4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 4:81

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

وہ منہ پر کہتے ہیں ہم مطیع فرمان ہیں مگر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ راتوں کو جمع ہو کر تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتا ہے ‘ اللہ انکی یہ ساری سرگوشیاں لکھ رہا ہے ‘ تم انکی پروا نہ کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو ‘ وہی بھروسہ کے لئے کافی ہے

(آیت) ” ویقولون طاعۃ فاذا برزوا من عندک بیت طائفۃ منھم غیر الذی تقول واللہ یکتب ما یبیتون فاعرض عنھم و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا (81) افلا یتدبرون القران ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا (82) (4 : 81۔ 82) ” وہ منہ پر کہتے ہیں ہم مطیع فرمان ہیں مگر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ راتوں کو جمع ہو کر تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتا ہے ‘ اللہ انکی یہ ساری سرگوشیاں لکھ رہا ہے ‘ تم انکی پروا نہ کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو ‘ وہی بھروسہ کے لئے کافی ہے۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ اللہ کی سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی ۔ یہ گروہ ایسا تھا کہ جب یہ رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود ہوتا اور آپ سے قرآن سنتا اور قرآنی فرائض کو سمجھتا تو کہتا کہ ہم مطیع فرمان ہیں ‘ وہ اس طرح جامع اور مانع اطاعت کا اعلان کرتے ‘ بےقید اطاعت کا اقرار کرتے ۔ اس میں نہ ہو کوئی اعتراض کرتے ‘ نہ کسی قسم کی توضیحات طلب کرتے ‘ نہ کوئی استثناء رکھتے ‘ لیکن جونہی وہ حضور کی مجلس سے اٹھتے ‘ ان میں سے ایک گروہ راتوں کو جمع ہو کر آپ کی باتوں کے خلاف مشورے کرنے لگ جاتا ۔ اور یہ فیصلہ کرتا کہ حضور نے جو کچھ فرمایا ہے اس پر عمل نہ کیا جائے اور کوئی ایسا منصوبہ اپنایا جائے کہ اس پر عمل نہ ہو اور گلو خلاصی ہوجائے ۔ اس کا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کی جماعت من حیث الجماعت تو یہ کہتی ہے کہ ہم اطاعت کریں گے لیکن ان میں سے ایک گروہ رات کے وقت نکل کر وہ سازش کرتا ہے جو جماعت مسلمہ کے قول کے خلاف ہوتی ہے ۔ اور اس گروہ منافقین کا مقصد اس جماعت کے اندر افراتفری اور بےچینی پیدا کرنا ہوتا ہے ۔ بہرحال دونوں صورتوں میں یہ گروہ منافقین سازش کر رہا ہوتا ہے ۔ ان کی سرگرمیاں اسلامی صفوں کے اندر بےچینی پیدا کرتی ہیں جبکہ جماعت مسلمہ ان سازشوں کے خلاف ہر میدان میں معرکہ آرا ہوتی ہے اور اپنی پوری قوت ان کے مقابلے میں صرف کرتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان اور حضور نبی کریم ﷺ کو یہ اطمینان دلاتے ہیں کہ اللہ کی نظروں سے یہ سازشی ٹولہ اوجھل نہیں ہے اور اس کی مکاری سے اللہ اچھی طرح باخبر ہے ۔ یہ شعور اور احساس کہ ان سازشیوں کی سازشوں سے اللہ اچھی طرح خبردار ہے اہل ایمان کے دلوں کے اندر اطمینان اور قوت پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے ۔ ان کے اندر یہ سکون پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کی نظر ہوتے ہوئے یہ سازشیں ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں ۔ دوسری جانب سے ان سازشیوں کو بھی یہ سخت تنبیہ ہے کہ وہ ان سازشوں میں ہر گز کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ (آیت) ” واللہ یکتب ما یبیتون “۔ (اور اللہ ان کی یہ تمام سرگوشیاں لکھ رہا ہے) اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کو منافقین کے ساتھ معاملہ کرنے کا جو منصوبہ دیا تھا وہ یہ تھا کہ آپ ان کے ساتھ ان کی ظاہری حالت کے مطابق معاملہ کریں گے اور ان کے ساتھ ان کی نیتوں کے مطابق سلوک نہ ہوگا ۔ انکی خفیہ سازشوں سے اغماض برتا جائے گا اور اعراض کیا جائے گا ۔ یہ ایک ایسا منصوبہ تھا جس کے مطابق آخر کار وہ منتشر ہوگئے کمزور ہوگئے اور ان میں سے جو باقی رہ گئے تھے وہ تتربتر ہوگئے اور چھپ گئے ۔ اس منصوبے کا ایک حصہ یہ تھا۔ (آیت) ” فاعرض عنھم “ (آپ ان کی پرواہ نہ کریں) ان سے چشم پوشی کرنے کے ساتھ ساتھ رسول کو مطمئن کیا جاتا ہے کہ اللہ کی حفاظت اور پاسبانی پر مکمل بھروسہ رکھو۔ (آیت) ” و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا “۔ (اور اللہ پر بھروسہ رکھو ‘ اللہ بھروسے کے لئے کافی ہے) بالکل درست اللہ بھروسے کے لئے کافی ہے ‘ جس کا وکیل اللہ ہو اسے کوئی بھی گزند نہیں پہنچا سکتا ۔ نہ اسے کوئی سازش گزند پہنچا سکتی ہے ‘ نہ خفیہ سازش ان کے خلاف چل سکتی ہے ۔ ‘ اور نہ ظاہری سازش ۔ سوال یہ ہے کہ یہ گروہ حضور ﷺ کے سامنے اقرار اطاعت کرتا اور واپس ہو کر رات کو سازش کرنے میں لگ جاتا ۔ وہ ایسا کیوں کرتا تو دراصل یہ گروہ یہ رویہ اس لئے اختیار کرتا تھا کہ اسے اس بات میں شبہ تھا کہ آیا حضور اکرم ﷺ جو کلام پیش کرتے ہیں وہ اللہ کی جانب سے ہے یا نہیں ۔ جب ایک لمحہ کے لئے اس قسم کا شک پیدا ہوجائے تو بات کی قوت اور شوکت ختم ہوجاتی ہے ۔ قرآن اور کلام رسول کی اندر قوت اور شوکت اسی شعور سے پیدا ہوتی ہے کہ یہ کلام باری تعالیٰ کی طرف سے آرہا ہے اگر عبداللہ کے حلقوم سے سنا جار ہا ہے ۔ اور یہ کہ آپ ہوائی باتیں نہیں کررہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو توکل علی اللہ کرنے کے بارے میں دو ٹوک حکم دیا گیا اور مکرر تاکید مزید کی گئی ۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان کے سامنے ایک نکتہ پیش فرماتے ہیں ۔ اور یہ نکتہ عزت وشرف کی وہ انتہا ہے جس تک قرآن کریم انسان کو پہنچانا چاہتا ہے کہ وہ عقل سے کام لے اور یہ سمجھ لے کہ وہ ایک ذی شرف مخلوق ہے ۔ وہ صاحب عقل وادراک ہے ‘ اور یہ عقل وادراک اللہ ہی نے انسان کو عطا کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن کے بارے میں فیصلہ ان کے شعور اور ان کی عقل وادراک پر چھوڑتا ہے ۔ اللہ ان کے لئے بصارت وبصیرت کا ایک منہاج متعین فرماتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اگر وہ اس منہاج کے مطابق معاملات پر غور کریں تو وہ کبھی بھی ٹھوکر نہ کھائیں گے ۔ یہ منہاج فہم وادراک قرآن میں نہایت ہی واضح طور پر متعین کیا گیا ہے ۔ اور خود انسانی فہم وادراک بھی اس منہاج تک پہنچ سکتا ہے ۔ اور اس طرح انسان اس نتیجے تک پہنچ سکتا ہے کہ قرآن کریم اللہ کی جانب سے ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔
Ayah 4:82

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ اللہ کی سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی

(آیت) ” افلا یتدبرون القران ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا (4 : 82) ” کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ اللہ کی سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی ۔ اس بیان اور ہدایت کے اندر انسانیت کے لئے انتہائی عزوشرف کا مقام پوشیدہ ہے ۔ اس میں انسان کے ادراک پر مکمل بھروسہ کیا گیا ہے ۔ اور اس کی شخصیت کو بہت ہی اہمیت دی گئی ہے ۔ نیز اس میں عدالت عقل میں فیصلہ لے جانے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور یہ بھی ایک ایسے مظہر میں جس کا سمجھنا انسانی عقل کے لئے زیادہ دشوار نہیں ہے ۔ قرآن کے اندر پائی جانے والی مکمل ‘ جامع اور بےقید ہم آہنگی ایک ایسا مظہر ہے جو اس شخص کی نظروں سے اوجھل نہیں رہ سکتا جو اس کتاب پر تدبر کرے ۔ اس مظہر کی سطح اور اس کا دائرہ مختلف لوگوں کی فہم کے مطابق وسیع اور تنگ ہو سکتا ہے ۔ مختلف نسلوں اور مختلف قسم کے ذہین لوگوں کے نتائج فکر مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ہر عقل اور ہر نسل اور ہر دور کے لوگوں کو اپنی بساط کے مطابق اس سے کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا ہے اور یہ کمی بیشی لوگوں کے فہم ان کی عقل اور ان کے علم و ثقافت کے اعتبار سے ہو سکتی ہے ۔ اس سلسلے میں مختلف لوگوں کا نتیجہ فکر ان کے تجربے صلاحیت اور تقوی کے مطابق محدود یا لامحدود ہو سکتا ہے ۔ یہ وجہ ہے کہ ہر شخص اس آیت کا مخاطب ہے ‘ ہر نسل اس کی مخاطب ہے ‘ اور درست منہاج فکر و تدبر کے مطابق وہ اس مظہر کا ادراک کرسکتا ہے ۔ یعنی یہ وصف کہ قرآن کے اندر خلاف بیانی نہیں ہے اور اس کے اندر مکمل ہم آہنگی اور تناسق پایا جاتا ہے ۔ البتہ جس طرح ہم نے کہا یہ فہم انسان کی صلاحیت اس کے علمی مقام تجربے اور تقوی کے حدود کے اندر رہتا ہے ۔ یہ گروہ ‘ جسے اس وقت کی موجودہ نسل کی صورت میں مخاطب کیا گیا تھا ‘ ایک ایسے کلام سے مخاطب کیا جارہا تھا جسے وہ خوب سمجھتا تھا ۔ اور اپنے فہم وادراک کے ذریعے وہ اسے عمل میں لاتا تھا ‘ جس قدر اس کی طاقت کے حدود میں ہوتا تھا ۔ یہ مظہر اور یہ صفت یعنی مکمل اتحاد فکر اور ہم آہنگی کی صفت کا اظہار سب سے پہلے قرآن کریم کے انداز تعبیر میں ہوتا ہے ۔ قرآن کی طرز ادا اور فنی طریقہ اظہار مدعا کے اندر مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ انسانی کلام ہمارے سامنے ہیں ‘ بڑے سے بڑے ادب پاروں میں نشیب و فراز بھی ہوتے ہیں ‘ ہم آہنگی بھی ہوتی ہے اور لغزش کلام بھی ہوتی ہے ۔ ایک حصہ اگر پر زور ہوتا ہے تو دوسرے میں جھول ہوتی ہے ۔ ایک میں اگر فکری تخلیق ہے تو دوسرے حصہ میں پیش پا افتادہ ہوتا ہے ‘ ایک حصہ اگر رواں ہوتا ہے تو دوسرا نہایت ہی گنجلک ہوتا ہے ۔ ایک اگر نہایت ہی روشن ہے تو دوسرا حصہ تاریک ہے غرض کلام کی فصاحت وبلاغت اور نقص کے سلسلے میں جو اوصاف ہوتے ہیں ان کے اعتبار سے انسانی کلام میں نشیب و فراز ہوتا ہے ۔ نقائص کلام میں سے اہم نقص کلام کے اندر روانی اور ہم آہنگی کا فقدان ہوتا ہے جس میں بات جلدی جلدی ایک معیار سے گرتی ہے یا گرے ہوئے معیار سے اوپر کو اٹھتی ہے ۔ ہر انسانی کلام کے اندر یہ مظہر قدم قدم پر سامنے آتا ہے ‘ کسی ایک ادیب کے اگر ادبی کردار کو لیں ‘ یا اس کے انکار کو لیں ‘ یا کسی ایک ہی ادیب کے فن پاروں کو لیں یا کسی ایک سیاست دان کی پالیسیوں کو لیں یا کسی ایک جرنیل کی جنگی چالوں ‘ یا کسی ایک شخص کی صنعت کاری کو لیں ‘ اس میں معیار کا یہ تفاوت قدم قدم پر نظر آئے گا ۔ معیار تعبیر کے اندر زمین و آسمان کا فرق نظر آئے گا ۔ قرآن کریم کے اندر یہ صفت نہایت ہی واضح ہیں اور پوری طرح منعکس ہے ‘ یعنی کلام میں پختگی اور ہم آہنگی ۔ پورے قرآن کے اندر یہ صفت ملحوظ رکھی گئی ہے ۔ ہم یہاں جو بات کر رہے ہیں وہ صرف لفظی اور تعبیر کی ہم آہنگی کے ذاویے سے ہے ۔ اس پوری کتاب کے اندر کلام اور اسلوب اظہار کا ایک ہی میعار ہے ‘ اسی وجہ سے یہ کتاب معجزانہ شان لئے ہوئے ہے ۔ یہ کتاب جن موضوعات پر کلام کرتی ہے ‘ مضمون کے اعتبار سے اس کے رنگ مختلف ضرور ہوتے ہیں لیکن فصاحت وبلاغت کے اعتبار سے اس کا معیار ایک ہی رہتا ہے ۔ اسلوب ادا میں اس کا کمال قائم رہتا ہے ۔ اور کسی جگہ کلام اپنی معیاری سطح سے گرنے نہیں پاتا ۔ کسی جگہ اس کی حالت ایسی نہیں ہوتی جس طرح انسانی کلام کی حالت ہوتی ہے کہ کبھی میعار کچھ ہوتا ہے اور کبھی کچھ ۔ یہ کتاب اللہ کی شان کاریگری لئے ہوئے ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بات کے کہنے والا متغیر نہیں ہے اور وہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف متغیر نہیں ہوتا ۔ اور نہ اس پر ایک حال کے بعد دوسرا حال طاری ہوتا ہے ۔ (دیکھئے ‘ التصویر الفنی فی القرآن) اس کے فنی اسلوب کے بعد پھر یہ عدم اختلاف کی صفت اور مکمل ہم آہنگی اور عام وحدت فکر اس نظام کے اندر بھی پائی جاتی ہے جس کا اظہار وبیان قرآن کریم کی ان عبارات کے اندر کیا گیا ہے اور جس کا مفہوم ان ہم آہنگ عبارتوں کی اندر بیان ہوا ہے ۔ یعنی وہ نظام فکر جس کی اوپر نفس انسانی کی تربیت کی گئی ہے یا انسانی معاشرے کی تربیت کی گئی ہے ۔ نیز اس نظام زندگی کے تمام اجزاء اور اس کے تمام پہلوؤں کے اندر مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ اسی طرح ایک فرد کی زندگی کی تمام سرگرمیوں اور پھر ایک معاشرے کے اندر فرد کی تمام سرگرمیوں اور نسلا بعد نسل ایک فرد اور معاشرے کی زندگی کے اندر جو تغیر وتبدل ہوتا ہے اس کے تمام پہلوؤں کے اندر مکمل توافق اور توازن پایا جاتا ہے ۔ پھر انسان کی قوت مدرکہ کے لئے ایک منہاج اور تقویم ہے ‘ جس کے کئی پہلو ہیں اور انسان کے فہم وادراک کی کئی قوتیں اور عمل ادراک میں کام آنے والی مختلف قوتیں ۔ پھر خود حضرت انسان کی ذات اور اس کے تمام معاشروں ‘ تمام نسلوں اور تمام سطحوں کے اندر بھی ایک مکمل ہم آہنگی رکھی گئی ہے ۔ انسان اور اس کائنات کے اندر بھی مکمل آہنگی ہے جس کے اندر یہ انسان زندگی بسر کرتا ہے ۔ پھر انسان کی دنیاوی زندگی اور آخروی زندگی کے اندر بھی مکمل توافق اور ہم آہنگی ہے ۔ پھر اس کتاب نے اس انسان اور اس پوری کائنات کے اندر اس کی زندگی بسر کرنے میں بھی پوری ہم آہنگی رکھی ہے ۔ جب ایک انسان اور اللہ کی کاریگری کے اندر باعتبار اسلوب کلام اور لفظی تعبیر فرق ہے تو فکری نظریاتی اور قانون سازی کی میدانوں میں بھی ‘ ظاہر ہے کہ انسانی کام اور ربانی کام کے اندر نہایت ہی واضح فرق و امتیاز ہوگا ۔ تمام انسانی نظریات ‘ تمام انسانی مذاہب ومکاتب کے اوپر انسانی چھاپ بالکل واضح نظر آتی ہے ۔ اور نقطہ نظر کے اندر جزئی اور انفرادی پن واضح طور پر نظر آتا ہے ۔ ان تمام پہلوؤں کے اندر وقتی حالات اور مشکلات سے انسان متاثر نظر آتا ہے ۔ اور انسان اس بات کا ادراک نہیں کرسکتا کہ اس کے نظریے ‘ اس کے مذھب ومکتب کے اندر اور اس کے منصوبوں کے اندر کوئی نہ کوئی تناقض موجود ہوتا ہے جو اس نظام فکر وعمل کے اندر کشمکش شروع کردیتا ہے اور یہ کشمکش یا تو بہت جلد شروع ہوجاتی ہے یا کچھ عرصے کے بعد شروع ہوتی ہے ۔ پھر یہ انسانی مکاتب فکر وعمل انسان کی بعض خصوصیات کو بالکل دبا دیتے ہیں جبکہ خود انسان کو ان کا نہ علم ہوتا ہے اور نہ انسان انہیں پیش نظر رکھ سکتا ہے ۔ یہ پھر بعض شخصیات کے اندر ایسے اوصاف ہوتے ہیں جن کے بارے میں انسان سوچ ہی نہیں سکتا ۔ خود انسانی ادراک کے اندر ہزاروں کمزوریاں اپنی جگہ ہوتی ہیں اور جس کا دائرہ عمل نہایت ہی محدود ہوتا ہے ۔ چونکہ انسانی ادراک کا دائرہ محدود ہوتا ہے اس لئے وہ اپنے بنائے ہوئے منصوبے سے آگے نہیں دیکھ سکتا بلکہ وہ خود اپنے موجود منصوبے کے (مالہ وما علیہ) سے بھی اچھی طرح واقف نہیں ہوتا ۔ اس کے برعکس قرآنی منصوبہ چونکہ علیم وخبیر کا بنایا ہوا ہوتا ہے اس لئے قرآنی مندرجات ومفہومات ان تمام نقائص سے پاک ہوتے ہیں ۔ یہ مفہومات اور منصوبے مستقل ہوتے ہیں اور پوری کائنات کے اندر مروج نوامیس فطرت کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہوتے ہیں ۔ یہ نوامیس فطرت مستقل اور ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ مسلسل حرکت میں بھی ہوتے ہیں ۔ اسی طرح قرآنی نظریات بیک وقت متحرک بھی ہوتے ہیں ۔ اور ثابت بھی ہوتے ہیں۔ ان آفاق وحدود کے اندر قرآن کریم کی اس صفت پر غور وفکر سے بعض اوقات انسانی ادراک اس کے پورے آفاق کو نہیں پا سکتا اور نہ ہی بعض اوقات ایک پوری نسل اس کا مکمل ادراک کرسکتی ہے بلکہ تمام نسلوں کے ادراک میں کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہوگا ۔ اس لئے کہ قرآن کریم سے ہر نسل اپنا حصہ پاتی ہے اور آنے والی ترقی یافتہ نسلوں کے لئے بھی کچھ نہ کچھ آفاق رہتے ہیں ۔ بہر حال اس صفت کے ادراک میں مختلف درجات کے اعلی انسانوں سے کچھ نہ کچھ ضرور باقی رہ جاتا ہے جس طرح دوسری چیزوں کے اندر کسی نہ کسی حد تک اختلاف موجود ہوتا ہے ۔ اور اس باقی آفاق سے اگلی نسلیں بھی اپنا حصہ حاصل کرتی رہتی ہیں اس لئے کہ اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں اور انسان کی بنائی ہوئی چیزوں میں فرق ہے ۔ اور اللہ کی بنائی ہوئی چیز میں نہ کوئی اختلاف ہوتا ہے اور نہ تفاوت اور فرق ۔ اس میں مکمل اتحاد اور تناسق ہوتا ہے ۔ ہاں لوگوں کی فہم وادراک کے حدود میں ضرور فرق ہوتا ہے اور بعض لوگ اس تناسق کو بہت ہی اچھی طرح سمجھتے ہیں اور بعض ذرا کم سمجھتے ہیں ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے التصور الاسلامی خصائصہ ومقوماتہ ۔ نحو مجتمع اسلامی ‘ الاسلام ومشکلات الحضارہ اور ھذ الدین وغیرہ) لیکن جس قدر ایک عام انسان سمجھ سکتا ہے یا ایک گروہ سمجھ سکتا ہے یا ایک متعین نسل سمجھ سکتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ لوگوں کے فہم وادراک کے سامنے ‘ جس قدر ان کو حاصل ہے ‘ قرآن کریم کو پیش کرتے ہیں اور ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سوچیں کہ یہ قرآن کریم اللہ کا کلام ہے اور اگر غیر اللہ کا کلام ہوتا تو لوگ اس میں بہت کچھ اختلافات پاتے ۔ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم ایک مختصر سا توقف کریں اور یہ متعین کرلیں کہ اس مخصوص معاملے میں یا پورے دین کے معاملے میں انسانی ادراک کی حدود کار کیا ہیں ؟ کوئی انسان اس بات سے غرے میں مبتلا نہ ہوجائے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ معاملہ خود انسانی ادراک کے سامنے فیصلے کے لئے پیش کیا ہے اس لئے گویا انسانی ادراک کوئی بہت ہی بڑی شئی ہے ۔ انسانی غور وفکر اور ادراک کو بھی اپنی محفوظ حدود کے اندر رہنا چاہئے کہیں وہ اپنے محدود محفوظ دائرے سے باہر بھول بھلیاں میں پھنس نہ جائے ۔ قرآن کریم کی ان ہدایات کو اچھی طرح نہیں سمجھا گیا اور نہ ہی ان کی حدود کو اچھی طرح سمجھا گیا ہے ۔ از منہ قدیمہ اور دور جدید دونوں میں ایسے اسلامی اہل فکر رہے ہیں جنہوں نے عقل و قیاس کو شریعت کے مساوی درجہ دیا ہے بلکہ یہ لوگ عقل وادراک کو شریعت کا پاسبان بناتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکن حقیقت ایسی نہیں ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ فہم وادراک کا یہ آلہ بہرحال انسانی قوت مدرکہ ہے اگرچہ اپنی جگہ یہ نہایت ہی اہم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے کلام الہی ہونے کے مسئلے کو بارگاہ عقل و تدبر میں پیش کیا ہے لیکن عقل کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کا ادراک کرے کہ یہ قرآن اور اس کے اندر وضع کردہ پورے کا پورا دین من جانب اللہ ہے ۔ اس لئے کہ قرآن کے اندر ایسے اوصاف ومظاہر ہیں جنہیں عقل بشری بڑی سہولت سے سمجھ سکتی ہے ۔ اور وہ مظاہر اور علامات اس بات کے ادراک کے لئے کافی ہیں کہ یہ دین من جانب اللہ ہے ۔ جب یہ بات تسلیم کرلی جائے کہ یہ دین من جانب اللہ ہے تو اس ادراک کا منطقی نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ اد دین کے اندر جو احکام ہیں انہیں انسان تسلیم کرے چاہے ان کی حکمت انسان کی سمجھ میں آرہی ہو یا نہ آرہی ہو ‘ اس لئے کہ جب ہم نے یہ بات تسلیم کرلی کہ یہ دین اور قرآن من جانب اللہ ہے تو یہ بات ازخود تسلیم ہوجاتی ہے کہ اس کے اندر حکمت موجود ہے پھر یہ بات اہم نہیں رہتی کہ حالات حاضرہ کے اندر لوگوں کی مصلحت اس دین سے پوری ہوتی ہے یا نہیں ہوتی ۔ جب دین اللہ کی طرف سے ہے تو گویا مصلحت اس کے اندر موجود اور متحقق ہے ۔ ا نسانی عقل شریعت کے مساوی نہیں ہوتی چہ جائیکہ کہ وہ شریعت پر حاکم اور مقتدر ہوجائے ۔ اس لئے کہ خود شریعت کی حکمتوں کا ادراک ہر عقل نہایت ہی محدود پیمانے پر کر پاتی ہے ۔ اور یہ بات محال ہے کہ عقل شریعت کے تمام زاویوں اور تمام مصلحتوں کا احاطہ کرسکے ۔ نہ ایک لحظہ میں نہ پوری انسانی تاریخ میں ۔ جبکہ اللہ کی شریعت کی نظر ایک ایک لمحے کی مصلحتوں پر بھی ہوتی ہے اور زمان ومکان کے مصالح پر بھی ہوتی ہے ۔ اس لئے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ شریعت کا کوئی ثابت شدہ حکم صرف انسانی عقل و قیاس کے حوالے کردیا جائے ۔ اس سلسلے میں عقل انسانی کا کام صرف یہ ہے کہ وہ نصوص شرعیہ کے ادراک اور ان نصوص کی دلالت اور مفہومات کے اخذ پر غور کرے ۔ یہ اجازت عقل کو نہیں دی جاسکتی کہ وہ احکام کی مصلحتوں پر بھی کلام کرے ۔ اس لئے کہ جب اللہ کی جانب سے کوئی آیت نازل ہوتی ہے تو اس میں لازما کوئی مصلحت ہوتی ہے تب ہی تو وہ آتی ہے ۔ عقل کا کام تو ان مسائل میں ہوتا ہے جن میں کوئی نص نہ ہو ‘ جدید مسائل ہوں ۔ ایسے مسائل کے بارے میں جو طریقہ کار اختیار کیا جائے گا اس کے بارے میں ہم اس سے پہلے کہہ آئے ہیں کہ ایسے مسائل کو اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹا دیا جائے گا ۔ اور یہی وہ دائرہ کار ہے جو حقیقی اجتہاد کے لئے کھلا چھوڑا گیا ہے جبکہ نصوص قرآنی کا فہم وادراک بہر حال ہر وقت عقل ہی کے ذریعے ہوگا ۔ جب کسی نص کا مفہوم سمجھ لیا جائے تو بس اب وہاں توقف ہی بہتر ہوتا ہے اور عقل کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ فیصلہ دے کہ آیا اس مفہوم میں مصلحت ہے یا نہیں ہے ۔ عقل انسانی کا اصل دائرہ کار کائنات کے قوانین قدرت ہیں اور یہ نہایت ہی وسیع دائرہ کار ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم عقل انسانی کو اسی قدر مقام ومنزلت دیں جو اسے اللہ نے دیا ہے اور جو اس کے لئے مناسب ہے اور اس دائرے کے اندر اسے رکھا جائے جو اللہ نے عقل کے لئے رکھا ہے ۔ اس دائرے کے حدود سے تجاوز نہ کیا جائے تاکہ وہ بھول بھلیاں میں جا کر پھنس نہ جائے اور اسے کوئی رہبر کامل نہ ملے ۔ اور اگر کوئی رہبر ملے بھی تو وہ ایسے راستوں پر پڑجائے جن کا اسے خود علم نہ ہو ۔ یہ صورت حال ایک ایسے انسان کے لئے زیادہ خطرناک ہے جو صراط مستقیم کا متلاشی ہو۔
Ayah 4:83

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سن پاتے ہیں اسے لے کر پھیلا دیتے ہیں ‘ حالانکہ اگر یہ اسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں ‘ تم لوگوں پر اللہ کی مہربانی اور رحمت نہ ہوتی تو (تمہاری کمزوریاں ایسی تھیں کہ) معدودے چند کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے ۔

اب سیاق کلام ذرا آگے بڑھتا ہے اور ایک دوسرے گروہ کو لیا جاتا ہے جو اسلامی معاشرے میں پایا جاتا ہے ۔ (آیت) ” واذا جاء ھم امر من الامن اوالخوف اذا عوا بہ ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لاتبعتم الشیطن الا قلیلا (83) ” یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سن پاتے ہیں اسے لے کر پھیلا دیتے ہیں ‘ حالانکہ اگر یہ اسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں ‘ تم لوگوں پر اللہ کی مہربانی اور رحمت نہ ہوتی تو (تمہاری کمزوریاں ایسی تھیں کہ) معدودے چند کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے ۔ “ یہاں جس گروہ کے بارے میں کہا گیا ہے یہ بھی اسلامی کیمپ میں موجود ایک گروہ ہے لیکن یہ ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو ابھی تک اسلامی نظام کے راہ ورسم سے اچھی طرح واقف نہیں ہے ۔ اور اس گروہ کو ابھی تک اس بات کی سمجھ نہ تھی کہ اسلامی کیمپ میں بےچینی پھیلنے کے نتائج کس قدر خطرناک اور کس قدر تباہ کن ہو سکتے ہیں ۔ اس لئے کہ افواہیں افواہیں ہوتی ہیں ‘ واقعات نہیں ہوتے ۔ حالات بعض اوقات ایسے سنجیدہ ہوتے ہیں کہ ایک سرسری بات کے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔ کسی ایک شخص کے بارے میں ‘ کسی گروہ یا جماعت کے بارے میں بعض ایسے نتائج رونما ہوتے ہیں کہ سرسری ریمارک پاس کرنیو الا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ اگر یہ واقعات ونتائج برآمد ہوجائیں تو پھر ان کا تدارک اور تلافی کسی صورت میں بھی نہیں کی جاسکتی اور یہ لوگ یہ باتیں اس لئے کرتے ہیں کہ اسلامی کیمپ کے افراد کے اندر پیدا ہونے والی اخوت اور بھائی چارے کا تصور ابھی تک ان کے ذہن میں واضح نہ تھا ۔ یہ لوگ اس بات کو اہمیت نہ دیتے تھے کہ آخر کار ایسی غیر ذمہ دارانہ گفتگوؤں کے کیا نتائج نکلنے والے ہیں اور ایسی باتوں کی اشاعت سے نقصان کیا ہوتا ہے کہ جب یہ باتیں ایک منہ سے دوسرے منہ میں چلتی رہتی ہیں ‘ چاہے یہ باتیں امن کے حالات سے متعلق ہوں یا بےچینی اور خوف کے حالات سے متعلق ہوں ۔ دونوں حالات کے اندر بعض خبروں کا پھیل جانا نہایت ہی مہلک اور فساد انگیز ہوتا ہے ۔ مثلا ایک چوکنے ‘ تیار اور محتاط کیمپ کے اندر دشمن کی سرگرمیوں کو کم کرکے دکھانا غفلت کا باعث ہو سکتا ہے اور اس میں دشمن متحرک ہوسکتا ہے ۔ ایسے حالات میں امن کے بارے میں لوگوں کو مطمئن کردینا لوگوں کو غافل اور سست بنا سکتا ہے اگرچہ متعلقہ ذمہ داران کی طرف سے بار بار احتیاط کی تنبیہ کی جاتی رہے ۔ اس لئے کہ اگر خطرہ سروں پر ہو تو ایک انسان کا دشمن کے مقابلے میں چوکنا ہوجانا ‘ ایسی صورت حال سے بالکل مختلف ہوتا ہے کہ محض ذمہ داران کے احکام کی اساس پر احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں ۔ اس قسم کی سستی اور لاپرواہی بعض اوقات معاملے کا حتمی فیصلہ کردیتی ہے ۔ اسی طرح اگر ایک کیمپ اپنی قوت پر مطمئن ہو اور اپنے اطمینان کی وجہ سے ثابت قدم ہو اس کے اندر خوف پھیلایا جائے ‘ تو ایسے کیمپ میں خوفناک خبروں کی اشاعت سے بےچینی افراتفری پیدا ہوتی ہے اور لوگ ایسی حرکات کرتے ہیں جن کی ضرورت نہیں ہوتی اور جن کی وجہ سے لوگوں میں خواہ مخواہ خوف وہراس پیدا ہوتا ہے اور بعض اوقات ایسی چیزیں نہایت ہی برے نتائج پیدا کردیتی ہیں ۔ بہرحال یہ ایک ایسے کیمپ کی خصوصیت ہے جس کا نظم ونسق ابھی تک مکمل نہیں ہوا یا اس کیمپ کے افراد کے اندر اپنی قیادت کے ساتھ وفاداری ابھی تک مکمل نہیں ہوئی ‘ یا یہ دونوں کمزوریاں پائی جاتی ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اسلامی معاشرے میں یہ دونون باتیں پائی جاتی تھیں اس لئے کہ اس ابتدائی دور میں اسلامی معاشرے میں ایمان کے اعتبار سے مختلف سطح کے لوگ موجود تھے ۔ مختلف فہم وادراک کے حامل لوگ موجود تھے اور محبت ووفاداری میں بھی یہ لوگ مختلف سطحوں اور درجوں کے تھے ۔ غرض اس قسم کی افراتفری اور بےچینی کو قرآن کریم اپنے خالص ربانی منہاج کے مطابق دور کر رہا تھا ۔ (آیت) ” ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم “ (4 : 83) (اگر یہ اسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کریں) یعنی اگر یہ لوگ امن اور خوف کی خبریں رسول اللہ ﷺ کے گوش گزار کرتے ‘ اس دور میں جب حضور موجود تھے ‘ یا اہل ایمان میں سے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے ‘ جبکہ حضور موجود نہ تھے ‘ تو ان خبروں کی حقیقت یہ لوگ معلوم کرلیتے کیونکہ یہ ایسی چیزوں کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور ان متضاد خبروں کے درمیان سے وہ حقیقت کو اخذ کرلیتے ہیں یا مختلف قسم کے حالات سے وہ بات سمجھ لیتے ہیں ۔ ایک مسلم سپاہی کا فریضہ یہ ہے کہ اگر وہ کوئی ایسی خبر سنے تو وہ اسے اپنے افسر تک پہنچا دے بشرطیکہ وہ بھی صحیح افسر ہو ‘ وہ اس خبر کو اپنی نبی تک پہنچائے اگر وہ موجود ہے اور اگر نبی کا دور ختم ہے تو اپنے اوپر تک پہنچائے ۔ یہ رویہ درست نہ ہوگا کہ وہ یہ خبر صرف اپنے ساتھیوں کے اندر پھیلاتا پھرے یا ایسے لوگوں کے درمیان پھیلائے جن پر اسلامی جماعت کی ذمہ داری نہیں ہے اس لئے کہ اسلامی قیادت ہوتی ہی وہ ہے جو حقیقت کو سمجھ سکے ۔ اور کسی خبر کی نشر کرنے کے صحیح موقع کو بھی سمجھے ۔ یہاں تک کہ اگر ثابت بھی ہوجائے تو بھی بعض اوقات کسی خبر کا نشر کرنا مناسب نہیں ہوتا اور اس کا نشر نہ کرنا ہی اچھا ہوتا ہے ۔ یہ تھی قرآن کی تربیت ‘ قرآن کریم مسلمانوں کے دلوں میں ایمان کی پختگی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی قیادت کے ساتھ وفاداری بھی پیدا کر رہا تھا ۔ قرآن نے صرف ایک آیت میں اسلامی فوجی نظام کے تمام اصول جمع کردیئے بلکہ آیت کے بھی صرف ایک ٹکڑے میں ۔ یہ آیت یہ سکھلاتی ہے کہ ایک فوجی مسلسل امن اور خطرے کی خبریں لیتا ہے اور اپنے افسران بالا تک پہنچاتا ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔ اس ایک آیت کی ابتداء میں ایک ایسے فوجی کی تصویر کشی کی گئی ہے جو خبریں لیتا ہے ‘ امن کی بھی اور خوف کی بھی ‘ اور وہ اسے مسلسل شائع کر رہا ہے بغیر سنجیدگی کے اور بغیر کسی تحقیق کے اور بغیر اس کے کہ اپنی قیادت کے سامنے پیش کرکے ہدایات لے لے ۔ آیت کے وسطی حصے میں ایک فوجی کو یہ ہدایت دی جاتی ہے اور آخری حصے میں فوجیوں کے دلی تعلق کو اللہ سے جوڑ دیا جاتا ہے ۔ اللہ کے فضل کا ذکر کیا جاتا ہے اور اسے آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ کا شکر بجا لائے ۔ اسے شیطان کی اطاعت سے ڈرایا جاتا ہے ‘ جو گھات میں بیٹھا ہوا ہے اور اگر اللہ کا فضل وکرم نہ ہو تو وہ فورا دلوں کے اندر فساد پیدا کر دے ۔ (آیت) ” ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لاتبعتم الشیطن الا قلیلا (4 : 83) (اگر تم لوگوں پر اللہ کی مہربانی اور رحمت نہ ہوتی تو معدودے چند کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے) یہ ایک آیت ہے اور اس کے اندر علم ومعرفت کی وافر مقدار ثبت کردی گئی ہے ۔ اس قضیہ کے تمام پہلوؤں کا ذکر کردیا گیا ‘ یہ آیت ضمیر کے خفیہ ترین گوشوں تک اتر گئی اور دلوں کے اندر ہدایت اور علم بھر دیا گیا ۔ یہ اس لئے کہ یہ کتاب اللہ کی جانب سے ہے ۔ اور اگر یہ اللہ کی جانب سے نہ ہوتی ۔ (آیت) ” لوجدوافیہ اختلافا کثیرا “۔ (یہ لوگ اس میں بہت کچھ خلاف بیانیاں پاتے) جب بات یہاں تک پہنچ جاتی ہے تو اسلامی صفوں کی کمزوریوں کی نشاندہی کردی جاتی ہے ‘ ایسی کمزوریاں جو اسلامی معاشرے کی زندگی پر اور عمل جہاد پر اثر انداز ہو سکتی ہیں یہ غلطیاں اور ان کی درستی کا کام اس سبق کے آغاز ہی سے چل رہا ہے ۔ اب مسلمانوں کو جہاد و قتال پر ابھارا جاتا ہے جس کا ذکر اس سبق میں ہوتا رہا ہے ۔ یہاں آکر حضور اکرم ﷺ کو ذاتی طور پر قتال فی سبیل اللہ کا مکلف بنایا جاتا ہے ۔ اب اس ذاتی ذمہ داری کے بعد کوئی شخص اس سے پیچھے نہیں رہ سکتا ۔ نہ اسلامی جماعت میں پائے جانے والے کسی خلل اور نقص کی وجہ سے نہ راستے کی مشکلات کی وجہ سے ۔ اس لئے کہ خطاب صرف ذات رسول ﷺ کو ہے کہ آپ اٹھیں اور لڑیں اگرچہ اکیلے ہوں اس لئے کہ جہاد ہر شخص پر ذاتی طور پر فرض ہے ۔ آپ بھی اپنی ذات کے ذمہ دار ہیں ‘ ہاں اپنی ذات کے ساتھ آپ ﷺ اہل ایمان کو بھی قتال پر ابھاریں ۔ اللہ تعالیٰ یہاں اہل ایمان اور آپ ﷺ کو فتح ونصرت کی امید دلاتے ہیں اس لئے کہ یہ معرکہ خود اللہ کا معرکہ ہے اور اللہ تعالیٰ بہت ہی زبردست ہے ۔
Ayah 4:84

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

” پس اے نبی ﷺ تم اللہ کی راہ میں لڑو ‘ تم اپنی ذات کے سوا کسی اور کے ذمہ دار نہیں ہو ۔ البتہ اہل ایمان کو لڑنے کے لئے اکساؤ ‘ بعید نہیں کہ اللہ کافروں کا زور توڑ دے ‘ اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست اور اس کی سزا سب سے زیادہ سخت ہے ‘

(آیت) ” نمبر 84۔ اس آیت اور اس سے ماقبل کی آیت کے اندر ہمیں اس وقت کی موجودہ جماعت مسلمہ کے خدوخال اچھی طرح نظر آتے ہیں جس طرح ہر دور میں پائے جانے والے انسانی نفوس کے خدوخال نظر آتے ہیں ۔ (الف) ان آیات سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت اسلامی صفوں کے اندر سخت بےچینی پائی جاتی تھی اور مکمل اتحاد نہ تھا جنگ سے پہلو تہی ‘ اس کی راہ میں رکاوٹیں اور جنگ سے پیچھے رہنے کی کمزوریاں ابھی تک اسلامی صفوں میں موجود تھیں ۔ یہاں تک کہ لوگوں کو جہاد پر ابھارنے اور جوش دلانے کی خاطر یہاں نبی ﷺ کی ذات مبارک کو حکم دیا گیا کہ آپ جہاد کریں اگرچہ آپ اکیلے ہوں ۔ آپ خود اپنے نفس کے ذمہ دار ہیں ۔ ہاں اس کے ساتھ ساتھ آپ مسلمانوں کو بھی ابھاریں لیکن آپ کی ذات کی طرف سے جہاد میں شرک اس پر موقوف نہیں ہے کہ دوسرے لوگ اس کام کے لئے اٹھتے ہیں یا نہیں۔ اگرچہ عملا یہ ممکن نہ تھا کہ اہل ایمان نبی ﷺ کی پکار کو سب کے سب رد کردیتے لیکن یہاں اس انداز میں کلام کرنے کا مقصد یہ تھا کہ فریضہ بنیادی طور پر آپ پر عائد ہوتا ہے ‘ جس طرح اسلامی تصور حیات کا یہ ایک اساسی اصول ہے کہ ہر شخص اپنی ذات کا ذمہ دار ہے کسی ایک کی ذمہ داری کسی دوسرے پر نہ ہوگی ۔ ہاں دوسروں کو جنگ کے لئے ابھارنا اپنی جگہ پر ہے ۔ (ب) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں مشرکین کے ساتھ جنگ چھیڑنے میں لوگ کس قدر خطرات محسوس کرتے تھے اور اس راہ میں کس قدر مشکلات تھیں ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ خود مسلمانوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ وہ کافروں کا زور توڑ دے گا اور اس طرح مسلمان خود اللہ تعالیٰ کی قدرت کے تحفظ کے زیر سایہ ہوں گے ساتھ ساتھ یہ یقین بھی دلایا جاتا ہے کہ اللہ زبردست قوت والا ہے اور جب وہ کسی کو سزا دیتا ہے تو اس کی سزا بہت ہی سخت ہوتی ہے ۔ یہ الفاظ کہ اللہ کافروں کا زور توڑ دے گا ‘ اس بات کا مظہر ہیں کہ اس وقت اہل کفر زور آور تھے ۔ ان کی قوت کی وجہ سے اسلامی صفوں میں خوف محسوس کیا جاتا تھا اور یہ حالات احد اور خندق کے درمیانی دور سے تعلق رکھتے ہیں ۔ احد سے لے کر خندق تک کا دور وہ دور ہے جس میں مدینہ طیبہ کے اندر مسلمان نہایت ہی مشکلات اور خطرات سے دو چار تھے ۔ ان کے اندر منافقین گھسے ہوئے تھے ‘ ان کے اردگرد یہودی پھیلے ہوئے تھے اور ہر وقت مشرکین کو فساد پر آمادہ کرتے رہتے تھے ۔ اور اسلامی صفوں کے اندر اسلامی تصور حیات ابھی تک جاگزیں اور واضح نہ تھا ۔ (ج) اس سے ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جب انسان کو مشکلات میں قدم رکھنا ہوتا ہے تو اس کا سہارا صرف ذات باری ہوتی ہے اور اللہ کا سایہ عاطفت ہی باعث اطمینان ہوتا ہے ۔ اس وقت صرف اللہ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور اللہ ہی پر بھروسہ کام دیتا ہے ۔ جب خطرات اپنی آخری انتہاؤں کو چھوتے ہیں اور تمام وسائل کام نہیں کرتے تو پھر ذات باری ہی کام دیتی ہے اور یہ تمام حقائق ایسے ہیں جن کو اسلامی نظام پیش نظر رکھتا ہے ۔ اس لئے کہ نفس انسانی کا خالق اللہ ہے اور اللہ اپنے پیدا کردہ نفس انسانی کو اچھی طرح جانتا ہے کہ سک طرح اس کی تربیت کی جائے گی اور کس طرح اسے بچایا جائے گا اور کس طرح اسے جوش دلایا جائے گا اور کس طرح وہ مشکلات کو انگیز کرنے کے لئے تیار ہوگا ۔ اس سبق کے آخر میں حضور ﷺ کو حکم دیا گیا تھا کہ آپ اہل ایمان کو جنگ پر ابھاریں جنگ سے پہلو تہی کرنے والوں اور پیچھے رہنے والوں کا ذکر بھی ہوا تھا ۔ اب یہاں ایک عام اصول بتا دیا جاتا ہے کہ ہر شخص نیکی اور بھلائی کے کام کے لئے سفارش کرے اور لوگوں کو نصیحت کرے لوگوں کو بھلائی کی ہدایات دے ‘ نصیحت کرے اور بھلائی پر تعاون کی تلقین کرے ۔
Ayah 4:85

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

” جو بھلائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے ۔ “

(آیت) ” نمبر 85۔ اب جو شخص لوگوں کو قتال پر ابھارتا ہے ‘ اس مقصد کے لئے حوصلہ افزائی کرتا ہے اور دعوت جہاد دیتا ہے ‘ اسے اس دعوت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے کام کا پورا پورا اجر ملے گا ۔ اور جو شخص پہلو تہی کرتا ہے اور پیچھے رہتا ہے اور اس کے اگر برے نتائج نکلتے ہیں تو یہ شخص بھی ذمہ دار ہے ۔ ” کف “ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیچھے رہنے والا نتائج بد کا ذمہ دار ہوگا ۔ اسی اصول کا اطلاق ہر اچھی سفارش پر ہوگا اور بری سفارش پر بھی یہی اصول منطبق ہوگا ۔ اگرچہ یہ اصول خاص حالات کے اندر ذکر ہوا ہے لیکن یہ قرآن کریم کا انداز بیان ہے کہ وہ ایک مخصوص واقعہ کے ضمن میں ایک کلی قاعدہ بیان کردیتا ہے اور اس جزئی واقعہ کو بھی اس قاعدہ کلیہ کے ایک جزو کے طور پر پیش کرتا ہے اور پھر تمام امور کو ذات باری سے مربوط کردیتا ہے جو ہر چیز کا نگہبان اور رازق ہے ۔ جو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور لفظ (مقیت) میں یہ مفاہیم داخل ہیں ۔ (آیت) ” وکان اللہ علی کل شییء مقیتا “۔ (4 : 85) (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے) اچھے کاموں کی سفارش کے بعد یہ کہا جاتا ہے اگر کوئی تمہیں سلام کرے تو یا تو اس سلام جیسا جواب دو یا اس سے اچھا جواب دو ۔ کسی بھی معاشرے میں سلام ایک ایسا فعل ہے جس سے زندگی کی گاڑی نہایت ہی سکون اور سہولت کے ساتھ چلتی ہے اگر آداب سلام کو اچھی طرح ملحوظ رکھا جائے ، سلام اور اچھائی کی سفارش کے درمیان گہرا ربط پایا جاتا ہے ۔ اگر کسی معاشرے میں دو فرد ایک دوسرے کو سلام نہیں کرتے تو وہ ایک دوسرے کو مزید کیا ہدایت دیں گے ۔
Ayah 4:86

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

” اور جب کوئی احترام کے ساتھ تمہیں سلام کرے تو اس سے بہتر طریقے سے جواب دو یا کم از کم اسی طرح لوٹا دو ‘ اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے ۔

(آیت) ” نمبر 86۔ اسلام نے اپنا ایک خاص سلام اسلامی معاشرے کو دیا ۔ جس سے ایک مسلمان اور مسلمان معاشرہ غیر مسلم اور غیر مسلم معاشروں سے ممتاز ہوگیا ۔ یہ سلام کو بالکل منفرد اور متمیز بنا دیتا ہے ‘ وہ اپنی روز مرہ کی زندگی میں ممتاز صفات کا مالک بن جاتا ہے اور وہ اس کی وجہ سے دوسرے معاشروں میں مدغم اور گھل مل نہیں جاتا ‘ نہ کان نمک میں نمک بن جاتا ہے ۔ اسلام نے تین الفاظ دیئے ہیں۔ السلام علیکم ‘ السلام علیکم ورحمتۃ اللہ اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘ اور جواب سلام یا تو ویسا ہوگا یا اس سے زیادہ ہوگا ماسوائے تیسرے لفظ کے ۔ مثلا السلام علیکم ‘ کا جواب یا تو وعلیکم السلام ہے یا اس سے بہتر وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ۔ دوسرے لفظ پر وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہوگا ۔ اور تیسرے کا جواب ویسا ہی ہوگا ۔ اس لئے کہ اس میں الفاظ پورے استعمال ہوگئے۔ اس لئے تیسرے کا جواب ویسا ہی ہوگا ۔ حضور ﷺ سے ایسی ہی روایت ہے ۔ اس میں ایک تو وہ انفرادیت ہے ‘ جو اسلامی معاشرے کا خاص رنگ ہے ۔ اسلام چاہتا ہے کہ اس کے ماننے والوں کے خاص خدوخال ہوں ‘ ان کی خاص عادات ہوں ‘ جس طرح اسلام نے ایک مخصوص قانونی تنظیمی نظام دیا ہے ۔ اس موضوع پر ہم تحویل قبلہ کے موقعے پر بات کر آئے ہیں کہ اسلام نے اس امت کو جس طرح ایک نظریہ حیات دیا ہے ‘ اسی طرح اسے ایک مخصوص قبلہ بھی دیا ہے ۔ (دیکھئے سورت بقرہ پارہ دوئم) دوسری یہ کہ اسلام نے امت مسلمہ کے افراد کے اندر نہایت پختہ محبت اور بھائی چارہ پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ مثلا سلام کا عام کرنا ‘ اور سلام کا جواب سلام سے زیادہ اچھا ہو اور دوسرے تعلقات جن کی وجہ سے اسلامی سوسائٹی کے اندر نہایت ہی پختہ روابط اخوت ومودت پیدا ہوئے ۔ حضور ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل اچھا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے جواب دیا ” یہ کہ تم کھانا کھلاؤ اور چاہے جاننے والا ہو یا نہ جاننے والا ہو ‘ اسے سلام کرو۔ “ یہ تو حکم ہے کہ جماعت مسلمہ کے اندر سلام کرو ‘ اور یہ سنت ہے ‘ رہا سلام کا جواب تو وہ اس آیت کی رو سے فرض ہے ۔ اسلامی معاشرے میں سلام کرنے کی عادت کے اثرات کا اندازہ عملا اس وقت ہوتا ہے جب سلام کے ذریعے غیر متعارف لوگ باہم متعارف ہو کر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور جو لوگ ایک دوسرے کو علیک سلیک کرتے رہتے ہیں ان کے باہم روابط قائم ہوجاتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی صفت ہے جو ہر اس شخص پر ظاہر ہوجاتی ہے جو اس عادت کے آثار کا مطالعہ کرتا ہے اور اس کے نتائج پر غور کرتا ہے ۔ تیسرے یہ کہ آیات قتال کے درمیان میں باہم دوستانہ تعلقات کے لئے یہ آیت بادنسیم ہے اور اس میں اسلام کے اصل الاصول کی طرف اشارہ کردیا گیا کہ اسلام کا اصل الاصول یہ ہے کہ ملک کے اندر امن وامان قائم ہو ‘ اس لئے کہ اسلام دین امن ہے ۔ اسلام کی جنگ بھی دراصل امن کے لئے ہے یعنی کرہ ارض پرامن قائم کرنا اور یہ امن وسیع معنوں میں مطلوب ہے ۔ ایسا امن جو اسلامی نظام حیات پر مبنی ہو ۔ درس نمبر 37 ایک نظر میں : اس سبق میں اسلامی تصورحیات کے ایک نبی ادی اصول کا تذکرہ کیا گیا ہے یعنی عقیدہ توحید اور اللہ تعالیٰ کو اس کی حاکمیت میں وحدہ لاشریک سمجھنا ۔ پھر اس اصول کے مطابق اسلامی سوسائٹی اور اسلامی معاشرے کے تعلقات دوسرے کیمپوں کے ساتھ متعین کئے گئے ہیں لیکن دوسرے معاشروں کے ساتھ اسلامی معاشرے کے تعلق کی نوعیت کے تعین سے بھی پہلے اس سبق میں خود مسلمانوں پر سخت تنقید کی گئی ہے کہ وہ منافقین کے بارے میں دو گروہوں میں بٹ گئے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ گروہ منافقین مدینہ میں رہنے والے منافقین سے کوئی علیحدہ گروہ تھا ۔ یہ احکام اسلام کے اصل الاصول پر قائم ہیں اور یہ تنقید بھی اسی اصول کے مطابق ہے جس پر اسلامی تصور حیات اور اسلامی نظام قائم ہے ۔ اس اصول کا ذکر ہر وقت ہوتا رہتا ہے جب بھی اسلامی نظام کوئی ہدایت دیتا ہے یا کوئی قانون سازی کی جاتی ہے ۔ یہ احکام مختلف کیمپوں کے بارے میں ہیں اور یہ احکام ان اصول وقوانین کا حصہ ہیں جسے انسانی تاریخ میں سب سے پہلے اسلام نے متعارف کرایا ۔ ان قوانین کا تعلق قانون بین الاقوام سے ہے ۔ اسلام نے سب سے پہلے بین الاقوامی معاملات میں تلوار کے فیصلے سے ہٹ کر کچھ قواعد بنائے قوت کی دلیل اور جنگل کے قانون پر مشتمل بین الاقوامی رولز میں اسلام نے سب سے پہلے مہذب ضابطے پیش کئے ۔ یورپ کے اندر قانون بین الاقوام کا آغاز صرف ستروہویں صدی عیسوی (مطابق گیارھویں صدی ہجری) میں ہوا لیکن یہ قانون ماسوائے کاغذ اور سیاہی کے اور کچھ حیثیت نہ رکھتا تھا اور جو بین الاقوامی ادارے تشکیل دیئے گئے تھے وہ محض بین الاقوامی استعماری قوتوں کے خفیہ مقاصد کو قانونی مشکل دینے کے آلہ کار تھے ۔ نیز یہ ادارے سرد جنگ کے لئے میدان کارزار تھے۔ ان کا یہ مقصد ہر گز نہ تھا کہ حق حقدار تک پہنچے ۔ نہ یہ ادارے صحیح معنوں میں انصاف کرتے تھے ۔ یہ ادارے وجود میں محض اس لئے لائے گئے تھے کہ اس دنیا میں بعض بڑے اور طاقت کے اعتبار سے ایک دوسرے کے ہم پلہ ممالک کے درمیان کچھ جھگڑے اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور جونہی ان ممالک کے مابین طاقت کا توازن ختم ہوا تو نہ ان بین الاقوامی قوانین کی کوئی حیثیت رہی اور نہ ہی ان بین الاقوامی اداروں کی کوئی قیمت رہی ۔ جب اسلام آیا ‘ جو انسانوں کے لئے رب ذوالجلال کا نظام زندگی ہے تو اس نے ساتویں صدی عیسوی میں بین الاقوامی معاملات کے اندر قانون سازی کی یعنی پہلی صدی ہجری میں ، یہ قانون اسلام نے از خود وضع کیا اور اس قانون کے بنانے کے لئے کی ہم پلہ حکومت کی طرف سے کوئی دباؤ نہ تھا ۔ یہ قانون اسلام نے از خود بنایا اور از خود اس پر عمل کیا تاکہ اسلامی معاشرہ اس کی بنیاد پر دوسرے کیمپوں کے ساتھ اپنے تعلقات قائم کرے ‘ انسانیت کے لئے انصاف کے جھنڈے بلند کرے اور اس کے لئے نشانات راہ متعین کرے ۔ اگرچہ اس دور کے جاہلی دشمن کیمپ مسلمانوں کے ساتھ ان اسلامی بین الاقوامی قوانین کو سامنے رکھتے ہوئے معاملہ نہ کرتے تھے اس لئے کہ یہ اصول اور قوانین اسلام نے پہلی مرتبہ متعارف کرائے تھے ۔ یہ بین القوامی قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان کو یکجا کیا جائے تو بین الاقوامی قانون کا ایک مکمل ضابطہ سامنے آتا ہے ۔ اس کے اندر ان تمام حالات کا حل موجود ہے جو کسی بھی وقت اسلامی مملکت اور دوسرے ممالک کو پیش آسکتے تھے ۔ چاہے یہ ممالک برسرجنگ اور محارب ہوں ‘ پرامن ہوں ‘ مخالف ہوں ‘ غیر جانبدار ہوں ‘ محارب کے حلیف ہوں ‘ پرامن معاہد کے حلیف یا مخالف اور غیر جانبدار کے حلیف ہوں۔ یہاں ان اصولوں اور احکام کی تفصیلات کے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس قسم کی تفصیلی بحث توبین الاقوامی قوانین کے ماہرین کا کام ہے ۔ البتہ ان آیات کے اندر جو اصول آئے ہیں ہم ان کا خلاصہ پیش کرتے ہیں ۔ اس سبق میں درج ذیل لوگوں کے ساتھ معاملہ کیا گیا ہے ۔ (الف) وہ منافقین جو مدینہ میں مقیم نہ تھے ۔ (ب) وہ لوگ جو ایسی قوم سے متعلق ہیں ‘ جس کے اور مسلمانوں کے درمیان کوئی میثاق ہے ۔ (ج) وہ غیر جانبدار لوگ جو مسلمانوں کے ساھ ملکر لڑنا بھی پسند نہیں کرتے اور خود اپنی قوم کے ساتھ مل کر بھی لڑنا پسند نہیں کرتے لیکن وہ ہیں اپنے سابق دین پر ۔ (د) وہ لوگ جو اسلامی نظریہ حیات کے ساتھ کھیلتے ہیں ۔ جب مدینہ آتے ہیں تو اپنے اسلام کا اظہار کرتے ہیں اور جب مکہ کو جاتے ہیں تو کفر کا اعلان کرتے ہیں ۔ (ہ) مسلمانوں کے اندر قتل خطا اور مختلف لوگوں یعنی مختلف شہریت کے مالک لوگوں کے مابین قتل عمد کے واقعات میں ضابطہ ۔ ان تمام حالات میں ہمیں واضح احکام ملتے ہیں جو اپنے موضوع پر بالکل صریح ہیں ۔ اور تمام حالات پر ان کا انطباق ہوتا ہے ۔ اور یہ اصول بین الاقوامی معاملات کی ضابطہ بندی کا ایک حصہ ہیں اور ان کا حکم وہی ہے جو اس موضوع پر دوسرے احکام بین الاقوام کا ہے ۔
Ayah 4:87

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

” اللہ کے سوا کوئی اور حاکم نہیں ہے ۔ وہ تم کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں شک نہیں ہے اور اللہ سے سچی کس کی بات ہے

درس نمبر 37 تشریح آیات : 87۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 94۔ اس سبق کا آغاز اس اصول سے ہوتا ہے جس کے اوپر اسلامی نظام کی عمارت استوار ہے اور اس کے تمام پہلو اس اصول سے ماخوذ ہیں ۔ (آیت) ” نمبر 87۔ اسلامی نظام زندگی کا پہلا قدم عقیدہ توحید ہے اور عقیدہ توحید کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ وحدہ حاکم ہے ۔ اس اسلامی قونون وضع کریں ‘ یا اسلامی انتظامیہ قائم کریں ۔ قانون نظام کا تعلق اسلامی معاشرے کے داخلی امور سے ہو یا بین الاقوامی قانون سے ہو جس کے مطابق اسلامی سوسائٹی دوسری سوسائٹیوں کے ساتھ برتاؤ کرتی ہے ۔ چناچہ زیر بحث آیت بعض داخلی اور بین الاقوامی قوانین کا افتتاحیہ ہے۔ نفس انسانی کی تربیت کا سفر اس عقیدے سے شروع ہوتا ہے کہ تمام بندوں کو ایک دن اللہ میدان حشر میں اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور اس دنیا میں اس نے انسانوں کو جو اختیارات دیئے تھے ان کے صحیح استعمال کے سلسلے میں باز پرس کرے گا ۔ وہاں اس بات کی پرسش بھی ہوگی کہ اللہ کی ہدایات اور اس کے قوانین پر تم نے کس حد تک عمل کیا اور دنیا میں اپنی زندگی کے چھوٹے بڑے معاملات کے اندر کس حد تک تم نے اسلامی ضوابط کی پابندی کی کو ین کہ تمہیں بہرحال وہاں اسی آزمائش اور امتحان کے لئے تو بھیجا گیا تھا ۔ آخرت میں صغیر وکبیر ہر معاملے کا حساب و کتاب ہوگا ۔ حساب و کتاب اور جواب دہی کا یہی اخروی تصو رہے جو شریعت کے انتظامی اور قانونی ضابطوں پر عمل پیرا ہونے کا ضامن ہے اس لئے کہ ہر شخص کے ضمیر کے اندر ایک جیتا جاگتا چوکیدار بیٹھا ہوا ہوتا ہے اور اس وقت بھی نگران ونگہبان ہوتا ہے جب حکومت کے چوکیدار سو جاتے ہیں۔ اور یہ بات اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ (آیت) ” ومن اصدق من اللہ حدیثا (4 : 87) (اور اللہ سے زیادہ سچی کس کی بات ہے) اور یہ آپ کا وعدہ ہے جس کے خلاف نہیں ہوسکتا ۔ مسلمانوں کے دلوں کو یہ احساس دینے کے بعد اب اصل بات شروع ہوتی ہے ۔ یہ احساس دلانا اسلامی منہاج تربیت کا ایک عام طریق کار ہے اور اس سے یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی کی پوری نظریاتی اور عملی عمارت اس عقیدے پر قائم ہے ۔ غرض یہ احساس دلانے کے بعد اب اس بات پر تعجب کا اظہار کیا جارہا کہ مسلمان نفاق اور منافقین کے بارے میں یکسو نہیں ہیں اور ان کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے فیصلہ کن انداز اختیار نہیں کرتے حالانکہ حالات کا تقاضا ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ فیصلہ کن اور دو ٹوک بات کی جائیں ۔ یکسوئی تو اور بات ہے مسلمان ان کے بارے میں واضح طور پر دو گروہوں میں بٹ گئے ہیں اور ہر ایک کی اپنی رائے ہے ۔ یہ اختلاف رائے مدینہ سے باہر بسنے والے بعض منافقین کے بارے میں پیدا ہوگیا تھا ۔ جس کی تفصیلات آگے آرہی ہیں ۔ استفہام انکاری کا صیغہ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان معاملات کے بارے میں فکری ہم آہنگی کیوں نہیں ہے ۔ اس سے اس بات کا اظہار بھی ہوتا ہے کہ اسلام کی پالیسی یہ ہے کہ معاملات کے اندر فیصلہ کن اور دو ٹوک موقف اختیار کیا جائے اور منافقین کے ساتھ تعلق اور ان کی نسبت نقطہ نظر رکھنے میں یکسوئی اختیار کی جائے اور ان کے ظاہری امور کو دیکھ کر ان کے ساتھ معاملہ کیا جائے بشرطیکہ کوئی منصوبہ طے شدہ ہو اور اس کے ساتھ نرمی کی ضرورت ہو۔