۔ کیا امام کو اختیار ہے کہ باغیوں کو وہ ان سزاؤں میں سے جو چاہے سزا دے دے ‘ یا یہ کہ ان جرائم میں سے ہر جرم کی الگ سزا ہے ۔
امام ابوحنیفہ ‘ امام شافعی اور امام احمد (رح) سے مروی ہے کہ یہ سزائیں ان جرائم کے مطابق دی جائیں گی جو ان باغیوں سے صادر ہوئے ۔ اگر کوئی شخص صرف قتل کا ارتکاب نہ کیا تو اسے قطع ید کی سزا دی جائے گی ۔ جس نے قتل اور لوٹ دونوں میں حصہ لیا تو اسے قتل اور لٹکانے دونوں کی سزا دی جائے گی ۔ اور جس شخص نے محض خوف وہراس پھیلایا مگر نہ قتل کیا اور نہ مال کی لوٹ میں حصہ لیا تو اسے ملک بدری کی سزا دی جائے گی ۔
امام مالک سے روایت ہے کہ باغی نے اگر قتل کا ارتکاب کیا تو اسے لازما سزائے موت دی جائے گی اور امام وقت کو یہ اختیار نہ ہوگا کہ وہ اسے قطع ید دیا ملک بدری کی سزا دے ‘ البتہ اسے یہ اختیار ہے کہ اسے قتل کرا دے یاسولی پر لٹکا دے ۔ اسی طرح اگر اس نے قتل کا ارتکاب نہ کیا تو اسے ملک بدری کا اختیار نہ ہوگا ۔ امام کو اختیار اس میں ہے کہ وہ قتل کرے یا سولی پر لٹکائے ‘ یا اگر قطع اعضاء کا فیصلہ کرے تو اعضائے مخالفہ میں سے جو بھی اختیار کرے ۔ اگر مجرموں سے قتل کرے یا سولی پر لٹکائے ‘ یا اگر قطع اعضاء کا فیصلہ کرے تو اعضائے مخالفہ میں سے جو بھی اختیار کرے ۔ اگر مجرموں سے یہ ڈر ہو ‘ کہ انہوں نے راستوں کو پر خطر بنا دیا ہے تو امام کو اختیار ہے کہ انہیں قتل کرے یا سولی پر چڑھائے یا ہاتھ کاٹ دے یا ملک بدری کی سزا دے اور اختیار تمیزی کا مفہوم امام مالک (رح) کے نزدیک یہ ہے کہ معاملہ امام کے اجتہاد پر موقوف ہے ۔ اگر باغی صاحب الرائے آدمی ہو اور بغاوت کی تدابیر کرسکتا ہو تو اجتہاد کا تقاضا یہ ہوگا کہ اسے قتل کردیا جائے یا سولی پر چڑھا دیا جائے کیونکہ محض قطع ید سے اس کی مضرت دفع نہ ہو سکے گی ، اگر وہ باغی صاحب رائے نہ ہو محض ایک قوی اور بہادر شخص ہو تو اسے صرف قطع ید من خلاف کی سزا دی جائے گی اور اگر اس میں یہ دونوں صفات کسی قدر پائی جاتی ہوں تو اسے ملک بدری اور تعزیری سزا دی جائے گی ۔ (التشریع الجنائی الاسلامی ‘ عبدالقادر عودہ)
ہمارے خیال میں امام مالک کی رائے زیادہ موزوں ہے کہ سزا کبھی تو محض بغاوت اور محاربہ پر یا قطع الطریق کے خطرے اور راستوں کو پر خطربنانے پر ہوتی ہے اور یہ سزا محض امتناعی (Preventive) ہوتی ہے ۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ جرائم کا ارتکاب نہ ہو اور ان لوگوں کو ڈرانا مقصود ہو جو دارالاسلام کے امن وامان کو تباہ کرتے ہیں اور وہ اس سوسائٹی کو خوفزدہ کرتے ہوں جو دارالاسلام میں اسلامی شریعت کی اساس پر قائم ہوتی ہے ۔ حالانکہ یہ سوسائٹی اور دارالاسلام کا علاقہ اس بات کا سب سے زیادہ مستحق ہیں کہ ان کے اندر امن و اطمینان قائم ہو۔
اسی طرح فقہاء کے اندر ملک بدری کے مفہوم کے اندر بھی اختلاف واقعہ ہوا ہے ۔ کیا ملک بدری صرف اس علاقے سے ہوگی جس میں جرم کا ارتکاب ہوا ہے یا اسے اس علاقے سے ملک بدر کردیا جائے گا جس میں اسے پھرنے کی اجازت ہوتی ہے اور یہ مقصد قید سے پورا ہوسکتا ہے یا یہ کہ اسے پورے کرہ ارض سے رخصت کر دیاجائے اور یہ تو سزائے موت ہی سے ممکن ہے۔۔۔۔۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی مفہوم اقرب ہے کہ اس مجرم کو اس سرز میں سے باہر نکالا جائے گا جس کے اندر اس نے جرم کا ارتکاب کیا ہے ۔ اسے اس قدر دور پھینک دیا جائے گا کہ وہ وہاں اپنے آپ کو غریب الوطن سمجھے ۔ وہ دھتکارا ہوا اور کمزور ہو اور یہ اس کے اس جرم کی پوری سزا ہے کہ اس نے لوگوں کو پریشاں کیا ‘ خوفزدہ کیا اور اپنی قوت کے بل بوتے پر لوگوں پر دست درازی کی ۔ یہ ملک بدری اس طرح ہو کہ وہ جہاں جائے جرم سے باز آجائے اور اس کا جتھا بھی وہاں نہ ہو یا وہ اپنے جتھے سے دور ہوجائے ۔
(آیت) ” ذَلِکَ لَہُمْ خِزْیٌ فِیْ الدُّنْیَا وَلَہُمْ فِیْ الآخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(33)
” یہ ذلت ورسوائی تو ان کے لئے دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کے لئے اس سے بڑی سزا ہے ۔
اس دنیا میں انہیں جو سزا ملے گی ‘ اس سے ان کی سزائے آخرت ساقط نہ ہوجائے گی اور آخرت میں وہ گناہ کی اس گندگی سے پاک نہ ہوں گے ‘ جس طرح بعض دوسرے حدود کے اندر انسان کو سزا ہوجائے تو وہ آخرت کے لئے پاک ہوجاتا ہے ۔ یہ بھی اس سزا میں سختی کرنے کا ایک پہلو ہے اور اس سے اس جرم کو مزید گھناؤنا ظاہر کرنا مقصود ہے ۔ یہ اس لئے کہ دارالاسلام میں اسلامی سوسائٹی اس بات کی مستحق ہے کہ وہ پرامن زندگی بسر کرے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جو حکومت اسلامی شریعت کے مطابق قائم ہوتی ہے اس کا لوگوں پر یہ حق ہے کہ لوگ اس کے احکام کو تسلیم کریں ۔
اسلامی نظام حکومت کا ماحول ایک بھلائی کا ماحول ہوتا ہے اور وہ اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ اسے پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کئے جائیں نیز اسلامی نظام زندگی ایک ایسا عادلانہ اور مکمل نظام ہے جس کی حفاظت مسلمانوں پر واجب ہوتی ہے ۔
اب یہ باغی اگر اپنی گمراہی کو ترک کردیں اور فساد کو چھوڑ دیں اور اپنے اس جرم کو برا اور منکر سمجھ کر باز آجائیں اور صدق دل سے تائب ہو کر راہ راست پر آجائیں اگرچہ وہ اب بھی ایسی پوزیشن میں ہوں کہ وہ اپنی مہم کو جاری رکھ سکتے ہوں اور اسلامی مملکت ان پر ہاتھ ڈال سکتی ہو ‘ تو ان کا جرم اور اس کی سزا دونوں معاف تصور ہوں گے ۔ اب حکومت کے لئے جائز نہ ہوگا کہ توبہ کرنے والے لوگوں پر ہاتھ دال دیا ۔ اللہ تعالیٰ چونکہ غفور ورحیم ہے ‘ اس لئے حساب آخرت میں بھی انہیں معاف کر دے گا۔
Ayah 5:34(آیت) ” إِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُواْ مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُواْ عَلَیْْہِمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(34)
” (مگر جو لوگ توبہ کرلیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ۔۔۔۔۔ تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے)
توبہ کرنے والوں کی سزا اور جرم معاف کرنے میں جو حکمت پوشیدہ ہے وہ بالکل واضح ہے اور اس کے دو پہلو ہیں ۔ پہلا یہ کہ ان کی توبہ کی حوصلہ افزائی کی جائے ‘ جبکہ وہ پر قوت تھے ‘ بغاوت جاری رکھ سکتے تھے اور یہ ان کی جانب سے اصلاح پذیری اور ہدایت پر آجانے کی قوی دلیل ہے ۔ دوسرا پہلو یہ ہوگا انہیں دیکھ کر اس قسم کے دوسرے لوگ بھی توبہ کرنے اور راہ راست پر آنے کے لئے آمادہ ہوجائیں گے ۔ اس طرح جنگ وجدل اور مقابلے کے ذریعے انہیں مغلوب کرنے کے بجائے آسان طریقوں سے انہیں راہ راست پر لے آنا ممکن ہوجائے گا ۔
اسلامی نظام زندگی انسان کی اصلاح کے لئے اس کے تمام جذبات ‘ میلانات ‘ اور تمام ذرائع اور احتمالات کو کام میں لاتا ہے اور یہ ایک ایسا نظام ہے جو خود انسانی مزاج اور فطرت کے بنانے والے نے بنایا ہے ۔ وہ ذات انسانی ذات کے نشیب و فراز سے خوف واقف ہے ۔ وہ ذات جانتی ہے کہ انسان کی اصلاح کس طرح ہو سکتی ہے اور کس ذریعے سے ہو سکتی ہے ۔ کیا وہ ذات نہیں جانتی جس نے انسان کو پیدا کیا ہے ‘ وہ تو لطیف وخبیر ہے ۔ (آیت) ” (الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر)
اسلامی نظام زندگی لوگوں پر صرف اسلامی قانون نافذ نہیں کرتا ۔ وہ قانون کی تلوار اٹھا کر لوگوں پر اس طرح مسلط کرتا ہے کہ وہ ڈر کر دوبارہ جرم کا ارتکاب نہ کریں ۔ سزا صرف ان لوگوں کو دی جاتی ہے جو ڈنڈے کے بغیر کسی صورت میں بھی اصلاح کی راہ پر نہیں آتے ۔ اسلام سب سے پہلے لوگوں کی قلبی تربیت پر زور دیتا ہے ۔ لوگوں کے مزاج کو درست کیا جاتا ہے اور ان کی روح کو راہ اصلاح پر لایا جاتا ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسے معاشرے اور ایک ایسی سوسائٹی کا قیام بھی ضروری ہے جس کے اندر اصلاح ‘ نیکی اور بھلائی کے بیج بار آور ہو سکیں ۔ یہ بیج اسی زمین میں بار آور ہو سکتے ہیں جس کے اندر سے گندے پودوں اور جڑی بوٹیوں کو ختم کردیا گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام زندگی اقدامات کرتے ہی ‘ اصلاح روح اور تقوائے دل کی طرف کی طرف آجاتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں روحانیت اور ترسی پیدا کرنے کی سعی کی جاتی ہے ۔ انہیں حکم دیا جاتا ہے ہے کہ خدا تک پہنچنے کے لئے اور اصلاح کی راہ اختیار کرنے کے لئے دوسرے وسائل بھی اختیار کئے جائیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سب سے بڑا وسیلہ اصلاح ہے ۔ اسلامی سوسائٹی کو کفر کے انجام سے ڈرایا جاتا ہے اور آخرت کے عذاب کی ایسی تصویر کشی کی جاتی ہے جو نہایت ہی خوفناک ہوتی ہے اور ہر شخص اس کو دیکھ کر عبرت پکڑ سکتا ہے ۔
Ayah 5:35(آیت) ” نمبر 35 تا 37۔
اسلامی نظام نفس انسانی کی اصلاح کے لیے ہر ذریعہ استعمال کرتا ہے اور اسے ہر پہلو سے گھیرتا ہے ۔ اسلامی نظام انسانی شخصیت کے باطن کی اصلاح بھی ضروری سمجھتا ہے ۔ وہ تمام ذرائع استعمال کرکے اسے اللہ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور معصیت کردگار سے روکتا ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کا مقصد اولیں اصلاح فرد ہے اور ایک فرد کو ہر قسم کے انحراف سے بچانا مطلوب ہے ۔ اور سزا دہی کا نظام بھی ایک فرد بشر کی اصلاح ہی کا ایک ذریعہ ہے ۔ سزا دہی اصل مقصد ہے ہی نہیں ۔
ذرا اس سبق پر غور کیجئے کہ یہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کے واقعہ سے شروع ہوتا ہے ۔ اس سبق میں جا بجا اشارات ہیں ۔ اس کے بعد اس میں سزا کا اعلان کیا جاتا ہے تاکہ دلوں کو اس کی طرف جانے سے روکا جائے ۔ پھر خدا خوفی کی دعوت دی جاتی ہے اور خدا کے عذاب آخرت سے ڈرایا جاتا ہے اور سزا کی اس خوفناک تصویر کشی کے ساتھ ساتھ کہا جاتا ہے ۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ “ (5 : 35) (اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈور)
یعنی مناسب یہی ہے کہ اصل خوف اللہ کا خوف ہے ‘ اور انسان جو اکرم المخلوقات ہے ‘ اس کے شایان شان بھی یہ ہے کہ وہ خدا سے ڈرے ۔ کوڑے اور تلوار اور ڈنڈے سے ڈرنا تو ایک گرا ہوا مقام ہے اور ڈنڈے کے ذریعے اصلاح کی تو صرف ان لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے تو لوگ گرے ہوئے ہوتے ہیں ۔ خدا ترسی تو ایک بہتر ‘ پاکیزہ تر اور شریفانہ مقام ہے ۔ پھر خدا ترسی ایک ایسا چوکیدار ہے جو دلوں میں بیٹھا ہوتا ہے جو اعلانیہ اور خفیہ دونوں حالتوں میں سر پر بیٹھا ہوتا ہے ۔ جن حالات میں انسان لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے ۔ اس وقت بھی تقوی اس کا نگران ہوتا ہے ۔ ایسے معاملات میں صرف تقوی ہی بدی اور شر سے روکتا ہے ‘ جن میں انسان قانون کی گرفت سے دور ہوتا ہے ۔ یہ بات اچھی طرح یاد رکھنے کے لائق ہے کہ تقوی کے بغیر قانون کی گرفت ڈھیلی ہوتی ہے ‘ کیونکہ جو مجرم قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں ان کی تعداد ان لوگوں سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے جو قانون کی گرفت میں آجاتے ہیں ۔ جو معاشرہ صرف قانون پر قائم ہوتا ہے اس میں نہ کسی فرد کی اصلاح ہوتی ہے اور نہ اس معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے ۔ قانون کے پیچھے ایک پوشیدہ چوکیدار کا ہونا ضروری ہے اور یہ چوکیدار صرف خدا خوفی کا چوکیدار ہوتا ہے جو ہر دل میں بوجہ خدا ترسی اور تقوی بیٹھا ہوتا ہے ۔
(آیت) ” وابتغوا الیہ الوسلۃ “۔ (5 : 35) (اور اس کی جناب میں باریابی کا ذریعہ تلاش کرو)
اللہ سے ڈرو اور اس تک جانے کا وسیلہ تلاش کرو ‘ اور ان اسباب کی تلاش کرو جو تمہیں اللہ کے ساتھ جوڑتے ہیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت ہے (آیت) ” وابتغوا الیہ الوسلۃ “۔ (5 : 35) (یعنی اس سے اپنی حاجات طلب کرو) کا مطلب یہ ہے کہ انسان جب اللہ کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور پھر اپنی حاجات اللہ سے طلب کرتے ہیں تو وہ اس وقت بندگی کی صحیح پوزیشن میں ہوتے ہیں ۔ اس وقت اللہ کی ربوبیت پر انہیں پورا پورا یقین ہوجاتا ہے اور ایسے حالات میں وہ اصلاح اور فلاح دونوں کے قریب تر پہنچ جاتے ہیں ۔ یہ دونوں تفسیریں اس آیت کے الفاظ کے ساتھ لگا کھاتی ہے ۔ دونوں کے ذریعے دل کی دنیا کی اصلاح ‘ ضمیر اور روح کی زندگی اور وہ فلاح اخروی حاصل ہوتی ہے جو ہمارا نصب العین ہے ۔
(آیت) ” وجاھدوا فی سبیلہ لعلکم تفلحون “۔ (5 : 35) (اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو ‘ شاید کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوجائے)
اس کے مقابلے میں کفار کا منظر آتا ہے ‘ جو اللہ سے نہیں ڈرتے اور جو اللہ تک پہنچنے کے لئے ذریعے کی تلاش نہیں کرتے ۔ اور آخرت میں کامیاب نہیں ہوتے ۔ یہ زندہ اور متحرک منظر ہے ‘ نظروں کے بالکل سامنے ۔ قرآن ‘ اس آیت کے بیان میں بیانیہ اور احکام قانون کا انداز اختیار نہیں کرتا بلکہ ان کے بارے میں حرکات اور تاثراقت پیش کئے جاتے ہیں ۔ شاید قیامت کے بیان میں قرآن کریم کا یہ ایک خاص اسلوب ہے اور اس سے بیان کے تمام اغراض ومقاصد حاصل ہوجاتے ہیں ۔
Ayahs 5:36–37(آیت) ” إِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ لَوْ أَنَّ لَہُم مَّا فِیْ الأَرْضِ جَمِیْعاً وَمِثْلَہُ مَعَہُ لِیَفْتَدُواْ بِہِ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَا تُقُبِّلَ مِنْہُمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ(36) یُرِیْدُونَ أَن یَخْرُجُواْ مِنَ النَّارِ وَمَا ہُم بِخَارِجِیْنَ مِنْہَا وَلَہُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ(37)
(خوب جان لو کہ جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے اگر ان کے قبضے میں ساری زمین کی دولت ہو اور اتنی ہی اور اس کے ساتھ اور وہ چاہیں کہ اسے فدیہ میں دے کر روز قیامت کے عذاب سے بچ جائیں ‘ تب بھی وہ ان سے قبول نہ کی جائے گی اور انہیں دردناک سزا مل کر رہے گی ۔ وہ چاہیں گے کہ دوزخ کی آگ سے نکل بھاگیں مگر نہ نکل سکیں گے اور انہیں قائم رہنے والا عذاب دیا جائے گا۔ )
بطور فرض انسان جو تصور کرسکتا ہے وہ یہی ہے کہ اہل کفر کے پاس زمین کے تمام خزانے ہوں اور اسی قدر مزید ان کے لئے فرض کیا جاسکتا ہے ۔ قرآن کریم ان کے لئے یہ بھی فرض کرتا ہے کہ اس جہان جیسا ایک دوسرا جہان بھی ان کے پاس ہو ۔ اس کے بعد قرآن کریم یہ فرض کرتا ہے کہ یہ لوگ قیامت کے دن یہ تمام مفروضہ دولت بطور فدیہ اور کفارہ کفر دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ آخرت کے عذاب سے بچ جائیں ۔ قرآن کریم ایک ایسا منظر نظروں کے سامنے لاتا ہے کہ وہ آگ سے کس طرح نکلنا چاہتے ہیں مگر وہ نکل نہیں سکتے ۔ وہ اپنے اس مقصد اور ہدف میں ناکام رہتے ہیں اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جن ہم کی آگ میں زندہ رہتے ہیں ۔
یہ ایک ایسا منظر ہے جس کے اندر کئی مناظر ہیں اور جس میں کئی مسلسل حرکات ہیں ۔ ایک منظر کفار کا ہے وہ اپنے پاس اس پورے جہان کی دولت لیے ہوئے ہیں پھر اچانک یہ دولت دوگنی ہوجاتی ہے ۔ پھر وہ اس دولت کو لے کر اسے بطور فدیہ دینے کی پیشکش کرتے ہیں ۔ پھر ان کا یہ منظر سامنے آتا ہے کہ وہ یہ مقصد حاصل کرنے میں ناکام لوٹتے ہیں اب انہیں یہ مقصد حاصل کرنے کی کوئی آس بھی نہیں رہتی ۔ پھر وہ اچانک آگ میں داخل ہوتے ہیں اور وہ اس سے باہر بھاگنا چاہتے ہیں مگر بھاگ نہیں سکتے ۔ پھر ان کو مجبور کردیا جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ وہاں باقی رہیں ۔ اب پردہ گرتا ہے اور وہ یہاں ہی فروکش ہوجاتے ہیں ۔ (دیکھئے کتاب التصویر الغنی میں فصل طریقہ القرآن)
اور اب اس سبق کے آخر میں چوروں کے احکام :
Ayah 5:38(آیت) ” نمبر 38 تا 40۔
” اسلامی معاشرہ ‘ باشندگان دارالاسلام کے لئے ایک ایسا ماحول فراہم کرتا ہے جس میں کوئی معتدل شخص چوری کے بارے میں سوچ ہی نہ سکے ‘ چاہے ان باشندوں کے عقائد ونظریات جو بھی ہوں۔ اسلامی معاشرہ اپنے باشندوں کو معاشی کفالت ‘ اخلاقی تربیت اور درست طرز عمل اختیار کرنے کی ضمانت دیتا ہے ۔ نیزانصاف اور دولت کی منصفانہ تقسیم کا انتظام کرتا ہے اور وہ یہ انتظام بھی کرتا ہے کہ اس کے اندر انفرادی ملکیت کی شکل ایسی ہو کہ وہ پوری سوسائٹی کے لیے نفع بخش ہو اور وہ معاشرے کے لئے باعث اذیت نہ ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے حالات پیدا کردینے کے بعد بھی اگر کوئی چوری کرتا ہے تو اسلام اسے سخت ترین سزا دیتا ہے ۔ اسی طرح انفرادی ملکیت پر دست درازی کرنے والے اور سوسائٹی کا امن وامان تباہ کرنے والے کو عبرت ناک سزا دیتا ہے ۔ ان سخت ترین سزاؤں کی تجویز کے ساتھ ساتھ اسلام شبہات کی بنا پر حدود کو ساقط بھی کرتا ہے اور ملزم کو مکمل قانونی دفاع کا اختیار اور حق عطا کرتا ہے تاکہ کسی شخص کو مکمل ثبوت کے بغیر سزا نہ دی جاسکے ۔ اب مناسب ہے کہ اس اجمال کے بعد قدرے تفصیلی بحث کردی جائے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نظام ایک باہم مربوط کل ہے ۔ اس نظام کے کسی جزء کو اس وقت تک نہیں سمجھا جاسکتا جب تک کسی کے پیش نظر وہ تمام اصولی مباحث نہ ہوں اور وہ ضمانتیں نہ ہوں جو یہ نظام اسلامی معاشرے کو فراہم کرتا ہے اور جن اصولوں اور قواعد پر اس کی جزئیات قائم ہیں ۔ پھر اسلامی نظام کا ایک ایک جزء نافذ بھی نہیں ہو سکتا جب تک اسے مکمل طور پر نافذ نہ کیا جائے اور اسے مجموعی طور پر روبعمل نہ لایا جائے ، رہی یہ صورت کہ اس نظام کے کسی ایک جزء کو نافذ کرنا یا اس کے اصولوں میں سے کسی ایک اصول کو نافذ کرنا اور یہ نفاذ ایک ایسے معاشرے اور ایک ایسے نظام کے اندر کرنا جو مجموعی طور پر اسلامی نظام نہیں ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔
اسلام سے کٹا ہوا یہ جزء بھی اسلام کا نفاذ تصور نہ ہوگا ‘ اس لئے کہ اسلام ‘ اسلام کے اجزاء اور ٹکڑوں کا نام نہیں ہے ۔ اسلام ایک ایسا نظام ہے جو تمام شعبہ ہائے حیات پر حاوی ہے اور اس کے احکام باہم مربوط ہیں ۔۔۔۔۔ یہ تو ایک عمومی بات تھی ۔
رہی یہ بات کہ چوری کے قانون اسلامی کے بارے میں بات قدرے مختلف ہے تو حقیقت یہ ہے کہ دارالاسلام میں اسلام ہر فرد کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ زندہ رہے ‘ اور اپنی زندگی کے حفظ اور بقاء کے لئے تمام وسائل سے کام لے ۔ ہر شخص کھا پی سکتا ہے ‘ ہر شخص کو مکان اور لباس کا حق ہے جہاں وہ آرام اور سکون سے رات گزرے ۔ ایک فرد کا اسلامی سوسائٹی پر یہ حق ہے کہ وہ اسے اس کی یہ بنیادی ضروریات فراہم کرے اور ظاہر ہے کہ ایک حکومت پوری سوسائٹی کی طرف سے نمائندہ ہوتی ہے ۔ یہ حق اس طرح فراہم ہوگا کہ حکومت ان تمام لوگوں کو روز گار فراہم کرے جو کام کرنے کے قابل ہوں ۔ یہ حق ایک فرد کا سوسائٹی پر ہے اور پھر حکومت پر ہے ۔ یہ سوسائٹی اور حکومت لوگوں کو کام کرنے کی تربیت بھی دے گی اور لوگوں کو کام کرنے کے مواقع اور کام کے اوزار بھی فراہم کرے گی ۔ اگر کوئی بےروز گار ہوجاتا ہے اس طرح کہ اسے کام نہیں ملتا ‘ یا کام کے اوزار نہیں ملتے ‘ یا وہ محنت کے قابل نہیں رہتا اور یہ بیکاری جزئی ہے یا کلی ہے ‘ وقتی ہے یا دائمی ہے ‘ یا صورت یہ ہے کہ وہ کام تو کرتا ہے لیکن یہ کام اس کی ضروریات کے لیے کافی نہیں ہے تو اس فرد کا یہ حق ہے کہ وہ اجتماعی نظام یا سوسائٹی اس فرد کو یہ ضروریات خزانہ سے فراہم کرے یا ان لوگوں کے ذریعے فراہم کرائے جن پر ایسے افراد کا نفقہ فرض ہے ۔ اہل محلہ سے ایسے لوگوں کی ضروریات فراہم کرائے ورنہ جیسا کہ کہا گیا بیت المال اور خزانہ سے فراہم کرے ۔ بیت المال کی ایک مد زکوۃ تو ہے ہی اس کے لیے ۔ اگر زکوۃ فنڈ سے بھی پورا نہ ہو تو پھر پورے دارالاسلام پر اس سلسلے میں ٹیکس عائد ہو سکتا ہے جس کے ذریعے غرباء کو اس قدر دیا جائے کہ ان کی ضروریات پوری ہوں ۔ لیکن یہ ٹیکس بھی غرباء کی ضرورت کے مطابق ہی عائد ہو اور ضرورت سے زیادہ نہ ہو اور ایسی انفرادی ملکیت پر ظلم نہ ہو جو بالکل حلال ذرائع سے کمائی گئی ہو۔
پھر اسلام دولت کے ارتکانی پر بھی سخت پابندیاں عائد کرتا ہے ۔ اسلامی نظام میں انفرادی دولت صرف حلال ذرائع سے جمع کی جاسکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشرے میں انفرادی ملکیت کو بغض وحسد کا سامنا کرنا نہیں پڑتا یعنی ان لوگوں کی طرف سے جو نادار ہیں۔ اسی طرح اسلامی معاشرے میں کوئی شخص دوسرے کی جائیداد چھین لینے کے بارے میں بھی نہیں سوچتا خصوصا اس وقت جب اسلامی نظام ان کے بقدر کفایت انتظام کرتا ہے اور ان کو بالکل محروم نہیں چھوڑتا ۔
اسلام لوگوں کے ضمیر اور ان کے اخلاق کی تربیت پر بھی زور دیتا ہے ۔ اس لئے اسلام لوگوں کو کسب وعمل پر آمادہ کرتا ہے اور یہ کسب وعمل اسلامی طریقے کے مطابق چاہتا ہے ۔ اگر عمل اور روز گار نہ ملے تو اسلامی نظام لوگوں کی ضروریات کی فراہمی کا انتظام کرتا ہے ‘ اور پاک وصاف ذرائع سے ان کی کفالت کرتا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ ایسے معاشرے اور ایسے حالات میں ایک شخص اگر چوری کرتا ہے تو کیوں کرتا ہے ؟ یہ شخص ضروریات کے لئے چوری نہیں کرتا بلکہ یہ دولت جمع کرنے کے لئے چوری کرتا ہے ۔ یہ دولت وہ کسب اور محنت کے ذریعہ جمع نہیں کرنا چاہتا بلکہ چوری کے ذریعہ دولت جمع کرنے کے لئے چوری کرتا ہے ۔ یہ دولت وہ کسب اور محنت کے ذریعہ جمع نہیں کرنا چاہتا بلکہ چوری کے ذریعہ دولت جمع کرنے کی خواہش کرتا ہے جس سے پورے دارالاسلام کے امن وامان اور اطمینان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے ۔ اسلامی سوسائٹی کا یہ حق ہے کہ وہ امن و سکون سے جاری وساری رہے لیکن یہ چوری کا فعل ایک حلال مال کے مالک کو اپنے حق اطمینان سے محروم کردیتا ہے اور پھر سوسائٹی کو بھی ۔
اسلامی معاشرے میں جو شخص حلال دولت کماتا ہے ‘ سود خوری نہیں کرتا ‘ دھوکہ دہی نہیں کرتا ‘ ذخیرہ اندوزی نہیں کرتا ‘ مزدوروں کی مزدوری نہیں مارتا ‘ زکوۃ ادا کرتا ہے ‘ اور اسلامی معاشرے کو وہ ٹیکس بھی ادا کرتا ہے جس کی اس معاشرے کو ضرورت ہو تو ایسے شخص کا بھی اسلامی معاشرے اور دارالاسلام پر یہ حق ہے کہ اس کا مال محفوظ ہو اور اس کی یہ دولت چوری اور ڈاکے سے محفوظ رہے ۔
ایسے تمام حالات اور سہولتوں کے بعد بھی اگر کوئی چوری کرتا ہے ‘ وہ اس حال میں چوری کرتا ہے کہ اس کی ضروریات پوری ہو رہی ہیں ‘ اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ چوری ایک سنگین جرم ہے اور اسے دوسروں کا مال لوٹنے کی ضرورت اور احتیاج بھی نہیں ہے اور ان مالداروں نے نہ لوٹ مار کے ذریعہ یہ مال جمع کیا ہے اور نہ حرام ذرائع سے جمع کیا ہے ۔ اگر کوئی ایسے حالات میں سرقے کا ارتکاب کرتا ہے تو یہ سرقہ بلاجواز ہے ۔ ایسے حالات میں کسی کے لئے یہ جائز نہیں ہے ۔ کہ وہ ایسے شخص پر رحم کرے بشرطیکہ اس پر جرم ثابت ہوجائے ۔
اگر حالات مقدمہ ایسے ہوں کہ جن میں یہ ثابت ہوجائے کہ چور ضرورت مند تھا ‘ یا کوئی اور عذر تھا تو اسلامی قانون کا عام اصول یہی ہے کہ حدود شبہات کی وجہ سے ساقط ہوجاتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قحط سالی کے سال میں حضرت عمر ؓ نے قطع ید کی سزا کو موقوف فرمایا تھا ۔ اس موقعہ پر حالات ایسے تھے کہ لوگ بالعموم بھوکے ہوتے تھے ۔ اسی طرح حضرت عمر ؓ نے ایک خاص حادثے میں بھی سزائے قطع ید نہ دی تھی ۔ حاطب بن ابی بلتہ کے غلاموں نے مزینہ کے ایک شخص کی اونٹنی چوری کرلی تھی ۔ حضرت عمر ؓ نے ان کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تھا ‘ لیکن جب حضرت عمر ؓ کو معلوم ہوا کہ ان غلاموں کا مالک ان کا بھوکا رکھتا ہے تو آپ نے حد کی سزا ساقط کردی اور غلاموں کے مالک پر اونٹنی کی قیمت سے دوگنا قیمت بطور تاوان عائد کردیا۔
مناسب یہ ہے کہ ہم اسلامی حدود کو اس انداز سے سمجھنے کی کوشش کریں اور انہیں اسلام کے مکمل اور مربوط نظام کی شکل و صورت میں سمجھیں جو افراد معاشرہ کو زندگی کی ضمانتیں فراہم کرتا ہے ۔ یہ ضمانتیں کسی ایک طبقے کو دوسرے طبقے کے خلاف نہیں فراہم کرتا بلکہ اسلام سزا کے اسباب فراہم کرنے سے پہلے سزا بچانے کے اسباب فراہم کرتا ہے ۔ اسلام صرف ان لوگوں کو سزا دیتا ہے جو بلاجواز جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔
اس عمومی حقیقت کے اظہار کے بعد اب ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ حد سرقہ کی تفصیلات دی جائیں ۔ سرقہ کی تعریف یہ ہے کہ دوسرے کا مال خفیہ طور پر لیا جائے جو مال حرز کے اندر ہو ۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مال مقوم ہو یعنی مالیت رکھتا ہو ۔ مال کے نصاب کے سلسلے میں فقہاء کے درمیان متفق علیہ بات یہ ہے کہ جو مال لیا گیا ہو اور خفیہ طور پر حرز کے اندر سے لیا گیا ہو ‘ اس کی مقدار 41 دینار کے برابر ہونا چاہئے یعنی ہمارے دور کے 25 مصری قرش کے برابر یہ نہایت ہی ضروری ہے کہ یہ مال حرز کے اندر ہو اور چور اسے حرز کے اندر سے لے لے ۔ اور وہ لے کر حرز سے نکل جائے ۔ اب اگر کوئی کسی کے پاس مالی امانت رکھتا ہے اور وہ اسے چوری کرلیتا ہے تو اس پر حد سرقہ نہ ہوگی ۔ اسی طرح جو شخص ملازم ہے اور وہ گھر یا دکان وگودام میں آتا جاتا ہے تو بھی اس پر حد سرقہ جاری نہ ہوگی ۔ اس طرح اگر کوئی کسی سے کوئی چیز مانگ کرلے جاتا ہے اور پھر انکار کردیتا ہے اور اس سے برآمد ہوجاتی ہے تو بھی اس پر حد سرقہ جاری نہ ہوگی ۔ نیز ان پھلوں پر بھی حد سرقہ نہ ہوگی جب تک کھلیاں میں انہیں جمع نہ کرلیا جائے ۔ نہ ایسے مال پر یہ حد ہوگی جو گھر سے باہر ہو یا اس صندوق سے باہر ہو جو اس کی حفاظت کے لیے بنایا گیا ہو ۔ یہ بھی ضروری ہے کہ یہ مال محفوظ کسی دوسرے شخص کی ملکیت میں ہو ‘ اس لیے اگر کوئی شریک چوری کرلے تو اس پر حد سرقہ نہ ہوگی ۔ اس لئے کہ اس میں وہ خود بھی شریک ہے اور وہ خالص طور پر دوسرے کا نہیں ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی سرکاری مال چرائے یعنی دارالاسلام کے خزانے سے تو اسے بھی قطع ید کی سزا نہ ہوگی کیونکہ اس مال میں اس کا بھی حصہ ہے اور وہ خالص مال الغیسر نہیں ہے ۔ ایسے حالات میں سزا قطع ید نہ ہوگی بلکہ تعزیری سزا ہوگی (یاد رہے کہ تعزیری سزا سزائے حد سے کم ہوتی ہے ، مثلا کوڑے ‘ قید ‘ ڈانٹ ڈپٹ اور وعظ ونصیحت بھی اور یہ سزا ظرف احوال کے مطابق قاضی کے اختیار تمیزی پر ہوگی)
” قطع ید “ دائیں ہاتھ کا ہوگا یعنی کلائی تک اگر دوبارہ چوری کرے تو بایاں پاؤں ٹخنے تک کاٹا جائے گا یہاں تک تو تمام لوگوں کا اتفاق ہے تیسری اور چوتھی بار چوری کرنے کی صورت میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے ۔
شبہات کی وجہ سے حدود معاف ہوجاتی ہیں حد سرقہ میں شبہات درج ذیل ہو سکتے ہیں ‘ مثلا بھوک اور شدید ضرورت کی وجہ سے حد ساقط ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح اگر مال میں شرکت کا شبہ ہو تو بھی حد ساقط ہوگی ‘ اگر کسی نے اعتراف کیا ہو اور باقی شہادت نہ ہو تو بھی اعتراف جرم سے رجوع کرتے ہی حد ساقط تصور ہوگی ۔ اسی طرح اگر کسی نے شہادت دی ہو لیکن بعد میں وہ شہادت سے پھرجائے تو یہ بھی ایک طرح کا شبہ ہوگا ۔
اور فقہاء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ وہ کیا چیز ہے جسے شبہ تصور کیا جائے گا ۔ امام ابوحنفیہ (رح) فرماتے ہیں کہ جو پیر مباح ہو اصلا تو اس میں قطع ید کی سزا نہ ہوگی اگرچہ وہ حرز اور حفاظت میں ہو ۔ مثلا ایک شخص کسی کے حزز سے پانی چوری کرتا ہے یا مثلا ایک شخص شکار کرے اور اسے محفوظ کرلے اور دوسرا اسے چرا لے ۔ یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جو اپنی اصلیت کے اعتبار سے سب کے لیے مباح ہیں
اس میں یہ شبہ لاحق ہو سکتا ہے کہ حرز اور حفاظت میں آنے کے بعد بھی اباحت جاری ہو ۔ اسی طرح عوام الناس کی مشترکہ دولت اگرچہ کسی خاص شخص کے حرز اور حفاظت میں آجائے ‘ اس میں بھی شبہ لاحق ہو سکتا ہے کہ وہ اب بھی مفاد عامہ کی چیز ہے ۔ جبکہ امام شافعی ‘ (رح) امام مالک (رح) ‘ اور امام احمد (رح) ایسے حالات میں شبہ کے قائل نہیں ہیں اور حد کو ساقط نہیں کرتے ۔ امام ابوحنیفہ (رح) ان تمام چیزوں کی چوری میں حد ساقط فرماتے ہیں جن میں گلنے سڑنے کا عمل تیزی سے آتا ہے ، مثلا کھانا ‘ پھل ‘ سبزیاں ‘ گوشت ‘ روٹی اور ان جیسی دوسری اشیاء ہاں امام ابو یوسف (رح) ‘ امام ابو حنفیہ (رح) سے اختلاف کرتے ہیں ۔ اور وہ ان میں قطع ید کے قائل ہیں جس طرح ائمہ ثلاثہ قائل ہیں ۔
یہاں ہمارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم فقہاء کے اختلافات میں تفصیل سے بحث کریں ‘ یہ تفصیلات کتب فقہ میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ یہ چند مثالیں اس بات کے اظہار کے لئے کافی ہیں کہ اسلامی قانون کی پالیسی یہ نہیں ہے کہ وہ خواہ مخواہ سزا نافذ کرے بلکہ اسلام شبہات کی وجہ سے حدود کو ساقط کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے ۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ (ادروا الحدود بالشبہات) (حدود کی سزاؤں کو شبہات کی وجہ سے ساقط کر دو ) اور حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں : میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ شبہات کی وجہ سے حدود کو معطل کر دوں بہ نسبت اس کے کہ میں ایسے حالات میں حدود کو نافذ کروں ۔
لیکن قطع ید کے بارے میں مناسب ہے کہ ذرا تفصیلی بات ہوجائے ‘ یہ بات تو ہم کہہ چکے ہیں کہ دارالاسلام میں ‘ ملزم کے بچاؤ اور اسے پورے پورے عدالتی تحفظات دینے کے بعد چور کے ساتھ سختی کیوں کی گئی ہے ۔ یہاں مناسب ہے کہ ہم جناب عبدالقادر عودہ کی مشہور کتاب سے کچھ اقتباسات دے دیں ۔
” سارق کے لئے قطع ید کی سزا اس لئے تجویز کی گئی ہے کہ چور جب چوری کرتا ہے تو اس کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کی کمائی حاصل کرکے اپنی کمائی میں اضافہ کرے ۔ وہ خود حلال طریقے سے جو کماتا ہے اسے ناکافی تصور کرتا ہے اس طرح وہ حرام طریقے سے اپنی کمائی بڑھانا چاہتا ہے ۔ وہ اپنے عمل اور کسب کے نتائج پر اکتفاء کرتا ‘ اور دوسرے کی کمائی ہتھیانے کا لالچ کرتا ہے ۔ اور اس کام کے پس پشت وہ یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس طرح وہ زیادہ خرچ کرے یا زیادہ دولتمندی کا مظاہرہ کرے یا یہ جذبہ ہوتا ہے کہ وہ کام کرنے اور مشقت کرنے سے بچ جائے یا اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اس کا مستقبل محفوظ ہوجائے ، غرض چوری پر مائل کرنے کا عامل صرف یہ ہوتا ہے جو اوپر ہم نے بیان کیا یعنی زیادہ کمائی اور دولتمندی۔ اسلامی شریعت نے ان کی نفسیات کے اندر اس بیماری کا علاج اس طرح شروع کردیا کہ اس کہ اس نے جرم کے لئے قطع ید کی سزا تجویز کی اس قطع ید یا قطع پا سے اس شخص کی کمائی پر اثر پڑے گا اس لئے کہ ہاتھ اور پاؤں دونوں کمائی کے آلات ہیں ۔ اب کمائی کم ہوگی تو دولت کم ہوگی اور دولت کم ہوگی تو زیادہ انفاق اور زیادہ دولتمندی کا اظہار بھی کم ہوگا ۔ اس کی وجہ سے اب ایسے شخص کو زیادہ محنت کرنے کی ضرورت پڑے گی اور وہ زیادہ وقت کے لئے کام کرے گا اور اسے اپنے پورے مستقبل سے ہاتھ دھونے کا خطرہ درپیش ہوگا ۔ “
اس طرح شریعت نے قطع ید کی سزا مقرر کرکے ان نفسیاتی عوامل کو ختم کردیا جو اس جرم پہ کسی کو آمادہ کرتے ہیں اور مجرم کی نفسیات کے اندر اس جرم پر آمادہ کرنے کے مخالف نفسیاتی عوامل داخل کردیئے ۔ تاہم اگر پھر بھی کسی کی نفسیات میں پائے جانے والے چوری پر آمادہ کنندہ عوامل غالب آجائیں اور انسان یہ جرم کربیٹھے تو اس صورت میں اسے جو تلخ سزا ملے گی وہ ان مؤثرات پر غالب آجائے گی جو اسے چوری پر آمادہ کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ ہر گز دوبارہ اس جرم کے ارتکاب کے لئے آمادہ ہوگا ۔ “
” یہی وہ بنیاد ہے جس پر اسلامی نظام قانون میں قطع ید کی سزا رکھی گئی ہے ۔ اور یہ خدا کی قسم آغاز انسانیت سے لے کر آج تک اس جرم کے لئے بہترین سزا ہے ۔ “
” دوسر جدید کے قوانین چور کو سزائے قید دیتے ہیں ۔ یہ وہ سزا ہے جو ہر قسم کے جرائم کو ختم کرنے میں بالکل ناکام رہی ہے اور خصوصا چوری کی سزا کو یہ ختم نہیں کرسکی ۔ اس کی حقیقی وجہ یہ ہے کہ سزائے قید چور کی نفسیات کے اندر وہ عوامل داخل نہیں کرسکتی جو اسے اس جرم سے باز رکھے اس لئے کہ یہ سزا چور کو صرف اسی عرصہ میں جرم سے باز رکھ سکتی ہے جس عرصے کے لئے وہ قید میں ہوتا ہے ۔ جب وہ قید ہوتا ہے تو اسے کمانے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ‘ اس لئے کہ جیل کے اندر اس کی تمام ضروریات وحاجات کا انتظام ہوتا ہے اور جب وہ جیل سے نکلتا ہے تو وہ کمانے اور محنت کرنے پر قدرت رکھتا ہے ۔ اس کو از سرنو موقعہ مل جاتا ہے کہ وہ اپنی کمائی میں اضافہ کرے ۔ اپنی دولت کو بڑھائے اور اس میں حلال اور حرام دونوں ذرائع استعمال کرے ۔ وہ پھر لوگوں کو دھوکہ دے سکے ‘ اپنے آپ کو شریف ظاہر کرسکے ‘ لوگ اس کی طرف سے مطمئن ہوجائیں اور اس کے ساتھ تعاون کریں ۔ اگر وہ اچھا رویہ اختیار کرے جو اسے کرنا چاہئے تو وہ ایسا کرے گا ۔ اور اگر وہ اپنے مقاصد حاصل نہ کرسکے تو اس کو کوئی نقصان بھی نہیں ہوا ہے اور وہ بڑی سہولت سے دوبارہ برے راستے پر جاسکتا ہے ۔ “
” رہی یہ صورت کہ اسے قطع ید کی سزا دے دی جائے تو وہ دوبارہ کسب وعمل پر سرے سے قادر ہی نہ ہوگا یا اس کی کسب وعمل کی صلاحیت بڑی حد تک کم ہوجائے گی اور اس طرح اس کی زیادہ کمائی کے مواقع بہرحال کم ہوں گے ۔ بعض اوقات تو یہ مواقع بہت ہی محدود ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات بالکل ختم ہوجاتے ہیں ۔ اب وہ لوگوں کو دھوکہ بھی نہ دے سکے گا اور وہ لوگوں کو اس بات پر آمادہ نہ کرسکے گا کہ وہ اس پر کوئی اعتبار اور اعتماد کریں ۔ اس لئے کہ اس کے جسم پر جرم کے آثار موجود ہوں گے ۔ اس کا سابقہ کردار اس کے کٹے ہوئے ہاتھ سے عیاں ہوگا ۔ اگر قطع یعد کی سزا نافذ ہو تو اس صورت میں چور کے لئے خسارہ یقینی اور حتمی ہوگا ۔ اگر اسے سزائے قید دی جائے تو اسے فائدہ زیادہ ہوگا اور نقصان کم ۔ اور چور ہی کا نہیں بلکہ تمام لوگوں کا یہ اصول ہے کہ وہ اسی طرف جھکتے ہیں جس میں نفع کا احتمال زیادہ ہو ۔ اور ایسا کام وہ ہرگز نہیں کرتے جس میں خسارہ یقینی ہو ۔ “
” اس بحث کے بعد ان لوگوں کی باتیں نہایت ہی عجیب ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ سزائے قطع ید آج کل کے ترقی یافتہ دور اور مہذب دنیا کے ساتھ لگا نہیں کھاتی ۔ گویا تہذیب و تمدن اس چیز کا نام ہے کہ جدید علم اور گہری حکمت کا انکار کردیا جائے ، انسان کے مزاج کو بھلا دیا جائے اور تمام اگلی پچھلی امتوں کے تجربات سے انکار کردیا جائے ۔ ہم اپنی عقل کو یک دم معطل کردیں ‘ اور ہماری فکر واضح طور پر جن نتائج تک پہنچ چکی ہے اسے ترک کردیں ‘ اور ان باتوں کو لے لیں جن کے عوامل کے پاس ان پر بےراہ روی اور گمراہی کے سوا اور کوئی دلیل نہیں ہے ۔ “
” اگر تہذیب و تمدن کا تقاضا یہ ہے کہ جو بھی سزا ہو وہ تہذیب و تمدن کے مطابق ہو تو پھر سزائے قید اس بات کی مستحق ہے کہ اسے سرے سے ختم کردیا جائے اور سزائے قطع ید کو نافذ کردیا جائے ۔ اس لئے کہ سزائے قطع ید نفسیاتی محرکات اور علم النفس کے مسلمہ اصولوں کے عین مطابق ہے ۔ یہ انسان کے مزاج کے عین مطابق اور تمام اقوام عالم کے تجربات کی روشنی میں بھی نہایت ہی مفید ہے ۔ یعنی تمام چیزوں کا ادراک اور اس کی حکمت ۔ تہذیب و تمدن بھی اسی اصول ادراک اور اصول حکمت پر مبنی ہوتے ہیں ۔ رہی سزا قید تو وہ ہر گز علم النفس ‘ حکمت و تجربہ پر قائم نہیں ہے اور نہ یہ عقلی منطق اور دنیا کی مخلوقات کے مزاج سے متفق ہے ۔
” سزائے قطع ید کی بنیاد انسان کی نفسیات اور اس کی عقلمندی پر ہے ۔ یہ سزا افراد کے لئے زیادہ مناسب ہے ۔ یہ معاشرے اور سوسائٹی کے لئے بھی مفید ہے ۔ اس کی وجہ سے جرائم میں ایک دم کمی آجاتی ہے ۔ معاشرے میں امن قائم ہوجاتا ہے ۔ جب ایک سزا فرد کے لئے مناسب اور ایک سوسائٹی کے لئے مفید ہو تو وہ تمام سزاؤں سے زیادہ بہتر ہوتی ہے ۔ “
” لیکن یہ سب دلائل بھی بعض لوگوں کو مطمئن نہیں کرسکتے کہ سزائے قطع مفید ہے ۔ ان کی رائے پر ان کے پاس صرف یہ دلیل ہے کہ یہ سنگدلانہ سزا ہے ۔ یہ ان کی اول اور آخر دلیل ہے اور ان کی یہ دلیل اس طرح قابل رد ہے کہ لفظ عقوبت (سزا) عقاب کے مشتق ہے ۔ اور سزا اس وقت سزا ہی نہیں رہتی اگر وہ نرم اور محض تفریح ہو ‘ بلکہ وہ محض ایک کھیل تماشا یا اس جیسی کوئی اور چیز ہوگی ۔ لہذا سزا ہونی ہی ایسی چاہئے جس میں مجرم پر سختی ہو تاکہ سزا کو سزا کہا جاسکے۔ “
اللہ تعالیٰ تو ارحم الراحمین ہے ۔ اللہ کا فرمان یہ ہے اور بہت ہی سخت فرمان ہے ۔
(آیت) ” فَاقْطَعُواْ أَیْْدِیَہُمَا جَزَاء بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِّنَ اللّہِ (5 : 38)
(اور چور خواہ عورت ہو یا مرد دونوں کے ہاتھ کاٹ دو ‘ یہ ان کی کمائی کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرتناک سزا)
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرتناک اور جرائم سے روکنے والی سزا ہے جس شخص کے دل میں ارتکاب جرم کا داعیہ ہو اور وہ اس سے رک جائے تو یہ اس پر اللہ کی رحمت ہوجاتی ہے ۔ یہ رحمت ربانی اسے روکتی ہے ‘ اور پھر یہ پوری سوسائٹی پر ایک قسم کی رحمت ربانی ہوتی ہے کہ اس سے جرم کم ہوتا ہے اور وہ مطمئن زندگی بسر کرتی ہے ۔ کسی کا دعوی یہ نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے خالق سے بھی زیادہ ان پر مہربان ہے الا یہ کہ کوئی دلی طور پر اندھا ہو ‘ اور اس کی روح مسخ ہوچکی ہو اور یہ امر واقعہ ہے کہ اسلام کے دور اول میں ایک صدی گزر جانے کے باوجود صرف چند لوگوں کا ہاتھ کٹا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلامی نظام حیات کی برکات اور اسلامی سوسائٹی میں لوگوں کی ضروریات کی کفالت کی وجہ سے صرف چند لوگوں پر ہی اس سزا کا اجراء ہوا ۔
پھر اللہ تعالیٰ تائب ہونے والوں کے لئے بھی دروازہ کھلا چھوڑتے ہیں کہ اگر وہ تائب ہوجائیں اور شرمندہ ہوجائیں اور ارتکاب جرم سے باز آجائیں تو اللہ بھی معاف کرنے والا ہے بشرطیکہ وہ صرف توبہ ہی نہ کریں بلکہ اپنے اندر مثبت تبدیلی پیدا کریں اور نیک کام شروع کردیں ۔