Ayahs 7:80–84(1) امام ابن عساکر نے سلیمان بن صرد (رح) سے روایت کیا کہ لوط (علیہ السلام) کے والد ابراہیم کے چچا تھے۔
(2) امام اسحاق بن بشر اور ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لوط (علیہ السلام) کو بستیوں کی جانب بھیجا گیا اور لوط کی بستیاں مدائن کی چار بستیاں تھیں سدوم امورا، اور صبویر اور ہر بستی میں ایک لاکھ جنگ جو تھے۔ اور ان کے مدائن میں بڑی بستی سدوم کی تھی۔ لوط اس میں رہتے تھے اور یہ شام کے شہروں میں سے ہے۔ اور فلسطین سے ایک رات کے سفر پر ہے۔ اور براہیم کے لوط بن ھاروان بن تارح کے چچا تھے ابراہیم قوم لوط کو نصیحت کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کو مہلت دی تھی۔ انہوں نے اسلام کے پردے کو پھاڑ دیا اور وہ محارم کی بےحرمتی کرنے لگے لواطت کا ارتکاب کرنے لگے۔ ابراہیم اپنے گدھے پر سوار ہو کر قوم لوط کے شہروں میں تشریف لائے اور ان کو نصیحت فرمائی مگر انہوں نے (نصیحت کو) قبول کرنے سے انکار کردیا اس کے بعد وہ گدھے پر آئے تھے اور سدوم کی طرف دیکھتے ہوئے فرماتے تھے اسے سدوم کون سا دن تیرے لئے مقرر ہے یہاں تک کہ مقررہ وقت آپہنچا۔ اللہ تعالیٰ نے جبرئیل کو فرشتوں کی ایک جماعت میں بھیجا وہ مردوں کی صورت میں اترے یہاں تک کہ ابراہیم کے پاس پہنچے اور وہ اپنی کھیتی میں زمین کی پیمائش کر رہے تھے۔ جب پانی پہنچا زمین کی کھال میں تو گاڑ دیا آپ نے زمین میں اپنا پیمانہی اور اس کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں فرشتوں نے ابراہیم کی طرف دیکھا اور کہنے لگے اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اپنا خلیل بنانا چاہیں گے تو اس بندہ کو اپنا خلیل بنا لیں گے۔ اور وہ نہیں جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خلیل بنا لیا ہے۔
(3) امام ابن ابی الدنیا، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور بیہقی نے ذم الملاہی اور الشعب میں اور ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اتاتون الفاحشۃ “ یعنی مردوں کے پچھلے حصے میں بدفعلی کیا کرتے تھے۔
(4) امام ابن ابی شیبہ، ابن ابی الدنیا، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، بیہقی اور ابن عساکر نے عمرو بن دینارحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ لفظ آیت ” ما سبقکم بھا من احد من العلمین “ سے مراد ہے کہ کسی مرد نے مرد کے ساتھ اس طرح کی بےحیائی کا کام نہیں کیا یہاں تک کہ قوم لوط آئی اور اس نے بدفعلی کا ارتکاب کیا۔
(5) امام ابن ابی الدنیا، ابن ابی حاتم، بیہقی اور ابن عساکر نے ابو صخرہ جامع بن شداد (رح) نے اس کو رفع کیا اور فرمایا کہ قوم لوط میں لواطت کا عمل مردوں میں شروع ہونے سے پہلے عورتوں میں چالیس سال تک جاری رہا۔
(6) امام ابن ابی الدنیا اور ابن عساکر نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا اس مرد کے بارے میں جو عورت کے پاس اس کے پچھلے حصے میں آئے۔ فرمایا قوم لوط نے اس کام کو شروع کیا۔ پہلے مردوں نے یہ فعل عورتوں کے ساتھ کیا پھر یہی کام مردوں نے مردوں کے ساتھ کیا۔
(7) امام ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے سنن میں علی رضی الہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے منبر پر فرمایا مجھ سے سوال کرو۔ ابن الکواء نے فرمایا عورتوں کے پاس آنا پچھلے حصے میں (کیا ہے) علی نے فرمایا تو برا کام ہے اللہ تعالیٰ تجھے ذلیل کرے۔ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا لفظ آیت ” اتاتون الفاحشۃ ما سبقکم بھا من احد من العلمین “
گناہوں کی وجہ سے رزق سے محروم ہونا
(8) امام اسحاق بن بشر اور ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ کام جس نے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس آنے پر ان کو آمادہ کیا وہ یہ تھا کہ ان کے گھروں اور ان کے باغات میں پھل لگے ہوئے تھے۔ (گھروں سے) باہر راستوں پر بھی پھل لٹکے ہوئے تھے ان کو قحط پہنچ گیا اور پھل بھی کم ہوگئے۔ ان کے بعض نے بعض سے کہا اگر تم ان ظاہری پھلوں کو مسافروں سے محفوظ رکھو گے تو تمہارے لئے اس میں عیش ہوگا۔ پوچھا گیا کس چیز سے ہم ان کو بچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا تم یہ اپنا طریقہ بنا لو کہ اپنے شہر میں کسی اجنبی شخص کو پکڑ لو ایا تم اس سے وطی کرو یا اس پر چار درہم جرمانہ لگا دو ۔ اس طرح لوگ تمہارے شہروں میں سے نہیں آئیں گے جب تم ایسا کرو گے یہی وہ شے ہے جس نے ان کو اس بڑے (گناہ کے) کام پر آمادہ کیا جس کو جہاں والوں میں سے کسی نے نہیں کیا تھا۔
(9) امام اسحاق بن بشر اور ابن عساکر نے محمد بن اسحاق کے طریق سے ابن عباس کے بعض رواۃ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ قوم لوط نے یہ کام شروع کیا تھا (اس وجہ سے) کہ ان کے مردوں کے پاس ابلیس ایک خوبصورت بچہ بن کر آیا لوگوں نے اس کو دیکھا تو اس نے اس کو اپنی طرف بلایا پھر انہوں نے اس سے لواطت کی پھر انہوں نے اس عمل کو جاری رکھا۔
(10) امام ابن ابی الدنیا، ابو الشیخ، بیہقی اور ابن عساکر نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ قوم لوط کے بارے میں یہ ہے کہ عورتیں عورتوں کے سبب اور مرد مردوں کے سبب ایک دوسرے سے مستغنی اور بےنیاز تھے (یعنی عورتیں عورتوں سے اور مرد، مردوں سے لطف اندوز ہوتے تھے)
(11) امام ابن ابی الدنیا، بیہقی اور ابن عساکر نے ابو حمزہ (رح) سے روایت کیا کہ میں محمد بن علی (رح) سے کہا اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کی عورتوں کو ان کے مردوں کے سبب عذاب دیا ہے تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں انتہائی عدل و انصاف فرمایا ہے کہ اس وقت مرد مردوں سے اور عورتیں، عورتوں پر لطف اندوز ہوتی تھیں۔
(12) امام عبد الرزاق، ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” انھم اناس یتطھرون “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ مردوں کے پچھلے ح سے سے اور عورتوں کے پچھلے حصے سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتے تھے۔
(13) امام فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” انھم اناس یتطھرون “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ان سے مذاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ لوگ مردوں کے پچھلے حصے سے اور عورتوں کے پچھلے حصے سے بچنے کے سبب پاک باز بنتے ہیں۔
(14) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” انھم اناس یتطھرون “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کو عیب لگایا بغیر عیب کے اور ان کی مذمت کی بغیر کسی برائی کے۔
(15) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” کانت من الغبرین ‘ کے بارے میں فرمایا مگر ان کی بیوی اللہ کے عذاب میں باقی رہنے والوں میں سے ہوگی لفظ آیت ” وامطرنا علیہم مطرا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے باقی قوم لوط پر پتھروں کی بارش برسائی آسمان سے اور ان کو ہلاک کردیا۔
قوم پر عذاب کے بعد لوط (علیہ السلام) کا سفر
(16) امام اسحاق ابن بشر اور ابن عساکر نے زھری (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کو عذاب دیا تو لوط ابراہیم کے پاس چلے گئے اور اس کے ساتھ رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔
(17) امام ابن ابی حاتم نے کعب (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وامطرنا علیہم مطرا “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پتھروں کی بارش برسائی ان کے بادہ نشین پر ان کے چرواہوں پر اور ان کے مسافروں پر اور ان میں سے کوئی نہیں بچ سکا۔
(18) امام ابن ابی حاتم نے وھب (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وامطرنا علیہم مطرا “ کے بارے میں فرمایا مطر سے مراد گندھک اور آگ کی بارش ہے۔
(19) امام ابو الشیخ نے سعید بن ابو عروبہ (رح) سے روایت کیا کہ قوم لوط چار لاکھ تھی۔
(20) امام ابن ابی الدنیا نے ذم الملاہی میں، حاکم اور بیہقی نے الشعب میں (اور حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ لعنت کرے اس شخص پر جو دوسرے کے غلاموں کا ولی اور مالک بنتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ لعنت کرے اس شخص پر جو زمین کے نشانات بدل ڈالے اور اللہ تعالیٰ لعنت کرے اس شخص پر جو کسی اندھے کو راستے سے ہٹا سے اور اللہ تعالیٰ لعنت کرے اس شخص پر جو اپنے والدین کو لعنت کرے۔ اور اللہ تعالیٰ لعنت کرے اس شخص پر جو اللہ کے نام کے علاوہ دوسرے کے نام پر ذبح کرے۔ اور اللہ تعالیٰ لعنت کرے اس شخص پر جو کسی جانور سے بدفعلی کرے اور اللہ تعالیٰ لعنت کرے اس شخص پر جو قوم لوط والا عمل کرے۔ تین مرتبہ آپ نے فرمایا۔
(21) امام احمد، ترمذی (اس کو ترمذی نے حسن بھی کہا ہے) ابن ماجہ نے، ابن ابی الدنیا نے ذم الملاہی میں اور امام بیہقی نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ خوف قوم لوط والے عمل سے ہے۔
(22) امام ابن عدی اور بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چار آدمی اللہ کے غصہ میں صبح کرتے ہیں اور اللہ کے غصہ میں شام کرتے ہیں۔ پوچھا وہ کون لوگ ہیں یا رسول اللہ۔ فرمایا عورتوں کی شکل بنانے والے مرد اور مردوں کی شکل بنانے والی عورتیں اور وہ شخص جو کسی جانور سے بدفعلی کرے اور وہ شخص جو کسی مرد سے بدفعلی کرے۔
(23) امام عبد الرزاق، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن ابی الدنیا، حاکم (اور امام حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) اور امام بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم لوگ اگر قوم لوط والے عمل کرنے والے کو پاؤ تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو ۔
قوم لوط کے عمل کرنے والوں کیلئے سخت سزاء
(24) امام ابن ابی شیبہ، ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے ابن عباس سے روایت کیا کہ ان سے لوطی کی حد کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا بستی میں سے سب سے اونچی عمارت کو دیکھو اور اندھے منہ اس سے نیچے گرا دو پھر پتھر بھی مارو۔
(25) امام ابن ابی شیبہ، ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے یزید بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ علی نے لواطت کرنے والے کو رجم کیا۔
(26) امام ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ لوطی کے رجم کیا جائے شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ماضی کا طریقہ یہی ہے۔
(27) امام ابن ابی شیبہ، ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ اگر کسی کو دو مرتبہ رجم کرنا لائق ہوتا تو وطی کو رجم کیا جاتا۔
(28) امام ابن ابی شیبہ نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن معمر ؓ سے روایت کیا کہ رجم کی علت قوم لوط کا قتل کیا جانا ہے۔
(29) امام ابن ابی شیبہ، ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حسن اور ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ لوطی کی حد زانی والی حد ہے اگر شادی شدہ ہے تو رجم کیا جائے اور غیر شادی شدہ ہے تو حد لگائی جائے۔
(30) امام بیہقی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص سب سے پہلے بدنام ہوا اس برے کام کی وجہ سے یعنی قوم لوط والے عمل سے وہ عمر کے زمانہ میں ایک آدمی اس کے ساتھ بدنام ہوا تو عمر نے قریش کے بعض نوجوانوں کا حکم فرمایا کہ اس کے ساتھ نہ بیٹھو۔
(31) امام ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے وضین بن عطا (رح) سے روایت کیا کہ وہ بعض تابعین سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اس بات کو مکروہ جانتے تھے کہ خوبصورت لڑکے کے چہرے کی طرف دیکھنے والے کو حد لگائی جائے۔
(32) امام ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے بعض تابعین سے روایت کیا کہ میں عبادت گزار نوجوانوں پر ضرر رساں درندے کی نسبت اس بےریش لڑکے سے زیادہ خوف محسوس کرتا ہوں جو اس کے ساتھ بیٹھتا ہے۔
(33) امام ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حسن بن ذکوان ؓ سے روایت کیا کہ اغنیاء کی اولاد کے ساتھ نہ بیٹھو کیونکہ ان کی صورتیں عورتوں جیسی صورتیں ہوتی ہیں اور ان کا فتنہ کنواری لڑکیوں سے زیادہ شدید ہے۔
(34) امام ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے نجیب بن سدی (رح) سے روایت کیا کہ کہا جاتا تھا کہ کسی آدمی کا تنہا مکان میں بےریش بچے کے ساتھ رات نہیں گزارنی چاہئے۔
(35) امام بیہقی نے عبد اللہ بن مبارک (رح) سے روایت کیا کہ سفیان ثوری ایک حمام میں داخل ہوئے ان پر ایک خوبصورت بھی داخل ہوا۔ تو انہوں نے فرمایا اس کو باہر نکال دو کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ ہر عورت کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے اور ہر (نابالغ) لڑکے کے ساتھ دس سے کچھ اوپر شیطان ہوتے ہیں۔
(36) امام ابن ابی الدنیا، حکیم ترمذی اور بیہقی نے ابن سرین (رح) سے روایت کیا کہ چوپاؤں میں سے کوئی جانور قوم لوط والا کام نہیں کرتا سوائے خنزیر اور گدھے کے۔
لواطت کی مختلف قسمیں
(37) امام ابن الدنیا اور بیہقی نے ابن سہل (رح) سے روایت کیا کہ عنقریب اس امت میں ایسی قوم ہوگی جن کو لوطیون کہا جائے گا اور یہ تین قسموں میں ہیں ایک وہ قسم کہ جو (صرف نابالغ لڑکوں کو) دیکھتے ہیں اور دوسری قسم وہ ہیں جو ان سے مصافحہ کرتے ہیں اور تیسری قوم وہ ہیں جو یہ عمل (یعنی قوم لوط والا عمل) کرتے ہیں۔
(38) امام ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ آدمی جو قوم لوط جیسا عمل کرتا ہے اگر وہ آسمان سے گرنے والے ہر قطرے اور زمین سے نکلنے والے پانی کے ہر قطرے کے ساتھ غسل کرے تو برابر ناپاک رہے گا (پاک نہیں ہوگا) ۔
(39) امام ابن ابی شیبہ اور ابن ابی الدنیا نے جابر بن زید (رح) سے روایت کیا کہ دبر کی حرمت فرج کی حرمت سے زیادہ سخت ہے
(40) امام حاکم (اور آپ نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) اور بیہقی نے الشعب میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سات پر لعنت فرمائی سات آسمانوں کے اوپر سے پھر لوٹایا اپنی لعنت کو ان میں سے ہر ایک پر تین مرتبہ اور ہر ایک کے بعد بار بار لعنت کی۔ فرمایا وہ ملعون ہے وہ ملعون ہے وہ ملعون ہے جس نے قوم لوط والا عمل کیا اور وہ شخص بھی ملعون ہے جس نے کسی جانور سے بدفعلی کی۔ اور وہ شخص بھی ملعون ہے جس نے اپنے نکاح میں بیوی اور اس کی رضائی بیٹی کو جمع کیا (یعنی اس عورت سے نکاح کیا پھر اس کی بیٹی جو پہلے شوہر سے تھی اس سے بھی نکاح کرلیا) ۔ وہ شخص بھی ملعون ہے جس نے اپنے والدین کی نافرمانی کی۔ اور وہ شخص بھی ملعون ہے جس نے غیر اللہ کے نام پر (جانور کو) ذبح کیا اور وہ شخص بھی ملعون ہے جس نے زمین کی حدود کو تبدیل کرلیا۔ اور وہ شخص بھی ملعون ہے جو کسی غیر کے غلاموں کا مالک بن گیا۔
(41) امام ابن ماجہ اور حاکم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص قوم لوط والا عمل کرے تو فاعل اور مفعول دونوں کو رجم کر دو ۔
(42) امام عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور ابو داؤد نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ایسے کنوارے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا کہ جو لواطت والا کام کرتے ہوئے پایا جائے۔ آپ نے فرمایا اسے رجم کیا جائے۔
(43) امام عبد الرزاق نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ کو غمگین دیکھا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کس چیز نے آپ کو غمگین کردیا۔ فرمایا ایک چیز نے جس کا میں اپنی امت پر خوف کرتا ہوں کہ میرے بعد وہ قوم لوط والا عمل کرے گی۔
(44) امام ابن ابی شیبہ نے ابو حصین (رح) سے روایت کیا کہ عثمان ؓ نے گھر کے محاصرے کے دن اوپر سے جھانک کر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ہے مگر چار مردوں کا (حلال ہے) وہ آدمی جس نے کسی کو قتل کیا اس کو بھی قتل کردیا جائے یا وہ آدمی جس نے شادی کے بعد زنا کیا وہ آدمی جو اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگیا یا وہ آدمی جس نے قوم لوط والا عمل کیا۔
Ayahs 7:85–93توراۃ میں شعیب (علیہ السلام) کا نام
(1) امام ابن عساکر نے اسحاق بن بشیر (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو عبید اللہ بن زیاد بن سمعان (رح) نے ایک اس شخص سے مجھ کو خبر دی جو کتاب کو پڑھنے والا تھا کہ اہل تورات گمان کرتے ہیں کہ شعیب کا نام تورات میں میکائل ہے اور ان کا نام سریانی زبان میں جزی بن بشخر ہے اور عبرانی زبان میں شعیب بن بشخر بن لاوی بن یعقوب (علیہ السلام) ہے۔
(2) امام ابن عساکر نے اسحاق بن بشر کے طریق سے شرق بن قطامی (رح) سے روایت کی ہے کہ جو علم انساب کے ماہر سعید عالم تھے انہوں نے فرمایا کہ شیعب (علیہ السلام) کا نام عبرانی زبان میں یثرب ہے اور شعیب عربی زبان میں ابن عیفا بن یوبب بن ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ یوبب جعفر کے وزن پر ہے اس کا پہلا حروف یا اور واو کے بعد دو باء ہیں۔
(3) امام اسحاق بن بشر اور ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شعیب نبی اور رسول تھے یوسف کے بعد آپ کا اور آپ کی قوم کا تذکرہ ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے یعنی لفظ آیت ” والی مدین اخاھم شعیبا، قال یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ “ اور ان میں شرک کے علاوہ ان کے ناپ اور تول میں کمی کرنے والے بھی تھے ساتھ اپنے رب کا انکار کرنے والے اور اپنے نبی کو جھٹلانے والے بھی تھے اور وہ ایسی قوم تھی جو سرکش نافرمانی اور زیادتی کرنے والے تھے۔ راستوں پر بیٹھ جاتے اور لوگوں کے مالوں میں نقصان پہچاتے یہاں تک کہ وہ اس (مال) کو خرید لیتے یہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے یہ طریقہ نکالا اور جب ان پر کوئی پر دیسی داخل ہوتا اس کے دراھم لے لیتے اور کہتے کہ تیرے دراھم کھوٹے ہیں، ان کو توڑ دیتے پھر ان کو خرید لیتے کم قیمت پر اس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا “ (اعراف 86) اور ان کے شہر بلاد میرہ کو لوگ ان شہروں سے کھینچے چلے ہوتے تھے۔ اور راستوں میں بیٹھ کر لوگوں کو شعیب سے روکتے تھے اور کہتے تھے کہ اس کی بات نہ سنو کیونکہ وہ جھوٹا ہے تم کو گمراہ کر دے گا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ولا تقعدوا بکل صراط تو عدون “ (الاعراف آیت 86) یعنی لوگوں سے کہتے تھے اگر تم نے شعیب کا اتباع کیا تم فتنہ میں پڑجاؤ گے پھر وہ شعیب کو ڈراتے اور دھمکیاں دیتے تھے۔ اور کہتے اے شعیب ہم تجھ کو اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ تو ہمارے دین میں لوٹ آ یعنی ہمارے آباؤ اجداد کے دین کی طرف اس وقت یہ فرمایا لفظ آیت ” وما ارید ان اخالفکم الی ما انھکم عنہ ان ارید الا الاصلاع ما استطعت، وما توفیقی الا باللہ، علیہ توکلت “ (ہود آیت 88) وہی مجھے بچانے والا ہے۔ والیہ انیب یعنی اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں پھر فرمایا اولو کنا کر ھین یعنی اگرچہ ہم گوارہ نہ کریں تمہارے دین کی طرف لوٹنا اگر ہم تمہارے دین کی طرف لوٹ آئیں تو لفظ آیت ” فقد فترینا علی اللہ کذبا وما یکون لنا “ یعنی ہمارے لائق نہیں کہ ہم اس میں لوٹ آئیں بعد اس کے کہ ہم کو اللہ تعالیٰ اس سے نجات دے لفظ آیت ” الا ان یشاء اللہ ربنا “ (الاعراف آیت 89) (مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے جو ہمارے رب ہیں تو اس میں آپ نے انجام سے خوف محسوس کیا اور شیث کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹا دیا اور فرمایا لفظ آیت ” الا ان یشاء اللہ ربنا، وسع ربنا کل شیء علما “ ہم نہیں جانتے جو ہم سے پہلے ہوچکا ” علی اللہ توکلینا، ربنا بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفتحین “ یعنی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے ابن عباس ؓ نے فرمایا (کہ شعیب) حلم والے سچ بولنے والے اور انتہائی باوقار تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ جب شعیب کا ذکر فرماتے تو فرماتے وہ خطیب الانبیاء اس لئے کہ جب وہ اپنی قوم کو دعوت دیتے تو انتہائی دلکش حسین انداز سے قوم کی طرف رجوع کرتے۔ اور جب وہ آپ کی دعوت کا انکار کرتے اور ان کو جھٹلاتے تھے اور ان کو رجم کی دھمکیاں دیتے تھے اور اپنے شہروں سے جلاوطن کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے اور ان کے بڑے ان کے کمزور لوگوں کو دھمکیاں دیتے تھے اور اور کہتے لفظ آیت ” لئن اتبعتم شعیبا انکم اذا لخسرون “ اے شعیب اگر تو باز نہ آیا ان کو (اپنے دین کی طرف) بلانے سے پھر جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے خلاف سرکشی اختیار کی تو ” فاخذتھم الرجفۃ “ (تو ان کو ایک چیخ نے پکڑ لیا) کہ جبرئیل (علیہ السلام) نازل ہوئے ان پر ٹھیر گئے ایک ایسی چیخ ماری جس سے پہاڑ اور زمین کانپ اٹھی ان کی روحیں ان کے بدنوں سے نکل گئیں۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فاخذتھم الرجفۃ “ اور یہ اس طرح سے کہ جب انہوں نے چیخ کو سنا کھڑے ہوگئے اور گھبرا گئے ان کے ساتھ زمین لرز اٹھی اور زلزلے نے ان کو مردہ حالت میں پھینک دیا۔
(4) امام اسحاق اور ابن عساکر نے عکرمہ اور سدی (رح) دونوں سے روایت کیا کہ کسی نبی کو اللہ تعالیٰ نے دو بار نہیں بھیجا مگر شعیب کو ایک دفعہ مدین کی طرف تو اللہ تعالیٰ نے ان کو سخت چیخ اور زلزلے سے پکڑ لیا۔ اور دوسری مرتبہ ایکہ والوں کی طرف بھیجا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سایہ والے دن کے عذاب سے پکڑ لیا۔
(5) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تتبعوا الناس اشیاء ھم “ (الاعراف آیت 85) یعنی لوگوں پر ظلم نہ کرو ان کی چیزوں کے بارے میں۔
(6) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تبخسوا الناس اشیاء ھم “ یعنی ان پر ظلم نہ کرو ” ولا تقعدوا بکل صراط تو عدون “ یعنی وہ دھمکیاں دیتے تھے جو آدمی شعیب کے پاس آتا اور اسلام لانے کا ارادہ کرتا۔
(7) امام ابن جریر، ابن امنذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تفعدوا بکل صراط تو عدون “ یعنی وہ راستے میں بیٹھ جاتے تھے اور جو ان کے پاس آتا اس کو بتاتے کہ شعیب جھوٹا ہے تم کو تمہارے دین سے گمراہ نہ کردے۔
(8) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تقعدوا بکل صراط “ یعنی رات تو عدون یعنی لوگوں کو شعیب کے پاس آنے سے ڈراتے تھے۔
(9) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ولا تقعدوا بکل صراط تو عدون “ کے بارے میں فرمایا یعنی تم حق کے راستے سے ڈراتے ہو ” وتصدون عن سبیل اللہ “ یعنی روکتے ہو ان کے رہنے والوں کو اللہ کے راستے سے ” وتبغونھا عوجا “ اور تم اس میں عیب تلاش کرتے ہو۔
(10) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ولا تقعدوا بکل صراط تو عدون “ کے بارے میں فرمایا کہ تم راستے میں ٹیکس لینے کی خاطر نہ بیٹھو کہ تم لوگوں کو ڈراتے ہو لفظ آیت ” وتصدون عن سبیل اللہ “ یعنی ان کو اسلام سے روکتے ہو ” وتبغونھا عوجا “ یعنی ان کے لئے ہلاکت کو تلاش کرتے تھے۔
(11) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” وتبغونھا “ اور یعنی تم ایسا راستہ تلاش کرتے ہو جو حق سے پھرا ہوا ہو۔
(12) امام ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وتقعدوا بکل صراط تو عدون “ یعنی تم راستوں میں مت بیٹھا کرو اس حال میں کہ تم ٹیکس وصول کرتے ہو۔
ڈاکوؤں کی بدترین مثال
(13) امام ابن جریر نے ابو العالیہ سے اور انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ کسی اور سے ابو العالیہ نے شک کیا انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کا شب معراج میں ایک ایسی لکڑی کے پاس سے گزر ہوا کہ کوئی کپڑا اس کے ساتھ نہ گزرتا تھا کہ اس کو ٹکڑے کردیتا تھا اور کوئی چیز اس کے ساتھ نہ گزرتی تھی کہ اس کو بھی پھاڑ دیتا تھا آپ نے پوچھا اے جبرئیل یہ کیا ہے ؟ فرمایا آپ کی امت میں سے یہ ان قوموں کی مثال ہے جو راستوں پر بیٹھیں گے اور ڈاکے ڈالیں گے پھر (یہ آیت) ” ولا تقعدوا بکل صراط تو عدون “ کی تلاوت فرمائی۔
(14) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وما یکون لنا ان نعود فیہا “ یعنی ہم کو یہ لائق نہیں کہ ہم تمہارے شرک میں لوٹ آئیں ” بعد اذ نجنا اللہ الا ان یشاء اللہ ربنا “ (اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہم نجات عطا فرما دی ہے یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے جو ہمارا رب رہے گا اور اللہ تعالیٰ شرک کو نہیں چاہتے لیکن فرماتے ہیں۔ مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والے ہیں اس لئے کہ ان کا علم ہر چیز کو وسیع ہے۔
(15) امام زبیر بن بکار نے موفقیات میں زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے قدریہ کے بارے میں فرمایا اللہ کی قسم وہ اس طرح نہیں کہتے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور جیسے نبیوں نے فرمایا اور جیسے جنت والوں نے فرمایا اور جیسے دوزخ والوں نے فرمایا اور جیسے ان کے بھائی ابلیس نے کہا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” وما تشاؤون الا ان یشاء اللہ “ (الھود آیت 30) اور شعیب نے فرمایا ” وما یکون لنا ان نعود فیہا الا ان یشاء اللہ “ اور جنت والوں نے فرمایا ” الحمدللہ الذی ھدنا لھذا، وما کنا لنھتدی لولا ان ھدنا اللہ “ (الاعراف) دوزخ والوں نے کہا ” ولکن حقت کلمۃ العذاب علی الکفرین “ (الزھر آیت 71) اور ابلیس نے کہا ” رب بما اغویتنی “ (الحجرات 49)
(16) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن الانباری نے الوقف والابتداء میں اور امام بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا کیا قول ہے یعنی لفظ آیت ” ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق “ یہاں تک کہ میں نے ذی یزن کی بیٹی کو یہ کہتے ہوئے سنا میرے پاس آؤ۔ ” وأفاتحک “ یعنی میں تیرا فیصلہ کروں گی۔
(17) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” ربنا افتح “ یعنی فیصلہ فرمائیے۔
(18) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” الفتح “ سے مراد ہے القضا یعنی فیصلہ یہ یمن کی لغت ہے۔ جب ان میں سے کسی نے کہنا ہو آؤ میں تیرا فیصلہ کروں گا تو وہ کہتا ہے ” تعال افاتحک “ تو آ جا میں تیرا فیصلہ کروں گا۔
(19) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کان لم یغنوا فیہا “ یعنی گویا کہ وہ اس میں آباد ہی نہیں تھے۔
(20) امام ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کان لم یغنوا فیہا “ گویا کہ وہ اس میں کبھی زندہ رہے ہی نہیں۔
(21) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کان لم یغنوا فیہا “ یعنی گویا کہ انہوں نے اس میں زندگی گزاری ہی نہیں۔
(22) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فتولی عنھم وقال یقوم لقد ابلغتکم رسلت ربی ونصحت لکم “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اللہ کے نبی شعیب اپنی قول کو بہت زیادہ تبلیغ کرتے تھے اور اللہ کے نبی صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو پیغام حق سنایا جیسے کہ اللہ کی قسم ! تمہارے نبی ﷺ اپنی قوم کو سنایا کرتے تھے (یعنی قوم کو اللہ کا پیغام پہنچاتے تھے)
(23) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” فکیف اسی “ یعنی کس طرح میں رنج کروں۔
(24) امام ابن عساکر نے مبلہ بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جبرئیل کو بھیجا مدین والوں کی طرف آدھی رات رات کے وقت تاکہ ان کو مال و اسباب سمیت الٹ دیں۔ انہوں نے ایک آدمی کو اللہ کی کتاب پڑھتے ہوئے پایا کہ وہ اس کو ہلاک کرنے سے گھبرا گئے پھر آپ بلندیوں کی طرف لوٹ گئے اور فرمایا اے اللہ آپ کی ذات پاک برتر اور بےعیب ہے مجھ کو آپ نے مدین کی طرف بھیجا تاکہ ان کی بستیوں کو الٹ دوں۔ میں نے ایک آدمی کو کھڑے ہوئے اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہوئے پایا اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی۔ تو مجھ کو اس کا تعارف نہ کرا کہ وہ فلاں بیٹا فلاں کا ہے اس سے شروع کر یہ میری حرام کردہ (چیزوں سے) نہ روکتا تھا۔ مگر صلح اور حالات سے سمجھوتہ کرتے ہوئے۔
(25) امام اسحاق بن بشر اور ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شعیب اس کتاب میں سے پڑھتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم پر نازل فرمائی تھی۔
(26) امام ابن عساکر نے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مسجد حرام میں دو قبریں ہیں اس کے علاوہ کوئی اور قبر نہیں ہے ایک قبر اسماعیل کی ہے اور دوسری شعیب (علیہ السلام) کی ہے اسماعیل کی قبر مقام حجر میں ہے اور شعیب کی قبر حجر اسود کے مقابل میں ہے۔
(27) امام ابن ابی حاتم نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ شعیب مکہ میں فوت ہوئے ان کے ساتھ ایمان والے بھی تھے ان کی قبریں کعبہ کے مغربی جانب ہیں اور وہ دار السند اور باب بنی سہم کے درمیان واقع ہیں۔
(28) امام ابن ابی حاتم نے ابن وھب کے طریق سے مالک بن انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی شعیب (علیہ السلام) (سب) انبیاء کے خطیب تھے۔
(29) امام ابن ابی حاتم اور حاکم نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ میرے سامنے یعقوب بن ابی سلمہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جب شعیب (علیہ السلام) کا ذکر فرماتے تو فرماتے تھے کہ وہ انبیاء کے خطیب تھے۔ اپنی قوم کی اچھی مراجعت کرنے کی وجہ سے ان کی جانب سے انکار کی صورت میں جب انہوں نے ان کو جھٹلا دیا اور ان کو رجم کی دھمکی دی اور اپنے شہروں سے جلاوطنی کی دھمکی دی اور اللہ کے خلاف سرکشی اور تکبر اختیار کیا تو ان کو سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا۔ مجھ کو یہ بات پہنچی کہ ایک آدمی مدین والوں میں سے جس کو عمرو بن حلہا کہا جاتا تھا جب اس نے عذاب کو دیکھا تو اس نے کہا
یاقوم ان شعیبا مرسل فذروا عنکم سمیرا و عمران بن شداد
ترجمہ : اے قوم بلاشبہ شعیب (علیہ السلام) رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں پس تم سمیر اور عمران بن شداد کو چھوڑ دو ۔
الی اری عینۃ یا قوم قد طلعت تدعو بصوت علی ضمانۃ الواد
ترجمہ : اے قوم بلاشبہ میں ریکھ رہا ہوں کہ عذاب ظاہر ہوچکا ہے جو وادی کی بقا کے خلاف آواز دے رہا ہے۔
وانہ لا یروی فیہ ضحی غد الا الرقیم یحشی بین انجاد
ترجمہ : کل دن کے وقت اس میں کوئی سیراب نہیں ہوگا سوائے کتے کے جو ساز و سامان کے درمیان گھوم پھر رہا ہوگا۔
وسمیر و عمران کا ھناھم والرقیم کلبھم
ترجمہ : اور سمیر اور عمران بن شداد دونوں ان کے کاہن تھے اور رقیم ان کا کتا تھا۔
Ayahs 7:94–95(1) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ثم بدلنا مکان السیءۃ الحسنۃ “ پھر ہم نے شدت اور تنگی کو راحت اور خوشحالی میں بدل دیا ” حتی عفوا “ یہاں تک کہ وہ تعداد میں بڑھ گئے۔ اور ان کے مال بھی کثرت سے ہوگئے۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ثم بدلنا مکان السبیءۃ “ سے مراد ہے برائی اور الحسنۃ سے مراد ہے نرمی انصاف اور اولاد ” حتی عفوا “ یعنی ان کے مال اور ان کی اولاد کثرت سے ہوگئی۔
(3) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” حتی عفوا “ سے مراد ہے ان کا پانی کثرت سے جمع ہوگیا یا درخت گنجان ہوگئے۔
(4) امام عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقالوا قدمس اباء نا الضراء والسراء ‘ سے مراد ہے کہ انہوں نے کہا ہمارے آباؤ اجداد پر بھی اس طرح سخت حالات آئے تھے اور یہ کچھ بھی نہیں لفظ آیت ” فاخذنھم بغتۃ وھم لا یشعرون “ فرمایا قوم نے اللہ کے حکم کی بغاوت کی۔ اور اللہ تعالیٰ نہیں پکڑتے کسی قوم کو کبھی بھی ان کے آیات اور ان کی بیخبر ی اور خوشحالی کے وقت پس اللہ کے ساتھ غافل نہ ہوجاؤ بلاشبہ اللہ کے ساتھ غافل نہیں ہوتی مگر نافرمان قوم۔
Ayah 7:96ایمان لانے کی برکات
(1) امام عبد حمید اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولو ان اہل القری آمنوا “ اگر بستیوں والے ایمان لاتے اس چیز پر جو نازل کی گئی ” واتقوا “ اور بچتے اس چیز سے جو اللہ نے حرام کیا ” لفتحنا علیہم برکت من السماء والارض “ یعنی البتہ ان کو آسمان بھی اپنی برکتیں عطا کرتا اور زمین بھی اپنی نباتات اور سبزہ عطا کرتی۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے معاذ بن رفاعۃ کے طریق سے موسیٰ طائفی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روٹی کی عزت کرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس کو نازل کیا ہے آسمان کی برکتوں سے اور اس کو نکالا ہے زمین کی برکتوں سے۔
(3) امام بزار اور طبرانی نے سند ضعیف کے ساتھ عبد اللہ ابن ام حرام ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دو قبیلوں کی طرف نمازیں پڑھیں اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ روٹی کی عزت کرو بیشک اللہ تعالیٰ نے اس کو آسمان کی برکتوں سے نازل فرمایا اور اس کے لئے مسخر کیا زمین کو برکتوں کو اور جو شخص لے لے اس چیز کو جو (دستر خوان سے) گرجائے تو اس کی بخشش کردی جائے گی۔
(4) امام ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ایک بستی والوں پر اللہ تعالیٰ نے کشادگی کی تھی یہاں تک کہ وہ روٹی سے استنجاء کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان پر بھوک بھیج دی یہاں تک کہ وہ ایسی چیزیں کھانے لگے جو پہلے دوسروں کو کھلاتے تھے۔
Ayahs 7:97–98(1) امام ابو الشیخ نے ابو نضر (رح) سے روایت کیا کہ مستحب ہے کہ جب آدمی اس آیت ” افامن اہل القری ان تاتیہم باسنا بیاتا وہم نائمون “ کو پڑھے تو اپنی آواز کو اونچا کرے۔
(2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (بلا ضرورت) مرغی اور کتے کو نہ رکھو ورنہ بستی والوں میں سے ہوجاؤ گے۔ اور (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت ” افامن اہل القری ان تاتیہم بأسنا بیاتا “۔
Ayah 7:99(1) امام ابن ابی حاتم نے ہشام بن عروہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے اپنے دوست کی طرف لکھا کہ جب اللہ تعالیٰ سے اس چیز کو پائے جو تیرے لئے خوشی کا باعث ہو امن میں نہ ہوجا کہ شاید اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خفیہ تدبیر ہو۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تبارک نے فرشتوں سے فرمایا یہ کیا ڈرنا ہے حالانکہ میں نے تم کو اس مقام اور مرتبہ پر فائز کیا جس پر تمہارے علاوہ کسی کو نہیں کیا فرشتوں نے عرض کیا اے ہمارے رب ہم امن میں نہیں ہیں آپ کی خفیہ تدبیر سے اور آپ کی تدبیر سے نہیں امن میں ہوتی مگر وہ قوم جو خسارہ پانے والی ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے بےخوف نہ ہونا
(3) امام عبد اللہ بن احمد نے زوائد الزھد میں علی بن ابی حلیمہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ذربن عبد اللہ خولانی (رح) سے روایت کیا کہ جب عشاء کی نماز پڑھتے تو مسجد ہی میں پڑے رہتے۔ جب مسجد سے نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس آیت کو بلند آواز سے پڑھتے یعنی لفظ آیت ” فلا یامن مکر اللہ الا القوم الخسرون “۔
(4) امام ابن ابی حاتم نے اسماعیل بن رفع ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کی خفیہ تدبیر سے امن میں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بندے کا گناہ پر قائم ہونا حالانکہ وہ اللہ پر مغفرت کی امید رکھتا ہے۔
Ayah 7:100(1) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” اولم یھد “ یعنی کیا یہ حقیقت واضح نہیں ہوئی۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” اولم یھد “ کا یہی معنی نقل کیا ہے۔
(3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” للذین یرثون الارض من بعد اہلہا “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے مراد مشرکین ہیں۔
Ayah 7:101(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن کعب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فما کانوا لیؤمنوا بما کذبوا من قبل “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کے علم میں تھا جس دن انہوں نے میثاق کے ساتھ اقرار کیا کہ کون اس کو جھٹلاتا ہے اور کون تصدیق کرتا ہے۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فما کانوا لیؤمنوا بما کذبوا من قبل “ کے بارے میں فرمایا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ قول بھی ہے لفظ آیت ” ولو ردوا لعادو لما نھو عنہ “ (الانعام آیت 28) اور اگر ان کو واپس بھیجا جائے تو پھر وہی کریں گے جس سے روکے گئے تھے۔
(3) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فما کانوا لیؤمنوا بما کذبوا من قبل “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ دن جس میں ان سے وعدہ لیا گیا تھا وہ مجبور ہو کر ایمان لائے۔
(4) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ولقد جاء تہم رسلہم بالبینت، فما کانوا لیؤمنوا بما کذبوا من قبل، کذلک یطبع اللہ علی قلوب الکفرین (101) “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ جانتا ہے کہ کون ان میں اطاعت کرنے والا ہوگا اور کون نافرمانی کرنے والا ہوگا۔ پھر یہ اس وقت سے ہے جب اس کو پیدا فرمایا آدم (علیہ السلام) کے زمانہ میں پھر فرمایا کہ اس بات کی تصدیق یہ ہے کہ جب نوح سے فرمایا ” ینوح اھبط بسلم مما ترکت علیک وعلی امم ممن معک وامم سلمتعھم ثم یمسھم منا عذاب الیم “ (ھود آیت 48) اسی کے بارے میں فرمایا ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “۔
(5) امام ابو الشیخ نے مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا اخذ ربک من بنی ادم من ظھورہم ذریتھم “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کو چیونٹی کی مانند آدم کی اولاد کو نکالا اور ان میں شعور اور عقل پیدا فرمائی۔ پھر ان کو (بولنے کی) طاقت دی پھر ان سے فرمایا ” الست بربکم “ تو سب نے فرمایا ہاں (آپ ہمارے رب ہیں) انہوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا اور ان میں سے بعض نے کفر کو اپنے دلوں میں چھپا دیا (اس) میثاق کے دن اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ولقد جاء تھم رسلہم “ یعنی تبلیغ کا فریضہ سوپنے کے بعد لفظ آیت ” بالبینت، فما کانوا لیؤمنوا “ پیغام پہنچنے کے بعد وہ ایمان نہیں لائے ” بما کذبوا “ یعنی میثاق کے دن وہ جھٹلا چکے تھے۔ ” کذلک یطبع اللہ علی قلوب الکفرین “ اسی طرح اللہ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔
Ayah 7:102(1) امام ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وما وجدنا لاکثرھم من عھد “ کے بارے میں فرمایا کہ عہد سے مراد ہے وفا (یعنی ہم نے ان کی اکثریت کو وعدہ وفا کرنے والا نہ پایا۔
(2) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وما وجدنا لاکثرھم من عھد “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے ان کی اکثریت کو وعدہ کا پابند نہیں فرمایا اور اس کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کو کسی آزمائش میں مبتلا نہیں کیا پھر ان کو معاف کردیا۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وما وجدنا لاکثرھم من عھد “ کے بارے میں فرمایا کہ اس دن کا عہد ہے جو میثاق کے دن لیا گیا۔
وعدہ عہد کی پابندی ضروری ہے
(4) امام ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وما وجدنا لاکثرہم من عھد “ کے بارے میں فرمایا کہ جب ان کو مبتلا کیا سختی میں اور مصیب میں پھر ان کو خوشحالی اور عافیت عطا فرمائی پھر اللہ تعالیٰ نے مذمت فرمائی ان کے اکثر لوگوں کو اور فرمایا لفظ آیت ” وما وجدنا لاکثرھم من عھد، وان وجدنا اکثرھم لفسقین “۔
(5) امام ابن جریر نے ابی کعب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وما وجدنا لاکثرھم من عھد “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ میثاق جب اللہ تعالیٰ نے اس وقت لیا تھا جب یہ ابن آدم (علیہ السلام) کی پشت میں تھے۔
(6) امام ابن منذر نے ابی کعب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے پھر لفظ آیت ” وما وجدنا لاکثرھم من عھد “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس ون جان لیا کون پورا کرے گا وعدہ کو اور کون پورا نہیں کرے گا۔ اور فرمایا لفظ آیت ” وان وجدنا اکثرھم لفسقین “۔
(7) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وما وجدنا لاکثرھم من عھد “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ وعدہ ہے جو آدم کی اولاد سے لیا گیا کہ وہ آدم کی پشت میں تھی اور انہوں نے وعدہ کو پورا نہیں کیا (اور فرمایا) لفظ آیت ” وان وجدنا اکثرھم لفسقین “ یعنی ہم نے قرون ماضیہ میں اکثریت کو نافرمان پایا۔
(8) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وان وجدنا اکثرھم لفسقین “ کے بارے میں فرمایا کہ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے (ان) بستیوں کو ہلاک کیا کیونکہ انہوں نے اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی جس کی نصیحت اللہ تعالیٰ نے ان کو فرمائی تھی۔
Ayah 7:103(1) امام ابو الشیخ نے ابن عباس سے روایت کیا کہ موسیٰ اس کے لئے نام دیا گیا کیونکہ ان کو ڈال دیا گیا پانی اور درخت کے درمیان پانی کو قبطی زبان میں مو کہتے ہیں اور شجر کو سی کہتے ہیں اسی لئے موسیٰ بن گیا۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ فرعون فارس کا رہنے والا اور اصطخر کا باشندہ تھا۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے ابن الھیعہ (رح) سے روایت کیا کہ فرعون مصر کے باشندوں میں سے ایک تھا۔
(4) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے محمد بن المنکدر (رح) سے روایت کیا کہ فرعون تین سو سال تک زندہ رہا۔ ان میں سے دو سو بیس سال میں اس نے کچھ نہیں دیکھا جو اس کی آنکھوں میں کھٹکتا ہو۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اسی سال تک اسے حق کی دعوت دی۔
(5) امام ابن ابی حاتم نے علی ابن ابی طلحہ (رح) سے روایت کیا کہ فرعون قبطی اور زنا کی اولاد تھا۔ اس کا قد ساٹھ بالشت تھا۔
(6) امام ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ فرعون ھمدان کا رہنے والا مضبوط آدمی تھا۔
(7) امام بیہقی نے شعیب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے رب آپ نے فرعون کو چار سو سال مہلت دی اور کہتا ہے کہ میں بڑا رب ہوں۔ اور تیری نعمتوں کو جھٹلاتا ہے۔ اور تیرے رسولوں کا انکار کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ وہ اچھے اخلاق والا تھا۔ آسان پردے والا تھا تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں اس کی مدد کروں۔
(8) امام ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سب سے پہلے فرعون نے کالا خضاب استعمال کیا تھا۔
(9) امام ابو الشیخ نے ابراہیم بن مقسم الھذلی سے روایت کیا کہ چار سو سال فرعون زندہ رہا تو اس کے سر میں کبھی درد نہ ہوا۔
(10) امام ابو الشیخ نے ابو الاشرس سے روایت کیا کہ فرعون چار سو سال تک زندہ رہا۔ جوانی اس میں صبح اور شام آجاتی تھی۔
(11) امام خطیب نے حکم بن عتیبہ (رح) سے روایت کیا کہ سب سے پہلے فرعون نے کالا خضاب لگایا۔ اس طرح کہ اس کو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تو اللہ پر ایمان لے آئے تو میں (اللہ تعالیٰ سے) سوال کروں گا کہ وہ تیری جوانی کو تجھ پر لوٹا دے۔ اس نے یہ بات ھامان سے کہی تو ھامان نے اس کو کالا خضاب کردیا۔ موسیٰ نے اس سے فرمایا تیری میعاد تین دن ہے۔ جب تین دن پورے ہوئے تو یہ خضاب اتر گیا۔
(12) امام ابن ابی حاتم نے عبد اللہ بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ فرعون کے آگے اسی دروازے بند کر دئیے جاتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس میں سے کسی دروازے پر آتے تو ان کے لئے وہ دروازہ خود بخود کھل جاتا تھا اور آپ کسی سے بات نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ اس کے آگے کھڑے ہوجاتے۔
Ayahs 7:104–112(1) امام ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” حقیق علی ان لا اقول “۔
عصاء موسیٰ آدم (علیہ السلام) کی تھی
(2) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” فالقی عصاہ “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ لاٹھی آدم کی لاٹھی ہے۔ ان کو خاص طور پر ایک فرشتے نے دی تھی جب وہ مدینہ جا رہے تھے۔ یہ رات کو روشنی دیتی تھی اور دن کے وقت آپ اسے ساتھ لے کر زمین میں گھومتے پھرتے اور اپنے لئے رزق تلاش کرتے اور اس کے ساتھ اپنی بکریوں کے لئے پتے بھی جھاڑتے تھے۔ اللہ عزوجل نے فرمایا لفظ آیت ” فاذا ہی ثعبان مبین “ یعنی ایک سانپ تھا قریب تھا کہ آپ پر حملہ کردیتا۔
(3) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے منھال (رح) سے روایت کیا کہ سانپ آسمان میں ایک میل اوپر کو اٹھ جاتا تھا۔ فرعون کی طرف آنے لگا تو اس نے کہنا شروع کیا اے موسیٰ مجھ کو حکم کر جو تو چاہتا ہے۔ اور فرعون نے کہنا شروع کیا۔ اے موسیٰ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس ذات کے ساتھ جس نے تجھ کو بھیجا ہے۔ (کہ اس سانپ کا پکڑ لے) راوی کا قول ہے کہ اس نے آپ کے پیٹ کو پکڑ لیا۔
(4) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ فرعون کے پاس آئے تو وہ اون کا بنا ہوا ایک چغہ پہنے ہوئے تھا جو اس کی گردن سے اوپر تک تھا۔ انہوں نے فرعون سے اندر آنے کی اجازت مانگی اس نے کہا ان کو داخل کر دو ۔ موسیٰ داخل ہوگئے اور فرمایا میرے معبود نے مجھ کو تیرے پاس بھیجا ہے۔ اس نے اپنے اردگرد بیٹھنے والی قوم سے کہا میں نہیں جانتا کہ میرے علاوہ تمہارا کوئی اور بھی معبود ہے اس کو پکڑ لو۔ موسیٰ نے فرمایا میں تیرے پاس ایک نشانی لے کر آیا ہوں لفظ آیت ” قال ان کنت جئت بایۃ فات بھا ان کنت من الصدقین (106) فالقی عصاہ “ جب اپنے عصا کو ڈالا تو وہ سانپ بن گیا اس کے جبڑوں کے درمیان اتنا فاصلہ تھا جتنا چھت سے لے کر زمین تک کا فاصلہ ہے۔ پھر انہوں نے اپنا ہاتھ گریبان میں داخل کیا پھر اس کو بجلی کی طرف چمکتا ہوا نکالا (جس سے) آنکھیں چندھیا گئیں۔ تو وہ اپنے چہروں پر گرپڑے۔ موسیٰ نے اپنی لاٹھی کو پکڑ لیا۔ پھر لوگوں میں سے ہر ایک وہاں سے بھاگ گیا۔ جب افاقہ ہوا اور فرعون سے خوف دور ہوا تو اپنے اردگرد سرداروں سے کہنے لگا تم مجھ کو کیا حکم کرتے ہو انہوں نے کہا اس کو اور اس کے بھائی کو مہلت دیدو۔ کہ تم اسے ادھر لاؤ اور نہ ہی وہ تمہارے قریب آئے۔ اور شہروں میں اکھٹے کرنے والے بھیج دو ۔ جادو گر فرعون سے ڈرتے تھے۔ جب ان کو بلا بھیجا تو انہوں نے کہا تمہاری طرف تمہارا خدا محتاج ہوگیا ہے اور فرعون نے کہا کہ موسیٰ نے ایسا ایسا کیا ہے انہوں نے کہا یہ جادو گر ہے جو جادو کرتا ہے ہمارے لئے کیا اجر ہوگا اگر ہم غالب ہوں گے۔ اور پھر کہا جادو گر لوگوں پر جادو کرتا ہے لیکن جادو گر پر جادو نہیں کرتا۔ فرعون نے کہا ہاں (اگر غالب آگئے) تو تم میرے مقرب لوگوں میں سے ہوگے۔
(5) امام ابنب منذر اور ابن ابی حاتم نے حکم (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ کی لاٹھی عوسج لکڑی کی تھی اور عوسج اس کے بعد کسی کے لئے مسخر نہیں ہوا۔
(6) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ کی لاٹھی کا نام ماشا تھا۔
(7) امام ابن ابی حاتم نے مسلم (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ کا عصا ہی دابۃ الارض تھا۔
(8) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے چند طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فاذا ہی ثعبان مبین “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک نر سانپ تھا۔
(9) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے معمر کے طریق سے قتادہ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فاذا ہی ثعبان مبین “ کے بارے میں فرمایا کہ (یہ لاٹھی) بڑے سانپ میں تبدیل ہوگئی۔ معمر (رح) نے فرمایا اور اس کے علاوہ کسی اور نے فرمایا کہ وہ شہر کی مثل بڑا سانپ بن گیا۔
(10) امام ابو الشیخ نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ زرد رنگ کا نر سانپ تھا۔
(11) امام ابن ابی حاتم نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ سانپ کء دونوں جبڑوں کے درمیان بارہ ذراع کا فاصلہ تھا جو موسیٰ کی لاٹھی میں سے تھا۔
(12) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے فرقد سنجی (رح) سے روایت کیا کہ جب فرعون کو ضرورت (یعنی قضائے حاجت کی) پوتی تو جادو گر اس کو پچاس فرسخ کے فاصلہ پر لے جاتے۔ جب اپنی حاجت پوری کرلی تو اس کو واپس لے آئے۔ کیونکہ اس دن موسیٰ (علیہ السلام) کے عصانے اپنا منہ کھلا تو اس کے دو جبڑوں کے درمیان چالیس ذراع کا فاصلہ تھا اور اس دن چالیس بار اس نے ایسا کیا۔
(13) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فاذا ہی ثعبان “ کے بارے میں فرمایا سانپوں میں ایک نر سانپ تھا۔ اس نے اپنا منہ کھولا ہوا تھا اس کا نیچے کا جبڑا زمین پر اور اوپر والا جبڑا محل کی فصیل پر تھا۔ پھر وہ فرعون کی طرف چلاتا کہ اس کو پکڑے جب اس نے اس کو آتا ہوا دیکھا تو خوف زدہ ہوگیا اور کود اور اس نے ایسی بات کہی جو اس سے پہلے کسی نے نہیں کہی تھی۔ اور چیخا کہ اے موسیٰ اس کو پکڑ لے میں تیرے ساتھ ایمان لاتا ہوں اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دوں گا۔ موسیٰ نے اس کو پکڑ لیا تو وہ لاٹھی بن گیا۔
(14) امام ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” ونزع یدہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہتھیلی ہے یعنی اپنی ہتھیلی نکالی۔
(15) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” یرید ان یخرجکم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ تم کو تمہاری زمین سے نکالنا چاہتا ہے۔
(16) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” ارجہ “ یعنی اس کو مہلت دے دو
(17) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والوا ارجہ واخاہ “ کہ اس کو اور اس کے بھائی کو روک لو۔
(18) امام عبد بن حمید، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے چند طریق سے ابن عباس سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وارسل فی المدائن حشرین “ یعنی پولیس یا پہرہ دار (کو بھیج دو ) ۔