Ayahs 4:102–103(آیت) ” نمبر 102 تا 103۔
جو شخص قرآن کے اسرار و رموز پر غور کرتا ہے اور جو شخص ربانی منہاج تربیت میں فکر کرتا ہے خصوصا اس سبق پر تو اس پر عجیب اسرار و رموز کا انکشاف ہوتا ہے ۔ اس سبق کے اندر ایسے لمحات فکر واحساس آتے ہیں جن کا اثر انسان کی روح کی گہرائیوں تک جا اترتا ہے ۔ ذرا میدان معرکہ کی ایک جھلکی ملاحظہ فرمائیں :
قرآن کریم کی یہ آیت محض ایک فقہی اور قانونی مسئلہ نہیں بیان کرتی کہ صلوۃ الخوف اس طرح ہوگی اس کے اندر تعلیم وتربیت کا بیشمار سامان ہے جس کے ذریعے ایک انقلابی جماعت کی اخلاقی تربیت ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ اسے انقلابی عمل سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے ۔
آیت سے جو پہلی بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام میں نماز کی اس قدر اہمیت ہے کہ میدان کارزار کے اندر بھی نماز کو نہیں چھوڑا جاتا اور یہ بات ایمانی نقطہ نظر سے بالکل واضح ہے کہ نماز میدان کار زار کے اندر ایک بہترین ہتھیار ہے بلکہ یہ سب ہتھیاروں سے زیادہ اہم ہے اور ہر معرکے کے اندر اس ہتھیار سے فائدہ اٹھانا بہت ہی ضروری ہے ۔ اس معرکے کے مزاج اور اس کی فضا کے ساتھ نماز کا گہرا تعلق ہے ۔
یہ ابتدائی دور کے اسلامی دستے جن کی تربیت ربانی اور قرآنی منہاج کے ساتھ کی گئی تھی ‘ وہ اپنے دشمن کا مقابلہ اس اسلحہ کے ساتھ کرتے تھے جس میں وہ دشمن پر فوقیت رکھتے تھے ۔ وہ اپنے دشمنوں پر یہ فوقیت رکھتے تھے کہ وہ صرف ایک الہ وحدہ لاشریک کو مانتے تھے ۔ انہوں نے اپنے رب کو اچھی طرح پہچان لیا تھا اور ان کو یہ احساس پوری طرح حاصل ہوتا تھا کہ ان کا وہ الہ پوری طرح ان کے ساتھ شریک جنگ ہے ۔ وہ مقصدیت کے اعتبار سے بھی دشمن پر فوقیت رکھتے تھے ۔ ان کا نصب العین بلند تھا اور وہ بھی اسے سب سے اونچا ہدف سمجھتے تھے ۔ ان کا تصور کائنات ‘ تصور حیات اور تصور غایت وجود انسانی ہر دشمن کے مقابلے میں بلند تھا ۔ اس برتر نظام زندگی کے تحت ان کی جو تنظیم وجود میں آئی تھی اس میں بھی وہ دشمن کے مقابلے میں برتر تھے ۔ میدان جگن میں نماز ان تمام برتریوں کا اشارہ تھی اور ہر وقت ان کو یہ سبق اور شعور یاد دلاتی تھی کہ وہ برتر ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ نماز میدان کار زار میں ان کے لئے ایک اعلی ترین اسلحہ تھی بلکہ ان کا انحصار ہی اس اسلحہ پر تھا ۔
دوسری بات جو ان آیات کے ضمن میں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ اہل ایمان روحانی طور پر تیار اور بیدار ہیں اور دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہیں۔ دشمن بھی گھات میں بیٹھا ہے اور اہل ایمان کی طرف سے غفلت کی ایک مختصر سی گھڑی کے انتظار میں ہے کہ ذرا وہ غافل ہو اور وہ ان کا اسلحہ اور سازو سامان سب پر قبضہ کر کے اچانک حملہ آور ہوجائے ۔ اس تنبیہ ڈراوے اور ثابت قدمی اور اطمینان کی تلقین کے ساتھ ہی بتایا جاتا ہے کہ جن لوگوں سے تمہارا مقابلہ ہے ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک توہین آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ ایک طرف سے سخت حکم ہے کہ حالت بیداری اور تیاری میں رہو اور دوسری طرف یہ یقین دہانی ہے کہ مطمئن رہو ‘ ایک طرف سخت حساس اور چوکنا رہنے کی ہدایت اور دوسری جانب سے پورا اطمینان ۔ یہ ہے وہ منہاج جس کے مطابق اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو تربیت دیتے ہیں اس لئے کہ دشمن سخت مکار ہے اور وہ اوچھے ہتھکنڈے اختیار کرسکتا ہے ۔
صلوۃ الخوف کی کیفیت میں فقہاء کا اختلاف ہے ۔ یہ مسائل انہوں نے اسی آیت سے لئے ہیں ۔ ہم صرف عام کیفیت بیان کریں گے اور فقہی تفصیلات میں نہیں جائیں گے ۔
(آیت) ” واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوۃ فلتقم طائفۃ منھم معک ولیاخذوا اسلحتھم فاذا سجدوا فلیکونوا من ورآء کم ولیات طائفۃ اخری لم یصلوا فلیصلوا معک ولیاخذوا حذرھم اسلحتھم “۔ (4 : 102)
(اور اے نبی ‘ جب تم مسلمانوں کے درمیان ہو اور (حالت جنگ میں) انہیں نماز پڑھانے کھڑے ہو تو چاہئے کہ ان میں سے ایک گروہ تمہارے ساتھ کھڑا ہو اور اپنے اسلحہ لئے رہے ‘ پھر جب وہ سجدہ کرلے تو پیچھے چلا جائے اور دوسرا گروہ جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے آکر تمہارے ساتھ نماز پڑھے اور وہ بھی چوکنا رہے اور اپنے اسلحہ لئے رہے)
مطلب یہ ہے کہ آپ موجود ہوں اور ان کے لئے امامت کر رہے ہوں تو ان میں سے ایک فریق آپ کے پیچھے پہلی رکعت پڑھ لے اور دوسرا فریق اسلحہ لے کر چوکیداری کرے اور جب پہلا فریق رکعت پڑھ لے تو پھر وہ چلا جائے اور چوکیداری پر بمعہ اسلحہ کھڑا ہوجائے اور دوسرا آجائے اور وہ آپ کے پیچھے ایک رکعت پڑھ لے ۔ اس طرح آپ کی نماز تمام ہوجائے گی اور آپ سلام پھیر لیں گے ۔
اس کے بعد پہلا فریق آئے گا اور اس کی جو ایک رکعت رہتی ہے وہ پڑھ لے گا اور چلا جائے گا ۔ یہ ایک رکعت اکیلی ہوگی ‘ پھر یہ فریق جائے ‘ چوکیداری پر کھڑا ہو اور دوسرا فریق آئے اور اس کی جو ایک رکعت رہ گئی ہو پڑھے جبکہ پہلا فریق چوکیداری کرے ۔
اس طرح دونوں فریق امام کے ساتھ نماز پڑھ لیں گے ‘ رسول اللہ ﷺ کی امامت میں اور آپ کے بعد جو خلفاء اور امراء آئیں گے ان کیلئے بھی یہی حکم ہے ۔
(آیت) ” ود الذین کفروا لوتغفلون عن اسلحتکم وامتعتکم فیملون علیکم میلۃ واحدۃ (4 : 102) (کیونکہ کفار اس تاک میں ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان کی طرف سے ذرا غافل ہو تو وہ تم پر یکبارگی ٹوٹ پڑیں)
کفار کی جانب سے مومنوں کے خلاف یہ ایسی خواہش ہے جو ہمیشہ ان کے دلوں میں پائی جاتی ہے ۔ ماہ وسال گزر رہے ہیں ‘ صدیاں بیت گئی ہیں اور آج بھی کفار کی خواہش یہی ہے ‘ یہ ہے وہ حقیقت جو اللہ تعالیٰ نے پہلی جماعت مومنہ کے دل میں بٹھائی تھی اور آج بھی اسی کی تاکید ہو رہی ہے ۔ یہ درست ہے کہ اللہ اس وقت ان لوگوں کے لئے جنگی اسکیم تیار فرماتا تھا لیکن صلوۃ الخوف میں ‘ جس طرح کہ ہم نے سمجھا ‘ ہمارے لئے بھی جنگی اسکیم موجود ہے ۔
یہ احتیاط اور یہ نفساتی تیاری اور یہ مسلسل ہتھیار بند رہنا ہر وقت لازمی نہیں ہے ‘ نہ مناسب ہے کہ مسلمانوں کو محض مشقت میں ڈالنے کے لئے دائمی حکم دیا جائے لیکن جس قدر ان سے ہو سکے وہ ایسا کریں ۔
(آیت) ” ولا جناح علیکم ان کان بکم اذی من مطر او کنتم مرضی ان تضعوا اسلحتکم “۔ (4 : 102)
(البتہ اگر تم بارش کی وجہ سے تکلیف محسوس کرو یا بیمار ہو تو اسلحہ رکھ دینے میں مضائقہ نہیں) ایسے حالات میں اسلحہ اٹھانا مشکل ہوتا ہے ‘ اور مفید بھی نہیں ہوتا ۔ محض احتیاط ہی کافی ہوتی ہے ۔ اور اللہ کی مدد پر بھرپور اعتماد۔
(آیت) ” وخذوا حذرکم ان اللہ اعد للکفرین عذابا مھینا) (4 : 102) (مگر پھر بھی چوکنے رہو یقین رکھو کہ اللہ نے کافروں کے لئے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے) ممکن ہے کہ یہی احتیاط یہی بیداری اور یہی پاسداری اہل کفر کے عذاب کا وسیلہ بن جائے ‘ جو اللہ نے ان کے لئے تیار کیا ہے اور سخت توہین آمیز ہے اس طرح اہل ایمان اللہ کی قدرت کا ذریعہ بن جائیں اور اللہ کی مشیت ان کے ذریعے پوری ہو ۔ مذکورہ بالا احتیاط کے ساتھ ساتھ یہ اہل ایمان کے لئے مژدہ اطمینان ہے ۔ اس لئے کہ اہل ایمان کو پورا یقین تھا کہ دشمنان اسلام کے خلاف اللہ ان کا مددگار ہے اور دشمنان اسلام کے لئے توہین آمیز عذاب مقدر ہے ۔ اور ہو سکتا ہے کہ وہی دست قدرت ہوں ۔
(آیت) ” فاذا قضیتم الصلوۃ فاذکروا اللہ قیما وقعودا وعلی جنوبکم فاذا اطماننتم فاقیموا الصلوۃ ان الصلوۃ کانت علی المومنین کتبا موقاتا “۔ (4 : 103)
(پھر جب نماز سے فارغ ہوجاؤ تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے رہو اور جب اطمینان نصیب ہوجائے تو پوری نماز پڑھو ۔ نماز درحقیقت ایسا فرض ہے جو پابندی وقت کے ساتھ ایمان پر لازم کیا گیا ہے)
حکم دیا جاتا ہے کہ ہر حال میں دلوں کو اللہ کے ساتھ جوڑے رکھو ‘ نماز میں بھی اور نماز کے باہر رہتے ہوئے بھی اس لئے کہ تعلق باللہ سب سے بڑی جنگی تیاری ہے اور وہ ہتھیار ہے جو کبھی زنگ آلود نہیں ہوتا۔
اطمینان اور امن کے وقت حکم یہ ہے کہ نماز پوری کی پوری بمع جملہ ارکان اطمینان کے ساتھ ادا کرو اور اس میں قصر نہ کرو جیسا کہ کہا گیا اس لئے کہ قصر کی رخصت کچھ حالات کے تحت تھی ۔ اس لئے کہ نماز ایک ایسا فریضہ ہے جسے مقررہ وقت پر ادا کرنا لازمی ہے اور جب حالت خوف نہ رہے تو اس کی ادائیگی اسی طرح ہوگی جس طرح عام طور پر ہوتی ہے ۔
” نماز درحقیقت ایسا فرض ہے جو پابندی وقت کے ساتھ اہل ایمان پر لازم کیا گیا ہے “ کے الفاظ سے ظاہریہ نے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر نماز قضا ہوجائے تو پھر اس کی ادائیگی نہیں ہوسکتی ۔ اس نے نزدیک قضا نماز پڑھنے سے فرض ادا نہیں ہوتا ۔ وہ کہتے ہیں فرض نماز وقت مقررہ کے بعد نہیں ہوتی ۔ اگر وقت چلا جائے تو پھر نماز پڑھنے اور ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ البتہ جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ ادا ہوجاتی ہے ۔ ہاں قضا کی ادائیگی بہت جلدی ہونا چاہئے اور خواہ مخواہ تاخیر کرنا مناسب نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ مزید فروعی اختلافا میں ہم داخل اندازی نہیں کرتے ۔
اب اس سبق کا خاتمہ قریب ہے ۔ حکم دیا جاتا ہے کہ جہاد کا عمل جاری رکھو ‘ اگرچہ تمہیں رنج والم کا سامنا کرنا پڑے اور وہ تمہارے لئے مشقت اور تھکاوٹ کا باعث ہو ۔ ایک ایسا تیز احساس دلایا جاتا ہے اور اس قدر تیز جھٹکا دیا جاتا ہے کہ یہ احساس دلوں تک اتر جاتا ہے اور یہ احساس دلوں کی گہرائیوں تک اتر کر انسانی ضمیر کو روشن کرتا ہے اور اسی روشنی میں مقاصد اور رجحانات اور نصب العین متعین ہوتے ہیں ۔
Ayah 4:104(آیت) ” نمبر 104۔
یہ معدودے چند الفاظ ہیں ‘ جن میں دو ٹوک اور واضح خطوط کھینچ دیے گئے ہیں ‘ یہ بتاتے ہیں کہ ایک مومن کی راہ کس قدر طویل اور پر مشقت ہے ۔ مومنین ہمیشہ چکی کے دو پاٹوں کے درمیان ہوتے ہیں ۔ بیشک اس دائمی معرکے میں وہ رنج والم اور گہرے زخم پاتے ہیں لیکن وہ یہ سوچیں کہ کیا یہ تکالیف صرف ان پر ہی آئی ہیں یا دشمنوں کو بھی انہیں جیس تکالیف سے سابقہ درپیش ہے ۔ دشمن بھی تو رنج والم سے دوچار ہوتے ہیں ۔ انہیں بھی تو زخم آتے ہیں۔ لیکن تم دونوں میں فرق یہ ہے کہ اہل ایمان تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور اللہ سے شاندار جزا کے امیدوار ہیں اور ان کے دشمنوں کی حالت یہ ہے کہ وہ بےمقصد اور بےفائدہ جنگ لڑ رہے ہیں ‘ وہ اللہ کے سامنے تو کچھ لے کر جانے والے نہیں ‘ نہ انہیں اس دنیا میں اللہ کی جانب سے کوئی امید ہے اور نہ آخرت میں کوئی توقع ہے ۔۔۔۔۔۔ پس اگر کفار اس معرکے پر مصر ہیں تو مسلمانوں کے لئے تو مناسب ہے کہ وہ اس سے زیادہ اصرار کریں ۔ اگر کفار اس معرکے میں گہرے زخم برداشت کرتے ہیں تو اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ ان سے زیادہ زخم کھاتے جائیں اور صبر کریں ۔ اور ان کو چاہئے کہ وہ ان اہل کفار کا پیچھا کریں ‘ جہاد و قتال جاری رکھیں اور انہیں اس حالت تک پہنچا دیں کہ ان کی قوت ٹوٹ جائے اور وہ کسی مسلمان کے دین اور جان ومال کے لئے فتنہ نہ رہیں ۔
ہر جدوجہد میں نظریہ حیات برتر رہتا ہے بعض ایسے لمحات بھی آتے ہیں کہ مصائب انسان کی قوت برداشت سے بڑھ جاتے ہیں ۔ درد ناقابل برداشت ہوتا ہے ۔ ایسے حالات میں مومن کو خاص زاد وعتاد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جس کا فیضان سرچشمہ ایمان اور نظریہ سے ہوتا ہے اور یہ اللہ کی یاد ہوتی ہے جو ہر زخم کے لئے بہتر مرہم ہوتی ہے ۔
یہ ہدایات ‘ اس وقت ایک متوازن اور برابری کی جنگ کے اندر دی جارہی تھیں ۔ اس میں فریقین برسرپیکار تھے دونوں کا رنج والم سے سابقہ تھا اور دونوں اسلحہ بند تھے ۔۔۔۔۔ لیکن اہل ایمان پر ایسا وقت بھی آسکتا ہے جس میں معرکہ متوازن نہ ہو ‘ کھلی جنگ نہ ہو رہی ہو ‘ ایسے حالات میں بھی یہی اصول ہے ۔ باطل اہل اسلام کو کبھی بھی برداشت نہیں کرتا اگرچہ باطل غالب ہو اور اسلامی عقیدہ مغلوب ہو اس لئے کہ باطل کے اندر ایک تضاد پایا جاتا ہے ۔ اس داخلی تضاد کی وجہ سے وہ بےچین ہوتا ہے ۔ وہ خود اپنے اندرون کی کشمکش سے دو چار ہوتا ہے پھر وہ فطرت انسانی اور فطرت اشیاء کے ساتھ بھی برسرپیکار ہوتا ہے ۔
گروہ مومن کی راہ ایسے حالات میں بھی یہی ہے کہ وہ برداشت کرے اور ہمت نہ ہارے ۔ اسے یہ حقیقت پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اگرچہ وہ مصائب کا شکار ہے لیکن اس کا دشمن اندرونی تضاد کے روگ کا بیمار ہے ۔ روگ کی بھی تو قسمیں ہیں دلی چرکے بدن کے زخموں سے زیادہ گہرے ہوتے ہیں اور دشمن کو ایسے زخم آتے ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتے ۔ (آیت) ” وترجون من اللہ مالا یرجون ‘ (4 : 104) (اور تم اللہ سے اس چیز کے امیدوار ہو جس کے وہ امیدوار نہیں) اور یہ وہ مرہم ہے جو دشمن کو میسر نہیں ہے یہی وہ مقام ہے جہاں سے دونوں فریقوں کی راہیں جدا ہوتی ہیں اور اس بات کو اچھی طرح اللہ جانتا ہے ۔ (آیت) ” وکان اللہ علیما حکیما “۔ (4 : 104) اللہ کو معلوم ہے کہ دلوں اور جذبوں کا مداوا کیا ہے اور ان کے ساتھ ڈیلنگ کس طرح ہوتی ہے اور دلوں کے زخموں کا علاج کیا ہے ‘ روح کی مرہم کیا ہے ؟ جس سے اہل کفر بیخبر اور محروم ہیں۔
Ayahs 4:105–109درس نمبر 39 ایک نظر میں :
ان آیات میں ایک ایسی کہانی کی طرف اشارہ ہے جس کی کوئی مثال اس کرہ ارض پر نہیں ملتی بلکہ انسانیت کی تاریخ میں اس کے ساتھ ملتی جلتی کوئی مثال نہیں ہے ۔ یہ مثال بھی شاہد عادل ہے کہ یہ دین من جانب اللہ ہے اور لازما من جانب اللہ ہے ۔ اس لئے کہ انسانوں کا تصور انصاف اور عدالت جس قدر بھی بلند ہو ‘ ان کی روح جس قدر بھی صاف ہوجائے اور ان کا مزاج جس قدر بھی صراط مستقیم پر قائم ہو وہ اپنے آپ کو اس مقام بلند تک نہیں پہنچا سکتے ‘ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ کام صرف وحی الہی کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ انسانی تاریخ کے افق پر کھینچا جانے والا یہ گراف اس قدر اونچا ہے کہ اس مقام تک انسانیت صرف اسلامی نظام زندگی کے زیرسایہ ہی پہنچ سکی اور آئندہ بھی یہ سربلندی صرف اسلامی نظام ہی کے زیر سایہ نصیب ہو سکتی ہے ۔
یہ واقعہ اس وقت ہوا جب مدینہ کے یہودی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وہ تمام زہریلے تیر اور ہتھیار استعمال کر رہے تھے جو ان کے ترکش میں موجود تھے اور جس کی تفصیلات اس سورة ‘ سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں بیان ہوچکی ہیں۔ حالات ایسے تھے کہ یہودی اسلام کے خلاف ہر قسم کا جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے تھے ۔ وہ مشرکین کا ایک محاذ اسلام خلاف بنا رہے تھے اور مشرکین کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ ان کے لئے راہ ہموار کرتے تھے ‘ پروپیگنڈے میں جھوٹی خبریں اڑاتے تھے ‘ لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرتے تھے ۔ حضور ﷺ کی قیادت کی توہین کرتے تھے ‘ وحی اور رسالت میں شکوک پیدا کرتے تھے ۔ وہ اسلامی معاشرے میں اندر سے انتشار پیدا کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے اور رات دن اس کام میں لگے ہوئے تھے کہ اسلام کے دشمنوں کو جمع کر کے مسلمانوں پر حملہ کرا دیں ۔ تحریک اسلامی مدینہ میں بالکل نئی تھی ‘ اور انسانوں کے نفوس کے اندر ابھی تک جاہلیت کے آثار موجود تھے ۔ بعض مسلمانوں اور یہودیوں اور مشرکوں کے درمیان ابھی تک رشتہ داری اور دوسرے روابط بھی قائم تھے اور یہ تمام امور صفوں کے لئے خطرے کا باعث تھے ۔
ایسے مشکل ‘ خطرناک ‘ اور ہنگامی حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو یہ سخت ہدایات دی گئیں ۔ مقصد یہ مقصد یہ تھا کہ ایک یہودی ملزم کے ساتھ انصاف کرو ‘ اس پر چوری کا الزام جھوٹا ہے اور جن لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا ہے ان کا فرض ہے کہ وہ اس کی تلافی کریں ۔ یہ مدینہ کے انصار کا ایک گھرانا تھا ۔ انصار ان دونوں رسول اللہ ﷺ کا سرمایہ تھا ‘ جو ان تمام یہودی سازشوں کے مقابلے میں آپ کے حامی ومدد گار تھے اور آپ ﷺ کی رسالت اور دین کے معاون تھے ۔
رواداری ‘ سربلندی اور عدل و انصاف کا یہ کس قدر اونچا معیار ہے ۔ اس کی تعریف و توصیف کے لئے تو الفاظ نہیں ملتے ۔ تمام باتیں ‘ تمام تبصرے اور تمام تشریحات اس معیار اور سطح سے نیچے رہ جاتی ہیں ۔ اس سطح اور معیار تک انسانی طاقتیں اپنی کوشش نہیں پہنچ سکتیں ‘ صرف انسان یہ معجزہ نہیں دکھا سکتے ‘ یہ تو اسلامی منہاج کی قیادت اور رہنمائی ہے جو کسی انسان کو اس مقام بلند تک پہنچاسکتی ہے ۔
وہ کہانی جو ان آیات کے پس منظر کے سلسلے میں بیان ہوئی اور جسے متعدد مصادر نے نقل کیا ہے ‘ مناسب ہے کہ انصار سے سنی جائے ۔ قتادہ ابن النعمان اور ان کے چچارفاعہ دونوں نے حضور ﷺ کے ساتھ بعض غزوات میں جنگ فرمائی ۔ ان میں سے ایک کی زرہ گم ہوگئی (رفاعہ کی) عام طور پر انصار کے ایک خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص کے بارے میں یہ شبہ ہونے لگا کہ اس نے یہ زرہ چوری کی ہے ۔ مالک نے حضور ﷺ کے پاس یہ رپورٹ درج کرائی کہ طعمہ ابن ابیرق نے میری زرہ چرائی ہے ۔ بعض روایات میں بشیر ابن ابیرق کا نام آتا ہے ۔ اس کے بارے میں یہ بھی مشہور تھا کہ وہ صحابہ کرام کی ہجو میں اشعار لکھتا اور مشہور کرتا کہ یہ فلاں عرب شاعر کے ہیں ۔ جب چور کو معلوم ہوا کہ اس کے خلاف رپورٹ ہوچکی ہے تو اس نے جلدی سے یہ زرہ ایک یہودی زید ابن سمین کے گھر پھینک دی اور اپنے خاندان کے بعض لوگوں سے کہا کہ میں نے زرہ غائب کردی ہے اور فلاں کے گھر میں پھینک دی ہے اور یہ جلد ہی اس کے گھر سے برآمد ہوگی ۔ تم رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور یہ کہو کہ ہمارے بھائی تو بےگناہ ہیں اور فلاں شخص چور ہے اور ہم نے ۔۔۔۔ اس سلسلے میں معلومات جمع کرلی ہیں ۔ آپ برسرعام ہمارے آدمی کی برات فرمائیں اور اس کی صفائی فرمائی دیں اس لئے کہ اگر اسے آپ کے ذریعے اللہ نے باعزت طور پر بری نہ کیا تو اس کی عزت خاک میں مل جائے گی ۔
جب حضور ﷺ کو معلوم ہوا کہ فی الواقعہ زرہ یہودی کے گھر سے برآمد ہوگئی ہے تو آپ نے مجمع میں اعلان کردیا کہ ابن ابیرق بےگناہ ہے ‘ اس لئے کہ اس کے خاندان نے حضور ﷺ سے درخواست کی تھی کہ قتادہ ابن النعمان اور ان کے چچا ہمارے ایک مسلمان خاندان کے گھر آئے اور اسے چوری کا ملزم بنا دیا اور یہ کام انہوں نے بغیر کسی ثبوت اور شہادت کے کیا ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ۔ میں نے آپ ﷺ سے بات کی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم نے جان بوجھ کر ایک ایسے خاندان کے خلاف چوری کا الزام عائد کردیا جن کا اسلام اور نیکی مشہور ومعروف ہیں اور بغیر ثبوت کے “۔ میں واپس ہوگیا ‘ لیکن میری حالت یہ تھی کہ میں یہ کہہ رہا تھا کہ اگر میری تمام دولت چلی جاتی اور میں حضور ﷺ سے بات نہ کرتا تو کہتا اچھا ہوتا ۔ اس پر میرے چچا رعافہ آئے تو مجھے کہا بھتیجے ! یہ تو نے کیا کیا ؟ تو میں نے اسے یہ بات بتائی جو حضور ﷺ نے کہی تھی تو رفاعہ نے کہا اللہ ہی مددگار ہے ۔ اس پر زیادہ وقت نہ گزرا کہ یہ آیات نازل ہوئیں ۔
(آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما ارک اللہ ولا تکن للخائنین خصیما “۔ (4 : 105) ” یعنی آپ بنی ابیرق کے لئے وکیل صفائی نہ بنیں ۔ ” خصیم “ کے معنی وکیل ‘ دفاع کرنے والے اور کسی کی جانب سے مجادلہ اور مباحثہ کرنے والے کے ہوتے ہیں ۔ آپ نے قتادہ ؓ کو جو کہا اس سے اللہ کی مغفرت طلب کریں ‘ بیشک اللہ غفور الرحیم ہے ۔ مزید یہ آیات ۔ (ولاتجادل) سے (رحیما) تک ۔۔۔۔۔ اگر وہ معافی چاہتے تو اللہ ان کو معاف کردیتا ۔۔۔۔۔ اسی طرح (ومن یکسب) سے (اثما مبینا) تک اور (ولو لا فضل اللہ) سے (اجرا عظیما) تک ۔۔۔۔۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضور ﷺ زرہ لے کر آئے اور رفاعہ کو دے دی ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ جب میرے چچا کے پاس زرہ پہنچی ۔ وہ بوڑھے تھے اور جاہلیت ہی میں ان کی نظر ختم ہوگئی تھی۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ وہ مجبور ہو کر مسلمان ہوگئے ہیں ۔ جب میں نے ان کو زرہ دی تو انہوں نے یہ اللہ کی راہ میں ہوگئی ۔ یہاں سے مجھے یقین ہوگیا کہ وہ صحیح طرح مسلمان تھے ۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو بشیر (چور) مشرکین کے ساتھ مل گیا ۔ اس پر مزید آیات کا نزول ہوا۔
(آیت) ”۔ ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جھنم وسآءت مصیرا (115) ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلا بعیدا “ (116) (4 : 115۔ 116)
مسئلہ : صرف یہ نہ تھا کہ ایک بےگناہ بری کردیا گیا جس پر سازش کی وجہ سے الزام لگایا تھا اگرچہ اللہ کے ہاں کسی بےگناہ کا بری کرنا بھی ایک عظیم مسئلہ ہے ‘ مسئلہ تو اس سے بھی بڑا اور اہم تھا ۔ یعنی انصاف کی ترازو کو بالکل برابر کرنا مطلوب تھا کہ ہو کسی ایک طرف جھک نہ جائے ۔ نہ نفسانی خواہشات کی طرف اور نہ عصبیت کی وجہ سے ۔ نہ دوستی اور دشمنی کی وجہ سے ‘ میزان عدل میں کسی بھی طرح جھکاؤ نہ آجائے ۔ غرض جو حالات بھی ہوں ‘ انصاف ہو اور بےلاگ ہو۔
مسئلہ یہ تھا کہ اس جدید معاشرے کو تمام آلائشوں سے پاک کردیا جائے اور اس کے اندر سے جاہلیت اور عصبیت کے باقی ماندہ آثار کو بھی مٹا دیا جائے چاہے یہ آثار جس شکل و صورت میں بھی ہوں ۔ خصوصا جبکہ ان کا تعلق عوام الناس کے مسئلہ عدل سے ہو ۔ اس کے بعد ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جانی تھی جو بالکل منفرد ہو اور پوری تاریخ انسانی میں بےمثال ہو ۔ یہ بنیاد بالکل پاک وصاف اور مستحکم اصولوں پر رکھنی تھی ۔ جن میں تعصب ‘ ذاتی رجحان ‘ وقتی مصلحتوں اور ذاتی خواہشات کا کوئی دخل نہ ہو ۔
اس مقدمے میں بیشمار اسباب موجود تھے جن کی وجہ سے مجرموں کے ساتھ نرمی کی جاسکتی تھی یا کم ازکم انکے بارے میں یہ آیات نازل نہ ہوتیں اور ان پر تنقید نہ کی جاتی ۔ ان کو اس طرح سرعام رسوا نہ کیا جاتا یا ان کی سرعام پردہ دری نہ کی جاتی ۔
پہلی وجہ تو یہ ہو سکتی تھی کہ اس مقدمے میں پہلا ملزم یہودی تھا اور یہودی وہ لوگ تھے کہ ان کے ترکش کا ہر تیر اسلام کے خلاف استعمال ہوتا تھا ۔ یہودی وہ لوگ تھے کہ اس زمانے میں مسلمانوں کو ان کی جانب سے تلخ ترین اذیتیں دی جاتی تھیں اور خدا کا کرنا ایسا ہے کہ ہر دور میں وہ مسلمانوں کے خلاف نیش زنی کرتے رہتے ہیں ۔ پھر یہودیوں کا نظریہ یہ تھا کہ ہو نہ کسی کا حق تسلیم کرتے تھے ‘ نہ کسی کے ساتھ عدل و انصاف کرتے تھے ۔ ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے ہاں کوئی اخلاقی قدر بھی نہ تھی اور مسلمانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں تو وہ کسی اخلاقی اصول کے قائل ہی نہ تھے ۔
ایک سبب یہ بھی تھا کہ اصل ملزم انصاری تھے اور انصار وہ لوگ تھے جنہوں نے حضور کو پناہ دی اور آپ کی نصرت کی ۔ پھر انصار کے بعض گھرانوں کے درمیان جاہلیت سے دشمنیاں چلی آرہی تھیں اور جس طرح الزام اور تفتیش کا رخ یہودیوں کی طرف مڑ گیا تھا اس وقت ان تحقیقات کو یہاں سے ڈراپ کر کے اہل اسلام کی صفوں کے درمیان انتشار سے بچا جاسکتا تھا ۔
ایک تیسرا جواز یہ بھی تھا کہ اس طرح یہودیوں کے ہاتھ میں انصار کو ورغلانے کی خاطر ایک نیا ہتھیار آرہا تھا ۔ یہ کہ انصار اور مسلمان ایک دوسرے کی بھی چوریاں کرتے ہیں اور پھر یہودیوں پر الزام دھرتے ہیں ۔ یہودی اس واقعہ کو بھی اسلام کے خلاف استعمال کرسکتے تھے ۔
لیکن یہ معاملہ ان معمولی باتوں کی نسبت بہت زیادہ اہمیت رکھتا تھا ‘ ان تمام خدشات اور اعتبارات سے یہ معاملہ بہت اہم اور بلند تھا ۔ یہ باتیں اسلامی نقطہ نظر سے اہمیت نہ رکھتی تھیں ۔ اسلام کے پیش نظر یہ مقصد تھا کہ اس جماعت کو اس قدر تربیت دی جائے کہ وہ نظام خلافت ارضی اور منصب قیادت بشری کے لئے تیار ہوجائے ۔ یہ امت پوری انسانیت کی قیادت اور پورے کرہ ارض پر خلافت کے لئے اس وقت تک تیار نہیں ہو سکتی تھی جب تک اس کی تربیت نہایت ہی مستحکم اور برتر اصولوں پر نہ کی جائے جب تک اسلامی نظام زندگی کے اصول اس کی زندگی کا جزء نہ بن جائیں اس کے وجود کو پوری طرح دھو کر اور نچوڑ کر پاک وصاف نہ کردیا جائے اور اسے ہر قسم کی انسانی کمزوریوں سے پاک نہ کردیا جائے ‘ جو جاہلیت کے دور سے اس کی شخصیت کا جزء تھیں ۔ نیز جب تک خود اس امت کے درمیان پختہ نظام عدل قائم نہ کردیا جائے تاکہ وہ اس کے مطابق تمام لوگوں کے درمیان انصاف کریں ۔ اور ان کا یہ انصاف اور ان کی یہ عدالت تمام انسانی کمزوریوں سے پاک ہو اور وہ تمام ظاہری مصلحتوں سے صرف نظر کرنے کے قابل ہوجائیں ۔
اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات میں اور اس مشکل ترین مرحلے میں ایک یہودی کے واقعہ کے ذریعے امت مسلمہ کو عدل و انصاف کے راستے پر ڈالا ایسے حالات میں کہ اس دور میں مسلمان یہودیوں کی جانب سے بیشمار ریشہ دوانیوں کا شکار تھے اور وہ پورے عالم عرب میں مسلمانوں کے خلاف محاذ بنانے میں بھی مصروف تھے ۔ مدینہ کے منافقین کے بھی معاون و مددگار تھے ‘ اور وہ دین اسلام کے خلاف اپنے ترکش کا ہر تیر استعمال کر رہے تھے اور اس کے خلاف ہر سازش کر رہے تھے ۔ مسلمانان مدینہ کے لئے مدینہ میں نہایت ہی خطرناک حالات تھے جہاں وہ دشمنیوں اور سازشوں میں گھرے ہوئے تھے اور یہ سب سازشیں یہودیوں کی طرف سے تھیں ۔ اللہ نے ان حالات میں اپنے بندوں کو ہدایت دینے اور نشان راہ متعین کرنے کے لئے ایک یہودی کو چنا ۔
ان حالات میں ایک یہودی کا انتخاب اس لئے کیا گیا کہ کہ اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کو یہ سمجھا سکے کہ عدل کا معیار کیا ہے اور اللہ تعالیٰ اس امت کو جو سکھانا چاہتے تھے وہ سکھائے ۔ لہذا اس معاملے میں اللہ کی پالیسی میں کوئی سیاست ‘ کوئی نام نہاد دانشوری اور کوئی زبانی ہیر پھیر نہ تھا ۔ اور لیپاپوتی اور واقعات کو چھپانے کی مہارت سے بھی کام نہ لیا گیا اور صاف صاف بات کی گئی ۔
اس مقدمے کے فیصلے میں تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ دیا گیا اور تمام ظروف واحوال سے صرف نظر کیا گیا ۔
معاملہ نہایت ہی حقیقت پسندانہ اور سنجیدہ تھا ۔ اس میں کسی قسم کی ملمع کاری اور لیپاپوتی نہ تھی ۔ حقیقت پسندی اسلامی نظام زندگی کی خصوصیات میں سے اہم خصوصیت ہے اور اس امت کے اوصاف میں سے یہ ایک اہم وصف ہے ۔ یہ اس امت کے مقاصد میں شامل ہے کہ وہ لوگوں عدل پھیلائے اور عدل کو اس معیار پر پہنچا دے جہاں تک کبھی انسانیت نہ پہنچی اور صرف اللہ کی جانب سے وحی اور ہدایت ہی کے نتیجے میں یہ امت یہاں تک پہنچی ۔
جب انسان اس مقام بلند تک پہنچا تو اس نے دیکھا کہ تاریخ کے تمام ازمنہ اور ادوار میں انسانی پستیوں کے گہرے گڑھے میں پڑے ہیں ۔ اس نے دیکھا کہ اس مقام بلند تک پہنچنے کی راہ میں نہایت ہی گہری گھائیاں ہیں ۔ اس راہ میں جگہ جگہ چالاکیاں ‘ ظاہر داریاں ‘ سیاست ‘ عیاری ‘ بلاغت ‘ مہارت ‘ حکومت کی مصلحت ‘ ملک کی مصلحت اور پارٹی کی مصلحت وغیرہ کی بےپناہ رکاوٹیں ہیں جو مختلف ناموں اور مختلف عنوانوں کے ساتھ عدل و انصاف کی راہ روکے کھڑی ہیں ۔ اور اگر اس بلندی سے انسان تمام نظامہائے زندگی کو دقت نظر سے دیکھے تو اسے دنیا میں گندگی ہی گندگی نظر آئے ۔
اس بلندی سے انسان جب نگاہ ڈالتا ہے تو اسے نظر آتا ہے کہ امت مسلمہ اس میدان میں یکہ و تنہا نظر آتی ہے ۔ جو زندگی کی ان غلاظتوں سے بلند ہو کر اس پاکیزہ مقام تک پہنچی ہے اور صرف امت مسلمہ کے لینڈ مارک شاہراہ تاریخ میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں اور عدل و انصاف کی اس بلند چوٹی تک پہنچنے کے لئے صرف امت مسلمہ نے راہیں متعین کی ہیں اور وہ اس میدان میں منفرد ہے ۔
رہی وہ گندگی اور وہ تعفن جسے جاہلیت قدیمہ اور جاہلیت جدیدہ میں عدالت کا نام دیا جاتا ہے تو مناسب یہی ہے کہ ہم اس گندگی کو دبی رہنے دیں کیونکہ اس پاکیزہ ماحول کو اس کا تعفن گندہ کر دے گا اور ہر طرف بدبو پھیل جائے گی ۔
مناسب ہے کہ اب ہم آیات پر ذرا تفصیل سے بات کریں۔
درس نمبر 39 تشریح آیات :
105۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 113۔
(آیت) ” نمبر 105 تا 113۔
A) بات نہات ہی سختی سے کہی جارہی ہے ‘ یوں نظر آتا ہے کہ سچائی کے حق میں غیض وغضب سے کام لیا جا رہا ہے اور عدل قائم کرنے کے لئے سخت غیرت کا اظہار کیا جارہا ہے اور جذبات ‘ بات کے ماحول اور فضا سے ظاہر ہو رہے ہیں ۔
اس کا اظہار اس بات سے بھی ہو رہا ہے کہ حضور ﷺ کو مخاطب کرکے کہا جاتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب سچائی کے ساتھ نازل کی تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اللہ کی اس کتاب کے مطابق فیصلے کریں ۔ آپ کو سختی سے منع کیا گیا کہ آپ خائن لوگوں کے طرفدار نہ ہوجائیں اور نہ ان کی جانب سے دفاع کریں اور آپ نے جو مجادلہ ان خائن لوگوں کی طرف سے کیا ہے اس پر اللہ سے مغفرت طلب کریں ۔
(آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ ولا تکن للخائنین خصیما (105) واستغفر اللہ ان اللہ کان غفورا رحیما (106) (4 : 105۔ 106)
(اے نبی ﷺ ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے ‘ تاکہ جو راہ راست اللہ نے تمہیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو ‘ تم بدیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو ‘ ۔ اور اللہ سے درگزر کی درخواست کرو ‘ وہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے ۔ A
اس کے بعد اس ممانعت کو دوبارہ مکرر بیان کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ جن لوگوں کی طرف سے آپ نے خصومت کی وہ اپنے آپ سے خیانت کر رہے ہیں اور وجہ یہ ہے کہ چونکہ یہ خائن ہیں اور اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔
(آیت) ” ولا تجادل عن الذین یختانون انفسھم ان اللہ لا یحب من کان خوانا اثیما (4 : 107) (جو لوگ اپنے نفس سے خیانت کرتے ہی تم ان کی حمایت نہ کرو ‘ اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو ۔ )
بظاہر تو انہوں نے دوسرے لوگوں کے ساتھ خیانت کی تھی لیکن درحقیقت وہ اپنے ساتھ خیانت کر رہے تھے ۔ انہوں نے اپنی جماعت اور پنے نظام کے خلاف خیانت کی ۔ اپنے اصولوں اور انکی ممتاز حیثیت کے خلاف خیانت کی ‘ انہوں نے اس امت کے خلاف خیانت کی جس کے وہ بھی افراد تھے ۔۔۔۔۔ پھر ایک دوسرے پہلو سے بھی وہ اپنے نفس کے خلاف خیانت کر رہے تھے ۔ وہ اپنے نفوس کو ایسے جرم میں ملوث کر رہے تھے جس کی سزا بہت ہی سخت تھی ۔ جہاں اللہ انہیں مجبور کرے گا اور پکڑ کر سزا دے گا ۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنے نفس کے خلاف بھی خیانت ہے ۔ ایک تیسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنے ضمیر کو جھوٹ کہہ کر اور جرم کر کے خیانت میں ملوث کر رہے تھے ۔
(آیت) ” ان اللہ لا یحب من کان خوانا اثیما “۔ (4 : 107) (اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو) اور اللہ کی ناپسندیدگی تمام سزاؤں میں سے بڑی سزا ہے ۔ اس کے اندر ایک دوسرا اشارہ بھی ہے ‘ کہ جو لوگ اللہ کے محبوب نہیں ‘ چاہئے کہ کوئی ان کی حمایت نہ کرے ۔ کوئی ان کی وکالت نہ کرے ‘ اس لئے کہ ارتکاب جرم کرنے کی وجہ سے اللہ نے انہیں ناپسند کرلیا ہے ۔ ان لوگوں کو خیانت کار اور معصیت پیشہ کہنے کے بعد اب ان کی تصویر کشی اس طرح کی جاتی ہے اور ان کا پردہ یوں چاک ہوتا ہے :
(آیت) ” یستخفون من الناس ولا یستخفون من اللہ وھو معھم اذیبیتون مالا یرضی من القول ۔۔۔۔۔ “۔ (4 : 108) (یہ لوگ انسانوں سے اپنی حرکات چھپا سکتے ہیں مگر خدا سے نہیں چھپا سکتے ‘ وہ تو اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب یہ راتوں کو چھپ کر اس کی مرضی کے خلاف مشورے کرتے ہیں )
انکی یہ تصویر نہایت ہی کریہہ المنظر ہے ۔ اس پر انسان کو بےاختیار ہنسی آتی ہے ۔ اس میں ان کی کمزوری اور سازش صاف صاف نظر آتی ہے ۔ یہ راتوں کو جمع ہوتے اور اپنا جرم چھپانے کی سازشیں کرتے ہیں اور خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ لوگوں سے یہ اپنا جرم چھپا سکتے مگر اللہ سے نہیں چھپا سکتے ۔ لوگوں سے چھپنا کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ لوگ تو انہیں نفع ونقصان سے نہی بچا سکتے ۔ اور جو ذات نفع ونقصان کی مالک ہے اس سے وہ چھپ نہیں سکتے ۔ وہ تو ان کے ساتھ ہوتی ہے جب وہ سازشیں کرتے ہیں ۔ وہ ان کے ظاہر و باطن سے واقف ہے ۔ وہ ملمع کاری کرتے ہیں اور اللہ کی مرضی کے خلاف باتیں کرتے ہیں ۔ ان کا موقف کیسا بودا ہے کہ جس سے چھپاتے ہیں اس سے تو چھپ نہیں سکتے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ
(آیت) ” وکان اللہ بما یعملون محیطا “۔ (4 : 108) (ان کے سارے اعمال پر اللہ محیط ہے) اگر اللہ مطلقا تمام اعمال کا احاطہ کئے ہوئے ہے تو وہ جو رات کو خفیہ سازشیں کرتے ہیں ان کا کیا فائدہ ہوگا ۔ اللہ تو اس مجلس میں ان کے ساتھ ہوتا ہے ہر چیز اس کی نظر میں ہے اور اس کے قبضے میں ہے ۔ اور یہ غضبناک حملہ ابھی جاری ہے اور اس کا اطلاق ان تمام لوگوں پر ہوتا ہے جو خائن لوگوں اور مجرموں کی طرف سے مجادلہ کرتے ہیں ۔
(آیت) ” ھانتم ھولآء جدلتم عنھم فی الحیوۃ الدنیا فمن یجادل اللہ عنھم یوم القیمۃ ام من یکون علیھم وکیلا “۔ (4 : 109) (ہاں تم لوگوں نے ان مجرموں کی طرف سے دنیا کی زندگی میں تو جھگڑا کرلیا ‘ مگر قیامت کے روز ان کے لئے اللہ سے کون جھگڑا کرے گا ؟ آخر وہاں کون ان کا وکیل ہوگا ؟ اس بھاری دن سے تو وہ ہر گزنہ بچ سکیں گے ۔ )
خائنوں اور معصیت پیشہ لوگوں پر اس حملے کے بعد اور ان کے حامیوں ‘ مجادلوں اور وکیلوں کی مذمت کرنے کے بعد اب اس برے فعل کے بارے میں اور اس کے نتائج کے بارے میں اصولی بات کی جاتی ہے ۔ اس کا حساب و کتاب آخرت میں کیا ہوگا اور اس کی عمومی سزا کیا ہونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ ایسے مجرموں کے ساتھ کیا معاملہ فرماتے ہیں اور پھر یہ کہ جو معاملہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تم بھی مجرموں اور ایک دوسرے کے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھو اور اللہ کے بتائے ہوئے اخلاق اپناؤ خصوصا عدل و انصاف کے معاملے میں ۔
Ayahs 4:110–112(آیت) ” نمبر 110 تا 113۔
یہ تین آیات وہ قواعد کلیہ وضع کرتی ہیں جن کے مطابق اللہ اپنے بندوں کے ساتھ سلوک و انصاف کرے گا ۔ اور لوگ بھی اگر چاہیں تو وہ اس کے مطابق سلوک کرکے اچھا معاشرہ تعمیر کرسکتے ہیں اور انہی قواعد کے مطابق وہ اللہ کے ساتھ معاملہ کر کے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں ۔
پہلی آیت میں معافی کا دروازہ چوپٹ کھلا رکھا گیا ۔ اگر لوگ توبہ کرلیں ۔ تو اللہ تعالیٰ کی معافی کا دروازہ کھلا پائیں گے ۔ ہر گناہ گار تائب کو معافی کی امید دلائی گئی ہے ۔
(آیت) ” ومن یعمل سوءا اویظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجد اللہ غفورا رحیما “۔ (4 : 110)
(اگر کوئی شخص برا فعل کر گزرے یا اپنے نفس پر ظلم کر جائے اور اس کے بعد اللہ سے درگزر کی درخواست کرے تو اللہ کو درگزر کرنے والا اور رحیم پائے گا)
اللہ تعالیٰ موجود ہے اور اس کی مغفرت اور رحمت موجود ہے بشرطیکہ کوئی معافی مانگنے والا ہو ‘ کوئی رحمت کا طلب گار ہو جو باز آرہا ہو۔ جو شخص برائی کرتا ہے ‘ کبھی غیر پر ظلم کرتا ہے اور کبھی اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے (نفس پر ظلم اس وقت ہوتا ہے جب اس کی برائی دوسرے تک متعدی نہ ہو ‘ اس کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود ہو) بہرحال ظالموں کے لئے معافی کا دروازہ کھلا ہے ۔ اگر وہ استغفار کریں ۔ اگر وہ توبہ کرکے واپس آئیں تو وہ انہیں معاف کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر رحمت بھی کرتا ہے اس کا دروازہ کھلا ہے ‘ اس پر کوئی دربان نہیں ہے ‘ اور اس کا یہ اعلان ‘ اعلان عام ہے ۔ بےقید اور بےشرط ہے۔ جب بھی وہ توبہ کرکے لوٹ آئیں تو اللہ غفور ورحیم ہے ۔
دوسری آیت میں یہ اصول طے ہوا ہے کہ مسئولیت انفرادی ہے سزا میں اسلامی نظام زندگی کا یہ اساسی اصول ہے کہ ہر کوئی اپنے کئے کا خود ذمہ دار ہے اور اس اصول سے ہر شخص کے دل میں خوف بھی پیدا ہوتا ہے اور اطمینان بھی پیدا ہوتا ہے ۔ خوف اس لئے کہ وہ اپنے اعمال اور اپنے کاموں کو درست کرے گا اور اطمینان اس لئے ہوگا کہ دوسرے کے معاملات اور بدکاریوں کا وہ ذمہ دار نہ ہوگا ۔
(آیت) ” ومن یکسب خطیئۃ اواثما ثم یرم بہ بریا فقد احتمل بھتانا واثما مبینا “۔ (4 : 112) (مگر جو برائی کمائے تو اس کی یہ کمائی اسی کے لئے وبال ہوگی ‘ اللہ کو سب باتوں کی خبر ہے اور وہ حکیم ودانا ہے) اس اصول کے مطابق جرائم میں اصول وراثت نہیں چلتا ۔ جس طرح اہل کنیسہ موروثی جرم کی بات کرتے ہیں ۔ اسلام میں یہ تصور نہیں ہے کہ کسی جرم کی سزا کوئی اور بھگتے گا یا کفارہ کوئی اور دے گا ۔ اسلام میں ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے ۔ اس تصور کے مطابق ہر شخص اپنے اعمال کے بارے میں محتاط ہوگا ۔ اور وہ اس بات سے مطمئن ہوگا کہ دوسروں کے جرائم میں اسے نہ پکڑا جائے گا ۔ یہ ایک عجیب متوازن قانون اور نہایت ہی متوازن قانون اور نہایت ہی متوازن تصور حیات ہے ۔ اسلامی تصور حیات کے اساسی عناصر میں سے یہ ایک اہم عنصر ہے (دیکھئے خصائص التصور الاسلامی) اس تصور پر فطرت مطمئن ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا بےقید عدل نافذ ہوتا ہے اور انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس اصول جرم وسزا کو دنیا میں اپنائے۔
تیسری آیت اس بارے میں بات کرتی ہے کہ خود جرم کرکے دوسرے انسان پر تھوپنا بہت ہی بڑا جرم ہے اور قصہ زیر بحث میں جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔
(آیت) ” ومن یکسب خطیئۃ اواثما ثم یرم بہ بریا فقد احتمل بھتانا واثما مبینا “ (4 : 112) (پھر جس نے کوئی خطا یا گناہ کرکے اس کا الزام کسی بےگناہ پر تھوپ دیا اس نے تو بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لیا) ۔
بہتان کے معنی یہ ہیں کہ ایک پاک دامن شخص پر الزام تھوپ دیا جائے اور گناہ وہ ہے جس کا اس نے ارتکاب کرنے کے بعد اسے بری الذمہ شخص کے سرتھوپ دیا۔ گویا اس شخص نے ان دونوں کو اپنے سر پر اٹھالیا ہے ۔ گویا کہ ایک بوجھ ہے جسے یہ شخص اٹھا رہا ہے اور یہ قرآن کریم کا انداز کلام ہے کہ وہ حقائق اور مفاہیم کو مجسم شکل میں پیش کرتا ہے اور یہ قرآن کا معجزانہ انداز بیان ہے ۔ (دیکھئے التصویر الغنی فی القرآن)
اسلام ان تین اصولوں کے مطابق اپنا نظام عدل استوار کرتا ہے اور انہی کے مطابق مجرمین کو سزا دیتا ہے ۔ وہ کسی بھی مجرم کو معاف نہیں کرتا اگر اس جرم کی زد میں کوئی غیر شخص آئے ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام مغفرت اور توبہ کا دروازہ بھی کھلا چھوڑتا ہے ۔ اور یہ طے کرتا ہے کہ طلب مغفرت کرنے والوں اور توبہ کرنے والوں کے لئے ہر وقت یہ دروازہ کھلا رکھا جائے ۔ جب بھی وہ چاہئیں اسے کھٹکھٹائیں بلکہ اگر وہ اللہ کی درگاہ میں بلا اجازت ہی داخل ہوجائیں اور پناہ لے لیں تو بھی مغفرت اور رحمت ان کو ڈھانپ لے گی ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ پر احسان مندی کا اظہار فرماتے ہیں کہ اگر اللہ نہ بچاتا تو آپ سازشیوں کی سازش کا شکار ہوتے اور کوئی غلط فیصلہ کردیتے لیکن اللہ نے وہ سازش طشت ازبام کردی ‘ جسے وہ لوگوں سے چھپانا چاہتے تھے ۔ اسے وہ اللہ سے تو نہ چھپا سکتے تھے اس لئے کہ روات کے وقت بھی جب وہ ناپسندیدہ باتیں کرتے تھے اللہ ان کے ساتھ تھا ۔ اس کے بعد اللہ بطور احسان یاد دہانی کراتے ہیں کہ اللہ نے آپ پر احسان کیا کہ اس نے آپ پر حکمت اتاری اور وہ تعلیم دی جو آپ کے علم میں نہ تھی اور پھر یہ احسان پوری انسانیت پر تھا اور اس احسان کو آپ کی ذات مکرم میں مجسم کردیا جبکہ آپ کی ذات باری تعالیٰ سے ہر وقت قربت رکھتی تھی ۔
Ayah 4:113(آیت) ” نمبر 113۔
یہ کوشش ان مختلف النوع کوششوں میں سے ایک ہے جو رسول اللہ ﷺ کے دشمن اسلام کے خلاف کر رہے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ حضور اکرم ﷺ کو سچائی انصاف اور صراط مستقیم سے بدراہ کردیں لیکن اللہ کا فضل وکرم ہمیشہ آپ کے شامل حال رہتا اور آپ کو اللہ بچا لیتے اور جو لوگ سازشیں کرتے وہ خود سازش کا شکار ہوجاتے اور خود ہی گمراہ ہوتے ۔ اور سیرت الرسول ﷺ میں اس قسم کے بیشمار واقعات موجود ہیں کہ سازشوں نے سازش کی اور اللہ نے ان کی سازش کو ناکام بنا دیا اور ان کی کوششیں ناکام ہوگئیں ۔ اللہ تعالیٰ یہاں حضور کو اطمینان دلاتے ہیں کہ اس کا فضل اور رحمت رسول اللہ کے شامل حال رہے گی اور وہ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے ۔
اس مناسبت میں کہ اللہ تعالیٰ نے سازشیں کرنے والوں کی سازش سے آپ کو محفوظ رکھا اور آپ اس سے بچ گئے کہ آپ کے احکام کی وجہ سے ظالم بچ جائے اور بےگناہ کو سزا ہوجائے اللہ تعالیٰ اپنے ایک عظیم فضل کو یاد دلاتے ہیں ۔ وہ یہ کہ اللہ نے آپ کو تاج رسالت پہنایا ۔
(آیت) ” وانزل اللہ علیک الکتب والحکمۃ واعلمک مالم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما “۔ (4 : 113) (اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تم کو کو وہ کچھ بتایا ہے جو تمہیں معلوم نہ تھا ‘ اور اس کا فضل تم پر بہت ہے) یہ احسان دراصل جنس انسان پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری رسالت انسانوں کی ہدایت کے لئے بھیجی ۔ یہ کوئی معمولی احسان نہ تھا بلکہ یہ انسان کے لئے ایک نیا جنم تھا اور اس سے انسانیت کو ایسی زندگی ملی جس طرح کوئی انسان پہلی مرتبہ انسانیت اور روح پاتا ہے ۔ یہ احسان جس کی وجہ سے انسان کو جاہلیت کی پستیوں سے اٹھایا گیا اور اسے اسلامی نظام حیات کے ذریعے دنیا میں برتری اور ترقی دے کر نہایت ہی اونچے مقام تک پہنچایا گیا اسے اللہ تعالیٰ نے فضل عظیم سے تعبیر کیا۔
اسلامی نظام زندگی کے احسان اور بھلائی کا صحیح طرح اندازہ صرف وہی شخص کرسکتا ہے جس نے اسلام اور جاہلیت کا تقابلی مطالعہ کیا ہو ۔ ماضی اور حال کو دیکھا ہو اور جس نے اسلام کی طرح جاہلیت کو بھی چکھا ہو۔
اس احسان کا تذکرہ سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ سے کیا گیا اس لئے کہ سب سے پہلے اسلام کو حضور اکرم ﷺ نے پایا سب سے پہلے اس کا مزہ چکھا اور سب سے پہلے آپ ﷺ نے جانا اور آپ سب سے زیادہ اسلام کے جاننے والے اور اسے چکھنے والے تھے ۔ (آیت) ” وعلمک مالم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما (4 : 113) (تم کو وہ کچھ بتایا جو تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا فضل تم پر بہت بڑا ہے)
Ayah 4:114درس نمبر 40 ایک نظر میں :
یہ سبق درس سابق کے ساتھ مربوط ہے اور ان دونوں کے درمیان کئی ربط ہیں ۔ اس میں بعض آیات تو درس سابق کے واقعہ کی باز گشت ہیں ۔ اس واقعہ اور وحی الہی کے بعد بشر ابن ابیرق جو چوری میں ملوث تھا ‘ مرتد ہوگیا تھا اور رسول اللہ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگیا تھا ۔ اور اسلام کے بعد دوبارہ جاہلیت میں چلا گیا تھا ۔ چناچہ اس حوالے سے اس سبق میں جاہلیت کی بات کی گئی ہے ۔ جاہلی خیالات ‘ تصورات اور اس نظام میں شیطان کی کارستانیاں وغیرہ ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلام اور جاہلیت کے درمیان سرحد شرکیہ عقاید ہیں ۔ اللہ کے نظام میں شرک کی معافی نہیں ہے ۔
اس کے سوا سب کچھ قابل معافی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سبق میں راتوں کو خفیہ سازشوں سے بھی منع کیا گیا ہے اور جو کام بھی خفیہ ہوتے ہیں ان میں زیادہ تر اچھے نہیں ہوتے ۔ مثلا درس سابق میں چوری کے واقعہ میں جو نجوی ہوا ۔ نجوی کی ممانعت کے بعد اس میں بھلائی معروف مشورے اور لوگوں کے درمیان اصلاح وغیرہ کی اسکیموں کو اس سے مستثنی کیا گیا ۔ اس لئے کہ یہ تو کارثواب ہے ۔ پھر آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں جزا اس کے اپنے اصولوں کے مطابق ہوتی ہے اور اس میں کسی کی ذاتی چاہت کا کوئی دخل نہیں ہوتا ۔ نہ مسلمانوں اور نہ ہی اہل کتاب کی چاہت کا اس میں داخل ہوگا ۔ سب کام اللہ کے بےقید انصاف کے مطابق ہوگی ۔ اور سچائی کے مطابق ہوں گے اور اگر سچائی لوگوں کی چاہتوں کے پیچھے چلے تو زمین و آسمان کا تمام نظام فاسد ہوجائے ۔
غرض یہ سبق اپنے موضوع اور اپنے رخ کے اعتبار سے ۔ سابق کے ساتھ پوری طرح مربوط ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کے علاوہ امت مسلمہ کی تربیت کی ایک نئی کڑی ہے جسے پوری انسانیت کی قیادت کے لئے تیار کرنا پیش نظر تھا ۔ اس طرح کہ وہ تنظیم میں فوقیت رکھتی ہو اور اسکی نظر میں ہو کہ اس کی صفوں میں کہاں کہاں کمزوریاں ہیں اور کہاں کہاں ابھی تک آثار جاہلیت باقی ہیں تاکہ وہ انکی اصلاح کرسکے ۔ یہ وہ مقصد ہے کہ اس پوری سورة میں اس کو پیش نظر رکھا گیا ہے ۔ اس سے متعلق کئی موضوع زیر بحث آئے اور پورے قرآن کریم کے مقاصد میں سے بھی یہ ایک اہم موضوع ہے ۔
درس 40 تشریح آیات :
114۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 126
(آیت) ” نمبر 114۔
قرآن کریم میں نجوی کی بار بار ممانعت کی گئی ہے ۔ نجوی یہ ہے کہ کوئی گروہ اسلامی جماعت سے علیحدہ اور اسلامی قیادت سے علیحدہ کوئی بات سوچے اور اس کیلئے جمع ہو ۔ اسلامی تربیت کا طریق کار یہ تھا کہ لوگ اپنی تمام مشکلات اور مسائل کو لے کر اسلامی قیادت کے پاس آتے اور اگر بات ذاتی ہوتی تو وہ تنہائی میں پیش کرتے تاکہ عوام الناس میں بات پھیل نہ جائے اور اگر بات کی نوعیت عمومی ہوتی تو اسے علانیہ پوچھتے یعنی اگر بات کا خصوصا پوچھنے والے سے تعلق نہ ہوتا ۔
اس پالیسی میں حکمت یہ تھی کہ اس کی وجہ سے جماعت مسلمہ کے اندر کوئی بلاک یا گروہ نہ بن سکتے تھے اور نہ ہی یہ ہو سکتا تھا کہ جماعت کے کچھ حصے اپنے تصورات اور اپنی مشکلات کو لے کر الگ ہوجائیں یا وہ اپنے رجحانات اور اپنے افکار کے مطابق اپنی راہ لیں ۔ یہ صورت حال بھی نہ ہو کہ جماعت کے کچھ لوگ رات کو مشورہ کرکے ایک بات کا فیصلہ کرلیں اور دن کے وقت جماعت کے اندر بطور ایک فیصلہ شدہ امر پیش کردیں ۔ اگرچہ حضور ﷺ کے دور میں تو کوئی بات مخفی نہ رہ سکتی تھی ‘ وہ جو کچھ مشورہ کرتے اللہ انکے ساتھ ہوتا اور بوقت ضرورت حضور اکرم ﷺ کو اطلاع دے دیتا ۔
مسجد نبوی جماعت مسلمہ کی پارلیمنٹ تھی ۔ وہاں لوگ باہم ملتے تھے ۔ نماز پڑھتے تھے اور زندگی کے تمام معاملات وہاں ہی طے ہوا کرتے تھے ۔ پھر اسلامی معاشرہ ایک کھلا معاشرہ (Open Society) تھا اس میں وہ تمام معاملات پیش ہوتے تھے جو جماعت کے جنگی اسرار و رموز سے متعلق نہ ہوتے یا ایسے مسائل نہ ہوتے جن کا تعلق لوگوں کی ذات اور خاندانوں سے ہو اور وہ پسند نہ کرتے ہوں کہ لوگوں کے علم میں آئیں ۔ اسلامی سوسائٹی چونکہ ایک کھلی سوسائٹی تھی اس لئے وہ آزاد اور پاک وصاف سوسائٹی تھی اور اس سوسائٹی میں علیحدہ جنبہ بنا راتوں کو مشورہ وہی لوگ کرتے تھے جو اس کے خلاف سازش کرتے تھے یا اس کے اصولوں میں سے کسی اصول کے خلاف جمع ہوتے تھے اور یہ لوگ عموما منافقین ہوا کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی نجوی ہوا ‘ اس میں منافقین شریک رہے ۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمارے لئے بہت ہی مفید ہے ۔ اسلامی معاشرہ میں اس سے پاک وصاف ہونا چاہئے اس میں جن لوگوں کو کسی چیز کے بارے میں کوئی بھی خلجان ہو ‘ اسے چاہیے کہ وہ اسے قیادت عامہ کے سامنے پیش کرے ۔ یا اگر کوئی مشکل پیش آئے یا کوئی تجویز انکے سامنے ہو یا کوئی رجحان نظر آئے تو ان معاملات میں اسے قیادت کی طرف رجوع کرنا چاہئے ۔
یہاں قرآن مجید نے نجوی کی ایک قسم کو جائز رکھا ہے ۔ دراصل وہ نجوی ہی نہیں ہے اگرچہ شکل نجوی کی ہے ۔
(آیت) ” الا من ابر بصدقۃ اومعروف او اصلاح بین الناس (4 : 114) (ہاں اگر کوئی پوشیدہ طور پر صدقہ و خیرات کی تلقین کرے یا کسی نیک کام کے لئے یا لوگوں کے معاملات میں اصلاح کرنے کے لئے کسی سے کچھ کہے تو یہ البتہ بھلی بات ہے)
مثلا دو اچھے اور نیک آدمی جمع ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ مشورہ کریں کہ کیا فلاں شخص کی مدد کے لئے یا فلاں کام میں روپیہ خرچ کرنا چاہئے اس لئے کہ اس شخص کو ضرورت ہے اور مجھے اس کی ضرورت کا علم ہے یا یہ کہ فلاں کام میں خرچ کرنے کی ضرورت ہے ‘ آئیے یہ کام کریں ۔ یا یہ کہ فلاں اور فلاں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے ہیں ‘ آئیے ان کے درمیان مصالحت کرا دیں ۔ ایسے لوگوں کی کوئی انجمن یا سوسائٹی بھی بن سکتی ہے جو مشورہ کرکے کسی نیک کام میں باہم تعاون کرسکتی ہے بشرطیکہ یہ کام نہ نجوی ہوں اور نہ اسلامی نظام کے خلاف کوئی سازش ۔ اگرچہ ظاہری شکل میں یہ نجوی بھی ہوگا لیکن قرآن نے اسے ” امر “ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے کیونکہ اس قسم کی محدود ساسائٹی بعض اوقات اپنے امور رات کو تنہائی میں طے کرتی ہے اور ان کا مقصد معروف اور بھلائی کا کام ہوتا ہے ۔
لیکن اس قسم کی سوسائٹی کے لئے بھی ضروری ہے کہ اس کی تشکیل اور سرگرمی کی رضا مندی کے حصول کے لئے ہو۔
(آیت) ” ومن یفعل ذلک ابتغآء مرضات اللہ فسوف نوتیہ اجرا عظیما (4 : 114) (اور جو کوئی اللہ کی رضا جوئی کے لئے ایسا کرے گا تو اسے ہم بڑا اجر عطا کریں گے)
یعنی کسی شخص پر صدقہ کرنے اور فلاں اور فلاں کے درمیان اصلاح حال کرنے کا مقصد یہ نہ ہو کہ یہ کام کرنے والے لوگ اس طرح مشہور ہوجائیں کہ لوگ کہیں کہ خدا کی قسم یہ بہت ہی اچھے لوگ ہیں کہ صدقہ و خیرات کے لئے لوگوں کو آمادہ کرتے ہیں اور لوگوں کے درمیان اصلاح کا کام کرتے ہیں ۔ غرض اس کام میں انکے پیش نظر رضائے الہی کے حصول کے سوا اور کوئی مقصد نہ ہو ۔ یہ ہے وہ فرق و امتیاز جو محض رضائے الہی اور اجر اخروی کے لئے کئے جانے والے کام اور اس کام کے درمیان ہوتا ہے ‘ جو کسی اور غرض کے لئے کیا جاتا ہے ۔ اگرچہ بظاہر دونوں کام ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن ایک کا اندراج بھلائی کے رجسٹر میں ہوتا ہے اور دوسرے کا اندراج برائیوں کے رجسٹر میں ہوتا ہے ۔