Ayah 7:199(1) امام سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، بخاری، ابو داؤد، نسائی، نحاس نے ناسخ میں، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں عبد اللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت لوگوں کے اخلاق کے بارے میں نازل ہوئی (یعنی) لفظ آیت ” خزو العفو وامر بالعرف واعرض عن الجھلین “ اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم فرمایا لوگوں کے اخلاق میں سے درگزر کو اختیار کریں۔
(2) امام ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، طبرانی نے الاوسط میں، ابن مردویہ اور حاکم نے (آپ نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ” خذو العفوا “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم فرمایا کہ آپ لوگوں کے اخلاق میں درگزر کو اختیار کریں۔
(3) امام ابن ابی الدنیا نے مکارم الاخلاق میں ابراہیم بن ادھم (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے لفظ آیت ” خذ العفوا وامر بالعرف واعرض عن الجھلین “ کو نازل فرمایا تو رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کے اخلاق میں سے در گزر کرنے کو اختیار کریں۔
(4) امام ابن ابی الدنیا، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے شبعی (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے لفظ آیت ” خذ العفوا امر بالعرف واعرض عن الجھلین “ کو نازل فرمایا تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا اے جبرئیل اس کا مطلب کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں یہاں تک کہ میں جاننے والے سے پوچھ لوں چناچہ جبرئیل واپس گئے پھر لوٹ کر آئے اور کہا اللہ تعالیٰ آپ کو حکم فرماتے ہیں جو آپ پر ظلم کرے اس کو معاف کردیا جو تم کو محروم رکھے آپ اس کو عطا کریں آپ سے قطع تعلق کرے اس سے تعلق جوڑیں۔
ظلم کرنے والے سے درگزر کرنا اعلیٰ اخلاق ہے
(5) امام ابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” حذالعفو وامر بالعرف واعرض عن الجھلین “ نازل ہوئی۔ تو نبی ﷺ نے پوچھا اے جبرئیل اس آیت کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے فرمایا (میں نہیں جانتا) یہاں تک کہ میں پوچھ لوں (اللہ تعالیٰ سے) وہ اوپر چڑھ گئے پھر نیچے اتر آئے اور فرمایا اے محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتے ہیں جو تم پر ظلم کرے اس کو معاف کردیں جو تم کو محروم رکھے اس کو عطا کریں۔ جو آپ سے قطع تعلق کرے اس سے تعلق جوڑیں پھر نبی ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو دنیا و آخرت کے اعلی ترین اخلاق نہ بتاؤں صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کیا ہیں ؟ فرمایا جو تم پر ظلم کرے اس سے درگزر کرو جو تم کو محروم رکھے اس کو عطا کرو جو تم سے قطع تعلق کرے اس سے تعلق جوڑیں۔
(6) امام ابن مردویہ نے قیس بن سعد بن عبادہ ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حمزہ بن عبد المطلب ؓ کو دیکھا کہ ان کو شہید کرکے ان کے اعضاء کاٹ دئیے گئے ہیں تو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم کہ میں ان میں سے ستر آدمیوں کو ضرور مثلہ کروں گا (یعنی ان کے اعضاء کاٹوں گا) تو جبرئیل یہ آیت ” خذا العفوا وامر بالعرف واعرض عن الجھلین “ لے آئے تو آپ نے پوچھا اے جبرئیل اس کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے کہا میں نہیں جانتا (وہ اوپر گئے) پھر لوٹ آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو حکم فرماتے ہیں کہ جو تم پر ظلم کرے اس کو معاف کردیں اور جو تم سے قطع تعلق کرے اس سے تعلق جوڑیں۔ جو تم کو محروم رکھے اس کو عطا کریں۔
(7) امام ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ” خذو العفو “ کے بارے میں فرمایا معافی اور در گزر آپ کے مکارم اخلاق میں سے ہے۔
(8) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” خذ العفو “ کے بارے میں فرمایا لوگوں کے اخلاق اور بغیر تفتیش کے ان کے اعمال میں سے ہے۔ ” وامر بالعرف “ یعنی آپ نیکی کے ساتھ ان کو حکم کریں۔
(9) امام بخاری، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عینیہ بن حصن بن بدر اپنے بھتیجے حر بن قیس (رح) کے پاس آکر ٹھہرا اور یہ یعنی حضرت عمر ؓ کے مقربین میں سے تھے۔ حضرت عمر کے اہل مجلس قرار ہوتے تھے جوان ہوں یا بوڑھے۔ عینیہ نے اپنے بھتیجے سے کہا کسی تدبیر سے تم اس امیر (یعنی عمر ؓ) سے میرے لئے اجازت لے سکتے ہو ؟ کہ وہ مجھے اپنے مجلس میں حاضر ہونے کی اجازت دیدیں۔ حر نے کہا کہ میں عنقریب تیرے لئے ان سے اجازت طلب کروں گا۔ ابن عباس نے فرمایا حر نے عینیہ کے لئے اجازت لی۔ عمر ؓ نے اس کو اجازت دیدی۔ جب وہ داخل ہوئے تو کہا اے خطاب کے بیٹے نہ تو آپ ہم کو عطیات دیتے ہیں اور نہ ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ کرتے ہو۔ (یہ سن کر) عمر ؓ سخت غصہ ہوگئے یہاں تک کہ اسے سخت سزا دینے کا ارادہ کرلیا۔ حر نے کہا اے امیر المومنین ! اللہ تعالیٰ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا لفظ آیت ” خذ العفوا وامر بالعرف واعرض عن الجھلین “ اور یہ آدمی جاہلوں میں سے ہے۔ اللہ کی قسم ! حضرت عمر ؓ آگے نہیں بڑھے جب ان پر (یہ آیت) تلاوت کی گئی۔ اور آپ کتاب اللہ کے اسی حکم پر ٹھہر گئے۔
(10) امام ابن ابی ھاتم نے ابن وہب کے طریق سے مالک بن انس سے روایت کیا اور انہوں نے عبد اللہ بن نافع (رح) سے روایت کیا کہ سالم بن عبد اللہ ؓ اہل شام کے اونٹوں کے پاس پر گزرے اور ان میں گھنٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ آپ نے فرمایا کہ ایسی گھنٹی سے منع کیا گیا ہے ان لوگوں نے کہا ہم تجھ سے اس حکم کو زیادہ جانتے ہیں کہ بڑی گھنٹی مکروہ ہے اور اس طرح کی گھنٹی میں کوئی حرج نہیں۔ تو سالم (رح) رونے لگے اور فرمایا لفظ آیت ” واعرض عن الجھلین “۔
(11) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” خذ العفو وامر بالعرف واعرض عن الجھلین “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ وہ اخلاق ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس کا حکم فرمایا اور اس پر ان کی دلالت کی (یعنی ان کو بتایا)
تعلق توڑنے والوں سے تعلق جوڑنا اخلاق ہے
(12) امام بیہقی نے شعب الایمان میں علی ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو اولین اور آخرین کے بہترین اخلاق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے آپ نے فرمایا جو تم کو محروم رکھے اس کو عطا کرو جو تم پر ظلم کرے اس سے درگزر کرو۔ اور جو تم سے قطع تعلق کرے تو اس سے تعلق جوڑو۔
(13) امام بیہقی نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تجھ کو دنیا اور آخرت والوں کے افضل ترین اخلاق نہ بتاؤں (وہ یہ ہیں) جو تم سے قطع تعلق کرے تم اس سے تعلق جوڑو۔ جو تم کو محروم رکھے اس کو عطا کرو جو تم پر ظلم کرے اس کو معاف کر دو ۔
(14) امام بیہقی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو تجھ سے قطع تعلق کرے اس سے تعلق جوڑو اور جو تجھ پر ظلم کرے اس کو معاف کر دو ۔
(15) امام بیہقی نے انس ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو تجھ سے قطع تعلق کرے اس سے تعلق جوڑو۔ اور جو تجھ پر ظلم کرے اس کو معاف کر دو ۔
(16) امام بیہقی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں تم کو دنیا اور آخرت کے اچھے اخلاق نہ بتاؤں (اور وہ یہ ہیں) جو تجھ سے قطع تعلق کرے اس سے تعلق جوڑو جو تجھ کو محروم کر دے اس کع طا کرو اور جو تجھ پر ظلم کرے اس کو معاف کر دو
(17) امام بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تم کو دنیا اور آخرت کے مکارم اخلاق کے بارے میں نہ بتاؤں صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ضرور بتائیے فرمایا جو تجھ سے (قرابت کا رشتہ) توڑے تو اس سے جوڑ۔ جو تجھ کو محروم کر دے اس کو عطا کر دو اور جو تجھ پر ظلم کرے اس کو معاف کر دو ۔
(18) امام عبد الرزاق نے مصنف میں، بیہقی نے اپنی سند سے ابن اسحاق ہمدانی سے اور انہوں نے ابن ابی حسین ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو دنیا اور آخرت والوں کے اعلی اخلاق نہ بتاؤں (وہ یہ ہیں) کہ جو تجھ سے (قرابت کا رشتہ) توڑے تو اس سے جوڑو جو تجھ کو محروم کر دے اس کو عطا کرو۔ اور جو تجھ پر ظلم کرے اس کو معاف کر دے۔
(19) امام ابن ابی الدنیا نے مکارم اخلاق میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی بندہ ہرگز صریح ایمان کو نہیں پاسکتا یہاں تک کہ جو تجھ سے قطع تعلق کرے اسی سے تعلق جوڑو۔ اور معاف کر دے اس شخص کو جو تجھ پر ظلم کرے۔ اور اس کو بخش دے جو تجھ کو گالی دے۔ اور اچھا سلوک کر اس شخص سے جو تیرے ساتھ برا سلوک کرے۔
(20) امام ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مکارم اخلاق میں سے یہ ہے کہ تو معاف کر دے اس شخص کو جو تجھ پر ظلم کرے۔ اور اس سے (تعلق) جوڑے تو تجھ سے (قرابت کا رشتہ) توڑے اور اس کو عطا کرے جو اس کو محروم کر دے۔ پھر نبی ﷺ نے (یہ آیت) ” خذ العفو وامر بالعرف واعرض عن الجھلین “ تلاوت فرمائی۔
(21) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ راضی ہوتے ہیں درگزر کرنے سے اور اس کا حکم کرنے سے۔
صلہ رحمی نہ کرنے والوں سے صلہ رحمی کرنا اعلیٰ اخلاق ہے
(22) امام احمد اور طبرانی نے معاذ بن انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمام فضائل میں افضل ترین یہ ہے کہ تو جوڑ دے اس شخص سے جو تجھ سے (قربت کا رشتہ) توڑ دے۔ اور اس کو عطا کرے جس نے تجھ کو محروم کیا اور اس سے درگزر کر جو تجھ کو گالیاں دے۔
(23) سلفی نے طیور یات میں نافع (رح) سے روایت کیا کہ ابن عمر ؓ جب سفر پر جاتے تو اپنے ساتھ ایک بیوقوف کو لے جاتے۔ تو اس سے بیوقوفوں کی بےوقوفی کو دور فرما دیتے۔
(24) امام ابن عدی اور بیہقی نے الشعب میں ابن شوذب (رح) سے روایت کیا کہ ہم مکحول کے پاس تھے اور ہمارے ساتھ سلیمان بن موسیٰ بھی تھے ایک آدمی آیا اس نے سلیمان پر بڑے فضل و احسان کا اظہار کیا اور سلیمان خاموش رہے پھر سلیمان کا بھائی آیا اور اس نے اسے جواب دے کر خاموش کردیا۔ مکحول نے فرمایا وہ شخص ذلیل ہوا جس کے پاس کوئی بیوقوف نہیں۔
(25) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” خذالعفو “ یعنی لے لو جتنے کی آپ کو اجازت دی گئی ہے ان کے مالوں میں سے جو تیرے پاس کوئی چیز بھی لے کر آئیں۔ اس کو لے کو اور یہ حکم سورة براۃ میں فرائض المصدقات اور اس کی تفصیل کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔
(26) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس رضی الہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے ” خذالعفو “ کے بارے میں فرمایا کہ فالتو مال کو لے لو اور اسے خرچ کر دو اور ” وامر بالعرف “ میں عرف کا معنی معروف ہے یعنی نیکی کا حکم کرو۔
(27) امام طستی نے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” خذالعفو “ کے بارے میں بتائیے انہوں نے فرمایا کہ اپنے مالوں میں سے فالتو مال کو لے لو۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو حکم فرمایا کہ وہ تیرے لئے لے لیں پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اسی معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے عبید بن ابرص کو نہیں سنا کہ وہ کہتا ہے۔
یعفو عن الجھل والسوات کما یدرک غیث الربیع ذوالطرد
ترجمہ : وہ جہالت اور برے کاموں کا مٹا دیتا ہے جیسا کہ موسم بہار کے موٹے قطروں والی بارش موسم خزاں کے اثرات کو مٹا دیتی ہے۔
(28) امام ابن جریر اور نخاس نے ناسخ میں سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” خذالعفوا “ کے بارے میں فرمایا کہ مال میں سے فالتو حصہ لے لو اور اس (حکم) کو زکوٰۃ (کے حکم) نے منسوخ کردیا۔
(29) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ” خذالعفو “ نازل ہوئی تو ایک آدمی اپنے مال میں سے لے لیتا تھا جو اس کو کافی ہوتا تھا اور (باقی) زائد مال کو صدقہ کردیتا تھا۔ تو اس (حکم) کو اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے ذریعہ منسوخ فرما دیا ” وامربالعرف “ یعنی نیکی کے ساتھ (حکم کیجئے) ” واعرض عن الجھلین “ کے متعلق فرمایا کہ یہ آیت نماز، زکوٰۃ اور قتال کے فرض ہونے سے پہلے نازل ہوئی، اللہ تعالیٰ نے ان کو رکنے کا حکم فرمایا پھر اس کو قتال کے حکم نے منسوخ کردیا اور (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” اذن للذین یقتلون بانھم ظلموا “ (الحج آیت 39) یعنی جن پر ظلم کیا گیا ان کے لئے قتال کی اجازت ہے۔
Ayah 7:200(1) امام ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) ” خذ العفوا وامر بالعرف واعرض عن الجھلین “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے میرے رب غصہ کے وقت کس طرح کریں ! تو (یہ آیت) ” واما ینزغنک من الشیطن “ نازل ہوئی۔ (یعنی جب آپ کو یطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پہنچے تو فورا اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگیں) ۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واما ینزغنک من الشیطن “ سے مراد ہے کہ یہ دشمن وسوسہ اندازی کو چاہنے اور اس کا ارادہ کرنے والا ہے۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے ” اللہم انی اعوذبک من الشیطان من ھمزہ ونفثہ ونفخہ “ پھر ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ ھمزہ سے مراد موت ہے اور نفثہ سے مراد شعر اور نفحہ سے مراد بڑائی اور تکبر ہے۔
Ayahs 7:201–203(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” ان الذین اتقوا “ سے مراد ہیں ایمان والے لوگ۔
(2) امام ابن ابی شیبہ عبد بن حمید، ابن ابی الدنیا نے ذم الغضب میں، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اذ مسھم طئف من الشیطن “ سے مراد ہے غصہ۔
(3) امام عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت ” اذا مستھم طیف من الشیطن من طائف “ الف کے ساتھ پڑھا ہے (پھر فرمایا) ” تذکروا “ یعنی کہ وہ برائی کا ارادہ کرتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا۔
(5) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” اذا مسھم طئف من الشیطن تذکروا “ کے بارے میں فرمایا کہ جب وہ کوئی لغزش کرتے ہیں تو (پھر) توبہ کرلیتے ہیں۔
گناہ کے بعد توبہ سے گناہ معاف ہوجاتا ہے
(6) امام بیہقی نے شعب الایمان میں وہب بن جریر (رح) سے روایت کیا وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں حسن کے پاس بیٹھا ہوا تھا اچانک ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا اے ابو سعید اس بندہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جو گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے۔ فرمایا وہ اس توبہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ قریب اس نے پھر عرض کیا (اگر) پھر وہ اپنے گناہ میں لوٹ آئے پھر توبہ کرے ! فرمایا اس توبہ کے ذریعہ اس نے اللہ کے نزدیک عزت میں اضافہ کرلیا۔ راوی نے کہا کہ انہوں نے مجھ سے فرمایا کیا تو نے نہیں سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا میں نے عرض کیا آپ ﷺ نے کیا فرمایا ؟ فرمایا مؤمن کی مثال ایک خوشہ کی مثال ہے جو کبھی جھکتا ہے اور کبھی سیدھا کھڑا ہوجاتا ہے اور اس صورت میں تکبر ہوتا ہے جب اس کے مالک نے اسے کاٹ دیا تو اس نے اپنے عمل کو قابل تعریف بنا لیا جیسا کہ خوشہ کا مالک اپنی گندم کے لائق ہوگیا۔ پھر (یہ آیت) پڑھی ” ان الذین اتقوا اذا مسھم طئف من الشیطن تذکروا فاذاھم مبصرون “۔
(7) امام ابو الشیخ نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مؤمن بندے کا نام کافر نہیں رکھا پھر آپ نے پڑھا لفظ آیت ” ان الذین اتقوا اذا مسھم طئف من الشیطن تذکروا “ پھر فرمایا عبد اللہ کا نام کافر نہیں رکھا لیکن بلکہ اس کا نام متقی رکھا۔
(8) امام ابن مردویہ نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یوں پڑھتے ہوئے سنا ” اذا مستھم طئف “ الف کے ساتھ۔
(9) امام عبد بن حمید نے اعمش سے اور انہوں نے ابراہیم ویحییٰ بن وثاب (رح) سے روایت کیا کہ دونوں میں سے ایک نے پڑھا ” طائف “ اور دوسرے نے پڑھا ” طئف “
(10) امام عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا ” اذ مستھم طئف “ الف کے ساتھ۔
(11) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ ” الطائف “ سے مراد شیطان کی جانب سے آنے والا وسوسہ ہے لفظ آیت ” تذکروا فاذا ھم مبصرون “ یعنی جب وہ لوگوں سے باز آجاتے ہیں اور مضبوطی سے پکڑتے ہیں اللہ کے حکم کو اور وہ شیطان اور ان کے بھائیوں کی نافرمانی کرتے ہیں فرمایا شیطان کے بھائی لفظ آیت ” یمدوھم فی الغی ثم لا یقصرون “ یعنی شیطان کے بھائی ان کو گمراہی میں کھینچ لے جاتے ہیں اور پھر ان کو گمراہ کرتے ہیں کوتاہی نہیں کرتے۔ ” واذا لم تاتیھم بایۃ قالوا لولا اجتبیتھا “ اے محبوب جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ ہم نے خود ہی اسے کیوں نہیں بنا لیا تم نے خود ہی اسے کیوں نہیں گھڑ لیا اور اسے بنا لیا۔
شیطان گمراہی کی دعوت دیتا ہے
(12) امام ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یمدونھم فی الغی “ سے وہ جنات مراد ہیں جو انسانوں میں سے اپنے دوستوں کی طرف بات کو دل میں ڈالتے ہیں ” ثم لا یقصرون “ پھر ان سے فخر میں مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ ” واذا لم تاتہم بایۃ قالوا لولا اجتبیتھا “ جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہیں لاتے تو وہ کہتے ہیں کہ تم نے اپنی جانب سے ہی کیوں نہ بنالی۔
(13) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واخوانھم یمدونھم فی الغی “ یعنی ان کو جاہل و بیوقوف سمجھتے ہوئے گمراہی میں بھی اور فرمایا ” لولا اجتبیتھا “ یعنی تو نے اس کو خود ہی کیوں نہ بنالیا۔
(14) امام حکیم ترمذی نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ میرے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور میں نے آپ کا چہرہ مبارک پر غم کو پہچان لیا۔ آپ نے میری داڑھی کو پکڑ کر فرمایا ” انا للہ وانا الیہ رجعون “ میرے پاس جبرئیل تشریف لائے ابھی ابھی اور فرمایا ” اناللہ وانا الیہ راجعون “ میں نے کہا ہاں۔ ” فاناللہ وانا الیہ رجعون “ پوچھا اے جبرائیل یہ کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا آپ کی امت فتنہ میں مبتلا ہونے والی ہے آپ کے بعد تھوڑی مدت میں جو زیادہ نہیں ہوگی میں نے پوچھا کفر کا فتنہ یا گمراہی کا فتنہ ؟ جبرائیل نے فرمایا ہر ایک ان میں سے عنقریب ہونے والا ہے میں نے کہا وہ کہاں سے ہوگا۔ حالانکہ میں ان میں اللہ کی کتاب کو چھوڑنے والا ہوں۔ جبرائیل نے فرمایا اللہ کی کتاب کے ساتھ وہ گمراہ ہوجائیں گے۔ اور یہ پہلے ان کے قراء میں ہوگا اور ان کے امراء میں سے ہوگا اور لوگوں کو ان کے حقوق سے روکیں گے اور اس کو نہ دیں گے اور آپس میں ایک دوسرے کو قتل کریں گے اور قرا اوامراء کی خواہشات کی تابعداری کریں گے اور ان کی گمراہی میں کھینچیں گے۔ پھر وہ ان کو گمراہ کرنے میں کوتاہی کریں گے میں نے کہا اے جبرائیل جو ان میں محفوظ رہنا چاہے وہ کس طرح بچ سکے گا۔ انہوں نے فرمایا رکنے اور صبر کرنے کے ساتھ اگر ان کو کچھ دے دیں تو ان سے لے لو اور وہ اسے روک لیں تو اس کو چھوڑ دو ۔
(15) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” قل انما اتبع ما یوحی الی من ربی “ کے بارے میں فرمایا کہ میں تو اسی قرآن کی اتباع کرتا ہوں جو میری طرف میرے رب کی جانب سے وحی لے جاتا ہے۔ یعنی یہ روشن دلائل میں تمہارے رب کی طرف سے پس تم ان کو سمجھو ” وھدی ورحمۃ “ (اور یہ ہدایت ہے اور رحمت ہے) اس شخص کے لئے جو اس پر ایمان لائے اور اس پر عمل کرے پھر اسی (ایمان) پر مرجائے۔
Ayah 7:204(1) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مدرویہ اور ابن عساکر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا “ کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) آوازوں کو اونچا کرنے کے بارے میں نازل ہوئی حالانکہ وہ (یعنی صحابہ) نماز میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز ادا کر رہے ہوں۔
(2) امام ابن جریر، اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا “ کے بارے میں فرمایا یعنی فرض نماز کے دوران قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو۔
(3) امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے نماز پڑھائی تو آپ کے پیچھے صحابہ نے بھی پڑھا تو (یہ آیت نازل ہوئی) ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا “۔
(4) امام سعید بن منصور اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز میں قرأت کرتے تھے تو آپ کے پیچھے (صھابہ) بھی اس کی مثل پڑھتے۔ جب آپ کے لئے ” بسم اللہ الرحمن “ تو وہ بھی اسی طرح کہتے یہاں تک کہ فاتحہ الکتاب اور سورة مکمل ہوجاتی پھر جتنا اللہ نے چاہا اسی طرح ہوتا رہا۔ پھر (یہ آیت) ” واذا قری القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا “ نازل ہوئی پھر آپ قرآت کرتے تو وہ لوگ خاموش رہتے۔
(5) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے سنن میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے پیچھے انصار میں سے ایک آدمی نے نماز کی قرآت کی تو (یہ آیت نازل ہوئی) ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا “ (الآیہ)
(6) امام ابن ابی شیبہ، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے عبد اللہ بن مفصل (رح) سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ ہر ایک آدمی پر جو قرآن کو سنے جب پڑھا جاتا ہو۔ تو اس پر واجب ہے کہ غور سے سننا اور چپ رہنا فرمایا نہیں پھر فرمایا کہ یہ آیت ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا “ نازل ہوئی امام کی قرأت کے بارے میں (یعنی) جب امام پڑھے تو اس کو سنے اور خاموش رہے۔
(7) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن مسعود سے روایت کیا کہ انہوں نے جب اپنے اصحاب کو نماز پڑھائی کچھ لوگوں کو سنا کہ وہ ان کے پیچھے پڑھ رہے تھے جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کیا تمہارے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ تم سمجھو کیا تمہارے لئے مدوقت نہیں آیا کہ تم ہی یہ سمجھو لفظ آیت ” قی القران فاستمعوا لہ وانصتوا “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو حکم فرمایا۔
(8) امام ابن ابی شیبہ، طبرانی نے الاوسط میں اور ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ امام کے پیچھے قرأت کرنے کے بارے میں فرمایا قرآن کے لئے چپ ہوجاؤ جیسا کہ حکم دیا گیا کیونکہ یہ نماز میں مشغول ہوتا ہے۔ وہ امام تیرے لئے کافی ہوجائے گا۔
(9) امام ابن ابی شیبہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص نے امام کے پیچھے قرأت کی اس نے سنت کو چھوڑ دیا۔
(10) امام ابن ابی شیبہ نے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ امام کے پیچھے قرأت نہیں ہے۔
(11) امام ابن ابی شیبہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا امام اس لئے بنایا گیا ہے تاکہ اس کی اقتداء کی جائے۔ جب وہ اللہ اکبر کہے تم بھی اللہ اکبر کہو جب وہ قرأت کرے تو خاموش رہو۔
(12) امام ابن ابی شیبہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس کا امام ہو تو امام کی قرأت (گویا) اس کی قرأت ہے۔
(13) امام ابن ابی شیبہ نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ سب سے پہلے انہوں نے جس نئی چیز (یعنی بدعت) کا آغاز کیا وہ امام کے پیچھے قرأت کرنا ہے۔ حالانکہ وہ پہلے قرأت نہیں کرتے۔
(14) امام ابن جریر نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت انصار کے ایک جوان کے بارے میں نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ جب بھی کوئی چیز پڑھتے وہ بھی پڑھتا۔ تو (یہ آیت) ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا “ نازل ہوئی۔
(15) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ جب اپنے اصحاب کو نماز پڑھاتے اور قرأت کرتے تھے تو آپ صحابہ بھی آپ کے پیچھے پڑھتے تھے تو یہ آیت ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا “ نازل ہوئی اس کے بعد صحابہ خاموش ہوگئے اور نبی ﷺ نے قرأت پڑھی۔
(16) امام ابو الشیخ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ بنو اسرائیل جب ان کے امام قرأت کرتے تو وہ ان کا جواب دیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مات کے لئے ناپسند فرمایا اور فرمایا لفظ آیت ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا “
(17) امام ابن ابی شیبہ نے مصنف میں ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ قرأت کرتے تھے تو ایک آدمی بھی قرأت کرتا تھا تو (یہ آیت) ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا “ نازل ہوئی۔
(18) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے طلحہ بن مصرف (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا “ کے بارے میں فرمایا کہ قرآن پڑھنے والے وہ آئمہ نہیں ہیں جن کے لئے ہم کو خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔
(19) امام ابن ابی شیبہ نے مصنف میں، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ا بو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے سنن میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ لوگ نماز میں بات کیا کرتے تھے تو (یہ آیت) ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا “ نازل ہوئی۔
نماز میں قرآن کی تلاوت سننا واجب ہے
(20) امام ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا اس حال میں کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے آپ نے جواب نہ دیا۔ اس سے پہلے کوئی آدمی اپنی نماز میں بات کرلیتا تھا اور اپنیکام کی بارے میں حکم بھی کرلیتا تھا۔ جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں وہی کرتے ہیں اور یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون “۔
(21) امام ابن جریر ؓ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہمارا بعض آدمی بعض کو نماز میں سلام کرلیتا تو پھر قرآن مجید کا یہ حکم نازل ہوا لفظ آیت ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا “۔
(22) امام ابن مردویہ اور بیہقی نے سنن میں عبد اللہ بن مغفل ؓ سے روایت کیا کہ لوگ نماز کی حالت میں بات کرتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت لفظ آیت ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون “ نازل فرمائی۔ تو نبی ﷺ نے ہم کو نماز میں بات کرنے سے منع فرمایا۔
(23) امام عبد الرزاق نے مصنف میں عطا (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ مسلمان نماز میں باتیں کرتے تھے جیسے یہود و نصاری باتیں کرتے تھے یہاں تک کہ (یہ آیت) لفظ آیت ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون “ نازل ہوئی۔
نماز میں کلام کرنا ممنوع ہے
(24) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت کے مطابق جب سب سے پہلے حکم دیا گیا اس وقت نماز کی حالت میں باتیں کرتے تھے یہاں تک کہ ایک آدمی آتا تھا اور لوگ نماز میں ہوتے تھے۔ تو وہ اپنے ساتھ سے کہتا تھا تم نے کتنی نماز پڑھ لی۔ تو وہ کہتا تھا اتنی رکعتیں پڑھ چکی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت لفظ آیت ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا “ نازل فرمائی۔ تو سننے اور خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اس سے معلوم ہوا کہ خاموش رہنا زیادہ بہتر ہے تاکہ بندہ غور سے سنے اور اسے یاد اور حفظ ہو اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ لوگ ہرگز نہیں سمجھ سکیں گے یہاں تک کہ وہ خاموش نہ ہوجائیں۔ اور زبان کے ساتھ خاموش رہنا اور کانوں کے ساتھ سننا ہے۔
(25) امام عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لوگ نماز میں بات چیت کرلیتے تھے تو اللہ تعالیٰ (یہ آیت) لفظ آیت ” واذا قری القران “ آخر تک اتاری۔
(26) امام ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا قری القران فاستمعوا لہ “ کے بارے میں فرمایا کی (یہ آیت) جمعہ کی نماز کے بارے میں اور عیدین کی نماز کے بارے میں اور جس نماز میں قرأت بلند آواز سے کی جاتی ہے اس کے بارے میں نازل ہوئی۔
(27) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مؤمن کو گنجائش ہے (یعنی اجازت ہے) اس کی طرف کان لگانے کی (یعنی سننے کی) صرف نماز جمعہ میں۔ عیدین کی نمازوں میں اور اس نماز میں جس میں قرأت بلند آواز سے کی جاتی ہو۔ (یعنی ان میں خود قرأت نہ کرے بلکہ کان لگا کر امام کی قرأت کو سنے) ۔
(28) امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا “ کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے پیچھے نماز اور خطبہ میں آوازیں بلند کرنے کے سبب نازل ہوئی کیونکہ خطبہ بھی (گویا) نماز ہی ہے۔
(29) امام عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا “ کے بارے میں فرمایا کہ (یہ حکم) نماز میں اور جمعہ کے دن خطبہ کے دوران باتیں کرنے کے بارے میں ہے۔
(30) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ خاموش رہنا دو صورتوں میں واجب ہے نماز میں کہ جب امام قرأت کر رہا ہو۔ اور جمعہ کے دن جب امام خطبہ دے رہا ہو۔
(31) امام ابو الشیخ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عطا سے کہا کس (آیت) نے جمعہ کے دن خاموشی کو واجب کیا ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔ لفظ آیت ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا “ فرمایا کہ (اس حکم) کو لوگوں نے نماز اور جمعہ کے بارے میں گمان کیا۔ میں نے عرض کیا جمعہ کے دن خاموش رہنا اور قرأت کے دوران خاموش رہنا کیا برابر ہے ؟ فرمایا ہاں۔
(32) امام ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ حکم فرض نماز اور ذکر کے وقت ہے۔
(33) امام عبد الرزاق اور ابن منذر نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ لوگ اپنی آوازوں کی نماز میں بلند کرتے تھے۔ جب وہ جنت اور دوزخ کا ذکر سنتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ لفظ آیت ” واذا قری القران فاستمعوا لہ “۔
(34) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا قری القران فاستمعوا لہ “ کے بارے میں فرمایا کہ نماز میں اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہو رہی ہو (خاموش رہو)
(35) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ جب امام کسی خوف یا رحمت کی آیت پڑھے اور اس کے پیچھے کوئی آدمی۔ (یہ جائز نہیں) فرمایا خاموش رہو۔
(36) امام ابو الشیخ نے عثمان بن زائدہ (رح) سے روایت کیا کہ جب ان پر قرآن کی قرأت کی جاتی تو وہ اپنے چہرہ کو اپنے کپڑے سے ڈھانک لیتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا “ سے تاویل کرتے تھے۔ اور وہ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ وہ اپنی آنکھوں کو اور اپنے اعضاو جوارح کو سننے کے علاوہ کسی اور کام میں مشغول کریں۔
(37) امام احمد اور بیہقی نے شعب الایمان میں سند حسن کے ساتھ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کی کتاب میں سے ایک آیت کی طرف کان لگائے (یعنی خوب غور سے سنے) تو اس کے لئے دگنی نیکی لکھ دی جائے گی۔ اور جو اس کی تلاوت کرے تو اس کے لئے قیامت کے دن نور ہوگا۔
Ayah 7:205(1) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بندے کو حکم فرمایا کہ وہ اسے یاد کرے اور اس کو غفلت سے روکا ” بالغدو “ سے صبح کی نماز مراد ہے اور والاصال سے شام (کا وقت) مراد ہے۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابو ضحر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا “ کے بارے میں فرمایا کہ (حکم اس وقت) ہے جب امام کھڑا ہوجائے نماز کے لئے تو اس کو سنو اور خاموش ہوجاؤ۔ ” واذکر ربک “ (اور اپنے رب کو یاد کر) اے خاموش رہنے والے ” فی نفسک تصرعا وخیفۃ ودون الجھر من القول “ فرمایا یعنی ذکر کے ساتھ اپنی آواز کو اونچا نہ کر ” بالغدو والاصال “ یعنی صبح کو اور شام کو ” ولا تکن من الغفلین “ (اور غفلت کرنے والوں میں نہ ہو)
(4) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے عبید بن عمر (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” واذکر ربک فی نفسک “ (یعنی جب میرا بندہ مجھ کو اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور جب میدا بندہ مجھ کو اکیلا یاد کرتا ہے تو میں اس کو اکیلا یاد کرتا ہوں ” واذا ذکری فی ملاء ذکرتہ فی ملاء احسن منھم واکرم “ (اور جب وہ مجھ میں کسی جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں اس کو ایسی جماعت میں یاد کرتا ہوں جو ان کی نسبت احسن واکرم ہے۔
(5) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” بالغدو “ سے مراد ہے کہ فجر کے آخر صبح کی نماز ہے اور والاصال سے مراد شام کا آخر یعنی عصر کی نماز ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے لئے کا وقت ہے فجر کا اول وقت بھی اور اس کا آخر وقت بھی۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا قول سورة آل عمران میں بھی ہے۔ لفظ آیت ” بالعشی والابکار (41) “ کہ سورج کو غروب ہونے کی طرف مائل ہونا اور ابکار سے مراد ہے فجر کا اول وقت۔
(6) امام عبد بن حمید نے معرف بن واصل (رح) سے روایت کی ہے کہ میں نے ابو وائل کو سورج کے غائب ہونے کے وقت اپنے غلام کو کہتے سنا ” اصلنا “ یعنی ہم نے شام کی۔
غافلین میں ذکر کرنے والوں کی فضیلت
(7) امام بزار اور طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے لفظ آیت ” ولا تکن من الغفلین “ کے بارے میں فرمایا کہ غافلین میں اللہ کا ذکر کرنے والا ایسا ہے جیسے میدان جنگ سے بھاگ جانے والوں میں سے لڑنے والا۔
(8) امام ابن ابی حاتم نے بکر بن اخنس (رح) سے روایت کیا کہ جمعہ کے دن کوئی اس حال میں آئے کہ وہ نہیں جانتا کہ یہ جمعہ کا دن ہے تو وہ غافلین میں لکھا جاتا ہے۔
(9) امام طبرانی، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غفلت تین چیزوں میں ہوتی ہے اللہ کے ذکر سے جب صبح کی نماز پڑھنے کے بعد سے سورج طولع ہونے تک (غفلت ہوتی ہے) اور آدمی غافل رہتا ہے اپنے دل سے دین کے معاملہ میں یہاں تک کہ خواہش نفس کا تابع ہوجائے۔
Ayah 7:206(1) امام ابن ابی شیبہ نے ابو الریان مجاشعی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے قرآن کے سجود کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ (ان سورتوں میں سجدے ہیں) اعراف، رعد، نحل، بنو اسرائیل، مریم، حج میں ایک سجدہ، ثمل، فرقان، الم تنزیل، حم تنزیل اور ص اور مفصل (سورتوں) میں کوئی سجدہ نہیں ہے۔
(2) امام ابو الشیخ نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ علی بن عباس نے قرآن مجید میں دس سجدے کئے۔ اعراف میں، رعد میں، نحل میں، بنو اسرائیل میں، مریم میں، حج میں پہلا سجدہ، فرقان میں، نحل میں، تنزیل السجدہ میں اور حم السجدہ میں۔
(3) امام ابن ماجہ اور بیہقی نے سنن میں ابو درداء ؓ سے روایت کی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ گیارہ سجدے کئے مفصل (سورتوں) میں کوئی سجدہ نہیں ہے۔ (اور وہ یہ ہیں) اعراف میں، رعد میں، نحل میں، بنی اسرائیل میں، مریم میں، حج میں ایک سجدہ، فرقان میں، سلیمان سورة نمل میں اور سورة سجدہ میں، ص میں اور حوا میم میں سجدہ۔
(4) امام ابو داؤد اور ابن ماجہ، دار قطنی، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے سنن میں عمر بن عاص ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے ان کو قرآن مجید میں پندرہ سجدے پڑھائے ان میں تین مفصل ہیں اور سورة ص میں دو سجدہ ہیں۔
(5) امام بخاری، مسلم ابو داؤد اور بیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہم پر قرآن پڑھتے تھے۔ وہ سورة پڑھتے تھے جس میں سجدہ ہوتا تھا تو آپ سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم کوئی ایک بھی اپنی پیشانی کو رکھنے کے لئے جگہ نہ پاتا تھا۔
(6) امام مسلم، ابن ماجہ اور بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب آدم کا بیٹا سجدہ کی آیت پڑھتے اور اس پر سجدہ کرتے تو شیطان علیحدہ ہوجاتا ہے اور رونے لگتا ہے اور کہنے لگتا ہء ہائے میری ہلاکت آدم کے بیٹے کو سجدوں کا حکم دیا گیا تو اس نے سجدہ کرلیا اور اس کے لئے جنت ہے۔ اور مجھے سجدوں کا حکم دیا گیا میں نے انکار کیا تو میرے لئے دوزخ ہے۔
قرآن میں آیات سجدہ
(7) امام بیہقی نے ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عائشہ ؓ سے قرآن کے سجدوں کے بارے میں سوال کیا گیا انہوں نے فرمایا یہ حق ہے اللہ کا جس کو وہ ادا کرتا ہے یا یہ تطوع ہء جسے تو ادا کرتا ہے۔ کوئی مسلمان اللہ کے لئے سجدہ کرتا ہے تو اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند فرما دیتے ہیں یا اس کے عوض ایک گناہ کو مٹا دیتے ہیں اور اس کے لئے ان دونوں (درجہ کو بلند کرنا اور گناہ کو مٹانا) کو جمع فرما دیتے ہیں۔
(8) امام بیہقی نے مسلم بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ جب آدمی سجدہ کی آیت کو پڑھے اور سجدہ نہ کرے یہاں تک کہ پوری آیت پڑھ لے جب وہ اس مقام پر آجائے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھائے اللہ اکبر کہے اور سجدہ کرے۔
(9) امام ابو داؤد اور بیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہم پر قرآن پڑھتے تھے جب سجدہ پر گزرتے تو اللہ اکبر کہتے اور سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے۔
(10) امام ابن ابی شیبہ نے مصنف میں، احمد، ابو داؤد، ترمذی، (نسائی، دار قطنی اور بیہقی نے ترمذی نے اس کو صحیح بھی کہا) حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ قرآن کے سجدوں میں رات کو بار بار (یہ دعا) پڑھتے تھے۔
” سجدو جھی للذی خلقہ وشق سمعہ وبصرہ بحولہ وقوتہ فتبارک الہ احسن الخالقین “
ترجمہ : میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کے لئے جس نے اس کو پیدا کیا اور اس کے کانوں کو اور اس کی آنکھوں کی جگہوں کو شق کیا اپنی طاقت اور اپنی قوت کے ساتھ سو اللہ تعالیٰ بہت برکت والی ذات ہے جو بہترین پیدا کرنے والے ہیں۔
(11) امام ابن ابی شیبہ نے قیس بن سکن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے :
” سجدو جھی للذی خلقہ وشق سمعہ وبصرہ “
(یعنی میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کے لئے جس نے اس کو پیدا کیا اور اس کے کانوں کو اور اس کی آنکھوں کی جگہوں کو شق کیا)
اور مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ داؤد (علیہ السلام) فرمایا کرتے تھے۔
” سجدو جھی متعفرا فی التراب لخالقی وحق لہ “
(یعنی میرے چہرے نے سجدہ کیا مٹی میں غبار آلود ہو کر خلاق کے لئے اور یہ اس کا حق ہے)
پھر فرمایا اللہ کی ذات پاک ہے کہ بعض انبیاء کا کلام بعض کے مشابہ نہیں ہے۔
(12) امام ابن ابی شیبہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ وہ اپنے سجدوں میں (دعا پڑھتے تھے)
” اللہم لک سجد سوا دی وبک امن فؤادی اللہم ارزقنی علما ینفعنی وعلما یرفعنی “
ترجمہ : اے اللہ میرے وجود نے تیرے لئے سجدہ کیا اور میرے دل تیرے ساتھ ایمان لایا امن پکڑا اے اللہ مجھ کو ایسا علم عطا فرمائیے جو مجھ کو نفع دے اور ایسا علم عطا فرما جو مجھ کو بلند کر دے۔
سجدہ کی تسبیحات
(13) امام ابن ابی شیبہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب وہ سجدہ پڑھتے تو یوں کہتے لفظ آیت ” سبحان ربنا ان کان وعد ربنا لمفعولا “ (ہمارا رب پاک ہے کہ ہمارے رب کا وعدہ ضرور (پورا) ہونے والا ہے۔ اور ” سبحان اللہ وبحمدہ “ تین مرتبہ پڑھتے۔
(14) امام بیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ کوئی آدمی سجدہ نہ کرے مگر یہ کہ وہ وضو سے ہو۔
(15) امام ابن ابی شیبہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ صحابہ کرام ؓ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ جب وہ سجدہ پر آئیں اور اس سے آگے گزر جائیں یہاں تکہ کہ وہ سجدہ کرلیں۔
(16) ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہر جمعہ کو منبر پر سورة اعراف کی آخری آیات کی قرأت نہیں چھوڑتے تھے۔
الحمدللہ سورة اعراف کے ساتھ تیسری جلد مکمل ہوئی