Ayahs 5:83–84(آیت) ” نمبر 83 تا 84 ۔
یہ ایک زندہ منظر ہے اور اس میں اس گروہ کی مکمل تصویر نظر آتی ہے ۔ یہ گروہ جو اہل ایمان کے ساتھ دوستی میں دوسرے کے مقابلے میں قریب تر ہے ۔ یہ ایسا گروہ ہے کہ جب قرآن مجید کا تازہ ترین حصہ نازل ہوتا ہے تو اس گروہ کے جذبات جوش میں آجاتے ہیں ۔ ان کے دل نرم ہوجاتے اور وہ اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرجاتی ہیں ۔ یہ بات اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اس قرآن سے نہایت ہی گہرا اثر لیتے ہیں ۔ وہ اس تاثر کا اظہار صرف آنسوؤں کی زبان میں کرتے ہیں اور اس قسم کا اظہار اس وقت کیا جاتا ہے جب انسان کے لئے الفاظ میں اپنے تاثرات کا اظہار ممکن نہیں ہوتا ۔ اس لئے اس تاثر کا اظہار آنسوؤں کے ذریعے کیا جاتا ہے اور اس طرح دباؤ اور گھٹن ختم ہوجاتی ہے کیونکہ جذبات کا دباؤ نہایت ہی سخت اور گہرا ہوتا ہے ۔
یہ لوگ محض آنسو بہا کر رک نہیں جاتے بلکہ قرآن کو سن کر جس سچائی سے وہ متاثر ہوچکے ‘ اس کے بارے میں منفی رویہ اختیار نہیں کرتے ۔ قرآن کریم میں جس سچے شعور کا حامل ہے ‘ اور جو شدید احساس وہ پیدا کرتا ہے ‘ اس کے مقابلے میں خاموش نہیں رہتے ۔ وہ صرف اتنا ہی نہیں کرتے کہ بس سن کر متاثر ہوئے اور آنسو بہا کر رک گئے بلکہ وہ اس سے آگے بڑھتے ہیں اور مثبت رویہ اختیار کرکے اس سچائی اس شعور اور احساس کو قبول کرلیتے ہیں ۔ وہ ایمان لاتے ہیں یقین کرلیتے ہیں اور یہ بھی نہیں بلکہ وہ اپنے ایمان اور یقین کا اعلان بھی کرتے ہیں اور یہ اعلان وہ بڑے جوش و خروش سے کرتے ہیں ۔
(آیت) ” یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِیْنَ (83) وَمَا لَنَا لاَ نُؤْمِنُ بِاللّہِ وَمَا جَاء نَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن یُدْخِلَنَا رَبَّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِیْنَ (84)
” وہ بول اٹھتے ہیں کہ ” پروردگار ‘ ہم ایمان لائے ‘ ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے ۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ” آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اسے کیوں نہ مان لیں جب کہ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے ؟ ۔
دیکھئے یہ لوگ اس سچائی کا اعلان کرتے ہیں جو ان تک پہنچی اور وہ اسے پہنچان گئے ۔ اس کے بعد وہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں گواہوں کی فہرست میں شامل فرما دے اور ہمیں اس لڑی میں شامل کر دے اور ہمیں اس لڑی میں شامل کر دے جو اس کرہ ارض پر اس سچائی کو قائم کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے ۔ اس امت میں داخل کر دے جس پر یہ قرآن گواہ ہے کہ وہ امت حقہ ہے اور جو اپنی زبان اپنے عمل اور اپنی جدوجہد کے ذریعے فریضہ شہادت حق ادا کر رہی ہے اور لوگوں کی زندگیوں میں اس سچائی کو جاری وساری دیکھنا چاہتی ہے ۔ چناچہ یہ لوگ فریضہ شہادت حق ادا کرنے والوں میں خود شامل ہوجاتے ہیں۔ وہ اللہ کو اس بات پر گواہ ٹھہراتے ہیں کہ وہ اس امت میں داخل ہوگئے ہیں اور پھر یہ درخواست بھی کرتے ہیں کہ ہمارا نام رجسٹر کرلیا جائے ۔
یہ سب کچھ کرنے کے بعد وہ خود آپ سے بطور استفہام انکاری پوچھتے ہیں کہ اب ہماری راہ قبولیت میں کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے ؟ کہ سنیں ‘ یقین کریں اور ایمان نہ لائیں تاکہ ان کا رب ان کی دعا قبول کرے ‘ ان کو درجات بلند عطا کرے اور انہیں صالح لوگوں میں درج کرے ‘ کیوں اور وہ ایسا نہ کریں ؟ اس کا کوئی جواز نہیں ہے ۔
(آیت) ” وَمَا لَنَا لاَ نُؤْمِنُ بِاللّہِ وَمَا جَاء نَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن یُدْخِلَنَا رَبَّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِیْنَ (84)
” آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اسے کیوں نہ مان لیں جب کہ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے ؟ ‘
یہ ایک صریح ‘ دو ٹوک اور فیصلہ کن موقف ہے ‘ جس میں وہ علی الاعلان قرآن کریم میں جو سچائی اتری ہے اس کو قبول کرتے ہیں ۔ غرض یہ لوگ سنتے ہیں ‘ سمجھتے ہیں ‘ گہرا تاثر لیتے ہیں اور ایمان کا اعلان کرتے ہیں ۔ اسلام کا قبول کرتے ہیں اور امت مسلمہ کا جزء بن جاتے ہیں اور پھر بھی دعا کرتے ہیں کہ وہ انہیں توفیق دے کہ وہ فریضہ شہادت حق ادا کرسکیں ۔ وہ ان لوگوں میں سے ہوجائیں جو اپنے عمل سے ‘ اور جہاد فی سبیل اللہ کرکے اقامت دین کی جدوجہد کرتے ہیں اور دین کو لوگوں کی زندگیوں میں قائم کرنے کی سعی کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کی نظر میں راستہ اس قدر صاف ہوجاتا ہے کہ وہ یہ یقین کرلیتے ہیں کہ یہی راہ ہے اور اس کے سوا ان کے لئے کسی دوسری راہ پر چلنا جائز نہیں ہے ۔ یہ اللہ پر ایمان لانے کا راستہ ہے اور اس سچائی کا راستہ ہے جو اب اللہ نے اتاری ہے ۔ اس امید کا راستہ ہے کہ اللہ انہیں صالحین میں شامل کرے گا ۔
قرآن کریم یہاں آکر بھی نہیں رکتا ۔ یہ لوگ کون ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نصاری ہیں اور مسلمانوں کی دوستی میں قریب تر ہیں ۔ ان کا سلوک اور طرز عمل یہ ہے کہ وہ قرآن کی بیان کردہ سچائی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں نہایت ہی مثبت طرز عمل اختیار کرتے ہیں ‘ ایمان کا اعلان کرتے ہیں اسلامی صفوں میں داخل ہوتے ہیں ‘ جان ومال کی جدوجہد کے ذریعے شہادت حق ادا کرتے ہیں اللہ کی جناب میں دست بدعا ہوتے ہیں کہ وہ ان کا نام فہرست شاہدین حق میں درج کرے اور یہ توقع کرتے ہیں کہ اللہ ان کو صالحین میں شامل کرے ‘ قرآن کریم ان کی صرف ان صفات پر ہی بات ختم نہیں کردیتا بلکہ ان کی تصویر مکمل کرنے کے لئے کچھ رنگ اور بھرے جاتے ہیں اور یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ قیامت میں ان لوگوں کا انجام کیا ہوگا ۔
Ayah 5:85(آیت) ” نمبر 85۔
اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ ان کے دل سچے ہیں اور ان کی زبان صداقت شعار ہے ۔ وہ صراط مستقیم پرچلنے کا عزم کئے ہوئے ہیں ‘ وہ اس دین کے لئے فریضہ شہادت حق ادا کرنے کے لئے تیار ہیں جس میں وہ داخل ہوئے ہیں ۔ وہ صداقت کے ساتھ اسلامی صفوں میں داخل ہوئے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شہادت حق کی ادائیگی اللہ کا ایک احسان ہے جو اپنے بندوں میں سے کسی پر وہ کرتا ہے ۔ یہ بات اللہ کے علم میں تھی کہ اب وہ صرف اسلامی راہ پر ہی چلنا چاہتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اللہ انکو نیکوں میں شامل کرے گا ۔ چونکہ یہ سب باتیں اللہ کے علم میں تھیں اس لئے اللہ نے ان کی اس بات کو قبول کرلیا اور ان کے لئے جزائے آخرت لکھ دی ۔ اس پر اپنی گواہی قائم کردی کہ یہ لوگ نیک ہیں اور یہ ہے جزائے محسنین :
(آیت) ” فَأَثَابَہُمُ اللّہُ بِمَا قَالُواْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَذَلِکَ جَزَاء الْمُحْسِنِیْنَ (85)
” ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ نے ان کو ایسی جنتیں عطا کیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہ جزاء ہے نیک رویہ اختیار کرنے والوں کے لئے ۔ “
احسان ایمان اور اسلام کے اعلی درجات کو کہتے ہیں اور اللہ بذات خود شہادت دیتے ہیں کہ یہ لوگ گروہ محسنین میں سے ہیں ۔ لہذا یہ آیات ایک خاص گروہ کے بارے میں ہیں ‘ جس کے خدوخال بالکل واضح ہیں اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں یہ حکم ہے :
(آیت) ” وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الَّذِیْنَ قَالُوَاْ إِنَّا نَصَارَی )
” اور ایمان لانے والوں کے لئے دوستی میں قریب ترتم ان لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاری ہیں “۔ یہ ایک ایسا گروہ ہے کہ جب وہ حق بات کو سنتا ہے تو سرکشی نہیں کرتا بلکہ وہ دل کی گرائیوں سے اسے قبول کرتا ہے اور اس قبولیت کا برملا اعلان کرتا ہے ۔ یہ ایک ایسا فریق ہے کہ وہ اپنے اعلان اسلام میں ایک لمحے کے لئے بھی تردد نہیں کرتا ‘ فورا اسلامی صفوں میں شامل ہوجاتا ہے ۔ وہ اس نظریہ حیات کے حوالے سے عائد ہونے والے تمام فرائض کی ادائیگی کے لئے بھی تیار ہوجاتا ہے اور وہ اسلامی نظام حیات کے قیام کی راہ میں جدوجہد کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے ۔ نیز یہ ایک ایسا فریق ہے کہ جن کی باتوں کی تصدیق اللہ کرتا ہے اور اعلان کردیتا ہے کہ یہ محسنین ہیں اور یہ ہے ان کی جزائ۔
لیکن قرآن مجید اس پر اکتفا نہیں کرتا ‘ وہ اس گروہ کے خدوخال میں مزید اضافہ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ کون ہیں جو اہل ایمان کے لئے محبت کے جذبات رکھتے ہیں ۔ یہ وضاحت اب اس طرح کی جاتی ہے کہ وہ اس گروہ نصاری کے بالمقابل ایک دوسرے گروہ نصاری کا ذکر کرتا ہے جن کے خدوخال یہ ہیں کہ وہ سچائی کو سن کر ‘ سمجھ کر اس کا انکار کرتے ہیں وہ اس پر لبیک نہیں کہتے اور وہ گواہی دینے والوں کے ساتھ شامل نہیں ہوتے ۔
Ayah 5:86(آیت) ” نمبر 86۔
یہاں (آیت) ” (والذین کفروا) سے مراد قطعیت کے ساتھ وہی لوگ ہیں ‘ جو نصاری میں سے سچائی کو سنتے ہیں لیکن مان کر نہیں دیتے ۔ سچائی کو سن کر نہ ماننے والے نصاری کے بارے میں قرآن یہاں کافرین کا لفظ استعمال کرتا ہے ‘ لہذا نصاری جب بھی ایسا موقف اختیار کریں گے ان پر کفر کا اطلاق ہوگا ۔ اس میں یہود ونصاری کے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہے اور جب تک وہ حضرت محمد ﷺ پر نازل شدہ کلام کو تسلیم نہیں کرتے جو کلام برحق ہے ہے ان میں اور مشرکین اور یہودیوں میں کوئی فرق نہیں ہوگا ۔ جب تک وہ منکر رہیں گے اور اسلام میں داخل نہ ہوں گے ‘ اس لئے کہ اب اللہ کے ہاں دین اسلام کے سوا کوئی اور دین مقبول نہیں ہے اور یہ مضمون قرآن مجید کی متعدد آیات میں دہرایا گیا ہے ۔
(آیت) ” لم یکن الذین کفروا من اھل الکتب والمشرکین منفکین حتی تاتیھم البینۃ (98 : 1) ” اہل کتاب اور مشرکین سے جو لوگ کافر تھے ‘ وہ باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس دلیل روشن نہ آجائے ۔ “
(آیت) ” ان الذین کفروا من اھل الکتب والمشرکین فی نار جھنم خلدین فیھا اولئک ھم شرالبریۃ “۔ (98 : 2) ” اہل کتاب اور مشرکین میں سے جن لوگوں کے کفر کیا ہے وہ یقینا جہنم کی آگ میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے یہ لوگ بدترین خلائق ہیں۔ “
(آیت) ” لقد کفر الذین قالو ان اللہ ثالثۃ “ (5 : 73) ” یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے ۔ “
(آیت) ” لقد کفر الذین قالو ان اللہ ھو المسیح ابن مریم “ (5 : 72) ” یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے ۔ “
(آیت) ” لعن الذین کفروا من بنی اسرآء یل علی لسان داؤد و عیسیٰ ابن مریم “۔ (5 : 87) ’
” بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ان پر داؤد اور عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کی زبان سے لعنت کی گئی۔ “ غرض قرآن کریم کا ایک عام انداز بیان ہے اور یہ بات معہود فی الذہن ہے لیکن یہاں جو بات ہو رہی ہے وہ نصاری میں سے دو فریقوں کے رویے کے بارے میں ہے ، اصل میں یہ بتانا مقصود ہے کہ نصاری میں سے دو فریقوں کا موقف اسلام اور اہل اسلام کے بارے میں بالکل مختلف ہے اس لئے ان دونوں کا انجام بھی مختلف ہوگا ۔ ایک گروہ کے لئے جو ایمان لائے گا ایسے باغات ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور دوسروں کا انجام یہ ہوگا کہ وہ جہنمی ہوں گے ۔ اس بحث سے معلوم ہوگیا کہ وہ تمام لوگ جو اپنے آپ کو نصاری کہتے ہیں اس آیت میں داخل نہیں جس میں کہا گیا ہے :
(آیت) ” ولتجدن اقربھم مودۃ للذین امنوا) ” تم اہل ایمان کے ساتھ دوستی میں زیادہ قریب ان لوگوں کو پاؤ گے ۔ “ آیات کا یہ مفہوم وہی لوگ لیتے ہیں جو ہر آیت کو علیحدہ لے کر پڑھتے ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ آیت زیر بحث کا حکم محدود ہے ‘ اور اس سے متعین طور پر وہ لوگ مراد ہیں جو ایمان لاتے ہیں ۔ قرآن کریم نے ان لوگوں کی اچھی طرح وضاحت کردی ہے اور کوئی غلط فہمی نہیں چھوڑی ۔ دونوں فریقوں کو نکھار کر رکھ دیا ہے۔
قرآن کریم کے علاوہ اس مفہوم کی وضاحت اور تائید میں بہت سی روایات بھی آئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت سے مراد نصاری کے چند متعین لوگ تھے ۔
قرطبی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے : ” یہ آیت نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں ہے ‘ اور یہ اس وقت نازل ہوئی تھی جب ہجرت اول میں مسلمان حبشہ کو گئے تھے ‘ جیسا کہ ابن اسحاق اور دوسرے اہل سیر نے لکھا ہے ۔ یہ لوگ مشرکین کے خوف اور تشدد کی وجہ سے گئے تھے اور بڑی تعداد میں تھے ۔ اس کے بعد حضور نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو یہ لوگ ہجرت کرنے مدینہ مدینہ نہ آسکے ‘ اس لئے کہ جنگوں کی وجہ سے حالات ایسے ہوگئے کہ وہ حضور سے نہ مل سکے جب بدر کی جنگ ہوئی اور اس میں کفار کے بڑے بڑے لیڈر مارے گئے تو قریش کے لوگوں نے کہا کہ کہ ہم ان لوگوں سے انتقام لے سکتے ہیں جو حبشہ گئے ہوئے ہیں ‘ اس لئے کچھ ہدایات دے کرنجاشی کے پاس دو عقلمند آدمیوں کو بھیجو ۔ نجاشی ان لوگوں کو تمہارے حوالے کر دے گا اور تم ان کو قتل کر کے اہل بدر کا بدلہ لے سکو گے ۔ اہل قریش نے عمرو ابن العاص اور عبداللہ ابن ابو ربیعہ کو ہدیے دے کر بھیجا ۔ حضور کو ان خبروں کی اطلاع ہوگئی ۔ آپ نے عمر ابن امیہ ضمیری کو بطور ایلچی بھیجا اور اسے ایک خط دیا ۔ وہ نجاشی کو ملے ‘ اس نے حضور ﷺ کے نامہ مبارک کو پڑھا ۔ اس کے بعد حضرت جعفر ابن ابو طالب اور مہاجرین کو بلایا اور اپنے علماء اور فقراء کو بھی بلایا اور حضرت جعفر کو حکم دیا کہ ان کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کریں ۔ انہوں نے سورة مریم کی تلاوت کی ۔ یہ علماء اور مشائخ اس حال میں اٹھے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
(آیت) ” ولتجدن اقربھم مودۃ للذین امنوا قالوا انا نصری) ” تم مسلمانوں کے ساتھ دوستی میں قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں ہم نصاری ہیں۔ “ یہ آیت انہوں نے ” الشاہدین “ تک پڑھی ۔ (اس حدیث کو ابو داؤد نے محمد ابن مسلمہ ‘ ابن وہب ‘ یونس ‘ ابن شہاب (انہوں نے ابوبکر ابن عبد الرحمن اور سعید ابن مسیب کے واسطے سے) عروہ ابن زبیر سے روایت کیا ۔ انہوں نے اس حدیث کا آغاز اس سے کیا کہ حبشہ کی پہلی ہجرت کا یہ واقعہ ہے)
بیہقی نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے کہ حضور کے پاس بیس افراد آئے ۔ اس وقت آپ مکہ میں تھے یا مکہ کے قریب تھے ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ کے بارے میں اطلاعات حبشہ پہنچی تھیں ۔ یہ لوگ نصاری تھے ۔ ان لوگوں نے مسجد میں حضور کے ساتھ ملاقات کی ۔ سوالات وجوابات ہوئے اور قریش کے لوگ کعبہ کے اردگرد محفلیں جمائے بیٹھے تھے ۔ جب ان کے سوالات ختم ہوئے اور جو پوچھنا چاہتے تھے ‘ پوچھ لیا تو حضور نے ان کو دعوت دی اور قرآن مجید پڑھ کر انہیں سنایا جب انہوں نے قرآن سنا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ۔ انہوں نے آپ کی دعوت کو قبول کیا ‘ آپ کی تصدیق کی ۔ انہوں نے حضور ﷺ کو ان پیش گوئیوں کی روشنی میں پہچان لیا جو ان کی کتابوں میں تھیں ۔
جب یہ لوگ جانے کے لئے اٹھے تو ابوجہل اور قریش کے چند لوگوں نے مداخلت کی ۔ ابوجہل نے کہا تم جیسا بیوقوف کوئی بھی نہ ہوگا ۔ تمہیں تمہاری قوم نے تو اس لئے بھیجا تھا کہ تم واپس جاؤ اور اس شخص کے بارے میں ان تک اطلاعات پہنچاؤ لیکن چند منٹ کی بات چیت میں تم نے اپنے دین کو چھوڑ دیا اور اس کی تصدیق کردی ، میں نے تم سے زیادہ احمق مسافر کوئی اور نہیں دیکھا یا اس نے اس جیسی کوئی اور بات کہی ۔ انہوں نے کہا اسلام علیکم ہم تمہارے ساتھ جاہلانہ رویہ اختیار نہیں کرتے ۔ ہمارے اعمال ہمارے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے ہیں ۔ ہم اپنے آپ کو بھلائی سے محروم نہیں کرتے ۔ کہا جاتا ہے ۔ کہ یہ لوگ اہل نجران میں سے تھے ۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان ہی کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں۔
(آیت) ” الذین اتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یومنون) آیت (لا نبتغی الجھلین) (28 : 53 تا 55) تک ان آیات کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جعفر اور ان کے ستر افراد پر مشتمل ساتھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ملاقات کے لئے آئے ۔ یہ لوگ اونی کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔ ان میں سے باسٹھ افراد حبشہ سے تعلق رکھتے تھے اور آٹھ شامی تھے ۔ شامیوں میں بحیرا راہب ‘ ادریس ‘ اشرف ‘ ابرہہ ‘ ثمامہ ‘ قثم ‘ درید اور ایمن تھے ۔ ان کے سامنے حضور ﷺ نے سورة یسین تلاوت فرمائی ۔ انہوں نے جب قرآن مجید سنا تو خوب روئے اور حضور ﷺ پر ایمان لائے ۔ انہوں نے کہا یہ کلام ویسا ہی ہے جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوا تھا ۔ ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
(آیت) ” لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین امنوا الیھود والذین اشرکوا ولتجدن اقربھم مودۃ للذین امنوا الذین قالوا انا نصری ) (5 : 82)
” تم اہل ایمان کی عدوات میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے اور ایمان لانے والوں کے لئے دوستی میں قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاری ہیں ۔ “
اس سے مراد حبشہ کے وفد سے ہے اور یہ لوگ کینسوں کے انجارچ تھے ۔ سعید ابن جبیر نے کا ہ ہے کہ ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت اتری ْ :
(الذین اتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یومنون) ۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ (اولئک یوتون اجرھم مرتین) آخر آیت تک ۔ مقاتل اور کلبی نے کہا ہے کہ ان لوگوں میں سے چالیس افراد نجران کے قبیلہ بنی الحرث ابن کعب سے تھے ۔ اور بتیس حبشہ کے تھے اور اڑسٹھ شامی تھے ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سچی شریعت پر قائم تھے اور جب حضور ﷺ مبعوث ہوئے تو وہ حضور ﷺ پر ایمان لائے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف کی۔
میں سمجھتا ہوں کہ جو قتادہ نے کہا ہے یہی اس آیت کا مفہوم ہے اور سیاق کلام بھی اسی کا اظہار کرتا ہے ۔ سابقۃ الذکر تمام روایات اس کی تائید کرتی ہیں اور اس سورة میں دوسری آیات اور قرآن کریم کی دوسری تصریحات کے ساتھ بھی یہ مفہوم متفق ہے ۔ یہ مفہوم اس موقف سے بھی متفق ہے ۔ جو یہود ونصاری نے اہل اسلام اور خود اسلام کے مقابلے میں اختیار کیا ۔ نیز گزشتہ 14 سو سال کی تاریخ میں ان لوگوں نے اسلام کے مقابلے میں جس قسم کا رویہ اختیار کیا اس کے ساتھ بھی یہ مفہوم درست بیٹھتا ہے ۔
یہ سورة اپنے رجحان اپنی فضا اور اپنے مقاصد کے اعتبار سے ایک اکائی ہے ۔ اللہ کے کلام میں تناقض ممکن نہیں ہے ۔ (آیت) ” (ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا “۔ (4 : 82) ” اگر قرآن مجید اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت اختلاف پاتے ۔ “ خود اس سورة کے اندر بھی بعضے فیصلے اور ایسی آیات موجود ہیں جن سے اس آیت کی تشریح اچھی طرح ہوجاتی ہے۔
(آیت) ” یایھا الذین لا تتخذوا الیھود والنصری اولئاء بعضھم اولیاء بعض ومن یتولھم منکم فانہ منھم ان اللہ لایھدی القوم الظلمین “۔ (5 : 51)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہیں میں ہے یقینا اللہ ظالموں کو اپنی راہنمائی سے محروم کردیتا ہے۔
(آیت) ” قل یاھل الکتب لستم علی شیء حتی تقیموا التورۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم ، ولیزیدن کثیرا منھم ما انزل الیک من ربک طغیانا وکفرا فلا تاس علی القوم الکفرین (5 : 68)
” کہہ دو کہ اے اہل کتاب تم ہرگز اصل پر نہیں ہو جب تک کہ تورات وانجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں۔ “ ضرور ہے کہ یہ فرمان جو تم پر نازل کیا گیا ہے ان میں اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھا دے گا ۔ مگر انکار کرنے والوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کرو ۔
اسی طرح سورة بقرہ میں اس سے پہلے کہا گیا تھا :
(آیت) ” ولن ترضی عنک الیھود ولاالنصاری حتی تتبع ملتھم قل ان ھدی اللہ ‘ ھو الھدی ولئن اتبع اھوآء ھم بعد الذی جآءک من العلم مالک من اللہ من ولی ولا نصیر۔ (2 : 120)
” یہودی اور عیسائی تم سے ہر گز راضی نہ ہوں گے ‘ جب تک آپ ان کی طریقے پر نہ چلنے لگو صاف کہہ دو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے ورنہ اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آچکا ہے ‘ تم نے انکی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مدد گار تمہارے لئے نہیں ہے۔ “
اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو ان آیات میں جو تنبیہ کی تھی بعد کے ادوار میں پوری تاریخ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہودیون اور عیسائیوں دونوں نے کبھی اہل اسلام کو معاف نہ کیا ۔ تاریخ نے یہودیوں کی اسلام دشمنی کے واقعات کو اس وقت سے ریکارڈ کیا ہے جب سے اسلام مدینہ طیبہ میں داخل ہوا ‘ اور اس وقت سے آج تک ان کا یہی ریکارڈ مسلسل چلا آرہا ہے کہ وہ اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ۔ اپنی ان خبیث سرگرمیوں کو انہوں نے کسی بھی دور میں موقوف نہیں کیا ۔ تاریخ نے یہ واقعہ بھی ریکارڈ پر محفوظ کیا ہے کہ جب سے جنگ یرموک میں اہل اسلام اور عیسائیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے اس کے بعد عیسائیوں نے بھی اسلام کے خلاف صلیبی جنگیں مسلسل جاری رکھیں ‘ ماسوائے ان چند استثنائی واقعات کے جن کا ذکر ان آیات میں ہوا ہے اور ماسوائے بعض ایسی عیسائی فرقوں کے جو خود دوسرے عیسائی فرقوں کے وبال سے تنگ آکر اسلامی حدود میں آب سے ۔ رہاعیسائیوں کا عام رویہ تو اس کی اصلی تصویر صلیبی جنگوں ہی میں نظر آتی ہے ۔ یاد رہے کہ صلیبی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ‘ یہ آج تک جاری ہے ۔ جب سے اسلام اور مسیحیت کا مقابلہ یرموک کے میدان میں ہوا ہے اس وقت سے یہ جنگ جاری ہے ۔ اگرچہ بظاہر کبھی کبھی امن بھی نظر آجاتا ہے ۔
عیسائیوں کو اسلام کے ساتھ کس قدر بعض و عدوات تھی ‘ اس کا اظہار دو صدیوں تک ہوتا رہا یعنی مشہور صیلبی جنگوں کے دوران نیز اس ذہینت کا اظہار اس تحریک بیخ کنی سے بھی ہوتا ہے جو عیسائیوں نے مسلمانوں کے خلاف اندلس میں جاری رکھی ۔ اس کی استعماریت اور تبلیغ مسیحیت کی مہم اسلامی افریقہ میں چلائی گئی اور اس کے بعد اس استعمار اور تبلیغ مسیحیت کو تمام عالم اسلام تک پھیلا دیا گیا ۔
اسلام کے خلاف جنگ میں یہودیت اور عیسائیت دونوں باہم حلیف رہے حالانکہ دونوں فرقے ایک دوسرے کے بھی دشمن تھے لیکن اسلام کے خلاف تمام جنگوں میں وہ ایک دوسرے کے دوست بھی رہے ۔ جیسا کہ اللہ علیم وخبیر نے آج سے 14 سو سال پہلے کہ دیا تھا کہ (آیت) ” بعضھم اولیاء بعض “۔ وہ خود ایک دوسرے کے دوست ہیں “ اور ان کی یہ دوستی اس وقت تک قائم رہی جب انہوں نے خلافت اسلامیہ کو ختم کیا ، اس کے بعد وہ اس دین کی ایک ایک رسی کو توڑتے رہے اور جب انہوں نے اسلامی نظام حکومت کو ختم کرلیا تو اب وہ اسلام کی اساس نماز کو ختم کرنے کے درپے ہیں ۔
اب دور جدید میں دیکھئے مسلمانوں کے خلاف یہودیوں کا جو موقف تھا کہ وہ اہل اسلام کے مقابلے میں مشرکین کو پسند کرتے تھے اب بایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے ۔ اب عالمی عیسائیت ان تمام بت پرست اقوام کی پشت پر کھڑی ہے بشرطیکہ وہ اسلام کے خلاف لڑ رہے ہوں ۔ بعض اوقات تو یہ لوگ تائید کرتے ہیں اور بعض اوقات یہ لوگ براہ راست بین الاقوامی اداروں میں مسلمانوں کے خلاف بت پرستوں کی تائید کرتے ہیں ۔ پاکستا اور ہندوستان کے درمیان پائے جانے والے مسئلہ کشمیر میں انہوں نے وہی کردار ادا کیا ہے ۔
اس کے علاوہ یہ یہودی و عیسائی احیائے اسلام کی تمام تحریکات کی بیخ کنی میں باہم معاون ہیں ۔ انہوں نے عالم اسلام کے ایسے نام نہاد عظیم لیڈر پال رکھے ہیں جو ان کی مرضی اور خواہشات کے مطابق اپنے اپنے ممالک میں اسلام کی بیخ کنی پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ عالمی قوتیں بونے لیڈروں کے اردگرد اژدہام کئے ہوئے ہیں اور زندہ باد کے نعرے لگا رہی ہیں ۔ اس غوغا آرائی نے ان لوگوں کو عظیم لیڈر بنا دیا ہے ۔ حالانکہ یہ لوگ نہایت ہی بونے قد کے لوگ ہیں ۔
یہ ہے خلاصہ اس ریکارڈ کا جو گذشتہ چودہ سو سال سے اسلامی تاریخ نے قلم بند کیا ہے اور اس میں یہودیوں اور عیسائیوں کا موقف اسلام کے خلاف رہا ہے اور دونوں کی دشمنی کے درمیان کوئی کمی بیشی نہیں ہے ۔ نہ ان کے کیمپوں میں فرق کیا جاسکتا ہے اور نہ تحریک اسلامی کے خلاف ان کی اس مسلسل جنگ میں کبھی کمی آتی ہے ۔ ایک زمانہ گزر گیا اس صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔
یہ ہے وہ صورت حال جسے سمجھنے والوں کو سمجھ لینا چاہئے اور انہیں ان تحریکات کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہئے جو فریب خوردہ لوگ چلا رہے ہیں اور جن کا مقصد اسلامی صلابت اور پختگی کو پگھلانا ہے ۔ یہ تحریکات اسلام کو ختم کرنے کے لئے اس آیت سے استدلال کرتی ہیں اور وہ بھی اس طرح کہ اس کا مفہوم دوسری آیات سے کاٹ کر ‘ اور صرف نظر کرکے وہ مفہوم نکالتی ہیں جو ان کا مفید مطلب ہے ۔ اس آیت کے مفہوم کے تعین کے لئے یہ لوگ نہ پوری سورة کے مضامین کو دیکھتے ہیں نہ قرآن کریم کی دوسری تصریحات سے استفادہ کرتے ہیں ‘ نہ وہ اس سلسلے میں اسلامی تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں اور اس طرح وہ اہل ایمان کے شعور کو سلانا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان کیمپوں کے مقابلے میں بےحس اور بےفکر ہوجائیں ۔ ان کے دل اسلام کے خلاف بغض وعداوت سے بھرے پڑے ہیں اور وہ ہر وقت عالم اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتے ہیں ۔ وہ اس ثقافتی یلغار کے ذریعے اسلامی نظریہ حیات پر اپنا آخری وار کرنا چاہتے ہیں ۔
اسلام کے یہ دشمن کیمپ جس امر سے بہت خائف ہیں وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر دین حق کا فہم وادراک اور شعور واحساس ترقی نہ کر جائے اگرچہ یہ شعور ایک قلیل تعداد ہی کے اندر پایا جاتا ہو۔ جو لوگ مسلمانوں کے اس شعور اور بیداری کے بدترین دشمن ہیں ان میں سے بعض ایسے ہیں جو فریب خوردہ ہیں اور دشمنان اسلام کے جال میں آگئے ہیں یہ فریب خوردہ لوگ مسلمان ہونے کے باوجود اسلام کے کھلے دشمنوں سے کم خطرناک نہیں ہیں بلکہ یہ لوگ اسلام اور تحریک احیائے اسلام کے لئے زیادہ مضر ہو سکتے ہیں ۔ بیشک یہ قرآن اس بات کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو نہایت ہی مضبوط اور قائم ہے ۔ قرآن خود اپنی تردید ہرگز نہیں کرتا ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم قرآن کا مطالعہ دینی بصیرت کے ساتھ کریں ۔
درس نمبر 53 ایک نظر میں :
یہ پورا سبق ایک ہی مسئلے کو لیتا ہے ۔ اگرچہ موضوعات مختلف ہیں لیکن یہ تمام موضوعات ایک ہی محور کے اردگرد گھومتے ہیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ اسلامی نظام حیات میں قانون سازی کا مسئلہ ذات باری سے تعلق رکھتا ہے اور یہ حق صرف اللہ کا ہے کہ وہ حلال و حرام کے حدود وقیود کا تعین کرے ۔ یہ اللہ ہی ہے جو جواز اور عدم جواز کے فیصلے کرسکتا ہے ۔ یہ اللہ ہی ہے جو یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ یہ اس کا امر ہے اور یہ اس کی جانب سے نہی ہے ۔ اس اصولی قاعدے کے ساتھ تمام چھوٹے اور بڑے امور یکساں ہیں ‘ اس لئے زندگی کے تمام معاملات کا حل اس قاعدے کے مطابق ہونا چاہئے ۔
انسانوں میں سے جو شخص اپنے لئے قانون سازی کے حق کا دعوی کرتا ہے اور اس حق کو استعمال کرتا ہے تو وہ غلطی پر ہے ۔ اسلامی نظریے کی رو سے یہ حق صرف اللہ ہی کے لئے ہے ۔ اگر کوئی اللہ کے اس حق کو تسلیم نہیں کرتا تو گویا وہ اللہ کی الوہیت اور اس کی حاکمیت کو چیلنج کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس قسم کی دست درازی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا جو شخص لوگوں کے رواج ‘ ان کی اصطلاحات اور ان کے اقوال کے مطابق قانون سازی کرتا ہے وہ اللہ کے کلام کے خلاف بغاوت کرتا ہے اور اس طرح وہ دائرہ ایمان اور حدود اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ۔ اور وہ دین اسلام میں نہیں رہتا اس سبق کے تمام فقرے (یایھا الذین امنوا) سے شروع ہوتے ہیں مثلا :
(آیت) ” أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحَرِّمُواْ طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّہُ لَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُواَ (87)
(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْْطَانِ فَاجْتَنِبُوہُ (90)
(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَسْأَلُواْ عَنْ أَشْیَاء إِن تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ ۔۔۔ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ عَلَیْْکُمْ أَنفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُم مَّن ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْْتُمْ ۔۔۔۔ یِا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ شَہَادَۃُ بَیْْنِکُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَکُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّۃِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنکُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَیْْرِکُمْ ۔۔ (5 : 106)
اس سبق کا موضوع چونکہ مسئلہ قانون سازی ہے ‘ اس لئے اس حوالے سے ان الفاظ کے ساتھ خطاب یہاں بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے اور اس میں ایک خاص اشارہ پیش نظر ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ اس مسئلے کا تعلق الوہیت ‘ حاکمیت اور ایمان اور دین کے ساتھ ہے ۔ اہل ایمان کی صفت ایمان کے ساتھ پکارا جاتا ہے ‘ اس لئے کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی الوہیت ‘ حاکمیت کا اقرار کیا جائے ۔ اس پکار کی وجہ سے اسلام اور دین کا پہلا قاعدہ اور سبق مسلمانوں کے ذہن نشین کرانا مطلوب ہے ۔ اس مناسبت کے ساتھ حکم دیا جاتا ہے کہ لوگ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں اور اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت سے روگردانی نہ کریں ورنہ ان کو شدید عذاب سے دو چار ہونا پڑے گا جو شخص یہ اطاعت کرے گا وہ آخرت میں بہت بڑے انعام کا مستحق ہوگا ۔
اس کے بعد صفت ایمان کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکم دیا جاتا ہے ۔ اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان مکمل جدائی ہوگی ‘ اس لئے کہ اہل کفر اہل ایمان کے منہاج کو قبول نہیں کرتے ۔ اہل ایمان کا منہاج تو یہ ہے کہ وہ چھوٹے بڑے معاملات میں حق قانون سازی اللہ کو دیتے ہیں اور اللہ کے حق حاکمیت پر دست درازی نہیں کرتے ۔
(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ عَلَیْْکُمْ أَنفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُم مَّن ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْْتُمْ إِلَی اللّہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعاً (5 : 105)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اپنی فکر کرو کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا اگر تم خود راہ راست پر ہو ۔ اللہ کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو ۔ “ اہل ایمان ایک امت ہیں ‘ جس کا اپنا دین ‘ اپنی شریعت ‘ شریعت کے اپنے مصادر ہیں اور وہ ان کے سوا کسی اور ذریعے سے قانون نہیں اخذ کرتی ۔ اگر یہ امت تمام اقوام وملل پر اپنا یہ موقف واضح کر دے اور پھر بھی وہ گمراہ ہوں تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ‘ اگر وہ ان سے مکمل جدائی رکھے اور انہیں ان کی جاہلیت اور ضلالت پر چھوڑ دے سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے ۔
یہ ہے اس پورے سبق کا محور۔ رہے وہ موضوعات جو اس سبق کے اندر ہیں اور جو اس دائرے کے اندر گھومتے ہیں تو وہ مختلف ہیں ۔ اب اس عمومی دائرے کے اندر ان موضوعات کو ہم ذرا تفصیل کے ساتھ لیتے ہیں ۔
Ayahs 5:87–89درس نمبر 53 تشریح آیات :
87۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 108۔
(آیت) ” نمبر 87 تا 89۔
” اے ایمان لانے والو ! تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم انسان اور اللہ کے غلام ہوتے ہوئے ‘ اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کے حقوق پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہ کرو ‘ اس لئے تمہارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ کاموں اور اشیاء کو حرام قرار دو ‘ خصوصا پاکیزہ چیزوں کو۔ اس لئے تم پاک چیزوں کے کھانے اور پینے سے اس طرح نہ رکو کہ تم ان کو اپنے لئے حرام قرار دے لو ۔ اس لئے کہ اللہ نے یہ پاک چیزیں تمہارے لئے ہی تو پیدا کی ہیں اور پھر یہ کہ حلال و حرام کے حدود کا تعین کرنے والا تو اللہ ہی ہے ۔
(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحَرِّمُواْ طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّہُ لَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ إِنَّ اللّہَ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (87) وَکُلُواْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّہُ حَلاَلاً طَیِّباً وَاتَّقُواْ اللّہَ الَّذِیَ أَنتُم بِہِ مُؤْمِنُونَ (88)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرلو اور حد سے تجاوز نہ کرو ‘ اللہ کو زیادتی کرنے والے سخت ناپسند ہیں ۔ جو کچھ حلال وطیب رزق اللہ نے تم کو دیا ہے اسے کھاؤ پیو اور اس اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو ۔ A
” حقیقت یہ ہے کہ قانون سازی کے مسئلے کا تعلق خاص مسئلہ حاکمیت اور الوہیت کے ساتھ ہے ۔ قانون سازی کا حق اللہ کی حاکمیت کے ساتھ مخصوص اس لئے ہے کہ اللہ ہی انسانوں کا مالک اور خالق ہے اور وہی ہے جو انسانوں کو رزق فراہم کرتا ہے ۔ اس لئے یہ حق صرف اللہ کا ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے لئے ‘ اپنے پیدا کردہ رزق میں سے بعض چیزوں کو حلال کر دے اور بعض کو حرام کر دے ۔ یہ ایک ایسی دلیل ہے جس کو انسانوں کی عقل بڑی آسانی سے مان لیتی ہے ۔ انسانوں کے نزدیک بھی کسی چیز کا مالک ہی یہ حق رکھتا ہے کہ وہ اپنی ممو کہ چیز میں جس طرح چاہے تصرف کرے اور جو شخص بھی کسی کے حق ملکیت پر دست درازی کرتا ہے تو اسے ظلم و زیادتی کا مرتکب تصور کیا جاتا ہے ۔ جو لوگ ایمان لا چکے ‘ ظاہر ہے کہ ان سے یہ توقع نہیں ہے کہ وہ اللہ کے حقوق پر دست درازی کریں گے اس لئے کہ اللہ پر ایمان اور پھر اللہ سے بغاوت دونوں ایک دل میں کس طرح جمع ہو سکتے ہیں ۔
یہ ہے وہ مسئلہ جسے یہ دو آیات ایسے واضح اسلوب میں پیش کرتی ہیں کوئی معقول شخص اس بارے میں کوئی مباحثہ اور مجادلہ نہیں کرسکتا اس لئے کہ اللہ دست درازی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ یہ مسئلہ ایک عام قاعدے اور اصول کو طے کرتا ہے کہ تمام لوگ اللہ کے بندے اور غلام ہیں اور اس مسئلے کے مطابق اپنا طرز عمل ڈھالنا تقاضائے ایمان ہے ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ دو آیات اور ان سے آگلی آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئیں ۔ یہ واقعہ حضور ﷺ کے دور میں پیش آیا لیکن آیت عام ہے اور اسباب نزول کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اسباب نزول کے ذریعے فہم قرآن میں اچھی مدد ملتی ہے ۔
ابن جریر نے نقل کیا ہے کہ ایک دن حضور ﷺ تشریف فرما تھے ۔ آپ نے لوگوں کو یاد دہانی کی ۔ آپ اٹھ کر چلے گئے اور آپ نے اس دن انہیں بہت نہ ڈرایا ۔ آپ کے جو ساتھی بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ کچھ باتیں اور اعمال اپنی طرف سے کیوں نہ شروع کردیں ‘ نصاری نے تو ایسا کیا کہ بعض چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا ‘ ہمیں بھی چاہئے کہ ہم اپنے اوپر بعض چیزیں حرام کرلیں ۔ بعض نے کہا کہ وہ گوشت اور سرین نہ کھائے گا ۔ بعض نے کہا کہ وہ دن کو نہ کھائے گا ۔ بعض نے اپنے اوپر عورتیں حرام کرلیں ‘ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی ۔ آپ نے فرمایا کہ لوگ بھی عجیب ہیں کوئی اپنے اوپر عورتوں کو حرام کرتا ہے کوئی کھانا حرام کرتا ہے کوئی نیند حرام کرتا ہے ۔ خبردار میں تو سوتا بھی ہوں کھڑا بھی ہوتا ہوں ‘ روزے بھی رکھتا ہوں ‘ کھاتا بھی ہوں ‘ عورتوں کے ساتھ نکاح بھی کرتا ہوں ‘ پس جو شخص میری اس سنت سے منہ موڑے گا وہ مجھ سے نہ ہوگا “۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔
(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحَرِّمُواْ طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّہُ لَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ ) صحیحین میں حضرت انس ؓ سے ایک روایت منقول ہے وہ بھی ابن جریر کی روایت کی موید ہے ۔ انس ؓ فرماتے ہیں کہ تین افراد ازواج مطہرات کے گھر آئے ‘ انہوں نے حضرت نبی ﷺ کی عبادت کے بارے میں پوچھا ۔ جب ان کو حضور ﷺ کی عبادات کے بارے میں معلومات دی گئیں تو گویا انہوں نے ان عبادات کو کم سمجھا ۔ انہوں نے کہا ہم حضور ﷺ کے رتبے تک کب پہنچ سکتے ہیں ؟ اللہ نے حضور ﷺ کے سابقہ اور آیندہ تمام گناہوں کو معاف کردیا ہے ۔ ایک نے کہا میں تو تمام رات نماز پڑھوں گا ‘ دوسرے نے کہا کہ میں تو ہمیشہ کے لئے روزے رکھوں گا اور کبھی افطار نہ کروں گا ۔ تیسرے نے کہا میں تو کبھی بھی عورتوں کے پاس نہ جاؤں گا اور نہ نکاح کروں گا ۔ حضور ﷺ کو جب علم ہوا تو آپ ان کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ تم لوگ ہو جنہوں نے یہ یہ باتیں کیں ۔ خدا کی قسم میں تم سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ متقی ہوں لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں ‘ نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور ان میں عورتوں کے ساتھ نکاح بھی کرتا ہوں ۔ لہذا جو میری سنت سے ہٹا وہ مجھ سے نہ ہوگا ۔ “
ترمذی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص حضور کے پاس آیا اور کہا حضور میں جب گوشت کھاتا ہوں تو مجھ پر شہوت غالب آجاتی ہے اور میں عورتوں کے لئے اٹھتا ہوں اس لئے میں نے اپنے اوپر گوشت حرام کرلیا ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحَرِّمُواْ طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّہُ لَکُمْ ) اب رہی وہ آیت جس میں قسموں کا ذکر ہے اور جو ان دو آیات کے بعد آتی ہے تو وہ بھی ایسے ہی حالات میں ہدایت دیتی ہیں ۔
(آیت) ” لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللّہُ بِاللَّغْوِ فِیْ أَیْْمَانِکُمْ وَلَـکِن یُؤَاخِذُکُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الأَیْْمَانَ فَکَفَّارَتُہُ إِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسَاکِیْنَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَہْلِیْکُمْ أَوْ کِسْوَتُہُمْ أَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ ذَلِکَ کَفَّارَۃُ أَیْْمَانِکُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَیْْمَانَکُمْ کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللّہُ لَکُمْ آیَاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ (89) تم لوگ جو مہمل قسمیں کھالیتے ہو ‘ ان پر اللہ گرفت نہیں کرتا ‘ مگر جو قسمیں تم جان بوجھ کر کھاتے ہو اس پر وہ ضرور تم سے مواخذہ کرے گا ۔ (ایسی قسم توڑنے کا) کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو وہ اوسط درجے کا کھانا کھلاؤ جو تم اپنے بال بچوں کو کھلاتے ہو ‘ یا انہیں کپڑے پہناؤ یا ایک غلام آزاد کرو ‘ اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو ‘ وہ تین دن کے روزے رکھے ۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب کہ تم قسم کھا کر توڑ دو ۔ اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو ، اس طرح اللہ اپنے احکام تمہارے لئے واضح کرتا ہے شاید کہ تم شکر ادا کرو ۔ “
یہ آیت ایسے حالات کے لئے ہے کہ کوئی مباح چیزوں کے استعمال کرنے کے خلاف حلف اٹھالے مثلا جن تین افراد نے قسم اٹھالی تھی کہ وہ یہ یہ کام نہیں کریں گے ‘ اور انہیں رسول اللہ ﷺ نے قسم کو جاری رکھنے سے منع کردیا تھا ۔ اور قرآن نے ان کو اس بات سے روک دیا تھا کہ وہ اپنے لئے حلال و حرام خود مقرر نہیں کرسکتے ۔ یہ ان کا کام نہیں ہے ۔ یہ تو اس اللہ کا کام ہے جس پر وہ ایمان لائے ہیں ۔ اس طرح یہ ان تمام صورتوں کے لئے ہدایت ہے جن میں کوئی کسی اچھے کام سے بذریعہ حلف اپنے آپ کو روک لیتا ہے ۔ اس لئے کہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی نیک کام کے نہ کرنے کی قسم اٹھاتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ نیک کام جاری رکھے اور قسم توڑنے کا کفارہ ادا کرے جس کی تفصیلات اس آیت میں دی گئی ہیں ۔
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہ ہوا کہ جن لوگوں نے اپنے اوپر بعض کھانے ‘ بعض لباس اور عورتوں کے ساتھ نکاح حرام کرلیا تھا ‘ انہوں نے اس پر حلف بھی اٹھایا تھا ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی ” اللہ کی پاک چیزیں اپنے اوپر حرام نہ کرو “ تو انہوں نے پوچھا کہ ہماری قسموں کا کیا بنے گا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ حکم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر لغو قسموں کے بارے میں کوئی مواخذہ نہیں کرتا ۔ یعنی محض زبان پر لفظ قسم جاری ہوجائے لیکن دل سے پختہ ارادہ قسم نہ ہو ‘ البتہ اللہ تعالیٰ جانب سے حکم یہ ہے کہ خواہ مخواہ ہر بات پر اللہ کی قسم نہ اٹھائی جائے ‘ اس لئے کہ اللہ کی قسم کا کچھ تو احترام ہونا چاہئے ۔ اللہ کی قسم کا وقار ہونا چاہئے اس لئے لغو قسم بھی بار بار اٹھانا ناپسندیدہ ہے ۔ رہی وہ سچی قسم جو قصدا ہوتی ہے اور اس کے پیچھے پختہ ارادہ ہوتا ہے ٗ کوئی کام کرنے یا نہ کرنے کا تو وہ لغو کی طرف معاف نہیں ہے ۔ اس پر کفارہ واجب ہے اور یہ آیت اسی کو بیان کرتی ہے ۔ ” سچی قسموں کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلاؤ یا انہیں کپڑے پہناؤ یا ایک غلام آزاد کرو اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین دن روزے رکھے ۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے ۔ اگر تم قسم کھا کر توڑ دو ۔ “
دس مسکینوں کے لئے اوسط درجے کا کھانا ایسا ہوگا کہ قسم اٹھانے والا جس کھانا اپنے اہل و عیال کو دیتا ہے ۔ اوسط کا مفہوم احسن بھی ہو سکتا ہے اور متوسط بھی ہو سکتا ہے کیونکہ لفظ اوسط احسن اور متوسط دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ اوسط سے دونوں مفہوم مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ اسلام کے پیمانے میں اوسط ہی احسن ہوتا ہے ۔
(آیت) ” (اوکسوتھم) سے مراد یہی ہے کہ دس مسکینوں کو اوسط درجے کی پوشاک پہنائی جائے یا ایک غلام آزاد کیا جائے اور یہاں اس بات کی تصریح نہیں کی گئی کہ غلام کو مومن ہونا چاہئے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف رائے ہوا ہے ۔ ہم تو فی ظلال القرآن میں فقہی اختلافات کا ذکر نہیں کرتے ۔ اگر استطاعت نہ ہو تو پھر تین روزے رکھے ۔ یہ اس صورت میں ہوں گے کہ دوسرے بیان کردہ کفارات میں سے کسی کی ادائیگی ممکن نہ ہو ۔ اس طرح یہ تین روزے مسلسل ہوں گے یا مسلسل نہ ہوں گے ‘ اس بارے میں بھی فقہی اختلافات ہوئے ہیں اس لئے کہ یہاں متتابعات کی تصریح نہیں ہے ۔ فی ظلال القرآن میں ہمارے طریقہ کار میں فقہی تفصیلات میں جانا ممکن نہیں ہے ۔ اگر کسی کو شوق ہو تو کتب فقہ میں تلاش کرے ۔ تمام فقہی اختلافات اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کفارہ اس لئے عائد کیا گیا ہے کہ حالف نے پختہ عقد کو توڑا ہے ۔ دوسرے یہ کہ قسموں کا ہلکا نہ سمجھا جائے اس لئے کہ قسمیں بھی دراصل ایک عہد ہوتی ہیں اور اللہ کا حکم یہ ہے کہ عقد اور عہد کو پورا کیا جائے ۔ اور اگر صورت یہ ہو کہ کوئی قسم اٹھا لے اور جس بات سے اس نے قسم اٹھائی ہے وہ اچھا کام ہے تو اس پر فرض ہے کہ قسم توڑے اور اچھے کام کو جاری رکھے ۔ اور اگر اس نے ایسی قسم اٹھالی ہے جس میں اس کا کوئی حق نہیں ہے مثلا حلال کرنا یا حرام کرنا تو اس پر فرض ہے کہ وہ قسم توڑ دے اور کفارہ ادا کرے ۔
اب ہم اس اصل موضوع کی طرف آتے ہیں جس کی وجہ سے یہ آیات نازل ہوئی ہیں ۔ ان آیات کے اسباب نزول کے زاوے سے دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ نے جن چیزوں کو حلال قرار دیا ہے تو وہ طیب ہیں اور جن چیزوں کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے تو جان لو کہ وہ خبیث اور ناپاک ہیں ۔ انسان کو یہ حق نہین ہے کہ وہ اپنے لئے وہ کچھ اختیار کرے جو اللہ نے اس کے لئے اختیار نہیں کیا ہے اور اس کی دو وجوہات ہیں۔
ایک یہ ہے کہ حرام و حلال کے قیود مقرر کرنا اللہ کے خصوصی حقوق میں سے ہے ‘ جو رازق ہے ۔ جب رازق وہ ہے تو اس رزق میں تحریم وتحلیل بھی اسی کا کام ہے ۔ اگر کوئی اللہ کے اس حق کو تسلیم نہیں کرتا تو گویا وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق پر دست درازی کرتا ہے ۔ اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا اور نہ اس طرح ایمان درست ہوسکتا ہے ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ نے طیبات کو حلال قرار دیا ہے لہذا کسی کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنے اوپر پاکیزہ چیزوں کو حرام کرلے اس لئے کہ وہ چیزیں اس شخص کے لئے بھی مفید ہیں اور اس کرہ ارض پر زندگی کے تسلسل کے لئے بھی مفید ہیں ۔
انسان کی سوچ وبصیرت وہاں تک نہیں پہنچ سکتی جہاں تک علیم وخبیر کی بصیرت کی رسائی ہے جس نے ان طیبات کو حلال قرار دیا ہے ۔ اگر ان طیبات میں کوئی خرابی ہوتی تو اللہ اس سے اپنے بندوں کو ضرور بچاتا ۔ اگر ان کے حرام کردینے میں کوئی بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو حلال ہی نہ کرتا ۔ یہ دین تو آیا ہی اس لئے ہے کہ خیر ‘ بھلائی اور بہتری کو روبکار لائے اور انسانیت کی تمام قوتوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور توازن قائم کرے ۔ اسلام انسانی فطرت کی ضروریات میں سے کسی ضرورت سے غافل نہیں ہے اور نہ اس نے انسان کی تعمیری قوتوں میں سے کسی قوت کو مہمل چھوڑا ہے ۔ اسلام نے وسط کو اختیار کیا ہے اور جادہ مستقیم پر رواں دواں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے رہبانیت کے ساتھ جنگ کی ‘ اس لئے کہ رہبانیت کا مقصد فطرت کشی تھا ۔ اس سے زندگی کی نشوونمارک رہی تھی حالانکہ اللہ کی اسکیم یہ تھی کہ کرہ ارض پر زندگی کو نشوونما حاصل ہو ‘ اور طیبات کو حرام کرنے سے اسلام نے اس لئے منع کیا کہ طیبات موجب ترقی حیات ہیں جن سے اس دنیا میں زندگی کی تجدید ہوتی چلی جاتی ہے ۔ اللہ نے اس زندگی کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ تسلسل سے رہے اور اللہ کے نظام حیات کے مطابق اس کی تجدید ہوتی رہے ۔ رہبانیت جو طیبات کو حرام قرار دیتی ہے وہ اسلامی نظام حیات کی اسکیم کے ساتھ متصادم ہے ۔ رہبانیت انسانیت کو ایک متعین مقام پر روک دیتی ہے اور یہ رکاوٹ وہ بلندی اور علو مرتبت کے نام سے پیدا کرتی ہے حالانکہ بلندی اور علو شان نظام حیات کے اندر داخل ہیں جو ایک ایسا نظام ہے جس کے اندر دواعی فطرت پوری طرح موجود ہیں اور یہ علم الہی کے مطابق رکھے گئے ہیں۔
کسی آیت کے نزول کے مخصوص واقعات اس آیت کو ان حالات کے اندر محدود نہیں کردیتے ۔ آیت بہرحال عام رہتی ہے اور آیت کی یہ عمومیت بتاتی ہے کہ قانون سازی کے اندر بھی حلال و حرام کے حدود وقیود مقرر کرنا اللہ ہی کا کام ہے اور یہ بات صرف کھانے اور پینے تک محدود نہیں ہے یا نکاح تک محدود نہیں ہے ۔ زندگی کے تمام امور میں یہ حق اللہ کو حاصل ہے ‘ شریعت کو حاصل ہے ۔
ہم اس مفہوم پر بار بار زور اس لئے دے رہے ہیں کہ ایک طویل عرصہ گزر گیا ہے کہ لوگوں نے اسلام کو زندگی کے عملی دھارے سے نکال دیا ہے ‘ حالانکہ اسلام کی شان یہ ہے کہ وہ پوری زندگی پر حکمران ہو ۔ حلال و حرام کے الفاظ اور ان کے پر تو کو محدود کردیا گیا ہے اور اب اس کے وہ معنی نہیں لئے جاتے جو قرآن کو مطلوب تھے ۔ لوگوں کے ذہنوں میں اب حلال و حرام کا مفہوم صرف ذبیحوں کا مفہوم صرف ذبیحوں ‘ کھانے ‘ پینے کی چیزوں ‘ لباسوں اور نکاح کے اندر محدود ہوگیا ہے ۔ لوگ عموما حلال و حرام کے متعلق صرف انہی باتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ کیا حلال ہے ‘ اور کیا حرام ہے ؟ رہے وہ عمومی اور بڑے بڑے معاملات تو انکے بارے فتوی وہ جدید دساتیر اور جدید قوانین سے پوچھتے ہیں جو انہوں نے شریعت کی جگہ جاری کردیئے ہیں ۔ غرض تمام اجتماعی معاملات میں ‘ تمام سیاسی نظاموں کے بارے میں ‘ تمام بین الاقوامی معاملات میں اور اللہ کے حق حاکمیت اور الوہیت کے بارے میں اب لوگ اسلام سے فتوی طلب نہیں کرتے ۔ یاد رہے کہ اسلام ایک مکمل منہاج حیات ہے جو شخص پورے پورے اسلام کا اتباع کرے گا وہی اللہ کے دین میں ہوگا اور جو شخص کسی ایک بھی معاملے میں شریعت کو چھوڑ کو کسی دوسرے قانون کی اطاعت کرے گا تو وہ دین سے خارج ہوجائے گا ۔ چاہے وہ ہزار بار اسلامی عقیدے کا اظہار کرے اور یہ اعلان کرے کہ وہ مسلمان ہے ‘ اس لئے کہ اس کے اعلان اسلام کو اس کا یہ عمل جھٹلا دیتا ہے ۔ جب وہ اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر کسی اور قانون کا اتباع کرتا ہے اور اس طرح وہ دین اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ۔
یہ ہے وہ اصول اعظم جس کا تعین یہ آیات کرتی ہیں ‘ اسے ایمان کا مسئلہ قرار دیتی ہیں ‘ اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرے تو اسے اللہ کے حقوق پر دست درازی قرار دیتی ہیں ‘ اور یہی ہے ان آیات کا مفہوم و مدعا ۔ یہی مفہوم اس دین کی سنجیدگی اور قرآن کریم کی سنجیدگی کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور اسی کے مطابق الوہیت کا مفہوم اور معنی حقیقی روپ اختیار کرتا ہے ۔
اسی سلسلہ قانون سازی میں جوے اور شراب کے بارے میں آخری اور قطعی حکم آجاتا ہے تاکہ جماعت مسلمہ کی تربیت اور اسے جاہلیت کی تمام آلودگیوں سے پاک کردیا جائے ‘ اسے جاہلیت کی گندی اجتماعی عادات سے پاک کردیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ہی آستانوں اور پانسوں کو بھی حرام قرار دے دیا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ یہ بھی شرکیہ افعال ہیں ۔