Ayah 5:79(آیت) ” کَانُواْ لاَ یَتَنَاہَوْنَ عَن مُّنکَرٍ فَعَلُوہُ لَبِئْسَ مَا کَانُواْ یَفْعَلُونَ (79
” انہوں نے ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا ‘ برا طرز عمل تھا جو انہوں نے اختیار کیا تھا۔
سرکشی اور ظلم ہر معاشرے میں ہوتے رہتے ہیں اس لئے کہ ہر معاشرے میں شریر ‘ مفسد اور منحرف لوگ ہوتے ہیں ، یہ زمین کسی بھی وقت شروفساد سے خالی نہیں رہ سکتی ۔ معاشرے کے اندر ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی روش نرالی ہوتی ہے لیکن معاشرے کا اجتماعی مزاج شر اور منکر کو برداشت نہیں کرتا اور سرکشی اور ظلم کو معاشرے کے مسلمات قرار پانے کی اجازت نہیں دیتا ۔ اس لئے سرکشی اور ظلم کا ارتکاب کسی بیدار معاشرے کے اندر بڑا مشکل ہوتا ہے ۔ اسی طرح زندہ معاشروں کے اندر برائی کا ارتکاب مشکل ہوتا ہے اور معاشرہ اجتماعی طور پر شر کے خلاف رد عمل ظاہر کم ہوجاتے ہیں معاشرے کے اجتماعی بندھن مضبوط ہوتے ہیں اور برائی چند افراد کے اندر محدود ہوتی ہے ۔ معاشرہ ان کا پیچھا کر رہا ہوتا ہے اور انہیں جمنے نہیں دیتا ۔ ایسے حالات میں فحاشی اور منکر شائع نہیں ہوتے ۔ پھیلتے نہیں بلکہ سکڑتے ہیں اور یہ معاشرے کے اجتماعی ضمیر اور مزاج کی وجہ سے ہوتا ہے ۔
بنی اسرائیل کے اس اجتماعی منظر کو یہاں اس مکروہ شکل میں پیش کرکے اور اس پر تنقید کرکے قرآن ‘ اسلامی نظام جماعت کو یہ مشورہ دیتا ہے کہ اس کا ایک مضبوط اجتماعی وجود ہونا چاہئے اور اس وجود کے اندر اس قدر قوت دفاع ہونی چاہئے کہ وہ سرکشی اور ظلم کو برداشت ہی نہ کرے ‘ چہ جائیکہ وہ معاشرے کی ایک عام روش ہوجائے ۔ اسلامی معاشرے کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ اسے بڑی سختی سے سچائی پر قائم ہونا چاہئے اور باطل کے بارے میں سخت حساس ہونا چاہئے ۔ دین کے ذمہ داران کو چاہئے کہ وہ اس امانت کی حفاظت کریں جس کے وہ امین اور محافظ ہیں ۔ اور شر فساد سرکشی اور ظلم کی راہ روکیں اور اس معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں ۔ چاہے یہ شر ایسے حکام کی جانب سے ہو جن کا حکومت پر تسلط ہو یا ایسے سرمایہ داروں کی طرف سے ہو جنہوں نے دولت جمع کر کے اثر ورسوخ حاصل کرلیا ہو یا ایسے شرپسندوں کی طرف سے ہو جن کو معاشرے میں ایذا رسانی کی قوت حاصل ہو یا ایسے عوام کی جانب سے ہو جو بےراہ رو ہیں ۔ اسلامی نظام بہرحال خدائی نظام ہے اور اس کے خلاف اٹھنے والے بااثر ہوں یا بےاثر ہوں وہ سب باغی تصور ہوں گے ۔
اسلام اس فرض کی ادائیگی پر بہت ہی زور دیتا ہے ۔ اگر معاشرے کا اجتماعی وجود کسی شر کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا تو اسلام پورے معاشرے کو مجرم گردانتا ہے ۔ جس طرح ایک ایک فرد ذمہ دار ہے اسی طرح برائی کے خلاف اٹھنے کی ذمہ داری بھی پورے معاشرے پر عائد ہوتی ہے ۔
امام احمد (رح) نے حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی یہ روایت نقل فرمائی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” جب بنی اسرائیل نے برائیوں کا ارتکاب شروع کیا تو انکے علماء نے انہیں منع کیا ۔ وہ منع نہ ہوئے ‘ ان علماء نے بھی ان معصیت پیشہ لوگوں کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا اور انکے ساتھ کھانا پینا شروع کردیا ۔ اللہ نے سب کو باہم ملا دیا ۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ ان پر لعنت کی اس لئے کہ یہ لوگ سرکشی کرتے تھے اور ظلم کرتے تھے ۔ یہ بات کرتے وقت رسول ﷺ جو تکیہ سے ٹیک لگا کر لیٹے ہوئے تھے ‘ اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا :” نہیں ‘ خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان کو حق پر سختی سے مجبور کرو گے ۔ “
ابو داؤد نے حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی روایت نقل کی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” بنی اسرائیل میں جو پہلا نقص داخل ہوا وہ یہ تھا کہ ایک آدمی دوسرے سے ملتا تو کہتا : اے فلاں اللہ سے ڈرو اور جو کچھ تم کر رہے ہو ‘ اسے چھوڑ دو اس لئے کہ یہ جائز نہیں ہے ۔ پھر دوسرے دن اسے ملتا تو اس کی یہ بری بات اسے اس بات سے نہ روکتی کہ وہ اس کا ہم نوالہ اور ہم پیالہ بنے اور اس کا ہمنشین ہو ‘ جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے سب کو باہم ملا دیا۔ “ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا ” ملعون کردیا اللہ نے ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا ۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے ۔ “ لعن سے فاسقون تک ۔
اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا ” ہرگز نہیں تمہیں امر بالمعروف کرنا ہوگا اور نہی عن المنکر کرنا ہوگا اور تمہیں ظالم کا ہاتھ پکڑنا ہوگا اور تمہیں ان کو حق پر کھڑا کرنا ہوگا یا تمہیں انہیں سچائی پر مجبور کرنا ہوگا ۔ “ ‘
صرف امر اور نہی سے مسئلہ ختم نہیں ہوجاتا بلکہ اصرار کرنا ہوگا کہ ظالم باز آجائیں ۔ ان کے ساتھ مقاطعہ کرنا ہوگا اور شر کو قوت سے مٹانا ہوگا ۔ فساد معصیت اور زیاتیوں کی راہ روکنی ہوگی ۔
امام مسلم نے اپنی سند کے ساتھ ابو سعید خدری ؓ کی حدیث نقل کی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” تم میں سے جس نے بھی منکر کو دیکھا ‘ اسے چاہئے کہ وہ ہاتھ سے اسے روکے ‘ اگر طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اور اگر طاقت نہ ہو تو دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا ضعیف ترین درجہ ہے۔ “
امام احمد (رح) نے اپنی سند کے ساتھ عدی ابن عمیرہ سے نقل کیا ہے ۔ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ” اللہ خاص گناہگاروں کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتا ۔ ہاں جب وہ اپنے درمیان برائی کو دیکھیں اور وہ اس کے خلاف اجتجاج کرسکتے ہوں مگر نہ کریں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو اللہ خاص مجرموں کی وجہ سے عام لوگوں کو بھی مبتلائے عذاب کرتے ہیں ۔ “
امام ترمذی نے ابو سعید سے نقل کیا ہے :” حضور ﷺ نے فرمایا ! بہترین جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق ہے ۔ ‘
قرآن وسنت کی نصوص اس مفہوم میں بکثرت وارد ہیں ۔ اسلامی معاشرہ ایسا ہونا چاہئے کہ اس میں صورت یہ نہ ہو کہ ایک شخص برائی دیکھے اور کہے مجھے اس سے کیا واسطہ ؟ بلکہ اسلامی معاشرے کے اندر برائی کے خلاف اٹھ کھڑا ہو ۔ وہ حدود شریعت کے حق میں اٹھ کھڑا ہو اور یہی وہ جذبہ ہوتا ہے جس پر ایک اسلامی جماعت کی اساس ہے ‘ اس کے سوا ایک مسلم معاشرے کے وجود کا تصور ہی نہ ہوگا ۔
یہ حمیت اور جذبہ قلب میں تب پیدا ہوگا جب انسان میں اللہ کے اوپر پختہ یقین پیدا ہوجائے اور اسے یہ شعور ہو کہ اس ایمان کے تقاضے کیا ہیں ۔ پھر اسے اسلامی نظام زندگی کا صحیح فہم حاصل ہو اور اسے یہ احساس ہو کہ اسلامی نظام زندگی ایک مکمل نظام ہے وہ اس نظریے کو سنجیدگی کے ساتھ لے اور اس کے قیام کے لئے جدوجہد شروع کردے ۔ اسلامی معاشرہ ہوتا ہی وہ ہے جس میں قانون کا ماخذ شریعت الہی ہو ۔ اس کی اٹھان اسلامی منہاج پر ہو ‘ اور یہ معاشرہ ایک مسلمان کو اس بات کا موقع دیتا ہو کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرسکے ۔ یہ اس کا انفرادی علم نہ ہو کہ وہ اصلاح کی لہریں اٹھائے اور سمندر کے اندر گم ہوجائیں ۔ حالات ایسے نہ ہوں کہ ایک مسلمان سرے سے اصلاح کر ہی نہ سکے ‘ جیسا کہ آج کل عالم اسلام کے اکثر اوطان میں صورت حال ایسی ہے کہ انفرادی طور پر بھی کوئی امر بالعروف کا فریضہ ادا نہیں کرسکتا کیونکہ عالم اسلام کا اجتماعی نظام اس اصول پر قائم ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کے معاملات میں دخل ہی نہیں دے سکتا اور اسامی معاشروں میں فسق وفجور اور اللہ کی معصیت کو لوگوں کے شخصی معاملات سمجھتا ہے ۔ کوئی کسی کے کام میں دخل نہیں دے سکتا بلکہ اسلامی معاشروں میں ظلم ‘ مار دھاڑ ‘ سرکشی اور زیادتی اور اس قدر طاقتور ہیں کہ ڈر کے مارے لوگوں کے منہ بالکل بند ہیں۔ زبانوں پر تالے لگے ہوئے ہیں اور جو شخص بھی برائی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اس پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں ۔ حقیقی جدوجہد اور بھاری قربانیاں اس امر کے لئے دینی چاہئیں کہ ایک فلاحی اور خیر پسند معاشرہ قائم ہو اور فلاح اور خیر پر مشتمل معاشرہ صرف اسلامی نظام کے زیر سایہ ہی قائم ہو سکتا ہے اور یہ نیک معاشرہ دوسری جزوی اصلاحات اور شخصی بھلائی کے معاملات سے بھی پہلے بذریعہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر قائم ہونا چاہئے ۔
اگر پورا معاشرہ گندہ ہو تو کسی فرد کو ستھرا نہیں کہا جاسکتا ۔ جبکہ جاہلیت کی سرکشی غالب ہو اور معاشرے کا اجتماعی ڈھانچہ جاہلیت پر قائم ہو ۔ اس میں قانون شریعت نافذ نہ ہو ‘ تو ایسے حالات میں ابتدائی کام شروع کرنا چاہئے اور نیکی کو جڑوں سے اٹھنا چاہئے اور وہ اس طرح ممکن ہے کہ کسی خطے میں اسلامی سلطنت قائم ہو اور جب یہ اقتدار قائم ہوجائے تو پھر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام بنیاد سے شروع ہوگا۔
یہ تمام امور پختہ ایمان کے متقاضی ہیں اور اس بات کے محتاج ہیں کہ نظام زندگی کی تبدیلی میں عزم ویقین کا کام شروع کیا جائے ۔ جب ایمان کامل ہوگا تو اللہ پر اعتماد ہوگا ۔ اور جب اللہ پر اعتماد ہوگا تو راستہ جس قدر طویل ہو ‘ پروانہ ہوگا اور انسان اپنے اجر کا امیدوار اللہ سے ہوگا ۔ پھر یہ مومن اس شخص کا انتظار نہیں کرتا جو اس دنیا میں بھی کچھ چاہتا ہے ۔ نہ مومن گمراہ معاشرے کو خاطر میں لاتا ہوگا ۔ پھر یہ مومن اس شخص کا انتظار نہیں کرتا جو اس دنیا میں بھی کچھ چاہتا ہے ۔ نہ مومن گمراہ معاشرے کو خاطر میں لاتا ہے اور نہ وہ اہل جاہلیت سے کوئی نصرت طلب کرتا ہے ۔
وہ تمام نصوص قرآنی اور احادیث نبوی جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں وارد ہیں وہ ایک اسلامی معاشرے میں ایک مسلم کے فرائض کا تعین کرتی ہیں ۔ وہ معاشرہ جس نے اللہ کے اقتدار اعلی کے اصول کو تسلیم کر لیا ہوتا ہے جس میں اللہ کی شریعت نافذ ہوچکی ہوتی ہے اگرچہ اس میں حکومت ظالمانہ ہو ‘ اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ گناہ پھیل جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” افضل جہاد ظالم سلطان کے سامنے کلمہ حق ہے ۔ امام جائز بہرحال امام ہوتا ہے اور جب تک یہ ظالم بادشاہ بھی اللہ کی حاکمیت کو تسلیم نہ کرے وہ امام بن ہی نہیں سکتا ۔ جب تک وہ شریعت قائم نہ کرے وہ امام نہیں ہے ۔ وہ تو کچھ اور ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ۔ (آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون) ” جس نے اس قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں ۔ جاہلی معاشروں کے اندر ہونے والا بڑا منکر ‘ جس سے تمام منکرات پیدا ہوتے ہیں وہ یہی منکر ہے جس کی رو سے اللہ کے حق حاکمیت کو مسترد کیا ہوا ہوتا ہے اور اللہ کی شریعت کے قانون کو نافذ نہیں کیا جاتا ۔ اب اگر ایسے معاشرے سے واسطہ ہے تو اہل ایمان کو سب سے پہلے اس عظیم منکر کا قلع قمع کرنا چاہئے کیونکہ یہ ایک بنیادی منکر ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ اس کے خلاف نکیر کریں اور دوسرے جزوی منکرات میں وقت ضائع نہ کریں جو اس بڑے منکر کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں ۔ وہ تو اس کے فروعات ہیں اور ان کا وجود ہی اس بڑے منکر کا مرہون منت ہے ۔
اس میں کوئی فائدہ نہ ہوگا کہ ہم اپنی قوتیں ان جزوی منکرات کے خلاف جدوجہد میں ضائع کریں ۔ بہت سے نیک فطرت اور صالح لوگ ان جزوی منکرات کے خلاف جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں حالانکہ یہ منکرات اس منکر اکبر کی پیداوار ہیں ۔ وہ منکر یہ ہے کہ لوگ اللہ کے حقوق پر دست درازی کرکے اللہ کے حق حاکمیت کو سلب کرتے ہیں ‘ اور اللہ کی شریعت کا انکار کرتے ہیں ۔ اس لئے ہمیں اپنی قوتیں ان جزوی منکرات کے ازالے میں ضائع نہیں کرنا چاہئیں ‘ جو اس منکراول یعنی طاغوتی اقتدار اعلی کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک اور بحث نہیں ہے کہ یہ اسی کا نتیجہ ہیں ۔
دوسری بات یہ ہے کہ ایک طاغوتی معاشرے میں جب ہم لوگوں کو نہی عن المنکر کرتے ہوئے کہیں کہ یہ برا کام ہے ایسا مت کرو ‘ تو ہمارے سامنے معیار اور پیمانہ کیا ہوگا ۔ مثلا ایک اسلامی آدمی کہے کہ یہ منکر ہے اور ادھر ادھر سے دس افراد اٹھ کھڑے ہوجائیں گے اور کہیں گے ہر گز نہیں ‘ یہ تو برا کام نہیں ہے ۔ ہاں پرانے زمانے کی باتیں کرتے ہوئے ‘ یہ بات کبھی ایسی تھی ۔ اب دنیا بدل گئی ہے ۔ معاشرہ ترقی کر گیا ہے اور اب اقدار بدل گئی ہیں ۔
لہذا یہ ضروری ہے کہ ایک پیمانہ ہو اور تمام لوگ اچھائی اور برائی کو اس کے مطابق جانچیں ۔ اب یہ پیمانہ اور یہ اقدار ہم کہاں سے اخذ کریں ۔ یہ میزان اور معیار کہاں سے لائیں ؟ کیا لوگوں کے اندازے ‘ لوگ کے رواج ‘ ان کی خواہشات پیمانہ حسن وقبح قرار پائیں ۔ یہ چیزیں تو بدلتی رہتی ہیں ۔ اس طرح تو ہم ایک ایسے صحرا میں داخل ہوجائیں گے جس میں کوئی راہنما نہ ہوگا اور ایسے سمندر میں داخل ہوں گے جو بےکنار ہوگا ۔
لہذا میزان عدل کا قیام پہلے ضروری ہے ۔ اس میزان اور پیمانے کو مستقل ہونا چاہئے جو لوگوں کی خواہشات کے مطابق بدلتا ہوا نہ ہو ۔ اور یہ ہے اللہ کا ترازو ‘ مستقل اور دائمی ۔
اب اگر کوئی معاشرہ سرے سے اللہ کے میزان ہی کو تسلیم نہیں کرتا تو ۔۔۔۔۔ جب لوگ اپنے فیصلے شریعت کے مطابق ہی نہیں کرتے تو ۔۔۔۔ بلکہ صورت یہ ہو کہ جو شخص اسلامی نظام کا داعی ہو ‘ اس پر ظلم ہو رہا ہو ‘ اس سے انتقام لیا جا رہا ہو ‘ اس کے ساتھ تمسخر اور مزاح ہو رہا ہو تو ۔۔۔۔۔ کیا ایسے حالات میں جزوی اصلاح کی جدوجہد ضائع نہ ہوگی محض مذاق ہو کر نہ رہ جائے گی ‘ کیا فائدہ ہوگا کہ تم ایسے معاشرے میں اٹھو اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو اور بعض جزئیات کی اصلاح کے لئے انجمن بنا کر جدوجہد شروع کر دو جن کے تولنے کے بارے میں لوگوں کے پیمانے اور میزان مختلف ہوں جن کے اندر مختلف الرائے ہوں ‘ ہر شخص اپنی خواہشات کے مطابق رہ لینے میں آزاد ہو ۔
لہذا ضروری ہے کہ اصولا ایک جج پر اتفاق ہو ‘ ایک پیمانے پر اتفاق ہو ‘ ایک مقتدر اعلی اور حاکم پر اتفاق ہو ‘ اس فورم پر اتفاق ہو جو فیصلہ کرے گا اور اختلاف رائے کی صورت میں اس کا جو فیصلہ ہو اور اسے تسلیم کیا جائے ۔
یہ ضروری ہے کہ سب سے پہلے معروف اکبر کو قائم کیا جائے اور معروف اکبر یہ ہے کہ اللہ کے حق حاکمیت کو تسلیم کرایا جائے اور اسلامی نظام حیات کے نفاذ کی جدوجہد کی جائے ، سب سے پہلے نہی عن المنکر الاکبر کیا جائے اور منکر اکبر یہ ہے کہ اللہ کے اقتدار اعلی کا انکار ہو رہا ہو ۔ اللہ کی شریعت متروک ہو ۔ اس اساس کو استوار کر کے ہی صالح معاشرے کی تعمیر ممکن ہے ۔ اس کے بعد پھر ہر طرف سے اصلاح معاشرہ کی کوششیں شروع کی جاسکتی ہیں ۔ لیکن اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام کوششوں کو مجتمع کرلیا جائے ‘ ان ایک سمت میں لگا دیا جائے اور اس اساس کو قائم کیا جائے یعنی اسلامی نظام حکومت ۔
بعض اوقات انسان دیکھتا ہے کہ بہت ہی اچھے لوگ ‘ نہایت ہی عظیم جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں اور وہ امر بالعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہیں ۔ لیکن فروعی منکرات میں ۔ جبکہ وہ اساس جس پر اسلامی معاشرہ کی تعمیر ہوتی ہے اور جس کے اوپر امر بالمعروف ونہی عن المنکر قائم ہوتا ہے وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے ۔
کیا فائدہ ہوگا کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں لوگوں کو زنا سے روکیں جو زنا کو سرے سے جرم ہی تصور نہیں کرتا ۔ صرف جبری مباشرت کو جرم تصور کرتا ہے ‘ اور جبری مباشرت میں بھی شریعت کے مطابق سزا نہیں دیتا اس لئے کہ وہ اللہ کی حاکمیت کو تسلیم ہی نہیں کرتا ۔ نہ وہ شریعت کو نظام زندگی تسلیم کرتا ہے ۔
کیا فائدہ ہے کہ ہم لوگوں کو اسلام کے خلاف لعن طعن کرنے سے روکیں ایک ایسے معاشرے میں جس میں اللہ کی حکومت کا اعتراف نہ ہو ‘ جس میں اللہ کی بندگی نہ ہوتی ہو ‘ بلکہ اس میں انسانوں کو رب بنایا گیا ہو ۔ انسان لوگوں کے لئے پارلیمنٹ سے قانون نازل کرتے ہوں ‘ لوگوں کے لئے نظام زندگی اور زندگی کے طور طریقے وضع کرتے ہوں ‘ ان کے لئے اقدار حیات اور حسن وقبیح کے پیمانے وضع کرتے ہوں اور گالیاں دینے والا جسے گالیاں دی جارہی ہیں وہ دونوں اللہ کے دین سے خارج ہوں ۔
حالات میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فائدہ کیا ہوگا ؟ صغائر تو صغائر میں کہتا ہوں ان کبائر سے روکنے کا فائدہ کیا ہوگا ؟ جبکہ اکبر الکبائر سے کوئی کسی کو نہ روکتا ہو ‘ کفر عام ہو اور اللہ کی شریعت اور نظام زندگی متروک ہو ۔
یہ معاملہ اس سے بہت برا اور بہت اہم ہے ۔ یہ نیک لوگ جو سعی اور جہد کر رہے ہیں اس سے یہ بہت ہی بڑا ہے ۔ یہ ایسا مرحلہ نہیں ہے جس کے اندر ہم فروعی معاملات اور جزوی اصلاحات کے اندر اپنی قوتیں ضائع کریں ۔ میں کہتا ہوں کہ اگر جزوی معاملات نہ ہوں بڑے معاملات نہ ہوں اور جزوی اصلاحات کے اندر اپنی قوتیں ضائع کریں ۔ میں کہتا ہوں کہ اگر جزوی معاملات نہ ہوں بڑے معاملات ہوں بلکہ حدود اللہ کیوں نہ ہوں لیکن حدود اللہ بھی تب قائم ہوں گی کہ ہم اللہ کی حاکمیت اور اقتدار اعلی کا اعتراف کرلیں اور یہ مسئلہ طے ہوجائے کہ اقتدار اعلی اللہ کا ہوگا ۔ اللہ کے سوا کسی کو حق حاکمیت حاصل نہ ہوگا ۔ جب تک یہ اعتراف حقیقت واقعیہ نہیں بن جاتا ‘ جب تک شریعت کو ماخذ قانون قرار نہیں دے دیا جاتا ‘ جب تک اللہ کی ربوبیت اور اللہ کی حاکمیت حکومت اور قوت کے ماخذ نہ بن جائیں تو فروعات کے اندر تمام کوششیں اور تمام انفرادی مساعی ضائع ہوں گی اور ہوتی رہیں گی ۔ مناسب یہی ہے کہ ہم سب سے پہلے منکراکبر کے خلاف جہدوجہد شروع کردیں اور تمام دوسرے منکرات کو بعد میں لیں۔
حضور ﷺ کا فرمان یہ ہے کہ جو بھی تم میں سے کسی منکر کو پائے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے ہاتھ سے روکے اگر طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اور اس کی بھی طاقت نہ ہو ‘ دل سے برا جانے اور یہ ضعیف الایمان کا درجہ ہے ۔
اہل دین پر ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ منکر کو ہاتھ سے نہیں روک سکتے ۔ وہ زبان وقلم سے بھی منکر کے خلاف کوئی کام نہیں کرسکتے ۔ اس کے بعد اضعف الایمان کا درجہ ہی رہ جاتا ہے ۔ دل سے برا جاننا ۔ دل کی دنیا میں تو کوئی مداخلت کر ہی نہیں سکتا ۔ اس لئے دل کی دنیا والے ہمیشہ اضعف الایمان کے درجے میں ہوئے ہیں ‘ یعنی برائی کو دل سے برا جاننا ۔ اگر وہ سچے مسلمان ہوں اور دل سے برائی کو برا سمجھتے ہیں۔
یہ کوئی منفی موقف نہیں ہے جو کوئی برائی کے خلاف اختیار کرے گا ۔ جیسا کہ بظاہر نظر آتا ہے ۔ حضور ﷺ نے جو انداز بیان اختیار کیا ہے وہ مثبت انداز ہے ۔ مثلا دل سے برائی کو برا سمجھتا ہی دل کی جانب سے ایک مثبت کام ہے ۔ مثلا دل اسے برا سمجھتا ہے ‘ اس سے نفرت کرتا ہے اور منکر کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالتا ۔ اور دل و دماغ ایسی صورت حال کو جائز قانونی صورت نہیں سمجھتے ۔ اور جب دل و دماغ کسی صورت حال کو تسلیم نہیں کرتے تو یہ بھی درحقیقت اس صورت حالات کو ختم کرنے کی طرف ایک مثبت اقدام ہوتا ہے ۔ دل میں یہ عزم ہوتا ہے کہ جب بھی فرص ملے گی اس منکر صورت حال کی جگہ معروف صورت حال کو قائم کردیا جائے اور ایسا شخص انتظار میں بیٹھا ہوگا کہ کس وقت وہ منکر پر حملہ آور ہو اور یہ تمام کام ایجابی اور مثبت کام ہیں اگرچہ یہ ایک ضعیف درجہ ہے ۔ کسی برے وقت میں ایک مسلمان کے لئے یہ بھی کیا کم ہے کہ وہ اس درجے پر قائم رہے ۔ کم ازکم وہ منکر کے سامنے ہتھیار تو نہیں ڈالتا کہ منکر ایک واقعہ ہے اسے مان ہی لو۔ اور بعض اوقات جب احساس زیاں ختم ہوجاتا ہے تو انسا اضعف الایمان کے مقام سے بھی گر جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور پھر کیا ہوتا ہے ؟ یہ کہ بنی اسرائیل کی طرح پورا معاشرہ لعنت کا مستحق ہوجاتا ہے اور اللہ کا یہ قول ان پر صادق آتا ہے ۔
” بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ان پر داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی کیونکہ وہ سرکش ہوگئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے ۔ انہوں نے ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا ۔
اب اس سے آگے بھی بات بنی اسرائیل ہی کی چلتی ہے اور اس پر ہمارے اس پارے کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔ حضور ﷺ کے دور میں ان کے جو شب وروز تھے وہ بتائے جاتے ہیں ۔ کم وبیش ہر دور میں ان کے حالات ایسے ہی رہے ہیں ۔ ان لوگوں نے ہمیشہ اہل اسلام اور جماعت مسلمہ کے خلاف کفار اور بت پرستوں کے ساتھ ایکا کیا اور اس کا سبب یہ ہے ‘ باوجود اس کے کہ وہ اہل کتاب ہیں ‘ وہ اللہ اور نبی ﷺ پر ایمان نہیں لائے ۔ چونکہ وہ اس آخری دین میں داخل نہیں ہوئے وہ مومن نہیں ہیں ۔ اگر یہ مومن ہوتے تو کافروں کے ساتھ تعلق موالات قائم نہ کرتے ۔
Ayah 5:80(آیت) ” تَرَی کَثِیْراً مِّنْہُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَہُمْ أَنفُسُہُمْ أَن سَخِطَ اللّہُ عَلَیْْہِمْ وَفِیْ الْعَذَابِ ہُمْ خَالِدُونَ (80) وَلَوْ کَانُوا یُؤْمِنُونَ بِاللہ والنَّبِیِّ وَمَا أُنزِلَ إِلَیْْہِ مَا اتَّخَذُوہُمْ أَوْلِیَاء وَلَـکِنَّ کَثِیْراً مِّنْہُمْ فَاسِقُونَ (81)
” آج تم ان میں بکثرت ایسے لوگ دیکھتے ہو جو کفار کی حمایت ورفاقت کرتے ہیں ۔ یقینا بہت برا انجام ہے جس کی تیاری ان کے نفسوں نے ان کیلئے کی ہے اللہ ان پر غضبناک ہوگیا ہے اور وہ دائمی عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں ۔ اگر فی الواقعہ یہ لوگ اللہ اور پیغمبر اور اس چیز کو ماننے والے ہوتے جو پیغمبر پر نازل ہوئی تھی تو کبھی کافروں کو اپنا رفیق نہ بناتے مگر ان میں سے بیشتر تو خدا کی اطاعت سے نکل چکے ہیں ۔
” تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے اور ایمان لانے والوں کے لئے دوستی میں قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاری ہیں ۔ یہ اس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالم اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتی ہیں اور ان میں غرور نفس نہیں ہے ۔ “
یہ بات جس طرح حضور اکرم ﷺ کے دور میں یہودیوں پر منطبق ہوتی تھی اسی طرح آج کے یہودیوں پر بھی منطبق ہے اور کل بھی ہوگی ۔ ہر دور میں اہل کتاب یہودی اور عیسائی اور جو دنیا کے اطراف واکناف میں پھیلے ہوئے ہیں ‘ ایسے ہی رہیں گے ۔ اس سے ہمیں یہ نصیحت ملتی ہے کہ ہم قرآن کریم کے اسرار و رموز پر غور کریں ۔ قرآن کریم میں امت مسلمہ کے لئے عجیب ہدایات موجود ہیں اور اسلامی تحریک کو چاہئے کہ وہ ہر وقت قرآن سے ہدایات اور پالیسیاں اخذ کرے ۔
یہودی مشرکین کے ساتھ اس دور میں تعلق موالات قائم کئے ہوئے تھے ۔ ان کو مسلمانوں کے خلاف جمع کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ کفار اور مشرکین ان مسلمانوں ان مسلمانوں سے زیادہ سیدھی راہ پر ہیں۔ جیسا کہ قرآن کریم نے اس کی صراحت کی ہے ‘ اور اس کا اظہار غزوہ احزاب میں اچھی طرح ہوگیا تھا ۔ اس غزوہ سے پہلے اور بعد میں بھی وہ اسی پالیسی پر گامزن رہے اور آج تک وہ اسی موقف پر قائم ہیں ۔ فلسطین میں اسرائیل کا قیام ہی ان جدید ملحدین اور کفار کی مساعی سے ہوا ہے ۔
رہے عیسائی تو ان کا حال یہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں کا معاملہ پیش آتا ہے تو عیسائی مشرکین کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ بت پرستوں کے حامی و مددگار ہوتے ہیں ۔ جب بھی مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان کوئی معرکہ پیش آیا ۔ ان لوگوں کا دلی بغض اسلام کے خلاف کھل کر سامنے آگیا اور اب تک قائم ودائم ہے ۔ اگرچہ معاملہ ان لوگوں کا ہو جو نام نہاد مسلمان ہوں۔ کیا سچ کہا اللہ تعالیٰ نے (تری کثیرا منھم یتولون الذین کفروا “۔ (5 : 80) ” تم ان سے بکثرت ایسے لوگ دیکھتے ہو جو کفار کی حمایت ورفاقت کرتے ہیں ۔ “
(آیت) ” لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَہُمْ أَنفُسُہُمْ أَن سَخِطَ اللّہُ عَلَیْْہِمْ وَفِیْ الْعَذَابِ ہُمْ خَالِدُونَ (80)
” یقینا بہت برا انجام ہے جس کی تیاری ان کے نفسوں نے ان کیلئے کی ہے اللہ ان پر غضبناک ہوگیا ہے اور وہ دائمی عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں ۔
یہ وہ کمائی ہے جو انہوں نے کی ہے اور وہ اللہ کا غضب ہے جو انکے لئے جمع ہو رہا ہے اور نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دائما جہنم میں رہیں گے اور یہ کس قدر برا انجام ہے ۔ کس قدر برا پس انداز ہے جو یہ کر رہے ہیں ۔ کس قدر تلخ پھل ہے ۔ کفار کے ساتھ تعلق موالات کا ہے یہ پھل !
کیا ہم مسلمان اللہ کی اس بات کو نہیں سن رہے ؟ کیا ہمیں باز نہیں آنا چاہئے ان اقدامات سے جو ہم مسلسل کر رہے ہیں اور اللہ نے ان کی اجازت نہیں دی ہے ۔ پھر بھی ہم مسلمان اہل کتاب دشمنوں کے ساتھ تعلق موالات کے بارے میں سوچتے ہی یا متحدہ محاذ بناتے ہیں ہیں ۔ آخر اس کا سبب کا کیا ہے ؟ سبب تو یہی ہے کہ اللہ اور رسول پر ایمان نہیں ہے ۔
Ayah 5:81(آیت) ” وَلَوْ کَانُوا یُؤْمِنُونَ بِاللہ والنَّبِیِّ وَمَا أُنزِلَ إِلَیْْہِ مَا اتَّخَذُوہُمْ أَوْلِیَاء وَلَـکِنَّ کَثِیْراً مِّنْہُمْ فَاسِقُونَ (81)
” اگر فی الواقعہ یہ لوگ اللہ اور پیغمبر اور اس چیز کو ماننے والے ہوتے جو پیغمبر پر نازل ہوئی تھی تو کبھی کافروں کو اپنا رفیق نہ بناتے مگر ان میں سے بیشتر تو خدا کی اطاعت سے نکل چکے ہیں ۔
یہ ہے اصل سبب کہ وہ اللہ اور نبی اخر الزمان پر ایمان نہیں لائے ۔ ان کی اکثریت فسق وفجور میں مبتلا ہے ۔ یہ اپنے شعور اور اپنے رخ کے اعتبار سے کفار کے ہم جنس ہیں ۔ اس لئے یہ لوگ کفار کے دوست ہوگئے ہیں اور اہل ایمان سے دوستی نہیں کرتے ۔
اس قرآنی تبصرے سے ہمیں تبصرے سے ہمیں تین واضح طور پر ملتے ہیں ۔
پہلی حقیقت یہ ہے کہ اہل کتاب سب کے سب ‘ ماسوائے ان کے جو حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے ‘ مومن نہیں ہیں اس لئے کہ وہ رسول آخر الزمان پر ایمان نہیں لائے ۔ قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ وہ نبی پر ایمان نہیں لائے بلکہ یہ بھی کے ساتھ دوستی و محبت نہ کرتے ۔ “ یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اس میں تاویل کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ چاہے زبانی طور پر اہل کتاب جس قدر دعوائے ایمان کریں ۔ اور اگر ہم خدا تعالیٰ کے بارے میں ان کے منحرف اور فاسد عقائد و تصورات پر بھی غور کریں جن کی تفسیر ہم نے اسی سبق میں ابھی ابھی دی ہے تو ان کے اندر اللہ پر بھی ایمان نہیں ہے ۔
دوسری حقیقت یہ ہے کہ تمام اہل کتاب کو اسلام دعوت دیتا ہے کہ وہ اسلام میں داخل ہوں ۔ اور یہ دعوت انہیں حضرت محمد ﷺ کی زبان سے دی گئی ہے ۔ اگر وہ اس دعوت کو قبول کریں تو مومن ہیں ورنہ نہیں ہیں ۔
اور تیسری حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ اہل اسلام اور اہل کتاب کے درمیان موالات اور دوستی کا تعلق قائم نہیں ہو سکتا ۔ اور یہ تعلق کسی بھی معاملے میں نہیں ہو سکتا اس لئے کہ مسلمان کے تمام حالات زندگی دین کے تابع ہوتے ہیں اور یہ لوگ دین اسلام کے دشمن ہیں ۔
رہی یہ بات کہ اسلام اہل کتاب کے ساتھ حسن معاشرت اور اچھا طرز عمل اختیار کرنے کی ہدایت کرتا ہے ان کے جان ومال اور ان کی عزت وآبرو کی حفاظت کا حکم دیتا ہے جب تک وہ دارالاسلام میں ہوں اور یہ کہ وہ انکو اجازت دیتا ہے کہ ان کے جو عقائد ہیں وہ ان پر قائم رہیں اور یہ کہ ان کو حکمت اور حسن ادا کے ساتھ اسلام کی طرف دعوت دی جائے اور ان سے بحث و مباحثہ بھی اچھی طرح ہو جب تک وہ اسلامی ریاست کے وفادار ہیں اور یہ کہ ان کو کسی حال میں بھی اپنے عقائد کو ترک کرنے کا حکم نہ دیا جائے تو یہ اسلام کی وہ پالیسی ہے جو اسلام نے دارالاسلام میں رہنے والی تمام اقلیتوں کے لئے وضع کی ہے ۔ یہ ہے اسلام بات واضح اور صاف ہے ۔ اسلام نیکی چاہتا ہے ۔ رواداری کو رائج کرتا ہے اور بات دوٹوک کرتا ہے کیونکہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اللہ صحیح راہ دکھانے والا ہے ۔
Ayah 5:82سورة المائدہ کا آخری حصہ ایک نظر میں :
اس پارے میں سورة مائدہ کا بقیہ حصہ ہے ‘ اس کے ابتدائی حصوں کے بارے میں تفصیلات پارہ ششم میں گزر چکی ہیں ۔ نیز اس میں سورة انعام کے آغاز سے لے کر آیت (آیت) ” ولو اننانزلنا الیھم الملئکۃ) تک کا حصہ بھی مذکور ہے جس کے بارے میں تفصیلی بحث سورة انعام کے آغاز میں ہوگی ۔ یہاں صرف اس حصے پر تبصرہ کیا جا رہا ہے جو سورة مائدہ سے رہ گیا تھا ۔
پارہ ششم میں اس سورة کے تعارف میں ہم نے کہا تھا :
” اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن کریم حضرت محمد ﷺ کے قلب مبارک پر اس لئے نازل فرمایا کہ اس کے ذریعے وہ ایک امت کو برپا کریں ‘ وہ امت ایک مملکت کی بنیاد رکھے ‘ ایک معاشرے کو منظم کرے اور یہ مملکت لوگوں کے ضمیر ‘ ان کے اخلاق سنوارے اور ان کی عقلی تربیت کرے ۔ اس قرآن کے ذریعے اس معاشرے کے اجتماعی تعلقات کے حدود وقیود وضع ہوں اور اس مملکت کے اندر لوگوں کے تعلقات بھی منضبط ہوں اور پھر دوسرے ممالک کے ساتھ بھی اس مملکت کے تعلقات استوار ہوں ۔ اس امت کے تعلقات دوسری امتوں اور ملتوں کے ساتھ قائم ہوں ۔ قرآن اس تمام پوری امت کو ایک مضبوط رسی کے اندر باندھ دے ‘ اس کے متفرق اجزاء کو جمع کر دے ‘ اس کے فرقوں کو جمع کر دے اور اسے ایک مضبوط محور کے اندر پختہ کر دے ‘ اسے اللہ کی اس بادشاہت کے اندر لے آئے اور اس کا رخ ایک سمت میں ہوجائے ۔ یہ ہے دین اسلام جیسا کہ درحقیقت وہ اللہ کے نزدیک ایسا ہی ہے اور جسے مسلمانوں نے ایسا ہی سمجھا جب وہ صحیح مسلمان ہوا کرتے تھے ۔
جیسا کہ سابقہ تین طویل سورتوں میں ہم نے دیکھا اس سورة میں بھی مختلف موضوعات کو لیا گیا ہے ۔ ان تمام موضوعات کے درمیان قدر مشترک کیا چیز ہے ؟ وہی جس کے حصول کے لئے اس دنیا میں پیغام اسلام کی ضرورت محسوس کی گئی ۔ یعنی ایک امت کی تشکیل ‘ ایک مملکت کا قیام اور ایک مثالی اسلامی معاشرے کا قیام ۔ اس معاشرے کا قیام بھی ایک خاص نظریہ کے مطابق ایک خاص تصور حیات کی روشنی میں اور بالکل جدید انداز میں مطلوب تھا ۔ اس معاشرے کی روح عقیدہ توحید تھی ۔ عقیدہ توحید اس کا پہلا اصول اقرار پایا اور عقیدہ توحید کے اہم عناصر یہ ہیں کہ الہ اور حاکم فقط اللہ ہے ‘ وہی اس کائنات کا تھامنے والا ہے ۔ اسی کا حکم چلتا ہے ‘ زندگی گزارنے کے طریقے صرف اسی سے اخذ کئے جاسکتے ہیں ‘ وہی شارع ہے ‘ وہی زندگی کی اعلی قدریں متعین کرنے کا حق رکھتا ہے اور حس وقبح کے پیمانے صرف وہی متعین کرسکتا ہے ۔ “
” اس سورة میں اعتقادی افکار کی توضیح کی گی ہے اور اسے بت پرستانہ خرافات اور انحرافات سے پاک کیا گیا ہے ۔ نیز اہل کتاب نے جو تحریفات کیں انہیں بھی دور کیا گیا ہے اور جماعت مسلمہ کے سامنے خود اس کا اپنا تعارف پیش کیا گیا ہے ۔ کہ اس کی حقیقت کیا ہے ‘ اس کا طریقہ کار کیا ہونا چاہئے ‘ اور اس کے راستے میں جو کانٹے ہیں اور جو جال بچھے ہوئے ہیں ان سے بچنے کا کیا طریقہ ہے ۔ کہاں کہاں اس دین کے دشمن گھات لگائے بیٹھے ہیں اور کہاں کہاں پھسلن ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ‘ اس سورة میں عبادات اسلام اور شعائر اسلام بھی بتائے گئے ہیں جن کے ذریعے ایک مسلم کی روح پاک ہوجاتی ہے اور اس کا رابطہ اس کے رب کے ساتھ قائم ہوجاتا ہے ۔ نیز اعتقادات و عبادات کے ساتھ ساتھ اس میں اجتماعی روابط ‘ حکومت کے لئے قانون سازی اور پھر دوسری حکومتوں کے ساتھ اسلامی حکومت کے تعلقات کے اصول بھی بتائے گئے ہیں ۔ نیز اسلامی معاشرے میں حلال و حرام کا بھی ذکر ہے کہ مسلمانوں کے لئے کن چیزوں کا کھانا حرام ہے کن مشروبات کا پینا حرام ہے اور کن عورتوں سے نکاح حرام ہے ۔ کیا کیا اعمال برے ہیں اور کیا کیا طرز ہائے عمل غیر اسلامی ہیں۔ غرضیکہ یہ سورة ایک مکمل گٹھڑی ہے جس کے اندر ‘ یہ تمام امور ایک ہی جگہ آگئے ہیں اور یہ گٹھڑی مجموعہ دین ہے ۔ اسی نقطہ نظر سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ دین ان تمام امور پر مشتمل ہے ۔ “
اس سورة کی نوعیت اور اس کے مشمولات وموضوعات کی اس عام تصویر کشی کی روشنی میں ہم اس کے اس بقیہ حصے کا بھی بڑی خوبی سے مطالعہ کرتے ہیں ۔ چناچہ اس حصے میں بھی وہ مباحث اور موضوعات یا ان کے ساتھ ملتی جلتی بحثیں موجود ہیں جن کی تفصیلات پارہ ششم میں گزر چکی ہیں ۔
امت مسلمہ کی مخالفت کرنے والے عناصر بعض دوسرے کیمپوں کا تعارف ان مباحث میں کرایا گیا ہے ‘ جن کے بارے میں وہاں اشارات رہ گئے تھے ۔ یہ بات نہایت ہی تعجب خیز ہے کہ یہ وہی کیمپ ہیں جو ہمیشہ تحریک اسلامی یا احیائے اسلام کی تحریکات کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ اگرچہ اس تحریک کے دشمنوں کے رنگ مختلف ہیں لیکن اصل کینہ ایک ہی ہے جو ان کے دلوں میں جاگزین ہے۔ نیزان میں ایک نہایت ہی قلیل تعداد ہدایت کے طالب لوگوں بھی ہے ۔ مثلا بعض عیسائی گروہ ‘ جو ہدایت قبول کر رہے ہیں اور جب اس وقت حضور کی جانب سے انہوں نے یہ دعوت پر سوز سنی تو اس ان کے دل پگھل گئے اور انہوں نے لبیک کہہ کر اپنے آپ کو ثواب آخرت اور جنت کا مستحق کرلیا ۔
ان باقی مباحث میں سے ایک بحث یہ بھی ہے کہ حلال و حرام کے موضوع پر قانون سازی کا حق صرف اللہ کو حاصل ہے اور اہل ایمان کے لئے سخت ممانعت ہے کہ وہ اس موضوع پر اللہ تعالیٰ کے حق اقتدار اور قانون سازی پر دست درازی کریں ۔ اہل ایمان کو خدا کا خوف کرنا چاہئے کیونکہ یہ معاملہ ایمان وکفر کا ہے اور انہوں نے ایمان لانے کا اعلان تو کر ہی دیا ہے ۔
اس کے علاوہ قسموں ‘ جوئے ‘ شراب ‘ پانسوں ‘ بتوں اور حالت احرام کے اندر شکار جیسے قانون اور فقہی احکام ‘ خانہ کعبہ ‘ حرام مہینوں ‘ ہدی اور وہ جانور جن کے گلوں میں پٹے ڈالے ہوئے ہوتے ہیں بطور علامت قربانی کی بابت مسائل نیز اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کردہ شرعی احکام اور نبی کریم ﷺ کی جانب سے دی جانے والی ہدایات کی پیروی کی تاکید اور خدا اور رسول کی مخالفت سے ڈرانے کے مضامین بھی دیئے گئے ہیں اور تنبیہ کی گئی ہے کہ اللہ کے عذاب اور اس کے انتقام سے ڈرو اور ہر وقت اس ذات باری کو پیش نظر رکھو جس کے پاس تم نے لوٹ کر جانا ہے ۔
اس کے بعد جماعت مسلمہ کی تربیت کے بعض پہلو بھی لئے گئے ہیں ‘ وہ اقدار جن کے مطابق اس کے پوری دنیا کے ساتھ معاملہ کرنا ہے ‘ مثلا یہ کہ خبیث چیزوں کی کثرت سے انہیں متاثر نہ ہونا چاہئے ۔ انہیں یہ دیکھنا چاہئے کہ پاک اور طبیب چیزیں ہمیشہ کم ہوتی ہیں ۔ نیز ان اقدار اور آداب میں سے اہم ادب یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ سے ہر بات کے بارے میں نہ پوچھا جائے اور اگر خدا تعالیٰ نے کسی بات کو مجمل چھوڑ دیا ہے تو اہل ایمان کو اس کے بارے میں پوچھنے گریز کرنا چاہئے ۔
اس حصے میں یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ جاہلیت کی عادات اور رسوم کو باطل قرار دے دیا گیا ہے ۔ بت پرستی کی ممانعت کردی گئی ہے اور بعض قسم کے جانوروں اور ذبیحوں کے حوالے سے جو شرک اور بت پرستی باقی ہے اسے ختم ہونا چاہئے ۔ مثلا بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ ‘ اور حام وغیرہ اور یہ کہ حلال و حرام کے تعین کا اختیار صرف اللہ کو ہے ۔ پوری زندگی کے لئے قانون سازی کا اختیار اللہ کو حاصل ہے اور کوئی قانون سازی لوگوں کے رواج اور لوگوں کی اصلاحات کے مطابق نہیں ہو سکتی ۔ یہ کام صرف اللہ کا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کو تنبیہ کی گئی کہ وہ اپنے آپ کو پہچانے ۔ اس کے افراد کے اندر باہم مکمل تکافل ہو اور وہ دوسرے لوگوں سے مکمل طور پر جدا ہو اور کٹے ہوئے ہوں ۔ اسے اپنی مخصوص ذمہ داریوں کو ادا کرنا چاہئے اور دوسرے اہل باطل کی ذمہ داریوں سے اپنے آپ کو مکمل طور پر بری الذمہ رکھنا چاہئے ۔ اور اپنے انجام اور دوسرے لوگوں کے انجام کو بھی مکمل طور پر اللہ کے حوالے کردینا چاہئے ‘ جس کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں ہوگا ۔
اسلامی قانون سازی کرتے ہوئے مضمون کا خاتمہ اس امر پر ہوتا ہے کہ اگر کوئی سفر میں ہو اور اپنے خاندان سے دور ہو اور وہ وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس پر شہادت مقرر کرے ۔ اس طرح نظر آتا ہے کہ یہ قانون سازی اس لئے ضروری تھی کہ مسلمان جہاد فی سبیل اللہ اور تلاش وسائل اور فضل اللہ کے لئے باہر نکلیں گے ۔ لیکن اس قانون سازی میں بھی تمام معاملات کو خوف آخرت کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے ۔
باقی سورة میں اہل کتاب میں سے نصاری کے عقائد کے بعض دوسرے پہلوؤں کو لیا گیا ہے اور اس مقصد کے لئے حضرت مریم (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کے بعض گوشوں کو لایا گیا ہے ۔ اور ان معجزات کو بیان کیا گیا ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ظاہر ہوئے ۔ حواریوں نے جو کھانا طلب کیا تھا ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کی الوہیت کے مسائل اور یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ہر گز ایسے دعاوی نہیں کئے تھے ‘ اور قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کی جھلکی بھی دکھائی گئی ہے جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا معاملہ تمام انسانیت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور وہ اللہ رب العالمین کے لئے پیش ہوتا ہے اور اس خوفناک منظر میں تمام اقوام رسل موجود ہیں۔
سورة کا خاتمہ اس موقف پر ہوتا ہے کہ زمین وآسمانوں کا اصل مالک اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت پر کوئی قید وبند نہیں ہے ۔
(آیت) ” وللہ ملک السموت والارض وما فیھن واللہ علی کل شیء قدیر) ” زمین و آسمانوں اور تمام موجودات کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ “
سورة کے اس بقیہ حصے کے اس سرسری جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی طریق کار اور اسی منہاج بحث کے مطابق اس کے مباحث آگے بڑھ رہے ہیں ‘ جس کی طرف ہم نے محولہ بالااقتباسات میں اشارہ کیا ہے ۔ اب ہم بقیہ اسباق پر تفصیلی بحث کرتے ہیں۔
درس نمبر 52 ایک نظر میں :
یہ سبق یہود ونصاری اور مشرکین کے بارے میں ہونے والی طویل گفتگو ہی کا حصہ ہے ‘ جو پارہ ششم میں چل رہی تھی اور جس میں یہ بتانا مقصود تھا کہ رسول اللہ ﷺ اور امت مسلمہ کے بارے میں ان لوگوں کا موقف کیا ہے ۔ یہ بات چیت اس سورة میں نصف سے بھی زیادہ حصے پر مشتمل ہے ۔ اس بات چیت میں وعموما یہود ونصاری دونوں کے نظریاتی فساد سے پردہ اٹھایا گیا ہے ‘ اور خصوصا یہودیوں کی بری نیت اور برے کردار سے بحث کی گئی ہے ۔ یہ کردار ان کا خود ان کے انبیائے سابقہ کے ساتھ رہا۔ حضرت نبی ﷺ کے ساتھ بھی رہا اور وہ اس پورے عرصہ میں اہل اسلام کے بجائے مشرکین کے معاون و مددگار رہے ۔ وہاں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ یہود ونصاری جن عقائد تک پہنچے ہوئے ہیں وہ صراحۃ کفریہ عقائد ہیں اس لئے کہ انہوں نے تورات ‘ انجیل اور قرآن کریم تینوں میں آئے ہوئے عقائد چھوڑ دیئے ہیں ‘ جب تک وہ تورات ‘ انجیل اور اب نازل ہونے والے کلام الہی کو قائم نہ کریں اس وقت تک ان کی کوئی دینی حیثیت نہ ہوگی ۔ اب بات کا رخ حضور اکرم ﷺ کی طرف ہوجاتا ہے کہ آپ کی طرف جو کچھ بھی نازل ہوتا ہے آپ اسے یہودی ونصاری اور مشرکین سب تک پہنچا دیں ‘ اس لئے کہ ان سب لوگوں نے دین الہی کو چھوڑ دیا ہے اور اب ان سب کا فریضہ یہ ہے کہ وہ اسلام میں داخل ہوجائیں اور امت مسلمہ کا فریضہ یہ ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ اور اہل ایمان ہی کو دوست اور ولی بنائے اور یہود ونصاری اور مشرکین کے ساتھ تعلق موالات قائم نہ کرے کیونکہ یہ لوگ خود ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ یہودی تو اہل کفر اور اہل شرک کے ساتھ بھی دوستی کا تعلق قائم کئے ہوئے ہیں حالانکہ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کے ذریعہ ان پر لعنت ہوچکی ہے ۔ یہ تو تھا سابقہ مضمون اب یہاں حضور ﷺ کے حوالے سے ان سب گروہوں نے جو موقف اختار کر رکھا ہے وہ بیان کیا جاتا ہے اور امت مسلمہ کے ساتھ انہوں نے جو رویہ اختیار کیا ہے وہ اور آخرت میں ان کا جو انجام ہونے والا ہے وہ بیان کیا جاتا ہے ۔
نزول قرآن کے وقت امت مسلمہ قرآن کریم کو یوں لیتی تھی کہ وہ اپنے تمام منصوبے ‘ اپنی تمام سرگرمیوں اور لوگوں کے متعلق اپنے تمام مواقف اور رویے اس کے مطابق ڈھالتی چلی جاتی تھی اور حالت یہ تھی کہ قرآن کریم ‘ ان کا ہادی ‘ محرک ‘ مرشد اور لیڈر تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ ہر معرکے میں وہ غالب رہتی اور اس کے مخالف مغلوب رہتے ‘ اس لئے کہ ہر معرکے میں براہ راست وہ ربانی کمانڈ میں لڑتی تھی ‘ اس لئے کہ نبی کریم ﷺ امت کی قیادت عالم بالا کی ربانی ہدایات کے مطابق فرماتے تھے ۔
کیا وہ ربانی ارشادات ہمارے سامنے موجود نہیں ؟ کیا وہ کتاب کریم جس کے اندر وہ ہدایات رقم ہیں موجود نہیں ؟ موجود ہے اور آج جو لوگ دعوت اسلامی دے رہے ہیں یا کل جو لوگ یہ کام کریں گے ان کو چاہئے کہ وہ ان ہدایات اور فیصلوں کو اس طرح لیں جس طرح کہ گویا یہ ہدایات ابھی نازل ہو رہی ہیں اور وہ تمام لوگوں کے مقابلے میں اپنا موقف ان ہدایات کی روشنی میں متعین کر رہے ہیں ۔ تمام مذاہب ومسالک اور تمام آراء اور نظریات اور تمام طور طریقوں اور تمام اقدار اور پیمانوں کے مقابلے میں ان کا موقف ان کی روشنی میں متعین ہو رہا ہے اور یہ کام آج بھی اسی طرح ہونا چاہئے اور کل بھی ۔
(آیت) ” لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین امنوا الیھود والذین اشرکوا)
” تم اہل ایمان کی عدوات میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے ۔ “ عربیت کے اعتبار سے اس آیت کے مخاطب رسول اللہ ﷺ بھی ہو سکتے ہیں ‘ اور عام اہل ایمان بھی ‘ اس لئے کہ یہ ایک ایسی حقیقت اور ایسا مفہوم ہے جو سب کو بچشم سراب بھی نظر آتا ہے اور یہ انداز کلام ایسا ہے کہ اسالیب عربی کے اندر اس کے نظائر موجود ہیں خواہ مخاطب حضور ہوں یا ایک عام مسلمان دونوں صورتوں میں آیت کے ظاہری معنی بالکل واضح ہیں ۔
البتہ جو نکتہ قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اس عبادت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے بھی پہلے یہودیوں کو لیا ہے ۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مشرکین کے مقابلے میں یہودیوں کی اسلام دشمنی زیادہ ہے اور تاریخی اور واقعاتی اعتبار سے یہ بات بھی بالکل واضح ہے ‘ اگر غور کیا جائے ۔
یہ بات درست ہے کہ گرائمر کے قواعد کے مطابق واو سے جو عطف ہوتا ہے ‘ اس میں تعاقب یا ترتیب کا لحاظ نہیں ہوتا اور معطوف اور معطوف علیہ حکم میں برابر ہوتے ہیں ۔ لیکن یہودیوں کو مشرکین سے پہلے اس لئے لایا گیا ہے کہ وہ اصلا اہل کتاب تھے اور ہو سکتا ہے کہ کوئی یہ گمان کرے کہ وہ مسلم دشمنی میں شاید مشرکین سے کم ہوں گے ‘ اس لئے یہاں قواعد نحو سے ہٹ کر اس تقدیم سے یہ تاثر دینا مقصود ہے کہ یہ لوگ مسلم دشمنی میں کم نہیں ہیں ۔ اگرچہ قواعد نحو میں اس تقدیم سے یہ تاثر نہیں ملتا لیکن اس بات کا احتمال ضرور ہے کہ یہ اشارہ مقصود ہو کہ یہ لوگ مشرکین سے بھی اسلام دشمنی میں شدید تر ہیں۔
آغاز اسلام سے آج تک جب ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس میں اسلام کے حوالے سے یہودیوں کے طرز عمل پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے مشرکین عالم کے مقابلے میں یہودی اسلام دشمنی میں بہت ہی آگے رہے ہیں ۔
جونہی مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہوئی ‘ یہودی اس کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے اور جب امت مسلمہ ایک امت بنی ‘ انہوں نے اس کے خلاف سازشیں شروع کردیں ۔ قرآن کریم نے ان کی ان سازشوں اور مکاریوں کے بارے میں نہایت ہی واضح فیصلے کئے اور اشارات دیئے جو اس معرکہ آرائی کا ایک واضح ثبوت ہیں جو یہودیوں نے اسلام اور رسول اسلام کے خلاف اور امت مسلمہ کے خلاف اس کی طویل تاریخ میں برپا کئے رکھی اور جس کے شعلے گذشتہ چودہ سو سال میں کسی بھی وقت فرد نہیں ہوئے اور جس کی گرمی آج بھی چاردانگ عالم میں ہر سو محسوس کی جارہی ہے ۔
جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے سب سے پہلے یہودیوں کے ساتھ معاہدہ امن اور معاہدہ پر امن بقائے باہمی (Co-existAnce) کیا ۔ آپ نے ان کو اسلام کی دعوت دی جوان کے پاس موجود کتاب تورات کی تصدیق کرتا تھا لیکن یہودیوں نے اس عہد کو وفا نہ کیا ۔ انہوں نے وہی رویہ اختیار کیا جو انہوں نے اس سے پہلے اپنے اللہ اپنے نبیوں کے ساتھ اختیار کیا تھا اور جس کی وجہ سے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ تبصرہ کیا ۔
(آیت) ” ولقد انزلنا الیک ایت بینت وما یکفربھا الا الفسقون او کلما عھدوا عھدا نبذہ فریق منھم بل اکثرھم لا یومنون ولما جاء ھم رسول من عند اللہ مصدق لما معھم نبذ فریق من الذین اوتوا الکتاب کتاب اللہ وراء ظھورھم کانھم لا یعلمون)
” ہم نے تمہاری طرف ایسی آیات نازل کی ہیں جو صاف صاف حق کا اظہار کرنے والی ہیں اور ان کی پیروی سے صرف وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو فاسق ہیں ۔ کیا ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا رہا ہے کہ جب انہوں نے کوئی عہد کیا ‘ تو ان میں سے ایک نہ ایک گروہ نے اسے ضرور بالائے طاق رکھ دیا ؟ بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہیں ‘ جو سچے دل سے ایمان نہیں لاتے ۔ اور جب ان کے پاس ‘ اللہ کی طرف سے کوئی رسول ‘ اس کتاب کی تصدیق وتائید کرتا ہوا آیا جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی ‘ تو ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو اس طرح پس پشت ڈالا گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں ۔ “
جس دن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ‘ اوس اور خزرج اسلام پر جمع ہوئے ‘ یہودی مسلمانوں کے دلی دشمن بن گئے ‘ اس لئے کہ اسلام کی وجہ سے ان قبائل کے اندر یہودیوں کا عمل دخل یکسر ختم ہوگیا ۔ اس مشکل اور عظیم اتحاد کی وجہ سے ہی امت مسلمہ کی قیادت وجود میں آگئی اور اس کی زمام اختیار حضرت محمد ﷺ نے اپنی ہاتھ میں لی اور پورے علاقے سے یہودیوں کے اقتدار کے مواقع ختم ہوگئے ۔
یہودیوں کی مکارانہ ذہنیت کے بس میں جو وسائل اور جو ہتھیار تھے ‘ انہوں نے وہ سب مسلمانوں کے خلاف استعمال کئے ۔ بابل کی اسیری ‘ مصر کی غلامی اور رومن عروج کے زمانے میں گزرنے والی غلامانہ زندگی کے شب وروز میں انہوں نے جو مکاری اور عیاری سیکھی تھی وہ سب انہوں نے اسلام کے خلاف استعمال کی ۔ حالانکہ تمام اقوام اور ملتوں نے ان کے ساتھ جس تنگ دلی کا رویہ اختیار کیا تھا ‘ اسلام نے اس کے برعکس ان کے ساتھ نہایت ہی فراخدلی کا ثبوت دیا ۔ لیکن انہوں نے اسلام کے اس حسن سلوک کا بدلہ اس مکر و فریب سے دیا جو فجر اسلام سے آج تک جاری ہے اور جو نہایت ہی گھٹیا ذہنیت کا غماز ہے ۔
انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جزیرۃ العرب کی تمام قوتوں کو اکٹھا کیا اور رات دن عرب کے متفرق قبائل کو اس مہم کے لئے جمع کرتے رہے ۔
(آیت) ” ویقولون للذین کفروا ھولاء اھدی من الذین امنوا سبیلا “۔ ” وہ ان لوگوں سے کہتے جنہوں نے کفر کی راہ کی کہ یہ ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت کی راہ پر ہیں ۔ “
اور جب اسلام یہودیوں کی سازشوں کے برعکس غالب ہوگیا تو انہوں نے اپنی سازشوں کا رنگ بدلا ۔ انہوں نے اسلامی لٹریچر کے اندر اپنی جانب سے گھڑی ہوئی باتیں داخل کرنے کی پالیسی اختیار کی ۔ صرف کتاب اللہ ان کی دسترس سے باہر رہی ‘ اس لئے کہ اس کی حفاظت کی ضمانت خود اللہ تعالیٰ نے دی تھی انہوں نے مسلمانوں کی صفوں کے اندر اپنے ایجنٹ داخل کئے ۔ جو لوگ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے اور ابھی ان کے ذہن میں پختگی پیدا نہ ہوئی تھی ان کے اندر انہوں نے فتنہ پردازی شروع کردی یہ کام وہ مختلف علاقوں میں کرتے رہے اور آج تک وہ مسلمانوں کے خلاف دنیا کے اطراف واکناف میں لوگوں کو جمع کرتے ہیں ۔ چانچہ اس وقت دنیا کے چپے چپے پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہودیوں نے جال بچھا رکھے ہیں ۔ اس جنگ میں وہ عیسائی اور بت پرست دونوں اقوام کو استعمال کر رہے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کے اندر غیر اسلامی طور طریقے رائج کرتے ہیں اور مسلمان ممالک کے اندر ایسی لیڈر شب سٹیج پر لاتے ہیں جن کے صرف نام مسلمانوں جیسے ہوتے ہیں اور ان کے ذریعے وہ دین اسلام کو بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینکنے کے عمل میں مصروف ہیں ۔
ذرا پھر اللہ تعالیٰ کے اس کلام پر غور فرمائیں : ” تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے ۔ “
٭ جس شخص نے مدینہ کی نوخیز اسلامی مملکت کے خلاف تمام قبائل کو جنگ احزاب میں جمع کیا اور بنی قریظہ اور دوسرے یہودیوں کو جمع کیا اور قریش مکہ اور دوسرے قبائل کو جمع کیا یہ کون تھا ؟ یہودی ۔
٭ وہ شخص جس نے عوام کو برانگیختہ کیا ‘ اشرار کو مدینہ میں جمع کیا ‘ اور مکروہ پروپیگنڈا کیا جس کے نتیجے میں حضرت عثمان شہید ہوئے اور اس کے بعد نہایت ہی تباہ کن واقعات پیش آئے وہ کون تھا ؟ یہودی ۔
٭ وہ لوگ جو احادیث رسول میں موضوعات داخل کرتے رہے وہ کون تھا ؟ یہودی ۔
٭ اسلام کی آخری خلافت ‘ خلافت عثمانیہ کے دور میں قومیت کے نعرے کس نے بلند کئے ‘ عالم اسلام میں انقلابات برپا کرکے اسلامی شریعت اور اسلامی دساتیر کو کس نے منسوک کیا اور جس شخص نے خلافت عثمانیہ کو ختم کر کے سلطان عبدالحمید کے بعد لادینی نظام رائج کیا ‘ وہ کون تھا ؟ اتاترک یہودی ۔
٭ وہ تمام اقدامات جو پورے عالم اسلام میں اور پوری دنیا میں اسلامی تحریکات کے خلاف کئے جاتے ہیں ان کی پشت پر کون ہے ؟ یہودی ۔
٭ اس کرہ ارض پر مادیت اور ملحدانہ نظریات کا موجد کون ہے ؟ یہاں حیوانی اور میلانات ‘ جنسی بےراہ روی کے پھیلانے کی تحاریک کی پشت پر کون ہے ؟ ان تمام نظریات کا پرچار کون کرتا ہے جو تمام مذہبی مقدسات اور شعائر کے خلاف ہیں ؟ صرف اور صرف یہودی ۔
غرض یہودیوں نے اسلام کے خلاف پوری اسلامی تاریخ میں جو معرکہ آرائی کی ہے اس کی داستانی نہایت ہی طویل ہے ۔ اور اس کے مقابلے میں مشرکین اور بت پرستوں نے اسلام کے خلاف جو کچھ کیا وہ بہت ہی کم ہے ۔ زمانہ قدیم میں بھی اور دور جدید میں بھی ۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ مشرکین عرب کے ساتھ اسلام کی معرکہ آرائی مجموعی طور پر صرف بیس سال تک رہی ؟ اس طرح اہل فارس کے ساتھ بھی ایک مختصر عرصہ جنگ رہی ۔ دور جدید میں اگرچہ ہندوستان کے مشرکین بظاہر اسلام کے خلاف لڑتے نظر آتے ہیں لیکن ان کی دشمنی اور جنگ یہودیوں کے مقابلے میں کچ بھی نہیں ہے ۔ عالمی صہیونیت (یاد رہے کہ سوشلزم اور کمیونزم عالمی صہیونیت کی شاخیں ہی تصور ہوتی ہیں) ہمیشہ سے اسلام دشمنی میں پیش پیش رہی ہے اور اس سے قبل یہودیوں نے اسلام کے خلاف جو محاذ آرائی کی اور یہ جس قدر طویل اور وسیع رہی ہے اس کے مقابلے میں صرف صلیبی جنگیں ہی کس قدر وقعت رکھتی ہیں جن پر ہم آگے چل کر بات کریں گے ۔
اگر ہم اللہ تعالیٰ کے ان الفاظ پر بار بار غور کریں ” تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت ” یہود اور مشرکین “ کو پاؤ گے “ تو بات کا حق ہونا واضح ہوجاتا ہے ۔ اس آیت میں مشرکین کے مقابلے میں یہودیوں کو پہلا نمبر دیا گیا ہے اور پھر جب ہم یہودیوں کے اس تاریخی رول کو بھی پیش نظر رکھیں جو انہوں نے اسلام کے خلاف ادا کیا ‘ جس کے کچھ واقعات کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا تو ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس فقرے میں یہودیوں کو کیوں پہلے نمبر پر رکھا ہے ۔
بیشک یہودی نہایت ہی بدفطرت لوگ ہیں ‘ ان کے مزاج میں شر ہے ‘ ان کے دلوں کے اندر اسلام اور نبی اسلام کے خلاف کینہ بھرا ہوا ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ یہاں مسلمانوں اور نبی اکرم کو خبردار فرماتے ہیں اور ان لوگوں کی اس بری اور شریر فطرت پر اگر دنیا میں کسی نے قابو پایا تو وہ اسلام اور مسلمان تھے ‘ لیکن اس وقت جب مسلمان صحیح معنوں میں مسلمان تھے ۔ صرف اسلام ہی تھا ‘ جس نے اس بدفطرت مخلوق سے لوگوں کو نجات دلائی تھی لیکن اس وقت جب اہل اسلام ‘ اسلام کا حق پورا پورا ادا کرتے تھے ۔
(آیت) لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الْیَہُودَ وَالَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الَّذِیْنَ قَالُوَاْ إِنَّا نَصَارَی ذَلِکَ بِأَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُہْبَاناً وَأَنَّہُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُونَ (82) وَإِذَا سَمِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَی الرَّسُولِ تَرَی أَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ الْحَقِّ یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِیْنَ (83) وَمَا لَنَا لاَ نُؤْمِنُ بِاللّہِ وَمَا جَاء نَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن یُدْخِلَنَا رَبَّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِیْنَ (84) فَأَثَابَہُمُ اللّہُ بِمَا قَالُواْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَذَلِکَ جَزَاء الْمُحْسِنِیْنَ (85) وَالَّذِیْنَ کَفَرُواْ وَکَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا أُوْلَـئِکَ أَصْحَابُ الْجَحِیْمِ (86)
” تم اہل ایمان کی عدوات میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاری ہیں ، یہ اس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالم اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور ان میں غرور نفس نہیں ہے ۔ جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اترا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجاتی ہیں ، وہ بول اٹھتے ہیں کہ ” پروردگار ‘ ہم ایمان لائے ‘ ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے ۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ” آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اسے کیوں نہ مان لیں جب کہ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے ؟ “ ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ نے ان کو ایسی جنتیں عطا کیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہ جزاء ہے نیک رویہ اختیار کرنے والوں کے لئے ۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا اور انہیں جھٹلایا ‘ تو وہ جہنم کے مستحق ہیں ۔ “
” ذرا ان آیات پر غور کیجئے ۔ یہ ایک مخصوص صورت حال کی نشاندہی کر رہی ہیں اور ان میں جو فیصلہ ہے یہ بھی ایک مخصوص صورت حال میں ہے ۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیرورکاروں میں سے ایک فریق کے بارے میں ایک تبصرہ ہے جو کہتے تھے کہ ہم ” نصاری “ ہیں اور تبصرہ ان الفاظ میں ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ محبت میں یہ لوگ قریب تر ہیں ۔
لیکن یہ بات یہاں ذہن میں رہنا چاہئے کہ یہ ایک متعین صورت حال پر تبصرہ ہے اس لئے یہ صرف مخصوص صورت حالات پر ہی منطبق ہوگا ۔ اکثر لوگوں نے اس تبصرے کو اچھی طرح نہیں سمجھا ہے ۔ بعض لوگ اس تبصرے کو اس مقصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں کہ اہل اسلام بعض مخالف کیمپوں کے ساتھ اپنے موقف میں نرمی پیدا کرلیں حالانکہ اپنے موقف میں نرمی کرنا اہل اسلام کے لئے نہایت ہی مضر ہے ۔ اس سے دشمن کی پالیسی اور موقف کے سمجھنے میں بھی غلطی ہوسکتی ہے ۔ اس لئے ہم یہاں مناسب سمجھتے ہیں کہ ظلال القرآن میں اس صورت حال کی وضاحت کردیں جس کی تصویر کشی ان آیات میں کی گئی ہے ۔
ان آیات میں جن لوگوں کی تصویر کشی کی گئی ہے وہ ایسے لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ ہم ” نصاری “ ہیں ‘ اور وہ مسلمانوں کی دوستی میں قریب تر ہیں اور یہ لوگ عالم دین اور تاریک الدنیا قسم کے فقیر ہیں اور وہ متکبر اور مغرور بھی نہیں ہیں۔
(آیت) ” ذَلِکَ بِأَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُہْبَاناً وَأَنَّہُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُونَ (82)
” یہ اس لئے کہ ان میں عالم دین اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے “۔ لیکن قرآن مجید بات کو یہاں ہی ختم نہیں کردیتا ۔ نہ بات کو مجمل چھوڑا جاتا ہے ۔ نہ اسے ہر اس شخص کے لئے عام چھوڑ دیا جاتا ہے جو کہتا ہے میں نصرانی ہوں اس گروہ کی تصویر میں کچھ مزید رنگ بھرے جاتے ہیں اور اس گروہ کے موقف کو یوں واضح کیا جاتا ہے ۔