4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 4:95

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

(مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان ومال سے جہاد کرتے ہیں دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے ۔ اللہ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان ومال سے جاہد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے

درس نمبر 38 ایک نظر میں : یہ سبق درس سابق اور اس سین بھی پہلے ایک سبق کے ساتھ گہری وابستگی رکھتا ہے اور اسی کے ساتھ پیوستہ ہے ۔ گویا یہ ان دونوں اسباق کا تکملہ ہے ۔ اگر بین الاقوامی معاملات اور قانون بین الاقوام کا پہلو پیش نظر نہ ہوتا ‘ جس طرح اسلام نے پہلی بار اس شعبے میں قانون سازی کی تو ہم ان تینوں درسوں کو ایک درس شمار کرتے ۔ کیونکہ ان کا موضوع اور مضمون ایک ہی ہے ۔ اس سبق کا اساسی مضمون یہ ہے کہ تمام مسلمان ہجرت کرکے دارالاسلام میں جمع ہوجائیں ۔ ابھی تک جو لوگ دارالحرب اور دارالکفر میں رہ گئے ہیں وہ فورا ہجرت کریں اور دارالاسلام میں پہنچ کر جان ومال سے جہاد کریں اور مکہ میں انہیں نسبتا جو آرام ہے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ رہتے ہیں اور وہاں انہیں جو سہولتیں حاصل ہیں ‘ انہیں چھوڑ دیں ۔ اور یہی مقصد اس سبق کے افتتاحی کلمات میں ہے جن میں کہا گیا ہے : (آیت) ” (لایستوی القعدون من المومنین غیر اولی الضرر والمجھدون فی سبیل اللہ باموالھم وانفسھم فضل اللہ المجھدین باموالھم وانفسھم علی القعدین درجۃ وکلا وعداللہ الحسنی وفضل المجھدین علی القعدین اجرا عظیما “۔ (95) (مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی را ہمیں جان ومال سے جہاد کرتے ہیں دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے ۔ اللہ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان ومال سے جاہد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے ‘ اگرچہ ہر ایک کے لئے اللہ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے ‘ مگر اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے) مدینہ میں تو کوئی بیٹھنے والا نہ تھا ۔ مدینہ میں جہاد سے رکھنے والے یا تو منافقین تھے یا وہ لوگ تھے جو روڑے اٹکاتے تھے اور دونوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے درس سابق میں بات کی ہے ۔ ہاں اس آیت کے متصلا بعد دوسری آیت میں ان لوگوں کو سخت تنبیہ کی گئی ہے جو ابھی تک دارالکفر میں بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ ہجرت کرکے مدینہ منتقل ہونے کی پوری پوری قدرت رکھتے ہیں اور ایسے ہی حالات میں وہ فوت ہوجاتے ہیں ۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بہت ہی بری جگہ ہے ۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ضمانت دیتا ہے جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرتے ہیں اور یہ اسی وقت سے شروع ہوجاتی ہے جب وہ گھر سے نکل پڑتے ہیں بشرطیکہ وہ یہ ہجرت خالصۃ اللہ کے لئے کرتے ہوں ۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے انکے وہ تمام خدشات دور کردیئے ہیں جو یہ اقدام کرنے سے پہلے انکو لاحق ہوتے ہیں ‘ نیز اس وقت جو خطرات درپیش تھے اور جو خوفناک حالات تھے ان حالات میں ہمت کرنا مشکل اور تشویش کا باعث تھا ۔ ہجرت اور جہاد پر بات مزید آگے بڑھتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ دارالہجرت میں مسلمانوں کا باہم معاملہ کیا ہوگا اور دارالہجرت سے باہر دوسرے لوگوں کے ساتھ کیا تعلق ہوگا ۔ خصوصا ان مسلمانوں کا انجام کیا ہوگا جو ہجرت نہیں کرتے ۔ اس سبق میں حالت خوف میں نماز کی کیفیات کا بھی ذکر ہے ۔ مثلاہجرت کے سفر کے دوران نماز اور میدان جنگ میں نماز ‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی اسلام میں کس قدر اہمیت ہے کہ ایسے خطرناک حالات میں بھی اس کی معافی نہیں ہے ۔ نیز مسلمانوں کے اندر ایسی حالت پیدا کی جاتی ہے کہ وہ ذہنی طور پر ہر وقت جنگ کے لئے تیار رہیں کیونکہ حالات ایسے ہیں کہ معمولی غفلت اور لاپرواہی سے دشمن سخت فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ آخر میں یہ سبق نہایت ہی موثر ٹچ دیتا ہے اور مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کے لئے ابھارتا ہے کہ ٹھیک ہے کہ تم کو نہایت ہی المناک مصائب کا سامنا ہے لیکن دشمنوں کی حالت بھی کوئی اچھی نہیں ہے اور ان کے نصب العین اور تمہارے نصب العین اور ان کی امیدوں اور تمہاری امیدوں میں فرق ہے ۔ (آیت) ” (ولا تھنوا فی ابتغاء القوم ان تکونوا تالمون فانھم یالمون کما تالمون وترجون من اللہ مالا یرجون “۔ (4 : 104) (اس گروہ کے تعاقب میں کمزورینہ دکھاؤ اگر تم تکلیف اٹھا رہے ہو تو تمہاری طرح وہ بھی تکلیف اٹھا رہے ہیں اور تم اللہ سے اس چیز کے امیدوار ہو جس کے وہ امیدوار نہیں) اس تصویر کشی کے ساتھ ہی دونوں گروہوں کے راستے علیحدہ ہوجاتے ہیں ۔ دونوں کے منہاج علیحدہ ہوجاتے ہیں ۔ ہر دکھ اور ہر تکلیف مسلمانوں کے لئے آسان ہوجاتی ہے ۔ مسلمانوں کے دلوں سے سستی اور تھکاوٹ کا احساس ہی ختم ہوجاتا ہے اس لئے کہ آخر مخالف کیمپ کو بھی تو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ان کو اللہ کی جانب سے وہ امید نہیں ہے جو مسلمانوں کو ہے ۔ اس سبق میں جن موضوعات پر بات ہوئی ہے اور جو اسلوب تربیت اپنایا گیا ہے اس کے اندر یہ بتایا گیا ہے کہ جماعت مسلمہ کی تکوین وتشکیل کے اندر جو تغیرات ہو رہے تھے اور جماعت کی عملی تشکیل میں جو مشکلات پیش آرہی تھیں اور جو نظریاتی اور عملی رکاوٹیں تھیں ان سے تحریک اسلامی کس طرح نمٹ رہی تھی ۔ لوگوں کے ذہنوں میں جو خدشات پیدا ہو رہے تھے اور جس طرح وہ کمزوری کا باعث بن رہے تھے یا سوسائٹی اور افراد جماعت کے نفوس کے اندر جاہلیت کے جو آثار باقی تھے اور وہ جس طرح مشکلات کا باعث بن رہے تھے نیز تحریک اسلامی کی راہ میں آنے والی نئی نئی مشکلات اور مصیبتوں کے باعث ذات انسانی کے قدرتی طور پر متاثر ہوجانے کی وجہ سے جو مسائل پیدا ہو رہے تھے اور ان مشکلات کے باوجود جو لوگ وفاداری بشرط استواری پر اپنے آپ کو قائم رکھے ہوئے تھے ‘ ایسے تمام مناظر ومشاہد کی تصویر کشی اس سبق میں کی گئی ہے ۔ ان تمام مسائل کو قرآن کے حکیمانہ منہاج نے لیا ہے اور انسانی ضمیر کو آمادہ کیا ہے اور جوش دلایا ہے کہ وہ ان مشکلات سے عہدہ بر آ ہو ۔ یہ تمام باتیں اصل صورت حال کا صحیح نقشہ کھینچ کر بتائی گئی ہیں اور ان کا اظہار حوصلہ افزائی اور جوش دلانے کے موثر انداز سے بھی ہوتا ہے اور اس علاج سے بھی ہوتا ہے جو فطری خدشات اور عملی مشکلات کے حل کے طور پر تجویز کیا گیا ہے ۔ نیز عین میدان کار زار میں نماز پر جم جانے کے عمل سے بھی اس کا اندازہ اچھی طرح ہوجاتا ہے جبکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عین نماز کے وقت بھی وہ دشمن پر نظررکھیں پھر مہاجرین کو ثواب دراین کی ضمانت دی گئی ہے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں نکلتے ہیں ان کیلئے اجر اور کافروں کے لئے سخت درد ناک عذاب کے اعلان کے ذریعے ان تمام آلام ومشکلات کی تصویر سامنے آتی ہے ۔ اس سبق سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانی نفس کے ساتھ اس کی کمزوری کی حالت میں اور اس کی قوت کی حالت میں سک طرح برتاؤ فرماتا ہے ۔ نیز ایک انسانی جماعت کی تشکیل اور تربیت کس طرح کی جاتی ہے اور اس اسٹیج پر اس کے ساتھ معاملہ کس طرح کیا جاتا ہے ، اس سلسلے میں ایک ہی آیت میں متعدد خطوط سامنے آتے ہیں ۔ چند لفظوں میں جماعت کے دلوں کے اندر اس کی قوت اور برتری کا احساس اور شعور بھر دیا جاتا ہے اور اس کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ اسے اپنا دشمن حقیر نظر آنے لگتا ہے اور ساتھ ساتھ اسے خطرے کے مقابلے میں احتیاط ‘ بیداری اور ہر وقت تیاری کا حکم بھی دیا جاتا ہے جبکہ اسی آیت میں ان مقامات کی نشاندہی بھی کردی جاتی ہے جہاں کمزوری ہے ۔ اور مقامات کمزوری کے بارے میں شدید اور نہایت ہی سخت ہدایات بھی دی جاتی ہیں ۔ یہ ایک عجیب منہاج ہے ‘ نہایت ہی مکمل اور انسانی نفسیات کے عین مناسب ۔ نفس انسانی کی لوح پر نئے خطوط کھینچے جاتے ہیں اور مختلف نقاط کے درمیان نئے وتر قائم ہوتے ہیں اور یہ تمام تاریں زمزمہ آرا ہیں اور ہر تارمضراب ربانی کی ضرب پر فورا حرکت میں آتی ہے ۔ واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ تمام موجودہ سوسائٹیوں سے مدینہ کی اسلامی سوسائٹی اپنے منہاج تربیت کے اعتبار سے اور اپنی اجتماعی تنظیم کے اعتبار سے بہت بڑی فوقیت رکھتی ہے اور اس تفوق کا مشاہدہ اس وقت کی پوری انسانیت بچشم سر کر رہی تھی اور یہ دیکھ رہی تھی کہ یہ نوخیز سوسائٹی ان مشکل حالات میں ایک طرف تو اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کا علاج کر رہی ہے اور دوسری جانب اپنے اردگرپھیلی ہوئی جاہلی سوسائٹیوں کو کھاتی چلی جاتی ہے ۔ وہ بتدریج ان پر غالب ہوتی جارہی ہے اور یہ غلبہ محض جنگی غلبہ نہیں بلکہ یہ ایک تہذیبی غلبہ ہے جس طرح جو ان تہذیب بوڑھی اور ازکار رفتہ تہذیبوں کو کھاتی چلی جاتی ہے ۔ ایک نیا نظام ہے جو پرانے نظاموں پر غالب ہو رہا ہے ۔ زندگی کا ایک نیا ماڈل دنیا کے سامنے شو روم میں سجایا گیا ہے ایک جدید دور اور ایک جدید انسان پیدا ہو رہا ہے ۔ اس قدر تبصرے کے بعد اب آیات ونصوص کا سامنا کریں۔
Ayah 4:96

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

اگرچہ ہر ایک کے لئے اللہ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے ‘ مگر اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے ان کے لئے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت اور رحمت ہے اور اللہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

(آیت) ” نمبر 95 تا 104۔ اس آیت میں اسلامی معاشرے کی ایک خاص صورت حال پر بحث کی گئی ہے ۔ اس وقت مسلمانوں کی صفوں میں بعض لوگوں کی طرف سے سستی پیدا ہو رہی تھی ۔ وہ اسلامی انقلاب کی راہ میں جان اور مال کی قربانی نہ دے رہے تھے ۔ یہ لوگ وہ تھے جو مکہ میں اپنی دولت بچانے کے لئے ہجرت میں تاخیر کر رہے تھے ‘ اس لئے کہ اہل مکہ کسی مہاجر کو اپنے ساتھ کوئی چیز لے جانے کی اجازت نہ دے رہے تھے ۔ یہ سستی اس وجہ سے بھی پیدا ہو رہی تھی کہ ہجرت کی راہ میں سخت مشکلات ‘ مصائب اور خطرات تھے ‘ اس لئے کہ مشرکین کمزور لوگوں کو سرے سے ہجرت کی اجازت ہی نہ دیتے تھے ۔ وہ انہیں پکڑ کر قید کردیتے ‘ ازیت دیتے یا اگر پہلے سے اذیت دی جارہی ہوتی تھی تو جس کے بارے میں انہیں شبہ ہوجاتا کہ یہ بھاگنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے مزید سخت اذیت دی جاتی چاہے ان آیات کا مدلول وہ لوگ ہوں جو دارالاسلام کو ہجرت کر کے منتقل نہ ہو رہے تھے ۔ (میں اسی رائے کو ترجیح دیتا ہوں) یا اس سے مراد خود دارالاسلام کے اندر موجود بعض لوگ ہو سکتے ہیں جو مالی اور جانی جہاد میں زیادہ پرجوش نہ تھے ۔ یہ لوگ ان لوگوں سے علیحدہ تھے جو جہاد کے معاملے میں سست رو اور پہلو تہی کرنے والے تھے اور جن کا ذکر سابقہ سبق میں ہوچکا ہے ۔ ہو سکتا ہے ان آیات کے معنی میں وہ سب لوگ شامل ہوں جو دارالاسلام مین تھے اور جہاد سے پہلوتہی کر رہے تھے اور منافق تھے ‘ یا مسلمان تھے مگر سست تھے یا وہ تھے جو سرے سے ہجرت ہی نہ کر رہے تھے کہ جہاد کریں ۔ بہرحال بعض حلقے ایسے تھے جو سستی کر رہے تھے اور یہ آیت ایسی ہی صورت حال سے بحث کر رہی ہے ۔ البتہ قرآن اس آیت میں مراد لوگوں کی تخصیص نہ کرتے ہوئے ایک عام قاعدے کے طور پر اصولی بات کرتا ہے ‘ جس کو زمان ومکان اور کسی ایک خاندان کی قید کے اندر مقید نہیں کیا جاتا اور بتاتا ہے کہ یہ اصول ہے کہ ہر دور میں اللہ تعالیٰ اس کا اطلاق اہل اسلام پر کرے گا ‘ کہ جو لوگ بغیر عذر بیماری اور لاچاری کے جہاد فی سبیل اللہ میں حصہ نہیں لیتے چاہے مالی جہاد ہو یا جانی اور اس کے لئے اگر ہجرت کی ضرورت ہو تو ہجرت نہیں کرتے اور اس کے مقابلے میں جو لوگ ہجرت کرتے ہیں اور جانی اور مالی قربانی دیتے ہیں وہ اللہ کے نزدیک ایک ہی مقام و مرتبہ کے نہیں ہو سکتے ۔ یہ ایک عام قاعدہ اور عام اصول ہے اور ہر زمان ومکان میں اس کا اطلاق ہوگا ۔ (آیت) ” (لایستوی القعدون من المومنین غیر اولی الضرر والمجھدون فی سبیل اللہ باموالھم وانفسھم (4 : 95) (مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان ومال سے جہاد کرتے ہیں دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے) اللہ تعالیٰ بات کو یہاں مجمل اور مبہم نہیں چھوڑتے بلکہ اسکی بھرپور وضاحت فرماتے ہیں اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ جانی اور مالی جہاد کرنے والوں کا درجہ بہت ہی بڑا ہے ۔ (آیت) ” (فضل اللہ المجھدین باموالھم وانفسھم علی القعدین درجۃ) (4 : 95) (اللہ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان ومال سے جاہد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے) مجاہدین کا جو درجہ اس آیت میں بیان ہوا ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے جنت میں ان کے مقام کی تفصیلات کو بتا کر واضح کیا ہے ۔ صحیحین میں ابو سعید الخدری ؓ کی حدیث میں ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کے لئے تیار فرمائے ہیں اور ہر ایک درجے کے درمیان اس قدر مسافت ہے کہ جس طرح زمین اور آسمانوں کے درمیان فاصلہ ہے ۔ اعمش نے عمرو ابن مرہ سے روایت کی ‘ جنہوں نے ابو عبیدہ کے واسطے سے حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے روایت فرمائی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ایک تیر مارا اسے ایک درجے کا اجر ملے گا ۔ تو ایک شخص نے پوچھا کہ حضور ایک درجہ کس قدر ہوگا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تمہاری ماں کے چوکھٹ یا سیڑھی کے مقدار کے برابر بہرحال نہ ہوگا ۔ دو درجوں کے درمیان سو سال کے سفر کا فاصلہ ہوگا ۔ حضور ﷺ نے جس مسافت کا ذکر کیا ہے ‘ آج کے دور جدید میں ہم اس کا تصور بڑی سہولت سے کرسکتے ہیں ۔ اس لئے کہ اس کائنات کے اندر ہمارا علم بڑی دوری تک جا پہنچا ہے ۔ ایک سیارے سے دوسرے سیارے تک روشنی کی رفتار سے بھی فاصلہ کئی نوری سالوں میں طے ہوتا ہے ۔ جو لوگ رسول خدا ﷺ کی بات اس وقت سنتے تھے وہ تو (امنا وصدقنا) کہتے تھے لیکن ہم دور جدید کے لوگ تو ان فاصلوں کو ناپ چکے ہیں اور اس کائنات کے دور دراز فاصلوں کو قریب لا چکے ہیں اور عجیب و غریب معلومات سامنے آگئی ہیں ۔ البتہ قرآن مجید میں مجاہدین فی سبیل اللہ کے درجات بلند کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ یہ بھی بتاتے ہیں کہ بغیر کسی عذر ومجبوری کے بیٹھنے والوں کے مقابلے میں اگرچہ مال وجان کے ساتھ جہاد کرنے والوں کے درجے بلند ہیں لیکن (آیت) ” (وکلا وعد اللہ الحسنی) (ہر ایک کے لئے اللہ نے بھلائی ہی کا وعدہ فرمایا ہے) محروم کوئی بھی نہیں ہے۔ بہرحال ایمان کا اپنی جگہ ایک بنیادی درجہ ہے ۔ ایمان کے تقاضے پورے کرنے والوں کے درجات حسب جدوجہد اور جہاد زیادہ ہیں۔ خصوصا جہاد بالمال اور جہاد بالنفس کرنے والوں کے درجات سب سے بلند ہیں۔ ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ درج بالا آیات میں بیٹھنے والوں سے مراد وہ منافقین نہیں ہیں جو جہاد سے پہلو تہی کرتے تھے یعنی (لمبطئین) البتہ یہ کچھ دوسرے لوگ تھے جو نہایت ہی صالح اور مخلص تھے لیکن جہاد فی المال اور جہاد فی النفس کے پہلو میں کمزور تھے قرآن کریم کی ان آیات میں روئے سخن انہی لوگوں کی جانب ہے ۔ ان کو جوش دلایا جاتا ہے کہ وہ اپنی ان کوتاہیوں کی تلافی کریں ۔ چونکہ ان لوگوں میں بھلائی کا مادہ موجود ہے اس لئے ان سے لبیک کہنے کی امید کی جاسکتی ہے ۔ یہ نوٹ اب ختم ہوتا ہے اور پہلے اصولی قاعدے کو اب پھر دہرایا جاتا ہے ۔ بہت ہی تاکید کے ساتھ ذرا مزید کھول کر اسے بیان کیا جاتا ہے تاکہ اس کے بدلے میں جو عظیم اجر ہے لوگ اس کے لوٹنے کے لئے دوڑیں ۔ (آیت) ”(وفضل المجھدین علی القعدین اجرا عظیما “۔ (95) درجت منہ ومغفرۃ ورحمۃ وکان اللہ غفور رحیما “۔ (96) (4 : 95۔ 96) ” مگر اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے ان کے لئے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت اور رحمت ہے اور اللہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے) یہ عظیم تاکید ‘ یہ خوبصورت وعدے ‘ مجاہدین کی یہ عظیم قدردانی اور بیٹھنے والوں کے مقابلے میں برتری درجات اور اجر عظیم کے اعلی مراتب کا ذکر جن کے لئے قلوب مومنین مشتاق رہتے ہیں ۔ پھر اللہ کی جانب سے تقصیرات اور گناہوں کی معافی کا یہ اعلان عام ‘ غرض ان تمام باتوں سے دو امور کا اظہار ہوتا ہے ۔ پہلی بات یہ ہے کہ یہ آیات ایسے حالات میں نازل ہوئیں جو اس وقت اسلامی معاشرے میں عملا موجود تھے اور یہ آیات ان کا مداوا کر رہی تھیں ، اس میں ہمیں ایک عمدہ سبق ملتا ہے وہ یہ کہ ہم انسانی فطرت کا صحیح طرح ادراک کرلیتے ہیں اور ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ انسانی جماعتوں کا مزاج کیا ہوتا ہے ۔ کوئی انسانی جماعت ایمان وعمل میں ‘ تقوی و برتری کے جس مقام پر بھی جاپہنچی ہو بہرحال اس پر ضعف ‘ حرص ‘ بخل اور کمزوریوں کے جو حالات بھی طاری ہوں اور فرائض اور خصوصا جہاد کے فریضے میں اس سے جہاں بھی کوتاہی صادر ہو خواہ یہ کوتاہی جہاد بالمال کی ہو ‘ جہاد بالنفس کی ہو یا فی سبیل اللہ جہاد میں خلوص کی کمی ہو تو ان کوتاہیوں کے ظہور کے وقت اسے تربیت اور اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اسے ضعف ‘ حرص ‘ بخل اور تقصیرات سے پاک کرنے کیلئے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ پالیسی مناسب نہیں ہے کہ ہم مایوس ہو کر اصلاح کے کام کو چھوڑ دیں اور سوسائٹی اپنی موجودہ گراوٹ سے مزید پستی میں گرتی چلی جائے ۔ اور ہم یہ کہہ دیں کہ سوسائٹی کی یہ واقعی صورت حال ہے اور ہمیں چاہئے کہ اسے قبول کرلیں اور معاشرے کے اندر جو ضعف ‘ حرص ‘ لالچ اور کو تاہیاں ہیں انہیں جوں کا توں چھوڑ دیں ۔ اور یہ نعرہ لگائیں کہ یہ تو معاشرے کے اندر موجود صورت حال ہے ۔ معاشرہ گرا ہوا ہے اور اسے اسی حالت میں رکھ کر اس کے ساتھ معاملہ کرنا چاہئے اصل بات یہ ہے کہ ہم معاشرے کے اندر اصلاح کی دعوت جاری رکھیں اور قرآنی منہاج کے مطابق معاشرے کو بلند سے بلند تر کرنے کی سعی کریں ۔ دوسری جو بات ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کے ہاں جہاد بالمال اور جہاد بالنفس کی کیا قدر و قیمت ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام زندگی کے مزاج کے اندر جہاد فی سبیل اللہ کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ اقامت دین کے طریقوں میں جہاد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔ ہر دور میں دین کے مخالفین کا مقابلہ جہاد ہی کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے سوا اور کوئی کامیاب طریقہ نہیں ہے ۔ جہاد فی سبیل اللہ حضور اکرم ﷺ کے دور تک ہی محدود نہیں ہے ۔ جس میں دور میں بھی دعوت اسلامی کا کام شروع ہوگا ‘ جہاد ضروری ہوگا ۔ بعض لوگوں کا یہ کہنا نہایت ہی غلط ہے کہ آغاز اسلام کے وقت دنیا میں دو بڑی شہنشاہتیں تھیں ‘ اس لئے اس وقت اہل اسلام نے اپنے ماحول سے متاثر ہو کر یہ سوچا کہ ان کے زندہ رہنے کے لئے قوت قاہرہ کی ضرورت ہے تاکہ طاقت کا توازن قائم ہو۔ جو لوگ یہ خیالات رکھتے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اسلام کو اچھی طرح نہیں سمجھا ہے اور ان کے یہ خیالات محض ظن وتخمین پر مبنی ہیں ۔ لیکن اگر اسلام میں فریضہ جہاد اسی طرح عارضی حالات کی وجہ سے ہوتا تو کتاب اللہ میں اس کا اس انداز سے بار بار ذکر نہ کیا جاتا اور سنت رسول اللہ ﷺ میں اس کی بار بار تاکید نہ کی جاتی ۔ اگر جہاد اسی طرح ایک وقتی بات تھی تو حضور اکرم ﷺ یہ نہ فرماتے کہ ” جو شخص مر جائے اور غزانہ کرے اور اس کے دل میں قتال فی سبیل اللہ کی خواہش بھی پیدا نہ ہو تو یہ شخص نفاق کی مختلف حالتوں پر سے ایک حالت میں مرے گا ۔ “ حضور ﷺ کا یہ فرمان نہایت ہی عام اور کامل و شامل ہے۔ جامع اور مانع ہے ۔ ہاں یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے بعض انفرادی حالات میں بعض لوگوں کو جہاد کی اجازت نہیں دی اور وہ بھی محض ان کے مخصوص خاندانی حالات کی وجہ سے ۔ صحیحین میں یہ حدیث موجود ہے کہ ایک شخص جہاد میں شمولیت کی غرض سے آیا تو حضور اکرم ﷺ نے سوال کیا کیا تمہارے والدین زندہ ہیں تو اس نے کہا : ہاں ۔ تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تم ان دونوں میں جہاد کرو۔ “ یہ ایک شخص کے لئے اس کے انفرادی حالات کے مطابق فیصلہ تھا اس سے عام قاعدہ مخصوص نہیں ہوتا ۔ پھر لاتعداد مجاہدین کے ہوتے ہوئے ایک شخص کی بعض اوقات ضرورت نہیں ہوتی ۔ ایک فرد سے قلت پیدا نہیں ہوتی ۔ نیز حضور اکرم ﷺ ایک ایک شخص کے حالات سے باخبر رہتے تھے ۔ ہوسکتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو معلوم ہوا ہو کہ اس شخص کے والدین کو سہارے کی بہت زیادہ ضرورت ہے اس لئے آپ ﷺ نے اسے یہ ہدایت فرمائی ۔ لہذا اس ایک شخص کی وجہ سے یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جہاد ایک وقتی عمل تھا ۔ اور حضور ﷺ کے دور کے ظروف واحوال کے مطابق ضروری تھا اور اب حالات بدل گئے ہیں اس لئے اب جہاد کی ضرورت نہیں ہے جہاد اس لئے فرض نہیں کیا گیا کہ اسلام کی پالیسی ہی یہ ہے کہ ننگی تلوار لے کر نکلو اور کفار سامنے آئیں ان کے سر گاجر مولی کی طرح کاٹتے چلے جاؤ ۔ لیکن لوگوں کی عملی زندگی اور اس دعوت اور تحریک کا مزاج یہی ہے تلوار ہمارے ہاتھ میں ہو اور ہم ہر وقت جہاد کے لئے تیار اور محتاط رہیں ۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اسلامی حکومت ایک ایسا نصب العین ہے جسے بادشاہ لوگ پسند نہیں کرتے ۔ اللہ کو یہ بھی معلوم تھا کہ برسراقتدار لوگ ہمیشہ اسلام کی راہ روکیں گے اس لئے کہ اسلام ان کے طریق زندگی اور ان کے نظام زندگی کے خلاف ہے ۔ یہ بات صرف کل تک محدود نہیں ہے ۔ کل بھی اقتدار پر براجمان لوگ اسلامی نظام کو پسند نہ کرتے اور کل بھی اسے پسند نہیں کریں گے ۔ ہر زمان اور ہر مکان میں ایسا ہی ہوگا اور ایسا ہی ہو رہا ہے ۔ اللہ کو علم تھا شر اور بدی ہمیشہ خود سر اور بےحیا ہوتی ہے ۔ بدی کبھی منصف نہیں ہوتی ۔ بدی کا مزاج یہ ہے کہ وہ خیر اور نیکی کو پنپنے نہیں دیتی چاہے نیکی انتہائی پرامن اور دوستانہ طریقہ کار کیوں نہ استعمال کرے اس لئے کہ بھلائی کا پھیلنا ہمیشہ شرک کے لئے خطرناک ہوتا ہے ۔ حق کا وجود ہی باطل کے لئے خطرہ ہوتا ہے اور شر دست درازی کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا ۔ لہذا باطل کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ سچائی کا گلا گھونٹ دے اور اسے قوت کے بل بوتے پر ختم کر دے ۔ یہ شر کی فطرت ہے اور شر پر یہ حالت عارضی طور پر طاری نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ شر کی حقیقی فطرت اور طبیعت ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جہاد فرض کیا گیا ہے ۔ ہر حالت میں جہاد فرض ہے ۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ جہاد انسان سب سے پہلے نفس کے خلاف شروع کرے ۔ اس کے بعد اس کا میدان جنگ وسیع ہو اور اس ظاہری دنیا کے واقعات و حالات کے اندر عملا بھی جہاد جاری ہو اور نظر آئے ۔ یاد رہے کہ مسلح شر کے مقابلے میں مسلح خیر کی ضرورت ہے اور اگر باطل کے پاس دفاعی قوت ہے تو حق کو بھی مکمل طور پر تیار ہونا ضروری ہے ۔ اگر باطل کے مقابلے میں تیاری نہ ہوگی تو سچائی خود کشی کرے گی اور اگر خود کشی نہ ہوگی تو محض گپ شپ ہوگی جو مومنین کے شایان شان نہیں ہے ۔ اسلام کی راہ میں جان ومال کی قربانی ضروری ہے ۔ یہی اللہ کا مطالبہ ہے ‘ اور اللہ نیت واہل ایمان کے مال اور جان کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے ۔ یا تو وہ غالب رہیں گے یا درجہ شہادت پائیں گے ۔ یہ ہے ٍٍٍٍٍٍٍاللہ کا حکم اور اسی میں حکمت پوشیدہ ہے ۔ رہے اہل ایمان تو ان کے لئے ان کے رب کے پاس دو اچھے انجام ہیں ۔ لوگ سب کے سب مرتے ہیں جب وقت پورا ہوتا ہے ‘ لیکن شہادت حق وہی ادا کرتے ہیں جو شہید ہوتے ہیں ۔ اس نظریہ حیات میں ایک مرکزی نکتہ ہے ‘ اور اسی نکتے کے اوپر اس کا عملی نظام قائم ہے ‘ اور یہ عملی نظام اپنے مقررہ خطوط پر آگے بڑھتا ہے ۔ اس خط اور مومن کا ایک مزاج ہے اور اس کی دو ٹوک فطرت ہے اور اس کے اندر ظروف واحوال کے لحاظ سے اور زمان ومکان کے اعتبار سے کوئی تغیر نہیں ہوتا ۔ یہ وہ نکتے ہیں جنہیں ایک حقیقی مومن کے تصور کے اندر روشن رہنا چاہئے چاہے حالات جیسے بھی ہوں ۔ انہیں بنیادی نکتوں سے جہاد کا عمل شروع ہوتا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات کہی ہے کہ یہ جہاد صرف اللہ کی راہ میں ہے ‘ صرف اللہ کے جھنڈے تلے ہے ‘ اس جہاد کے عمل میں جو مارے جاتے ہیں وہ شہداء ہوتے ہیں اور عالم بالا میں ان کا جنازہ بڑے دھوم سے اٹھتا ہے۔ اب جہاد کے عمل کے مقابلے میں بیٹھ جانے والوں میں سے ایک دوسرے فریق کو اسکرین پر لایا جاتا ہے ۔ یہ لوگ ابھی تک مکہ کے دارالکفر میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ہجرت نہیں کرتے ۔ ان کے کچھ مالی مفادات ہیں ‘ کچھ مصلحتیں ہیں ‘ یا ان کی فطری کمزوری انہیں بٹھائے ہوئے ہے ۔ یہ ہجرت کی مشکلات اور راستے کی تکالیف کے مقابلے کی ہمت اپنے اندر نہیں پاتے ۔ اگر وہ قربانی اور مشکلات کو برداشت کرنے کا عزم کرلیں تو وہ ہجرت کرسکتے ہیں ۔ اسکرین پر یہ مکہ ‘ دارالحرب مکہ ‘ کی جگہوں میں یونہی پھرتے ہیں کہ حضرت عزرائیل آگر ان سے ان کا متاع عزیز چھین لیتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کی حالت قرآن مجید کے اسکرین پر نہایت ہی خستہ حالت ہے ‘ نہایت ہی قابل نفرت ہے ‘ ہر وہ شخص جو جہاد سے دور بیٹھا ہے ۔ وہ یہ چاہے گا کہ وہ اپنے دین ‘ اپنے نظریہ حیات اور اللہ کے ہاں انجام بد کی اس صورت حال سے دور بھاگے اور اس نہایت ہی کریہہ منظر میں وہ ہر گز کھڑا نظرنہ آئے ۔
Ayahs 4:97–99

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

(جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے ان کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور ومجبور تھے ۔ فرشتوں نے کہا ‘ کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے ۔

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

ہاں جو مرد ‘ عورتیں اور بچے واقعی بےبس ہیں اور نکلنے کا کوئی راستہ اور ذریعہ نہیں پاتے ‘۔

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

بعید نہیں کہ اللہ انہیں معاف کر دے ۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے

(آیت) ” نمبر 97۔ 99۔ یہ آیت جزیرۃ العرب میں بطور واقعہ موجود صورت حال سے بحث کرتی ہے اور یہ صورت حال مکہ وغیرہ میں حضور اکرم ﷺ کی ہجرت کے بعد عملا موجود تھی ‘ جبکہ مدینہ میں اسلامی مملکت قائم ہوگئی تھی ۔ ابھی تک مکہ میں ایسے مسلمان موجود تھے جنہوں نے ہجرت نہ کی تھی ۔ یہ لوگ وہاں اپنی کچھ مصلحتوں اور اپنی جائیداد کی وجہ سے رہ گئے تھے ۔ حالات ایسے تھے کہ مشرکین مکہ کسی ایسے شخص کو جو ہجرت کر رہا ہوتا ‘ اپنے ساتھ کچھ لے جانے نہیں دیتے تھے ‘ یا یہ لوگ ہجرت کی تکالیف کی وجہ سے بیٹھے ہوئے تھے ‘ اس لئے کہ جو بھی ہجرت کرتا تھا اہل مکہ اس کی راہ روکتے اور اسے منع کرتے ۔ بعض لوگ ایسے بھی تھے جو حقیقتا ہجرت کرنے پر قادر ہی نہ تھے ۔ بعض بوڑھے تھے بعض عورتیں تھیں اور بعض بچے تھے ۔ ان لوگوں کے لئے ہجرت کرنے اور بھاگنے کی کوئی راہ سرے سے نہ تھی ۔ مسلمانوں میں جو لوگ مکہ میں رہ گئے تھے ان پر مکہ والوں نے بڑی سختیاں شروع کردی تھیں کیونکہ وہ لوگ حضور اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کو گرفتار کرنے میں ناکام ہوگئے تھے ۔ حضور اکرم ﷺ نے مدینہ میں حکومت قائم کرکے قریش کے قافلوں کو تنگ کرنا شروع کردیا تھا اور پھر جنگ بدر میں مسلمانوں پر سخت مظالم ڈھا رہے تھے ‘ ان کو مختلف قسم کی اذیتوں میں مبتلا کر رہے تھے ‘ اور سخت بوکھلاہٹ میں ظلم کررہے تھے ۔ بعض لوگوں کو انہوں نے عملا تشدد کرکے دین اسلام سے پھیر دیا تھا۔ بعض لوگ تقیہ کر کے کفر کا اظہار کر رہے تھے اور مشرکین کے ساتھ شرکیہ عبادات میں بظاہر شریک ہوتے تھے ، یہ تقیہ اس وقت ان کے لئے جائز تھا جب اسلامی حکومت نہ تھی اور ہجرت کرنے کے مواقع نہ تھے ۔ لیکن جب اسلامی مملکت کا قیام مدینہ طیبہ میں ہوگیا تو پھر انکا اس طرح فتنوں کے اندر قیام کرنا یا اپنے آپ کو تقیہ پر مجبور کرنا جائز اور معقول نہ تھا جبکہ وہ ہجرت بھی کرسکتے تھے اور دارالاسلام میں امن کی زندگی بھی بسر کرسکتے تھے ۔ ان حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں ۔ یہ لوگ محض دولت اور مصلحت کی وجہ سے ہجرت نہ کر رہے تھے ‘ یا وہ ہجرت کی تکالیف ومشکلات کی وجہ سے مکہ میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ایسے حالات میں اگر انکی موت واقعہ ہوگئی تو ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ظالم کا نام دیتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کر رہے تھے اس لئے کہ انہوں نے اپنے آپ کو دارالاسلام کی آزادانہ زندگی سے محروم رکھا ‘ جہاں وہ پاک وصاف اور شریفانہ اور اپنی مرضی کی زندگی بسر کرسکتے تھے ۔ جبکہ دارالکفر میں وہ ذلیل و خوار ‘ کمزور اور مظلوم ہو کر زندگی بسر کر رہے تھے ۔ اور ان پر مظالم ہو رہے تھے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جہنم میں رہیں گے جو بہت برا ٹھکانا ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان لوگوں کے لئے وعید ہے جنہوں نے فی الواقعہ ڈر کر کفر اختیار کرلیا تھا ۔ لیکن ایسے لوگوں کی تعبیر قرآن مجید نہایت ہی زندہ اور متحرک انداز میں کرتا ہے ۔ ان کے اور فرشتوں کے درمیان مکالمہ ہو رہا ہے اور یہ مکالمہ گویا زندہ افراد کے درمیان ایک اسٹیج پر ہو رہا ہے ۔ (آیت) ” (ان الذین توفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض قالوا الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروا فیھا (4 : 97) ٍ (جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے ان کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور ومجبور تھے ۔ فرشتوں نے کہا ‘ کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے ؟ ) قرآن انسانوں کی تربیت کر رہا تھا ‘ اس لئے اس کے پیش نظریہ ہدف تھا کہ وہ ان کے بھلائی اور عزت وشرف کے جذبے کو جوش میں لائے اور ان کے اندر ضعف ‘ بخل ‘ حرص اور سستی کے پائے جانے والے اوصاف کو ختم کرنے کی سعی کرے ۔ چناچہ اس منظر کی تصویر کشی میں قرآن کریم نے نہایت ہی حقیقی صورت حال کو پیش کیا ہے ۔ لیکن قرآن کریم اس تصویر کشی کو لوگوں کی اصلاح کے لئے استعمال کرتا ہے اور اس کے ذریعے نفوس انسانی کی اصلاح کی جاتی ہے ۔ موت کا وقت ہر انسان کے لئے خوفناک ہوتا ہے ۔ حالت نزع میں جو کچھ پیش آتا ہے انسان کے ذہن میں وہ تمام حالات بہت ہی تیزی کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اور پھر اس منظر میں فرشتوں کا اسٹیج پر آنا مزید خوفناک صورت حال پیدا کردیتا ہے اور انسان کے حواس بڑی تیزی سے کام کرتے ہیں ۔ یہ لوگ مکہ میں بیٹھے ہوئے ہیں اور نظر آتا ہے کہ یہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں اور ایسے ہی حالات میں فرشتے آ پہنچتے ہیں اور ان کی روح قبض کرنے لگتے ہیں ۔ چونکہ یہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں ‘ اس صورت حال سے ہر زندہ شخص متاثر ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ ایسے مظلومانہ حالات میں بیٹھے ہوئے ہیں اور فرشتے ان کی روح قبض کر رہے ہیں ۔ اب ان کے لئے کوئی موقعہ نہیں رہا ہے کہ وہ اپنے ساتھ انصاف کرتے ہوئے ہجرت کرلیں کیونکہ زندگی کا موقعہ تو ایک ہی بار آتا ہے ۔ اور یہ فرشتے ان کی روح کو خاموشی کے ساتھ قبض نہیں کرتے بلکہ وہ ان کے ماضی کو بھی سامنے لاتے ہیں اور نہایت ہی ناپسندیدہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ تم نے اپنی زندگی کے قیمتی ایام کن کاموں میں ضائع کئے ؟ دنیا میں ان کا شغل کیا تھا ‘ وہ کیا بلند مقاصد تھے جن کے لئے وہ دوڑ دھوپ کر رہے تھے ؟ (آیت) ” (قالوا فیم کنتم (4 : 97) (تم کن حالات میں رہے) کیونکہ یہ لوگ جن حالات میں رہے تھے ایسا تو نقصان ہی نقصان تھا۔ یعنی ان کے لئے وقت ضائع کرنے کے سوا کوئی اور مشغلہ ہی نہ تھا اور یہ لوگ جن پر حالت نزع طاری تھی حالت نزع میں جواب دیتے ہیں اور نہایت ہی ناپسندیدہ صورت حالات میں نہایت ہی ذلت کے ساتھ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ ان کے لئے معذرت ہو حالانکہ وہ ذلت ہے ۔ (آیت) ” (قالوا کنا مستضعفین فی الارض (4 : 97) (ہم تو زمین میں کمزور لوگ تھے) ہم کمزور تھے ‘ طاقتور لوگوں نے ہمیں دبا رکھا تھا ۔ ہم ذلیل و خوار تھے ۔ ہمارے ہاتھ میں کچھ نہ تھا ۔ ہر شخص اس بات سے نفرت کرے گا کہ حالت نزع میں اس کے ساتھ یہ مکالمہ پیش آئے اس لئے کہ اس سے ان لوگوں کی انتہائی بےبسی کا اظہار ہوتا ہے اور یہ کہ وہ پوری زندگی اس طرح بےبس ہو کر گزار گئے اور پھر بھی ملائکہ نے انہیں نہ چھوڑا جب وہ حالت نزع سے دوچار ہوئے تو ان کو یہ کہا گیا کہ تم نے موقعہ سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ (آیت) ” (الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروا فیھا “۔ (4 : 97) (کیا اللہ کی زمین بہت وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے) حقیقت یہ ہے کہ اس ذلت ‘ مسکنت ‘ فتنے اور کمزوری میں اپنے آپ کو وہ اس لئے مبتلا نہ کر رہے تھے کہ وہ فی الواقعہ ایسے حالات میں تھے اور لاچار تھے بلکہ کچھ اور اسباب تھے جن کی وجہ سے انہوں نے اس ذلت کو قبول کر رکھا تھا ۔ وہ لالچی تھے ۔ اور دنیاوی مصلحتوں کی وجہ سے وہ ہجرت نہ کر رہے تھے اور اسی وجہ سے وہ دارالکفر میں جمے ہوئے تھے جبکہ دارالاسلام موجود تھے ۔ یہ لوگ اپنے آپ کو تنگی میں رکھ رہے تھے حالانکہ اللہ کی سرزمین وسیع تھی ۔ ہجرت وہ کرسکتے تھے اور مشکلات کو وہ برداشت کرسکتے تھے ۔ (آیت) ” فاولئک فاوھم جھنم وسآءت مصیرا “۔ (4 : 97) (یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے) اس کے بعد مذکورہ بالانجام سے ان لوگوں کو مستثنی کیا جاتا ہے جو فی الواقعہ مجبور ہیں اور ان کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ وہ اس صورت حال سے نکل آئیں اور دارالاسلام تک پہنچ جائیں ۔ یہ لوگ بچوں ‘ ضعیف بوڑھوں اور عورتوں پر مشتمل ہیں ۔ ایسے لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کے کیسوں پر غور کیا جاسکتا ہے شاید یہ معاف ہوجائیں کیونکہ بظاہر ان کا عذر معقول ہے اور وہ مکہ سے مدینہ منتقل نہیں ہو سکتے ۔ (آیت) ” الا المستضعفین من الرجال والنساء والولدان لا یستطیعون حیلۃ ولا یھتدون سبیلا (98) فاولئک عسی اللہ ان یعفو عنھم وکان اللہ عفوا غفورا “۔ (99) (4 : 98۔ 99) (ہاں جو مرد ‘ عورتیں اور بچے واقعی بےبس ہیں اور نکلنے کا کوئی راستہ اور ذریعہ نہیں پاتے ‘ بعید نہیں کہ اللہ انہیں معاف کر دے ۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے) یہ حکم ابدالاباد تک رہے گا ۔ یہ احکام ان حالات تک ہی محدود نہیں ہیں جو اس وقت ایک متعین سوسائٹی میں مکہ مکرمہ میں پائے جاتے تھے بلکہ یہ عام احکام ہیں ۔ جس ملک میں بھی کوئی مسلمان اپنے دین کے معاملے میں مشکلات میں مبتلا ہو اور محض اپنی دولت اور جائیداد کی وجہ سے یا رشتہ داروں اور دوستوں کی وجہ سے وہ رہ رہا ہو اور محض اس ڈر سے رہ رہا ہو کہ اگر وہ اس ملک سے نقل مکانی کرے گا تو اسے مشکلات پیش آئیں گی بشرطیکہ دنیا کے کسی حصے میں دارالاسلام قائم ہو۔ اس میں لوگ امن سے رہ رہے ہوں اور اس ملک میں ایسا شخص اپنے عقیدے کا اظہار کھلے بندوں کرسکتا ہو ‘ وہاں وہ اللہ کے احکام اچھی طرح بجا لا سکتا ہو اور اسلامی شریعت کے مطابق پاک زندگی بسر کرسکتا ہو اور شریفانہ اور معزز زندگی گزار سکتا ہو ورنہ وہ مجبور تصور ہوگا۔ سیاق کلام انسانی نفوس کی تربیت کرتے ہوئے مزید آگے بڑھتا ہے ۔ وہ لوگ جو ہجرت کی مشکلات سے ڈرتے ہیں اور اس وجہ سے ہجرت کی ہمت نہیں کرتے ایسے لوگوں کے بارے میں آیات سابقہ میں تو ایک نہایت ہی موثر اور خوفناک منظر پیش کیا گیا تھا اور مسلمانوں کو اس صورت حال سے متنفر کیا گیا تھا ۔ اگلی آیات میں امید کی کرن دکھائی جاتی ہے ۔ کوئی ہجرت کرے چاہے دارالاسلام تک پہنچے یا راستے میں مر جائے اور حالت ہجرت میں اس کی موت واقعہ ہوجائے تو فرماتے ہیں کہ گھر سے نکلتے ہی ‘ اس کا اجر اس کا حق بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اسے بڑی وسعت نصیب ہوگی وہ آزادی سے زندگی بسر کرے گا اور اسے تنگی اور ترشی سے نجات ملے گی ۔
Ayah 4:100

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

(جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں پناہ لینے کے لئے بہت جگہ اور بسر اوقات کے لئے بڑی گنجائش پائے گا ‘ اور جو اپنے گھر سے اللہ اور رسول کی طرف ہجرت کے لئے نکلے ‘ پھر راستہ ہی میں اسے موت آجائے اس کا اجر اللہ کے ذمے واجب ہوگیا ‘ اللہ بہت بخشش فرمانے والا اور رحیم ہے

(آیت) ” نمبر 100۔ اس آیت میں قرآن کریم حیات نفس انسانی کے اندر پیدا ہونے والے متنوع وسوسوں کا مداوا کرتا ہے ۔ اس وقت کے موجود حالات میں ہجرت کرنے میں مشکلات نظر آتی تھیں اور ایسے ہی وسوسے ہر وقت لوگوں کے سامنے آتے رہتے ہیں جب بھی کوئی شخص اللہ کی خاطر نکلتا مصائب کا شکار ہوجاتا ۔ قرآن کریم ایسے نفوس کی تربیت ہی واضح طور پر کرتا ہے ۔ ان کو صاف صاف بتایا جاتا ہے اور کوئی بات چھپائی نہیں جاتی ۔ یہ نہیں کیا جاتا کہ اگر کوئی اقدام کرے تو اس سے پیش آنے والے خطرات کو چھپایا جائے بلکہ سب کچھ بتا دیا جاتا ہے ‘ جن میں موت اور جان تک قربان کرنے کے خطرات شامل ہیں ‘ لیکن قرآن کریم بعض دوسرے حقائق کے ذریعے اہل ایمان کو مطمئن بھی کرتا ہے اور ان حقائق کی ضمانت اللہ تعالیٰ خود دیتے ہیں ۔ یہاں کہا جاتا ہے کہ یہ ہجرت فی سبیل اللہ ہے اور اس کے علاوہ کسی اور غرض کے لئے نہیں ہے اور اسلام میں یہی ہجرت معتبر ہے ۔ یہ دولت کے لئے نہیں ہے ‘ یہ مشکلات سے بھاگنے کے لئے نہیں ہے یہ لذات وشہوات حاصل کرنے کے لئے بھی نہیں ہے ۔ غرض یہ دنیاوی مقاصد میں سے کسی مقصد کے لئے نہیں ہے اور جو شخص بھی اللہ کی راہ میں اور صرف اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا ‘ اسے دنیا میں بہت بڑی کشادگی ملے گی زمین اس پر تنگ نہ ہوگی ۔ رزق کی فراہمی کے معاملے میں بھی اس کے وسائل اور ذرائع محدود نہ ہوں گے اور ایمان اور اخروی نجات تو بہرحال حاصل ہوگی ۔ (آیت) ” ومن یھاجر فی سبیل اللہ یجد فی الارض مراغما کثیرا وسعۃ (4 : 100) (جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں پناہ لینے کے لئے بہت جگہ اور بسر اوقات کے لئے بڑی گنجائش پائے گا) یہ محض نفس انسانی کی کمزوری ‘ اس کا لالچ اور بخل ہے جو اس کے ذہن میں یہ وسوسہ پیدا کرتا ہے کہ وسائل رزق دنیا کی کسی ایک جگہ کے اندر محدود ہیں اور بعض حالات تک محدود ہیں ۔ اگر ان حالات اور ظروف سے کوئی نکل گیا تو اس کا رزق بند ہوجائے گا ۔ یہ دراصل رزق اور وسائل حیات کے سلسلے میں ایک نہایت ہی جھوٹا تصور ہے ۔ یہی وہ سوچ ہے جس کی وجہ سے انسان ذلت ‘ زیردستی اور دین اور ایمان کے فتنے کو قبول کرتا ہے اور پھر اس کا وہ انجام ‘ وہ برا انجام ہوتا ہے جو ان آیات میں مذکور ہے کہ ملائکہ ایسے لوگوں کی جان لے لیتے ہیں اور وہ اس حال میں ہوتے ہیں کہ اپنے اوپر ظلم کر رہے ہوتے ہیں ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرتے ہیں اچھے انجام کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو آزادی ملے گی اور وہ اللہ کی اس دنیا میں بہت ہی وسعت پائیں گے ۔ وہ یقینا دیکھ لیں گے کہ وہ جہاں بھی جائیں گے اللہ انہیں زندہ رکھے گا ‘ رزق دے گا اور آخرت میں نجات دے گا ۔ لیکن یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض لوگ دوران ہجرت ہی داعی اجل کو لبیک کہتے ہیں۔ موت تو ایک برحق واقعہ ہے اور اس کا تعلق اسباب ظاہرہ سے نہیں ہے ۔ جب مقررہ وقت آتا ہے تو موت حتما آتی ہے چاہے کوئی قیام کرے یا ہجرت کرے ۔ وہ نہ مقدم ہوتی ہے اور مؤخر ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ انسانی سوچ ظاہری ظروف واحوال کے اندر ہی رہتی ہے ۔ اس کی نظر میں موت کے ظاہری اسباب ہوتے ہیں اسلامی نظام ان کو بھی سامنے رکھ کر بات کرتا ہے چناچہ کہا جاتا ہے کہ راہ خدا میں گھر سے نکلتے ہی اللہ پر اجر لازم ہوجاتا ہے اور ایسے شخص کو مکمل ثواب ملے گا ۔ (آیت) ” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ ثم یدرکہ الموت فقد وقع اجرہ علی اللہ “۔ (4 : 100) (اور جو اپنے گھر سے اللہ اور رسول کی طرف ہجرت کے لئے نکلے ‘ پھر راستہ ہی میں اسے موت آجائے اس کا اجر اللہ کے ذمے واجب ہوگیا) ایسے شخص کو پوری تنخواہ ملے گی ‘ ہجرت کا اجر سفر کا اجر دارالاسلام میں پہنچنے اور تمام مشکلات جو وہاں تھیں ان سب کا اجر اسے ملے گا ۔ اس اجر اسے ملے گا ۔ اس کا ضامن اللہ ہے لیکن اس اجر کی ایسی ضمانت کے ساتھ یہ اشارہ بھی دیا جاتا ہے کہ اس کے گناہ بھی بطور پنشن اور الاؤنس معاف ہو سکتے ہیں اور مزید انعامات بھی مل سکتے ہیں ۔ یہ تمام مراعات اصل تنخواہ کے علاوہ ہیں ۔ (آیت) ” وکان اللہ غفورا رحیما “۔ (4 : 100) (اللہ بہت بخشش فرمانے والا اور رحیم ہے) بیشک یہ نہایت ہی نفع بخش سودا ہے ۔ اس میں ایک مہاجر فی سبیل اللہ پوری قیمت وصول کرلیتا ہے ۔ جونہی وہ قدم رکھتا ہے اور اللہ کی راہ میں نکلتا ہے اسے اجر ملتا ہے ۔ موت تو موت ہے اس کا جب وقت آتا ہے تو اس میں تقدیم وتاخیر نہیں ہوتی ۔ ہجرت کرنے اور کسی جگہ جمے رہنے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اگر کوئی شخص ایک ہی جگہ جم جائے تو بھی موت آئے گی اور سودے میں اسے نقصان ہوگا ۔ اسے کوئی اجر اور بخشش نہ ملے گی ‘ بلکہ ملائکہ اسے ظالم سمجھتے ہوئے اس کی روح قبض کرلیں گے ۔۔۔۔۔۔ دونوں حالتوں اور دونوں سودوں کے درمیان کس قدر فرق ہے ؟ـاور دونوں کا انجام کس قدر مختلف ہے ۔ اس پورے سبق سے نتائج کیا نکلتے ہیں ؟ اس سے ہمیں مختلف نتائج حاصل ہوتے ہیں ۔ اس سے پہلے کہ اس سبق کے دوسرے موضوعات پہ کلام ہو ذرا ان نتائج پر غور وفکرمکمل کرلیا جائے تو اچھا ہے ۔ (1) اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام جہاد فی سبیل اللہ میں شرکت نہ کرنے کو بہت ہی برا سمجھتا ہے ۔ نیز اسلام اسلامی جماعت سے علیحدہ اور دور رہنے کو بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھتا ‘ الا یہ کہ کوئی عذر ہو اور عذر یہ ہو کہ کوئی ہجرت کے سفر پر قادر نہ ہو یا اس کے لئے کوئی راستہ نہ ہو ۔ (2) اس سبق سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کے اندر جہاد فی سبیل اللہ کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ اور اسلامی نظام کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ عمل جہاد کو جاری رکھے ۔ شیعہ مکتب فکر تو جہاد کو ارکان اسلام میں سے ایک رکن شمار کرتا ہے کیونکہ اس کے حق میں بڑے قومی قرآنی دلائل ہیں ‘ جس سے ان کے مسلک کی توضیح اور تفسیر ہوتی ہے ۔ اگر یہ حدیث نہ ہوتی جس کا مضمون ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے تو ان کا مسلک درست ہوتا ۔ اس کے خلاف کوئی دلیل نہ ہوتی لیکن اسلام میں جہاد پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ اسلامی زندگی کے خطرات کے وقت اس کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے ۔ ہر دور اور ہر جگہ اس کی ضرورت پڑتی رہتی ہے اور اس کی ضرورت اسلام کا نہایت ہی فطری تقاضا ہے ۔ محض وقتی حالات کی وجہ سے نہیں ہے اس لئے کہ تمام دلائل و شواہد یہ بتاتے ہیں کہ اسلام میں جہاد ایک اساسی اور بنیادی فریضہ ہے ۔ (3) اس سبق سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان بہرحال انسان ہی ہوتا ہے ۔ نفس انسانی کے سامنے بعض اوقات مشکلات کا ہجوم ہوجاتا ہے ۔ کبھی انسان خطرات سے ڈر جاتا ہے ‘ کبھی وہ مشکلات کو دیکھ کر سست ہوجاتا ہے اور یہ کمزوریاں انسان سے نہایت ہی صالح ترین سوسائٹیوں اور خیر الاقروں میں بھی صادر ہوتی رہی ہیں ۔ لہذا کمزوریوں کا مداوا کرنے کے معاملے میں کبھی بھی ہمیں مایوسی کا شکار نہی ہونا چاہئے بلکہ اس معاملے میں جہد مسلسل جاری رہنی چاہئے ۔ لوگوں کو آمادہ کرنا چاہئے ۔ ان کو انجام کار کامیابی کے امکاناب بھی دکھانے چاہئیں ۔ وعظ و ارشاد ہر وقت جاری رہنا چاہئے اور یہ کام قرآن کے حکیمانہ اسلوب کے مطابق ہونا چاہئے ۔ (4) سب سے آخر میں اس سبق سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم اس زندگی کی اصلاح کے لئے کس طرح جدوجہد کر رہا تھا ۔ اور اس کے سامنے کس قدر واقعی مشکلات تھیں اور ان مشکلات میں قرآن نے اسلامی معاشرے کی قیادت کس طرح کی ۔ قرآن کو جس معرکے کا سامنا تھا وہ ہر میدان میں جاری تھا ۔ پہلا میدان نفس انسانی تھا ۔ اس کی فطرت اس کا مزاج اور اس کے اندر موجود جاہلی دور کی کمزوریاں وغیرہ تو ہمیں یہ بھی غور کرنا چاہئے کہ ہم قرآن کا مطالعہ کس اسلوب کے ساتھ کریں اور جب ہم انسانی نفس اور زندگی کے واقعی حالات ومشکلات کے اندر دعوت الی اللہ دیں تو کس طرح دیں ۔ اس کے بعد مہاجرین اور دوسرے مسافروں کے لئے نماز کے اندر قصر کرنے کی اجازت کا بیان آتا ہے ۔ سفر چاہے جہاد کے لئے ہوں یا تجارتی سرگرمیوں کے لئے ہوں ‘ نیز حالت خوف میں بھی قصر کی اجازت ہے ‘ یعنی ایسے حالات میں دشمن حملہ کر کے انہیں قید نہ کرلے اور اس طرح وہ فتنے میں مبتلا نہ ہوجائیں ۔ یہ قصر اس قصر سے علیحدہ ہے جو محض سفر کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ یہ خاص قصر ہے اور حالت خوف سے متعلق ہے ۔
Ayah 4:101

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 4:101 in the Quran reader

(اور جب تم لوگ سفر کے لئے نکلو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر نماز میں اختصار کر دو (خصوصا) جبکہ تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے کیونکہ وہ کھلم کھلا تمہاری دشمنی پر تلے ہوئے ہیں

(آیت) ” نمبر 101۔ جو شخص مسافر ہو ‘ اسے اپنے رب کے ساتھ دائمی تعلق کی ضرورت ہے ‘ تاکہ اللہ اس پر سفر کی مشکلات میں آسانیاں پیدا کر دے ۔ اس کی تیاریوں میں اس کی مداد ہو ‘ سامان سفر فراہم ہو اور راستے کی مشکلات اللہ اس کے لئے آسان کر دے ۔ نماز تعلق باللہ کا موثر ترین ذریعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مسلمانوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مشکلات اور تکالیف میں نماز سے امداد حاصل کریں ۔ جب خوف کا مقام ہو اور جب زندگی کی مشقتوں کا سامنا ہو تو حکم ہے کہ نماز سے معاونت حاصل کرو۔ (آیت) ” واستعنوا بالصبر والصلوۃ) (نماز اور صبر کے ذریعے اللہ کی امداد طلب کرو) یہی وجہ ہے کہ سفر و جہاد کے اس موضوع کے متصلا بعد اللہ تعالیٰ نے نماز کا ذکر کیا ۔ ایسے حالات میں نماز ایک مومن کا نہایت ضروری ہتھیار ہوتی ہے ۔ اگر کسی کو راستے میں خوف اور خطرے کے حالات درپیش ہوں تو ایسے حالات میں اسے صرف اللہ کی یاد سے اطمینان ہوتا ہے ۔ جو شخص اپنے ملک کو چھوڑتا ہے اس کے لئے اللہ کی درگاہ میں پہنچ جانا ہی باعث اطمینان ہوتا ہے ۔ ہاں یہ بات اپنی جگہ ہے کہ کامل نماز اور پورے رکوع اور سجود کے ساتھ نماز کی وجہ سے کبھی ہو سکتا ہے کہ ایک مومن پر دشمن حملہ آور ہوجائیں جو کہیں قریب ہی چھپے ہوں ۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دشمن اسے پہچان لیں ۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ طویل رکوع اور سجود میں اسے پکڑ لیں ‘ چناچہ جو لوگ جہاد کے لئے نکلیں ان کے لئے جائز ہے کہ وہ خوف کے وقت نماز کو مختصر کردیں ۔ یہاں قصر کے مفہوم اور تفسیر میں ہم اسی بات کو ترجیح دیتے ہیں جسے جصاص نے لیا ہے کہ اس قصر سے مراد رکعات میں قصر نہیں ہے اس لئے کہ یہ تو مطلق مسافر کے لئے جائز ہے خواہ حالت خوف ہو یا نہ ہو ‘ بلکہ سفر میں تو قصر لازمی ہے ۔ جس طرح حضور اکرم ﷺ نے قصر فرمائی اور ہر سفر میں فرمائی اس لئے کہ سفر میں راجح اقوال کے مطابق پوری رکعات پڑھنا جائز ہی نہیں ہے ۔ لہذا یہاں حالت خوف میں قصر سے مراد بالکل دوسری ہوگی اور یہ قصر مسافر کی قصر سے مختلف ہوگی ۔ یہ قصر نماز کی کیفیت میں ہوگی مثلا رکوع ‘ سجود اور قیام میں نہایت ہی سکون سے یہ ارکان سرانجام دینے میں قصر ہوگی ۔ یوں حالت خوف میں مسافر کے لئے چلتے ہوئے ‘ سواری کی حالت میں اور صرف اشارے سے بھی نماز جائز ہوگی اور اس طرح وہ اپنے رب کے ساتھ جڑا ہوا رہے گا ۔ حالت خوف اور حالت فتنہ میں بھی وہ اس ضروری ہتھیار سے مسلح ہوگا اور دشمن کے مقابلے میں محتاج بھی ہوگا اس لئے کہ (آیت) ” ان الکفرین کانوا لکم عدوامبینا “۔ (4 : 101) (بےشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں) مسافر اور مجاہد کی نماز میں حالت خوف میں قصر کے حکم کے بعد اور اسی مناسبت سے معرکہ کارزار میں اب صلوۃ الخوف کا حکم بھی یہاں دیا جاتا ہے ۔ اس خالص فقہی حکم کے اندر بھی نفسیاتی اور تربیتی اشارات کا وافر ذخیرہ دستیاب اور موجود ہے ۔