5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 5:97–100

جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ١ؕ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 5:97 in the Quran reader

اللہ نے مکان محترم کعبہ کو لوگوں کے لئے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قلادوں کو بھی (اس کام میں معاون بنادیا) تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ Open ayah 5:98 in the Quran reader

خبردار ہوجاؤ ۔ ! اللہ سزادینے میں بھی سخت ہے اور اسکے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے ۔

مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:99 in the Quran reader

رسول پر تو پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے ‘ آگے تمہارے کھلے اور چھپے سب حالات کا جاننے والا ہے ۔

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 5:100 in the Quran reader

اے پیغمبر ان سے کہہ دو کہ پاک اور ناپاک بہرحال یکساں نہیں ہیں ‘ خواہ ناپاک کی بہتات تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی ہو ‘ پس اے لوگو جو عقل رکھتے ہو ‘ اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو ‘ امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی ۔

(آیت) ” جَعَلَ اللّہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ قِیَاماً لِّلنَّاسِ وَالشَّہْرَ الْحَرَامَ وَالْہَدْیَ وَالْقَلاَئِدَ ذَلِکَ لِتَعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَأَنَّ اللّہَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(97) اعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَأَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(98) مَّا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللّہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ (99) ” اللہ نے مکان محترم کعبہ کو لوگوں کے لئے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قلادوں کو بھی (اس کام میں معاون بنادیا) تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ خبردار ہوجاؤ ۔ ! اللہ سزادینے میں بھی سخت ہے اور اسکے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے ۔ رسول پر تو پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے ‘ آگے تمہارے کھلے اور چھپے سب حالات کا جاننے والا ہے ۔ بیت الحرام کے اندر یہ حرمتیں اس قدر وسیع ہیں کہ ان کے دائرے میں انسان ‘ پرندے ‘ حیوان اور حشرات الارض سب آتے ہیں اور اگر کوئی احرام کی حالت میں حرم کے حدود میں پہنچا ہو ‘ تب بھی اس کے لئے یہ سب چیزیں ممنوع ہیں۔ اس کے علاوہ چار مہینوں کو بھی اشہر حرام قرار دیا گیا ہے ۔ ان میں قتل و قتال سخت ممنوع ہے ۔ یہ چار مہینے ذوالقعدہ ‘ ذوالحجہ ‘ محرم اور رجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عربوں کے دل میں ان چار مہینوں کا احترام بٹھا دیا تھا ‘ یہاں تک کہ ہو دور جاہلیت میں بھی ان مہینوں کا احترام کرتے تھے ۔ ان مہینوں میں وہ کسی نفس کا ڈراتے دھمکاتے بھی نہ تھے ۔ ان مہینوں میں وہ خون کا بدلہ بھی نہ لیتے تھے اور نہ ہی ان میں کوئی شخص انتقام کی توقع کرتا تھا یہاں تک کہ ایک شخص اپنے باپ بیٹے اور بھائی کے قاتل کو پاتا مگر اسے کوئی اذیت نہ دیتا ۔ چناچہ اس عرصے میں لوگ کھلے بندوں پھرتے اور تجارتی سفر کرتے اور رزق حلال تلاش کرتے ۔ یہ امن کے احکامات اللہ نے اس لئے بھی جاری کئے کہ اللہ تعالیٰ خانہ کعبہ کو خطہ امن وسلامتی قرار دینا چاہتے تھے جہاں لوگوں کے اندر ٹھہراؤ پیدا ہو اور کوئی خوف اور بےچینی نہ ہو ۔ کعبے کی طرح ان چار مہینوں کو اللہ نے زمانہ امن قرار دیا تھا جس طرح کعبہ مقام امن تھا ۔ اس کے بعد اس امن کی حدود کے اندر مزید توسیع کردی گئی اور اس ہدی کو بھی مامون اور محفوظ کردیا گیا ہے جسے خانہ کعبہ کی طرف روانہ کردیا گیا ہو ۔ یہ جانور حج اور عمرہ کے موقع پر چلائے جاتے تھے ۔ چناچہ دور جاہلیت میں بھی ان جانوروں کو نہ چھیڑا جاتا تاھ ۔ اسی طرح اس شخص کو بھی ماموں قرار دے دیا گیا جو خانہ کعبہ میں پناہ لے لیتا ہے اور اپنے گلے میں بیت الحرام کے درختوں کا ہار ڈالتا ہے ۔ خانہ کعبہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حرمت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ہاتھوں اس کے تعمیر کے وقت ہی سے رکھی تھی اور اللہ نے اس وقت سے خانہ کعبہ کو لوگوں کے آنے جانے کی جگہ قرار دے دیا تھا ۔ یہ اللہ کا وہ عظیم فضل و احسان تھا ‘ جس کی یاد دہانی اللہ نے مشرکین کو بھی کرائی اس لئے کہ ان کے لئے بھی بیت اللہ گھومنے پھرنے اور امن کی جگہ تھا ۔ اس کے اردگرد بسنے والے لوگوں کی حالت یہ تھی کہ وہ اچک لئے جاتے تھے جبکہ مشرکین یہاں نہایت ہی امن سے رہتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ اللہ کا شکریہ ادا نہ کرتے تھے ۔ اس خانہ توحید میں الہ واحد کی بندگی نہ کرتے تھے اور حضور ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ اگر ہم عقیدہ توحید کو اپنائیں تو ہمیں اپنی جا اور جاگیر چھوڑنی پڑے گی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بات نقل کر کے اس کی تردید کی اور انہیں بتایا کہ امن اور خوف ہوتا کیا ہے ۔ (آیت) ” وقالوا ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا اولم نمکن لھم حرما امنا یجبی الیہ ثمرت کل شیء رزقا من لدنا ولکن اکثرھم لا یعلمون “۔ (28 : 57) ” وہ کہتے ہیں ‘ اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو اپنی زمین سے اچک لئے جائیں گے ۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پرامن حرم کو انکے لئے جائے قیام بنادیا جس کی طرف ہر طرف کے ثمرات کھنچے چلے آتے ہیں ‘ ہماری طرف سے رزق کے طور پر مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ۔ “ صحیحین میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن یہ فرمایا ” یہ شہر حرام ہے ‘ اس کے درخت نہ کاٹے جائیں گے ‘ اور یہاں کے سبزے کو بھی خراب نہ کیا جائے گا ‘ یہاں کے شکار کو نہ بھگایا جائے گا اور یہاں کی گمشدہ چیز کو نہ اٹھایا جائے گا مگر وہ شخص جو اعلان کرنا چاہے ۔ حضور اکرم ﷺ نے حرم میں محرم کے لئے زندہ چیزوں میں سے صرف کوے ‘ چیل ‘ بچھو ‘ چوہے اور کاٹنے والے کتے کو مستثی فرمایا ۔ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں ہے ” حضور اکرم ﷺ نے پانچ چیزوں کے قتل کا حکم دیا ۔ یہ مضر چیزیں ہیں اور حالت حلت اور احرام دونوں میں یہ حکم دیا ۔ کوا چیل ‘ بچھو ‘ چوہا اور کاٹنے والاکتا۔ صحیحین میں حضرت ابن عمر ؓ سے سانپ کا اضافہ آیا ہے ۔ حضرت علی ؓ کی روایت کی رو سے یہی حرمت مدینہ کے لئے بھی عائد ہے ۔ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ” عیر “ سے لے کر ” ثور “ مدینہ کو حرم قرار دیا ہے ۔ اور صحیحن ہی میں ایک دوسری روایت ہے ۔ یہ حضرت عبادہ ابن تمیم سے وارد ہوئی ہے۔ کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے لئے دعا فرمائی اور میں نے مدینہ کو اسی طرح حرم کردیا ہے جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا ۔ “ اس کے علاوہ مزید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ علاقہ اور یہ مہینے ہی صرف امن کے لئے مخصوص نہیں اور صرف یہ بات نہیں ہے کہ اس امن وامان کا دائرہ صرف انسان اور حیوان تک ہی محدود ہے بلکہ اس امن اور سکون کا دائرہ انسانی ضمیر تک وسیع ہوجاتا ہے اس لئے کہ انسانی ضمیر انسانی نفس کی گہرائیوں کے اندر ایک معرکہ کار زار ہے ۔ ضمیر کے اندر جنگ کے شعلے بھڑکتے ہیں تو اس کے شعلے اور اس کا دھواں زمان ومکان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ۔ پھر تمام انسان اور حیوان اس کی زد میں آجاتے ہیں حرمین اس اندرونی معرکہ کار زار میں بھی امن کا سامان پیدا کردیتے ہیں اور جب ضمیر کے اندر امن و سکون پیدا ہوجاتا ہے تو ایک محرم کسی جاندار کی طرف ہاتھ بڑھانے میں بھی حرج محسوس کردیتے ہیں اور جب ضمیر کے اندر امن و سکون پیدا ہوجاتا ہے تو ایک محرم کسی جاندار کی طرف ہاتھ بڑھانے میں بھی حرج محسوس کرتا ہے اگرچہ یہ شکار حرم سے باہر ہو ۔ یہ عرصہ نفس انسانی کی تربیت کا عرصہ ہے تاکہ وہ صاف و شفاف ہوجائے ۔ وہ ہلکا ہوجائے اور بلند ہو کر ملاء اعلی سے واصل ہوجائے اور ملاء اعلی کے ساتھ معاملہ کرنے کے لئے تیار ہوجائے ۔ یہ انسانیت ‘ یہ خوفزدہ ‘ مصیبت زدہ ‘ پسی ہوئی انسانیت کس قدر محتاج ہے ‘ اس علاقہ امن کی ۔ وہ منطقہ امن جس کو اللہ نے اس دین کے پیروکاروں کے لئے بنایا ہے ‘ اور جس کا اعلان عام قرآن کریم کے اندر کردیا گیا ۔ (آیت) ” ذَلِکَ لِتَعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَأَنَّ اللّہَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(97) ” تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے۔ اس جگہ یہ عجیب اختتامیہ ہے ۔ یہ بات معلوم ہے کہ اللہ جو شریعت مقرر کرتا ہے اور لوگوں کے لئے یہ جائے امن جو قرار دیتا ہے ‘ یہ اس لئے بتاتا ہے کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ اللہ ان تمام حالات سے باخبر ہے جو آسمانوں اور زمینوں کے اندر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ‘ تاکہ انہیں معلوم ہو کہ اللہ انسانوں کے مزاج سے باخبر ہے ‘ وہ انکی خفیہ نفسیات سے بھی خبردار ہے ۔ وہ انکی روح کی پکار کو سنتا ہے اور وہ ایسا قانون بناتا ہے جس کے ذریعے ان کے مزاج کے تقاضے ‘ انکی ضروریات اور ان کے میلانات پورے ہوتے ہیں ۔ جب لوگ یہ محسوس کریں گے کہ قانون سازی میں اللہ نہایت ہی شفیق ورحیم ہے ۔ اور جب لوگوں کے دلوں نے اس شریعت اور ان کی فطرت کے درمیان پوری ہم آہنگی کا مزہ چکھا تو انکو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ ان تمام امور کو جانتا ہے جو آسمانوں اور زمینوں کے اندر ہیں اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ دین اسلام انسانی فطرت اور اس کے میلانات اور خواہشات کے پورے پورے تقاضے ملحوظ رکھنے میں بہت ہی عجیب ہے ۔ وہ انسانوں کی تمام ضروریات کا لحاظ رکھتا ہے ۔ اسلامی شریعت کی اسکیم انسانی فطرت کی اسکیم کے عین مطابق ہے ۔ شریعت کی تشکیل اور انسان کی فطرت کے اندر مکمل ہم آہنگی ہے ۔ جب انسان کو اس دین کے بارے میں شرح صدر ہوجاتا ہے تو پھر وہ جس قدر غور کرتا ہے اسے کمال و جمال ہی نظر آتا ہے ‘ پھر اسے انس و محبت ہی نظر آتی ہے اور اسے وہ سکون ملتا ہے جس کا تصور وہ شخص نہیں کرسکتا جس کو شریعت پر شرح صدر حاصل نہ ہو ۔ اب حالت احرام اور حالت غیر احرام میں جائز وناجائز امور کا خاتمہ اس بات پر ہوتا ہے کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور دوسری جانب وہ غفور ورحیم بھی ہے ۔ (آیت) ” اعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَأَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(98) خبردار ہوجاؤ ۔ ! اللہ سزادینے میں بھی سخت ہے اور اسکے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے ۔ “ اور اس ڈراوے کے ساتھ ساتھ بتا دیا جاتا ہے کہ اپنے کئے کی ذمہ داری ہر شخص کے کاندھوں پر ہے اور جو راہ راست پر نہ ہو وہ خود اپنی گمراہی کا ذمہ دار ہے ۔ (آیت) ” مَّا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللّہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ (99) ” رسول پر تو پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے ‘ آگے تمہارے کھلے اور چھپے سب حالات کا جاننے والا ہے ۔ اب یہ مضمون ایک عام پیمانے اور اصول پر ختم ہوتا ہے اور یہ پیمانہ تمام اصول واقدار کے وزن کے لئے ایک ترازو ہے ۔ اس کے مطابق ایک مسلم فیصلے کرتا ہے اس میزان میں طیب بھاری رہتا ہے ۔ اور خبیث ہلکا ہوجاتا ہے تاکہ خبیث اپنی ظاہری اور جسمانی کثرت کی وجہ سے کسی مسلم کو کسی بھی وقت متاثر نہ کرسکے ۔ (آیت) ” قُل لاَّ یَسْتَوِیْ الْخَبِیْثُ وَالطَّیِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَکَ کَثْرَۃُ الْخَبِیْثِ فَاتَّقُواْ اللّہَ یَا أُوْلِیْ الأَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (100) ” اے پیغمبر ان سے کہہ دو کہ پاک اور ناپاک بہرحال یکساں نہیں ہیں ‘ خواہ ناپاک کی بہتات تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی ہو ‘ پس اے لوگو جو عقل رکھتے ہو ‘ اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو ‘ امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی ۔ یہاں پاک وناپاک کے ذکر کی مناسبت یہ ہے کہ اس سے پہلے حلال و حرام اور جائز وناجائز کا مضمون چل رہا تھا ‘ شکار میں سے حلال و حرام کا ذکر ظاہر ہے ۔ کہ حلال طیب ہوتا ہے اور حرام خبیث ہوتا ہے ۔ طیب اور خبیث برابر نہیں ہو سکتے اگرچہ خبیث اپنی کثرت کی وجہ سے انسان کو دھوکے میں ڈالتا ہے اور عجیب معلوم ہوتا ہے ‘ لیکن طیب نہایت ہی خوشگوار ہوتا ہے اور اس کے نتائج بھی اچھے نکلتے ہیں ۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ اس کے نتیجے میں امراض اور آلام سے بھی زیادہ لذت ہوتی ہے اور طیب کا انجام دنیا وآخرت میں اچھا ہوتا ہے ۔ جب نفس انسانی خواہشات نفسانیہ سے آزاد ہوجاتا ہے اور نفس پر تقوی اور دل کی نگرانی قائم ہوجاتی ہے تو وہ خبیث کے مقابلے میں طیب کو اختیار کرتا ہے اور اس طرح وہ دنیا وآخرت میں کامیاب رہتا ہے ۔ (آیت) ” فَاتَّقُواْ اللّہَ یَا أُوْلِیْ الأَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (100) ” پس اے صاحبان عقل وخرد اللہ ہی سے ڈرو ‘ امید ہے کہ تم فلاح پاؤ گے) یہ تو تھی ظاہری مناسبت لیکن اس آیت کا افق اور مطالب اس سے بھی زیادہ وسیع ہیں ۔ یہ تمام زندگی کو اپنے دائرے میں لیتی ہے اور اس کے مفہوم کو تصدیق مختلف مقامات پر ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس امت کو میدان میں لایا اور اسے خیر امت قرار دیا ۔ اللہ تعالیٰ کی اسکیم یہ تھی کہ اسے ایک عظیم امر کے لئے تیار کیا جائے ۔ یہ عظیم امر یہ تھا کہ یہ امت اس کرہ ارض پر اسلامی نظام کی امانت کی حامل ہوگی ۔ وہ اسلامی نظام حیات پر اس طرح قائم ہو کہ اس سے پہلے کوئی امت اس طرح قائم نہ ہوئی ہو ۔ وہ اس نظام کو لوگوں کی زندگیوں میں اس طرح قائم کرے کہ کبھی کسی دوسری امت کے اندر یہ نظام اس طرح قائم نہ کیا جاسکا ہو ۔ اس عظیم مقصد کے حصول کے لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ اس امت کو اس قدر طویل تربیت دی جائے کہ اس سے پہلے کسی امت کو نہ دی گئی ہو ۔ پہلی تربیت یہ ہو کہ اسے آثار جاہلیت سے مکمل طور پر نکال دیا جائے اور اسے جاہلیت کی گراٹوں سے اٹھا کر سیدھا اعلی منزل مقصود تک بلند کردیا جائے ۔ یہاں تک کہ وہ اسلام کی بلند ترین چوٹی پر فائز ہوجائے ، اس کے بعد یہ امت اپنے تصورات و افکار کو درست کرے ‘ اور اپنی عادات ‘ اپنے شعور اور اپنے افکار کو جاہلیت کے آثار اور آلودگیوں سے پاک کرے ۔ اس کے بعد اس کے اندر اس قدر عزم پیدا کردیا جائے کہ وہ اس سچائی قبول کرلے اور پھر اس قبولیت کے نتیجے میں آنے والی ابتلاؤں کو برداشت کرے ۔ اس کے بعد وہ پوری زندگی کو اسلامی اقدار اور پیمانوں کے مطابق استوار کرے یہاں تک کہ یہ ایک ربانی امت بن جائے اور اس کی انسانیت اعلی مدارج انسانیت تک بلند ہوجائے جب یہاں تک اس کی تربیت ہوجائے تو پھر اس کی نظروں میں اچھا اور برا برابر نہ ہوں گے ۔ اگرچہ خبیث وناپاک زیادہ اور آنکھوں کو خیرہ کردینے والا ہو اور آنکھوں کو چکا چوند کردینے والا ہو ۔ لیکن جب انسان طیب اور خبیث میں فرق کرلیتا ہے اور اشیاء کو الہی میزان میں تولتا ہے تو اس وقت باوجود کثرت اور حجم کے خبیث کا وزن طیب کے مقابلے میں کم ہوتا ہے اور طیب کا پلڑا باوجود قلت کے بہت بھاری ہوتا ہے ۔ اس مقام پر آکر یہ امت امین اور امانت دار بن جاتی ہے ۔ وہ درست اور قابل اعتماد ہوتی ہے ۔ اب وہ تمام انسانیت کی نگہبان ہوتی ہے ۔ اب وہ لوگوں کے لئے اللہ کا ترازو استعمال کرتی ہے اور اللہ کی قدر کے ساتھ اقدار کا تعین کرتی ہے ‘ وہ طیب کو اختیار کرتی ہے اور اس کی آنکھیں خبیث کو دیکھ کر خیرہ نہیں ہوتیں ۔ بعض اوقات ایسے مواقع بھی آتے ہیں کہ ان میں یہ میزان نہایت ہی مفید ہوتا ہے ۔ ایسے حالات میں کہ جب باطل پھولا ہوا ہو ‘ اور انسان یہ سمجھتا ہو کہ شاید یہ ترقی کر رہا ہے آنکھیں صرف یہ دیکھتی ہیں کہ بظاہر وہ پر قوت اور صاحب کثرت ہے ۔ ایک مومن اس پھولے ہوئے باطل کو اللہ کے ترازو میں تولتا ہے ۔ اس طرح اس کے ہاتھ مضطرب نہیں ہوتے ‘ نہ اس کی آنکھیں خیرہ ہوتی ہیں ‘ نہ اس کا معیار خراب ہوتا ہے چناچہ وہ اس باطل کے مقابلے میں سچائی کو اختیار کرتا ہے جس میں کوئی جھاگ اور کوئی سو جن نہیں ہے ۔ نہ اس کے اردگرد کوئی زاد وعتاد ہے ۔ بس وہ تو فقط حق ہے ۔ وہ مجرد حق ہے اور اس کے سوا اس کے ساتھ کوئی غرض نہیں ہے ۔ اللہ کے ترازو میں اس کا وزن زیادہ ہے اور ذاتی طور پر وہ حسین و جمیل ہے ۔ اس کی ذات کے اندر ایک قوت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کی تربیت عین قرآنی منہاج کے مطابق کی ۔ اور امت پر رسول اللہ ﷺ کو قیم اور نگران مقرر کیا ۔ پھر وہ اس سطح پر پہنچی کہ وہ اللہ کے دین پر ایمان لانے والی تھی ۔ محض نفسیاتی ایمان نہیں اور نہ دل کے اندر کا ایمان بلکہ اپنی عملی زندگی میں ایمان اور اس کرہ ارض پر اپنی تمام سرگرمیوں کے اندر ایمان ۔ زندگی کے تمام اضطرابات میں ‘ تمام خواہشات اور امیدوں میں ‘ تمام رغبتوں اور مسلکوں میں ‘ تمام مفادات اور مصالح میں اور افراد اور گروہوں کی تمام کشمکشوں میں ایمان ‘ غرض اس کا ایمان اس طرح ہو کہ وہ اس پوری کائنات کے اوپر نگہبانی میں بھی ایماندار ہو ‘ اور اس زندگی کے اتھاہ سمندر میں اپنی عظیم ذمہ داریوں کے اندر بھی وہ ایماندار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو مختلف ہدایات ‘ مختلف موثرات ‘ مختلف آزمائشوں اور مختلف ضابطہ بندیوں کے ذریعے تربیت دی اور ان تمام امور کو ایک ہی مجموعی شکل میں ایک گٹھڑی کی طرح ایک نظام بنا دیا جس کے آخری مقاصد ایک ہی تھے ۔ یعنی اس امت کو اپنے عقائد و تصورات ‘ اپنے شعور اور میلانات اپنے طرز عمل اور اخلاق اور اپنی شریعت اور نظام اس طرح تیار کرنے چاہئیں کہ وہ اللہ کے دین کے اوپر قائم ہو ‘ وہ اس پوری انسانیت پر نگران ہو ‘ اور یہ اللہ کا حق ہے کہ وہ اپنے بندوں سے جو کام لینا چاہے وہ لے ۔ اللہ اپنے معاملات میں خود مختار ہے ۔ چناچہ اس کرہ ارض پر اسی روشن شکل میں اللہ کا دین چمکتا ہوا قائم ہوا۔ ہو ایک تصور تھا جس نے زندگی میں واقعیت اختیار کی اور یہ رسم ڈالی گئی کہ جب بھی اس دین کے قیام کے لئے یہ امت جہاد کرے گی اللہ کی مدد اسے حاصل ہوگی ۔ اس کے بعد جماعت مسلمہ کو رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے بعض آداب سکھائے جاتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ حضور ﷺ نے جو کچھ نہیں بتایا اس کے بارے میں آپ سے سوالات نہ کئے جائیں ۔ ہوسکتا ہے کہ اگر آپ سوال کریں اور حضور ﷺ جواب دیں تو آپ لوگوں کو وہ جواب پسند نہ آئے اور یاحرج واقعہ ہوجائے اور جواب کے ذریعے ایسے فرائض عائد ہوجائیں جن پر عمل کرنا ممکن نہ ہو۔ یا یہ ہو کہ کسی معاملے میں اللہ تعالیٰ نے وسعت کی تھی اور سوال کی وجہ سے تنگی ہوجائے کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں پر رحم کرتے ہوئے انہیں زیادہ سے زیادہ آزاری دیتے ہیں ۔
Ayahs 5:101–102

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 5:101 in the Quran reader

’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں ‘ لیکن اگر تم انہیں ایسے وقت پوچھو گے جب کہ قرآن نازل ہو رہا ہو تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی ۔ اب تک جو کچھ تم نے کیا اسے اللہ نے معاف کردیا ہے ‘ وہ درگزر کرنے والا اور بردبار ہے ۔

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ Open ayah 5:102 in the Quran reader

تم سے پہلے ایک گروہ نے اسی قسم کے سوالات کئے تھے ‘ پھر وہ لوگ انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے ۔

(آیت) ” نمبر 101 تا 102۔ بعض صحابہ کرام ؓ اجمعین حضور ﷺ سے بہت سوالات کرتے تھے ‘ اور یہ سوالات ان باتوں کے متعلق ہوتے تھے جن میں کوئی امر یا نہی نازل نہ ہوئی تھی ۔ یہ لوگ بعض ایسے معاملات کی تفصیل میں زیادہ دلچسپی لیتے جن کو قرآن نے مجمل چھوڑا تھا اور اس اجمال کی وجہ سے لوگوں پر ایک قسم کی سہولت تھی ۔ بعض اوقات وہ ایسے معاملات کے بارے میں پوچھتے جن کے جوابات کی ضرورت ہی نہ تھی ‘ کیونکہ یہ ممکن تھا کہ خود سائل کو وہ انکشاف اچھا نہ لگے ۔ یہ اس سے دوسرے مسلمانوں کو اذیت ملے ۔ روایات میں آتا ہے کہ فرضیت حج کی آیت پر کسی نے یہ پوچھا کہ کیا ہر سال حج فرض ہوگیا ہے ؟ تو حضور نے اس سوال پر بہت ہی ناراضگی کا اظہار فرمایا کیونکہ آیت حج میں اجمال تھا ۔ (آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا “ اللہ کی جانب سے لوگوں پر حج بیت اللہ فرض ہے ‘ اس پر جو راستے کی استطاعت رکھتا ہو۔ زندگی میں ایک بار حج کرکے اس آیت پر عمل ہوسکتا تھا ۔ اس طرح اگر حضور اس آیت کی یہ تفسیر کردیتے کہ ” ہر سال “ تو اس سے بہت سی مشکلات پیدا ہوجاتیں حالانکہ اللہ نے لوگوں کو ان میں ڈالنا مناسب نہ سمجھا تھا ۔ ترمذی اور دارقطنی نے حضرت علی ؓ سے ایک حدیث مرسل روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا “ تو لوگوں نے پوچھا حضور ہر سال میں ؟ تو آپ خاموش ہوگئے ۔ انہوں نے دوبارہ پوچھا کیا ہر سال میں ؟ تو آپ نے فرمایا ” نہیں اگر میں کہتا کہ ” ہاں “ تو یہ ہمیشہ کے لئے فرض ہوجاتا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم ) دارقطنی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا لوگو تم پر حج فرض کردیا گیا ہے ۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور سوال کردیا کہ کیا ہر سال ؟ حضور ﷺ نے اس کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا ۔ اس کے بعد اس نے پھر سوال کیا ” حضور ہر سال ؟ “ تو حضور ﷺ نے پوچھا یہ سائل کون ہے ؟ تو لوگوں نے بتلایا کہ فلاں فلاں ہے ۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں کہہ دیتا ہاں تو یہ ہر سال واجب ہوجاتا اور اگر ہر سال واجب ہوتا تو تم ہر گز اسے ادا نہ کرسکتے اور اگر تم نہ کرسکتے تو کافر ہوجاتے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم ) ایک دوسری حدیث کا مضمون یہ ہے ‘ اور یہ امام مسلم نے صحیح مسلم میں نقل کی ہے ۔ وہ حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : آپ ﷺ نے ایک موقعہ پر فرمایا جب تک میں اس جگہ کھڑا ہوں پوچھو جو پوچھتے ہو ۔ میں تمہیں اطلاع دوں گا ۔ “ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے پوچھا : حضور ﷺ میں کہاں داخل ہوں گا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” آگ میں “ ۔ عبداللہ ابن حذافہ ؓ نے پوچھا : میرے باپ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے ۔ (ابن عبدالبر لکھتے ہیں کہ عبداللہ ابن حذافہ قدیم الاسلام تھے ۔ انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی ‘ بدر میں شریک ہوئے ‘ یہ نہایت ہی خوش مزاج تھے ، حضور ﷺ نے انہیں کسری کے پاس پیغام دے کر بھیجا تھا ۔ جب حضور ﷺ کے ساتھ اس کا یہ سوال و جواب ہوا کہ میرا باپ کون ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا حذافہ تو اس کی ماں نے کہا میں نے تم جیسا نافرمان بیٹا نہیں دیکھا ۔ ” کیا تم کو یہ اطمینان تھا کہ میں نے جاہلیت کی عورتوں کی طرح گناہ کا ارتکاب نہیں کیا ؟ تم مجھے مجمع عام میں شرمندہ کرنا چاہتے تھے ؟ اس پر عبداللہ نے کہا : ” خدا کی قسم اگر حضور ﷺ مجھے ایک کالے غلام کا بیٹا بتلاتے تو میں اس کے ساتھ اپنا نسب ملا دیتا۔ “ ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے ۔ ایک دن حضور ﷺ نہایت ہی جلال میں تھے آپ ﷺ کا چہرہ سرخ تھا ۔ آپ منبر پر بیٹھے ۔ ایک شخص نے پوچھا حضور ﷺ میں کہاں ہوں گا تو آپ نے فرمایا ” آگ میں “۔ ایک دوسرا اٹھا اور پوچھا میرا باپ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا باپ ” حذیفہ “ ہے اس پر حضرت عمر بن خطاب ؓ اٹھے اور فرمایا حضور ﷺ ہم اس بات پر راضی ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور محمد ﷺ ہماری نبی ہیں اور قرآن ہمارا امام ہے ۔ حضور ﷺ ہم تو ابھی ابھی جاہلیت سے اور شرک سے نکلے ہیں ۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد کون ہیں ؟ اس پر حضور ﷺ کا غضب ٹھنڈا ہوا اور یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم ) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں ‘ ۔ مجاہد نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت فرمائی ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام کے بارے میں پوچھا تھا ۔ سعید ابن جبیر ؓ نے بھی یہی رائے اختیار کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس آیت کے بعد اسی وجہ سے یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” مَا جَعَلَ اللّہُ مِن بَحِیْرَۃٍ وَلاَ سَآئِبَۃٍ وَلاَ وَصِیْلَۃٍ وَلاَ حَامٍ (5 : 103) ان روایات میں وہ تمام سوالات آگئے ہیں جن کے بارے میں پوچھنے سے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو منع فرمایا ۔ قرآن کریم کا مقصد یہ نہ تھا کہ محض عقیدہ اور نظریہ ہی بیان کر دے یا ایک شرعی قانون نافذ کرے ۔ بلکہ قرآن کریم کے پیش نظر ایک امت کی تربیت کرنا تھا ۔ ایک معاشرہ وجود میں لانا تھا ۔ قرآن کریم افراد کو بتا رہا ہے تھا کہ ان کی نشوونما اور تربیت معقول اخلاقی اصولوں پر کی جانی مطلوب تھی ۔ یہاں قرآن کریم نے سوالات کے آداب بتلائے ہیں ۔ بحث و مباحثہ کی حدود کا تعین کیا ہے ۔ علم ومعرفت کا طریق کاربتلایا ہے ۔ خصوصا اس عرصے کے لئے جس میں باران رحمت کا نزول ہو رہا تھا ۔ غیب سے خبریں آرہی تھیں ۔ حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ لوگ شریعت کی تفصیلات نہ پوچھیں اور نصوص کو مجمل ہی رہنے دین ۔ نیز غیبی امور کو غیب ہی رہنے دیا جائے ۔ اور وہ غیبی امور میں اسی حد تک علم کی تمنا کریں جس قدر اللہ علیم وخبیر دے دے ۔ ان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ نئی نئی نصوص طلب کرکے اپنے اوپر مزید مشکلات ڈالتے چلے جائیں ۔ محض احتمالات اور فرضی مسائل نہ پوچھیں اور وہ ان غیبی امور کے پیچھے ہی نہ پڑیں جن کا انکشاف اللہ نے نہیں کیا ہے اس لئے کہ اللہ کو انسان کی طاقت اور قدرت کا اچھی طرح علم ہے ۔ وہ ان کی حد برداشت کو جانتا ہے ۔ وہ ان کی طاقت کے مطابق ان کے قانون بنا رہا ہے ۔ اور ان پر ان ہی امور کو منکشف کرتا ہے جس کا ادراک ان کا مزاج کرسکتا ہے ۔ بعض امور کو اللہ ارادۃ مجمل چھوڑتا ہے ۔ لوگوں کے لئے ان میں کوئی نقصان نہیں ہے کہ وہ امور اسی طرح مجمل رہیں ۔ نزول قرآن کے وقت ایسا جواب آسکتا ہے جو انہیں پسند نہ ہو یا بعض لوگ اسے پسند نہ کریں اور وہ سب پر بوجھ بن جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس بات سے منع کردیا کہ وہ ایسے امور کے بارے میں نہ پوچھیں کہ اگر بتا دیئے جائیں تو انہیں ناگوار ہوں اور انہیں متنبہ کردیا گیا کہ اگر وہ پوچھیں گے تو جواب آئے گا ۔ اس لئے کہ وحی جاری ہے ۔ اس طرح فرائض کا دائرہ وسیع ہوجائے گا ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَسْأَلُواْ عَنْ أَشْیَاء إِن تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ وَإِن تَسْأَلُواْ عَنْہَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَکُمْ عَفَا اللّہُ عَنْہَا ۔ ” ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں ‘ لیکن اگر تم انہیں ایسے وقت پوچھو گے جب کہ قرآن نازل ہو رہا ہو تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی۔ ان چیزوں کو اللہ نے معاف کردیا ۔ “ ۔ یعنی ان امور کے بارے میں نہ پوچھو جو اللہ نے معاف کردیئے اور اس کا فرض کرنا موقوف رکھا ۔ اس لئے کہ اجمال ہی میں وسعت ہوتی ہے ۔ مثلا حج کی تعداد کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کوئی بات نہیں کہ یا ایسی چیزیں جن کا اللہ نے ذکر ہی نہیں کیا ۔ اس کے بعد اللہ نے ان کے سامنے امم سابقہ یعنی اہل کتاب کی مثال پیش کی کہ انہوں نے بار بار سوالات کرکے اپنی آزادی کا دائرہ تنگ کیا اور اس طرح ان پر زیادہ فرائض اور احکام عائد ہوتے چلے گئے اور جب ان پر احکام فرض ہوئے تو انہوں نے ان کی تعمیل سے انکار کردیا اور کفر کا راستہ اختیار کیا ۔ اگر وہ خاموش رہتے اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان پر آسانی کی تھی اسے جاری رہنے دیتے تو ان پر سختی نہ ہوتی اور نہ شدت کے نتیجے میں انہیں انکار کرنا پڑتا ۔ سورة بقرہ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ جب بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ وہ گائے ذبح کریں اور گائے کے ساتھ تو کوئی قیود وشروط عائد نہ تھے بلکہ صرف یہی کہا گیا تھا کہ بس وہ گائے ذبح کردیں ۔ اگر وہ کوئی گائے ذبح کرتے تو حکم کی تعمیل ہوجاتی ۔ انہوں نے گائے کے اوصاف گنانے شروع کردیئے ۔ انہوں نے اس کے رنگ تک تحقیقات شروع کردیں ۔ ہر تحقیق وسوال کے نتیجے میں ان پر سختی ہوتی گئی ۔ اگر وہ سوالات کی بوچھاڑ نہ کرتے تو ان کے لئے کوئی مشکل پیدا نہ ہوتی ۔ یہی حال تھا ان کا سبت کے بارے میں کہ پہلے انہوں نے خود ایک تعطیل کا مطالبہ کیا اور پھر اس کی پابندی کرنے سے انکار کردیا ۔ ان کی اس خصلت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر بطور سزا کئی اشیاء کو حرام کردیا ۔ صحیح بخاری میں رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے ” میں نے جو احکام نہیں دیئے ان کے بارے میں مجھے چھوڑ دو ۔ اس سے پہلے جو قومیں ہلاک ہوئیں وہ زیادہ پوچھنے کی وجہ سے ہلاک ہوئیں اور مزید اس لئے کہ انہوں نے اپنے نبیوں کے ساتھ اختلاف کئے ۔ صحیح مسلم میں عامر ابن سعید نے اپنے باپ سے روایت کی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمانوں میں سے خود مسلمانوں کے خلاف سب سے بڑا جرم کرنے والا وہ شخص ہے کہ جو کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھے جسے مسلمانوں پر حرام نہیں کیا گیا اور اب اس کے سوالات کی وجہ سے وہ مسلمانوں پر حرام ہوجائے ۔ یہ آیات اور ان کے بعد احادیث نبوی کا یہ مجموعہ اسلامی معاشرے میں حصول علم کے لئے ایک منہاج وضع کردیتا ہے ۔ اسلام میں طلب علم کا مقصد واقعی ضروریات کے لئے مسائل کا حل معلوم کرنا ہے اور ضرورت کے دائرے تک کرنا ہے ۔ اس لئے عالم غیب میں دلچسپی نہ رکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ انسانی طاقتیں ایسے کام کو روشنی میں لانے کے اندر خرچ نہ کی جائیں جن کی حقیقت تک پہنچنے کی انسان کو کوئی عملی ضرورت نہیں ہے ۔ اس کی عملی زندگی اس حقیقت کی محتاج نہیں ہے اور انسانی ذہن کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ عالم غیب پر اسی طرح ایمان لائے جس طرح اللہ علیم وخبیر نے کہہ دیا ہے ۔ جب کوئی ایمان کو چھوڑ کر غیبی حقائق پر بحث شروع کر دے تو اس بحث کے نتیجے میں کچھ حاصل نہیں ہوتا اس لئے کہ انسانی ذہن کو یہ قوت اور صلاحیت ہی نہیں دی گئی کہ وہ عالم غیب کے میدان میں کسی چیز کا ادراک کرسکے ۔ اس کا ادراک اسی حد تک محدود ہے جس حد تک اسے بتایا گیا ہے لہذا اس قسم کی کوئی کوشش بھی بےسود رہے گی ۔ یہ اور بات ہے کہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار کر ایسا شخص اپنے آپ کو تھکا ڈالے گا اور آپ ہی ضلال بعید میں جا پڑے گا ۔ اسلام کی پالیسی یہ ہے کہ جب کوئی مسئلہ در پیش ہو تو اس وقت اس کے بارے میں سوال کیا جائے ‘ اور یہی ہے اسلامی منہاج ۔ آپ دیکھتے نہیں کہ پورے مکی دور میں کوئی ایسا شرعی حکم نازل نہیں ہوا جس کا نفاذ ضروری ہو ۔ اگرچہ بعض اشیاء اور بعض انفرادی اعمال کے بارے میں احکام آتے رہے ‘ لیکن ایسے احکام جن کے نفاذ کی ضرورت ہو مثلا حدود ‘ تعزیرات ‘ کفارات اور قصاص یہ سب کے سب مدینہ میں نازل ہوئے کیونکہ مدینہ میں اسلامی حکومت قائم ہوگئی تھی اور نفاذ احکام حکومت ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ ابتدائی اسلامی سوسائٹی نے اس حقیقت کو پالیا تھا ۔ وہ کسی مسئلے کے بارے میں اس وقت تک نہ پوچھتے تھے جب تک وہ واقع نہ ہوجائے اور یہ سوال بھی واقعہ کی حد تک ہوتا ‘ مفصل قانون دفعات کے وضع کرنے کی کبھی ضرورت پیش نہیں آتی تاکہ سوال و جواب بھی اسلام کے نظام تربیت کے مطابق ہوں ۔ حضرت عمر ؓ کا طریقہ یہ تھا کہ اگر کوئی قضیہ درپیش نہ ہوتا تو خواہ مخواہ سوال کرنے والے پر وہ لعنت بھیجتے ۔ دارمی نے اپنی مسند میں اور زہری نے اس کا ذکر کیا ہے کہ زید ابن ثابت انصاری سے جب کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو وہ پہلے پوچھتے کہ کیا ایسا کوئی واقعہ ہوا ہے ۔ اگر وہ کہتے کہ ہاں ایسا وقوعہ ہوگیا ہے تو وہ پھر اپنے علم کے مطابق بات کرتے ۔ اور اگر وہ کہتے کہ واقعہ نہیں ہوا ہے تو وہ جواب دیتے کہ ایسا ہونے دو پھر بات کریں گے ۔ اسی طرح عمار ابن یاسر سے بھی روایت ہے کہ ان سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ کیا اس سلسلے کا کوئی واقعہ ہوا ہے تو انہوں نے کہا کہ نہیں تو انہوں نے کہا کہ دیکھو جب ایسا کوئی واقعہ ہو تو پھر بات کریں گے ۔ درامی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے ۔ فرماتے ہیں کہ میں نے صحابہ رسول سے اچھے لوگ نہیں دیکھے ۔ انہوں نے حضور ﷺ سے آپ کی وفات تک صرف 31 مسئلے پوچھے ۔ اور یہ سب مسئلے قرآن کریم میں ذکر ہوئے ہیں جن میں یہ یسئلون شامل ہیں ۔ (آیت) ” یسئلونک عن الشھر الحرام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یسئلونک عن المحیض) اور وہ اسی بات کے بارے میں پوچھتے تھے جو ان کے لئے نفع بخش ہوتی ۔ امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ جب میں مدینہ میں آیا تو اہل مدینہ کے پاس کتاب وسنت کے سوا کوئی علم نہ تھا ۔ جب کوئی معاملہ پیش آتا تو امیر مدینہ موجود علماء کو جمع کرتے اور جس بات پر ان کا اتفاق ہوجاتا وہ اسے نافذ کردیتے ۔ تم لوگ بہت ہی سوالات کرتے ہو اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو پسند نہیں فرمایا ۔ علامہ قرطبی نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے ذیل میں کہا ہے : امام مسلم نے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا :” اللہ تعالیٰ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی حرام کردی ہے بیٹیوں کا دفن کرنا حرام کردیا ہے دوسروں کے حقوق منع کرنے اور اپنے حقوق طلب کرنے کو حرام قرار دیا ہے اور تین چیزوں کا ناپسند کیا ہے ۔ زیادہ قیل وقال منع ہے ‘ زیادہ سوالات کرنا منع ہے اور دولت کو ضائع کرنا ناپسند ہے ۔ اکثر علماء کا کہنا یہ ہے کہ کثرت سوال سے مراد فقہی مسائل میں زیادہ سوالات کرنا ہے ۔ یعنی ان معاملات میں جن میں کوئی نص نہیں ہے ۔ یعنی فقہی پہیلیاں اور مسائل سے جزئیات اور مشتقات نکالنا ۔ سلف صالحین اس کو ناپسند کرتے تھے اور اسے محض تکلف سمجھتے تھے ۔ وہ کہتے تھے پہلوؤں پر پوری طرح منطبق ہوتا ہے ۔ اگر کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اس کے بارے میں سوال کرنا تو ایک متعین صورت حالات کے بارے میں سوال ہوگا ‘ لیکن اگر کوئی واقعہ پیش آیا ہی نہ تو اس کا تعین ممکن ہی نہیں ہوتا اور اس کے بارے میں جو بھی فتوی دیا جائے گا وہ عملا اچھی طرح منطبق نہ ہوگا ۔ اگر ہم فرض حالات کے جوابات دینے لگیں تو یہ فعل شریعت کی حقیقت پسندی کے خلاف ہوگا ۔ اور اسلام کے منہاج کے متصادم ہوگا ۔ آج کے دور میں اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ لوگ ایسے ممالک میں شریعت کے قوانین کے بارے میں سوالات کرتے ہیں جہاں شریعت کے قیام کا مقصد پیش نظر ہوتا ہے ۔ نہ فتوی اس لئے طلب کیا جاتا ہے ۔ کہ شریعت کے کسی حکم کو نافذ کرنا ہے ۔ اسلامی شریعت کا طریق کار یہ ہے کہ اس میں فتوی نفاذ قانون کے لئے طلب کیا جاتا ہے ۔ اگر پوچھنے والے اور جواب دینے والے دونوں جانتے ہیں کہ وہ ایسے ملک کے باشندے ہیں جس میں شریعت کا نفاذ نہیں ہورہا ہے ۔ اس میں اللہ کے اقتدار اعلی کو نہ تسلیم کیا جاتا ہے اور نہ اس پر کوئی یقین رکھتا ہے نہ اسے لوگوں کی زندگیوں اور اجتماعی امور میں نافذ کیا جاتا ہے بالفاظ دیگر اللہ کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کیا جاتا ہے اور اللہ اعلی کی اطاعت نہیں کی جاتی تو ایسے حالات میں فتوی طلب کرنے کے کیا معنی ؟ اور جواب دینے والے کے جواب کا کیا فائدہ ؟ یہ دونوں دراصل شریعت کے ساتھ مذاق کرتے ہیں چاہے انہیں اس کا شعور ہو یا لاشعوری طور پر وہ ایسا کر رہے ہوں ۔ اسی طرح اسلامی فقہ کی جزئیات کی خیالی تعلیم اور تحقیق خصوصا ان شعبوں میں جن کا انطباق اور نفاذ نہیں ہوتا ایک ایسا مطالعہ اور تحقیق ہے جو محض کھیل کے طور پر کیا جاتا ہے اور اس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اسلامی فقہ اور اسلامی شریعت کا اس کرہ ارض پر ایک مقام ہے اور وہ مقام صرف یہ ہے کہ اسے مدارس کے اندر پڑھایا جائے ‘ عدالتوں کے اندر ان فقہی جزئیات کا نفاذ ضروری نہیں ہے ۔ یہ تاثر جو شخص دیتا ہے وہ اپنے آپ کو ایک بڑے گناہ میں ملوث کرتا ہے ‘ اس لئے کہ یہ شخص لوگوں کو یہ شعور دے کر ان کے جذبہ نفاذ شریعت کو سرد کرتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دین سنجیدہ دین ہے اور یہ آیا ہی اس لئے ہے کہ لوگوں کی زندگی پر کنٹرول کرے ۔ یہ اس لئے آیا ہے کہ لوگ صرف اللہ کی بندگی اور غلامی کریں ۔ اس دین کے آنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کے اقتدار اعلی اور حاکمیت کے حق کو چھین لیا ہے ان سے یہ حق واپس لیا جائے اور اسے دوبارہ اللہ کے حوالے کیا جائے اور تمام امور میں اللہ کی شریعت اور حکومت جاری ہو ۔ اللہ کے سوا کسی اور کی شریعت نافذ نہ ہو ‘ اس لئے کہ یہ شریعت آئی ہی اس لئے ہے کہ وہ زندگی پر حکمرانی کرے اور زندگی کے واقعی اور عملی مسئلوں کے حل پیش کرے اور ہر معاملے کی شکل و صورت اور اس کے حجم کے مطابق صحیح صحیح فیصلے دے ۔ حالات اور واقعات کے مطابق ۔ یہ دین اس لئے نہیں آیا کہ اسے بطور علامت اور شعار لیا جائے ۔ اس لئے نہیں آیا کہ اس کے شرعی نظام پر محض عملی مباحث ہوں ‘ اس لئے نہیں کہ اس کا نفاذ کیسے ہو ۔ یہ نظام خیالی مفروضات کے حل پیش کرتا ہے اور فرض واقعات کے فرضی احکام وضع کرتا ہے ۔ یہ ہے اسلام کی حقیقت پسندی ۔ علمائے دین کو چاہئے کہ وہ اس دین کا مطالعہ حقیقت پسندانہ انداز میں کریں اور اس مطالعے کے ساتھ ساتھ نفاذ شریعت کے امکانات کا مطالعہ بھی کریں ۔ اگر وہ نفاذ شریعت کی جدوجہد نہیں کرسکتے تو ہوا میں محض خیالی فتوے کیوں جاری کرتے ہیں ؟ ابن عباس ؓ سے جو روایت کی ہے اور اس آیت کے شان نزول کے بارے میں سعید ابن جبیر نے کہا ہے کہ آیت (یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآئ) سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ جاہلیت میں مروج بعض باتوں کے بارے میں پوچھتے تھے ۔ البتہ معین طور پر یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ سوال کیا تھا لیکن اس آیت کے بعد بحیرہ ، سائبہ وصیلہ اور حام کے ذکر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان چیزوں اور آیت سابقہ کے درمیان کوئی تعلق ضرور ہوگا ۔
Ayahs 5:103–104

مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآئِبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍ١ۙ وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:103 in the Quran reader

اللہ نے نہ کوئی بحیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبہ نہ وصیلہ اور نہ حام ۔ مگر یہ کافر اللہ پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بےعقل ہیں ۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 5:104 in the Quran reader

کہ ایسے وہمیات کو مان رہے ہیں) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس قانون کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور آؤ پیغمبر کی طرف تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لئے تو بس وہی طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ۔ کیا یہ باپ دادا ہی کی تقلید کئے چلے جائیں گے خواہ وہ کچھ نہ جانتے ہوں اور صحیح راستہ کی انہیں خبر ہی نہ ہو ؟

(آیت) ” نمبر 103 تا 104۔ انسانوں کے دل و دماغ یا تو اس صورت پر قائم ہوں گے جس پر انہیں اللہ نے پیدا کیا ۔ وہ صرف ایک الہ کی معرفت پائیں گے ‘ ایک رب العالمین کی غلامی کریں گے ‘ اسی کی شریعت کے تابع ہوں گے اور اللہ کے علاوہ تمام دوسرے شرائع وقوانین کو ترک کردیں گے ۔ تمام دوسرے الہوں کی ربوبیت کو ترک کردیں گے اور کسی اور سر چشمے سے اپنے قوانین اور ضوابط نہ لیں گے ۔ یہ ایک نہایت ہی فطری صورت حال ہوگی ‘ بندے کا اپنے رب کے ساتھ جوڑ ہوگا ‘ اس کی عبادت اور رب کریم کے ساتھ اس کے روابط نہایت ہی سادہ ہوں گے ورنہ وہ جاہلیت کی پیچ در پیچ گزر گاہوں میں سرگرداں رہے گا ۔ کبھی بت پرست ہوگا اور تہ بہ تہ کلمات کے اندر گم کردہ راہ رہے گا ۔ زندگی کے ہر موڑ پر ایک وہم اور تخیل اسے نچا رہا ہوگا ۔ جاہلیت کا ہر بت اس سے اپنے مراسم عبودیت ادا کرنے کا مطالبہ کر رہا ہوگا ‘ ہر بت کا مطالبہ یہ ہوگا کہ وہ اسے راضی کرے پھر عبادات اور قربانیوں کے مراسم بھی متعدد اور متضاد ہوں گے اور ایک بت پرست کے ذہن میں کوئی اصول نہ ہوگا ۔ وہ عبادات کے مراسم کو ادا کرتا چلا جائے گا اور اس کی سمجھ میں یہ بات نہ آئے گی کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے ؟ مختلف اور متفرق ارباب کی بندگی اسے تھکا کر چور چور کر دے گی اور اس کی انسانیت کا وہ شرف بھی ختم ہوجائے گا جو اللہ نے انسان کو دیا تھا ۔ جب اسلام آیا تو انسانیت موخر الذکر حالت میں تھی ۔ اس نے لوگوں کے سامنے نظریہ توحید پیش کیا اور بتایا کہ قوت حاکمہ ایک ہے جس کی اطاعت کی جاتی ہے ۔ اس نے صرف ایک رب کی بندگی کا نظریہ دیا تاکہ لوگ ایک دوسرے کی بندگی اور غلامی سے نجات پالیں ۔ نظریہ توحید کے ذریعے انسان کو متفرق الہوں کی بندگی سے نجات ملی اور انسانی ضمیر ادہام وخرامات کے ناقابل برداشت بوجھ سے نجات پا گیا ۔ انسانی فہم ودراک اور عقلمندی نے اپنا اصل مقام و مرتبہ پایا اور انسان کو مختلف اور متضاد مراسم عبودیت سے نجات ملی ۔ پھر انسان نے بت پرستی کے خلاف جہاد شروع کیا اور اس کی تمام شکلوں کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا ۔ اس کے بعد زندگی کے تمام نشیب و فراز میں اس کا پیچھا کیا ‘ دل کی گہرائیوں ‘ عبادت کے طریقوں ‘ زندگی کی رسومات اور نظام قانون اور نظام حکومت ہر جگہ سے بت پرستی کا قلع قمع کردیا گیا ۔ افکار جاہلیت میں سے یہ ایک ٹیڑھی فکر تھی ‘ جس کا قرآن کریم یہاں علاج کر رہا ہے تاکہ اسے سیدھا کر دے ‘ دیا جلا کر اس ٹیڑھی راہ کو روشن کر دے اور فکر ونظر کے اسلامی اصولوں کا دیا جلا دے ۔ اصول شریعت اور اصول نظام زندگی ۔ (آیت) ” مَا جَعَلَ اللّہُ مِن بَحِیْرَۃٍ وَلاَ سَآئِبَۃٍ وَلاَ وَصِیْلَۃٍ وَلاَ حَامٍ وَلَـکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّہِ الْکَذِبَ وَأَکْثَرُہُمْ لاَ یَعْقِلُونَ (103) ” اللہ نے نہ کوئی بحیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبہ نہ وصیلہ اور نہ حام ۔ مگر یہ کافر اللہ پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بےعقل ہیں ۔ یہ جانوروں کی اقسام تھیں جنہیں وہ اپنے الہوں کے لئے چھوڑ دیتے تھے ۔ ان کی کچھ خاص شرائط ہوتی تھیں اور یہ شرائط انہوں نے فکر ونظر کی تاریخ کے تہ بہ تہ پردوں ادہام اور خرافات سے اخذ کی تھیں ۔ بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام کیا تھے ؟ اور ان کے بارے میں جو ادہام و خرافات عربوں میں رائج تھے ان کا مصدر اور منبع کیا تھا ؟ ان کی تعریف میں روایات مختلف ہیں۔ بعض روایات کا یہاں نقل کرنا مناسب ہوگا ۔ زہری نے سعید ابن مسیب سے یہ روایت کی ہے ۔ بحیرہ اونٹوں میں سے وہ قسم ہوتی ہے جس کا دودھ مالک خود استعمال نہیں کرتا تھا ۔ یہ صرف الہوں کے لئے ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ الہوں کا مال مذہبی پیشواؤں ہی کے لئے ہوتا ہوگا ۔ سائبہ وہ ہے جو وہ اپنے بتوں کی نذر کرتے تھے ۔ وصیلہ وہ ہوتی تھی جس کا پہلی بار کا بچہ مادہ ہو پھر دوبارہ بھی بچہ مادہ ہو یعنی دونوں کے درمیان اتصال ہوگیا ۔ یعنی درمیان میں نر پیدا نہ ہوا ۔ ایسی اونٹنی کو وہ بتوں کے نام پر ذبح کردیتے تھے اور حام اس اونٹ کو کہتے تھے کہ جس کی نسل سے کئی بچے پیدا ہوئے ہوں ۔ اس کی تعداد مقرر تھی جب وہ اس تعداد تک پہنچ جاتا تو اسے حام اس لئے کہتے تھے کہ اس نے اپنی پشت کو مزید استعمال سے بچا لیا ۔ اب اس پر سوار نہ ہوتے ۔ اہل لغت کہتے ہیں : بحیرہ وہ اونٹنی ہے جس کے کان پھاڑتے تھے ۔ وہ کہتے (بحرت اذن الناقہ بحرا) (میں نے اپنی اونٹنی کے کان پھاڑ دیئے) ایسی اونٹنی کو بحورہ بھی کہتے تھے اور بحیرہ بھی ۔ اور یہ کان آخری حصے تک پھاڑ دیئے جاتے تھے اور بحر کو بھی بحر اس لئے کہتے ہیں کہ یہ وسیع ہوتا ہے ۔ اہل جاہلیت کے نزدیک بحیرہ کا گوشت کھانا حرام ہوتا تھا اور اسے بحیرہ اس طرح قرار دیتے کہ جب وہ پانچویں بار بچہ دے اور وہ نر ہو ۔ اب وہ اس کے کان پھاڑ دیتے اس کا گوشت حرام قرار دے دیتے اور اس کی قربانی اور اس پر سواری ممنوع ہوتی ۔ کوئی شخص اسے اپنے پانی سے نہ روکتا اور کوئی شخص اسے اپنی چراگاہ سے بھی نہ روکتا ۔ سائبہ وہ اونٹنی ہوتی جسے پن کردیا جائے اور اسے مسیبہ بھی کہتے ہیں ۔ جاہلیت کے زمانے میں اگر کوئی نذر مانتا کہ وہ سفر سے خیرت سے لوٹا یا بیماری سے تندرست ہوا تو وہ یہ نذر دے گا ۔ تو وہ کہتا میری اونٹنی سائبہ ہوئی ‘ حرمت اور آزادانہ چرنے چگنے میں وہ بھی بحیرہ کی طرح ہوتی ۔ اور وصیلہ کے بارے میں بعض اہل لغت نے یہ لکھا ہے کہ اگر بکری کے دو بچے ہوں ایک نر ہو اور دوسرا مادہ ہو تو عرب کہتے ہیں کہ اس مادہ نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر ولادت کی تو وہ اس بکری کو ذبح نہ کرتے تھے ۔ بعض کہتے تھے کہ اگر بکری مادہ جنے تو یہ ان کی ہے ۔ اور اگر نہ جنے تو وہ اسے اپنے الہوں کے نام ذبح کردیتے تھے اور اگر نر اور مادہ دونوں یکجا پیدا ہوں تو کہتے کہ چونکہ یہ بھائی بہن اکٹھے ہوئے ہیں اس لئے وہ بکری کو ذبح نہ کرتے ۔ حام وہ اونٹ ہوتا جس کے نطفے سے دس بچے پیدا ہوتے تو اس کے بارے میں وہ کہتے کہ اس نے اپنی پیٹھ کو بچا لیا ہے اس لئے وہ اس کو چراگاہ اور پانی سے نہ روکتے ۔ “ (دیکھئے احکام القرآن جصاص) ان جانوروں کی تعریف کے بارے میں اور بھی کئی روایات وراد ہیں اور ان کے پیچھے بس یہی تصور ہے جو اوپر ہم نے ذکر کیا ۔ ان جانوروں کے تقدس کے لئے ان اسباب سے کوئی ارفع اور معقول سبب کسی روایت میں نہیں آیا ہے ۔ جیسا کہ درج بالا اقتباس سے معلوم ہوگا یہ تمام اسباب بت پرستی اور جاہلیت کے ادہام اور اندھیروں کا نتیجہ تھے جب فیصلے ادہام اور تاریک خیالی کے زاویے سے ہوتے تو پھر وہم پرستی اور تاریک خیالی کی نہ کوئی حد رہتی ہے اور نہ کوئی اصول اور میعار رہتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں چند مذہبی رسومات پیدا ہوجاتی ہیں کبھی ان رسومات میں کمی آجاتی ہے اور کبھی اضافہ ہوجاتا ہے ۔ یہ اصول جاہلیت عربیہ کے اندر بھی رائج تھا اور یہی صورت ہر دور اور ہر جگہ واقعہ ہو سکتی ہے ۔ جب بھی توحید سے لوگ ہٹیں گے وہ ایسی ہی وہمیات کا شکار ہوں گے اس لئے کہ توحید ہی وہ نظریہ ہے جس میں نہ ٹیڑھ ہے اور نہ تاریکی ہے ۔ تمام جاہلی نظاموں میں رسوم وتوہمات کی ظاہری شکلیں تو مختلف ہوتی ہیں لیکن خلاصہ یہ ہوتا ہے کہ بنیاد تاریک خیالی پر ہوتی ہے یعنی زندگی کے معاملات میں اللہ کے سوا کسی اور جگہ سے ہدایات لینا ۔ جاہلیت کسی مخصوص زمانے کا نام نہیں ہے بلکہ جاہلیت ایک صورت حال کا نام ہے جو بار بار رنگ بدل کر سامنے آتی رہتی ہے ۔ مختلف شکلوں میں آتی ہے ۔ مختلف ادوار میں آتی ہے ۔ اب صورت حال یا تو ایسی ہوگی کہ ایک اللہ حاکم ہوگا اور اس کے مقابلے میں تمام مخلوق اس کی غلام اور محکوم ہوگی ۔ ہر قسم کا اقتدار اللہ کے لئے ہوگا ‘ شعور وفکر اللہ سے لیا گیا ہوگا ‘ نیت اور عمل اللہ کے حوالے سے ہوگا ۔ نظم ونسق اور اجتماعی طور طریقے اللہ کی مرضی سے ہوں گے ۔ اقدار اور پیمانے اللہ کے تصور سے وضع ہوں گے ‘ قوانین اور ضوابط اللہ کے نافذ ہوں گے ۔ اور تمام تصورات فلسفے اور ہدایات اللہ ہی سے اخذ ہوں گے یا پھر جاہلیت ہوگی ‘ کسی بھی رنگ دھنگ میں ‘ اس میں بندہ بندے کا غلام ہوگا یا بندہ اللہ کے سوا کسی اور مخلوق کا غلام ہوگا ‘ اس جاہلیت کے نہ حدود ہوں گے اور نہ ضابطے ہوں گے اس لئے کہ کوئی انسان کوئی ایسا ضابطہ بنا ہی نہیں سکتا جسے الہی ضابطہ اور اصول کہا جاسکے اس لئے کہ عقل انسانی پر بیشمار چیزیں اثرات ڈال دیتی ہیں ہر دور میں جب انسان نے کوئی تصور اور کوئی نظم دینے کی کوشش کی ہے وہ بیشمار عوامل سے متاثر ہوا ہے اور وہ مختلف اطراف سے پریشر اور دباؤ کا مقابلہ نہیں کرسکا ‘ جب تک کہ وہ موزوں ترین ضابطے کے سامنے جھکا نہیں ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم کے اس بیان اور توضیح کو چودہ سو سال گزر گئے ہیں اور جب بھی عقل انسانی نے عقیدہ توحید سے روگردانی کی وہ پچیدہ راہوں میں گم ہوگیا اور بھول بھلیوں میں پھنس کر رہ گیا ۔ وہ مختلف متعدد اور متفرق ارباب کا معتقد ہوتا رہا ۔ اس نے اپنی آزادی ‘ اپنی شرافت اور اپنی قوت مقابلہ سے ہاتھ دھویا ۔ صرف اس زیر بحث مسئلہ تقدس حیوانات ہی کو اگر لیا جائے تو آج بھی مصر کے اندر دسیوں خرافات ملیں گے جن میں بعض حیوانات کو تقدس کے خیال سے چھوڑ دیا جاتا ہے اور یہ بعض اولیاء اور مقدس لوگوں کے نام پر ‘ بعینہ اسی طرح چھوڑ دیئے جاتے ہیں جس طرح قدیم زمانوں میں الہوں کے نام پر حیوانات چھوڑے جاتے تھے ۔ ان مراسم عبودیت اور جاہلیت کے مسئلے کا تعلق صرف ایک اصول کے ساتھ ہے اور یہ اصول نقطہ آغاز ہے ۔ اس نقطے سے دو راستے نکلتے ہیں یا تو اسلام کا راستہ ہوگا اور یا جاہلیت کا ، نقطہ یہ ہے کہ لوگوں کی زندگیوں میں حاکمیت کس کی چلے گی ؟ اسلامی شریعت کے مطابق حاکمیت اللہ کی ہوگی یا غیر اللہ کی حاکمیت ہوگی اور لوگ اپنے لئے احکام اور طریقے خود وضع کر رہے ہوں گے یا وہ مراسم عبودیت اور اقداروپیمانے خود متعین کریں گے ۔ دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ لوگوں پر الوہیت اللہ کی ہوگی یا اللہ کی مخلوق میں سے کسی اور کی ہوگی ۔ غیر اللہ میں سے جو بھی اللہ کی حاکمیت کا دعویدار بن جائے گا بس وہ الہ تصور ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کا غاز ہی اس مضمون سے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان مراسم کی اجازت نہیں دی ہے اگر اللہ نے بحیرہ ‘ سائبہ وصیلہ اور حام جیسے مراسم کی منظوری نہیں دی ہے تو سوال یہ ہے کہ پھر کس نے یہ نام نہاد جانور حرام کئے ہیں ۔ (آیت) ” مَا جَعَلَ اللّہُ مِن بَحِیْرَۃٍ وَلاَ سَآئِبَۃٍ وَلاَ وَصِیْلَۃٍ وَلاَ حَامٍ ۔ (5 : 103) ” اللہ نے بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام نامی جانوروں کو وہ حیثیت نہیں دی “۔ اور وہ لوگ جو اس شریعت اور قانون کی اطاعت کرتے ہیں وہ کفار ہیں ‘ یہ لوگ اس لئے کفار ہیں کہ یہ لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ۔ کبھی وہ خود اپنی طرف سے ایک بات بناتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی شریعت ہے اور کبھی وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے معاملات کے اندر اللہ کی شریعت کا دخل قبول نہیں کرتے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے نافرمان نہیں ہیں ۔ یہ سب کفر ہے ۔ (آیت) ” وَلَـکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّہِ الْکَذِبَ وَأَکْثَرُہُمْ لاَ یَعْقِلُونَ (103) ” مگر یہ کافر اللہ پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بےعقل ہیں “۔ مشرکین عرب کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہیں اور یہ دین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ کی طرف سے نازل ہوا تھا ۔ یہ لوگ اللہ کی ذات کے منکر نہ تھے ‘ بلکہ وہ ذات باری کے وجود کا اعتراف کرتے تھے ۔ وہ اللہ کی قدرت کے بھی معترف تھے اور اس بات کا بھی اعتراف کرتے تھے کہ اللہ ہی متصرف فی الامور ہے ۔ لیکن ان اعتراضات کے باوجود وہ اپنے لئے قوانین خود بناتے تھے اور اس کے بعد وہ یہ یقین کرتے تھے کہ یہ قوانین اللہ کی جانب سے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کافر بن گئے اور یہ بات ان تمام لوگوں پر صادق آئے گی جو کسی بھی وقت جاہلیت میں زندگی بسر کرتے ہوں اور اپنے لئے قانون خود بناتے ہوں ۔ پھر وہ یہ گمان کرتے ہوں کہ یہ اللہ کی شریعت ہے۔ اللہ کی شریعت تو ہی ہے جو کتاب اللہ کے اندر موجود ہے ۔ جو اللہ نے اتاری اور نبی نے بیان کی ۔ وہ نہ مبہم ہے اور نہ پیچیدہ ہے ۔ اللہ کی شریعت اس بات کی متحمل نہیں ہے کہ اپنی جانب سے شریعت کے اوپر افتراء باندھے اور یہ زعم کرے کہ وہ شریعت ہے یا کتاب اللہ ہے جیسا کہ جاہلیت کے پیروکاروں کا وطیرہ ہوتا ہے کہ وہ خود ایک شریعت بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ ایسے دعوے کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کفر کے ساتھ متصف کرتا ہے اور کافر کہنے کے بعد ایسے لوگوں کو اللہ بےعقل بھی کہتا ہے اس لئے کہ وہ عقلمند ہوتے تو اللہ پر افتراء نہ باندھتے ۔ اگر وہ عقلمند ہوتے تو یہ گمان نہ کرتے کہ ان کا یہ افتراء چل سکے گا ۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے قول وفعل میں بھی تضاد ہے ۔ (آیت) ” وَإِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْاْ إِلَی مَا أَنزَلَ اللّہُ وَإِلَی الرَّسُولِ قَالُواْ حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْْہِ آبَاء نَا أَوَلَوْ کَانَ آبَاؤُہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ شَیْْئاً وَلاَ یَہْتَدُونَ (104) ” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس قانون کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور آؤ پیغمبر کی طرف تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لئے تو بس وہی طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ۔ کیا یہ باپ دادا ہی کی تقلید کئے چلے جائیں گے خواہ وہ کچھ نہ جانتے ہوں اور صحیح راستہ کی انہیں خبر ہی نہ ہو ؟ “۔ اللہ تعالیٰ نے جو شریعت نازل کی ہے وہ واضح ہے ۔ وہ قرآن کریم اور سنت رسول کی شکل میں ریکارڈ ہے ۔ یہی وہ معیار ہے ‘ اور یہی وہ یونٹ ہے جس سے اسلام اور جاہلیت کے راستے جدا ہوتے ہیں ۔ ایک ہے ایمان کا راستہ اور دوسرا ہے کفر کا راستہ ۔ اس جہاں میں یا تو صورت حال یہ ہوگی کہ لوگوں کو ما انزل اللہ کی طرف ‘ دعوت دی جائے گی اور وہ اس پر لبیک کہیں گے اور اس صورت میں وہ مسلمان کہلائیں گے یا وہ اس دعوت کا انکار کریں گے ‘ اس صورت میں وہ کافر ہوں گے اور ان دو صورتوں کے درمیان کوئی تیسری صورت نہیں ہے ۔ یہ لوگ ایسے تھے کہ جب انہیں اللہ اور رسول اللہ کی طرف دعوت دی جائے تو یہ کہتے ہیں ہمارے لئے وہی راستہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ۔ یہ لوگ اس طرح بندوں کے وضع کردہ قوانین کی اطاعت کرنے لگے اور انہوں نے ان قوانین کو ترک کردیا جو بندوں کے رب نے وضع کئے تھے انہوں نے آزادی کے اس نعرے کو ترک کردیا ‘ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ انسانوں کی غلامی کو ترک کر دو اور عقل وضمیر کی پیروی اختیار کرو چاہے یہ عقل وضمیر ان کی اپنی ہو یا آباؤاجداد کی ہو۔ اس کے بعد قرآن مجید ان کے موقف پر تعجب اور تاسف کا اظہار کرتا ہے ۔ (آیت) ” أَوَلَوْ کَانَ آبَاؤُہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ شَیْْئاً وَلاَ یَہْتَدُونَ (104) ” اگرچہ ان کے آباؤ اجداد کسی چیز کو نہ سمجھتے ہوں اور نہ ہی راہ ہدایت پر ہوں “۔ اس استفہام کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ آباؤ اجداد کے اتباع سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ وہ عقلمند نہیں ہیں اور اگر عقلمند ہوں تو پھر آباؤ اجداد کی اطاعت جائز ہے اور اس صورت میں اللہ اور رسول اللہ کے احکام کو ترک کرنا جائز ہے ۔ یہ بات نہیں ہے بلکہ اس اظہار تعجب میں محض ان کی واقعی صورت حال کو بیان کرنا مطلوب ہے کہ اس سے قبل ان کے آباؤ اجداد نامعقول باتوں کو مانتے تھے ۔ اس لئے کہ ان کے آباء پھر اپنے آباء کو ماننے والے تھے اور ان آباء نے بھی خود اپنے لئے قواعد و ضوابط وضع کئے تھے اور شریعت الہی کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص اپنے آباء اور اجداد کے رسم و رواج کا اتباع کرتا ہے تو وہ یقینا بےعقل ہے اور رہا ہدایت پر نہیں ہے ۔ چاہے وہ اپنے آپ اور اپنے قوانین کے بارے میں جو چاہے کہے ۔ جبکہ اللہ بہت ہی علیم وخبیر ہے اور سچا ہے اور اللہ تعالیٰ کا حکم بہرحال یہی ہے کہ یہ لوگ کچھ بھی نہیں جانتے اور یہ اللہ کی شہادت ہے ۔ جو شخص اللہ کی شریعت سے حکم عدولی کرتا ہے وہ جاہل بھی ہے اور گمراہ بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ پر افتراء باندھنے والا اور کافر بھی ہے ۔ اہل کفر کے اقوال وافعال کے بیان کے اختتام کے بعد اب روئے سخن ان لوگوں کی طرف مڑ جاتا ہے جو ایمان لائے ہیں ۔ یہاں اہل کفر سے ان کی مکمل علیحدگی کردی جاتی ہے اور ان کو ممیز کردیا جاتا ہے ۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ تمہارے فرائض اور واجبات کیا ہیں اور یہ کہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ان کا موقف کیا ہے اور یہ کہ وہ اللہ کے سپرد ہیں اور ان کی زندگیاں اس فانی دنیا کے سپرد نہیں ہیں ۔ نہ ان کا مقصد ان دنیا کے مفادات کا حصول ہے ۔