Ayahs 4:88–89(آیت) ” نمبر 88 تا 89۔
یہ لوگ کون تھے ان کے بارے میں کئی روایات آتی ہیں جن میں سے دو روایتیں اہم ہیں ۔
امام احمد (رح) نے بہز ‘ شعبہ ‘ عدی ابن ثابت ‘ عبداللہ ابن زید ؓ کی سند سے زید ابن ثابت ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ احد کی طرف نکلے ‘ کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ نکلے تھے وہ واپس ہوگئے ‘ ان کے بارے میں حضور ﷺ کے ساتھی دو گروہوں میں بٹ گئے تھے ۔ ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ ان لوگوں کو قتل کردیا جانا چاہئے اور ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ قتل تو جائز نہیں ہے ‘ اس لئے کہ وہ مومن ہیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
(آیت) ” فمالکم فی المنفقین فئتین “۔ (4 : 88) اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : ” یہ پاک ہے اور یہ ناپاک لوگوں کو اس طرح نکال پھینکے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کو نکال دیتی ہے ۔ (صحیحین نے اسے شعبہ سے روایت کیا ہے) ۔
عوفی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بظاہر مسلمان ہوگئے تھے اور مکہ میں مشرکین کی امداد بھی کرتے تھے ۔ یہ لوگ مکہ سے اپنی کسی ضرورت کے لئے نکلے ۔ وہ دل میں کہہ رہے تھے کہ اگر ہمیں حضرت محمد ﷺ کے ساتھی مل گئے تو ہمیں ان کا کوئی ڈر نہ ہوگا ‘ جب مسلمانوں کو اس بات کی اطلاع ہوئی کہ یہ لوگ سفر پر ہیں تو مسلمانوں کے ایک گروہ نے یہ کہا کہ نکلو اور ان بزدلوں کو قتل کر دو اس لئے کہ یہ لوگ ہمارے دشمن مشرکین کی امداد کرتے ہیں ۔ لیکن مسلمانوں کے ایک دوسرے گروہ نے کہا : سبحان اللہ “ (یا جس طرح انہوں نے کہا) کیا تم ایسے گروہ کو قتل کرتے ہو کہ انہوں نے وہ الفاظ ادا کئے جو تم نے ادا کئے ہیں ؟ محض اس لئجے کہ انہوں نے ہجرت نہیں کی اور اپنے وطن کو نہیں چھوڑا ہم ان کی جان ومال کو حلال کرلیں ۔ اس طرح اس مسئلے پر مسلمانوں کے دو فریق بن گئے ۔ حضور ﷺ موجود تھے ۔ آپ نے دونوں میں سے کسی کی رائے کی تردید نہ کی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” فمالکم فی المنفقین فئتین “۔ (4 : 88) (روایت ابن ابو حاتم) اب سلمہ ‘ عکرمہ ‘ مجاہد اور ضحاک ؓ اجمعین وغیرہ سے ایسی ہی روایات منقول ہیں ۔
اگرچہ سند اور روایت کے اعتبار سے پہلی روایت زیادہ قوی ہے ‘ لیکن ہم دوسری روایت کے مضمون کو ترجیح دیتے ہیں اس لئے کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ منافقین مدینہ کے خلاف کسی وقت بھی قتال کا حکم صادر نہیں ہوا ۔ رسول اللہ ﷺ نے نہ ان کے ساتھ جنگ کی ہے اور نہ انہیں قتل فرمایا ہے ۔ ان کے ساتھ معاملہ کرنے کا ایک دوسرا منصوبہ تھا ۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ ان کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کی جائے اور خود مدینہ کی اسلامی سوسائٹی کو یہ موقعہ دیا جائے کہ وہ ان کو اگل کر رکھ دے ۔ حضور ﷺ جو کچھ کر رہے تھے وہ یہ تھا کہ مدینہ کے اردگرد منافقین کے جو رابطے تھے انہیں کاٹ دیں ۔ مثلا یہودی جو ان منافقین کو ورغلاتے تھے اور ان کے حامی تھے ان کو مدینہ اور پھر پورے جزیرۃ العرب سے جلا وطن کردیا جائے ۔ رہی آیت زیر بحث تو اس میں تو حکم دیا جارہا ہے کہ زیر بحث منافقین کو قید کیا جائے جہاں ملیں انہیں قتل کردیا جائے ‘ لہذا یہ مناقین مدینہ کے اندر رہنے والے منافقین کے علاوہ کوئی اور گروہ ہوگا ۔ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ان کی پکڑ دھکڑ کا ہجرت تک موقوف ومشروط ہے کیونکہ آیت میں ہے ۔
(آیت) ” فلا تتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ فان تولوا فخذوھم واقتلوھم حیث وجدتموھم “۔ (4 : 89)
” لہذا تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ ہجرت سے منہ موڑیں تو ان کو پکڑو اور جہاں بھی ان کو پاؤ قتل کرو “۔
یہ تہدید ان لوگوں کے حق میں اس لئے آئی تاکہ وہ اس صورت حال سے نکل آئیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ ایسے حالات سے نکل آئے ہوں ‘ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں یہ حکم نافذ نہیں فرمایا تھا لیکن (یھاجروا) کے لفظ سے یہ بات تو قطعا ثابت ہوجاتی ہے کہ زیر بحث منافقین اہل مدینہ سے نہ تھے ۔ مقصد یہ تھا کہ یہ لوگ مدینہ کو ہجرت کر کے آجائیں ۔ یہ واقعہ لازما فتح مکہ سے پہلے کا ہوگا اور ہجرت تھی بھی فتح مکہ سے پہلے کیونکہ ہجرت کی تعریف یہ ہے کہ دارالکفر سے داراسلام کی طرف ہجرت کی جائے ۔ لوگ تحریک اسلامی سے آکر ملتے رہیں اور اسلامی نظام کے تحت آتے رہیں ۔ ورنہ ان کی زندگی یا تو کفر گزرے گی یا نفاق میں ۔ اسی سورت میں اس سبق کے بعد دوسرے سبق میں ایسے لوگوں پر سخت تقید وارد ہے جو ابھی تک مکہ کے دارالکفر میں مقیم تھے بغیر کسی عذر یا ضعف کے اور تھے مسلمان ۔ اس وقت ان کے لئے مکہ دارالکفر اور دارالحرب تھا اگرچہ وہ ان کا اصلی وطن تھا اور وہ اس میں مقیم تھے ۔ یہ ہیں وہ وجوہات جن کی بنا پر ہم دوسری روایت کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ کہ منافقین کا گروہ زیر بحث مکہ میں مقیم تھا ‘ یا مکہ کے اردگرد کسی آبادی میں تھا ۔ یہ لوگ اپنے منہ سے تو اسلام کا اقرار کرتے تھے اور اپنے عمل سے کافروں کی حمایت کرتے تھے ۔ غرض آیت زیر بحث کو ایک بار پھر پڑھئے :
(آیت) ” فمالکم فی المنفقین فئتین واللہ ارکسھم بما کسبوا اتریدون ان تھدوا من اضل اللہ ومن یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلا “۔ (88) ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوآء فلا تتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ فان تولوا فخذوھم واقتلوھم حیث وجدتموھم ولا تتخذوا منھم ولیا ولا نصیرا “۔ (89) (4 : 88۔ 89)
” پھر تم کو کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہو رہے ہیں ‘ اور اللہ نے تو ان کو ان کے اعمال کے سبب الٹ دیا ہے ‘ کیا تم ان لوگوں کو راہ پر لانا چاہتے ہو جن کو اللہ نے گمراہ کردیا ہے اور جس کو اللہ نے گمراہ کیا تم اس کے لئے کوئی راہ نہ پاؤ گے ‘ ۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کافر ہوجاؤ جس طرح وہ کافر ہوئے ہیں ‘ اس طرح تم سب برابر ہوجاؤ ‘ لہذا تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرلیں ‘ پھر اگر یہ اس شرط کو قبول نہ کریں تو ان کو پکڑو ‘ مار ڈالو ‘ جہاں بھی پاؤ اور ان میں سے کسی کو دوست اور مددگار نہ بناؤ۔ “
” ان آیات میں اس بات پر سخت نکیر ہے کہ منافقین کے بارے میں اختلاف رائے واقعہ کیوں ہوا اور ان کے بارے میں یہ حیرت انگیز موقف ہر فریق نے کیوں اپنایا ؟ اس لئے کہ اس موقف میں ایک فریق کی جانب سے بہت نرمی تھی اور اس بات کا اظہار ہو رہا تھا کہ ابھی مسلمانوں کا شعور اسلام کے بارے میں پختہ نہیں ہے ۔ ان میں سے بعض لوگوں نے یہ کہا کہ تم ایسے لوگوں کو قتل کرتے ہو جنہوں نے وہی الفاظ ادا کئے ہیں جو تم نے ادا کئے ہیں اور محض اس لئے کہ انہوں نے اپنا وطن چھوڑ کر ہجرت نہیں کی ؟ کیا یہی بات ان کی مال وجان کو مباح کرنے کے لئے کافی ہے ؟ ان لوگوں کا تصور اسلام پختہ اس لئے نہ تھا کہ وہ صرف یہ بات پیش نظر رکھ رہے تھے کہ منافقین زیر بحث نے بھی اسی طرح کلمہ پڑھا ہے جس طرح ہم نے پڑھا ہے حالانکہ اس گروہ منافقین کے خلاف شواہد موجود تھے ۔ ایک تو ان کا اپنا قول کہ محمد ﷺ کے ساتھی ہمیں کچھ بھی نہ کہیں گے ‘ دوسرے یہ کہ اہل ایمان کے ایک گروہ نے بھی ان کے بارے میں یہ انکشاف کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے دشمنوں کی امداد کرتے ہیں ۔ ان شواہد کے باوجود ان لوگوں کا موقف ان منافقین کے بارے میں کمزور موقف تھا حالانکہ انہیں فیصلہ کن اور دو ٹوک موقف اختیار کرنا چاہئے تھا اس لئے کہ زبانی طور پر کلمہ شہادت پڑھنا اور عملا کفار کی امداد کرنا منافقت کی بین دلیل تھی ۔ ایسے لوگوں کے ساتھ کسی نرمی اور چشم پوشی کی ضرورت ہی نہ تھی ۔ یہ معمولی غلطی نہ تھی بلکہ اس سے تصور اسلام میں کمزوری کا اظہار ہو رہا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے اندر سخت تعجب کا اظہار کیا گیا اور سخت تنبیہ کی گئی ۔
رہے مدینہ کے منافقین تو ان کے بارے میں مسلمان فکری طور پر بالکل یکسو تھے کہ یہ منافق ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ چشم پوشی اس لئے اختیار کی گئی تھی کہ ایک خاص منصوبے کے تحت ایسا ہو رہا تھا ‘ وہ یہ کہ ان کے ظاہری حالات پر ہی ان کے ساتھ معاملہ کیا جائے اور ایک وقت ایک انہیں مہلت دی جائے ۔
لیکن یہ ایک دوسری صورت حال تھی کہ اہل اسلام میں سے ایک گروہ ان کی طرف سے اس لئے مدافعت کر رہا تھا کہ انہوں نی بھی وہی کلمہ پڑھا ہے جو ہم نے پڑھا ہے اور زبان سے انہوں نے بھی شہادت دی ہے کہ اللہ ایک ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ ہیں حالانکہ یہ لوگ مسلمہ طور پر دشمنان اسلام کے امداد کندہ تھے ۔ مسلمانوں کی اس فکری کمزوری کی وجہ سے اور ان کے درمیان اختلاف رائے کی وجہ سے (جبکہ منافقین کا نفاق بالکل واضح تھا) اس آیت میں شدید تنبیہ کی گئی ۔ اور پھر تنبیہ کے بعد اس بات کی وضاحت بھی کردی گئی کہ ۔ (واللہ ارکسھم بما کسبوا) (اللہ نے ان کو ان کے اعمال کی وجہ سے الٹ دیا ہے) تم ان کے بارے میں جھگڑتے ہو اور اللہ نے انکی بداعمالیوں اور ان کی بدنیتی کی وجہ سے انہیں ایسے حالات میں ڈال دیا ہے جن میں وہ الٹے نظر آرہے ہیں ۔ اللہ کی جانب سے انکے خلاف یہ گواہی ہے کہ وہ اپنی سوچ اور اپنے عمل کی وجہ سے ناقابل رشک صورت حال میں پڑے ہیں۔
اس تنبیہ کے بعد ایک دوسری تنبیہ یہ کہ گئی ۔ (آیت) ” اتریدون ان تھدوا من اضل اللہ ) (کیا تم ان لوگوں کو راہ پر لانا چاہتے ہو جن کو اللہ نے گمراہ کردیا ہے) یعنی مسلمانوں میں سے جو فریق ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کر رہا ہے اس کی منشا یہ تھی کہ انہیں راہ راست پر آجانے کا موقعہ دیا جائے تاکہ یہ منافقانہ رویہ اختیار کرنا چھوڑ دیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے موقف کو نامناسب سمجھا اور منافقین کو ایسے حالات میں ان کے اعمال اور برے ارادوں کی وجہ سے ڈال دیا ہے لہذا ان کے ہدایت پانے کی امید فضول ہے ۔
(آیت) ” ومن یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلا “۔ ” جن کو اللہ نے گمراہ کیا تم اس کے لئے کوئی راہ نہ پاؤ گے “۔
اور اللہ لوگوں کو گمراہ اس لئے کردیتا ہے کہ وہ اپنی نیت و ارادے سے گمراہی کی راہ اپناتے ہیں ۔ پھر وہ گمراہی کے لئے سعی کرتے ہیں اور اس راستے میں بہت ہی دور چلے جاتے ہیں ۔ اتنے دور کہ ان کے لئے راہ ہدایت بند ہوجاتی ہے کیونکہ انہوں نے الٹ راہ اختیار کی ہوتی ہے اور ہدایت کے لئے اللہ کی امداد کے وہ طالب ہی نہیں رہے اور انہوں نے نشانات راہ کو گم کردیا ۔
اب ایک قدم آگے چلئے ! ان منافقین کے اصل موقف کا اظہار یوں ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ خود گمراہ ہوگئے ہیں اور اپنی نیت اور عمل کی وجہ سے وہ اس پوزیش کے مستحق ہوگئے ہیں جس میں وہ پڑے ہیں بلکہ وہ تو خود اہل اسلام کے بارے میں یہ خواہش رکھتے ہیں کہ وہ بھی کفر ہی کا راستہ اختیار کرلیتے تو اچھا ہوتا ۔
(آیت) ” ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوآئ “۔ (وہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کافر ہوجاؤ جس طرح وہ کافر ہوئے ہیں ۔ اس طرح تم سب برابر ہوجاؤ) بیشک انہوں نے کفر کا راستہ اختیار کرلیا ہے اگرچہ انہوں نے بھی وہی کلمہ پڑھا ہے جو مسلمان پڑھتے ہیں اور انہوں نے دونوں باتوں کی شہادت دے دی ہے لیکن ان شہادت کو انکا عمل جھٹلاتا ہے جس کے ذریعے یہ لوگ دشمنان اسلام کی امداد کرتے ہیں ۔ لیکن وہ اس حد پر بھی بس نہیں کرتے اس لئے کہ جو شخص کفر کو اپناتا ہے وہ کسی حد پر نہیں رکتا ۔ وہ اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھتا جب تک اس پورے کرہ ارض پر سے اسلام اور مسلمان مٹ نہیں جاتے ۔ اس مذموم مقصد کو لئے وہ سعی مسلسل میں مصروف رہتا ہے ۔ وہ اس مقصد کے لئے جدوجہد کرتا ہے ‘ سازشیں کرتا ہے تاکہ موجودہ اہل اسلام بھی لوٹ کر کافر ہوجائیں اور اس طرح تمام لوگ برابر ہوجائیں ۔
زیر تبصرہ منافقین کے اس موقف کی یہ پہلی وضاحت ہے اور یہ وضاحت اس طرح کی گئی ہے کہ اس سے ان کے بارے میں اہل اسلام کی سوچ سے ہر قسم کی جھول دور ہوجاتی ہے ۔ یہ سوچ ان کے قول وعمل کی واضح شہادت پر قائم ہوجاتی ہے اور اب یہ سوچ تضاد سے خالی ہوتی ہے ۔ زبانی اظہار اسلام کی حقیقت کچھ نہیں رہتی جب تمام قرائن یہ بتاتے ہوں کہ ان لوگوں کا موقف منافقانہ ہے ۔
قرآن کریم مسلمانوں کے شعور کو ایک چٹکی بھرتا ہے جس سے ان کے شعور میں ایک خوفناک احساس ابھرتا ہے اور یہ احساس قرآن کے ان الفاظ سے ابھرتا ہے۔
(آیت) ” ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوآئ “۔ (وہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کافر ہوجاؤ جس طرح وہ کافر ہوئے ہیں ۔ اس طرح تم سب برابر ہوجاؤ) ‘ ۔ یہ خوف اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ اہل اسلام نے حال ہی میں کفر کو ترک کر کے اسلام کا مزہ چکھا تھا ‘ اور ابھی تک انہیں اس بات کا شعور تھا کہ ان کی زندگی میں کس قدر عظیم تبدیلی پیدا ہوئی ہے ۔ ان کا شعور کس قدر بلند ہوا ‘ ان کی عام سطح کس قدر بلند ہوئی اور جاہلیت کے مقابلے میں ان کی سوسائٹی کو اسلام میں کس قدر سربلندی نصیب ہوئی ۔ یہ فرق و امتیاز ‘ انکے شعور میں بھی تھا اور حقیقت واقعہ میں بھی ‘ اور یہ اشارہ ہی کافی تھا کہ وہ اس شخص کے دشمن بن جائیں جو انہیں دوبارہ ان سابقہ پستیوں کی طرف لے جانے کی تدابیر کر رہا تھا ۔ یعنی اس جاہلیت کی پستیوں کی طرف جس سے انہیں اسلام نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا تھا ۔ پھر انہیں ایک عام سطح پر ہی نہ چھوڑ دیا تھا بلکہ انہیں عمومی ترقی کے ذریعے بلند ترین چوٹی پر پہنچا دیا تھا ۔
یہی وجہ ہے کہ قرآنی نظام تربیت اس حقیقت کا سہارا لے کر خطرناک حالات کے مقابلے میں اور آگے بڑھنے کے حالات میں مسلمانوں کو دشمن سے اس طرح خبردار کر کے سخت تاکیدی احکام دیتا ہے ۔
(آیت) ” فلا تتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ فان تولوا فخذوھم واقتلوھم حیث وجدتموھم ولا تتخذوا منھم ولیا ولا نصیرا “۔ (89) (4 : 89)
”‘ لہذا تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرلیں ‘ پھر اگر یہ اس شرط کو قبول نہ کریں تو ان کو پکڑو ‘ مار ڈالو ‘ جہاں بھی پاؤ اور ان میں سے کسی کو دوست اور مددگار نہ بناؤ۔ “
اللہ تعالیٰ نے یہاں جو یہ کہا کہ ان میں سے کسی کو دوست اور مددگار نہ بناؤ ‘ تو اس سے محسوس ہوتا ہے کہ ابھی تک مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان خاندانی ‘ قبائلی روابط اور تعلقات باقی تھے ‘ اور مسلمانوں کے دلوں میں ان روابط کی وقعت تھی اور ہوسکتا ہے کہ یہ روابط ابھی تک بعض اقتصادی مفادات کی خاطر بھی ہوں ۔ اسلام کا یہ طریقہ تربیت جاہلیت کے تمام رہے سہے آثار وروابط کو بھی پوری طرح جڑ سے اکھاڑ کر پھینک رہا تھا ۔ اور جس طرح قرآن کریم تطہیر افکار کر رہا تھا اسی طرح امت مسلمہ کے لئے بین الاقوامی روابط کے اصول بھی طے کر رہا تھا ۔
قرآن کریم امت کو بتا رہا تھا کہ کوئی امت کبھی بھی صرف خاندانی اور قبائلی روابط پر وجود میں نہیں آسکتی اور خون اور رشتے کے روابط ‘ ایک ہی ملک اور علاقے میں رہائش کے روابط ‘ تجارتی اور دوسرے اقتصادی مفادات کے روابط کی اساس پر کوئی امت وجود میں آسکتی ہے ۔ امت ہمیشہ ایک مخصوص نظریہ حیات اور اس نظریہ حیات کی اساس پر اٹھنے والی سوسائٹی اور اجتماعی نظام کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ داراسلام کے باشندوں اور دارالحرب کے باشندوں کے درمیان دوستی اور ولایت کے تعلقات قائم نہیں رہ سکتے ۔ اس وقت درالحرب مکہ تھا جو مہاجرین کا وطن اصلی تھا اس لئے مکہ کے لوگوں حتی کہ زبانی طور پر اسلام کا اقرار کرنے والوں اور مدینہ کے مسلمانوں کے درمیان بھی دوستی اس وقت تک نہ ہو سکتی تھی جب تک وہ ہجرت نہ کرتے جو صرف اللہ کے لئے اور اللہ کی راہ میں ہو اور اس کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لئے نہ ہو ‘ یعنی صرف ایسے معاشرے کے قیام کے لئے ہو جو اسلامی نظام حیات کے مطابق زندگی گزار رہا ہو اور اس کے سوا کوئی غرض نہ ہو ۔ نہایت ہی پاک ‘ نہایت ہی فیصلہ کن اور نہایت ہی متعین مقصد کے ساتھ ‘ جس میں کوئی ملاوٹ نہ ہو ‘ کوئی خلط ملط نہ ہو ‘ اسلامی نظام حیات کے سوا کوئی ہدف نہ ہو اور نہ کوئی اور مصلحت ہو ۔
اگر یہ زبانی طور پر کلمہ اسلام پڑھنے والے پر شرط پوری کردیں ‘ اپنے اہل و عیال کو چھوڑ دیں ‘ اپنے ملک اور مصلحتوں کو خیر باد کہہ دیں اور دارالاسلام کی طرف ہجرت کر آئیں تاکہ یہاں وہ اسلامی نظام کے تحت زندگی بسر کریں ‘ جو اسلامی نظریہ حیات پر مبنی ہے ‘ جس کے اندر اسلامی شریعت جاری ہے تو پھر وہ اسلامی معاشرے کے ممبر بن جائیں گے ۔ وہ امت مسلمہ کے ہم وطن ہوں گے ۔ اگر وہ یہ شرط تسلیم نہ کریں ‘ ہجرت کا انکار کردیں تو پھر انہوں نے زبانی طور پر جو کلمہ پڑھا ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ اگر وہ یہ شرط قبول نہ کریں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (فخذوھم) انہیں پکڑ کر قید کر دو اور جہاں بھی تمہیں ملیں انہیں ۔ (واقتلوھم) قتل کر دو اور ان میں سے کسی کو نہ دوست بناؤ اور نہ مددگار ۔
اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں یہ دو احکام جو دیئے ہیں ‘ یہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ لوگ مدینہ کے منافقین نہ تھے ‘ اس لئے کہ مدینہ کے منافقین کے ساتھ اسلامی انقلاب نے بالکل مختلف پالیسی اختیار کی تھی ۔
اسلام کی یہ پالیسی ہے کہ وہ اسلام کے مخالف عقائد رکھنے والے لوگوں کے ساتھ نہایت ہی فیاضانہ پالیسی اختیار کرتا ہے ۔ اسلام مخالف اسلام لوگوں کو ہر گز اس امر پر مجبور نہیں کرتا کہ وہ اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیں بلکہ اسلام مخالف اسلام مذاہب کے پیروکاروں کو یہ اجازت بھی دیتا ہے کہ وہ اپنے عقائد کا اظہار کریں ‘ اسلام کے بارے میں اپنے مخالفانہ نظریات کا بھی اظہار کریں اور خود دارالاسلام میں ایسا کریں ۔ ہاں ان کو یہ اجازت نہ ہوگی کہ وہ مسلمانوں کے اندر اپنے نظریات پھیلائیں یا اسلام کو برا بھلا کہیں ۔ اسلام کی ہدایت یہ ہے کہ مسلمان اہل کتاب کو برا بھلا نہ کہیں ۔ لہذا یہ بات شک وشبہ سے بالا ہے کہ اسلام خود دارالاسلام کے اندر موجود اقلیتوں کو یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ خود اسلام کے بارے میں لعن طعن کریں ۔ اگرچہ ہمارے دور کے بعض لوگوں نے اس قدر توسع اور ڈھیل سے کام لیا ہے کہ وہ مخالف اسلام لوگوں کو دارالاسلام میں اسلام پر لعن طعن کرنے کی اجازت دینا چاہتے ہیں ۔ بہرحال اسلام کی یہ بھی بڑی فیاضی ہے کہ وہ انہیں اسلامی نظریہ حیات قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا اور دارالاسلام میں ان کو جان ومال اور آبرو کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے ۔ انہیں اس بات کی بھی اجازت دیتا ہے کہ عمومی نظام (Civil code) کے علاوہ اپنے مخصوص معاملات میں اپنی شریعت کے مطابق فیصلے بھی کریں۔
اسلام اپنے مخالفین کو کھلے بندوں اپنے نظریات پر قائم رہنے کی اجازت دیتا ہے ‘ لیکن اسلام یہ رعایت منافقین کو نہیں دیتا جو زبانی طور پر تو اظہار اسلام کرتے ہیں لیکن ان کا عمل اسلام کے مخالف ہوتا ہے ۔ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتتا جو اللہ کی توحید کے قائل تو ہیں ‘ اور کلمہ شہادت پڑھتے ہیں ‘ لیکن ان کے بعد اللہ کی خاص صفت ‘ صفت حاکمیت میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرتے ہیں ‘ مثلا عوام کو حق قانون سازی دیتے ہیں کیونکہ انہوں نے احبارو رہبان اور حضرت مسیح کو اللہ کے سوا رب بنایا ہے اس لئے نہیں کہ وہ ان لوگوں کی عبادت کرتے ہیں بلکہ اس لئے کہ انہوں نے ان کو حلال و حرام مقرر کرنے کے اختیارات دے رکھے ہیں اور یہ اہل کتاب اس معاملے میں ان کی مکمل اطاعت کرتے ہیں ۔
نیز اسلام منافقین کے اس گروہ کے ساتھ بھی رواداری نہیں برتتا جو یہ شہادت دیتے ہیں کہ اللہ ایک ہے ‘ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اس کے بعد وہ دارالکفر اور دارالحرب میں مقیم ہیں اور مسلمانوں کے دشمنوں کی امداد بھی کرتے ہیں ۔ یہ بات رواداری نہ ہوگی بلکہ یہ بدکرداری ہوگی ۔ اسلامی نظریہ حیات راواداری کا نظریہ ہے لیکن وہ بدکرداری اور عدم حمیت کا نظریہ نہیں ہے ۔ یہ ایک سنجیدہ تصور حیات اور ایک سنجیدہ نظام حیات ہے اور سنجیدگی اور حقیقت پسندی اور رواداری میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔ البتہ حقیقت پسندی اور بدکرداری کے درمیان تضاد ضرور ہے ۔ یہ نکتے پہلی تحریک اسلامی کے لئے بھی قابل توجہ اور قابل غور تھے اور آج بھی ان میں تحریک اسلامی کے لئے اہم پیغام ہے ۔
Ayah 4:90(آیت) ” نمبر 90۔
ایسے لوگوں کو قید کرنے اور انہیں قتل کرنے کے حکم میں ایک استثنائی صورت بھی ہے ۔ اگر یہ منافقین جو دشمنان اسلام کی معاونت کرتے ہیں اگر کسی ایسی مملکت یا ایسی سرزمین کے اندر رہائش پذیر ہیں جن کا اسلامی تحریک یا اسلامی حکومت کے ساتھ عہد و پیمان ہوچکا ہے ‘ چاہے یہ عہد معاہدہ امن ہو یا معاہدہ تخالف ہو ‘ تو اس صورت میں ان کے ساتھ وہی معاملہ ہوگا جو ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن سے عہد طے پاچکا ہے ۔
(آیت) ” الا الذین یصلون الی قوم بینکم وبینھم میثاق “۔ (البتہ وہ منافق اس سے مستثنی ہیں جو کسی ایسی قوم سے جاملیں جن کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے) اس حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر امن کے مواقع ہوں اور کوئی معاہدہ امن اسلام کے اساسی نظریات کے ساتھ متعارض نہ ہو ‘ اس کی وجہ سے اسلام کو قبول کرنے کی آزادی اور اسلام کی تبلیغ کی آزادی سلب نہ ہو رہی ہو اور دعوت اسلامی کی راہ میں بذریعہ قوت رکاوٹیں کھڑی نہ کی جاتی ہوں ‘ اور اس کے ساتھ مسلمانوں کو امن نصیب ہو رہا ہو اور وہ فتنوں اور مشکلات سے بچ رہے ہوں اور دعوت اسلامی کو جمود کا خطرہ بھی نہ ہو تو ایسی صورتوں میں اسلام معاہدہ امن کرسکتا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ جو دشمن بھی کسی ایسی قوم کے ساتھ مل جائے جس کے ساتھ معاہدہ امن ہے یا معاہدہ دوستی ہے تو ایسی صورت میں ان معاہدات کا اطلاق اس شخص پر بھی ہوگا ان کے ساتھ ویسا ہی معاملہ ہوگا اور وہ لوگ ویسے ہی امن میں رہیں گے ۔ ایسے احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر امن اور سلامتی اور صلح کی روح نہایت ہی واضح ہے ۔
اسی طرح قیدی بنائے جانے اور قتل کردیئے جانے کے حکم سے وہ منافق لوگ بھی مستثنی ہیں جن کا تعلق ایسے لوگوں ایسے قبائل اور ایسے گرہوں کے ساتھ ہے جو اسلامی مملکت کے بارے میں غیر جانبدار ہیں ۔ وہ نہ مسلمانوں کا ساتھ دیتے ہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے ساتھ محار بے کے وقت اپنی اقوام کی امداد کرتے ہیں یعنی یہ لوگ اپنی قوم کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑنا بھی مناسب نہیں سمجھتے ۔ یہ لوگ دونوں فریقوں کے ساتھ بھی نہیں ملتے ۔ نہ ان کے ساتھ اور نہ ان کے ساتھ ۔
(آیت) ” اوجاء وکم حصرت صدورھم ان یقاتلوکم اویقاتلوا قومھم “۔ (اسی طرح وہ منافق بھی مستثنی ہیں جو تمہارے پاس آتے ہیں اور لڑائی سے دل برداشتہ ہیں نہ تم سے لڑنا چاہتے ہیں نہ اپنی قوم سے)
اس حکم سے بھی اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اسلام ہر صورت میں قتل ومقاتلے سے اجتناب چاہتا ہے بشرطیکہ دوسرے لوگ لڑنا نہ چاہیں ‘ دعوت اسلامی کے راستے میں روڑے نہ اٹکائیں اور تحریک اسلامی اور اس کے مخالفین کے درمیان غیر جانبدار ہوجائیں ۔ ایسے لوگ جو نہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر لڑنا چاہتے تھے اور نہ ہی اپنی قوم کے ساتھ مل کر لڑنا چاہتے تھے ‘ جزیرۃ العرب میں اس وقت موجود تھے بلکہ خود قریش کے اندر بھی موجود تھے اور نہ ہی اپنی قوم کے ساتھ مل کر لڑنا چاہتے تھے ‘ جزیرۃ العرب میں اس وقت موجود تھے بلکہ خود قریش کے اندر بھی موجود تھے ۔ ایسے لوگوں پر اسلام نے یہ پابندی عائد نہیں کہ کہ وہ اسلامی کیمپ کے ساتھ مل کر لڑیں یا مخالف کیمپ کے ساتھ مل کر لڑیں ۔ اسلام کے لئے یہ بات بھی کافی تھی کہ وہ اسلام کے خلاف جنگ نہ کریں ۔ (فتح مکہ کے بعد جب سورة توبہ نازل ہوئی تو عملی تجربے نے یہ ثابت کردیا کہ مرکز اسلام جزیرۃ العرب میں اسلام کے مقابلے میں کسی دوسرے دین کا موجود رہنا درست نہیں ہے ۔ اس لئے ان احکام کے اندر معمولی تبدیلی کی گئی تھی) نیز یہ توقع تھی کہ اگر مشکلات دور ہوجائیں تو یہ لوگ اسلامی کیمپ میں آجائیں گے جیسا کہ بعد میں عملا ایسا ہی ہوا ۔
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھاتے ہیں کہ ان غیر جانبدار لوگوں کے ساتھ یہ معاملہ تمہارے لئے بہت ہی مفید ہے ۔ اگر یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے تو وہ فرض کرلیں کہ اس سے بہتر دوسری صورت کیا ہو سکتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ دوسری صورت یہی ہو سکتی ہے کہ ہو مسلمانوں کے ساتھ برسرپیکار دشمنوں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ‘ مسلمانوں کے خلاف عملا جنگ شروع کردیں ‘ جو کسی صورت میں بھی مسلمانوں کے لئے بہتر نہیں ہے ‘ تو ایسے لوگوں کو اللہ نے جو غیر جانبدار بنا دیا ہے تو یہ تمہارے مفاد میں ہے لہذا وہ جس حال میں ہیں انہیں ان کے حال پر چھوڑنا ہی بہتر ہے ۔
(آیت) ” الا الذین یصلون الی قوم بینکم وبینھم میثاق “ اوجآء وکم حصرت صدورھم ان یقاتلوکم اویقاتلوا قومھم ولو شآء اللہ لسلطھم علیکم فلقتلوکم فان اعتزلوکم فلم یقاتلوکم والقوا الیکم السلم فما جعل اللہ لکم علیھم سبیلا “۔ (90)
” اللہ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردیتا اور وہ بھی تم سے لڑتے ۔ لہذا اگر وہ تم سے کنارہ کش ہوجائیں اور لڑنے سے باز رہیں اور تمہاری طرف صلح وآشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لئے ان پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے ۔
اس طرح قرآن مجید کا حکیمانہ منہاج تربیت پرجوش مسلمانوں کو بڑی حکمت سے ایسے منافقین کے بارے میں غیر جانبداری اختیار کرنے پر مائل کردیتا ہے حالانکہ وہ اس موقف کو بسہولت قبول نہ کرسکتے تھے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھاتے ہیں کہ اس میں تمہاری بہتری ہے ۔ یہ اللہ کا تم پر فضل ہے کہ کچھ لوگ تمہارے بارے میں غیر جانبدار ہوگئے ہیں۔ اگر وہ غیر جانبدار نہ ہوتے تو مسلمانوں پر عائد ہونے والی جنگی ذمہ داریوں میں کچھ اور اضافہ ہوجاتا ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بتاتے ہیں کہ کہ اگر تمہیں کسی جانب سے کوئی خیر آتی ہے تو اس کو مسترد نہ کریں اور اگر کوئی شر تم سے پہلوتہی کر کے گزرتا ہے تو خواہ مخواہ اسے نہ چھیڑیں ۔ ان لوگوں کی غیر جانبداری کا کوئی اثر تمہارے دین پر نہیں پڑا ۔ تمہارے نظریہ حیات کے اندر اس کے ذریعے کوئی کمزوری پیدا نہیں ہوتی ‘ اور نہ ہی تم کوئی بھاری قیمت دے کر امن حاصل کرتے ہو۔
بیشک اللہ نے مسلمانوں کو بھاری قیمت ادا کرکے امن کے حصول سے منع فرمایا ہے اس لئے کہ مقاصد اسلام میں سے کوئی مقصد ترک کے کرکے امن خریدنے کی اجازت ہر گز نہیں ہے ۔ اسلام جو امن چاہتا ہے وہ ایسا امن ہے جس سے دعوت اسلامی کے حقوق میں سے کوئی حق ضائع نہ ہو ‘ نہ مسلمانوں کے حقوق میں سے کوئی حق ضائع ہو ‘ (مسلمانوں کے ذاتی اور شخصی حق نہیں) بلکہ مسلمانوں کے وہ حقوق جن کا تعلق ان کے منہاج حیات سے ہے اور جس کی وجہ سے وہ مسلمان کہلاتے ہیں ۔
اسلام کا حق یہ ہے کہ اس کے راستے سے تمام رکاوٹوں کو دور کردیا جائے ‘ جو دعوت وتبلیغ کی راہ میں حائل ہیں کیونکہ دعوت وتبلیغ کی راہ میں اسلام اس کرہ ارض پر کسی بھی جگہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کرتا ۔ اسلام میں اس بات کا بھی قائل ہے کہ دنیا میں اسلام کی پشت پر ایسی سیاسی قوت موجود ہو جس سے وہ تمام قوتیں خائف ہوں جو دعوت اسلامی کی راہ میں روڑے اٹکاتی ہیں ‘ چاہے وہ اس کے لئے جو صورت بھی اختیار کریں ‘ یا جو اسلام کو قبول کرنے والوں کو کسی نہ کسی طرح نقصان پہنچاتی ہیں ۔ اگر ایسی باتیں نہ ہوں تو پھر امن وسلامتی اسلام کی متاع گم گشتہ ہے ۔ لیکن حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہمارے پیش نظر رہے کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔
اب ایک دوسرا گروہ سامنے آتا ہے اور اس کے ساتھ اسلام اس قسم کی رواداری کا رویہ اختیار نہیں کرتا جو مکمل طور پر غیر جانبدار لوگوں کے ساتھ اختیار کرتا ہے اس لئے کہ یہ اصل منافقین کا گروہ ہے اور نفاق کے ساتھ ساتھ شریر بھی ہے ۔ اور یہ فریق نہ کسی ایسی قوم سے ملا ہوا ہے جس کے ساتھ مسلمانوں کا عہد ہے اور نہ کسی حلیف قبیلے کے ساتھ ملحق ہے اس گروہ کے بارے میں اسلامی مملکت پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو اصل منافقین کے ساتھ ہوگا ۔
Ayah 4:91(آیت) ” نمبر 91۔
ابن جریر نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ یہ آیت اہل مکہ میں سے ایک قوم کے بارے میں نازل ہوئی ہے ‘ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کے پاس آتے تھے اور ریاکاری کے طور پر مسلمان ہوجاتے تھے اور پھر قریش کے پاس واپس ہوتے تو الٹے پاؤں پھر کر دوبارہ بتوں کی پوجا شروع کردیتے تھے ۔ ان کا مقصد اس پالیسی کے اختیار کرنے سے یہ تھا کہ ادھر بھی امن سے رہیں اور ادھر بھی امن سے رہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اگر وہ اپنی یہ پالیسی چھوڑ کر اصلاح پذیر نہیں ہوتے تو انہیں قتل کردیا جائے ۔ اس طرح اللہ کا یہ فرمان کہ اگر وہ تمہارے مقابلے سے باز نہ آئیں اور تمہارے سامنے مکمل صلح وسلامتی پیش نہ کریں اور تمہارے ساتھ جنگ سے ہاتھ نہ روکیں تو تمہیں اختیار ہے کہ تم انہیں پکڑ کر قید کر دو ‘ اور جہاں بھی تمہیں ملیں وہاں پر انہیں قتل کر دو ‘ اس لئے کہ ان پر حجت تمام ہوگئی ہے ۔
یہ اسلام کا ایک حقیقت پسندانہ اور دوٹوک پہلو ہے ‘ جبکہ اس سے قبل کی دفعہ میں رواداری اور چشم پوشی سے کام لینے کی تلقین کی گئی تھی ۔ ہر پالیسی اپنی جگہ پر مناسب اور ضروری تھی ۔ واقعات اور حالات کے تقاضوں کے مطابق مختلف موقف اور پالیسیاں اختیار کی گئیں ۔
اس انداز میں اسلام کی بین الاقوامی پالیسی کے ان دو صفحات کے مطالعے سے ایک مسلم کے شعور میں بہت ہی اچھی طرح توازن پیدا ہوتا ہے ۔ نیز اس سے اسلامی نظام زندگی کے اندر بھی توازن پیدا ہوتا ہے اور یہ توازن اور ہم آہنگی اسلامی نظام زندگی کی اساسی اور امتیازی صفت ہے ۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں ایک طرف سخت متشدد اور پر جوش لوگ ہیں جو ہر وقت مرو اور مارو کے لئے تیار رہتے ہیں حالانکہ یہ اسلام کی پالیسی نہیں ہے ۔ دوسری جانب نہایت ہی کمزور کردار کے پگھلنے والے لوگ ہیں جو سرے سے اسلام میں جہاد ہی کے قائل نہیں ۔ یہ لوگ اسلام کے بارے میں اس انداز سے بات کرتے ہیں گویا اسلام ایک ملزم ہے جو مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہے اور یہ لوگ اس خطرناک ملزم کا مقدمہ لڑ رہے ہیں ۔ یہ لوگ اسلام میں صرف رواداری ‘ امن چشم پوشی اور عفو و درگزر ہی پاتے ہیں اگر اسلام میں کوئی جنگ ہوئی ہے تو یہ لوگ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ جنگ اسلامی حکومت اور اسلامی تحریک کے لئے ایک دفاعی جنگ ہوئی ہے تو یہ لوگ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ جنگ اسلامی حکومت اور اسلامی تحریک کے لئے ایک دفاعی جنگ تھی اور یہ اس مقصد کے لئے نہ تھی کہ دعوت اسلامی کی راہ سے رکاوٹیں دور ہوں اور اس کی تبلیغ دنیا کے چپے چپے پر بلا روک ٹوک کی جاسکے ۔
ان لوگوں کے نزدیک یہ مقصد بھی نہ تھا کہ اس کرہ ارض کے کونے کونے پر وہ تمام لوگ پرامن زندگی بسر کریں ‘ جنہوں نے اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیا ہے ۔ نیز ان لوگوں کے نزدیک اس پالیسی کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ دنیا کے اندر ایک ایسا نظام مملکت ہو اور ایک ایسا قانونی اور دستوری نظام ہو جس کے تحت لوگ مکمل نظریاتی آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں ‘ جو عقیدہ چاہیں اختیار کرسکیں ‘ حالانکہ ایسے لوگوں کی سوچ ہر گز اسلامی سوچ نہیں ہے اور نہ یہ اسلام کی حقیقی پالیسی ہے اسلام نے جو درج بالا بین الاقوامی اصول دیئے ہیں ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کی حقیقی پالیسی کیا ہے ؟
یہ تو تھے مسلمانوں کے تعلقات دوسرے بیان الاقوامی ممالک اور کیمپوں کے ساتھ ۔ رہے مسلمانوں کے باہم تعلقات امت مسلمہ کے اندر ‘ تو اگرچہ وہ بالکل مختلف ممالک کے باشندے ہوں اور اس وقت صورت حال ایسی تھی کہ مسلمان مختلف ممالک میں رہتے تھے جس طرح آج وہ مختلف ممالک میں رہتے ہیں ‘ تو ان کے درمیان قتل ومقاتلہ قطعا حرام ہے ۔ کسی مسلمان کو صرف حد یا قصاص ہی میں قتل کیا جاسکتا ہے اس لئے دنیا میں ایسی کوئی چیز یا سبب نہیں ہے جو مسلمانوں کے عقیدے اور نظریے سے زیادہ اہم ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی مسلمان کو کسی صورت میں یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ دوسرے عقیدے اور نظریے سے زیادہ اہم ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی مسلمان کو کسی صورت میں یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ دوسرے مسلم کو ناحق کو قتل کرے اس لئے کہ ان کے درمیان نظریہ حیات اور عقیدے کے اتحاد کا زبردست تعلق پایا جاتا ہے ۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ کسی مسلم کے ہاتھوں دوسرے مسلمان کا قتل خطا کے طور پر ہوجائے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں قتل خطا کے بارے میں قانون سازی کو ضروری سمجھا گیا ۔ رہا قتل عمد تو اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اسلام مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کے ناحق قتل کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ یہ فعل حدود اسلام سے باہر کا فعل ہے ۔
Ayahs 4:92–93(آیت) ” نمبر 92 تا 93۔
ان احکام کا تعلق چار قسم کے حالات سے ہے تین کا تعلق جرم قتل خطا سے ہے ۔ یہ قتل دارالاسلام کے اندر بھی وقوع پذیر ہو سکتا ہے اور بین الاقوامی طور پر بھی ایسے افراد کے درمیان ہو سکتا ہے جو مختلف ممالک کے شہری ہوں ۔ چھوتی حالت کا تعلق قتل عمد بین المسلمین سے ہے جسے اسلام بالکل بعید الوقوع سمجھتا ہے ۔ اسلام مسلمانوں سے یہ توقع کرتا ہے کہ یہ جرم واقع ہی نہ ہو ۔ اس لئے کہ اگر پوری دنیا کے مفادات کو ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسری جانب ایک بےگناہ مسلم کا خون رکھا جائے تو دم مسلم کا پلڑا بھاری ہوگا ۔ اسلام اس دنیا میں کسی ایک حالت کا تصور نہیں کرتا جس میں ایک مسلمان کی جانب سے مسلمان کے قتل کا جواز پیدا ہوتا ہو۔ اسلام ایک مسلمان اور دوسرے مسلمان کے درمیان اس قدر سنجیدہ ‘ اس قدر گہرے اس قدر عظیم اس قدر قیمتی اس قدر عزت واحترام کے تعلقات پیدا کرتا ہے کہ وہ یہ فرض ہی نہیں کرتا کہ ان کے درمیان تعلقات اس قدر خراب بھی ہو سکتے ہیں کہ نوبت قتل مقاتلے تک پہنچ جائے ، یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید سب سے پہلے قتل خطا سے بات شروع کرتا ہے ۔
(آیت) ” وما کان لمومن ان یقتل مومنا الا خطا “۔ (4 : 92) ”(مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ دوسرے مومن کو قتل کرے الا یہ کہ اس سے چوک ہوجائے “ ) ۔ اسلامی شعور میں صرف اس صورت کا تصور آسکتا ہے کہ بھول چوک سے یہ جرم واقع ہو سکتا ہے ۔ یہی حقیقی احتمال ہے ‘ اس لئے کہ کسی مسلمان کا دوسرے مسلمان کے پڑوس میں رہنا ایک عظیم بات ہے ۔ یہ ایک عظیم نعمت ہے ‘ بہت ہی عظیم ۔ لہذا اسلامی شعور اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ کوئی مسلم دوسرے مسلم کو اپنے پڑوس سے علیحدہ کر دے اور یہ تو بہت ہی بری بات ہوگی کہ وہ قصدا وارادتا ایک مسلمان کے خلاف قتل اٹھائے اس لئے کہ یہ اس کرہ ارض پر ایک مسلمان کے لئے ایک نہایت ہی قیمتی سرمایہ ہے ۔ اس قیمتی سرمائے کے بارے میں صرف مسلمان سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اس کی قدر و قیمت کو جانے ، اس لئے اسلامی اخلاقیات میں یہ بات بہی ہی مشکل ہے کہ ایک مسلم ‘ مسلم کو قتل کر دے ، یہ وہ معاملہ ہے جسے صرف اہل اسلام اور اسلام دوست ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ وہ اپنے نفس اور اپنے شعور کے اندر اس کا احساس رکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی بھائی چارے کے ذریعے اہل اسلام کو یہ اخوت سکھائی ہے ۔ یہی وہ برادری ہے جس کی وجہ سے وہ سب رسول اللہ ﷺ کے گرد جمع ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ نظریہ ان کو اللہ کے نام پر جمع اور متحد رکھتا ہے ۔ ان کے درمیان اسلامی اخوت اور محبت پیدا ہوتی ہے اور یہ سب کچھ زبانی ہدایات کی وجہ سے ہے ۔
اگر قتل خدا واقعہ ہوجائے تو اس کی تین حالتیں ہیں اور تینوں کے احکام یہاں بیان ہوگئے ہیں۔
پہلی حالت یہ ہے کہ کسی مومن کے ہاتھوں غلطی سے دار الاسلام کے اندر دوسرا مومن قتل ہوجائے اور اس کا خاندان بھی مسلمان ہو ۔ اس صورت میں اسے ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا اور پوری دیت اس مسلمان کے خاندان کو ادا کرنی ہوگی ۔ ایک مومن غلام کو آزاد کرنے کا تاوان گویا اسلامی معاشرے کو اس کے نقصان کی تلافی کے طور پر ادا کرے گا ۔ اس لئے غلام کو آزاد کرکے اس نے ایک مردہ انسان کو آزادی دلا کر زندہ کردیا ۔ اس طرح گویا یہ کئی غلاموں کو آزاد کر دے گا ۔ رہی دیت تو اس کی وجہ سے متقول کے ورثا کے جذبات ٹھنڈے ہوں گے ۔ لیکن اس معاوضے کے فرض کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام متقول کے خاندان کو یہ اشارہ بھی دیتا ہے کہ اگر وہ دیت معاف کردیں تو یہ ان کے حق میں اچھا ہے بشرطیکہ ان کے دل برضا اس کے لئے تیار ہوں ۔ اسلامی معاشرے اور اسلامی اخوت کے لئے عفو و درگزر نہایت ہی مفید عمل ہے حکم ہوتا ہے ۔
(آیت) ” ومن قتل مومنا خطا فتحریر رقبۃ مومنۃ ودیۃ مسلمۃ الی اھلہ الا ان یصدقوا (4 : 92) (اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کردے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ایک مومن کو غلامی سے آزاد کر دے اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے الا یہ کہ وہ خون بہا معاف کردیں)
دوسری صورت یہ ہے کہ قتل خطا کا جرم ایک مومن پر واقع ہو اور اس کے وارث دارالاسلام کے ساتھ محارب ہوں اس حالت میں دارالاسلام کے نقصان کا معاوضہ یہ ہوگا کہ قاتل کو ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا لیکن اس کے محارب خاندان کو دیت ادا نہ ہوگی کیونکہ اس صورت میں وہ اس دیت کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کریں گے اور یہاں یہ صورت بھی نہیں ہے کہ مقتول کے اہل و عیال کی دلجوئی مطلوب ہے یا ان کے ساتھ محبت کے رشتوں کی بحالی مطلوب ہے اس لئے کہ وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں اور ان سے برسرپیکار ہیں۔
تیسری حالت یہ ہے کہ مقتول کے وارث معاہد ہوں ‘ ان کے ساتھ معاہدہ امن ہو یا معاہدہ دوستی ہو ‘ ایسے حالات میں قرآن کریم نے مقتول کے مومن ہونے کی شرط عائد نہیں کی ۔ اس لئے بعض فقہاء اور مفسرین نے اس حالت میں آیت کے حکم کو مطلق رکھا ہے اور حکم دیا ہے کہ ایسے حالات میں بھی قاتل کو ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا اور مقتول کے وارثوں کو دیت ادا کرنی ہوگی اگرچہ یہ مقتول مومن نہ ہو ‘ اس لئے کہ مومنین کے ساتھ معاہدہ کرنے کی وجہ سے ان کے جان ومال کو بھی مومنین کی جان ومال کے ساتھ مساوی درجہ ہوگا ۔
لیکن یہ معلوم ہوتا ہے کہ آغاز کلام سے بات ایک مومن کے قتل کے بارے میں چلی ہے۔ آیت ہے ” مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ مومن کو قتل کرے ‘ الا یہ کہ اس سے چوک ہوجائے ۔ “ اس کے بعد وہ حالات بیان ہوئے ہیں جن میں مقتول مومن ہو اور دوسری حالت میں جب مقتول کا تذکرہ ہوا پھر کہا گیا (آیت) ’ (فان کان من قوم عدولکم وھو مومن) (اگر وہ ایسی قوم کا فرد ہو جو تمہاری دشمن ہے لیکن ہو مومن) یہاں (آیت) ” (وھو مومن) اس لئے کہا گیا کہ اس سے پہلے (آیت) ” من قوم عدو “۔ کے الفاظ آئے تھے ۔ اس بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ تیسری حالت کی دیت میں بھی (آیت) رقبہ مومنۃ “ کی شرط ہے ۔ اگر مقتول میں مومن شرط نہ ہوتی تو رقبہ میں بھی مومن شرط نہ ہوتی صرف تحریر رقبہ کا لفظ ہوتا ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقتول یہاں بھی مومن ہے ‘ ورنہ کفارہ میں بھی ایمان کی شرط نہ ہوتی ۔
روایات میں آتا ہے کہ اہل معاہدہ میں بعض لوگوں کی دیت حضور اکرم ﷺ نے ادا فرمائی مگر آپ نے یہ حکم نہیں دیا کہ مومن غلاموں کو آزاد کیا جائے (ایسی کوئی روایت نہیں ہے) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر مقتول معاہد مومن نہ ہو تو صرف دیت واجب ہے اور یہ دیت اس آیت کی رد سے ثابت نہیں بلکہ حضور ﷺ کے عمل سے ثابت ہے ۔ اور اس آیت میں جن تین صورتوں کا ذکر ہوا ہے وہ تمام صورتوں قتل مومن سے متعلق ہیں چاہے وہ مومن دارالاسلام کا باشندہ ہو یا کسی محارب قوم کا باشندہ ہو اور دارالحرب میں ہو یا ان کے درمیان معاہدہ ہو۔ چاہے امن کا معاہدہ ہو یا حلیف ہونے کا معاہدہ ہو ۔ یہ تفسیر سیاق کلام کے ساتھ زیادہ مناسب ہے ۔
یہ تو تھا حکم قتل خطا کا ‘ رہا قتل عمد تو یہ قتل اس قدر بڑا گناہ ہے کہ ایمان کے ساتھ اس کے ارتکاب کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ اور اس کا کفارہ نہ دیت سے ہوتا ہے اور نہ غلام آزاد کرنے سے یہ گناہ معاف ہو سکتا ہے ۔ اس شخص کی سزا یہ ہے کہ وہ اللہ کے عذاب کے حوالے ہوگا ۔
(آیت) ” ومن یقتل مومنا متعمدا فجزآوہ جھنم خلدا فیھا وغضب اللہ علیہ ولعنہ واعدلہ عذابا عظیما “۔ (4 : 93) (وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ۔ اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لئے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے)
یہ جرم قتل ہے ‘ لیکن صرف کسی جان کے خلاف ہی نہیں بلکہ یہ ایک عظیم ‘ مکرم ‘ محبوب ‘ ترین اور عزیز ترین اخوت اسلامی کا بھی قتل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے ایک مومن اور دوسرے مومن کے درمیان پیدا کیا تھا ۔ یہ ناحق ‘ ہی نہیں نظریہ حیات اور ایمان کی بھی نفی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے کئی مقامات کے اندر اسے شرک کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔ اور بعض سلف نے یہ رائے اختیار کی ہے کہ یہ توبہ کے ذریعے بھی معاف نہ ہوگا ۔ حضرت ابن عباس کی رائے یہی ہے ۔ البتہ بعض دوسرے علماء کی رائے یہ ہے کہ معافی ہو سکتی ہے اور انہوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے ۔
(آیت) ” (ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآئ) (اللہ تعالیٰ اس بات کو معاف نہیں کرتے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے اور اس کے سوا وہ جسے چاہے بخشتا ہے) اس لئے قاتل اگر توبہ کرے تو اس کی مغفرت کی امید کی جاسکتی ہے ۔ ایسے لوگوں نے خلود کا مفہوم یہ بتایا ہے کہ اس سے مراد طویل زمانہ ہے ۔
وہ لوگ جنہوں نے پہلے اسلامی مدرسہ میں تربیت پائی تھی وہ اپنے آباواجداد ‘ بیٹوں اور بھائیوں کے ان قاتلوں کو بچشم سر دیکھ رہے تھے ، جنہوں نے یہ قتل اسلام سے پہلے کئے تھے اور اب اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ ان میں سے بعض کے دلوں میں وہ تلخیاں دوبارہ تازہ ہوجاتی تھیں ۔ لیکن وہ ان لوگوں سے انتقام لینے کے بارے میں سوچتے بھی نہ تھے ۔ وہ کبھی بھی انتقام کے بارے میں نہ سوچتے تھے اور نہایت ہی سخت حالات اور سخت چبھن کے وقت بھی ان کے دل میں قتل کا خیال تک نہ آتا تھا بلکہ ایسے لوگوں کو اسلام نے جو حقوق دیئے تھے ‘ وہ ان میں سے کسی حق کو بھی مارنے کی کوشش نہ کرتے تھے ۔
کسی مومن کے قتل سے بچنے کی خاطر اگرچہ چوک سے ہو ‘ اور مسلمانوں کے دلوں کو تمام خواہشات سے پاک کرنے کی خاطر اور ان کے سامنے صرف فی سبیل اللہ جہاد کرنے کے مقصد کو اچھی طرح اجاگر کرنے کی خاطر مسلمانوں کو اب حکم دیا جاتا ہے کہ اگر وہ جہاد و قتال کے لئے نکلیں تو جنگ شروع کرنے سے پہلے یہ بات معلوم کرلیں کہ آیا لوگ مسلمان ہیں یا نہیں اور اگر کوئی بظاہر اظہار اسلام کر دے اور السلام علیکم کہہ دے تو حملہ نہ کریں ۔ اس لئے کہ جنگ کے حالات میں وہ تفتیش نہیں کرسکتے کہ آیا یہ اظہار اسلام حقیقت پر مبنی ہے یا نہیں۔
Ayah 4:94(آیت) ” نمبر 94۔
اس آیت کے نزول کے بارے میں کئی روایات وارد ہوئی ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے گشتی دستے کو ایک شخص ملا جس کے ساتھ اس کی بکریاں بھی تھیں ۔ اس شخص نے اس فوجی دستے کو السلام علیکم کہا ۔ مقصد یہ تھا کہ میں مسلمان ہوں ۔ بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ اس نے السلام علیکم محض اپنے آپ کو بچانے کے لئے کہا ہے ۔ اس لئے انہوں نے اسے قتل کردیا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اس طرح نہ کریں ۔ یوں ان کے دلوں سے تمام مفادات کا تصور ہی نکال دیا ۔ ان کو یہ تاثر دیا گیا کہ وہ کسی فیصلے میں جلد بازی نہ کریں ۔ اسلام ان دونوں باتوں کو پسند نہیں کرتا۔
اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو یاد دلاتے ہیں کہ وہ دور اور وہ زمانہ دور تو نہیں ہے کہ تم بھی اسی جاہلیت کے اندھیروں میں تھے جس میں تمہارے فیصلے نہایت ہی جلد بازی اور سرکشی پر مبنی ہوتے تھے ‘ تم صرف دولت کے متلاشی تھے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں جتلاتے ہیں کہ یہ اسی کا احسان تھا کہ اس نے تمہارے دلوں کو پاک کردیا اور تمہارے نصب العین بلند ہوگیا ۔ اور اب وہ جاہلیت کی طرح دنیاوی مفادات کے لئے جہاد نہیں کررہے اور یہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے قانونی حدود اور جابطے مقرر کئے اور اب یہ صورت نہیں ہے کہ پہلا اشتغال ہی آخری فیصلے صادر کر دے جس طرح جاہلیت میں ہوا کرتا تھا ۔
اس آیت میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ دیکھو ایک وقت تھا کہ تم خود اپنی قوم سے اپنے ایمان کو چھپاتے تھے اس لئے کہ تم کمزور تھے اور خوفزدہ تھے ۔ صرف مسلمانوں کو پتہ ہوتا تھا کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں ۔ یہ مقتول اپنی قوم سے اسلام کو چھپا رہا تھا اور جب وہ مسلمانوں سے ملا تو اس نے اپنا اسلام ظاہر کردیا اور السلام علیکم کہا ۔
(آیت) ” (کذالک کنتم من قبل فمن اللہ علیکم فتبینوا ان اللہ کان بما تعملون خبیرا “۔ (4 : 94) (اسی حالت میں تم خود بھی تو اس سے پہلے مبتلا رہ چکے ہو ‘ پھر اللہ نے تم پر احسان کیا ‘ لہذا تحقیق سے کام لو ‘ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے)
یوں اسلام دل کی دنیا کو جھنجوڑتا ہے تاکہ دل زندہ ہوں ‘ محتاط ہوں اور اللہ کی نعمت عظیمہ کا احساس کریں ۔ اور اس احساس ‘ خدا ترسی کے سائے میں اللہ کے احکام وقوانین کو نافذ کریں اور حالات کی اچھی طرح چھان بین کرنے کے بعد فیصلے کریں ۔ آپ نے دیکھا کہ اس سبق میں بعض مقامی اور بین الاقوامی معاملات کو کس قدر شرح وبسط اور تفصیل سے لیا گیا ہے اور بالکل نئے میدان میں یہ قانون سازی کی گئی ہے ۔ کس قدر پاکیزہ جذبے اور پاکیزہ اہداف کے ساتھ اور یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے یہ کام ہوا تھا جبکہ دنیا میں قانون بین الاقوام کا وجود ہی نہ تھا ۔