4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 4:6

وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader

اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو ‘ یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کو پہنچ جائیں پھر اگر تم ان کے اندر اہلیت پاوتو ان کے مال ان کے حوالے کر دو ‘ ایسا بھی نہ کرنا کہ حد انصاف سے تجاوز کر کے اس خوف سے ان کے مال ہی جلدی جلدی کھا جاو کہ وہ بڑے ہو کر اپنے حق کا مطالبہ کریں گے ۔ یتیم کا جو سرپرست مالدار ہو وہ پرہیز گاری سے کام لے اور جو غریب ہو وہ معروف طریقہ سے کھائے پھر جب ان کے مال ان کے حوالے کرنے لگو تو لوگوں کو اس پر گواہ بناو اور حساب لینے کے لئے اللہ کافی ہے

(آیت) ” وابتلوا الیتمی حتی اذا بلغوا النکاح فان انستم منھم رشدا فادفعوا الیھم اموالھم ولا تاکلوھا اسرافا وبدارا ان یکبروا ومن کان غنیا فلیستعفف ومن کان فقیرا فلیاکل بالمعروف فاذا دفعتم الیھم اموالھم فاشھدوا علیھم وکفی باللہ حسیبا “۔ (6) اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے یتیموں کو ان کی دولت حوالے کرنے کے سلسلے میں شریعت نے کس قدر سخت کاروائی کی ہے ۔ جب وہ بالغ ہوجائیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ شریعت بلوغ اور سیانے ہونے کے بعد جلد از جلد ان کی دولت انکے حوالے کرنے کیلئے کاروائی کرنے پر زور دیتی ہے ۔ یعنی جونہی وہ بالغ ہوں ‘ ان کی دولت ان کے حوالے کی جائے ۔ اور یہ دولت پوری کی پوری صحیح سالم ان کے حوالے کی جائے ۔ اور جب تک ولی کی حفاظت میں ہو اس کی حفاظت ایمانداری کے ساتھ کی جائے اور اسے بےدردی کے ساتھ خرچ نہ کیا جائے ۔ اس ڈر سے کہ یتیم بالغ ہونے والے ہیں اور یہ دولت انہیں لوٹانی ہوگی ۔ نیز شریعت کی پالیسی یہ ہے کہ اگر محافظ مالدار ہو تو وہ اس نگرانی اور حفاظت کا کوئی معاوضہ نہ لے اور اگر وہ نادار ہو تو اسے چاہئے کہ معروف طریقے کے مطابق کم سے کم ضرورت کی حد تک کھائے ۔ اور شریعت یہ بھی لازمی قرار دیتی ہے کہ جب کسی یتیم کو اس کا مال حوالے کیا جا رہا ہو تو اس پر شہادت ضرور قائم کی جائے ۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ کی شہادت تو ہر وقوعہ پر قائم ہے اور اللہ کے سامنے جو حساب ہوگا وہ آخری حساب ہوگا ۔ (آیت) ” وکفی باللہ حسیبا “۔ (6) ”’ اور حساب لینے کیلئے اللہ کافی ہے ۔ “ یہ تمام تشدید وتاکید اور تمام تفصیلات وتشریحات اور یہ تمام تنبیہات وتذکیرات اس حقیقت کی مظہر ہیں کہ جس معاشرے میں اسلامی نظام نافذ ہوا ۔ اس میں ہر طرف ییتموں کی حق تلفی ہو رہی تھی ۔ یتیموں کے علاوہ دوسرے کمزوروں کے مال بھی کھائے جاتے تھے ۔ اس لئے کہ اس رسم و رواج کو ختم کرنے کیلئے اس قدر تاکید وتشدید کی ضرورت پیش آئی ۔ اور جزوی تفصیلات کو قرآن کریم کے اندر قلم بند کرنے کی ضرورت لاحق ہوئی ۔ تاکہ آئندہ لوگ قانونی حیلوں اور بہانوں سے کام لیکر قانون شکنی نہ کرسکیں اور قانون سے بچنے کی کوئی راہ کھلی نہ رہے ۔ اس طرح نظام حیات مسلمانوں کی فکری اور عملی دنیا سے جاہلیت کے ایک ایک نشان مٹاتا رہا اور اس کی جگہ اسلامی جھنڈے گاڑتا رہا ۔ جاہلیت کے آثار مٹائے جاتے رہے اور معاشرے کے چہرے کو ان بدنما داغوں سے صاف کیا جاتا رہا ۔ اور ان کی جگہ اسلام کے خوبصورت خدوخال ظاہر ہوتے رہے ۔ اور یوں ایک جدید معاشرہ ڈھلتا رہا ۔ جدید معاشرے کی رسوم اور روایات قائم ہوتی چلی گئیں ۔ اس کے اصول و ضوابط اور قوانین و احکام نازل ہوتے رہے ۔ اور یہ سب کچھ خدا خوفی کی فضا میں اور اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں ہوتا رہا ۔ اور اسلامی قانون اور اسلامی احکام کی آخری گارنٹی ذات باری کے خوف اور رضا مندی کو قرار دیا جاتا رہا حقیقت یہ ہے کہ خدا خوفی ‘ خدا کی رضا مندی اور اللہ کی نگرانی کے تصور کے سوا ‘ اس دنیا میں کسی بھی قانونی نظام کی استواری اور چلت کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ۔ اصل مدار اس پر ہے کہ (آیت) ” وکفی باللہ حسبیا “۔ ” اور حساب لینے کیلئے اللہ کافی ہے ۔ “ جاہلیت کی رسم یہ تھی کہ وہ لڑکیوں اور بچوں کو وراثت نہ دیتے تھے ۔ عام رواج یہی تھا ۔ البتہ بعض جگہوں پر اس کے خلاف بھی تھا مگر شاذ ۔ اس کی وجہ ان کے نزدیک یہ تھی کہ یہ لوگ گھوڑے پر سوار نہیں ہوتے تھے ۔ دشمن کے مقابلے میں شریک نہ ہوتے تھے ۔ گویا اصل مدار جنگ پر تھا ۔ اسلامی نظام قانون نے میراث کو قرابت کے اصول پر استوار کیا ۔ جو تقسیم میراث کا حقیقی سبب تھا ۔ ہاں جس طرح قرابت کے مختلف درجے ہوتے ہیں ۔ اسی طرح اقرباء کے حصص اور فرائض میں بھی فرق ہے ۔ جیسا کہ بعد میں تفصیلات آرہی ہیں ۔ نظام میراث کو اسلام نے نظام قرابت پر اس لئے استوار کیا کہ اسلام اجتماعی تکافل کے نظام کی اکائی ایک خاندان کو قرار دیتا ہے ۔ وہ سب سے پہلے ایک خاندان کے افراد کے درمیان باہم کفالت کا نظام قائم کرتا ہے ۔ اور یہ خاندانی نظام بھی اجتماعی کفالتی نظام کے فریم ورک کے اندر ہوتا ہے ۔ نیز اس اصول کے تحت کہ حقوق ذمہ داریوں کی نسبت سے متعین ہوتے ہیں تو اس طرح قریبی رشتہ داروں پر خاندان کے کسی غریب فرد کی بابت اس کی قرابت کے اعتبار سے ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔ مثلا قتل میں دیت کی ادائیگی بھی قرابت اور رشتہ داری کے اصول پر ہوتی ہے ۔ نیز زخموں کی مرہم پٹی کی ادائیگی بھی قرابت کے اصول پر ہوا کرتی ہے ۔ اس لئے پھر انصاف کا تقاضا ہے کہ اگر کوئی رشتہ دار فوت ہوجائے اور اس کا ترکہ رہ جائے تو اسے اصول قرابت پر تقسیم کیا جائے ، کیونکہ اسلامی نظام زندگی ایک مکمل اور باہم متناسق نظام ہے ۔ اور اس کی یہ ہمہ گیری اور ہم آہنگی اس وقت اچھی طرح ظاہر ہوتی ہے جب اس کے اندر حقوق وفرائض متعین ہوتے ہیں ۔ غرض میراث کی تقسیم میں شریعت نے عموما ان قریبی ذمہ داریون کو ملحوظ رکھا ہے ۔ بعض لوگ اس قانون کے اصول تقسیم پر نکتہ جہنیاں کرتے ہیں ‘ یہ حرکت وہ اس لئے کرتے ہیں کہ درحقیقت ذات باری کی شان میں گستاخی کیلئے تیار ہیں ۔ حالانکہ خود ان کا حال یہ ہے کہ وہ کود ات انسانی سے بھی اچھی طرح واقف نہیں ہیں۔ اور نہ وہ انسانی زندگی کے مختلف احوال کو اچھی طرح سمجھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے نظام میراث کی اساس جن اصولوں پر رکھی گئی ہے اگر یہ لوگ ان کا اچھی طرح ادراک کرلیں تو یہ ہر گز یہ جسارت نہ کریں۔ اسلامی نظام میراث کا اصل الاصول سوشل سیکورٹی ہے ۔ اس کفالتی نظام کو شریعت نے ان اصولوں پر استوار کیا ہے ۔ جو نہایت ہی مستحکم ہیں اور ان اصولوں کو وضع کرتے وقت اسلام نے نفس انسانی کے فطری رجحانات کو بھی مد نظر رکھا ہے ۔ اور یہ وہ رجحانات ہیں جن کا خالق اللہ ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فطرت انسانی کے اندر ان رجحانات کو عبث طور پر پیدا نہیں کیا ہے ۔ یہ فطری میلانات انسانی زندگی کے ارتقاء وبقا میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ ایک خاندان کے اندر قریبی یا دور کے رشتوں کے جو رابطے ہوتے ہیں ‘ وہ چونکہ فطری روابط ہوتے ہیں اور نہایت ہی حقیقی روابط ہوتے ہیں اور وہ ایسے رابطے ہوتے ہیں ‘ جن کی تخلیق کسی ایک نسل یا سوسائٹی نے نہیں کی ہے ۔ اور نہ ہی ان رابطوں کی تخلیق میں پوری انسانی نسلوں کے اتفاق کا کوئی دخل ہے ۔ اس لئے ان رابطوں کی حقیقت پسندی ‘ ان کی گہرائی انسانی زندگی کے بچاو اس کی ترقی اور اس کی سربلندی میں ان رابطوں کی اہمیت کا کوئی انکار نہیں کرسکتا ۔ اور اگر کوئی ان حقیقی رابطوں کی اہمیت کا انکار کرتا ہے تو ان کلیہ انکار نظر انداز کرنے کا مستحق ہے ۔ اس لئے اسلام نے اپنے کفالتی نظام کی اکائی ایک خاندان کے کفالتی نظام کو قرار دیا ہے ۔ اور اس کفالتی یونٹ کو پھر اپنے اجتماعی اور ملکی کفالتی نظام کا سنگ میل قرار دیا ہے ۔ اسلام نے نظام میراث کو اس خاندانی کفالتی نظام کا ایک مظہر اور علامت قرار دیا ہے ۔ جبکہ اقتصادی اور اجتماعی نظام معیشت وسیاست میں اس کے اور مفید اثرات بھی اپنی جگہ مسلم ہیں ۔ اگر کسی شخص کے تکافل میں یہ پہلا قدم کامیاب نہیں ہوتا اور خاندان کسی شخص کی کفالت میں ناکام ہوجاتے ہے تو پھر مقامی مسلم سوسائٹی سامنے آتی ہے اور وہ اس شخص کی کفالت کرتی ہے ۔ اور اگر محلہ اور مقامی سوسائٹی بھی ناکام رہیں تو اس کے بعد اسلامی حکومت ان تمام لوگوں کی کفالت کی ذمہ دار ہے جو خود اپنا انتظام نہیں کرسکتے ۔ اس انتظام کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ تمام نادار لوگوں کا انتظام کرنا صرف حکومت کے نظم ونسق کے کاندھوں پر یکدم نہیں پڑتا ۔ یہ انتظام اس لئے کیا گیا ہے کہ ایک خاندان اور ایک محدود سوسائٹی کے اندر باہم تکافل کے انتظام کے نتیجے میں افراد معاشرہ کے دلوں میں باہم دگر محبت ‘ لطف وکرم اور رحم اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور ان جذبات کی وجہ سے لوگوں کے درمیان باہم تعاون اور ہمدردی کے فطری فضائل اخلاق پروان چڑھتے ہیں اور یہ بالکل حقیقی ہوتے ہیں ان میں کوئی بناوٹ نہیں ہوتی ۔ اس خاندانی کفالت کے علاوہ بھی رشتہ داروں کی امداد اور ہمدردی کے جذبات رکھنا ایک ایسا انسانی فعل ہے جسے ایک بدفطرت اور گٹھیا درجے کا خبیث شخص ہی نظر انداز کرسکتا ہے ۔ ایک خاندان کے اندر کفالت کرنا تو ایک ایسا فعل ہے جس کے انسانی فطرت اور مزاج پر بہت ہی مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ جو عین فطرت کے مطابق ہوتے ہیں ۔ ایک شخص کا یہ شعور کہ اس کی شخصی جدوجہد اس کے تمام رشتہ داروں کیلئے مفید عمل ہے ۔ خصوصا اس کی اپنی اولاد کیلئے تو اس شعور کی وجہ سے اس کی قوت عمل دو چند ہوجاتی ہے اسی طرح ایک شخص جدوجہد بالواسطہ پورے معاشرے کیلئے مفید ثابت ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ اسلامی نظام حیات میں فرد اور جماعت کے درمیان فاصلے نہیں رکھے جاتے ۔ (1) (تفصیلات کیلئے دیکھئے فصل ” فرد اور معاشرہ “ کتاب الانسان بین المادیتہ والسلام۔ مصنفہ محمد قطب اور مصنف کی کتاب العدالتہ الاجتماعیہ فی اسلام ‘ فصل اجتماعی تکافل اور مالی پالیسی اور میری کتاب ” دراسات اسلامیہ ۔ “ اس لئے کہ فرد کی تمام ملکیت بھی دراصل پورے معاشرے کی ملکیت ہوتی ہے ۔ اگر معاشرے کو اس کی ضرورت پڑے ۔ اس آخری اصول کی روشنی میں اسلامی نظام وراثت پر کئے جانے والے وہ تمام اعتراضات زائل ہوجاتے ہیں ‘ جن میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ نظام ان لوگوں کو بھی وارثت منتقل کردیتا ہے جنہوں نے اس کیلئے کوئی جدوجہد نہیں کی ہوتی ۔ اس لئے کہ یہ وارث درحقیقت موروث منہ کا تسلسل ہوتا ہے اور اگر یہی موروث منہ محتاج ہوتا اور یہ وارث مالدار ہوتا تو اپنے اسلامی اور معاشرتی فرائض کے تحت وہ اس کی کفالت کرتا ، اور ان امور کے بعد یہ قاعدہ اپنی جگہ مسلم ہے کہ یہ دولت جس کے پاس بھی ہو اور جس طرح بھی تقسیم ہو یہ پورے معاشرے کی اجتماعی دولت ہے اور اسے اجتماعی ضروریات کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ (2) (تفصیلات کیلئے دیکھئے فصل ” فرد اور معاشرہ “ کتاب الانسان بین المادیتہ والسلام۔ مصنفہ محمد قطب اور مصنف کی کتاب العدالتہ الاجتماعیہ فی اسلام ‘ فصل اجتماعی تکافل اور مالی پالیسی اور میری کتاب ” دراسات اسلامیہ ۔ “ ان امور کے علاوہ وارث اور مورث کے درمیان جو رابطہ ہوتا ہے خصوصا مورث اور اس کی اولاد کے درمیان وہ صرف مالی رابطہ نہیں ہوتا ۔ اگر ہم وارث اور مورث کے درمیان مالی مفادات کو از روئے قانون کاٹ بھی دیں تو بھی ان کے درمیان جو خونی رشتے موجود ہیں اور جو دوسرے رشتے موجود ہیں وہ کاٹنے سے نہیں کٹتے ۔ آباو اجداد اور دوسرے رشتہ دار اپنے بچوں ‘ پوتوں اور رشتہ داروں کو صرف مالی وراثت ہی منتقل نہیں کرتے ‘ بلکہ وہ اپنی اچھی صلاحیتیں اچھی عادات ‘ بری عادات اور کمزوریاں بھی منتقل کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ اپنے بچوں اور پوتوں کی طرف بعض موروثی بیماریاں بھی منتقل کرتے ہیں اور اگر وہ صحت مند ہیں تو اپنی صحت مندی بھی وارثت میں دیتے ہیں ۔ اسی طرح ایک شخص کے حسن اخلاق وبداخلاقی اس کی اچھائیاں اور برائیاں اور زکاوت اور غبی ہونا بھی وراثتا ‘ منتقل ہوتا ہے ۔ اور یہ تمام صفات وارثوں کی طرف منتقل ہو کر ہمیشہ کیلئے ان کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔ اور ان کے نتائج ان وارثوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ۔ اس لئے انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ مورث کا مال اگر کوئی ہے تو وہ بھی وارثوں کی طرف منتقل ہو ۔ اس لئے کہ اگر ہم کسی شخص کا مال اس کے وارثوں کو نہیں دیتے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم وارثوں کو موروثی بیماریوں ‘ اخلاقی کمزوریوں ‘ بدعملی اور ذہنی اور جسمانی کمزوریوں سے بھی نجات دلائیں اور یہ اس وقت بھی ممکن نہیں جب ہم اپنے پورے وسائل اس کام میں لگا دیں ۔ انسانی زندگی کے ان فطری اور واقعاتی حقائق کی وجہ سے اور ان تمام دوسری حکمتوں کی وجہ سے جو شریعت الہیہ میں پوشیدہ ہوتی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے میراث کی تقسیم کا یہ موجودہ نظام وضع فرمایا ہے ۔ (3) (تفصیلات کیلئے دیکھئے فصل ” فرد اور معاشرہ “ کتاب الانسان بین المادیتہ والسلام۔ مصنفہ محمد قطب اور مصنف کی کتاب العدالتہ الاجتماعیہ فی اسلام ‘ فصل اجتماعی تکافل اور مالی پالیسی اور میری کتاب ” دراسات اسلامیہ ۔ “ فرماتے ہیں ۔
Ayah 4:7

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader

مردوں کیلئے اس مال میں حصہ ہے ‘ جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو ‘ اور عورتوں کیلئے بھی اس مال میں حصہ ہے ‘ جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو ‘ خواہ تھوڑا ہو یا بہت اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے

(آیت) ”۔ للرجال نصیب مما ترک الوالدن والاقربون وللنسآء نصیب مما ترک الوالدن والاقربون مما قل منہ اوکثر نصیبا مفروضا “۔ (7) یہ وہ عام اصول ہے جس کی رو سے اسلام نے آج سے پورے چودہ سو سال قبل عورتوں کو وہ حقوق دیئے جو اس وقت مردوں کو حاصل تھے ۔ یہ فیصلہ اصولی فیصلہ تھا ۔ جس طرح یتیموں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا تھا ‘ جبکہ اس وقت کے معاشرے میں عموما چھوٹوں اور یتیموں کے حقوق مارے جاتے تھے ۔ اور یہ حقوق اس لئے مارے جاتے تھے کہ ایام جاہلیت میں انسانوں کی قدروقیمت کا تعین انسانی لحاظ سے نہیں بلکہ اس کا تعین اس لحاظ سے کیا جاتا تھا کہ پیداواری عمل میں وہ کس قدر کام آتے ہیں اور پھر جنگ میں وہ کس قدر وہ کام آتے ہیں ۔ ان حالات میں اسلام نے ایک ربانی نظام پیش کیا ‘ جس نے سب سے پہلے انسان کو بحیثیت انسان دیکھا ۔ اس لئے کہ انسان کو انسانی حیثیت اس سے کسی حال میں بھی علیحدہ نہیں کی جاسکتی ۔ انسانی حیثیت بنیادی حیثیت ہوتی ہے ۔ اور ایک خاندان کے اندر یا ایک سوسائٹی کے اندر تمام دوسری حیثیات کا لحاظ اس کے بعد آتا ہے ۔ جیسا کہ بعد میں تفصیلات ناظرین کے سامنے آرہی ہیں ‘ اسلام کے قانون میراث میں بعض رشتہ داروں کی موجودگی سے بعض دوسرے وارث محروم ہوجاتے ہیں ۔ وہ رشتہ دار تو ہوتے ہیں لیکن ان کو وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملتا ۔ اس لئے کہ ان کے مقابلے میں زیادہ قریبی رشتہ دار ان سے پہلے ہی حق لے لیتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو محجوب کہتے ہیں ۔ اس لئے یہاں تقسیم میراث کے وقت ایسے لوگوں کیلئے غیر متعین حق رکھا جاتا ہے ۔ جب وہ تقسیم میراث کے وقت موجود بھی ہوں اور مستحق بھی ہوں ۔ یہ حق ایسے لوگوں کی دلجوئی کیلئے رکھا گیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ وہ دیکھیں گے کہ مال تقسیم ہو رہا ہے اور وہ محروم ہیں ۔ اس لئے ان کی دلجوئی مطلوب ہے ۔ نیز اس سے خاندانی رشتے دار اور رابطے بھی مضبوط ہوں گے اور دلی محبت میں اضافہ ہوگا ۔ اسی طرح دوسرے یتیموں ، مسکینوں کے بارے میں بھی یہاں مشورہ دیا جاتا ہے کہ تقسیم کنندگان انہیں بھی کچھ ضرور دیں ۔
Ayah 4:8

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور جب تقسیم کے موقعہ پر کنبہ کے لوگ اور یتیم اور مسکین آئیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دو اور ان کے ساتھ بھلے مانسوں کی سی بات کرو ۔

(آیت) ”۔ واذا حضر القسمة اولوالقربی والیتمی والمسکین فارزقوھم منہ وقولولھم قولا معروفا “۔ (8) اس آیت کے بارے میں علماء سے بہت سے اقوال نقل ہوئے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے ۔ اور اسے آیت میراث نے منسوخ کردیا ہے جس میں تمام لوگوں کے حصص مقرر ہوچکے ہیں ۔ بعض نے اسے منسوخ اور قائم کہا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کا مفہوم اور مدلول پر عمل کرنا فرض اور واجب ہے ۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ اس پر عمل کرنا مستحب ہے ۔ یہ وارثوں کی مرضی ہے کہ وہ اس پر عمل کریں یا نہ کریں ، میرے خیال میں اس کے منسوخ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ بلکہ یہ آیات محکمات میں سے ہیں اور اس پر عمل کرنا واجب ہے ۔ اس لئے کہ ایک تو بظاہریہ مطلق ہے ۔ دوسرے یہ کہ اسلامی نظام حیات میں عام کفالت اور برواحسان کو بہت ہی پسند کیا جاتا ہے ۔ بہرحال یہ ایک مستقل مد ہے اور ان حصص کے علاوہ ہے جو آنے والی آیات کے اندر متعین کردیئے ہیں ۔ اس سے پہلے کہ وارثان کے حصص کا بیان شروع ہو ‘ ایک بار پھر تاکید کی جاتی ہے کہ یتیموں کا مال کھانا بہت ہی خطرناک جرم ہے ‘ یہ دوبارہ تاکید اس لئے کی جاتی ہے کہ اہل ایمان کے دلوں کو ایک دو شدید چٹکیاں بھریں ۔ پہلی چٹکی سے ان کے دل کے اندر پوشیدہ پدری شفقت کو جگانا مطلوب ہے ۔ بچوں کے ساتھ ہر باپ کو فطری محبت ہوتی ہے ۔ خصوصا جبکہ وہ بہت ہی ضعیف اور ناتوانی کی حالت میں ہوں اور یہ کہ خدا خوفی کا جذبہ ہی بہترین محاسب اور نگران ہوتا ہے اور دوسری چٹکی سے ان کے دلوں میں جذبات خوف اور انجام بد کے ڈر کو جگایا جاتا ہے ۔ جہنم کی آگ کا خوف اور یہ یہاں ایک محسوس ‘ مشاہد اور خوفناک انداز میں پیش کیا جاتا ہے ۔
Ayahs 4:9–10

وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader

” لوگوں کو اس بات کا خیال کرکے ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے بےبس اولاد چھوڑتے تو مرتے وقت انہیں اپنے بچوں کے حق میں کیسے کچھ اندیشے لاحق ہوتے ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

پس چاہئے کہ وہ خدا کا خوف کریں ۔ اور راستی کی بات کریں ۔ جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کا مال کھاتے ہیں درحقیقت وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں ۔ اور وہ ضرور جہنم کی بڑھکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے

(آیت) ”۔ ولیخش الذین لو ترکوا من خلفھم ذریة ضعفا خافوا علیھم فلیتقوا اللہ ولیقولوا قولا سدیدا (9) ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونھم نارا ، وسیصلون سعیرا “۔ (01) یہ پہلی چٹکی دل کے پردے کو ٹچ کرتی ہے ۔ ایک حساس محبت سے بھر آنے والے باپ کے دل کو اپنے چھوٹے اور کمزور بچوں کی نسبت سے یہ تصور دیا جاتا ہے کہ ذرا سوچیں تو سہی تمہارے چھوٹے بچے ہوں ‘ ناتوان ہوں اور ان پر کوئی ترس کھانے والا نہ ہو اور نہ کوئی ان کا محافظ ونگران ہو۔ جو ان کے سرپر رحم کا ہاتھ پھیرے ۔ یہی حالت ان یتیموں کی ہے ‘ جن کی تقدیر تمہارے سپرد ہے ۔ انکے باپوں کا سایہ ان کے سروں سے اٹھ چکا ہے ۔ انہیں کیا معلوم ہے کہ کل تم نہ رہو تو خود تمہارے بچے دوسرے زندہ اولیاء کی تولیت میں ہوں جس طرح یہ موجود بچے تمہاری ولایت میں ہیں ۔ اس ٹچ کے بعد انہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ اس تصور کے ساتھ ساتھ ان بچوں کے بارے میں خدا کا خوف ہر وقت دل میں ان کو اور اس کا بدلہ یہ ہوگا کہ کل تمہارے بچوں کا انتظام بھی اللہ ایسے ہی خدا ترس اولیاء کے ذریعے کرانے کا انتظام کرے گا ۔ جو خدا خوفی ‘ احتیاط اور محبت سے یہ ڈیوٹی سرانجام دیں گے ۔ پھر یہ نصیحت بھی کی جاتی ہے کہ وہ ان یتیموں کے بارے میں سیدھی سیدھی بات کریں ۔ یعنی اس تربیت اور نگرانی اور اس کے متاع واموال کی دیکھ بھال کے دوران ۔ اور یہ دوسرا ٹچ کیا ہے ؟ نہایت ہی خوفناک کچھ لوگ ہیں جو دھکتے انگاروں کو اس طرح کھائے جا رہے ہیں جس طرح لقمہ رزق ‘ کیا خوفناک تصویر ہے یہ ’ آخر کار جہنم میں اور پیٹ میں بھی جہنم ‘ یہ دولت جسے وہ کھا رہے ہیں ۔ یتیموں کا مال ‘ گویا وہ آگ کے دھکتے انگارے کھا رہے ہیں ۔ مال کار وہ جہنم رسید ہوں گے ۔ وہ ان کے ان معدوں اور ان کی کھال کو بھسم کر کے رکھ دے گی ۔ ظاہر میں بھی آگ اور باطن میں آگ ، مجسمہ آگ جسے پیٹ اور کھال دونوں محسوس کرتے ہیں ۔ اس تصویر کو آنکھیں دیکھ رہی ہیں اور اس میں پیٹ اور جسم اور کھال سب جل رہے ہیں ۔ قرآن کریم کے اس موثر انداز تعبیر نے صحابہ کرام اور مسلمانوں کے دل و دماغ پر خوب اثر کیا ۔ ان نصوص کے موثر اشارات نے اہل ایمان کے دل و دماغ سے جاہلیت کی میل کچیل دھو کر رکھ دی ۔ ان کے دلوں کو اس قدر جھنجوڑا کہ جاہلیت کے ہر قسم کے گرد و غبار کو جھاڑ کر رکھ دیا ۔ اور اس جگہ ان مومن دلوں کے اندر خدا ترسی ‘ خدا خوفی اور احتیاط واحتساب کے جذبات پیدا کردیئے اور ان کی حالت یہ ہوگی کہ انہوں نے یتیموں کے مال کو اچھوت تصور کیا وہ دیکھ رہے تھے کہ اس مال کے اندر آگ ہے اور یہ تصور ان کے دلوں میں ان آیات پر تاثیرات نے پیدا کردیا تھا ۔ انکی حالت یہ ہوگئی کہ وہ اموال یتامی کو چھونا تک گوارا نہ کرتے تھے ۔ اور ان اموال سے اس طرح دور بھاگتے تھے جسے لومڑی ڈر کے مارے بھاگتی ہے ۔ عطاء ابن سائب کے واسطہ سے سعید ابن جبیر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے ۔ فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما “۔ ” تو جن لوگوں کے پاس یتیم تھے ، انہوں نے ان کھانا پکانا جدا کردیا ۔ ان کا کھانا پینا علیحدہ کردیا گیا ، بعض اوقات ان کے کھانے پینے سے کچھ چیز بچ جاتی تھی تو وہ ان کیلئے چھوڑ دی جاتی تھی کہ یا تو وہ دوسرے وقت کھائیں یا وہ چیز خراب ہوجاتی ۔ یہ معاملہ ان کیلئے تکلیف کا باعث بن گیا اس بات کی شکایت حضور ﷺ کے سامنے ہوئی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” ویسئلونک عن الیتمی ، قل اصلاح لھم خیر ، وان تخالطوھم فاخوانکم ، واللہ یعلم المفسد من المصلح ، ولو شآء اللہ لاعنتکم “۔ ترجمہ : ” پوچھتے ہیں یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟ کہو جس طرز عمل میں ان کیلئے بھلائی ہو ‘ وہی اختیار کرنا بہتر ہے ۔ اگر تم اپنا اور انکا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو ‘ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ آخر وہ تمہارے بھائی بند ہی تو ہیں ۔ برائی کرنے والے اور بھلائی کرنے والے دونوں کا حال اللہ پر روشن ہے ۔ اللہ چاہتا تو اس معاملے میں تم پر سختی کرتا ، “ اس کے بعد صحابہ ؓ اجمعین نے یتیموں کا کھانا اپنے کھانے کے ساتھ شامل کیا اور ان کا پینا اپنے پینے کے ساتھ ۔ یوں قرآنی انداز تربیت نے ان لوگوں کے ایمان وضمیر کو بلند کردیا اور وہ انسانیت کے افق کا روشن ستارہ بن گئے ۔ اور ان کے دل و دماغ کو جاہلیت کی تمام آلودگیوں سے پاک وصاف کردیا اور یہ پاکی اور تطہیر اس معاشرے میں تعجب انگیز تھی ۔ اب بات نظام وراثت تک آپہنچتی ہے ۔ آغاز کلام اس طرح ہوتا ہے کہ اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے اس وصیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت ہی رحیم ‘ بہت ہی بھلائی کرنے والے اور بہت ہی عادل ہیں ۔ اور وہ والدین سے بھی زیادہ رحیم وشفیق ہیں ۔ اور ان انداز خطاب میں یہ اشارہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس پورے نظام کا مرجع ومآل آخر کار اللہ میاں کی ذات مبارک ہے ۔ اور اللہ کی ذات ہی ہے جو ایک والد اور اس کی اولاد کے درمیان بھی فیصلہ کرنے والی ہے ۔ وہ رشتہ داروں کے درمیان بھی حقوق طے کرنے والی ہے اور لوگوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اللہ سے سیکھیں اور اخذ کریں اور اس کے احکام ووصیت کو نافذ کریں ، یہی معنی دین کے ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے آغاز سورت پر کلام کے وقت یہ نکتہ بیان کیا تھا کہ اس سورت کے موضوعات میں سے ایک اہم موضوع اور محور دین کے مفہوم کی وضاحت ہے ۔ چناچہ نظام میراث پر کلام کا آغاز یوں ہوتا ہے ۔
Ayah 4:11

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:11 in the Quran reader

” تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں اللہ ہدایت کرتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہوگا ۔ اگر میت کی وارث دو سے زیادہ لڑکیاں ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے

(آیت) ” یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین “ اور اس فقرے کے بعد پھر تمام وارثوں کے حصص کا بیان ہوتا ہے ۔ اور یہ تقسیم اور تقرری اس عمومی اصول کے تحت ہے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہدایت اور وصیت ہے ۔ اس کی تفصیلات دو طویل آیات میں دی گئی ہیں ۔ پہلی آیت میں اصول اور فروع کے درمیان تقسیم میراث ہے ۔ یعنی آیا اور اولاد کے درمیان ‘ اور دوسری آیت میں ازدواجی رشتہ اور کلالہ کے حصص میراث کا بیان ہے ۔ اور پھر بعض تتمہ احکام اس سورت کے آخر میں کلالہ کے بارے میں آتے ہیں (تفصیلات آرہی ہیں ۔ ) (آیت) ” یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین فان کن نسآء فوق اثنتین فلھن ثلثا ما ترک وان کانت واحدة فلھا النصف ولابویہ لکل واحد منھما السدس مما ترک ان کان لہ ولد ، فان لم یکن لہ ولد وورثہ ابوہ فلامہ الثلث فان کان لہ اخوة فلامہ السدس من بعد وصیة یوصی بھا او دین ابآوکم وابنآوکم لاتدرون ایھم اقرب لکم نفعا فریضة من اللہ ان اللہ کان علیما حکیما (11) ولکم نصف ماترک ازواجکم ان لم یکن لھن ولد فان کان لھن ولد فلکم الربع مما ترکن من بعد وصیة یوصین بھا اودین ، ولھن الربع مما ترکتم ان لم یکن لکم ولد ، فان کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم من بعد وصیة توصون بھا دین ، وان کان رجل یورث کللة اوامراة ولہ اخ او اخت فلکل واحد منھما السدس فان کانوا اکثر من ذلک فھم شرکآء فی الثلث من بعد وصیة یوصی بھا اودین غیر مضآر وصیة من اللہ ، واللہ علیم حلیم “۔ (21) ترجمہ :” تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت اور اللہ دانا وبینا اور نرم خو ہے “۔ یہ دو آیات اور اس سورت کی تیسری آیت میں علم میراث کے اصولی قواعد کو منضبط کیا گیا ہے ، اس سورت کی تیسری آیت یہ ہے ۔ (آیت) ” یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکللة ان امرو¿ا ھلک لیس لہ ولد ولہ اخت فلھا نصف ما ترک وھو یرثھا ان لم یکن لھا ولد فان کانتا اثنتین فلھما الثلثن مما ترک وان کانوا اخوة رجالا ونسآء فللذکر مثل حظ الانثیین ، یبین اللہ لکم ان تضلوا ، واللہ بکل شیء علیم (671) ترجمہ : ” لوگ تم سے کلالہ کے معاملے میں فتوی پوچھتے ہیں ‘ کہو اللہ تمہیں فتوی دیتا ہے ‘ اگر کوئی شخص بےاولاد مر جائے اور اس کی ایک بہن ہو تو وہ اس کے ترکہ میں سے نصف پائے گی اور اگر بہن بےاولاد مر جائے تو بھائی اس کا وارث ہوگا ۔ اگر میت کی وارث دو بہنیں ہوں تو وہ ترکے میں سے دو تہائی کی حقدار ہوں گی اور اگر بھائی اور بہنیں ہوں تو عورتوں کا اکہرا اور مردوں کا دوہرا حصہ ہوگا ۔ اللہ تمہارے لئے احکام کی توضیح کرتا ہے تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ “ ان تین آیات میں علم میراث کے اصولوں کو منضبط کردیا گیا ہے ۔ ان اصولوں کے مزید فروعی مسائل کی وضاحت سنت رسول ﷺ میں اور اقوال صحابہ میں کی گئی ہے ۔ اور اس کے بعد ان اصول و فروع سے فقہائے کرام نے اجتہاد کر کے تفصیلی مسائل بیان کئے ہیں ۔ ان فروعی مسائل کی تفصیلات کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں ہے ۔ تفصیلات کا مطالعہ کتب فقہ میں کیا جاسکتا ہے ۔ یہاں فی ضلال القرآن میں ہم فقط ان آیات کی تشریح کریں گے ۔ نیز ان آیات کے آخر میں جو تعقیبات ہیں اور ان میں اسلامی نظام زندگی کے جو اصولی نظریات بیان ہوئے ہیں ہم انکی تشریح کریں گے ۔ (آیت) ” یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین “۔ ” تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں اللہ وصیت کرتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہوگا ۔ “ اس افتتاحی آیت سے معلوم ہوتا ہے جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں کہ علم میراث کا یہ اصل الاصول ہے ۔ اور یہ کہ اس علم کا منبع کیا ہے ۔ اور یہ کہ یہ علم کس مصدر سے نکلا ہے ۔ اور اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ وادین سے بھی زیادہ رحیم اور شفیق ہے ۔ اور اس نے ان کیلئے جو حصص تجویز کئے ہیں تو یہی ان کے مفاد میں ہیں ۔ اور اس قسم کی تقسیم خود والدین بھی نہیں کرسکتے ۔ یہ دونوں مفہوم ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں اور ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں ۔ اللہ ہی ہے جو وصیت کرتا ہے ۔ وہی حصص مقرر کرتا ہے اور اور وہی لوگوں کے درمیان میراث تقسیم بھی کرتا ہے بعینہ اسی طرح وہ ہر معاملے میں وصیت بھی کرتا ہے ۔ اور فرائض وواجبات بھی مقرر کرتا ہے اور اسی طرح وہ اس کائنات کے اندر مخلوقات کی روزی بھی تقسیم کرتا ہے ۔ اور یہ تمام ضابطے اور شرائع وقوانین بھی اسی کی جانب سے آتے ہیں ۔ یہ اللہ ہی ہے جس سے لوگ ان کے تمام حالات زندگی میں ضابطے اخذ کرتے ہیں ۔ اور ان میں سے ایک حال لوگوں کے درمیان ترکے کی تقسیم بھی ہے ۔ خود ان کی اولاد کے درمیان اور یہی دین اسلام ہے ۔ اور اگر لوگ اپنی زندگی کے تمام حالات میں اللہ تعالیٰ کی وصیت اور ضابطوں کو قبول نہیں کرتے تو یہ دین نہ ہوگا ۔ اور یہ حالت اسلامی حالت نہ ہوگی کہ وہ اپنے امور حیات میں ‘ چاہے وہ بڑے امور ہوں یا چھوٹے امور ہوں ‘ کسی دوسرے ماخذ سے ضابطے اخذ کریں ۔ یہ صورت حال یا شرک ہوگی یا کفر صریح ہوگی ، اور یہ پھر وہی جاہلیت ہوگی جس کی جڑیں عوام الناس کی زندگیوں سے اکھاڑنے کیلئے اس دنیا میں اسلام آیا تھا ۔ یہاں اللہ جس چیز کی وصیت فرما رہے ہیں جسے فرض فرما رہے ہیں اور حکم دے رہے ہیں کہ لوگوں کی زندگیوں میں اس کے مطابق حکم چلے ‘ وہ تمام احکام لوگوں کیلئے نہایت نفع بخش اور مفید ہیں ۔ خصوصا وہ چیزیں جو ان کی مخصوص شخص امور کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں مثلا ان کی دولت کی تقسیم اور اس میں ان کی اولاد کے حصص وغیرہ اور یہ تقسیم ان تقسیمات سے زیادہ مفید ہے جو وہ آپس میں خود کر رہے ہیں ۔ اور جن چیزوں کو وہ اپنی اولاد کیلئے پسند کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ لوگوں کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ یہ کہیں کہ ہم اپنے لئے خود جو چاہیں اختیار کریں گے اور یہ کہ ہم خوب جانتے ہیں کہ ہمارے لئے کیا مفید ہے اور کیا غیر مفید ہے ۔ اس لئے کہ یہ بات علاوہ اس کے کہ فی نفسہ باطل ہے ‘ یہ بےجا جسارت ہے ‘ خود سری ہے اور اللہ جل شانہ کے مقابلے میں زیادہ علم کا دعوی ہے ۔ اور یہ ایک ایسا ” ادعاء “ ہے جو نہایت بےباک اور جاہل شخص ہی کرسکتا ہے ۔ عوفی نے حضرت ابن عباس ؓ سے (آیت) ” یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین “ کے بارے میں ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جب احکام میراث نازل ہوئے اور ان میں اللہ تعالیٰ نے جو حصص مقرر کئے وہ کردیئے ، بیٹے کا حصہ ‘ بیٹی کا حصہ اور والدین کا حصہ تو لوگوں نے اسے بہت ہی برا مانا ۔ یا بعض لوگوں نے اسے ناپسند کیا ۔ ان کا اعتراض یہ تھا کہ عورت کو چہارم اور ہشتم دیا جاتا ہے اور بیٹی کو نصف دیا جاتا ہے ، اور چھوٹے بچے کا حصہ بھی مقرر ہوگیا حالانکہ ان لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو لڑائی کے وقت کام آتا ہو اور کوئی بھی نہیں ہے جو لڑائی کے بعد مال غنیمت ہتھیا سکتا ہو ، ان احکام کے بارے میں بالکل خاموش ہو جاو شاید رسول اللہ ﷺ ان احکام کو بھول جائیں یا ہم ان کے بارے میں آپ ﷺ سے سفارش کریں اور آپ ان میں تبدیلی کردیں ۔ چناچہ انہوں نے کہا : اے رسول خدا ! ﷺ آپ ایک لڑکی کو باپ کے ترکے میں سے نصف دیتے ہیں ‘ حالانکہ وہ گھوڑے پر سوار نہیں ہوتی اور نہ وہ جنگ میں حصہ لیتی ہے ۔ پھر ایک نابالغ بچے کو میراث دی جارہی ہے اور وہ ہمارے لئے کچھ بھی نہیں کرسکتا ۔ اور جاہلیت میں تو وہ اس طرح کرتے تھے کہ وہ میراث صرف ان لوگوں کو دیتے تھے جو جنگ میں حصہ لیتا تھا اور وہ تقسیم میں سب سے بڑے کو اس کے بعد جس کا نمبر ہو اس کو دیتے تھے ۔ (روایت ابن ابی حاتم وابن جریر) غرض عربی جاہلیت کی منطق یہ تھی ‘ اس لئے قانون میراث کے احکامات ان میں سے بعض لوگوں کو کھٹکتے تھے ۔ یہ لوگ اللہ کے فرائض اور اس کی عادلانہ تقسیم کے مقابلے میں آگئے حالانکہ یہ تقسیم نہایت حکیمانہ تھی ۔ اور آج کی جاہلیت جدیدہ کی بھی یہی منطق ہے جو بعض لوگوں کے دل میں خلجان پیدا کرتی ہے ۔ اس لئے یہ منطق بھی اللہ کے فرائض اور تقسیم کے مقابلے میں سامنے آتی ہے ۔ اگرچہ جاہلیت جدیدہ بعض پہلووں سے جاہلیت عربیہ سے مختلف نوعیت رکھتی ہے ۔ آج کی جاہلیت کی منطق یہ ہے کہ ہم ترکہ ان لوگوں کو تقسیم کرکے کیوں دیں جنہوں نے اس ترکے کی کمائی میں کوئی محنت ومشقت نہیں کی ، اور نہ اس میں کوئی تکلیف برداشت کی ۔ اور یہ ذہنیت بھی ایسی ہے ‘ جس نے حکمت الہیہ کو نہیں پایا ۔ نیز یہ منطق بھی دراصل سخت گستاخی اپنے اندر لئے ہوئے اور گستاخی اور جسارت میں جاہلیت قدیمہ اور جدیدہ دونوں برابر ہیں ۔ (آیت) ” للذکر مثل حظ الانثیین “۔ ” مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہوگا ۔ یعنی اگر مرد کی وارث صرف اس کی اولاد ہو بیٹے اور بیٹیاں تو سب ترکہ انہیں ملے گا اور مرد کا حصہ عورتوں کے حصے میں دوگنا ہوگا ۔ یعنی لڑکی کا ایک حصہ اور لڑکے کے دو حصے ۔ یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ ان دونوں کے حصوں میں یہ فرق و امتیاز اس لئے نہیں کیا گیا کہ کسی صنف کو دوسرے پر فضیلت ہے بلکہ حصص کا یہ فرق اس لئے روا رکھا گیا ہے کہ اسلامی نظام نے عائلی زندگی میں مرد اور عورت پر جو ڈیوٹیاں رکھی ہیں یہ فرق حصص ان کے مطابق نہایت ہی متوازن اور عادلانہ ہے ۔ عائلی زندگی سے آگے اسلامی معاشرے کے اجتماعی امور میں بھی عورت کے مقابلے میں مرد پر زیادہ فرائض عائد کئے گئے ہیں ۔ ایک مرد عورت کے ساتھ نکاح کرتا ہے اور وہ اس کا نفقہ بھی دیتا ہے ۔ اس کی اولاد کا نفقہ بھی دیتا ہے ۔ اور یہ ذمہ داریاں اس وقت بھی اس کے ساتھ لگی ہوئی ہوتی ہیں ۔ جب یہ مرد اس عورت کو طلاق بھی دے دیتا ہے ۔ رہی عورت تو وہ یا تو خود اپنی ضروریات کی ذمہ دار ہوتی اور یا یہ صورت ہوتی ہے کہ شادی سے پہلے بھی اور شادی کے بعد بھی اس کے نفقے کا ذمہ دار مرد ہی ہوتا ہے ۔ اور وہ خاوند اور اپنی اولاد کے نفقات کی کسی صورت میں بھی ذمہ دار نہیں ہوتی ۔ اب صورت یہ ہے کہ مرد عورت کے مقابلے میں خاندان کی ضروریات کے دو حصے کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔ اسی طرح اجتماعی معاملات میں بھی مرد کی ذمہ داریاں عورت کے مقابلے میں دو گنا ہیں ۔ اس لئے اللہ کے مقرر کردہ یہ حصص ایک طرف عادلانہ بھی ہیں اور دوسری جانب بمصداق حصہ بقدر جسہ یہ تقسیم منصفانہ بن جاتی ہے ۔ اور اس تقسیم پر ہر اعتراض یا تو جہالت پر مبنی ہے اور یا یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بےجا جسارت اور گستاخی کی وجہ سے وارد کیا گیا ہے ، نیز اس سے مقصد یہ ہے کہ اسلام کے اجتماعی اور خاندانی نظام کی بنیادوں کو اکھیڑ دیا جائے اور پرسکون زندگی کے اندر افراتفری پیدا کردی جائے ۔ تقسیم کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ باپ دادا کی میراث اولاد پر کس طرح تقسیم ہوگی فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” فان کن نسآء فوق اثنتین فلھن ثلثا ما ترک وان کانت واحدة فلھا النصف “۔ ترجمہ : ” اگر میت کی وارث دو سے زیادہ لڑکیاں ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے ۔ “ یعنی اگر صرف دو یا دو سے زیادہ لڑکیاں ہوں اور لڑکے نہ ہوں تو انہیں دو تہائی دیا جائے گا ۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو اور لڑکا نہ ہو تو پھر نصف اس کا ہوگا بقایا عصبات کو ملے گا ۔ قریب ترین عصبہ کو ۔ عصبات یہ لوگ ہیں باپ ‘ دادا ‘ بھائی حقیقی باپ شریک بھائی ‘ چچا اور پھر باپ داد کی اولاد ‘ اس آیت کی عبارت یہ ہے کہ ” اگر وارث دو سے زیادہ لڑکیاں ہوں تو ان کے دو تہائی ہے ۔ “ سوال یہ ہے کہ اگر دو ہوں تو ان کیلئے حکم کیا ہے ۔ ان کا حصہ بھی دو تہائی ہے ‘ جو حدیث سے ثابت ہے ۔ نیز وہ ان دو بہنوں کے حصے پر قیاس کر کے بھی ثابت ہوتا جس کا ذکر اس سورت کی آخری آیت میں مسئلہ کلالہ میں ذکر ہوا ۔ ابو داود ‘ ترمذی اور ابن ماجہ نے عبداللہ ابن محمد ابن عقیل کی روایت حضرت جابر سے نقل کی ہے ۔ کہتے ہیں حضور ﷺ کے پاس سعد ابن ربیع کی بیوی آئی اور عرض کیا حضور ﷺ یہ سعد ابن ربیع کی دو لڑکیاں ہیں ۔ وہ آپ کے ساتھ احد میں شہید ہوگئے ہیں ۔ ان کے چچا نے سب مال لے لیا ہے ‘ اگر ان کے پاس مال نہ ہوگا تو ان کے ساتھ شادی کون کرے گا ؟ آپ نے فرمایا ” اللہ اس کے بارے میں ضرور کوئی فیصلہ کرے گا ۔ “ اس موقعہ پر آیت میراث نازل ہوئی ۔ حضور ﷺ نے ان کے چچا کو بلا بھیجا اور حکم دیا سعد کی دو بیٹیوں کو دو تہائی دیدو اور بیوی کو آٹھواں دیدو اور باقی تمہارا ہے ۔ یہ خود حضور ﷺ کی تقسیم ہے ۔ آپ ﷺ نے دو لڑکیوں کو دو تہائی دیا ۔ اس لئے اگر دو یا دو سے زیادہ لڑکیاں ہوں تو ان کو دو ثلث ملیں گے ۔ رہا سورت کی آخری آیت پر قیاس تو اس میں بہنوں کے بارے میں ہے ۔ (آیت) ” فان کانتا اثنتین فلھما الثلثن مما ترک “ ترجمہ ” اور اگر وہ بہنیں دو ہیں تو انہیں ترکے میں سے دو تہائی ملے گا ۔ “ لہذا کسی باپ کی اگر دو لڑکیاں ہو تو انہیں بطریق اولی دو تہائی ملے گا ۔ دو بہنوں پر قیاس کرتے ہوئے ۔ اس لئے کہ اگر ایک لڑکی ہے تو بھی نصف حصہ ہے ۔ اور اگر ایک بہن (کلالہ میں) تو بھی نصف حصہ ہے ۔ اور دو لڑکیوں کا حصہ بھی وہی ہوگا جو دو بہنوں کا ہوگا ۔ اولاد کے حصہ کے بیان کے بعد اب والدین کے حصص کا ذکر شروع ہوتا ہے ۔ بشرطیکہ وہ موجود ہوں ۔ یہ حصص اولاد میت کی موجودگی اور عدم موجودگی کی صورت میں مختلف ہیں ۔ ” اگر میت صاحب اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہئے اور اگر وہ صاحب اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو مال کا تیسرا حصہ دیا جائے گا ۔ “ میراث میں والدین کے حالات متعدد ہوتے ہیں پہلا حال یہ ہوتا ہے کہ والدین بھی ہوں اور میت کی اولاد بھی ہو۔ اس صورت میں دونوں کو چھٹا چھٹا حصہ ملے گا ۔ بقیہ میت کے لڑکے یا لڑکے لڑکیوں میں حسب حصص تقسیم ہوگا ۔ مرد کا حصہ عورت کے مقابلے میں دو گنا ہوگا ۔ اب اگر میت کی اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو اسے بقیہ کا نصف ملے گا اور والدین میں سے ہر ایک کو چھٹا ملے گا ۔ اب بقیہ (61) والد کو بطور عصبہ مل جائے گا اس صورت میں اولاد بطور ذوالفروض بھی حصہ پائے گا اور بطور عصبہ بھی حصہ پائے گا ۔ ہاں اگر میت کی دو یا دو سے زیادہ لڑکیاں ہوں تو وہ تو انہیں دو ثلث اور والدین میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ میت کی اولاد ‘ بھائی بہن اور خاوند بیوی نہ ہوں ‘ اس صورت میں والدہ بطور ذوالفروض ثلث کی حقدار ہوگی اور باقی سب والد کو بطور عصبہ ملے گا ۔ اس صورت میں والد کا حصہ والدہ سے دو گناہ ہوجائے گا ۔ اب اگر والدین کے علاوہ خاوند بھی ہو یا بیوی بھی ہو ‘ تو خاوند کا نصف ہوگا ‘ اور اگر بیوی ہو تو اس کا چہارم ہوگا اور والدہ کا ثلث ہوگا ۔ (یا تو تمام ترکہ کا ثلث ہوگا یا بقیہ ترکہ یعنی خاوند یا بیوی کا حصہ نکال کر بقیہ کا ثلث ہوگا ‘ جیسا کہ فقہا کے دو اقوال ہیں) اور ماں کے بعد جو بچے گا وہ والد کا ہوگا بطور عصبہ بشرطیکہ کہ والد کا حصہ والدہ سے کم نہ ہوگا ۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ ماں باپ اور میت کے بھائی بہنوں کے ساتھ پائے جائیں ۔ یہ بھائی ماں اور باپ دونوں میں شریک ہوں یا باپ میں شریک یا صرف ماں میں شریک ہوں ۔ اس صورت میں باپ کی موجودگی میں ان بھائیوں کو کچھ نہ ملے گا اور یہ محروم ہوں گے ۔ اس لئے کہ لڑکے کے بعد میت کیلئے والد قریب ترعصبہ ہیں اور قریب کی موجودگی میں دور کو نہیں ملتا ۔ لیکن محروم ہونے کے باوجود یہ بھائی میت کی ماں پر اثر انداز ہوں گے اور اس کا حصہ ثلث سے چھٹے تک گھٹ جائے گا ۔ اس صورت میں والدہ کو چھٹا حصہ ملے گا ۔ اور بقیہ سب کچھ والد کو ملے گا ‘ بشرطیکہ کہ میت کا خاوند یا بیوی نہ ہوں ۔ ہاں اگر بھائی فقط ایک ہو تو والدہ کا حصہ ثلث ہی رہے گا ‘ جس طرح اس صورت میں تھا جس میں میت کی اولاد اور بھائی نہ ہوں ۔ لیکن والدین کے یہ حصص قرضے کی ادائیگی اور وصیت پورا کرنے کے بعد ہوں گے ۔ (آیت) ” من بعد وصیة یوصی بھا او دین “۔ ترجمہ : ” یہ سب حصے اس وقت نکالے جائیں گے جبکہ وصیت جو میت نے کی ہو پوری کردی جائے اور جو قرض اس پر ہو ادا کردیا جائے ۔ “ علامہ ابن کثیر نے لکھا ہے ۔ ” علمائے جدید وقدیم نے اس بات پر اجماع کرلیا ہے کہ قرضہ وصیت پر مقدم ہے ۔ ” اور وصیت پر قرضے کو مقدم کرنے کی حکمت بہرحال واضح ہے ۔ اس لئے کہ قرضے میں ایک تیسرے شخص کے حقوق کا سوال ہوتا ہے ‘ اس لئے کہ میت کے مال میں سے اس کی ادائیگی لازمی ہے ‘ کیونکہ خود اس نے قرضہ لیا ہوتا ہے ۔ بشرطیکہ میت کا مال موجود ہو ‘ یہ اس لئے کہ شریعت نے میت کو قرضے کی ذمہ داریوں سے بری الذمہ کرنے کی بہت تاکید کی ہے تاکہ معاشرے کی اجتماعی زندگی میں باہم اعتماد بحال رہے اور سوسائٹی کے اندر باہم اعتماد کی فضا باقی رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک شخص کی وفات کے بعد بھی شریعت اس کے ذمہ واجب الادا قرضوں کو موقوف نہیں کردیتی ۔ حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے ‘ وہ فرماتے ہیں ایک شخص نے کہا : ” حضور بتائیے اگر میں مارا گیا تو میرے سب گناہ معام ہوں گے “ تو حضور ﷺ نے فرمایا : ” ہاں اگر آپ قتل ہوجائیں ‘ جبکہ آپ مشکلات پر صبر کر رہے ہوں ۔ آپ کی نیت ٹھیک ہو اور آپ آگے بڑھ رہے ہوں ‘ بھاگ نہ رہے ہوں ۔ “ اسکے بعد اس شخص نے دو بار پوچھا ‘ آپ ﷺ نے کیا فرمایا تو حضور ﷺ نے دوبارہ اسی بات کو دہرایا اور مزید یہ فرمایا ‘ ” ماسوائے قرضے کے جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے اس کی اطلاع دی ہے “ (روایت مسلم ‘ مالک ‘ ترمذی اور نسائی) ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے ۔ حضور کے پاس ایک شخص کو لایا گیا ‘ آپ ﷺ نے فرمایا ” اس کا جنازہ تم لوگ پڑھو ‘ اس پر تو قرضہ واجب ہے ۔ “ میں نے اس پر کہا ’ ” حضور ﷺ یہ قرضہ مجھ پر ہوا ۔ “ تو حضور ﷺ نے فرمایا پورا کرو گے ۔ “ میں نے عرض کیا ” میں پورا کروں گا ۔ “ اور وصیت کا پورا کرنا اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ میت کا ارادہ اس کے ساتھ متعلق ہوگیا ہے ۔ وصیت کی گنجائش شریعت نے اس لئے رکھی ہے کہ بعض حالات میں بعض رشتہ دار محروم ہوجاتے ہیں ۔ اور یہ محرومی بعض دوسرے رشتہ داروں کی موجودگی کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ بعض اوقات یہ محروم لوگ معذور اور مستحق ہوتے ہیں یا ان کو کچھ نہ کچھ دینے میں پورے خاندان کی مصلحت ہوتی ہے اور بعض اوقات اس کی وجہ سے حسد ‘ کینہ اور خاندان کے اندر نزاع پیدا ہونے سے رک جاتے ہیں ۔ البتہ یہ اصول مسلم ہے کہ کسی وارث کے حق میں وصیت معتبر نہیں ہے ۔ اور وصیت محدود بھی ترکہ کی ایک تہائی تک ہے ۔ ان دو باتوں کی وجہ سے میت بھی کسی وارث کو محروم نہیں کرسکتا ۔ (آیت) ” ابآوکم وابنآوکم لا تدرون ایھم اقرب لکم نفعا ، فریضة من اللہ ان اللہ کان علیما حکیما “۔ ترجمہ : ” تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے ۔ یہ حصے اللہ نے مقرر کردیئے ہیں اور اللہ یقینا سب حقیقتوں سے واقف ہے ‘ ساری مصلحتوں کو جاننے والا ہے ۔ اس آیت کے آخر میں مختلف المقاصد ٹچ دیئے گئے ہیں پہلا ٹچ اس مقصد کیلئے ہے جسے محسوس کرکے قرآن کریم کی جانب سے ‘ حصص کے اس الاٹمنٹ سے خوش ہوجائیں اور اسے بطیب خاطر قبول کرلیں ‘ ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ محبت کے جذبے سے مغلوب ہو کر باپ کے مقابلے میں اولاد کو ترجیح دیں ، کیونکہ بچوں کی طرف ہر انسان کا فطری رجحان زیادہ ہوتا ہے ۔ اور بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا اپنے والدین کی نسبت اخلاقی اور آداب کا شعور زیادہ پختہ ہوتا اور وہ اولاد کے مقابلے میں والدین کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں ۔ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو والدین کے پاس ادب اور بچوں کی طرف فطری میلان کے درمیان فیصلہ نہیں کر پاتے ۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک خاندان رسم و رواج کی ذہنیت کی وجہ سے ایک متعین لائن اختیار کرلیتا ہے ‘ جس طرح نزول قرآن کے وقت مروج قانون میراث میں صرف خاندانی ذہنیت اس وقت کے رسم و رواج کے تحت کام کر رہی تھی ۔ اس سے پہلے ہم عربوں کے بعض رواجوں کا تذکرہ کرچکے ہیں ۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے مناسب سمجھا کہ اہل ایمان کے دلوں کو تسلیم ورضا اور امن و سکون سے بھر دیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ان احکامات کو خوشی خوشی قبول کرتے چلے جائیں ۔ اللہ انہیں یہ شعور دیتے ہیں کہ ہر چیز کا مکمل علم اللہ کی ذات ہی کے پاس ہے ۔ اور یہ کہ انہیں بات کا پورا علم نہیں ہے کہ اقرباء میں سے کون ان کیلئے زیادہ مفید ہے اور کون کم ‘ نہ انہیں اس بات کا علم ہے کہ کونسی تقسیم زیادہ مفید ہے ۔ (آیت) ” ابآوکم وابنآوکم لاتدرون ایھم اقرب لکم نفعا “ ترجمہ : ” تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے ۔ “ دوسرا ٹچ جو اس مضمون کو دیا گیا وہ یہ ہے کہ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کون تمہارے لئے مفید اور کون مفید تر ہے ۔ اصل مسئلہ دین ‘ نظام قانون اور شریعت کا ہے اور یہ جو حصص مقرر ہو رہے ہیں یہ (آیت) ” فریضة من اللہ “۔ ” یہ حصص تو اللہ نے مقرر کردیئے ہیں ۔ ’ اللہ وہ ذات ہے جس نے ماں باپ کو بھی پیدا کیا اور اولاد کو بھی پیدا کیا ۔ وہی ہے جو مال و دولت دینے والا ہے ۔ وہ فرائض وحصص عائد کرنیوالا ہے اور وہی تقسیم کنندہ ہے ۔ اور وہی ہے جسے قانون بنانے کا حق ہے انسان کو تو یہ اختیار ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے لئے کوئی قانون بنائیں نہ وہ اس میں آزاد ہیں کہ وہ اپنی خواہشات کے مطابق نظام حکومت تجویز کریں ‘ اس لئے کہ وہ نہیں جانتے کہ کس میں ان کی مصلحت ہے یہ تو صرف وہی ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ کان علیما حکیما “۔ ترجمہ : ” جو سب حقیقتوں سے واقف ہے ۔ یہ تیسری ٹچ ہے جو اس تبصرے کے اندر دی گئی ہے ، کہ باوجود اس امر کے یہ قانون ایک خدائی فیصلہ ہے اور ہر حال میں بھی ان کیلئے واجب الاطاعت ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ گہری حکمت اور وسیع تر مصلحت پر بھی مبنی ہے ۔ اور اللہ نے یہ حکم اپنے وسیع علم کی بنا پر دیا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں انسان کا علم محدود ہے ۔ اس میں اس کی گہری حکمت کار فرما ہے جبکہ انسان محض خواہش نفس کے پیرو ہوا کرتے ہیں ۔ اس قانون سازی کے اندر بار بار تبصرہ ہوتا ہے کہ معاملے کو اپنی اصل مدار کی طرف لوٹانا چاہئے اور اس کی اصل مدار نظریاتی ہے ۔ اور یہ نظریاتی اساس دین کے اس مفہوم پر مبنی ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اپنے تمام فیصلے اللہ سے کرائے جائیں اور اس کی حکمت پر راضی ہو کر فرائض اسی سے اخذ کئے جائیں ۔ ” یہ حصے اللہ نے مقرر کردیئے ہیں اور اللہ یقینا سب حقیقتوں سے واقف ہے اور سب مصلحتوں کا جاننے والا ہے ۔ “
Ayah 4:12

وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ Open ayah 4:12 in the Quran reader

اور تمہاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑا ہو اس کا آدھا حصہ تمہیں ملے گا اگر وہ بےاولاد ہوں ‘ ورنہ اولاد ہونے کی صورت میں ترکہ کا ایک چوتھائی حصہ تمہارا ہے جبکہ وصیت جو انہوں نے کی ہو پوری کردی جائے اور قرض جو انہوں نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے ۔ اور وہ تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی کی حقدار ہوں گی ۔ اگر تم بےاولاد ہو ‘ ورنہ صاحب اولاد ہونے کی صورت میں ان کا حصہ آٹھواں ہوگا ۔ بعد اس کے کہ جو وصیت تم نے کی ہو وہ پوری کردی جائے اور جو قرض تم نے چھوڑا ہو وہ ادا کردیا جائے ۔ ” اور اگر وہ مرد یا عورت جس کی میراث تقسیم ہو رہی ہے کلالہ ہو (بےاولاد بھی ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں) مگر اس کا ایک بھائی یا بہن موجود ہو تو بھائی بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا ۔ اور اگر بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو تو کل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے ۔ جب کہ وصیت جو کی گئی ہو پوری کردی جائے اور قرض جو میت نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے بشرطیکہ وہ ضرر رساں نہ ہو ۔ یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ دانا وبینا اور نرم خو ہے

اس کے بعد باقی حصص یوں متعین ہوتے ہیں ۔ (آیت) ” ولکم نصف ماترک ازواجکم ان لم یکن لھن ولد فان کان لھن ولد فلکم الربع مما ترکن من بعد وصیة یوصین بھا اودین ولھن الربع مما ترکتم ان لم یکن کم ولد فان کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم من بعد وصیة توصون بھا اودین “۔ ترجمہ : ” اگر خاوند بلا اولاد مر جائے تو بیوی کا حصہ چوتھائی ہے ‘ اگر اولاد ہو ‘ لڑکے یا لڑکیاں ایک یا متعدد ‘ اس عورت سے ہو یا کسی اور عورت سے ‘ یا حقیقی بیٹے کے لڑکے ہوں تو ان صورتوں میں بیوی کا حصہ چوتھائی سے آٹھواں ہوجائے گا ۔ قرض کی ادائیگی اور وصیت بہرحال پہلے ہوگی ۔ نیز دو بیویاں ‘ تین بیویاں اور چار بیویاں ایک ہی بیوی شمار ہوں گی ۔ وہ سب کی سب چہارم یا ہشتم میں شریک ہوں گی اور اب حکم میراث کے سلسلے میں آخری حکم ہے جو مسئلہ کلالہ کے نام سے مشہور ہے ۔ (آیت) ” وان کان رجل یورث کللة اوامراة ولہ اخ اواخت فلکل واحد منھما السدس ، فان کانوا اکثر من ذلک فھم شرکآء فی الثلث من بعد وصیة یوصی بھا اودین غیر مضآر “۔ کلالہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص اپنے جوانب سے میراث کا حقدار ہو ‘ حقدار کا سبب اصول میں سے ہونا یا فروع میں سے ہونا نہ ہو ‘ یعنی تعلق ضعیف ہو ‘ اس قدر قوی نہ ہو جس طرح اصول و فروع کا تعلق قوی ہوتا ہے ۔ کسی نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کلالہ کے بارے میں سوال کیا تھا تو انہوں نے فرمایا :” میں اس سلسلے میں بات اپنی رائے کے مطابق کروں گا ‘ اگر یہ رائے درست ہو تو اللہ کی جانب سے ہوئی اور اگر غلط ہو تو شیطان کا القاء ہوگا ۔ اور اللہ اور رسول اللہ ﷺ اس کے ذمہ دار نہ ہوں گے ۔ کلالہ وہ ہے جس کی نہ اولاد ہو اور نہ والدین ہوں ۔ “ جو حضرت ابوبکر ؓ کے بعد حضرت عمر ؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے شرم آتی ہے کہ میں حضرت ابوبکر ؓ کی رائے کی مخالفت کروں “۔ (اس روایت کو ابن جریر نے شعبی سے نقل کیا ہے) علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں ” حضرت علی ؓ ‘ ابن مسعود ؓ ‘ ابن عباس ؓ ’ زید بن ثابت ؓ ‘ سے منقول ہے ۔ شعبی ‘ نخعی ، حسن ؓ ‘ قتادہ ؓ ‘ جابر ؓ ‘ ابن زید ؓ ‘ اور حکم کی رائے بھی یہی ہے ۔ اہل مدینہ ‘ اہل کوفہ اہل بصرہ کی بھی یہی رائے ہے ۔ فقہائے سبعہ کی رائے بھی یہی ہے ۔ ائمہ اربعہ کی رائے بھی یہی ہے ۔ اور متقدمین ومتاخرین سب کا اس پر اتفاق ہے بلکہ بہت سے لوگوں سے منقول ہے کہ اس پر اجماع منعقد ہوگیا ہے ۔ “ (آیت) ” وان کان رجل یورث کللة اوامراة ولہ اخ اواخت فلکل واحد منھما السدس فان کانوا اکثر من ذلک فھم شرکاء فی الثلث “۔ ترجمہ : ” اور اگر وہ مرد یا عورت جس کی میراث تقسیم طلب ہے کلالہ ہو (بےاولاد ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں) مگر اس کا ایک بھائی یا بہن موجود ہو تو بھائی بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا ۔ اور اگر بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو تو کل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے ۔ یہاں ” اس کا ایک بھائی اور ایک بہن “ سے مراد وہ بھائی اور بہن ہیں جو میت کے ساتھ صرف ماں کی جانب سے رشتہ رکھتے ہوں یعنی اخیافی بہن بھائی ۔ اگر حقیقی بہن بھائی ہوں یا یہ بہن بھائی صرف والد کی جانب سے ہوں تو ان کی وارثت اس سورت کی آخری آیت کے مطابق ہوگی اور اس میں بھائیوں کا حصہ بہن کے مقابلے میں دوگنا ہوگا اور اس آیت کی طرح نہ ہوگا کہ ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا چاہے مرد ہو یا عورت تو یہ حکم گویا اخیافی بہن بھائیوں کیلئے ہوگا ۔ اس لئے کہ اخیافی بہن بھائی صرف بحیثیت ذوالفروض (Sharer) یعنی ہر ایک کیلئے چھٹا حصہ میراث پاتے ہیں ‘ بطور عصبہ ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ ذوالعصبات وہ ہوتے ہیں جو تمام ترکہ یا وہ جو ذوالفروض (Sharer) سے بچ جائے کو بطور (Rosiduc) پاتے ہیں ۔ (آیت) ” وان کانوا اکثر من ذلک فھم شرکآء فی الثلث ترجمہ : ” اور بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کل ترکہ میں سے ایک تہائی میں شریک ہوں گے ۔ “ چاہے ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ ہو ۔ اور معمول بہ قول یہی ہے کہ وہ بحیثیت شریک مساوی مساوی حصہ پائیں گے ۔ اگرچہ فقہاء میں سے بعض کا یہ قول بھی ہے کہ اس صورت میں وہ مساوی طور پر تقسیم نہ کریں گے بلکہ وہ عام اصول ” ایک مرد دو عورتوں کے برابر حصہ پائے گا ۔ “ کے مطابق تقسیم کریں گے ۔ لیکن پہلا معمول بہ قول ہی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ ایک بہن اور بھائی کی صورت میں اس آیت نے جو چھٹا حصہ ہر ایک کیلئے مقرر کیا ہے دوسرا قول اس کے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔ اخیافی بھائی جو میت کے ساتھ صرف کے رشتے میں شریک ہوں ‘ دوسرے ورثاء کے مقابلے میں کچھ امتیازی حیثیت رکھتے ہیں ۔ (1) پہلی خصوصیت یہ ہے میراث میں ان کے مراد اور عورتوں کا حصہ برابر ہوتا ہے ۔ (2) انکو صرف اس صورت میں میراث ملتی ہے جب میت کلالہ ہو ‘ اس لئے اگر میت کا والد ‘ دادا ‘ لڑکا اور پوتا موجود ہو تو انہیں میراث میں سے کچھ بھی نہیں ملتا ۔ (3) یہ کہ ان کے حقوق ثلث سے زیادہ نہیں ہوتے اگرچہ انکی تعداد بہت بڑھ جائے ۔ (آیت) ” من بعد وصیة یوصی بھا اودین غیر مضار “۔ ” جبکہ وصیت جو کی گئی ہو پوری کردی جائے اور قرض جو میت نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے بشرطیکہ وہ ضرر رساں نہ ہو ۔ “ اس آیت کے ذریعہ متنبہ کیا گیا ہے کہ وصیت اس لئے نہ کی جائے کہ ورثاء کو نقصان پہنچ جائے ۔ بلکہ انصاف اور مصلحت کے مطابق وصیت ہونا چاہئے ۔ اور وصیت سے بھی پہلے قرض ادا ہو اور تقسیم وراثت سے پہلے بہرحال دونوں طے ہوں ‘ یعنی وصیت اور قرضہ ۔ اب دوسری آیت کے آخر میں بھی وہی اختتامیہ آتا ہے جو پہل آیت کے آخر میں آیا تھا ۔ (آیت) ” وصیة من اللہ ، واللہ علیم حلیم (21) اختتامیہ کا یہ مضمون مکرر اس لئے لایا گیا ہے کہ نظام میراث کے بارے میں تاکید مزید مطلوب ہے ۔ اور احکام میراث کیلئے لفظ وصیت استعمال کیا گیا ہے ۔ اور یہ وصیت اللہ کی جانب سے ہے اور اس کا حساب و کتاب بھی اسی کے سامنے ہوگا ۔ نہ یہ وصیت کسی خواہش نفس کے مطابق ہے اور نہ ہی کسی کی خواہشات نفسانیہ کی پیروی میں ہے ۔ یہ حقیقی علم وآگاہی پر مبنی ہے ۔ اس لئے اس قانون میراث کی اطاعت فرض ہے ۔ کیونکہ اس کا ماخذ وہ ذات ہے جسے حق ہے کہ وہ انسانوں کیلئے قانون سازی اور ضابطہ بندی کرے ۔ اور اس کا نظام اور ضابطے کو انسانوں کی جانب سے قبول کرنا بھی لازمی ہے کیونکہ یہ علیم اور حلیم کی جانب سے ہے ۔ حکیمانہ ہے اور مشفقانہ ہے۔ اسلامی نظریہ حیات کا اصول اساسی یہ ہے کہ اس میں تمام قوانین کا ماخذ ذات باری ہے ۔ اس لئے اس پوری قانون سازی کے عمل کے دوران میں اس حقیقت کی بار بار تاکید کی جار رہی ہے ۔ اگر اس اصولی قاعدے کو تسلیم نہ کیا گیا تو یہ کفر نافرمانی اور دین سے خروج کے مترادف ہوگا آنے والی دونوں آیات اس بارے میں فیصلہ کردیتی ہیں ۔ اور یہ دونوں آیات اس سورت میں دیئے جانے والے پورے نظام میراث کے بارے میں زور دار اختتامیہ ہیں ۔ ان میں بتایا جاتا ہے کہ نظام میراث درحقیقت حدود الہیہ کے زمرے میں آتا ہے ۔