5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 5:39–40

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:39 in the Quran reader

پھر جو ظلم کرنے کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ کی نظر عنایت پھر اس پر مائل ہوجائے گی ‘ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:40 in the Quran reader

کیا تم جانتے نہیں ہو کہ اللہ زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک ہے ؟ جسے چاہے سزا دے اور جسے چاہے معاف کردے ‘ وہ ہر چیز کا اختیار رکھتا ہے ۔

(آیت) ” فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِہِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللّہَ یَتُوبُ عَلَیْْہِ إِنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(39) ” اور وہ دانا وبینا ہے ۔ پھر جو ظلم کرنے کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ کی نظر عنایت پھر اس پر مائل ہوجائے گی ‘ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے) ” اللہ کی حکمرانی ایک ہے ‘ وہ مالک الملک ہے ‘ وہی ہے جو اس دنیا کے لئے قانون بناتا ہے اور آخرت میں پھر اس قانون کے مطابق جزا وسزا مقرر کرتا ہے ۔ ان معاملات میں نہ تعدد ہے ‘ نہ کوئی تقسیم ہے اور نہ یہ معاملات ایک دوسرے سے جدا ہیں ۔ لوگوں کے معاملات اس وقت تک درست نہیں ہوسکتے جب تک حق قانون سازی اور نظام جزاوسزا دنیا اور آخرت دونوں میں ایک ہی ذات باری میں مرتکز نہ کردیا جائے ۔ اس لئے کہ اگر اس کائنات میں صرف اللہ الہ نہ ہوتا اور متعدد الہ ہوتے تو یہ کب کی تباہ ہوچکی ہوتی ۔ پس وہی ہے جو آسمانوں میں بھی الہ ہے اور زمین میں الہ۔ درس نمبر 49 ایک نظر میں : اس سبق میں اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام حیات کا نہایت ہی اہم مسئلہ لیا گیا ہے ۔ اس پر اسلامی نظام حکومت اور اسلامی زندگی کا دارومدا رہے ۔ سورة آل عمران اور سورة نساء میں بھی اس مسئلے کا بار بار ذکر ہوا ہے لیکن یہاں اس سبق میں اسے نہایت ہی واضح اور قطعی شکل میں لے لیا گیا ہے ۔ یہاں اس مسئلے کو اشارۃ النص یا مفہوم آیت کے طور پر نہیں لیا گیا نہ بطور اقتضاء النص لیا گیا ۔ یہاں اسے عبارۃ النص اور قضی الدلالت کے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ یہ مسئلہ نظام حکومت ‘ قانونی نظام اور عدالتی نظام سے متعلق ہے اور اس کی اساس پر مسئلہ توحید ‘ مسئلہ حاکمیت الہیہ اور ایک شخص کے ایمان کے ہونے نہ ہونے کا دارومدار ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ہمارا نظام حکومت ہمارا قانونی نظام اور ہمارا نظام عدالت آیا اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ہوگا ‘ شریعت کے مطابق ہوگا اور ان شرائع کے مطابق ہوگا جو ادیان سماوی میں محفوظ رہی ہیں ۔ سابقہ رسل اور اس رسول آخر الزمان کی شریعت کے مطابق ہوگا یا ہماری خواہشات بدلتی ہوئی خواہشات یا ہمار مصالح اور بدلتے ہوئے مصالح کے مطابق ہوگا جو اللہ کی شریعت کے مطابق نہیں ہیں یا صرف کسی دوریا کسی نسل کے رسم و رواج کے مطابق متغیر اور متبدل ہوتا رہے گا ۔ آیا لوگوں کی زندگی اور اس کرہ ارض پر حاکمیت ‘ ربوبیت اور قیومیت اللہ کی ہوگی یا اس میں سے بعض چیزیں اللہ کی اور بعض دوسرے لوگوں کی ہوں گی ؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے ۔ اس نے لوگوں کے لئے ایک شریعت نازل کی ہے اور یہ شریعت اور قانون اس کی حاکمیت کے مطابق ہے ۔ اس نے لوگوں سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ اللہ کی شریعت پر قائم رہیں گے اور اس کرہ ارض پر یہی شریعت حاکم رہے گی ۔ اور لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اسی شریعت کے مطابق اپنی عدالتیں چلائیں اور انبیاء کا بھی فرض ہے کہ وہ اس کے مطابق کام کریں ۔ انبیاء کے بعد حکام کا فرض بھی یہی ہے کہ وہ اس کے مطابق فیصلے کریں ۔ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ اس مسئلے میں کوئی جھوٹ اور کوئی خود مختاری نہیں ہے ۔ اس مسئلے میں زندگی کے معاملات میں سے چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں انحراف ناقابل برداشت ہے ۔ اگر کوئی پوری نسل کسی بھی دور میں کوئی قانون اس کے مقابلے میں وضع کرے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ نہ کسی قبیلے یا کسی قوم کا کوئی اصول اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت رکھتا ہے الا یہ کہ اللہ نے کسی چیز کا اذن دے دیا ہو ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہاں سوال یا تو ایمان وکفرکا ہے یا اسلام اور جاہلیت کا یا شریعت ہوگی یا نفسانیت ۔ اس معاملے میں نہ کوئی بین بین مقام ہے ۔ نہ نرمی ہے اور نہ مصالحت ہے ۔ مومنین وہی لوگ ہیں جو اللہ کے قانون کے مطابق حکم کرتے ہیں ۔ اس سے ذرہ برابر انحراف نہیں کرتے اور اس میں ایک حرف کی تبدیلی نہیں کرتے ، ظالم ‘ فاسق ‘ اور کافر وہ لوگ ہیں جو اس معاملے میں انحراف کرکے فیصلے اللہ کے قانون شریعت کے مطابق نہیں کرتے ۔ حکمران اگر اللہ کی شریعت کے مطابق حکمران ہوں گے تو وہ دائرہ ایمان میں داخل ہوں گے یا وہ کسی دوسرے آئین ودستور و قانون پر چلتے ہوں گے جس کی اجازت اللہ نے نہ دی ہوگی تو وہ کافر ‘ فاسق اور ظالم ہوں گے ۔ لوگوں کے لئے دو ہی راستے ہیں ‘ یا تو وہ حکام اور ججوں کی جانب سے اللہ کے قانون کے مطابق جاری کردہ فیصلے قبول کریں گے اور اپنی زندگی کے تمام امور میں ایسا کریں گے تو وہ مومن ہوں گے اور اگر وہ یہ راہ اختیار نہ کریں گے تو وہ مومن نہ ہوں گے ۔ ان دو راستوں کے درمیان کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے ۔ نہ اس معاملے میں کوئی حجت بازی کام دے گی ‘ نہ کوئی معذرت قبول ہوگی ‘ نہ کوئی مصلحت قبول ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ بہر حال لوگوں کا رب ہے اور وہی جانتا ہے کہ لوگوں کی مصلحت کس میں ہے ؟ اللہ تعالیٰ لوگوں کی حقیقی بہبود کے لئے قانون سازی کرتا ہے لہذا اللہ کی شریعت اور احکام سے کوئی قانون اور کوئی آرڈر بہتر نہیں ہو سکتا ۔ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اللہ کی شریعت کو تسلیم نہیں کرتا ۔ یا یہ کہ وہ اللہ سے زیادہ لوگوں کی مصلحت کے بارے میں جانتا ہے ۔ اگر کوئی اپنی زبان اور اپنے عمل سے ایسا کہے تو وہ دائرہ ایمان سے خارج تصور ہوگا ۔ یہ ہے وہ عظیم مسئلہ جو اس سبق میں فیصلہ کن انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ اس سبق میں یہودیوں کے حالات بھی بیان کئے گئے ہیں جو مدینہ کے اردگرد پھیلے ہوئے تھے جو منافقین کے ساتھ مل کر اسلام کے خلاف سازشیں کر رہے تھے اور داؤ پیچ لڑا رہے تھے ۔ (آیت) ” من الذین قالوا امنا باافواھھم ولم تو من قلوبھم “۔ (5 : 41) (ان لوگوں سے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ ان کے دل ایمان نہ لائے تھے) اس میں وہ حالات بھی بیان کئے گئے ہیں جن کے مطابق حضور اکرم ﷺ ان سازشوں کا مقابلہ کر رہے تھے اور جن سے یہودی حضور اکرم ﷺ کے زمانہ سے آج تک باز نہیں آئے ۔ اس سبق میں قرآن کی عبارتوں سے کئی باتیں نکلتی ہیں ۔ پہلا فیصلہ تو یہ ہوتا ہے کہ وہ تمام ادیان جو اللہ کی جانب سے نازل ہوئے ان میں تمام فیصلے اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ہوتے رہے ۔ ان کے اندر زندگی کا پورا نظام اللہ کی شریعت پر قائم ہوتا رہا ۔ یہ بات اسلام اور کفر کے اندر حد فاصل رہی ‘ اسلام اور جاہلیت کے اندر فرق و امتیاز کی بنیاد رہی اور شریعت اور ہوائے نفس کے درمیان جدائی کی اساس رہی کہ شریعت کے مطابق فیصلے کراتا ہے اور کون نہیں کراتا ہے۔ توراۃ کو بھی اللہ نے اس لئے نازل فرمایا کہ اس میں ہدایت اور نور تھا ۔ (آیت) ” یَحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّونَ الَّذِیْنَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِیْنَ ہَادُواْ وَالرَّبَّانِیُّونَ وَالأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُواْ مِن کِتَابِ اللّہِ وَکَانُواْ عَلَیْْہِ شُہَدَائ۔ (5 : 44) (سارے نبی جو مسلم تھے ‘ اسی کے مطابق ان یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے اور اسی طرح ربانی اور احبار بھی ۔ (اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے) کیونکہ انہیں کتاب کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے) دوسری جگہ ہے ۔ (آیت) ” وعندھم التورۃ فیھا حکم اللہ “ (5 : 43) (اور انکے پاس تورات ہے جس میں اللہ کا حکم ہے) اور دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے۔ (آیت) ” وکتبنا علیھم علیھم فیھا ان النفس بالنفس) (اور ہم نے اس میں ان پر یہ فرض کردیا کہ جان کے بدلے جان ہوگی ) اور حضرت ابن مریم عیسیٰ (علیہ السلام) کو انجیل دی گئی ۔ (آیت) ” مصدقالما بین یدیہ من التورت وھدی وموعظۃ للمتقین (46) والیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ “۔ (47) (5 : 46۔ 47) (اور وہ تورات میں سے جو کچھ اس وقت موجود تھا اس کی تصدیق کرنے والی تھی اور خدا ترس لوگوں کے لئے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی ، ہمارا حکم تھا کہ اہل انجیل اس قانون کے مطابق فیصلے کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے) پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی پر قرآن کریم نازل فرمایا ۔ (آیت) ” بالحق مصدقالما بین یدیہ من الکتب ومھیمنا علیہ (5 : 48) (سچائی کے ساتھ اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ اور نگہبان ہے) اور نبی آخر الزمان کو حکم دیا گیا : (آیت) ” فاحکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھوآء ھم عما جآءک من الحق (5 : 48) (لہذا تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو) اور پھر کہا : (آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الفسقون “۔ (5 : 47) (جو لوگ اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں وہ فاسق ہیں) اور یہ حکم دیا : (آیت) ” افحکم الجاھلیۃ یبغون ومن احسن من اللہ حکما لقوم یوقنون “۔ (5 : 50) (تو پھر کیا جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں کے نزدیک اللہ بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے) ان آیات سے صاف نظر آتا ہے کہ تمام ادیان کا اس نکتے پر پورا پورا اتفاق رہا ہے ۔ یوں اسلامی حدود متعین ہوجاتی ہیں اور اسلام کی سرائط کا تعین ہوجاتا ہے ۔ محکموں اور عدالتوں کے لئے بھی اور حکام کے لئے بھی ۔ اصل بات یہ ہے کہ تمام فیصلے اللہ کے احکام کے مطابق کئے جائیں اور عوام الناس ان فیصلوں کو قبول کریں ۔ اور اسلامی قانون کو چھوڑ کر دوسرے قوانین اور احکام کے پیچھے نہ بھاگیں ۔ اس فریم ورک میں یہ مسئلہ نہایت ہی اہمیت اختیار کرجاتا ہے اور اس زاویے سے اس پر زور دینے کے اسباب بھی لازما نہایت ہی اہم ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ یہ اسباب کیا ہیں ؟ چاہے ان اسباب کی تلاش ہم ان نصوص کے اندر کریں یا پوری قرآنی آیات وعبارات میں کریں یہ اسباب ہمیں بالکل واضح نظر آتے ہیں ۔ ان میں پہلا سبب یہ ہے کہ یہ دراصل اللہ کی الوہیت اس کی ربوبیت اور حاکمیت کے اقرار کا مسئلہ ہے اور یہ کہ اس کے ساتھ ان امور میں کوئی شریک نہیں ہے ۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اس کے انکار کا مسئلہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ ایمان اور کفر کا معاملہ بن جاتا ہے ۔ اسلام اور جاہلیت کا مسئلہ ہے ۔ یا جاہلیت ہوگی یا اسلام ہوگا ۔ آپ پورے قرآن پر نگاہ ڈالیں ۔ یہ ایک نمائش گاہ ہے لیکن اس میں جہاں دیکھو اس ایک ہی حقیقت کو برائے مشاہدہ پیش کیا گیا ہے ۔۔۔۔ ۔۔ یہ کہ اللہ وحدہ ہی خالق ہے ‘ اسی نے اس پوری کائنات کو پیدا کیا ‘ اسی نے اس انسان کو پیدا کیا ‘ اسی نے اس زمین و آسمان کو اور ان کے درمیان پائے جانے والی تمام اشیاء کو اس انسان کے لئے مسخر کیا ۔ تخلیق صرف اللہ کی ہے اور اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ‘ چاہے یہ مخلوق چھوٹی ہو یا بڑی ‘ تھوڑی ہو یا زیادہ ہو ۔۔۔۔۔ یہ کہ اللہ ہی مالک ہے اور وہ مالک اس لئے ہے کہ وہی خالق ہے ۔ زمینون اور آسمانوں اور ان دونوں کے درمیان اور آسمانوں اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ بھی ہے اس کا مالک ہے اور وہ مالک اس لئے ہے کہ وہی خالق ہے ۔ زمینوں اور آسمانوں اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ بھی ہے اس کا مالک اللہ ہے ‘ وہ منفردا مالک ہے اور اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔۔۔۔۔ پھر یہ کہ اللہ رازق ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی اور ذات انسان کو یا دوسرے جانداروں کو رزق فراہم نہیں کرسکتی نہ کم اور نہ زیادہ ۔ اور پھر کہ اللہ اس کائنات کا شہنشاہ اور اس کے اندر متصرف ہے اور وہ لوگوں کے لئے بھی متصرف الامور ہے ۔ اس لئے کہ وہی خالق ‘ وہی مالک اور وہی رازق ہے اور وہ اس قدر قدرتوں کا مالک ہے جس کی قدرت کاملہ کے بغیر نہ تخلیق ہو سکتی ہے اور نہ رزق مل سکتا ہے اور نہ نفع ونقصان پہنچ سکتا ہے ۔ اسی پوری کائنات پر اس کی حکمرانی ہے ۔ اب ایمان کیا ہے ‘ ان مذکورہ بالاامور کا اقرار ایمان ہے یعنی یہ کہ حاکمیت ‘ ملکیت اور ربوبیت میں اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ یہ خصائص صرف ذات باری کو حاصل ہیں ۔ اسلام درحقیقت سرتسلیم خم کردینے کا نام ہے اور ان خصوصیات کے تقاضوں کے اندر اللہ کی اطاعت کا نام اسلام ہے یعنی الوہیت ‘ ربوبیت ‘ قیومیت اور حاکمیت کا حق صرف ذات باری کو حاصل ہے ‘ اس پوری کائنات پر جس کے اندر انسان اس کا ایک جزء ہے ۔ اللہ کے قضا وقدر کے فیصلوں کا اعتراف اور اس کی شریعت کے قوانین کا اعتراف اس میں شامل ہے ۔ بس اللہ کی شریعت کا اعتراف ہی دراصل اللہ کی الوہیت ‘ ربوبیت اور اس کا حاکمیت اور نگہبانی کا اعتراف ہے ۔ اس شریعت کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کے معنی سب سے پہلے یہ ہیں کہ ہم اللہ کی الوہیت ‘ ربوبیت اور اس کی حاکمیت وقیومیت کا انکار کر رہے ہیں بایں معنی کہ کوئی اپنی زندگی کے تمام جزئی معاملات میں فیصلے کسی اور شریعت و قانون کے مطابق کرے ، اسلام کے سامنے سرتسلیم خم کرنا یا اس کا انکار کرنا چاہے زبان سے ہو یا عمل سے ہو دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسئلہ کفر و ایمان کا مسئلہ ہے ‘ جاہلیت اور اسلام کا مسئلہ ہے اور اسی وجہ سے یہ آیت آئی ہے : (آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون “۔ (5 : 44) (جو لوگ بھی اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہی لوگ کافر ہیں) اور دوسری آیات میں فاسق اور ظالم کے الفاظ آئے ہیں ۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اسلامی شریعت دوسرے شرائع اور قوانین کے مقابلے میں قطعا برتر اور افضل ہے اور اس سبق کی آخری آیت اسی کی جانب اشارہ کر رہی ہے ۔ (آیت) ” ومن احسن من اللہ حکما القوم یوقنون “۔ (5 : 50) (جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہو سکتا ہے ۔ ) اسلامی شریعت کی افضیلت کا یہ اعتراف بھی مسئلہ ایمان کے اندر شامل ہے اور ایک سچے مومن کے نزدیک زندگی کے تمام حالات اور طریقوں میں اللہ کے قانون اور شریعت کو ہی افضل ہونا چاہئے ۔ اس لئے کوئی مومن انسان تو یہ دعوی کر ہی نہیں سکتا کہ انسانی قوانین اللہ کی شریعت سے افضل یا اس کے مماثل ہو سکتے ہیں ۔ کسی پیمانے ‘ کسی حال اور کسی رسم و رواج کے اعتبار سے ۔ اگر کوئی ایسا دعوی کرے گا تو وہ مومن نہ ہوگا نہ وہ مسلم ہوگا ‘ بلکہ اس کے اس دعوے کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ شخص اللہ سے زیادہ لوگوں کے حالات کا جاننے والا ہے اور وہ ان کے حالات کی بابت اللہ سے زیادہ اچھے فیصلے کرنے والا ہے یا اس کے اس دعوے کا مفہوم یہ ہوگا کہ لوگوں کو بعض حالات پیش آئے لیکن ان حالات کا علم اللہ تعالیٰ کو نہ تھا ۔ لوگوں کو بعض ضروریات درپیش تھیں ‘ جو اللہ کی نظروں سے اوجھل تھیں (نعوذ باللہ) اور پھر بھی اللہ نے لوگوں کے لئے قانون سازی کی یا یہ کہ اللہ کو ان کا علم تھا لیکن اس کے باوجود اللہ نے ان کے لئے قانون نہ بنایا ۔ ظاہر ہے کہ ایسے دعو وں کے ساتھ ایمان اور اسلام جمع نہیں ہو سکتے اگرچہ بظاہر اپنی زبان سے کوئی ایمان اور اسلام کا دعوی کرے ۔ اب اس فضیلت کا عملی اظہار کس طرح ہوگا تو اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم اس کی حقیقت تک پوری طرح پہنچ ہی نہیں سکتے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قوانین کی پوری حکمت کا اظہار کسی دور میں بھی پوری طرح نہیں فرمایا ۔ جن حکمتوں کا ذکر ہوا ہے ‘ یہاں ہم فی ظلال القرآن میں ان پر پوری بحث نہیں کرسکتے لہذا یہاں ہم چند جھلکیاں ہی دے سکتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی شریعت ایک کامل اور باہم مربوط نظام حیات ہے ۔ اس کے اندر انسان کے لئے راہنمائی ‘ اس کی زندگی کی تنظیم اور ہر جہت سے اس کی تعمیر و ترقی کا سامان موجود ہے ۔ یہ نظام اس انسانی زندگی کے ہر قسم کے حالات اور ہر زمان ومکان میں اس کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے ۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو اس انسان کی شخصیت اور اس کے نفس کے بارے میں نہایت ہی گہرے علم پر مبنی ہے اور اس میں اس کی پوری ضروریات کا حل موجود ہے ۔ یہ نظام اس پوری کائنات کی ماہیت کو پیش نظر رکھ کر وضع کیا گیا ہے اور اس نظام کی تشکیل میں انسانوں کی فطرت اور اس کائنات کے طبعی قوانین کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے جو اس پوری کائنات کے اندر کار فرما ہیں اس لئے اس نظام میں انسانی زندگی کے معاملات کے اندر کوئی افراط وتفریط نہیں ہے اور اس میں فطرت انسانی کے ساتھ کوئی تصادم نہیں ہے ۔ نہ یہ فطری میلانات کے اندر توڑ پھوڑ کرتا ہے اور نہ انسان کی فطری سرگرمیوں پر بندشیں عائد کرتا ہے ۔ اس نظام اور موامیس فطرت کے اندر کوئی تصادم بھی نہیں ہے بلکہ اس نظام پر عمل کرنے کے نتیجے میں اس کے اندر اور موامیس فطرت کے اندر نہایت ہی بہترین توازن ‘ اعتدال اور ہم آہنگی پیدا ہوجاتی ہے ۔ یہ وہ چیز ہے جو کسی دوسرے انسانی نظام کے اندر کبھی بھی پیدا نہیں ہوئی ۔ انسان تو محض ظاہری باتوں ہی کو جانتا ہے اور ایک انسان ایک متعین دور میں زندگی پاتا ہے ۔ وہ اپنے دور کے حالات کے مطابق ہی کچھ ظاہری باتوں کو سمجھ سکتا ہے ۔ انسان خود جو نظام بھی وضع کرتا ہے اس کے اندر انسانی جہالت کے آثار بہرحال پائے جاتے ہیں اور اس کے وضع کردہ نظام کے بعض تباہ کن اثرات بھی انسانی زندگی کے بعض پہلوؤں پر ظاہر ہوجاتے ہیں ۔ انسان کی فطرت اور ان وضعی قوانین کے اندر تباہ کن تصادم کے نتیجے میں انسانیت تباہ کن جھٹکوں سے دو چار ہوتی رہتی ہے ۔ سب سے پہلے یہ کہ اسلامی نظام ‘ عدل مطلق پر قائم ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ہی صحیح طرح اس بات کو جانتا ہے کہ عدل کن زرائع سے قائم کیا جاسکتا ہے اور کس طرح وہ بار آور ہو سکتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی سب کا رب ہے اس لئے سب کے درمیان انصاف کرنا بھی اسی کا حق ہے ۔ اللہ کا نظام ذاتی خواہش ‘ کسی خاص رجحان اور ہر قسم کے نقص سے ایسے ہی پاک ہوتا ہے جس طرح وہ نظام جہالت ‘ نقص اور افراط وتفریط سے پاک ہوتا ہے ۔ یہ وہ اوصاف ہیں کہ جو کسی ایسے نظام زندگی میں جمع نہیں ہو سکتے جو انسان کا بنایا ہوا ہو ‘ اس لئے کہ انسان کے اندر شخصی خواہشات بھی ہوتی ہیں ‘ ذاتی رجحانات بھی اس کے اندر ہوتے ہیں اور انسان کے اندر شخصی خواہشات بھی ہوتی ہیں ‘ ذاتی رجحانات بھی اس کے اندر ہوتے ہیں اور انسان کے اندر جہل اور دوسرے نقائص بھی ہوتے ہیں چاہے یہ قانون کوئی فرد بنائے یا کوئی طبقہ بنائے یا کوئی پوری قوم بنائے یا کسی خاص زمانے کی پوری نسل انسانی بنا دے یا انسانوں کے تمام ادوار کی نسلیں اسے بنائیں اس لئے کہ ان تمام قانون سازوں کے اپنے میلانات اور رجحانات ہوتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی ذاتی خواہشات اور مفادات ان پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا تمام حالات میں قانون ساز جہالت نقص اور عجز سے پاک نہیں ہوتے اور وہ کسی ایک زمان ومکان کے اندر بھی معاملے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ نہیں کرسکتے ۔ پھر اسلامی نظام ایک ایسا نظام ہے جو اس پوری کائنات کے ناموس کے ساتھ ہم آہنگ ہے اس لئے کہ اسلامی نظام اللہ کا نظام ہے اور ناموس کائنات بھی اللہ کا جاری کردہ ہے ۔ اللہ کی ذات ہی اس کائنات کی صانع ہے اور وہی اس انسان کی بھی صانع ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے جب انسان کے لئے کوئی ضابطہ بنایا ہے تو وہ ایسا ہی ہے جس طرح اس نے کائنات کے ایک حصے کے لئے ضابطہ بنایا ہے ۔ ذات باری اس پوری کائنات کے تمام عناصر پر غالب ہے اور ان پر نہگبان ہے ۔ یہ تمام عناصر اللہ کی ہدایت پر رواں و ودواں ہیں اور یہ تمام عناصر ان قوانین کو جانتے ہیں جوان پر حکمران ہیں۔ یہ قوانین ان پر ان کے خالق کے حکم سے حکمران ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام میں ایک انسان اور اس کے ارد گرد پھیلی ہوئی اس کائنات کے اندر ایک قسم کی ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ اس طرح ضابطہ شریعت جو اس انسان کی زندگی کی تنظیم کرتا ہے ایک کائناتی مزاج اپنے اندر رکھتا ہے اور یہ ضابطہ صرف انسانی نفس کے ساتھ معاملہ نہیں کرتا نہ صرف اپنے بنی نوع انسان کے ساتھ ہی نہیں کرتا بلکہ یہ معاملہ زندہ اور غیر زندہ اشیاء کے ساتھ ہوتا ہے اور اس پوری کائنات کے ساتھ ہوتا ہے جس میں وہ زندہ وجود رہ رہا ہے اور اس سے وہ نکل نہیں سکتا اور اسے اس کائنات کے اندر اس کے ساتھ جڑ کر زندہ رہنا ہے ۔ امن اور آشتی کے ساتھ ۔ پھر یہ واحد نظام زندگی ہے جس میں ایک انسان تمام دوسرے انسانوں کی غلامی سے پوری طرح آزاد ہوجاتا ہے ۔ اسلام کے سوا تمام نظام ہائے زندگی میں انسان انسانوں کے غلام ہوتے ہیں اور صرف اسلامی نظام ہی میں تمام لوگ تمام دوسرے لوگوں کی غلامی سے نکل آتے ہیں اور اس میں وہ صرف اللہ کے بندے ہوتے ہیں سب کے سب ۔ جیسا کہ اس سے پہلے ہم بار بار بیان کر آئے ہیں اللہ کی خصوصیات میں سے اہم ترین خصوصیت اللہ کی حاکمیت ہے ۔ اور جو شخص خود انسانوں کے لئے قانون بناتا ہے وہ یہ خصوصیت اپنے لئے خاص کرلیتا ہے اور ان انسانوں کے اندر ایک طرح کی الوہیت کا مدعی بن جاتا ہے ۔ یہ لوگ جو اس کو انسان کا قانون مانتے ہیں وہ اس انسان کے بندے بن جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی بندگی سے نکل آتے ہیں ۔ یہ لوگ اس دین پر ہوتے ہیں ‘ اللہ کے دین پر نہیں ہوتے ۔ اسلام جب حق قانون سازی صرف اللہ کے سپرد کرتا ہے تو وہ لوگوں کو تمام انسانوں کی بندگی سے خارج کر کے اسے صرف اللہ کی بندگی میں داخل کردیتا ہے ۔ انسان کی آزادی کا اعلان کرتا ہے بلکہ اسلام انسان کے لئے ایک نئے جنم کا اعلان کرتا ہے ۔ اس طرح کہ انسان کی گردن جب تک دوسرے انسان کے حق سے آزاد نہ ہو ‘ اس وقت تک وہ آزاد تصور نہیں ہوتا اور جب تک یہ تمام انسان رب الناس کے سامنے مساوی سطح پر کھڑے نہیں ہوجاتے ۔ یہ مسئلہ جوان آیات میں لیا گیا ہے یہ اسلامی عقیدے اور اسلامی نظریہ حیات کا نہایت ہی اہم اور خطرناک مسئلہ ہے ۔ یہالوہیت اور عبودیت کا مسئلہ ہے ۔ یہ عدالت اور اصلاح کا مسئلہ ہے ۔ یہ حریت اور مساوات کا مسئلہ ہے ۔ یہ پوری انسانیت کی آزادی اور نئے جنم کا مسئلہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسے کفر اور ایمان کا مسئلہ قرار دیا گیا ہے اور اسے اسلام اور جاہلیت کے امتیاز کا مسئلہ قرار دیا گیا ہے ۔ جاہلیت کسی ایک دور کا نام نہیں ہے ۔ یہ ایسی حالت کا نام ہے جس کے کچھ بنیادی عناصر ترکیبی ہیں۔ جہاں بھی اس کے عناصر اور مقومات پائے جائیں وہاں جاہلیت موجود ہوجاتی ہے ۔ اس کے یہ عناصر جس نظام اور جس صورت حالات میں پائے جائیں وہ نظام جاہلی نظام ہوگا اور اس حالت کو حالت جاہلیت کہیں گے ۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی یہ ہے کہ کوئی قانون سازی اور حکمرانی میں انسانی خواہشات کا تابع ہوجائے اور اسلامی نظام اور اللہ کی شریعت کے تابع نہ ہو ۔ یہ خواہشات چاہے کسی فرد کی خواہشات ہوں ‘ چاہے کسی طبقے کی خواہشات ہوں چاہے کسی ایک قوم کی خواہشات ہوں یا پوری نسل انسانی کی خواہشات اس لئے کہ یہ سب خواہشات اور یہ سب لوگ جب تک اللہ کی شریعت کے تابع نہ ہوں گے یہ نفسانی خواہشات ہی رہیں گی ۔ اگر ایک فرد کسی سوسائٹی کے لئے قانون سازی کرے تو یہ جاہلیت ہے ‘ اس لئے کہ اس صورت میں اس کی خواہش قانون ہوگی ۔ اس کی رائے قانون ہوگی ‘ اور اس ضمن میں اگر کوئی فرق ہے تو صرف الفاظ کا ہے ۔ اصل حقیقت وہ ہے جو ہم کہہ رہے ہیں ۔ یا کوئی ایک طبقہ تمام طبقات کے لئے قانون سازی کر رہا ہو تو یہ صورت حال بھی جاہلیت ہوگی ۔ اس صورت میں اس طبقے کی مفادات قانون کی شکل میں اختیار کرلیں گے ، یا اس طبقے کی پارلیمنٹ میں اکثریت کی رائے قانون بن جائے گی اس صورت میں فرق اگر کوئی ہے تو صرف الفاظ کا ہے ۔ یا پھر اگر حق قانون سازی تمام طبقات کے نمائندوں کو حاصل ہے اور امت کے تمام گروہوں کو حاصل ہے تو بھی یہ صورت حال جاہلی صورت حال ہے ‘ اس لئے کہ لوگوں کی آراء کسی وقت بھی ذاتی خواہشات سے پاک نہیں ہوتیں۔ پھر اس قانون سازی میں جہالت بھی شامل ہوگی کیونکہ لوگ جاہلیت سے کبھی پاک نہیں ہوتے یا پھر اگر ریفرنڈم کی صورت ہو تو پوری قوم کی اغلبیت کی رائے قانون ہوجائے گی ۔ اب بھی فرق اگر کوئی ہوگا تو صرف الفاظ کا ہوگا ۔ اس سے بھی وسیع دائرے میں پوری اقوام کا مجموعہ اگر کوئی قانون سازی کرتا ہے تو وہ بھی جاہلیت ہوگی ‘ کیونکہ ان اقوام کے قومی مقاصد قانونی صورت اختیار کرلیں گے یا بین الاقوامی مجالس کی جو رائے بنے گی وہ قانون ہوجائے گی اور یہ نظام بھی جاہلی ہوگا ۔ فرق اگر کوئی ہوگا تو صرف الفاظ کا ہوگا ۔ اب تمام افراد ‘ تمام سوسائٹیوں ‘ تمام اقوام اور تمام نسلوں کا خالق اگر کوئی قانون بناتا ہے تو یہ قانون تمام لوگوں کے لئے ہوگا اور یہ اللہ کی شریعت ہوگی ۔ اس میں کسی ایک کو نقصان دے کر دوسرے کو فاہدہ نہیں پہنچایا جاتا ۔ اس میں کسی فرد ‘ کسی سوسائٹی اور کسی بین الاقوامی انجمن یا کسی پوری نسل انسانی کے ساتھ مخصوص باتوں کو مدنظر نہیں رکھا جاتا اس لئے کہ اللہ سب کے لئے رب العالمین ہے اور اس کے ہاں سب کا رتبہ برابر ہے ۔ پھر وہ سب کی مصلحت اور مفاد کو بھی اچھی طرح جانتا ہے اور یہ سب امور افراط اور تفریط سے بھی پاک ہوتے ہیں ۔ اب اگر کوئی اور قانون سازی کرے تو یقینا لوگ اس غیر کے غلام ہوں گے چاہے یہ غیر اللہ جو بھی ہو ۔ فرد ہو ‘ سوسائٹی ہو یا طبقہ ہو یا قوم ہو یا انجمن اقوام ہو ۔۔۔۔۔ لیکن اللہ کی قانون سازی میں تمام لوگ آزاد ہوجاتے ہیں ‘ مساوی سطح پر آجاتے ہیں ۔ ان کے ماتھے اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتے ۔ وہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسئلہ انسانوں کی زندگی میں نہایت ہی اہمیت رکھتا ہے اور خود اس نظام کائنات کے اندر بھی اس کی اہمیت ہے ۔ (آیت) ” لو اتبع الحق اھوائھم لفسدت السموات والارض ومن فیھن “۔ (اگر سچائی لوگوں کی خواہشات کے تابع ہوجائے تو آسمانوں اور زمینوں اور ان کے درمیان میں ان کے معاملات میں بھی فساد ہوجائے ) اس لئے اللہ کے سوا کسی اور کے مطابق فیصلے کرنے کی معنی ہیں شروفساد اور آخر کار اس کی وجہ سے انسان دائرہ ایمان سے خارج ہوجاتا ہے ۔ ذرا قرآنی آیات کو غور سے پڑھیں ۔ یہ اس نص کا تقاضا ہے ۔
Ayah 5:41

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ تمہارے لئے باعث رنج نہ ہوں وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بڑی تیز گامی دکھا رہے ہیں خواہ وہ ان میں سے ہوں جو منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے مگر دل ان کے ایمان نہیں لائے یا ان میں سے جو یہودی ہیں ‘ جن کا حال یہ ہے کہ جھوٹ کیلئے کان لگاتے ہیں ‘ اور دوسرے لوگوں کی خاطر جو تمہارے پاس کبھی نہیں آئے سن گن لیتے پھرتے ہیں ‘ کتاب اللہ کے الفاظ کو ان کا صحیح محل متعین ہونے کے باوجود اصل معنی سے پھیرتے ہیں اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو نہیں تو نہ مانو۔ جسے اللہ ہی نے فتنہ مین ڈالنے کا ارادہ کرلیا ہو اس کو اللہ کی گرفت سے بچانے کیلئے تم کچھ نہیں کرسکتے ، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہ چاہا ‘ ان کیلئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں سخت سزا۔

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی ہجرت کے بعد ابتدائی سالوں میں نازل ہوئیں ‘ اس دور میں جب یہودی بدستور مدینہ میں موجود تھے ‘ کم از کم غزوہ احزاب سے پہلے کے زمانہ میں اور اس سے پہلے جب بنی قریظہ کو سزادی گئی یا اس سے بھی زیادہ پہلے یعنی یہ اس دور میں نازل ہوئی ہیں جب بنی نضیر اور بنی قینقاع مدینہ کے اردگرد موجود تھے ۔ ان میں سے اولی الذکر احد کے بعد اور آخر الذکر احد سے پہلے جلاوطن ہوئے ۔ اس دور میں یہودی مسلمانوں کے خلاف اپنی سازشوں میں مصروف تھے اور اس دور میں منافقین ان کے ہاں اس طرح پناہ لینے کے لئے گھستے تھے جس طرح سانپ اپنے سوراخ میں گھستا ہے اور یہ دونوں کفر میں بہت ہی آگے بڑھنے والے تھے ۔ اگرچہ منافقین منہ سے یہ کہتے تھے کہ ہم ایمان لائے ہیں مگر ان لوگوں کا طرز عمل رسول اللہ ﷺ کو بہت ہی پریشان کئے ہوئے تھا اور اس سے آپ کو بہت ہی اذیت پہنچتی تھی ۔ اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کی تعزیت اور دلجوئی فرماتے ہیں اور انکے لئے لوگوں کے یہ کرتوت قابل برداشت بناتے ہیں ۔ ساتھ ہی جماعت مسلمہ کے سامنے ان لوگوں کی حقیقت کھول دیتے ہیں کہ یہ کفر میں بہت تیز ہیں اور ان میں یہ دونوں فرقے شامل ہیں ۔ آپکو اس طرز عمل کی ہدایت دی جاتی ہے جو ان کے ساتھ اختیار کیا جانا ضروری ہے جبکہ وہ آپ کے پاس فیصلے کرانے کے لئے آتے ہیں اور اس کے بعد آتے ہیں جب آپ ﷺ پر ان کی سازشیں بھی طشت ازبام ہوجاتی ہیں جو انہوں نے حضور ﷺ کے پاس آنے سے قبل ہی آپس میں کی ہوئی ہوتی ہیں ۔ (آیت) ” نمبر 41۔ ” اے پیغمبر ﷺ تمہارے لئے باعث رنج نہ ہوں وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بڑی تیز گامی دکھا رہے ہیں خواہ وہ ان میں سے ہوں جو منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے مگر دل ان کے ایمان نہیں لائے یا ان میں سے جو یہودی ہیں ‘ جن کا حال یہ ہے کہ جھوٹ کیلئے کان لگاتے ہیں ‘ اور دوسرے لوگوں کی خاطر جو تمہارے پاس کبھی نہیں آئے سن گن لیتے پھرتے ہیں ‘ کتاب اللہ کے الفاظ کو ان کا صحیح محل متعین ہونے کے باوجود اصل معنی سے پھیرتے ہیں اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو نہیں تو نہ مانو۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ‘ جنہوں نے بعض جرائم کا ارتکاب کیا تھا ۔ ان جرائم کے تعین میں روایات کے اندر اختلاف ہے بعض میں ہے کہ یہ جرم سرقہ تھا ۔ بعض میں ہے کہ یہ جرم زنا تھا اور یہ دونوں جرائم تورات کے مطابق جرائم حدود تھے لیکن یہودیوں نے اپنے ہاں کچھ دوسرے قوانین وضع کئے ہوئے تھے ۔ اس کا پہلا سبب تو یہ تھا کہ یہ لوگ تورات کی حدود اپنے ہاں شرفاء پر نافذ نہ کرتے تھے ۔ اس کے بعد تمام لوگوں پر انہیں نے نرمی کرکے ان سزاؤں کو موقوف کردیا تھا ۔ ان حدود کی جگہ انہوں نے از خود کچھ تعزیری سزائیں مقرر کرلی تھیں ۔ جس طرح آج کے نام نہاد مسلمانوں نے اپنے ہاں ایسا ہی کر رکھا ہے ۔ جب حضور ﷺ کے دور میں ان سے جرائم کا صدور ہوا تو انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ان کے بارے میں حضور ﷺ سے دریافت کریں گے ۔ اگر حضور ﷺ نے بھی انہی خفیف تعزیری سزاؤں کے بارے میں حکم دیا تو وہ انہیں نافذ کردیں گے اور اللہ کے ہاں ان کے لئے عذر ہوگا کہ ایک رسول نے ان کا فتوی دیا تھا اور اگر رسول اللہ ﷺ نے بھی وہی فتوی دیا تو تورات میں ہے تو وہ اسے رد کردیں گے ۔ انہوں نے اپنے کچھ لوگوں کو حضور ﷺ کے پاس فتوی کے لئے بھیجا اور انہی کے بارے میں یہ آتا ہے : (آیت) ” ان اوتیتم ھذا فخذواہ وان لم توتوہ فاحذروا (5 : 41) (اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو ورنہ نہیں) (آیت) ” من الذین قالوا امنا بافواھھم ولم تو من قلوبھم (5 : 41) (ان لوگوں میں سے جو اپنے منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے حالانکہ ان کے دل مومن نہ تھے) کیا یہ لوگ دین کے خلاف فتوے طلب نہیں کرتے ‘ نفاذ کے لئے نہیں بلکہ دین سے پھیرنے والے ۔ کیا یہ لوگ دین پر ہاتھ محض اس لئے نہیں پھیرتے کہ وہ ان کی خواہشات کو پورا کرے اور انکی مرضی کے مطابق اس پر سائن کر دے ۔ اگر دین ان کو حق بات کہہ دے اور ان کو سچائی کے مطابق اپنا فیصلہ سنا دے تو ان لوگوں کو پھر دین کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ پھر یہ کہتے ہیں : (آیت) ” یقولون ان اوتیتم ھذا فخذوہ وان لم توتوہ فاحذروا “۔ (5 : 41) (اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو ورنہ نہیں ) یہ ہے ان کا حال ۔ اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا یہ قصہ اپنی پوری تفصیلات کے ساتھ محض اس لئے بیان کیا تاکہ آنے والی نسلیں اس سے عبرت پکڑی اور سمجھدار لوگ اس راہ میں پھسلنے کے مقامات کے بارے میں قبل از وقت متنبہ ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں جو کفر میں بہت تیزی دکھا رہے ہیں اور ان لوگوں کے بارے میں جو اسلام کے خلاف راتوں کے وقت مشورہ کرتے ہیں اور خفیہ کھیل کھیلتے ہیں یہ فیصلہ سناتا ہے کہ یہ لوگ فتنے کی راہ پر چل پڑے ہیں اور اس فتنے کے گڑھے میں انہیں خواہ مخواہ گرنا ہے ۔ اس میں آپ کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ آپ ان لوگوں سے یہ فتنہ دور نہیں کرسکتے اس لئے کہ یہ اس راستے میں بہت آگے نکل گئے ہیں ۔ (آیت) ” ومن یرد اللہ فتنتہ فلن تملک لہ من اللہ شیئا ۔۔۔۔ (41) ”(جسے اللہ ہی نے فتنہ مین ڈالنے کا ارادہ کرلیا ہو اس کو اللہ کی گرفت سے بچانے کیلئے تم کچھ نہیں کرسکتے) ان لوگوں کے دل ناپاک ہوگئے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے افکار کی تطہیر نہیں چاہتے ‘ اس لئے یہ لوگ اسی طرح گندگیوں میں پڑے رہیں گے ۔ (آیت) ” اولئک الذین لم یرد اللہ ان یطھر قلوبھم۔۔۔۔۔ (41) ”(یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہ چاہا) جلد ہی اللہ ان کو اس دنیا میں شرمندہ کرے گا اور آخرت میں تو ان کے لئے عذاب عظیم تیار ہے ۔ (آیت) ” نمبر 41۔ (ان کیلئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں سخت سزا۔ ) اس لئے آپ ﷺ پر ان لوگوں کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور آپ ان کی کفریہ روش سے پریشان نہ ہوں ۔ آپ ان کے معاملے میں کوئی بات نہ کریں اس لئے کہ ان کے معاملے کا فیصلہ ہوچکا ہے ۔ اس کے بعد ان لوگوں کے مزید حالات بیان کئے ہیں اور یہ بتایا گیا کہ یہ لوگ اپنے طرز عمل اور اخلاقی بگاڑ سے اگرچہ بہت دور نکل گئے ہیں لیکن پھر بھی اگر یہ لوگ آپ کے پاس فیصلہ لے کر آتے ہیں تو ان کے درمیان فیصلہ نہایت عادلانہ کریں ۔
Ayah 5:42

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

یہ جھوٹ سننے والے اور حرام کے مال کھانے والے ہیں ‘ لہذا اگر یہ تمہارے پاس (اپنے مقدمات لے کر) آئیں تو تمہیں اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہو ان کا فیصلہ کرو ورنہ انکار کر دو تو یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے ‘ اور فیصلہ کرو تو پھر ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

(آیت) ” نمبر 42۔ ” یہ جھوٹ سننے والے اور حرام کے مال کھانے والے ہیں ‘ لہذا اگر یہ تمہارے پاس (اپنے مقدمات لے کر) آئیں تو تمہیں اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہو ان کا فیصلہ کرو ورنہ انکار کر دو تو یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے ‘ اور فیصلہ کرو تو پھر ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے “۔ مکرر طور پر یہاں بتایا جاتا ہے کہ یہ جھوٹ سننے کے عادی ہیں ‘ جس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ اس کے عادی ہوگئے ہیں ۔ جھوٹ اور باطل اور ناحق سننے کے لئے انکے کان کھڑے ہوجاتے ہیں اور خوشی سے لپکتے ہیں اور سچائی اور حق سننے سے انہیں سخت انقباض ہوتا ہے ۔ اور اس قسم کی گمراہ اور منحرف سوسائٹیوں میں ہمیشہ باطل اور جھوٹ کو خوب کان لگا کر سنا جاتا ہے اور انسان کے دل و دماغ اگر فساد کا شکار ہوجائیں تو ان کی یہی حالت ہوتی ہے ۔ روح جب بجھ جاتی ہے تو وہ باطل کی تلاش میں رہتی ہے اور سچائی اسے بہت ہی ناپسند ہوتی ہے ۔ ایسے ادوار میں باطل کو خوب رواج نصیب ہوتا ہے ‘ اس کا چرچا ہوتا ہے اور سچائی ان ملعون ادوار میں بدحال ہوتی ہے ۔ یہ لوگ نہایت ہی دلچسپی سے باطل کی طرف کان دھرتے ہیں کیونکہ ان کا عمل حرام خوری ہوتا ہے ۔ السحت کا مفہوم ہے ہر وہ چیز جو حرام ہے ۔ مثلا سود رشوت ‘ تقریر کی اجرت اور فتوی کی اجرت وغیرہ ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو انکی حرام خوریوں میں سرفہرست ہیں اور ہر دور میں جب کوئی معاشرہ اسلامی قدروں سے منحرف ہوجائے تو اس میں یہ ذمائم بہت ہی زیادہ ہوجاتے ہیں اور حرام چیزوں کو السحت کے لفظ سے اس لئے ادا کیا گیا ہے کہ حرام کی وجہ سے مال سے برکت ختم ہوجاتی ہے اور تمام منحرف اور بےراہ رو معاشروں سے ہر قسم کی برکات ختم ہوجاتی ہے ۔ جیسا کہ آج ہم لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ آج ان تمام معاشروں میں جو اللہ کی نظام حیات سے انحراف اختیار کئے ہوئے ہیں ‘ کوئی برکت نہیں رہی ہے ۔ ہر طرف کمی ہی کمی ہے ۔ ان لوگوں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو اختیار دیتے ہیں کہ اگر یہ لوگ فیصلے لے کر آپ کے پاس آئیں تو آپ یا تو اعراض کرلیں اور ان کے درمیان کوئی فیصلہ نہ کریں تو بھی یہ لوگ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اگر آپ چاہیں تو ان کے درمیان نہایت ہی منصفانہ فیصلہ کریں ۔ ان کی خواہشات سے ہر گز متاثر نہ ہوں ۔ اس بات سے بھی متاثر نہ ہوں کہ یہ لوگ کفر کی راہ میں بہت تیز ہیں اور یہ کہ وہ سازشیں کرتے اور مسلمانوں کے خلاف ہر چال چلتے ہیں ۔ اس لئے کہ (آیت) ” ان اللہ یحب المقسطین “۔ (5 : 42) (اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے) رسول اللہ ﷺ ایک مسلمان حاکم اور ایک مسلمان جج انصاف کے حوالے سے معاملہ اللہ کے ساتھ کرتا ہے وہ انصاف اللہ کے خوف سے اور اللہ کی رضا کے لئے کرتا ہے اس لئے کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ اگر لوگ ظلم کریں ‘ خیانت کریں اور راہ حق سے منحرف ہوجائیں ‘ تو پھر بھی عدل اس سے بالا ہے کہ ان کا طرز عمل کیا ہے ؟ اس لئے کہ انصاف لوگوں کی خاطر نہیں ہوتا ‘ بلکہ اللہ کی خاطر ہوتا ہے اسلامی شریعت میں اس کی پوری پوری ضمانت دی گئی ہے اور اسلامی عدلیہ نے ہر زمان ومکان میں اس پر عمل کیا ہے ۔ یہودیوں کو یہ اختیارات دینا کہ وہ اپنے فیصلے خود کریں ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات بہت ہی ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہیں ۔ بعد کے ادوار میں اسلامی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنا لازمی ہوگیا تھا اس لئے کہ دارالاسلام میں صرف اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے کئے جاسکتے ہیں ۔ دارالاسلام کے باشندوں پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنے فیصلے شرعی قانون کے مطابق کریں ۔ اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلامی معاشرے میں اہل کتاب کے متعلق یہ خاص اصول وضع کیا گیا ہے کہ ان کے فیصلے خود ان کی شریعت کے مطابق کئے جائیں گے مثلا یہ کہ ان کے لئے وہ معاملات جائز ہوں گے جو ان کی شریعت میں جائز ہیں ۔ مثلا خنزیر کی ملکیت ‘ اس کا گوشت کھانا ‘ شراب کی ملکیت اور شراب پینا (ہاں مسلمانوں پر فروخت کرنے کی اجازت نہ ہوگی) نیز ان پر سودی کاروبار کرنا حرام ہوگا ‘ اس لئے کہ اہل کتاب کے ہاں بھی سودی کاروبار کرنا حرام ہے ۔ اسی طرح حد زنا ‘ حد سرقہ بھی ان پر نافذ ہوگی ‘ کیونکہ ان کی کتابوں میں بھی یہ حدود نافذ ہیں ۔ بغاوت ‘ فساد فی الارض اور دوسری عام تعزیری سزائیں ان پر بھی اسی طرح نافذ ہوگی جس طرح عام مسلمانوں پر نافذ ہوتی ہیں ۔ اس لئے کہ یہ امور دارالاسلام کے امن وامان کے لئے ضروری ہیں چاہے مسلمان ہوں یا غیر مسلم اور اس معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں کی جاسکتی ۔ اس اختیاری دور میں ‘ جس میں ان کو یہ چھوٹ تھی کہ اگر وہ چاہیں تو اپنے فیصلے خود اپنے قوانیں کے مطابق کرسکتے ہیں ‘ یہ لوگ اپنے بعض تنازعات حضور ﷺ کے پاس لے کر آتے تھے ۔ مثلا امام مالک (رح) نے حضرت نافع کے رابطے سے عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے :” یہودی حضور ﷺ کے پاس آئے ۔ انہوں نے حضور ﷺ سے ذکر کیا کہ ان میں سے ایک مرد اور عورت نے زنا کا ارتکاب کیا ہے تو آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ رجم کے بارے میں تورات کے اندر کیا پاتے ہو ؟ تو انہوں نے کہا ہم ان کو شرمندہ کریں گے اور اس کے بعد کوڑے ماریں گے ۔ عبداللہ ابن سلام نے کہا تم جھوٹ بولتے ہو ۔ توراۃ میں تو سزائے رجم مذکور ہے ۔ وہ تورات لائے اور اسے کھولا ۔ ان میں سے ایک نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھ دیا ۔ سابق اور لاحق کو پڑھ لیا ۔ عبداللہ ابن سلام نے کہا ذرا ہاتھ اٹھاؤ ۔ اس نے ہاتھ اٹھایا تو نیچے آیت رجم لکھی ہوئی تھی ۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے یہ آیت رجم ہے ۔ اس پر حضور ﷺ نے حکم دیا کہ ان کو رجم کردیا جائے ، میں نے خود دیکھا کہ مرد اس عورت پر جھکتا تھا اور اسے پتھروں سے بچاتا تھا ۔ (بخاری مسلم ‘ الفاظ بخاری کے ہیں) اسی طرح امام مسلم نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے ۔۔۔۔۔ یہ آیات یہودیوں کے دو گروہوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ۔ ایک گروہ نے جاہلیت میں دوسرے کو اس فیصلے پر مجبور کر دیا تھا کہ جو مقتول کسی ذلیل طبقے سے ہو اور اسے معزز قاتل نے قتل کیا ہو تو اس کی دیت 50 وسق ہوگی اور اگر کوئی ذلیل شخص کسی معزز شخص کو قتل کر دے تو اس کی دیت ایک سو وسق ہوگی ۔ مدینہ میں یہ لوگ اسی طرح فیصلے کرتے تھے یہاں تک کہ حضور ﷺ وارد مدینہ ہوئے ، انہی دونوں ایک ذلیل طبقے کے شخص نے ایک معزز شخص کو قتل کردیا ۔ اس پر معزز قبیلہ نے مطالبہ کیا کہ اسے سو وسق دیت ادا کی جائے ۔ اس پر ذلیل قبیلے کے لوگوں نے کہا ‘ کیا یہ فرق ان دو قبائل کے اندر جائز ہے جن کا دین ایک ہے ‘ نسب ایک ہے ‘ شہر ایک ہے اور بعض کی دیت بعض دوسروں سے نصف ہے ۔ یہ دیت جو ہم ادا کرتے رہے ہیں یہ تو تمہاری جانب سے مظالم کی وجہ سے ادا کرتے رہے ہیں اور تم نے زبردستی یہ فرق و امتیاز قائم کردیا تھا ۔ اب چونکہ حضرت محمد ﷺ تشریف لا چکے ہیں اس لئے ہم دگنی دیت ادا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ان دو قبائل کے اندر جنگ شروع ہونے والی تھی لیکن ان کے درمیان گفتگو کے نتیجے میں یہ فیصلہ ہوا کہ حضور ﷺ ہمارے درمیان حکم ہیں ۔ اس پر معزز قبیلے کے لوگوں نے کہا ‘ خدا کی قسم محمد ہم کو اس سے دگنی ادا نہ کریں گے جو ہم ادا کرتے ہیں ۔ ان کی بات سچ ہے کہ ذلیل قبیلے والے ہمیں تو مجبور ہو کر دگنی دیت ادا کرتے تھے اور وہ ہم سے مجبور تھے ، اس لئے مناسب ہے کہ حضرت کے پاس خفیہ مشن بھیج کر معلوم کرلو کہ اگر وہ تمہاری مرضی کا فیصلہ کرتے ہیں تو اسے ثالث بنا لیں اور اگر خطرہ یہ ہو کہ وہ تمہاری مرضی کا فیصلہ نہ کریں گے تو حکم ہی نہ بناؤ ، چناچہ انہوں نے منافقین پر مشتمل خفیہ مشن حضور کے پاس روانہ کیا۔ جب یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو اللہ نے حضور ﷺ کو خبردار کردیا کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ‘ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ (آیت) ” یایھا الرسول لا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر “۔ (5 : 41) (اے رسول آپ کو وہ لوگ پریشان نہ کردیں تو کفر میں بہت تیز ہیں) الفاسقون تک ۔ غرض یہ آیات صرف انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور ان سے یہی لوگ مراد ہیں ۔ (ابو داؤد بروایت ابو الزنادعن ابیہ) ابن جریر نے ایک روایت میں معزز قبیلے کا نام بھی لیا ہے وہ بنو النضیر تھے ۔ اور ذلیل قبیلہ بنو قریظہ تھے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے کہ یہ آیات ان قبائل کی جلاوطنی اور سرزنش سے پہلے ہی نازل ہوگئی تھیں ۔ اس کے بعد یہودیوں کے موقف کے بارے میں سخت انداز کلام میں ‘ یعنی استفہام انکاری کے طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ یہودیوں کا عام رویہ ہے کہ وہ قانون تورات کے نفاذ سے پہلو تہی کرتے ہیں ۔ (آیت) ” وکیف یحکمونک وعندھم التورۃ فیھا حکم اللہ ثم یتولون من بعد ذلک ۔ “ (۔۔۔۔۔۔ اور یہ تمہیں کیسے حکم بناتے ہیں جبکہ ان کے پاس تورات موجود ہے جس میں اللہ کا حکم لکھا ہوا ہے اور پھر یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں) یہ تو عظیم گناہ ہے کہ ان کے پاس خدا کی شریعت موجود ہے اور وہ اس سے منہ موڑتے ہیں اور حضور ﷺ کے پاس اس توقع سے آتے ہیں کہ آپ شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کریں اور ان کے ہاں جو تورات میں انہوں نے لکھا اس پر فیصلہ کریں ۔ حالانکہ قرآن کے احکام بھی تورات ہی کے اصلی احکام ہیں ۔ اور یہ لوگ جس طرح تورات کے احکام سے پہلوتہی کرتے ہیں اسی طرح حضور کے حکم سے بھی اعراض کرتے ہیں ۔ یہ اعراض اس طرح کہ حضور کے احکام کی اطاعت نہیں کرتے یا یوں کہ ان پر پھر راضی نہیں ہوتے ۔ لیکن یہاں سیاق کلام تو صرف استفہام انکاری پر ہی ختم نہیں کردیا بلکہ اس موقف پر اسلامی نقطہ نظر سے فیصلہ صادر ہوتا ہے ۔
Ayah 5:43

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

اور یہ تمہیں کیسے حکم بناتے ہیں جبکہ ان کے پاس تورات موجود ہے جس میں اللہ کا حکم لکھا ہوا ہے اور پھر یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے ۔

(آیت) ” نمبر 43۔ ” اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے) یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے اور پھر بھی مومن ہو ‘ یا وہ اللہ کے قانون پر راضی نہ ہو اور پھر بھی یہ زعم رکھتا ہو کہ وہ مومن ہے ۔ یہ ہر گز ممکن نہیں ہے ۔ اگر کوئی ایمان لاتا ہے تو اسے اپنی پوری زندگی میں شریعت کا نفاذ کرنا ہوگا ۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کا دعوائے ایمان جھوٹا ہے اور اس کا موقف اس قطعی نص کی بالکل ضد ہے ۔ (آیت) ” وما اولئک بالمومنین “ (5 : 43) (یہ لوگ ایمان نہیں رکھتے) یہ معاملہ فقط اس حد تک نہیں ہے کہ حکام کی جانب سے اسلامی شریعت کانفاذ نہیں ہے بلکہ اگر محکوم لوگ بھی جن پر شریعت کا نفاذ ہوتا ہے ‘ شریعت کے نفاذ پر راضی نہیں تو بھی وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوں گے اگرچہ زبانی طور پر وہ ایمان کا دعوی کریں ۔ یہ آیت سورة نساء کی آیت کے عین مطابق ہے جس میں کہا گیا ہے ۔ (آیت) ” (فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجا مماقضیت ویسلموا تسلیما “ (4 : 65) ” خدا کی قسم یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک یہ اپنے تنازعات کا فیصلہ آپ سے نہ کرائیں ۔ پھر یہ اپنے دل میں آپ کے فیصلے پر کوئی تنگی بھی محسوس نہ کریں اور پوری طرح سرتسلیم خم نہ کردیں) ان دونوں آیات کا تعلق محکوم عوام الناس سے ہے ‘ حکام سے نہیں ہے جبکہ دونوں ایمان سے نکل جاتے ہیں ۔ جو لوگ اللہ اور رسول کے فیصلوں پر راضی نہیں ہوتے ان کے بارے میں یہ آیات کہتی ہیں کہ یہ مومن نہیں رہتے یا اگر رسول فیصلہ کریں اور یہ لوگ روگردانی کردیں اور تسلیم نہ کریں ۔ خلاصہ کلام یہ ہے جیسا کہ اس سبق کے آغاز میں ہم نے کہا تھا کہ یہ مسئلہ اللہ کی حاکمیت کے اقرار کا مسئلہ ہے ۔ اللہ کی حاکمیت ‘ اس کی قیومیت اور انسان پر اس کی نگرانی ونگہبانی کے اقرار کا مسئلہ ہے یا اس کے انکار کا مسئلہ ہے اور اللہ کی شریعت کو قبول کرنا اور اس کے مطابق فیصلے کرانا اللہ کی حاکمیت ‘ اس کی نگہبانی کے اقرار کا ایک مظہر اور ثبوت ہے اور شریعت پر فیصلے نہ کرانا اس کے انکار کا مظہر اور ثبوت ہے ۔ یہ تو فیصلہ ان لوگوں کے بارے میں تھا جو اللہ تعالیٰ کے فیصلے قبول نہیں کرتے ۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو حکام اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے ان کے بارے میں فتوی کیا ہے اور یہ فتوی ان تمام ادیان کا ہے جو اللہ کی جانب سے نازل ہوتے ہیں سب سے پہلے تورات کا فتوی ۔