5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 5:68

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

صاف کہہ دو کہ ” اے اہل کتاب ‘ تم ہر گز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں ، ضرور ہے کہ یہ فرمان جو تم پر نازل کیا گیا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھا دے گا ۔ مگر انکار کرنے والوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کرو ۔ (یقین جانو کہ یہاں اجارہ کسی بھی نہیں ہے)

(آیت) ” ْ وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْراً مِّنْہُم مَّا أُنزِلَ إِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ طُغْیَاناً وَکُفْراً فَلاَ تَأْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ (68) ” ضرور ہے کہ یہ فرمان جو تم پر نازل کیا گیا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھا دے گا ۔ مگر انکار کرنے والوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کرو۔ ان ہدایات کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے داعی کے لئے منہاج دعوت کے نقوش متعین فرما دیئے اور یہ بھی بتادیا کہ اس کی حکمت کیا ہے ۔ جو لوگ ہدایت قبول نہیں کرتے اور کفر وسرکشی میں مزید آگے بڑھتے ہیں ۔ ان کے بارے میں آپ کی دلجوئی بھی فرمادی کہ یہ لوگ تو اس انجام کے مستحق ہوگئے ہیں ‘ اس لئے کہ ان کے دل سچی بات کے متحمل ہی نہیں ہوتے ۔ ان کے دلوں کی گہرائیوں سے سچائی کا مادہ ختم ہوچکا ہے ۔ اس لئے ان لوگوں کے سامنے کلمہ حق ببانگ دہل کہہ دیا تاکہ ان کے دلوں کی گندگی ظاہر ہوجائے اور وہ مزید کفر وسرکشی میں آگے بڑھ جائیں اور سرکشوں اور کفروں کے انجام تک پہنچ جائیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب کی کچھ دینی حیثیت نہیں ہے اگر وہ تورات ‘ انجیل اور ما انزل اللہ کو قائم نہیں کرتے ۔ اور نتیجۃ ” دین جدید میں داخل نہیں ہوجاتے ‘ جیسا کہ اس آیت اور متعدد دوسری آیات میں حکم دیا گیا ہے ۔ اور اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو نہ مومن ہوں گے اور نہ کسی سماوی دین پر ہوں گے اور نہ ایسے دین والے ہوں گے جسے اللہ قبول کرے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے ۔ کہ حضور ﷺ کی اس انداز کی تبلیغ سے یہ لوگ مزید سرکشی اور کفر میں مبتلا ہو رہے تھے لیکن اس کے باوجود حضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ وہ کھل کر اعلان کردیں اور اس سلسلے میں کوئی توریہ نہ کریں اور نہ نتائج سے گھبرائیں ۔ جب یہ ایک فیصلہ کن بات ہے اور اسے فیصلہ کن الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے کہ (لستم علی شیء ‘) (5 : 68) تو اب اہل کتاب کو اہل دین کہنے کی سرے سے گنجائش ہی نہ رہی اور نہ اس بات کی گنجائش رہی کہ اہل اسلام اہل کتاب سے دوستی اور موالات کے تعلقات استوار کریں چہ جائیکہ ان کے ساتھ مل کر ملحدین اور الحاد کے خلاف محاذ بنائیں جیسا کہ آج کل ہمارے بعض فریب خوردہ اور فریب کار اہل ثقافت ایسا کرتے ہیں ۔ اہل کتاب نے نہ تورات کو قائم کیا ‘ نہ انجیل کو قائم کیا اور نہ ان دوسری تعلیمات کو قائم کیا جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں اس لئے کوئی مسلمان ان کی کسی دینی حیثیت کا اعتراف نہیں کرسکتا ۔ نہ کوئی مسلمان ان کو وہ حیثیت دے سکتا ہے جو اللہ نے انکو نہیں دی ۔ ” اور کسی مومن اور کسی مومنہ کی یہ شان نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ کسی امر کا فیصلہ کردیں تو پھر ان کو اس امر میں کوئی اختیار ہو ۔ “ یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اسے کسی قسم کے ” ظروف واحوال “ نہیں بدل سکتے ۔ جب ہم یہ طے کردیں کہ اللہ کی بات فیصلہ کن ہے جیسا کہ وہ فی الحقیقت حق اور فیصلہ کن ہے تو ہمیں یہ بات خاطر میں نہیں لانا چاہئے کہ ہمارے اس اعلان حق سے اہل کتاب کے اندر کس قدر ہیجان پیدا ہوتا ہے اور وہ ہمارے خلاف کس قدر شدید جنگ شروع کرتے ہیں ۔ نہ ہمیں یہ کوشش کرنا چاہئے کہ ہم ان کی دوستی حاصل کرنے کے لئے سعی کریں اور ان کی دینی حیثیت کا اعتراف کریں یا انہیں راضی کرکے اور ان کے ساتھ باہم نصرت اور موالات کا معاہدہ کریں اور پھر ہم دونوں ملتیں مل کر کفر والحاد کا مقابلہ کریں جبکہ ان کا دین کوئی چیز ہی نہیں ہے ۔ اللہ تو ہمیں ایسی کوئی ہدایت نہیں دے رہا ہے اور نہ اللہ کو یہ بات قبول ہے کہ ہم اہل کتاب کی دینی حیثیت کا اعتراف کریں ۔ اللہ تعالیٰ ہماری اس موالات اور باہم نصرت کے فعل کو بھی معاف نہیں کرے گا ۔ نہ یہ سوچ قابل معافی ہے جس کے نتیجے میں یہ موالات وجود میں آتی ہے۔ کیونکہ اس صورت میں ہم وہ فیصلہ کریں گے جو اللہ نہیں کیا اور اپنے لئے وہ کچھ اختیار کریں گے جو اللہ نے نہیں کیا ہے ۔ اس طرح ہم یہ تسلیم کریں گے کہ اہل کتاب کے مسخ شدہ اور تحریف شدہ عقائد بھی دین ہیں اور یہ دونوں الہی دین ایک جگہ جمع ہو کر کفر کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ حالانکہ اللہ کا کہنا یہ ہے کہ وہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے جب تک کہ وہ تورات ‘ انجیل اور ان تمام ہدایت کو قائم نہیں کرتے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئیں ‘ اور ظاہر ہے کہ وہ عملا ایسا نہیں کر رہے ۔ اب ذرا ان لوگوں کو لیجئے جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اور ان کے رب کی طرف سے جو کچھ نازل ہوا ہے وہ اسے قائم نہیں کرتے ۔ یہ بھی ہمیشہ اسی طرح ہوں گے جس طرح اہل کتاب ہیں ۔ یہ بھی کچھ دینی حیثیت نہیں رکھتے ۔ اہل کتاب پر ایک کلام نازل ہوتا ہے اور وہ اسے اپنی زندگیوں میں نفاذ نہیں کرتے ‘ نہ اسے اپنے نفوس پر نافذ کرتے ہیں ۔ لہذا جو شخص مسلمان بننا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ وہ اسلام اور کتاب اللہ کو پہلے اپنے نفس میں قائم کرے ۔ اس کے بعد اپنی پوری زندگی پر قائم کرے اور پھر تمام ان لوگوں کے سامنے یہ اعلان حق کر دے کہ جو لوگ قرآن کو قائم نہیں کرتے ان کی کوئی دینی حیثیت نہیں ہے جب تک کہ وہ قرآن کو اپنی زندگیوں میں نافذ نہیں کرتے ۔ اگر وہ اس کے سوا دعوائے دین کرتے ہیں تو ان کے اس دعوے کی تردید اس دین کے رب فرما رہے ہیں ۔ لہذا اس معاملے میں ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ فیصلہ کن بات کرے ۔ اس قسم کے لوگوں کو از سر نو اسلام کی دعوت دینا ہر مسلمان پر واجب ہے بشرطیکہ اس نے اپنے نفس اور اپنی زندگی میں ماانزل اللہ کو قائم کردیا ہو۔ محض زبانی طور پر اسلام کا دعوی کرنا یا محض موروثی طور پر اسلام کا دعوی کرنا کوئی مفید مطلب بات نہیں ہے نہ اس اسلام وجود میں آتا ہے اور نہ حقیقت ایمان نفس کے اندر پیدا ہوتی ہے اور نہ ایسا شخص اللہ کے دین کے ساتھ متصف ہوگا ۔ ہر زمان ومکان میں اصول و فیصلہ یہ ہوگا۔۔۔۔۔۔ اگر اہل کتاب ان معنوں میں تورات وانجیل اور ما انزل اللہ کو قائم کردیں اور مسلمان ان معنوں میں قرآن کریم کو قائم کردیں تب وہ دین دار ہوں گے اور اہل کتاب بھی اپنے خیال کے مطابق دیندار ہوں گے ۔ ایسے حالات میں وہ کوئی معاہدہ کرسکتے ہیں اگر وہ کسی الحاد کے خلاف ورنہ دھوکہ ہوگا ‘ خودفریبی ہوگی اور خود اپنی دینی حیثیت کو پگھلا کر بہادینا ہوگا ۔ اللہ کا دین نہ کوئی جھنڈا ہے اور نہ کوئی یونیفارم ہے ‘ نہ کوئی وراثت ہے ‘ دین اسلام تو دل میں بیٹھتا ہے ‘ زندگی میں نمودار ہوتا ہے ۔ یہ کچھ نظریات ہیں جو دل کو بھر دیتے ہیں ‘ کچھ عبادات ہیں جو سرانجام دی جاتی ہیں اور ایک نظام ہے جو پوری زندگی پر متصرف ہوتا ہے ۔ دین اسلام تب قائم ہوتا ہے جب اس کے یہ تمام اجزاء ایک ساتھ کام کر رہے ہوں اور انسانوں کی زندگیوں میں جاری وساری ہوں ۔ اس کے سوا جو صورت بھی ہوگی اس میں اسلام کی ٹھوس شکل کو پگھلا کر بہانا مقصود ہوگا ۔ ضمیر کا فریب ہوگا اور کوئی پاک دل مسلمان اس فریب میں نہیں آسکتا ۔ ایک مسلمان کو تو چاہئے کہ وہ مذکورہ بالا حقیقت کا باآواز بلند اعلان کر دے اور جو نتائج اس کے نکلتے ہیں ‘ نکلیں ۔ اللہ ہے بچانے والا ۔ کافروں کو تو اللہ کبھی راہ راست نہیں دکھاتا ۔ ایک داعی اس وقت تک حق دعوت ادا نہیں کرسکتا اور اس وقت تک لوگوں پر اللہ کی جانب سے حجت قائم نہیں کرسکتا جب تک وہ ان تک دعوت کی پوری حقیقت اچھی طرح واضح نہیں کردیتا ۔ لوگوں پر اچھی طرح واضح نہیں کردیتا کہ وہ اس وقت کس پوزیشن میں کھڑے ہیں اور یہ بات وہ بغیر کسی مداہنت اور بغیر کسی لاگ لپیٹ کے کہہ نہیں دیتا ۔ اگر داعی لوگوں کو صاف صاف یہ نہیں کہتا کہ وہ کس مقام پر کھڑے ہیں ‘ وہ غلط ہے ‘ وہ باطل موقف پر جمے ہوئے ہیں وہ انہیں جس موقف کی طرف دعوت دیتا ہے وہ ان کے موجودہ موقف سے سراسر الگ ایک دوسری چیز ہے اور یہ کہ وہ ایک مکمل تبدیلی کی دعوت دیتا ہے ۔ وہ ایک طویل سفر اور طویل جدوجہد کی طرف بلاتا ہے ۔ وہ مکمل تبدیلی چاہتا ہے یہ ایک مکمل تبدیلی کی دعوت دیتا ہے ۔ وہ ایک طویل سفر اور طویل جدوجہد کی طرف بلاتا ہے وہ مکمل تبدیلی چاہتا ہے یہ تبدیلی ان کے افکار میں بھی ہے ‘ ان کے طور طریقوں میں بھی ہے ۔ ان کے نظام زندگی اور ان کے اخلاقی نظام میں بھی وہ مکمل تغیر چاہتا ہے ۔ گویا وہ انکو اذیت دیتا ہے اس لئے ایک داعی سے لوگوں کی توقع بھی یہ ہوتی ہے کہ وہ واضح طرح بتائے کہ لوگوں کا موجودہ موقف غلط ہے تاکہ جو انکار کرتا ہے وہ واضح طور پر انکار کر دے اور جو اقرار کرتا ہے وہ واضح اقرار کرے۔ جو مرتا ہے مرے اور جو زندہ ہوتا ہے وہ زندہ ہو ۔ جب ایک صاحب دعوت اور داعی شف شف کرتا ہے اور لوگوں کو صاف صاف نہیں بتاتا ہے کہ ان کی زندگی میں کیا کیا باطل ہے اور یہ کہ وہ حق کیا ہے جس کی طرف وہ دعوت دے رہا ہے اور یہ کہ دعوت حق اور ان کے موقف باطل کے درمیان حد فاصل کیا ہے ؟ اور یہ کام وہ محض مشکل ظروف واحوال کی وجہ سے کرتا ہے تو اس وقت گویا وہ لوگوں کو اذیت دیتا ہے اور ان کو فریب دیتا ہے کیونکہ وہ صاف بتا نہیں رہا ہے کہ وہ چاہتا کیا ہے ۔ دوسرا جرم وہ یہ کر رہا ہوتا ہے کہ اللہ نے اسے جو بات صاف صاف کہہ دینے کا حکم دیا ہے اس پر بھی وہ عمل نہیں کر رہا ہوتا ۔ لوگوں کے ساتھ دعوت میں اگر نرمی کی جاسکتی ہے تو وہ صرف اس امر میں کی جاسکتی ہے کہ وہ انداز نرم اختیار کرے ۔ بات پوری کرے مگر نہایت ہی سلیقے سے اور نرم انداز میں ۔ بات پوری ہو مگر سیلقہ مندی سے اور حکمت سے جس کی ہدایت حکم اور موعظہ حسنہ میں دی گئی ہے ۔ آج کل ہمارے بعض دوست یہ دیکھتے ہیں کہ اہل کتاب دنیا میں ایک بڑی تعداد میں بستے ہیں ۔ ان کے پاس بہت بڑی مادی قوت ہے ۔ پھر یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بیشمار بت پرست ہیں اور دنیا کے ممالک کے اندر ان کی بات بھی سنی جاتی ہے پھر جب یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ مادی نظریات کے حامل ممالک کے پاس بڑی قوت ہے ۔ نیز ان لوگوں کے پاس تباہ کن اسلحہ جات بھی موجود ہیں اور پھر یہ دوست جب دیکھتے ہیں کہ جو لوگ اسلام کا دعوی کرتے ہیں ان کے پاس کچھی بھی نہیں ہے ۔ اور ان کے پاس اللہ کی جو کتاب ہے وہ اسے نافذ نہیں کرتے تو ایسے لوگوں پر یہ بات نہایت ہی شاق گزرتی ہے ۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس قدر زیادہ لوگوں کو یہ حق بات کسی طرح کہیں کہ وہ سب گمراہ ہیں ۔ اتنی عظیم تعداد کو گمراہ کہنے کا فائدہ کیا ہے اور اس قدر عظیم آبادی کو کس طرح دین حق سمجھایا جاسکتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ طریق کار یہی ہے ۔ جاہلیت اگر پوری کائنات میں پھیل جائے تو بھی جاہلیت ہوگی ۔ اس دنیا کے عملی حالات چاہے جیسے بھی ہوں ‘ وہ اس وقت تک کچھ حیثیت نہیں رکھتے جب تک وہ حق پر استوار نہ ہوجائیں ۔ ایک داعی کے سامنے اگر لوگوں کی ایک بہت بڑی آبادی گمراہ کھڑی ہو تو اس کے فرائض میں کچھ کمی نہیں ہوتی ‘ نہ باطل کا حجم اور اس کا ڈھیر سا ہونا دعوت پر اثر انداز ہو سکتا ہے جس طرح اس دعوت کا آغاز ہوا تھا اور اس نے تمام انسانوں کو خطاب کیا تھا ‘ کہ وہ کچھ حیثیت نہیں رکھتے ‘ اسی طرح ہمیں آج بھی کام شروع کرنا ہوگا ۔ گردش ایام کے بعد بات وہی تک آپہنچی ہے ‘ جہاں حضور ﷺ کے دور میں تھی ۔ آپ ﷺ کو مبعوث فرمایا گیا تھا اور آپ کو اللہ نے پکارا تھا ۔ (آیت) ” یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک “۔ (5 : 67) ” اے پیغمبر ﷺ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو ‘ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا ‘ اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے ، یقین رکھو کہ وہ کافروں کو ہدایت کی راہ ہرگز نہ دکھائے گا ۔ صاف کہہ دو کہ ” اے اہل کتاب ‘ تم ہر گز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں ۔ اس حصہ آیات کا خاتمہ اس بات پر ہوتا ہے کہ اللہ کہا ہاں جو دین مقبول ہے وہ کیا ہے ۔ حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے لوگوں کی شناخت جو ہو سو وہ اور وہ چاہے جس دین پر بھی ہوں اور جس ملت کے بھی پیرو ہوں ‘ اب حکم یہ ہے ۔
Ayah 5:69

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

مسلمان ہوں یا یہودی ‘ صابی ہوں یا عیسائی ‘ جو بھی اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا بیشک اس کے لئے نہ کسی خوف کا مقام ہے نہ رنج کا ۔

الذین امنو سے مراد اہل ایمان مسلمان ہیں ۔ الذین ھادو سے مراد یہودی ہیں ۔ الصائبون سے مراد وہ طبقہ ہے جو بتوں کی عبادت نہ کرتا تھا یہ لوگ حضور ﷺ کی بعث سے پہلے موجود تھے اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے لیکن ان کا فرقہ کوئی متعین فرقہ نہ تھا ۔ اس قسم کے لوگ عرب میں معدودے چند تھے ۔ نصاری سے مراد عیسائی ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اتباع کا دعوی کرتے ہیں ۔ اس آیت میں فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ پہلے چاہے کوئی جس عقیدے اور دین پر بھی ہو ‘ اب اگر اللہ پر ایمان لائے گا آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک کام کرے گا اور یہاں اس میں ضمنا یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ اب نبی آخری الزمان ﷺ پر نازل شدہ شریعت پر بھی ایمان لائے جیسا کہ دوسری جگہوں پر تصریح کردی گئی ہے تو ایسے شخص کو نجات ملے گی اور اس کے لئے کوئی خوف ورنج نہ ہوگا ۔ اس بات کا کہ اس سے قبل وہ صحیح رہ پر نہ تھے ۔ ان سے ان کے سابق مذہب اور عنوان کے بارے میں نہ پوچھا جائے گا ۔ اعتبار آخری بات کا ہوگا ۔ یہ جو ہم کہتے ہیں کہ ضمنا یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی عقیدے کی ضرورت اور بدیہات میں یہ بات شامل ہے کہ حضرت محمد ﷺ خاتم النبیبن ہیں اور یہ کہ آپ کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا گیا ہے ۔ اور یہ کہ تمام لوگ چاہے ‘ ان کی ملت ‘ دین ‘ اعتقادات ‘ نسل اور وطن جو بھی ہو ان کو یہ دعوت دی جارہی ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائیں اور اپنے تصورات اور اپنی زندگیوں کو حضور اکرم ﷺ کی ہدایات کے مقابق ڈھالیں ۔ جو شخص آپ کو رسول ﷺ نہیں مانتا اور جو شخص اجمالا اور تفصیلا آپ پر ایمان نہیں لاتا وہ گمراہ ہے اور اس کا دین اور مسلک مقبول نہ ہوگا وہ اس اعلان کا مستحق نہ ہوگا ۔ (فلاخوف علیھم ولا ھم یحزنون “۔ (5 : 69) ” کہ انکے لئے نہ خوف کا مقام ہوگا اور نہ رنج کا “ یہ وہ بنیادی حقیقت ہے جو اس دین سے بطور لازمی نتیجہ برآمد ہوتی ہے ‘ اس لئے ایک سچے مسلمان کے لئے اس بارے میں شف شف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ خصوصا اس عظیم جاہلیت سے متاثر ہو کر جو اس کے سامنے پھیلی ہوئی ہے جاہلیت کے ساتھ تعلقات استوار کرتے ہوئے ایک مسلمان کو غافل نہیں ہونا چاہئے جو مختلف ملتوں اور مسلکوں میں بٹی ہوئی ہے ۔ مسلمان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ مجبور ہو کر اور متاثر ہو کر ان گمراہ ملتوں میں سے کسی کے پیروکاروں کو ” اہل دین “ سمجھے اور یہ سمجھے کہ ان کا دین عندا اللہ مقبول ہے اور یہ کہ اس کے ساتھ تعلق ولایت قائم ہو سکتا ہے ۔ اہل ایمان کا ولی اور ناصر فقط اللہ ہے اور جو شخص بھی اللہ کو ‘ اللہ کے رسول ﷺ کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں دوست بنائے گا تو اسے یقین رکھنا چاہئے کہ حزب اللہ ہی غالب رہے گی ۔ “ چاہے ظاہری حالات کتنے ہیں ناموافق نظر آئیں اور جو شخص بھی ایمان لائے اللہ پر ‘ اور یوم آخرت پر اور نیک عمل کرے اور یہ اس دین آخری کے اصولوں کے مطابق کرے تو اس کے رنج وخوف کا کوئی موقع نہ ہوگا ۔ نہ دنیا میں اس کے لئے خوف ہوگا اور نہ آخرت میں اس کے لئے کوئی خوف ہوگا ۔ جاہلیت کی تہ بہ تہ قوتوں سے بھی اسے کوئی ڈر نہ ہوگا اور نہ انہیں ایمان سے ڈر ہوگا ۔ اب تاریخ بنی اسرائیل کا ایک اور باب کھلتا ہے اور اس باب میں بتایا جاتا ہے کہ یہ یہودیوں کیوں اور کس طرح بےحقیقت ہیں ؟ اور کیوں ضروری ہے کہ ان کو دعوت اسلامی سے روشناس کردیا جائے اور ان کو اس دین جدید کی دعوت دی جائے تاکہ وہ اس دین کی پناہ گاہ میں داخل ہوجائیں۔ یہ باب اس لئے کھولا جاتا ہے کہ یہ معلوم ہوجائے کہ ان کی حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ وہ وہی جو تھے ۔ مقصد یہ ہے کہ اہل اسلام کی نظروں میں ان کا کوئی اعتبار ہی نہ رہے اور مسلمان اس امر پر توجہ ہی نہ دیں کہ ان کے ساتھ تعلق موالات قائم ہو سکتا ہے یا وہ ان کے ساتھ کوئی نصرت کرسکتے ہیں جب تک کہ وہ اس حال پر قائم ہیں اور سچائی کے مقابلے میں اپنا رویہ انہیں نے تبدیل نہیں کیا ۔
Ayahs 5:70–71

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے ۔ مگر جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول ‘ انکی خواہشات نفس کے خلاف کچھ لیکر آیا تو کسی کو انہوں نے جھٹلایا اور کو قتل کردیا ۔

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور اپنے نزدیک یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ رونما نہ ہوگا ۔ اس لئے اندھے اور بہرے بن گئے ، پھر اللہ نے انہیں معاف کیا تو ان میں سے اکثر لوگ اور زیادہ اندھے اور بہرے بنتے چلے گئے ، اللہ ان کی سب حرکات دیکھ رہا ہے ۔

(آیت) ” نمبر 70 تا 71۔ یہ ان کی قدیم تاریخ ہے ۔ حضور اکرم ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے جو موقف اختیار کیا وہ پہلا اور آخری موقف نہیں ہے ۔ یہ لوگ سرکشی اور روگردانی کے عادی مجرم ہیں ۔ یہ وعدہ خلافی کے پرانے خوگر ہیں ۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی خواہشات نفس ہی کو اپنا الہ اور حاکم مانا ہے ۔ کبھی انہوں نے اللہ کے دین اور رسول ﷺ کے آگے سرتسلیم خم نہیں کیا ۔ یہ لوگ ہمیشہ داعیان حق کے لئے سرکش اور ظالم رہے ۔ (آیت) ” لَقَدْ أَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ وَأَرْسَلْنَا إِلَیْْہِمْ رُسُلاً کُلَّمَا جَاء ہُمْ رَسُولٌ بِمَا لاَ تَہْوَی أَنْفُسُہُمْ فَرِیْقاً کَذَّبُواْ وَفَرِیْقاً یَقْتُلُونَ (70) ” ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے ۔ مگر جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول ‘ انکی خواہشات نفس کے خلاف کچھ لیکر آیا تو کسی کو انہوں نے جھٹلایا اور کو قتل کردیا ۔ بنی اسرائیل کی قدیم تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ انہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی تعلیمات سے روگردانی کی ۔ انہوں نے کئی ایک پر دست درازی کی اور کئی ایک کو قتل کردیا ۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی خواہشات ہی کی پیروی کی ۔۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی طویل داستانیں امت مسلمہ کو سنائیں تاکہ وہ بھی کہیں بنی اسرائیل کی راہ پر چل نہ نکلے ۔ تاکہ امت مسلمہ کو معلوم ہوجائے کہ اس راہ کی مشکلات کیا ہیں اور ان لوگوں کو جو فہم و فراست کے مالک ہیں اور جن کا تعلق باللہ قائم ہے وہ ان مقامات لغزش کا اچھی طرح ادراک کرلیں اور جب انہیں ویسے ہی حالات درپیش ہوں جو انبیائے بنی اسرائیل کو پیش آئے تو وہ ان سے حوصلہ پکڑیں اور یہ کہ آئندہ اہل اسلام کی آنے والی نسلیں بھی اسی راہ پر چلنے والی تھیں اور انہوں نے بھی عرصہ گزرنے کے بعد ویسی ہی سنگ دلی کا مظاہرہ کرنا تھا جو بنی اسرائیل نے کیا تھا ۔ انہوں نے بھی ہدایت کی راہ ترک کرکے اپنی خواہشات نفس کو الہ بنانا تھا ۔ آنے والے داعیان حق کو جھٹلانا تھا اور بعض کو قتل کرنا تھا بعینہ اسی طرح جس طرح بنی اسرائیل کے باغیوں اور نافرمانوں نے کیا تھا ۔ بنی اسرائیل کے یہ سرکش جب یہ سرکشیاں کر رہے تھے تو انہیں یقین تھا کہ ان پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آئے گا اور ان سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا ۔ یہ سوچ ان کی اس لئے پختہ ہوگئی تھی کہ وہ سنت الہیہ کو بھول گئے تھے اور وہ اس غرور میں گرفتار تھے کہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی پیاری قوم ہیں ۔ (آیت) ” وحسبوا الاتکون فتنہ فعموا وصموا “ (5 : 71) ” اور اپنے نزدیک یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ رونمانہ ہوگا ‘ اس لئے اندھے اور بہرے بن گئے ۔ “ ان کی آنکھوں کی بصارت چلی گئی ‘ اس لئے وہ جس کو بھی دیکھتے اسے نہ سمجھتے اور ان کے کانوں پر پردے پڑگئے ‘، اس لئے جو چیز بھی سنتے اس سے فائدہ نہ اٹھاتے تھے ۔ (آیت) ” ثم تاب اللہ علیھم “۔ (5 : 71) ” اس کے بعد اللہ نے انہیں پھر معاف کیا “۔ یہ اللہ خاص رحمت تھی مگر انہوں نے اس اک بھی کچھ پاس نہ کیا ۔ (آیت) ” ثم عموا وصموا کثیرا منھم “۔ (5 : 71) پھر وہ اندھے اور بہرے بن گئے ان سے اکثر لوگ “۔ (آیت) ” (واللہ بصیر بما یعملون) “۔ (5 : 71) اللہ انکی سب حرکات کو دیکھتا رہا ہے “۔ اس لئے وہ انہیں انکی تمام حرکات پر انکو جزاء دے گا اور وہ بچ نہ سکیں گے ۔ اہل ایمان کے لئے یہاں اس قدر کافی ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے بارے میں جان لیں اور اپنے جدید موقف کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں تاکہ اہل ایمان اس بات پر یکسو ہوجائیں اور ان کے ساتھ تعلق موالات کے بارے میں سوچنا ہی چھوڑ دیں ۔ جس طرح حضرت عبادہ ابن الصامت ؓ نے کہا کہ انہوں نے متنفر ہو کر تعلق موالات کے خاتمہ کا اعلان کردیا اور عبداللہ ابن ابی السلول جیسے منافقین نے اس تعلق کو جاری رکھا ۔ یہ تو تھے حالات یہودیوں کے ۔ رہے نصاری تو ان کے شب وروز بھی ایسے ہی تھے ۔ ان کے بارے میں بھی قرآن کریم ایک فیصلہ کن اور دو ٹوک تصرہ کرتا ہے ۔ اور یہ تبصرہ اس سورة کے موضوع اور مقصد کے ساتھ بالکل مناسب ہے ۔ اس لئے کہ قرآن یہاں اہل دین کو جو موقف دینا چاہتا ہے اس کے ساتھ یہی مناسب ہے ۔ اس سے پہلے اس سورة میں ان لوگوں کے بارے میں کہا گیا تھا جن کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ ہیں کہ یہ لوگ کافر ہیں ۔ اب اس بات کو یہاں دوبارہ دہرایا جاتا ہے کہ جن کا عقیدہ ہے کہ صرف عیسیٰ خدا ہیں یا جن کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تینوں میں سے ایک ہیں ۔ یہ دونوں کافر ہیں اور یہ کہ ان کے کفر پر یہاں حضرت مسیح (علیہ السلام) کے قول سے استدلال کیا گیا ہے ، ان کو خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ تعلیم دی تھی کہ خبردار اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو الہ نہ بناؤ ۔ آپ نے ان کو یہ تعلیم دی تھی کہ اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اور اس معاملے میں میں اور تم سب برابر ہیں ‘ آخر میں لوگوں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں ان غلط عقائد کو ترک کردیں اور ان کے بارے میں وہ عقائد اپنائیں جو اہل ایمان کے ہیں ۔
Ayah 5:72

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے حالانکہ مسیح نے کہا تھا کہ ” اے بنی اسرائیل ‘ اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ۔ “ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ۔

(آیت) ” نمبر 72 تا 76۔ اس سے پہلے ہم بیان کرچکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بیان کردہ عقیدہ توحید کے اندر یہ شرکیہ عقائد کب اور کس کانفرس کے ذریعہ داخل ہوئے ۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا عقیدہ وہی تھا جو اس کے دوسرے بھائی رسولوں کا تھا ‘ جو خالص توحید کے داعی تھے اور اس میں شمہ بھر شرک نہ تھا ۔ اس لئے کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد تمام رسالتوں کی بعثت کا مقصد توحید کی تبلیغ اور شرک کی تردید ہی تھا ۔ یہاں مختصرا ہم وہ عقیدہ درج کرتے ہیں جس تک یہ کانفرنسیں بالاتفاق پہنچیں اور اس کے بعد ان کے اوپر جو اختلافات مرتب ہوئے انکی تفصیلات پہلے گزر گئی ہیں ۔ نوفل ابن نعمت اللہ ابن جرجیس نصرانی کی کتاب ” سوسنہ سلیمان “ میں ہے کہ عیسائیوں کا وہ عقیدہ جس میں کسی کنیسہ کو اختلاف نہیں ہے اور جسے نیقیا کی مجلس نے بطور اصل عقیدہ طے کیا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ الہ صرف ایک ہے ‘ اب باپ الہ ہے جو سب پر کنڑول کرنے والے ہے ۔ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے ‘ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے ‘ جو چیز نظرآئے یا نہ آئے اس کا پیدا کرنے والا ہے ۔ پھر ایک رب واحد یسوع پر ایمان لانا ہے جو اکلوتا بیٹا ہے اور ایک باپ سے ہے اور یہ زمانوں سے پہلے نور سے پیدا ہوا ہے ۔ یہ بھی الہ ہے ‘ الہ حق سے ہے ‘ مولود ہے ‘ مولود ہے اور غیر مخلوق ہے ‘ اپنے جوہر میں باپ کے برابر ہے ‘ جس سے تمام مخلوقات پیدا ہوئی اور جس کی وجہ سے ہم انسان پیدا ہوئے اور یہ باپ ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے آسمان سے نازل ہوا۔ روح القدس کو اس کا درجہ ملا ۔ اور بیلاطس کے عہد میں کنواری مریم سے اس کا تولد ہوا ۔ انسان کی شکل میں آیا ۔ عہد بیلاطس میں سولی پر چڑھا ۔ دیکھ پہنچا ‘ قبر میں دفن ہوا اور مردوں سے تیسرے دن اٹھ کھڑا ہوا جیسا کہ کتابوں میں ہے ۔ آسمان کی طرف اٹھا اور رب کے دائیں طرف بیٹھا اور عنقریب اس کا نزول عزت ہوگا اور تمام زندوں کو دین میں داخل کرے گا ۔ اس کی بات ختم نہ ہوگی ۔ روح القدس اور باپ سے نکلنے والے خدا پر ایمان لانا ضروری ہے جو خدا کے ساتھ موجود ہے اور ان دونوں کے لئے سجدہ ہوتا ہے اور جو انبیاء کے ساتھ باتیں کرتا ہے ۔ “۔ ڈاکٹر پوسٹ اپنی کتاب تاریخ کنیسہ میں کہتے ہیں کہ ذات باری تین اقانیم سے عبارت ہے جو مساوی ہیں ۔ اللہ باپ ‘ اللہ بیٹا ‘ اللہ روح القدس ۔ بیٹے کے ذریعے لوگ باپ سے منسوب ہیں کہ وہ مخلوق ہیں ‘ بیٹے نے قربانی دی اور روح القدس پاک ہے ۔ “ اب یہ تصور کس قدر دشوار ہے کہ تین ایک بھی ہیں اور توحید اور تثلیث کا ایک ساتھ تصور کس قدر مشکل ہے ۔ نصاری کے لاہوتی مصنفین نے یہ تجویز کیا ہے کہ اس عقیدے کے عقلی پہلو پر غور وخوض کو ملتوی رکھا جائے ‘ اس لئے کہ عقل تو اسے سنتے ہی مسترد کردیتی ہے ۔ ان میں سے ایک پادری بوطر اپنے رسالہ ” اصول و فروع “ میں لکھتے ہیں ” ہم نے اپنی عقل کی طاقت کے مطابق اسے یوں سمجھا ہے اور آئندہ اسے ہم واضح طور پر سمجھ سکیں گے جب اللہ آسمانوں اور زمینوں کے رازوں سے پردہ اٹھا لے گا ۔ فی الحال اس قدر کافی ہے ۔ “ اللہ کا کہنا ہے کہ یہ تمام معقولات کفر ہیں ۔ اس لئے کہ ان تمام میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کو الہ مانا گیا ہے نیز تینوں میں سے ایک کہنا بھی کفر ہے ۔ لہذا اللہ کی بات کے بات کے بعد کوئی اور بات نہیں ہے ۔ اللہ کا فرمان واضح ہے ۔ (آیت) ” لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُواْ إِنَّ اللّہَ ہُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ وَقَالَ الْمَسِیْحُ یَا بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ اعْبُدُواْ اللّہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ إِنَّہُ مَن یُشْرِکْ بِاللّہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاہُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ أَنصَارٍ (72) ” یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے حالانکہ مسیح نے کہا تھا کہ ” اے بنی اسرائیل ‘ اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ۔ “ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے اسی طرح انہیں صاف صاف ڈرایا تھا مگر وہ باز نہ آئے ۔ آپ ﷺ کی وفات کے بعد وہ اسی غلطی میں پڑگئے تھے جس سے آپ نے انہیں متنبہ کردیا تھا ۔ حالانکہ آپ ﷺ نے صاف صاف بتایا تھا کہ اگر انہوں نے عقیدہ توحید کو چھوڑ کر شرک اختیار کیا تو وہ جنت سے محروم ہو کر جہنم کی آگ کے مستحق ہوجائیں گے ۔ انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے اس قول کو بھلا دیا ” اے بنی اسرائیل صرف اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ۔ “ اس قول کے مطابق آپ نے انہیں کہا تھا کہ اللہ کے سامنے میں اور تم برابر کے بندے ہیں اور اللہ جو سب کا رب ہے اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے ۔ یہاں قرآن کریم ان کے تمام کفریہ معقولات کا ذکر کرتا ہے ۔
Ayah 5:73

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:73 in the Quran reader

یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ۔ اگر یہ لوگ ان باتوں سے باز نہ آئے تو ان میں سے جس جس نے کفر کیا ہے اس کو درد ناک سزا دی جائے گی

(آیت) ” لَّقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُواْ إِنَّ اللّہَ ثَالِثُ ثَلاَثَۃٍ وَمَا مِنْ إِلَـہٍ إِلاَّ إِلَـہٌ وَاحِدٌ(5 : 73) یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے “۔ اور ان تمام باطل عقائد کی تردید کر کے یہ بتا دیتا ہے کہ تمام رسول جو عقیدہ لے کر آئے ہی وہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اور اگر عیسائی اپنے ان معقولات سے باز نہ آئے اور ذات باری اور ذات مسیح کے بارے میں ایسی ہی کفریہ باتیں کہتے رہے تو بعید نہیں کہ ان پر دردناک عذاب آجائے اور قیامت کا دن دور نہیں ہے ۔ (آیت) ” وَإِن لَّمْ یَنتَہُواْ عَمَّا یَقُولُونَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِنْہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ(73) ” اگر یہ لوگ ان باتوں سے باز نہ آئے تو ان میں سے جس جس نے کفر کیا ہے اس کو درد ناک سزا دی جائے گی “۔ اور اللہ کی اس تنبیہ کے باوجود کافروں نے ان معقولات سے توبہ نہ کی ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کن انداز میں کہہ دیا تھا کہ یہ کافر ہوگئے ہیں تو اس ترہیب کے ساتھ ساتھ اللہ ان کو ترغیب بھی دیتے ہیں کہ اللہ معاف کرنے والا ہے اگر اب بھی یہ لوگ باز آجائیں ۔
Ayah 5:74

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:74 in the Quran reader

پھر کیا یہ اللہ سے توبہ نہ کریں گے اور اس سے معافی نہ مانگیں گے ؟ اللہ بہت درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔

(آیت) ” أَفَلاَ یَتُوبُونَ إِلَی اللّہِ وَیَسْتَغْفِرُونَہُ وَاللّہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(74) ” پھر کیا یہ اللہ سے توبہ نہ کریں گے اور اس سے معافی نہ مانگیں گے ؟ اللہ بہت درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔ اور یہ اس لئے کہا گیا کہ توبہ کا دروازہ بندنہ ہو اور ہر کسی کو وقت ختم ہونے سے پہلے واپسی کا موقع ہو ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کا حقیقی مقام کیا ہے ؟ تو مضبوط منطقی انداز میں بتایا جاتا ہے کہ مسیح کون ہیں اس امید سے کہ شاید انکی فطرت سلیمہ مقام مسیح کے ادارک میں انکی مدد کرے ۔ اور مسیح کی حقیقت بتانے کے بعد اللہ تعالیٰ تعجب خیز انداز میں کہتے ہیں کہ اس کے باوجود یہ لوگ روگردانی کرتے ہیں ۔
Ayah 5:75

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 5:75 in the Quran reader

مسیح ابن مریم اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول تھا ‘ اس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے ‘ اس کی ماں راست باز عورت تھی اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے ۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے ساتھ حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں ‘ پھر دیکھو یہ کدھرالٹے پھرے جاتے ہیں ۔

(آیت) ” مَّا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُلُ وَأُمُّہُ صِدِّیْقَۃٌ کَانَا یَأْکُلاَنِ الطَّعَامَ انظُرْ کَیْْفَ نُبَیِّنُ لَہُمُ الآیَاتِ ثُمَّ انظُرْ أَنَّی یُؤْفَکُونَ (75) مسیح ابن مریم اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول تھا ‘ اس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے ‘ اس کی ماں راست باز عورت تھی اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے ۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے ساتھ حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں ‘ پھر دیکھو یہ کدھرالٹے پھرے جاتے ہیں ۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ صدیقہ کی زندگی میں کھانا ایک واقعی امر تھا ۔ زندوں کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت ہے کہ وہ کھانا کھاتے ہیں اور یہی حضرت مسیح اور ان کی والدہ صدیقہ ؓ کی بشریت پر سب سے بڑی دلیل ہے ۔ اور ان کی مابعد الطبیعیاتی تعبیرات کے مطابق ان کے ناسوت ہونے پر یہ بری دلیل ہے ۔ کھانا کھانا بیشک انسان کی جسمانی طلب اور جسمانی احتیاج کی دلیل ہے ۔ اور جو ذات زندہ رہنے کے لئے کھانے کی محتاج ہو وہ الہ کس طرح بن سکتی ہے ۔ اللہ تو بذات خود زندہ ہے ۔ بذات خود قائم ہے ‘ بذات خود باقی ہے ‘ وہ کھانا کھانے کا محتاج نہیں ہے اور کھانے کی قسم کی اشیاء نہ اللہ کی ذات میں داخل ہوتی ہے اور نہ خارج ہوتی ہیں ۔ اس سیدھی سادی حقیقت کو دیکھتے ہوئے اور صاف ستھری بات کو دیکھتے بات کو دیکھتے ہوئے چونکہ کوئی معقول انسان اس میں مجادلہ نہیں کرسکتا اس لئے اس کے ہوتے ہوئے ان کے موقف پر سخت تعجب کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس منطق سلیم سے پھر بھی منہ موڑتے ہیں ۔ ” دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں اور پھر ان کو دیکھو کہ یہ لوگ کدھر الٹے پھرے جارے ہیں ۔ “ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو الوہیت کا جامہ پہنانا چاہا ان کے لئے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی انسانی زندگی ہمیشہ تھکا دینے والی حقیقت رہی ۔ یہ بات آپ کی تعلیمات کے بھی خلاف تھی ‘ اس لئے یہ لوگ ہمیشہ بحث ومباحثے اور جدل وجدال میں مبتلا رہے ۔ اور عیسائیوں کی الہیت میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کی لاھوتیت اور ناسوتیت ہمیشہ لایخل مسئلہ رہی ۔ اب قرآن کی منطق سلیم کو ایک دوسرے زاویے سے ملاحظہ کے لئے پیش کیا جاتا ہے اور تعجب خیرا استکراہ کے ساتھ ۔
Ayah 5:76

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 5:76 in the Quran reader

ان سے کہو تم اللہ کو چھوڑ کر اس کی پرستش کرتے ہو جو نہ تمہارے لئے نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا ؟ حالانکہ سب کی سننے والا اور سب کچھ جاننے والا تو اللہ ہی ہے ۔

(آیت) ” قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّہِ مَا لاَ یَمْلِکُ لَکُمْ ضَرّاً وَلاَ نَفْعاً وَاللّہُ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (76) ” ان سے کہو تم اللہ کو چھوڑ کر اس کی پرستش کرتے ہو جو نہ تمہارے لئے نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا ؟ حالانکہ سب کی سننے والا اور سب کچھ جاننے والا تو اللہ ہی ہے ۔ یہاں قرآن کریم نے لفظ ” ما “ استعمال کیا ہے ۔ حالانکہ یہاں مسیح کے لئے لفظ من استعمال کی جانا چاہئے تھا ‘ تاکہ اس میں وہ تمام مخلوقات آجائیں جن چیزوں کی پوجا کی گئی ۔ ان میں ذوی العقول بھی شامل ہیں ۔ اور لفظ ” ما “ اس عام چیز کی اصل ماہیت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ان معبود اشیاء کی اصل ماہیت مخلوق ہے لہذا ان میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) روح القدس ‘ حضرت مریم صدیقہ (علیہ السلام) سب کے سب شامل ہوں گے اس لئے کہ اپنی ماہیت کے اعتبار سے یہ سب مخلوق ہیں ۔ چناچہ اس انداز تعبیر میں بھی ایک خاص اشاریت پائی جاتی ہے ۔ اور نتیجہ یہی نکلے گا کہ اللہ کی مخلوق میں سے کوئی عبادت کا مستحق نہ رہے گا ‘ جبکہ کوئی مخلوق نفع ونقصان کی مالک بھی نہ ہوگی ۔ (آیت) ” ھو السمیع العلیم “۔ (5 : 76) (وہ سننے والا اور جاننے والا ہے) یعنی وجہ ہے کہ وہ نفع ونقصان پہنچا سکتا ہے ۔ وہ اپنے بندوں کی پکاروں کو سنتا ہے ۔ وہ بندوں کی عبادت کو دیکھتا ہے ۔ وہ ان کے دلوں کے بھیدوں کو جانتا ہے ۔ ان کی اس پکارو عبادت کے پیچھے جو جذبہ ہے اس کا بھی اسے علم ہے اور اللہ کے سوا جس قدر اور مخلوق ہے وہ نہ سنتی ہے ‘ نہ جانتی ہے اور نہ قبولیت کی طاقت رکھتی ہے ۔ اب اس بحث کو اس جامع دعوت کے ساتھ ختم کیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ وہ اہل کتاب کے سامنے یہ تجویز رکھیں ۔
Ayah 5:77

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ Open ayah 5:77 in the Quran reader

اے اہل کتاب ‘ اپنے دین میں غلو نہ کرو اور ان لوگوں کے تخیلات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے خود گمراہ ہوئے اور بہتوں کو گمراہ کیا اور ” سواء السبیل “ سے بھٹک گئے ۔

(آیت) ” نمبر 77۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم میں غلو کرنے کی وجہ سے نصاری کے عقائد کے اندر خرافات داخل ہوئے اور اس کے بعد جب سلطنت روما کے حکمران عیسائیت میں داخل ہوئے تو انہوں نے اپنی بت پرستی کو عیسائیت کے اندر داخل کردیا ۔ اس کے مسائل کو حل کرنے کے لیے جو کانفرنسیں منعقد ہوئیں ان کے مندوبین نے بھی اللہ کے دین میں یہ غلط معقولات شامل کردیئے حالانکہ حضرت مسیح کو اللہ نے جو دین دے کر بھیجا تھا اور جس کی تبلیغ آپ ﷺ نے فرمائی تھی وہ بالکل صاف تھا ۔ قرآن مجید میں ہے ” اے بنی اسرائیل اللہ کی بندگی کرو جو میرا اور تمہار سب کا رب ہے ‘ بیشک جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو اللہ نے اس پر جنت کا داخلہ حرام کردیا ہے ۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہے ‘ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا ۔ “ یہ پکار بنی اسرائیل کو بچانے کی آخری کوشش ہے تاکہ وہ اختلافات ‘ انحرافات ‘ خواہشات نفس کے اتھاہ سمندر سے نکل آئیں ‘ جس کے اندر وہ لوگ گر گئے جو ان سے پہلے گزرے تھے ‘ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی راہ حق سے بھٹکایا ۔ مندرجہ بالا آیات کا یہ حصہ جو یہاں ختم ہوا اس پر ذرا دوبارہ غور کریں ۔ اس کے تین حقائق ہمارے سامنے آتے ہیں ۔ یہاں اجمالا ان کا تذکرہ ضروری ہے ۔ (1) ۔ یہاں حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نظام زندگی کے اندر اعتقادی تصورات کی درستی کے لئے کس قدر عظیم جدوجہد کی گئی ہے اور تمام اعتقادات کو خالص نظریہ توحید کی اساس پر استوار کیا گیا ہے ۔ اس کو بت پرستی کی تمام ملاوٹوں سے پاک کیا گیا ہے ۔ شرک کی ہوا بھی اسے لگنے نہیں دی ‘ جس طرح اہل کتاب کے عقائد کے اندر شرک داخل ہوگیا تھا ۔ اسلام نے لوگوں کو ذات باری کی حقیقت اچھی طرح سمجھائی ۔ اللہ کو اپنی ذات اور اپنی صفات میں منفرد قرار دیا گیا ‘ اور اس بات کی سختی سے نفی کی گئی کہ اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات میں کوئی اس کا شریک ہو سکتا ہے ۔ اعتقادی تصورات کی تصحیح کے اس شاندار اہتمام سے اور عقیدہ توحید کے فیصلہ کن بیان اور توضیح سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں صحیح عقائد کی کس قدر اہمیت ہے ‘ اور یہ کہ انسانی زندگی کی اصلاح میں درست عقائد کا کس قدر گہرا اثر ہوتا ہے ۔ نیز اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اسلام نے تمام اعمال کو صحیح اعتقادات پر موقوف کیا ہے اور تمام انسانی تعلقات کو عقائد سے مربوط کردیا گیا ہے ۔ (2) ۔ دوسری یہ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ قرآن نے ان لوگوں کے کفر کی تصریح کردی ہے جن کا عقیدہ یہ ہے کہ مسیح ابن مریم اللہ ہے یا جن کا عقیدہ یہ ہے کہ مسیح ابن مریم ‘ تین خداؤں میں سے ایک ہے ۔ اس تصریح کے بعد کسی مسلمان کے لئے جواز باقی ہی نہیں رہتا کہ وہ اہل کتاب کو دین پر سمجھے اس لئے کہ یہ لوگ ان عقاید کی وجہ سے خود اپنے دین کے بھی منکر ہوگئے ہیں ۔ اسلام اگر لوگوں کو اس بات پر مجبور نہیں کرتا کہ وہ جس دین پر ہیں اسے چھوڑ دیں تو اسلام یہ بھی نہیں کرتا کہ کسی ایسے شخص کو جو دین سے خارج ہوچکا ہو ‘ محض اسے خوش کرنے کے لئے یہ کہہ دے کہ وہ دین پر ہے اور یہ کہ اس کا دین اللہ کو مقبول ہے ‘ بلکہ اسلام ایسے لوگوں کے دین پر کفر کا اطلاق کرتا ہے اور کفر کبھی اللہ کا دین نہیں ہو سکتا ۔ (3) ۔ تیسری حقیقت جو پہلی دونوں حقیقتوں پر بطور لازمی نتیجہ مرتب ہوتی ہے یہ ہے کہ ان عقائد کے حاملین اہل کتاب اور اسلام کے بیان کردہ عقیدہ توحید کو تسلیم کرنے والے اہل اسلام کے درمیان کوئی تعلق موالات قائم نہیں ہو سکتا اس لئے کہ ایک مسلمان کا عقیدہ یہ ہے کہ اب دین صرف وہی ہے جس کی تعلیم حضرت محمد ﷺ نے دی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ بات کہ تمام ادیان کے پیروکاروں کو اتحاد کرکے کفر اور الحاد کا مقابلہ کرنا چاہئے ایک لغو بات ہوگی ۔ اسلامی زاویے سے اس بات کے اندر کوئی وزن نہ ہوگا ۔ جب اعتقادات کے اندر اس قدر فیصلہ کن جدائی اور دوری ہو تو دونوں فریقوں کا کسی بات پر متحد ہونا ممکن نہیں ہے اس لئے کہ دنیا میں ہر چیز کا قیام نظریات پر ہوتا ہے اور اسلام اس کا داعی ہے ۔ ا صل چیز نظریہ اور عقیدہ وہی ہوتا ہے ۔ آخر میں یہ بتایا جاتا ہے کہ انبیاء بنی اسرائیل کا موقف کفار بنی اسرائیل کے سلسلے میں کیا رہا ہے ؟ انکی تاریخ کی ایک دوسری فصل ۔ بتایا جاتا ہے کہ ذرا حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا تبصرہ بنی اسرائیل کے بارے میں کیا تھا ۔ اور اللہ نے بنی اسرائیل کی سرکشی اور نافرمانی کی وجہ سے ان کے اس موقف کو تسلیم کرلیا ۔ مزید یہ کہ ان کے اجتماعی فساد کی وجہ سے اور ان کی جانب سے اس اجتماعی فساد اور پکار پر مکمل سکوت اختیار کرنے کی وجہ سے اور پھر اس وجہ سے کہ یہ لوگ کفار کے ساتھ دوستی اور موالات کرتے تھے ‘ اللہ نے انہیں ملعون قرار دے دیا اور یہ فیصلہ کردیا کہ یہ لوگ جہنم میں رہیں گے ۔
Ayah 5:78

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ Open ayah 5:78 in the Quran reader

بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ان پر داؤد اور عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کی زبان سے لعنت کی گئی کیونکہ وہ سرکش ہوگئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے

(آیت) ” 78 تا 81۔ نظر آتا ہے کہ بنی اسرائیل کی تاریخ کفر ‘ معصیت اور لعنتی افعال سے اٹی پڑی ہے اور ان کی ہدایت اور ان کی نجات کے لئے جن انبیاء کو بھیجا گیا تھا انہیں نے آخر کار ان پر لعنت کی بارش کردی اور ان کو اللہ کی راہ ہدایت سے دھتکار دیا ۔ اللہ نے بھی انکی اس دعاء اور پکار کو قبول کرلیا ۔ اور ان پر لعنت لکھ دی اور قیامت تک وہ ملعون قرار پائے ۔ بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ‘ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی کتابوں کے اندر تحریف کی ۔ یہ وہی لوگ تھے جو اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے نہ کرتے تھے جیسا کہ اس سورة میں اور دوسرے مقامات پر قرآن مجید نے تصریح کی ہے ۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اس عہد کو توڑا جوان سے اللہ نے لیا تھا کہ وہ ہر رسول پر ایمان لائیں گے اور اس کے ساتھ تعاون کریں گے اور اس کی نصرت کریں گے ۔ (آیت) ” ذَلِکَ بِمَا عَصَوا وَّکَانُواْ یَعْتَدُونَ (78) ” کیونکہ وہ سرکش ہوگئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے ۔ “ بنی اسرائیل کی پوری تاریخ سرکشی اور زیادتیوں سے بھری ہوئی ہے ۔ ان کے تصورات عقائد اور طرز عمل میں ہر جگہ سرکشی اور زیادتیوں کی جھلکیاں نظر آتی ہیں اور قرآن کریم نے اس کی پوری تفصیلات دی ہیں ۔ سرکشی کرنا اور زیادتی کرنا بنی اسرائیل میں کوئی انفرادی فعل نہیں رہا تھا بلکہ ان کے معاشرے کی اجتماعی روایات ہی سرکشی اور زیادتی کے رنگ میں رنگی ہوئی تھیں ۔ پورے معاشرے کی یہ فطرت بنی گئی تھی اور پورا معاشرہ ان برائیوں کے ارتکاب کو دیکھتا اور خاموش رہتا اور ان کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھاتا ۔