4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 4:56–57

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:56 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کردیا ہے انہیں بالیقین ہم آگ میں جھونکیں گے اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیں گے تاکہ وہ خوب عذاب کا مزا چکھیں ‘ اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے اور اپنے فیصلوں کو عمل میں لانے کی حکمت خوب جانتا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا Open ayah 4:57 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا اور نیک عمل کئے ان کو ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ‘ جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ان کو پاکیزہ بیویاں ملیں گی اور انہیں ہم گھنی چھاؤں میں رکھیں گے ۔

(آیت) ” نمبر 56 تا 57۔ (آیت) ” نضجت جلودھم بدلنھم جلودا غیرھا “۔ (4 : 56) ” اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیں گے ‘۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو مسلسل چلتا ہے ۔ ایک ایسا منظر جو نظروں کے سامنے ہے اور بار بار دہرایا جارہا ہے نظریں اس کے اوپر جم جاتی ہیں ۔ خیال ایک جگہ مرکوز ہوجاتا ہے ۔ اور اس سے ادھر ادھر نہیں ہوتا ۔ یہ یقینا ایک خوفناک منظر ہے ‘ اس کی خوفناکی فکر ونظر کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے ۔ اس مسلسل اور خوفناک منظر کو صرف ایک لفظ اسکرین پر لاتا ہے یہ لفظ (کلما) ہے ۔ اور یہ منظر صرف فقرے کے ایک حصے کے ذریعہ خوفناک اور ہولناک بن جاتا ہے ۔ (کلما نضجت جلودھم ) اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی ۔ “ اس کے بعد جملے کے دوسرے حصے میں اس عمل کو خارق عادت عمل اور تعجب انگیز کردیا جاتا ہے ۔ (آیت) ” بدلنھم جلودا غیرھا “۔ ” تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیں گے ۔ “ اور یہ تمام ہولناک مناظر اور خوفناک عمل اور عجیب اور معجزانہ منظر صرف ایک جملہ شرطیہ کے اندر تمام ہوتا ہے صرف ایک جملہ میں ۔ یہ کفار کے لئے مناسب اور منصفانہ جزاء ہے ” تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھیں ۔ “ (آیت) ” لیذوقوا العذاب “۔ اللہ تعالیٰ ہر سزا دینے پر قادر ہے اور سزا سنانے میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ کان عزیزا حکیما “۔ اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے اور اپنے فیصلوں کو عمل میں لانے کی حکمت خوب جانتا ہے ۔ کفار کے لئے اس بھڑکتی ہوئی خوفناک جہنم کے مقابلے میں مومنوں کا انعام کیا ہے ۔ ان جلتی ہوئی کھالوں ‘ بھونی جانے والی کھالوں کے مقابلے میں کہ جب وہ گل جائیں تو بدل جائیں اور از سر نو جلنے لگیں اور از سر نو تعذیب شروع ہو ۔ اس خوفناک منظر اور اس کربناک مشاہدے کے مقابلے میں مومنوں کا انعام واکرام کیا ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں۔ (آیت) ” والذین امنوا وعملوا الصلحت “۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا اور نیک عمل کئے “ وہ تروتازہ باغات میں ہوں گے ۔ (آیت) ” جنت تجری من تحتھا الانھر “ ۔ ’‘’ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔ “ اور یہ منظر نہایت پرسکون ‘ دائمی اور اطمینان بخش ہوگا ۔ (آیت) ” خلدین فیھا ابدا “۔ ” جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “ ۔۔۔۔۔ ان باغات مین ان کو پاکیزہ بیویاں میسر ہوں گی ۔ (آیت) ” ازواج مطھرۃ “۔ اور ان باغات میں گھنی چھاؤں نظر آتی ہے نہایت ہی خوشگوار (آیت) ” وندخلھم ظلا ظلیلا “۔ ” اور ہم انہیں گھنی چھاؤں میں رکھیں گے ۔ “ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک پہلے تھا جزاء کا منظر ‘ ایک یہ جزاء کا منظر ہے ۔ اور یہ منظر مشاہدات میں بھی ‘ تصاویر میں بھی اور اثرات میں بھی پہلے منظر کا عین مقابل ہے ۔ مناظر قیامت کے بیان میں قرآن کا یہی انداز ہوتا ہے کہ اس میں گہرے اشارے ہوتے ہیں اور موثر اور گہرے اثرات ہوتے ہیں ‘ جو ذہن کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ درس 35 ایک نظر میں : یہ سبق نہایت ہی اہم موضوع پر مشتمل ہے اور یہ موضوع امت مسلمہ کی زندگی کا اساسی موضوع ہے ۔ اس میں ایمان کی شرائط اور ایمان کی تعریف بیان کی گئی ہے وہ ایمان جو اس امت کے نظام اساسی کی صورت میں ظاہر ہو ‘ اس موضوع کی اہمیت ایک تو اس کے نفس مضمون کی وجہ سے ہے اور دوسرے نظام اساسی کے ساتھ اپنے طریقہ ارتباط اور امتزاج کی وجہ سے بھی یہ اہم ہے ۔ قرآن کریم نے اس امت کو وجود بخشا اور اس کی تربیت کی ۔ اس امت کو پوشیدگی سے نکالا گیا ‘ یا عدم سے وجود کی طرف نکالا گیا اور قرآن کریم نے اس کے لئے نہایت ہی جامع انداز تعبیر استعمال کیا ۔ (آیت) ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “۔ (3 : 11) ” تم خیر امت تھے اور تمہیں لوگوں کے لئے نکالا گیا ۔ “ غرض قرآن نے اس مت کو وجود بخشا ‘ اس لئے کہ وہ قرآن سے پہلے موجود نہ تھی ۔ پھر اس نے اس کی تربیت کی تاکہ وہ تاریخ انسانیت میں بےمثال امت بن جائے ۔ اور خیر امت ہو اور (آیت) ” اخرجت اللناس “۔ ” اسے لوگوں کیلئے نکالا گیا ۔ “ بات آگے بڑھانے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اس حقیقت کی ذرا وضاحت کردیں کہ قرآن نے اس امت کو کس طرح پیدا کیا اور کیسے تربیت دی ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس امت کا پیدا کیا جانا اور پھر اس کو تربیت دیا جانا ‘ اس کیلئے ایک نیاجنم تھا۔ بلکہ یہ پوری انسانیت کے لئے ایک نیا جنم تھا ۔ اس امت کے آنے کے بعد ‘ انسانیت بالکل ایک نئی شکل میں سامنے آئی ۔ یہ امت ترقی کی راہ میں ایک مرحلہ نہ تھی ‘ نہ ارتقاء کی منازل میں سے ایک منزل تھی ۔ نہ یہ ترقیاتی عمل میں ایک لانگ جمپ تھی بلکہ یہ امت دراصل امت عربیہ اور پھر پوری انسانیت کے لئے ایک نیا جنم تھی ۔ جب ہم جاہلیت کے دور کے اشعار پر نظر ڈالتے ہیں اور جاہلیت کے دور کے اکا دکا آثار کا مطالعہ کرتے ہیں جو درحقیقت عربوں کا دیوان ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں عربوں کا نظریہ حیات ‘ ان کا نظریہ کائنات ‘ انکا نظریہ اخلاق اور سماجی طرز عمل ریکارڈ ہوا ہے ۔ اور یہ ان کے دائمی اور بنیادی تصورات ہیں۔ ان اشعار میں انکی زندگی کے نشانات ‘ ان کے قومی جذبات اور انکے تصورات کا کل اثاثہ موجود ہے ۔ ان کی تہذیب و تمدن کا خلاصہ بھی ان کے اندر ریکارڈ شدہ ہے ۔ غرض عربوں کی مکمل شخصیت ان جاہلی اشعار اور دوسرے اکا دکا آثار میں موجود ہے ۔ ہم عربوں کے اس دیوان میں ان کے تصورات اور انکے علم و ثقافت کا مجموعہ دیکھتے ہیں اور ان کے اس دیوان میں موجود انکی اقدار کا جائزہ قرآن کریم کی روشنی میں لیتے ہیں ‘ پھر ہم ‘ وجود ‘ زندگی ‘ کائنات اور انسان کے بارے میں ان کے نقطہ نظر کو دیکھتے ہیں اور ان کے نظام معاشرت اور وجود انسانی کے مقاصد کے بارے میں ان کے تصورات ‘ اور ان تصورات کی اساس پر ان کی عملی تنظیم کو دیکھتے ہیں ‘ پھر ہم عربوں کی عملی صورت حال کا جائزہ قبل از اسلام اور بعد از اسلام لیتے ہیں اور یہ تقابلی جائزہ ان تصورات کی روشنی میں لیتے ہیں جو ان کے اس دیوان کے اندر پائے جاتے ہیں اور پھر اس کا تقابل ان حالات سے کرتے ہیں جو قرآنی تصورات کے تحت عربی معاشرے میں پیدا ہوئے تو ہمیں نہایت ہی قطعیت کے ساتھ معلوم ہوجاتا ہے ۔ کہ قرآنی تصورات کے تحت یہ جدید معاشرہ عربوں کیلئے ایک جدید جنم تھا ۔ یہ ترقی نہ تھی ‘ نہ ترقی کا کوئی مرحلہ تھا ‘ نہ یہ کوئی برق رفتار ترقی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کی صنعت کاری سے اس قوم کا ظہور ہوا ‘ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے جنم دیا گیا ۔ قرآن کریم نے اس کے لئے (آیت) ” (اخرجت) کا لفظ بالکل صحیح استعمال کیا ہے ۔ اور یہ نشاۃ جدیدہ نہایت ہی حیران کن اور تعجب انگیز تھی اس لئے کہ یہ اس قوم کا پہلا اور آخری ظہور تھا ۔ اور دنیا میں یہ واحد مثال ہے کہ ایک کتاب کے دونوں وقایوں کے درمیان سے ایک قوم جنم لیتی ہے ۔ ایک امت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور ایک کتاب کے الفاظ سے اسے زندگی ملتی ہے لیکن یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ یہ کلمات اللہ کے احکامات ہیں۔ اس نکتے پر اگر کوئی ہم سے بحث و مباحثہ کرتا ہے تو بتائے کہ تاریخ کے جس موڑ پر اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ذریعے اس امت کو برپا کیا ‘ اس سے پہلے یہ امت کہاں تھی ۔ جب قرآن کریم نے اسے پیدا کیا اور یہ نکالی گئی تو یہ کہاں تھی ؟ ہم جانتے ہیں کہ یہ جزیرۃ العرب میں تھی لیکن کیا اس کا کوئی انسانی وجود تھا ؟ انسانی تمدن کے رجسٹر میں اس کا کیا ریکارڈ تھا ۔ عالمی تاریخ میں اس کے بارے میں کتنے اوراق موجود تھے ۔ انسانیت کے عالمی دسترخوان پر اس کا مقام کہاں تھا ۔ اور اس دسترخوان پر اس کی جانب سے کیا تحفہ تھا تاکہ تاریخ یاد کرتی اور یہ ان کی پہچان ہوتی کہ یہ ہے عربوں کا تحفہ ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس امت کی نشوونما صرف اس دین کے ذریعے ہوئی اور اس کی تربیت اسلامی نظام زندگی کے زیر سایہ ہوئی ۔ اس نے اپنے نفس اور اپنی ذات کی قیادت اور پھر پوری انسانیت کی قیادت اس کتاب کے ذریعے سے کی جو اس کے ہاتھ میں تھی اور اس کتاب کے نظام حیات کے مطابق اس کی زندگی پر چھاپ پڑی ۔ صرف قرآن اور صرف قرآن سے وہ وجود میں آئی ۔ اس پر تاریخ گواہ ہے ۔ اور اللہ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا ۔ (آیت) ” ولقد انزلنا الیکم کتابا فیہ ذکرکم ۔۔۔۔۔۔ افلا تعقلون “۔ (بےشک ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب نازل کی جس میں تمہارا تذکرہ ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے ۔ ) غرض اس کرہ ارض پر امت عربیہ کا تذکرہ صرف اس کتاب کی وجہ سے ہوا اور تاریخ میں اس کا اہم کردار رہا ۔ سب سے پہلے اس نے اپنا ایک انسانی وجود قائم کیا ‘ اس کے بعد اس نے ایک عالمی تمدن وتہذیب کو وجود بخشا ۔ لیکن بعض احمق اب یہ چاہتے ہیں کہ وہ امت عربیہ پر اللہ کے اس احسان کا انکار کردیں اور اس بات کی ناشکری کی جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کے انسانوں کے لئے اپنا آخری کلام عربی زبان میں نازل فرمایا اور عربوں کو اس کے اولین مخاطب قرار دیا ۔ اس کلام کی وجہ سے ان کو ایک انسانی وجود بخشا ‘ ان کو شہرت اور تاریخ اور تمدن عطا کئے ۔ یہ احمق دراصل اس خلعت کا اتارنا چاہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے امت عربیہ کو پہنائی اور وہ اس جھنڈے کو پھاڑنا چاہتے ہیں ‘ جس کی وجہ سے ان کو عزت اور شہرت نصیب ہوئی بلکہ ان کو ایک وجود ملا ‘ جب اللہ نے ان کو بحیثیت امت اٹھایا۔ ہم کہتے ہیں کہ جب اسلام اس امت کی تخلیق کررہا تھا اور اس کی تربیت کر رہا تھا ‘ جماعت مسلمہ کے اندر اسلام کے جدید خدوخال کے خطوط کھینچ کر ان کو مستحکم کر رہا تھا ‘ اسے جاہلیت کی گہری کھائی سے نکال کر اس کے وجود سے جاہلیت کے تمام خدوخال مٹا رہا تھا ‘ اس کی زندگی ‘ ان کے نفوس اور اس کے معاشرے کو پاک کر رہا تھا ‘ اس کو منظم کر رہا تھا ’ اسے از سر نو کھڑا کر کے اسے جدید جنم دے رہا تھا اس جدید جماعت کو ایک معرکہ کار زار میں اتار رہا تھا اور وہ اپنے نفوس ‘ اپنے اوضاع واطوار سے سابقہ معاشرتی آثار جاہلیت مٹا رہا تھا ۔ اور جس وقت قرآن جماعت کے اندر سے اور اس کے ماحول سے مدینہ منورہ کے اندر منافقین ‘ مشرکین اور یہودیوں کی شکل میں پائے جانے والی جاہلیت کو ختم کر رہا تھا جاہلیت کے ساتھ یہ معرکے رات دن جاری تھے ‘ ہر زمان ومکان میں جاری تھے ۔ یہ سب کچھ کرتے ہوئے اس دوران میں قرآن نے سب سے پہلے اس امت کو ایک صحیح تصور حیات دیا ۔ اس کے لئے ایمان کی شرائط وحدود وضع کیں ‘ پھر اس تصور کے مطابق اسلام نے اس کے لئے ایک دستوری نظام تجویز کیا جس کی وجہ سے اس کے وجود اور اس کے اردگرد جاہلیت کے وجود کے درمیان خط امتیاز کھینچ دیا گیا ان کے لئے وہ خصائص ومقاصد متعین کئے گئے جن کے لئے اسے برپا کیا گیا تھا تاکہ وہ لوگوں کے سامنے ان کی تبلیغ کرے اور ان کو اللہ اور اللہ کے ربانی نظام کی طرف دعوت دے ۔ اس درس میں اس اساسی نظام کا بیان ہے ۔ یہ نظام اس اساسی تصور حیات سے پھوٹتا ہے اور اس پر قائم ہے ۔ اور انہی شرائط ایمان اور حدود اسلام کے مطابق ہے ۔ پھر اس سبق میں وہ تجدید عہد ہے جس سے یہ امت اپنا نظام حیات لیتی ہے ۔ وہ طریقہ بھی بتایا گیا ہے جس کے مطابق وہ اپنا نظام اخذ کرے گی ۔ وہ نظام بھی بتایا گیا ہے جس کے مطابق وہ اس چیز کا ادراک کرے گی جسے وہ اخذ کررہی ہے یا زندگی کے مسائل اور اس کی مشکلات میں اس نظام کی طرف رجوع کرے گی ‘ ان امور میں جن کے بارے میں کوئی نص اور صریح حکم نہیں ہے اور جن میں رائے کا اختلاف ممکن ہے ۔ پھر یہ بھی بتایا گیا کہ وہ انتظامیہ کون سی ہے جس کی اطاعت ہوگی اور اس انتظامیہ کی قوت کا مرجع کونسی چیز ہے اور یہ تمام امور ایمان کی شرائط اور تعریفات ہیں۔ یہاں آکر اس امت کا دستوری نظام اس کے نظریہ حیات کے ساتھ وابستہ ہوجاتا ہے ۔ یہ اتحاد پھر تحلیل نہیں ہوتا اور نہ ان کے عناصر ترکیبی ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں ۔ یہ ہے وہ اہم موضوع جس کا حق یہ سبق ادا کرتا ہے اس بارے میں مکمل ہدایات دی جاتی ہیں اور اس سے متعلق تمام سوالوں کا جواب دیا جاتا ہے ۔ اس سبق کے مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ اس قدر واضح اور بدیہی ہے کہ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اس بارے میں کوئی مسلمان کس طرح مجادلہ کرسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ درس امت کو واضح طور پر بتاتا ہے کہ رسولوں کو بھیجا ہی اس لئے گیا ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے اور یہ اطاعت اللہ کے حکم سے ہے اور یہ کہ رسولوں کو محض تبلیغ یا لوگوں کو مطمئن کرنے کے لئے نہیں بھیجا گیا کہ وہ لوگوں کو مسکت دلائل سنا دیں بلکہ (آیت) ” وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ “۔ (اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے وہ صرف اس لئے بھیجا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے) یہ سبق واضح کرتا ہے کہ لوگ مومن ہی نہ ہوں گے اگر وہ اپنے فیصلے اس نظام قانون کے مطابق نہیں کرتے جو اللہ نے اتارا ہے ۔ یہ منہاج رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اور آپ کے احکام میں پایا جاتا ہے اور جو قرآن وسنت کی شکل میں قیامت تک باقی ہے ۔ اور یہ بات بھی کافی نہیں ہے کہ وہ اس قانون کے مطابق اپنے فیصلے کرائیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ دلی رضا مندی سے ان فیصلوں کو قبول بھی کریں ۔ (آیت) ” (فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجا مماقضیت ویسلموا تسلیما “ (4 : 65) ” نہیں اے محمد ﷺ تمہارے رب کی قسم ‘ یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں ‘ پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دل میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں ‘ بلکہ سر تسلیم خم کرلیں) اس سبق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جو لوگ طاغوت کے پاس اپنے فیصلے لے جاتے ہیں یعنی اللہ کی شریعت کے سوا کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کراتے ہیں تو ان سے ان کا یہ دعوی قبول نہ ہوگا کہ وہ اللہ کے کلام اور رسول اللہ ﷺ کے احکام پر ایمان لانے والے ہیں ‘ یا وہ پہلی کتابوں پر ایمان لانے والے ہیں ۔ ان کا یہ دعوی جھوٹا ہے اور اس پر دلیل ان کا یہ فعل ہے کہ وہ اپنے فیصلے طاغوت کے پاس لے جاتے ہیں ۔ (آیت) ” الم ترالی الذین یزعمون انھم امنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک یرویدن ان یتحاکموا الی الطاغوت وقد امروا ان یکفروا بہ ویرید الشیطن ان یظلھم ضللا بعیدا “۔ (4 : 60) ” اے نبی تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دعوی تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں ‘ اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ‘ مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لئے طاغوت کی طرف رجوع کریں ۔ حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ شیطان تمہیں بھٹکا کر راہ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے) اور اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نفاق کی علامت یہ ہے کہ لوگوں کو اس قانون کے مطابق فیصلے کرنے روکا جائے جو اللہ نے نازل فرمایا ہے اور جو سنت رسول ﷺ میں ہے ۔ (آیت) ” واذا قیل لھم تعالوا الی ما انزل اللہ ولی الرسول رایت المنفقین یصدون عنک صدودا “۔ (4 : 61) (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے اور آؤ رسول کی طرف تو ان منافقوں کو تم دیکھتے ہو کہ یہ تمہاری طرف آنے سے کتراتے ہیں) یہ سبق کہتا ہے کہ ایمانی طریق کار اور اس کا دستور اساسی یہ ہے کہ تم لوگ اللہ کی نازل کردہ کتاب کی پیروی کرو اور رسول خدا ﷺ کی سنت کی پیروی کرو اور ان اہل ایمان کی اطاعت کرو جو اولو الامر ہیں۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ اطیعوا الرسول واولی الامر منکم “۔ (4 : 59) (اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول ﷺ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں) یہ سب بتاتا ہے کہ جہاں نقطہ نظر مختلف ہو ‘ اور مسائل بالکل نئے ہوں اور ان میں منصوص احکام موجود نہ ہوں تو پھر اللہ و رسول کی طرف رجوع کرو اور قرآن وسنت کی روشنی میں ان کا حل تلاش کرو ۔ (آیت) ” (فان تنازعتم فی شیء فردہ الی اللہ والرسول) (4 : 59) ” اگر تم کسی چیز میں متنازع ہوجاؤ تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو ۔ “ اس طریقے سے اسلامی نظام حیات ان مسائل اور حالات کا حل دریافت کرلیتا ہے جو بالکل پہلی مرتبہ نمودار ہوئے ہوں ۔۔۔ اس قاعدے کے ذریعے اسلام ابدی طور پر نئے نئے مسائل کے حل کی تدبیر کرتا ہے ۔ چونکہ اسلام کا دستوری قاعدہ یہ ہے کہ اس وقت تک کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے مسائل اسلامی نظام کے مطابق حل نہ کرین اس لئے اسلامی نظام زندگی کی وسعت کے ساتھ ان کے حل کا یہ طریقہ وضع کرتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ مسائل کو اللہ اور رسول اللہ کی طرف لوٹایا جائے ‘ کیونکہ یہاں اطاعت شرط ایمان ہے ۔ ایمان واضح طور پر مشروط ہے ۔ (آیت) ” (ان کنتم مومنون باللہ والیوم الاخر (4 : 59) ” اگر تم واقعی اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو ۔ “ ہمیں اس سے قبل بیان کردہ یہ فرمان الہی نہیں بھولنا چاہئے ۔ (آیت) ” (ان اللہ لا یفغر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشآء (4 : 48) اللہ اس بات کو تو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کا ارتکاب کیا جائے اور اس کے سوا جس گناہ کو چاہے بخش دے ۔ “ یہودیوں کو مشرک قرار دیا گیا ‘ محض اس لئے کہ وہ اپنے احبار کو اللہ کے علاوہ رب قرار دیتے تھے ‘ اس لئے نہیں کہ وہ اپنے ارباب کی عبادت اور بندگی کرتے تھے بلکہ اس لئے کہ انہوں نے ارباب کو حلال و حرام قرار دینے کے اختیارات دے رکھے تھے ۔ انہوں نے احبار کو حق حاکمیت اور حق قانون سازی دونوں عطا کردیئے اور یہ کام انہوں نے اپنی جانب سے کیا تھا ۔ اس لئے انہوں نے انکو اللہ کا شریک بنا لیا تھا جو ناقابل معافی جرم ہے اور اس کے علاوہ تمام جرائم معاف ہو سکتے ہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ۔ (وان زنا وان سرق وان شرب الخمر) (اگرچہ اس نے زنا کیا اور چوری کی اور شراب نوشی کی) ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے عقیدے کی بات کو اس میں منحصر کردیا ہے کہ اللہ کے ساتھ حاکمیت میں کوئی شریک نہیں ہے ۔ اس میں وہ منفرد ہے اس لئے کہ الوہیت کی صفات میں سے یہ مخصوص ترین صفت ہے ۔ اس کے اندر رہ کر ہی ایک مومن ‘ مومن اور مسلم ‘ مسلم رہ سکتا ہے اور وہ امید رکھ سکتا ہے کہ اس کے گناہ معاف ہوں ‘ چھوٹے ہوں یا بڑے ۔ اس سے باہر نکل جائیں تو شرک ہے ‘ جسے اللہ کبھی بھی معاف نہیں فرماتے ۔ اس لئے کہ یہ ایمان کی شرط اور اسلام کی تعریف (Definition) ہے ۔ (آیت) ” ان کنتم تومنون باللہ والیوم الاخر (4 : 59) (اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے ہو۔ ) یہ ہے وہ اہم موضوع جو اس سبق میں زیر بحث ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کرہ ارض پر ایک مسلم امت کے فرائض کیا ہیں ۔ مثلا یہ کہ انہوں نے اللہ کے درست نظام زندگی کی مطابق عدل و انصاف قائم کرنا ہے ۔ (آیت) ” (ان اللہ یامرکم ان تودوا الامنت الی اہلھا واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل ان اللہ نعما یعظکم بہ اللہ کان سمیعا بصیرا “۔ (4 : 58) (مسلمانو ! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو ‘ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو ‘ اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقینا اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے ۔ یہ ہے اس سبق کا اجمالی خاکہ ۔ اب ذرا نصوص پر تفصیلی بحث دیکھئے ۔
Ayah 4:58

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 4:58 in the Quran reader

” مسلمانو ! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو ‘ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو ‘ اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقینا اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے

(آیت) ” نمبر 58۔ یہ ہیں امت مسلمہ کے فرائض اور یہ ہے اس کا ضابطہ اخلاق ۔ وہ امانتوں کو ان لوگوں کے سپرد کرتی ہے جو اس کے اہل ہوں ۔ اور اگر وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے تو عدل پر کرے گی اور اس نظام اور قانون کے مطابق کرے گی جو اللہ نے سکھایا ہے ۔ امانتوں کا آغاز امانت کبری سے ہوتا ہے ۔ یہ وہ امانت ہے جس سے فطرت انسان مربوط ہے اور یہ امانت وہی ہیں جس کے اٹھانے سے آسمان ‘ زمین اور پہاڑوں نے معذوری کا اظہار کیا تھا ‘ لیکن اسے انسان نے اٹھا لیا تھا ۔ انسان نے جس بار امانت کو اٹھایا ‘ ” ہدایت ‘ معرفت اور ایمان باللہ کی امانت تھی ۔ یہ ایمان باللہ ‘ بامقصد ‘ باارادہ اور کمال توجہ کے لائق ایمان ہے ۔ یہ امانت انسان کی فطرت کا تقاضا بھی ہے ۔ انسان کے سوا اور جس قدر مخلوق خدا ہے ‘ اس کی جانب سے خدا پر ایمان ‘ ہدایت ‘ معرفت طہارت اور اطاعت بلاقصد و ارادہ اور بلاتوجہ ہوتی ہے ۔ اور وہ طوعا وکرہا ناموس الہی کے فرمان بردار ہوتے ہیں ۔ انسان ” واحد مخلوق ہے کہ اللہ نے اس کی فطرت ‘ اس کی عقل اس کی معرفت ‘ اس کے ارادے اور اس کی توجہ پر ایمان کو موقوف کردیا ہے اور اس پر فرض قرار دیا ہے کہ وہ ایمان کی منزل تک پہنچنے کی جدوجہد کرے ۔ وہ یہ جدوجہد کرے گا تب اللہ اسے راستہ دکھائے گا ۔ (آیت) ” (والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا) (جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کرتے ہیں ہم ان کی راہنمائی اپنے راستوں کی طرف کریں گے) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے وہ پہلی امانت جسے انسان نے دوسری امانتوں کے ساتھ اٹھانا ہے ۔ اور پھر اس امانت کبری سے دوسری ماتحت امانتیں اور ذمہ داریاں انسان پر عائد ہوتی چلی جاتی ہیں ۔ ان میں سے اہم امانت شہادت حق کی امانت ہے اور یہ شہادت انسان نے اس دین کی سچائی پر دینی ہے ۔ سب سے پہلے مومن کا نفس یہ شہادت دے گا کہ وہ مومن ہے اسے ایمان اور اسلام کا عکاس ہونا چاہئے ۔ ایک مومن اپنے شعور و تصورات اور اپنے سلوک اور عمل میں اسلام اور دین کا ترجمان ہو۔ لوگ دیکھتے ہی یہ کہیں کہ یہ ہے نمونہ اسلام اور دین اسلام کا ۔ دیکھتے ہی لوگ کہیں کہ یہ دین ایمان بہت ہی اچھا دیں و ایمان ہے جس کے پیروکار ایسے اچھے ہیں جس کے ماننے والے اس قدر اخلاق و کمالات کے مالک ہیں ۔ یہ دین کی شہادت حق ہے جس سے تمام دیکھنے والے متاثر ہوں گے اور یہ بھی ایک امانت ہے ۔ دوسری شہادت یہ ہے کہ ایک مومن دین کی دعوت لوگوں کو دے اور لوگوں کے سامنے دین کے فضائل بیان کرے جبکہ خود داعی کے اندر وہ پورے فضائل زندہ موجود ہوں ۔ کسی مومن کی ذاتی پاکیزگی اور طہارت کی شہادت کافی نہیں ہے جب تک وہ لوگوں کو اس طرف دعوت نہ دے ۔ اگر دعوت نہ دے تو اس نے امانت دعوت ادا نہ کی جو بذات خود امانت ہے ۔ اس کے بعد اس دین کی شہادت قیام دین ہے اور اس امانت کی ادائیگی پورے کرہ ارض پر فرض ہے ۔ اس طرح کہ یہ جماعت مومنہ کا بھی منہاج ہو اور تمام بشریت کا بھی منہاج ہو اور اس کام کے لئے ایک مومن انسان کا فرض ہوگا کہ وہ اپنے پورے وسائل اس راہ میں جھونک دے ۔ جماعت مسلمہ کے پاس جس قدر وسائل وذرائع ہوں ‘ وہ اس راہ میں صرف کردے اور اس نظام کو انسانوں کی زندگی میں قیام کے مرحلے تک پہنچائے ۔ اور یہ بھی ایک عظیم امانت ہے جسے ادا کرنا ہے ۔ اور یہ ایک شخص کے ذاتی ایمان کی وسعت ہے اور یہ فریضہ اقامت دین نہ کسی فرد کے لئے معاف ہے اور نہ کسی جماعت کے لئے ۔ یہی وجہ ہے کہ کہا گیا (الجھاد ماض الی یوم القیامۃ) (جہاد قیامت تک جاری رہے گا) اور یہ جہاد بھی امانات میں سے ایک اہم امانت ہے ۔ ان امانات میں سے وہ امانتیں بھی ہیں جو لوگوں کے باہم معاملات میں پیش آتی ہیں ۔ یہ فرض ہے کہ لوگوں کی امانتیں ان کو لوٹائی جائیں ۔ معاملات کی امانت اور وہ مالی امانت جو کسی کے پاس رکھی گئی ہو ‘ حکام اور رعایا کو نصیحت کرنے کی امانت ‘ چھوٹے بچوں کی پرورش کی امانت ‘ جماعت کی عزت کی حفاظت کی امانت ‘ اجتماعی اموال کی امانت اور سرحدوں کی حفاظت کی امانت ۔ غرض وہ تمام مناصب ‘ فرائض اور تمام سروسز امانت ہیں اور یہ ان لوگوں کے سپرد کردی جائیں جو ان کے اہل ہوں ۔ یہ سب امانتیں ہیں اور اس آیت میں ان کا اجمالی تذکرہ کیا گیا ہے ۔ رہا یہ حکم کہ لوگوں عدل کرو ‘ تو یہ عام ہے اور تمام لوگوں کے لئے ہے ۔ یہ حکم نہیں ہے کہ اہل اسلام کے درمیان عدل کرو ۔ یہ حکم بھی نہیں ہے کہ اور لوگوں کو چھوڑ کر صرف اہل کتاب کے ساتھ عدل کرو ۔ انصاف ہر انسان کا حق ہے اور بحیثیت انسان اسے ملنا چاہئے ۔ اسلامی نظام حیات کے اندر عدل کا تعلق اس صفت یعنی صفت الناس کے ساتھ ہوتا ہے اور اسی صفت الناس پر تمام لوگ متحد ہوتے ہیں۔ مومن ہیں تو وہ بھی الناس ہیں ‘ کافر ہیں تو وہ بھی الناس ہیں ۔ دوست ہیں یا دشمن ‘ کالے ہیں یا گورے ‘ عربی ہیں یا عجمی ‘ سب کے سب الناس ہیں اور امت مسلمہ کو یہ نگرانی سپرد کی گئی ہے کہ وہ الناس کے درمیان عدل قائم کرین ۔ جب بھی اسے لوگوں کے امور کے فیصلے کا موقع ملے ۔ یہ انصاف انسانیت کو اس صورت میں صرف اسلام کے ہاتھوں ملا ‘ صرف مسلمانوں کی حکومت میں ملا ‘ صرف اسلامی قیادت کے دور میں ملا ۔ اس دور سے پہلے اور بعد میں انسانیت نے اسے گم پایا ۔ اسے کبھی بھی اس کا چکھنا تک نصیب نہ ہوا ۔ ایسی شریفانہ اور باعزت صورت میں کہ وہ سب انسانوں کے لئے مہیا ہو ‘ اس لئے کہ وہ انسان ہیں ۔ وہ صرف ان طبقات تک محدود نہ ہوں جو الناس کی صفت کے ساتھ کوئی اور صفت بھی رکھتے ہوں ۔ یہ ہے اسلام میں نظام عدالت کی اساس ۔ جس طرح امانت اس کے حقدار تک پہنچانا ‘ اسلامی معاشرے کی اساس اور اس کا اصل الاصول ہے۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے کتاب ” نحو مجتمع اسلامی “ کا فصل ” مجتمع عادل) اور ان دو احکام یعنی امانت اس کے مستحق کو دینا اور لوگوں کے درمیان عدل کرنا ‘ کے بعد جو تعقیب اور تبصرہ آتا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ یاد رکھو کہ یہ اللہ کی جانب سے ایک نصیحت ہے اور یہ اسی کی ہدایات ہیں ‘ اور کیا ہی اچھی نصیحت اور کیا ہی اچھی ہدایات ہیں یہ (آیت) ” ان اللہ نعما یعظکم بہ (4 : 58) (اللہ تم کو نہایت ہی اچھی نصیحت کرتا ہے۔ ) اب ذرا یہاں توقف کیجئے ۔ ذرا دیکھیں کہ اس فقرے کا انداز اور اسلوب کیا ہے ۔ اصل بات اس جملے کی ساخت ہے ۔ ا صل ہے ۔ (آیت) ” انہ نعم ما یعظکم اللہ بہ) لیکن اس فقرے میں لفظ اللہ کو مقدم کرکے اسے ان کا اسم بنا دیا گیا ۔ اور (نعم ما) یعنی (نعما) کو مع متعلقات (Propositions) خبر کی جگہ رکھا گیا اور اصل خبر کی محذوف کردیا گیا ۔ اس طرح طرز ادا سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ کی ذات اور اس وعظ ونصیحت کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے ۔ یہ وعظ تو تھا نہیں بلکہ یہ حکم تھا لیکن امر کا اظہار بلفظ وعظ ونصیحت کیا گیا اس لئے کہ نصیحت اور وعظ کے الفاظ کے ساتھ بات کو انسان جلدی اخذ کرتا ہے اور انسانی وجدان اسے جلدی قبول کرلیتا ہے اور اس طرح یہ بات جلدی نافذ ہوتی ہے کیونکہ اس کے نفاذ میں اختیار ‘ رغبت اور حیاء سب شامل ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد آیت میں آخری تعقیب اور نتیجہ آتا ہے اور اس میں تمام معاملے کو اللہ کی نگرانی ‘ اس کی خشیت اور اس سے امید کرم کے حوالے کردیا جاتا ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ کان سمیعا بصیرا (4 : 58) ” اور یقینا اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے ۔ “ یہاں مامور بہ یعنی ادائیگی امانات اور قیام عدل بین الناس اور اس بات میں کہ اللہ سمیع وبصیر ہے ایک نہایت ہی لطیف اور واضح مناسبت ہے ۔ اللہ سنتا اور دیکھتا ہے کہ تم امانت صحیح ادا کرتے ہو۔ تم عدل صحیح طرح قائم کرتے ہو ۔ عدالت کے عمل کو بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ اچھی طرح سنا جائے اچھی طرح اندازہ کیا جائے اور حالات اور بادی النظر امور کے پیچھے عمیق اسباب کی تلاش کی جائے اور اس کے بعد فیصلے بصیرت افروز سماعت کے بعد ہوں اور سامع صاحب بصیرت و بصارت ہو ۔ اب ‘ امانت داری اور عدل کا میعار کیا ہے ؟ امانت وعدل کا طریق اور تصور کیا ہے ؟ عدل وامانت کی تعریف کیا ہے اور ان کا نفاذ کیسے ہوگا ؟ یعنی زندگی کی ہر سر گرمی اور ہر معاملے میں ۔۔۔۔ کیا ہم امانت اور عدل کا مفہوم اور ان کے نفاذ و رواج کے طریقے اور وسائل کو عوام الناس میں مروج رسم و رواج اور اصطلاحات پر چھوڑ دیں اور ان کی عقل جو فیصلہ کرے اسے عدل قرار دیں یا ان کی خواہشات پر چھوڑ دیں ۔ بیشک انسانی عقل وخرد کی اپنی قدروقیمت ہے اور انسان کی ہدایت اور علم ومعرفت کے لئے وہ ایک ، مسلم ذریعہ ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے ۔ لیکن یہ انسانی عقل بہرحال افراد اور جماعتوں کی عقل ہوتی ہے اور یہ افراد کسی مخصوص معاشرے کے فرد ہوتے ہیں اور ان پر متعدد چیزیں اثر ڈالتی ہیں ۔ انسانی عقل نام کی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا کوئی مطلق اور بےقید مفہوم ہو ۔ اصل چیز یہ ہے کہ میری عقل ہوتی ‘ فلاں فلاں کی عقل ہوتی اور پھر ان عقلوں کا مجموعہ انسانی عقل ہوتی ہے اور مجموعہ عقل زمان ومکان کے اندر محدود ہوتی ہے ۔ اس لئے یہ عقول مختلف موثرات سے تاثر لیتی ہیں اور کبھی اس طرف مائل ہوجاتی ہیں اور کبھی اس طرح مائل ہوجاتی ہیں ۔ لہذا کسی ایسے معیار اور میزان کی ضرورت ہے جو نہ بدلے اور نہ تاثر لے ۔ ان تمام عقول کو اس میزان پر تولا جائے اور اس معیار پر پرکھا جائے اور معلوم کیا جائے کہ ان میں سے کون سی عقل ٹھیک ہے اور کون سی غلط ہے ؟ کون سے احکام ٹھیک اور کون سے غلط ہیں ؟ کون سا تصور ٹھیک اور کون سا غلط ہے ؟ اور ان احکام اور تصورات میں کہاں کہاں غلو ‘ تقصیر ‘ کوتاہی اور انحراف کیا گیا ہے ۔ یہاں عقل کی قدروقیمت یہ ہے کہ وہ انسان کی بھلائی کے لئے ایک آلہ پیدا کیا گیا ہے ۔ تاکہ وہ اس کے ذریعے اپنے احکام اور تصورات کو اس میزان کے مطابق درست کرتا رہے ۔ اس لئے کہ یہ میزان ایک ایسا میزان ہے جو انسان کی خواہشات نفس سے متاثر نہیں ہوتا اور نہ دنیا کے موثرات اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں ۔ رہے وہ اوزان اور پیمانے جو خود انسانوں نے وضع کئے ہیں تو ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ بعض اوقات ان انسانی پیمانوں کے اندر غلطی ہوتی ہے اس لئے ان پیمانوں کے ساتھ ناپی ہوئی اقدار میں بھی غلطی واقع ہوجاتی ہے ۔ یہ غلطی اس وقت تک دہرائی چلی جاتی ہے جب تک لوگ اس اصل معیار اور پیمانے کی طرف واپس نہیں لوٹتے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ میزان انسانوں کے لئے نصب کیا ہے تاکہ اس کے اوپر وہ امانتوں اور نظام عدالت کو استوار کریں اور تمام دوسری اقدار کو بھی اس پر تولیں ۔ اپنے تمام احکام اور تمام حالات زندگی کو اس پر پرکھیں ‘ زندگی کے ہر میدان میں ۔
Ayah 4:59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ Open ayah 4:59 in the Quran reader

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول ﷺ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں ‘ پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو ۔ اگر تم واقعی اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو ۔ یہی ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے

(آیت) ” نمبر 59۔ اس مختصر آیت میں اللہ تعالیٰ ایمان کی شرط اور اسلام کی تعریف بیان کرتے ہیں ‘ اور اس میں امت مسلمہ کا اساسی دستور بھی آجاتا ہے ۔ یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلام میں حاکمیت اور اقتدار کا منبع کونسا ہے ۔ یہ سب کام اللہ سے شروع ہوتے ہیں اور اللہ کی ذات پر ہی ان کا اختتام ہوتا ہے ۔ اگر شریعت میں کسی حکم کے بارے میں تفصیلات نہ ہوں تو پھر اہل اسلام اس دستوری اصول کی طرف رجوع کرکے اپنے تمام جزئی مسائل میں جواب حاصل کرسکتے ہیں اور قیامت تک یہ اساسی دستوری اصول قائم ودائم ہے ۔ اس میں لوگوں کی آراء ار ان کی عقلی کاوشوں کے لئے اختلاف کی گنجائش بھی چھوڑی گئی ہے ۔ انسانوں کی زندگی پر حاکمیت کا حق صرف اللہ کو حاصل ہے ‘ چاہے ظاہری امر ہو یا پوشیدہ ہو ‘ چاہے بڑا معاملہ ہو یا چھوٹا ۔ ان معاملات میں اللہ تعالیٰ نے شریعت کا حکم مقرر فرمایا ہے ۔ اور رسول خدا ﷺ کی سنت اس کے بارے میں موجود ہے اس لئے کہ حضور ﷺ نے محض ہوائی باتیں نہیں کیں ۔ آپ کی تمام باتیں وحی پر مبنی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے جو قانون بنائے وہ بھی اللہ کے قوانین ہیں ۔ اللہ واجب الاطاعت ہے ۔ اللہ کی الوہیت کا اہم خاصہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کے لئے شریعت بنائے ۔ اس لئے اس کی شریعت واجب النفاذ ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کریں ۔ اور پھر وہ رسول اللہ کی اطاعت کریں اس لئے کہ رسول جو کچھ کہتا ہے وہ بھی اللہ کے حکم سے کہتا ہے ۔ رسول کی اطاعت میں اللہ کی اطاعت ہے کیونکہ اللہ ہی نے رسول کو یہ شریعت دے کر بھیجا ہے ۔ اس نے اپنی سنت میں شریعت کو لوگوں کے لئے بیان کیا ہے اس لئے آپ کی سنت اور آپ کے فیصلے اس زاویے سے شریعت کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ لوگوں کے ایمان کا تعلق شریعت کے اس نفاذ سے ہے وجودا اور عدما اس لئے کہ اللہ کا حکم ہے کہ (آیت) ” ان کنتم تومنون باللہ والیوم الاخر (4 : 59) (اگر تم اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو) یہاں (آیت) ” (واولی الامر منکم) (یعنی تم میں جو صاحب امر ہوں) سے مراد بھی متعین کردی جاتی ہے ۔ یعنی وہ تم میں سے ہوں یعنی وہ لوگ جن کے اندر شرط ایمان اور اسلام کی تعریف (Definition) پائی جاتی ہو ۔ یعنی وہ لوگ جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں جو حق قانون سازی اور حق اطاعت صرف اللہ تعالیٰ کو دیتے ہیں اور ان معاملات میں صرف اللہ تعالیٰ سے ہدایات اخذ کرتے ہوں ۔ ان حالات میں جن میں منصوص ہدایات آگئی ہیں نیز جن معاملات میں انسانوں کے فہم وادراک میں اختلاف رائے ہو اور جن میں کوئی نص وارد نہ ہوئی ہو ان میں بھی وہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کریں اور ان مسائل میں ان اصولی احکام کو منطبق کریں جو وارد ہیں اور منصوص ہیں ۔ اس نص میں بطور اصلیت اللہ کی اطاعت کو لازم کیا گیا ہے ‘ نیز اس میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو بھی اصل اطاعت قرار دیا گیا ہے ۔ اس حیثیت سے کہ یہ اللہ کی فرستادہ ہیں (آیت) ” (واولی الامر) کی اطاعت اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کے تابع اطاعت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ (آیت) ” (واولی الامر منکم) کے ساتھ لفظ (آیت) ” (اطیعوا) کو تیسری بار نہیں لایا گیا ۔ جیسا کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لفظ (آیت) ” (اطیعوا) دہرایا گیا ہے ۔ یہ اس لئے کہ (آیت) ” (واولی الامر) کی اطاعت اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت سے ماخوذ ہے ۔ جبکہ (آیت) ” (واولی الامر) کے ساتھ (منکم) کے لفظ کے مطابق ان کا اہل ایمان میں سے ہونا ضروری ہے ۔ یہ اولی الامر کے لئے شرط ہے ۔ ان تمام تاکیدوں کے ساتھ ساتھ اولی الامر کی اطاعت ان اوامر میں سے ہے جو اللہ کی طرف سے منصوص اور مشروع ہوں اور حدود اللہ کے اندر ہوں اور ان اوامر کے خلاف کوئی نص وارد نہ ہو ۔ نیز یہ اوامر اور احکام اصول شریعت کی روشنی میں بھی شریعت کے خلاف نہ ہوں ۔ حضور ﷺ کی سنت میں علی وجہ الیقین ان حدود وقیود کا تعین کردیا گیا ہے جن کی مطابق اولی الامر کی اطاعت کی جاتی ہے ۔ صحیحین میں حضرت اعمش ؓ کی حدیث میں ہے (انما الطاعۃ فی معروف) (اطاعت صرف معروف طور پر جائز کاموں میں) ۔ صحیحین میں یحییٰ القطان کی حدیث ہے ۔ (السمع والطاعۃ علی المراء المسلم فیما احب اوکرہ مالم یومر معصیۃ واذا بمعصیۃ فلا سمع ولا طاعۃ) (سمع اور اطاعت ہر مسلم شخص پر لازم ہے ایسے امور میں بھی جو وہ پسند کرے اور ایسے امور میں بھی جنہیں وہ ناپسند کرے ‘ اس وقت تک جب تک اسے معصیت کا حکم نہ دیا گیا ہو ۔ اگر اسے معصیت کا حکم دیا گیا تو اس پر نہ سمع لازم ہے اور نہ اطاعت) مسلم نے ام الحصین کی حدیث نقل کی ہے ۔ (ولو استعمل علیکم عبد یقودکم بکتاب اللہ اسمعوا لہ واطیعوا) (اگر تم پر کوئی غلام مقررکر دیا جائے جو تمہاری قیادت کتاب اللہ کے مطابق کرے تو اس کی بات بھی سنو اور اطاعت بھی کرو) اس طرح اسلام نے ہر شخص کو اللہ کی شریعت اور سنت رسول اللہ ﷺ پر امین اور نگہبان بنا دیا ہے ۔ اس کے ایمان اور اس کے دین پر اسے نگران مقرر کردیا ہے ۔ اس کے نفس اور اس کی عقل کا اسے نگران مقرر کردیا ہے ۔ دنیا اور آخرت دونوں میں اس کے معاملات کا اسے نگران مقرر کردیا ہے ۔ اسلام نے انسان کو اس طرح نہیں چھوڑا ہے جس طرح کسی گلے میں ایک جانور ہوتا ہے کہ اسے یہاں سے روکا جائے اور وہاں سے روکا جائے اور وہ سمع و اطاعت نہ کرے اور ہر وقت اسے ہش کہنے کی ضرورت ہو ‘ اس لئے کہ اسلامی نظام واضح ہے ۔ اطاعت کی حدود واضع نصوص وارد نہیں ہیں ‘ اور مشکلات اور مسائل کی وجہ سے کوئی بالکل نیا معاملہ درپیش ہو ‘ بعد میں آنے والے ادوار میں حالات کے اختلاف میں اور سوسائٹیوں کے اختلاف میں اور بدلتے ہوئے حالات ہوں اور ان میں کوئی نص قطعی نہ ہو یا بالکل کوئی نص ہی نہ ہو ‘ جس میں مختلف لوگوں کے آراء اور اندازے مختلف ہوں اور ہر شخص اپنی عقل کے مطابق رائے رکھتا ہو تو ایسے مسائل کو بھی بالکل آزادانہ نہیں چھوڑ دیا گیا ‘ ان کو بھی بغیر کسی اصول اور قاعدے کے نہیں چھوڑا گیا ۔ نہ اس طرح چھوڑ دیا گیا کہ ان میں اجتہاد واستنباط کے لئے کوئی ضابطہ نہیں ہے بلکہ اس مختصر نص میں اس کے لئے ایک شاندار منہاج رکھ دیا گیا ہے اور اس کے لئے بھی حدود مقرر کردیئے گئے ہیں اور یہ آیت وہ اصول بتا دیتی ہے جس کے مطابق اجتہاد ہو سکتا ہے ۔ (آیت) ” فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللہ والرسول (4 : 59) (پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں نزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو ) یعنی ان کو ان نصوص کی طرف لوٹا دو ‘ جن پر یہ نصوص ضمنا منطبق ہوتی ہیں ۔ اگر ایسی نصوص نہ ملیں جن کا انطباق ان مسائل پر ہوتا ہو تو اسلامی شریعت میں جو بنیادی اصول اور عام قواعد ہیں ۔ ان کی روشنی میں ان کا حل نکالو ‘ ان مسائل کو افراتفری کے عالم میں بےلگام نہیں چھوڑ دیا گیا ‘ اور نہ یہ مسائل ان نامعلوم امور کی طرح ہیں جن میں انسانی عقول سرگردان رہتی ہیں جیسا کہ بعض دھوکہ باز اس طرح سمجھانے کی سعی کرتے ہیں ۔ اسلامی نظام میں بعض اساسی اور بنیادی اصول ہیں اور یہ اصول بالکل واضح اور منقح ہیں ۔ انسانی زندگی کے ہر پہلو پر حاوی ہیں ۔ یہ اصول زندگی کے لئے ایسی باڑ اور ایسا دائرہ تجویز کرتے ہیں جن کے اندر رہ کر ہر وہ شخص جس کا ضمیر مسلم ہو سچائی تک بڑی سہولت کے ساتھ پہنچ سکتا ہے ۔ (آیت) ” (ان کنتم تومنون باللہ والیوم الاخر (4 : 59) (اگر تم واقعی اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو) ۔ یہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہے ۔ یہ اولی الامر کی اطاعت ہے جو مومن ہوں اور اللہ کی شریعت پر قائم ہوں اور سنت رسول کے مطابق کام کر رہے ہوں ۔ یہ متنازع امور کا اللہ اور رسول اللہ کی طرف رد کرنا ‘ یہ تمام امور شرائط ایمان باللہ اور یوم آخرت میں سے ہیں اور یہ سب امور ایمان باللہ اور ایمان بالاخرت کا تقاضا بھی ہیں ۔ اگر یہ شرائط مفقود ہوں تو سرے سے ایمان ہی نہ ہوگا اسی طرح ایمان اس صورت میں بھی موجود نہ ہوگا اگر ایمان کے لازمی تقاضے پورے نہ ہوں ۔ جب اس آیت نے اس مسئلے کو اس طرح قانونی انداز میں ہمارے سامنے رکھ دیا تو اس کے بعد پھر اسے بطور وعظ ونصیحت بھی دوبارہ لایا جاتا ہے اور محبت کے انداز میں انہیں آمادہ کیا جاتا ہے ‘ جب طرح امانت اور عدالت کے احکام کے ذکر کے بعد یہی رویہ اختیار کیا گیا تھا ۔ (آیت) ” ذلک خیر واحسن تاویلا (4 : 59) (یہی ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے) ۔ یہ طریق کار اور دستور العمل تمہارے لئے بہت ہی اچھا ہے ۔ دنیا میں بھی خیر ہے اور آخرت میں بھی خیر ہے ۔ دنیا میں بھی اس کا انجام اچھا ہوگا اور آخرت میں بھی اس کی جزاء اچھی ہوگی ۔ مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ اس دستور العمل پر عمل کرنے کی وجہ سے اللہ راضی ہوگا اور آخرت میں ثواب ملے گا ۔ اگرچہ یہ بھی ایک عظیم اور اہم بات ہے لیکن اس کے علاوہ اس دستور العمل کو اختیار کرنے کی وجہ سے دنیا میں بھی بہتری ہے ۔ ایک فرد کی ‘ ایک سوسائٹی کی اور اس پوری دنیاوی زندگی کی بھی اس میں بہتری ہے ۔ اسلامی نظام حیات ایک ایسا نظام ہے کہ اس کے زیر سایہ جن لوگوں کو زندگی بسر کرنے کا موقعہ ملتا ہے وہ خوش وخرم زندگی بسر کرتے ہیں کیونکہ یہ ایک ایسا نظام ہے جسے اس اللہ نے بنایا ہے ۔ وہ صانع ‘ حکیم ‘ علیم ‘ خبیر اور بصیر ہے ۔ یہ ایسا نظام ہے جو انسان کی جہالتوں سے پاک ہے ‘ جو انسان کی خواہشات سے پاک ہے ‘ جو انسان کے نقائص سے پاک ہے ۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں کسی فرد کے ساتھ کوئی خصوصی برتاؤ نہیں کیا گیا نہ کسی طبقے ‘ نہ کسی قوم نہ کسی نسل اور نہ کسی خاص قبیلے کی رو رعایت اس میں ملحوظ رکھی گئی ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کے رب ہیں اور اللہ تعالیٰ کسی کی محبت میں مبتلا نہیں ہوتے کسی طبقے ‘ نہ کسی رنگ ونسل اور نہ کسی قوم قبیلے کی محبت ہیں ۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کا بنانے والا پوری کائنات کو بنانے والا ہے جو انسان کی فطرت کی ماہیت سے واقف ہے ۔ وہ انسان کے نفس کے رجحانات ومیلانات سے بھی واقف ہے ۔ انسان کے ذرائع خطاب اور اس کے طریقہ اصلاح سے بھی واقف ہے اس لئے اللہ تعالیٰ سے کسی معاملے میں غلطی صادر نہیں ہو سکتی ۔ نہ اسے یہ ضرورت ہے کہ وہ کسی نظام کا تجربہ کرکے اس کی غلطیوں کو دور کرے اور نہ وہ اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ لوگوں پر نظاموں کے تجربے کر کے انہیں مشکلات سے دو چار کرے اور وہ اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں اور پریشان ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قانونی اور اخلاقی نظام دے کر مادی ایجادات کا ایک وسیع میدان انکے لئے چھوڑ دیا ہے کہ وہ اس میں تجربے کرتے رہیں ۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جو انسانی عقل کی جولانیوں کے لئے بہت ہی کافی ہے ۔ عقل کے لئے بس یہی کافی ہے کہ وہ اس نظام کو نافذ اور مسائل پر منطبق کرنے کا کام جاری رکھے اور اس میں جہاں جہاں قیاس اور اجتہاد کی ضرورت ہے وہاں کام کرتی رہے ۔ پھر اسلامی نظام کی واضع وہی ذات ہے جو اس کائنات کی خالق ہے اس لئے اس نے انسان کو ایک ایسا منہاج دیا ہے جو اس کائنات کے نوامیس فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔ یہ نظام فطرت کے ساتھ معرکہ آراء نہیں ہوتا بلکہ وہ فطرت کی ساتھ ہم نوا ہوتا ہے ‘ اس کو مانتا ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتا ہے ۔ یہ نظام اس کی راہنمائی بھی کرتا ہے اور اس کو بچاتا بھی ہے ۔ اس نظام کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ انسانیت کی ہدایت اور حمایت کے ساتھ ساتھ یہ اس کا اکرام اور احترام بھی کرتا ہے ۔ اس نظام میں عقل انسانی کے لئے ایک وسیع دائرہ کار رکھا گیا ہے ۔ اور اس میں قرآن و سنت کی نصوص وہدایات کے اندر تشریح و اجتہاد کی گنجائش موجود ہے ۔ پھر وہ معاملات جن میں واضح نصوص وارد نہیں ہیں ان کو اصول عامہ کے مطابق حل کرنے کی سعی کی گنجائش ہے ۔ اس کے علاوہ وہ اصل میدان کار بھی ہے جو اس نظام نے عقل کی بہترین کے لئے کھلا رکھا ہے ‘ جس پر اس کا مکمل کنٹرول ہے یعنی علمی تحقیقات اور سائنس کے میدان میں اکتشافات اور مادی ایجادات ۔ (آیت) ” ذلک خیر واحسن تاویلا (4 : 59) (یہ بہتر ہے اور اچھا طریقہ کار ہے) اس سبق میں اس قاعدہ کلیہ کے بیان کے بعد ایمان کی شرط اور اسلام کی تعریف کرنے کے بعد ‘ امت کا دستور اساسی (GrundNorm) وسیع کرنے کے بعد ‘ امت کے لئے طریقہ قانون سازی اور اس کی اصل بتانے کے بعد ‘ اب روئے سخن ان لوگوں کی طرف پھرجاتا ہے جو اس دستوری اساس سے انحراف کرتے ہیں اور پھر بھی وہ یہ زعم رکھتے ہیں کہ وہ مومن ہیں حالانکہ وہ ایمان کی شرط اور اسلام کی تعریف (Definition) کے خلاف جار رہے ہیں وہ اپنی عدالتوں میں فیصلے ایسے قانون کے مطابق کرتے ہیں جو اللہ کی شریعت کے مطابق نہیں ہے ۔ (آیت) ” ان یتحاکموا الی الطاغوت وقد امروا ان یکفروا بہ) (وہ اپنے فیصلے طاغوتی قانون کے مطابق کراتے ہیں حالانکہ ان کو حکم یہ دیا گیا تھا کہ وہ اس کا انکار کریں۔ ) روئے سخن اس طرف پھیرتے ہی ایسے لوگوں پر سخت تعجب کیا جاتا ہے ‘ ان لوگوں پر سخت تعجب کیا جاتا ہے ‘ ان لوگوں کو سخت ڈرایا جاتا ہے کہ وہ ذرا سوچیں کہ شیطان انہیں کس طرف لے جارہا ہے ۔ یہاں ایسے لوگوں کا حال بتایا جاتا ہے کہ جب انہیں اسلامی قانون کو نافذ کرنے اور اس کے مطابق فیصلے کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ نہایت ہی منافقانہ روش کے مطابق اسے روکنے کی سعی کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی روش نفاق بتاتے ہیں ۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ شیطانی قانون کے مطابق فیصلے کرانے کا ارادہ کرتے ہی انسان ایمان سے فارغ ہوجاتا ہے بلکہ یہ لوگ ابتداء ایمان میں داخل ہی تصور نہیں ہوتے یہاں یہ بھی بتادیا جاتا ہے کہ ان کے عذرات کس قدر بورے ہیں اور کس قدر واہیات اور جھوٹے ہیں اور ان کا یہ منصوبہ نہایت ہی قابل نکیر ومذمت ہے اور اس کے نتیجے میں ان پر وبال آنے ہی والا ہے ۔ اس کے باوجود حضور ﷺ کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ دعور وموعظت جاری رکھیں پھر بات کو اس پر ختم کیا جاتا ہے کہ رسولوں کو بھیجا ہی اس لئے گیا ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے ۔ اس کے بعد صریح اور قطعی الفاظ میں ‘ ایک بار پھر ایمان کی شرط اور اسلام کی تعریف (Definition) بیان کی جاتی ہے ۔