7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 7:113–126

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

اور جادو گر فرعون کے پاس آئے کہنے لگے کہ اگر ہم غالب ہوئے تو کیا ہم کو کوئی بڑا صلہ ملے گا ؟

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

فرعون نے کہا ہاں بیشک تم لوگ مقربین میں شامل ہوجاؤ گے

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

ان جادوگروں نے کہا کہ اے موسیٰ یا تو آپ ڈالیں یا ہم ڈالنے والے ہوجائیں

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ تم ہی ڈالو، سو جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور ان پر ہیبت غالب کردی اور بڑا جادو لے کر آئے

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ تم اپنی لاٹھی ڈال دو ، سو وہ اچانک ان کی بنائی ہوئی جھوٹی چیزوں کو نگلنے لگی

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

پس حق ظاہر ہوگیا اور وہ باطل ہوگیا جو انہوں نے بنایا تھا

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

سو وہ اس جگہ مغلوب ہوگئے

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

اور جادوگر سجدہ میں ڈال دئیے گئے

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

کہنے لگے کہ ہم ایمان لائے رب العالمین پر

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

جو موسیٰ کا اور ہارون کا رب ہے

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

فرعون نے کہا کیا تم اس سے پہلے اس پر ایمان لے آئے کہ میں تمہیں اجازت دوں، بلاشبہ یہ ایک بڑا مکر ہے جو تم سب نے مل کر اس شہر میں کیا ہے تاکہ تم اس کے ذریعہ شہر والوں کو نکال دو سو عنقریب تم جان لو گے

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

ضرور بالضرور میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دوں گا پھر تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

انہوں نے جواب میں کہا کہ بلاشبہ ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

اور تو جو ہم سے انتقام لے رہا ہے اس کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لے آئے جب وہ ہمارے پاس پہنچ گئیں۔ اے ہمارے رب ہم پر صبر ڈال دے اور ہمیں اس حالت میں موت دے کہ ہم اسلام پر ہوں۔

(1) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جادوگر ستر آدمی تھے۔ صبح کو وہ جادوگر اور شام کو وہ شہدا تھے۔ اور دوسرے الفاظ میں دن کے پہلے حصے میں وہ جادوگر تھے اور سن کے آخری حصہ میں وہ شہداء تھے جب ان کو قتل کردیا گیا۔ (2) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ فرعون کے جادوگر بارہ ہزار تھے۔ فرعون کے جادوگروں کی تعداد (3) امام ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ فرعون کے لئے پندرہ ہزار جادوگر جمع کئے گئے۔ (4) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابو ثمامہ (رح) سے روایت کیا کہ فرعون کے جادوگر ستر ہزار تھے اور دوسرے الفاط میں انیس ہزار تھے۔ (5) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ تیس ہزار سے کچھ اوپر جادوگر تھے ان میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں تھا جس کے ساتھ رسی اور لاٹھی نہ ہو۔ جب انہوں نے (لاٹھیوں اور سیوں کو) ڈالا کہ لوگوں کی آنکھوں کو جادوکر دیا اور ان کو ڈرایا۔ (6) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قاسم بن ابی بزہ (رح) سے روایت کیا کہ فرعون کے ستر ہزار جادوگر تھے۔ انہوں نے ستر ہزار رسیاں اور ستر ہزار لاٹھیاں زمین پت پھینکیں یہاں تک کہ ان کے جادو سے موسیٰ کو ایسا معلوم ہوا کہ وہ دوڑ رہی ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی اے موسیٰ اپنی لاٹھی کو ڈال دے۔ جب انہوں نے اپنی لاٹھی کو ڈالا تو اچانک بڑا اژدھا بن گیا اس نے اپنا منہ کھولا اور ان کی رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل گیا۔ اس وقت جادو گر سجدہ میں پڑگئے انہوں نے اپنے سروں کو نہیں اٹھایا یہاں تک کہ انہوں نے جنت کو دوزخ کو اور اس کے رہنے والوں کا انجام دیکھ لیا۔ (7) امام ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ وہ جادو گر جن کو اللہ تعالیٰ نے حالت اسلام پر موت دی وہ اسی ہزار تھے۔ (8) امام ابو الشیخ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ تین سو جادو گر قرم کے رہنے والے تھے۔ تین سو قریش میں سے تھے۔ اور وہ شک کرتے تھے کہ تین سو کے بارے میں کہ وہ اسکندریہ کے رہنے والے تھے۔ (9) امام عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قالوا ان لنا لاجرا “ کے بارے میں فرمایا کہ ہمارے لئے کیا عطا اور فضیلت ہوگی۔ (10) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” فلما القوا “ یعنی انہوں نے موٹی رسیاں اور لمبی لکڑیاں زمین پر پھینکیں جو آدمی بھی ان کو دیکھتا تو ان کے جادو سے ایسا معلوم ہوتا کہ وہ دوڑ رہی ہیں۔ (11) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واوحینا الی موسیٰ ان الق عصاک “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ جو کچھ تیرے داہنے میں ہے اس کو نیچے ڈال دے انہوں نے اپنی لاٹھی کو ڈال دیا تو اس نے ہر سانپ کو کھالیا جب جادو گروں نے اس بات کو دیکھا تو وہ سجدہ میں گرپڑے۔ (12) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واوحینا الی موسیٰ ان الق عصاک “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ سانپ کی شکل میں بن گئی تو اس نے ان کے سب جادو کو کھالیا اور ان کی لاٹھیوں اور رسیوں کو بھی۔ (13) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” تلقف ما یافکون “ سے مراد ہے کہ جو وہ جھوٹ بولتے تھے۔ (14) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” تلقف ما یافکون “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ نگل گیا ان کی رسیوں اور لاٹھیوں کو۔ فرعون کے جادوگروں نے ایمان قبول کیا (15) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ جادو گروں نے کہا جب وہ اکھٹے ہوئے اگر وہ جادو لے آیا ہے تو وہ ہرگز غالب نہ ہوگا۔ اور اگر وہ اللہ کی طرف سے ہے تو ابھی تم دیکھ لو گے جب انہوں نے اپنی لاٹھی ڈالی تو اس نے کھالیا جو کچھ انہوں نے اپنے جادو سے جھوٹ بنا لیا تھا اور پھر وہ اپنی حالت پر لوٹ گئی جیسا کہ ان کو یقین ہوگیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس وقت وہ سجدہ کرتے ہوئے گرپڑے۔ اور انہوں نے کہا ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے۔ (16) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے ابن مسعود اور صحابہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا کہ ملاقات کی موسیٰ اور جادوگروں کے امیر نے موسیٰ نے اس سے فرمایا تو بتا اگر میں تجھ پر غالب آگیا تو مجھ پر ایمان لائے گا اور تو اس بات کی گواہی دے گا کہ میں جو چیز لایا ہوں وہ سچی ہے۔ جادوگر نے کہا میں کل ایسا جادو لاؤں گا اس پر کوئی جادو غالب نہ ہوگا۔ اللہ کی قسم ! اگر تو مجھ پر غالب ہوگیا تو میں تیرے ساتھ ضرور ایمان لاؤں گا اور میں ضرور گواہی دوں گا کہ بلاشبہ تو سچا ہے۔ اور فرعون ان کی اس کیفیت کو دیکھ رہا تھا۔ اور یہ فرعون کا قول ہے ” ان ھذا لمکر مکرتموہ فی المدینۃ “ بیشک یہ ایک فریب ہے جو تم نے شہر میں کیا تھا جب تم دونوں ایک دوسرے کی مدد کے لئے ملے تھے۔ کیا تم دونوں اس کے رہنے والوں کو نکالنا چاہتے ہو۔ (17) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” فوقع الحق “ سے مراد ہے حق ظاہر ہوگیا۔ لفظ آیت ” وبطل ما کانوا یعملون “ یعنی وہ جھوٹ چلا گیا جو وہ فریب کرتے تھے وہ ختم ہوگیا۔ (18) امام ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والقی السحرۃ سجدین “ کہ انہوں نے اپنے وہ محلات اور منازل دیکھ لئے جو ان کے لئے بنائے جائیں گے۔ اور وہ لوگ اپنے سجدوں میں تھے۔ (19) امام ابن ابی حاتم نے اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ جب جادوگر سجدہ میں گرگئے تو ان کے لئے جنت کو بلند کردیا گیا یہاں تک کہ انہوں نے اس کی طرف دیکھ لیا۔ (20) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان ھذا لمکر مکرتموہ فی المدینۃ لتخرجوا “ کہ بیشک یہ ایک فریب ہے جو تم نے شہر میں کیا تھا جب تم دونوں ایک دوسرے کی مدد کے لئے ملے تھے۔ تاکہ تم نکال دوگے شہر سے ان کے رہنے والوں کو لفظ آیت ” لاقطعن ایدیکم “ تو فرعون نے کہا میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دوں گا چناچہ اس نے انہیں قتل کردیا اور ان کے ہاتھ پاؤں اپنے کہنے کے مطابق کاٹ دئیے۔ (21) امام ابن ابی حاتم نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ جادوگروں کے سرداروں میں سے وہ لوگ جن کو فرعون نے موسیٰ کے لئے جمع کیا تھا۔ ان کے بارے میں یہ بات مجھ کو پہنچی ہے کہ ان کے نام یہ تھے سابور، عاذور، حطحط مصفی یہ چار آدمی تھے جو ایمان لائے جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قوت اور طاقت کو دیکھا پھر ان کے ساتھ سارے جادوگر ایمان لے آئے۔ (22) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابھی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ فرعون پہلا آدمی تھا جس نے سولی پر لٹکایا اور وہ پہلا آدمی تھا جس نے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹے۔ (23) امام عبد بن حمید اور ابن منذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب انہوں نے پھینک دیا جو کچھ ان کے ہاتھوں میں تھا جادو میں سے (پھر موسی) نے اپنی لاٹھی کو ڈالا اور اچانک وہ ایک بڑا اژدھا بن گیا۔ اس نے مثل چکی کے اپنے منہ کو کھولا اور اس نے اپنا ایک ہونٹ زمین پر رکھا اور دوسرے ہونٹ کو اوپر اٹھایا اور ان کو رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل گیا پھر موسیٰ اس کی طرف آئے اور اس کو پکڑ لیا تو وہ لاٹھی بن گئی جیسے تھی بنی اسرائیل سجدہ میں گرپڑے اور کہا ہم ایمان لے آئے موسیٰ اور ہارون پر فرعون نے کہا ” امنتم بہ قبل ان اذن لکم “ (تم اس پر ایمان لے آئے پہلے اس کے میں تم کو اجازت دیتا) اور زمین میں پہلا آدمی تھا جس نے زمین میں (لوگوں کو) سولی دی (24) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” لاقطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف “ کے بارے میں فرمایا ہاتھ یہاں سے اور پاؤں وہاں سے۔ (یعنی ایک سمت سے تمہارا ہاتھ اور دوسری سمت سے تمہارا پاؤں) (25) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ وہ (جادوگر) دن کے پہلے حصے میں جادو گر تھے اور اس آخری حصے میں شہید تھے۔
Ayahs 7:127–128

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یوں ہی چھوڑ دے گا تاکہ وہ زمین میں فساد کریں اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑے رہیں۔ اس نے کہا کہ ابھی ہم ایسا کریں گے ان کے بیٹوں کو مار ڈالیں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دیں گے اور ہم کو ان پر پوری طرح غلبہ حاصل ہے

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، بلا شبہ یہ اللہ کی زمین ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بنائے اور عاقبت متقیوں کے لئے ہی ہوتی ہے

(1) امام فریابی، عبد بن حمید، ابو عبیدہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن الانباری نے مصاحف میں اور ابو الشیخ نے چند طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” ویذرک والھتک “ یعنی (فرعون کے سرداروں نے کہا) کہ موسیٰ تجھے اور تیری عبادت کو چھوڑے رہے اور فرمایا کہ فرعون کی عبادت کی جاتی تھی اور وہ خود کسی کی عبادت نہیں کرتا تھا۔ (2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویذرک والھتک “ یعنی وہ چھوڑے رہے تیری عبادت کو۔ (3) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویذرک والھتک “ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) تجھے اور تیری عبادت کو چھوڑے رہے۔ (4) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے ضحاک (رح) سے نقل کیا کہ انہوں نے کہا تم یہ آیت کیسے پڑھتے ہو ” ویذرک “ تو انہوں نے کہا (اس طرح) ” ویذرک والہتک “ ضحاک نے فرمایا یہاں ” والھتک “ عبادت کے معنی میں ہے۔ ، کیا تو نہیں جانتا کہ فرعون کہتا تھا ” اناربکم الاعلی “ (میں تمہارا بڑا رب ہوں) (5) امام عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ویذرک والھتک “ کے بارے میں کہا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ (اس سے) وہ بتوں کو مراد نہیں لیتے تھے بلکہ وہ ” الہتک “ سے ان کی مراد تعظیم تھی یعنی موسیٰ (علیہ السلام) تجھے اور تیری تعظیم کو چھوڑ رہے ہیں۔ (6) امام ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ویذروک والھتک “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اس سے بتوں کو مراد نہیں لیتے تھے بلکہ وہ (اس سے) اس کی تعظیم مراد لیتے تھے۔ فرعون کا معبود کون تھا (7) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سلیمان تیمی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے بکر بن عبد اللہ کے پاس یہ آیت ” ویذرک والھتک “ پڑھی بکر (رح) نے پوچھا کیا تو اس کو عربی زبان میں جانتا ہے۔ میں نے کہا ہاں پھر حسن (رح) گئے تو بکر (رح) نے مجھے پڑھنے کو کہا چناچہ میں نے اسی طرح آیت پڑھی تو حسن نے فرمایا لفظ آیت ” ویذرک والھتک “ میں نے حسن سے کہا کیا فرعون کسی چیز کی عبادت کرتا تھا فرمایا اللہ کی قسم وہ البتہ عبادت کرتا تھا سلیمان تیمی (رح) نے فرمایا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ اسنے اپنی گردن میں کوئی چیز ڈال رکھی تھی جس کی وہ عبادت کرتا تھا فرمایا اور مجھ کو یہ بات بھی ابن عباس سے پہنچی ہے کہ وہ گائے کی عبادت کرتا تھا۔ (8) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ویذرک والھتک “ کے بارے میں فرمایا کہ کئی الہ تھے جن کی وہ چھپے ہوئے عبادت کرتا تھا۔ (9) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب جادو گر ایمان لے آئے تو بنی اسرائیل میں سے چھ لاکھ آدمیوں نے بھی موسیٰ کی اتباع کی۔
Ayah 7:129

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ ہم کو آپ کے آنے سے پہلے تکلیفیں دی جاتی رہی ہیں اور آپ کے آنے کے بعد بھی، انہوں نے جواب میں کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دے، پھر وہ دیکھے گا کیسے عمل کرتے ہو ؟

(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قالوا اوذینا من قبل ان تاتینا ومن بعد ما جئتنا “ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے کہا کہ ہم تو تکلیف دئیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجنے سے پہلے اور اس کے بعد بھی۔ (2) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ سے فرمایا کہ فرعون نے ہم کو آپ کے آنے سے پہلے دودھ کا پابند کیا کرتا تھا آپ کے آنے سے پہلے جب آپ تشریف لے آئے تو قوم کو دودھ کے ساتھ بھوسہ کا بھی پابند بنا رکھا ہے۔ موسیٰ نے دعا کی اے میرے رب تو فرعون کو ہلاک کر دے تو کب تک اس کو باقی رکھے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی بیشک انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا جس کے بدلے وہ ان کو ہلاک کر دے۔ (3) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک تمہارے ساتھ اہل بیت ہیں وہ غالب رہیں گے اور مہر لگائیں گے پس بنو ہاشم کی حکومت کا ہونا ضروری ہے۔ سو جن میں تم رہ رہے ہو ان میں بنی ہاشم کو تلاش کرو۔ اور ان کے بارے میں (یہ آیت) نازل ہوئی۔ لفظ آیت ” قال عسی ربکم ان یہلک عدوکم ویستخلفکم فی الارض فینظر کیف تعملون “ (عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور زمین میں تمہیں ان کا جانشین بنا دے گا پھر وہ دیکھے گا تم کیسے عمل کرتے ہو۔
Ayah 7:130

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

اور یہ بات واقعی ہے کہ ہم نے فرعون والوں کو قحط سالی کے ذریعہ اور پھلوں میں کمی کے ذریعہ پکڑ لیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں

(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منزر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن مسعود سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولقد اخذنا ال فرعون بالسین “ میں ” السنون “ سے مراد ہے بھوک۔ (2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لقد اخذنا ال فرعون بالسنین “ یعنی آفات (کہ ہم نے ان کو طرح طرح کی آفات سے پکڑا) ” ونقص من الثمرت “ اس کے علاوہ (پھلوں کے نقصان سے) (3) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولقد اخذنا ال فرعون بالسنین “ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پکڑا قحط سالی کے ساتھ اور بھوک کے ساتھ سالہا سال لفظ آیت ” ونقص من الثمرت “ (اور پھلوں میں کمی کے ساتھ) جنگل میں رہنے والے اور جانور رکھنے والوں کے لئے تھی۔ اور پھلوں میں کمی ان کے شہروں اور دیہاتوں میں رہنے والوں کے لئے تھی۔ (4) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے رجاء بن حیوۃ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ونقص من الثمرت “ کے بارے میں فرمایا کہ پھلوں میں پیداوار کی کمی اس حد تک تھی کہ کھجور کے درخت پر سوائے ایک ایک خشک کھجور کے کوئی پھل نہیں پکتا تھا۔ فرعونیوں پر قحط کا عذاب (5) امام حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون والوں کو قحط سالی سے پکڑا تو ان کے لئے ہر چیز خشک ہوگئی۔ ان کے مویشی مرگئے۔ یہاں تک کہ نیل مصر بھی خشک ہوگیا۔ وہ لوگ فرعون کے پاس اکھٹے ہوئے اور اس کو کہا اگر تو ایسا ہی ہے جیسے تو گمان کرتا ہے تو ہمارے لئے نیل مصر میں پانی لے آ۔ اس نے کہا صبح کو تم کو پانی مل جائے گا۔ جب لوگ اس کے پاس سے چلے گئے تو اس نے کہا میں نے کونسی شے بنائی ہے ؟ کیا میں قادر ہوں کہ نیل مصر میں پانی کو جاری کر دوں۔ صبح سویرے میں جاؤں گا تو وہ مجھ کو جھٹلائیں گے جب آدھی رات تھی تو وہ اٹھا اور غسل کیا اور اون کا جبہ پہنا۔ پھر وہ ننگے پاؤں نکلا یہاں تک کہ نیل مصر پر آیا اور اس کے درمیان میں کھڑا ہوگیا اور کہا اے اللہ بلاشبہ تو جانتا ہے کہ میں بھی جانتا ہوں کہ آپ قادر ہیں اس بات پر کہ نیل مصر کو پانی سے بھر دیں تو اس کو بھی دیجئے (کچھ دیر بعد) اسے یقین ہوگیا پانی کا ریلا آئے گا تو وہ باہر نکل آیا۔ اور دریائے نیل پانی کے ساتھ ابلنے لگا جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ کیا۔
Ayah 7:131

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

پھر جب آجاتی ان کے پاس خوشحالی تو کہتے تھے کہ یہ تو ہمارے لئے ہونی چاہئے اور اگر انہیں کوئی بدحالی پہنچ جاتی تو موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتاتے تھے۔ خبردار ان کی نحوست اللہ کے علم میں ہے لیکن ان میں بہت سے لوگ نہیں جانتے

(1) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فاذا جاء تھم الحسنۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے جب ان کو عافیت اور خوشحالی پہنچتی ” قالوا لنا ھذہ “ تو کہتے کہ ہم اس کے زیادہ لائق ہیں۔ ” وان تصبھم سیءۃ یطیروا “ جب ان کو مصیبت اور تنگی پہنچتی ” یطیروا یموسی “ تو موسیٰ کے ساتھ بدشگونی لیتے تھے۔ (2) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الا انما طیرھم “ یعنی ان کی مصیبتیں (اللہ کی طرف سے ہیں) ان کے گناہوں کے بدلے میں۔ (3) امام ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الا انما طئرہم عند اللہ “ یعنی ان کے مصائب کا حکم اللہ کی طرف سے ہے۔ (4) امام ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الا انما طئرھم عنداللہ “ کہ حکم اللہ کی طرف سے ہے۔ جو کچھ بھی ان کو پہنچا ہے اللہ کے حکم سے پہنچا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کے اعمال کا بدلہ ہے۔
Ayah 7:132

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

اور وہ کہنے لھے تو جب کبھی بھی کوئی نشانی ہمارے سامنے لائے گا تاکہ تو اس کے ذریعہ ہم پر جادو کرے سو ہم تیری تصدیق کرنے والے نہیں ہیں

(1) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وقالوا مھما تاتنا بہ من ایۃ “ کے بارے میں فرمایا اگر تو کوئی نشانی لے کر آئے ہمارے پاس تو انہوں نے کہا کہ اس میں مازائدہ ہے۔
Ayah 7:133

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

سو ہم نے اب پر طوفان بھیج دیا اور ٹڈیاں اور گھن کا کیڑا اور مینڈک اور خون، یہ نشانیاں تھیں کھلی ہوئی۔ سو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے

(1) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ طوفان سے مراد ہے موت۔ (2) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ ” الطوفان “ سے موت مراد ہے۔ (3) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” الطوفان “ سے مراد ہے ہر حال میں موت۔ (4) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الطوفان “ سے مراد ہے ان کو غرق کرنا۔ (5) امام ابن حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الطوفان “ سے مراد ہے کہ آٹھ دن تک دن اور رات برابر بارش ہوتی رہی۔ اور ” القمل “ سے مراد ہے ایسی ٹڈی جس کے پر نہ ہوں۔ (6) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الطوفان “ سے مراد ہے کہ ایک حکم ہے تیرے رن کے حکموں میں سے پھر (یہ آیت پڑھی) ” فطاف علیہا طائف من ربک “ (القلم آیت 19) (پس چکر لگایا اس باغ پر ایک چکر لگانے والے نے آپ کے رب کی طرف سے) (7) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کی قوم پر طوفان کو بھیجا اور وہ بارش کو ہٹا دے تو ہم تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور تیرے لئے ہم بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے موسیٰ نے دعا فرمائی تو بارش ہٹ گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس سال میں ان کے لئے کھیتی اور گھاس اگائی جو اس سے پہلے نہیں اگی تھی کہ یہی بات ہے جس کی ہم آرزو کرتے تھے (اور ایمان نہ لائے) پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر ٹڈی کو بھیجا اور ان پر مسلط کردیا۔ جب انہوں نے اس کو دیکھا تو سمجھ گئے کہ کھیتی نہیں بچے گی انہوں نے پھر اسی طرح کہا (کہ ہمارے لئے دعا کیجئے ہم سے یہ ہٹ جائے تو ہم ایمان لائیں گے) موسیٰ نے اپنے رب سے دعا فرمائی تو ٹڈیاں ہٹ گئیں پھر انہوں نے غلے کو گاھا اور اس کو جمع کرلیا گھروں میں کہنے لگے ہم نے غلہ جمع کرلیا ہے۔ (اب ہمیں کوئی پرواہ نہیں) اللہ تعالیٰ نے ان پر جوئیں بھیج دیں وہ ایک گھن ہے جو غلہ میں سے نکلتا ہے ایک آدمی دس چمڑے کے تھیلے گیہوں سے بھر کرچکی کی طرف لے جاتا تھا اور اس میں سے تین فقیز (غلہ کا ایک پیمانہ) بھی (آٹا) نہیں واپس آتا تھا۔ پھر انہوں نے (موسیٰ کو) اسی طرح (دعا کے لئے) کہا (یہ عذاب) ان سے دور ہوگیا تو پھر انہوں نے بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیجنے سے انکار کردیا۔ اس درمیان کہ موسیٰ فرعون کے پاس تھے اچانک انہوں نے نہر میں سے مینڈک کے ٹرانے کی آواز سنی موسیٰ نے فرمایا اے فرعون تو اور تیری قوم اس مینڈک سے مل چکے ہیں۔ اس نے کہا کیا وہ اس مینڈک کے قریب ہے ابھی شام نہیں ہوئی تھی یہاں تک کہ ہر آدمی اپنی ٹھوڑی تک مینڈکوں میں تھا ان میں جو آدمی بات کرتا تھا تو اس کے نہ میں مینڈک داخل ہوجاتا تھا۔ کوئی برتن ایسا نہیں تھا جو مینڈکوں سے بھرا ہوا نہ ہو۔ پھر انہوں نے اس طرح (دعا کے لئے) کہا تو ان سے یہ (عذاب) دور ہوا لیکن انہوں نے وعدہ پورا نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر خون کو بھیج دیا۔ ان کی نہریں خون (سے سرخ) ہوگئیں۔ ان کے کنوئیں بھی خون بن گئے۔ ان لوگوں نے فرعون سے اس کی شکایت کی۔ اس نے کہا افسوس ہے تم پر تم جادو کئے گئے ہو۔ کہنے لگے ہم اپنے پانی میں سے کوئی چیز نہیں پاتے کسی برتن میں نہ کسی کنویں میں نہ کسی نہر میں مگر ہم پاتے ہیں اس میں تازہ خون کے ذائقہ کو۔ فرعون نے کہا اے موسیٰ ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ ہم سے خون کو دور کرے (دعا فرمائی) تو یہ عذاب ہٹ گیا مگر انہوں نے وعدہ پورا نہ کیا۔ فرعون کی قوم پر بارش کا عذاب (8) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فارسلنا علیہم الطوفان “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ بارش تھی یہاں تک کہ وہ ہلاکت کا خوف کرنے لگے۔ موسیٰ کے پاس آئے اور کہا اے موسیٰ اپنے رب سے ہمارے لئے دعا فرمائیے کہ ہم سے اس بارش کو ہٹا دے تو ہم تجھ پر ایمان لائیں گے۔ اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ انہوں نے اپنے رب سے دعا فرمائی تو ان سے بارش ہٹ گئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی کھیتیوں کا اگایا اور ان کے شہروں کو سرسبز کردیا کہنے لگے ہم نہیں پسند کرتے کہ بارش نہ ہو اور ہم اپنے معبودوں کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے اور تجھ پر ایمان نہ لائیں گے۔ اور ہم ہرگز تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو نہ بھیجیں گے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ٹڈی کو بھیج دیا تو اسنے ان کی کھیتیوں کو اور ان کے پھلوں کو بڑی تیزی سے خراب کرنا شروع کردیا۔ کہنے لگے : اے موسیٰ اپنے رب سے ہمارے لئے دعا کیجئے کہ ہم سے ٹڈی کو ہٹا دے ہم عنقریب تجھ پر ایمان لے آئیں گے۔ اور تیرے لئے بنی اسرائیل کو بھی بھیج دیں گے موسیٰ نے اپنے رب سے دعا فرمائی تو ان سے ٹڈی ہٹ گئی اور ان کی فصلوں اور دیگر حاجات زندگی میں سے کچھ باقی تگا۔ کہنے لگے ہمارے لئے اتنا (مال) بچ گیا ہے جو ہم کو کافی ہوگا ہم ہرگز تجھ پر ایمان نہیں لاتے اور ہم ہرگز تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو نہ بھیجیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر چیچڑی کو بھیج دیا وہ چیچڑی اس میں داخل ہوگئی جو ٹڈی نے چھوڑا تھا۔ اب گھبرائے اور ہلاکت سے ڈرے تو کہنے لگے اے موسیٰ اپنے رب سے ہمارے لئے دعا فرمائیے کہ ہم سے اس چیچڑی کو دور کر دے۔ عنقریب ہم تیرے لئے ایمان لائیں گے۔ اور ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھی بھیج دیں گے آپ نے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے نجات دی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر مینڈکوں کو بھی دیا۔ ان کے گھر اس سے بھر گئے اس سے ان کو شدید تکلیف پہنچی اس طرح کبھی ایسی تکلیف نہ پہنچی تھی ان کی ہانڈیوں میں مینڈک کود جاتے تھے اور ان کے کھانے کو خراب کردیتے تھے اور ان کی آگ کو بجھا دیتے تھے۔ کہنے لگے موسیٰ اپنے رب سے ہمارے لئے دعا کرو کہ ہم سے مینڈکوں کو دور کر دے ہم کو ان سے بہت تکلیف اور مصیبت پہنچتی ہے ہم عنقریب تجھ پر ایمان لائیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھی بھیج دیں گے موسیٰ نے اپنے رب سے دعا فرمائی تو ان سے مینڈک دور ہوگئے۔ کہنے لگے ہم تجھ پر ایمان نہیں لائے نہ ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیجتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان پر خون کو بھیج دیا وہ نہیں کھاتے تھے مگر خون کو۔ اور نہیں پیتے تھے مگر خون کو کہنے لگے اے موسیٰ اپنے رب سے ہمارے لئے دعا کرو کہ خون کو دور کر دے تو عنقریب تجھ پر ایمان لائیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھی بھیج دیں گے۔ موسیٰ نے اپنے رب سے دعا فرمائی تو ان سے خون (کا عذاب) دور ہوگیا کہنے لگے اے موسیٰ ہم تجھ پر ہرگز اہمان نہ لائیں گے اور ہم ہرگز تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو نہ بھیجیں گے۔ یہی واضح نشانیاں تھیں جو ایک دوسرے کے پیچھے ظاہر ہوئیں تاکہ اللہ کی جانب سے ان پر حجت مکمل ہوجائے اللہ تعالیٰ نے ان کو پکڑ لیا ان کے گناہوں کی وجہ سے اور ان کو دریا میں غرق کردیا۔ (9) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فارسلنا علیہم الطوفان “ یعنی ہم نے ان پر پانی طاعون اور ٹڈی بھیجی فرمایا کہ ٹڈی دروازے کے کیلوں اور ان کے کپڑوں کو کھانے لگی۔ اور چیچڑی اور مینڈک جو ان کے بستروں ان کے کھانوں میں گرتے تھے اور خون ان کے کپڑوں میں ان کے پانی میں اور ان کے کھانے میں ظاہر ہوتا تھا۔ (10) امام ابو الشیخ نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ ٹڈی کو جب بنی اسرائیل پر مسلط کیا گیا تو اس نے ان کے دروازوں کو کھالیا یہاں تک کہ کیلیں بھی کھا ڈالیں۔ (11) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ٹڈی سمندر سے ایک مچھلی سے نکلتی ہے۔ (12) امام عقیلی نے کتاب الضعفاء میں اور ابو الشیخ نے عظمۃ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ سے ٹڈی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مریم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے ایسا گوشت کھانے کا سوال کیا تھا جس میں خون نہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ٹڈی کھلائی۔ (13) امام طبرانی اور بیہقی نے سنن میں ابو امامہ باھلی ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا مریم بنت عمران ؓ نے اپنے اپنے رب سے سوال کیا کہ ان کو ایک ایسا گوشت کھلائیں جس میں خون نہ ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ٹڈی کھلائی۔ پھر انہوں نے کہا اے اللہ اس کو زندہ رکھ بغیر دودھ کے اور ان کے درمیان بغیر اشتراک کے موافقت رکھو۔ امام ذہبی (رح) نے فرمایا کہ اس روایت کی سند پہلی کی نسبت الطف ہے۔ (14) امام بیہقی نے سنن میں زینب ربیبہ رسول اللہ ﷺ سے روایت نقل کی ہے کہ نبیوں میں سے ایک نبی نے اللہ تعالیٰ سے ایسے پرندے کے گوشت کا سوال کیا جسے ذبح کرنے کی ضرورت نہ ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو مچھلیاں اور ٹڈی عطا فرمائی۔ (15) امام ابو داؤد، ابن ماجہ، ابو الشیخ نے عظمۃ میں طبرانی، ابن مردویہ اور بیہقی نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے ٹڈی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے۔ نہ میں اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس کو حرام کرتا ہوں۔ (16) امام ابوبکر الطرقی نے معرفۃ الصحابہ میں طبرانی، ابو الشیخ نے عظمۃ میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو زبیر نمیری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ٹڈی کے ساتھ نہ لڑو کیونکہ اللہ کے لشکروں میں سے بڑا لشکر ہے۔ بیہقی (رح) نے فرمایا یہ اگر صحیح ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ (ٹڈی) کھیتوں کو خراب اور برباد کرنے کے لئے تعرض نہ کرے جب وہ تعرض کرے تو پھر ہر طریقے سے دفاع کرنا جائز ہے۔ چاہے وہ قتال ہو یا قتل ہو۔ (17) امام بیہقی نے فضیل بن عیاض کے طریق سے مغیرہ بن ابراہیم سے روایت کیا اور انہوں نے عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک ٹڈی رسول اللہ ﷺ کے سامنے واقع ہوگئی صحابہ نے پوچھا کیا ہم اس کو قتل کردیں یا رسول اللہ ؟ آپ نے فرمایا جس شخص نے ٹڈی کو قتل کیا گویا اس نے خون نہا والی چیز کو قتل کیا۔ بیہقی نے فرمایا یہ حدیث ضعیف ہے اس کے بعض راوی مجہول ہیں۔ اور ابراہیم اور ابن مسعود کے درمیان انقطاع ہے۔ (18) ام حاکم نے تاریخ میں اور بیہقی نے ایسی سند کے ساتھ جس میں ایک شخص مجہول ہے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ایک ٹڈی رسول اللہ ﷺ کے سامنے واقع ہوگئی۔ آپ نے اس کو اٹھایا تو اس کے پر میں عبرانی زبان میں لکھا ہوا تھا : لا یعنی جنینی ولا یشبع اکلی نحن جند اللہ الا اکبر لناسع وتسعون بیضۃ ولو تمت لنا الماہ لا کلنا الدنیا بما فیہا (میرا جنین گرتا نہیں مجھے کھانے والا سیر نہیں ہوتا ہم اللہ کا بڑا لشکر ہیں ہمارے ننانوے انڈے ہوتے ہیں اگر سو مکمل ہوجاتے تو ہم دنیا کی ہر چیز کو کھا جاتیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ ٹڈی کو ہلاک کر دے اس کے بڑوں کو قتل کر دے اور اس کے چھوٹوں کو موت دیدے اور اس کے انڈوں کو خراب کر دے۔ اور اس کے مونہوں کو مسلمانوں کی کھیتیوں اور ان کی معیشت سے بند کر دے۔ بلاشبہ آپ ہی دعا کو سننے والے ہیں جبرئیل تشریف لائے اور فرمایا آپ کی دعا کو قبول کرلیا گیا بعض (حالات) میں بیہقی نے کہا یہ حدیث منکر ہے۔ ٹڈی کے پروں پر کلمۂ توحید (19) امام طبرانی، اسماعیل بن عبد الغافر الفارسی نے الازبعین میں اور بیہقی نے حسین بن علی ؓ سے روایت کیا کہ ہم دسترخوان پر تھے میرا بھائی محمد بن الحنیفہ میرے چچا کے لڑکے عبد اللہ بن عباس قثم فضل ؓ پر ایک ٹڈی واقع ہوئی تو اس کو عبد اللہ بن عباس (رح) نے اٹھا لیا اور حسین کو فرمایا تو جانتا ہے کہ ٹڈی کے پر یہ کیا لکھا ہوا ہے انہوں نے فرمایا میں نے اپنے باپ سے سوال کیا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا۔ تو آپ نے مجھ سے فرمایا ٹڈی کے پر پہ لکھا ہوا ہے : بلاشبہ میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں میں ہی ٹڈی کا رب ہوں اور اس کا رازق ہوں جب میں چاہتا ہوں تو اس کو بھیج دیتا ہوں قوم کے لئے رزق بنا کر اور اگر چاہتا ہوں تو قوم پر مصیبت بنا کر بھیجتا ہوں۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ بات اللہ کی قسم چھپے ہوئے علم میں سے ہے۔ (20) امام ابو نعیم نے حلیۃ میں عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ مجھ سے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ٹڈی کے پر پہ سریانی زبان میں لکھا ہوا ہے۔ بلاشبہ میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اکیلا ہوں میرا کوئی شریک نہیں ٹڈی میرے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے۔ میں اس کو مسلط کرتا ہوں اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہوں۔ (21) امام ابو الشیخ نے عظمۃ میں سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا فرمایا تو اس کی بچی ہوئی مٹی میں سے ٹڈی کو پیدا فرمایا۔ (22) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ” الطوفان “ سے مراد ہے بارش ” والجراد “ سے مراد ہے ٹڈی ” والقمل “ سے مراد ہے وہ کیڑا جو گیہوں میں ہوتا ہے۔ (23) امام ابن ابی حاتم نے ابو صخر (رح) سے روایت کیا کہ ” والقمل “ سے مراد وہ ٹڈی ہے جو اڑ نہیں سکتی۔ (24) امام ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ” والقمل “ سے وہی چیچڑی مراد ہے۔ (25) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن زید ؓ سے روایت کیا کہ بعض لوگ قمل کے بارے میں یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ پسو ہے۔ (26) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حبیب بن ابی ثابت (رح) سے روایت کیا کہ ” والقمل “ سے مراد جوئیں ہیں۔ (27) امام طستی نے ابن عباس سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ کے اس قول ” القمل والضفادع “ کے بارے میں بتائیے فرمایا ” والقمل “ سے مراد ہے کیڑا اور ” والضفادع “ سے مینڈک مراد ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے ابو سفیان بن الحارث بن عبد المطلب کو نہیں سنا وہ فرماتے ہیں۔ یبادرون النحل من انھا کانھم فی الشرف القمل ترجمہ : وہ شہد کی مکھیوں کی طرف تیزی سے بڑھتے ہیں۔ جبکہ اصلیت میں یہ لوگ القمل (رینگنے والا کیڑا) ہیں۔ (28) امام ابو الشیخ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ” القمل “ سے مراد ہے جنادب (ایک قسم کی ٹڈیاں) جو کہ ٹڈی کی بیٹیاں ہیں۔ (29) امام ابو الشیخ نے عفیف (رح) سے روایت کیا کہ وہ اہل شام میں سے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ ” القمل “ سے مراد ہے پسو۔ (30) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مینڈک خشکی پر رہتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس کو آل فرعون پر بھیجا اور اس نے (حکم کو) سنا اور اطاعت کی اور اس نے اپنے آپ کو جوش مارتی ہوئی ہانڈی میں ڈال دیا۔ اور کبھی تنوروں میں کود جاتی۔ جب وہ آگ سے بھڑک رہے ہوتے تھے تو اس اچھی اطاعت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پانی کی ٹھنڈی عطا فرمائی۔ (31) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ فرعون والوں پر مینڈک کے سوا کوئی چیز اذیت ناک نہ تھی۔ وہ جوش مارتی ہوں ہانڈیوں میں آتے تھے اور اپنے آپ کو اس میں ڈال دیتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے جزا کے طور پر پانی اور مٹی کی ٹھنڈک اس کو عطا فرما دی قیامت کے دن تک۔ (32) امام ابن ابی حاتم نے عبد اللہ بن عمرو (رح) سے روایت کیا کہ مینڈکوں کو قتل نہ کرو کیونکہ جب ان کو فرعون والوں پر بھیجا گیا تو اس میں سے ایک مینڈک چلا اور آگ سے بھرے تنور میں گرگیا اس کے عوض اس نے اللہ کی رضا مندی کو طلب کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو سب سے ٹھنڈی چیز کے ساتھ جزا دی کہ ہم اس کو پانی کہتے ہیں اور ان کے ٹرانے کو تسبیح بنا دیا۔ (33) امام احمد، ابو داؤد و نسائی نے عبد الرحمن بن عثمان تیمی ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک طبیب نے مینڈک کو دوا میں ڈالنے کا ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے مارنے سے منع فرما دیا۔ (34) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ دریائے نیل میں خون بہنے لگا کہ اسرائیلی صاف اور پاکیزہ پانی پیا کرتے تھے اور فرعون خون پیتا تھا اور وہ دونوں ایک ہی برتن میں شریک ہوتے تھے جو حصہ اسرائیلی سے ملتا تھا وہ صاف اور میٹھا پانی ہوتا تھا۔ اور جو حصہ فرعونی سے ملتا تھا وہ خون ہوتا تھا۔ (35) امام عبد بن حمید، ابن منڈر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں پر خون کو بھیجا۔ وہ اپنے پنانی سے چلو بھرتے تھے تو وہ سرخ خون ہوتا تھا یہاں تک کہ ہمارے لئے یہ ذکر کیا گیا کہ فرعون ایک ہی برتن پر دو آدمیوں کو جمع کرتا تھا ایک قبطی اور ایک اسرائیلی کو جو حصہ اسرائیلی سے ملا ہوتا وہ پانی ہوتا اور جو فرعونی سے ملا ہوتا وہ خون ہوتا۔ (36) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ ” والدم “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر نکسیر کو مسلط کردیا تھا۔ عذاب سہنے کے باوجود ایمان قبول نہیں کیا (37) امام احمد نے زہد میں ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے نوف شامی (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ جادوگروں پر غلبہ پانے کے بعد بیس برس تک فرعونیوں میں ٹھہرے رہے۔ ان کی نشانیاں دکھاتے رہے مثلا ٹڈی، چیچڑی، مینڈک اور خون مگر انہوں نے مسلمان ہونے سے انکار کردیا۔ (38) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ فرعون والوں میں جادوگروں کے مغلوب ہونے کے بعد چالیس سال ہے اور ان کو واضح نشانیاں دکھاتے تھے ٹڈی، چیچڑی اور مینڈک۔ (39) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” ایت مفصلت “ سے مراد ہے کہ یہ کھلے ہوئے معجزے تھے ان کا ظہور ایک دوسرے سے پیچھے ہوا تاکہ اللہ کی جانب سے ان پر حجت تمام ہوجائے۔ (40) امام ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” ایت مفصلت “ سے مراد ہے کہ نشانیاں بعض بعض کے پیچھے آتی تھیں۔ اس میں ایک ہفتے سے دوسرے ہفتے تک رہتی تھیں۔ مہینے بھر کے لئے ان سے اٹھالی جاتی تھیں۔ (41) امام ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ان نشانیوں میں سے ہر دو نشانیوں کے درمیان تیس دن کا وقفہ ہوتا تھا۔ (42) امام ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم سے روایت کیا کہ یہ نو سال میں ظاہر ہوئیں۔ ایک سال میں ایک ایک نشانی ظاہر ہوئی۔
Ayahs 7:134–135

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور ان پر جو عذاب واقع ہوتا تو کہتے تھے کہ اے موسیٰ اپنے رب کی دعا کر جس کا اس نے تجھ سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر تو نے ہم سے عذاب کو ہٹا دیا تو ہم ضرور تیری تصدیق کریں گے اور تیرے ساتھ ضرور بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

پھر جب ان سے عذاب کو ایک مدت تک ہٹا دیتے جس مدت تک ان کو پہنچنا تھا تو وہ اس وقت عہد شکنی کردیتے تھے

(1) امام ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ” الرجز “ سے مراد ہے عذاب۔ (2) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم فرمایا کہ ہر آدمی تم میں سے ایک دنبہ ذبح کرے۔ پھر اس کے خون سے اپنی ہتھیلی کو رنگ لے پھر اس (ہتھیلی) کو اپنے دروازے پر مار دے۔ قطبیوں نے بنی اسرائیل سے پوثھا تم اس طرح کیوں ملتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ تم پر عذاب بھیجے گا تو ہم محفوظ رہیں گے۔ اور تم ہلاک ہوجاؤ گے۔ قبطی نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو یہی علامت بتائی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اسی طرح ہم کو ہمارے نبی نے حکم دیا ہے پس انہوں نے صبح اس حال میں کی کہ قوم فرعون میں ستر ہزار آدمی مرچکے تھے۔ اور شام کے وقت یہ حالت تھی کہ وہ دفنائے نہیں جاسکتے تھے۔ فرعون نے اس وقت کہا ” ادع لنا ربک بما عھد عندک، لئن کشفت عنا الرجز لنومنن لک ولنرسلن معک بنی اسرائیل، الرجز “ سے مراد ہے طاعون موسیٰ نے اپنے رب سے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے (یہ عذاب) ہٹا دیا۔ تو فرعون نے سارے وعدے پورے کرتے ہوئے (موسیٰ سے) کہا لے جا بنی اسرائیل کو جہاں تو چاہے۔ (3) امام ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے طاعون کو آل فرعون پر ڈال دیا۔ ان کو اس میں مشغول کردیا یہاں تک کہ موسیٰ باہر نکل گئے۔ پھر موسیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اپنی ہتھیلیوں کو مٹی اور راکھ میں ڈال دو ۔ پھر ان کو اپنے دروازوں پر مل دو ۔ اس طرح موت کا فرشتہ تم سے رکا رہے گا۔ فرعون نے کہا کیا کوئی ہمارے غلاموں کو مار سکتا ہے۔ بنی اسرائیل والوں نے کہا نہیں کہنے لگا کیا یہ عجیب نہیں ہے کہ ہم پکڑے جائیں گے اور وہ نہیں پکڑے جائیں گے۔ (4) امام عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لثفت عنا الرجز “ سے طاعون مراد ہے۔ (5) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” الرجز “ سے مراد ہے عذاب۔ (6) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” انی اجل ہم بلغوہ “ یعنی ان کو غرق ہونا۔ (7) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلما کشفنا عنھم الرجز “ سے مراد ہے عذاب ” الی اجل ہم بالغوہ “ یعنی وہ مخصوص تعداد ہے جو ان کے ساتھ دنوں کی مقرر تھی۔ (8) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اذاھم ینکثون “ سے مراد ہے کہ انہوں نے وعدے پورے نہ کئے۔