5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 5:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:6 in the Quran reader

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ جب تم نماز کے لئے اٹھو تو چاہئے کہ اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھولو سروں پر ہاتھ پھیر لو اور پاؤں ٹخنوں تک دھو لیا کرو۔ اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہوجاؤ ۔ اگر بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کر کے آئے یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو ‘ اور پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو ‘ بس اس پر ہاتھ مار کر اپنے منہ اور ہاتھوں پر پھیرلیا کرو ، اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے ‘ شاید کہ تم شکر گزار بنو)

اسلام میں نماز کی حیثیت اللہ کے ساتھ ملاقات کی ہے ۔ انسان اللہ کے سامنے دست بستہ کھڑا ہوتا ہے ‘ اللہ سے دعا کرتا ہے ۔ اللہ کے ساتھ راز ونیاز ہوتا ہے اس لئے اس مقام پر کھڑا ہونے کے لئے مناسب تیاری کی ضرورت ہے ۔ روحانی تطہیر سے پہلے اس بات کی ضرورت تھی کہ جسمانی پاکیزگی بھی ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ وضو کا حکم دیا گیا ۔ جہاں تک ہم سمجھے ہیں اصل حکمت تو اللہ کے علم میں ہے ۔ بہرحال وضو میں درج ذلیل چیزیں شامل ہیں چہرے کا دھونا ‘ ہاتھوں کو کہنیوں تک دھونا اور سر کا مسح کرنا اور پاؤں کو ٹخنوں تک دھونا ۔ ان فرائض کے بارے میں معمولی فقہی اختلافات بھی ہیں ۔ اہم اختلاف یہ ہے کہ آیا یہ فرائض وضو اسی طرح ادا کئے جائیں گے جس ترتیب سے ان کا ذکر قرآن میں ہوا ہے یا اس ترتیب کے سوا وضو ہوجاتا ہے ۔ اس بارے میں دو اقوال ہیں ۔ یہ وضو تو اس ناپاکی سے ہے جس میں وضو فرض ہے ۔ رہی جنابت چاہے وہ عورت کے ساتھ مباشرت کی وجہ سے لازم ہو یا احتلام کی وجہ سے تو اس پر غسل واجب ہے ۔ فرائض غسل اور فرائض وضو بیان کرنے کے بعد یہاں تیمم کا ذکر بھی کردیا گیا ۔ تیمم کی اجازت درج ذلیل حالات کے ساتھ مشروط ہے ۔ مثلا یہ کہ پانی سرے سے موجود ہی نہ ہو یا یہ کہ کوئی شخص مریض ہو اور وہ وضو پر قادر نہ ہو یا اس پر غسل واجب ہو پانی اس کے لئے موجب اذیت ہو۔ مسافر جو محتاج وضو ہو یا اس پر غسل واجب ہو اور پانی میسر نہ ہو ۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے وضو کی موجب ناپاکی کی تعبیر کی ہے ۔ (آیت) ” او جآء احد منکم من الغآئط (5 : 6) (یا تم میں سے کوئی نشیبی جگہ سے آیا ہو) غائط کے معنی نشیبی جگہ کے ہوتے ہیں جہاں اکثر لوگ قضائے حاجت کے لئے جاتے ہیں ‘ چاہے وہ پیشاب ہی کرے اور نشیبی جگہ نہ جائے ۔ اور غسل واجب ہونے کی ناپاکی کی تعبیر (آیت) ” اولمستم النسآء “ (5 : 6) (یا تم عورتوں کے ساتھ ہاتھ لگاؤ) یہ شریفانہ انداز بیان مباشرت کے لئے ہے ۔ ایسے حالات میں جن میں حاجت وضو ہو یا حاجت غسل کی کو نماز کے قریب جانے کی اجازت نہیں ‘ الا یہ کہ وہ تیمم کرلے اور پاک مٹی کا ارادہ کرے ۔ یعنی ایسی چیز پر تھپکی دے جو زمین سے ہو اور پاک ہو ۔ چاہے یہ مٹی سواری کی پشت پر ہو ‘ چاہے کہ اپنی ہتھیلیوں کے ساتھ مٹی وغیرہ پر تھپکی دے ‘ پھر دونوں ہاتھ جھاڑ دے اور منہ پر مسح کرلے اور پھر اپنے ہاتھوں پر کہنیوں تک مسح کرلے ۔ ایک بار تھپکی دے پورے تیمم کے لئے یا دو بار تھپکی دے ۔ دو فقہی اقوال کے مطابق لفظ (آیت) ” اولمستم النسآء “۔ (5 : 6) کے مفہوم میں بھی اختلاف ہے ۔ کیا اس سے مراد صرف لمس ہے یا مباشرت ہے ۔ یا اس سے مراد مطلق لمس ہے چاہے شہوت اور لذت کے ساتھ ہو یا اس کے کے بغیر ہو۔ اس میں بھی فقہی اختلافات ہیں ۔۔۔۔۔۔ اسی طرح اس میں بھی اختلاف ہے کہ مطلق مرض میں تیمم جائز ہے یا ایسے مرض میں جس میں تکلیف ہو یا تکلیف بڑھ جانے کا خطرہ ہو ۔ پھر یہ بھی مختلف فیہ ہے کہ مرض نہ ہو لیکن پانی شدید ٹھنڈا ہو اور اس سے بیماری لاحق ہونے کا خطرہ ہو تو تیمم جائز ہے ۔ راجح بات یہی ہے کہ جائز ہے ۔ اس آیت کے اختتام پر یہ تعقیب آتی ہے ۔ (آیت) ” مِّنْہُ مَا یُرِیْدُ اللّہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْْکُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـکِن یُرِیْدُ لِیُطَہَّرَکُمْ وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَیْْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ (6) ” اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے ‘ شاید کہ تم شکر گزار بنو) جیسا کہ ہم نے بیان کیا اللہ کی ملاقات کی حالت میں صفائی شریعت میں واجب کی گئی ہے ۔ وضو اور غسل میں جسمانی اور روحانی صفائی حاصل ہوتی ہے ۔ رہا تیمم تو اس میں کم از کم روحانی صفائی حاصل ہوتی ہے ۔ اور صفائی کے لئے وہ وضو اور غسل کا قائم مقام ہوتا ہے جب پانی نہ ملے یا پانی کے استعمال میں ضرر کا احتمال ہو ۔ یہ اس لئے جائز کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر خواہ مخواہ سختی اور شدت نہیں چاہتے اور نہ لوگوں کو مشتقت اور مشکلات میں ڈالنا چاہتے ہیں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو پاک کر دے ۔ یہ پاکی ان پر بطور انعام آئے اور اس کے بعد وہ اس نعمت کا شکر ادا کریں اور اس شکر کے بدلے اللہ اپنے فضل وکرم اور انعام اکرام میں مزید اضافہ فرمائیں ۔ یہ ہے نرمی ‘ مہربانی اور اسلامی نظام کی واقعیت پسندی اور مستقل سہولت کی فراہمی ۔ وضو غسل اور تیمم کی حکمت ۔ اللہ تعالیٰ یوں بیان فرماتے ہیں : (آیت) ” مِّنْہُ مَا یُرِیْدُ اللّہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْْکُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـکِن یُرِیْدُ لِیُطَہَّرَکُمْ وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَیْْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ (6) ” اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے ‘ شاید کہ تم شکر گزار بنو) اسلامی نظام حیات مسلمانوں کو مراسم عبودیت اور نظام قانون دونوں میں ایک حسین ہم آہنگی عطا کرتا ہے ۔ وضو اور غسل سے محض جسمانی تطہیر کا فائدہ ہی حاصل نہیں ہوتا کہ آج کل کے نام نہاد مفکرین اسلام یہ اعتراض وارد کرسکیں کہ اس دور جدید میں ہمیں محض صفائی کے لئے اس قسم کے انتظامات کی ضرورت نہیں ہے جس طرح پسماندہ عربوں کو ضرورت تھی اس لئے کہ اب تو حماموں میں صحت وصفائی کے اچھے انتظامات ہیں اور ہم مہذب ہونے کی وجہ سے بھی صفائی کا بہت ہی خیال رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ یہ اعتراض اس لئے نہیں وارد کرسکتے کہ وضو اور غسل کے ذریعے اسلام نے جسمانی اور روحانی دونوں پہلوؤں سے ہمارے لئے تطہیر کا نظام وضع کیا ہے ۔ پھر اس نظام کو عبادت کے ساتھ منسلک کرکے باقاعدہ بنا دیا ہے کہ تمام لوگ پاک اور صاف وستھرے ہوں ۔ جب وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ وضو اور غسل میں جسمانی صفائی سے روحانی صفائی کا پہلو زیادہ مد نظر رکھا گیا ہے تو ان کے عوض تیمم کو رکھا گیا ہے اس لئے کہ جب پانی کا استعمال ممکن نہ ہو تو ان کے عوض تیمم کو رکھا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ تیمم کے اندر ظاہری صفائی حاصل ہی نہیں ہوتی ۔ اس پر مزید یہ کہ اسلامی نظام زندگی ایک عام نظام ہے اور وہ ہر قسم کے حالات کے لئے ہے ۔ ہر خاندان ‘ ہر طور طریقے کے لئے ایک ہی نظام اور طریقہ ہے ‘ اس لئے اس کا فائدہ ہر قسم کے حالات اور ہر قسم کے ماحول اور ہر قسم کی سوسائٹی میں ہوتا ہے ۔ ہر صورت میں اور ہر مفہوم میں اس کی حکمت اور فائدہ موجود ہوتا ہے اور کسی صورت میں بھی اس سے تخلف نہیں ہوتا ۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم سب سے پہلے اسلامی نظریہ حیات کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں اور بعد میں اس کے بارے میں اظہار خیال کریں ورنہ ہمارا فتوی بغیر علم اور بغیر روشن کتاب کی ہدایات کے ہوگا ۔ پھر ہماری سعی یہ ہونا چاہئے کہ ہم اللہ کے ساتھ نہایت ہی ادب واحترام سے پیش آئیں اور جو بات ہم جانتے ہیں اور جو باتیں نہیں جانتے دونوں میں احترام سے پیش آئیں ۔ (اس کی ایک مثال زکوۃ اور ٹیکس کے درمیان فرق ہے ۔ اس لئے ٹیکس کی وجہ سے ہم زکوۃ کو ختم نہیں کرسکتے ۔ یہ بحث بھی جلد ہی آئے گی) یہ مسائل کہ جب وضو ممکن نہ ہو یا غسل نہ ہو عذر اور ضرر کی وجہ سے تو اس وقت تیمم جائز ہے ۔ اس میں ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے اور وہ یہ کہ اسلامی نظام حیات کے اندر نماز کی کس قدر اہمیت ہے اور اس کی راہ میں جو رکاوٹیں اور مشکلات حائل ہوں اسلامی نظام انہیں کیسے حکیمانہ انداز میں حل کرتا ہے ۔ تیمم کے اس حکم اور پھر اس کے ساتھ نماز کے بارے میں دوسرے احکام مثلا صلوۃ الخوف ‘ صلوۃ المریض کے احکام کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو ثابت ہوگا کہ بیٹھ کر ‘ لیٹ کر ‘ پہلو پر جیسے بھی ممکن ہو نماز کی ادائیگی ضروری ہے ۔ اسلام اس پر بہت تاکید کرتا ہے ۔ ان تمام احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام حیات مسلمانوں کی اخلاقی اور نفسیاتی تربیت میں نماز کو کس قدر اہمیت دیتا ہے اس لئے کہ اللہ کے سامنے کھڑے ہونا اور اللہ سے ملاقات کرنا ‘ انسان پر بےحد اثر انداز ہوتا ہے ۔ اسلام سخت سے سخت حالات میں بھی اور نہایت ہی مشکل اوقات بھی اسے چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتا ، اس کی راہ میں کسی مشکل کو حائل ہونے نہیں دیتا ۔ دن میں پانچ بار بندے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے رب سے ملے اور اس ملاقات کو کسی وجہ سے بھی نہ چھوڑے ۔ یہ دل کی تازگی ہے اور آنکھوں کا سرور ہے اور اللہ کا سایہ اور خوشگوار سایہ ہے ۔ احکام طہارت اور اس سے پہلے دیئے جانے والے احکام کے بعد اب یہ اختتامیہ آتا ہے جس میں نعمت ایمان کے بارے میں یاد دہانی ہے ۔ اور اس عہد کی تذکیر جو انہوں نے اللہ کے ساتھ باندھا تھا اور جس میں انہوں نے سمع اور اطاعت کا اقرار کیا تھا یہ وہی میثاق تھا ‘ جس کے ذریعے وہ اسلام میں داخل ہوئے تھے ‘ جیسا کہ اس سے پہلے ہم بیان کر آئے ہیں ‘ نیز مسلمانوں کو خدا خوفی کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان تمام باتوں کے بارے میں علم ہے ‘ جو ان کے دلوں میں پوشیدہ ہیں ۔
Ayah 5:7

وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ١ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 5:7 in the Quran reader

اللہ نے تم کو جو نعمت عطا کی ہے اس کا خیال رکھو اور اس پختہ عہد و پیمان کو نہ بھولو جو اس نے تم سے لیا ہے یعنی تمہارا یہ قول کہ ” ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی “ اللہ سے ڈرو ‘ اللہ دلوں کے راز تک جانتا ہے

(آیت) ” نمبر 7۔ جن لوگوں کو سب سے پہلے قرآن نے خطاب کیا تھا وہ اس دین کی قدروقیمت کو اچھی طرح جانتے تھے جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں اس لئے کہ وہ اس دین کی حقیقت اپنی ذات اور شخصیت کے اندر زندہ طور پر دیکھ رہے تھے ۔ یہ دین ان کی زندگی ‘ ان کی سوسائٹی اور ان کے اردگرد پوری بشریت میں اس کے مقام کے حوالے سے ان کی آنکھوں کے سامنے تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسمت کی طرف صرف اشارہ ہی ان کے لئے کافی تھا ۔ جس کی وجہ سے وہ بسہولت اس عظیم حقیقت کی طرف متوجہ ہو سکتے تھے جو ان کی زندگی اور ماحول میں موجود تھی ۔ اسی طرح اس میں اس میثاق کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا ۔ اور یہاں اس کی طرف اس لئے اشارہ کیا گیا کہ یہ بھی ایک واضح حقیقت تھی جسے وہ جانتے تھے اور اس پر وہ بہت فخر کرتے تھے ۔ اس معاہدے کا فریق اول اللہ تھا ۔ اور فریق دوئم وہ تھے اور یہ بات ان کے لئے نہایت ہی قابل قدر اور قابل عزت تھی ‘ اور یہ بات نہایت عظیم تھی اور وہ اس کی اہمیت اور حقیقت سے اچھی طرح واقف تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو خدا ترسی کے حوالے کرتے ہیں اور دل کے اندر اللہ کے خوف کا احساس کرنے اور خفیہ خطرات کے مقابلے میں ان کو بیدار کیا جاتا ہے ۔ (آیت) ” واتقوا اللہ ان اللہ خبیر بما تعملون “ (اللہ سے ڈرو ‘ اللہ ان باتوں سے خبردار ہے جو تم کرتے ہو) انداز تعبیر (آیت) ” بذات الصدور “۔ (5 : 7) باتصویر اور مفہوم کو تیزی سے منتقل کرنے والی ہے ۔ مناسب ہوگا کہ اس میں جو خوبصورتی ‘ معنی خیزی اور گہرائی ہے اس کی طرف اشارہ کیا جائے ۔ ذات الصدور کا مفہوم عربی میں ” دلوں کی مالکہ “ جو دلوں میں چسپاں ہو ‘ کنایتہ مراد وہ خفیہ جذبات ہیں جو دلوں میں پوشیدہ ہوتے ہیں ۔ پوشیدہ میلانات ‘ دلوں کے خلجان ‘ خفیہ راز ایسے راز جو دلوں کے ساتھ چسپاں ہیں۔ یہ خفیہ راز بھی اللہ کے سامنے بالکل کھلے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ دلوں میں چھپی باتوں کا بھی جاننے والا ہے ۔ وہ عہد جو اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ سے لیا ہے ‘ اس میں یہ بات بھی ہے کہ یہ امت پوری انسانیت کے لئے عدل و انصاف کی نگران ہوگی ۔ ایسا انصاف کہ اس کے ترازو کا کوئی پلڑا دوستی اور دشمنی کی وجہ سے جھک نہ جائے ، اس پر رشتہ داری اور خواہشات نفسانیہ کے اثرات بھی نہ ہوں اور نہ وہ کسی مصلحت سے متاثر ہو ۔ یہ عدل صرف ذات باری کی رضا کے لئے ہو اور اس میں انصاف کرنے والا موثرات دنیا میں سے کسی موثر سے اثر نہ لے اور یہ انصاف اس شعور کے تحت ہو کہ اللہ رقیب اور نگہبان ہے اور خفیہ ترین گوشوں سے باخبر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی پکار یہ ہے ۔
Ayah 5:8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:8 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہوں اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ ۔ عدل کرو ‘ یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو ۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے

(آیت) ” نمبر 8۔ اس سے قبل اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات سے روکا تھا کہ وہ کسی قوم کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے کہ انہوں نے مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکا تھا ‘ بےانصاف کرنے سے ہاتھ کھینچ لیں اور کسی کے ساتھ زیادتی نہ کر بیٹھیں ضبط نفس اور رواداری کی یہ انتہا تھی جہاں تک اللہ تعالیٰ ان کو پہنچانا چاہتے تھے اور یہ اللہ کا نہایت ہی مضبوط منہاج تربیت تھا ۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو اس بات سے روکتے ہیں کہ وہ دشمنی کی وجہ سے عدل سے رک نہ جائیں ۔ یہ ایک نہایت ہی اعلی چوٹی ہے اور اس قدر مشکل اور دشوار گزار راہ ہے کہ اس پر چلنا نفس کے لئے نہایت ہی باعث مشقت ہے۔ پہلی آیت میں تھا کہ تم دشمنی کی وجہ سے ظلم نہ کرو اور یہ مرحلہ اس سے آگے کا ہے کہ دشمنی کے باوجود انصاف کرو ‘ یعنی باوجود اس کے کہ ان کے خلاف تمہارے جذبات مشتعل ہیں اور تم کراہت محسوس کرتے ہو پھر بھی عدل کرو۔ پہلا حکم بہت ہی آسان تھا اس لئے کہ وہ منفی کام تھا ‘ انسان اس سے رک سکتا تھا کہ ظلم نہ کرے ۔ رہا دوسرا حکم کہ ان ظالموں کے ساتھ اور دشمنوں کے ساتھ عدل و انصاف کرو یہ ایک مثبت اور پر مشقت کام ہے یعنی انفس انسانی کو ایسے مبغوض اور قابل نفرت لوگوں کے ساتھ انصاف کرنے پر مجبور کرنا ۔ اسلام کا حکیمانہ نظام تربیت اپنے تربیت یافتہ لوگوں سے ایسا مشکل کام کروا سکتا تھا اس لئے اسلام حکم دیتا ہے ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُونُواْ قَوَّامِیْنَ لِلّہِ شُہَدَاء بِالْقِسْطِ وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَی أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ ہُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَی۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہوں اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ ۔ عدل کرو ‘ یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے اور اس کے بعد وہ بات بتائی جاتی ہے جو اس مشکل کام کے لئے معین و مددگار ہے ۔ (آیت) ” واتقوا اللہ ، ان اللہ خبیر بما تعملون “۔ (5 : 8) اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو ‘ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ سے پوری طرح باخبر ہے ۔ ) انسان کا نفس اس قدر بلندی تک ہرگز نہیں پہنچ سکتا ‘ الا یہ کہ اس کام کا معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ براہ راست ہو ‘ جس وقت انسان صرف اللہ کے لئے کھڑا ہوجائے اور اللہ کے سوا ہر چیز کو چھوڑ دے ۔ جس وقت انسان کو خدا خوفی کا شعور ہو اور اسے یہ احسان ہو کہ اللہ کی نظروں سے کوئی خفیہ بات بھی بلند کرسکتی ہے۔ دنیا میں کوئی ایسا نظام نہیں ہے جو انسانوں کو ایسا انصاف دے سکتا ہو جس میں دوست اور دشمن برابر ہوں ۔ یہ صرف دین اسلام کا کام ہے جو اہل ایمان کو یہ دعوت دیتا ہے کہ انصاف کے معاملے میں محض اللہ کے لئے کھڑے ہوجائیں اور وہ انصاف کے لئے ماسوائے انصاف کے ہر سوچ (ConsiderAtion) ترک کردیں ۔ یہی وہ بنیادی عناصر ہیں جن کی وجہ سے اس دین کو دین انسانیت اور عالمی دین قرار دیا گیا ہے ۔ اس کا نظام تمام لوگوں کے لئے بالکل کافی ہے ‘ چاہے وہ لوگ اس دین کے ماننے والے ہوں یا نہ ماننے والے ہوں۔ تمام لوگ اس کے زیر سایہ عدل و انصاف کی زندگی گزار سکتے ہیں ۔ انصاف قائم کرنا ان لوگوں پر فرض ہے جو اس دین کے ماننے والے ہیں اور اس قیام عدل میں ان کا معاملہ اپنے رب کے ساتھ ہے ‘ اگرچہ وہ انصاف چاہنے والوں کے ظلم وعدوان کا شکار رہے ہوں اور ان کے دل میں ان کی دشمنی ہو ۔ یہ اس امت کا فریضہ ہے جسے اس پوری انسانیت کا نگران بنایا گیا ہے ۔ اگرچہ اس عدل کے قیام میں اسے مشکلات پیش آئیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس امت نے یہ فریضہ تاریخ میں بہت ہی اچھی طرح ادا کیا ہے ۔ اس نے اس کی راہ میں عظیم مشقتیں برداشت کی ہیں ‘ جبکہ اسلام قائم تھا اور یہ اس امت کی زندگی میں محض وعظ اور نصیحت کا کام نہ تھا ۔ نہ اعلی نمونوں کی چند مثالیں تھیں ‘ بلکہ یہ اس کی روز مرہ زندگی کی صورت حالات تھی ۔ یہ ایسی صورت حالات تھی جس کو انسانیت نے نہ کبھی پہلے دیکھا تھا اور نہ بعد میں دیکھا ۔ اس معیار پر صرف اسلامی نظام زندگی ہی میں انسانیت نے یہ انصاف دیکھا ۔ اس کی مثالیں اور بلند ترین مثالیں اسلامی تاریخ میں لاتعداد ہیں اور تاریخ کا حصہ ہیں ۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی ہدایات اور اس کی مقرر کردہ ڈیوٹیاں امت مسلمہ کی زندگی میں ایک واقعی اور عملی نظام کی شکل میں دیکھی گئیں جو بڑے سادہ طریقے سے ادا ہوتی رہیں ۔ اور اس امت کی روز مرہ کی زندگی میں وہ منقش اور مجسم تھیں ۔ یہ محض خیالی اعلی معیاروں کی باتیں نہ تھیں ‘ نہ کچھ انفرادی اعلی نمونے تھے بلکہ وہ عملی زندگی کا ایک نقش دل پذیر تھا جس کے سوا آج تک اعلی معیار کے نقوش انسان کو نظر نہ آئے ۔ جب اس اعلی مقام سے اور بلند ترین چوٹی سے دنیا کی جاہلیت پر نگاہ ڈالی جائے چاہے وہ جس زمان میں ہو اور جس مکان میں ہو ‘ جن جاہلیتوں میں دور جدید کی پالش شدہ جاہلیت بھی شامل ہے تو نگاہ ڈالنے والا یہ محسوس کرتا ہے کہ اسے اللہ نے انسانوں کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ وہ نظام ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کے لئے بنایا ہے۔ اس مقام بلند سے نظر آتا ہے کہ اسلامی نظام حیات اور ان تمام جاہلی نظامہائے حیات کے درمیان اس قدر طویل فاصلے ہیں جنہیں عبور نہیں کیا جاسکتا ۔ عملی زندگی کے اعتبار سے بھی اور انسانی ضمیر اور عقائد کے اعتبار سے بھی ۔ بعض اوقات لوگ اصول تو پہنچان لیتے ہیں اور اصول پسندی کے نعرے بھی لگاتے ہیں لیکن اصولوں کو عملی شکل میں برتنا اصل چیز ہے ۔ یہ فطری بات ہے کہ لوگ اصولوں کی بات کرتے ہیں اور یہ بات وہ اور لوگوں کے لئے کرتے ہیں لیکن یہ اصول عالم عمل میں موجود نہیں ہوتے ۔ اصل بات یہ ہے کہ لوگوں کو اصولوں کی طرف دعوت دیجائے بلکہ دیکھنا چاہیے کہ جہاں سے دعوت آرہی ہے ‘ جو دعوت کا مقصد ہے اور جو داعی ہے وہ کیسا ہے چاہئے تو یہ کہ دعوت داعی کے ضمیر اور اس کے اندرون پر حکمران ہو۔ اصل بات وہ مرجع ہے جہاں سے دعوت جاری ہوتی ہے اور داعی کی جدوجہد اور داعی کی وہ محنت ہے جو وہ دعوت اور اصولوں کو عملی شکل دینے میں خرچ کرتا ہے ۔ دعوت اسلامی کی اصل قدر و قیمت یہ ہے کہ چند دینی اصولوں کی طرف یہ دعوت دی جاتی ہے ۔ ان کی قدروقیمت دین اسلام کی سند سے ہوتی ہے ۔ دین اسلام کی قدروقیمت یہ ہے کہ وہ اللہ کا دین ہے اس لئے جو شخص دین کی دعوت دیتا ہے تو وہ اللہ کے سوا کسی اور کا سہارا اور سند نہیں لیتا اور اگر کسی کی مدد سے کبھی ایسا ہو بھی جائے تو اس سند کا لوگوں کے ایمان وضمیر پر اثر کیا ہوتا ہے ۔ اور لوگوں کو کیا پڑی ہے کہ وہ کسی اور کے اصولوں کو نافذ کرنے کے لئے جدوجہد کریں اور کسی اور کے پاس ہے کیا وہ لوگوں کو بطور اجر دے گا ۔ ہزارہا لوگ عدل کے حق میں نعرے لگاتے ہیں ‘ پاکیزگی کے نعرے لگاتے ہیں ‘ آزادی کے لئے نعرے لگاتے ہیں رواداری ‘ الوالعزمی ‘ محبت ‘ قربانی اور ایثار کے نعرے لگاتے ہیں لیکن ان نعروں کے نتیجے میں لوگوں کا ضمیر اپنی جگہ سے نہیں ہلتا ‘ اور دلوں پر ان کا اثر نہیں ہوتا ‘ اس لئے کہ وہ ایک ایسی دعوت دے رہے ہوتے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے کوئی سند نہیں ہوتی ہے ۔ غرض اصل بات صرف زبانی جمع خرچ کی نہیں ہے بلکہ اصل حقیقت وہ چیز ہے جو بات کی پیچھے ہوتی ہے ۔ لوگ اپنے جیسے لوگوں کے منہ سے اصول بلند نمونے اور بلند علامات کی بات سنتے رہتے ہیں لیکن انکی پشت پر اللہ کی جانب سے کوئی سند نہیں ہوتی ۔ پس ان کی اس بات کا اثر کیا ہوتا ہے ۔ ان کی فطرت یہ کہتی ہے کہ یہ ایک بات ہے جو ان جیسے لوگوں کی طرف سے ہے ۔ اور یہ بات کرنے والے میں وہ تمام نقائص ‘ عیوب اور کو تاہیاں موجود ہیں جو دوسرے لوگوں میں موجود ہوتی ہیں ۔ انسان ان باتوں کو صرف اس اساس پر لیتے ہیں اس لئے ان کی فطرت پر ان باتوں کی حکمرانی نہیں ہوتی نہ یہ باتیں ان کی شخصیت کو جھنجوڑ سکتی ہیں ۔ ان باتوں کے اثرات ‘ ان لوگوں پر نہیں ہوتے ‘ اگر کوئی اثر ہوتا بھی ہے تو وہ تار عنکبوت کی طرح کمزور ہوتا ہے ۔ پھر یہ دینی اصولوں کی ہدایت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتیں جب تک ان کی زندگی میں عملی شکل نہ دی جائے اسلام ان ہدایات کو محض ہوا میں بکھیر نہیں دیتا بلکہ ان کو عملی زندگی میں نافذ کرتا ہے اس لئے دین جب صرف مشورہ بن جائے اور صرف چند مراسم عبودیت کا نام رہ جائے تو پھر اس کے یہ مشورے حقیقت کا روپ اختیار نہیں کرتے ۔ یہ صورت حال ہمیں آج ہر جگہ نظر آتی ہے کہ اہل دین صرف مشورے دیتے ہیں مگر ان کے پاس قوت نافذہ نہیں ہے ۔ لہذا اصل بات یہ ہے کہ دین کے لئے ایک نظام حیات ضروری ہے جو دین کے منہاج کے مطابق ہو اور اس نظام کی روشنی میں اسلامی ہدایات پر عمل کیا جائے ۔ یہ نظام ان ہدایات کو زندگی کے تمام طور طریقوں میں عملی اور عملی اقدامات کے درمیان مکمل توازن کے ساتھ نافذ کر دے ۔ اسلامی نقطہ نظر سے دین کو بھی مفہوم ہے ۔ یعنی دین سے مراد وہ نظام زندگی ہے جو زندگی کے تمام پہلوؤں پر حکمران ہو ۔ اس کی پشت پر قوت نافذہ ہو۔ جماعت مسلمہ کی زندگی میں جب دین اپنے اس مفہوم کے ساتھ حقیقت کا روپ اختیار کرلے ‘ تب ہی وہ اس دنیا میں بلندی تک پہنچ سکتی ہے اور پھر وہاں سے پوری انسانیت کا جائزہ لے سکتی ہے ۔ اس انسانیت پر جو ابھی تک جدید جاہلیت کے گڑھوں میں افتادہ ہے ‘ جس طرح نزول قرآن کے وقت عربوں کی قدیم جاہلیت کے گڑھوں میں لوگ اوندھے گرے ہوئے تھے لیکن جب دین کو منبر پر وعظ اور مساجد کے اندر چند مراسم عبودیت تک محدود کردیا جائے اور زندگی کے وسیع عملی میدان سے اسے خارج کردیا جائے تو اس صورت میں انسان کی عملی زندگی میں دین کی کچھ حقیقت بھی نہ ہوگی ۔ نہ اسے نافذ کیا جاسکے گا ‘ نہ اس کی عملی شکل میں سامنے آئے گی ۔ مومنین کے لئے اللہ کی جانب سے اجر ضروری ہے ۔ وہ مومنین جو معاملہ صرف اللہ کی ذات کے ساتھ کرتے ہیں تاکہ وہ مزید جوش و خروش اور پوری قوت کے ساتھ اپنی ڈیوٹی برائے نگرانی بشریت ادا کریں ۔ اللہ کے ساتھ انہوں نے جو پختہ عہد کیا ہے اسے پورا کریں ۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ اسلام کی راہ میں کام کرنے والوں اور نیک عمل کرنے والوں اور ان لوگوں کے انجام میں فرق ہو جو اسلام سے انکار کرتے ہیں ۔
Ayahs 5:9–10

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:9 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ‘ اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ان کی خطاؤں سے درگزر کیا جائے گا اور انہیں بڑا اجر ملے گا ۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 5:10 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو کفر کریں اور اللہ کی آیات کو جھٹلائیں تو وہ دوزخ میں جانے والے ہیں

(آیت) ” نمبر 9 تا 10۔ یہ وہ جزاء ہے جو ان برگزیدہ لوگوں کے لئے ہے جن سے دنیاوی لذات اور مفادات فوت ہوجاتے ہیں ۔ انہیں دنیا میں عیش کوشی کا موقع نہیں ملتا ۔ وہ دنیا میں اسلامی انقلاب کے فرائض سرانجام دیتے رہتے ہیں اور اس انعام کے ہوتے ہوئے دنیا میں بشریت کی نگہبانی کے فرائض بہت ہی کم نظر آتے ہیں اور انسان بشری میلانات ‘ انسانی حسد وعناد اور اس دنیا کے لالچ کو خاطر میں نہیں لاتا ۔ پھر اس سے اللہ کی صفت عدل کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں اور اشرار کو ایک ہی سطح پر نہیں رکھتے ۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ انقلابی مومنین کی نظریں اللہ کی اس جزاء کے ساتھ اٹکی ہوئی ہوں اور ان کا معاملہ اللہ کے ساتھ اس طرح ہو کہ ان کی راہ میں رکاوٹوں میں سے کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو سکے ۔ زندگی کے حالات میں اور مختلف احوال میں بھی ۔ بعض دل تو ایسے ہوتے ہیں کہ محض جذبہ حصول رضائے الہی ان کے لئے کافی ہوتا ہے اور وہ اس کو چکھ کر خوب چٹخارے لیتے ہیں جس طرح انہیں اللہ کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو ایفا کرنے میں خوب مزہ آتا ہے ۔ لیکن اسلامی نظام ان اولوالعزم لوگوں کے علاوہ عوام الناس کو بھی پیش نظر رکھتا ہے ۔ عام انسانوں کو مزاج بھی اللہ کے پیش نظر ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ عام لوگوں کے لئے امید مغفرت کا ہونا بھی ضروری ہے اور عوام الناس کو بھی پیش نظر رکھتا ہے ۔ عام انسانوں کا مزاج بھی اللہ کی پیش نظر ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ عام لوگوں کے لئے امید مغفرت کا ہونا بھی ضروری ہے اور عوام الناس کے ساتھ اجر عظیم کا وعدہ بھی ضروری ہے ۔ اسی طرح عوام الناس کو اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ وہ یہ جانیں کہ جھٹلانے والوں کا انجام وسزا کیا ہوگی اس لئے کہ عوام الناس اسی پر راضی ہوتے ہیں اور یہی ان کا مزاج ہوتا ہے ۔ اس لئے عوام الناس اپنی جزا اور کفار کی سزا کا حکم سن کر مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح اشرار کے کاموں پر ان کے دل میں جو غیض وغضب پیدا ہوتا ہے وہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے ۔ خصوصا ایسے مواقع پر جب اہل ایمان کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کریں ۔ خصوصا ایسے حالات میں جبکہ ان کے ہاتھوں اہل ایمان نے مکروفریب اور ایذاء رسانی اور نیش زنی کو برداشت کیا ہو۔ اسلامی نظام زندگی انسانیت کو اسی طرح لیتا ہے جس طرح انسانوں کی فطرت ہے اور اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتے ہیں ۔ اسلام انسانوں کو ایسا نعرہ اور ایسی دعوت دیتا ہے کہ جس سے ان کے شعور کے دریچے کھلتے ہیں اور جس پر ان کی جان اور روح لبیک کہتی ہے ۔ پھر یہ انعام یعنی مغفرت اور اجر عظیم اللہ کی رضا مندی کی دلیل ہے ۔ سیاق کلام میں ذرا آگے جائیں اور عدل انصاف اور رواداری کی روح اب جماعت مسلمہ کے اندر نہایت ہی قوی پائیں ۔ اس کے اندر زیادتی ‘ کینہ پروری ‘ اور یک رخی کا شعور ختم کردیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو یاد دلاتے ہیں کہ ان پر اللہ کا یہ کس قدر عظیم کرم ہے کہ اللہ نے ان کے خلاف مشرکین کی تمام کاروائیاں بند کرادیں جبکہ حدیبیہ کے موقع پر اور دوسرے مواقع پر وہ مسلمانوں کے خلاف کوئی جارحانہ اقدام نہ کرسکے ۔
Ayah 5:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 5:11 in the Quran reader

(اے لوگو ‘ جو ایمان لائے ہو ‘ اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے (ابھی حال ہی میں) تم پر کیا ہے ‘ جب کہ ایک گروہ نے تم پر دست درازی کا ارادہ کرلیا تھا مگر اللہ نے ان کے ان کے ہاتھ تم پر اٹھنے سے روک دیئے ۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو ایمان رکھنے والوں کو اللہ پر ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے)

(آیت) ” نمبر 11۔ اس آیت کے مفہوم میں اختلاف ہے لیکن راجح بات یہ ہے کہ اس سے مراد وہ واقعہ ہے جو یوم حدیبیہ پر پیش آیا جب ایک گروہ مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف غداری کر کے چاہتا تھا کہ غفلت میں ان پر حملہ کر دے مگر اللہ تعالیٰ نے انکو مسلمانوں کے ہاتھوں میں قیدی بنا دیا (تفصیلات کے لئے دیکھئے سورة فتح) غرض حادثہ کیسا بھی ہو ‘ بہرحال یہاں اعتبار اور اہمیت اس بات کی ہے جو یہاں اسلام کے نظام تربیت میں پیش نظر ہے اور وہ یہ کہ غصے اور دشمنی کو فرو کرنا چاہئے اور اس طرح دشمنوں کے خلاف اپنے دلوں میں پائے جانے والے کئے اور دشمنی کو نکالنا چاہئے تاکہ مسلمانوں کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ ٹھنڈے دل سے سوچیں اور یہ یقین رکھیں کہ اللہ ان کا نگہبان ہے اور ان کا محافظ ہے ۔ اس نرمی ‘ سنجیدگی اور اطمینان کی وجہ سے مسلمانوں کو ضبط نفس حاصل ہوتا ہے ان کے دلوں میں رواداری پیدا ہوتی ہے اور وہ سہولت سے عدل و انصاف قائم کرتے ہیں ۔ مسلمان اس بارے میں ندامت محسوس کریں گے اگر وہ پھر بھی اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو پورا نہ کریں ‘ حالانکہ وہ ہر وقت ان کا نگہبان اور محافظ ہے ‘ اور ان کی طرف بڑھنے والے ہاتھ کو پکڑ رہا ہے ۔ دوسری جگہ آیت یہ ہے : (آیت) ” اذ ھم قوم ان یبسطوا الیکم ایدیھم فکف ایدیھم عنکم “۔ (5 : 11) (جب ایک قوم نے تم پر دست درازی کا ارادہ کرلیا تھا مگر اللہ نے ان کے ہاتھ تم پر اٹھنے سے روک دیئے) ہاتھوں کا آگے بڑھنا اور پکڑنا اور پھر ان کا روک دیا جانا ‘ یہ انداز تعبیر ایک زندہ اور مصور انداز تعبیر ہے اور یہ معنوی انداز سے زیادہ موثر ہے ۔ اس تعبیر کے اندر تصویر اور حرکت اسکریں پر سامنے آجاتی ہے ۔ یہ انداز تعبیر بات کو زور دار اور وزنی بنا دیتا ہے ۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ بالکل ایک نیا اسلوب ہے جو پہلی مرتبہ استعمال ہوا ہے اور اس میں ایک محسوس صورت حال بھی نظروں کے سامنے آجاتی ہے ۔ اور وہ متحرک صورت میں تصور کے اسکرین پر دوڑتی ہے یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز بیان ہے اور اسی وجہ سے قرآن معجز ہے ۔ درس نمبر 47 ایک نظر میں : سابقہ سبق کے آخر میں اس معاہدے کا تذکرہ ہوا تھا جو اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں کے درمیاں طے پایا تھا اور یہ معاہدہ کر کے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر جو عظیم احسان کیا تھا وہ انہیں یاد دلایا تھا ۔ یہ اس لئے کہ وہ اس معاہدے کی رو سے ان پر عائد ہونے والی ڈیوٹیوں کو اچھی طرح ادا کریں اور اس بات سے ڈریں کہ وہ اس معاہدے کو توڑ نہ دیں اور اس کی خلاف ورزی نہ کریں ۔ اس پورے سبق میں وہ تفصیلات دی گئی ہیں جن میں اہل کتاب نے اپنے ان معاہدوں کی خلاف ورزیاں کیں جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کئے تھے ، یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں انہیں اس دنیا میں جو سزائیں دی گئیں وہ کس قدر سخت تھیں ، یہ اس لئے کہ ایک طرف تو یہ وضاحت جماعت مسلمہ کے لئے ایک تاریخی نصیحت اور عبرت کا کام کرے اور اہل کتاب کی حقیقی صورت حال کی تفصیلات ان کی آنکھوں کے سامنے آجائیں اور دوسری جانب انہیں بتایا جائے کہ اللہ کی سنت اٹل ہوتی ہے اور وہ اپنے فیصلوں میں کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتا ۔ تیسرے یہ کہ یہ معلوم ہوجائے کہ اہل کتاب کی اصل حقیقت کیا ہے اور تاریخ میں ہمیشہ ان کا موقف کیا رہا ہے ۔ تاکہ مسلمانوں کے خلاف ان کی جانب سے کی جانے والی سازشوں کا اچھی طرح دفعیہ کیا جائے اور ان کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو ناکام کیا جاسکے ، یہ سازشیں اور اپنے دینی ثابت قدمی کے رنگ مین کرتے تھے حالانکہ وہ ہمیشہ ان معاہدوں کو توڑتے رہے تھے ۔ اس سبق میں اللہ کے اس معاہدے کا جائزہ بھی لیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے قوم موسیٰ کے ساتھ اس وقت کیا تھا ‘ جب اس کو مصر کی محکومانہ اور رسوا کن زندگی سے نجات دی گئی تھی ۔ اس میثاق کو بھی بنی اسرائیل نے توڑد یا تھا ۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس عہد شکنی کے نتیجے میں میں ان پر کیا گزری ۔ خدا کی لعنت کے ساتھ انہیں جلاوطن کردیا گیا اور ہدایت اور انعام سے محروم کر کے انہیں راندہ درگاہ قرار دیا گیا ۔ پھر اس معاہدے کا جائزہ بھی لیا گیا ہے جو ان لوگوں سے کیا گیا تھا ‘ جنہوں نے کہا تھا کہ وہ نصاری ہیں۔ انہوں نے اس معاہدے کو توڑا اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان نفرت اور عداوت پیدا کردی اور اعلان کردیا گیا کہ یہ عداوت تاقیامت بحال رہے گی ۔ پھر بنی اسرائیل کا موقف ‘ ارض مقدس کے حوالے سے بھی ایکسرے ہوا ہے جس میں انہوں نے یہ عہد کیا تھا کہ وہ اس پر حملہ آور ہوں گے انہوں نے اس عہد کو توڑا اور الٹے پاؤں پھرگئے محض بزدلی کی وجہ سے انہوں نے اللہ کی ساتھ بدعہدی کی اور معاہدے کی ذمہ داریاں ادا نہ کیں ۔ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے صاف صاف کہہ دیا کہ آپ جائیں ‘ آپ اور آپ کا خدا دونوں لڑیں ہم توی ہیں بیٹھتے ہیں ۔ اہل کتاب کے ان معاہدوں اور مواقف کے جائزے کے بیچ میں ‘ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان عہد شکنیوں کے نتیجے میں اہل کتاب کے اندر کس قدر فکری انحراف پیدا ہوگیا تھا ۔ ان معاہدوں میں یہ طے ہوا تھا کہ وہ صرف ایک اللہ کو تسلیم کریں گے اور اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کریں گے ۔ اس کے بدلے اللہ نے ان کو انعامات واکرامات سے نوازنا تھا اور یہ وعدہ کیا تھا کہ تمہیں اس سرزمین کا اقتدار اعلی دیا جائے گا لیکن انہوں نے خدا کی نافرمانی کر کے اپنے آپ کو ان تمام چیزوں سے محروم کرلیا ۔ چناچہ وہ اللہ کی جانب سے ملعون ہو کر اور فرقہ پرستی میں پڑ کر جلاوطنی کی زندگی بسر کرتے رہے ۔ ان تبصروں کے بعد از سر نو انکو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ہدایت کو قبول کرلیں ۔ یہ ہدایت جو نہایت ہی اہم ہے جسے اس آخری رسالت نے پیش کیا ہے اور جسے نبی آخر الزمان خاتم النبین نے پیش کیا ہے اور جس کی وجہ سے انسانوں پر حجت تمام ہوگئی کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ ایک طویل عرصہ گزر گیا ہے اور کوئی نبی نہیں آیا اور آخری نبی گزرنے کے بعد طویل عرصہ گزر گیا ہے ۔ اس لئے وہ ہدایت بھول گئے اور اب ان پر مواخذہ کیا ہوگا ۔ لو حضرت محمد ﷺ بشیر ونذیر بن کر آگئے ہیں ‘ اب کیا بہانہ ہے بتاؤ ؟ اس تمام بحث سے یہ نتیجہ بھی از خود برآمد ہوتا ہے کہ دین اسلام اپنی اساس کے اعتبار سے ایک ہے اللہ کا اپنے بندوں کے ساتھ عہد ومثاق بھی ایک ہے کہ وہ ایمان لائیں ‘ اللہ کو وحدہ لا شریک سمجھیں ‘ زکوۃ ادا کریں اور اللہ نے انکو جو رزق دیا ہے ‘ اس میں سے اللہ کے لئے خرچ کریں ۔ یہ ایک ایسا میثاق ہے جو صحیح نظریات کو متعین کردیتا ہے جو صحیح عبادات کو متعین کردیتا ہے اور اسلام کے اجتماعی نظام کی بنیادوں کی نشاندی کرتا ہے ۔ اس مختصر جائزے کے بعد آب ذرا آیات پر تفصیلی بحث کرتے ہیں۔
Ayah 5:12

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 5:12 in the Quran reader

اللہ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا اور ان میں بارہ نقیب مقرر کئے تھے ، اور ان سے کہا تھا کہ ” میں تمہارے ساتھ ہوں ، اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوۃ دی اور میرے رسولوں کو مانا اور ان کی مدد کی اور اپنے خدا کو اچھا قرض دیتے رہے تو یقین رکھو کہ میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کر دوں گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی مگر اس کے بعد جس نے تم میں سے کفر کی روش اختیار کی تو درحقیقت اس نے سواء السبیل گم کردی ۔

(آیت) ” نمبر 12 تا 14 ۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا وہ دو فریقوں کے درمیان معاہدہ تھا ۔ اس معاہدے کی عبارت شرط اور جزائے شرط کے انداز میں تھی ۔ قرآن کریم نے اس معاہدے کی شرط اور اجزاء کو بعینہ نقل کیا ہے ۔ یہ اصل عبارت عہد کے حالات اور واقعہ عقد کے ذکر کے بعد دی گئی ہے ۔ یہ عہد اللہ تعالیٰ اور بنی اسرائیل کے 12 نمائندوں کے درمیان ہوا تھا ۔ یہ نمائندے بنی اسرائیل کے 12 قبائل کے نمائندے تھے ۔ یہ 12 قبائل حضرت یعقوب (علیہ السلام) (جن کا نام اسرائیل تھا) کے پوتے اور ان کی اولاد تھے ۔ ان نمائندوں کی تعداد 12 تھی اور اس معاہدے کی عبارت یہ تھی : (آیت) ” ً وَقَالَ اللّہُ إِنِّیْ مَعَکُمْ لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلاَۃَ وَآتَیْْتُمُ الزَّکَاۃَ وَآمَنتُم بِرُسُلِیْ وَعَزَّرْتُمُوہُمْ وَأَقْرَضْتُمُ اللّہَ قَرْضاً حَسَناً لَّأُکَفِّرَنَّ عَنکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ وَلأُدْخِلَنَّکُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ فَمَن کَفَرَ بَعْدَ ذَلِکَ مِنکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاء السَّبِیْلِ (12) ” اور ان سے کہا تھا کہ ” میں تمہارے ساتھ ہوں ، اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوۃ دی اور میرے رسولوں کو مانا اور ان کی مدد کی اور اپنے خدا کو اچھا قرض دیتے رہے تو یقین رکھو کہ میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کر دوں گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی مگر اس کے بعد جس نے تم میں سے کفر کی روش اختیار کی تو درحقیقت اس نے سواء السبیل گم کردی ۔ “ (انی معکم) میں تمہارے ساتھ ہوں ‘ کس قدر عظیم عہد ہے ۔ جس کی حمایت میں اللہ ہو ‘ اس کے خلاف کون ہو سکتا ۔ اور جو چیز بھی اس کے خلاف ہو ‘ نہ اس کی کوئی حقیقت ہوگی ‘ نہ اثر ہوگا اور جس کے ساتھ اللہ ہو اگا تو وہ ہر گز راستہ نہ بھولے گا ‘ اس لئے کہ اللہ جس کا ساتھی ہو وہ ہدایت پر ہی ہوگا ۔ پھر اللہ اس کے لئے کافی بھی ہوگا ۔ جس کے ساتھ اللہ ہو تو نہ ہو پریشان ہوگا اور نہ نامراد ہوگا کیونکہ اللہ کے ساتھ اس کی نزدیکی اور قرب اسے مطمئن کردیتا ہے اور اسے کامیاب کردیتا ہے ۔ غرض جو اللہ کا ساتھی ہو اور جس کا ساتھی اللہ ہوا تو اس کا ضامن اللہ ہوتا ہے ۔ وہ مراد کو پہنچ جاتا ہے ۔ اس مقام بلند پر اسے مزید کسی چیز کی ضرورت یا طلب نہیں رہتی ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی رفاقت کا یہ اعلان محض گپ اور مزاح میں نہیں کیا یا ان کے ساتھ کسی خاص دوستی کی وجہ سے نہیں کیا اور نہ یہ ان کی کوئی ذاتی بزرگی کا استحقاق ہے کہ جس کے نہ کوئی اسباب ہیں اور نہ اس کے لئے کچھ شرائط وقیود ہیں ۔ بلکہ یہ رفاقت ایک باقاعدہ معاہدے کے تحت طے پائی ہے ۔ یہ شرط وجزاء پر مبنی ہے ۔ وہ شرط یہ ہے کہ وہ نماز قائم کریں گے ۔ صرف نماز کی ادائیگی کافی نہیں ہے بلکہ اس کا قیام اس طرح ضروری ہے کہ اس کے پورے اصول اس کے اندر قائم ہوجائیں اور وہ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان پورا رابطہ ہو ۔ نماز ان کے لئے ایک تہذیبی ‘ تربیتی عنصر ہو ‘ اللہ تعالیٰ کے سیدھے نظام تربیت اور نظام حیات کے مطابق ۔ اس طرح کہ یہ نماز نہیں تمام فحاشیوں سے روکتی ہو ‘ تمام برائیوں سے منع کرتی ہو اور نماز کو اس بات سے حیا آتی ہو کہ ہو فحاشی اور ناپسندیدہ افعال کے ذخیرے کے ساتھ اللہ کے دربار میں حاضر رہے ‘ منکرات لئے ہوئے ۔ اللہ نے انہیں جو رزق اور دولت دی ہے اس کا حق نعمت ادا کرتے ہوئے وہ زکوۃ کی ادائیگی باقاعدگی کے ساتھ کرتا ہو اور یہ خیال کرتا ہو کہ اصل مالک اللہ ہے اور وہ اس مال کے تصرف میں اللہ کی پیروی کر رہا ہے ۔ اس لئے کہ اللہ اصل مالک ہے اور اللہ کی مال میں لوگ بطوروکلاء اور ایجنٹ تصرفات کرتے ہیں ۔ پھر زکوۃ کی ادائیگی اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ اسلامی معاشرے کی اجتماعی ضروریات کو اس کے ذریعے پورا کیا جاسکے ۔ نیز اسلامی نظام معیشت کے اس زریں اصول کو بروئے کار لایا جاسکے کہ دولت صرف مالداروں ہی کے درمیاں گردش نہ کرتی رہے بلکہ معاشی زندگی کو اجتماعی کفالتی نظام کے اصول پر قائم کیا جائے ۔ نیز دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں نہ ہو ‘ جس کی وجہ سے عام معاشرے میں کساد بازاری پیدا ہوتی ہے اور لوگوں کی قوت خرید ختم ہوجاتی ہے ۔ اور جس کا آخری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے میں کساد بازاری پیدا ہوتی ہے اور لوگوں کی قوت خرید ختم ہوجاتی ہے ۔ اور جس کا آخری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے کے اندر پیداواری عمل معطل ہوجاتا ہے یا کم از کم بہت ہی سست پڑجاتا ہے ۔ اس کا واضح نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک قلیل تعداد عیاشی کرتی ہے اور عوام کی کثیر تعداد مفلوک الحال رہتی ہے اور غربت کی زندگی بسر کرتی ہے ‘ جس کے نتیجے میں معاشرتی بگاڑ اور فساد پیدا ہوتا ہے اور یہ بگاڑ مختلف رنگوں میں ظاہر ہوتا ہے ۔ یہ تمام فساد ادائیگی زکوۃ سے رکتا ہے اور اس فساد کو دفع کرنے میں اسلامی نظام کا تقسیم دولت کا نظام بہت بڑا کام کرتا ہے اور اسلام اپنا اقتصادی کردار ادا کرتا ہے ۔ اللہ کے رسولوں پر ایمان ‘ تمام رسولوں پر بغیر کی تفرقہ اور جدائی کے کہ یہ سب اللہ کی طرف سے آئے ہیں اور سب کے سب اللہ کی دین لے کر آئے اور ان میں سے کسی بھی ایک کا انکار مستلزم کفر ہے ۔ کیونکہ یہ اس ذات کا انکا رہے جس نے ان سب کو بھیجا ہے ۔ یہ عہد صرف ایمان اور مجرد عقیدہ ہی نہ ہو بلکہ ایک مثبت اقرار ہو اور اس کے ساتھ عملا رسولوں کی نصرت ہو ۔ ان فرائض میں ان کے ساتھ مدد اور تعاون بھی ہو جو فرائض ان پر اللہ نے عائد کئے ہیں اور جن کو بروئے کار لانے کے لئے ان رسولوں نے اپنی زندگیوں کو وقف کردیا ہے ۔ اللہ کے دین پر ایمان لازمی تقاضا یہ ہے کہ جو لوگ دین کو قائم کرنا چاہتے ہیں ہر مومن اٹھے اور انکی بھرپور امداد کرے ۔ اس دین کو اس کرہ ارض کی کسی سرزمین پر قائم کر دے اور یہ دین لوگوں کی زندگیوں میں ایک حقیقت بن کر اٹھے ۔ اس لئے کہ اللہ کا دین محض اعتقادی تصورات کا نام نہیں ہے ‘ نہ یہ دین صرف مراسم عبادت کا نام ہے بلکہ یہ زندگی کا ایک واقعی اور عملی نظام ہے یہ ایک متعین نظام ہے جو زندگی کے تمام امور میں تصرف اور عمل کرتا ہے ۔ اور جو نظام بھی ہو اور جو منہاج بھی ہو وہ نصرت اور امداد اور تعاون کا محتاج ہوتا ہے ۔ اسے قوت کی فراہمی ضروری ہوتی ہے ۔ اس کے لئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے تاکہ وہ قائم ہو ‘ اس کی حمایت ہو اور اسے بچایا جائے ۔ اگر ایسی صورت حال نہ ہو تو مومن نے ‘ یہ سمجھا جائے گا ‘ کہ اپنے کیے ہوئے عہد کا ایفا نہیں کیا ہے ۔ زکوۃ کے بعد اب عام انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس نے یہ عام انفاق فرض کیا ہے لیکن یہ قرض ہے ۔ حالانکہ اللہ خود تمام دولت کا مالک ہے اور وہی داتا ہے ۔ لیکن یہ اس کا فضل وکرم ہے کہ وہ اپنی دی ہوئی چیز کو اپنے لئے بطور قرض مانگتا ہے ۔ یہ تمام امور تو شرط تھے ۔ اب اس شرط کی جزاء کیا ہے ؟ پہلی جزاء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے ۔ انسان سے خطا کا صدور خواہ مخواہ ہوتا ہے اور وہ برائی پر مائل ہوتا ہے ۔ اگرچہ وہ بہت ہی نیکوکار ہو ۔ اس کی خطاؤں کو معاف کرنا بھی اس کے لئے ایک بہت ہی بڑا انعام ہے ۔ اور اللہ کی وسیع رحمت کی وجہ سے اس کے ضعف ‘ اس کی کمزوری اور اس کے عجز و قصور کا تدارک ہوتا ہے ۔ پھر اس کی جزاء میں ایسے باغات آتے ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اور یہ اللہ کا خالص فضل وکرم ہے ۔ کوئی انسان اللہ کے اس درجہ فضل وکرم تک محض اپنے عمل کے بل بوتے پر نہیں پہنچ سکتا ۔ یہ محض اللہ کا فضل ہے جو کسی انسان کو اس مقام تک پہنچا سکتا ہے اور یہ مقام اس وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان اس کے لئے جدوجہد کرتا ہے ۔ جہاں تک اس کا بس چلے اور جس قدر اس کی وسعت میں ہو۔ اور عہد ومیثاق میں ایک جزئی شرط یہ بھی تھی ۔ (آیت) ” فمن کفر بعد ذلک منکم فقد ضل سوآء السبیل “۔ (5 : 12) ” مگر اس کے بعد تم میں سے جس نے کفر کی روش اختیار کی تو درحقیقت اس نے سواء السبیل گم کردی ۔ “ اس لئے اب اس کے لئے کوئی ہدایت نہ ہوگی اور نہ وہ گمراہی سے واپس ہوگا ۔ جب اس کے لئے ہدایت واضح ہو اور اس کے ساتھ معاہدہ ہوجائے اور راستہ واضح ہوجائے اور اس پر چلنے کی جزاء بھی متعین ہوجائے تو اب اس کی خلافت ورزی لازما گمراہی ہے ۔ یہ تھا اللہ تعالیٰ کا معاہدہ بنی اسرائیل کے نمائندوں کے ساتھ اور یہ پوری قوم بنی اسرائیل کے نمائندے تھے ۔ وہ سب ان کی نمائندگی پر راضی تھے ۔ اس طرح یہ میثاق گویا بنی اسرائیل کے ہر فرد کے ساتھ ہوگیا ۔ اس جماعت اور امت کے ساتھ بھی ہوگیا جو بنی اسرائیل پر مشتمل تھی لیکن ملاحظہ فرمائیں کہ بنی اسرائیل نے اس عہد کے ساتھ کیا کیا ۔ انہوں نے اپنے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اس عہد کو کھلے بندوں توڑ دیا ۔ انہوں نے اپنے نبیوں کو ناجائز طور پر قتل کیا ۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل اور سزائے موت دلوانے کی سازش کی حالانکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے انبیاء میں سے آخری نبی تھے ۔ انہوں نے اپنی کتاب توراۃ میں تحریف کی ۔ انہوں نے اپنی شریعتوں کو بھلا دیا اور کسی بھی شریعت کو نافذ نہ کیا ۔ انہوں نے نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی بابت نہایت ہی مکارانہ ‘ معاندانہ اور غیر شریفانہ موقف اختیار کیا ۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیانت کی اور حضور ﷺ کے ساتھ کئے ہوئے معاہدوں کی خلاف ورزی کی اس لئے وہہ اللہ کی ہدایت سے نکل گئے ، ان کے دل سخت ہوگئے اور وہ اس قابل ہی نہ رہے کہ وہ ہدایت قبول کرسکیں ۔
Ayah 5:13

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

پھر یہ انکو اپنے عہد کو توڑ ڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اور انکے دل کو سخت کردیا ، اب ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا الٹ پھیر کر کے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں ۔ جو تعلیم انہیں دی گئی تھی اس کا بڑا حصہ بھول چکے ہیں ‘ اور آئے دن تمہیں ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں ۔ لہذا انہیں معاف کرو اور انکی حرکات سے چشم پوشی کرتے رہو ‘ اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کی روش رکھتے ہیں

(آیت) ” فَبِمَا نَقْضِہِم مِّیْثَاقَہُمْ لَعنَّاہُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَہُمْ قَاسِیَۃً یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ عَن مَّوَاضِعِہِ وَنَسُواْ حَظّاً مِّمَّا ذُکِّرُواْ بِہِ ۔ ” پھر یہ انکو اپنے عہد کو توڑ ڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اور انکے دل کو سخت کردیا ، اب ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا الٹ پھیر کر کے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں ۔ جو تعلیم انہیں دی گئی تھی اس کا بڑا حصہ بھول چکے ہیں ‘ ‘ اللہ کا فرمان کس قدر سچا ہے ۔ آج بھی یہودیوں کی خصوصیات یہی ہیں ۔ یہ وہ لعنت ہے جو ان کے ماتھے سے ہو ہر وقت عیاں ہے ۔ اس سے ان کی اصل فطرت اور جبلت ظاہر ہوتی ہے ۔ جس پر خدا کی لعنت ہے وہ درگاہ ہدایت سے راندہ ہے ۔ ان کے خدوخال میں بدبختی چمکتی ہے ۔ ان کے چہرے پر اللہ کی رحمت کا نشان نہیں ہوتا ہے ۔ ان کے معاملات انسانی جذبات سے خالی ہوتے ہیں ‘ اگرچہ وہ مکاری سے یا خوف کی وجہ سے زبردستی اپنے چہروں پر مسکراہٹ لائیں اور بات میں نرمی پیدا کریں اور باہم ملاقات میں نہایت فطرت اور جبلت ظاہر ہوتی ہے ۔ جس پر خدا کی لعنت ہے وہ درگاہ ہدایت سے راندہ ہے ۔ ان کے خدوخال میں بدبختی چمکتی ہے ۔ ان کے چہرے پر اللہ کی رحمت کا نشان نہیں ہوتا ہے ۔ ان کے معاملات انسانی جذبات سے خالی ہوتے ہیں ‘ اگرچہ وہ مکاری سے یا خوف کی وجہ سے زبردستی اپنے چہروں پر مسکراہٹ لائیں اور بات میں نرمی پیدا کریں اور باہم ملاقات میں نہایت شرافت سے کام لیں ۔ اس لئے کہ چہرے مہرے کی سختی اور خدوخال میں خشکی اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ اس شخص کا دل خشک اور اس کا مزاج کرخت ہے ۔ اس کے علاوہ ان کی اصل خصوصیت یہ ہے کل وہ بات کو اپنی جگہ سے ہٹاتے ہیں ۔ انہوں نے پہلے اپنی کتاب تورات میں تحریف کی اور اس کی وہ شکل بگاڑ دی جس پر وہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل فرمائی تھی ۔ یہ تحریف یا تو اس طرح کی گئی کہ انہوں نے اس کتاب میں اپنی مرضی کی چیزوں کا اضافہ کردیا اور یہ ظاہر کیا کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے اور یا یہ تحریف اس طرح ہوئی کہ آیات تو اصلی ہی باقی رہیں لیکن انہوں نے ان کا مفہوم اپنی مرضی کے ساتھ بدل دیا اور اپنے گھٹیا مقاصد کے حصول کے لئے ان آیات کے مفہوم کے اندر زبردست تبدیلی کردی اور اس طرح انہوں نے اللہ پر افتراء باندھا ، یا تحریف اس طرح کی کہ انہوں نے اللہ کے احکام کو بھلا دیا ‘ اسلامی نظام حیات اور شریعت کو موقوف کردیا اور اپنی زندگیوں میں شریعت عمل کرنا بند کردیا اپنے معاشرے کو آزاد کردیا اس لئے کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے بعد ان کو اللہ تعالیٰ کے اس پاک وصاف اور سیدھے دین کے مطابق سیدھا طرز عمل اختیار کرنا پڑتا تھا ۔ جس کے وہ عادی نہ تھے ۔ (آیت) ” ولا تزال تطلع علی خائنۃ منھم الا قلیلا منھم “۔ (5 : 13) (اور آئے دن تمہیں ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں۔ ) یہ حضور اکرم ﷺ کو خطاب ہے ۔ آپ ﷺ کو بتایا جاتا ہے کہ مدینہ کے اسلامی معاشرے میں یہودیوں کے حالات کیا ہیں۔ وہ ہمیشہ خائن رہیں گے اور نبی ﷺ کے ساتھ خیانت سے کبھی بھی باز نہ آئیں گے ۔ وہ بارہا عملا خیانت کا ارتکاب کرتے رہے ۔ جب تک وہ مدینہ میں رہے وہ آئے دن کچھ نہ کچھ کرتے رہے۔ اس کے بعد وہ جزیرۃ العرب میں جب تک رہے ان کی سازشیں جاری رہیں ۔ اور اس کے بعد پوری تاریخ میں اسلامی معاشرہ کے ساتھ یہودی اسی خیانت پر گامزن رہے حالانکہ اسلامی معاشرہ وہ واحد معاشرہ تھا جس نے ان کو پناہ دی ۔ اور ان کو دوسرے کے مظالم سے نجات دی ‘ ان کے ساتھ حسن سلوک کیا اور اسلامی معاشرے میں وہ ہمیشہ خوشحالی کی زندگی گزارتے رہے ۔ لیکن انہوں نے ہمیشہ بعینہ انہی خطوط پر جن پر وہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ معاملے کرتے رہے ‘ وہی معاملہ اسلامی معاشرے کے ساتھ کیا بچھوؤں ‘ سانپوں ‘ بھیڑیوں اور گیدڑوں کی طرف وہ مسلمانوں کے خلاف سازش اور ان کے ساتھ خیانت کرتے رہے اور آج بھی وہ اسی مکاری و فریب کاری میں مصروف ہیں ۔ جب بھی کبھی انہیں قوت نصیب ہوئی انہوں نے مسلمانوں سے سخت انتقام لیا ۔ ان کے لئے پھندے رکھے ‘ اور ان کے خلاف سازشیں کیں ‘ اور مسلمانوں کے ہر دشمن کے وہ دوست بن گئے ، جہاں بھی انہیں فرصت ملی اور موقعہ ملا انہوں نے مسلمانوں پر وار کیا ۔ نہایت سنگدل اور نہایت ہی بےرحم واقع ہوئے ہیں وہ مسلمانوں کے حوالے سے ۔ کبھی بھی انہوں نے مسلمانوں پر رحم نہ کیا اور مسلمانوں کے بارے میں انہوں نے ہمیشہ اپنے عہد اور ذمہ داری کو بھلا دیا ۔ ان کی اکثریت ایسی ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان کے بارے میں کہا ہے ۔ اور جس طرح ان کی اس جبلت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ عہد شکن رہے ہیں اور قدیم الایام سے ان کا یہ وطیرہ ہے ۔ انداز بیان ایسا ہے کہ حضور کو خطاب کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ ان کو ایسا پائیں گے ۔ مدینہ کے حوالے سے ۔ (آیت) ” ولا تزال تطلع علی خائنۃ منھم الا قلیلا منھم “۔ (5 : 13) ” آپ ہمیشہ ان میں سے خائن لوگوں پر مطلع ہوتے رہیں گے الا یہ کہ ان میں سے کم لوگ ایسے نہ ہوں گے ۔ “ ان کے افعال خیانت کارانہ ہوں گے ‘ ان کی نیت میں فتور ہوگا ‘ ان کی بات مکارانہ ہوگی اور ان کی نظر میں خائن ہوگی ۔ یہاں آیت میں موصوف کو حذف کر کے اس کی جگہ صفت کو رکھ دیا یعنی (خائنہ) اور اس سے اس کے مفہوم میں عمومیت پیدا ہوگئی ، مجرد خیانت ‘ خیانت سے بھرپور فضاء اور خیانت کا سایہ ان پر ہر وقت چھایا ہوا ہوگا ۔ ان کی جبلت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ خائن ہیں ۔ یہ ان کے موقف کا جوہر ہے اور رسول اللہ اور جماعت مسلمہ کے ساتھ انکا یہی برتاؤ رہا ہے ۔ خائن ۔۔۔۔۔ خائن ۔۔۔۔۔ خائن۔ یہ قرآن اس امت کا معلم ‘ مرشد ‘ راہنما اور زندگی کی راہوں کے نشیب و فراز میں اس کا حدی خواں ہے ۔ وہ امت کو اس کے دشمنوں کے حالات بتاتا ہے اور دشمنوں کے مزاج اور ان کی تاریخ بھی امت کے سامنے رکھتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اسلامی ہدایات بھی دیتا ہے ۔ اگر یہ امت اپنے قرآن سے مشورہ کرتی رہے ‘ قرآن کی ہدایات پر کان دھرے اور اپنی زندگی میں قرآنی اصولوں اور قوانین کو عملا نافذ کرے تو اس کے دشمن کبھی بھی اس کا کچھ نہ بگار سکیں ۔ لیکن جب امت مسلمہ نے خود اپنے اس عہد کو توڑ دیا جو اس نے اپنے رب کے ساتھ کیا تھا اور جب اس نے قرآن کریم کو پس پشت ڈال دیا تو اسے اس صورت حال سے دو چار ہونا پڑا جس میں وہ بالفعل ہے ‘ اگرچہ یہ امت قرآن کریم کو نہایت ہی ترنم اور وجد انگیز انداز میں پڑھتی ہے ۔ اس سے تعویذ اور گنڈے بھی بناتی ہے اور اسے دم اور جھاڑ کے لئے استعمال بھی کرتی ہے ۔ بنی اسرائیل پر جو گزری اس کی پوری داستاں اللہ تعالیٰ نے امت کو سنائی ۔ کس طرح وہ معلون ہوئے ‘ رائندہ درگاہ ہوئے ‘ سنگ دل بن گئے اور انہوں نے کتاب اللہ میں کیا کیا تحریفیں کیں ‘ انہوں نے اللہ کے ساتھ اپنے عہد و پیمان توڑے ۔ یہ سب داستان اس لئے بیان ہوئی کہ یہ امت اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد و پیمان کو نہ توڑے تاکہ اس کا انجام بھی وہ نہ ہوجائے جو اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد و پیمان کے ہر توڑنے والے کا ہوتا ہے ۔ ہر اس شخص کا ہوتا ہے جو اپنی بات سے پھرجاتا ہے ۔ لیکن جب ان قرآنی تنبیہات سے امت مسلمہ نے غفلت برتی اور صحیح راستے کو چھوڑ کر غلط راستے پر پڑگئی تو اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ سے انسانیت کی قیادت کا مقام منصب ضبط کرلیا اور قافلہ انسانیت میں یہ امت پیچھے چلنے والوں کی صف میں چلی گئی ۔ جب تک یہ امت اپنے رب کی طرف رجوع نہ کرے گی ‘ جب تک یہ اپنے عہد و پیمان پر پختگی سے قائم نہ ہوگی ٗاور جب تک معاہدے کی شرائط کو پورا نہ کرے گی ‘ اس وقت تک اللہ کا وعدہ ان کے حق میں معطل رہے گا ۔ اگر وہ شرائط پوری کردے تو اللہ تعالیٰ از سر نو اس امت کو تمکن فی الارض عطا کرے گا ۔ وہ پوری انسانیت کی قائد ہوجائے گی اور تب وہ لوگوں پر شاہد حق ہوگی ۔ اگر وہ یہ شرائط پوری نہ کرے گی تو وہ قافلہ انسانیت میں پیچھے چلنے والوں ہی میں رہے گی ، یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف کبھی نہیں کرتا ۔ اس وقت جب یہ آیات نازل ہوئیں اللہ کی جانب سے اس کے نبی کے لئے درج ذیل ہدایات تھیں : (آیت) ” فاعف عنھم واصفح ، ان اللہ یحب المحسنین “۔ (5 : 13) (پس جب یہ اس حال کو پہنچ چکے ہیں تو جو شرارتیں بھی یہ کریں وہ ان سے عین متوقع ہیں) لہذا انہیں معاف کرو اور ان کی حرکات سے چشم پوشی کرتے رہو ۔ اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کی روش رکھتے ہیں یعنی آپ ان لوگوں کے ان تمام برے افعال کو معاف کردیں ۔ یہ طریقہ احسان ہے ۔ وہ جو خیانتیں کرتے ہیں ان سے بھی صرف نظر کریں اور یہ بھی احسان ہے ۔ یہ تو اس وقت کی بات تھی جب یہ سورت نازل ہو رہی تھی ‘ بعد کے ادوار میں حالات ایسے ہوگئے کہ عفو و درگزر کی گنجائش ہی انہوں نے نہ چھوڑی اور نبی ﷺ نے ان کو مدینہ سے جلا وطن کردیا اور اس کے بعد خلافت راشدہ کے دور میں ان کو پورے جزیرۃ العرب سے جلا وطن کردیا گیا ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کو یہ بتاتے ہیں کہ عیسائیوں سے بھی اس نے عہد لیا تھا ۔ انہوں نے بھی اس عہد کو توڑ دیا ۔ اور نتیجۃ انکو بھی اس نقص عہد کی سزا بھگتنی پڑی ۔