Ayahs 4:44–47درس نمبر 43 تشریح آیات :
44۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 57
مدینہ کی نوخیز تحریک اسلامی کا جو گھیراؤ مخالف اسلام کیمپوں نے کر رکھا تھا ‘ اس سبق کے ساتھ ان کیمپوں کے خلاف یہاں معرکہ آرائی شروع ہو رہی ہے ۔ اس سبق کے اندر اس بات پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے کہ مدینہ کے یہودی اس دین جدید اور جامعت مسلمہ کے خلاف کیا کیا اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں ۔ اس سے اگلے سبق میں بتایا گیا ہے کہ جماعت مسلمہ کے فرائض کیا ہیں اور یہ کہ اسلامی نظام کا مزاج کیا ہے ‘ اسلام کی تعریف کیا ہے اور ایمان کی شرائط کیا ہیں جس کی وجہ سے اسلامی زندگی اور اسلامی نظام حیات دوسرے لوگوں کی زندگی اور نظام سے متمیز ہوتا ہے ۔ اس سے پھر اگلے سبق میں جماعت مسلمہ کو خبردار کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسلامی نظام کے نفاذ ‘ اپنی صورت حالات کی درستی اور اپنے وجود کو بچانے کے اقدامات کرے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اس کے منافق دشمن اس کے خلاف خفیہ سازشوں میں مصروف ہیں۔ جماعت مسلمہ کو بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے اندرونی اختلافات کی طرف بھی متوجہ ہو اور ان دفاعی اقدامات پر بھی غور کرے جو اسے اپنے اردگرد پھیلے ہوئے دشمن کیمپوں کے مقابلے میں کرنے ہیں۔ اس میں قانون بین الاقوام کے سلسلے میں بعض ہدایات بھی ہیں ۔ اس کے اگلے سبق میں ایک یہودی کا معاملہ آتا ہے جس کے ساتھ اسلامی معاشرے میں تمام دشمنیوں سے بلند ہو کر معاملہ کی گیا ۔ اس سے اگلے سبق میں شرک اور مشرکین کے ساتھ دو دو ہاتھ کئے گئے ہیں اور ان بنیادوں کو حقارت آمیز انداز میں بیان کیا گیا ۔ جن کے اوپر مشرک معاشرہ قائم تھا ۔ اس معرکے کے درمیاں بعض ہدایات داخلی تنظیم کے بارے میں بھی دی گئی ہیں ۔ جن کا تعلق ‘ ابتدائے سورة کے مضامین بابت خاندانی نظام کے ساتھ ہے ۔ اب اس پارے کا آخری سبق آتا ہیں جو نفاق اور منافقین کے ساتھ خاص ہے ۔ یہ سبق فیصلہ کرتا ہے کہ منافقین آگ میں سب سے نیچے درجے میں ہوں گے ۔
ان سرسری اشارات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ اس وقت تحریک اسلامی کو داخلی اور خارجی محاذوں پر کس قدر ہمہ جہت لڑائی کا سامنا تھا ۔ اور پہلی تحریک اسلامی کو کس طرح بیک وقت داخلی اور خارجی محاذوں پر کام کرنا پڑ رہا تھا ۔ اس لئے کہ داخلی محاذ اور خارجی محاذ ایک دوسرے کے ساتھ منسلک اور پیوستہ تھے ۔ اور یہی معرکہ آج بھی عالمی تحریک اسلامی کو درپیش ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا ۔ اس لئے کہ اسلامی تحریک کی اساس اور حقیقت ایک ہے ۔
(آیت) ” نمبر 44 تا 46۔
(سمعنا وعصینا) اور (واسمع غیر مسمع) اور (راعنا) حالانکہ اگر وہ کہتے ۔ (سمعنا واطعنا) اور (واسمع وانظرنا) تو یہ انہی کے لئے بہتر تھا اور راست بازی کا طریقہ تھا ۔ مگر ان پر تو انکی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے اس لئے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں “۔
اس سورة میں جن متعدد جگہ تعجب کا اظہار کیا گیا ان میں سے پہلی جائے تعجب تو یہ ہے کہ اس کا خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور اہل کتاب سے مراد یہودی ہیں جبکہ مفہوم میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو ایسا موقف اختیار کرتے ہیں جو انوکھا اور تعجب خیز ہو ۔
(آیت) ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب یشترون الضللۃ ویریدون ان تضلوا السبیل “۔ (44) ” تم نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جنہیں کتاب کے علم کا کچھ حصہ دیا گیا ہے ؟ وہ خود ضلالت کے خریدار بنے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ گم کر دو ۔
چونکہ انکو کتاب دی گئی تھی اس لئے ان کے شایان شان تو یہ تھا کہ وہ فورا ہدایت قبول کرتے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے بڑے پیغمبر تھے اللہ نے انہیں تورات دی تھی ۔ تاکہ انہیں وہ ان کی ضلالت سے نکالے اور ان کے لئے نور اور ہدایت ہو ۔ لیکن وہ اپنی اس قسمت سے انکاری ہیں اور ہدایت چھوڑ کر ضلالت کے خریدار بن گئے ہیں ۔ خریداری سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے ضلالت لینے کا پختہ ارادہ کرلیا ہے ‘ ان کی نیت ہی یہ ہے اسی لئے انہوں نے ہدایت کو ترک کرکے گمراہی کو پسند کیا ہے ۔ ہدایت ان کے ہاتھوں میں ہے لیکن وہ اسے چھوڑ کر گمراہی اخذ کررہے ہیں ۔ گویا وہ قصد و ارادہ سے یہ سودا کر رہے ہیں ‘ جہل اور خطا سے ایسا نہیں کررہے ۔ اس لئے ایک عقلمند آدمی سے ایسی حرکت تعجب خیز اور بالکل انوکھی ہے اور قابل استکراہ ہے ۔
لیکن اس قابل تعجب صورت حال میں ہوتے ہوئے بھی وہ سمجھتے ہیں کہ وہ نگران بنے ہوئے ہیں ‘ حالانکہ الٹا وہ اس سعی میں لگے ہوئے ہیں کہ ہدایت یافتہ لوگ گمراہ ہوجائیں ‘ اہل اسلام میں جو صحیح راہ پر ہیں ان کو وہ گمراہ کردیں ۔ وہ اسی مقصد کے لئے متعدد ذرائع اور وسائل اختیار کر رہے ہیں ‘ جن کی تفصیلات سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں گزر چکی ہیں ۔ اور ان کے کچھ نمونے اس سورة میں بھی آگے آرہے ہیں۔ انہوں نے خود جو گمراہی خریدی ہوئی ہے وہ اس پر اکتفا نہیں کر رہے بلکہ ان کے اردگرد جو شمع ہدایت روشن ہوچکی ہے وہ اسے بھی بجھانا چاہتے ہیں اور اس کے آثار تک مٹانے کے درپے ہیں کہ نہ ہدایت رہے اور نہ ہدایت پانے والے ۔
اس پہلی اور دوسری جھلکی میں اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کو متنبہ کیا ہے کہ یہودی تمہارے خلاف کیا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں اور یہ کہ اسلام کے خلاف وہ کیا کیا تدابیر اختیار کرنا چاہتے ہیں ۔ کیا ہی اچھی تدبیر ہے یہ کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے خلاف اہل ایمان کے دلوں میں نفرت بٹھانا چاہتے ہیں ‘ جو مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے تھے ۔ اس وقت مسلمان اس ہدایت پر فخر کرتے تھے اور وہ ان لوگوں کو اپنا دشمن سمجھتے تھے جو ان کو اس قابل فخر وعزت پوزیشن سے لوٹا کر پھر جاہلیت کی طرف لے جانا چاہتے تھے ‘ جس کو وہ خوب جانتے تھے اور اسلام بھی اس جاہلیت سے اچھی طرح واقف تھا اور جو شخص بھی انہیں جاہلیت کی طرف لوٹا رہا تھا ‘ وہ اسے بہت ہی برا سمجھتے تھے ۔ اس دور میں قرآن ان لوگوں سے مخاطب تھا ‘ اللہ کے علم کے مطابق نازل ہو رہا تھا ۔ اور مسلمانوں کے دلوں میں اس کی وقعت اور اہمیت تھی ۔
اس لئے اس کے بعد قرآن صراحتا بتاتا ہے کہ یہودیوں کی یہ سازش ہے اور تصریح کردی جاتی ہے کہ یہ یہودی مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ اہل ایمان کو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ان کی اس مذموم کوشش کے مقابلے میں اللہ کی ہدایت اور نصرت پر ہی بھروسہ کریں ۔
(آیت) ” واللہ اعلم باعدآء کم وکفی باللہ ولیا وکفی باللہ نصیرا “۔ (45)
اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور تمہاری حمایت ومددگاری کے لئے اللہ ہی کافی ہے کہتے ہیں ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ “
یوں صراحت کے ساتھ اعلان کردیا جاتا ہے کہ مدینہ میں جماعت مسلمہ اور یہودیوں کے درمیان دشمنی ہے ۔ اور ان کے درمیان متوازی خطوط متعین ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اگرچہ تعجب کا اظہار تمام اہل کتاب کے بارے میں ہیں لیکن اس آیت میں مدینہ کے یہودی ہی مراد ہیں ۔
کلام الہی نے فقط اشارہ پر اکتفا نہ کیا بلکہ یہودیون کا ذکر صراحت کے ساتھ کیا اور اس کے بعد ان کی سرگرمیوں اور سازشوں اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ان کی گستاخیوں کا تفصیلا ذکر کیا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعات ہجرت کے ابتدائی دور کے تھے اور ابھی تک مدینہ طیبہ میں اسلام کو اس قدر شوکت اور غلبہ نصیب نہ ہوا تھا ۔
(آیت) ” من الذین ھادوا یحرفون الکلم عن مواضعہ ویقویون سمعنا وعصینا واسمع غیر مسمع وراعنا لیا بالسنتھم وطعنا فی الدین (4 : 46)
” جن لوگوں نے یہودیت کا طریقہ اختیار کیا ہے ان میں کچھ لوگ ہیں جو الفاظ کو ان کے محل سے پھیر دیتے ہیں اور دین حق کے خلاف نیش زنی کرکے اپنی زبانوں کو توڑ موڑ کر کہتے ہیں ۔ (سمعنا وعصینا) اور (واسمع غیر مسمع) اور (راعنا) کلام الہی کے اندر توڑ پھوڑ کرتے ہوئے وہ حد سے گزر گئے تھے ۔ وہ اللہ کی شان میں بھی گستاخی کرتے تھے اور اس طرح وہ کلامی الہی کا سیدھا مفہوم کچھ سے کچھ بنا دیتے تھے ۔ اس آیت کے مفہوم میں راجح بات یہ ہے کہ وہ تورات کی عبارتوں کو اس طرح بدلتے تھے کہ اس کے الفاظ کا مفہوم بدل جاتا ۔ اور اس تحریف کا بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ حضور اکرم ﷺ کی رسالت کے بارے میں تورات میں جو دلائل تھے ‘ ان کو تبدیل کردیں اور ان احکام اور قوانین کو بدل دیں جن کو اسلامی شریعت نے بحال رکھا اور جن سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ جس منبع سے تورات نازل ہوئی ہے ‘ اسی سے قرآن کریم نازل ہو رہا ہے اور نتیجتہ یہ بات ثابت ہو رہی تھی کہ نبی اکرم ﷺ کی رسالت برھق ہے ۔ اور وہ ان باتوں کو اپنے مدلول سے اس طرح بدل دیتے کہ ان کی خواہشات کے مطابق مفہوم بن جاتا اور یہ صفت ان تمام لوگوں میں پائی جاتی ہے جو اپنے دین سے منحرف ہوجاتے ہیں اور ایسی تحریفات کرتے ہیں کہ جس سے اقتدار پر قابض لوگوں کو خوش کریں ‘ یا ان عوام الناس کو خوش کریں جو دین سے اپنے آپ کو چھڑانا چاہتے ہیں ۔ یہودی ہمیشہ اس کام میں ماہر رہے ہیں اگرچہ ہمارے دور میں مسلمانوں کے اندر بھی بعض لوگوں نے یہ کام شروع کردیا ہے اور یہ لوگ اس خصلت میں یہودیوں سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔
پھر یہ لوگ رسول خدا ﷺ کی خدمت میں گستاخی کرتے ہوئے اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ وہ کہتے ” ہم نے سنا اور نافرمانی کی “ اس لئے ہم نہ ایمان لاتے ہیں اور نہ اتباع کرتے ہیں اور نہ اطاعت کرتے ہیں ۔ اس سے بھی اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ آیات مدینہ کے ابتدائی ایام میں نازل ہوئیں جہاں یہودیوں کو حضور ﷺ کے مقابلے میں اس قدر بےباکانہ جرات ہو سکتی تھی ۔ اس ظاہری انکار کے بعد وہ نہایت ہی بےادبی ‘ نہایت ہی بداخلاقی پر اتر آئے اور حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے لگے ۔
بظاہر کہتے ہیں ۔ (اسمع) (سنئے) (غیر مسمع) آپ کوئی یہ حکم نہیں دے سکتا کہ آپ (سنئے) بظاہر تو یہ کلمہ تادیب تھا اور (راعنا) کا مفہوم یہ تھا کہ آپ ہماری رعایت کریں ‘ ہمارے حال کو مدنظر رکھیں ۔ یعنی یہ کہ وہ اہل کتاب ہیں اور انکو اسلام کی طرف اس طرح دعوت نہیں دی جانی چاہئے جس طرح عام مشرکین کو دی جاتی ہے ۔ ان اصل معنوں کو وہ زبان کے ہیر پھیر سے اس طرح بگاڑتے کہ (غیر مسمع) کا معنی یوں بن جاتا کہ آپ کی بات کوئی نہ سنے اور نہ آپ سن سکیں ۔ (اللہ انکو ذلیل کرے) اور (راعنا) کے لفظ کا اشقاق وہ رعونت سے کرتے ۔ یہ تھی انکی بےشرمی اور بےحیائی اور بےادبی اور ہیر پھیر اور مداہنت اور بات کا مفہوم بدلنا اور لفظ کا محل بدلنا وغیرہ ۔
قرآن کریم یہودیوں کی ان کمزوریوں کا ذکر کرنے کے بعد یہ بتاتا ہے کہ یہودی چونکہ اہل کتاب اور اہل ثقافت ہیں اور ان کا فرض یہ تھا کہ ان کا رویہ شریفانہ ہوتا اور تہذیب کے دائرے کے اندر وہ بات کرتے اس لئے کہ جن لوگوں کو کتاب کا حصہ ملا ہے ‘ ان کو غیر اہل کتاب کے مقابلے میں نہایت ہی سلجھا ہوا ہونا چاہئے ۔ یہ کہنے کے بعد ان کو یہ امید دلائی جاتی ہے کہ وہ ہدایت پاکر کر اچھی جزاء ‘ اللہ کی جانب سے بھلائی اور فضل وکرم کے مستحق ہوں گے بشرطیکہ وہ سیدھے راستے پر آجائیں ۔ لیکن ان کا مزاج ہی ایسا نہیں رہا ہے اور ان پر اللہ کی لعنت ہوگئی ہے اور ان کی حالت یہ ہے ۔
(آیت) ” ولوانھم قالوا سمعنا واطعنا واسطمع وانظرنا لکان خیرالھم واقوم ولکن لعنھم اللہ بکفرھم فلا یمومنون الا قلیلا “۔ (4 : 46)
” حالانکہ اگر وہ کہتے ۔ (سمعنا واطعنا ) اور (واسمع) اور (وانظرنا) تو یہ انہی کے لئے بہتر تھا اور زیادہ راست بازی کا طریقہ تھا ۔ مگر ان پر تو ان کی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے اس لئے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔ “
لیکن وہ سچائی کے مقابلے میں صاف اور قطعی بات نہیں کرتے اور اگر وہ صفائی کے ساتھ اس سچائی کو قبول کرتے اور صاف صاف بات کرتے اور کہتے ” ہم نے سنا اور اطاعت کی “ یا کہتے ” سنئے اور ذرا ہمارا انتظار کیجئے “ تو انکے لئے یہ بہتر ہوتا اور ان کے مزاج اور ان کی نفسیات اور حالات کے زیادہ مطابق ہوتا ۔ لیکن وہ اپنے کفر کی وجہ سے ہدایت سے دور بھاگتے ہیں کم لوگ ان میں ایسے ہیں جو ایمان لاتے ہیں ۔
اللہ کی بات بہت ہی سچی ہے ۔ اسلامی نظام حیات کو یہودیوں میں سے بہت ہی کم لوگوں نے قبول کیا اور اسلام کی طویل تاریخ اس پر گواہ ہے اور یہ قیل تعداد بھی وہ تھی جس کی قسمت میں اللہ نے یہ بھلائی لکھ دی تھی ‘ اور یہ ارادہ کرلیا تھا کہ وہ راہ ہدایت پالیں ۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے سچائی تک پہنچنے کے لئے جدوجہد کی ۔ انہوں نے ہدایت پانے کے لئے سعی کی ۔ رہا یہودی فرقہ تو وہ چودہ سو سال سے اسلام کے خلاف برسرجنگ ہے ۔ جب سے مدینہ میں ‘ ان کے پڑوس میں اسلام نازل ہوا ہے ‘ اس وقت سے لے کر آج تک اسلام کے خلاف ان کی سازشیں غیر منقطع ہیں اور اسلام کے ساتھ انہیں جو بغض ہے وہ آج تک ختم نہیں ہوا ۔ ہاں اس کی شکل ‘ اس کا رنگ اور اس کا فنی انداز بدلتا رہا ہے ۔ اور آج تک اسلام کے خلاف جو سازشیں بھی کی گئیں جس میں صیلبی جنگیں اور جدید استعماریت بھی شامل ہے ‘ اس کے پیچھے یہودیوں ہی کا ہاتھ رہا ہے ‘ اور یہ سازشیں مختلف شکلوں میں رہی ہیں۔ اگر براہ راست نہیں تو اس میں یہودیوں کا حصہ اور ہاتھ ضرور رہا ہے ۔
اس کے بعد خطاب اہل کتاب یہودیوں سے ہے ۔ انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس کتاب کو قبول کرلیں جو اس کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے جو تمہارے ہاں موجود ہے ۔ انہیں سخت دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر بلاوجہ وہ قبول حق سے رودگردانی کریں گے تو ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ انہیں مسخ کر کے انکے چہرے پھیر دے گا اور ان پر اسی طرح لعنت ہوگی جس طرح سبت کی خلاف ورزی کرنے والوں پر ہوئی تھی ۔ ارتکاب شرک سے انہیں منع کیا جاتا ہے اور خالص توحید کو قبول کرنے کی دعوت دی جاتی ہے جس کی اساس پر خود ان کا دین بھی استوار ہوا ہے ۔ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتے جبکہ اس کے علاوہ تمام گناہ معاف ہوسکتے ہیں ‘ شرک بہرحال گناہ عظیم ہے ۔
Ayah 4:48(آیت) ” نمبر : 47 تا 48۔
اہل کتاب کو ان کی صفت اہل کتاب سے پکارا گیا ‘ اس لئے کہ اس صفت کا تقاضا یہ تھا کہ وہ سب سے پہلے دعوت اسلامی کو قبول کرتے اور سب سے پہلے مسلمان بن جاتے ۔
(آیت) ” یایھا الذین اوتوالکتب امنوا بما نزلنا مصدقالما معکم “۔ (4 : 47)
” اے وہ لوگو جنہیں کتاب دی گئی تھی ‘ مان لو اس کتاب کو جو ہم نے اب نازل کی ہے اور جو اس کتاب کی تصدیق وتائید کرتی ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی “۔
چونکہ ان کو کتاب دی گئی ہے ‘ اس لئے انکے لئے ہدایت قبول کرنا کوئی انوکھی بات نہیں ہے اس لئے کہ جس اللہ نے انہیں کتاب دی ہے وہی اب انہیں دعوت ایمان دے رہا ہے کہ اس کتاب پر بھی ایمان لاؤ جو تمہارے پاس موجود کتاب کی تصدیق کر رہی ہے ۔ یہ ان کے لئے تو کوئی انوکھی بات نہیں ‘ جبکہ یہ کتاب ان کی کتابوں کی مصدق بھی ہے ۔
اگر ایمان دلائل پر موقوف ہوتا ‘ یا ظاہری اسباب پر موقوف ہوتا تو یہودی سب سے پہلے مومنین میں سے ہوتے ۔ لیکن یہودی اپنے مخصوص مفادات اور مصلحتوں کا شکار ہوگئے ۔ نیز وہ کینہ اور عناد کی وجہ سے ایمان نہ لا سکے ۔ یہ لوگ اپنے مزاج کے اعتبار سے بھی نہ ماننے والے تھے ۔ مزاج میں اکڑ تھی ۔ تورات نے ان کے لئے ” اکڑی ہوئی گردن رکھنے والی قوم “ کے الفاظ استعمال کئے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ ایمان نہ لائے ۔ اللہ کی طرف سے بھی ان کے حق میں سخت اور خوفناک تہدید آئی ۔
(آیت) ” من قبل ان نطمس وجوھا فنردھا علی ادبارھا اونلعنھم کما لعنا اصحب السبت وکان امر اللہ مفعولا “۔ (4 : 47)
” اس پر ایمان لے آؤ قبل اس کے کہ ہم چہرے بگاڑ کر پیچھے پھیر دیں یا ان کو اسی طرح لعنت زدہ کردیں جس طرح سبت والوں کے ساتھ ہم نے کیا تھا ‘ اور یاد رکھو کہ اللہ کا حکم نافذ ہو کر رہتا ہے ۔
طمس الوجوہ ‘ کا مفہوم یہ ہے کہ چہرے کے وہ خدوخال مٹا دیئے جائیں ‘ جن کی وجہ سے انسان انسان بنتا ہے اور چہروں کو بگاڑ کر پیچھے کی طرف موڑ دیا جانا ‘ اس طرح کہ وہ پیچھے کی طرف چلے ۔ اس سے مراد انہیں خوفناک عذاب سے ڈرانا ہے جس میں ان کے چہروں کو پیٹھ کی طرف موڑ کر پیچھے کی طرف چلنے پر مجبور کرنا شامل ہے ۔ اس عذاب میں وہ لعنت بھی شامل ہے جو اصحاب السبت پر وارد ہوئی ۔ (یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے سبت کے دن شکار کرنے کی کوشش کی حالانکہ ان کی شریعت کے مطابق ان پر یہ شکار حرام تھا) اس جرم پر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عملا بندر اور خنزیر بنادیا تھا ۔ نیز اس سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے تصورات اور دل و دماغ سے ہدایت اور بصیرت کے آثار مٹا دے اور ان کو دوبارہ کفر اور جاہلیت کی طرف لوٹا دے ۔ یعنی اس حالت کی طرف جب ان کے پاس کوئی کتاب ہدایت نہ تھی اور پھر یہ ایمان کے بعد کفر کی حالت میں چلے جائیں ۔ ایمان کے بعد دوبارہ کفر میں چلا جانا ‘ ہدایت کے بعد گمراہی میں چلا جانا ہی دراصل چہروں کا بگاڑ دینا ہے ۔ اور انسان کا الٹے پاؤں پھرنا ہر قسم کے ارتداد سے برا ہے۔
چاہے یہ مفہوم ہو یا وہ مفہوم ہو بہرحال یہ ایک خوفناک تہدید اور ڈراوا ہے جو یہودیوں کے کرخت اور متکبرانہ مزاج کے لئے مناسب سزا ہے ۔ اسی طرح ان کے برے اور خبیث اعمال کے لئے بھی یہی مناسب سزا ہے ۔
اس تہدید سے ڈر کر کعب الاحبار مسلمان ہوگئے تھے ۔ ابن ابی حاتم نے روایت نقل کی ہے اپنے والد ‘ ابن نفیل ‘ عمر ابن واقد ‘ یونس ابن جلیس ‘ ابو ادریس ‘ عائذ الخولانی کی سند سے ۔ انہوں نے کہا کہ ابو مسلم خلیلی کعب کے استاد تھے اور وہ انہیں رسول خدا ﷺ سے ملنے میں دیر کرنے پر ملامت کرتے تھے ۔ کہتے ہیں ابو مسلم نے کعب کو بھیجا کہ وہ حضور کو دیکھیں کہ آیا حضرت محمد ﷺ وہی ہیں “ کعب کہتے ہیں میں نے سواری کی اور مدینہ پہنچ گیا ۔ اچانک میں نے ایک تلاوت کرنے والے کو یہ تلاوت کرتے سنا ۔
(آیت) ” یایھا الذین اوتوالکتب امنوا بما نزلنا مصدقالما معکم من قبل ان نطمس وجوھا فنردھا علی ادبارھا “۔ (4 : 47)
” اے وہ لوگو جنہیں کتاب دی گئی تھی ‘ مان لو اس کتاب کو جو ہم نے اب نازل کی ہے اور جو اس کتاب کی تصدیق وتائید کرتی ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی اس پر ایمان لے آؤ قبل اس کے کہ ہم چہرے بگاڑ کر پیچھے پھیر دیں “۔
میں بھاگا اور پانی سے غسل کیا اور میں نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر دیکھا کہ کہیں میرا چہرہ مسخ تو نہیں ہوگیا ہے ‘ اس کے بعد میں مسلمان ہوگیا ۔
اور اس تہدید پر آخری وعید (آیت) ” وکان امر اللہ مفعولا “۔ (اور یاد رکھو کہ اللہ کا حکم نافذ ہوکر رہتا ہے) ہے ۔ یہ مکرر تہدید اور ڈراوا ہے اور یہودیوں کے مزاج کے عین مطابق ہے۔
اس کے بعد ایک اور تہدید آمیز اختتامیہ آتا ہے اور یہ آخرت کے متعلق ہے اور تنبیہ اور ڈراوا اس مقصد کے لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک کے جرم کو کبھی معاف نہیں کرتا ‘ جبکہ اس کے سوا جس قدر اور جس قسم کے جرائم ہیں ان کی مغفرت کا دروازہ کھلا ہے ‘ بشرطیکہ اللہ کی مشیت ہو ،
(آیت) ” ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء ومن یشرک باللہ فقد افتری اثما عظیما “۔ (48)
” اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا ‘ اس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لئے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے ‘ اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھہرایا ‘ اس نے تو بہت ہی بڑا جھوٹ تصنیف کیا اور بڑے سخت گناہ کی بات کی ۔ “
سیاق کلام سے یہ بات ضمنا ثابت ہوتی ہے کہ یہودی بھی شرک میں مبتلا تھے اس لئے ان کو بھی دعوت دی جاتی ہے ۔ کہ وہ توحید خالص کو اپنائیں اور شرک کا ارتکاب نہ کریں ۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے کسی شرکیہ قول یافعل کا ذکر نہیں کیا ۔ البتہ قرآن کریم کے دوسرے مواقع پر بعض تفصیلات موجود ہیں ۔ قرآن کریم نے ان کے اس عقیدے کا ذکر کیا ہے کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں جیسا کہ نصاری مسیح کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ شرک ہے ۔ اسی طرح قرآن کریم نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ دونوں طبقے یہود ونصاری ” کہ انہوں نے اپنے احبار اور رہبان کو اللہ کے سوا رب بنا رکھا ہے “ یہ لوگ احبار اور رہبان کو قانون سازی کا حق دیتے تھے ۔ انکو حلال و حرام کے اختیارات بھی دیتے تھے ‘ حالانکہ یہ حقوق ایسے ہیں کہ یہ اللہ کے مخصوص حقوق ہیں اور یہ اللہ کی حاکمیت کا مخصوص ترین دائرہ ہے یہ وجہ ہے کہ اہل کتاب کو بھی قرآن نے مشرکین تصور کیا ۔ اس نقطہ نظر کو اسلامی تصور حیات میں بہت اہمیت حاصل ہے کیونکہ ایمان کی تعریف اور اس کی شرائط کی اس سے وضاحت ہوتی ہے جیسا کہ اس سورة میں اس کی تفصیلات آگے آرہی ہیں ۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ حضور ﷺ کے دور میں جو یہودی جزیرۃ العرب میں رہتے تھے ‘ ان کے نظریات میں کئی پہلوؤں سے بت پرستی داخل ہوچکی تھی اور ان کے اعمال بت پرستی سے بھرے پڑے تھے ۔ یہ لوگ توحید سے منحرف ہوگئے تھے اس لئے یہاں ان کو سختی سے ڈرایا جاتا ہے کہ اللہ شرک کو ہر گز معاف نہیں کرتا اگرچہ شرک سے کم تردرجے کے ہر قسم کے گناہ وہ معاف کرتا ہے ۔ ایسے شخص کے لئے معافی کی کوئی صورت نہیں ہے جس نے دنیا میں شرک کیا ہو اور پھر توبہ کے بغیر مر گیا ہو ۔
شرک اس لئے جرم عظیم ہے کہ اس کی وجہ سے اللہ اور بندے کے درمیان ربط ٹوٹ جاتا ہے ۔ اور مشرک کو یہ امید نہیں ہوتی کہ اللہ اسے معاف کر دے گا ۔ اگر ایسے لوگ اس دنیا سے اس حال میں جائیں کہ وہ مشرک ہوں اور ان کا اللہ تعالیٰ کی ذات سے کوئی رابطہ نہ ہو ۔ ان کی مغفرت نہیں ہوسکتی ۔ جو شخص بھی شرک کرے اور اسی شرکیہ حالت میں دنیا سے چلا جائے ‘ جبکہ اس کے سامنے دلائل توحید مظاہر کائنات اور رسولوں کی تعلیمات میں موجود ہوں تو وہ جہنمی ہوگا ۔ اگر اس میں بھلائی کا ذرہ برابر عنصر بھی موجود ہوتا تو وہ ایسا ہر گز نہ کرتا ۔ اس جرم کی وہ فطرت سلیمہ تلف ہوچکی ہوتی ہے جو اللہ نے اسے دی تھی ۔ اور وہ شخص سب سے نچلے درجے میں چلا گیا ہے اور اس نے اپنے آپ کو گویا جہنم کی آگ کے لئے تیار کرلیا ہے ۔
رہے وہ جرائم جو اس واضح ‘ ظاہر ‘ عظیم ‘ گندے اور کھلے ظلم سے کم درجے کے ہیں تو یہ تمام گناہ اگرچہ وہ کبائر ہی کیوں نہ ہوں ان کی مغفرت کا دروازہ اللہ کے ہاں کھلا ہے بشرطیکہ اللہ کی مشیت ہو ۔ یہ جرائم حدود مغفرت کے اندر داخل ہیں۔ چاہے اس نے توبہ کی ہو اور اللہ معاف کر دے یا بغیر توبہ کے قیامت میں معاف ہوں ۔ جس طرح بعض روایات میں آیا ہے ‘ بشرطیکہ بندہ اللہ کے فضل کا شعور اپنے اندر پاتا ہو۔ وہ اللہ کی مغفرت کا امیدوار ہو اور اسے یقین ہو کہ اللہ مغفرت کرسکتا ہے اور یہ کہ اللہ کی مغفرت اس کے گناہوں سے بہت زیادہ ہے ۔ یہ ہے کہ امیدواری اللہ کی رحمت کے بارے میں ‘ جو ختم نہیں ہوتی اور نہ محدود ہوتی ہے ۔ وہ ایسی رحمت ہے جس کے آگے دروازے بند نہیں ہوتے اور نہ ہی ان دروازوں پر دربان ہوتے ہیں ۔
امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے قتیبہ ‘ جریر ابن عبدالحمید ‘ عبدالعزیز ابن رفیع ‘ زید ابن وہب کی سند کے ذریعے حضرت ابوذر ؓ سے نقل کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں : میں ایک رات نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور ﷺ اکیلے جارہے ہیں اور آپ کے ساتھ کوئی انسان نہیں ہے ۔ کہتے ہیں کہ میں نے یہ سوچا کہ شاید حضور ﷺ یہ پسند نہیں کرتے کہ ان کے ساتھ کوئی جائے ۔ تاہم میں چاند کے سائے میں چلتا رہا ۔ آپ نے میری طرف مڑ کر دیکھا اور مجھے دیکھ لیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” کون ہو تم “ میں نے عرض کیا ” ابوذر۔ “ مجھے اللہ آپ پر فدا کرے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” ابوذر آؤ ۔ “ کہتے ہیں میں آپ کے ساتھ کچھ دیر کے لئے دیا اور وہ اسے دائیں بائیں ‘ سامنے اور پیچھے پھیلاتے رہے اور اس میں اچھا تصرف کیا ۔ “ اس کے بعد مزید کچھ دیر میں ان کے ساتھ چلا ۔ اس کے بعد آپ ﷺ مجھ سے کہا ! ادھر بیٹھ جاؤ ۔ “ مجھے اس کھلی جگہ بٹھایا جس کے اردگرد پتھر تھے ۔ مجھ سے کہا ” تم ادھر بیٹھ جاؤ یہاں تک کہ میں لوٹ آؤں ۔ “ اس کے بعد آپ وادی میں آگے چلے گئے یہاں تک کہ آپ مجھے نظر نہ آرہے تھے ۔ آپ کافی دیر تک نہ آئے یہاں تک کہ انتظار طویل ہوگیا ۔ اس کے بعد مجھے آپ کے آنے کی آواز آئی اور آپ یہ فرما رہے تھے ! ” اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور اگرچہ اس نے چوری کی ہو ۔ “ جب آپ ﷺ واپس آگئے تو میں پوچھے بغیر نہ رہ سکا : ” اے رسول ﷺ مجھے اللہ آپ پر قربان کردے ‘ آپ اس وادی میں کس کے ساتھ باتیں کر رہے تھے ؟ “ میں نے تو کسی کو سنا کہ وہ آپ کے ساتھ بات کر رہا تھا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ! یہ جبریل تھے ‘ یہ وادی کی طرف مجھے ملے اور مجھ سے کہا ” آپ اپنی امت کو خوشخبری دے دیں کہ اس میں سے کوئی بھی اس حال میں مرا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر رہا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ میں نے کہا کہ ” اے جبریل اگرچہ اس نے زنا کیا اور چوری کی ہو ۔ تو انہوں نے کہا (ہاں) میں نے پھر کہا کہ اگرچہ اس نے چوری کی ہو اور زنا کیا ہو ؟ “ تو انہوں نے کہا : ” اگرچہ اس نے چوری کی ہو ‘ زنا کیا ہو اور شراب پی ہو۔ “
ابن ابی حاتم نے اپنی سند کے ساتھ حضرت جابر ابن عبداللہ ؓ سے روایت کی ہے : حضور نے فرمایا : جو شخص بھی مر جائے اس حال میں کہ وہ اللہ کے ساتھ شریک نہ کر رہا ہو تو اس کے لئے مغفرت جائز ہوجائے گی ‘ اگر اللہ نے چاہا تو اسے عذاب دے گا اور اگر اللہ نے چاہا تو اسے بخش دے گا ۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر ہرگز مغفرت نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے ۔ اس کے سوا جسے چاہے گا بخش دے گا ۔
ابن ابو حاتم (رح) نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں : ” ہم اصحاب رسول ﷺ زندہ جان کے قاتل ‘ یتیم کا مال کھانے والے ‘ بےگناہ عورتوں پر تہمت لگانے والے ‘ جھوٹی شہادت دینے والے میں شک نہ کرتے تھے (کہ وہ جہنمی ہیں) یہاں تکہ یہ آیت نازل ہوئی ۔ ” اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس کے سوا وہ جس کی چاہے مغفرت کر دے گا “۔ اس کے بعد اصحاب رسول ﷺ نے شہادت دینا چھوڑ دیا ۔
طبرانی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عکرمہ ؓ ‘ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے کہا ہے ‘ جو شخص یہ جانتا ہو کہ میں گناہوں کی مغفرت کرنے پر قادر ہوں تو میں اس کے گناہ معاف کر دوں گا ۔ اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا جب تک وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر دے ۔ “
اور اس آخری حدیث میں ہمارے لئے ایک بصیرت افروز لمحہ فکریہ ہے ۔ اصل اہمیت اس بات کو حاصل ہے کہ بھلائی ‘ امید ‘ خوف اور حیا کے پاس پردہ دل کے اندر اللہ کا حقیقی شعور ہونا چاہئے ۔ اگر انسان سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے اتو اس کا یہ شعور اور اس پر مبنی بھلائی کا جذبہ ‘ امید ‘ خوف اور حیاء انسان کے اندر خدا ترسی پیدا کرتے ہیں اور انسان مغفرت کا اہل ہوجاتا ہے ۔
اب قرآن مجید ذرا آگے بڑھتا ہے اور جماعت مسلمہ کو یہودیوں پر مزید آگے بڑھا کر حملہ آور کرتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کا ایک اور تعجب خیز پہلو سامنے لاتا ہے ۔ یہ کہ یہ یہودی لوگ اپنے آپ کو اب بھی اللہ کی برگزیدہ قوم سمجھتے ہیں ‘ اپنی تعریفیں کرتے ہیں اپنی پاکی واماں کی حکایتیں سناتے ہیں ‘ جبکہ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ بات کو اپنے اصل مفہوم و مراد سے بدل دیتے ہیں اور اللہ اور رسول کے مقابلے میں گستاخی کرتے ہیں ‘ جبکہ وہ خود جبت (ہر قسم کے وہمیات) اور طاغوت پر ایمان لاتے ہیں جیسا کہ آگے آتا ہے اور اپنی پاکی بیان کرکے اور اپنے آپ کو اللہ کا مقرب کہہ کر اگرچہ وہ بدعمل ہوں ‘ اللہ پر افتراء باندھتے ہیں ۔
Ayahs 4:49–50(آیت) ” نمبر 49 تا 50۔
یہودیوں کا یہ قدیمی دعوی ہے کہ وہ اللہ کے مختار اور برگزیدہ لوگ ہیں ۔ ایک وقت تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس امانت کے اٹھانے اور فرائض رسالت اور دعوت کے لئے چنا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی خاطر فرعون اور ان کے ساتھیوں کو ہلاک کیا تھا ۔ بنی اسرائیل کو ارض مقدس کا وارث بنایا تھا ‘ لیکن اس کے بعد آنے والے ادوار میں انہوں نے سرے سے اسلامی نظام ہی کو ترک کردیا ۔ اور انہوں نے اس کرہ ارض پر عظیم نافرمانیوں اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب شروع کردیا ۔ ان گناہوں سے زمین بھی کانپنے لگی ۔ ان کے لئے ان کے احبار ‘ علماء نے ان چیزوں کو حلال کردیا جسے اللہ نے حرام کیا تھا ‘ اور ان پر ان چیزوں کو حرام کردیا جو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا تھیں ۔ انہوں نے ان غلط کاموں میں ان احبار کی پیروی شروع کردی تھی اور ان احبار نے اس طرح جو خدائی کا دعوی کیا تھا ‘ اس کا انہوں نے انکار نہ کیا حالانکہ حلال و حرام کا تعین تو اللہ کا کام تھا ۔ ان احبار نے اللہ کی شریعت میں تبدیلیاں کردیں تاکہ بادشاہوں اور شرفاء کو خوش کریں اور جمہور عوام کے رجحانات اور میلانات کی پیروی وچاپلوسی کریں ۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے گویا ان کو اپنا رب بنا لیا تھا ۔ پھر انہوں نے سود کھانا شروع کردیا ۔ ان کا تعلق اپنے دین اور اپنے رب کے ساتھ کمزور ہوگیا ‘ ان جرائم اور ان کے ساتھ بیشمار دوسرے جرائم کے باوجود وہ بدستور اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ اللہ کی برگزیدہ قوم ہیں ‘ اور یہ کہ ان کو آگ فقط چند دن تک چھوئے گی اور یہ کہ اللہ کے نزدیک صرف یہودی ہی نجات کے مستحق ہیں ۔ گویا دین صرف رشتہ داری تک محدود ہوگیا ہے یا دین میں بھی ذاتی تعلقات اور دوستیاں کام کرتی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ بہت ہی بلند ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کو اپنے بندوں میں سے کسی کے ساتھ نہ قرابت داری ہے اور نہ نسبت ہے۔ اللہ کے بندوں کا تعلق صرف درست عقائد کی وجہ سے قائم رہ سکتا ہے ۔ عمل صالح کے ساتھ قائم رہ سکتا ہے اور اسلامی نظام حیات پر ثابت قدمی سے رہ سکتا ہے ۔ جس شخص نے اس تعلق میں خلل ڈالا ‘ اس پر اللہ کا غضب نازل ہوا ۔ اور اللہ کا غضب اس وقت بہت ہی جوش میں آتا ہے جب اللہ ایک گمراہ قوم کو ہدایت بخشے مگر وہ قوم ہدایت کے مقابلے میں انحراف کی راہ اختیار کرلے ۔ ان یہودیوں کے حالات آج کے نام نہاد مسلمانوں سے مختلف نہیں ہیں ۔ ‘ جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ امت محمدیہ میں سے ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ لازما ان کی مدد کرے گا اور یہودیوں کو ان کی سرزمین سے نکالے گا ‘ جبکہ وہ مکمل طور پر اسلام سے نکل گئے ہیں ‘ حالانکہ اسلام ان کا دین اور نظام زندگی ہے ۔ لیکن انہوں نے اسے اپنی زندگیوں سے نکال دیا ہے اور وہ اللہ کی کتاب کے مطابق کوئی فیصلہ نہیں کرتے ۔ نہ اپنے مقدمات میں نہ اپنے اقتصادی مسائل میں ۔ نہ اپنے اجتماعی معاملات میں اور نہ اپنے آداب و عادات میں ۔ ان کا اسلام صرف مسلمانوں جیسے نام رکھنے تک محدود رہ گیا ہے ۔ اور یہ کہ وہ مسلمانوں کے ملک میں پیدا ہوئے ہیں جس میں وہ کبھی زندہ رہ رہے تھے اور کبھی انہوں نے اس میں دین اسلام قائم کیا تھا اور اسلامی نظام کے مطابق تمام فیصلے کیا کرتے تھے ۔
اللہ تعالیٰ رسول خدا ﷺ کے سامنے تعجب کا اظہار فرما رہے ہیں کہ یہ یہودی بھی عجیب ہیں کہ وہ اپنے آپ کو بہت ہی پاک قوم سمجھتے ہیں ۔ لیکن آج کے مسلمانوں کا معاملہ تو اس تعجب انگیز صورت حالات سے بھی زیادہ تعجب انگیز ہے کیوں کہ ان کی اخلاقی حالت اس زمانے کے یہودیوں سے بھی زیادہ پست ہوچکی ہے ۔
یہ لوگوں کا کام نہیں ہے کہ وہ میاں مٹھو بن کر اپنی پاک دامنی کا ڈھنڈورا پیٹیں اور یہ شہادت کود اپنے حق میں دیں کہ وہ نیک ہیں ‘ اللہ کے قریبی ہیں اور شعب مختار ہیں ۔ بلکہ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ فیصلہ دے کہ اللہ کے نزدیک پاک اور برگزیدہ کون ہے ۔ اس لئے کہ وہ دلوں اور عملوں کو خوب جانتا ہے اور لوگوں پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا ۔ اگر وہ اللہ کی طرف صحیح معنوں میں متوجہ ہوجائیں نیک عمل کریں اور یہ تیر تکے چلانا چھوڑ دیں ۔ اگر وہ ادعاء چھوڑ دیں اور عمل کرتے ہیں نہایت ہی ادب اور حیاء کے ساتھ اور بغیر پاکی دامن کے پروپیگنڈے کے اور بغیر فخر و غرور کے تو اللہ کے ہاں ان کے کسی عمل کا غبن نہ ہوگا ‘ کوئی عمل بھول چوک کی وجہ سے حساب سے ساقط نہ ہوگا اور نہ ان کا کوئی حق مارا جائے گا ۔
اللہ تعالیٰ خود یہودیوں کے خلاف شہادت دیتے ہیں کہ وہ جو دعوے کر رہے ہیں کہ وہ برگزیدہ لوگ ہیں اور ان سے اللہ بہرحال راضی ہے تو یہ لوگ اللہ پر بہت بڑا افتراء باندھ رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اس دعوائے باطل کی مذمت کرتے ہوئے اس طرح اسے لوگوں کی نظروں میں ساقط گردانتے ہیں ۔
(آیت) ” انظر کیف یفترون علی اللہ الکذب وکفی بہ اثما مبینا (4 : 50)
” دیکھو تو سہی ‘ یہ اللہ پر بھی جھوٹے افتراء گھڑنے سے نہیں چوکتے اور ان کے صریحا گناہ گار ہونے کے لئے یہی ایک گناہ کافی ہے ۔
ذرا سوچئے تو سہی ‘ ہم لوگ جو اسلام کا دعوی کرتے ہیں ‘ اس لئے کہ ہمارے نام مسلمانوں جیسے ہیں اور ہم ایسی سرزمینوں میں بستے ہیں جہاں کبھی مسلمان بسا کرتے تھے تو یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے ۔ ہم لوگ اسلام کو اپنی زندگی کے کسی بھی شعبے میں نافذ نہیں کرتے لیکن اسلام کا دعوی کرتے ہیں ۔ اپنی سیرت اور صورت میں ہم اسلام کی شکل کو مسخ کررہے ہیں اور اپنی عملی زندگی سے اسلام کے خلاف شہادت دے رہے ہیں اور پھر بھی ہم دعوی کرتے ہیں کہ ہم برگزیدہ لوگ ہیں اور نبی کریم ﷺ کے امتی ہیں اگرچہ ہم نے اپنی عملی زندگی سے اسلام کو مکمل طور پر بےدخل کردیا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری صورت حال بھی اس صورت حالات سے مختلف نہیں ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو تعجب کے ساتھ متوجہ فرماتے ہیں اور ایسے دعوے کرنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھتے ہیں اور ایک عظیم گناہ کا ارتکاب کر رہے ہیں نعوذ باللہ ۔
یاد رکھئے کہ اللہ کا دین ایک نظام حیات ہے ۔ اور اللہ کی اطاعت کے معنی یہ ہیں کہ پوری زندگی میں اس نظام کی حکمرانی قائم کی جائے ۔ اللہ کا قرب اس وقت نصیب ہوگا جب اللہ کی اطاعت کی جائے ۔ ذرا غور کیجئے کہ ہم اللہ ‘ اس کے دین اور اس کے نظام زندگی سے کس قدر دور ہیں ۔ پھر یہ بھی غور کیجئے کہ ہمارا اور یہودیوں کا حال بالکل ایک جیسا ہے جن کے حال پر اللہ اور رسول تعجب کرتے ہیں ۔ ان کے بےبنیاد دعوے کو اللہ پر افتراء سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ اس لئے یہودیوں کے خلاف ضابطہ ہمارے خلاف ضابطہ ہوگا ۔ ان کا حال اور ہمارا حال ایک جیسا ہوگا ۔ اور یاد رکھئے کہ اللہ کی کسی کے ساتھ کوئی رشتہ داری نہیں ہے اور نہ کسی کے ساتھ دوستی ہے ۔
سلسلہ کلام بدستور انہی لوگوں کے بارے میں جاری ہے جو لوگ اپنے آپ کو برگزیدہ سمجھتے ہیں حالانکہ وہ حق کے مقابلے میں باطل پر ایمان لاتے ہیں ۔ ایسے احکام کو تسلیم کرتے ہیں جو از روئے شریعت مستند نہیں ہیں اور ان احکام کے لئے کوئی ایسا ضابطہ نہیں ہے جو ان کو ظلم اور زیادتی سے باز رکھ سکے ۔ یہ ہے ایمان بالجبت والطاغوت جبکہ وہ شرک اور مشرکین کے حق میں یہ گواہی بھی دے رہے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں حالانکہ اہل ایمان اللہ کی کتاب اللہ کی شریعت اور اس کے نظام حیات پر یقین رکھتے ہیں ۔ ان کے حال پر اس تعجب خیزی اور ان کی ذلالتوں کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر شدید تنقید فرماتے ہیں اور ان کو ذلیل و خوار دیتے ہیں ۔ ان کے مزاج کے خفیہ گوشے کھولتے ہیں کہ وہ سخت حاسد اور بخیل ہیں ۔ ان کے طرف سے دین ابراہیمی سے منحرف ہو کر موجودہ موقف اپنانے کے اسباب بتائے جاتے ہیں ‘ حالانکہ وہ دین ابراہیمی پر بےحد فخر کرتے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر اپنے شجرہ نسب ختم ہونے پر بھی وہ نہایت ہی فخر کرتے تھے ۔ یہ تنقید اسی حتمی فیصلے پر اختتام پذیر ہوتی ہے کہ ان کے لئے جہنم کی دہکتی ہوئی آگ کافی ہے ۔
Ayahs 4:51–55(آیت) ” نمبر 51 تا 55۔
جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اس آخری کتاب قرآن پر ایمان لے آئیں اور شرک سے باز آجائیں جو ان لوگوں کا شیوہ ہے جن کو اللہ کی طرف سے کوئی کتاب ہدایت نہیں ملی ۔ وہ اپنی زندگیوں میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں اور طاغوت کی اطاعت نہ کریں (طاغوت ہر وہ قانون ہے ‘ جو اللہ کی طرف سے نہیں ہے اور ہر وہ حکم ہے جس کی پشت پر کوئی شرعی سند نہیں ہے) لیکن یہودی جو ہر وقت پاکی دامان کے قصہ خواں تھے اور اس امر پر فخر کرتے تھے کہ وہ اللہ کے محبوب بندے ہیں ‘ ان دعاوی کے ساتھ ساتھ وہ باطل اور شرک کے پیروکار تھے ۔ وہ کاہنوں کی تابع داری کرتے تھے اور اپنے احبار کی اطاعت کرتے تھے جو ان کے لئے ایسے قوانین بناتے تھے جن پر اللہ کی جانب سے کوئی سند نہ ہوتی تھی ۔ وہ طاغوت پر ایمان لاتے تھے (طاغوت وہ نظام حکومت اور قانونی نظام ہے جو شریعت پر مبنی نہ ہو ) اسے طاغوت اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں طغیان اور دست درازی پائی جاتی ہے ۔ مثلا کوئی انسان اپنے لئے ان خصوصیات کا مدعی ہوجاتا ہے جو اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کی اہم خصوصیات ہیں اور یہ انسان اپنے آپ کو شریعت کے ضابطے کی اطاعت سے باہر نکال لیتا ہے ‘ جس کے مطابق عدل کرنا اس پر لازمی تھا ۔ یہ عمل ہے طغیان کا اور ایسا شخص طاغوت ہے اور اس طاغوت کے مطیع اور اس پر ایمان لانے والے مشرک ہیں یا کافر ہیں ۔ ایسے لوگوں پر اللہ تعجب کا اظہار فرماتے ہیں کہ وہ یہ فعل مکروہ اس کے باوجود کرتے ہیں کہ ان کو اس سے قبل کتاب دی گئی تھی ، لیکن انہوں نے اس کتاب کی پیروی نہ کی ۔
جبت (ہرقسم کی وہمیات) اور طاغوت پر ایمان لانے پر مزید انہوں نے یہ کیا کہ کفار اور مشرکین کی صف میں جا کھڑے ہوئے اور ان مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہوگئے جن کو اللہ نے کتاب دی ہے ۔
(آیت) ” ویقولون للذین کفروا ھولآء اھدی من الذین امنوا سبیلا (4 : 51) ” اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں ۔ “
ابن اسحاق نے بواسطہ محمد ابن ابی محمد ‘ عکرمہ اور سعید ابن جبیر ‘ حضرت ابن عباس ؓ اجمعین سے یہ روایت نقل کی ہے کہ قریش ‘ غطفان ‘ بنی قریظہ کے جن لوگوں نے جنگ احزاب میں تمام پارٹیوں اور احزاب کو جمع کیا تھا ان میں حیی ابن اخطب ‘ سلام ابن الحقیق ‘ ابو رافع ‘ ربیع ابن الحقیق ‘ ابو عامر ‘ وحوح ابن عامر اور ہوذہ ابن قیس تھے ۔ جب یہ لوگ قریش کے پاس آئے تو انہوں نے کہا : ” یہ لوگ یہودیوں کے احبار اور علماء ہٰں اور یہ لوگ پہلی کتاب کے ماہرین علماء ہیں آپ لوگ ان سے جو پوچھنا چاہیں پوچھ لیں کہ تمہارا دین اچھا ہے یا محمد ﷺ کا دین اچھا ہے ۔ قریش نے ان سے پوچھا انہوں نے جواب دیا : تمہارا دین محمد کے دین سے بہتر ہے اور جو لوگ محمد کے تابع ہوگئے ہیں تم ان سے زیادہ ہدایت پر ہو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔
(آیت) ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب) سے لے کر (واتینھم ملکا عظیما) (4 : 54) اور یہ ان لوگوں پر لعن طعن ہے اور اس بات کا اعلان ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں میں ان کا کوئی ناصر اور مددگار نہ ہوگا ‘ یہ لوگ اب مشرکین سے امداد چاہتے ہیں ۔ انہوں نے مشرکین کو زیادہ ہدایت یافتہ اس لئے کہا تاکہ ان کو اپنی امداد کے لئے مائل کرلیں ۔ چناچہ انہوں نے انکی دعوت قبول کرلی اور یوم الاحزاب میں یہ لوگ لشکر لے کر آگئے ۔ اس جنگ میں حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ اجمعین نے مدینہ کے اردگر خندق کھودی اور ان لوگوں کے اس عظیم شرکا دفعیہ صرف اللہ نے کیا اور (اللہ نے ان لوگوں کو بھاری غم واندوہ کے ساتھ لوٹا دیا جنہوں نے کفر کیا تھا ‘ اور وہ کچھ خیر نہ پاسکے اور اللہ تعالیٰ مومنین کی مدد کے لئے کافی تھا ۔ وہ تو بہت قوی اور غالب تھا) ۔
یہ بات تعجب انگیز تھی کہ یہودی یہ کہنے پر اتر آئیں کہ مشرکین کا دین ‘ دین محمد ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے دین سے بہتر ہے ۔ اور مشرکین ان لوگوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے ہیں لیکن یہودیوں کی جانب سے یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے ۔ حق و باطل کے درمیان انہوں نے ہمیشہ باطل کو ترجیح دی اور اہل حق اور اہل باطل میں سے ان کو ہمیشہ اہل باطل اچھے لگتے ہیں ۔ یہ اس قدر لالچی ہیں جس کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔ وہ اس قدر نفسانیت میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ ان کے مزاج میں اعتدال کا آنا ممکن ہی نہیں ہے ۔ ان کے سینے بغض سے بھرے ہوئے ہیں جو کبھی صاف نہیں ہو سکتے ۔ وہ اہل حق کے ہاں ‘ اپنی ٰخواہشات ‘ اپنے لالچ اور اپنے کین سے کا سامان نہیں پاتے ۔ انہیں اگر کچھ ملتا ہے تو ہمیشہ اہل باطل سے ملتا ہے ۔ اس لئے وہ ہمیشہ شہادت حق کے مقابلہ میں شہادت زور کے عادی ہیں اور اہل حق کے مقابلے میں اہل باطل کے لئے شہادت دیتے ہیں ۔
یہ ان کے دائمی حالات و عادات ہیں۔ ان حالات کی پشت پر جو اسباب تھے وہ اب بھی قائم ہیں اس لئے کہ یہ فعل ان کا طبیع اور منطقی فعل تھا کہ وہ کافروں کے متعلق یہ شہادت دیں کہ وہ اہل ایمان مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت پر ہیں۔
آج یہودی برملا کہتے ہیں کہ وہ اپنی اس قوت سے جو میڈیا کے حوالے سے ان کے قبضے میں ہے ‘ اس کرہ ارض پر کامیاب ہونے والی ہر تحریک کو باکام کرسکتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ اہل باطل کے ساتھ پوری پوری معاونت کرتے ہیں تاکہ وہ تحریک اسلامی کو بدنام اور نیست ونابود کر دے ۔ اور یہ راز داری وہ اس لئے اختیار کرتے ہیں کہ اگر یہ کھل کر سامنے آتے ہیں تو دور جدید میں ان کے فریب کا پردہ چاک ہوتا ہے اور ان کے ایجنٹ عوام الناس میں بدنام ہوتے ہیں ‘ جو درحقیقت ان کے اشاروں پر کام کرتے ہیں اور ہر جگہ اسلامی تحریکات کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے رات دن کام کرتے ہیں ۔
بلکہ بعض اوقات ان کیمکاری اور ہشیاری اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ بظاہر اپنے ایجنٹوں کے ساتھ اپنی دشمنی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ لڑتے نظر آتے ہیں لیکن دراصل وہ ان لوگوں کے مددگار ہوتے جو اسلامی تحریکات کا قلع قمع کرنے میں لگے ہوئے ہوتے ہیں اور سچائی کو مٹا رہے ہوتے ہیں ۔ بعض اوقات وہ اپنے ان ایجنٹوں کے ساتھ جھوٹی لڑائی شروع کردیتے ہیں جو صرف زبان و کلام کے لئے کام کرکے انکے دور رس مقاصد پورے کرتے رہیں ۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کی شکل بگاڑنے کے کام کو کبھی نہیں چھوڑتے اس لئے کہ انہیں اصل بغض تو اسلامی نظریہ حیات سے ہے اور ان کی اصل دشمنی احیائے اسلام کی ہر اس تحریک کے ساتھ ہے جو انہیں دور سے نظر آئے اور وہ اسے دھوکے میں نہ ڈال سکتے ہوں۔
یہ ایک ہی فطرت ہے ‘ ایک ہی منصوبہ ہے اور یک ہی مقصد ہے یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کو اللہ کی جانب سے مردود اور ملعون ہونے کا اعلان ہوتا ہے ۔ ان کو راندہ درگاہ قرار دیا جاتا ہے ۔ اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ ان کے لئے کوئی نصرت نہ ہوگی اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا ۔
(آیت) ” اولئک الذین لعنھم اللہ ومن یلعن اللہ فلن تجدلہ نصیرا “۔ (4 : 52)
”۔ ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کر دے پھر تم اس کا کوئی مددگار نہیں پاؤ گے ۔ “
آج یہ بات ہمیں ہولناک نظر آتی ہے کہ تمام مغربی ممالک یہودیوں کے ناصر و مددگار ہیں۔ اس لئے یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اللہ کا یہ وعدہ کہاں گیا کہ اللہ نے یہودیوں پر لعنت کی اور جس کو اللہ نے ملعون قرار دے دیا ‘ اس کا کوئی مددگار نہ ہوگا ؟
حقیقت یہ ہے کہ حقیقی مددگار صرف اللہ تعالیٰ ہے ۔ حقیقی مددگار لوگ نہیں ہیں اور نہ حکومتیں ہیں۔ اگرچہ ان کے پاس ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم ہوں اور میزائل ہوں۔ حقیقی ناصر اللہ ہے اور وہ اپنے تمام بندوں کے اوپر کنٹرول والا ہے اور بم اور میزائل ان لوگوں کے پاس ہیں جو اللہ تعالیٰ کے مکمل کنٹرول میں ہیں ۔ اللہ ہی حقیقی مددگار ہے ان لوگوں کا جو اس کی مدد کرتے ہیں۔ (آیت) ” (وینصرون اللہ من ینصرہ) اور اللہ صرف ان لوگوں کی معاونت کرتا ہے جو اللہ پر اس طرح ایمان لے آئیں جس طرح ایمان لانے کا حق ہے اور وہ اس کے نظام کی اس طرح اطاعت کرتے ہیں جس طرح اطاعت کا حق ہوتا ہے اور جو تسلیم ورضا کے ساتھ اپنے تمام فیصلے اسلامی منہاج اور اسلامی شریعت کے مطابق کرتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ذریعے ایک ایسی امت کو خطاب کیا تھا جو صحیح معنوں میں اللہ پر ایمان لا چکی تھی ۔ وہ اسلامی نظام زندگی کی مطیع تھی ۔ وہ اپنے تمام فیصلے شریعت کے مطابق کرتی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس مومن امت کے مقابلے میں اس کے دشمنوں یعنی یہودیوں کو کمزور بنایا تھا اور اس وقت اہل ایمان کو یہودیوں پہ نصرت ملتی تھی اور فتح حاصل ہوتی تھی اس لئے کہ ان کا مددگار کوئی نہ تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو عملی شکل دے دی تھی اور اللہ کا وعدہ عملی شکل صرف ان لوگوں کے ذریعے اختیار کرتا ہے جو صحیح معنوں میں مومن ہوں ۔
ہمیں اس وقت تمام ملحدین ‘ مشرکین اور اہل صلیب کی جانب سے بالاتفاق یہودیوں کی پشت پناہی سے خائف نہیں ہونا چاہئے اس لئے کہ وہ تو ہر دور میں اسلام کے خلاف یہودیوں کے ناصر و مددگار رہے ہیں ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن ہمیں یہ بات دھوکے میں بھی نہ ڈال دے ۔ نصرت کا وعدہ صرف مومنین کے ساتھ ہے ۔ جب بھی ہم مومن بن جائیں گے فتح ہمارے قدم چومے گی ۔
اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ تجربہ کرلیں ‘ ایک بار تجربہ کریں کہ وہ صحیح مسلمان بن جائیں پھر دیکھیں کہ آیا یہودیوں کے لئے کوئی مددگار اس دنیا رہتا ہے اور کیا یہودیوں کو ان مشرکین اور اہل صلیب کی نصرت کوئی فائدہ دیتی ہے ؟
اہل کتاب کے حالات ان کے موقف اور ان کی باتوں پر تعجب کا اظہار کرنے اور ان کو ذلیل اور ملعون قرار دینے کے بعد ‘ اس بات پر نکیر کی جاتی ہے کہ ان لوگوں کا موقف حضرت محمد ﷺ اور مسلمانوں کے بارے میں قابل مواخذہ ہے ۔ نیز یہ کہ وہ اس بات پر سیخ پا ہیں کہ اللہ نے حضور اکرم ﷺ اور مسلمانون پر یہ احسان کیوں فرمایا کہ ان کو دین ‘ نصرت اور فتح سے ہمکنار کیا اور پھر اللہ نے ان پر فضل وکرم کی جو بارش کی اس پر بھی وہ جل بھن گئے ۔ حالانکہ اہل اسلام کو کوئی خیر یا بھلائی ان سے چھین کر نہ دی گئی تھی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر سخت مزاج اور کس قدر لالچی تھے ۔ وہ برداشت نہیں کرسکتے تھے کہ ان کے علاوہ بھی کسی کو کچھ ملے ۔ حالانکہ اللہ نے ان پر بھی فیضان رحمت فرمایا ۔ ان کے آباء پر بھی احسان کیا اور ان کو فیاضی اور رواداری سے منع نہ کیا تھا اور نہ ان کو یہ بغض اور حسد سکھایا تھا ۔
(آیت) ” ام لھم نصیب من الملک فاذا لا یوتون الناس نقیرا (53) ام یحسدون الناس علی ما اتھم اللہ من فضلہ فقد اتینا ال ابرھیم الکتب والحکمۃ واتینھم ملکا عظیما (54) (4 : 53۔ 54)
” کیا حکومت میں ان کا کوئی حصہ ہے ؟ اگر ایسا ہوتا تو دوسروں کو ایک پھوٹی کوڑی تک نہ دیتے ۔ پھر کیا یہ دوسروں سے اس لئے حسد کرتے ہیں اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا ؟ اگر یہ بات ہے تو انہوں معلوم ہو کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا ۔ “
یہ نہایت ہی تعجب انگیز بات ہے کہ یہ لوگ یہ برداشت ہی نہیں کرسکتے کہ اللہ اپنے خزانوں سے کسی اور پر فضل وکرم کرے ۔ کیا یہ لوگ اللہ کے ساتھ اس کے نہ ختم ہونے والے خزانوں میں شریک ہیں ۔ کیا یہ لوگ اللہ کے اقتدار میں اس کے شریک ہیں ۔ یہ تو اللہ ہی ہے جو داتا ہے اور وہی ہے جو روکتا ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگ اپنی کنجوسی اور سختی کی وجہ سے کسی کو پھوٹی کوڑی بھی نہ دیتے نقیر سے مراد وہ جھلی ہے جو گٹھلی کی پشت پر ہوتی ہے ۔ اور یہودیوں کی کنجوسی اور ان کا بخل اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اتنا بھی کسی کو دے دیں اگر اللہ کی بادشاہی میں ان کا کوئی حصہ ہوتا ۔ یہ خدا کا شکر ہے کہ خدائی میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو اگر تمام لوگ بھی بھوک سے ہلاک ہوجاتے تو وہ کسی کو گٹھلی کا چھلکا تک نہ دیتے ۔
شاید انہیں رسول خدا ﷺ سے اس بات پر حسد ہے کہ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے نوازا ہے کہ انکو یہ دین دیا جس سے ان عربوں کو جدید جنم نصیب ہوا اور وہ از سر نو ترقی کرنے لگے اور ان جاہل عربوں کو صاحب امتیاز قوم اور انسان بنا دیا ان کو روشنی یقین ‘ اطمینان اور اعتماد عطا کیا ۔ انکو پاکیزگی اور صفائی اور دنیا کے اندر اقتدار عطا کیا یقینا یہ صورت حال ان یہودیوں کے حسد کی وجہ ہے ۔ وہ اس بات پر مر گئے تھے کہ جاہل ‘ متفرق ‘ باہم متصادم عربوں پر ان کی ادبی اور ثقافتی اور اقتصادی برتری اب ختم ہونے والی ہے ۔ یہ برتری اس وقت قائم تھی جب ان کے پاس کوئی دینی پیغام نہ تھا ۔
یہ لوگ اس بات پر کیوں حسد کرتے ہیں کہ اللہ کسی قوم کو نبوت اور زمین پر اقتدار اعلی عطا فرمائے حالانکہ ان پر تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے ہی یہ فضل وکرم ہوتا رہا ہے جن کو اللہ نے کتاب اور حکمت (نبوت) عطا کی تھی ۔ ان کی آل واولاد میں نبوت جاری رہی تھی اور ان کو حکومت اور اقتدار اعلی بھی دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس فضل وکرم کی کچھ قدر نہ کی ۔ نہ اس نعمت کو سنبھالا ‘ نہ انہوں نے اس عہد قدیم کا پاس رکھا جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا بلکہ ان میں سے کئی لوگ تو سرے سے مومن ہی نہ تھے ۔ جن لوگوں پر اس قدر فضل عظیم کیا گیا ہو ‘ ان کے لئے یہ تو مناسب نہیں ہے کہ ان میں منکر اور کافر پیدا ہوں ۔
(آیت) ” فقد اتینا ال ابرھیم الکتب والحکمۃ واتینھم ملکا عظیم (54) فمنھم من امن بہ ومنھم من صد عنہ وکفی بجھنم سعیرا “۔ (55) (4 : 54۔ 55)
” ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا ‘ ۔ مگر ان میں سے کوئی اس پر ایمان لایا اور کوئی اس سے منہ موڑ گیا ‘ اور منہ موڑنے والوں کے لئے تو بس جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے “۔
حسد کا درد کس کے حصے میں آتا ہے ۔ اگر کوئی نادار شخص کسی مالدار صاحب نعمت سے حسد کرے تو یہ حسد بھی فعل بد ہے ۔ لیکن اگر کوئی مالدار صاحب نعمت کسی پر حسد کرنے لگے تو یہ رذالت سے بھی آگے نہایت گہرا شر ہے اور اس قسم کا شر و فساد صرف یہودیوں کا حصہ ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ انکو جہنم کی آگ کی دھمکی دی گئی ہے ‘ جو اس رذالت کے لئے نہایت ہی مناسب جزاء ہے ۔ (آیت) ” وکفی بجھنم سعیرا “۔ (4 : 55) (ان کیلئے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے) ۔
جب بات یہاں تک پہنچی کہ آل ابراہیم میں سے بعض لوگ مومن ہوئے اور بعض نے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا تو اس کے بعد ضروری ہوگیا کہ اہل ایمان کا انجام بھی بتا دیا جائے اور ان لوگوں کا انجام بھی بتا دیا جائے جو راہ ایمان سے روکتے ہیں ۔ یہ سزا وجزاء ہر دین میں ہمیشہ ایس طرح رہی ہے اور اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں نہایت ہی شدید اور خوفناک مناظر قیامت کی صورت میں اس کا ذکر کرتے ہیں۔