4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 4:148

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا Open ayah 4:148 in the Quran reader

(اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے ‘ الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے ۔

پارہ نمبر 6 ایک نظر میں : پارہ ششم دو حصوں پر مشتمل ہے ۔ پہلا حصہ سورة النساء کے بقیہ حصہ پر مشتمل ہے ۔ سورة النساء کا آغاز پارہ چہارم کے آخر سے ہوا تھا پورا پارہ پنجم بھی اس پر مشتمل ہے اور پارہ ششم میں بھی اس کا کچھ آگیا ہے ۔ اس پارے کا دوسرا حصہ ‘ جو اس کا تقریبا تین چوتھائی حصہ ہے سورة مائدہ پر مشتمل ہے ۔ یہاں ہم اپنی بات کو صرف اس پارے کے حصہ اول ہی تک محدود رکھیں گے ۔ حصہ دوئم یعنی سورة مائدہ پر بحث سورة مائدہ کے موقع پر ہو گی ۔ جہاں ہم سورة مائدہ کی اہمیت اور اس کے موضوعات پر اسی طرح بحث کریں گے جس طرح ہم اس سے پہلے کی سورتوں پر کرچکے ہیں ۔ اگر اللہ کا تعاون شامل حال رہا ۔ سورة نساء پر تبصرہ کرتے ہوئے ہم نے اس سورة کے جس منہاج بحث کے سلسلے میں کچھ کہا تھا اس حصے میں بھی وہی منہاج چل رہا ہے ۔ یہاں مناسب ہے کہ نہایت ہی مختصر الفاظ میں اسے دو بار قارئین کے پیش نظر رکھ دیا جائے ۔ یہ سورة اسلامی تصور حیات سے بحث کرتی ہے اور اسے اس نوخیز اسلامی جماعت کے ذہن نشین کرنے کے درپے ہے جسے اس نے جاہلیت کی گہری اور تنگ وادیوں سے اٹھایا اور اسے بتدریج بام عروج تک پہنچا دیا ۔ انتہائی بلندیوں تک اور اس جماعت کے ضمیر کو جاہلیت کے افکار کے ڈھیروں کے نیچے سے نکالا اور اس کے ان افکار کو چھانٹ کر رکھ دیا جن کی وجہ سے اس کے ضمیر کے خدوخال دھندلے پڑگئے تھے ۔ اس صفائی کے ساتھ ساتھ جس طرح ہم نے اوپر کہا اسلامی فکر و شعور سے جاہلیت کے خدوخال مٹا کر انکی جگہ اسلامی رنگ بھرے گئے ۔ اس کے بعد اس جدید تصور حیات کی روشنی میں ‘ یہ سورة امت مسلمہ کے ضمیر اس کے اخلاق اور اس کی اجتماعی عادات کو لیتی ہے اور ان کو جاہلی اخلاق و عادات سے ایک ایک کرکے چھانٹتی چلی جاتی ہے ۔ بعینہ اسی طرح جس طرح افکار و تصورات کے اعتبار سے اس کی تطہیر کی گئی ۔ نیز فکری اور اخلاقی تطہیر کے علاوہ اس سورة نے امت کی اجتماعی زندگی اور اس کے عائلی روابط کو اسلام کے مضبوط ربانی نظام زندگی کی اساس پر استوار کیا ۔ اس تربیت اور تطہیر کے دوران ‘ اس سورة میں منحرف اور غلط عقائد کو بھی لیا گیا ہے ۔ غلط عقائد و تصورات کے حاملین پر بھی تنقید کی گئی ہے اور اصلاح کی کوشش کی گئی ہے ۔ چاہے یہ لوگ مشرکین میں سے ہوں یا یہود ونصاری یعنی اہل کتاب ہوں ۔ ان کے عقائد کی تصحیح اور اصلاح کی گئی ہے ۔ حق اور سچائی کو نکھارا گیا ہے جسے ان انحرافات نے بگاڑ دیا تھا ۔ جو ان لوگوں نے اپنی کتب میں اور عقائد میں داخل کئے ہوئے تھے ۔ اس کے بعد مضامین سورة اس معرکے میں داخل ہوجاتے ہیں جو اہل کتاب اور جماعت مسلمہ کے درمیان مسلسل برپا تھا ‘ خصوصا یہودیوں کے ساتھ ۔ اس لئے کہ جب سے حضور اکرم ﷺ اپنی جماعت کو لیکر مدینہ پہنچے تھے ‘ ان لوگوں نے دعوت اسلامی کا بڑی شدت کے ساتھ مقابلہ شروع کردیا تھا ‘ اس لئے کہ تحریک اسلامی کا مرکز مدینہ منتقل ہوتے ہیں یہودیوں کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا تھا کہ اب مدینہ کے معاشرے میں ان کی سابقہ ممتاز حیثیت قائم نہیں رہ سکتی انکے ملی وجود کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا حتی کہ ان کا یہ ادعا بھی ختم ہو رہا تھا کہ وہ واحد ممتاز لوگ ہیں جنہیں اللہ کی قربت حاصل ہے اور وہ ایسی قوم ہیں جو اللہ کے ہاں برگزیدہ ہے ۔ ان وجوہات کی بناء پر وہ تحریک اسلامی کے مقابلے میں ہر قسم کے ہتھیار لیکر اٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔ چناچہ اس سورة نے ان کی ذہنیت ‘ ان کے وسائل حرب اور خود ان کے اپنے انبیاء کے ساتھ ان کاتاریخی رویہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا تاکہ معلوم ہو کہ انہوں نے ہمیشہ ہر دعوت حق کے ساتھ یہی برتاؤ کیا چاہے اس کا پیش کرنے والا کوئی بھی ہو اگرچہ وہ پیش کرنے والا خود ان کا اپنا نبی ‘ ان کا اپنا قائد اور ان کا اپنا نجات دہندہ ہو۔ اس کے بعد یہ سورة خود امت مسلمہ کو بتاتی ہے کہ اس کے کاندھوں پر جو بوجھ ڈال دیا گیا ہے ‘ اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں ۔ اس نے اس کرہ ارض پر جو کردار ادا کرنا ہے وہ کس قدر عظیم کردار ہے اور وہ حکمت عملی کیا ہے جس کے مطابق اسے جاہلیت کی تمام الائشوں سے پاک کرنا مقصود ہے ‘ اس کے ضمیر کو پاک کرنا مطلوب ہے اس کی پوری زندگی کو پاک کرنا مطلوب ہے ۔ اس غرض کیلئے کس قدر بیدار مغزی کی ضرورت ہے اور کس قدر عظیم قربانیوں کی ضرورت ہے ۔ مثلا اپنے نفس کی دنیا کے ساتھ مسلسل جہاد ‘ اور اپنے اردگرد پھیلے ہوئے پورے ماحول کے ساتھ مسلسل جہاد اور مسلسل قربانیاں ۔ یہ پوری سورة مسلسل اپنی اس راہ پر گامزن ہے گزشہ حصے میں بھی یہی مضامین ہیں اور یہ حصہ بھی اسی راستے کے نشیب وفرز پر مشتمل ہے اور وہی اسلوب ہے جو سابقہ پارے میں تھا ۔ اس پارے کا آغاز ہی تطہیر نفس اور تطہیر معاشرہ سے ہوتا ہے ‘ یہ کوشش کی گئی ہے کہ افراد جماعت کے درمیان باہم مکمل اعتماد کی فضا قائم رہے ۔ لوگ یہودیوں کے الزامات سے متاثر نہ ہوں اور مسلمان یہ حق رکھتے ہیں کہ وہ بدلہ لیں لیکن عفو و درگزر اور فراخدلی بہرحال انصاف کے ترازو سے بھی زیادہ اونچا مقام ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ غیبت اور بدگوئی کو ناپسند فرماتے ہیں۔ اگر اس نئے معاشرے میں ایک بھائی دوسرے بھائی پر ظلم کرتا ہے اور مظلوم بھائی معاف کردیتا ہے تو یہ فعل اللہ تعالیٰ کو بہت ہی پسندیدہ ہے ۔ اللہ خود بھی معاف کردیتا ہے حالانکہ وہ انتقام پر قادر ہوتا ہے ۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اسلامی تصورحیات یہ ہے کہ وہ اللہ کے دین کو ایک نظام زندگی قرار دیتا ہے اور یہ تصور دیتا ہے کہ انسانی تاریخ میں رسولوں کا قافلہ صرف اس ایک دین کا حامل رہا ہے ۔ اسلامی عقائد کے مطابق ان رسولوں کے درمیان فرق کرنا اور وہ جو ادیان لیکر آئے انکے درمیان فرق کرنا صریح کفر ہے ۔ یہ بیان اس لئے آتا ہے کہ اہل کتاب میں سے یہودیوں کے اس نظریے کی تردید کی جائے کہ ان کے نبی کے بعد اب کوئی نبی آنے والا نہیں ہے اور یہ نظریہ انہوں نے محض دینی اور قومی تعصب اور کینہ پروری کی وجہ سے اپنایا ہے ۔ اس حصے میں یہودیوں کے ساتھ ایک راؤنڈ شروع ہوجاتا ہے ‘ جس میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے نبی اور اپنے قائد اور نجات دہندہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کیا کیا نافرمانیاں اور بدسلوکیاں کیں ۔ ان واقعات سے یہ عیاں کرنا مطلوب ہے کہ یہودی اپنی فطرت کے اعتبار سے برے لوگ ہیں ۔ سچائی اور اسلامی دعوت کے ساتھ ان کا ہمیشہ یہی رویہ رہا ہے ۔ چاہے کوئی نبی ہی یہ دعوت دے رہا ہو۔ اگرچہ وہ انکے عظیم نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کیوں نہ ہوں ۔ نیز حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کی والدہ کے بارے میں ان کے نازیبا الفاظ کی تردید بھی کی گئی ہے جسے اللہ تعالیٰ بہت ہی ناپسند فرماتے ہیں۔ ان واقعات کے بیان سے نبی آخر الزمان ﷺ کے ساتھ ان کا رویہ اور عناد قابل فہم ہوجاتے ہیں اور لوگوں کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس روئیے کے حقیقی اسباب کیا ہیں ۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں یہودیوں کے غلط دعوؤں اور غلط الزامات کی مناسبت سے اور خصوصا اس دعوے کے حوالے سے کہ انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو قتل کردیا ہے ‘ قرآن کریم اظہار حقیقت کردیتا ہے ۔ ان کے دعوائے قتل مسیح (علیہ السلام) کی صاف صاف تردید کردی جاتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو ان کے مظالم کرنے ارادہ حق میں رکاوٹ بن جانے اور ان کی سود خوری کی وجہ سے (حالانکہ انہیں ان حرکات سے روکا گیا تھا) کیا کیا سزائیں دیں ۔ نیز ان کی حرام خوری اور لوگوں کے معاشی استحصال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر بطور سزا ان بعض چیزوں کو حرام قرار دے دیا جو ساری دنیا کے لئے حلال تھیں اور یہ کہ اس دنیاوی عذاب کے علاوہ انہیں وہ عذاب الیم بھی دیا جائے گا جو آخرت میں ان کا انتظار کر رہا ہے ۔ ہاں البتہ اس عذاب سے وہ لوگ مستثنی ہیں جو علم میں پختہ کار ہیں اور جو حضور اکرم ﷺ پر ایمان لائے ہیں۔ جنہوں نے سچائی کو پہچان لیا ہے اور اس کی پیروی کرنے لگے ہیں ۔ یہودی ‘ نبی آخر الزمان ﷺ کی رسالت کے انکار پر جو اصرار کر رہے تھے ‘ انکے اس موقف کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ رسالت تو معمول کی بات ہے ۔ یہ کوئی عجیب و غریب امر تو نہیں ہے کہ خود ان میں سے ایک رسول مبعوث ہوگیا ہے ۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے کہ لوگوں کی ہدایت کیلئے ایک انسان رسول بن کر آگیا ہے ۔ یہ تو سنت الہی ہے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لیکر آج تک رسول آتے رہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ‘ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ‘ حضرت اسحاق (علیہ السلام) ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت ایوب (علیہ السلام) ‘ حضرت ہارون (علیہ السلام) حضرت سلیمان (علیہ السلام) ‘ اور حضرت داؤد (علیہ السلام) اسی سنت الہی کے مطابق بھیجے گئے ۔ نیز وہ تمام دوسرے انبیاء جن کی رسالت کے یہود قائل ہیں اور وہ جن کی رسالت کا وہ محض بغض اور حسد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اسکیم ہے کہ یہاں لوگوں کی ہدایت کیلئے رسول آئیں جو ڈرانے والے اور خوشخبری دینے والے ہوں ۔ (آیت) ” لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل (4 : 165) ” تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت نہ ہو۔ “ نہ صرف یہ کہ یہ منطقی امر ہے بلکہ ضروری بھی ہے ۔ یہودیوں کے انکار حق کے مقابلے میں ‘ اللہ تعالیٰ اسلام کی سچائی پر خود شہادت دیتے ہیں ‘ ملائکہ کی شہادت قلم بند ہوتی ہے اور اللہ کسی بھی امر پر کافی گواہ ہے ۔ چناچہ انکار حق کی وجہ سے اور راہ حق کو مسدود کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان ظالموں اور کافروں کو سخت دھمکی دیتے ہیں ۔ یہ کہ اللہ کبھی ان کی مغفرت نہ کرے گا کبھی ان کی راہنمائی صراط مستقیم کی طرف نہ کرے گا اور اگر ان کی راہنمائی کرے گا تو وہ جہنم کی طرف ہوگی جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اس کے بعد تمام لوگوں کو پکارا جاتا ہے کہ لوگو ! یہ رسول تمہارے پاس رب کی طرف سے سچائی لیکر آیا ہے ۔ تم اس پر ایمان لاؤ ‘ اگر تم ایسا نہ کرسکو تو جو کچھ زمین اور آسمانوں کے درمیان ہے وہ سب کچھ اللہ کا ہے ۔ مالک ارض وسما نے اس پیغمبر کی رسالت کی شہادت دے دی ہے ۔ اور وہ خود تمہیں دعوت ایمان دے رہا ہے اس لئے وہ خود اپنے لئے جو راہ متعین کر رہے ہیں وہ مالک ارض وسما کے مقابلے کی راہ ہے ۔ اہل کتاب کے ساتھ یہ راونڈ ختم ہوجاتا ہے ۔ اس میں ان کا مزاج ‘ ان کے وسائل کار ‘ اور قدیم زمانے سے ان کی بری عادتوں کا پردہ چاک کردیا جاتا ہے ۔ اس پردہ دری سے ان کے تمام مکاریاں فیل ہوجاتی ہیں اور یہ فیصلہ ہوجاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت برحق ہے اس لئے کہ اس پر اللہ کی جانب سے شہادت دی جاچکی ہے ۔ تمام سلسلہ رسل اور سلسلہ اصحاب دعوت بھی اس پر گواہ ہیں ۔ یوں لوگوں پر اللہ کی جانب سے حجت قائم ہوتی ہے اور یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ لوگوں کی نجات کا دارومدار رسولوں کی رسالت پر پختہ ایمان پر ہے ۔ اگر وہ عذاب جہنم سے نجات چاہتے ہیں یا یہ کہ وہ بتقاضائے منطق اپنے آپ کو اس کا مستحق قرار دیتے ہیں ۔ یہ انکی مرضی ہے لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ یہ نہایت ہی خطرناک انجام ہے ۔ یہودیوں کے ساتھ اس راؤنڈ کے اختتام ‘ انکے مقابلے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ ماجدہ کو انصاف دینے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہ السلام) کے بارے میں ان کے غلط دعوؤں کی تردید کرنے کے بعد اب خود عیسائیوں کے ساتھ ایک راؤنڈ شروع ہوتا ہے ‘ جو اپنے آپ کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا پیرو کا رکہتے ہیں ۔ ان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ تم لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں غلو نہ کرو ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اصل سچائی یوں ریکارڈ کی جاتی ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور وہ خود بھی اس بات کے اقرار سے نہیں ہچکچاتے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ۔ اس طرح ملائکہ بھی اللہ کے بندے ہیں لہذا تم روح القدس کو خدا نہ سمجھو ‘ تثلیث کا عقیدہ غلط ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور اللہ کے درمیان باپ بیٹے کا تعلق نہایت ہی غلط تصور ہے ۔ تصحیح عقائد نصرانیت کے درمیان اسلام کا صحیح عقیدہ بھی بتا دیا جاتا ہے اور اس بات کو چھانٹ کر رکھ دیا جاتا ہے کہ حاکمیت صرف اللہ کے لئے ہے اور غلامی بندوں کے لئے اور اللہ کے سوا جو کچھ بھی ہے جو کوئی بھی ہے وہ اللہ کا بندہ اور غلام ہے اور یہ اسلامی تصور حیات کا اساسی عقیدہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان کو یہاں فلاں کی خوشخبری دی جاتی ہے اور اہل کفر کو سخت الفاظ میں ڈرایا جاتا ہے اور یہا بھی ‘ یودیوں کی بحث کے خاتمے کی طرح تمام لوگوں کے نام اعلان جہاد کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ لوگوں کے پاس اللہ کی جانب سے برہان آچکا ہے ‘ اس لئے اب جو لوگ اس کی قبولیت سے رہ گئے ان کے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی ‘ کوئی شبہات وہ پیش نہ کرسکیں گے اور نہ ان کی کوئی معذرت قبول ہوگی ۔ سورة کا خاتمہ احکام میراث میں سے کلالہ کی ایک صورت کے بیان پر ہے جو پہلے احکام میں بیان نہ ہوئی تھی اس سورة میں کلالہ کی بعض صورتوں کا ذکر ہوچکا ہے یہ انہی کا بقیہ ہے ۔ اس لئے اس کو یہاں دے دیا کیونکہ یہ جماعت مسلمہ کی اقتصادی تنظیم نو کا بقیہ حصہ تھا جس پر اسلام اس جدید اسلامی سوسائٹی کو استوار کرنا چاہتا تھا ۔ اسے ایک ایسی سوسائٹی میں تبدیل کرنا چاہتا تھا جس کا اپنا نظام اقتصادیات ہو ‘ اپنے امتیازی خصائص ہوں جو مستقل ہوں تاکہ یہ جدید سوسائٹی اور یہ نئی جماعت پوری انسانیت کے حوالے سے اپنا وہ عظیم کردار ادا کرسکے جس کے لئے اللہ نے اسے برپا کیا ہے ۔ یعنی قیادت ‘ انقلاب اور تنظیم واصلاح کا کردار۔ یوں اس پوری سورة کے مطالعے اور جائزے سے اور خصوصا زیر بحث حصے کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میں اجتماعی تنظیم ‘ اقتصادی اصلاحات اور سیاسی ضابطہ بندی کے ساتھ ساتھ اخلاق ‘ تہذیب ‘ تصور حیات کی اصلاح اور عقائد کی تصحیح بھی ہوتی رہتی ہے ۔ اس اخلاقی اور نظریاتی تربیت کے ساتھ ساتھ جماعت مسلمہ کے دشمنوں کے ساتھ میدان جنگ میں بھی معرکہ آرائی جاری رہتی ہے اس کے باوجود کہ اس جماعت کے کاندھوں پر ذمہ داری کا عظیم بوجھ ڈالا گیا ہے اور اس کرہ ارض پر اس کیلئے عظیم کردار ادا کرنے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے ۔ یہ بھی فیصلہ کردیا گیا ہے کہ قرآن کریم اس جماعت کا دستور العمل ہے ۔ یہ اس کی دعوت کا ماخذ ہے ۔ اس جماعت کا فرض ہے کہ وہ ان تمام ذمہ داریوں کو ایک ساتھ ادا کرتے ہوئے آگے چلے ‘ نہایت گہری ‘ متوازن اور عمومی صورت میں ۔ یہ ہدایات اور یہ امور ایسی صورت میں بیان کئے جاتے ہیں کہ جو شخص یا جماعت بھی اس امت کی تعمیر جدید کا بیڑا اٹھائے اس کیلئے یہ منہاج لازمی اور حتمی ہو تاکہ وہ اپنے فرائض کو پورا کرے ۔ اس قرآن کو اپنی دعوت کا منہاج بنائے ۔ اس کی تحریک کا منہاج اس قرآن سے اخذ ہو ۔ احیائے اسلام ‘ بعث جدید اور تعمیر جدید کا ہر قدم اس منہاج کے مطابق ہو ۔ اگر ان خطوط پرسوچا جائے تو یہ قرآن بعینہ وہ کردار ادا کرنے کیلئے اب بھی تیار کھڑا ہے جو اس نے پہلے ادا کیا تھا ۔ یہ قرآن پوری انسانیت کیلئے اللہ کا خطاب ہے ‘ اور وہ اس کے تمام طور واطوار کے لئے قیامت تک راہنما ہے ۔ اس کے عجائبات تو کبھی ختم نہ ہوں گے اور اس کے بار بار پڑھے جانے سے وہ پرانا نہیں ہوتا ‘ جیسا کہ اس کے بارے میں حضور ﷺ فرماتے ہیں ۔ وہ حضور ﷺ جنہوں نے اس قرآن کے ذریعہ کفار اور منافقین کے خلاف جہاد کیا ۔ اس کے ساتھ منحرف اور بھٹکے ہوئے اہل کتاب کے ساتھ جہاد کیا اور اس کے ذریعے انسانیت کی تاریخ میں امت مسلمہ جیسی عظیم امت کی بنیاد رکھی ‘ اسے اٹھایا اور سربلند لیا ۔ درس نمبر 43 تشریح آیات : 148۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔ 170۔ قرآن کریم کے پیش نظریہ نصب العین تھا کہ وہ اس کرہ ارض پر ایک بالکل جدید امت پیدا کرے ۔ چناچہ اس امت کو قرآن نے ان لوگوں سے تشکیل دیا جو جاہلیت کی اندھیری وادیوں میں بھٹک رہے تھے ان میں سے جو قرآن کی دعوت پر لبیک کہہ چکے ‘ ان مومنین کو قرآن کریم نے ہاتھ سے پکڑ کر آنا فانا عمودی بلندی پرچڑھا کر تہذیب و تمدن کی چوٹیوں ‘ بلند ترین چوٹیوں تک پہنچا دیا ۔ یہ کیوں ؟ اس لئے کہ اس کی تشکیل اور تربیت کے بعد اسے پوری انسانیت کی قیادت کا فریضہ سپرد کیا جاسکے اور اس دنیا کی قیادت میں اس کا عظیم رول متعین کیا جاسکے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسا ہوا۔ اس جماعت کی تشکیل اور تعمیر کے اہم مقاصد میں سے ایک اہم مقصد اس جماعت کے ضمیر کی تطہیر بھی تھا ‘ اس ماحول کی تطہیر بھی تھا جو اس جماعت کے اردگرد پایا جاتا تھا اور اس جماعت کی اس اخلاقی اور ذہنی سطح کو بلند کرنا بھی تھا جس پر اس وقت پر جماعت تھی ۔ اور جب یہ جماعت اس مطلوبہ سطح اور معیار تک پہنچ گئی اپنے انفرادی اخلاق میں اونچی ہوگئی ‘ اپنے اجتماعی اخلاق میں معیاری ہوگئی جس قدر اپنے عقائد و تصورات میں وہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں برتر ہوگئی ۔ تو اس وقت پھر اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اس کرہ ارض پر وہ انقلاب برپا کیا جو اللہ کے پیش نظر تھا۔ اس کے بعد اللہ نے اس امت کو اپنے دین اور اپنے نظام زندگی کا محافظ اور چوکیدار مقرر فرمایا ۔ اس کی یہ ڈیوٹی قرار پائی کہ وہ اس پوری انسانیت کو گمراہی اور اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائے اور مسلسل اس پوری انسانیت کی قیادت کی امانت دار رہے اور اس کی راہنمانی کرتی رہے اور فی الواقع ایسا ہی ہوا ۔ جب کوئی جماعت اس کرہ ارض کے پورے انسانوں پر ان خصوصیات کے اندر فوقیت حاصل کرلیتی ہے تو انسانیت کے لئے اس کی قیادت بالکل ایک فطری اور طبیعی امر بن جاتا ہے اور یہ امر اپنی صحیح اساسوں پر قائم ہوتا ہے ۔ اس صورت حال کے نتیجے میں ایسی جماعت پھر علم و ثقافت اور تہذیب و تمدن اور اقتصادیات اور سیاسیات میں بھی دوسری اقوام سے برتر ہوجاتی ہے اور یہ دوسری برتری اسے پہلی برتری کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے یعنی اخلاقی اور نظریاتی برتری کے نتیجے میں اور یہی ہے سنت الہی اس کرہ ارض کے تمام افراد کیلئے بھی اور تمام جماعتوں اور سوسائٹیوں کیلئے بھی ۔ اسی نفسیاتی اور اجتماعی تطہیر کے ایک پہلو کو درج ذیل دو آیات کے اندر لیا گیا ہے ۔ (آیت) ” نمبر 148 تا 149۔ معاشرہ ہمیشہ نہایت ہی حساس ہوتا ہے اس لئے اسے بعض ایسے اجتماعی آداب کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی اس حساسیت کے مناسب حال ہوں۔ بعض اوقات ایک شخص ایک سرسری سی بات کہتا ہے لیکن معاشرے پر اس کے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں ‘ ان کا وہ اندازہ نہیں کرسکتا ۔ اور بعض اوقات ایک عام بات ہوتی ہے لیکن اس کے قائل کی مراد صرف ایک شخص سے ہوتی ہے لیکن ان باتوں کے اثرات معاشرے کی نفسیات ‘ اس کے اخلاق اور اس کے رسوم ورواجات پر نہایت ہی مہلک ہوتے ہیں۔ اس بات سے صرف وہ ایک فرد ہی متاثر نہیں ہوتا بلکہ اس سے پوری جماعت متاثر ہوتی ہے ۔ کوئی شخص کسی کے بارے میں بدگوئی کرنا چاہے اس کی جو شکل و صورت بھی ہو ‘ اگر اس کے دل میں خدا ترسی نہ ہو اور اس کا ضمیر محتاط نہ ہو تو یہ بدگوئی انسان کیلئے بہت ہی آسان ہوتی ہے ۔ لیکن اس بدگوئی اور بدزبانی کے آثار معاشرے میں بہت ہی برے نتائج پیدا کرتے ہیں ۔ بعض اوقات اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ معاشرے سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے ۔ لوگوں کا یہ خیال ہوجاتا ہے کہ اب معاشرے میں شر کو غلبہ حاصل ہوگیا ہے ۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے اندر شر کی استعداد پوشیدہ ہوتی لیکن وہ معاشرتی دباؤ کی وجہ سے شر کا ارتکاب نہیں کرتے وہ اس کا ارتکاب کرنے لگتے ہیں اب اس کا ارتکاب عام طور پر کیا جاتا ہے اس لئے وہ اس سے باک نہیں کرتے اور نہ ہی انہیں کوئی معاشرتی خوف لاحق ہوتا ہے ۔ وہ سوچتے ہیں کہ صرف وہی اس کا ارتکاب نہیں کر رہے اور لوگ بھی ایسا ہی کر رہے ہیں ۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ کسی برائی کا ارتکاب دیکھتے دیکھتے انسان کے دل سے اس برائی کی کراہت میں کمی آجاتی ہے ۔ انسان پہلے پہل برائی کو بہت ہی شدت سے محسوس کرتا ہے اور جب اس کا بار بار ارتکاب ہوتا رہے یا بار بار ذکر ہوتا رہے تو اس کی نظروں میں اس کی قباحت کم ہوجاتی ہے اور اس کی جانب سے اس کراہت میں کمی آجاتی ہے لوگوں کیلئے ایسی برائی کا سننا آسان ہوجاتا ہے اور پھر وہ اسے مٹانے کیلئے فورا اٹھتے بھی نہیں ہیں۔ بدگوئی میں انسان سب سے پہلے انفرادی الزامات عائد کرتا ہے ۔ انفرادی گالی گلوچ ہوتی ہے ۔ اس کے بعد اجتماعی نقصان اور انتشار پیدا ہوجاتا ہے ۔ اخلاقی بےراہ روی پھیل جاتی ہے ۔ اس میں بعض لوگوں کے بعض دوسرے کے بارے میں اندازے بدل جاتے ہیں ‘ بعض لوگوں کا بعض دوسرے لوگوں میں اعتماد نہیں رہتا ‘ بعض جماعتوں کا دوسری جماعتوں پر اعتماد نہیں رہتا ۔ الزامات پر الزامات آتے ہیں اور زبانیں انہیں بلا کسی جھجک کے چاٹتی رہتی ہیں ۔ یہ وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت مسلمہ کیلئے ایک دوسرے کی بدگوئی کو حرام قرار دیا ہے ۔ صرف وہی شخص بدگوئی کرسکتا ہے ‘ جس پر ظلم ہوا ہو۔ وہ صرف اس قدر برے لفظ استعمال کرسکتا ہے جن سے ظالم کے حقیقی ظلم کا اظہار ہو رہا ہو ان حدود کے اندر جن کے اندر ظلم ہوا ہے ۔ (آیت) ” لا یحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم “۔ (4 : 148) ” (اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے ‘ الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو) ظلم کے حالات میں بدگوئی کے ذریعے دشمن سے بدلہ لیا جاتا ہے اور اسی طرح ظلم کے مقابلے میں مدافعت کی جاتی ہے ۔ اس بدگوئی میں وہ امور بھی شامل ہیں ‘ جنہیں قانونی اصطلاح میں سب وشتم کہا جاتا ہے ۔ اس بدگوئی کے ذریعے ایک فرد ‘ اس انفرادی بدسلوکی کو مسترد کرتا ہے جو فی الواقعہ ہوچکی ہے۔ اس طرح یہ مظلوم اس ظلم اور ظالم کے خلاف پروپیگنڈا کرتا ہے۔ جس کا اسے حق حاصل ہوتا ہے تاکہ سوسائٹی اس مظلوم شخص کے ساتھ انصاف کرسکے ۔ وہ ظالم کے ہاتھ کو روک سکے اور معاشرے کے اندر ایک ایسی فضاء قائم ہو سکے جس میں ہر ظالم ظلم سے پہلے اپنے انجام کے بارے میں اچھی طرح سوچے اور اس ظلم کے دوبارہ ارتکاب سے باز آجائے ۔ اعلانیہ بدگوئی کا حق بالکل محدود ہے اسے صرف وہی شخص استعمال کرسکتا ہے جس پر ظلم ہوا ہو۔ اس کے جواز کا سبب بھی محدود ہے ۔ یعنی صرف وہ ظلم جو کسی متعین شخص کے ساتھ کیا گیا ہو اور یہ بدگوئی صرف اس شخص کے خلاف کی جاسکتی ہے جس نے ظلم کیا ہو ۔ ان محدود حالات میں اس بدگوئی کی اجازت اس لئے دی گئی ہے کہ اس سے ایک بڑی بھلائی کو رواج دینا مقصود ہے ۔ نیز اس بدگوئی سے ظلم اور ظالم کے خلاف صرف تشہیر ہی مقصود نہیں ہے بلکہ اصل یہ کہ مظلوم کو عدل و انصاف مل سکے ۔ اسلامی قانون لوگوں کی شہرت اور عزت کی حفاظت صرف اسی حد تک کرتا ہے ‘ جب تک وہ ظلم و زیادتی نہ کریں ۔ جب وہ ظلم کا ارتکاب کریں تو پھر وہ اس بات کے مستحق نہیں ہیں کہ ان کی حیثیت عرفی کو قانونی تحفظ دیا جائے ۔ ظلم کے ارتکاب کے بعد مظلوم کو یہ قانونی حق حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف اواز اٹھائے اور ایک حد تک بدگوئی بھی کرے ۔ یہ واحد استثناء ہے جو مظلوم کے سلسلے میں ہے ‘ ورنہ اسلام کا عام قانونی اور اخلاقی ضابطہ یہی ہے کہ کسی کے خلاف بدگوئی کی اجازت نہ ہوگی ۔ اس طرح اسلام کے ان دونوں مقاصد کے درمیان ایک قسم کا توازن قائم ہوجاتا ہے ۔ وہ ایک ایسا نظام انصاف قائم کرنا چاہتا ہے جس میں ظلم کی کوئی گنجائش نہ ہو ۔ ایک ایسا نظام اخلاق بھی رائج کرنا چاہتا ہے جس میں حیائے چشمی اور اجتماعی رواداری پر بھی خراش نہ آئے ۔ اس پر قرآن کریم یہ اختتامیہ لاتا ہے ۔ (آیت) ” وکان اللہ سمیعا علما “۔ (4 : 148) (اور اللہ سب کچھ جاننے والا ہے) اور انتہائے کلام پر بھی بات اللہ جل شانہ کی ذات سے مربوط ہوجاتی ہے ۔ جبکہ آغاز ذکر محبت الہی سے ہوا تھا ۔ (آیت) ” لا یحب اللہ الجھر بالسوء “۔ (4 : 148) ” (اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے) یہ اس لئے کہا گیا تاکہ انسان کے دل میں یہ شعور زندہ رہے کہ انسان کی نیت ‘ انسان کی جانب سے بدگوئی کے اسباب اور پھر اس کی زبان سے نکلنے والے الفاظ اور الزامات کی صحت اور انکی موزونیت کا اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھی طرح اندازہ ہوتا ہے کیونکہ اللہ سنتا ہے اور جو بات کہی جاتی ہے اس کے تمام پس منظر سے وہ اچھی طرح آگاہ ہے جو بات بھی سینوں میں بھی عیاں ہے ۔ قرآن کریم یہاں بات کو بدگوئی کی صرف ممانعت یعنی صرف منفی حکم پر ہی ختم نہیں کردیتا بلکہ وہ مثبت بات کرکے بھلائی کا حکم دیتا ہے ۔ اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ برائی پر عفو و درگزر سے کام لینا بہرحال بہت ہی پسندیدہ ہے ۔ عفو و درگزر کو صفات الہیہ میں سے ایک اہم صفت ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر خطاکار سے مواخذہ کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔ یہاں اشارہ دیا جاتا ہے کہ اہل ایمان کو اللہ کے اخلاق وصفات اپنے اندر پیدا کرنا چاہئیں ۔ جہاں تک ان میں قدرت ہو اور جہاں تک وہ ایسا کرسکیں ۔
Ayah 4:149

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا Open ayah 4:149 in the Quran reader

مظلوم ہونے کی صورت میں اگرچہ تم کو بدگوئی کا حق ہے) لیکن اگر تم ظاہر و باطن میں بھلائی ہی کئے جاؤ ‘ یا کم از کم برائی سے درگزرکو ‘ تو اللہ (کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ بڑا معاف کرنیوالا ہے حالانکہ سزا دینے پر) پوری قدرت رکھتا ہے۔

(آیت) ” ان تبدوا خیرا اوتخفوہ اوتعفوا عن سوء فان اللہ کان عفوا قدیرا (4 : 149) (لیکن اگر تم ظاہر و باطن میں بھلائی ہی کئے جاؤ ‘ یا کم از کم برائی سے درگزرکو ‘ تو اللہ کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ بڑا معاف کرنیوالا ہے حالانکہ سزا دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ “ ) یوں اسلام کا منہاج تربیت نفس مومن اور جماعت مسلمہ کو ایک قدم اور بلند کردیتا ہے پہلا مرحلے میں کہا جاتا ہے کہ کسی شریف انسان کیلئے بدگوئی کے ساتھ منہ کھولنا اچھا نہیں ہے۔ اس مرحلے میں ایک استثنائی صورت یہ رکھی جاتی ہے کہ مظلوم بدگوئی کرکے بدلہ بھی لے سکتا ہے اور حصول انصاف کو بھی ممکن بنا سکتا ہے ۔ دوسرے مرحلے پر اہل ایمان کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ سب کے سب بھلائی کیلئے ہر وقت کوشاں رہیں اور جس شخص پر ظلم کیا گیا ہے اور وہ بدگوئی کرکے اپنا بدلہ لے سکتا ہے اسے بھی یہ کہا گیا ہے کہ اگر وہ معاف کر دے اور صرف نظر کرے تو یہ نہایت ہی اچھا فعل ہے۔ یہ نہایت ہی بلند اخلاقی ہے ‘ بشرطیکہ وہ انتقام پر قادر ہو اور وہ انتقام کے بجائے عفو و درگزر کو ترجیح دے ۔ کیونکہ قدرت انتقام کے بغیر عفو کیا معنی ؟ گدا گر تواضع کند خوائے اوست۔ اگر عفو و درگزر کی نیکی کھل کر کریں تو معاشرہ میں عفو و درگزر کی رسم چلے گی اور نیکی پھیلے گی اور اگر وہ یہ نیکی خفیہ طور پر کریں گے تو بھی تزکیہ نفوس کا کام ہوگا ۔ بھلائی اگر اعلانیہ کی جائے تو بھی مفید ہے اور اگر خفیہ کی جائے تو بھی مفید ہے ۔ جب لوگوں کے درمیان عفو و درگزر عام ہوگا تو بدگوئی کرنے کے مواقع خود ہی کم ہوتے چلے جائیں گے بشرطیکہ یہ عفو و درگزر وہ شخص کرے جو انتقام پر قدرت رکھتا ہو ۔ لیکن اگر کسی شخص کی کمزوری اسے عفو پر مجبور کر رہی ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ یہ عفو و درگزر اللہ تعالیٰ کے اخلاق کو اپناتے ہوئے ہونا چاہئے ۔ اللہ قدرت کے باوجود عفو سے کام لیتا ہے ۔ (آیت) ”(فان اللہ کان عفوا قدیرا) (4 : 149) (اللہ بڑا معاف کرنیوالا ہے حالانکہ وہ سزا دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے) اس کے بعد بات کا رخ اہل کتاب کی طرف پھرجاتا ہے ۔ پہلے تمام اہل کتاب کے حوالے سے بات ہوتی ہے ۔ اس کے بعد خصوصا یہودیوں کے بعض کارناموں کا تذکرہ ہوتا ہے اور آخر میں نصاری پر تنقید ہوتی ہے ۔ یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہ السلام) کے بارے میں سخت بدگوئی کرتے تھے اور ان کی ذات کے بارے میں بہتان باندھتے تھے ۔ اس حصہ کلام میں ان کی ان بدگویوں کا ذکر بھی ہوتا ہے ۔ اس طرح یہودیوں پر کی جانے والی تنقید کا رابطہ دو سابقہ آیات سے بھی واضح ہوجاتا ہے جن میں بدگوئی کی ممانعت کی گئی ہے ۔ اہل کتاب اور یہود ونصاری پر یہ تنقید بھی اس معرکے کا حصہ ہے جو مدینہ میں جماعت مسلمہ کو اس کے دشمنوں کے ساتھ درپیش تھا جس کا ایک بہت بڑا حصہ اس سورة میں اور سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں تفصیلا بیان ہوا ہے ۔ اس معرکے کی تفصیلات قرآنی ترتیب کے مطابق ملاحظہ ہوں ۔
Ayahs 4:150–151

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا Open ayah 4:150 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں سے کفر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کردیں ‘ اور کہتے ہیں کہ ہم کسی کو مانیں گے اور کسی کو نہ مانیں گے اور کفر و ایمان کے پیچ میں ایک راہ نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:151 in the Quran reader

وہ سب پکے کافر ہیں اور ایسے کفروں کیلئے ہم نے وہ سزا مہیا کر رکھی ہے جو انہیں ذلیل و خوار کردینے والی ہوگی ۔

یہودیوں کا دعوی یہ تھا کہ وہ اپنے نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں لیکن وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کی رسالتوں کا انکار کرتے تھے ۔ جبکہ نصاری کا موقف یہ تھا کہ وہ صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت پر ایمان لاتے تھے اور حضرت محمد ﷺ کی رسالت کے وہ بھی منکر تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الہ بھی سمجھتے تھے ۔ قرآن کریم نے ان دونوں کے موقف پر سخت گرفت کی ۔ اور اللہ اور اس کے انبیاء ورسل پر ایمان لانے کا جامع تصور پیش فرمایا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا بھی غلط ہے اور خود اللہ کے تمام رسولوں کے درمیان فرق کرکے بعض پر ایمان لانا اور بعض کا انکار کرنا بھی غلط ہے بلکہ اللہ اور اللہ کے تمام رسولوں پر بلا امتیاز ایمان لانا ضروری ہے ۔ اور یہی دین اسلام ہے اللہ کو اس کے سوا کوئی اور دین قبول نہیں ہے کیونکہ اللہ کی وحدانیت اور اس کے تقاضوں کو صرف اسی صورت میں پورا کیا جاسکتا ہے ۔ اللہ کی وحدانیت مطلقہ کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کا دین بھی ایک ہو ‘ جس کے حامل وہ تمام رسول قرار دیئے جائیں جو انسان کی ہدایت کیلئے کسی بھی وقت بھیجے گئے ہوں اور جن جن رسولوں کو یہ امانت سپرد کی گئی ان کا درجہ اور مقام بھی ایک ہونا ضروری ہے ۔ رسولوں کے ایک ہی منصب اور ایک ہی مقام کا جو بھی انکار کرے گا وہ اللہ کی توحید کا انکار تصور ہوگا ۔ اس سے اللہ کی وحدانیت کا ایک بڑا تصور سامنے آئے گا اس لئے کہ انسانوں کیلئے اللہ کا پسندیدہ دین بہرحال وہی ایک ہے ‘ اس کی بنیاد ایک ہے ‘ اور اس کا مصدر ومنبع ایک ہے ‘ لہذا اس کے نمائندوں کے درمیان تفریق کس طرح معقول ہو سکتی ہے ۔ قرآن کریم نے اللہ اور رسولوں کے درمیان تفریق کرنے کو ان الفاظ میں بیان کیا ۔ ” کہ وہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور رسولوں کا انکار کرتے ہیں ۔ “ اور رسولوں کے درمیان تفریق کو یوں بیان کیا ۔ ” ہم کسی کو مانیں گے اور کسی کو نہ مانیں گے ۔ “ اور ان دونوں فریقوں کے بارے میں کہا۔ (آیت) ” ان الذین یکفرون باللہ ورسولہ “۔ (4 : 150) (جو لوگ اللہ اور رسولوں سے کفر کرتے ہیں) اس طرح قرآن کے نزدیک اللہ اور رسولوں میں سے کسی کو ماننا اور کسی کو نہ ماننا بھی کفر ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان ایک مستقل اکائی ہے اور اسکے ٹکڑے ٹکڑے نہیں کئے جاسکتے ایمان کا پہلا قدم اللہ کی وحدانیت کا اقرار ہے ۔ اللہ کو وحدہ لا شریک تسلیم کرنے کا لازمی تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے انسانوں کیلئے جو نظام زندگی اور جو دین پسند فرمایا ہے وہ بھی ایک ہے جو عقیدہ توحید کی اساس پر ہے ۔ جو رسول اس دین کو لیکر آتے رہے ہیں وہ بھی ایک ہیں اس لئے کہ یہ سب اسی کے بھیجے ہوئے ہیں اور یہ خود سے نہیں آئے نہ وہ اللہ کے ارادے اور اس کی وحی سے علیحدہ رہے ہیں ۔ ان کا موقف ہمیشہ ایک ہی رہا ہے اس لئے ایک پوری اکائی کی تحلیل اور تجزیہ نہیں ہو سکتا ۔ جو بھی ایمان کی اس وحدت اور اکائی میں فرق کرے گا وہ کفر مطلق کا ارتکاب کرے گا اگرچہ وہ یہ خیال کرتا ہو کہ بعض اجزاء پر ایمان لایا ہے اور بعض سے کفر کیا ہے ۔ ایسے لوگوں کی جزاء اللہ کے نزدیک یہ ہوگی کہ انہیں تو ہیں آمیز عذاب دیا جائے گا ایسے سب لوگوں کو ۔ (آیت) ” اولئک ھم الکفرون حقا ، واعتدنا للکفرین عذابا مھینا “۔ (4 : 151) (وہ سب پکے کافر ہیں اور ایسے کافروں کیلئے ہم نے وہ سزا مہیا کر رکھی ہے جو انہیں ذلیل و خوار کردینے والی ہوگی ۔ ) کسی قسم کا تفرقہ جائز نہیں ہے ۔ مسلمانوں کے ہاں تمام رسولوں کی عقیدت اور احترام پایا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کے نزدیک تمام سماوی ادیان برحق ہیں ‘ ہاں اگر انکے اندر تحریف کردی جائے تو پھر وہ دین نہ رہیں گے اگرچہ ان ادیان کے بعض حصے اپنی اصل شکل میں موجود ہوں ‘ اس لئے کہ دین ایک ہی وحدت ہے اور اہل کتاب اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ دین میں ایک الہ ہے ‘ اس ایک الہ نے لوگوں کیلئے ایک ہی دین تجویز کیا ہے ۔ یہ دین ان کی زندگی کا ایک مکمل منہاج ہے ۔ اللہ نے رسولوں کو بھیجا ہے تاکہ یہ تمام رسول اس منہاج اور اس نظام کی طرف لوگوں کو بلائیں ۔ مسلمانوں کے تصور میں قافلہ ایمان ایک دوسرے کے ساتھ قطار کی شکل میں جڑا ہوا ہے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ‘ اور حضرت محمد ﷺ اس قافلے کی قیادت فرما رہے ہیں جن کے درمیان ان کی بھائی مزید ایسے رسول بھی گزرے ہیں جن کے نام یہاں مذکور نہیں ۔ ان تمام رسولوں کا نسب نامہ اسی قافلے کے ساتھ ملتا ہے ۔ یہ سب ایک ہی عظیم امانت کے حامل رہے ہیں اور یہ تمام رسول ایک ہی سچائی وبھلائی کے وارث رہے ہیں جس کا سلسلہ طویل اور مبارک ہے ۔ اس سلسلے میں کوئی تفرقہ نہیں ہے ‘ اس میں سے کوئی رسول علیحدہ نہیں ہے اور اس سلسلے کے درمیان کوئی انقطاع نہیں ہے اور دین حق کی وراثت کا مصدر یہی لوگ رہے ہیں ان رسولوں کے سلسلے سے ہٹ کر جو دین اور جو نظریہ بھی ہے وہ باطل اور گمراہی ہے ۔ یہ ہے اسلامی نظریہ حیات جس کے سوا اللہ تعالیٰ کو کوئی دین اور نظریہ حیات قبول نہیں ہے اور یہ ہیں اہل اسلام جو اپنے اعمال پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے اجروثواب کے مستحق ہیں اور اس کی جانب سے رحمت اور مغفرت کے بھی مستحق ہیں اگر ان سے اپنی زندگی میں کوئی قصور سرزد ہوگیا ۔
Ayah 4:152

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:152 in the Quran reader

بخلاف اس کے جو لوگ اللہ اور اس کے تمام رسولوں کو مانیں اور ان کے درمیان تفریق نہ کریں ‘ ان کو ہم ضرور ان کے اجر عطا کریں گے اور اللہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

(آیت) ” والذین امنوا باللہ ورسلہ ولم یفرقوا بین احد منھم اولئک سوف یوتیھم اجورھم وکان اللہ غفورا رحیما “۔ (4 : 152) (بخلاف اس کے جو لوگ اللہ اور اس کے تمام رسولوں کو مانیں اور ان کے درمیان تفریق نہ کریں ‘ ان کو ہم ضرور ان کے اجر عطا کریں گے اور اللہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ) اسلام نے اللہ اور رسل کے بارے میں عقائد کو ایک اکائی قرار دینے کے بارے میں اس قدر تشدد کیوں کیا ؟ اسی لئے کہ ایک مومن کے تصور الہ میں عقیدہ توحید ایک اساسی حیثیت کا حامل ہے ۔ اور یہ عقیدہ اس کائنات کے اندر ایک مدیر ومنتظم کے تصور کے ساتھ بھی لگا کھاتا ہے جو نہ تعدد کو قبول کرتا ہے اور نہ اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا منتظم ہو سکتا ہے ۔ یہی عقیدہ کوئی ذی شعور انسان اختیار کرسکتا ہے جو اس کائنات کے اندر جاری وساری ناموس اکبر کو محسوس کرتا ہے اور جب تک اس کی نظر کو رسائی حاصل ہے ۔ یہی تصور حیات اہل ایمان کو ایک متحد قافلے کی شکل دے سکتا ہے جو کفر کی صفوں اور حزب الشیطان کی پارٹی کے مقابلے میں ‘ ایک جماعت کی شکل میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ لیکن یہ اہل ایمان ان نظریات کے حامل لوگوں کی طرح متفرق اور بکھرے ہوئے نہیں ہوتے ‘ جن کا دین اور نظریہ اگرچہ اپنی اصل کے اعتبار سے تو سماوی تھا مگر انہوں نے اس میں تحریف کرلی اور اب وہ صحیح اہل ایمان کی طرح ایک ہی صف میں کھڑے نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم صرف اسلام کو دین قرار دیتا ہے ۔ صرف اہل اسلام کو خیر امت قرار دیتا ہے جسے لوگوں کی خاطر برپا کیا گیا ہے ۔ وہ مسلمان جن کا عقیدہ درست ہو ‘ جن کا عمل اور کردار اس عقیدے اور نظرئیے کے مطابق ہو ‘ یہ نہ ہو کہ بس وہ ایک مسلمان کے گھر پیدا ہوئے ہوں اور نہ صرف یہ ہو کہ انہوں نے اسلام کے کلمے کو یاد کرلیا ہو اور زبان سے ادا کردیا ہو ۔ اس تشریح وبیان کے بعد معلوم ہوگیا کہ وہ کون ہیں جو ایک طرف اللہ اور رسولوں میں جدائی کرتے ہیں اور دوسری جانب رسولوں میں سے بعض کو مانتے ہیں اور بعض دوسروں کا انکار کرتے ہیں ۔ وہ تاریخی قافلہ ایمانی کے سلسلے کے اندر گیپ پیدا کرتے ہیں ‘ اس وحدت کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہیں جو اللہ نے پیدا کی ہے اور یوں وہ اس وحدانیت کا انکار کردیتے ہیں جس پر عقیدہ ایمان باللہ قائم ہے ۔ رسولوں اور انکی رسالت کے بارے میں اسلامی تصور حیات کی خشت اول کو مضبوط کرنے کے بعد اور حقیقت ایمان اور حقیقت کفر کو واضح کردینے کے بعد اس سلسلے میں یہودیوں کے بعض غلط مواقف زیر بحث لائے جاتے ہیں ‘ جن کا تعلق اس بدگوئی سے بھی ہے جس کا ذکر اس پارے کے آغاز میں کیا گیا ہے ۔ اس میں نبی ﷺ اور آپ کی رسالت کے بارے میں ان کے موقف کی تردید کی جاتی ہے اور اس بات کی مذمت کی جاتی ہے کہ وہ حضور اکرم ﷺ سے معجزات اور نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ وہ اپنے اس موقف اور عقیدے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اپنے موقف اور عقیدے کے درمیان فرق کرتے ہیں ۔ پھر حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کی والدہ محترمہ کے بارے میں ان کا موقف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مختلف ہے ۔ حالانکہ ان تمام پیغمبروں کی حقیقت پوری انسانی تاریخ میں ایک ہی ہے ۔ یہاں سیاق کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاید جو یہودی اور اہل کتاب حضرت محمد ﷺ کے سامنے کھڑے ہیں وہی لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے بھی کھڑے تھے اور یہی لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے بھی کھڑے تھے ۔ اس سے اس مفہوم کی تاکید مطلوب ہے کہ جس طرح رسل ایک ہیں اسی طرح ہم بھی ایک ہیں ۔ چناچہ قرآن کریم ان کی اس جبلت کو ان الفاظ میں ظاہر کرتا ہے ۔
Ayahs 4:153–154

یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:153 in the Quran reader

اے نبی ! یہ اہل کتاب اگر آج تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم آسمان سے کوئی تحریر ان پر نازل کراؤ تو اس سے بڑھ چڑھ کر مجرمانہ مطالبے یہ پہلے موسیٰ سے کرچکے ۔ اس سے تو انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں خدا کو علانیہ دکھا دو اور اسی سرکشی کی وجہ سے یکایک ان پر بجلی ٹوٹ پڑی تھی ۔ پھر انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا حالانکہ یہ کھلی کھلی نشانیاں دیکھ چکے تھے ۔ اس پر بھی ہم نے ان سے درگزر کیا ۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو صریح فرمان عطا کیا ۔

وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:154 in the Quran reader

اور ان لوگوں پر طور کو اٹھا کر ان سے اس فرمان کی اطاعت کا عہد لیا ۔ ہم نے ان کو حکم دیا کہ دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو۔

جزیرۃ العرب میں یہودیوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے مقابلے میں کھلا معاندانہ دشمنی کا موقف اختیار کیا ۔ وہ آپ کے خلاف مسلسل خفیہ اور نہایت ہی معاندانہ سازشیں تیار کرتے رہے جن کی تفصیلات کو قرآن مجید نے بیان کیا ہے ۔ اور جن کے کچھ رنگ ہم سورة بقرہ ‘ سورة آل عمران اور خود اسی سورة کے پارہ پنجم میں دکھا چکے ہیں ۔ ان آیات میں جو باتیں کہی جا رہی ہیں وہ بھی ان کے اس مسلسل موقف کا ایک رنگ ہے ۔ ان کی پہلی ہٹ دھرمی یہ ہے کہ وہ حضور ﷺ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ آسمانوں سے ایک کتاب نازل فرما دیں ‘ یہ لکھی ہوئی ہو ‘ وہ مجسم طور پر آسمانوں سے انکے سامنے آرہی ہو اور وہ اسے اپنے ہاتھوں کے ساتھ چھولیں ۔ (آیت) ” یسئلک اھل الکتب ان تنزل علیھم کتبا من السمآء (4 : 153) اے نبی ! یہ اہل کتاب اگر آج تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم آسمان سے کوئی تحریر ان پر نازل کراؤ) اس سوال کا جواب ‘ حضرت نبی اکرم ﷺ کی جانب سے خود اللہ تعالیٰ عنایت فرماتے ہیں اور حضور ﷺ اور مسلمانوں کے سامنے ‘ یہودیوں کی تردید کرتے ہوئے خود یہودیوں کی اپنی تاریخ سے ‘ ان کا اپنے نجات دہندہ اور قائد اور عظیم نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ان کے رویے کی ایک جھلک پیش فرماتے ہیں ۔ حالانکہ ان یہودیوں کا زعم یہ ہے کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لاتے ہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت کی تصدیق نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔ ان کی تاریخ کا یہ صفحہ الٹ کر بتایا جاتا ہے کہ ان کی یہ عادت کوئی نئی عادت نہیں ہے ۔ موجودہ مدینہ کے یہودی ہی ایسے سوالات نہیں کر رہے بلکہ از منہ قدیمہ سے ان کی ایسی ہی عادت رہی ہے ۔ ان کی جبلت آج بھی وہی ہے جو عہد موسیٰ میں ہوا کرتی تھی حالانکہ وہ انکے قائد بھی تھے ‘ نبی بھی تھے اور ان کے نجات دہندہ بھی تھے ۔ وہ موٹے دماغ کے لوگ ہیں ۔ ان کو صرف محسوس چیزوں کو دیکھ کر یقین ہوتا ہے ۔ جس طرح یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں ہٹ دھرم تھے ‘ عناد کرنیوالے تھے اور ماسوائے اس کے کہ انہیں کسی کی بات کو زبردستی تسلیم کرنے پر مجبور کردیا جائے ‘ یہ مان کر نہیں دیتے ۔ یہ آج بھی ویسے ہی کفر پیشہ اور غدار ہیں اور دوڑکر وعدہ توڑنے والے ہیں ۔ یہ وہی ہیں جھوٹے اور گندے لوگ ۔ وہ کسی موقف پر ثابت قدم رہنے والے نہیں ہیں ۔ اور نہ ہی یہ لوگ بدگوئی سے چوکتے ہیں ۔ یہ ہر وقت لالچ کے بندے ہیں اور دنیا پرستی انکا شعار ہے ۔ لوگوں کے مال باطل اور ناجائز طریقے سے کھانا ان کا وطیرہ ہے ۔ یہ بھی ان کی قدیم عادت ہے کہ یہ لوگ اللہ کے حکم سے روگردانی کرتے ہیں اور اس کے ہاں جو ثواب آخرت میں ملتا ہے اسے خاطر ہی میں نہیں لاتے ۔ ان آیات میں ان کے خلاف یہ مہم اسی لئے چلائی گئی ہے کہ ان کی حقیقت کھول کر سامنے رکھدی جائے ۔ انہیں شرمندہ کردیا جائے ۔ اس مہم کے زور اور اس کے تنوع کو دیکھ کر معلوم ہوجاتا ہے کہ اس وقت یہودی سازش کو بےنقاب کرنے کی کسی قدر ضرورت تھی جو سازش وہ اسلام اور وقت کے نبی کے خلاف کر رہے تھے ۔ یہودیوں کی یہی حیثیت اور ناپاک سازشیں ہیں جو آج تک اس دین اور اس کے ماننے والوں کے خلاف بدستور جاری ہیں ۔ (آیت) ” یسئلک اھل الکتب ان تنزل علیھم کتبا من السمآء (4 : 153) اے نبی ! یہ اہل کتاب اگر آج تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم آسمان سے کوئی تحریر ان پر نازل کراؤ) آپ ان کی اس ہٹ دھرمی سے پریشان نہ ہوں ‘ اس لئے کہ انکی یہ ہٹ دھرمی تعجب انگیز تعجب انگیز نہیں ہے ‘ نہ یہ کوئی نئی بات ہے ۔ (آیت) ” فقد سالوا موسیٰ اکبر من ذلک فقالوا ارنا اللہ جھرۃ (4 : 153) ”(تو اس سے بڑھ چڑھ کر مجرمانہ مطالبے یہ پہلے موسیٰ سے کرچکے ۔ اس سے تو انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں خدا کو علانیہ دکھا دو ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے جو بیشمار معجزات نازل فرمائے تھے وہ ان کے احساس کو نہ جگا سکے ۔ ان عظیم معجزات سے بھی ان کے وجدان کے اندر کوئی ارتعاش پیدا نہ ہوا۔ اور یہ حیران کن معجزات بھی ان کے دلوں کو مائل بہ ہدایت و اطاعت نہ کرسکے اور یہ بدبخت آگے بڑھے اور ذات باری کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا مطالبہ کردیا ۔ بالکل کھلے بندوں دیکھنے کا ۔ یہ ان کا ایک متکبرانہ مزاج اور مطالبہ تھا ‘ جس میں ایمان کی تروتازگی سرے سے موجود ہی نہ تھی بلکہ ان کی جبلت میں سرے سے ایمان کی استعداد ہی موجود نہ تھی ۔ ٍ (آیت) ” فاخذتھم الصعقۃ بظلمھم) اور اسی سرکشی کی وجہ سے یکایک ان پر بجلی ٹوٹ پڑی تھی ۔ لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف ہی کردیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا اور اپنے آپ سے ان کے بارے میں عاجزانہ التماس کو قبول ہی کرلیا ۔ اس دعا کی تفصیلات سورة اعراف (155) میں ہیں ۔ (آیت) ” فلما اخذتھم الرجفۃ قال رب لوشئت اھلکنھم من قبل وایایء اتھلکنا بما فعل السفھآء منا ان ھی الا فتنک تضل بھا من تشآء وتھدی من تشآء انت ولینا فاغفرلنا وارحمنا وانت خیر الغفرین (155) واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ انا ھدنا الیک (156) (7 : 155۔ 156) (جب ان لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آپکڑا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا ۔ ” اے میرے سرکار ‘ آپ تو پہلے ہی ان کو اور مجھے ہلاک کرسکتے تھے ‘ کیا اس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کردیں گے ؟ یہ تو آپ کی ڈالی ہوئی آزمائش تھی جس کے ذریعے سے آپ جسے چاہتے ہیں گمراہی میں مبتلا کردیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ہدایت پخش دیتے ہیں ۔ ہمارے سرپرست تو آپ ہی ہیں ۔ پس ہمیں معاف کردیجئے اور ہم پر رحم فرمائیے ۔ آپ سب کو معاف فرمانے والے ہیں ۔ اور ہمارے لئے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجئے اور آخرت کی بھی ۔ ہم نے آپ کی طرف رجوع کرلیا ہے۔ “ ) (آیت) ” ثم اتخذوالعجل من بعد ما جآء تھم البینت “۔ (4 : 153) (پھر انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا حالانکہ یہ کھلی کھلی نشانیاں دیکھ چکے تھے) یہ بچھڑا سونے کا بنا ہوا تھا ۔ اسے سامری نامی شخص نے بنایا تھا ۔ یہ اس نے سونے کے ان زیورات سے بنایا تھا ‘ جو انہوں نے مصری عورتوں سے لئے تھے جب وہ وہاں سے نکل رہے تھے ۔ یہ لوگ اس بچھڑے کے اردگرد جمع ہوگئے اور انہوں نے اسے اپنا معبود بنا لیا ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس وقت کوہ طور پر گئے ہوئے تھے جہاں انہوں نے اپنے رب سے ایک مقررہ وقت میں بات کرنی تھی ۔ جہاں ان کو تورات کی الواح اور ہدایت اور نئی روشنی عطا ہونی تھی ۔ (آیت) ” (فعفونا عن ذلک) (اس پر بھی ہم نے ان سے درگزر کیا۔ ) لیکن یہودی یہودی ہی تو تھے ۔ ان کے ساتھ معاملات کرنے میں صرف خوف اور جبر مفید رہتا ہے ۔ (آیت) ” واتینا موسیٰ سلطنا مبینا (153) ورفعنا فوقھم الطور بمیثاقھم وقلنالھم ادخلوا الباب سجدا وقلنالھم لا تعدوا فی السبت واخذنا منھم میثاقا غلیظا “ (154) (4 : 153۔ 154) (ہم نے ان سے درگزر کیا ۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو صریح فرمان عطا کیا اور ان لوگوں پر طور کو اٹھا کر ان سے اس فرمان کی اطاعت کا عہد لیا ۔ ہم نے ان کو حکم دیا کہ دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو۔ ہم نے ان سے کہا کہ اللہ کا قانون نہ توڑو اور اس پر ان سے پختہ عہد لیا ۔ ) یہاں سوال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے جو سلطان عطا فرمایا وہ کیا چیز ہے ۔ غالبا وہ وہی شریعت ہے جو الواح میں موجود تھی ‘ تو اللہ تعالیٰ کی شریعت گویا اللہ کی جانب سے سلطان اور حاکمیت ہے اور اللہ کے سوا جو شریعت اور قانون بھی ہوگا اس پر اللہ کی جانب سے کوئی سلطان اور سند قبولیت نہ ہوگی ۔ عملا بھی غیر اللہ کی شریعت اور قوانین کو دلوں پر کوئی حکمرانی حاصل نہیں ہوتی ۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے لئے جو قوانین خود بناتے ہیں ان کی کوئی وقعت عوام الناس کے دلوں میں نہیں ہوتی ۔ ان قوانین کا نفاذ صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ داروغہ سر پر کھڑا ہو یا جلاد کی تلوار سر پر ہو ۔ رہی اللہ کی شریعت تو لوگ اس کے سامنے نہایت ہی عاجزی سے سرتسلیم خم کرتے ہیں اور ان کے دل مائل باطاعت ہوتے ہیں ۔ دلوں کے اندر شریعت کے خلاف ورزی کا خوف ہوتا ہے اور اللہ کی سزا کا ڈر نظروں میں ہوتا ہے ۔ لیکن یہودی جن کے دل شعور ایمان سے محروم تھے انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کی جانب سے دی گئی الواح شریعت کے ماننے سے صاف انکار کردیا ۔ اس مقام پر پھر ان پر اللہ کا غضب آتا ہے ‘ اس لئے کہ وہ اپنی فطرت اور اپنے مزاج کے اعتبار سے اس کے لائق تھے ۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ ایک عظیم چٹان ان کے سروں پر لٹک رہی ہے ۔ یوں نظر آتا تھا کہ ابھی ان کے سروں پر گری کہ گری ۔ وہ چونکے فورا انہوں نے اس شریعت کو تسلیم کرنے کا اقرار کیا اور وعدہ کرلیا ۔ پختہ میثاق طے ہوگیا ۔ اور بڑی بڑی یقین دہانیوں کے ساتھ طے ہوگیا ۔ حالانکہ پہلے وہ نہ تسلیم کرنے تھے نہ عہد کرنے کیلئے تیار تھے اور نہ ہی اس عہد قدیم کو لینے کے لئے تیار تھے ۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ یہاں انہیں ان کی اس صفت قدیمہ کو یاد دلاتے ہیں ۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ اس منظر میں ایک سخت پتھر جو ان کے سروں پر لٹک رہا تھا اور دوسری طرف ان کے سینوں میں سخت پتھر کی طرح دل رکھے ہوئے ہیں۔ چناچہ اس منظر میں ان دو قسم کے پتھروں کے درمیان مناسبت پیدا کردی گئی ہے۔ اس طرح انداز تعبیر پختہ ‘ متعین اور مجسم ہوجاتا ہے ۔ جس طرح قرآن کریم کا عمومی انداز تعبیر ہے کہ وہ وہ بیت المقدس میں سجدہ ریز ہو کر داخل ہوں اور یہ کہ وہ سبت کا احترام کریں جسے خود ان کے مطابلے پر ان کیلئے خوشی کا دن بنایا گیا تھا ۔ لیکن ہوا کیا ؟ پتھر لٹکنے کے خوف وہراس کے غائب ہوتے ہی اور اس قاہرانہ فضا کے ختم ہوتے ہی ان کے قدم پھسل گئے اور فخر سے یہ کہنے لگے کہ ہمارے دل تو کسی نصیحت سے متاثر نہیں ہوتے ۔ وہ مردوں میں ہیں اور ان تک کوئی بات پہنچتی ہی نہیں ہے کیونکہ ان کے دروازے بند ہیں ۔ اور یہ کہنے کے بعد انہوں نے ان تمام برے افعال کا ارتکاب کیا جس کی تفصیلات اللہ میاں یہاں نبی ﷺ کو بتاتے ہیں ۔ یہ یہاں اس لئے گنوائے گئے ہیں تاکہ حضور ﷺ یہودیوں کو ذرا آئینہ دکھا دیں کہ وہ ہیں کیا ؟
Ayah 4:155

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪ Open ayah 4:155 in the Quran reader

ہم نے ان سے کہا کہ اللہ کا قانون نہ توڑو اور اس پر ان سے پختہ عہد لیا ۔ آخر کار ان کی عہد شکنی کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور متعدد پیغمبروں کو ناحق قتل کیا ‘ اور یہاں تک کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں حالانکہ درحقیقت انکی باطل پرستی کے سبب سے اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے اور اسی وجہ سے یہ بہت کم ایمان لاتے ہیں ۔

(آیت) ” فبمانقضھم میثاقھم وکفرھم بایت اللہ وقتلھم الانبیآء بغیر حق وقولھم قلوبنا غلف “۔ (4 : 155) (آخر کار ان کی عہد شکنی کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور متعدد پیغمبروں کو ناحق قتل کیا ‘ اور یہاں تک کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں) ۔۔۔۔۔۔ ان کی اس بات پر کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں ۔ (قلوبنا غلف (4 : 155) ان پر تنقید ختم ہوتی ہے اور اگلی آیت میں ان کی اس بات کا جواب دیا جاتا ہے ۔ وہ یہ بات اس وقت کہتے تھے جب حضور ﷺ ان پر دعوت اسلامی پیش کرتے ۔ یہ لوگ یہ جواب یا تو اس لئے دیتے تھے کہ حضور ﷺ ان سے مایوس ہوجائیں اور آئندہ ان پر دعوت پیش نہ کریں اور یا وہ حضور ﷺ کی جانب سے تبلیغ پر آپ کے ساتھ بطور مزاح یہ بات کرتے تھے اور آپ کی دعوت کو رد کر کے گویا وہ بڑے لوگ بننے کی کوشش کرتے تھے کہ ہم تو ان باتوں پر کان ہی نہیں دھرتے ۔ یہ دونوں باتیں ہی ان کے پیش نظر ہو سکتی ہیں ‘ بہرحال اللہ کا جواب یوں آتا ہے ۔ (آیت) ” بل طبع اللہ علیھا بکفرھم فلا یومنون الا قلیلا “۔ (4 : 155) (حالانکہ درحقیقت انکی باطل پرستی کے سبب سے اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے اور اسی وجہ سے یہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔۔۔۔۔ ) مطلب یہ ہے کہ ان کے دل ملفوف نہیں ہیں ‘ بلکہ وہ دعوت اسلامی کا انکار اس لئے کر رہے ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے ۔ یہ ٹھپہ بھی ان کے دلوں پر اس لئے لگایا گیا ہے کہ انہوں نے کفر کو اپنا شیوہ بنا لیا ہے اس لئے ان کے دل سخت ہوگئے ہیں ‘ وہ جمادات کی طرح ہوگئے ہیں ‘ اور کفر کے نیچے دب گئے ہیں ۔ انہوں ایمان کی تروتازگی کا کوئی احساس ہی نہیں ہوتا ‘ ان کے اندر ایمان کی مٹھاس کی حس ہی نہیں رہی ہے ۔ اس لئے شاذونادر رہی یہ ایمان قبول کرتے ہیں ۔ یہ شاذ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مذکورہ بالاافعال بد کا ارتکاب نہ کیا تھا ‘ اسی لئے ان کے دلوں پر مہر نہیں لگائی گئی تھی ۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے دلوں کے دروازوں کو قبول حق کیلئے کھلا رکھا اور حق کو قبول کرکے عزت دار بن گئے ۔ انکو اللہ نے ہدایت دی اور ایمان نصیب کیا۔ یہودیوں میں سے ایسے لوگ بہت ہی کم تھے بلکہ کم سے کم ‘ مثلا عبداللہ بن سلام ‘ ثعلبہ ابن معیہ ‘ اسد ابن محیہ اور اسد ابن عبید اللہ ؓ اجمعین ۔ اس تنقید اور استدراک کے بعد ‘ اللہ تعالیٰ ان اسباب کو گنواتے ہیں جن کی وجہ سے یہ یہودی اس سلوک کے مستحق ہوئے جو انکے ساتھ کیا گیا ۔ دنیا میں ان پر بعض نہایت ہی پاک چیزوں کو حرام حرام قرار دے دیا گیا ‘ آخرت میں ان کیلئے آگ کا عذاب تیار کیا گیا تاکہ وہ آخرت اور قیامت آنے سے پہلے ہی اس کا انتظار کریں۔
Ayah 4:156

وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:156 in the Quran reader

پھر اپنے کفر میں یہ اتنے بڑھے کہ مریم پر سخت بہتان لگایا

(آیت) ” وبکفرھم وقولھم علی مریم بھتانا عظیما (156) وقولھم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ “۔ (157) (4 : 156۔ 157) (پھر اپنے کفر میں یہ اتنے بڑھے کہ مریم پر سخت بہتان لگایا ‘ اور خود کہا کہ ہم نے مسیح ‘ عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم ‘ رسول اللہ کو قتل کردیا ہے) ۔۔۔۔ جب بھی ان کے برے افعال میں سے کسی بات کا ذکر کیا جاتا ہے قرآن کریم ان کی صفت کفر کو ضرور ساتھ لاتا ہے ۔ قتل انبیاء ذکر کے وقت بھی یہ صفت دہرائی گئی کہ انہوں نے انبیاء کو ناحق قتل کیا ‘ انبیاء کا قتل جب بھی ہوا ناحق ہی ہوا ۔ ناحق کا لفظ بطور حقیقت واقعہ لایا گیا ہے ۔ اسی طرح جہاں اس بات کا ذکر ہوا کہ انہوں نے حضرت مریم (علیہ السلام) پر عظیم بہتان باندھا وہاں بھی اس صفت کا ذکر ہوا ۔ مریم پر انہوں نے جو بہتان باندھا اس کے قائل صرف یہودی تھے ۔ انہوں نے مریم پر یوسف نجار کے ساتھ زنا کرنے کا الزام باندھا (ان پر خدا کا غضب ہو ! ) اس کے بعد انہوں نے یہ ڈینگ ماری کہ انہوں نے حضرت مسیح کو سولی پر چڑھایا اور طنز ! یہ کہا کہ ” انہوں نے مسیح ابن مریم رسول اللہ کو قتل کردیا ہے ۔ “ یہاں تک آکر سیاق کلام ایک بار پھر رک جاتا ہے اور ان کے اس دعوے کی لگے ہاتھوں تردید کردی جاتی ہے ۔ اور سچائی کو ثابت اور مستحکم کردیا جاتا ہے ۔