4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 4:19

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو تمہارے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو ، اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کرکے اس مہر کا کچھ حصہ اڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو ۔ ہاں اگر وہ کسی صریح بدچلنی کی مرتکب ہوں (تو ضرور تنگ کرنے کا حق ہے) ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو ۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو ۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا یحل لکم ان ترثوا النسآء کرھا ولا تعضلوھن لتذھبواببعض ما اتیتموھن الا ان یاتین بفاحشة مبینة وعاشروھن بالمعروف ، فان کرھتموھن فعسی ان تکرھوا شیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا ۔ (91) وان اردتم استبدال زوج مکان زوج واتیتم احدھن قنطارا فلا تاخذوا منہ شیئا ، اتاخذونہ بھتانا واثما مبینا (02) وکیف تاخذونہ وقد افضی بعضکم الی بعض واخذن منکم میثاقا غلیظا (12) ولا تنکحوا مانکح ابآوکم من النسآء الا ما قد سلف ، انہ کان فاحشة ومقتا وسآء سبیلا “۔ (22) اس سے پہلے کہ اسلام عربوں کو قعر مذلت سے نکال کر عزت و شرافت کی بلند سطح تک پہنچاتا ‘ عربوں کی حالت یہ تھی کہ جب کوئی فوت ہوجاتا تو اس کے ورثاء اس کی بیوی کے بھی حقدار بن جاتے اور وہ بھی انہیں اسی طرح میراث میں ملتی جس طرح دوسرے مویشی اسے بطور ترکہ ملتے تھے ۔ اب اگر وارث چاہتا تو عورت کے ساتھ بھی نکاح کرلیتا ۔ اور اگر چاہتا تو اسے کسی دوسرے شخص کے نکاح میں دے کر اس کا مہر حاصل کرلیتا ۔ جس طرح مویشی فروخت ہوتے تھے گویا یہ عورت بھی فروخت ہوجاتی ، اور اگر یہ وارث چاہتے تو اسے گھر میں عضو معطل کی طرح رکھ چھوڑتے ۔ نکاح بھی نہ کرتے یونہی رہتی ، یہاں تک کہ وہ اپنے نفس کا معاوضہ دے کر جان چھڑاتی ۔ بعض جگہ یہ رواج تھا کہ جب خاوند فوت ہوتا تو اس کا ولی دوڑ کر آتا اور اس عورت پر کپڑا ڈال دیتا ۔ اس طرح وہ اسے گویا تمام لوگوں سے روک لیتا اور اس طرح سے اس پر قابض ہوجاتا جس طرح کوئی مال غنیمت پر قابض ہوجاتا ہے ۔ اگر وہ خوبصورت ہوتی تو نکاح میں لے لیتا اور اگر بدصورت ہوتی تو قید رہتی اور موت کے بعد یہ شخص اس کا وارث قرار پاتا یا وہ مال دے کر اپنی گردن آزاد کرلیتی لیکن اگر خاوند فوت ہونے کے بعد وہ فورا اپنے والدین کے گھر چلی جاتی اور وارث اس پر کپڑا نہ ڈال سکتا تو وہ بچ جاتی اور وہ آزاد سمجھی جاتی ۔ بعض جگہ یہ رواج تھا کہ ایک شخص بیوی کو طلاق دے دینا اور یہ شرط عائد کردیتا کہ وہ صرف اس جگہ نکاح کرے گی جس کی اجازت وہ دے گا ۔ یوں وہ اس کو مال دے کر اپنے آپ کو آزاد کراتی ۔ مہر لوٹاتی اور دوسرے ہدایا واپس کردیتی ۔ اگر کسی کی تحویل میں یتیم لڑکی ہوتی تو وہ اسے بند رکھتا تاکہ اس کا نابالغ بچہ بالغ ہوجائے اور وہ اس کے ساتھ نکاح کرے ۔ اس طرح بعض اوقات بیوہ کو بھی ایک چھوٹے بچے کے لئے بند رکھا جاتا ۔ یہ اور اس قسم کے اور رواج تھے ‘ جو مقام شرافت اور عزت کے بالکل خلاف تھے ۔ وہ شرافت اور عزت جو انسان کو اسلام دیتا ہے ۔ حالانکہ عورت مرد کی شفیقہ ہے ایک ہی نفس سے دونوں کو پیدا کیا گیا ہے ۔ اور اس طرز عمل سے جس طرح عورت مقام عزت و شرافت سے گری ہوئی تھی ‘ اسی طرح مرد کے لئے بھی یہ صورت حال باعث شرم تھی ، یوں نظر آتا تھا کہ مرد اور عورت کا تعلق کوئی تجارتی تعلق ہے یا محض حیوانی تعلق ہے ۔ غرض مرد وزن کے تعلق کو اسلام نے ذلت کے اس گہرے گڑھے سے بلند کرکے انسانیت کے باعزت مقام تک پہنچایا ۔ اسے ایسا مقام دیا جو انسانی شرافت کے لائق تھا ۔ اس لئے کہ اسلام کے تصور انسانیت کے مطابق انسان عالمین کے اندر ذی شرف مخلوق ہے ۔ لہذا یہ اسلام ہی تھا ‘ جس نے اسے یہ مقام عالی دیا ‘ اس قدر مقام عالی جو انسان کو صرف اسلام کے مصدر اور ماخذ سے ملا۔ (1) (اسلام کا تصور خدا ’ تصور کائنات تصور زندگی اور تصور انسان “ یہ کتاب عنقریب شائع ہونے والی ہے ۔ اسلام نے عورت کو بطور سامان وراثت دوسرے سامان کے ساتھ حاصل کرنے کے فعل کو حرام قرار دیا ۔ اسی طرح اسے قید کرکے عضو معطل بنانے کی بھی ممانعت کردی ۔ الا یہ کہ اس سے فحاشی کا جرم سرزد ہوجائے ۔ اور یہ بھی اس وقت تھا جب حد زنا کا حکم نازل نہ ہوا تھا ۔ اور اسلام نے ان حالات میں عورت کو یہ حق دیا کہ وہ جس کے ساتھ چاہے نکاح کرے ۔ چاہے یہ ابتدائی شادی ہو یا دوسری شادی ہو ‘ کنواری ہو یا بیوہ ہو ‘ مطلقہ ہو یا اس کا خاوند فوت ہوگیا ہو ۔ اور اس کے ساتھ معروف طریقے کے مطابق زندگی گزارنا مرد پر لازم کردیا گیا ۔ اگرچہ اس عورت کو مرد پسند نہ کرتا ہو ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اس عورت کے ساتھ اس کی معاشرت ممکن ہی نہ رہے ۔ اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ عورت کو پسند نہ کرتا ہو لیکن اس میں اس کے لئے خیر پوشیدہ ہو ۔ اس لئے اسے مناسب نہیں ہے کہ طبیعت کے اندر نفرت آتے ہی وہ اسے طلاق دے دے ۔ اگر وہ بیوی کو رکھے تو آنے والے دور میں اسے اس سے فائدے بھی مل سکتے ہیں ، اس لئے اسے چاہئے کہ امید کا دیا جلائے رکھے ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا یحل لکم ان ترثوا النسآء کرھا ولا تعضلوھن لتذھبواببعض ما اتیتموھن الا ان یاتین بفاحشة مبینة وعاشروھن بالمعروف ، فان کرھتموھن فعسی ان تکرھوا شیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا ۔ (91) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو تمہارے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو ، اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کرکے اس مہر کا کچھ حصہ اڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو ۔ ہاں اگر وہ کسی صریح بدچلنی کی مرتکب ہوں (تو ضرور تنگ کرنے کا حق ہے) ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو ۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو ۔ “ اس آیت کی یہ آخری فنشنگ ہے ۔ اس میں نفس انسانی اللہ کی ذات سے وابستہ اور مربوط کردیا جاتا ہے ۔ اگر میاں بیوی کے تعلقات کے درمیان غصے اور غضب اور ہیجان کی حالت پیدا ہوجائے تو اسے ٹھنڈا کیا جاتا ہے ۔ اگر بیوی ناپسند ہو تو اس ناپسندیدگی کی حدت کو قدرے نرم کردیا جاتا ہے تاکہ انسانی نفس میں سکون پیدا ہو ‘ اور یہ نہ ہو کہ تعلق زوجیت خشک پتے کی طرح ہوا کہ معمولی جھونکے سے ادھر ادھر ہوجائے ۔ کیونکہ تعلق زوجیت کو تعلق باللہ کی رسی سے مضبوطی سے باندھ دیا جاتا ہے ۔ اس تعلق کو مومن اور اس کے رب کے پاکیزہ اور مضبوط تعلق سے جوڑ دیا جاتا ہے ۔ اسلامی تصور حیات کے مطابق ‘ ایک گھرانا بحثیت ابتدائی اکائی انسان کے لئے امن و سکون اور محبت ورافت کی جگہ ہونا چاہئے ۔ اس لئے وہ زوجین کے تعلقات کو بھی انس و محبت اور ہمدردی وایثار کی اساس پر قائم کرنا چاہتا ہے ۔ اور یہ تب ہی ہو سکتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان تعلق مطلق رضا مندی اور آزادی کی بنیاد پر قائم ہو تاکہ خاندان کے اندر محبت الفت اور ہمدردی کے جذبات ہر وقت موجود ہوں ۔ اگر کبھی کدورت پیدا ہوجائے تو اسلام کی نصیحت یہ ہے کہ برداشت کرو۔ ” اگر تم بیویوں کو ناپسند بھی کرتے ہو تب بھی اس بات کا امکان ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور اللہ تمہیں اس میں بھلائی دے دے ۔ “ یہ تلقین اس لئے کی جاتی ہے کہ جذبات کے پہلے جھونکے ہی میں رشتہ زوجیت ختم ہو کر نہ رہ جائے ۔ پہلے ہی جھٹکے میں ہی نکاح نہ ٹوٹ جائے اور یہ قیمتی انسانی ادارہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نہ رہ جائے اور انسان کے بدلتے ہوئے جذبات اور اڑتے ہوئے میلانات کا شکار نہ ہوجائے ۔ حضرت عمر ؓ نے ایک شخص کو کیا خوب نصیحت فرمائی جو اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا تھا اور طلاق کی وجہ صرف یہ تھی کہ اسے اس کے ساتھ محبت نہ تھی ۔ ” تم برباد ہو جاو کیا گھرانہ قائم ہونے کے لئے محبت کے سوا کوئی اور اساس نہیں ہوتی ؟ پرورش اور ذمہ داریوں کا کیا ہوگا ؟ “ آج کل کے نام نہاد دانشور محبت کے نام سے جو بکواس کرتے ہیں ‘ اس سے ان کی مراد بدلتے ہوئے ہیجانی اور وقتی جذبات ہوتے ہیں اور ان وقتی امور کی وجہ سے وہ اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ اس کی وجہ سے زوجین کے درمیان جدائی کرکے ‘ اس اہم ادارے کو تباہ کردیں ۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر بیوی خاوند سے محبت نہیں کرتی تو اس کے ساتھ اس کی خیانت ہے ۔ اور اگر مرد عورت کے ساتھ محبت نہیں کرتا تو یہ بھی اس کی جانب سے ایک قسم کی خیانت ہے ۔ جو لوگ یہ باتیں کرتے ہیں وہ کم ظرف لوگ ہیں ۔ ان کے دل و دماغ میں بدلتی ہوئی جسمانی خواہشات سے بلند کوئی ارفع اور اعلی مروت ‘ شرافت ‘ حسن سلوک اور برداشت جیسے اوصاف بھی ہو سکتے ہیں ‘ جو ان اوصاف اور میلانات اور گھٹیا سوچ ہی بہت بلند ہیں جن کے یہ منہ پھٹ لوگ غلام ہیں ۔ اور ان کی یہ سوچ اس لئے محدود ہے کہ اس کے اندر اللہ جل شانہ کی کوئی جگہ نہیں ہے اس لئے ان کے شعور میں یہ تصور نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے مومنیں کو دیا جارہا ہے ۔ (آیت) ” فان کرھتموھن فعسی ان تکرھوا شیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو ۔ “ حقیقت یہ ہے کہ صرف ایمان ہی سے انسان کی حیثیت بلند ہوتی ہے ‘ انسان کی ترجیحات بلند ہوتی ہیں اور انسانی زندگی کے مقاصد بلند ہوجاتے ہیں ۔ انسانی زندگی کا معیار محض حیوانی فطری میلانات سے ذرا اوپر اٹھتا ہے ۔ انسان محض سوداگر نہیں رہتا ۔ نہ وہ خالی اور بےمعنی ڈھانچہ ہوتا ہے ۔ اگر صبر برداشت ‘ حسن سلوک اور اصلاح کی سب امیدیں خاک میں مل جائیں اور زندگی کا خوش اسلوبی سے بسر ہونا ممکن نہ رہے اور جدائی ہر حال میں ضروری ہوجائے اور مرد مجبور ہوجائے کہ بیوی کا بدلنا ضروری ہے تو ایسے حالات میں عورت نے جو مہر لیا ہے اور جو مال اسے ملا ہے وہ اس کا ہوگا اور یہ جائز نہ ہوگا کہ کوئی چیز اس سے واپس لی جائے ۔ اگرچہ وہ مال بڑی مقدار میں ہو ‘ قیمتی ہو ‘ یہ مال اس سے واپس لینا صریح گناہ ہے اور ایک قابل نفرت فعل ہے ۔
Ayah 4:20

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader

اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کرلو تو خواہ تم نے اسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو ‘ اس میں سے کچھ واپس نہ لینا ۔ کیا تم اسے بہتان لگا کر اور صریح ظلم کرکے واپس لوگے ؟

(آیت) ” وان اردتم استبدال زوج مکان زوج واتیتم احدھن قنطارا فلا تاخذوا منہ شیئا ، اتاخذونہ بھتانا واثما مبینا (02) ” اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کرلو تو خواہ تم نے اسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو ‘ اس میں سے کچھ واپس نہ لینا ۔ کیا تم اسے بہتان لگا کر اور صریح ظلم کرکے واپس لوگے ؟ “۔ یہاں بھی ایک گہرا انسانی اور وجدانی ٹچ دیا جاتا ہے ۔ عائلی زندگی کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ۔ عجیب انداز تعبیر اور اشارات سے بھر پور رموز ہیں ۔
Ayah 4:21

وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader

اور آخر تم اسے کس طرح واپس لے لوگے جبکہ تم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوچکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں ۔

(آیت) ” وکیف تاخذونہ وقد افضی بعضکم الی بعض واخذن منکم میثاقا غلیظا (12) ” اور آخر تم اسے کس طرح واپس لے لوگے جبکہ تم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوچکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں ۔ “ یہاں افضی فعل کے مفعول کو متعین نہیں کیا گیا لفظ کو عام چھوڑ دیا گیا ‘ اس سے اس کے ہر قسم کے مدلول کا اظہار ہو سکتا ہے تمام مفاہیم پر اس کا اطلاق ہو سکتا ہے تمام اشارات ذہن میں گردش کرتے ہیں ‘ جسمانی لطف اندوزی بھی ‘ جذبات ومیلانات بھی ‘ احسانات اور تصورات بھی ‘ راز ونیاز بھی اور وہ تمام دلچسپیاں بھی جو میاں بیوی کے درمیان ہو سکتی ہیں ۔ انسانی زندگی کے شب وروز کی ہر شکل و صورت اس لفظ افضی کے مفہوم میں آتی ہے ۔ غرض وہ تمام باتیں پردہ خیال پر آجاتی ہیں جن کا تعلق میاں بیوی کے اس اہم ادارے کی گزشتہ زمان ومکان کے ساتھ وابستہ رہی ہیں ۔ دل کی ہر دھڑکن افضاء ہے ‘ ہر مشتاقانہ نظر افضاء ہے جسم کا ہر لمس افضاء ہے ‘ غم اور امید میں شرکت افضاء ہے ۔ حال ومستقبل کی ہر مشترکہ سوچ افضاء ہے ۔ ہر پچھلی سوچ افضاء ہے اور سب سے اعلی یہ کہ دونوں کی مشراولاد بھی افضاء ہے ۔ تصورات و احساسات کا یہ ڈھیر ہے ‘ جذبات ومیلانات کی یادوں کی اس تازگی کو صرف چند الفاظ میں اسکرین پر لایا گیا ۔ (آیت) ” وقد افضی بعضکم الی بعض ” اور تم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوچکے ہو۔ “ ان یادوں کے ہوتے ہوئے اب مرد کے لئے بعض حقیر چیزوں کا مطالبہ کرنا نہایت ہی حقیر نظر آتا ہے اور اب شرم کے مارے وہ اس مفاداتی مطالبے سے باز آجاتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ ماضی قریب کی عملی زندگی کے خوشگوار تصورات کو اسکرین پر دیکھ رہا ہوتا ہے ۔ اب اسے وقت فراق میں یہ یادیں اذیت دیتی ہیں اور وہ یہ احساس کرتا ہے کہ یہ تمام واقعات بادل نخواستہ ہیں ۔ ان یادوں کے ساتھ ساتھ ایک دوسری بات ‘ ایک دوسرا فیکٹر بھی یاد دلایا جاتا ہے ۔ گویا اسکرین پر ایک دوسری جھلک آتی ہے ۔ ایک دوسرا رنگ نمودار ہوتا ہے ۔ (آیت) ” واخذن منکم میثاقا غلیظا ‘” اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں “۔ میثاق نکاح اللہ کے نام سے اور خطبے کے ساتھ نبی کی سنت کے مطابق ۔ یہ عہد نکاح ایک عظیم عہد جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ ایک مومن کے نزدیک وہ بہت بڑی بات ہے ۔ یہ نکاح اہل ایمان کے مابین ہے اور اہل ایمان اسے ایک عظیم عقد بلکہ میثاق سمجھتے ہیں ۔ اس کا احترام ان پر الازم ہے ۔ آخر میں ایک فعل شفیع کے بارے میں قطعی حرمت آتی ہے ۔ یہ فعل جاہلیت میں مروج تھا ۔ بیٹے باپ کی منکوحہ سے نکاح کرلیا کرتے تھے اور بعض اوقاقت اس حق نکاح کی وجہ سے عورتیں معطل ہوکر رہ جاتی تھیں کہ بچہ بڑا ہو اور اپنے والد کی بیوی سے نکاح کرے اور اگر بڑا ہوتا تو وہ منکوحہ والد کو مال میراث تصور کرتا ، اسلام نے اس فعل کو سخت ترین الفاظ میں حرام قرار دیا ۔
Ayah 4:22

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:22 in the Quran reader

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہیں ان سے ہر گز نکاح نہ کرو ‘ مگر جو پہلے ہوچکا سو ہوچکا ، درحقیقت یہ ایک بےحیائی کا فعل ہے ‘ ناپسندیدہ ہے ۔ اور برا چلن ہے ۔ “

(آیت) ” ولا تنکحوا مانکح ابآوکم من النسآء الا ما قد سلف ، انہ کان فاحشة ومقتا وسآء سبیلا “۔ (22) ” اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہیں ان سے ہر گز نکاح نہ کرو ‘ مگر جو پہلے ہوچکا سو ہوچکا ، درحقیقت یہ ایک بےحیائی کا فعل ہے ‘ ناپسندیدہ ہے ۔ اور برا چلن ہے ۔ “ اس تحریم کی حکمت کے حوالے سے دو تین باتیں ذہن میں آتی ہیں اگرچہ انسان کے لئے یہ تو ناممکن ہی نہیں ہے کہ وہ شرعی احکام کی تمام حکمتوں اور رازوں کا احاطہ کرسکے ۔ ہمارے لئے تو بس یہی کافی ہے کہ اللہ نے یہ قانون بنایا ہے جو ہمارے لئے بنا دیا ہے ۔ اور ہمیں یقین ہے کہ اس میں ضرور کوئی حکمت اور مصلحت ہوگی بہرحال جو تین چیزیں سمجھ میں آتی ہیں وہ یہ ہیں کہ سوتیلی ماں بھی ماں ہوتی ہے ‘ یہ کہ باپ کی جگہ بیٹے کا آنا سوئے ادب ہے کیونکہ اس شکل میں وہ باپ کا مساوی اور شریک ہوجاتا ہے ۔ فطرة ایک انسان اپنی بیوی کے پہلے خاوند کو ناپسند کرتا ہے ۔ یوں وہ اپنے باپ کو بھی ناپسند کرنے لگے گا ۔ تیسری بات یہ ہے کہ منکوحہ اب کے ساتھ والد کے ترکہ کے تصورات کی وابستگی ہوسکتی ہے جبکہ جاہلیت میں ایسے رواجات بھی تھے ۔ اور یہ ایک ایسا کریہہ تصور ہے جو بیک وقت مرد اور عورت دونوں کے لئے مکروہ ہے ۔ کیونکہ دونوں ایک ہی نفس سے پیدا کیے گئے ہیں اور ایک کی توہین دوسرے کی توہین ہے ۔ یہ ہیں وہ ظاہری وجوہات جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو مکروہ ناپسندیدہ اور شنیع اور بدچلنی قرار دیا ہے جبکہ ان کے علاوہ بھی بہت سے اسباب اور حکمتیں ہو سکتی ہیں ، ہاں اور جاہلیت میں جو نکاح ہوئے وہ معاف ہیں اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے ۔ اس سبق کے تیسرے پیرے میں عورتوں میں سے محرمات کی فہرست دی گئی ہے ۔ یہ بھی خاندانی نظام کی تشکیل اور تنظیم کے اقدامات میں سے ایک اہم اقدام ہے ۔ خاندان کے بعد اسلامی معاشرے کی ضابطہ بندی ہے ۔
Ayah 4:23

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ Open ayah 4:23 in the Quran reader

” تم پر حرام کردی گئیں ہیں تمہاری مائیں ‘ بیٹیاں ‘ بہنیں ‘ پھوپھیاں ‘ خالائیں ‘ بھتجیاں ‘ بھنجیاں ‘ اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایاہو ‘ اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں ‘ اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پڑورش پائی ہو ان بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلق زن وشو ہوچکا ہو ورنہ اگر تعلق زن وشو نہ ہوا تو تم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے ۔ اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہارے صلب سے ہوں اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرو ‘ مگر جو پہلے ہوگیا سو ہوگیا ۔ اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔

(آیت) ” حرمت علیکم امھتکم وبنتکم واخوتکم وعمتکم وخلتکم وبنت الاخ وبنت الاخت وامھتکم التی ارضعنکم واخوتکم من الرضاعة وامھت نسآئکم وربآئبکم التی فی حجورکم من نسآئکم التی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم وحلآئل ابنائکم الذین من اصلابکم وان تجمعوا بین الاختین الا ما قد سلف ، ان اللہ کان غفورا رحیما (32) والمحصنت من النسآء الا ملکت ایمانکم “۔ محرمات ‘ یعنی وہ عورتیں جن سے نکاح حرام ہے وہ تمام اقوام اومم میں معروف ہیں ۔ چاہے پسماندہ واقوام ہوں یا ترقی یافتہ اقوام ہوں ۔ تحریم کے اسباب اور تحریم کے درجات مختلف اقوام کے ہاں مختلف رہے ہیں ۔ قدیم پسماندہ اقوام کے اندر یہ دائرہ بہت ہی وسیع رہا ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک کے اندر یہ سکڑتا رہا ہے ۔ اسلام میں آیت زیر بحث اور اس سے پہلی آیت میں محرمات کی تحدید کی گئی ہے ۔ بعض محرمات ابدی ہیں ۔ اور بعض وقتی ہیں ۔ بعض بہ سبب نسب ہیں ‘ بعض بوجہ رضاعت ہیں اور بعض بوجہ مصاہرت ہیں ۔ ان محرمات اور اسباب کے علاوہ اسلام نے تمام دوسری پابندیوں کو ختم کردیا ‘ جو دوسرے معاشروں کے اندر مروج تھیں ‘ مثلا وہ پابندیاں جو نسلی وجوہات کی بنا پر رائج تھیں ۔ قومی حد بندیوں کی وجہ سے رائج تھیں یا رنگ کی وجہ سے رائج تھیں یا وہ پابندیاں جو طبقاتی درجات کی وجہ سے رائج تھیں حالانکہ ان میں زوجین ایک نسل ‘ ایک وطن اور ایک علاقے کے باشندے ہوا کرتے تھے ۔ (1) (تفصیلات کے لئے دیکھئے ڈاکٹر عبدالواحد وافی کی کتاب ” خاندان اور معاشرہ “ ص 62 تا 65) قرابت داری کی وجہ سے اسلام میں چار قسم کی عورتیں حرام ہیں ۔ (1) کسی شخص کے اصول جس قدر اوپر چلتے جائیں ‘ مثلا ماں دادیاں ‘ نانی اور یہ سب ” امہات “ کے لفظ میں شامل ہیں ۔ (آیت) ” حرمت علیکم امھتکم ” تم پر تمہاری مائیں حرام ہیں ۔ “ (2) دوسری قسم کسی شخص کے فروع ہیں جس قدر نیچے چلے جائیں ۔ مثلا بیٹیوں اور بیٹیوں کی اولاد سے نکاح حرام ہے اور یہ (آیت) ” وبنتکم “ میں داخل ہیں ۔ (3) ماں اور باپ کے فروع جس قدر نیچے چلتے جائیں ۔ بہن ‘ بھانجی ‘ بھتیجی اور ان کی اولاد یہ (آیت) ” اخواتکم بنات الاخ اور (آیت) ” بنات الاخت “ میں داخل ہیں ۔ (4) نانا دادا کی پھوپھیاں اور خالائیں بھی حرام ہوں گی وغیرہ یہ سب (آیت) ” عمتکم وخلتکم “۔ میں داخل ہیں۔ لیکن اجداد کی وہ اولاد جو براہ راست نہ ہو درمیان واسطہ آجائے تو وہ جائز ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ چچا زاد بہن ‘ خالہ زاد ‘ پھوپی زاد کے ساتھ نکاح جائز ہے اور ان کی اولاد کے ساتھ بھی ۔ مصاہرت کی بنا پر پانچ قسم کی عورتیں حرام ہیں۔ (1) بیوی کے اصول ‘ جہاں تک اوپر کی طرف چلتے جائیں ۔ چناچہ بیوی کی ماں ‘ بیوی کی دادی ‘ بیوی کی نانی ‘ جہاں تک اوپر چلے جائیں حرام ہیں ۔ اور یہ حرمت نکاح کرتے ہیں قائم ہوجاتی ہے ۔ چاہے دخول ہوا ہو یا نہیں ۔ اور یہ (آیت) ” وامھات نسآئکم “ میں داخل ہیں۔ (2) بیوی کی فروعات جس قدر بھی نیچے جائیں ۔ مثلا بیوی کی لڑکی حرام ہے ‘ اس کی اولاد حرام ہے ‘ مرد ہو یا عورت ۔ لیکن یہ حرمت اس وقت قائم ہوتی ہے جب بیوی کے ساتھ مباشرت ہوگئی ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ (آیت) ” وربآئبکم التی فی حجورکم من نسآئکم التی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم “۔ ”‘ اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پڑورش پائی ہو ان بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلق زن وشو ہوچکا ہو ورنہ اگر تعلق زن وشو نہ ہوا تو تم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے ۔ (3) باپ دادا اور نانا کی بیویاں ‘ جس قدر اوپر چلے جائیں ۔ چناچہ باپ کی بیوی ‘ دادا ‘ اور نانا کی بیوی سے نکاح حرام ہے ۔ (آیت) ” ولا تنکحوا ما نکح ابآء کم من النسآء الا ما قدسلف “ ” اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہیں ان سے نکاح نہ کرو ۔ مگر جو پہلے ہوچکا ۔ “ یعنی جاہلیت میں جو ہوچکا سو ہوچکا ‘ اس لئے کہ جاہلیت میں یہ جائز تھا ۔ (4) بیٹوں کی بیویاں اور پوتوں کی بیویاں جس قدر نیچے کو چلتے جائیں ۔ اس لئے ایک شخص کے لئے اپنے صلبی بیٹے کی بیوی سے نکاح حرام ہے ۔ اسی طرح صلبی پوتے کی بیوی کے ساتھ نکاح حرام ہے ۔ اسی طرح لڑکی کے لڑکے کی بیوی کے ساتھ نکاح بھی حرام ہوگا ۔ جس قدر نیچے چلتے جائیں ۔ (آیت) ” وحلآئل ابنائکم الذین من اصلابکم “ ” اور ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہارے صلب سے ہوں “۔ اصلابکم کی شرط اس لئے عائد کی گئی ہے کہ جاہلیت میں منہ بولے بیٹے کی بیوی بھی حرام سمجھی جاتی تھی ‘ اس لئے اس کو صلبی بیٹے پوتے کے ساتھ مخصوص کردیا گیا ۔ اور حکم دیا گیا کہ منہ بولے بیٹوں کو ان کے والدین کی طرف نسبت دو ۔ ( سورة احزاب) (5) بیوی کی بہن بھی حرام ہے لیکن یہ تحریم وقتی ہے ۔ اگر بیوی زندہ ہو اور اس کے نکاح میں ہو ۔ حرام یہ ہے کہ بیک وقت دو بہنوں کو نکاح میں رکھا جائے ۔ (آیت) ” وان تجمعوا بین الاختین الا ما قد سلف ” اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرو مگر جو پہلے ہوگیا سو ہوگیا ۔ “ اس پر مواخذہ نہ ہوگا ‘ اس لئے کہ نظام جاہلیت کے اندر وہ جائز تھا ۔ اسی طرح رضاعت کے ذریعہ بھی وہ تمام عورتیں حرام ہوجاتی ہیں جو نسب اور مصاہرت کی وجہ سے حرام ہوجاتی ہیں اور یہ فہرست تو محرمات پر مشتمل ہے ۔ (1) دودھ پلانے والی ماں اور اس کی دادی نانی جس قدر بھی اوپر چلتے جائیں ۔ (آیت) ” وامھاتکم التی ارضعنکم “۔ ” اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو ۔ “ (2) رضاعی بیٹی اور اس کی بیٹیاں جس قدر بھی نیچے چلتے جائیں ۔ رضاعی بیٹی وہ ہوتی ہے جسے کسی کی بیوی نے دودھ پلایا ہو اور وہ بیوی اس کے نکاح میں ہو ۔ (3) رضاعی بہن اور اس کی بیٹیاں جس قدر نیچے بھی ہوں ۔ (آیت) ” واخواتکم من الرضاعة “۔ ’ اور تمہاری دودھ شریک بہنیں ۔ “۔ (4) رضاعی چچی اور رضاعی خالہ ۔ رضاعی خالہ دودھ پلانے والی کی بہن ہوتی ہے اور رضاعی چچی دودھ پلانے والی کے خاوند کی بہن ہوتی ہے ۔ (5) بیوی کی رضاعی ماں ۔ یہ وہ عورت ہے جس نے بیوی کو بچپن میں دودھ پلایا ۔ اس طرح اس ماں کی اصول یعنی دادی نانی جس قدر بھی اوپر کو جائیں اور یہ تحریم محض نکاح سے قائم ہوجاتی ہے ‘ جس طرح نسب میں ہوتی ہے ۔ (6) بیوی کی رضاعی بیٹی ‘ یعنی وہ لڑکی جس کی بیوی نے اس شخص کے ساتھ نکاح کرنے سے پہلے دودھ پلایا ہو ۔ اسی طرح اس کی تمام پوتیاں جس قدر بھی نیچے چلیں ۔ البتہ یہ تحریم تب جاری ہوگی جب بیوی کی ساتھ مجامعت ہوگئی ہو ۔ (7) یعنی رضاعی باپ اور دادا کی بیوی حرام ہے ۔ رضاعی باپ وہ ہے جس کی بیوی نے دودھ پلایا ہو ‘ اس لئے صرف وہ عورت ہی حرام نہ ہوگی جس نے دودھ پلایا وہ رضاعی ماں ہوگئی بلکہ اس کے رضاعی باپ کی منکوحہ یعنی رضاعی ماں کی سوکن بھی حرام ہوگی ۔ (8) رضاعی بیٹے کی بیوی ‘ جس قدر نیچے چلے جائیں۔ (9) اسی طرح بیوی اور بیوی کی رضاعی بہن بھی حرام ہوگئی ‘ بیوی کی رضاعی چچی اور خالہ بھی حرام ہوگئی یا ہر ہو عورت جو اس کے لئے رضاعت کی وجہ سے حرام ہوئیں ۔ ان محرمات میں سے قسم اول اور قسم ثالث کے بارے میں تو صراحت اس آیت میں آگئی ہے ۔ باقی فہرست حضور اکرم ﷺ کی اس حدیث میں روشنی میں مرتب کی گئی ہے جس میں ہے ۔ ” رضاعت وہی محرمات ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہیں ۔ “ ” یحرم من الرضاعة ما یحرم من النسب (مسلم بخاری) یہ تو ہیں وہ حرام عورتیں جو شریعت نے حرام کی ہیں ۔ آیت میں اس حرمت کے لئے کوئی علت اور حکمت نہیں دی گئی ۔ نہ عام اور نہ کوئی خاص حکمت وعلت جن لوگوں نے مختلف وجوہات واسباب کا ذکر کیا ہے وہ ان کی جانب سے اجتہاد اور غوروفکر پر مبنی رائے ہے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان تمام محرمات کے لئے ایک ہی علت اور سبب ہو ‘ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعض محرمات کے لئے انکے مخصوص اسباب ہوں ‘ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کئی اقسام کا باہم مشترکہ سبب بھی ہو ۔ مثلا قریبی رشتہ داروں کے اندر شادیوں کی وجہ سے بعض اوقات بچے کمزور ہوتے ہیں اور مرور زمانہ کے ساتھ ایک ضعیف نسل وجود میں آتی ہے یعنی موروثی کمزوریاں نسلا بعد نسل جمع ہوتی رہتی ہیں ۔ اس کے مقابلے میں اگر دور اقوام اور نسلوں میں شادیاں کی جائیں تو ان کے نتیجے میں ایک صحت مند نسل وجود میں آتی ہے اور دونوں کی صلاحیتیں ایک جگہ جمع ہوجاتی ہیں۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بعض محرمات کے ساتھ نہایت ہی محبت ‘ رواداری ‘ احترام اور وقار کے تعلقات مطلوب ہوتے ہیں۔ اس لئے ان روابط کو میاں بیوی کے نازک تعلق سے دور رکھنا ضروری تھا تاکہ طلاق اور جدائی کی صورت میں تلخی پیدا نہ ہو ‘ اور وہ جذبات مجروح نہ ہوں جنہیں شریعت دائما رکھنا چاہتی ہے ۔ مثلا مائیں ، بیٹیاں ، بہنیں ، خالائیں ، پھوپھیاں ، بھانجیاں ، بھتیجیاں ، اور ان کے بالمقابل وہی رشتے رضاعت کی وجہ سے ۔ یہ سب اسی زمرے میں آتی ہیں ۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے بعض محرمات مثلا بیوی کی بیٹی ‘ بہنوں کا اجتماع ‘ باپ کی منکوحہ ‘ ان میں اگرچہ رشتے داری کے جذبات اور تعلقات میں کشیدگی کا احتمال نہیں ہے لیکن تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں ۔ مثلا ماں کو یہ خدشہ ہوگا کہ اس کی بیٹی بھی سوکن بن سکتی ہے ۔ بہن اور اس کی بیٹی ایک جگہ اگر سوکن بن جائیں ۔ اسی طرح باپ کے اندر یہ شعور جاگ سکتا ہے کہ اس کے بعد اسکا بیٹا اس کا شریک ہو سکتا ہے یہی بات بہو کے بارے میں ہو سکتی ہے ۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ قریبی رشتہ داروں کے باہم خاندانی تعلقات تو پہلے سے موجود ہوتے ہیں ۔ شریعت کا مقصد یہ ہے کہ دور دراز خاندانوں میں رشتے ناطے ہوں اور یوں خاندانی تعلقات کا دائرہ مزید وسیع ہوجائے اور رشتہ داروں کے اندر صرف اس حد پر جا کر اجازت دی گئی ہے جہاں خاندانی رشتہ کمزور ہوجاتا ہے ۔ (Remote) غرض جو علت بھی ہو ‘ بہرحال ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی قانون بنایا ہے ‘ وہ ہر گز خالی از حکمت نہ ہوگا ۔ اس میں انسانوں کی مصلحت اور بھلائی ہوگی ، رہی ہماری دانست کی بات تو کبھی ہمیں اس کا علم ہوگا اور کبھی نہ ہوگا ۔ ہماری دانش وعلم کا اثر اللہ کی شریعت پر نہیں پڑتا ۔ نہ شریعت کے نفاذ اور اس کی اطاعت پر کوئی فرق پڑتا ہے ۔ ہمیں تسلیم ورضا کے ساتھ شریعت کی اطاعت کرنا ہے ۔ اس لئے کہ ایمان صرف دل ہی میں نہیں ہوتا ۔ اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اللہ کی شریعت کی حکمرانی قائم کی جائے اور ہم مکمل طور پر سرتسلیم خم کردیں اور ہمارے دلوں میں شریعت کے احکام کے بارے میں کوئی خلجان نہ ہو ۔ اب آخری بات اور آیات کی تشریح باقی رہ گئی ‘ وہ یہ ہے کہ یہ محرمات دو کو چھوڑ کر سب کی سب جاہلیت کے رواج میں بھی محرمات تھیں ۔ جاہلیت میں ایک منکوحہ اب کے ساتھ نکاح کرلیا جاتا تھا ‘ دوسرے یہ کہ دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں رکھنا جائز سمجھا جاتا تھا ۔ اگرچہ جاہلی معاشرہ میں انہیں مکروہ سمجھتا تھا ۔ لیکن اسلام نے انہیں اس لئے نہیں حرام قرار دیا کہ دور جاہلیت میں ایسا ہوا کرتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس حرمت کو اپنے حق حاکمیت کے حوالے سے پیش فرمایا (آیت) ” حرمت علیکم “ ’ تم پر میری جانب سے حرام کی گئی ہیں ۔ “ یہ معاملہ محض الفاظ کا نہیں ہے ‘ یہ صرف شکل و صورت کا ہے بلکہ یہ پورے دین کا معاملہ ہے ۔ اس کے عقدہ کو حل کرلینے سے پوری دین کی حقیقت سمجھ میں آجاتی ہے ۔ اور وہ اصول ہمارے ہاتھ آجاتا ہے جس پر یہ دین قائم ہے ۔ یعنی حاکمیت صرف اللہ وحدہ کا خاصہ ہے ۔ اس دین کا فیصلہ یہ ہے کہ حرام اور حلال کی حدود کے تعین کا اختیار صرف اللہ کو ہے ۔ اس لئے کہ حاکمیت الہیہ کی یہ ایک نہایت ہی بنیادی خصوصیت ہے ۔ اس لئے حلال و حرام کے تین کے لئے ضروری ہے کہ اس پر اللہ کی جانب سے کوئی سلطان و ثبوت ہو ۔ یہ وہی ذات ہے جو لوگوں کے لئے بعض چیزوں کو حرام کردیتی ہے اور بعض کو حلال کردیتی ہے اور اس ذات کے سوا کسی اور کو یہ اختیار اس نے نہیں دیا ہے ۔ نہ یہ حق کوئی اپنے لئے مخصوص کرسکتا ہے ۔ اس لئے کہ اگر حاکمیت کے اس حق کا کوئی اپنے لئے مدعی ہوگا تو وہ گویا الوہیت کا دعوی کرے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر جاہلی نظام اپنے لئے حلال و حرام خود مقر کرتا ہے ۔ اور اسلامی نظریہ حیات کے مطابق اس کے مقرر کردہ یہ حلال و حرام ابتداء ہی سے باطل (Void) اور کالعدم ہیں ۔ اس لئے جب اسلام آتا ہے تو وہ جاہلیت کے تمام ضابطوں کو کالعدم کردیتا ہے جس میں حلال بھی شامل ہیں اور حرام بھی ۔ اور ان میں سے کسی چیز کو قائم نہیں رکھتا ۔ اس لئے کہ یہ حلال و حرام اگر درست بھی ہوں ‘ لیکن ان لوگوں نے مقرر کئے تھے جنہیں اس کا اس اختیار (Jurasdiction) نہ تھا ۔ ان میں سے کوئی بھی نہ الہ ہے ۔ اس منسوخی کے بعد اسلام از خود حلال و حرام کا تعین کرتا ہے ۔ اگر جاہلیت میں کوئی چیز حلال قرار دی گئی تھی تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ وہی حلال ہے جسے اسلام حلال کر دے اور وہی حرام ہے جسے اسلام حرام کر دے ۔ از جانب اللہ ۔ اسلام کا یہ نظریہ حلال و حرام اس کائنات کی تمام اشیاء اور ان انسان کے تمام افعال وسرگرمیوں پر حاوی ہے ۔ اس کے دائرہ سے کوئی چیز باہر نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو حلال و حرام کے تعین کا اختیار ہی نہیں ہے ۔ نکاح و طلاق میں ‘ کھانے وپینے میں ‘ لباس و صورت میں ‘ عمل و حرکت میں ‘ تعلقات ومعاملات میں ‘ رسم و رواج میں اور قانون وجوابط میں ‘ غرض تمام معاملات میں مصدر قانون ذات باری ہے ۔ اللہ کے علاوہ جس مصدر اور جس ادارے سے بھی حلال و حرام کا تعین ہوگا وہ اپنی اصلیت کے اعتبار سے باطل (Void) ہے نہ اس کا اجراء ہوسکتا ہے نہ اس کی تصحیح (Validation) ہوسکتی ہے ۔ کیا اسلامی شریعت نے جاہلیت کے بعض احکام کو جاری رکھا ہے ؟ نہیں یہ سوچ درست نہیں ہے ۔ شریعت نے ہر چیز اپنی طرف سے از سر نو جاری کی ہے ۔ اور اس کا اجراء اللہ کی طرف سے ہوا ہے ۔ یہ سوچ درست نہیں ہے کہ بعض احکام جاہلیت کا تسلسل ہیں بلکہ اس نے از سر نو اپنے احکام جاری کئے تمام رسوم و رواج جاری کئے اور اللہ تعالیٰ کے اختیار حاکمیت کے تحت جاری کئے ۔ قرآن کریم نے اس نظریہ کی بار بار تاکید کی ہے اور اس معاملے میں وہ اہل جاہلیت کے ساتھ بار بار بحث کرتا ہے ۔ وہ بار بار چیلنج کرتا ہے کہ تمہیں کیا اختیار ہے کہ تم حلال و حرام کرتے پھرتے ہو ، کون ہے حرام کرنے والا ؟ (آیت) ” قل من حرم زینة اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبات من الرزق “۔ ” پوچھو کون ہے جس نے اللہ کے سامان زینت کو حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے اور پاکیزہ خوراک کو ۔ (آیت) ” قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم “۔ ” کہہ دو آو میں پڑھ کر سناوں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کیا ہے ۔ “ (آیت) ” قل لا اجد فیما اوحی الی محرما علی طاعم یطعمہ الا ان یکون میتة او دما مسفوحا او لحم خنزیر “۔ ” کہہ دو ‘ جو کچھ میری طرف وحی کیا گیا ہے میں تو اس میں کوئی چیز نہیں پاتا ‘ جو کسی کھانے والے پر حرام کی گئی ہو ‘ جو اس چیز کو کھاتا ہے ‘ سوائے اس کے کہ وہ چیز بہا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو ۔ “ اس بحث و تکرار کے ذریعہ قرآن کریم اہل جاہلیت کو اس اصول کی طرف لوٹا رہا تھا کہ حلال و حرام کے حدود کے تعین کا اعتبار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ اور کسی انسان کو یہ اختیارات حاصل نہیں ہیں ۔ نہ کسی فرد کو ‘ نہ کسی طبقے کو نہ کسی قوم کو اور نہ تمام دنیا کی آبادی کو ۔ یہ اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار حاکمیت کے تحت ہی استعمال ہوسکتا ‘ اس کی شریعت کے مطابق استعمال ہو سکتا ہے ۔ شریعت تو نام ہی اجازت وممانعت کا ہے ۔ یہی تو دین اسلام ہے ‘ اس لئے جو حرام و حلال مقرر کرتا ہے گویا وہ دین کا مالک ہے ۔ اگر یہ حلال و حرام کرنے والا اللہ ہے تو پھر لوگ جو اس کو مانتے ہیں ‘ ہم کہیں گے کہ وہ اللہ کے دین پر ہیں ‘ تو پھر وہ دین اسلام میں داخل ہوں گے ۔ اگر حلال و حرام کی حدیں کسی معاشرے میں کوئی اور مقرر کررہا ہے تو ہم کہیں گے یہ لوگ اس شخص کے دین پر ہیں ۔ تو وہ پھر اس کے دین میں داکل ہوں گے ۔ دین اسلام میں داخل نہ ہوں گے ۔ یہ مسئلہ اپنے اس فریم ورک میں اللہ کی حاکمیت اور الوہیت کا مسئلہ ہے ۔ یہ دین اور اس کے مفہوم کا مسئلہ ہے ۔ یہ ایمان اور ھدود ایمان کا مسئلہ ہے ۔ میں پورے عالم اسلام میں مسلمانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس نقطہ نظر سے اپنی پوزیشن متعین کریں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں ، ان کا دین سے تعلق کیا ہے ؟ ان کا اسلام سے کیا تعلق رہا ہے ؟ کیا اس کے باوجود یہ دعوی کرتے ہیں چلے جائیں گے کہ وہ مسلمان ہیں