Ayah 4:129(آیت) ” ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النسآء ولو حرصتم فلا تمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقۃ وان تصلحوا وتتقوا افان اللہ کان غفورا رحیما (129) وان یتفرقا یغن اللہ کلا من سعتہ وکان اللہ واسعا حکیما “۔ (130)
بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے ۔ تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہو سکتے ۔ لہذا (قانون الہی کا منشا پورا کرنیکے لئے یہ کافی ہے کہ) ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو ‘ اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ چشم پوشی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ لیکن اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہی ہوجائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاج سے بےنیاز کر دے گا ۔ اللہ کا دامن بہت کشادہ ہے اور وہ دانا وبینا ہے ۔ )
اللہ وہ ذات ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور وہ اپنی پیدا اور وہ اپنی پیدا کردہ مخلوقات کے بارے میں یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کے بعد میلانات ایسے ہیں جن پر اس کے لئے قابو پانا ممکن نہیں ہے لہذا اللہ تعالیٰ نے انسان کے ہاتھ میں نکیل دے دی کہ وہ ان میلانات کو قابو میں رکھے ‘ ان میلانات کی حرکت کو حدود میں رکھے لیکن انہیں بالکل ختم کرنے کی کوشش بھی نہ کرے ۔
ان میلانات میں سے ایک یہ ہے کہ کوئی انسان اپنی متعدد بیویوں میں سے کسی ایک کی طرف زیادہ مائل ہو ۔ یہ میلان ایسا ہوتا ہے جو انسان کی طاقت سے باہر ہوتا ہے ۔ انسان اسے ختم نہیں کرسکتا تو اس کا حل کیا ہے ؟ اسلام کسی شخص سے اس بات پر مواخذہ نہیں کرتا جو اس کی وسعت سے باہر ہو ۔ نہ اسے گناہ قرار دیتا ہے اور نہ اس پر سزا دیتا ہے ۔ اس بات کو اسلام اس کھاتے میں ڈالتا ہے جو اس کی قدرت سے ہی باہر ہو۔ چناچہ اعلان کردیا جاتا ہے کہ تم اپنی بیویوں کے درمیان ہر گز مکمل عدل نہیں کرسکتے اگرچہ تم ایسا کرنے کی کوشش کرو ۔ اس لئے کہ یہ تمہاری قدرت سے باہر ہے ۔ تمہارے ارادے میں جو چیز داخل ہے وہ یہ ہے کہ تم معاملہ کرنے میں انصاف کرو ‘ تقسیم میں انصاف کرو ‘ خرچہ دینے میں انصاف کرو ‘ حقوق زنا شوئی میں انصاف کرو ‘ یہاں تک کہ مسکرانے میں بھی انصاف کرو ‘ زبانی الفاظ کہنے میں بھی انصاف کرو ۔ یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ یہ ہے وہ نکیل جو ان میلانات کو کنٹرول میں رکھے گی ۔ ضبط مطلوب ہے ‘ میلانات کا قتل مطلوب نہیں ہے ۔ (آیت) ” فلا تمیلوا کل المیل فتذورھا کالمعلقۃ “۔ (4 : 129) (ایک بیوی کی طرف اس طرح مائل نہ ہوجاؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو )
یہ ہے وہ بات جس سے کیا گیا ہے ۔ یعنی ظاہری معاملات میں ایک طرف جھک جانا ۔ اس طرح جھکنا کہ دوسری کے حقوق مارے جائیں کہ نہ بیوی ہو اور نہ مطلقہ ۔ اس کے ساتھ ہی اہل ایمان کو ایک نہایت ہی موثر آواز سے پکارا جاتا ہے ۔
(آیت) ” وان تصلحوا وتتقوا فان اللہ کان غفورا رحیما “۔ (4 : 129) (اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ چشم پوشی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے)
اسلام انسانی نفس کے ساتھ اس طرح معاملہ کرتا ہے کہ وہ ایک ایسی ذات ہے جو ایک مٹھی بھرمٹی اور اس میں نفخ روح سے پیدا کی گی ہے اور اس کے اندر جو قوتیں اور صلاحیتیں ہیں ان کے بالکل مطابق ۔ نیز وہ انسان کے ساتھ ایک مثالی حقیقت پسندی یا حقیقی مثالیت کے مطابق اس کے ساتھ ڈیلنگ کرتا ہے کہ وہ ایک انسان ہو ‘ جس کے قدم زمین پر ہوں اور اسے روحانی بلندی حاصل ہو جس میں نہ تو تناقض ہو اور نہ ٹوٹ پھوٹ ہو۔
یہی ہے اسلام ‘ حضور اکرم ﷺ انسانی اعتبار سے اوج کمال پر تھے ۔ آپ کے اندر تمام قوتیں متوازن تھیں ‘ باہم متناسق تھیں اور انسان کی حدود و فطرت کے اندر تھیں ۔
حضور اکرم ﷺ ازواج مطہرات کے درمیان تقسیم اور منصفانہ تقسیم پرتو قادر تھے ایک بیوی کو دوسری بیوی پر ترجیح نہ دیتے تھے ۔ لیکن دلی جذبات پر کنٹرول کسی کی طاقت میں نہیں ہوتا ۔ (الھم ھذا قسمی فیما املک فلا تلمنی فیما لا املک) (اے اللہ یہ ہے میری تقسیم جن معاملات میں میرا اختیار ہے اور آپ مجھے ملامت نہ کریں ان معاملات میں جو میرے اختیار سے باہر ہیں) یعنی دل (ابو داؤد)
ہاں جب دل خشک ہوجائیں تعلقات بہت ہوجائیں اور زوجین کے درمیان باہم زندگی گزارنا مشکل ہوجائے تو پھر جدائی ہی بہتر ہے ۔ اسلام زوجین کو رسیوں اور زنجیروں میں باندھ کر اکٹھا رکھنا مناسب نہیں سمجھتا ۔ نہ قید وبند کے ذریعے زوجین کو اکٹھا رکھا جاسکتا ہے ۔ صرف محبت اور باہم رحم دلی کے جذبات میں فریقین کو باندھا جاسکتا ہے یا پھر ان کو واجبات اور فرائض کی انجام دہی اور حسن سلوک کے ذریعے یکجا رکھا جاسکتا ہے ‘ خصوصا ایسے دلوں کو جن کے درمیان نفرت پیدا ہوچکی ہو۔ اس لئے کہ نفرت کے قلعوں میں دلوں کو بند نہیں کیا جاسکتا ۔ نیز یہ تعلق کہ بظاہر تو باہم تعلق ہو اور اندرونی طور پر مکمل کاٹ ہو ۔
Ayah 4:130(آیت) ” وان یتفرقا یغن اللہ کلا من سعتہ وکان اللہ واسعا حکیما (3 : 130) (اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہی ہوجائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاج سے بےنیاز کر دے گا ۔ اللہ کا دامن بہت کشادہ ہے اور وہ دانا وبینا ہے ۔ )
اللہ تعالیٰ دونوں سے وعدہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے فضل اور رحمت سے دونوں کو غنی بنا دے گا ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت ہی وسعت کرنے والے ہیں اور اپنے حدود و حکمت کے اندر اور بندوں کی مصحت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے لئے کشادگی کی حد مقرر فرماتے ہیں ہر شخص کے حالات کے مطابق ۔
اسلام انسانی شعور اور نفس کے پوشیدہ میلانات کے ساتھ جس طرح برتاؤ کرتا ہے اور جس طرح زندگی کے طور طریقوں کو حقیقت پسندی کے ساتھ دیکھتا ہے وہ اس قدر حیران کن ہے کہ اگر لوگ رات دن اللہ کا شکر ادا کریں تو بھی ان کے لئے اس کا حق ادا کرنا ممکن نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں انسانی سہولت کا بہت ہی خیال رکھا گیا اور نظر آتا ہے کہ یہ نظام انسانوں کے لئے تجویز ہوا ہے ۔ وہ انسانوں کا ہاتھ پکڑ کر ان کو نہایت ہی گری ہوئی حالت سے اٹھاتا ہے اور انہیں نہایت ہی سربلندی تک لے جاتا ہے اور یہ عمل انسان کی فطرت کے عین مطابق ہوتا ہے ۔ وہ ان کے لئے بلندی اور رفعت کا کوئی ٹارگٹ اس وقت تک تجویز نہیں کرتا جب تک ان کی فطرت میں اس کے حصول کے لئے داعیہ نہ ہو اور ان کے مزاج میں اس کی کوئی نہ کوئی جڑ موجود نہ ہو ۔ اس طرح اسلام ان کو پھر اس بلند مقام تک لے جاتا ہے جہاں تک انہیں کوئی دوسرا نظام نہیں لے جاسکتا ۔ یہ کام وہ اس طرح مثالی واقعیت پسندی یا ایسی واقعیت کے ساتھ کرتا ہے جس کی کوئی مثال نہ ہو اور پھر ایسی صورت میں کہ اس عجیب مخلوق انسانی کی اصل طبیعت اور مزاج کے مطابق ۔
خاندانی نظم کے یہ احکام جن کا تعلق خاص زوجین کی ازدواجی زندگی سے ہے اسلامی نظام حیات کا ایک حصہ ہیں اور اسلامی نظام حیات اس کائنات کے ناموس اکبر کا ایک حصہ ہے جو اللہ نے اس پوری کائنات کے اندر جاری فرمایا ہے ۔ اس لئے اسلامی نظام بھی اس کائنات کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہے جب کہ دوسری طرف وہ انسانی فطرت کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔ اس لئے کہ انسانی بھی اس کائنات ہی کا ایک حصہ ہے اور یہ اسلامی نظام زندگی کا نہایت ہی گہرا راز ہے اس لئے عائلی اور خاندانی نظام کے مسائل کے متصلا بعد اللہ تعالیٰ کائنات کا ذکر فرماتے ہیں جس سے یہ عائلی احکام پوری کائنات کے نظام فطرت کے ساتھ مربوط ہوجاتے ہیں ۔ گویا جس طرح انسانی زندگی میں اللہ کی حاکمیت ہے ‘ اسی طرح اس کائنات میں بھی وہی حاکم ہے ۔ وہی ہے جو زمین و آسمان کا مالک ہے اور یہ وہی ذات ہے جس نے تمہیں یہ احکام دیئے ہیں ۔ وہی ہے جس نے تم سے پہلی امتوں کو یہ احکام دیئے تھے اور یہ تمام احکام اور وصایا ایک ہیں اور ایک ہی منبع سے ہیں اور اسلامی نظام اس پر قائم ہے کہ اس نے نتیجے میں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی نصیب ہوتی ہے اور یہ وہ اصول ہیں جو سچائی ‘ عدل اور خدا ترسی پر استوار ہیں۔
Ayahs 4:131–134(آیت) ” 131 تا 134۔
قرآن کریم میں احکام ونواہی کے بیان کے بعد بار بار یہ تعقیب آتی ہے کہ اللہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا مالک ہے ۔ یا یہ لفظ آتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کے لئے ہے ۔ یہ دونوں امور ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں اس لئے کہ جو بادشاہ اور مالک ہوتا ہے ‘ اپنی مملکت میں امر اور نہی بھی اسی کا چلتا ہے ۔ اس کی مملکت میں جو لوگ بستے ہیں وہ اس کے محکوم ہوں گے اور اس کائنات میں چونکہ اللہ وحدہ مالک ہے تو اس وجہ سے اس دنیا میں صرف اس کا حکم چلے گا اور وہی لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حقدار ہوگا ۔ دونوں امور دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
جن لوگوں پر کتاب اتاری گئی ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی وصیت کی ہے کہ وہ خدا سے ڈریں اور یہ وصیت اس نشاندہی کے بعد کی ہے کہ زمین اور آسمانوں کے اندر جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے اس لئے وصیت کا حق بھی اللہ کو ہے اور قانون سازی کا حق اللہ کو ہے لہذا اس سے ڈرو ۔
(آیت) ” وللہ ما فی السموت وما فی الارض ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ “۔ (4 : 131)
(آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے ۔ تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب مت کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو)
واقعہ یہ ہے کہ جس کی حقیقی اقدار حاصل ہو لوگ اسی سے ڈرتے ہیں اور خدا ترسی ہی وہ واحد سبیل ہے جس سے ” دلوں “ کی اصلاح ہو سکتی ہے ۔ پھر خدا ترسی ہی وہ واحد سبیل ہے جس کے ذریعے کسی ” نظام “ کی اصلاح ہو سکتی ہے اور اس کی جزئیات پر عمل کرایا جاسکتا ہے ۔ جو لوگ اللہ کی اس ملکیت میں اپنی حیثیت کو نہیں پہچانتے ان کو اللہ خبردار فرماتے ہیں کہ اللہ انہیں اس دنیا سے دور کر کے ان کی جگہ دوسری آبادی کو لا کر اپنی ملکیت میں بسا سکتے ہیں ۔
(آیت) ” وان تکفروا فان للہ ما فی السموت وما فی الارض وکان اللہ غنیا حمیدا (131) وللہ ما فی السموت وما فی الارض وکفی باللہ وکیلا (132) ان یشایذھبکم ایھا الناس ویات باخرین وکان اللہ علی ذلک قدیرا (133) (4 : 131 تا 133)
(لیکن اگر تم نہیں مانتے تو نہ مانو آسمان و زمین کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے اور وہ بےنیاز ہے ‘ ہر تعریف کا مستحق ۔ اللہ ہی مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور کارسازی کے لئے بس وہی کافی ہے ۔ اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے اور وہ اس کی پوری قدرت رکھتا ہے ۔ )
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو وصیت کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو ‘ اگر وہ اللہ سے نہ ڈریں تو ان اس سے اللہ تعالیٰ کی ذات کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔ اور وہ سب کفر کا رویہ اختیار کرلیں تو بھی اللہ کا اس میں کچھ نقصان نہیں ہے اس لئے کہ لوگوں کے کفر کی وجہ سے اللہ کی ملکیت میں سے کوئی چیز کم نہیں ہوتی ۔ (آیت) ” فان للہ ما فی السموت وما فی الارض “۔ (4 : 131) (اللہ تو مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں ) اور وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تمہیں یہاں سے چلتا کرے اور کسی اور کو لا بسائے ۔ وہ جو ان کو وصیت کرتا ہے تو وہ ان کی بھلائی کے لئے کرتا ہے ۔ اور ان کے حالات کو درست کرنے کے لئے کرتا ہے ۔
اسلام انسان کو جس طرح اس پوری کائنات کا سرتاج قرار دیتا ہے اور انسان کی کرامت کا اعلان کرتا ہے ‘ اور تمام زمین کی مخلوقات سے اسے برتر قرار دیتا ہے ‘ اسی طرح اگر انسان اللہ کا کفر کرلے تو اللہ انسان کو اس کائنات کی بدترین مخلوق قرار دیتا ہے اس لئے کہ وہ اللہ کے حکم سے منہ موڑتا ہے بلکہ وہ سینہ زوری کرکے اللہ کی صفت حاکمیت میں شریک ہو کر اپنے آپ کو یہاں کا حاکم قرار دیتا ہے ۔ اور وہ بغیر کسی استحقاق کے ایسا کرتا ہے ۔ اسلامی تصور حیات میں یہ دونوں باتیں برابر ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔
یہ آیات اس تعقیب پر اختتام کو پہنچتی ہیں کہ جو لوگ صرف دنیاوی مقاصد کے لالچ میں گرفتار ہیں ‘ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کا فضل بہت ہی وسیع ہے ۔ اللہ کے ہاں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی ہے اور جو لوگ دنیا پر ہی نظریں جمائے بیٹھے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ اپنی نظریں ذرا اونچی کریں اور دیکھیں کہ اللہ کے ہاں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے ۔
(آیت) ” من کان یرید ثواب الدنیا فعند اللہ ثواب الدنیا والاخرۃ وکان اللہ سمیعا بصیرا “۔ (4 : 134)
(جو شخص محض ثواب دنیا کا طالب ہو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کے پاس ثواب دنیا بھی ہے اور ثواب آخرت بھی اور اللہ سمیع وبصیر ہے ۔ )
یہ امر ایک واضح حماقت حماقت اور ایک واضح کم ہمتی ہوگی کہ انسان دنیا اور آخرت دونوں کامیابی حاصل کرسکتا ہو اور اسے دنیا اور آخرت آخرت دونوں کا اجر مل سکتا ہو اور اس کامیابی کی ضمانت اسے اسلامی نظام زندگی دے بھی رہا ہو ‘ جو ایک واقعیت پسند عملی اور مثالی نظام ہے ‘ لیکن وہ اس گارنٹی کے باوجود صرف دنیا ہی کی طلب کرے ۔ اپنی پوری ہمت دنیا طلبی ہی میں لگا دے اور بالکل اسی طرح زندگی بسر کرے جس طرح حیوان ‘ چوپائے اور کیڑے مکوڑے زندگی بسر کرتے ہیں ۔ حالانکہ یہ شخص انسانوں کی طرح بسہولت زندگی بسر کرسکتا ہے اس طرح کہ اس کے قدم زمین پر چلتے ہوں اور اس کی روح آسمانوں میں سیر کرتی اور پھڑپھڑاتی ہو۔ اور اس طرح کہ وہ ایک جاندار موجود کی طرح جو اس کرہ عرض کے اوپر طبیعی قوانین کے مطابق تک ودو بھی کررہا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ عالم بالا کے ساتھ بھی اس کی زندگی کا ربط ہو ۔
غرض یہ جزئی اور فروعی احکام پوری طرح اسلامی نظام حیات کے اصولوں کے ساتھ مربوط ہیں اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں خاندانی نظام کی بہت ہی اہمیت ہے ‘ اس قدر اہمیت کہ ان احکام کو اس کائنات کے عظیم معاملات کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے اور ان تمام امور پر یہ تعقیب اور تبصرہ کیا گیا ہے کہ اگر تم لوگ اللہ کی ان وصیتوں کو قبول نہیں کرتے تو اللہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ تمہیں ختم کر دے اور تمہاری جگہ کوئی دوسری مخلوق آباد کر دے ۔ یہ ایک نہایت ہی خطرناک تبصرہ ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ایک خاندان کے نظام کے معاملے میں وارد ہونے والے احکام بھی اسی قدر اہم ہیں جس قدر ادیان کو دی جانے والی عظیم ہدایات کی اہمیت ہے ۔
Ayah 4:135درس نمبر 24 ایک نظر میں :
یہ سبق بھی امت مسلمہ کے لئے دست قدرت کی تربیت کا ایک نمونہ ہے جس کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ یہ ایک اچھی امت ہے اور جسے لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے ۔ یہ سبق بھی اس اسلامی نظام زندگی کی ایک اہم کڑی ہے جو نہایت ہی مستحکم نظام ہے ۔ جس کے مقاصد اور اہداف متعین ہیں اور یہ نظام نفس انسانی کی بہتری کے لئے نازل کیا گیا ہے ۔ اس کے ذریعے نفس انسانی کا اس طرح علاج کیا گیا ہے کہ جس دست قدرت نے ذات انسان کو بنایا ہے ‘ وہی اس کی کمزوریوں کا علاج بھی کر رہا ہے ۔ یہ علاج اس لئے کامیاب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی اس ممتاز مخلوق اور صنعت کے پرزے پرزے سے واقف ہے ‘ یہ اس کی حقیقت اور ماہیت کو اچھی طرح جانتا ہے اس کے رجحانات ومیلانات سے واقف ہے اور اس کی ضروریات اور اس کے اندر پوشیدہ ترین صلاحیتوں اور کمزوریوں سے بھی آگاہی رکھتا ہے ۔
اس سبق میں اسلامی نظام حیات کے اصول ‘ نہایت ہی اٹل اصول بتائے گئے ہیں جو مستقل ہیں ۔ ہر دور ‘ ہر جگہ اور ہر زمانے کے لئے ہیں تاکہ انسانیت کو جاہلیت کی پستیوں سے بلند کر کے نہایت اونچی بلندیوں تک پہنچائے اور جہان تک انسان ترقی کرچکا ہو اس سے اسے مزید آگے بڑھائے ۔ ان اصولوں کے ساتھ ساتھ اس سبق میں پہلی جماعت مسلمہ کے بھی کچھ خدوخال بیان کئے گئے ہیں جو اس قرآن کی پہلی مخاطب جماعت تھی ۔ ان آیات کے آئینے کے اندر پہلی تحریک اسلامی نہایت ہی خوبصرتی کے ساتھ بحیثیت ایک انسانی جماعت نظر آتی ہے ۔ اس میں بشری کمزوریاں بھی نظر آتی ہیں اور اعلی پاکیزگی کا میعار بھی نظر آتا ہے ۔ اس جماعت کے اندر جاہلی دور کی باقیات اور فطری کمزوریاں بھی نظر آتی ہیں ۔ قرآن کریم اس جماعت کی تربیت کرتے ہوئے ایک ایک کمزوری کو لیتا ہے اور ان کا علاج کرتا ہے ‘ پھر اس جماعت کو تقویت دے کر اسے ایک مثالی جماعت بنا رہا ہے ۔ تلقین کی جاتی ہے کہ وہ سچائی پر جم جائیں اور راہ حق میں جدوجہد کریں اور قربانیاں دیں ۔
سبق کا آغاز اس پکار سے کیا جاتا ہے جو جماعت مسلمہ کے نام ہے اسے کہا جاتا ہے کہ تم خیر امت ہو اور اس دنیا میں تمہارا ایک مقرر کردار ہے ‘ اسے ادا کرنے کے لئے کمر باندھو اور دنیا میں عدل و انصاف کا وہ معیار قائم کرو جو انسانیات کی تاریخ کا سب سے اونچا معیار اور مثالی عدل ہو ۔ اور عدل قائم کرنے میں تمہارا مطح نظر اور نصب العین ذات باری کی رضا کا حصول ہو ‘ اور اس معاملے میں کسی اور جذبے ‘ کسی اور خواہش اور کسی اور مصلحت کو پیش نظر مت رکھو ۔ اس معاملے میں خود اپنی جماعت ‘ اپنی حکومت اور اپنی امت (NAtion) کے مفادات کو بھی پیش نظر نہ رکھو ۔ اس میں خدا ترسی اور رضائے الہی کے سوا تمہارے پیش نظر کوئی اور جذبہ نہ ہو ۔ امت نے فی الواقعہ ایسا کیا اور اس کا ایک نمونہ ایک یہودی کے اوپر جھوٹے الزام کے واقعہ کی شکل میں خود قرآن کریم نے ریکارڈ کیا اور اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی کو بذریعہ وحی انصاف کرنے کی تنبیہ اور تاکید کی جس کا تذکرہ ہم تفصیلا کر آئے ہیں ۔
سبق کا آغاز اس حکم سے ہوتا ہے کہ عدل کرو ‘ مطلق اور خالص عدل کرو۔ مطلق اور خالص عدل کس قدر مشکل کام ہے ‘ اس کو رب کائنات ہی جانتا ہے ۔ جس نے انسان کو پیدا کیا ۔ رب کو معلوم ہے کہ اس راہ میں کیا کیا مشکلات پیش آتی ہیں ۔ اللہ کو معلوم ہے کہ انسان میں کمزوری کے کیا کیا پہلو ہیں ۔ انسان کے جذبات اس کی ذات کے لئے اور اقارب کے لئے کمزوروں اور زبردستوں کے لئے خصوصا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لئے ‘ فقراء اور اغنیاء کے لئے ‘ دوست اور دشمن کے لئے کیسے ہیں ۔ اس کے علاوہ دوسرے بیشمار جذبات اور یہ سب کے سب یا ان میں کوئی ایک بات عدل کے معاملے میں اثرانداز ہو سکتی ہے اور ان کو نظر انداز کرنا نہایت ہی مشکل کام ہے ۔ یہ کام اسی طرح مشکل ہے جس طرح ایک آدمی نہایت ہی عمودی چڑھائی پر چڑھ رہا ہو اور اس میں اس کے پیش نظر صرف رضائے الہی اور حبل اللہ رہے ۔ کس قدر مشکل ہے یہ کام ۔
دوسری دعوت اس سبق میں یہ ہے کہ مکمل ایمان لے آؤ ۔ اللہ کتابوں ‘ ملائکہ ‘ رسول اور یوم آخرت پر ایمان لاؤ ۔ یہ ہے مکمل ایمان ۔ اس کے تمام اجزاء کی اپنی اپنی جگہ بہت بڑی اہمیت ہے ۔ یہ تمام اجزاء مل کر ایمان کو مکمل کرتے ہیں اور انہی اجزاء سے مجموعی اسلامی تصور حیات وجود میں آتا ہے ‘ جو تمام دوسرے تصورات کے مقابلے میں زیادہ فوقیت رکھتا ہے ‘ جو کسی زمانے میں انسانی معاشروں کے اندر رائج ومعروف رہے ہیں ۔ اسلام سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ۔ یہ نظریہ حیات بذات خود ‘ ہر نظریہ سے قوی اور برتر ہے اور اس سے تمام دوسری قدریں وجود میں آتی ہیں چاہے وہ اخلاقی ہوں ‘ اجتماعی ہوں یا تنظیمی ہوں اور جن کا عملی مظاہرہ پہلی جماعت اسلامی کی زندگی میں ہوا تھا اور آئندہ کے ادوار میں بھی جس جماعت نے اس نظام پر صحیح طرح ایمان کا اظہار کیا اور اس کے تقاضوں کو پورا کیا تو اس کی زندگی کے اندر بھی یہی تفوق اور برتری پیدا ہوئی ۔ قیامت تک یہ اصول اپنی جگہ قائم رہے گا اور قیامت میں تو بہرحال اللہ کا کلمہ ہی حق اور برتر ثابت ہوگا ۔ یہ ہے مفہوم اس آیت کا (آیت) ” (ولن یجعل اللہ للکفرین علی المومنین سبیلا (4 : 141) (اللہ نے کافروں کے لئے مسلمانوں کے مقابلے میں برتری کی کوئی سبیل نہیں رکھی) ۔
ان دو دعوتوں کے اب اللہ تعالیٰ منافقین پر تنقیدی حملہ شروع کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض تو وہ ہیں جو ابھی تک اپنے نفاق کو چھپائے ہوئے ہیں اور بعض وہ ہیں جو منافق رہنے کے بعد دوبارہ کفر کا اعلان کرچکے ہیں ۔ اس تنقیدی بیان میں منافقین کے مزاح انکی قابل نفرت صورت ‘ اسلامی صفوں کے اندر ان کی سرگرمیوں کی جو صورت حال ہے اس کی تفصیلات ان کا متلون موقف ‘ کہ اگر مسلمانوں کو فتح ہو تو وہ ان کی چاپلوسی کرتے ہیں اور اگر اہل کفر کو فتح نصیب ہو تو یہ انکے ہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور ہر جگہ خود اپنے آپ کو سبب فتح قرار دیتے ہیں ۔ نماز کے لئے نہایت ہی بوجھل قدموں کے ساتھ جاتے ہیں ۔ اور دکھاوے کے لئے پڑھتے ہیں ‘ ان کا رویہ نہایت ہی مذبذب ہوتا ہے ۔ نہ ادھر کے اور نہ ادھر کے ۔
اس تنقیدی حملے کے درمیان جا بجا اہل ایمان کو بھی ہدایات دی گئی ہیں جن سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ منافقین اس وقت اسلامی صفوں میں کس طرح گھسے ہوئے تھے اور کیا کیا کارستانیاں کر رہے تھے ۔ اسلامی صفوں میں منافقین کو کس قدر اثرورسوخ حاصل تھا ۔ ان حالات میں اس قسم کے تنقیدی حملے کی ضرورت اس لئے پیش آئی تاکہ اس وقت کے موجود حالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے تحریک اسلامی کو قدم بقدم آگے بڑھایا جائے اور اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ منافقین سے آہستہ آہستہ دور ہوتے جائیں اور ان کے ساتھ تعلقات رکھنے سے اجتناب کریں ۔ ان کی مجالس میں نہ بیٹھیں ‘ جہاں وہ اکثر کفریہ گفتگوئیں کرتے ہیں اور اللہ کی آیات کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ۔ البتہ اس دور میں قرآن کریم نے منافقین کے ساتھ بائیکاٹ کا حکم تو بہرحال نہیں دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت یہ آیات نازل ہو رہی تھیں اس وقت منافقین کا جتھا بڑا مضبوط تھا اور وہ اس قدر سرگرم تھے کہ اہل اسلام کے لئے ان کا مکمل بائیکاٹ ممکن ہی نہ تھا ۔
مسلمانوں کو اس تحذیر ار تنبیہ کرنے کے درمیان ہی یہ بتا دیا گیا کہ نفاق کی علامات کیا ہیں اور نفاق کا آغاز کس طرح شروع ہوتا ہے ۔ تاکہ وہ خود بھی نفاق کی علامات سے اپنے آپ کو بچانے کی سعی کریں ۔ سب سے پہلی ہدایت یہ دی جاتی ہے کہ تم منافقین کے ساتھ دوستی ہر گز نہ کرو اور منافقین کے ہاں اپنی عزت اور احترام بڑھانے کا لالچ نہ کرو ‘ اس لئے کہ عزت تو صرف اللہ کے ہاں ہے۔ اللہ کو ہر گز یہ بات پسند نہیں کہ وہ کافروں کو اہل اسلام پر برتری دے اور منافقین تو دنیا وآخرت میں ذلیل ہوں گے ۔ یہ ہے ان کی تصویر ذرا ملاحظہ کرو اور پھر آخرت میں وہ دوزخ کے اندر سب سے نیچے پڑے ہوں گے ۔
اس انداز میں یہ ہدایات اور تنبہات بتلاتی ہیں کہ اسلامی نظام زندگی نفس انسانی اور اس کے اندر رچی بسی عادات کو کس طرح درست کرتا ہے اور کسی موجود عملی صورت حال کے اندر اسلام اصلاح کی کاروائی کا آغاز کس طرح کرتا ہے ؟ اسلام نہایت ہی تدریج کے ساتھ کوئی تبدیلی لاتا ہے اور آخر کار کسی موجودہ صورت حال کو یکسر تبدیل کرکے اس کی جگہ نہایت ہی جدید صورت حالات لے کر آجائے ہے ۔ نیز اس سے اس بات کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ اس دور میں مسلمانوں کے حالات کیا تھے ، کفر ونفاق کے محاذ ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح معاون تھے اور وہ کس طرح جماعت مسلمہ اور دین اسلام کے خلاف گٹھ جوڑ کئے ہوئے تھے ۔
ان تمام تبصروں کے اندر غور کرنے سے یہ بات نظر آتی ہے کہ وہ کیا عظیم معرکہ تھا ۔ جس کے اندر قرآن کریم نے جماعت مسلمہ کو ڈال دیا تھا ۔ اور اس معرکہ میں ڈال کر قرآن کس نظام اور منہاج کے مطابق جماعت مسلمہ اور نفس انسانی کی قیادت اور راہنمائی کر رہا تھا ۔ یہ معرکہ وہی معرکہ ہے جو ہر زمان ومکان کے اندر اسلام اور جاہلیت کے درمیان برپا رہا ہے اور کبھی ختم ہونے میں نہیں آتا ۔ وسائل بدل سکتے ہیں اور چہرے بدل سکتے ہیں لیکن اسلام اور جاہلیت کے درمیان جو جنگ ہے اس کی نوعیت آج بھی وہی ہے جو قرن اول میں تھی ۔ نیز ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کی سرگرمیوں میں قرآن کریم کی قیادت اور راہنمائی کو کس قدر اہمیت حاصل ہے ۔ قرآن کریم یہ قیادت جس طرح حضور کے درمیان جو جنگ ہے اس کی نوعیت آج بھی وہی ہے جو قرن اول میں تھی ۔ نیز ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کی سرگرمیوں میں قرآن کریم کی قیادت اور راہنمائی کو کس قدر اہمیت حاصل ہے ۔ قرآن کریم یہ قیادت جس طرح حضور ﷺ کے دور میں کرتا تھا ‘ وہی راہنمائی اور قیادت وہ آج بھی کرتا ہے ۔ قرآن کریم کسی ایک دور یا کسی ایک نسل کی راہنمائی کے لئے تو آیا ہی نہیں ہے ‘ یہ تو اس امت کا قائدہ ہے ‘ اس کا مرشد ہے اور اس کا ہادی ہے اور ہر دور اور ہر نسل کے لئے ہے ۔
اور اس سبق کے آخر میں ایک لمحہ فکریہ ! یہ کہ اللہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ لوگوں کو خواہ مخواہ عذاب دے ۔ اس کا مطالبہ تو صرف یہ ہے کہ ایمان لاؤ اور اللہ کا شکر بجا لاؤ ۔ اگر لوگ ایمان نہیں لاتے اور شکر گزار بندے نہیں بنتے تو اسے کوئی پرواہ نہیں ۔ وہ تو ان کے ایمان اور شکر گزاری دونوں سے بےنیاز ہے ۔ اللہ جو ہدایات دے رہا ہے وہ تو انکی اصلاح کے لئے ہے ۔ ان کو نرمی دینے کے لئے ہیں تاکہ وہ اس بات کے مستحق ہوجائیں کہ ان کو جنت میں انعامات ملیں ۔ اگر وہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کریں گے اور الٹے پاؤں پھریں گے تو وہ خود عذاب جہنم کے مستحق ہوجائیں گے ۔ اس میں صرف ان ہی کا ذاتی نقصان ہے اور منافقین تو اس جہنم کے بھی سب سے خطرناک ” درک اسفل “ میں ہوں گے ‘ سب سے نیچے والے درجے ہیں ۔
درس نمبر 42 تشریح آیات :
135۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 147
(آیت) ” نمبر 135۔
یہ اہل ایمان کو خصوصی پکار ہے ۔ اس پکار میں ان کے لئے ایک جدید لقب اور ایک نئی صفت کو استعمال کیا گیا ہے اور اس لقب اور صفت میں وہ بالکل منفرد ہیں ۔ اور الذین امنوا کی روح بدل گئی ہے ۔ ان کے تصورات بالکل نئے ہوگئے ہیں ۔ ان کے اصول اور مقاصد بدل کر نئے ہوگئے ہیں ۔ وہ اس جدید انقلابی مہم کے راہنما بن گئے ہیں اور ان کے کاندھوں پر عظیم ذمہ داریاں عائد کردی گئی ہیں ‘ اب وہ پوری انسانیت کے لئے پاسبان ونگہبان ہیں ۔ وہ لوگوں کے درمیان اب فیصلہ کرنے والے ہیں ۔ اس لئے یہاں (آیت) ” (یایھا الذین امنوا) کے الفاظ نہایت ہی اہمیت کے حامل ہیں ۔ یعنی اس صفت ایمان ہی کی وجہ سے ان پر عالمی قیادت کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے اور پورے عالم کی قیادت کرنا گویا تقاضائے ایمان ہے اور صفت ایمان ہی کے تقاضے کے طور پر مسلمان اس قیادت کے مقام کا چارج لینے کے لئے یہ تیاری کر رہے تھے ۔
اسلامی منہاج تربیت کی یہ ایک نہایت ہی موثر جھلکی ہے ۔ اور امت مسلمہ کو ایک نہایت ہی بھاری ذمہ داری کا چارج دینے سے قبل ہی یہ جھلکی دکھائی گئی اور وہ بھاری ذمہ داری یہ ہے ۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا کونوا قومین بالقسط شھداء للہ ولو علی انفسکم اوالوالدین والاقربین ان یکن غنیا اوفقیرا فاللہ اولی بھما “۔ (4 : 135)
(اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو انصاف کے علمبردار اور اللہ کے لئے گواہی دینے والے بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو ۔ فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب اللہ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ ہے)
یہ امانت اور ذمہ داری یہ تھی کہ تم نے عدل قائم کرنا ہے اور یہ عدل مطلق ہوگا جس کا علمبردار تم نے بننا ہے ۔ ہر حال اور ہر میدان میں تم نے انصاف کرنا ہے ۔ ایسا عدل جس کے ذریعے ظلم اور عدوان کی خودبخود نفی ہوجائے اور پورے کرہ ارض پر کہیں بھی ظلم نہ رہے اور یہ ایسا عدل ہو کہ ہر حقدار کو اس کا حق ملے ۔ اس حق رسیدگی میں مومن اور غیر مومن دونوں برابر ہوں جیسا کہ یہودی کے قصے میں واضح طور پر کہا گیا ہے ۔ اس میں رشتہ دار اور غیر رشتہ دار سب برابر ہوں ۔۔۔ دوست اور دشمن سب برابر ہوں۔ غنی اور فقیر کا درجہ ایک ہی ہو ۔
(آیت) ” (کونوا قومین بالقسط شھداء للہ ) (انصاف کے علمبردار اور اللہ کے لئے گواہی دینے والے بنو)
یہ انصاف اور شہادت صرف اللہ کے لئے ہو اور اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہو اور شہادت نہ ان کے لئے دی جائے جن کے حق میں دی جارہی ہو اور نہ ان کی وجہ سے دی جائے جن کے خلاف دی جارہی ہے ۔ یہ شہادت نہ کسی فرد اور نہ کسی جماعت کے مفادات کے لیے ہو اور نہ شہادت ان حالات سے متاثر ہو کردی جائے جو اس وقت موجود ہوں یا مقدمہ زیر بحث پراثر انداز ہو رہے ہوں خالصتا اللہ کے لئے اور خالصتا اللہ کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے ‘ صرف اس کی رضا کے لئے دی جائے اور ایسے حالات میں کہ کوئی میلان ‘ کوئی رجحان ‘ کوئی مصلحت اور کوئی خواہش اسے متاثر نہ کر رہی ہو ۔ نہ کسی کا لحاظ رکھا جا رہا ہو۔
(آیت) ” ولو علی انفسکم اولوالدین والاقربین “۔ (4 : 135)
(اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو ۔ )
یہاں اسلامی نظام نفس انسانی کو خود اس کے اپنے خلاف مسلح کر رہا ہے ۔ اپنے جذبات کے ساتھ ‘ اپنی ذات کے خلاف ‘ اپنے والدین کے خلاف اور اپنے رشتہ داروں کے خلاف ‘ اور یہ نہایت ہی دشوار مرحلہ ہے کہ کوئی اپنی ذات کے خلاف فیصلہ کرے ۔ محض زبانی جمع خرچ تو آسان ہوتا ہے لیکن عملا ایسا کرنا نہایت ہی مشکل ہوتا ہے ۔ انسان ذہنی لحاظ سے اس کے بارے میں سوچ تو سکتا ہے کہ ایسا ہونا چاہئے مگر عمل دشوار ہوتا ہے اور اس بات کی اصل مشکلات کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب انسان عملا یہ کام کرے ۔ اس کے باوجود کہ یہ مشکل کام ہے ‘ اسلامی نظام نفس مومنہ کو تقوی کے ذریعے خود اپنی ذات کے خلاف مسلح کر رہا ہے کہ وہ اس خطرناک تجربے میں کود پڑے ‘ اس لئے کہ دنیا کے اندر عدل و انصاف کا یہی معیار ہونا چاہئے کہ کوئی اپنی ذات کے خلاف بھی فیصلہ کر گزرے اگر حق و انصاف اس کا تقاضا کرتے ہوں ۔ اور کچھ لوگ یہ فیصلہ عملا کرکے دکھائیں ۔
اس کے بعد نفس انسانی کو اپنے فطری اور اجتماعی شعور کے خلاف بھی مسلح کیا جاتا ہے کہ جس شخص کے حق میں یا خلاف گواہی دی جارہی ہو وہ غریب ہو ۔ اگر وہ غریب ہے تو مشکل یہ ہوتی ہے کہ کوئی رحمدل انسان اس کے خلاف شہادت دینا گواہی دی جارہی ہو وہ غریب ہو ۔ اگر وہ غریب ہے تو مشکل یہ ہوتی ہے کہ کوئی رحمدل انسان اس کے خلاف شہادت دینا ازروئے رحمدلی ‘ پسند نہیں کرتا اور یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی کمزوری کی وجہ سے اس کے حق میں شہادت دے ۔ یا کسی اجتماعی مرتبہ ومقام کی وجہ سے یا کسی سوسائٹی کی طبقاتی منافرت کی وجہ سے کوئی کسی زیردست کے ساتھ نفرت کرتا ہو یا اگر مدمقابل گنی ہو تو اس کی وجاہت کا لحاظ رکھے اور اس کے خلاف شہادت نہ دے ۔ جاہلیت کے تمام نظاموں میں ایسا ہوتا رہا ہے ۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک گواہ ایک مالدار شخص کے ساتھ نفرت کرے اور اس کی مالداری اور برتری اسے پسند نہ ہو اور اس وجہ سے وہ شہادت حق نہ دے بلکہ مالدار کے خلاف شہادت دے دے ۔ یہ تمام فطری میلانات ہوئے اور جب عملا کسی کو واسطہ پڑتا ہے تو انصاف اور شہادت کے وقت یہ اپنا وزن انسان پر ڈالتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے تمام امور کو لے لیا کہ ذات ہو ‘ اقرباء ہوں ‘ غریب ہو یا امیر تم شہادت حق دو ۔
(آیت) ” ان یکن غنیا اوفقیرا فاللہ اولی بھما “۔ (4 : 135) (فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب اللہ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ ہے) یہ نہایت ہی مشکل اور بھاری کام ہے ۔ اسلام نے اہل ایمان کو عملی زندگی میں ڈالا اور اسے اس قدر بلندی تک پہنچایا کہ انہیں پوری انسانیت نے دیکھ لیا کہ اسلام نے اس کرہ ارض پر عالم انسانیت کے اندر یہ ایک عظیم معجزہ دکھایا تھا ۔ یہ ایک ایسا معجزہ تھا کہ صرف اسلامی نظام کے سایہ ہی میں رونما ہو سکتا تھا ۔
(آیت) ” فلا تتبعوا الھوی ان تعدلوا “۔ (4 : 135) (لہذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو ‘) خواہشات نفسانیہ کی کئی اقسام ہوتی ہیں جن میں سے بعض کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے ۔ ذات کی محبت ‘ اہل و عیال کی محبت ‘ رشتہ داروں کی محبت ‘ کسی فقیر کے ساتھ رحمدلی ‘ (شہادت کے وقت) کسی غنی کی رعایت اور وجاہت کا لحاظ ‘ کسی امیر یا فقیر سے نفرت وغیرہ سب خواہشات نفسانیہ ہیں ۔ خاندان ‘ قبیلے ‘ قوم ‘ وطن اور حکومت کی طرفداری (شہادت کے وقت) دشمن سے نفرت اگرچہ دین کے دشمن ہوں ۔ غرض خواہشات کی بیشمار قسمیں اور رنگ ہیں ۔ ان تمام خواہشات سے اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے متاثر ہونے کو پسند نہیں کرتے ۔ اور اس تاثر کے تحت انصاف اور شہادت حق سے باز رہنے سے منع کرتے ہیں ۔ سب سے آخر میں اس بات پر متنبہ کیا جاتا ہے کہ شہادت کے اندر تحریف ہر گز نہ کرو اور شہادت سے منہ بھی نہ پھیرو۔
(آیت) ” وان تلوا اوتعرضوا فان اللہ کان بما تعملون خبیرا “۔ (4 : 135) (اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے ۔ )
اس معاملے میں صرف یہ یاد دہائی کرائی جاتی ہے کہ تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے تاکہ اہل ایمان کے اندر یہ تاثر پختہ ہوجائے کہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو اس کا انجام بہت ہی برا ہوگا تاکہ ان کا دل کانپ اٹھے اس لئے کہ قرآن کریم کی ان آیات کے مخاطب اہل ایمان ہی تو ہے ۔
روایات میں آتا ہے کہ جب عبداللہ ابن رواحہ ؓ کو حضور ﷺ نے خیبر کی محصولات کی وصولی کے لئے بھیجا (یاد رہے کہ ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے نصف محصولات پر فیصلہ کیا تھا) اور وہ فتح خیبر کے بعد وہاں گئے تو یہودیوں نے انکو اس امر کے لئے رشوت دینا چاہی کہ وہ ان کے ساتھ نرمی کریں تو انہوں نے یہودیوں سے کہا : ” خدا کی قسم میں تو ایک ایسے شخص کا نمائدہ ہوں جو اس پوری دنیا سے مجھے زیادہ محبوب ہے ۔ خدا کی قسم تم کو میں بندروں اور خنزیروں سے بھی زیادہ براسمجھتا ہوں لیکن حضور ﷺ کی محبت اور تمہاری نفرت مجھے اس بات پر آمادہ نہیں کرسکتی کہ میں تمہارے درمیان عدل کے سوا کچھ اور کروں “۔ اس پر یہودیوں نے کہا کہ ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے زمین و آسمان کا نظام قائم ہے ۔
عبداللہ ابن رواحہ ؓ مدرسہ رسول اللہ ﷺ کے تعلیم یافتہ تھے ‘ اور ان کی تعلیم وتربیت ربانی منہاج پر ہوئی تھی ۔ وہ انسان تھے اور پورے انسانی جذبات کے ساتھ کسی عدالت کی کرسی پر بیٹھے اور کامیاب رہے ۔ اور ان کے سوا دوسرے بھی کچھ کم نہ تھے جنھوں نے اسلامی نظام کے زیر سایہ معجزہ دنیا کو کر کے دکھایا ۔
سالوں پر سال گزرتے رہے ۔ صدیاں بیت گئیں اور یہ دور بہت دور چلا گیا ہے اور لائبریریاں فقہ اور قانون کی کتابوں سے بھر گئی ہیں ۔ قانونی ضابطوں اور انصاف کے رولز ریگولیش کی بہتات ہوگئی اور قانون اور انصاف کے محکمے اور وزارتیں تشکیل دے دی گئیں ۔ اور دماغ عدل و انصاف کا نام سن سن کر پھرگئے ۔ دنیا میں عدل کرنے کے بارے میں طویل ترین تقاریر اور مقالات پڑھے جانے لگے ۔ عدل و انصاف کے سلسلے میں کئی نظریات پیدا ہوئے اور کئی تنظیمیں وجود میں آئیں اور کانفرنسیں ہوئیں لیکن وہ حقیقی عدل کہاں ہے ؟ اس کا ذائقہ کسی نے نہیں چکھا ۔ یہ عدل لوگوں کے ضمیروں اور ان کی زندگی میں عنقاہی رہا ۔ اور یہ عدل ان انتظامات کے باوجود اس اعلی میعار تک نہ پہنچ سکا جو خیر القرون کا طرہ امتیاز تھا ۔ اس کا حقیقی وجود اگر کہیں تھا تو صرف اسلامی نظام کے دور میں تھا ۔ اس مختصر دور میں عدل کا گراف اس قدر بلندی تک پہنچا اور نبوت اور خلافت راشدہ کے بعد اگر وہ کہیں ملا تو صرف اسلامی معاشرے کے اندر ملا اور صرف ان دلوں میں ملا جن میں اسلام جاگزین تھا اور ان افراد اور ان سوسائٹیوں میں ملا جن کی تربیت اسلامی نظام کے زیر سایہ ہوچکی تھی ۔ جو یقینا ایک واحد اور مثالی عادلانہ نظام ہے ۔
وہ لوگ جو آج کل جدید سے جدید عدالتی نظام تشکیل دیتے ہیں ‘ عدل و انصاف کے لئے جدید سے جدید ذرائع استعمال کرتین ہیں اور عدلیہ کے لئے نہایت ہی پیچیدہ طریقہ کار طے کرتے ہیں ‘ ان لوگوں کو چاہئے کہ وہ ان امور کو بھی مدنظر رکھیں جو ہم نے اوپر دئیے ہیں ۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ طریقہ کار پیچیدہ ہے اور یہ نہایت ہی منظم عدالتی ڈھانچے اس سادہ اور نہایت ہی ابتدائی انتظامات سے زیادہ مفید ہوں گے جو اسلامی دور میں اختیار کئے گئے تھے ۔ یہ جدید لوگ جن کے ہاتھوں میں عدلیہ کا اہتمام ہے ‘ وہ سمجھتے ہوں گے کہ وہ بہت ہی کامیاب ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے ۔
یہ ایک وہم ہے اور یہ وہم اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ لوگ ظاہری حجم کو دیکھ کر حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ اشیاء کی حقیقت ان کے ظاہری حجم سے معلوم نہیں ہوتی ۔ یہ اسلامی نظام ہی ہے جو ان سادہ حالات کے اندر اس قدر بلند معیار تک پہنچا اور آج بھی اسلام ہی ہے جو اس سطح تک عدل کے معیار کو پہنچا سکتا ہے ‘ بشرطیکہ اسے اختیار کیا جائے ۔
لیکن اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ہم جدید ترقی یافتہ دور میں نظام عدالت کے جدید انتطامات اور ضابطہ ہائے دیوانی اور فوجداری سے فائدہ نہ اٹھائیں یا محکمہ انصاف کی جدید تنظیم اور ترقی یافتہ اشکال کو ختم کرکے ان کی جگہ خلافت راشہ کی سادہ شکل جاری کردیں ۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ اصل مقصد شکل اور تنظیم نہیں ہے بلکہ اصل مطلوب وہ روح ہے جو ظاہری شکل کے اندر کار فرما ہوتی ہے چاہے اس کی ظاہری شکل اور جسامت جو بھی ہو اور وہ نظام کیسے ہی خیالات اور کیسے ہی زمان ومکان میں ہو۔
Ayah 4:136(آیت) ” نمبر 136۔
یہ ایک دوسری پکار ہے ‘ جو صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لا چکے ہیں اور یہاں اس صفت اور لقب کے ساتھ ان کو آواز دی گئی ہے جو ان کو ان کے اردگرد پھیلی ہوئی جاہلیت سے ممتاز کرتی ہے ۔ یہ صفت ان کے واجبات وفرائض کا تعین کرتی ہے اور ان کو اس منبع اور ذریعے سے مربوط کرتی ہے جو ان کی قوت اور برتری کا اصل ماخذ (Source) ہے جس ماخذ سے وہ تمام قوتیں اور ہمتیں حاصل کرتے ہیں ۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا امنوا باللہ ورسولہ والکتب الذی نزل علی رسولہ والکتب الذی انزل من قبل (4 : 136) (اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور اس کتاب پر جو اس سے پہلے وہ نازل کرچکا ہے ۔ )
یہاں ایمان کے عناصر ترکیبی کو بیان کیا گیا ہے ۔ یہ وہ امور ہیں جن کا ہر شخص کے ایمان اور عقیدے میں موجود ہونا ضروری ہے ۔ گویا یہ وہ اساس ہے جس پر ایمان کے اعتقادی تصورات قائم ہوتے ہیں ۔ اللہ پر ایمان اور رسولوں پر ایمان انسان کو اس ذات سے مربوط کردیتا ہے جس نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اللہ نے پھر رسول کو بھیجا ہے تاکہ وہ انسان کو ہدایت دے ایمان بالرسالت میں یہ امر شامل ہے کہ رسول اللہ نے اللہ کی جانب سے جو پیغام دیا ہے وہ صحیح دیا ہے ۔
ایمان باللہ اور ایمان بالرسالت کا لازمی نتیجہ صدق ایمانی ہے ۔ اللہ نے جو کتاب رسول کے ذریعہ ارسال کی ہے وہ بالکل سچی ہے ۔ اس کتاب کے اندر اللہ نے انسانوں کو زندگی بسر کرنے کے تمام طریقے بتائے ہیں اور یہ کتاب تمام اہل ایمان کے درمیان ایک مشترکہ رابطہ ہے اور انسانوں کے اس پوری کتاب کو بطور ہدایت لینا ہے ۔ یہ جائز نہیں کہ اس میں سے بعض امور کو لے لیا جائے اور نافذ کیا جائے اور اس کے بعض حصوں کو چھوڑ دیا جائے ۔
ایمان کے اساسی عناصر میں تمام کتب سابقہ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے ۔ اس لئے کہ سابقہ انبیاء بھی اللہ کے رسول تھے اور وہ کتب بھی اللہ کی کتابیں تھیں اور ان سب میں جو نظام زندگی تجویز ہوا تھا وہ اسلام ہی تھا ۔ سب کی تعلیم یہ تھی کہ اللہ ہی الہ ہے الوہیت کے تمام خصائص کے اندر اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں ہے اور سب کی تعلیم یہ تھی کہ اس نظام زندگی کی اطاعت اور نفاذ واجب ہے اور اللہ کی وحدانیت کے عقیدے کا یہ تقاضا بھی ہے کہ یہ کتب اپنی تحریف سے قبل سب کی سب اللہ کی طرف سے تھیں ۔ ان میں ایک ہی نظام درج تھا اور بشر کے بارے میں سب کے اندر اللہ ہی کا ارادہ درج تھا ۔ ایک ہی راستہ تھا جو صراط مستقیم تھا اور باقی تمام راستے اس کے اردگرد ناقص اور ٹیڑھے تھے ۔
تمام کتابوں پر ایمان لانے کا مقصد یہ ہے کہ دراصل تمام کتب ایک ہی کتاب ہے جو الکتاب ہے ۔ اور یہ وحدت فکر صرف امت مسلمہ کی خصوصیت ہے ۔ اس کا تصور یہ ہے کہ تمام کتب سماوی ایک کتاب ہے ‘ تمام ادیان سماوی ایک دین ہے ان کے اندر بیان کردہ بابطہ ایک نظام ہے اور طریق کار بھی ایک ہے ۔ یہی تصور حقیقت الوہیت کے ساتھ حقیقی لگا کھاتا ہے اور یہی بشریت کے لئے بھی درست ہے ۔ یہ تصورثابت کرتا ہے کہ سچائی ایک ہوتی ہے اور سچائی میں تعدد ممکن نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ گمراہی ہے ۔ (آیت) ” (فما ذا بعدالحق الا الضلال) ایمان لانے کا حکم دینے کے بعد ایک سخت تنبیہ آتی ہے یہ کہ ان عناصر ایمان میں سے کسی کا انکار ہر گز قابل برداشت نہیں ہے اور منفی بیان کے اندر بھی عناصر ایمان کی پوری تفصیل دے دی گئی ۔
(آیت) ” ومن یکفر باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الاخر فقد ضل ضلا بعیدا (4 : 136) (جس نے اللہ اور اس کے ملائکہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور روز آخرت سے کفر کیا اور گمراہی میں بھٹک کر بہت دور نکل گیا) پہلی آیت میں ایمان باللہ اور ایمان بالکتب اور ایمان بالرسل کا ذکر کیا گیا اور ملائکہ کا ذکر نہ تھا ۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی کتابوں میں ملائکہ اور ذکر آخت دونوں آجاتے ہیں ۔ اور کتابوں پر ایمان لانے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ فرشتوں اور یوم آخرت پر ایمان لایا جائے لیکن اس دوسری آیت میں ان کا ذکر کردیا گیا ‘ اس لئے کہ کفر کے بعد تہدید اور وعید آتی ہے اور عذاب سے ڈرایا جاتا ہے ۔ جس کی تصریح اور وضاحت ضروری تھی تاکہ کل یہ کوئی نہ کہے کہ قیامت اور ملائکہ کا ذکر علی التخصیص نہ تھا ۔ اس آیت میں ” ضلال بعید “ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ راہ گمراہی میں یہ لوگ اس قدر دور نکل گئے ہیں کہ اب ان کا راہ ہدایت پر آنا ممکن نہیں ہے اور نہ اس بارے میں ان سے امید کی جاسکتی ہے ۔
سوال یہ ہے کہ جو شخص اللہ کا منکر ہے ‘ حالانکہ ذات باری پر ہر شخص ذاتی اور طبیعی طور پر ایمان لاتا ہے بلکہ ہر شخص کی فطرت اس پر ایمان لاتی ہے انکار خدا کے بعد وہ ملائکہ ‘ کتب ‘ یوم آخرت کا انکار کرتا ہے تو وہ درحقیقت ذات باری کے انکار ہی کو آگے بڑھاتا ہے ۔ ایسے شخص کی اصل فطرت فساد ‘ تعطل اور خرابی کا شکار ہوچکی ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے کفر کے لئے ضلال بعید کا لفظ استعمال کیا گیا ۔
مسلمانوں کو صفت ایمان سے پکار کر دو بار آواز دینے کے بعد اب منافقین پر حملہ شروع ہوجاتا ہے اور یہ حملہ اس وقت ان کے جو حقیقی حالات تھے ان کے ذکر سے شروع ہوتا ہے ان کا یہ موقف ایسا ہے جو آج کل کے منافقین کے ساتھ بالکل ملتا جلتا ہے ۔
Ayah 4:137(آیت) ” نمبر 137۔
وہ کفر جو ایمان سے پہلے ہو ‘ اس کے آثار کو ایمان بالکل مٹا دیتا ہے جس شخص نے کبھی روشنی دیکھی ہی نہ ہو وہ اگر اندھیرے میں رہتا ہے تو وہ معذور ہے ۔ لیکن ایمان کے بعد کفر کا رویہ اختیار کرنا اور بار بار ایسا کرنا کبیرہ گناہ ہے ‘ اس قدر بڑا گناہ کہ اللہ تعالیٰ ہر گز اس کی مغفرت نہ کرے گا اور نہ اس حرکت کا کوئی عذر ہو سکتا ہے ۔ کفر تو ایک حجاب ہے ‘ جب پردہ ہٹ جائے تو فطرت اپنے خالق کے ساتھ مربوط ہوجاتی ہے اور گمراہ شخص پھر سے ساتھ مل جاتا ہے ۔ پودا اپنی نرسری میں آجاتا ہے اور روح ایمان کی مٹھاس کو چکھ لیتی ہے اس لئے جو لوگ ایمان کے بعد بار بار مرتد ہوتے ہیں گویا وہ فطرت سے بھاگتے ہیں ‘ علم سے بھاگتے ہیں اور عمدا جہالت میں گرتے ہیں اور وہ عمدا راہ ضلالت اور گم شدگی پر چل نکلتے ہیں ۔ اور پھر وہ اس راہ پر اس قدر دور نکل جاتے ہیں کہ آگے سے راہ ہی ختم ہوجاتی ہے ۔
یہ وجہ ہے کہ اللہ نے حکم دیا کہ اب وہ انہیں معاف نہ کرے گا اور اب وہ انہیں دوبارہ لوٹا کر راہ ہدایت پر نہ لائے گا اس لئے کہ انہوں نے قصدا راہ حق کو چھوڑا پہلے وہ اس راہ پر چل چکے تھے اور منزل پا چکے تھے ۔ انہوں نے قصدا اندھے پن اور برائی کو اختیار کیا جبکہ پہلے وہ صاحب نظر تھے اور صراط مستقیم کے راہ رو تھے ۔
جب تک نفس انسانی اللہ کے لئے خالص نہ ہوجائے ‘ اس وقت تک وہ اوضاع واقدار اور مصالح اور مفادات کے دباؤ سے آزاد نہیں ہو سکتا ۔ نہ وہ حرص اور لالچ سے پاک ہو سکتا ہے اور نہ وہ مصلحتوں اور امیدوں سے پاک ہو سکتا ہے ۔ اور یہ نفس کبھی بھی عزت نفس ‘ بلندی ‘ ہمت اور آزادی سے سرشار نہیں ہوسکتا جس طرح وہ نفس ہوتا ہے جو محبت الہی سے بھرا ہوا ہو ۔ جب کوئی دل محبت الہی سے بھر جائے تو وہ دنیاوی اقدار ‘ دنیاوی طور طریقوں ‘ دنیا کے واقعات ‘ دنیا کے لوگوں ‘ دنیا میں پائے جانے والی تمام قوتوں ‘ حکومتوں اور ان کے اہالی وموالی کے مقابلے میں برتر ہوتا ہے ۔
یہاں سے پھر نفاق کا پودا پھوٹتا ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ نفاق کی حقیقت کیا ہے ؟ نفاق صرف یہ ہے کہ انسان سچائی پر بظاہر تو ثابت ہوجائے مگر اس کے لئے لڑنے اور باطل کے ساتھ مقابلہ کرنے میں ضعیف ہو ۔ یہ ضعف اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ انسان کے دل میں خوف اور لالچ پیدا ہوجاتا ہے اور یہ خوف اور لالچ دونوں اللہ سے نہیں ہوتے بلکہ غیر اللہ سے ہوتے ہیں ۔ انسان پھر زمین کے حالات اور زمین کی شخصیات کا قیدی بن جاتا ہے اور اسلامی نظام سے دور ہوجاتا ہے ۔
لہذا اس سبق میں ایمان کی بات بھی ہونی ہے ‘ قیام شہادت اور عدل کی بات بھی ہوئی اور نفاق کی بات بھی ہوئی اور تینوں کے درمیان گہرا ربط ہے ۔ عمومی مناسبت تو یہ ہے کہ یہی اس سورة کے اصل موضوعات ہیں یعنی جماعت مسلمہ کی اسلامی نظام حیات میں تربیت اور اس کی اجتماعی زندگی سے جاہلیت کے آثار کو مٹانا ‘ جماعت کے افراد کے نفوس کو بشری فطری کمزوریوں کے مقابلے میں تیار کرنا اور پھر اسے اردگرد پھیلے ہوئے مشرکین اور منافقین کے ساتھ ہونے والے معرکے کے اندر اتارنا ۔ اس پوری سورة کے اندر یہی مرکزی مضمون ہے جس کے اردگرد یہ سورة گھومتی ہے ’ اول سے آخر تک ۔
یہی وجہ ہے کہ اس سبق کے باقی ماندہ حصے میں بات منافقین تک محدود ہے اور اس پر یہ پارہ بھی ختم ہوتا ہے جبکہ اس سے قبل منافقین کی ایک خاص جماعت کا تذکرہ ہوا کہ وہ بار بار اعلان اسلام کرتے ہیں اور پھر کفر کرتے ہیں ۔ چناچہ اب یہاں سے منافقین پر تنقید شروع ہوتی ہے جن کے بارے میں قرآن نے تفصیلات بیان کردی ہیں اور مختلف انداز میں ان کی بیماری کا مطالعہ کیا ہے تاکہ اسلامی نظام کا مزاج اچھی طرح سامنے آجائے فطرت کے مطابق اس پر عمل ہو اور دلوں میں اور عمل میں اسلامی نظام واضح طور پر نظر آئے ۔