5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 5:60

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

پھر کہو : کیا میں ان لوگوں کی نشاندہی کر دوں جن کا انجام خدا کے ہاں فاسقوں کے انجام سے بدتر ہے ‘ وہ جن پر خدا نے لعنت کی ‘ جن پر اس کا غضب ٹوٹا ‘ جن میں سے بندر اور سور بنائے گئے ‘ جنہوں نے طاغوت کی بندگی کی۔ ان کا درجہ اور بھی زیادہ برا ہے اور وہ سواء السبیل سے بہت زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں ۔

(آیت) ” نمبر 60۔ یہاں ہمیں اب یہودیون کی تاریخ کا مطالعہ کرایا جاتا ہے ۔ یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہوئی اور ان پر اللہ غضب ہوا اور ان کی شکلیں بگاڑ کر ‘ ان سے بندر اور خنزیر بنائے گئے اور پھر بھی ان لوگوں نے طاغوت ہی کی بندگی اختیار کی ۔ ان کے ملعون ہونے اور ان پر اللہ کا غضب آنے کے قصے ‘ قرآن کریم میں بار بار ذکر ہوئے ہیں ۔ نیز قرآن کریم میں ان کے وہ واقعات بھی مذکور ہیں کہ ان میں سے کچھ لوگوں کو بندر اور خنزیر کی شکل میں مسخ کیا گیا ۔ لیکن یہاں ان پر بندگی طاغوت کی جو فرد جرم عائد کی گئی ہے ‘ اس سورة کے مضامین کے زاویے سے اس کی بڑی اہمیت ہے ۔ اس کی ہم قدرے تفصیلات دیں گے کیونکہ یہ لفظ نہایت اہم اور خاص معنی کے لئے استعمال ہوا ہے ۔ طاغوت کا لفظ ہر اس اقتدار کے لئے استعمال ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات سے ماخوذ نہ ہو ‘ ہر حکم ‘ حکم طاغوت ہے اور ہر وہ کام طاغوت ہے جو شریعت اسلامی سے ماخوذ نہ ہو ۔ ہر وہ ظلم طاغوت ہے جو برحق نہ ہو ‘ نیز اللہ کی حاکمیت ‘ اللہ کی الوہیت اور اس کے قانون سازی پر دست درازی کرنا طاغوت کی سب سے بڑی قسم ہے اور جو لفظ اور معنا طاغوت پر صادق آتی ہے ۔ کی عبادت کرتے تھے ‘ بات نہ تھی کہ وہ ان کی عبادت کرتے تھے ۔ حقیقت یہ تھی انہوں نے ارباب اور رہبان کی بنائی ہوئی شریعت کو اپنا لیا تھا اور اللہ کی بھیجی ہوئی شریعت کو چھوڑ دیا تھا۔ اس لئے اللہ نے یہ کہا کہ انہوں نے ارباب و رہبان کی بندگی شروع کردی ہے اور یہ لوگ مشرک ہوگئے ہیں ۔ لفظ طاغوت میں یہ گہرا مفہوم شامل ہیں ہے ۔ یعنی وہ اس حکومت کے مطیع تھے جو شریعت پر مبنی نہ تھی اور سرکش تھی ۔ حقیقت واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ اس حکومت یا ارباب و رہبان کے سامنے سجدے نہ بجا لاتے تھے بلکہ وہ عبادت اس طرح کرتے تھے کہ وہ ان کی اطاعت کرتے تھے ۔ طاغوت کی جب کوئی اطاعت کرتا ہے تو وہ اللہ کے دین اور اللہ کی اطاعت کے دائرے سے خارج ہوجاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں رسول اللہ ﷺ کو اس طرف متوجہ فرمایا ہے کہ آپ اہل کتاب کا مقابلہ ان کی اس تاریخ کو پیش نظر رکھ کر کریں اور یہ کہ وہ اسی جزا کے مستحق ہیں جو انہیں ان کی تاریخ میں ملی ۔ گویا یہ یہودی نسلا بعدنسل وہی قوم ہیں اس لئے کہ ان کی جبلت ایک ہے اور ان کا یہی انجام ہونا چاہتے تھا ۔ (آیت) ” قل ھل انبئکم بشر من ذلک مثوبۃ عند اللہ “۔ (5 : 60) ” پھر کہو کیا میں ان لوگوں کی نشاندہی کروں جو انجام کار خدا کے ہاں فاسقوں کے انجام سے بھی بدتر ہے ۔ “ یعنی اہل کتاب کی جانب سے اہل اسلام کی دشمنی سے بھی زیادہ خطرناک ‘ وہ اسلام کے خلاف جو سازشیں کرتے ہیں اور اہل ایمان کو محض ایمان کی وجہ سے سزا اور اذیت دیتے ہیں “ اس سے بھی زیادہ بری بات ہے اور وہ ہے خدا کی دشمنی اور خدا کا عذاب ۔ بندے کی دشمنی سے خدا کی دشمنی اور عذاب بہت ہی خطرناک ہے ۔ اور اس کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ شرپسند ہیں ‘ گمراہ ہیں اور صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے ہیں ۔ (آیت) ” اولئک شرمکانا واضل عن سوآء السبیل “۔ (5 : 60) ” ان کا درجہ اور بھی زیادہ برا ہے اور وہ سواء السبیل سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ “ یہاں قرآن کریم ان کی نشانیوں کی صفات کا ذکر کرکے ان کے ساتھ دوستی کرنے اور تعلق موالات قائم کرنے سے مسلمانوں کو متنفر فرماتے ہیں ۔ جبکہ اس سے قبل ان کے تاریخی کردار اور انکے برے انجام کا ذکر ہوا ۔ اب مسلمانوں کو ‘ ان کے بعض راز افشاء کر کے ‘ ان سے ڈرایا جاتا ہے اور اس تصویر کشی میں یہودیوں کو زیادہ نمایاں کیا جاتا ہے اس لئے کہ بات اس وقت کے حالات کے بارے میں چل رہی تھی اور اس وقت سب سے بڑا فتنہ یہودی فتنہ ہی تھا ۔
Ayahs 5:61–62

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

جب یہ لوگ تم لوگوں کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ کفر لیے ہوئے آئے تھے اور کفر ہی لیے ہوئے واپس گئے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں۔

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں پر دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں ۔ بہت ہی بری حرکات ہیں جو یہ کر رہے ہیں ۔

(آیت) ” نمبر 61 تا 64۔ یہ ایسی عبادتیں ہیں جن کے اندر کچھ چلتی پھرتی تصاویر نظر آتی ہیں اور یہ قرآن مجید کا منفرد اسلوب ہے ۔ صدیاں گزر گئیں لیکن ان لوگوں کی تصاویر آج بھی ان عبارات میں واضح ہیں ‘ جن کے بارے میں قرآن کریم ان آیات میں بحث کرتا ہے ۔ یہاں جو نقشہ کھنیچا گیا ہے وہ یہودیوں کا ہے ‘ اس سے کہ آگے پیچھے بات انہی کی ہو رہی ہے ۔ اگرچہ اس میں بعض وہ لوگ بھی نظر آتے جو مدینہ کے منافقین ہیں ۔ نظر آتا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ گفتگو شروع کرتے ہیں ‘ ” بھائی ہم بھی تو ایمان لا چکے ہیں “ لیکن اپنی بغل میں کفر چھپائے ہوئجے ہیں جب آئے تو یہ کفر ان کے ساتھ تھا۔ لیکن ان کے منہ میں رام رام ہے اور بغل میں کفر کی چھری ہے ۔ یہ گروہ غالباگروہ تھا یہود تھا جو راتوں کو اسلام کے خلاف سازشیں تیار کرتے تھے ‘ اور ان میں سے بعض دوسروں سے یہ کہتے تھے کہ صبح اس قرآن پر اپنے ایمان کا اعلان کرو اور شام کو پھر کفر کا اعلان کر دو ‘ اور اس طرح اسلامی صفوں میں بےچینی پیدا کرو۔ اس طرح ہو سکتا ہے کہ مسلمان بھی قرآن کو ترک کردیں اور اپنے دین کو چھوڑ دیں یہ اس افراتفری اور شک وشبہ کی فضا کی وجہ سے ہے ۔ (آیت) ” واللہ اعلم بما کانوا یکتمون “۔ (5 : 61) ” اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ چھپاتے ہیں “۔ یہ اللہ کا کہنا ہے اور اللہ حقائق کے جاننے والے ہیں ۔ اور اس اعلان سے اہل ایمان کو اطمینان نصیب ہوتا ہے کہ ان کا رب ان کا محافظ اور نگہبان ہے ۔ وہی انہیں یہودیوں کی سازشوں سے بچا سکتا ہے کیونکہ اللہ کا علم ان کی خفیہ سازشوں پر محیط ہے اور یہ اللہ کی جانب سے ان کو ایک دھمکی ہے کہ اگر وہ باز نہ آئے تو۔۔۔۔ سیاق کلام کو لے کر ذرا آگے بڑھئے ۔ اس منظر میں ان کی کچھ اور تصاویر آتی ہیں ۔ (آیت) ” وتری کثیرا منھم یسارعون فی الاثم والعدوان واکلھم السحت ، لبئس ما کانوا یعملون (62) ” تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں بہت ہی بری حرکات ہیں جو یہ کر رہے ہیں “۔ مسارعہ باب مفاعلہ ہے بہت سے لوگ ہیں جو باہم مقابلہ کررہے ہیں ‘ گناہ اور ظلم میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں اور ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر حرام مال کھاتے ہیں ۔ یہ تصویر نہایت ہی مکروہ اور بدنما ہے ۔ لیکن جب کسی قوم کی اخلاقی حالت بگڑ جائے اور اس میں فساد سرایت کرجائے تو اس میں ایسی ہی صورت حالات پیدا ہوجایا کرتی ہے ۔ زندگی کی اعلی اقدار ختم ہوتی ہیں ‘ معاشرے پر شر غالب ہوجاتی ہوجاتا ہے اور جب بھی انسان کو ایسے معاشروں کو دیکھنے کا موقعہ ملتا ہے تو یہ پایا جاتا ہے کہ ان میں لوگ شر ‘ گناہ اور ظلم کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس معاشرے کے کے طاقتور لوگ اپنے دائرے میں اور زبردست لوگ اپنے دائرے میں ظالم ہوتے ہیں ۔ گناہ میں آلودگی اور ظلم ایسے گرے ہوئے فاسد معاشروں میں صرف طاقتور لوگوں تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ضعفاء بھی ان جرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں یہاں تک سب لوگ اثم وعدوان کے سیلاب میں بہتے چلے جاتے ہیں ۔ یہ ضعفاء بیشک زبردستوں پر ظلم کرنے پر قادر نہیں ہوتے لیکن یہ ضعفاء پھر آپس میں ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں اور اگر ایک دوسرے پر ظلم نہ بھی نہ کرسکیں تو یہ لوگ پھر اللہ کی حرمتوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں اس لئے کہ فاسد معاشروں کے اندر پھر اللہ کے حدود ہی رہ جاتے ہیں جن کو توڑنے کے لئے ان کے سامنے میدان کھلا ہوتا ہے ۔ ایسے میں نہ طاقتور حکام اور نہ ضعفاء محکوم حدود اللہ کی حفاظت کرتے ہیں ۔ غرض جو معاشرے بھی اخلاقی بگاڑ کا شکار ہوجائے اس میں گناہ کی زندگی اور ظلم کی حرکات کا دور دورہ ہوتا ہے بلکہ گناہ اور ظلم کی طرف دوڑنے کے مقابلے (مسارعت) ہوتے ہیں ۔ (آیت) ” لبئس ما کانوا یعملون “۔ (5 : 92) ” بہت بری حرکات ہیں جو یہ کر رہے ہیں ۔ “ یہاں سیاق کلام فاسد معاشروں کی ایک دوسری خصوصیت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کے علماء اور مشائخ گنگ ہیں ‘ بولتے ہی نہیں ۔ علماء جو شریعت اور قانون کے نگران اور نگہبان ہیں ‘ ان کے سامنے قانون توڑے جاتے ہیں ۔ مشائخ جو علم دین کے استاد ہیں ان کے سامنے غلط افکار پھیل رہے ہیں اور وہ منع نہیں کرتے اور ان کے سامنے لوگ گناہ اور ظلم کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
Ayahs 5:63–64

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

ان کے علماء ومشائخ انہیں گناہ پر زبان کھولنے اور حرام کھانے سے منع نہیں کرتے ۔ یقینا بہت ہی برا کارنامہ زندگی ہے جو یہ تیار کر رہے ہیں

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

یہودی کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔ باندھے گئے ہیں ان کے ہاتھ اور لعنت پڑی ان پر اس بکواس کی بدولت جو یہ کرتے ہیں اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں ‘ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کلام تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی و باطل پرستی میں الٹا اضافہ کا موجب بن گیا ہے اور ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کیلئے عداوت اور دشمنی ڈال دی ہے ۔ جب کبھی جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اس کو ٹھنڈا کرتا ہے ۔ یہ زمین میں فساد پھیلانے کی سعی کر رہے ہیں مگر اللہ فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔

(آیت) ” (62) لولا ینھھم الربنیون والاحبار عن قولھم الاثم واکلھم السحت ، لبئس ما کانوا یصنعون (63) ” ان کے علماء ومشائخ انہیں گناہ پر زبان کھولنے اور حرام کھانے سے منع نہیں کرتے ۔ یقینا بہت ہی برا کارنامہ زندگی ہے جو یہ تیار کر رہے ہیں۔ “ جب کوئی معاشرہ اخلاقی اعتبار سے ٹوٹ پھوٹ اور فساد کا شکار ہوتا ہے تو اس کی ایک بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس میں قانون کے نگران قانون شکنی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ (علمائ) اخلاقی رہبر (مشائخ) بداخلاقیوں اور ظلم پر سکوت کرتے ہیں اور بنی اسرائیل کی کیا خصوصیات تھیں ؟ (آیت) ” کانوا لا یتناھون عن منکرفعلوہ) ” وہ اس برائی سے ایک دوسرے کو منع نہ کرتے تھے جو وہ کرتے تھے ۔ “ یہ قرآن ہی نے دوسری جگہ ان کے بارے میں کہا ہے ۔ ایک صحت مند ‘ زندہ ‘ قوی اور فاضلانہ معاشرے کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں ہر طرف امر بالعروف اور نہی عن المنکر کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ اور اس میں ہر وقت ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کا مشن امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ اور اس میں ہر وقت ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کا مشن امر بالعروف اور نہی عن المنکر ہوتا ہے اور اس کے عوام کے اندر بھی ایسے عناصر غالب ہوتے ہیں جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی طرف کان دھرتے ہیں ۔ اور معاشرے کے اوپر اس قسم کے روایات کی گرفت ہو کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ختم نہ کیا جاسکتا ہو اور نہ ایسے لوگوں کا بال بیکا کیا جاسکتا ہو جو یہ کام کرتے ہیں ۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کی شکل میں برپا ہونے والے ایک صحت مند معاشرے کے بارے میں فرمائی ہے ۔ (آیت) ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر وتومنون باللہ ‘۔ (3 : 11) ” تم خیر امت ہو ‘ حکم دیتے ہو نیکی کا اور منع کرتے ہو منکر سے اور اللہ پر ایمان لانے والے ہو “۔ اور بنی اسرائیل جو ایک فاسد معاشرے کے خوگر تھے ان کے بارے میں ہے (کانوا لا یتناھون عن منکر فعلوہ) ” وہ اس برائی سے ایک دوسرے کو منع نہ کرتے تھے جس کا وہ ارتکاب کرتے تھے ۔ “ یہ بات گویا دو قسم کے معاشروں کا مابہ الامتیاز ہے ۔ یہاں یہودیوں کے علماء اور مشائخ کو ملامت کی جاتی ہے کہ وہ کیوں گنگ ہوگئے ہیں اور وہ ان لوگوں کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے جو گناہ کی زندگی ‘ باہم ظلم کی روش اور حرام خوری میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں اور کتاب اللہ کی حفاظت کا جو فریضہ ان پر عائد کیا گیا تھا اسے وہ پورا نہیں کرتے ۔ یہ ان تمام لوگوں کے لئے ڈرانے والے کی پکار ہے جو اہل دیں اور علماء کہلاتے ہیں ۔ معاشرے کی اصلاح یافساد ان لوگوں پر موقوف ہے جو اس معاشرے ‘ دین اور قانون کے نمائندے ہوتے ہیں یعنی علماء ومشائخ ۔ اگر وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فرائض ادا کرتے ہیں تو اصلاح ہوگی اور اگر وہ خاموش رہتے ہیں تو بگاڑ ہوگا اور جس طرح ہم نے اس سے قبل ظلال القرآن میں کہا ہے کہ اس کام کے لئے ایک حکومت درکار ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام کرے اور یہ نظام دعوت وتبلیغ سے علیحدہ ہو اس لئے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے اقتدار کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایسا اقتدار جس کے ذریعہ امر بالمعروف اور عن المنکر ایک بامعنی چیز ہو ۔ محض زبانی جمع خرچ نہ ہو ۔ اب ان لوگوں کی فکری کجی اور اخلاقی بےراہ روی کی ایک مثال دی جاتی ہے ۔ قرآن کریم ان گمراہ اور ذلیل یہودیوں کی کج فکری اور بد روی کی ایک نہایت ہی گھاؤنی مثال دیتا ہے ۔ (آیت) ” غلت ایدیھم ولعنوا بما قالوا ، بل یدہ مبسوطتن ینفق کیف یشآء “ (5 : 63) ” یہودی کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔ باندھے گئے ان کے ہاتھ ‘ اور لعنت پڑی ان پر اس بکواس کی بدولت جو یہ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ ۔ اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں ‘ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ “ یہ یہودیوں کا اللہ کا بارے میں نہایت ہی برا تصور تھا ۔ ان کی بہت ہی بدظنیاں قرآن نے جگہ جگہ نقل کی ہیں ۔ ایک جگہ انہوں نے کہا ” اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ۔ “ اور یہ انہوں نے اس وقت کیا کہ جب ان سے اسلامی مقاصد کے لئے چندہ مانگا گیا ۔ اللہ کے ہاتھ بندھے ہونے سے عربی محاورے کے مطابق مراد یہ تھی کہ اللہ بخیل ہے ۔ ان کے خیال کے مطابق اللہ لوگوں کو بہت کم ضروریات دیتا ہے ۔ انہیں بھی کم دیا جاتا ہے اس لئے وہ کس طرح خرچ کریں ‘؟ ان کا شعور اس قدر بگڑ گیا تھا اور ان کے دل اس قدر سخت ہوگئے تھے کہ انہوں نے اللہ جل شانہ کے لئے لفظ بخیل بھی استعمال نہ کیا ‘ بلکہ اس سے بھی برا لفظ استعمال کیا جو زیادہ توہین آمیز ہے ۔ یعنی اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔ اللہ یہی جواب ان کو ان کے الفاظ میں دیتے ہیں ۔ ان پر لعنت بھیجی جاتی ہے۔ اور ان کو راندہ درگاہ قرار دیا جاتا ہے ۔ (آیت) ” غلت ایدیھم ولعنوا بماقالوا “۔ (5 : 64) ان کے ہاتھ باندھ دئیے گئے اور اس لئے باندھ دیئے گئے کہ انہوں نے یہ بکواس کی اور ان پر لعنت کردی گئی اور ایسا ہی ہوا کہ تاریخ میں بنی اسرائیل سے زیادہ کوئی بخیل اور زرپرست قوم نہیں ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کی گری ہوئی سوچ درست فرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی ذات کبریا کے بارے میں وضاحت فرماتے ہیں کہ وہ بڑا کریم ہے ۔ اس کے ہاتھ کھلے ہیں اور وہ اپنے بندوں پر بلاحساب فیضان رحمت کرتا ہے ۔ (بل یدہ مبسوطتن ، ینفق کیف یشآء “۔ (5 : 64) ” اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے “۔ اللہ کے عطیے تو جاری ہیں اور تمام مخلوقات پر ان کی بارش ہو رہی ہے دیکھنے والوں کے لئے بالکل واضح ہیں ۔ دیکھو اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں ‘ اس کا فضل وکرم بھرپورے ہے ‘ اس کے عیطے عظیم ہیں ‘ اپنی زبان سے خود بولتے ہیں ‘ ہاں یہودیوں کو وہ نظر نہیں آتے ‘ اس لئے کہ وہ رات دن دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ رات دن انکار ونافرمانی میں غرق ہیں اور رات دن اللہ کی ذات کے بارے میں ان کا رویہ توہین آمیز ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت نبی کریم ﷺ کے سامنے ان کے مستقبل کے بارے میں ایک منظر پیش فرماتے ہیں کہ ان کا حشر کیا ہونے والا ہے اور یہ حشر ان کا اس لئے ہونے والا ہے کہ یہ لوگ محمد ﷺ کے نام پروانہ رسالت آنے پر جل بھن گئے ‘ خصوصا اس وجہ سے کہ اس رسالت کے ذریعے ان کے خلاف قدیم وجدید فرد جرم عائد کردی گئی ۔ (آیت) ” ولیزیدن کثیرا منھم ما انزل الیک من ربک طغیانا وکفرا “۔ ” حقیقت یہ ہے کہ جو کلام تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی و باطل پرستی میں الٹا اضافہ کو موجب بن گیا ہے “ ۔ اس کینہ اور حسد کی وجہ سے رسالت حضور ﷺ کو کیوں مل گئی اور پھر مزید اس وجہ سے کہ اس رسالت نے ان کی تمام گندی کو بےکم وکاست ریکارڈ کردیا یہ لوگ سرکشی اور کفر و انکار کی راہ پر مزید آگے ہی بڑھیں گے ۔ اس لئے کہ انہوں نے ایمان لانے سے انکار کردیا ۔ لہذا ایمان کے برعکس راہ کفر ہی پر یہ لوگ آگے بڑھتے چلے جائیں گے ۔ اپنے آپ کو بڑا سمجھنے اور مزید کفر کرنے کی وجہ سے اور اپنی فطری سرکشی اور طغیان کی وجہ سے یہ لوگ اس راہ میں مزید آگے بڑھیں گے اور حضور اکرم ﷺ ان کے لئے روزوبال وجان بنتے چلے جائیں گے ۔ مستقبل کے لئے ان کی ایک دوسری خصوصیت یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ لوگ ایک دوسرے کے بھی دشمن ہوں گے ۔ انہیں ایک دوسرے کے ساتھ سخت بعض ہوگا اور جب بھی وہ اسلام کے خلاف کوئی زبردست سازش تیار کریں گے اور جنگ کی آگ بھڑکائیں گے اور تحریک اسلامی کے خلاف کوئی جنگی اسکیم تیار کریں گے اللہ تعالیٰ اس کو ختم کر دے گا اور جماعت مسلمہ کو بچا لے گا ۔ (آیت) ” والقینا بینھم العداوۃ والبغضاء الی یوم القیمۃ کلما اوقدوا نارا للحرب اطفاھا اللہ (5 : 64) ” ہم نے انکے درمیان قیامت کے لئے عدوات اور دشمنی ڈال دی ہے جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکا تے ہیں اللہ اس کو ٹھنڈا کردیتا ہے ۔ “ آج تک یہودی فرقے ایک دوسرے کے دشمن ہیں ۔ “ اگرچہ آج کے دور میں بظاہریہ نظر آتا ہے کہ عالمی یہودیت متحد ہوگئی ہے ۔ اور اسلامی ممالک میں وہ جابجا جنگ کے شعلے بھڑکا رہی ہے اور کامیاب ہے ۔ لیکن بات یہ نہیں ہے کہ ہم تاریخ کے ایک مختصر عرصے کو سامنے رکھ کر بات کریں یا کسی ایک مظہر کو اور کسی صورت حال کے ایک پہلو ہی کو دیکھ کر فیصلہ کردیں ۔ گزشتہ چودہ سو سال کے اندر بلکہ اسلام سے پہلے کے ادوار میں بھی ‘ یہودی ذلیل اور باہم دست و گریبان رہے ہیں اور اس کی وجہ سے ہمیشہ جلاوطن اور دوبدر پھرتے رہے ہیں ۔ ان کا آخری انجام بھی وہی ہوگا جس پر وہ پہلے تھے چاہے ان کے اردگرد جس قدر سہارے ہوں ۔ لیکن اصل کنجی تو یہ ہے کہ آیا دنیا میں کوئی اسلامی رجمنٹ بھی ہے یا نہیں ؟ یہ اسلامی رجمنٹ ہی ہے جس کے ہاتھوں ان کی ذلت لکھی ہوئی ہے ۔ چونکہ اس وقت ایمان میں پختہ کار لوگوں کی رجمنٹ مفقود ہے ‘ جو اللہ کے وعدوں پر بھروسہ کرتی ہے اور جو دست قدرت کا آلہ اور ذریعہ بنتی ہے اور اس رجمنٹ کے ذریعے اللہ وہ کچھ کرتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں ۔ ہاں جب یہ امت اسلامی نظریہ حیات پر جمع ہوگی ‘ ایمان کی حقیقت اپنے اندر پیدا کرلے گی ‘ اپنی پوری زندگی کو اسلامی نظام حیات کے مطابق بنائے گی اور اسلامی شریعت کو نافذ کرے گی ‘ اس دن پھر اللہ کا وعدہ اس کی مخلوقات میں سے ان شریر ترین لوگوں پر صادق ہوگا اور یہودیوں کو اس بات کا اچھی طرح احساس ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ترکش میں شرارت اور سازش کے جو تیر بھی ہیں وہ اسلامی صفوں کے خلاف چلاتے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں جس قدر گرفت ہے وہ اسے ان اسلامی دستوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں جو احیائے علوم کی تحریک کے ہر اول دستے بن رہے ہیں یہ یہودی تمام دنیا میں چھان بین کر رہے ہیں اور اپنے گماشتوں کے ذریعے یہ جگہ جگہ ان اسلامی رجمنٹوں کا سر کچل رہے ہیں ۔ نہایت ہی وحشیانہ جرائم اور نہایت ہی ناپسندیدہ کاروائیاں وہ اسلامی لیڈر شپ کے خلاف کر رہے ہیں ۔ وہ اس اسلامی رجمنٹ کے خلاف کسی بھی عہد موالات اور کسی بھی ذمے اور کسی بھی قومی اور بین الاقوامی چارٹر کا کوئی خیال نہیں کرتے لیکن اللہ نے اپنے معاملات اپنے ہاتھ میں رکھتے ہوئے ہیں اس کا وعدہ سچا ہے کہ حزب اللہ ہی غالب ہوگی ۔ (آیت) ” والقینا بینھم العداوۃ والبغضاء الی یوم القیمۃ کلما اوقدوا نارا للحرب اطفاھا اللہ (5 : 64) ” ہم نے انکے درمیان قیامت کے لئے عدوات اور دشمنی ڈال دی ہے جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکا تے ہیں اللہ اس کو ٹھنڈا کردیتا ہے ۔ “ یہ شروفساد جس کے نمائندے اور جس کے ماڈل یہود ہیں ‘ دائمی امر نہیں ہے ۔ ایک دن آئے گا کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسا دستہ اٹھائے گا جو اسے پاش پاش کر دے گا ۔ اللہ تعالیٰ فساد فی الارض کو پسند نہیں کرتا اور جس چیز کو اللہ پسند نہیں کرتا تو ضروری ہے کہ ایک ایسی قوت اٹھائے جو اسے پاش پاش کر دے ۔ (آیت) ” ویسعون فی الارض فسادا ۔ واللہ لا یحب المفسدین (5 : 63) ” یہ زمین میں فساد پھیلانے کی سعی کر رہے ہیں مگر اللہ فساد برپا کرنے والوں کو ہر گز پسند نہیں کرتا۔ “ اس سبق کے آخر میں عظیم ایمانی اصول کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ وہ یہ کہ خطہ ارض پر دین کے قیام اور اسلامی نظام کے قیام کے معنی یہ ہیں کہ اس میں اصلاحی کام ہوں گے ‘ لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے ‘ ان کی دنیاوی فلاح و بہبود کے کام زوروں پر ہوں گے اور فلاح دنیا کے ساتھ ساتھ انہیں فلاح آخرت بھی نصیب ہوگی ۔ اس خطہ ارض پر پھر دنیا اور آخرت میں فرق نہ ہوگا اور نہ وہاں دین دنیا میں تضاد ہوگا یہ نظام بیک وقت دنیا اور آخرت کا ضامن ہوگا اور اس میں دین اور دنیا علیحدہ نہ ہوں گے ۔ اس عظیم تبدیلی کا ذکر اس بات کے بعد کیا جاتا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کے دین سے انحراف کرلیا ہے ۔ وہ حرام خور ہوگئے ہیں اور انہوں نے احکام شریعت کے مفہوم کو بدل دیا ہے ۔ یہ کام انہوں نے محض دنیاوی مفادات کے حصول کے لئے کیا ہے حالانکہ اگر وہ اپنے اصل دین کا اتباع کرتے تو یہ ان کے لئے دنیا وآخرت اور آسمان و زمین دونوں میں ان کے لئے اچھا ہوتا بشرطیکہ وہ صحیح راہ اختیار کرتے ۔