Ayah 5:105(آیت) ” نمبر : 105۔
یہ اہل ایمان اور ان کے مخالف کیمپ کے درمیان ایک مکمل جدائی ہے اور ان کے اپنے درمیان باہم کفالت اور ضمانت ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہمدردی اور یہ کہ وہ ایک امت اور ایک جماعت ہیں ۔
(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ عَلَیْْکُمْ أَنفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُم مَّن ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْْتُمْ (5 : 105)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اپنی فکر کرو ‘ کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا “۔ تم ایک اکائی ہو اور تم دوسروں سے علیحدہ اور ممتاز ہو ۔ تم باہم متضامن اور متکافل ہو ‘ اس لئے تم اپنے محور کے گرد جمے رہو۔ اپنے آپ کو پاک رکھو۔ اپنا تزکیہ کرو ‘ اپنی جماعت اور اپنی جمعیت کی فکر کرو ‘ اگر تم راہ ہدایت پر جمے رہے تو کسی کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہ دے سکے گی ۔ اس لئے کہ تم ایک علیحدہ جمعیت ہو اور دوسروں سے الگ ہو ۔ تم ایک دوسرے کے دوست ہمدرد اور باہم کفیل ہو۔ تمہاری دوسری امتوں کے ساتھ دوستی نہیں ہے اور نہ ان کے ساتھ دلی ربط ہے ۔
یہ ایک آیت ہی واضح کردیتی ہے کہ اس امت اور دوسری امم کے باہم ربط وتعلق کے اصول کیا ہوں گے ؟ اور دوسری اقوام کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی ۔
امت مسلمہ اللہ کی پارٹی ہے اور امت کی علاوہ جو بھی امتیں ہیں وہ شیطان کی پارٹیاں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ اور دوسری امتوں کے درمیان دوستی اور باہم تضامن قائم نہیں ہو سکتا اس لئے امت مسلمہ اور دوسری امم کے درمیان کوئی نظریاتی اشتراک نہیں ہے ۔ نہ مقاصد کا اشتراک ہے اور نہ وسائل ومقاصد میں ان کے درمیان یگانگت ہے ۔ نہ ذمہ داریوں اور نہ انکی جزاء میں اتحاد ہے ۔
امت مسلمہ کا فرض یہ ہے کہ وہ باہم متضامن اور کفیل ہوں اور اس کے افراد ایک دورے کے ہمدرد اور مخلص ہوں ۔ وہ اللہ کی ہدایت پر چلتے رہیں اس لئے کہ اللہ ہی نے تو انہیں ایک علیحدہ امت قرار دیا ہے ۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو دنیا کی کوئی قوت انہیں نقصان نہ پہنچا سکے گی اگرچہ ان کے اردگرد تمام لوگ گمراہی کو اختیار کرلیں ۔ لیکن یہ اصول اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک امت ہدایت پر ہو اور قائم ہو ۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امت مسلمہ فریضہ دعوت دین سے ہاتھ کھینچ لے ۔ اس کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کو دین اور ہدایت کی طرف بلائے کیونکہ لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف بلانا ہی ہمارا دین ہے ۔ یہی ہمارا نظام ہے ۔ جب امت اس کرہ ارض پر کہیں اپنا نظام قائم کرلے تو پھر اس کا فرض ہے کہ وہ تمام انسانوں کو اس دین کی طرف دعوت دے ۔ اور پھر انہیں ہدایت دینے کی سعی کرے ۔ یہ فرض اس پر بہرحال رہتا ہے کہ وہ انہیں عدل و انصاف کی راہ پر چلائے ۔ عدل کی نگرانی کرے اور انسانوں کو مزید گمراہی کے راستے پر چلنے سے بچائے ۔ انہیں اس جاہلیت میں داخل ہونے کی اجازت نہ دے جس سے اللہ نے انہیں نکالا ۔
یہ بات کہ امت اپنے نفس ہی کی ذمہ دار ہے اور اگر وہ ہدایت پر ہو تو دوسروں کی گمراہی سے اس کو کوئی نہ ہوگا ۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اگر وہ امر بالعروف اور نہی عن المنکر میں کوتاہی کرے تو اس سے کوئی محاسبہ نہ ہوگا اس پر یہ فرض ہے کہ پہلے امت کی صفوں کے اندر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرے اور اس کے بعد پورے کرہ ارض پر یہ فریضہ ادا کرے ۔ یہاں سب سے پہلا اور اہم معروف یہ ہے کہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کیا جائے اور اللہ کی شریعت کو قانون تسلیم کیا جائے ۔ سب سے بڑا منکر جاہلیت اور اللہ کے حق حاکمیت پر دست درازی ہے ۔ جاہلیت کا حکم بھی طاغوت کا حکم ہے اور طاغوت کی حکومت ہونی ہی وہ ہے جس میں اللہ کے سوا کسی اور کی حکمرانی ہو جبکہ امت مسلمہ پہلے خود اپنے اوپر قوام ہے اور پھر پوری انسانیت پر قوام ہے ۔
اس آیت کا مفہوم و مراد وہ نہیں ہے جس طرح بعض قدیم مفسرین نے سمجھا ہے اور جس طرح بعض جدید لوگ سمجھتے ہیں یعنی یہ کہ ایک فرد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مکلف نہیں ہے بشرطیکہ وہ خود درست طرز عمل اختیار کئے ہوئے ہو ۔ نہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ امت مسلمہ بھی اس کرہ ارض پر اللہ کی شریعت کے قیام کی مکلف نہیں ہے ۔ بشرطیکہ وہ بذات خود راہ راست پر ہو اگرچہ اس کے اردگرد لوگ گمراہ ہوں ۔
یہ آیت نہ ایک مومن کو اور نہ پوری امت کو دنیا میں پائے جانے والی برائی کے مقابلے سے بری الذمہ قرار دیتی ہے ۔ ضلالت اور نافرمانی کا مقابلہ فرض ہے اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ سب سے بڑی گمراہی یہ ہے کہ کوئی اللہ کے حق حاکمیت پر دست درازی کرے اور اللہ کا حق قانون سازی غصب کرے ۔ یہ ایک ایسا منکر ہے جس سے نہ کسی فرد کو فائدہ ہوتا ہے اور نہ امت کو اور جب تک یہ منکر قائم رہے کوئی امت فلاح نہیں پا سکتی ۔
اصحاب سنن نے یہ روایت کی ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے ایک بار تقریر فرمائی اور کہا : ” لوگو ! تم یہ آیت پڑھتے ہو ۔
(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ عَلَیْْکُمْ أَنفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُم مَّن ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْْتُمْ إِلَی اللّہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعاً فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ (105)
اس آیت کا اطلاق تم ایسی صورت حال پر کرتے ہو جو اس کی مراد نہیں ہے میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ لوگ جب برائی کو دیکھیں اور اسے روکنے کی کوشش نہ کریں تو ممکن ہے کہ اللہ سب کو عذاب میں مبتلا کردے ۔ “
خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے نہایت ہی وقت پر اس غلط فہمی کا ازالہ فرمایا ۔ یہ غلط فہمی ان کے دور میں بعض لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوگئی تھی ۔ آج ہم تو اس نصیحت کے بہت ہی محتاج ہیں ۔ کیونکہ آج منکر کو دور کرنے کے فرائض بہت ہی مشکل ہوگئے ہیں اس لئے ہم جیسے ضعیف لوگ اس آیت کے اس مفہوم کی طرف بہت جلد مائل ہو سکتے ہیں ۔ اس طرح وہ جہاد کی مشقت اور مشکلات سے نجات پالیں گے اور ان کو جہاد فی سبیل اللہ کی مشکلات کو برداشت نہ کرنا پڑے گا ۔
ہر گز یہ مفہوم مراد نہیں ہو سکتا ‘ اس لئے کہ یہ فریضہ صرف جدوجہد اور جہاد ہی کے ذریعہ قائم ہو سکتا ہے اس لئے دین کے لئے کچھ ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو عوام کو اس دین کی طرف دعوت دیں ۔ لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکلا کر اللہ کی غلامی میں داخل کریں اور دنیا میں اللہ کی حاکمیت کو قائم کریں ۔ اللہ کا حق حاکمیت جن لوگوں نے چھین لیا ہے ‘ ان سے وہ حق چھین لیں ۔ لوگوں کی زندگیوں پر اللہ کی شریعت نافذ کریں اور انہیں شریعت پر استوار کریں ۔ اس مقصد کے لئے جدوجہد لازمی ہے تاکہ گمراہ افراد تک نیکی اور روشنی پہنچانے کی جدوجہد کی جائے ۔ اگر کوئی قوت لوگوں کو راہ ہدایت پر آنے سے روک رہی ہو تو اس کا مقابلہ قوت سے کیا جائے ۔ اس قوت کے اثرات کو ختم کیا جائے جو دین اسلام کو معطل رکھتی ہے اور اسلامی نظام اور اسلامی شریعت کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے ۔
اسلام کی راہ میں آڑے آنے والی اس رکاوٹ کو دور کرنے کے بعد اہل ایمان کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے اور تب ہی گمراہ اپنی سزا خود بھگتیں گے جب وہ اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے ۔ (آیت) ”إِلَی اللّہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعاً فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ (105) اگر تم خود راہ راست پر ہو ‘ اللہ کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے ‘ پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرے رہے ہو ۔ “
اب ان احکام شرعیہ میں سے آخری حکم بیان کیا جاتا ہے ‘ جو اس سورة میں ذکر ہیں اور اس حکم کا تعلق اسلامی معاشرے کے بعض اجتماعی امور سے ہے ۔ یہ حکم اس بارے میں ہے کہ اگر کوئی سفر میں وصیت کر رہا ہوں تو اس پر دو منصف اور عادل قسم کے گواہ ٹھہرائے ‘ ایسے حالات میں کہ جب وہ اپنے معاشرے اور خاندان سے دور ہو ۔ یہ گواہی اس لئے قائم کی جاتی ہے تاکہ حق حقدار تک پہنچ سکے ۔
Ayahs 5:106–108(آیت) ” 106 تا 108۔
ان تین آیات میں جو حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص یہ محسوس کرے کہ اس کی موت قریب ہے اور وہ اپنے اہل و عیال کے نام وصیت لکھنا چاہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ دو عادل گواہ اہل اسلام میں سے بلائے ۔ اگر وہ مقیم ہو اور ان کو وہ وصیت دے دے تو جو وہ اس کے ورثاء کے سامنے رکھیں گے اور اگر یہ سفر میں ہو اسے مسلمان گواہ نہ مل رہے ہوں تو پھر یہ بات جائز ہے کہ وہ غیر مسلم دو افراد کو شاہد مقرر کرے ۔
اگر اہل اسلام یا اہل میت ان دو افراد کی شہادت بابت وصیت میں شک کریں کہ انہوں نے وصیت کے بارے میں جو شہادت دی ہے وہ درست نہیں ہے ‘ اور وہ جس چیز پر مامور کئے گئے تھے وہ ٹھیک طور پر ادا نہیں کر رہے تو ان گواہوں کو نماز کی ادائیگی کے بعد یا ان کے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کے بعد یہ حلف دیا جائے گا کہ وہ یہ شہادت اپنی یا کسی اور کے کسی مفاد کے لئے نہیں دے رہے اگرچہ کوئی رشتہ دار ہو اور یہ کہ انہوں نے کوئی امر مخفی نہیں رکھا ہے اور اگر وہ ایسا کریں گے تو یقینا گناہگار ہوں گے ۔ اس قسم کے حلف کے بعد ان کی شہادت ثابت اور نافذ تصور ہوگی ۔
اب اس حلف کے بعد اگر یہ ثابت ہوجائے کہ انہوں نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے اور جھوٹی شہادت دی ہے اور امانت میں خیانت کی ہے تو وارثان میں سے دو افراد یہ حلف اٹھائیں گے کہ ان کی شہادت پہلے دو گواہوں کی شہادت سے زیادہ سچی ہے اور یہ کہ وہ یہ حلف اٹھا کر زیادتی نہیں کر رہے ہیں ۔ اس ثبوت اور حلف کے بعد پہلے دو گواہوں کی شہادت ختم تصور ہوگی اور ان دوسرے گواہوں کی شہادت نافذ ہوگی ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان انتظامات کے ذریعے کسی امر کی اچھی طرح چھان بین ہو سکے گی اور لوگ شہادت دے سکیں گے اور نیز لوگوں کو یہ خوف نہ رہے گا کہ ان کی شہادت کے خلاف اور شہادت قائم ہوگی ۔
(آیت) ” ذَلِکَ أَدْنَی أَن یَأْتُواْ بِالشَّہَادَۃِ عَلَی وَجْہِہَا أَوْ یَخَافُواْ أَن تُرَدَّ أَیْْمَانٌ بَعْدَ أَیْْمَانِہِمْ ۔ (5 : 108)
” اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے یا کم از کم اس بات ہی کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے ۔ “
آخر میں تمام لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ خدا ترسی کا رویہ اختیار کریں اور اس بات کا احساس کریں کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔ اس سے ڈریں اور اس کے حکام کی اطاعت کریں ۔ اس لئے کہ اللہ ان لوگوں کو راست نہیں دکھاتا جو اس کے نافرمان ہیں اور نہ ان کی راہنمائی بھلائی کی طرف کرتا ہے ۔
(آیت) ” وَاتَّقُوا اللّہَ وَاسْمَعُواْ وَاللّہُ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ (108)
” اللہ سے ڈرو اور سنو اللہ نافرمانی کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے محروم کردیتا ہے ۔ “
ان تین آیتوں کی شان نزول کے بارے میں امام قرطبی فرماتے ہیں : اس بارے میں کوئی اختلاف میرے علم کی حد تک نہیں ہے کہ یہ آیات تمیم داری اور عدی ابن بداء مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ۔ بخاری اور دارقطنی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ تمیم داری اور عدی ابن بداء مکہ کو آتے جاتے تھے ۔ ان کے ساتھ ایک نوجوان جو بنی سہم قبیلے کا تھا سفر پر نکلا ۔ وہ ایسی سرزمین میں فوت ہوا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا ۔ اس نے ان دونوں کو وصیت کی اور انہوں نے اس کا ترکہ اس نوجوان کے وارثوں تک پہنچایا ۔ انہوں نے ایک چاندی کا جام روک لیا جسے سونے سے مزین کیا گیا تھا ان دونوں کو رسول اللہ ﷺ نے قسم دی کہ نہ تو انہوں نے اسے چھپایا ہے اور نہ اس کو اس کے بارے میں کوئی علم ہے ۔ اس کے بعد یہ جام مکہ میں پایا گیا تو جن لوگوں سے ملا انہوں نے کہا ہم نے تمیم اور عدی سے خریدا ہے ۔ اب سہمی متوفی نوجوان کے وارث آئے ۔ انہوں نے یہ حلف اٹھایا کہ یہی جام سہمی کی ملکیت تھا ۔ اور یہ کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے زیادہ معتبر ہے اور یہ کہ ہم کوئی زیادتی نہیں کر رہے ۔ اس کے بعد سہمیوں کو جام دے دیا گیا ۔ یہ آیات اسی بارے میں نازل ہوئیں ۔ (الفاظ دارقطنی کے ہیں)
یہ بات ظاہر ہے کہ یہ آیات جس معاشرے کی اصلاح کے لئے نازل ہوئیں اس معاشرے کے حالات کی چھاپ ان تدابیر کے اندر موجود ہے اور ان انتظامات کی نوعیت بھی ایسی ہو سکتی ہے ۔ اس خاص انداز شہادت اور خاص طریقہ ثبوت پر لازما اس وقت کے معاشرتی حالات اثر انداز ہوئے ہیں ۔ خصوصا نماز کے بعد حلف دینا ۔ کیونکہ نماز کے بعد انسان کا دینی شعور اور وجدان تازہ ہوتا ہے ۔ انسان اس بات سے بھی ڈرتا ہے کہ وہ بعد نماز مجمع عام میں حالف لے رہا ہے اور اگر یہ بات جھوٹی نکل جائے تو اسے بہت ہی بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ یہ سب باتیں بتاتی ہیں کہ ان انتظامات کے اندر عربوں کے معاشرتی حالات کی جھلک موجود ہے اور اس وقت ایسے ہی اقدامات کی ضرورت تھی ۔
آج کل کے جدید معاشروں میں اثبات کے جدید وسائل بھی موجود ہیں اور انتظامات ثبوت کی نئی شکلیں بھی موجود ہیں مثلا کتابت ‘ رجسٹری ‘ امانت اور لاکرز ۔ سوال یہ ہے کہ آیا آج کے جدید معاشروں میں یہ انتظامات قابل عمل نہیں رہے ؟
ہم بعض اوقات کسی متعین معاشرے کو ذہن میں رکھ کر بات کرتے ہیں اور یہ فیصلہ کرلیتے ہیں کہ فلاں فلاں انتظامات اب اس دور جدید میں قابل عمل نہیں رہے ہیں اب ان کی ضرورت نہیں ہے اور یہ ان معاشروں کے بقیہ آثار ہیں جن کا دور گزر گیا ہے کیونکہ دور جدید کے وسائل بہت ہی ترقی کر گئے ہیں ۔
اکثر لوگوں کو ایسا دھوکہ ہوتا ہے اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ ہم اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ یہ دین تمام انسانیت کے لئے آیا ہے ۔ ہر دور کے لئے آیا ہے اور آج کے اس جدید دور میں بھی انسانیت کی ایک بڑی تعداد اور آبادی بالکل ابتدائی اور پسماندہ حالت میں ہے ۔ وہ پسماندگی میں کانوں تک ڈوبی ہوئی ہے ۔ انسانیت کے اس بڑے حصے کو ایسے انتظامات بھی موجود ہیں جو ایسی پسماندہ سوسائٹیوں کے اندر بھی چل سکتے ہیں ۔ اور جوں جوں یہ سوسائٹیاں ترقی کرتی جاتی ہیں ‘ اسلام ان کی ترقی یافتہ ضروریات پوری کرتا ہے ۔ اسلامی شریعت کے اندر امانت اور ثبوت کے لئے ضوابط موجود ہیں اور اسلامی شریعت پھر ان کو مزید ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے ۔ یہ اسلامی نظام حیات اور اسلامی شریعت کا ایک معجزانہ کمال ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے یہ شریعت من جانب اللہ ہے اور اسے اللہ جل شانہ ‘ نے انسانیت کے لئے نازل فرمایا ہے ۔
نیز ہم اس بات کے سمجھنے میں بھی دھوکہ کھاتے ہیں کہ ہر ترقی پذیر معاشرے کی ضروریات اسلامی نظام میں پوری ہوتی ہیں ۔ اسلامی نظام حیات ہر معاشرے کے لئے اس کے حسب حالات انتظامات کرتا ہے جس میں جامعیت بھی ہوتی ہے اور لوگوں کے لئے یسر اور سہولت بھی ہوتی ہے ۔ اس طرح یہ دین ہر معاشرے کے حالت کے مطابق وسائل اور طریقے اختیار کرتا ہے ۔ پسماندگی میں بھی اور ترقی یافتہ صحراء اور جنگل میں بھی ‘ اس لئے کہ یہ دین تمام انسانوں کا دین ہے ۔ یہ ہر علاقے اور ہر زمانے کا دین ہے اور یہ بات بھی اس دین کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے ۔
اور ہماری سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ہم انسان یہ سمجھتے ہیں کہ ہم رب الناس کے مقابلے میں بھی لوگوں کے مفادات کو زیادہ سمجھتے ہیں اور جب ہم عملی صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں تو ہمیں سخت شرمندگی ہوتی ہے ۔ لیکن واقعات و حوادث سے دو چار ہونے سے پہلے ہی ہمارے لئے یہ سمجھنا اچھا نہیں ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم انسانوں کے خالق کا احترام کریں اور بارگاہ الہ میں ایک بندے اور ایک غلام کی طرح بات کریں ۔ کاش کہ ہم نصیحت حاصل کریں ۔ کاش کہ ہم اپنی کوتاہ دامنی کا اعتراف کریں۔
درس نمبر 54 ایک نظر میں :
یہ سبق اگرچہ نسبتا طویل ہے لیکن اس کا تعلق بھی نظریاتی اصلاح کے مضمون کے ساتھ ہے ۔ نصاری کے عقائد میں جو انحرافات پیدا ہوگئے تھے ان کی اصلاح مقصود ہے ۔ یہ انحرافات اس قدر دور رس تھے کہ ان کی وجہ سے نصاری اپنے بنیادی نظریات میں سماوی دین کے اصولوں سے منحرف ہوگئے تھے ۔ اور وہ اس عقیدہ توحید ہی سے نکل گئے تھے جس کی تعلیم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اور ان سے پہلے آنے والے رسولوں نے دی تھی ۔ انہوں نے شرک کے وہ رنگ ڈھنگ اختیار کر لئے تھے جن کا کوئی تعلق دین اسلام سے نہ تھا ۔
چناچہ اس سبق کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگوں کے دین میں اللہ کی الوہیت اور بندوں کی عبودیت کا صحیح مفہوم بٹھایا جائے یہ اصلاح اس طرح کی جاتی ہے کہ ایک عظیم جلسے میں جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تمام رسول اور تمام انسان موجود ہیں ‘ اس میں خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اعلان کرتے ہیں کہ میں نے ہر گز یہ تعلیم نہ دی تھی کہ لوگ مجھے میری والدہ اور دوسرے لوگوں کو الہ تسلیم کریں اور یہ کہ عیسائیوں کے مزعومات میں سے کسی بات کی تعلیم انہوں نے نہیں دی ہے ۔
قرآن کریم اس منظر کی خوب تصویر کشی کرتا ہے ‘ ان مناظر قیامت میں سے ایک ہے جسے قرآن کریم زندہ وتابندہ انداز میں پیش کرتا ہے ۔ یہ نہایت ہی موثر چلتا پھرتا منظر ہے ۔ ‘ دلوں کی گہرائیوں تک اتر جانے والا ‘ جس کے اثرات کا عالم یہ ہے کہ انسان کا وجود کانپ اٹھتا ہے ۔ انسان اس طرح متحرک ہے ذرا قرآن کے الفاظ میں غور کیجئے ۔
(آیت) ” یَوْمَ یَجْمَعُ اللّہُ الرُّسُلَ فَیَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُواْ لاَ عِلْمَ لَنَا إِنَّکَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ (109) ” جس روز اللہ سب رسولوں کو جمع کرکے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں ‘ آپ ہی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو جانتے ہیں ۔ “
اللہ تعالیٰ ان تمام رسولوں کو جمع کرے گا جو مختلف زمانوں میں مبعوث ہوئے تھے ، یکے بعد دیگرے آئے تھے ‘ یا ایک ہی دور میں تھے مگر ان کا دائرہ کا علیحدہ تھا ۔ ہر ایک اپنے زون میں کام کر رہا تھا ۔ یا ہر شخص کسی قوم کے لئے مبعوث ہوا تھا اور اپنی قوم ہی میں کام کر رہا تھا ۔ ان سب کی دعوت ایک ہی تھی ‘ اگرچہ زمان ‘ مکان اور اقوام علیحدہ تھیں ۔ یہاں تک کہ خاتم النبین ﷺ آگئے ۔ انہوں نے تمام جہانوں کے لئے مکمل آخری دعوت دے دی جو ہر مکان ‘ ہر زمان اور ہر قوم اور ملت کے لئے ہے ‘ ہر رنگ ونسل کے لئے ہے ۔
یہ سب رسول ‘ جو مختلف اقوام وملل میں مبعوث ہوئے مختلف زمانوں میں آئے ‘ اب ان کا بھیجنے والا انہیں ایک ہی جگہ جمع کرکے ان تمام سے ایک ہی سوال کر رہا ہے ۔ یہ سب لوگ دنیا میں انسانیت کے نمائندے ہیں اور ہر ایک کو ایک زون کی رسالت دی گئی ہے ۔ مختلف ادوار اور مقامات کے لئے ۔ اب یہ نمائندے سب کے سب رب البشریت کے سامنے حاضر ہیں اور ایک عظیم اجتماع کا عظیم منظر ہے ۔ اور یہ منظر زندگی کے ساتھ ہر سو حرکت کرتا نظر آتا ہے ۔
(آیت) ” یَوْمَ یَجْمَعُ اللّہُ الرُّسُلَ فَیَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ ۔ (5 : 109) ” جس روز اللہ سب رسولوں کو جمع کرکے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا ۔ “ سوال یہ تھا ماذا اجبتم (تمہیں کیا جواب دیا گیا) یہ رسول انسان اور بشر تھے ۔ ان کا علم حضوری تھا ۔ اور وہ پوشیدہ چیزوں کے بارے میں کچھ نہ جانتے تھے ۔ انہوں نے اپنی اقوام کو راہ ہدایت کی طرف بلایا ۔ ان میں سے جس نے دعوت کو قبول کیا ۔ جس نے منہ پھیرا ‘ پھیرلیا ۔ اگرچہ رسول منکرین کے جواب کے بارے میں جانتے تھے کہ انہوں نے انکار کیا ہے لیکن ماننے والوں کی حقیقت سے باخبر نہ تھے کہ انہوں نے دل سے مانا ہے یا نہیں ۔ وہ تو صرف ظاہری بات پہ حکم لگا سکتے ہیں ۔ رہی پوشیدہ بات تو اس کا علم انہیں نہیں ہے اور اب وہ جناب باری میں حاضر ہیں اور وہ سب جاننے والوں سے زیادہ جاننے والا ہے اور وہ اللہ سے اس قدر ڈرتے ہیں جس قدر کوئی کسی سے ڈر سکتا ہے ۔ نیز یہ رسل باری تعالیٰ کی معرفت میں بھی بہت ہی اونچا مقام رکھتے ہیں اور وہ اس بات سے حیا کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ کے حضور کھڑے ہو کر اپنے علم کا اظہار کریں جو علم وخبیر ہے ۔
یہ ایک عظیم اجتماع میں ایک عظیم مسئولیت کا دن ہے ۔ عالم بالا کے دربار میں ‘ سب لوگوں کے سامنے کھلے دربار میں اور یہ ایک ایسی جواب طلبی ہے جس کا مقصد یہ بھی ہے کہ سب کے سامنے جواب طلب کیا جائے اور ان لوگوں کے سامنے یہ سوال و جواب ہو جو دنیا میں رسولوں کی تکذیب کرتے تھے تاکہ علی الاعلان یہ بات واضح ہوجائے کہ یہ رسول از خود نہ آئے تھے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اللہ کا دین لے کر آئے تھے ۔ یہ دکھانا بھی مطلوب تھا کہ یہ کام وہ ذمہ داری سے کرتے رہے تھے محض شوق کے طور پر نہ کرتے تھے ۔ اب دیکھئے وہ اپنی مسئولیت کے مطابق جواب دے رہے ہیں ۔ اپنی ڈیوٹی ‘ فریضہ رسالت ‘ اپنی قوم کی بابت جواب دے رہے تھے جنہوں نے ان کی تکذیب کی تھی ۔
رہے رسول تو وہ اعلان کر رہے ہیں کہ سچا علم صرف اللہ کے پاس ہے ۔ اس لئے ان کے پاس جو تھوڑی سی معلومات ہیں ان کا اظہار وہ علام الغیوب خدا کے سامنے نہیں کرنا چاہتے یہ عدم واقفیت کا اظہار وہ محض ادب اور حیاء کی وجہ سے کر رہے ہیں اور اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے ۔
(آیت) ” قَالُواْ لاَ عِلْمَ لَنَا إِنَّکَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ (109) ” تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں آپ ہی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو جانتے ہیں ۔ “
رہے تمام دوسرے رسول ‘ جن کو بعض لوگوں نے مانا اور بعض نے ان کی تکذیب کی ‘ ان کی جانب سے سوال کا اصولی جواب ہی قبول کرلیا گیا ۔ انہوں نے کہہ دیا کہ صحیح علم تو اللہ کے پاس ہے جو علام الغیوب ہے ۔ انہوں نے اپنا اور اپنی قوم کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا ۔ اس منظر میں ان رسولوں سے مزید کوئی سوال نہیں پوچھا جاتا ۔ مزید ضمنی سوال صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ہوتا ہے ۔ ان سے یہ مزید سوال اس لئے کیا جاتا ہے کہ ان کے بارے میں ‘ ان کے بعد ان کی قوم سخت فتنے میں پڑگئی ، ان کے بارے میں فضا کے اندر پیچیدگی پیدا ہوئی اور ان کی ذات کے بارے میں لوگ ادہام اور خرافات کا شکار ہوگئے ، ان کی ذات ‘ ان کی صفات ‘ ان کی ولادت اور ان کی پرورش کے بارے میں ان کی قوم نے عجیب و غریب نظریات گھڑ لیے ۔
اب ان سے ان لوگوں کے سامنے پوچھا جاتا ہے ‘ جو انہیں الہ سمجھتے تھے ۔ ان کی عبادت کرتے تھے اور ان کی ذات اور ان کی والدہ کے اردگرد انہوں نے غلط افکار کے ہالے قائم کئے تھے ، ان کو مخاطب کرکے کہا جاتا ہے کہ دیکھو تم پر اور تمہاری والدہ پر میں نے کس قدر انعامات اور اکرامات کئے ۔ یہ کہ تمہیں بہت سے معجزات عطا کئے کہ لوگ تم پر ایمان لے آئیں ۔ بعض لوگوں نے ان کی سخت تکذیب کی ۔ بعض لوگ ان آیات ومعجزات کو دیکھ کر سخت فتنے میں پڑگئے اور انہیں الہ بنا دیا ۔ حالانکہ یہ آیات ومعجزات تو اللہ کے عطا کردہ تھے اور جن باتوں کا ظہور ان کے ہاتھوں ہوا تھا وہ اللہ کی تائید ونصرت سے ہوا تھا ۔
Ayahs 5:109–111(آیت) ” نمبر 109 تا 111۔
یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ پر ہونے والی انعامات کی یاد دہانی ہے ۔ یہ کہ روح القدس کے ذریعہ ان کی امداد کی گئی ۔ یہ کہ گہوارے کے اندر انہیں لوگوں کے ساتھ بات کرنے کی قدرت دی گئی اور اس طرح انہوں نے اپنی ماں کو تہمتوں سے بری الذمہ قرار دیا ۔ کیونکہ ان کی بےمثال ولادت کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں بیشمار شبہات پیدا ہوگئے تھے اور پھر بڑے ہو کر بھی ان سے ہم کلام ہوئے اور انہیں دعوت الی اللہ دی ۔ دعوت اسلامی میں بھی حضرت جبرائیل ان کی تائید کرتے رہے اور آپ کو کتاب کی تعلیم دیتے رہے ۔ جب وہ اس جہان پر اترے تھے تو ان کے پاس کوئی علم نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں لکھنا سکھایا ‘ انہیں معاملات کے اندر فیصلے کرنے کی حکمت عطا کی ۔ اللہ نے انہیں تورات کا علم بھی عطا کیا ‘ جو بنی اسرائیل کے پاس موجود تھی ۔ انجیل کا علم بھی دیا جو ان پر نازل ہوئی اور اس نے بھی تورات کی تصدیق کی ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انکو ایسے خارق العادات معجزات دیئے جن کا صدور اذن الہی کے سوا ممکن نہ تھا ۔ دیکھئے کہ وہ کیچڑ پرندہ بناتے ہیں اور پھر یہ اذن الہی سے ہوتا ہے کہ آپ اس کے منہ میں پھونکتے ہیں اور وہ زندہ ہوجاتا ہے ۔ ہمیں ان معجزات کی ماہیت کا پتہ نہیں ہے ‘ اس لئے کہ ہم تو آج تک یہ نہیں جان سکے کہ حیات کی حقیقت کیا ہے ؟ اور یہ حیات زندہ چیزوں کے اندر کس طرح پھیل جاتی ہے ۔ اب دیکھئے مادر زاد اندھا آتا ہے اور اللہ کے حکم سے اسے بینائی ملتی ہے جبکہ آج تک اطباء اس بات کو پا نہیں سکے کہ مادر زاد اندھے کو بینائی کس طرح مل گئی ۔ لیکن اللہ جس نے بینائی کا اصل نظام پیدا کیا وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ کسی کو از سر نو بینائی دے دے ۔ مرض کا علاج آپ بغیر کسی دوائی کے کرتے تھے ۔ دوا تو ایک وسیلہ ہے جب کا اثر بھی اللہ کے اذن سے ہوتا ہے لیکن اللہ کے حکم سے وسیلہ بدل بھی سکتا ہے ‘ اور اللہ بلاوسیلہ براہ راست بھی ایک حقیقت کو وجود میں لا سکتا ہے ۔ اللہ اپنے حکم سے مردے کو زندہ کرسکتا ہے ‘ وہ زندگی بخشنے والا ہے ۔ وہ دوبارہ بھی زندہ کرسکتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ یاد دہانی کراتے ہیں کہ وہ دلائل وبینات اور خوارق ومعجزات لے کر بنی اسرائیل کے پاس آئے اور انہوں نے پھر بھی آپ کو جھٹلایا اور انہوں نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ یہ معجزات واضح سحر ہے ۔ اس لئے کہ وہ ان معجزات کے وقوع کا انکار تو کر نہ سکتے تھے ۔ ہزاروں انسانوں نے ان معجزات کو دیکھا ہوا تھا ۔ یہ لوگ محض عناد اور غرور کی وجہ سے ان معجزات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ پھر انہوں نے آپ کو قتل کرنا چاہا تو اللہ نے آپ کو بچایا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یاد دلاتے ہیں کہ ایسے مشکل حالات میں حواریوں نے جرات کی اور وہ ایمان لائے اور شہادت دی اور صحیح مسلمان بن گئے اور اللہ کو گواہ ٹھہرایا کہ وہ سرتسلیم خم کرنے والے ہیں ۔
(آیت) ” وَإِذْ أَوْحَیْْتُ إِلَی الْحَوَارِیِّیْنَ أَنْ آمِنُواْ بِیْ وَبِرَسُولِیْ قَالُوَاْ آمَنَّا وَاشْہَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ (111)
” اور جب میں نے حواریوں کو اشارہ کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تب انہوں نے کہا ” ہم ایمان لائے اور گواہ روہ کہ ہم مسلم ہیں۔ یہ ہیں وہ انعامات جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) پر کیے اور یہ ان کے لئے شواہد وبینات تھے لیکن ان کے متبعین کی اکثریت کے لئے یہ گمراہی اور ضلالت کا باعث بن گئے اور ان کی وجہ سے انہوں نے عظیم گمراہیاں گھڑ لیں اور دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے عالم بالا کے اس منظر میں اس کی جواب طلبی کرتے ہیں ‘ اس منظر میں انبیاء ورسل موجود ہیں اور تمام دنیا کے لوگ بھی حاضر ہیں ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تمام قوم بھی موجود ہے ۔ ان کے سامنے یہ حقائق پیش کئے جاتے ہیں تا کہ ان کی قوم بھی سنے اور ان کے لئے شرمساری ذرا اور سخت ہوجائے ۔ وہ تمام جہانوں کے سامنے شرمندہ ہوں ۔
اب بات اسی لائن پر آگے چلتی ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کے اوپر کئے جانے والے احسانات کے ساتھ ۔ وہ احسانات بھی گنوائے جاتے ہیں جو آپ کی قوم پر کئے گئے ، انہیں بھی معجزات دکھائے گئے ، انہوں نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھا اور حواری ایمان لائے اور انہوں نے شہادت دی ۔
Ayahs 5:112–115(آیت) ” نمبر 112 تا 115۔
اس گفتگو سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا مزاج کیسا تھا اور ان میں سے مخلص لوگ کس مزاج کے تھے یعنی آپ کے حواری ۔ ان حواریوں اور ہمارے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ اجمعین کے درمیان بہت بڑا فرق تھا ۔ ان حواریوں کے دلوں میں اللہ نے بطور الہام ایمان کا القاء کردیا تھا ۔ وہ ایمان لائے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے ایمان پر گواہ ٹھہرایا ۔ ان حقائق کے ساتھ ساتھ اب دیکھئے کہ اس الہام اور معجزات کے دیکھے ہوئے وہ پھر ایک نئے معجزے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ان کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ جان لیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سچے ہیں اور اب وہ عیسیٰ کے بعد اس دعوت کو پھیلائیں گے ۔
اصحاب محمد ﷺ کا حال یہ ہے کہ اسلام لانے کے بعد وہ آپ سے کوئی ایک معجزہ بھی طلب نہیں کرتے ۔ جونہی ان کے دلوں میں ایمان داخل ہوا اور وہ مطمئن ہوگئے ۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی اور اس تصدیق پر انہوں نے کسی برہان و دلیل کا مطالبہ نہیں کیا انہوں نے حقانیت رسول کی شہادت صرف قرآن کو پڑھ کر دے دی ۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کے حورایوں کے درمیان یہ ایک عظیم فرق ہے ۔ وہ ایک سطح پر ہیں اور یہ دوسری سطح پر ہیں ۔ لیکن یہ بھی مسلمان ہیں اور وہ بھی مسلمان ہیں ۔ یہ بھی اللہ کے ہاں برگزیدہ ہیں اور وہ بھی برگزیدہ ہیں لیکن جس طرح اللہ نے چاہ دونوں کی سطح میں بہت ہی فرق رکھا بہت بڑا فرق ۔
” کھانے کے اس خوان کا ذکر قرآن میں ہوا ہے لیکن نصاری کے لٹریچر میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ نہ ان اناجیل میں اس کا ذکر ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لکھی گئیں اگرچہ بہت بعد میں لکھی گئیں ۔ اس قدر طویل عرصے میں نہیں کہا جاسکتا کہ ان کے اندر واقعات کی صحیح رپورٹنگ کی گئی ہوگی ۔ نیز ان اناجیل کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض علماء نے ان روایات کو نقل کیا ہے اور ان میں انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سیرت کے واقعات نقل کئے ہیں ۔ اس لئے یہ روایات اس کلام پر مشتمل نہیں جو اللہ نے اتارا تھا اور اس کا نام انجیل رکھا تھا ۔
البتہ ان اناجیل میں اس خوان کے قصے کو دوسرے انداز میں نقل کیا ہے ” متی کی انجیل کے اصحاح 15 کے آخر میں آتا ہے ۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو بلایا اور کہا مجھے سب کے بارے میں اندیشہ ہے کیونکہ ان کے لئے صرف تین دن ہیں جو میرے ساتھ چلیں گے اور ان کے پاس خوراک بھی نہیں ہے ۔ اور میں یہ بھی نہیں کرسکتا کہ انہیں روزے کی حالت میں واپس کروں کیونکہ راستے میں ان کے پریشانی ہوگی ۔ ان میں سے اس کے تلامذہ نے کہا ہماری تعداد زیادہ ہے اور ہم کہاں سے کھانا پاسکتے ہیں ۔ ان سے یسوع نے کہا تمہارے پاس کس قدر روٹیاں ہیں ۔ انہوں نے کہا : سات روٹیاں اور کچھ چھوٹی مچھلیاں ۔ آپ نے سب سے کہا کہ وہ زمین پر سہارا لے کر بیٹھ جائیں ۔ آپ نے روٹی اور مچھلیاں لیں ۔ شکر ادا کیا اور انہیں توڑا ۔ انہوں نے یہ روٹیاں شاگردوں کو دیں اور انہوں نے سب کو کھلائی اور سب سیر ہوگئے اور جب روٹیاں اٹھائیں تو سات تھال بھرے ہوئے تھے اور کھانے والے چار ہزار تھے جن میں عورتوں اور بچوں کا شمار نہ کیا گیا تھا ‘ ایسی ہی روایات دوسری اناجیل میں بھی آئی ہیں ۔
بعض تابعین کا خیال ہے کہ یہ مائدہ نہیں اترا ۔ مجاہد اور حسن اس طرف گئے ہیں ‘ کیونکہ جب حواریوں نے یہ سنا ” میں اتارنے والا ہوں لیکن اس کے بعد جس نے کفران نعمت کیا تو اسے میں ایسی سزا دوں گا جیسی تمام جہان والوں میں کسی کو نہ دی گئی تھی ۔ “ تو وہ ڈر گئے اور انہوں نے اپنا یہ مطالبہ واپس لے لیا تھا ۔
علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں ” لیث نے بذریعہ ابن سلیم مجاہد سے یہ روایت کی ہے کہ یہ ایک مثال تھی جو اللہ نے یہاں بیان کی ورنہ کوئی طعام اترا نہیں تھا ۔ “ ابن جریر نے حارث ‘ قاسم ‘ حجاج ابن جریج کے ذریعہ مجاہد سے یہ روایت کی ہے کہ یہ ایک دسترخوان تھا بعض کے اوپر کھانا ہو۔ انہوں نے اس مطالبے کو واپس لے لیا تھا جب انہیں بتایا گیا کہ ان پر عذاب آجائے گا اگر اس کھانے کے آنے کے بعد انہوں نے ناشکری کی ۔ انہوں نے ابو اللیث ‘ محمد ابن جعفر ‘ شعبہ ‘ منصور ابن زاذان کے واسطہ سے حسن سے یہ روایت کی ہے کہ مائدہ نازل نہیں ہوا تھا ۔ بشر ‘ نرید اور سعید کے واسطہ سے قتادہ کی یہ روایت ہے کہ حسن کہتے تھے کہ جب انہیں کہا گیا کہ اگر اس کے بعد انہوں نے کفران نعمت کیا تو انہیں ایسی سزا دی جائے جو عالمین میں سے کسی کو نہ دی گئی تھی تو انہوں نے ڈر کر کہا کہ ہمیں ایسے مائدہ کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس پر پھر یہ مائدہ نازل نہ ہوا۔
لیکن سلف صالحین میں سے اکثریت کی رائے یہ ہے کہ یہ کھانا نازل ہوا تھا ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے الفاظ یہ استعمال کیے ہیں۔ (آیت) ” انی منزلھا علیکم “ (5 : 115) (میں اسے تم پر نازل کرنے والا ہوں) یہ اللہ کی طرف سے ایک قسم کا وعدہ ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خود قرآن کریم کے الفاظ میں رائے کی تائید کرتے ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ یہی درست ہے ۔ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو حشر کے میدان میں اپنی قوم کے سامنے ایک عظیم جلسہ میں یاد دلاتے ہیں کہ میں نے تم پر یہ یہ انعامات کئے ۔
(آیت) ” إِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّونَ یَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ہَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ أَن یُنَزِّلَ عَلَیْْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَاء ۔ (5 : 112) یہ واقعہ بھی یاد رہے کہ جب حواریوں نے کہا ” اے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار سکتا ہے “۔ حواری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تلامذہ تھے ‘ غریب لوگ تھے اور آپ کے بارے میں زیادہ جانتے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ آپ انسان ہیں ۔ جانتے تھے کہ آپ ابن مریم ہیں اور آپ کے بارے میں جو کچھ جانتے تھے وہی کہتے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ حضرت عیسیٰ رب نہیں ہیں بلکہ وہ رب کے پروردہ بندہ ہیں ۔ یہ کہ وہ ابن اللہ نہیں ہیں ‘ بلکہ ابن مریم اور اللہ کے بندے ہیں ۔ وہ جانتے تھے کہ رب وہی ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر ان معجزات کا صدور کر رہا ہے ۔ وہ ان معجزات میں سے کوئی بات از خود صادر نہیں کرسکتے ۔ اپنی ذاتی قدرت مطالبہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے نہ کیا ۔ اس لئے کہ وہ بذات خود قدرت نہ رکھتے تھے بلکہ انہوں نے مطالبہ ان الفاظ میں کیا ۔
(آیت) ” یَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ہَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ أَن یُنَزِّلَ عَلَیْْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَاء ۔ (5 : 112) اے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار سکتا ہے ۔ اب لفظ (آیت) ” ھل یستطیع “ ؟ میں مختلف تاویلات سامنے آتی ہیں ۔ سوال یہ تھا کہ ایمان اور کلمہ شہادت کے بعد وہ یہ سوال کرسکتے ہیں جبکہ وہ اپنے اسلام پر خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو شاہد ٹھہراتے ہیں ۔ ” یستطیع “ کا مفہوم یہ بھی بتایا گیا ہے ھل یقد ؟ لیکن مقصد وہ نتیجہ ہے جو اس قدرت اور استطاعت کے نتیجے میں آسکتا ہے یعنی آسمان سے خوان ۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ طلب کر رہے تھے کہ اگر وہ طلب کریں تو کیا اللہ ان کے مطابلے کو پورا کرے گا ۔ ایک قرات (آیت) ” ھل تستطیع ربک “ یعنی کیا آپ کو یہ سوال کرنے کا اختیار ہے کہ آپ نزول مائدہ کا سوال کریں ۔ بہرحال مفہوم جو بھی ہو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں انہیں تنبیہ کی کہ وہ ایسے سوالات نہ کریں اور خدا سے ڈریں ۔
(آیت) ” قَالَ اتَّقُواْ اللّہَ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ (112) ” تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو “۔ لیکن حواریوں نے دوبارہ مطالبہ کیا ۔ اور انہوں نے اپنے مطالبے کی غرض وغایت بھی بتا دی :
(آیت) ” قَالُواْ نُرِیْدُ أَن نَّأْکُلَ مِنْہَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَن قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَکُونَ عَلَیْْہَا مِنَ الشَّاہِدِیْنَ (113) ” انہوں نے کہا ” ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس خوان سے کھانا کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہمیں معلوم ہوجائے کہ آپ نے جو کچھ ہم سے کہا ہے وہ سچ ہے اور ہم اس پر گواہ ہوں “۔
وہ بہرحال یہ مائدہ کھانا چاہتے تھے جس کی کوئی نذیر زمین پر نہ ہو اس لئے کہ ان کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ اپنی آنکھوں کے سامنے یہ معجزہ ہوتے دیکھیں اور انہیں یقین ہوجائے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے سچ کہا ۔ پھر وہ خود اپنی باقی ماندہ قوم کے لئے گواہ ہوجائیں کہ یہ عظیم معجزہ سرزد ہوا ۔ یہ تمام امور اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کا مقام ومعیار حضرت محمد ﷺ کے حواریوں سے ذرا کم تھا ۔ اگر دونوں کرداروں کا موازنہ کیا جائے تو صحابہ محمد کا مقام نہایت ہی ممتاز نظر آتا ہے ۔
اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں :
(آیت) ” قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللَّہُمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَیْْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَاء ِ تَکُونُ لَنَا عِیْداً لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآیَۃً مِّنکَ وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَیْْرُ الرَّازِقِیْنَ (114)
اس پر عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) نے دعا کی ” خدایا ! ہمارے رب ‘ ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کر ‘ جو ہمارے لئے اور ہمارے اگلوں پچھلوں کے لئے خوشی کا موقع قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو ہم کو رزق دے اور تو بہترین رازق ہے۔ “
جیسا کہ سیاق کلام میں بار بار اس بات کو دہرایا جاتا ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ دعا نہایت ہی مودبانہ ہے ۔ یوں نظر آتا ہے کہ ایک مختار بندہ اپنے رب اور اپنے آقا کے ساتھ نہایت ہی رازدارانہ انداز میں بات کرتا ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ” اے اللہ “ ” اے ہمارے رب “ کے الفاظ کے ساتھ دعا شروع کرتے ہیں ۔ اے اللہ میں یہ عرض کرتا ہوں کہ ہمارے اوپر آسمان سے خوان نازل فرما ۔ اور یہ خوان ایسا ہو کہ ہمارے لئے خوشی اور انبساط کا سبب بنے اور وہ ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لئے سامان فرحت ہو ۔ نیز یہ آپ کے خصوصی رزق سے ہو ۔ اور آپ رزق دینے والوں میں سے حقیقی رزاق ہیں ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جانتے ہیں کہ وہ بندے ہیں اور اللہ ہی رب العالمین ہے اور یہ اعتراف وہ ایک کھلی مجلس اور دربار میں کرتے ہیں ۔ یہ کھلی مجلس دربار قیامت میں ہے اور حضرت کی قوم کے سامنے ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کی دعا کو قبول کرلیا ۔ لیکن اس قبولیت دعا کو سنجیدگی کا عنصر بھی دے یا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے شایان شان تھا ۔ انہوں نے ایک معجزے کا مطالبہ کیا ۔ اللہ نے اسے قبولیت بخشی لیکن یہ شرط عائد کردی کہ اگر اس کے بعد کسی نے کفران نعمت کیا تو اسے شدید عذاب کا سامنا کرنا ہوگا ۔ اس قدر شدید جس کی کوئی مثال نہ ہو ۔ اور ایسا عذاب کبھی کسی قوم پر نہ آیا ہو ۔
(آیت) ” قَالَ اللّہُ إِنِّیْ مُنَزِّلُہَا عَلَیْْکُمْ فَمَن یَکْفُرْ بَعْدُ مِنکُمْ فَإِنِّیْ أُعَذِّبُہُ عَذَاباً لاَّ أُعَذِّبُہُ أَحَداً مِّنَ الْعَالَمِیْنَ (115)
” اللہ نے جواب دیا ” میں اس کو تم پر نازل کرنے والا ہوں مگر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے گا اسے میں ایسی سزا دوں گا جو میں نے کسی کو نہ دی ہوگی۔ “ یہ سنجیدگی اللہ کی شان کے لائق ہے تاکہ معجزات کا مطالبہ ایک مذاق نہ بن جائے ۔ اور یہ بھی نہ ہو کہ جن لوگوں کے سامنے بین اور معجز دلائل پیش ہوں اور پھر بھی وہ کفر کریں تو انہیں عذاب الہی کا سامنا کرنے کا خوف تو ہو ۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ جن اقوام نے معجزات طلب کئے ہیں اور پھر انہوں نے سچائی کو تسلیم نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ضرور ہلاک کیا ہے ۔ رہی آیت زیر بحث تو ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد دنیا کا عذاب ہو اور اگر یہاں نہ ہو تو آخرت کا عذاب ہو۔
اب اس تنبیہ اور تخویف کے بعد یہاں سیاق کلام خاموش ہے کہ آیا یہ خوان اترا یا نہیں اور روئے سخن اپنے اصل موضوع کی طرف پھرجاتا ہے ۔ یعنی الوہیت اور ربوبیت کے اصل موضوع کی طرف کیونکہ اس سبق کا اصل موضوع یہی ہے ۔ یہ عظیم دربار ابھی تک جاری ہے اور لوگ اس کا تماشا کر رہے ہیں ۔ چاہیے کہ ہم ذرا اس کی طرف لوٹیں اور براہ راست سوال و جواب سے لطف اندوز ہوں ۔ اب اللہ تعالیٰ اس دربار میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ مریم کی الوہیت کے بارے میں سوال کرتے ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وہ پیروکار بھی موجود ہیں جنہوں نے ان کو اور ان کی والدہ کو الہ سمجھا تھا تاکہ وہ سنیں اور ان کے سامنے حضرت ان کے لغو عقائد سے برات کا اظہار کریں ۔ یہ جواب نہایت ہی خوفناک فضا پیدا کرتا ہے ۔ ذرا ملاحظہ ہو :
Ayahs 5:116–118(آیت) ” نمبر 116 تا 118۔
اللہ تعالیٰ تو خوب جانتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کے سامنے کن عقائد کی تبلیغ کرتے رہے ہیں ۔ لیکن اس خوفناک دن میں یہ عظیم جواب طلبی اور پھر ایسے شخص سے جو ذمہ دار بھی نہیں ہے ‘ اس لئے کہ گئی کہ اس صالح بندے اور ان کی والدہ کو جو لوگ الہ تصور کرتے تھے ‘ ان کا یہ پورا موقف اچھی طرح واضح ہوجائے اور وہ خوب شرمندہ ہو۔
یہ اس قدر عظیم جسارت ہے کہ کوئی عام اور معقول انسان اس قسم کا کوئی دعوی نہیں کرسکتا کہ وہ خود الہ ہے ۔ جبکہ وہ جانتا ہو کہ وہ بندہ ہے ۔ ایک رسول اس قسم کا دعوی کب کرسکتا ہے اور پھر اولوالعزم رسولوں میں سے ایک رسول ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جیسا رسول ۔ حالانکہ اللہ نے رسالت سے پہلے اور رسالت کے بعد اسے معجزات اور مقامات عطا کئے تھے اور ان پر عظیم انعامات کئے تھے اور اعزاز بخشے تھے ۔ ایسے رسول کب ایسا دعوی کرسکتے ہیں ۔ ایک صالح اور راہ راست پر گامزن رسول ۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت کی طرف سے نہایت ہی خشوع و خضوع کے ساتھ عاجزانہ جواب آتا ہے ۔ نہایت ہی حمد وثنا کے ساتھ (آیت) ” سُبْحَانَکَ مَا یَکُونُ لِیْ أَنْ أَقُولَ مَا لَیْْسَ لِیْ بِحَقٍّ (5 : 116) ” سبحان اللہ ‘ میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا ۔ “ اس طرح حضرت جلدی سے جواب دے دیتے ہیں کہ میں نے مطلقا یہ بات نہیں کہی ۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی برات پر اللہ کو گواہ ٹھہراتے ہیں اور اپنی عاجزی دکھاتے ہوئے اللہ کے خصائص الوہیت اور بندے کے شایان عبودیت کے افعال بتاتے ہیں ۔
(آیت) ” إِن کُنتُ قُلْتُہُ فَقَدْ عَلِمْتَہُ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلاَ أَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ إِنَّکَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ (116)
” اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو آپ کو ضرور علم ہوتا آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے دل میں ہے ‘ آپ تو ساری پوشیدہ حقیقتوں کے عالم ہیں “۔
اس قدر تسبیح اور پاکی بیان کرنے کے بعد اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ جرات کرتے ہیں کہ وہ کوئی مثبت بات کریں اور یہ کہیں کہ انہوں نے ہر گز نہیں ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے ۔ بلکہ انہوں نے تو یہ کہا ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور تم بھی سب صرف اللہ ہی کی بندگی کرو۔
(آیت) ” مَا قُلْتُ لَہُمْ إِلاَّ مَا أَمَرْتَنِیْ بِہِ أَنِ اعْبُدُواْ اللّہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ (5 : 117)
” میں نے ان سے اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا آپ نے حکم دیا تھا ‘ یہ کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ “ اور آپ (علیہ السلام) یہ فرماتے ہیں کہ میں تو ان پر نگران صرف اس وقت تک کے لئے تھا جب میں ان کے سامنے تھا ۔ لیکن اپنی وفات کے بعد میں نگران نہ تھا ۔ قرآن کی ظاہری آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو وفات دی اور پھر اپنی طرف اٹھا لیا جب کہ بعض آثار میں یہ آتا ہے کہ آپ اللہ کے ہاں زندہ ہیں ۔ میرے خیال میں دونوں قسم کے نصوص میں کوئی تعارض نہیں ہے ۔ یہ بھی درست ہے کہ زمین کی زندگی سے ان کا قطع تعلق ہوگیا ہو اور انہیں اٹھا لیا گیا ہو اور یہ بھی درست ہے کہ انہیں زندہ حالت میں اٹھا لیا گیا ہو کیونکہ شہداء بھی تو اللہ کے ہاں زندہ ہوتے ہیں اگرچہ دنیا سے ان کی زندگی کٹ جاتی ہے اگرچہ شہداء کی زندگی کی نوعیت کا ہمیں تفصیلی علم نہیں ہے ۔ یہی صورت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ میری وفات کے بعد مجھے علم نہ تھا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں ؟
(آیت) ” وَکُنتُ عَلَیْْہِمْ شَہِیْداً مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْْتَنِیْ کُنتَ أَنتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْْہِمْ وَأَنتَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ شَہِیْدٌ(117)
” میں اسی وقت تک ان کا نگران تھا جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا ۔ جب آپ نے مجھے واپس بلا لیا تو آپ ان پر نگران تھے اور آپ تو ساری ہی چیزوں پر نگران ہیں ۔ “
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیتے ہیں کہ آپ چاہیں تو سزا دیں اور اگر آپ ان کو بخش دیں تو بھی آپ قادر مطلق ہیں ۔ بہرحال وہ ہیں تیرے ہی بندے اور آپ ہی جانتے ہیں کہ ان کے لئے سزا مقرر ہے یا مغفرت ۔
(آیت) ” إِن تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَإِن تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَنتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (118)
” اب اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کردیں تو آپ غالب اور دانا ہیں ۔ “
ذرا ملاحظہ تو کیجئے کہ اللہ کے یہ صالح اور مقرب بندے بارگاہ الوہیت میں کس قدر خوفزدہ ہیں اور ان لوگوں کی جرات کو دیکھئے جنہوں نے یہ افتراء باندھا ‘ جس سے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) صاف صاف برات کا اظہار کرتے ہیں اور ان لوگوں کی اس افتراء کی وجہ سے یہ بندہ اللہ کے سامنے اس طرح گڑ گڑاتے ہوئے کلام کرتا ہے ۔
ان لوگوں کے موقف کو دیکھئے اور اس عظیم دربار کو دیکھئے ۔ اس دربار میں اپنے اس غلط موقف کی وجہ سے اس قدر ذلیل و حقیر نظر آتے ہیں کہ اس پورے مکالمے میں ان کے ساتھ کوئی بات نہیں کی جاتی اور نہ ان کی طرف کوئی التفات کیا جاتا ہے ۔ شاید اس منظر میں شرمندگی اور ندامت کی وجہ سے یہ لوگ پسینہ پسینہ ہوگئے ہوں گے ۔ جس طرح اللہ نے انہیں نظر انداز کیا ہم بھی انہیں اسی طرح چھوڑتے ہیں اور آئیے ذرا اس دربار کے آخری منظر کو دیکھیں ۔
Ayah 5:119(آیت) ” نمبر 119۔
” یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کی سچائی نفع دیتی ہے “ یہ اللہ کی بات ہے اور جھوٹوں کی اس شرمندگی پر یہ خوب تصرہ ہے ۔ انہوں نے یہ افتراء باندھا اور یہ افتراء بھی اولوا لعزم رسولوں میں ایک معزز رسول پر باندھا ۔ اور مسئلہ الوہیت اور بندگی میں یہ افتراء باندھا جس کی اساس پر یہ پوری کائنات قائم ہے اور جس کی اساس پر دنیا میں سچائی قائم ہے اور تمام مخلوقات قائم ہے ۔
” یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کیلئے ان کی سچائی مفید ہوگی ۔ “ اس عظیم منظر اور شاہی دربار کے سوال و جواب کے آخر میں یہ رب العالمین کا فیصلہ ہے ۔ تمام جہان کے لوگوں کی موجودگی میں اس منظر کے مکالے کے یہ آخری الفاظ ہیں اور کس قدر فیصلہ کن الفاظ ہیں اور اس کے بعد پھر سچوں کے انجام کی ایک جھلکی بھی دکھائی دیتی ہے ۔
(آیت) ” لَہُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا أَبَداً رَّضِیَ اللّہُ عَنْہُمْ وَرَضُواْ عَنْہُ ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (119)
” ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ‘ یہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ‘ اللہ ان سے راضی ہو اور وہ اللہ سے ‘ یہی بڑی کامیابی ہے ۔ “
درجوں کے بعد بلند درجے ‘ پھر ان میں دائمی زندگی اور پھر اللہ کی رضا مندی یقینا یہ بڑی کامیابی ۔ “
ہم نے یہ منظر دیکھا اور یہ منظر قرآن کریم نے اپنے مخصوص انداز اور اسلوب میں پیش کیا ۔ اس منظر کا آخری مکالمہ بھی ہم نے سنا ۔ ہم نے گویا اس منظر دیکھا اپنی آنکھوں کے ساتھ اور سنا اپنے کانوں کے ساتھ۔ قرآن کریم کے انداز تصویر کشی کے مطابق بات کا طریقہ یہ نہیں اختیار کیا جاتا ہے کہ ایسا ہوگا بلکہ عملا منظر پیش کردیا جاتا ہے ۔ انسان کو اس منظر موعودہ کا انتظار نہیں کرنا پڑتا ۔ قرآن کریم محض خشک عبارت ہی پیش نہیں کرتا جسے صرف پڑھا جائے بلکہ وہ متحرک اور مجسم اور شخص مناظر پیش کرتا ہے جس میں انسان چلتے پھرتے نظر آتے ہیں اور مکالمے ہوتے ہوئے اس طرح نظر آتے ہیں جس طرح اسکرین پر ۔
ہماری سوچ اور ہمارے تصور کے مطابق تو یہ ایک منظر ہوگا جو واقع ہوگا ‘ البتہ اللہ کے علم کے مطابق تو وہ وہ چکا اس لئے کہ اللہ کا علم زمان ومکان کے حدود وقیود سے آزاد ہے ۔ زمان ومکان کا تصور تو انسان کے محدود علم کے لئے ہے ۔ ہمارا علم محدود اور فانی ہے ۔
اس سبق کے آخر میں اور اس عظیم افتراء کے بیان کے خاتمے پر جس سے بڑا افتراء کسی رسول کے کسی پیروکار نے نہیں باندھا ۔ حضرت مسیح کے پیروکاروں کی اس عظیم غلط فہمی کے بیان کے آخر میں جس میں انہوں نے اس افتراء سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور ان افتراء پر دازی کرنے والوں کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا ۔ اس کے بارے میں اس سوال و جواب اور اس سوال و جواب کے لئے قائم کئے گئے اس عظیم دربار کے خاتمے پر اب یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قسم کے افتراؤں سے پاک ہے اور زمین وآسمانوں پر صرف اسی کی حکومت اور اس کی حکومت بےحد وبے قید ہے ۔
Ayah 5:120(آیت) ” 120۔
یہ ایک ایسا اختتامی تبصرہ ہے جو اس عظیم مسئلے کی بحث کے خاتمے کے لئے موزوں اور مناسب ہے ۔ نیز اس عظیم منظر سے جو تاثر ملتا ہے اس کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے ۔ یہاں اللہ وحدہ الہ ہے اور وہی قادر مطلق ہے ۔ اس کے سامنے تمام رسول سرتسلیم خم کرتے ہیں اور سب رسول آخری فیصلہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں اس میں حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) بھی اپنا فیصلہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں ۔ جس کے ہاتھ میں زمین وآسماں کی حکومت ہے ۔
اور یہ آخری تبصرہ اس پوری سورت کے مضمون کی طرف اشارہ ہے ۔ اس سورة کا مرکزی موضوع ” الدین “ ہے اور دین اور دینداری کا اظہار اللہ کی شریعت کی اطاعت میں ہوتا ہے ۔ صرف اللہ کے قوانین و ضوابط اخذ کرنا اور صرف اسی کے مطابق فیصلے کرنا اس لئے کہ وہی بادشاہ ہے جس کے سوا کوئی بادشاہ نہیں ہے ۔ زمین و آسمان کے درمیان جس قدر چیزیں بھی ہیں وہ اس کی مملوک ہیں اور یہ مالک اور بادشاہ یہ آرڈنینس جاری فرماتا ہے ۔ (آیت) ” ومن لم یحکم بما انز اللہ فاولئک ھم الکافرون “ ” اور جو شخص اس قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتا جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہ کافر ہے ۔ “ یہی ایک مسئلہ ہے اور یہ اللہ کی حاکمیت کا مسئلہ ہے ۔ یہ عقیدہ توحید کا مسئلہ ہے ۔ اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا مسئلہ ہے ‘ جس کے بعد ہی مکمل توحید وجود میں آتی ہے اور صرف اللہ الہ وحاکم قرار پاتا ہے ۔