4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 4:115–116

وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠ Open ayah 4:115 in the Quran reader

( ” مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روشن پر چلے ‘ درآنحالیکہ اس پر راہ راست واضح ہوچکی ہو تو اس کو ہم اس طرف چلائیں گے جدھر خود وہ پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین جائے قرار ہے

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:116 in the Quran reader

اللہ کے ہاں بس شرک کی بخشش نہیں ہے ۔ اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہو سکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہئے جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا

(آیت) ” 115 تا 116۔ ان آیات کے نزول کے سلسلے میں یہ کہا گیا ہے کہ بشیر ابن ابیرق مرتد ہوگیا اور جاکر مشرکین مکہ کے ساتھ مل گیا حالانکہ اس پر راست واضح ہوچکی تھی ۔ پہلے وہ اسلامی صفوں میں تھا لیکن اس نے اہل ایمان کی راہ کو چھوڑ کر دوسری راہ کو اپنا لیا۔ لیکن یہ آیت مضمون اور اطلاق کے اعتبار سے عام ہے ۔ اس کا اطلاق ہر اس حالت پر ہوگا جس میں رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی جارہی ہو ۔ جس میں آپ کی مخالفت میں کفر ‘ شرک اور ارتداد اختیار کیا گیا ہو اور اس طرح کے قدیم وجدید تمام واقعات پر اس کا اطلاق ہوگا ۔ (المشاقہ) کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص ایک ٹکڑا لے اور دوسرا اس کے مقابلے میں دوسرا ٹکڑا لے لے ۔ اور جو شخص رسول اللہ کے ساتھ شقاق کرتا ہے وہ رسول کے بالمقابل جنبہ بالمقابل صف ‘ اور بالمقابل پارٹی کو اختیار کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے جن بےپارٹی اور محاذ کی مخالفت کرتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نافذ کردہ نظام زندگی کے بالمقابل نظام حیات لے کر آئین تھے جس کے اندر عقیدے اور نظریات بھی شامل تھے ‘ جس کے اندر مراسم عبودیت بھی تھے ۔ جس کے اندر نظام قانون اور نظام حکومت بھی تھا اور یہ نظام زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی تھا۔ اور یہ تمام امور اسلامی نظام کے مجموعی جسم کے اعضاء تھے ۔ اور اصول یہ ہے کہ اگر ان اعضاء کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے تو نظام قائم نہیں رہ سکتا ۔ اس کی روح نکل جائے گی ۔ جو شخص رسول کے ساتھ شقاق کرتا ہے یہ وہی شخص ہے جو یا تو اسلامی نظام حیات کو مکمل طور پر رد کرتا ہے اور یا بعض حصوں کو مانتا ہے اور بعض کا انکار کرتا ہے ۔ یعنی ایک حصہ لیتا ہے اور دوسرا چھوڑتا ہے ۔ اللہ کی رحمت کا تقاضا یہ ہوا کہ کہیں ان پر حجت تمام نہ ہوجائے اور وہ برے ٹھکانے جہنم کے مستحق نہ ہوجائیں اس لئے اللہ نے انکی جانب رسول بھیجے ۔ رسولوں نے لوگوں کے سامنے سچائی بیان کی انہوں نے لوگوں پر راہ ہدایت کو بالکل واضح کردیا ۔ پھر اگر وہ انکار کریں گے تو گمراہی کو اختیار کریں گے ۔ یہ اللہ کی وسیع رحمت تھی کہ اللہ نے اس ضعیف مخلوق کے لئے صراط مستقیم پرچلنے کا یہ اہتمام کیا۔ پھر جب کسی پہ راہ حق واضح ہوجائے اور رسول موجود ہو اور پھر بھی وہ رسول کی راہ کے مقابلے میں دوسری راہ اختیار کرے اور آپ پر ایمان نہ لائے اور آپ کی اطاعت نہ کرے اور اسلامی نظام اور نظام مصطفیٰ ﷺ پر راضی نہ ہو ‘ تو اب حجت تمام ہوتی ہے اور اللہ ان کے حق میں گمراہی لکھ دیتے ہیں اور پھر اسی طرف اسے موڑ دیتے ہیں جس طرف وہ مڑ جاتا ہے ۔ پھر اسے اللہ کفار کے حوالے کردیتا ہے۔ وہ مشرکین کا ساتھی ہوجاتا ہے اور اب اس پر وہ عذاب حق بن جاتا ہے جس کا اللہ نے اعلان کیا ۔ (آیت) ”۔ ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جھنم وسآءت مصیرا (4 : 115) ترجمہ :” مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روشن پر چلے ‘ درآنحالیکہ اس پر راہ راست واضح ہوچکی ہو تو اس کو ہم اس طرف چلائیں گے جدھر خود وہ پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔ اس برے انجام کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اللہ کی مغفرت ہر گناہ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے مگر شرک ایسا گناہ ہے جس کے لئے ہر گز معافی نہیں ہے ۔ (آیت) ”۔ ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلا بعیدا “ (4 : 116) ” اللہ کے ہاں بس شرک کی بخشش نہیں ہے ۔ اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہو سکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہئے جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا ۔ “ جیسا کہ ہم اس سے قبل اسی مضمون کی آیت کی تفسیر میں کہہ آئے ہیں کہ شرک کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے ساتھ دوسرے الہوں کو شریک کیا جائے جس عرب دور جاہلیت میں کیا کرتے تھے اور جس طرح عربوں کے علاوہ دوسری قدیم جاہلیتیں کرتی تھیں ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے خصائص الوہیت خصوصا صفت حاکمیت میں بھی کسی اور کو شریک کرنے کے سے شرک کا ارتکاب ہوتا ہے ۔ مثلا کسی انسان کو حکم سمجھا جائے ۔ جس طرح یہود ونصاری کے شرک کے بارے میں قرآن کریم نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے احبار اور رہبان کو اللہ کے سوا الہ بنا رکھا ہے ۔ یہ لوگ احبارو رہبان کی عبادت اس طرح نہ کرتے تھے جس طرح وہ اللہ کی عبادت کرتے تھے بلکہ وہ ان احبار اور رہبان کو حق قانون سازی دیتے تھے ۔ یہ لوگ ان کے لئے حلال و حرام کے حدود بھی متعین کرتے تھے اور یہود ونصاری اس کام میں ان کی اطاعت کرتے تھے ۔ اس طرح وہ ان لوگوں کو خصائص الوہیت میں سے ایک حصہ عطا کردیتے تھے اس لئے وہ مشرک قرار پائے ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے توحید کے سلسلے میں اللہ کی ہدایات کی خلاف ورزی کر ڈالی تھی ‘ حالانکہ اللہ کی طرف سے انہیں حکم صرف یہ تھا کہ وہ صرف الہی واحد کی بندگی کریں ‘ صرف اللہ وحدہ کے مراسم عبودیت ادا کریں اور اوامر ونواہی کے ساتھ ساتھ قانون کا ماخذ حکم الہی کو قرار دیں ۔ اللہ کے صریح احکام واعلانات کے مطاق گناہ شرک کے لئے کوئی معافی نہیں ہے بشرطیکہ کوئی حالت شرک میں مر جائے شرک کے سوا تمام گناہوں کے معافی ہو سکتی ہے اگر اللہ راضی ہوجائے ۔ سوال یہ ہے کہ شرک کو اس قدر عظیم جرم کیوں قرار دیا گیا ہے کہ وہ ناقابل معافی ہے ؟ اصل حقیقت یہ ہے کہ جو شخص شرک کا ارتکاب کرتا ہے وہ خیر اور بھلائی کے دائرے ہی سے خارج ہوجاتا ہے ۔ اور اس کی فطرت ہی بگڑ جاتی ہے اور اس کی اصلاح کی کوئی امید نہیں رہتی ۔ (آیت) ” ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلا بعیدا (4 : 116) (جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا وہ گمراہی میں بہت دور نکل گیا) ۔۔۔۔۔ اگر ایسے شخص کی فطرت کے تار وپود میں سے کوئی ایک دھا کہ بھی باقی ہوتا تو وہ اسے اللہ کے نظریہ وحدانت کے ساتھ جوڑے رکھت الیکن اس نے تمام رشتے توڑ دیئے ۔ اگر شرک سین کوئی تائب ہوجائے اور موت سے چند منٹ پہلے تائب ہوجائے تو بھی نجات پالے گا ہاں اگر حالت نزع طاری ہو اور وہ مشرک ہو تو اب اس کا انجام یہ ہوگا کہ (آیت) ” ونصلہ جھنم وسآءت مصیرا “ (4 : 115) (ہم اسے واصل جہنم کریں گے اور یہ بہت ہی برا انجام ہے) ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ جاہلیت کے بعض ادہام و خرافات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ عربی جاہلیت کے اندر جو شرکیہ خرافات جاری تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ وہ ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے ۔ یہ لوگ شیطان کی بھی پوجا کرتے تھے ‘ جس طرح انہوں نے ملائکہ کے بت بنا رکھے تھے ‘ پھر ان کے اندر ایسی رسوم بھی تھیں کہ جو جانور وہ نذر کرتے تھے ان کے کان کاٹ دیتے تھے یا پھاڑ دیتے تھے ۔ یہ ان کے الہوں کی نذر ہوتے تھے اور اس طرح وہ اللہ کی پیدائش اور تخلیق کو متغیر کرتے تھے ۔ اور اس طرح شرک کرتے تھے حالانکہ شرک کرنے کا معنی یہ ہے کہ جس طرح انسان فطرت کو بگاڑ دے ۔
Ayahs 4:117–120

اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا١ۚ وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًاۙ Open ayah 4:117 in the Quran reader

(وہ اللہ کو چھوڑ کر دیویوں کو معبود بناتے ہیں ۔ وہ اس باغی شیطان کو معبود بناتے ہیں جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے ۔

لَّعَنَهُ اللّٰهُ١ۘ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاۙ Open ayah 4:118 in the Quran reader

وہ اس شیطان کی اطاعت کر رہے ہیں) جس نے اللہ سے کہا تھا کہ ” میں تیرے بندوں سے ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا ۔

وَّ لَاُضِلَّنَّهُمْ وَ لَاُمَنِّیَنَّهُمْ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 4:119 in the Quran reader

میں انہیں بہکاؤں گا ‘ میں انہیں آرزوؤں میں الجھاؤں گا ‘ میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں ردوبدل کریں گے ۔ اس شیطان کو جس نے اللہ کے بجائے اپنا ولی و سرپرست بنا لیا وہ صریح نقصان میں پڑ گیا

یَعِدُهُمْ وَ یُمَنِّیْهِمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 4:120 in the Quran reader

وہ ان لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے ‘ مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں

(آیت) ” نمبر 117 تا 120 ، دور جاہلیت میں عرب یہ سمجھتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ پھر وہ ان فرشتوں کی مورتیاں بنانے اور ان کے نام عورتوں کے ناموں سے رکھتے ۔ لات ‘ عزی اور منات وغیرہ ۔ پھر وہ ان بتوں کو پوجتے تھے اور پوجتے اس لئے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیوں کے بت ہیں ۔ یوں وہ بارگاہ الہی میں ان کو تقرب کا ذریعہ بناتے تھے ۔ ابتداء میں اس طرح انہوں نے شرک کا آغاز کیا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے اس کہانی کیا اصلیت کو بھلا دیا اور ان بتوں کی پوجا بذاتہ کرنے لگے ۔ اس کے بعد جب مزید آگے بڑھے تو مطلق پتھروں کی پوجا شروع کردی۔ پارہ چہارم میں ہم نے اس کی کچھ تفصیلات دی ہیں۔ ان میں سے بعض بذات خود شیطان کے بھی پجاری تھے ۔ یہ آیت اس بارے میں نص ہے ۔ کلبی کہتے ہیں کہ خزاعہ کی شاخ بنو ملیح جنوں کی پوجا کرتے تھے ۔ لیکن اس آیت کا مفہوم بڑا وسیع ہے ‘ اس طرح کہ وہ اپنے شرک میں شیطان کو پکارتے تھے اور اس سے امداد طلب کرتے تھے اور شیطان کا قصہ ان کے دادا آدم کے ساتھ مشہور تھا جسے اللہ نے ملعون قرار دیا تھا ۔ اس لئے کہ اس نے انسان کے ساتھ اپنی دشمنی کا اعلان کردیا تھا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسے راندہ درگاہ کیا تو اسے انسان پر بہت غصہ آگیا اور وہ اس کا سخت دشمن بن گیا اس نے اللہ سے مہلت مانگی کہ وہ اسے موقعہ دے کہ جو اللہ کے محفوظ قلعے میں پناہ نہیں لیتا وہ اسے گمراہ کرسکے ۔ (آیت) ” ان یدعون من دونہ الا انثا وان یدعون الا شیطان مریدا۔ (117) لعنہ اللہ وقال لاتخذن من عبادک نصیبا مفروضا (118) ولاضلنھم ولا منینھم ولامرنھم فلیبتکن اذان الانعام ولامرنھم بلیغیرن خلق اللہ “۔ (119) (4 : 117 تا 119) (وہ اللہ کو چھوڑ کر دیویوں کو معبود بناتے ہیں ۔ وہ اس باغی شیطان کو معبود بناتے ہیں جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے ۔ (وہ اس شیطان کی اطاعت کر رہے ہیں) جس نے اللہ سے کہا تھا کہ ” میں تیرے بندوں سے ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا ۔ میں انہیں بہکاؤں گا ‘ میں انہیں آرزوؤں میں الجھاؤں گا ‘ میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں ردوبدل کریں گے ۔ یہ لوگ شیطان کو پکارتے ہیں جو ان کا قدیمی دشمن ہے ۔ وہ ہدایات لیتے ہیں اور اس گمراہی میں اس سے امداد لیتے ہیں ‘ حالانکہ یہ شیطان وہ ذات ہے جس پر اللہ نے لعنت بھیجی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تصریح کردی ہے کہ اس کا ارادہ یہ ہے کہ وہ بنی آدم کے ایک بڑے حصے کو گمراہ کر کے رہے گا ۔ انہیں جھوٹی تمناؤں اور جھوٹی خواہشات کا گرویدہ بنا دے گا ۔ وہ جھوٹی لذتوں ‘ موہوم کامیابیوں اور آخرت کی خوش آئندہ امیدوں میں گم رہیں گے ۔ نیز وہ شیطان جس نے اعلانیہ اپنے اس ارادے کا اظہار کیا تھا کہ وہ ان انسانوں سے نہایت ہی قبیح اور احمقانہ حرکات کا صدور کرائے گا ۔ وہ نہایت ہی بودے تصورات کے قائل ہوں گے اور محض قصے کہانیوں پر دین کا فیصلہ کریں گے ۔ مثلا یہ کہ وہ بعض جانوروں کے کان پھاڑ کر کہیں گے کہ اب اس پر سواری حرام ہے یا ان کا گوشت کھانا حرام ہے حالانکہ اللہ نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا نیز وہ فطرت انسانی اور خلق الہی میں بےجا تغیرات کریں گے مثلا جسم کے بعض اجزاء کاٹیں گے ۔ انسانوں اور حیوانوں کی شکلیں بدلیں گے مثلا غلاموں کو خصی کریں گے اور ان کے چمڑے پر نشانات بنائیں گے ۔ غرض یہ اور تمام دوسرے غیر فطری افعال وحرکات جس کی اجازت فطرت سلیمہ اور اسلام دونوں نہیں دیتے ۔ انسان کا یہ شعور کہ اس کا قدیم دشمن شیطان ہی شرک اور شرکیہ نظریات کا داعی ہے اور ہی ہے جو بت پرستی کی طرف لوگوں کو آمادہ کرتا ہے ‘ انسان کو کم ازکم ان کی کانا پھوسی سے محتاج کردیتا ہے جو دشمن کی طرف سے ہوتی ہے ۔ اسلام نے زندگی کی اس جنگ کو انسان اور شیطان کے درمیان ایک معرکہ قرار دیا ہے ۔ اور انسان کی پوری قوتوں کو اس طرف متوجہ کیا کہ وہ اس جنگاہ میں شیطان اور اس کرہ ارض پر اس کی پیدا کردہ تمام شرارتوں کے خلاف جدوجہد کریں ۔ وہ اللہ اور حزب اللہ کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوں کیونکہ انسان اور شیطان کے درمیان برپا یہ معرکہ ایک دائمی جنگ کا اعلان کیا تو وہ اس جنگ میں تھکتا ہی نہیں ہے ۔ مومن بھی اس سے غافل نہیں ہوتا ‘ نہ مومن اس جنگ سے باہر آسکتا ہے ‘ اس لئے کہ اسے معلوم ہے کہ اس جنگ میں یا تو وہ اللہ کا وہی ہوگا یا وہ شیطان کا دوست ہوگا ۔ اس کے درمیان کوئی تیسرا موقف سرے سے ہے ہی نہیں ۔ شیطان کی ٹیکنیک یہ ہے کہ وہ انسان کے دلوں میں شہوت اور لذت اور عیش وطرب پیدا کرتا ہے ۔ پھر یہ اپنا کام مشرکین اور شرپسندوں اور عیاشوں کے روپ میں کرتا ہے ۔ ایک مسلمان اپنی ذات اور اپنے ہمراہیوں کے ساتھ اس کے مقابلے میں آتا ہے اور پوری زندگی کے اندر یہ طویل اور نہ ختم ہونے والی جنگ جاری رہتی ہے ۔ جو شخص اپنا مددگار اللہ کو بنا لے وہ کامیاب ہوجاتا ہے اور جو شخص شیطان کا ساتھی اور مددگار بن جاتا ہے اور شیطان اس کی امداد کرتا ہے تو وہ ہلاک ہوجاتا ہے ۔ (آیت) ” ومن یتخذ الشیطن ولیا من دون اللہ فقد خسر خسرانا مبینا “۔ (4 : 119) (شیطان کو جس نے اللہ کے بجائے اپنا ولی و سرپرست بنا لیا وہ صریح نقصان میں پڑگیا) قرآن کریم شیطان کے اس کردار کی بھی تصویر کشی کرتا ہے جو وہ اپنے ساتھیوں کے حوالے سے ادا کرتا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے کہ گمراہ کرنے میں اس کا طریقہ واردات کیا ہے ؟ (آیت) ” یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطن الا غرورا (4 : 120) (وہ ان لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے ‘ مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں ۔ ) شیطان کا طریقہ گمراہی یہ ہے کہ وہ انسان کے برے اعمال کو اس کی نظروں میں بہت ہی خوشنما بنا دیتا ہے ۔ یہ کام وہ نہایت ہی فریب کاری سے کرتا ہے ۔ وہ یہ باور کراتا ہے کہ طریق معصیت میں ہی اس کا فائدہ اور دنیوی اور اخروی کامیابی ہے اس طرح انسان شیطان کے ساتھ رفاقت اختیار کرلیتا ہے ۔ وہ اسے باور کراتا ہے کہ ان اعمال کے نتیجے میں اس کو نجات حاصل ہوگی اور یوں انسان خوشی خوشی ہلاکت کی طرف بڑھتا ہے ۔ حالانکہ (آیت) ” ( وما یعدھم الشیطن الا غرورا (4 : 120) (شیطان کا وعدہ محض فریب ہوتا ہے ۔ جب شیطان کا طریقہ واردات کی اس قدر واضح انداز میں تصویر کشی کے باوجود یہ ازلی دشمن اپنے پھندے پھیلاتا ہے اور جال بچھاتا ہے اور شکار کو آہستہ آہستہ اس کی طرف ہانکتا ہے ‘ تو اس کے جال اور پھندے میں وہی لوگ پھنستے ہیں جن کی فطرت بدل چکی ہو اور ان کے نفس سے صلاح کے تمام آثار مٹائے جاچکے ہوں ۔ ایسے ہی لوگ مدہوش اور خفتہ ہوتے ہیں اور یہ بات نہیں سوچتے کہ انہیں کس راہ پر چلایا جارہا ہے اور کس فریب میں ان کو پھنسایا جارہا ہے ۔ اہل ہدایت کو بیدار کرنے کے لئے جو ٹچ دیا جا رہا تھا ‘ وہ کام ہی کر رہا تھا اور را ہوار خیال اس معرکے کی نوعیت کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ہی ان لوگوں کا انجام سامنے آجاتا ہے جن کو شیطان نے اپنے پھندے میں پھنسا لیا ہوتا ہے اور جن کو اس نے اپنے منصوبے کے بارے میں پختہ یقین دہانی کرائی ہوتی ہے اور جن پر اس کا اعلان کردہ جادو چل چکا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا انجام بھی اسکرین پر آتا ہے جو شیطان کے پھندے سے نکل گئے ‘ اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر صحیح طرح ایمان لا چکے تھے ۔ اور جن لوگوں کا ایمان پختہ ہوتا ہے وہ شیطان کے پھندے سے محفوظ ہوتے ہیں ‘ اس لئے کہ شیطان کو اللہ نے ملعون قرار دیا ہے اور اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اسے لوگوں کے اغوا کرنے اور گمراہ کرنے کا موقعہ دیا تھا تو اس وقت ہی اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ دیا تھا کہ میرے مخلص بندوں کا تم کچھ نہ بگاڑ سکو گے ۔ چناچہ وہ ہمیشہ اللہ کے مخلص بندوں کے معاملے میں کمزور رہا ۔ جب تک انہوں نے اللہ کی راسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھا ۔ ذرا غور فرمائیے ! (آیت) ” ومن یتخذ الشیطن ولیا من دون اللہ فقد خسر خسرانا مبینا “۔ (119) یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطن الا غرورا (4 : 119۔ 120) ( ” جس نے شیطان کو جس نے اللہ کے سوا الہ بنا لیا وہ صریح گھاٹے میں رہا ، وہ ان لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے ‘ مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں ۔ )
Ayahs 4:121–122

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١٘ وَ لَا یَجِدُوْنَ عَنْهَا مَحِیْصًا Open ayah 4:121 in the Quran reader

(ان لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے جس سے خلاصی کی کوئی صورت یہ نہ پائیں گے ۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِیْلًا Open ayah 4:122 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جو ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں ‘ تو انہیں ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنی بات میں سچا ہوگا

(آیت) ” نمبر 121 تا 122۔ اور وہ جہنم جس سے اولیاء الشیطان کو بھی چھٹکارا نہ ہوگا ۔ دوسری جانب جنت ہے جس میں خدا دوست ہمیشہ رہیں گے (۔۔۔۔ ومن اصدق من اللہ قیلا (4 : 122) (اور اللہ سے بڑھ کر سچی بات کس کی ہوگی) اللہ کی بات مطلقا سچی ہوتی ہے جس کے مقابلے میں شیطان کی بات فریب اور جھوٹ ہوتی ہے اور جو لوگ شیطان کے جھوٹے وعدوں میں آجاتے ہیں اور جو لوگ اللہ کے سچے وعدے پر یقین کرتے ہیں ان دونوں کے موقف میں بہت ہی بڑا فرق ہے ۔ اس کے بعد قرآن کریم عمل اور جزائے عمل کے بارے میں اللہ کے عظیم اور ناقابل تغیر اصول کو بیان کرتا ہے کہ ثواب و عقاب کا دارومدار محض خواہشات نفس اور تمناؤں پر نہیں ہوتا ۔ ثواب و عقاب ایک مستقل سنت اور دائمی اصول پر مبنی ہوتا ہے اور وہ ایک نہایت ہی مثبت قانون ہے ۔ اس قانون کا اطلاق تمام امتوں میں رہا ہے ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کا نہ نسب ملتا ہے اور نہ ہی کسی کے ساتھ اللہ کی رشتہ داری ہے اور دنیا میں کوئی نہیں ہے کہ اس کے لئے اس اصول میں کوئی نرمی کی جائے یا اس کیوجہ سے سنت الہیہ میں کوئی تبدیلی یا تخلف ہوگا ۔ یا اس کے مفاد میں قانون بدل جائے گا ۔ جو برا کرے گا وہ جزائے بد سے دو چار ہوگا اور جو اچھائی کرے گا وہ جزائے خیر پائے گا ‘ غرض جیسا کرو گے ویسا بھرو گے اس میں نہ دوستی ہے اور نہ لحاظ ۔
Ayahs 4:123–125

لَیْسَ بِاَمَانِیِّكُمْ وَ لَاۤ اَمَانِیِّ اَهْلِ الْكِتٰبِ١ؕ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖ١ۙ وَ لَا یَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:123 in the Quran reader

(انجام کار نہ تمہاری آرزوؤں پر موقوف ہے نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر ‘ جو بھی برائی کرے گا اس کا پھل پائے گا اور اس کے میں اپنے لئے کوئی حامی و مددگار نہ پاسکے گا

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا Open ayah 4:124 in the Quran reader

اور جو نیک عمل کرے گا ‘ خواہ مرد ہو یا عورت ‘ بشرطیکہ ہو وہ مومن ‘ تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی

وَ مَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ وَّ اتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ اتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِیْمَ خَلِیْلًا Open ayah 4:125 in the Quran reader

اس شخص سے بہتر اور کس کا طریق زندگی ہو سکتا ہے جس نے اللہ کے آگے سرتسلیم خم کردیا اور اپنا رویہ نیک رکھا اور یکسو ہوکر ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے کی پیروی کی)

(آیت) ” 123 تا 125۔ یہود اور نصاری کہتے تھے ۔ (آیت) ” (نحن ابناء اللہ واحباؤہ) ہم اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں ۔ اور یہ بھی کہتے تھے ۔ (آیت) ” لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ ) “ ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر چند دنوں کے لئے ۔۔۔۔۔۔ اور یہودی تو آج تک اپنے آپ کو اللہ کی مختار قوم کہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ بعض مسلمانوں کے دل میں بھی یہ بات آتی ہو کہ وہ ایک ایسی امت ہیں جسے تمام لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے اور اللہ ان کی تمام غلطیوں کو معاف کر دے گا ‘ اس لئے کہ وہ مسلمان ہیں۔ چناچہ یہ آیت ایسے ہی حالات کی تردید کے لئے اتری کہ دونوں فریقوں کے یہ خیالات درست نہیں ہیں ۔ عملوں پر سب کا بیڑا پار ہوگا۔ تمام لوگوں کے لئے ایک ہی معیار ہے ۔ وہ یہ کہ لوگ سب کے سب اللہ کی طرف متوجہ ہو کر سر تسلیم خم کریں ‘ نہایت ہی عاجزی کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں اور ملت ابراہیمی کے اصولوں کا اتباع کریں جو عین اسلام ہے ۔ اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا دوست بنایا تھا ۔ بہترین دین ‘ دین ملت ابراہیمی ہے اور بہترین عمل ‘ عمل احسان ہے ۔ اور احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے ۔ اسلام نے ہر معاملے میں احسان کو مد نظر رکھا ہے ۔ یہاں تک کہ ذبیحہ کے لئے بھی احسان تجویز کیا ہے کہ آلہ ذبح تیز ہوتا کہ ذبح کے وقت جانور کو تکلیف زیادہ نہ ہو ۔ اس آیت میں انسان کے دو اصناف کے درمیان بھی اعمال اور جزائے اعمال کے بارے میں مکمل مساوات کا اظہار کیا گیا ہے ۔ (آیت) ” ومن یعمل من الصلحت من ذکر او انثی وھو مومن فاولئک یدخلون الجنۃ ولا یظلمون نقیرا (3 : 123) (اور جو نیک عمل کرے گا ‘ خواہ مرد ہو یا عورت ‘ بشرطیکہ ہو وہ مومن ‘ تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی) یہ نص صریح ہے کہ مرد اور عورتوں کے درمیان اعمال اور جزائے اعمال کے اعتبار سے کوئی فرق و امتیاز نہیں ہے ۔ اور یہ نص اس بات میں بھی صریح ہے کہ ایمان کے بغیر کوئی عمل مقبول نہ ہوگا اور یہ کہ اللہ کے نزدیک کسی ایسے عمل کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے جو ایمان پر مبنی نہ ہو یا جس کے ساتھ ایمان نہ ہو اور یہ بات نہایت ہی منطقی اور فطری ہے ۔ اس لئے کہ صرف ایمان ہی سے اس بات کا تعین ہوتا ہے کہ عمل کرنے والا کس نظریے اور کس نیت سے یہ عمل کر رہا ہے اور صرف ایمان ہی کسی عمل کو دائمی اور فطری بنا سکتا ہے ورنہ عمل محض ذاتی اور شخصی جوش ہوگا ۔ یہ صریح الفاظ اس رائے کے بالکل خلاف ہیں جس کا اظہار محترم مفتی محمد عبدہ نے تفسیر پارہ عم میں کیا ہے آیت (من یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ “۔ کے تحت انہوں نے کہا ہے کہ اس آیت میں مسلم اور غیر مسلم سب شامل ہیں ۔ یہ اور تمام دوسری آیات اس کے خلاف ہیں ۔ اس طرح استاد مراغی کی رائے بھی درست نہیں ہے جس پر ہم نے تیسویں پارے میں اظہار خیال کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزرا تھا ۔ (آیت) ’‘’ (من یعمل سوءا یجزبہ ولا یجدلہ من دون اللہ ولیا ولا نصیرا) (4 : 123) وہ انسانی مزاج کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ انسان سے برائیوں کا ارتکاب ہوگا چاہے کوئی کتنا ہی نیک کیوں نہ بن جائے اور ڈھیر سی نیکیاں کیوں نہ کرے ۔ دور اول کے لوگ نفس انسانی سے اچھی طرح واقف تھے ۔ وہ اپنے آپ کو بھی اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ اپنے آپ کو دھوکے میں نہ ڈالتے تھے اور اپنے آپ سے کچھ بھی نہ چھپاتے تھے ۔ وہ اس سے بھی چشم پوشی نہ کرتے تھے کہ بعض اوقات ان سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں اس لئے وہ اپنی کوتاہیوں کا نہ انکار کرتے تھے اور نہ ہی ان کو چھپاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کو سن کر وہ کانپ اٹھے ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ہر برے عمل کی انہیں سزا ملے گی وہ اس طرح کانپ گئے جس گویا وہ میدان حشر میں ہیں ۔ وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے ہیں ۔ یہی صحابہ کرام کی امتیازی خصوصیت تھی کہ وہ آخرت کو اس طرح محسوس کرتے تھے جس طرح ہم عام محسوسات کو کرتے ہیں ۔ وہ تصور آخرت اور فکر آخرت میں اس طرح زندہ رہتے تھے جس طرح ہم اس دنیا میں رہتے ہیں محض اس وجہ سے کہ وہ آنے والی ہے بلکہ اس طرح کہ گویا برپا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس آیت کو سنتے ہی کانپنے لگے تھے ۔ امام احمد فرماتے ہیں : ” حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ اس آیت کے بعد فلاح کس طرح ہوگی ؟ اللہ فرماتے ہیں (آیت) ” لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتب من یعمل سوء یجزبہ “ (4 : 123) (ہم نے جو برائیاں کی ہیں ان پر ہمیں سزا ہوگی) اس پر نبی ﷺ نے فرمایا : ” ابوبکر اللہ تمہیں معاف کر دے کیا تم بیمار نہیں ہوتے ‘ کیا تم تھکتے نہیں ہو ‘ کیا تم پریشان نہیں ہوتے ‘ کیا تم آہیں نہیں بھرتے ہو ؟ “ تو انہوں نے کہا ‘ ہاں ! آپ نے فرمایا تو ان چیزوں پر بھی تمہیں جزا دی جائے گی ۔ (روایت حاکم بواسطہ سفیان ثوری) ابوبکر ابن مردویہ کی روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری تو میں حضور ﷺ کے پاس تھا (آیت) ” (من یعمل سوء ایجزبہ ولا یجدلہ من دون اللہ ولیا ولا نصیرا “۔ (4 : 123) (جو بھی برائی کرے گا اس کا پھل پائے گا اور اللہ کے مقابلے میں اپنے لئے کوئی حامی و مددگار نہ پاسکے گا) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ابوبکر تمہیں بتاؤں کہ ابھی کیا آیت اتری ہے ؟ تو ابوبکر کہتے ہیں کہ میں نے کہا حضور ﷺ بتائیے حضور ﷺ نے مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائی تو معلوم نہیں میں نے اس طرح محسوس کیا کہ میری پیٹھ میں کچھ ٹوٹ گیا اور میں سیدھا ہوگیا۔ اس پر رسول خدا ﷺ نے پوچھا : ” ابوبکر تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ “ میں نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ‘ ہم میں سے کس نے برا کام نہیں کیا ہے اور آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ ہمیں تمام برے کاموں کی سزا دی جائے گی اس پر رسول خدا ﷺ نے فرمایا : ” ابوبکر تم اور اہل ایمان کو اس دنیا میں جزا دی جائے گی یہاں تک کہ تم اللہ کو اس حال میں ملو گے کہ تمہارا ایک گناہ بھی نہ ہوگا ‘ رہے دوسرے لوگ تو ان کی سیاہ کاریاں جمع ہوگی اور قیامت کے دن انہیں اس کی جزا دی جائے گی ۔ “ (روایت ترمذی) حضرت عائشہ ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : حضور ﷺ مجھے قرآن کی سخت ترین آیت معلوم ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کون سی ؟ تو میں نے کہا ۔ (من یعمل سواء یجزبہ) (4 : 123) تو آپ نے فرمایا : کہ بندہ مومن پر مصائب آتے ہیں ۔ “ (روایت ابن جریر) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (من یعمل سواء یجزبہ) (4 : 123) (جس نے بھی برائی کی اسے اس کی جزا دی جائے گی) تو یہ بات مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزری اس پر رسول خدا ﷺ نے فرمایا : ” درمیانی فاصلے بند کرو اور ایک دوسرے کے قریب ہوجاؤ ‘ اس لئے کہ مسلمان کو جو مصیبت بھی آتی ہے اس کی وجہ سے اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں جو مصیبت بھی اس پر آئے یہاں تک کہ ایک کانٹا بھی اسے چبھے ۔ “ (مسلم ‘ ترمذی ‘ نسائی) بہرحال یہ آیت اسلامی تصورات اور ایمانی طرز فکر کی درستی کے لئے ایک اہم کڑی تھی ۔ اس کی وجہ سے ایک تو اہل دین کی سوچ درست ہوئی اور دوسری جانب ان کا عمل درست ہوا ۔ اس آیت نے ان کو خوب جھنجوڑا اور ان کے دل کانپ اٹھے ‘ اس لئے کہ وہ تو ہر حکم کو نہایت ہی سنجیدگی کے ساتھ لیتے تھے ۔ وہ اللہ کے وعدے کی سچائی اور اس کے اوپر عمل کئے جانے کے بارے میں بہت ہی اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ زندگی ان وعدوں کے اندر رہ کر گزارتے تھے اور وہ آخرت میں بستے تھے حالانکہ وہ لوگ ابھی اس دنیا میں تھے ۔ اور آخر میں اختتامیہ آتا ہے ‘ یعنی ایمان وشرک اور اعمال جزائے اعمال کے بعد کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ اس دنیا اور آخرت دونوں میں تمام چیزوں پر محیط ہے ۔
Ayah 4:126

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطًا۠ Open ayah 4:126 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے اور اللہ ہر چیز پر محیط ہے)

(آیت) ” نمبر 126۔ قرآن کریم میں جہاں یہ بات آتی ہے کہ اللہ ایک ہے اور وہی الہ ہے تو اس کے ساتھ یہ بات بھی آتی ہے کہ وہی مالک اور نگہبان بھی ہے ۔ (ملک ۔ مہیمن) یعنی وہی بادشاہ اور کنٹرول کرنے والا ہے ۔ پس اسلام کا نظریہ توحید صرف یہ نہیں ہے کہ ذات میں اللہ وحدہ لا شریک ہے بلکہ وہ مثبت توحید ہے اور اس کائنات میں فاعل اور موثر بھی وہی ہے اور حکومت اور نگہبانی بھی اسی کی ہے ۔ جب نفس انسانی کے اندر یہ شعور پختہ ہوجاتا ہے کہ زمین وآسمانوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے اور وہ ہر چیز کو اپنے احاطے میں لئے ہوئے ہے ۔ کوئی چیز خدا کے علم اور اس کی سلطنت سے باہر نہیں ہے ‘ تو اس طرح ایک انسان اس امر پر بسہولت آمادہ ہوجاتا ہے کہ وہ اللہ کو ایک الہ اور حاکم تسلیم کرے اور صرف اسی کی بندگی کرے اور پھر اللہ کو راضی کرنے کی سعی کرے اور اللہ کے احکام کو تسلیم کرے ۔ اس لئے کہ سب کچھ اس کا ہے ‘ اس کے قبضے میں ہے اور وہ ہر چیز پر محیط ہے ۔ بعض فلسفے ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو واحد مانتے ہیں ‘ لیکن اس عقیدہ توحید کے بعد یہ فلسفے اس گمراہی میں مبتلا ہو اجاتے ہیں کہ اللہ صاحب ارادہ نہیں ہے ۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ اللہ کا علم نہیں ہوتا ۔ بعض اللہ کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے ‘ بعض اللہ کی ملکیت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ (تفصیلات کیلئے دیکھئے فلاسفہ کے خرافات) چناچہ فلاسفہ کے نزدیک خدا کا تصور ایک منفی تصور ہے ۔ اس تصور میں لوگوں کی زندگی کے ساتھ اللہ کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ نہ ان کے طرز عمل اور انکے اخلاق پر اس کا کوئی تصرف ہے ‘ فلاسفہ کی توحید محض کلام ہی کلام ہے ۔ لیکن اسلام میں ‘ اللہ وہ ذات ہے جو زمین و آسمان کا مالک ہے ‘ لہذا وہ ہر چیز کا مالک ہے اور وہ ہر چیز پر محیط ہے اور وہ نگہبان ہے ۔ لہذا اس تصور کے زیر سایہ ضمیر کی اصلاح ‘ طرز عمل کی اصلاح اور پوری زندگی کی اصلاح کی جاسکتی ہے ۔
Ayah 4:127

وَ یَسْتَفْتُوْنَكَ فِی النِّسَآءِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِیْهِنَّ١ۙ وَ مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ فِیْ یَتٰمَى النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا تُؤْتُوْنَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ١ۙ وَ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلْیَتٰمٰى بِالْقِسْطِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِهٖ عَلِیْمًا Open ayah 4:127 in the Quran reader

(لوگ تم سے عورتوں کے معاملہ میں فتوی پوچھتے ہیں ۔ کہو اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے معاملے میں فتوی دیتا ہے ‘ اور ساتھ ہی وہ احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم کو اس کتاب میں سنائے جارہے ہیں ۔ یعنی وہ احکام جو ان یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں جن کے حق تم ادا نہیں کرتے اور جن کے نکاح کرنے سے تم باز رہتے ہو (یا لالچ کی بنا پر تم خود ان سے نکاح کرلینا چاہتے ہو) اور وہ احکام جو ان بچوں کے متعلق ہیں جو بیچارے کوئی زور نہیں رکھتے ۔ اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو ‘ اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ جائے گی)

درس نمبر 41 ایک نظر میں : اس سورة کے آغاز میں اسلام نے جاہلی معاشرے کی اصلاح کے جس کام کا آغاز کیا تھا یہ سبق اسی کا ایک حصہ ہے ۔ اس اصلاح کا تعلق عورتوں کے حقوق اور خاندانی نظام کے ساتھ ہے ۔ ایک خاندان کے نتیجے میں جو بچے پیدا ہوتے ہیں ان میں سے بعض یتیم رہ جاتے ہیں ۔ ان کے مسائل اس میں لے گئے ہیں ۔ اسلامی معاشرے کو تنبیہ کی گئی ہے کہ ان مسائل کے اندر جاہلیت کے دور کی جو ناہمواریاں رہ گئی ہیں انہیں دور کیا جائے اور ایک گھرانے کو اس اساس پر اٹھایا جائے کہ اس کے اندر مرد اور عورت دونوں کا احترام ہو ‘ دونوں کی مصلحتوں کا خیال رکھا جائے ۔ خاندان کے اندر جو اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں ان کی اصلاح کی تدابیر اس سبق کا موضوع ہے ۔ یعنی اگر اختلافات ہوں تو معاملات کے بگاڑ سے پہلے ان کی اصلاح کی جائے تاکہ گھرانے ٹوٹنے نہ پائیں ۔ خصوصا وہ بچے جو ان گھرانوں میں پیدا ہوچکے ہوتے ہیں اور خاندان ان کے لئے نرسری ہوتا ہے ان کی صحیح ترتیب ہو سکے ۔ نیز عام معاشرے کے اندر زیردست لوگوں کی دیکھ بھال کی جائے تاکہ یہ نہ ہو کہ غالب اور زور آور لوگوں کا قانون چلے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا دور دورہ ہو ۔ یہ سبق بعض معاملات کی اصلاح اس طرح کرتا ہے کہ انہیں نظام کائنات کے ساتھ مربوط کرتا ہے ۔ جس سے مخاطب کو یہ تصور دینا مطلوب ہے کہ عورتوں ‘ گھرانوں ‘ خاندانوں اور معاشرے کے اندر کمزوروں کے مسائل معمولی مسائل نہیں ہیں ۔ ان کی بہت بڑی اہمیت ہے جس کی تفصیلات ہم اس پارے میں دے چکے ہیں ۔ پارہ چہارم کے مقدمے میں ‘ ہم تفصیل کے ساتھ بیان کرچکے ہیں کہ اسلام میں خاندانی نظام کو کتنی عظیم اہمیت دی گئی ہے ۔ اور یہ کہ اسلامی نظام نے خاندانی ادارے کو جاہلیت کی رسوم بد سے پاک کرنے کے لئے کس قدر عظیم جدوجہد کی ہے اور کس قدر کوشش کی ہے کہ معاشرے کے اندر لوگوں کی اخلاقی ‘ نفسیاتی اور اجتماعی سطح کو بلند کیا جائے تاکہ اسلامی معاشرہ ان تمام معاشروں پر فوقیت حاصل کرلے جو اس وقت اس کے اردگرد پھیلے ہوئے تھے ۔ جو دین اسلام کو قبول نہ کرتے تھے اور جن کی تربیت اسلامی منہاج کے مطابق نہ تھی اور جو اسلامی نظام کے زیر حکومت نہ تھے ۔ اب ذرا تفصیلات کے ساتھ زیر بحث آیات کو لیجئے ۔ درس نمبر 41 تشریح آیات : 127۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 134 (آیت) ” نمبر 127۔ سورة نساء کے ابتدا میں جو آیات نازل ہوئی تھیں ان کی وجہ سے کئی سوالات پیدا ہوگئے تھے اور لوگ سوالات کیا کرتے تھے ۔ مسلمانوں کی جانب سے ’ اسلامی معاشرے کی تشکیل کے ابتدائی دور میں مختلف مسائل کے بارے میں سوالات کرنا ایک عام پریکٹس تھی اور اس کی تہ میں یہ جذبہ کار فرما تھا کہ وہ اسلامی نظام زندگی سے متعلق احکام معلوم کرنا چاہتے تھے اس لئے کہ جاہلیت سے اسلام کی طرف منتقل ہونے کا عمل دراصل ان کی زندگیوں میں ایک گہرا انقلاب تھا ۔ اس کی وجہ سے ان کے شعور میں جاہلیت کے دور میں ہونے والے تمام افعال اور رسول کے بارے میں شک پیدا ہوگیا تھا ۔ وہ ہر وقت یہ محسوس کرتے تھے کہ کسی پیش آمدہ معاملے میں اسلام نے سابق پریکٹس کو منسوخ نہ کردیا ہو ۔ یہ بیداری اور اسلامی احکام کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنے کا جذبہ ان حضرات کی ایک عام صفت تھی ۔ اس کے باوجود بعض آثار جاہلیت ان کی زندگیوں میں باقی تھے ۔ اصل بات یہ ہے کہ انکے اندر ایک قومی جذبہ موجود تھا ‘ جس کے مطابق وہ اپنی زندگی کے تمام حالات کو اسلام کے مطابق ڈھالتے تھے اور اس روح کے ساتھ وہ بعض احکام کے بارے میں استفسارات کرتے تھے یہ کام وہ محض علم و ثقافت اور محض سوال کی خاطر نہ کرتے تھے جیسا کہ آج کل مفتی حضرات کے پاس اکثر سوالات محض حصول علم و ثقافت کے لئے ہوتے ہیں کوئی عمل کرنے کے لئے نہیں پوچھتا ۔ اس وقت مسلمانوں کو دینی مسائل کے پوچھنے کی حقیقی ضرورت بھی تھی ‘ اس لئے کہ یہ دین ان کے لئے زندگی کا نظام تھا اور وہ اس کے مسائل پوچھنے کے معاملے میں بہت ہی سرگرم تھے ، مقصد یہ تھا کہ ان کی عملی زندگی احکام دین کے مطابق بن جائے ۔ وہ جاہلیت سے نکلنے کے عمل سے گزر رہے تھے اور جاہلیت کی تمام عادات وتقالید اور اوضاع واطوار سے خائف تھے کہ کہیں کوئی بات نظام اسلام کے خلاف نہ ہو ۔ اسلام نے ان کے اندر جو تغیر اور انقلاب برپا کردیا تھا اس کے بارے میں وہ بہت ہی حساس تھے ۔ دوسرے الفاظ میں اسلام نے انہیں ان کے اس سچے عزم اور اسلام کے بارے میں ان کے جوش و خروش کی وجہ سے ملا ۔ وہ اس شکل میں کہ اللہ کی خاص عنایت اور توجہ انکی طرف مبذول ہوئی ذات باری نے خود براہ راست انہیں ان کے اس استفاء کا جواب دیا ۔ (آیت) ” (ویستفتونک فی النسآئ) (4 : 127) (لوگ تم سے عورتوں کے معاملہ میں فتوی پوچھتے ہیں) وہ تو رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے تھے اور اللہ تعالیٰ حضرت نبی ﷺ سے کہتے تھے : ” کہو اللہ تمہیں فتوی دیتے ہیں ‘ تمہارے سوال اور بقیہ دونوں امور کے بارے میں جن کا ذکر اس آیت میں ہوا ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ عنایت ہے جس کی قدروقیمت صحابہ کرام ہی جانتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی مہربانی ‘ نہایت ہی عزت افزائی کرتے ہوئے بذات خود جماعت مسلمہ کو فتوی دیتے ہیں اور یہ اللہ کی جانب سے نیابت یا بندہ پروری اور مہربانی ہے اور بندوں کی جدید زندگی کے لئے ضروری سوالوں کا جواب خود دیا جا رہا ہے ۔ یہ سوال ان عملی حالات کے بارے میں تھا جو جاہلیت میں روز مرہ کا معمول تھے ۔ وہ جاہلیت جس سے پوچھنے والوں کو اللہ اور اللہ کے نظام نے نکالا تھا ۔ دوسرے یہ سوالات ان امور کے بارے میں تھے جن کے ذریعے جدید اسلامی معاشرے کو مزید ترقی دینا مطلوب تھا ۔ (آیت) ” (قل اللہ یفتیکم فیھن وما یتلی علیکم فی الکتب فی یتمی النساء التی لا توتونھن ما کتب لھن وترغبون ان تنکحوھن والمستضعفین من الولدان وان تقوموا للیتمی بالقسط (4 : 127) (کہو اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے معاملے میں فتوی دیتا ہے ‘ اور ساتھ ہی وہ احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم کو اس کتاب میں سنائے جارہے ہیں ۔ یعنی وہ احکام جو ان یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں جن کے حق تم ادا نہیں کرتے اور جن کے نکاح کرنے سے تم باز رہتے ہو (یا لالچ کی بنا پر تم خود ان سے نکاح کرلینا چاہتے ہو) اور وہ احکام جو ان بچوں کے متعلق ہیں جو بیچارے کوئی زور نہیں رکھتے ۔ اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو) علی ابن ابو طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں نقل کیا ہے کہ جاہلیت کے دور میں جس کے پاس یتیم لڑکی ہوتی ‘ وہ اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا ‘ جب وہ ایسا کرلیتا تو اس یتیم لڑکی کے ساتھ کوئی شخص بھی کبھی نکاح نہ کرسکتا ۔ اگر وہ خوبصورت ہوتی اور وہ اسے پسند کرتا تو وہ اس کے ساتھ خود نکاح کرلیتا اور اس کا مال کھاتا رہتا ۔ اور اگر بدصورت ہوتی تو دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی اس کا نکاح کرنے کی اجازت نہ دیتا یہاں تک کہ وہ مرجاتی اور یہ اس کے مال کا وارث ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس فعل کا حرام قرار دیا اور آئندہ کے لئے اس سے منع فرمایا ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” والمستضعفین من الولدان “۔ (4 : 127) (اور بچوں میں سے کمزور لوگ) کون تھے ؟ جاہلیت میں دراصل کمزور بچوں کو وراثت میں سے حق نہ دیا جاتا تھا اور نہ لڑکیوں کو دیا جاتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ! (آیت) ” لا توتونھن ما کتب لھن “۔ (4 : 127) (تم ان کو وہ حق نہیں دیتے جس اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دے دیا ہے) اللہ نے اس سے بھی روک دیا اور ہر حقدار کا حصہ قرآن میں مقرر کردیا اور کہا کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے خواہ عورتوں چھوٹی ہوں یا بڑی ہوں۔ سعید بن جبیر ؓ کہتے ہیں (آیت) ” (وان تقوموا للیتمی بالقسط “۔ (4 : 127) کی تفسیر یہ ہے کہ اگر یتیم لڑکی مالدار اور خوبصورت ہو تو ولی کہتا کہ میں اسے اپنے لئے چن لیتا ہوں اور اس کے ساتھ نکاح کرلیتا اور اگر صاحب مال و جمال نہ ہوتی تو اسے دوسروں کے نکاح میں دے دیتا ۔ (آیت) ” ویستفتونک فی النسآء قل اللہ یفتیکم فیھن “۔ تاآیت (وترغبون ان تنکحوھن) کے بارے میں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں ۔ یہ اس شخص کے بارے میں ہے جس کے پاس یتیم لڑکی ہوتی ۔ وہ اس کا ولی اور وارث ہوتا ۔ وہ اسے اپنے مال میں شریک کرلیتی یہاں تک کہ کھجور کے اس گچھے میں بھی جو کھانے کے لئے توڑ لیا جاتا ۔ وہ اس کے ساتھ نکاح کرنا بھی پسند نہ کرتا تھا اور کسی دوسرے شخص کے نکاح میں بھی نہ دیتا تھا کہ وہ اس کے ساتھ مال میں شریک نہ ہوجائے ۔ اس طرح وہ عورت معطل رہتی ۔ (بخاری مسلم) ابن ابو حاتم (رح) نے عروہ ابن زبیر ؓ سے حضرت عائشہ ؓ کی ایک دوسری روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں : حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا :” اس آیت کے بعد لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے بعد دوبارہ ان عورتوں کے بارے میں پوچھا تو یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” ویستفتونک فی النسآء قل اللہ یفتیکم فیھن قل اللہ یفتیکم فیھن وما یتلی علیکم فی الکتب “۔ (4 : 127) حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اس آیت میں یہ جو کہا گیا ہے کہ جو تم پر کتاب میں پڑھا جاتا ہے (یعنی سابقہ احکام) تو اس سے مراد وہ سابقہ آیت ہے یعنی (آیت) ” وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامی فانکحوا ماطاب لکم من النسائ “۔ یعنی اگر وہ صاحب مال و جمال نہ ہوں اور تم انکے ساتھ نکاح نہ کرنا چاہتے ہو۔ اور اگر وہ صاحب مال و جمال ہوں اور تم ان کے ساتھ نکاح کرنا چاہتے ہو صرف مال کی غرض ہو تو نکاح نہ کرو الا یہ کہ عدل کے ساتھ نکاح کرنا چاہو۔ ان احادیث اور قرآنی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جاہلیت کے دور میں کیا ہو رہا تھا ۔ خصوصا یتیم نوجوان عورتوں کے ساتھ ۔ یتیم لڑکی کے ساتھ ولی کی طرف سے مال و دولت میں بھی بےایمانی ہوتی اور اس کے مہر میں بھی اس کے ساتھ زیادتی ہوتی ۔ اس کا مال لٹایا جاتا اور اگر وہ بدصورت ہوتی تو اس کا مال بھی ہڑپ ہوتا اور اس کے ساتھ نکاح بھی نہ ہوتا ۔ کسی دوسرے کے نکاح میں بھی نہ دی جاتی کہ کہیں وہ ولی کے ساتھ مال میں شریک نہ ہوجائے کیونکہ مال ولی کے تصرف میں ہوتا ۔ یہی حال چھوٹے بچوں اور لڑکیوں کا ہوتا ۔ ان کو میراث سے محروم کردیا جاتا ۔ اس لئے کہ وہ ضعیف ہوتے تھے اور وہ اس مال کی مدافعت نہ کرسکتے تھے یا وہ جنگ نہ کرسکتے تھے ۔ اس لئے ان کے لئے کوئی حق یا حصہ نہ ہوتا اور یہ قبائلی تصورحیات کے مطابق ہوتا جن کی مطابق قبیلے کے تمام اموال جنگ کرنے والوں کے لئے ہوتے اور ضعیفوں کے لئے کچھ نہ ہوتا ۔ یہ تھے وہ بدوی اور بدنما رسم و رواج جن کو اسلام نے تبدیل کرنا شروع کیا اور ان کی جگہ ترقی یافتہ قرآنی رسم و رواج کی بنیاد ڈالی اور یہ تبدیلی ایسی نہ تھی کہ گویا بہت ہی تیزی سے بطور لانگ جمپ یہ انقلابی تبدیلی کی گئی اور عربی معاشرے کو ایک ترقی یافتہ معاشرہ بنا دیا گیا بلکہ یہ عربوں کے لئے ایک نیا جنم تھا ۔ ان کی حقیقت کو بدل کر ایک نئی حقیقت انکو دی گئی ۔ یہاں جو اہم بات ہم ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ نشاۃ جدیدہ کسی منصوبے کے تحت نشاۃ ثانیہ نہ تھی اور نہ اس کے لئے کوئی خاص منصوبہ بنایا گیا تھا اور نہ منصوبے کے لئے کوئی ابتدائی تیاری کی گئی تھی یا یہ ترقی کسی مادی تبدیلی کی وجہ سے ہوئی تھی اور صرف عربوں کی زندگی میں ہوئی تھی ۔ اس لئے کہ حقیقت ملکیت کے جاہلی سبب محاربت کو منسوخ کرکے ‘ اس کی جگہ انسانی اساس پر حق ملکیت کو استوار کرنا ‘ بچے ‘ یتیم اور عورت کو بھی انسانی حقوق عطا کرنا محض اس وجہ سے نہ تھا کہ معاشرے کے اندر تبدیلی آگئی تھی اور اس معاشرے کے اندر جنگی قوت رکھنا یا دفاع کرنا ہی اہم عامل نہ رہا تھا ‘ اس وجہ سے جنگی قوت رکھنے والے افراد خاندان ان کی امتیازی حیثیت کو ختم کردیا گیا ۔ اب خاندان والوں کے لئے جنگی قوت رکھنے والے افراد کی سرے سے ضرورت ہی نہ تھی اور نہ ان کی امتیازی حیثیت کی ضرورت تھی ۔ ایسا ہر گز نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اسلامی دور میں بھی جنگی افراد کی افراد کی اہمیت اپنی جگہ قائم تھی ۔ ان کی ضرورت بھی تھی لیکن جو فرق پڑا وہ یہ تھا کہ اسلامی نظام آگیا تھا اور یہ انسان کے لئے ایک جدید جنم تھا ۔ یہ جنم ایک کتاب کے ذریعے ملا تھا ۔ ایک نظام سے انہیں یہ جنم ملا تھا اور جدید معاشرہ اس جدید نظام نے قائم کیا تھا اور اسی سرزمین پر قائم کیا تھا جس پر جاہلیت قائم تھی اور انہی حالات میں جن میں ذرائع پیداوار کے اندر کوئی تبدیلی نہ کی گئی تھی ۔ نہ مادے اور اس کے خواص میں کوئی تبدیلی کی گئی تھی بلکہ تصور حیات اور نظریہ حیات کے اندر انقلاب پیدا ہوگیا تھا ۔ اور یہ انقلاب محض اس نظریہ جدیدہ کی وجہ سے ہوا تھا ۔ یہ بات بھی حقیقت تھی کہ اسلامی نظام نے لوگوں کے ذہنوں اور طرز عمل سے جاہلیت کے آثار کو مٹانے کے لئے طویل ترین جدوجہد کی اور ان کی جگہ اسلامی تصورات اور اسلامی عادات واطوار بٹھانے کیلئے سخت محنت کی ۔ یہ بھی حقیقت تھی کہ جاہلیت کے بعض اطوار ابھی تک اپنے آپ کو بچانے کے لئے کوشاں تھے اور بعض انفرادی حالات میں انکا پھر سے ظہور ہوجاتا تھا ۔ یہ عادات واطوار مختلف شکلوں میں اپنے آپ کو زندہ رکھنا چاہتے تھے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ نظام جو آسمانوں سے نازل ہوا اور وہ تصورات جو اس نظام نے عطا کئے یہی تو جاہلیت کو بیخ وبن سے اکھاڑنے کی سعی میں مصروف تھے اور یہ بات نہ تھی کہ مادی صورت حال یا اس کے اندر موجود تضادات اس تبدیلی میں موثر تھے یا ذرائع پیداوار میں کوئی تبدیلی ہوگئی تھی یا کوئی اور مارکسی فیکٹر تھا جو مادے یا ذرائع پیداوار میں تبدیلی کی وجہ سے معاشرے میں تغیر لا رہا تھا ۔ عرب قوم کی زندگی میں جو نئی چیز تھی وہ دین تھی جو عالم بالا سے ان پر نازل ہوئی تھی ۔ اس پر بعض نفوس نے لبیک کہا اس لئے کہ وہ انسانی فطرت سے ہمکلام تھی اور یہ فطرت ہر انسان کے اندر موجود تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ یہ عظیم انقلاب رونما ہوا بلکہ انسان کو یہ نیا جنم ملا ‘ جس نے زندگی کے تمام خدوخال بدل دیئے ‘ ہر پہلو سے بدل دیئے اور جاہلیت کے تو تمام نشانات مٹا دیئے ۔ معاشرے کے جدید وقدیم خدوخال کے درمیان جس قدر تنازع بھی نظر آئے اور اس تطہیر اور تجدید کی راہ میں جس قدر رنج والم اور قربانیاں بھی دی گئی ہوں ‘ یہ سب کچھ آسمانی رسالت کی وجہ سے ہوا ۔ ایک نظریاتی اور اعتقادی تصور تھا جو اس انقلاب کے لئے پہلا اور آخری فیکٹر تھا ۔ بلکہ اس نئے جنم کے لئے وہی اول وآخر عامل تھا ۔ پھر کیا ہوا ؟ پھر اس انقلاب کا طوفان صرف اسلامی معاشرے تک ہی محدود نہ رہا بلکہ اس نے پوری انسانی اقدار اور تمام انسانی معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اہل اسلام نے رسول سے تو صرف عورتوں کے بارے میں پوچھا تھا ‘ اور اللہ نے ان عورتوں کے علاوہ یتیم لڑکیوں ‘ چھوٹے بچوں اور ضعیفوں کے حق کے بارے میں بھی جواب دیا تھا ‘ تو اس سوال و جواب کو اللہ تعالیٰ نے اس مصدر کے ساتھ باندھ دیا جس کے ذریعے سے یہ انقلاب آیا تھا ۔ (آیت) ” وما تفعلوا من خیر فان اللہ کان بہ علیما “۔ (4 : 127) (اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ جائے گی) جو کچھ بھی تم کرو گے وہ نامعلوم نہ رہ جائے گا ‘ ضائع نہ ہوگا ۔ اللہ کے ہاں ریکارڈ ہوگا اور جو چیز اللہ کے ہاں ریکارڈ ہوجائے وہ ہر گز ضائع نہ ہوگی ۔ یہ ہے ہو آخری مرجع جس کی طرف ایک مومن اپنے اعمال بھیجتا ہے اور یہی وہ قبلہ ہے جس کی طرف مومن کے فکر وعمل کا رخ ہوتا ہے ۔ اس مرجع کی قوت اور گرفت ہی ان ہدایات اور اس نظام کی قوت اور گرفت ہوتی ہے اور اس کا انسانی نفس اور اس کی عادات واطوار بلکہ پوری زندگی پر اثر ہوتا ہے ۔ یہ بات اہم نہیں ہوتی کہ کوئی بہت سی ہدایات دے یا لکھ دے ‘ یا کوئی نظام حیات تجویز کرے یا کوئی نیا نظم ونسق قائم کرے ۔ اصل حیات اہمیت اس گرفت اور قوت کی ہوتی ہے جو کسی ہدایت ‘ کسی نظام اور کسی تنظیم کی پشت پر ہوتی ہے ۔ وہ گرفت جس سے یہ تمام تصورات اور یہ تمام ادارے قوت نافذہ حاصل کرتے ہیں ۔ ان نظامہائے زندگی اور ان اقدار میں جو ایک انسان اللہ سے لیتا ہے اور ان میں جو ایک انسان اپنے جیسے انسانوں سے لیتا ہے ‘ زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔ یہ اس صورت میں جیسے دوسری صفات کے حوالے سے انسانی نظام اور الہی نظام کے درمیان مساوات فرض کرلی جائے اور یہ بات فرض کرلی جائے کہ یہ دونوں نظام نہایت بلند اور ترقی یافتہ ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ایسا فرض کرنا بھی محال اور جنون ہے ۔ الا یہ کہ انسان سوچ لے کہ یہ بات کس کے منہ سے نکلی اور یہ کہ اس کے بارے میں ہماری سوچ کیا ہے اور اس کے بارے میں ہمارے رائے کیا ہے ۔ ایک طرف اللہ العلی العظیم کی بات ہے اور دوسری جانب انسان ابن انسان کی بات ہے ۔ اجتماعی ضابطہ بندی کا ایک قدم اور ۔ یہ بھی خاندان کے دائرے میں اور اس معاشرے میں جسے اسلام نیا جنم دے رہا تھا اور یہ جنم ملاء اعلی سے اسلامی نظام حیات کے ذریعے رہا تھا اور اس کے اندر کسی زمینی فیکٹر یاعامل کا کوئی داخل نہ تھا ۔ مادی ہو یا پیداوار سے متعلق ہو ۔ ملاحظہ ہو۔
Ayah 4:128

وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَهُمَا صُلْحًا١ؕ وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ١ؕ وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ١ؕ وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:128 in the Quran reader

(اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بےرخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں کہ میاں اور بیوی (کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کرلیں۔ صلح بہرحال بہتر ہے ۔ نفس تنگ دلی کی طرف جلدی مائل ہوجاتے ہیں ‘ لیکن اگر تم لوگ احسان سے پیش آؤ اور خدا ترسی سے کام لو تو یقین رکھو کہ اللہ تمہارے اس طرز عمل سے بیخبر نہ ہوگا

(آیت) ” نمبر 128 تا 130۔ اسلامی نظام نے اس سے قبل عورت کی طرف سے بدسلوکی اور نافرمانی کے بارے میں قانون سازی کردی تھی ۔ اور وہ تمام انتظامات کردیئے تھے کہ اس پہلو میں نقصان پیدا ہونے کے خلاف تدابیر اختیار کی جائیں گی ۔ (ملاحظہ ہو اس پارہ کی ابتدائی آیات) ۔ یہاں سے بےرخی اور نافرمانی کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ جو خاوند کی طرف سے ہو ‘ اور جس کی وجہ سے عورت کے احترام اور عزت نفس کو خطرہ ہو اور اس کے نتیجے میں خاندان کے تباہ ہونے کا خدشہ ہو اس لئے کہ دل بدل سکتے ہیں اور میلانات اور رجحانات کے اندر تبدیلی آسکتی ہے ۔ اسلام ایک ایسا نظام ہے جو معاشرتی معاملات کے اندر زندگی کے تمام اجزاء کا احاطہ کرتا ہے اور جو مشکلات اور خطرات پیش آسکتے ہیں ان کو حل کرتا ہے ۔ اسلام ان تمام مسائل کو اپنے رجحانات اور اصول کے مطابق حل کرتا ہے اور اپنی اسکیم کے مطابق تمام اقدامات کرتا ہے ۔ اگر عورت اور مرد کے اند باہم تعلقات میں کشیدگی سی پیدا ہوجائے اور طلاق کا خطرہ ہو ‘ یا یہ خطرہ ہو کہ خاوند بیوی کو معطل اور معلق چھوڑ دے گا ۔ نہ وہ بیوی ہوگی اور نہ وہ مطلقہ ہوگی تو اس صورت میں دونوں کے لئے اس امر میں ممانعت نہیں ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف مالی اور دوسرے حقوق کے اندر کچھ دو کی پالیسی اختیار کرلیں ۔ مثلا یہ کہ عورت اپنے مالی اخراجات میں سے کچھ معاف کر دے یا سب معاف کر دے ۔ یا یہ کہ اگر زیادہ عورتیں ہوں تو بیوی اپنی باری وغیرہ سے دست بردار ہوجائے ۔ مثلا اگر کوئی دوسری بیوی مرد کو زیادہ پسند ہو تو اس کے حق میں کوئی بیوی دست بردار ہوجائے یا مثلا اس صورت میں کہ معاف کرنے والی بیوی کو بعض حقوق کے اندر زیادہ دلچسپی نہ رہی ہو ۔ یہ اس صورت میں کہ عورت تمام احوال اور معاملات کو دیکھ کر ‘ سوچ کر کامل آزادی کے ساتھ یہ فیصلہ کرے کہ اس کے لئے یہ حالت طلاق سے بہتر ہے ۔ (آیت) ” وان امراۃ خافت من بعلھا نشوزا اواعراضا فلا جناح علیھما ان یصلحا بینھما صلحا “۔ (4 : 127) (اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بےرخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں کہ میاں اور بیوی (کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کرلیں) یہ وہی صلح ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ۔ اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ مقدمہ بازی سے صلح ہر صورت میں بہتر ہوتی ہے ۔ بےرخی ‘ خشک تعلقات اور طلاق ‘ سب حالات کے مقابلے میں صلح خیر ہے ۔ (والصلح خیر (4 : 127) (صلح بہرحال بہتر ہے) صلح کی وجہ سے خشک اور جفا پیشہ دلوں کے اوپر بادنسیم کے ٹھنڈے جھونکے چلنے لگتے ہیں ۔ انس و محبت کی شبنم سے باہم تعلقات کو طراوت نصیب ہوتی ہے اور ازدواجی تعلقات کو باقی رکھنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے اور اگر ختم ہوچکے ہوں تو ازدواجی تعلقات پھر سے استوار ہو سکتے ہیں ۔ اسلام نفس انسانی کے ساتھ حقیقت پسندانہ معاملہ کرتا ہے ۔ وہ تمام ذرائع اور وسائل کو کام میں لا کر نفس انسانی کو ایک ایسی سطح تک سربلند کرتا ہے جس کے لئے اس نے اس کے مزاج اور فطرت کو تیار کیا ہے ۔ لیکن اسلام ان تمام وسائل کو کام میں لاتے ہوئے یہ بھی پیش نظر رکھتا ہے کہ انسانی فطرت کے بھی کچھ حدود وقیود ہوتے ہیں ۔ اسلام فطرت انسانی اور انسانی مزاج کو ایسے کاموں پر مجبور نہیں کرتا جو اس کی قدرت اور وسعت سے باہر ہوں اسلام لوگوں کو یہ حکم نہیں دیتا کہ تم اپنے سروں کو دیواروں سے ٹکڑاؤ اور یہ ہے میرا حکم بس اسلام علیکم ! یہ کرو چاہے قدرت ہے یا نہیں ہے۔ اسلامی نظام نفس انسانی کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ ضعیفی کی حالت پر رہے یا تقصیرات پر راضی ہو ۔ وہ یہ بھی نہیں کرتا کہ انسانی گندگی کے دلدل میں کانوں تک ڈوبا ہو ‘ اور وہ اس کی تعریف وتمجید کرے اور اس کے لئے جواز یہ ڈھونڈے کہ انسان بطور حقیقت واقعہ اسی طرح ہے ۔ وہ اس طرح بھی نہیں کرتا کہ اسے عالم بالا کے ساتھ بذریعہ رسی باندھ کر لٹکا دے اور پھر وہ جدھر چاہے جھولتا پھرے کیونکہ اس صورت میں اس کے پاؤں بھی زمین پر نہ ہوں گے اور ہم اس صورت حال کو یہ کہیں کہ یہ رفعت اور سربلندی ہے ۔ اسلام ان انتہاؤں کے درمیان دین وسط ہے ۔ یہ ایسا نظام ہے جس کے اندر حقیقت پسندانہ واقعیت پائی جاتی ہے یا سنجیدہ حقیقت پسندی ہے ۔ یہ نظام انسان کے ساتھ معاملہ کرتا ہے اور انسان کو انسان سمجھ کر معاملہ کرتا ہے ۔ اپنی فطرت کے اعتبار سے انسان ایک عجیب مخلوق ہے ۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کے پاؤں زمین پر ہیں لیکن اس کی روح آسمانوں پر ہے ۔ اس کی روح اس کے جسم میں بھی ہوتی ہے اور آسمانوں پر بھی ہوتی ہے ۔ غرض جسم زمین پر اور روح آسمانوں پر ہوتی ہے ۔ یہ حکم دیتے ہوئے اسلامی نظام ایک انسان کے ساتھ معاملہ کرتا ہے اور اس معاملے میں انسان کی ایک عام خصوصیت کا ذکر کرتا ہے ۔ (آیت) ” (واحضرت الانفس الشح (4 : 128) (نفس تنگ دلی کی طرف جلدی مائل ہوجاتے ہیں) مطلب یہ ہے کہ تنگ دلی دائما نفوس کے اندر موجود ہوتی ہے ۔ نفس کے اندر تنگ دلی قائم رہتی ہے ۔ تنگ دلی کی کئی اقسام ہیں ۔ مال میں تنگ دلی ۔ جذبات میں تنگ دلی ‘ زوجین کی زندگی میں بعض اوقات ایسے اسباب جمع ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے بخل اور تنگدلی ابھر آتی ہے ۔ ایسے اسباب پیدا ہوجاتے ہیں کہ خاوند عورت کے بارے میں سخت تنگ دل ہوجاتا ہے ۔ اب عورت اگر اپنا بقایا مہر چھوڑ دے یا نفقات معاف کر دے یا مالی تاوان ادا کردے اور نکاح کو باقی رکھوالے تو معاملہ خراب ہونے سے ٹل سکتا ہے ۔ اس لئے کہ کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ عورت اپنے حقوق زنا وشوئی بھی معاف کردیتی ہے مگر طلاق لینا پسند نہیں کرتی ۔ اگر صورت یہ ہو کہ خاوند کی کوئی دوسری زیادہ محبوب بیوی ہو اور پہلی بیوی کے اندر کشش اور تازگی باقی نہ رہی ہو اور عورت خاوند کے جذبات کا احترام کرکے اس کو راضی کرلے اور اس طرح نکاح باقی رہ جائے ۔ غرض ان تمام حالات میں معاملہ بیوی کے اختیار میں دے دیا گیا ہے ۔ وہ مختار ہے کہ اس کی مصلحت جس صورت میں ہو وہ اسے اختیار کرلے ۔ اسلامی نظام اس پر کچھ لازم نہیں کرتا بلکہ اختیار ہے کہ وہ اپنے معاملے میں تدبر کرکے کوئی بہتر فیصلہ اپنے حق میں کرلے ۔ لیکن اسلام معاملے کو بخل کے حوالے ہی نہیں کردیتا بلکہ اسے ایک دوسرے طرز عمل کی طرف بھی بلاتا ہے ‘ اس لئے کہ بخل ہی انسانی فطرت کا خاصہ قائمہ نہیں ہے بلکہ احسان اور خدا ترسی بھی فطرت انسان کے اندر ہیں ۔ (آیت) ” وان تحسنوا وتتقوا فان اللہ کان بما تعملون خبیرا “۔ (4 : 127) (لیکن اگر تم لوگ احسان سے پیش آؤ اور خدا ترسی سے کام لو تو یقین رکھو کہ اللہ تمہارے اس طرز عمل سے بیخبر نہ ہوگا) احسان اور تقوی پر ہی آخری دارومدار ہے اور احسان اور تقوی کا کوئی عمل ضائع نہ ہوگا ۔ اس لئے ضائع نہ ہوگا کہ اللہ کا علم سب چیزوں پر محیط ہے ۔ وہ ہر انسان کے عمل سے بھی خبردار ہے اور اس عمل کی تہ میں پائے جانے والی نیت سے بھی خبردار ہے ۔ نفس انسانی کو اس طرف پکارنا کہ تم احسان اور تقوی کو اپنا شعار بناؤ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام اعمال سے خبردار ہے ‘ یہ ایک ایسی پکار ہے جس کا نفس انسانی پر گہرا اثر پڑتا ہے ۔ اس پکار پر ہر انسان لبیک کہتا ہے ۔ بلکہ یہ وہ واحد دعوت وتلقین ہے جس کے لئے ہر نفس بہت جلدی تیار ہوجاتا ہے ۔ ایک بار ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی نظام حیات انسانی زندگی کے حالات اور اس کی واقعی صورت حال کے ساتھ معاملہ کرتا ہے ۔ یہ معاملہ مثالی طور پر حقیقت پسندانہ ہے یا حقیقت پسندانہ مثالیت ہے ۔ اسلام ان باتوں کا اعتراف کرتا ہے جو فطرت انسانی کا لازمی حصہ ہیں اور ہیں بھی پوشیدہ اور یہ اعتراف نہایت ہی تعجب خیز انداز میں ہے ۔