7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 7:57

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور اللہ وہ ہے جو اپنی رحمت سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری دینے والی بنا کر بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بھاری بادل کو اٹھا لیتی ہیں تو ہم اس کو مردہ زمین کے لیے روزنہ کرتے ہیں پھر ہم اس کے ذریعہ پانی نازل کرتے ہیں۔ پھر ہم اس کے ذریعہ نکالتے ہیں ہر طرح کے پھلوں سے اسی طرح ہم زندہ کریں گے مردوں کو، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو

(1) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت ” وھو الذی یرسل الریح بشرا بین یدی رحمتہ “ اس پر اجماع ہے۔ ” بشرا “ خفیف کرتے ہوئے باء کے ساتھ۔ (2) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے روایت کیا کہ سدی (رح) نے اس آیت کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ ہوا کو بھیجتے ہیں وہ بادلوں کو خافقین یعنی آسمان و زمین کے کنارے جہاں مل رہے ہوں کہ درمیان سے لاتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ وہاں سے اس کو نکالتا ہے۔ پھر اس کو پھیلا دیتا ہے اور اس کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے جس طرح چاہتا ہے پھر آسمان کے دروازے سے کھولتا ہے اور پانی کو بادلوں پر بہاتا ہے۔ پھر اس کے بعد بادل بارش برساتے ہیں۔ (3) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” بشرا بین یدی رحمتہ “ سے مراد ہے کہ لوگ ان ہواؤں سے خوش ہوجاتے ہیں۔ (4) امام ابن ابی حاتم نے عبد اللہ الیمانی سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے۔ ” بشرا “ یعنی مبشرات سے پہلے (اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے) ۔ (5) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” بین یدی رحمتہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد بارش ہے (اور فرمایا) لفظ آیت ” کذلک نخرج الموتی “ یعنی اس طرح تو نکالی جاتی ہے جس طرح کھیتی نکالی جاتی ہے پانی کے ساتھ اسی طرح مردوں کو بھی نکالا جائے گا۔ (6) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کذلک نخرج الموتی “ سے مراد ہے جب اللہ تعالیٰ مردوں کا نکالنے کا ارادہ فرمائیں گے تو آسمان بارش برسائے گا یہاں تک کہ اس سے زمین پھٹ جائے گی۔ پھر روحوں کو بھیجے گا تو ہر روح اپنے جسم کی طرف آئے گی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ فرمائیں گے بارش کے ذریعہ جیسے کہ وہ زندہ کرتا ہے زمین کو۔
Ayah 7:58

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

اور جو اچھی زمین ہے اس کا سبزہ نکلتا ہے اس کے رب کے حکم سے اور جو زمین خراب ہے اس کا سبزہ نہیں نکلتا مگر ناقص ہم اسی طرح لوگوں کے لئے طرح طرح سے آیات بیان کرتے ہیں جو شکر گزار ہوتے ہیں

(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والبلد الطیب “ سے اللہ تعالیٰ نے مومن کے لئے اس کو بطور مثال کے بیان فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مومن بندہ پاک ہے اور اس کا عمل بھی پاک ہے اس طرح زرخیز اور عمدہ زمین کا پھل عمدہ اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ اور جو خراب ہے تو یہ مثال (اللہ تعالیٰ نے) کافر کے لئے بیان فرمائی جس طرح دلدلی اور شور زمین میں اچھی پیداوار نہیں نکلتی اس طرح کافر (خود بھی) ناپاک ہے اور اس کا عمل بھی ناپاک ہے۔ (2) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والبلد الطیب “ سے لے کر ” والذی خبث “ تک سے مراد ہے زمین کے تمام اوصاف دلدل شور اور دیگر اوصاف حضرت آدم اور اس کی اولاد کی مثل ہیں کہ ان میں اچھے بھی ہیں اور برے بھی ہیں۔ (3) عبد بن حمید، ابن منذر اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والبلد الطیب “ یعنی یہ مثال اس مومن کی ہے جس نے کتاب اللہ کو سنا، اس کو یاد کیا اور اس کو مضبوطی سے پکڑا اور اس پر عمل کیا۔ اور اس سے نفع اٹھایا جیسے اس زمین کی مثال جس کو بارش پہنچی پھر اس نے پیدوار اگائی وہ سرسبز ہوگئی۔ ” والذی خبث “ یعنی یہ مثال کافر کی ہے جس نے قرآن کو نہیں سمجھا اس پر عمل نہیں کیا نہ اس کو پکڑا نہ اس سے نفع اٹھایا۔ جیسے مثال اس خراب زمین کی جس کو بارش پہنچی نہ اس نے کچھ اگایا نہ سبزہ زار ہوئی۔ (4) ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ نے یہ مثال دلوں کے لئے بیان فرمائی پانی نازل فرمایا تو عمدہ اور زرخیز زمین سبزہ اگاتی ہے۔ اللہ کے حکم سے ” والذی خبث “ اس سے مراد خراب اور دلدلی زمین ہے کہ اس پر سبزہ نہیں نکلتا مگر تھوڑا سا اسی طرح دل ہیں جب مومن کے دل پر قرآن نازل ہو، وہ اس پر ایمان لے آیا۔ اور اس کے دل میں ایمان پکا ہوگیا۔ اور کافر کے دل میں جب قرآن داخل ہوا کہ اس میں سے کچھ میں دل میں نہ رکا کہ اس کو نفع دیتا اور ایمان میں سے کچھ بھی اس (کے دل) میں نہیں جما جو اس کو نفع دیتا۔ جیسے خراب زمین سے ایسا سبزہ نکلتا ہے۔ جو نفع نہیں دیتا اور ” نکدا “ سے مراد ہے تھوڑی چیز جو نفع نہ دے سکتی ہو۔ (5) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھا لفظ آیت ” والبلد الطیب یخرج “ یاء کے نصب اور راء کے فتح کے ساتھ۔ (6) امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت لفظ آیت ” والبد الطیب “ کے بارے میں فرمایا کہ اچھی (زمین جس کو بارش نفع دیتی ہے اور وہ (کھیتی) اگاتی ہے۔ ” والذی خبث “ شور (والی زمین) جس کو بارش نفع نہیں دیتی لفظ آیت ” لا یخرج الا نکدا “ یہ مثال اللہ تعالیٰ نے آدم اور اس کی اولاد کے لئے بیان فرمائی کہ ان کو ایک جان سے پیدا کیا گیا ان میں سے بعض وہ ہیں جو اللہ پر اور اس کی کتاب پر ایمان لائے تو وہ اچھے ہوئے اور بعض اس میں سے وہ ہیں جنہوں نے اللہ کا اور اس کی کتاب سے انکار کیا تو وہ خراب ہوئے۔ (7) امام ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت ” والبلد الطیب “ کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ نے یہ مثال کافر اور مومن کے لئے بیان فرمائی۔ دین و شریعت کی مثال (8) امام احمد، بخاری، مسلم اور نسائی نے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مثال اس چیز کی کہ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو بھیجا۔ ہدایت سے اور علم سے۔ جیسے کہ مثال بہت بارش کی ہے جو ایک زمین کو پہنچی۔ اس میں سے ایک ٹکڑا یسا تھا جس نے پانی کو قبول کیا اور اس نے گھاس اور بہت سبزہ اگایا اور اس میں سے ایک خشک زمین تھی۔ جس نے پانی کو روک لیا۔ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے۔ اس سے لوگ پیتے ہیں زمین کو سیراب کرتے ہیں فصلیں اگاتے ہیں۔ زمین کا ایک ٹکڑا ایسا ہوتا ہے جو انتہائی پست اور نرم ہوتا ہے نہ سبزہ اگاتا ہے یہ مثال اس شخص کی ہے جس نے دین میں سمجھ حاصل کی اور اس سے نفع اٹھایا کہ جس چیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو بھیجا۔ اس نے علم سیکھا اور سکھایا اور دوسری مثال اس شخص کی ہے جس نے دین کے لئے سر کو نہ اٹھایا اور اللہ کی ہدایت کو قبول نہ کیا جس کے ساتھ میں بھیجا گیا۔
Ayah 7:59

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

بیشک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا سو انہوں نے کہا کہ اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ بیشک میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف کرتا ہوں

(1) امام ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن عساکر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے نبی نوح کو بنا کر بھیجا گیا۔ (2) امام ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابو نعیم اور ابن عساکر نے یزید رقاشی (رح) سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) کو اپنی ذات پر لمبا نوحہ کرنے کی وجہ سے نوح کہا گیا۔ (3) امام ابن منذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ نوح اس لئے کہا گیا کیونکہ وہ نوحہ کرتے تھے اپنی ذات پر۔ (4) امام اسحاق بن بشیر ابن عساکر نے مقاتل و جویبر (رح) سے روایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) جب بوڑھے ہوگئے اور کمزور ہوگئیں ان کی ہڈیاں تو فرمایا اے میرے رب کب تک میں سخت محنت اور مشقت کرتا رہوں گا۔ فرمایا اے آدم یہاں تک تیرا ایک لڑکا ختنہ کیا ہوا پیدا ہوگا تو نوح (علیہ السلام) کے دس قبیلوں کے بعد پیدا ہوئے اور وہ اس دن نو سو چالیس سال کے تھے نوح پر سلسلہ نسب اس طرح سے ہے نوح بن لامک بن متوشلخ بن ادریس اور وہ اخنوخ بن یردین مھلا بیل ابن قینان بن انوش ابن شیث بن آدم اور آپ کا اسم گرامی اسکن تھا آپ کو نوح السکن کہا جاتا ہے اس لئے آدم کے بعد لوگوں کو آپ کے پاس ہی سکون حاصل ہوا اور آدم (علیہ السلام) سب کے باپ ہیں۔ اور ان کو نوح اس لئے کہا گیا کیونکہ وہ اپنی قوم پر نو سو پچاس سال تک نوحہ کرتے رہے۔ اور ان کو اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ جب انہوں نے انکار کیا تو روئے اور ان پر نوحہ کیا۔ (5) امام ابن عساکر نے وھب (رح) سے روایت کیا کہ نوح اور آدم (علیہ السلام) کے درمیان دس آباء کا واسطہ ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) کے درمیان بھی دس آباء کا واسطہ ہے۔ (6) امام ابن ابی حاتم اور حاکم نے (اور حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آدم اور نوح کے درمیان صدیاں تھیں اور وہ سب کے سب دین حق پر قائم تھے۔ (7) امام ابن عساکر نے نوف شامی (رح) سے روایت کیا کہ پانچ انبیاء عرب میں سے تھے محمد، نوح، ھود، صالح اور شعیب (علیہ السلام) ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی پیدائش (8) امام اسحاق بن بشیر اور ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) دوسرے ہزار میں بھیجے گئے اور آدم کا وصال نہیں ہوا تھا یہاں تک کہ نوح (علیہ السلام) ہزار کے آخر میں پیدا ہوئے اور ان کے درمیان گناہ پھیل چکے تھے۔ اور ظلم و زیادتی کرنے والے جابر حکمران کثیر تعداد میں تھے اور ان میں تکبر اور رعونیت بڑھ چکی تھی۔ ان کو رات اور دن بلاتے تھے۔ خفیہ طور پر اعلانیہ طور پر صبر اور بردباری کے ساتھ انبیاء میں سے کسی کو بھی اتنے شدید اور سخت حالات پیش نہیں آتے جن کا سامنا نوح کو کرنا پڑا۔ جب وہ لوگ ان کے پاس آتے تو ان کا گلا گھونٹ دیتے اور مجلسوں میں ان کو مارتے پھر بھاگ جاتے اور ایسا سلوک کرنے پر بھی ان کے لئے بددعا نہ کرتے اور فرماتے اے میرے رب میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ نہیں جانتے مگر اس بات سے وہ اور زیادہ ان سے بھاگتے یہاں تک کہ جب وہ ان میں سے کسی آدمی سے بات کرتے تو وہ اپنے سر کو اپنے کپڑے سے لپیٹ لیتا اور اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں میں دے دیتا تاکہ ان کی بات میں سے کچھ بھی نہ سنے اس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” جعلوا اصابھم فی اذانھم یستغشون ثیابھم “ (نوح آیت : 7) پھر وہ مجلس سے کھڑے ہوتے تو جلدی سے چلنے لگے اور کہتے جلدی سے چلے جاؤ کہ یہ بہت جھوٹا ہے۔ اور آپ پر انتہائی سخت آزمائش آتی رہی۔ اور آپ ایک زمانہ کے بعد دوسرے زمانہ کے لوگوں اور ایک نسل کے بعد دوسری نسل کا انتظار کرتے رہے مگر جو نسل بھی آئی وہ پہلی سے زیادہ خبیث اور پہلی سے بڑھ کر متکبر اور سرکش نکلی۔ ان میں سے ایک آدمی کہتا کہ یہ آدمی ہمارے آباؤ اجداد کے ساتھ تھا یہ مسلسل جنون میں مبتلا ہے۔ ان میں سے کوئی آدمی جب وفات کے وقت وصیت کرتا تو کہتا اپنی اولاد سے اس مجنون سے بچ کر رہو کہ میرے باپ نے مجھ سے کہا تھا کہ لوگوں کی ہلاکت اور بربادی اس کے ہاتھوں پر ہے۔ وہ لوگ آپس میں اسی طرح وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ جب کوئی آدمی اپنے لڑکے کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوتا پھر اس کے ساتھ ٹھہرا رہتا اور اس سے کہتا اے میرے بیٹے اگر میں زندہ رہوں یا مرجاؤں تو میں اس بوڑھے سے تم کو ڈراتا ہوں پھر جب آپ کا ان کے ساتھ طویل زمانہ گزر گیا تو کہنے لگے لفظ آیت ” قالوا ینوح قدجدلتنا فاکثرت جدالنا فاتنا بما تعدنا ان کنت من الصدقین “ (ہود آیت 22) (9) امام ابن ابی حاتم اور ابن عساکر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ نوح جزیرہ میں بھیجے گئے۔ ھود (علیہ السلام) ارض الشجر اور ارض مھرۃ کی طرف بھیجے گئے اور صالح حجر میں بھیجے گئے اور لوط (علیہ السلام) سدوم کی طرف اور شعیب (علیہ السلام) مدینہ کی طرف بھیجے گئے اور ابراہیم آدم اسحاق اور یوسف (علیہم السلام) کا وصال فلسطین کی زمین میں ہوا اور یحییٰ بن زکریا (علیہم السلام) دمشق میں قتل کئے گئے۔ (10) امام ابن عساکر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ نوح (علیہ السلام) کو اتنا مارتے تھے کہ وہ بیہوش ہوجاتے تھے جب افاقہ ہوتا تو فرماتے اے میرے رب میری قوم کو بخش دے کیونکہ یہ نہیں جانتے۔ (11) امام ابن ابی شیبہ احمد نے زھد میں، ابو نعیم اور ابن عساکر نے عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم اتنا مارتی تھی کہ وہ بیہوش ہوجاتے۔ پھر جب افاقہ ہوتا تو فرماتے (اے اللہ) میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ وہ نہیں جانتے شفیق نے کہا کہ عبد اللہ نے فرمایا میں نے نبی ﷺ کو دیکھا اور آپ اپنا چہرہ مبارک سے خون کو پونچھ رہے تھے اور انبیاء میں سے ایک نبی کی حکایت بیان کر رہے تھے کہ اے اللہ میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ وہ نہیں جانتے۔ (12) امام عبد بن حمید نے عبید بن عمیر اللیثی سے اسی طرح روایت کیا عکرمہ (رح) سے کہ نوح کی قوم ان کا گلا گھونٹ دیتی تھی یہاں تک ان کی آنکھیں باہر نکل آتی جب وہ ان کو چھوڑتے تھے تو فرماتے اے اللہ میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ جاہل ہیں۔ (13) امام عبد بن حمید، بخاری، مسلم اور ابن ماجہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ گویا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھ رہا ہوں جو انبیاء میں سے ایک نبی کی حکایت بیان فرما رہے تھے اے اللہ میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ نہیں جانتے۔ (14) امام ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو مہاجر ؓ سے روایت کیا کہ نوح، اپنی قوم میں سے نوسو پچاس برس بالوں کے گھر میں رہے۔ ان سے کہا گیا اے اللہ کے نبی ! گھر بنائیے تو وہ فرماتے تھے میں آج پاگل مرجاؤں گا۔ (15) امام ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے وھیب بن ورد (رح) سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) نے ایک گھر کانوں سے بنایا ان سے کہا گیا آپ نے اس کے علاوہ کسی اور شے سے کیوں نہیں بنایا فرمایا یہ کافی ہے اس شخص کے لئے جس نے مرنا ہے۔ (16) امام ابن ابی الدنیا، عقیلی، ابن عساکر اور دیلمی نے عائشہ ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ نوح انبیاء میں بہت بڑے نبی تھے جب بھی وہ بیت الخلاء سے باہر آتے تو یہ دعا فرماتے کہ ” الحمدللہ الذی اذاقنی طعبہ وأبقی فی منفعتہ وأخرج منی أذاہ “ (سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں) جس نے اس کھانے سے مجھے لطف اندوز کیا پھر اس کی منفعت اور فوائد کو باقی رکھا اور اس کی اذیت اور تکلیف کو مجھ سے خارج کردیا۔ (17) امام بخاری نے تاریخ میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے نوح کو بھیجا اور نہیں ہلاک کیا اس کی امت میں سے مگر زندیقوں کو پھر دوسرے نبی آتے رہے اور اللہ تعالیٰ اس امت کو نہیں ہلاک کریگا مگر زندیقوں کو۔ (18) امام ابو الشیخ نے سعد بن حسن (رح) سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم ایک ماہ میں دو مرتبہ کھیتی بوتے تھے اور ایک عورت دن کے اول حصہ میں بچہ جنتی تھی تو دن کے آخر میں اس کے پیچھے دوسرا بچہ پیدا ہوجاتا ہے۔ (19) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم کو عذاب دیا گیا یہاں تک کہ نہیں تھا زمین میں ہموار میدان یا پہاڑ مگر اس کے لئے کوئی آباد کرنے والا جو اس کو آباد کرتا یا اپنی ذات کے ساتھ مخصوص کرنے والا مخصوص کرتا ہو۔ (20) امام ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ نوح کے زمانہ میں میدان اور پہاڑ اپنے رہنے والوں کے سبب تنگ ہوچکے تھے۔ یہاں تک کہ میدانوں میں رہنے والے لوگ قدرت نہ رکھتے تھے کہ وہ پہاڑوں پر چڑھیں اور نہ میدانوں میں اتنی گنجائش تھی کہ پہاڑوں پر رہنے والے ان کی طرف اترآئیں نوح کے زمانہ میں اور فرمایا کہ تم اس پر یقین کرلو۔ (21) امام ابو نعیم نے حلیہ میں اور ابن عساکر نے وھب بن منبہ سے روایت کیا کہ نوح اپنے زمانہ کے لوگوں میں سے سب سے زیادہ خوبصورت تھے اور وہ برقع پہنے رکھتے تھے کشتی میں سوار ہوتے وقت بھوک لگ گئی۔ اور نوح نے جب اپنے چہرہ کو ظاہر فرمایا تو ان کے پیٹ بھر گئے۔ انبیاء (علیہم السلام) سے ملاقاتیں (22) امام بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حج کیا تو عسفان کی وادی سے گزرے اور فرمایا اس وادی سے ھود، صالح اور نوح (علیہم السلام) بھی اپنے سرخ اونٹوں پر گزرے اونٹوں کی لگام کھجور کی چھال کی تھی ان کا لباس ایک چغہ تھا اور ان کی دھاری دار چادریں تھیں۔ وہ تلبیہ پڑھتے ہوئے بیت عتیق کا حج کرنے کے لئے گئے۔ (23) امام ابن عساکر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا نوح نے ہمیشہ روزے رکھے سوائے عید الفطر اور عید الاضحی کے۔ داؤد (علیہ السلام) نے آدھا زمانہ روزہ رکھا۔ (یعنی ایک دن چھوڑ کر دوسرے دن) ابراہیم نے ہر ماہ سے تین دن کے روزے رکھے یعنی آپ نے بہت سا عرصہ روزے رکھے اور بہت سا زمانہ روزے نہ رکھے۔ (24) امام بخاری نے ادب المفرد میں بزار، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا نوح کو جب موت حاضر ہوئی تو انہوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ میں تیرے لئے ایک پر اکتفا کر رہا ہوں۔ دو باتوں کا حکم کرتا ہوں اور دو باتوں سے روکتا ہوں۔ تجھ کو ” لا الہ الا اللہ “ کا حکم دیتا ہوں۔ اس لئے کہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمین کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور دوسرے پلڑے میں ” لا الہ الا اللہ “ رکھ دیا جائے تو یہ ان پر بھاری ہوجائے گا کیونکہ یہ ہر چیز کی عبادت ہے اور اس کے ذریعہ ہر چیز کو رزق دیا جاتا ہے۔ اور میں تجھ کو شرک اور تکبر سے روکتا ہوں۔ (25) امام ابن ابی شیبہ نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو نہ بتاؤں جو نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو سکھایا تھا صحابہ ؓ نے فرماما ضرور بتائیے آپ نے فرمایا انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا میں تجھ کو حکم دیتا ہوں کہ تو کہہ ” لا الہ اللہ وحدہ لا شریک لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر “ کیونکہ آسمان اگر ایک پلڑے میں ہوں یقینی طور پر یہ ان سے بھاری ہوگا۔ اور اگر یہ حلقہ ہوں تو اس کو توڑ دیں اور میں تجھ کو حکم دیتا ہوں ” سبحان اللہ وبحمدہ “ کے ساتھ کیونکہ یہ مخلوق کی نماز ہے اور مخلوق کی تسبیح ہے اور اسی کے ذریعے مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے۔
Ayahs 7:60–64

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

ان کی قوم کے بڑے لوگوں نے کہا کہ بلاشبہ ہم تجھے کھلی ہوئی گمراہی میں دیکھ رہے ہیں

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا کہ اے میری قوم ! میرے ساتھ کوئی گمراہی نہیں ہے لیکن میں سارے جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

میں تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تم کو اس بات سے تعجب ہے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے تم ہی میں سے ایک شخص کے پاس نصیحت کی باتیں آگئیں تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور تاکہ تم ڈر جاؤ، اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

سو ان لوگوں نے نوح کو جھٹلایا۔ سو ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دے دی، اور ہم نے ان لوگوں کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا۔ بلاشبہ وہ لوگ اندھے تھے

(1) امام ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ” قال الملا “ سے مراد ہے اس کی قسم میں سے بڑے لوگ۔ (2) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اوعجبتم ان جاء کم ذکر من ربکم “ یعنی یہ بیان ہے تمہارے رب سے (کیا تم اس پر تعجب کرتے ہو) ۔ (3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” انھم کانوا قوما عمین “ سے کافر مراد ہیں۔ (4) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” انھم کانو قوما عمین “ سے مراد ہے وہ لوگ جو حق کو دیکھنے سے اندھے تھے۔
Ayahs 7:65–71

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا، انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو، تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

ان کی قوم کے سردار جنہوں نے کفر اختیار کیا جواب میں کہنے لگے کہ بلاشبہ ہم تجھے بےوقوفی میں دیکھ رہے ہیں۔ اور بلاشبہ ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ تو جھوٹوں میں سے ہے

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

ہود نے کہا اے میری قوم ! مجھ میں بےوقوفی نہیں ہے لیکن میں بھیجا ہوا ہوں پروردگار عالم کا

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کا اور میں تمہارا خیر خواہ ہوں، امانے دار ہوں

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تمہیں اس بات سے تعجب ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی تم ہی میں سے ایک شخص کے واسطہ سے تاکہ وہ تمہیں ڈرائے، اور یاد کرو جبکہ اس نے تمہیں قوم نوح کے بعد خلیفہ بنا دیا۔ اور جسمانی طور پر تمہارے ڈیل ڈول میں پھیلاؤ زیادہ کردیا لہٰذا تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

وہ کہنے لگے تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم تنہا اللہ کی عبادت کریں اور ہمارے باپ دادا جس کی عبادت کرتے تھے اسے چھوڑ دیں۔ سو ہمارے پاس وہ چیز لے آ جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو سچوں میں سے ہے

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

ہود نے کہا تم پر تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غصہ نازل ہوچکا۔ کیا تم مجھ سے جھگڑتے ہو ان ناموں کے بارے میں جو نام تم اور تمہارے باپ دادوں نے خود سے تجویز کرلیے ہیں۔ اللہ نے ان کے بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی سو تم انتظار کرو۔ بلاشبہ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں

(1) امام ابن منذر نے کلبی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والی عاد اخاھم ھودا “ یعنی وہ ان کے دین کے بھائی نہیں تھے لیکن وہ ان کے نسبی بھائی تھے کیونکہ ھود (علیہ السلام) ان میں سے نہ تھے۔ اس لئے آپ کو ان کا بھائی کہا گیا۔ (2) امام اسحاق بن بشیر اور ابن عساکر نے شرفی بن قطامی (رح) سے روایت کیا کہ ھود کا نام عابر بن شالح بن ارفشخد بن سام بن نوح تھا۔ (3) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ گمان کرتے تھے کہ ھود (علیہ السلام) کا تعلق ایک قبیلہ بنی عبد الخضم سے تھا۔ (4) امام اسحاق بن بشر اور ابن عساکر نے عطاء کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ھود پہلے آدمی تھے جو عربی میں بات کرتے تھے اور ھود (علیہ السلام) کے چار لڑکے تھے قحطان، مقحط، قاحط اور فالغ اور یہی ابو مضر ہیں اور قحطان ابو الیمن تھے اور باقیوں کی نسل نہیں چلی۔ (5) امام اسحاق بن بشر اور ابن عساکر نے مقاتل کے طریق سے ضحاک سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جو ابن اسحاق کی سند سے مخصوص افراد سے اور کلبی کی سند سے نقل کیا ہے ان سب نے فرمایا کہ عاد بت پرست تھے جو ان کی عبادت کرتے تھے۔ انہوں نے بت بنائے ہوئے تھے مثل ود، سواع، یغوث اور نسر کے۔ انہوں نے ایک بت بنایا ہوا تھا جس کو صمود کہتے تھے اور ایک بت بنایا ہوا تھا جس کو الھتار کہتے تھے ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ہود کو بھیجا اور ھود ایک قبیلہ میں سے تھا جس کو خلود کہتے تھے۔ آپ نسب کے اعتبار سے شریف اور شکل و صورت کے اعتبار سے انتہائی حسین تھے۔ آپ جسمانی اعتبار اے اپنے زمانے کے لوگوں کی نسبت سفید جسم رکھتے تھے باریش تھے اور داڑھی مبارک خاصی لمبی تھی۔ آپ نے ان کو اللہ کی طرف بلایا اور ان کو حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کریں اور لوگوں پر ظلم کرنے سے رک جانے کا حکم دیا۔ اور ان کے علاوہ ان کو کوئی حکم نہ دیا۔ ان کو شریعت کی طرف یا نماز کی طرف نہیں بلایا۔ انہوں نے اس کا انکار کردیا اور آپ کو جھٹلا دیا اور قوم نے کہا ہم سے کون زیادہ قوت والا ہے اور بہادر ہے ؟ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” والیٰ عاد اخاھم ھودا “ یہ ان کی قوم میں سے تھے ورنہ دین کے اعتبار سے ان کے بھائی نہ تھے۔ لفظ آیت ” قال یقوم اعبدوا اللہ “ یعنی ایک اللہ کو مانو ” ولا تشرکوا بہ شیئا “ تم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔ ” مالکم من الہ غیرہ، افلا تتقون “ یعنی کیوں تم نہیں ڈرتے ہو۔ ” وذکروا اذ جعلکم خلفاء “ یعنی تم ٹھہرایا ” فی الارض من بعد قوم نوح “ سو کس طرح تم عبرت حاصل نہیں کرتے ہو۔ کہ تم ایمان لے آؤ حالانکہ تم نے جان لیا جو کچھ قوم نوح پر عذاب نازل ہوا جب انہوں نے نافرمانی کی۔ ” فاذکروا الاء اللہ “ یعنی ان نعمتوں کو یاد کرو ” لعلکم تفلحون “ شاید کہ تم فلاح کو پہنچ جاؤ۔ ان کے گھر ریت کے بنے ہوئے تھے۔ اور احقاف ایک ریت ہے اور وہ یمن میں عمان اور حضرموت کے درمیان آباد تھے اور اس کے باوجود انہوں نے ساری زمین میں فساد کیا اور زمین کے رہنے والوں پر اپنی وافر قوت کے سبب غلبہ پالیا۔ جو ان کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی تھی۔ (6) امام ابن ابی حاتم نے ربیع بن خثیم (رح) سے روایت کیا کہ قوم عاد یمن اور شام کے درمیان مثل چونٹنی کے تھے۔ (7) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ بلاشبہ قوم عاد یمن میں ریت کے گھروں میں آباد تھے اور احقاف سے مراد ہے ریت اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول لفظ آیت ” واذکروا اذ جعلکم خلفاء من بعد قوم نوح “ فرمایا اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کو ختم کیا۔ ” واستخلفکم من بعد قوم نوح وزادکم فی الخلق بصطۃ “ اور ان کے بعد تمہیں ان کا جانشین بنایا اور جسمانی لحاظ سے قدوقامت میں تم کو زیادہ کردیا۔ قوم عاد کی جسمانی قوت (8) امام ابن عساکر نے وھب (رح) سے روایت کیا کہ عاد میں سے ایک آدمی ساٹھ ہاتھ لمبا تھا ان ہاتھوں کے مطابق اور آدمی کے کھوپڑی بڑے قبہ کی طرح تھی۔ اور آنکھیں اتنی بڑی تھیں کہ اس میں درندے بچے جن سکتے تھے اور اسی طرح ان کے ناک کے نتھنے تھے (9) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وزادکم فی الخلق بصطۃ “ کے بارے میں فرمایا ہم کو یہ بات کی گئی کہ وہ لوگ بارہ باہ ہاتھ لمبے تھے۔ (10) امام ابن مردویہ نے عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی تم سے پہلے لوگوں میں سے (اتنا بڑا تھا) کہ ان کے دونوں کندھوں کے درمیان میل کا راستے تھا۔ (11) امام حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی پیدائش میں اسی باع (یعنی دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ کے برابر تھا۔ اور ان میں گندم کا ایک دانہ گائے کے گردے کی طرح تھا اور ایک انار (اتنا بڑا تھا) کہ اس کے چھلکے میں دس آدمی بیٹھ سکتے تھے۔ (12) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وزادکم فی الخلق بصطۃ “ سے مراد ہے ” شدۃ “ یعنی قوت اور طاقت۔ (13) امام عبد اللہ بن احمد نے زوائد الزھد میں اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ قوم عاد میں سے ایک آدمی پتھر کو کواڑ بنا لیتا تھا۔ اگر اس پر اس امت کے پانچ سو آدمی جمع ہوجائیں تو اس کو (دوسری جگہ) منتقل نہیں کرسکتے اگر ان میں سے کوئی آدمی اپنا قدم زمین میں داخل کرنا چاہے تو وہ اس کو داخل کر دے۔ (14) امام زبیر بن بکار نے موفقیات میں ثور بن زید دیلمی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ایک کتاب پڑھی (اس میں یہ لکھا ہوا تھا) کہ میں شداد بن عاد ہوں میں وہ ہوں جس نے بلند وبالا عمارتیں بنائیں میں وہ ہوں جس نے چودھویں کے چاند کو بطن وادی سے روک دیا اور میں ہوں کہ جس نے سمندر میں ایک خزانہ جمع کیا ہے تو ہاتھ پر نہیں نکالے گی اس کو مگر محمد ﷺ کی امت۔ (15) امام ابن بکار نے ثور بن زید (رح) سے روایت کیا کہ میں یمن آیا اچانک میں ایک ایسے آدمی کے پاس تھا کہ میں نے کبھی اتنا لمبا آدمی نہیں دیکھا میں نے (دیکھ کر) تعجب کیا لوگوں نے کہا تو اس سے تو تعجب کرتا ہے ؟ میں نے کہا اللہ کی قسم میں نے اس جیسا لمبا آدمی کبھی نہیں دیکھا۔ لوگوں نے کہا اللہ کی ہم نے پایا ایک پنڈلی کو یا ذراع کو تو ہم نے اس ذراع کے ساتھ اس کا ناپا تو ہم نے اس کا پایا سولہ ذراع۔ (16) امام زبیر بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ پہلے زمانہ میں چار سو سال گزر جاتے تھے کہ اس میں کسی جنازہ (کے بارے میں) نہیں سنا جاتا تھا۔ (17) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الاء اللہ “ سے مراد ہے اللہ کی نعمتیں اور جس سے مراد ہے غصہ۔ (18) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” قد وقع علیکم من ربکم “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کے پاس اس میں عذاب آیا اور قرآن میں رجس سے مراد عذاب ہے۔ (19) امام طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ نافع بن ازرق نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (حسن و غضب) کے بارے میں بتائیے انہوں نے فرمایا کہ رجس سے مراد ہے لعنت اور غضب سے مراد ہے عذاب پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : اذا سنۃ کانت بنجد محیطۃ وکان علیہم رجسھا وعذابھا ترجمہ : جب خشک سالی نجد کو گھیرے ہوئے تھی اور ان پر اس کا غصہ اور اس کا عذاب تھا۔
Ayah 7:72

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

پھر ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے اپنی رحمت سے نجات دے دی اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ لوگ ایمان والے نہ تھے

قوم عاد پر ہوا کا عذاب (1) امام اسحاق بن بشیر اور ابن عساکر نے عمرو بن شعیب (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے عظیم (بےفائدہ) ہوا کی طرف وحی بھیجی کہ وہ قوم عاد پر چلے ان سے اس کا انتقام لے تو وہ بغیر ناپ کے بیل کے نتھنوں کے برابر نکلی یہاں تک کہ ساری زمین کے مشارق اور مغارب کے درمیان جو کچھ ہے سب کو ہلاک کر دے گی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی بھیجی تو لوٹ جا تو وہ لوٹ گئی اور (پھر) وہ ایک انگوٹھی کے حلقہ کے سوراخ کی مقدار نکلی اللہ تعالیٰ نے ھود کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے ساتھ ایمان والوں کو ایک باڑہ میں الگ کرلے۔ انہوں نے الگ کرلیا۔ اور ان پر ایک خط کھینچ لیا۔ اور ساتھیوں سمیت قوم سے علیحدہ ہوگئے۔ پھر ہوا آئی اور داخل نہ ہوئی ہود کے باڑے میں اور نہ خط سے تجاوز کرتی۔ ان پر اتنی مقدار میں ہوا چلی کہ جس سے ان کے دل لطف اندوز ہوئے اور ان کی جسمانی جلدیں نرم رہیں لیکن قوم عاد سے زمین و آسمان کے درمیان پوری شدت کے ساتھ گزری۔ پتھروں کے ساتھ زخمی کرتی گئی (پھر) اللہ تعالیٰ نے سانپوں اور بچھوؤں کو حکم فرمایا کہ ان کے راستوں پر بیٹھ جائیں اور کسی عاد والے کو وہاں سے گزرنے نہ دیں۔ (2) امام ابن عساکر نے وھب (رح) سے روایت کیا کہ قوم عاد پر جب اللہ تعالیٰ نے ہوا بھیجی تو ھود نے اپنے ساتھ ایمان والوں کو ایک باڑہ میں الگ کرلیا۔ ان کو ہوا نہیں پہنچتی تھی مگر جس سے ان کی جلدیں نرم رہیں۔ اور جو ان کی جانوں کو لذت پہنچاتی تھی۔ اور جب وہ عاد والوں میں سے کسی پر گزرتی تھی تو ان کو آسمان اور زمین کے درمیان اٹھا لیتی تھی اور پتھروں کے ساتھ ان کے سر کو پنچ دیتی تھی۔ (3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقطعنا دابر الذین کذبوا “ سے مراد ہے کہ ہم نے اس کو جڑ سے اکھیڑ دیا۔ (4) امام ابو الشیخ نے عظمہ میں ھزین بن حمزہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اپنے رب سے سوال کیا کہ قوم عاد میں سے ایک آدمی ان کو دکھائیے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پردہ کو ہٹا دیا تو اچانک (دیکھا) کہ اس کا سر مدینہ میں اور اس کی ٹانگیں ذوی الحلیفہ میں تھیں۔ چار میل اس کی لمبائی تھی۔ (5) امام ابن عساکر نے سالم بن ابی الجعد کی طریق سے عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے پاس انبیاء کا ذکر کیا گیا جب ھود کا ذکر فرمایا تو فرمایا کہ وہ اللہ کے خلیل ہیں۔ (6) امام اور ابو یعلی اور ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ حج پر تشریف لے گئے۔ اور وادی عسفان سے گزرے تو فرمایا یہاں سے ہود اور صالح (علیہ السلام) اپنے سرخ اونٹوں پر گزرے کہ ان کی مہاریں کھجور کی چھال کی تھیں۔ وہ چغے پہنے ہوئے تھے۔ اور ان پر دھاری دار چادریں تھیں۔ لبیک پڑھتے ہوئے بیت عتیق کا حج کرنے کے لئے گئے۔ (7) امام ابن عساکر نے ابن سابط (رح) سے روایت کیا کہ مقام رکن اور زمزم کے درمیان اناسی انبیاء دفن کئے گئے اور نوح، ہود، شعیب، صالح اور اسماعیل (علیہم السلام) کی قبریں بھی اسی ٹکڑے میں ہیں۔ (8) امام ابن سعد اور ابن عساکر نے اسحاق بن عبد اللہ بن ابی فروہ (رح) سے روایت کیا کہ تین نبیوں کے علاوہ کسی نبی کی قبر کو نہیں جانا گیا اسماعیل کی قبر میزاب کے نیچے رکن اور بیت اللہ کے درمیان ہے۔ اور ہود کی قبر کو کیونکہ وہ ریت کے تودہ میں ہے جو یمن کے پہاڑ میں سے ایک پہاڑ کے نیچے ہے اس پر ایک درخت ہے اور اس کی جگہ انتہائی سخت گرم ہے اور تیسری رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک ہے اور یہ ان کی قبریں سچی ہیں۔ (9) امام بخاری نے تاریخ میں، ابن جریر اور ابن عساکر نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ھود کی قبر حضرموت میں ایک سرخ ریت کے ڈھیر میں ہے اس کے سر کے پاس بیری کا درخت ہے۔ (10) امام ابن عساکر نے عثمان بن ابی عاتکہ (رح) سے روایت کیا کہ دمشق کی مسجد کا قبلہ ھود کی قبر ہے۔ (11) امام ابو الشیخ نے ابوہریرہ سے روایت کیا کہ دمشق کی مسجد کا قبلہ ہود کی قبر ہے۔ دنیا کے چار عجائبات کا تذکرہ (12) امام زبیر بن بکار نے موفقیات میں عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ دنیا کے عجائب چار ہیں ایک شیشہ جو معلق تھا اسکندریہ کے منارہ سے ایک بیٹھنے والا اس کے نیچے جب بیٹھتا تھا۔ اور وہ دیکھتا تھا قسطنطنیہ اور دونوں شہروں کے درمیان سمندر کے عرض کو اور ایک گھوڑا ہے تانبا کا اندلس کی زمین میں وہ اپنی ہتھیلی کو جھکا کر اپنے ہاتھ کو پھیلائے ہوئے تھا یعنی اس کے پیچھے والے پاؤں نہیں تھے کوئی بھی ان شہروں تک نہیں پہنچا مگر چیونٹیوں نے اس کو کھالیا ہے۔ اور ایک منارہ ہے تانبے کا اس پر تانبے کا ایک سوار ہے۔ قوم عاد کی زمین میں جب عزت والے مہینے ہوتے ہیں تو اس سے پانی گرتا ہے۔ لوگ اس کو پیتے ہیں۔ خوب سیراب ہوتے ہیں۔ اور اپنے حوض بھر لیتے ہیں۔ جب عزت والے مہینے ختم ہوجاتے ہیں تو وہ پانی بھی ختم ہوجاتا ہے اور ایک درخت ہے تانبے کا اس پر تانبے کی ایک چڑیا ہے روم کے پانی میں جب زیتون کا موسم آتا ہے تو وہ تانبے والی چڑیا زرد پڑجاتی ہے۔ تو اڑنے والی چڑیا تین زیتون لے کر آتی ہے۔ دو زیتون اپنے پاؤں میں اور ایک زیتون چونچ میں یہاں تک کہ وہ ڈال دیتی ہے اس تانبے والی چڑیا پر تو روم والے ان کو نچوڑ لیتے ہیں جو ان کو کافی ہوجاتا ہے اپنے کھانے کے لئے اور چراغوں میں جلانے کے لئے آنے والے موسم سرما تک۔
Ayahs 7:73–79

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ صالح نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارے لیے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلیل آچکی ہے، یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لیے نشانی ہے سو تم اسے اللہ کی زمین میں چھوڑے رکھو کھاتی پھرا کرے۔ اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگاؤ اور نہ تمہیں دردناک عذاب پکڑ لے گا

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور یاد کرو جب اللہ نے تمہیں عاد کے بعد زمین میں رہنے کا ٹھکانہ دے دیا۔ تم اس زمین کے نرم حصہ میں محلات بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو۔ سو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد مت کرو

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

ان کی قوم کے جو متکبر سردار تھے انہوں نے ضعیفوں سے کہا جو ان میں سے ایمان لائے تھے کیا تم اس بات کا یقین کرتے ہو کہ صالح اس کے رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا بیشک جو کچھ ان کو دے کر بھیجا گیا ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

متکبر سرداروں نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ تم جس پر ایمان لائے ہو ہم اس کے منکر ہیں

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

سو انہوں نے اونٹنی کو کاٹ ڈالا اور اپنے رب کا حکم ماننے سے سرکشی کی، اور کہنے لگے کہ اے صالح ! اگر تم پیغمبروں میں سے ہو تو جس چیز کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو وہ لے آؤ

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

سو ان کو پکڑ لیا زلزلہ نے سو وہ اوندھے منہ ہو کر اپنے گھروں میں پڑے رہ گئے

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

پھر صالح نے ان سے منہ موڑا۔ اور فرمایا کہ اے میری قوم ! بلاشبہ میں نے تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا۔ اور تمہاری خیر خواہی کی۔ لیکن تم خیر خواہی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔

(1) امام ابو الشیخ نے مطلب بن زیاد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عبد اللہ بن ابی یعلی (رح) سے یہودی اور نصرانی کے بارے میں پوچھا کیا اسے بھائی کہا جاسکتا ہے ؟ فرمایا انہیں بھائی ایک دار میں رہنے کے سبب ہے لہٰذا اسے بھائی کہا جاسکتا ہے۔ کیا تو اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف نہیں دیکھتا لفظ آیت ” والی ثمود اخاھم صلحا “ (2) امام سنید اور ابن جریر اور حاکم نے حجاج کے طریق سے ابوبکر بن عبد اللہ سے اور انہوں نے شہر بن خوشب سے اور انہوں نے عمرو بن خارجہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ثمود صالح کی قوم تھی اللہ تعالیٰ نے ان کو آباد کیا دنیا میں انہیں بہت لمبی عمریں عطا فرمائیں۔ یہاں تک کہ ایک ان میں سے کوئی مٹی سے اپنا گھر تعمیر کرتا تو وہ گر جاتا اور وہ آدمی ابھی تک زندہ ہوتا۔ جب انہوں نے اس کو دیکھا تو پہاڑوں سے گھر بنانے لگے۔ وہ پہاڑوں کو کھودتے اور ان کو کاٹ کر ان میں غاریں بنا لیتے اور وہ اپنے معاشی اعتبار سے بھی خوشحال تھے۔ انہوں نے کہا اے صالح اپنے رب سے دعا کیجئے کہ ہمارے لئے کوئی نشانی نکالے۔ ہم جان لیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں صالح نے اپنے رب سے دعا فرمائی تو ان کے لیے ایک اونٹنی پیدا فرما دی۔ اس کے لئے پانی پینے کا ایک دن تھا اور ایک دن ان کے لئے مقرر تھا۔ اور جب ایک دن اس کے پانی پینے کا ہوتا تو اسے کھلی فضا میں علیحدہ لے جاتے اور اس اونٹنی کا دودھ دوہتے تو اپنے سارے برتن اور مشکیزے بھر لیتے اور جب ان کے پینے کا دن ہوتا تو وہ اونٹنی کو اپنی سے دور بھگا دیتے اور وہ اس میں سے کچھ بھی نہ پیتی جبکہ وہ خود ہر برتن اور مشکیزے بھر لیتے اللہ تعالیٰ نے وحی فرمایا صالح کی طرف کہ تیری قوم عنقریب تیری اونٹنی کی کونچیں کاٹ دے گی جب ان سے یہ بات کہی تو انہوں نے کہا کہ ہم اس کفر کو کرنے والے نہیں ہیں۔ صالح نے ان سے فرمایا اگر تم اس کو نہیں کاٹو گے تو تم سے عنقریب ایک بچہ پیدا ہوگا جو اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ دے گا۔ انہوں نے پوچھا کہ اس لڑکے کی کیا نشانی ہے۔ اللہ کی قسم ہم اس کو پائیں گے تو اس کو قتل کردیں گے فرمایا وہ ایک لڑکا ہے جو گہرے زرد رنگ نیلا اور سفید مائل سرخ رنگ کا ہوگا۔ اور شہر میں دو انتہائی طاقتور اور غلبہ رکھنے والے بوڑھے تھے۔ ان میں سے ایک کا بیٹا تھا جو نکاح کی رغبت رکھتا تھا۔ اور دوسرے کی بیٹی تھی جس کے لئے وہ ہم کفؤ مرد نہیں پا رہا تھا یہ دونوں ایک مجلس میں جمع ہوئے ان میں سے ایک نے کہا اپنے ساتھی سے کس چیز نے تجھ کو روکا ہے کہ تو اپنے بیٹے کا نکاح کرے۔ اس نے کہا کہ میں اس کے لئے کوئی ہم کفؤ لڑکی نہیں پاتا۔ اس نے کہا میری بیٹی اس کے لئے کم کفؤ ہے۔ میں تجھ سے شادی کردیتا ہوں تو اس نے اس سے شادی کردی ان دونوں کے ملنے سے وہ بچہ پیدا ہوا اور شہر میں گروہ تھے جو زمین میں فساد پھیلا رہے تھے جب اس سے صالح نے فرمایا کہ اس اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا تم میں سے پیدا ہوگا۔ ان لوگوں نے بستی کی آٹھ دایاں عورتوں کو چنا۔ ان کے ہاتھ پولیس مقرر کی کہ یہ لوگ سارے شہر میں پھریں بستی میں جب وہ کسی عورت کو درد میں مبتلا دیکھیں تو پھر نظر رکھیں کہ کیا پیدا ہوا اگر وہ لڑکا ہو تو اس کو الٹ پلٹ کر دیکھیں کہ وہ کس طرح کا ہے اور لڑکی ہو تو اس سے اعراض کریں۔ جب انہوں نے اس لڑکے کو پالیا تو عورتیں چیخیں کہ یہ وہی لڑکا ہے جس کی نشاندہی اللہ کے رسول صالح نے کی ہے۔ تو پولیس نے اسے اٹھانے کا ارادہ کیا لیکن اس کے دادا اس کے درمیان حائل ہوگئے اور انہوں نے کہا اگر صالح نے اس کا ارادہ کیا ہے تو ہم خود اس کو قتل کردیں گے۔ اور یہ ایک شریر بچہ تھا۔ وہ ایک دن میں اتنا بڑھتا جتنا دوسرے بچے ایک ہفتہ میں بڑھتے ہیں اور ایک ہفتہ میں اتنا بڑھتا تھا جتنے دوسرے بچے ایک ماہ میں بڑھتے ہیں اور یہ لڑکا ایک ماہ میں اتنا بڑھتا تھا جتنا دوسرے بچے ایک سال میں بڑھتے ہیں وہ آٹھ گروہ جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے وہ جمع ہوگئے وہ دونوں بوڑھے بھی شامل ہوئے۔ انہوں نے کہا عامل بناؤ ہم پر اس لڑکے کو اس کے مقام و مرتبہ اور اس کے دادا کی عظمت و شرف کی وجہ سے اور یہ لوگ نو تھے اور صالح ان کے ساتھ نہ سوتے تھے بستی میں اور وہ اپنی مسجد میں رات گزارتے تھے جب صبح ہوتی ان کے پاس آتے ان کو ان کی نصیحت کرتے اور ان کو یاد دلاتے جب شام ہوتی تو اپنی مسجد کی طرف نکل جاتے اور وہیں رات گزارتے۔ حجاج اور ابن جریرج نے فرمایا جب ان سے صالح نے فرمایا عنقریب ایک لڑکا پیدا ہوگا کہ تمہاری ہلاکت اس کے ہاتھ پر ہوگی۔ انہوں نے کہا تو ہم کو کیا حکم کرتا ہے۔ صالح نے فرمایا میں تم کو ان کے قتل کا حکم دیتا ہوں انہوں نے ایک کے علاوہ سب کو قتل کردیا آپ نے فرمایا جب وہ بچہ بالغ ہو تو ان لوگوں نے کہا کاش کہ اگر ہم اپنی اولاد کو قتل نہ کرتے تو ہر آدمی کے لئے ہم میں سے اس کی مثل (نوجوان لڑکا) ہوتا یہ صالح کا عمل ہے۔ چناچہ انہوں نے آپس میں آپ کو قتل کرنے کا مشورہ کیا اور انہوں نے کہا ہم مسافر بن کر نکلیں گے اور لوگ ہم کو ظاہرا اس حالت میں دیکھیں گے پھر ہم لوٹیں گے فلاں مہینہ کی فلاں رات کو اور اس طرح ہم اس کی گھات لگائیں گے اس کی عبادت گاہ کے قریب اور ہم اس کو قتل کردیں گے۔ اور یہ لوگ یہ گمان کریں گے کہ ابھی ہم سفر پر ہیں جیسے ہم تھے وہ لوگ آئے یہاں تک کہ وہ لوگ ایک چٹان کے نیچے داخل ہوگئے تاکہ وہ اس کی گھات لگائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس چٹان کو ان پر گرا دیا اور ان کو کچل دیا انہوں نے کچلی ہوئی حالت میں صبح کی جیسے جیسے لوگوں کو اطلاع ہوئی۔ تو ان کی طرف چلے اور ان کو دیکھا کہ وہ سب کچلے پڑے ہیں۔ لوگ چیختے چلاتے گاؤں کی طرف لوٹے اے اللہ کے بندو ! کیا صالح اس پر راضی نہیں ہوا کہ اس نے انہیں اپنے بچوں کو قتل کا حکم دیا تو انہوں نے ان کو قتل کردیا چناچہ اونٹنی کو مارنے کے لئے بستی کے سب لوگ جمع ہوئے پھر ڈر کے مارے اس سے پیچھے ہٹ گئے مگر اس دس سالہ بچے نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی حدیث کی طرف لوٹتی ہے۔ اور فرمایا انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ صالح کے ساتھ کوئی تدبیر کریں وہ لوگ چلے یہاں تک کہ وہ صالح کے راستے میں ایک گھاٹ پر آئے۔ اور اس میں آٹھ آدمی چھپ گئے اور انہوں نے کہا جب وہ ہم پر نکلیں گے تو ہم ان کو قتل کردیں پھر ہم ان کے گھر والوں کے پاس آئیں گے اور ہم ان کے پاس رات گزاریں گے تو اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا تو وہ ان پر برابر ہوگئی (اور وہ زمین میں دھنس کر مرگئے) پھر وہ لوگ اکھٹے ہوئے اور اونٹنی کی طرف چلے۔ اور وہ اپنے حوض پر کھڑی ہوئی تھی ان میں سے ایک بدبخت نے کہا اس کے پاس جاؤ اور اس کی کونچیں کاٹ دے چناچہ وہ اس کے پاس گیا یہ کام اس کیلئے دشوار ہوگیا تو وہ اس کام سے رک گیا۔ اس نے دوسرا آدمی کو بلایا تو یہ کام اس کے لئے بھی دشوار ہوگیا۔ وہ جس آدمی کو بھی بھیجتے تھے تو یہ کام اس کے لئے دشوار ہوجاتا تھا یہاں تک وہ خود اس کی طرف گیا اور بڑی تیزی کے ساتھ جا کر اس کی کونچوں پر ضرب لگائی۔ جس کے نتیجہ میں اونٹنی گرگئی اور پاؤں کو زمین پر مارنے لگی تو اس دوران ان میں سے ایک آدمی کی نظر صالح پر پڑی تو آپ کو بلا کر کہا اپنی اونٹنی کو دیکھ لو اس کی کونچیں کاٹ دی گئیں۔ آپ آئے تو وہ نکل کر آپ سے ملاقات کرنے لگے اور آپ سے معذرت کرنے لگے اے اللہ کے نبی فلاں آدمی نے اس کی کونچیں کاٹی ہیں ہمارا کوئی گناہ نہیں۔ صالح نے فرمایا دیکھو کیا تم پالو گے اس کے بچے کو ؟ اگر تم نے اس کو پالیا تو قریب ہے اللہ تعالیٰ تم سے عذاب کو اٹھالیں گے وہ لوگ اس کو تلاش کرنے کے لئے نکلے۔ جب اس بچے نے اپنی ماں کو دیکھا کہ وہ تڑپ رہی ہے تو ایک پہاڑ پر آیا جس کو القارۃ قصیر کہا جاتا ہے۔ وہ بچہ اس پر چڑھ گیا۔ وہ لوگ اس کو پکڑنے کے لئے گئے تو اللہ تعالیٰ نے پہاڑ کی طرف وحی بھیجی تو وہ آسمان کی طرف اتنا لمبا ہوگیا یہاں تک کہ اس پر پرندہ بھی نہ پہنچ سکتا تھا۔ صالح بستی میں داخل ہوئے۔ جب ان کو انٹنی کے بچے نے دیکھا تو رویا حتی کہ اس کے آنسو بہنے لگے پھر وہ صالح کی طرف توجہ ہوا۔ اور بلبلانے لگا۔ پھر دوسری دفعہ وہ بلبلایا پھر تیسیر مرتبہ بلبلایا صالح نے اپنی قوم سے فرمایا ہر بلبلانے کے بدلے ایک فوت ہے۔ تین دن تم اپنے گھروں میں نفع جو جھوٹا نہیں ہوسکتا خبردار عذاب کی نشانی یہ ہوگی کہ پہلے دن صبح کو تمہارے زرد ہوجائیں گے اور دوسرے دن سرخ ہوجائیں گے اور تیسرے دن کالے ہوجائیں گے جب وہ صبح کو اٹھے تو اچانک ان کے چہرے اس طرح زرد ہوچکے تھے گویا کہ ان پر زعفران کا طلا چڑھا دیا گیا۔ ان کے چھوٹے ان کے بڑے ان کے مرد ان کی عورتیں (سب کے چہرے اسی طرح تھے) جب شام ہوئی تو اکھٹے ہو کر چیخنے لگے کہ ایک دن موت کا گزر چکا اور تم پر عذاب آچکا ہے۔ جب دوسرے دن صبح کو اٹھے تو اچانک ان کے چہرے سرخ تھے گویا کہ خون سے رنگ دیا گیا ہو۔ وہ چیخ و پکار اور شور مچانے لگے اور رونے لگے اور سمجھ گئے کہ یہ عذاب ہے۔ جب شام ہوئی تو اکٹھے ہو کر چیخنے لگے کہ دو دن موت میں سے گزر چکے اب تمہارے پاس عذاب آچکا ہے۔ جب تیسرے دن صبح کو اٹھے تو اچانک ان کے چہرے کالے تھے گویا کہ تارکول کا طلا کردیا گیا وہ اکٹھے ہو کر چیخنے لگے کہ تم پر عذاب آچکا ہے۔ انہوں نے کفن پہن لئے اور خوشبو لگالی۔ انہوں نے اپنی آنکھوں کو پھیرنا شروع کیا اور وہ آسمان کی طرف کبھی دیکھتے اور کبھی زمین کی طرف دیکھتے۔ اور نہیں جانتے تھے کہ کس طرف سے ان پر عذاب آئے گا آسمان کے اوپر سے یا ان کے پاؤں کے نیچے زمین سے دھنسانے سے یا پتھر مارنے سے جب چوتھے دن صبح ہوئی تو ایک سخت آواز آسمان سے آئی اس میں سخت آواز تھی ہر قسم کی آواز بھی تھی۔ اور زمین میں بولنے والی ہر شے کی آواز بھی تھی۔ اس کی وجہ سے ان کے دل کٹ گئے ان کے سینوں میں اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے گرے ہوئے تھے۔ (3) امام عبد الرزاق، فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابو الطفیل (رح) علیہ سے روایت کیا کہ قوم ثمود نے صالح سے کہا لے آہمارے کیلئے کوئی نشانی اگر تو سچے لوگوں میں سے ہے۔ انہوں نے فرمایا باہر نکلو وہ لوگ زمین میں سے ایک پہاڑی ٹیلہ کی طرف نکلے تو اس پر وہ کیفیت طاری ہوئی جو حاملہ عورت پر درزہ کے وقت طاری ہوتی ہے۔ پھر وہ پہاڑی ٹیلہ پھٹ پڑا۔ اور اس کے درمیان میں سے ایک اونٹنی نکل آئی صالح نے ان سے فرمایا لفظ آیت ” ھذہ ناقۃ اللہ لکم ایۃ فذروھا تاکل فی ارض اللہ ولا تمسوھا بسوء فیاخذکم عذاب الیم “ جب انہوں نے کہا کہ اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو پھر صالح نے فرمایا ” فقال تمتعوا فی دارکم ثلثۃ ایام، ذلک وعد غیر مکذوب “ (یعنی تم نفع اٹھاؤ اپنے گھروں میں تین دن تک یہ اللہ کا وعدہ ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ (4) امام عبد الرزاق، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ صالح نے ان سے فرمایا جب انہوں نے اونٹنی کو ذبح کردیا تین دن تم فائدہ اٹھاؤ پھر ان سے فرمایا تمہارے عذاب کی نشانی یہ ہے کہ کل صبح کو تمہارے چہرے زرد ہوجائیں گے اور دوسرے دن سرخ ہوجائیں گے اور تیسرے دن کالے ہوجائیں گے تو اسی طرح ہوا جب تیسرا دن تھا تو انہوں نے اپنی ہلاکت کا یقین کرلیا تو کفن پہن لیے اور خوشبو لگا لی۔ پھر ان کو ایک چیخ نے پکڑا اور وہ مرگئے اور اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والے نے کہا : میں نے اس کو قتل کیا یہاں تک کہ سب لوگ راضی تھے پس وہ پردہ دار عورتوں کے پاس گئے اور ان کو کہا کیا تم اس پر راضی ہو تو انہوں نے کہا ہاں اور بچوں کے پاس بھی گئے یہاں تک کہ سب نے رضا مندی کا اظہار کردیا۔ تو انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ (5) امام احمد، بزار ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی نے الاوسط میں، ابو الشیخ اور حاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح بھی قرار دیا اور ابن مردویہ نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب حجر کے مقام پر اترے تو آپ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا اے لوگو اپنے نبی سے علامات اور معجزات کا سوال نہ کرو۔ اس لئے کہ صالح کی قوم نے اپنے نبی سے مطالبہ کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف کوئی نشانی بھیج دے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک اونٹنی کو بھیجا وہ اس پہاڑی راستہ سے آتی تھی اور اپنی باری کے دن ان کا سارا پانی پی جاتی تھی جس دن وہ وہاں آتی تھی۔ اور وہ لوگ اس طرح اس کا دودھ دوہتے تھے جیسے اس سے پانی لے رہے ہیں اور وہ واپس جاتی تھی اس پہاڑی راستہ سے انہوں نے اپنے رب کا حکم کی نافرمانی کی اور اس کی کونچیں کاٹ دیں اللہ تعالیٰ نے تین دن کے بعد ان سے عذاب کا وعدہ کیا اور یہ وعدہ اللہ کی طرف سے تھا جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ پھر ان کے اوپر ایک کرخت چیخ آئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا جو ان میں سے زمین کی مغربوں میں تھے۔ مگر ایک آدمی جو حرم شریف میں تھا (وہ بچ گیا) اللہ کے حرم نے اسے عذاب سے بچا لیا۔ کہا گیا یا رسول اللہ یہ کون تھا فرمایا یہ ابو رغال تھا جب وہ حرم سے نکلا تو اس کو بھی وہی عذاب پہنچ گیا جو اس کی قوم پر آیا تھا (6) امام ابن جریر، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابو الطفیل سے اسی طرح مرفوعا ذکر کیا۔ (7) امام احمد اور ابن منذر نے ابو کبشہ انماری (رح) سے روایت کیا کہ جب غزوہ تبوک کے وقت قوم اہل حجر کی طرف تیزی سے چلتے ہوئے ان کے پاس پہنچے۔ لوگوں میں پکارا گیا کہ نماز تیار ہے۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ فرما رہے تھے۔ کیوں وہ لوگ داخل ہوئے ہیں ایسی قوم پر کہ جن پر اللہ تعالیٰ نے غصہ فرمایا ایک آدمی نے کہا ہم تعجب کرتے ہیں ان پر یا رسول اللہ ! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو اس سے زیادہ تعجب کی بات نہ بتاؤں۔ ایک آدمی تم میں سے تم کو خبر دیتا ہے ان واقعات کی جو تم سے پہلے تھے۔ اور ان کی بھی جو تمہارے بعد ہونے والے ہیں سیدھی راہ پر استقامت اختیار کرو ٹھیک ٹھیک رہو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں کہ تم پر کسی چیز کا عذاب آجائے عنقریب اللہ تعالیٰ ایسی قوم لائیں گے جو اپنی جانوں سے کسی چیز کو نہیں ہٹا سکیں گے۔ اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کا واقعہ (8) امام ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب قوم ثمود نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو ایک دوسرے کو آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے۔ اور انہوں نے کہا تم پر لازم ہے کہ اس کے بچے کو پکڑ لو۔ وہ بچہ قارہ پہاڑ پر چڑھ گیا۔ یہاں تک کہ جب دن ہوا تو اس نے قبلہ کی طرف منہ کیا اور کہا اے میرے رب میری ماں اے میرے رب میری ماں اے میرے رب میری ماں۔ اے میرے رب میری ماں تو اس وقت ان پر سخت چیخ بھیج دی گئی۔ (9) امام ابن ابی حاتم نے عبد اللہ بن ابی حنبل (رح) سے روایت کیا کہ جب اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی گئیں تو اس کا بچہ فرغ پہاڑ پر چڑھ گیا اور وہاں بلبلایا جس شے نے بھی اس کی آواز کو سنا تو ہلاک ہوگئی۔ (10) امام ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ جب صالح کی قوم نے اونٹنی کو قتل کردیا تو صالح نے ان سے فرمایا عذاب تمہارے پاس آنے والا ہے۔ انہوں نے پوچھا اس کی کیا نشانی ہوگی فرمایا پہلے دن صبح کو تمہارے چہرے سرخ ہوجائیں گے دوسرے دن زرد ہوجائیں گے اور تیسرے دن کالے ہوجائیں گے۔ جب پہلے دن صبح کو اٹھے تو ان کے چہرے سرخ تھے۔ جب دوسرا دن ہوا تو ان کے چہرے کالے ہوگئے ان کو عذاب آنے کا یقین ہوگیا۔ انہوں نے خوشبو لگائی اور کفن پہن لیا اور اپنے گھروں میں رہے تو جبرئیل نے ایک چیخ ماری تو ان کی روحیں چلی گئی۔ (11) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے صالح کو ثمود کی طرف بھیجا۔ انہوں نے ان کو بلایا مگر انہوں نے ان کو جھٹلادیا۔ پھر انہوں نے سوال کیا کہ ان کے پاس کوئی نشانی لے آؤ آپ ان کے پاس ایک اونٹنی لے آئے۔ ایک دن اس کے لئے پانی پینا مقرر تھا اور ایک دن ان لوگوں کے لئے پینا مقرر تھا۔ ان سب نے اس کا اقرار کیا۔ اس اونٹنی کے لئے پانی پینے کا ایک دن مقرر تھا۔ وہ اس میں پانی پیتی تھی۔ جو ایک نہر تھی دو پہاڑوں کے درمیان اور اس مقام سے دونوں پہاڑ بہت تنگ تھے اس نہر پر اونٹنی کا نشان قیامت تک باقی رہے گا۔ پانی پینے کے بعد وہ اونٹنی واپس آتی اور ان کے لئے کھڑی ہوجاتی یہاں تک کہ وہ لوگ دودھ کو دوہ لیتے اور ان کو خوب سیراب کردیتی۔ اور جس دن وہ لوگ پانی پیتے تو وہ ان کے پاس نہ آتی تھی۔ اس کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا۔ صالح نے ان سے فرمایا تمہارے ہاں اس مہینہ میں ایک بچہ پیدا ہوگا اس کے سبب تم ہلاک ہوجاؤ گے تو اس مینہ میں ان میں سے نو افراد کے گھر بچے پیدا ہوئے۔ ان لوگوں نے اپنے بیٹوں کو ذبح کرا دیا۔ پھر دسویں آدمی کے گھر بیٹا پیدا ہوا اس نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے سے انکار کردیا۔ کیونکہ اس کے پاس اس سے پہلے کوئی اولاد نہ تھی۔ اور دسویں کا باپ سرخ اور نیلا تھا۔ یہ بچہ بہت تیزی سے نشوونما پا تا رہا۔ جب کبھی یہ گزرتا نویں افراد کے پاس سے تو وہ اسے دیکھتے اور کہتے : اگر ہمارے بیٹے زندہ ہوتے تو اس کے مثل ہوتے۔ چناچہ یہ تمام افراد صالح پر غضب ناک اور ناراض ہوئے۔ (12) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تمسوھا بسوء “ تم اس کی کونچیں نہ کاٹو۔ (13) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وتنحتون الجبال بیوتا “ یعنی وہ پہاڑوں کو کھود کر گھر بنا لیتے تھے۔ (14) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وعتوا عن امر ربھم “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے باطل میں غلو کرنا اور فرمایا ” فاخذتھم الرجفۃ “ یعنی چیخ۔ (15) امام ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فاصبحوا فی دارھم “ یعنی ہمارا لشکر اپنے اپنے گھروں میں زندہ ہوگیا۔ (16) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فاصبحوا فی دارھم جثمین “ یعنی مرے ہوئے۔ (17) امام عبد حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فاصبحوا فی دارھم جثمین “ یعنی وہ اپنے گھروں میں مردہ ہوگئے۔ (18) امام عبد الرزاق اور ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب قوم ثمود نے اونٹنی کو قتل کردیا تو اس کو بچہ بھاگا یہاں تک کہ ایک پہاڑ پر چڑھ گیا اور کہا اے میرے رب میری ماں کہاں ہے بلبلا رہا تھا۔ تو ایک چیخ نازل ہوئی اور اس نے ان سب کو ہلاک کردیا۔ (19) امام احمد نے زھد میں عمار (رح) سے روایت کیا کہ صالح کی قوم نے اونٹنی کا سوال کیا پھر اس کے پاس آئے اور ان کی کونچیں کاٹ دیں قتل کردیا۔ اور بنی اسرائیل نے دستر خوان کا سوال کیا۔ وہ نازل ہوا مگر انہوں نے اس کا انکار کیا اور بلاشبہ تمہاری آزمائش دینار اور درہم میں ہے۔ (20) امام ابو الشیخ نے وھب (رح) سے روایت کیا کہ جب صالح نے نجات پائی اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے۔ فرمایا اے میری قوم یہ ایسی جگہ ہے کہ جہاں اس کے رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا غضب اور عذاب نازل ہوا ہے۔ لہٰذا تم یہاں سے کوچ کر جاؤ اور اللہ کے حرم اور ان کے امن کے ساتھ مل جاؤ۔ پس اس وقت میں انہوں نے حج کا چاند دیکھا اور چل پڑے۔ یہاں تک کہ مکہ پہنچ گئے پھر یہیں قدیم رہے یہاں تک کہ مقدس شہر میں فوت ہوگئے ان کی قبریں کعبہ کے غربی جانب میں ہیں۔