7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 7:44–46

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

اور جنت والے دوزخ والوں کو پکاریں گے ہمارے رب نے جو ہم سے وعدہ فرمایا تھا وہ ہم نے حق پایا سو کیا تم نے بھی اسے حق پایا جو تمہارے رب نے تم سے وعدہ فرمایا تھا وہ کہیں گی کہ ہاں ! پھر ایک اعلان کرنے والا ان کے درمیان اعلان کرے گا کہ اللہ کی لعنت ہو ظالموں پر

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

جو اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور اس میں کجی تلاش کرتے تھے اور وہ لوگ آخرت کے منکر تھے

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

اور دونوں کے درمیان پردہ حائل ہوگا اور اعراف پر بہت سے لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو اس کی نشانی سے پہچانتے ہوں گے اور وہ جنت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلام ہو۔ یہ لوگ جنت میں داخل نہ ہوئے ہوں گے اور امید کر رہے ہوں گے۔

(1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ان قد وجدنا ما وعدنا ربنا حقا “ کے بارے میں فرمایا کہ (ہم نے پالیا) نعمتوں میں سے اور عزت میں سے لفظ آیت ” فہل وجدتم ما وعد ربکم حقا “ یعنی (کیا تم نے پالیا) رسوائی، ذلت اور عذاب میں سے۔ (2) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ جنت والے پائیں گے جو وعدہ دئیے گئے ثواب میں سے اور دوزخ والے پائیں گے جو وہ وعدہ دئیے گئے عذاب میں سے۔ (3) امام ابن ابی شیبہ، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اس کنویں کے پاس ٹھہرے جس میں مشرکین کو ڈالا گیا تھا۔ آپ نے (ان کو خطاب کرتے ہوئے) فرمایا ہم نے پالیا جو ہمارے رب نے ہم سے وعدہ کیا تھا تم نے بھی پالیا جو تم نے تمہارے رب سے وعدہ کیا تھا ؟ صحابہ ؓ نے آپ سے پوچھا کیا وہ مردے نہیں ہیں (وہ کیسے بن سکتے ہیں) آپ نے فرمایا وہ سنتے ہیں جیسے تم سنتے ہو۔ (4) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وبینھما حجاب “ یعنی وہ ایک دیوار ہے اور وہی اعراب ہے اس کو اس لئے اعراف کہا جاتا ہے کہ اصحاب اعراف لوگوں کو پہنچانتے ہیں۔ اما قولہ تعالیٰ : وعلی الاعراف رجال : (5) امام سعید بن منصور اور ابن منذر نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ اعراف ایک دیوار ہے جنت اور دوزخ کے درمیان۔ (6) امام عبد الرزاق، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور بیہقی نے البعث والنشور میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اعراف وہ ایک بلند چیز ہے۔ (7) امام فریابی ھناد و عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اعراف ایک فصیل ہے جس کی کلغی ہوگی مرغ کی کلغی کی طرح۔ (8) امام ھناد، عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اعراف ایک پردہ ہوگا جنت اور دوزخ کے درمیان یہ ایک فصیل ہے جس کا دروازہ بھی ہے۔ (9) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ اعراف ایک پہاڑ ہے جنت اور دوزخ کے درمیان اور وہ لوگ ان کی چوٹیوں پر ہوں گے۔ (10) امام ابن ابی حاتم نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ اعراف اللہ کی کتاب میں گہرائی ہے۔ ابن لھیعہ (رح) نے فرمایا کہ وہ ایک گہری وادی ہے اس کے پیچھے ایک اونچا پہاڑ ہے۔ (11) امام ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے گمان کیا کہ وہ پل صراط ہے۔ (12) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اعراف ایک ٹیلہ ہے جنت اور دوزخ کے درمیان اس پر گناہ گار لوگ بیٹھیں گے جنت اور دوزخ کے درمیان۔ (13) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اعراف ایک فصیل ہے جنت اور دوزخ کے درمیان۔ (14) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا یعنی اعراف ایک رکاوٹ اور فصیل ہے۔ جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر فرمایا ہے اور وہ جنت اور دوزخ کے درمیان ہے۔ جس کا نیکی کا پلڑا بھاری ہو جنتی ہے (15) امام ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ قیامت کے دن لوگوں کا حساب کیا جائے گا جس کی ایک نیکی بھی اس کے گناہوں سے زیادہ ہوگئی تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اور جس کا ایک گناہ بھی اس کی نیکیوں سے زیادہ ہوگا تو وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔ پھر (یہ آیت) ” فمن ثقلت موازینہ فاولئک ہم المفلحون (102) ومن خفت موازینہ فاولئک الذین خسروا انفسھم “ (الاعراف آیت 85) ترازو ہلکا ہوجاتا ہے ایک دانے کے وزن سے اور بھاری بھی آتا ہے فرمایا اور جس شخص کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی وہ اعراف والوں میں سے ہوگا۔ ان کو پل صراط پر ٹھہرایا جائے گا پھر پیش کیا جائے گا جنت اور دوزخ والوں کو جب وہ جنت والوں کی طرف دیکھیں گے تو آواز دیں گے تم پر سلام ہو اور جب اپنی نظریں بائیں جانب پھیریں گے اور وہ دوزخ والوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے لفظ آیت ” ربنا لا تجعلنا مع القوم الظلمین “ (اے ہمارے رب ہم کو اس ظالم قوم کے ساتھ نہ کرنا) پس تم اللہ سے پناہ مانگو ان کے ٹھکانوں سے اور جو نیکی کرنے والے لوگ بھی بلاشبہ وہ نور دئیے جائیں گے اور وہ چلیں گے اس کے ذریعے اپنے آگے اور اپنے دائیں اور ہر مومن بندہ کو نور دیا جائے گا اور ہر امت کے لئے نور ہوگا جب وہ پل صراط پر آئیں گے تو ہر منافق مرد اور منافق عورت کا نور اللہ تعالیٰ کھینچ لیں گے۔ جب جنت والے دیکھیں گے جو کچھ منافقوں کے ساتھ ہوا تو کہیں گے اے ہمارے رب ہمارے لئے ہمارے نور کو پورا فرما دے اور اعراف والوں کا نور ان کے آگے ہوگا اور وہ ان سے نہیں چھینا جائے گا اس جگہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ لفظ آیت ” لم یدخلوھا وھم یطمعون “ اور خواہش اور حرص داخل ہونے کی ہوگی۔ ابن مسعود ؓ نے فرمایا جب بندہ کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور جب کوئی برا عمل کرتا ہے تو صرف ایک ہی گناہ لکھا جاتا ہے پھر فرماتے ہیں وہ ہلاک اور برباد ہوگیا جس کا ایک ایک گناہ اس کی دس دس نیکیوں پر غالب آگیا۔ (16) امام ابن جریر نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ اعراف والے وہ قوم ہوگی کہ ان کے اعمال ایسے ہوں گے کہ جن کے سبب اللہ تعالیٰ ان کو آگ سے نجات دیں گے اور یہ جنت میں داخل ہونے والوں کے آخر میں ہوں گے۔ وہ لوگ جنت والوں کو اور دوزخ والوں کو پہچانتے ہوں گے۔ جن کی نیکی برائی برابر ہو (17) امام ابن جریر نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ اعراف والے وہ ہیں جن کے اعمال برابر ہوں گے ان کی نیکیاں انہیں جنت (کے داخلے) سے کم ہوں گی۔ ان کے گناہ ان کو جہنم (کے داخلے) سے کم ہوں گے تو ان کو اعراف پر رکھا جائے گا۔ لوگ ان کو پہچان لیں گے ان کے چہروں سے جب بندوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے گا تو ان کو اجازت دی جائے گی شفاعت کو طلب کرنے کی تو وہ لوگ آدم کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے آدم آپ ہمارے باپ ہیں ہمارے لئے سفارش کیجئے اپنے رب کے پاس تو وہ کہیں گے۔ کیا تم میرے سوا کسی کو جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اور اس میں اپنی روح کو پھونک دیا ہو اور اللہ کی رحمت اس کی طرف سبقت کرگئی ہو اس کے غضب سے اور سجدہ کیا ہو اس کو فرشتوں نے تو وہ کہیں گے نہیں پھر آپ فرمائیں گے جو میں جانتا ہوں اپنی حقیقت کو کہ میں نہیں طاقت رکھتا کہ میں تمہاری سفارش کروں لیکن تم میرے بیٹے ابراہیم کے پاس جاؤ وہ لوگ ابراہیم کے پاس آئیں گے۔ اور ان سے سوال کریں گے کہ ان کے لئے اپنے رب کے پاس سفارش کریں۔ تو وہ کہیں گے کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خلیل بنایا۔ کیا تم جانتے ہوں اس کی قوم نے کسی کو جلایا ہو اللہ کے بارے میں میرے علاوہ تو وہ کہیں گے نہیں ابراہیم فرمائیں گے جو میں جانتا ہوں اپنی حقیقت کہ میں نہیں طاقت رکھتا کہ میں تمہاری سفارش کروں۔ لیکن تم جاؤ میرے بیٹے موسیٰ کے پاس تو یہ لوگ موسیٰ کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے کیا تم جانتے ہو کسی ایک کو کہ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوتے ہوں اور اپنے قریب کیا ہو سر گوشی کرتے ہوئے میرے علاوہ وہ کہیں گے نہیں پھر وہ فرمائیں گے جو میں جانتا ہوں اپنی حقیقت کو کہ میں تمہاری سفارش کی طاقت نہیں رکھتا۔ لیکن تم جاؤ عیسیٰ کے پاس پھر وہ ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے ہمارے لئے اپنے رب کے پاس سفارش کیجئے۔ وہ کہیں گے کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے میرے علاوہ کسی ایک کو بغیر باپ کے پیدا کیا ہو۔ کیا تم میرے سوا کسی کو جانتے کو جو مادر زاد اندھے کو اور برص والی بیماری کو اچھا کردیتا ہو۔ اور مردوں کو زندہ کردیتا ہو اللہ کے حکم سے میرے علاوہ وہ کہیں گے نہیں پھر وہ فرمائیں گے میں اپنے نفس پر دلیل سے غالب ہوں جو میں اپنی حقیقت کو جانتا ہوں کہ میں تمہاری سفارش کی طاقت نہیں رکھتا لیکن تم جاؤ محمد ﷺ کے پاس۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ وہ میرے پاس آئیں گے تو میں ماروں گا اپنا ہاتھ اپنے سینے پر پھر میں کہوں گا میں ہی اس کام کے لئے ہوں پھر میں چل پڑوں گا یہاں تک کہ میں کھڑا ہوجاؤں گا۔ عرش کے سامنے اور اپنے رب کی ثنا بیان کروں گا۔ میرے لئے ایسی ثنا کھول دی جائے گی (یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف القا ہوگی) کہ سننے والوں نے ایسی ثنا کبھی نہ سنی ہوگی۔ پھر میں سجدہ کروں گا مجھ سے کہا جائے گا اے محمد ﷺ اپنے سر کو اٹھائیے سوال کر تجھ کو دیا جائے گا تو شفاعت کر تیری شفاعت قبول ہوگی تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا میں کہوں گا اے میرے رب میری امت (کے بارے میں شفاعت قبول فرمائے) اللہ تعالیٰ فرمائیں گے وہ تیرے لئے ہے نہیں باقی رہے گا کوئی نبی اور نہ کوئی رسول اور نہ کوئی مقرب فرشتہ مگر اس دن اس مقام کے لئے مجھ پر رشک کرے گا اور وہ مقام محمود ہوگا میں ان کو (اعراف والوں کو) لے کر جنت کے دروازہ پر آؤں گا اور کھولنے کی درخواست کروں گا تو میرے لئے کھول دیا جائے گا اور ان کے لئے پھر ان کو لے جایا جائے گا ایک نہر کی طرف جس کو نہر حیات کہا جاتا ہے۔ اس کے دونوں کنارے پر سونے کے درخت ہیں جو موتیوں کے ساتھ آراستہ کئے گئے ہیں۔ اس کی مٹی کستوری سے ہے اور اس کی کنکریاں یاقوت کی ہیں اس سے وہ لوگ غسل کریں گے تو ان کی طرف جنت والوں کا رنگ اور جنت والوں کی خوشبو لوٹ آئے گی اور وہ ایسے ہوجائیں گے جیسے چمکتے ہوئے ستارے ہوں۔ اور ان کے سینوں میں سفیدی کے نشانات باقی رہیں گے جس سے وہ پہچانے جائیں گے اور ان کو کہا جائے گا جنت والوں کے مساکین۔ (18) امام عبدالرزاق، سعید بن منصور، ہناد بن السری، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور بیہقی نے البعث میں حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ اعراف والے ایسی قوم ہیں کہ ان کی نیکیاں اور ان کی برائیاں برابر ہوں گی ان کے گناہ ان کو جہنم میں لے جانے کے لئے کافی نہ ہوں گے۔ اور ان کی نیکیاں ان کو جنت میں لیجانے کے لئے کم ہوں گے۔ چناچہ ان کو ایک فصیل پر رکھا جائے گا جنت اور دوزخ کے درمیان یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا پس وہ اسی حالت میں ہوں گے اچانک ان کا رب ان پر جلوہ افروز ہوگا۔ اور اس سے فرمائیں گے کھڑے ہوجاؤ اور جنت میں داخل ہوجاؤ میں نے تم کو بخش دیا ہے۔ (19) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور بیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وعلی الاعراف “ سے مراد ہے کہ وہ ایک فصیل ہے جو جنت اور دوزخ کے درمیان ہے اور اس پر ٹھہرنے والے ایسے مرد ہوں گے کہ جن کے بڑے بڑے گناہ ہوں گے اور وہ بڑے جسم والے ہوں گے ان کے لئے حکم اللہ کا ہوگا۔ وہ اعراف پر ٹھہرے ہوں گے۔ دوزخ والوں کو ان کے کالے چہروں سے پہچانیں گے اور جنت والوں کو سفید چہروں سے پہچانیں گے۔ جن وہ جنت والوں کی طرف دیکھیں گے تو اس میں داخل ہونے کی تمنا کریں گے اور جب دوزخ والوں کی طرف دیکھیں گے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں گے۔ پھر ان کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرما دیں گے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” اھولاء الذین اقسمتم لا ینالہم اللہ برحمۃ “ (الاعراف آیت 49) یعنی اعراف والے (اللہ فرمائیں گے) ” ادخلوا الجنۃ لاخوف علیکم ولا انتم تحزنون “ (20) امام ابوالشیخ، ابن مردو یہ اور ابن عسا کرنے جابر بن عبداللہ عنہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ترازورکھا جائے گا اور نیکیوں کو اور برا ئیوں کو تو لا جائے گا۔ جس شخص کی نیکیاں اس کی برائیوں پر بھاری ہوں گی جوں کے انڈے کے برابر بھی تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اور جس شخص کی برائیاں اس کی نیکیاں پر بھاری ہوں گی جوں کے انڈے کے برابر تو وہ آگ میں داخل ہوگا۔ کہا گیا یا رسول اللہ ﷺ وہ کون ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیں برابر ہوں گی۔ فرمایا یہ لوگ اعراف والے ہوں گے۔ لفظ آیت ” لم یدخلوھا وھم یطمعون “ (21) ابن جریر اور ابن منذر نے ابو ذرعہ بن عمرو بن جریر ؓ سے روایت کیا کہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اعراف والوں کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا وہ آخری لوگ ہیں جن کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا جب رب العالمین بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے سے فارغ ہوجائیں گے تو فرمائیں گے تم ایسی قوم ہو کہ تم کو تمہاری نیکیوں نے آگ سے نکالا اور جنت میں داخل نہیں کیا تم میرے آزاد کردہ ہوجا پس تم کھاؤ پیو جنت میں سے جہاں سے چاہو۔ (22) امام بیہقی نے البعث میں حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب لوگ قیامت کے دن جمع کئے جائیں گے جنت والوں کو جنت کی طرف حکم دیا جائے گا اور دوزخ والوں کو دوزخ کی طرف حکم دیا جائے گا پھر اعراف والوں سے کہا جائے گا تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو وہ عرض کریں گے ہم آپ کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں ان سے کہا جائے گا کہ تمہاری نیکیوں نے تم کو دوزخ میں داخل ہونے سے بچا لیا ہے لیکن تمہاری خطائیں تمہارے اور جنت کے درمیان حائل ہوگئیں۔ پس داخل ہوجاؤ جنت میں میری مغفرت اور میری رحمت سے۔ اعراف جنت و جہنم کے درمیان ہے (23) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وعلی الاعراف رجال “ میں اعراف ایک دیوار ہے جنت اور دوزخ کے درمیان اور ہم کو ذکر کیا گیا کہ ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے وہ ایسی قوم ہے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی۔ ان کی نیکیاں ان کی برائیوں پر زیادہ نہیں ہوں گی اور نہ ان کی برائیاں ان کی نیکیوں پر زیادہ ہوں گی اس لئے ان کو یہاں روک لیا گیا۔ (24) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اعراف والے ایسی قوم ہیں کہ ان کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گے۔ تو ان کو یہاں فصیل پر کھڑا کیا جائے گا۔ جب وہ جنت والوں کو دیکھیں گے اور ان کے سفید چہروں سے ان کو پہچان لیں گے اور جب دوزخ والوں کو دیکھیں گے تو ان کے کالے چہروں سے ان کو پہچان لیں گے۔ پھر فرمایا لفظ آیت ” لم یدخلوھا وہم یطمعون “ یعنی اس میں داخل ہونے (کی امید رکھیں گے) پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اعراف والوں کو جنت میں داخل فرما دیں گے۔ (25) امام فریابی، ابن ابی شیبہ، ھناد، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابو الشیخ نے عبد اللہ بن حارث بن نوفل (رح) سے روایت کیا کہ اعراف والے ایسے لوگ ہوں گے کہ ان کی نیکیاں اور ان کی برائیاں برابر ہوں گی۔ تو ان کو ایک نہر کی طرف لے جایا جائے گا جس کو نہر حیات کہا جاتا ہے۔ اس کی مٹی ورس اور زعفران کی ہوگی اور اس کے کنارے سونے کے کانوں سے بنائے گئے ہیں کن کو موتیوں سے آراستہ کیا گیا ہے وہ اس سے غسل کریں گے ان کے سینوں میں سفید نشان ظاہر ہوگا۔ پھر وہ غسل کریں گے اور وہ زیادہ ہوں گے سفیدی میں پھر ان سے کہا جائے گا تمنا کرو جو تم چاہو تو وہ تمنا کریں گے جو چاہیں گے ان سے کہا جائے گا تمہارے لئے اس طرح ستر مرتبہ ہے جو تم نے تمنا کی اور یہ لوگ جنت کے مساکین ہوں گے۔ (46) امام ہناد بن السری، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عبد اللہ بن الحارث کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اعراف وہ دیوار ہے جو جنت اور دوزخ کے درمیان ہوگی اور یہ ایک پردہ ہے اعراف والے اس مکان میں ہوں گے جب اللہ تعالیٰ ان کو معاف کرنے کا ارادہ فرمائیں گے تو ان کو ایک نہر کی طرف لے جایا جائے گا۔ اس کو نہر حیات کہا جاتا ہے۔ اس کے کنارے سونے کے کانوں کے ہوں گے۔ جو موتیوں سے مزین ہوں گے اس کی مٹی کستوری کی ہوگی۔ اور اس میں رہیں گے جب تک اللہ چاہیں گے۔ یہاں تک کہ ان کے رنگ صاف ہوجائیں گے پھر وہ اس حال میں نکلیں گے کہ ان کے سینوں میں سفید نشان ظاہر ہوجائیں جس کے ذریعہ پہچانیں جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائیں گے سوال کرو تو وہ سوال کریں گے۔ یہاں تک کہ ان کی خواہش پوری ہوجائے گی۔ پھر ان سے کہا جائے گا تمہارے لئے وہ ہے جو تم نے سوال کیا اور اس کی مثل ستر گنا اور بھی ہے وہ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کے سینوں میں سفید نشان ہوگا جس سے وہ پہچانیں جائیں گے اور ان کو جنت والوں کے مساکین کا نام دیا جائے گا۔ (27) امام سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن منیع اور حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن الانباری نے کتاب الاضداد میں خرائطی نے مساوی الاخلاق میں طبرانی، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے البعث میں عبد الرحمن المزنی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اعراف والوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا وہ ایسی قوم ہیں جو اللہ کے راستے میں قتل کئے گئے حالانکہ وہ اپنے آباء کے نافرمان تھے۔ ان کو آگ میں جانے سے بچا لیا ان کے اللہ کے راستے میں قتل ہونے کی وجہ سے۔ اور ان کو روک دیا جنت سے اپنے آباء کی نافرمانی نے۔ (28) امام طبرانی اور ابن مردویہ نے سند ضعیف کے ساتھ ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اعراف کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا مرد جو اللہ کے راستہ میں قتل کئے گئے اس حال میں کہ وہ اپنے آباء کے نافرمان تھے پس شہادت نے ان کو آگ میں داخل ہونے سے روک لیا اور نافرمانی نے ان کو جنت میں داخل ہونے سے روک لیا۔ اور وہ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک فصیل پر ہوں گے۔ یہاں تک کہ ان کے گوشت اور ان کی چربیاں پگھل جائیں گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کے حساب سے فارغ ہوجائیں گے جب اپنی مخلوق کے حساب سے فارغ ہوں گے تو ان کے علاوہ کوئی باقی نہ رہے گا۔ ان لوگوں کو اپنی رحمت سے ڈھانک لیں گے اور اپنی رحمت سے جنت میں داخل کردیں گے۔ (29) امام ابن مردویہ اور بیہقی نے البعث میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اعراف والوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جن کو اللہ کے راستے میں قتل کیا جائے گا اس حال میں کہ وہ اپنے آباء کے نافرمان ہوں گے۔ تو وہ جنت سے روک دئیے جائیں گے اپنے والدین کی نافرمانی کی وجہ سے اور آگ سے روک دئیے جائیں گے اللہ کے راستے میں شہید ہونے کی وجہ سے۔ (30) امام حارث بن ابی اسامہ نے مسند میں، ابن جریر اور ابن مردویہ نے عبد اللہ بن مالک حلالی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک کہنے والے نے کہا یا رسول اللہ کہ اعراف والے کون ہیں آپ نے فرمایا وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے والدین کی اجازت کے بغیر اللہ کے راستے میں نکلے اور شہید ہوگئے تو ان کی شہادت نے ان کو آگ میں داخل ہونے سے روک دیا اور ان کو آباء کی نافرمانی نے جنت میں داخل ہونے سے روک دیا یہ آخری لوگ ہوں گے جو جنت میں داخل ہوں گے۔ (31) امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اعراف والے وہ لوگ ہیں جو اللہ کے راستے میں جنگ کے لئے نکلے اس حال میں کے ان کے آباء اجداد اور ان کی مائیں ان پر ناراض تھیں وہ ان کی اجازت کے بغیر نکل کھڑے ہوئے تو اپنی شہادت کی وجہ سے یہ آگ سے روک لئے گئے اور اپنے والدین کی نافرمانی کی وجہ سے جنت سے بھی روک دئیے گئے۔ (32) امام ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے محمد بن منکدر کے طریق سے مزینہ کے ایک آدمی سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اعراف والوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ ایسے لوگوں کا گروہ ہے جو اپنے آباؤ کی اجازت کے بغیر نافرمانی کرتے ہوئے نکلے۔ اور اللہ کے راستے میں شہید کر دئیے گئے۔ (33) امام بیہقی نے البعث میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مومن جنات کے لئے ثواب بھی ہے اور عذاب بھی ہے۔ صحابہ ؓ نے آپ سے ان کے ثواب کے بارے میں پوچھا تو فرمایا وہ اعراف پر ہوں گے اور وہ جنت میں محمد کی امت کے ساتھ نہیں ہوں گے۔ پھر صحابہ نے آپ سے پوچھا کہ اعراف کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ جنت کی دیوار ہے اس میں نہریں چلتی ہیں اور اس میں درخت اور پھل اگتے ہیں۔ (34) امام سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن نسائی، ابن ابی حاتم، ابن الانباری نے الاضداد میں، ابو الشیخ اور بیہقی نے البعث میں ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ اعراف ایک بلند جگہ ہے اس پر فرشتوں میں سے رجال ہوں گے وہ جنت والوں کو ان کے چہروں سے پہچانیں گے اور دوزخ والوں کو ان کے چہروں سے اور جنت والوں کا جنت میں اور دوزخ والوں کا دوزخ میں داخل ہونے سے پہلے ہوگا۔ (فرمایا) لفظ آیت ” ونادوا اصحب الجنۃ “ یعنی اعراف والے جنت والوں کو آواز دیں گے کہ ” ان سلم علیکم، لم یدخلوھا وہم یطمعون “ (اور وہ تمنا کریں گے) اس میں داخل ہونے کی۔ کہا گیا اے ابو مجلز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں رجال یعنی وہاں مرد ہوں گے اور آپ کہتے ہیں فرشتے فرمایا فرشتے مذکر ہیں ان میں کوئی مونث نہیں (اس لئے رجال فرمایا) (35) امام ابن ابی شیبہ، ھناد، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اعراف والے صالحین فقہاء اور علماء ہوں گے۔ (36) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ حسن ؓ نے فرمایا اعراف والے ایسے لوگ ہیں جن میں خود پسندی پائی جاتی ہے۔ قتادہ اور مسلم بن یسار (رح) دونوں نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن پر قرضہ تھا۔ (37) امام ابن جریر نے مجاہد نے (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وعلی الاعراف رجال یعرفون کلا بسمھم “ کے بارے میں فرمایا کہ کافر کو کالے چہروں اور نیلی آنکھوں سے پہچان لیں گے۔ اور جنت والوں کے چہرے سفید ہوں گے۔ (38) امام ابو الشیخ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اعراف والوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا میں یہ خبر دیا گیا ہوں کہ رب تیرا ان کی طرف متوجہ ہوگا۔ جنت والوں کو جنت میں اور دوزخ والوں کو دوزخ میں داخل کرنے کے بعد فرمائے گا اس جگہ پر تم کو کس نے روک رکھا ہے۔ وہ عرض کریں گے آپ ہمارے رب ہیں اور آپ نے ہم کو پیدا فرمایا اور آپ ہی ہم کو زیادہ جانتے ہیں۔ پھر وہ فرمائیں گے کس حالت پر تم دنیا سے جدا ہوئے۔ وہ کہیں گے لا الہ الا اللہ کی گواہی پر اور ان کے رب ان سے فرمائیں گے میرے علاوہ تمہارا کوئی دوست نہیں تمہاری نیکیوں نے تم کو آگ سے پار کردیا اور تمہاری خطاؤں نے تم کو جنت سے روک دیا۔ (39) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی تو وہ اعراف والوں میں سے ہوں گے۔ (40) امام ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی تو وہ اعراف والوں میں سے ہوں گے۔ (41) امام عبد بن حمید، ابو الشیخ اور بیہقی نے البعث میں مجاہد (رح) سے اعراف والوں کے بارے میں روایت فرمایا وہ ایسے لوگ ہیں جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی۔ اور وہ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک دیوار پر ہوں گے۔ اور وہ جنت میں داخل ہونے کی تمنا رکھیں گے اور اس میں داخل ہوجائیں گے۔ (42) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” لم یدخلوھا وہم یطمعون “ کے بارے میں فرمایا اور اللہ تعالیٰ اس تمنا کو ان کے دلوں میں نہیں ڈالیں گے مگر اس کرامت اور عزت کی خاطر جس کا وہ ارادہ کریں گے۔ (43) امام ابو الشیخ نے ابو عبیدہ بن محمد بن عمار (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” لم یدخلوھا وہم یطمعون “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا فرشتے ان پر سلام کریں گے اس حال میں کہ ابھی وہ داخل نہیں ہوں گے (جنت میں) مگر وہ اس کی خواہش کریں گے کہ وہ اس میں داخل ہوجائیں جب اس کو سلام کیا جائے گا۔ (44) ابن جریر اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ اعراف والے لوگوں کو پہچانیں گے ان کے چہروں سے دوزخ والوں کو ان کے کالے چہروں سے اور جنت والوں کو ان کے سفید چہروں سے جب وہ گزریں گے ایسی جماعت کے ساتھ کہ جن کو جنت کی طرف لے جایا جا رہا ہوگا تو کہیں گے تم پر سلامتی ہو۔ اور جب ایک ایسی جماعت سے گزریں گے جن کو جہنم کی طرف لے جا رہے ہوں گے تو کہیں گے اے ہمارے رب ہم کو ظالم قوم کا ساتھی نہ بنا۔ (45) امام احمد نے زہد میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ سالم ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام نے فرمایا میں اس بات کو دوست رکھتا ہوں کہ میں اعراف والوں کے مقام میں ہوں۔
Ayah 7:47

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب ان کی نظریں دوزخ والوں کی طرف پھیر دی جائیں گی تو کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں ظالم قوم کے ساتھ شامل نہ فرمائیے

(1) ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا صرفت ابصارھم تلقاء اصحب النار “ کے بارے میں فرمایا جب ان کے چہرے صرف اہل جہنم کی طرف کر دئیے جائیں گے (تو اس وقت وہ یہ دعا کریں گے) کیونکہ جب وہ جنت والوں کو دیکھیں گے تو اس وقت ان کے چہرے جہنم والوں سے پھر چکے ہوں گے۔ (2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا صرفت ابصارھم تلقاء اصحب النار “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ جہنم والوں کے چہروں کو سیاہی اور ان کی آنکھوں کے نیلے رنگ کو دیکھیں گے تو کہیں گے لفظ آیت ” قالوا ربنا لا تجعلنا مع القوم الظلمین “ (3) امام عبد بن حمید نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا صرفت ابصارھم “ کے بارے میں فرمایا کہ جب جنت والوں کی آنکھوں کو پھیرا جائے گا دوزخیوں کی طرف لفظ آیت ” قالوا ربنا لا تجعلنا مع القوم الظلمین “ (یعنی دوزخ والوں کی طرف تو کہیں گے اے ہمارے رب ہم کو اس ظالم قوم کے ساتھ نہ کرنا)
Ayahs 7:48–49

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

: اور اعراف والے بہت سے آدمیوں کو پکاریں گے جنہیں وہ ان کی نشانی سے پہچانتے ہوں گے کہ تمہارے کام نہ آئی تمہاری جماعت اور نہ تمہارا تکبر کرنا

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم نے قسم کھا کر کہا تھا کہ اللہ ان پر رحمت نہیں فرمائے گا ان کو یوں حکم ہوگیا کہ داخل ہوجاؤ جنت میں تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم رنجیدہ ہوگے۔

(1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ونادی اصحب الاعراف رجالا “ یعنی جو آگ میں ہوں گے ” ونادی اصحب الاعراف رجالا یعرفونھم بسیمھم قالوا ما اغنی علیکم جمعکم “ اور تم نے تکبر کیا ” وما کنتم تستکبرون “ کے اللہ تعالیٰ نے تکبر والوں سے فرمایا ” اھولاء الذین اقسمتم لا ینالہم اللہ برحمۃ “ کیا یہ وہی اعراب والے نہیں کہ جن کے بارے میں تم قسمیں اٹھایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے عطا نہیں کرے گا۔ ” ادخلوا الجنۃ لا خوف علیکم ولا انتم تحزنون “ (ان کو تو حکم مل گیا) کہ جنت میں داخل ہو جاؤتم پر نہ کوئی خوف اور نہ غم ہے۔ (2) امام ابن شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” یعرفونھم بسیمہم “ کے بارے میں فرمایا کہ کالے چہرے اور نیلی آنکھوں سے (ان کو پہچانیں گے) ۔ (3) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ونادی اصحب الاعراف رجالا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ جب ہوگا جب جنت والے جنت میں داخل ہوں گے۔ (4) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ونای اصحب الاعراف “ ان کے پاس سے جبر اور ظلم کرنے والے لوگ گزریں گے تو ان کو ان کے چہروں سے پہچانیں گے۔ اعراف والے ان کو آواز دیں گے لفظ آیت ” قالوا ما اغنی عنکم جمعکم وما کنتم تستکبرون (48) اھولاء الذین اقسمتم لا ینالہم اللہ برحمۃ “ یعنی وہ ضعیف لوگ ان تکبر کرنے والوں سے کہیں گے۔ (5) امام ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” اھولاء الذین اقسمتم لا ینالہم اللہ برحمۃ، ادخلوا الجنۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ اعراف والے جنت میں داخل ہوں جائیں گے۔ (6) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ادخلوا الجنۃ لا خوف علیکم ولا انتم تحزنون “ کے بارے میں فرمایا جہنم میں موجود لوگ اللہ کی قسم کھایا کرتے تھے کہ اعراف والوں کو اللہ سے رحمت نہیں پہنچے گی۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو جھوٹا قرار دیا پس سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والے یہی لوگ ہیں ان کے بارے میں ہم نے نبی ﷺ کے اصحاب سے یہی کچھ سنا ہے۔
Ayah 7:50

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 7:50 in the Quran reader

اور دوزخ والے جنت والوں کو آواز دیں گے کہ ہمارے اوپر کچھ پانی بہادو یا ان نعمتوں میں سے جو اللہ نے تمہیں دی ہیں، وہ جواب میں کہیں گے کہ بلاشبہ اللہ نے ان دونوں کو کافروں پر حرام کردیا ہے

(1) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ پوچھا گیا کونسا صدقہ افضل ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا افضل صدقہ پانی پلانا ہے۔ کیا تو نے دوزخ والوں سے یہ نہیں سنا جب وہ جنت والوں سے مدد مانگیں گے اور کہیں گے ہم پر پانی بہا دو یا ان چیزوں میں سے جو تم کو اللہ تعالیٰ نے رزق دیا ہے۔ (2) امام احمد نے سعد بن عبادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میری ماں مرگئی کیا میں اس کے لئے صدقہ کرسکتا ہوں فرمایا ہاں پھر پوچھا کون سا صدقہ افضل ہے فرمایا پانی پلانا۔ (3) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ونادی اصحب النار اصحب الجنۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ ایک آدمی اپنے بھائی کو پکارے گا اور کہے گا اے میرے بھائی میری مدد کر، بلاشبہ میں جلا دیا گیا مجھ پر پانی بہادے اسے کہا جائے گا اس کو جواب دو تو وہ کہے گا۔ لفظ آیت ” ان اللہ حرمھما علی الکفرین “ (4) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان افیضوا علینا من الماء او مما رزقکم اللہ “ یعنی کھانے میں سے ہم کو کچھ دے دو ۔ جنت کی نعمتیں کافروں پر حرام ہیں (5) امام ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ جب ابو طالب مریض ہوئے تو لوگوں نے ان سے کہا اگر تو پیغام بھیجے اپنے بھتیجے کی طرف وہ تیری طرف بھجوا دے جنت میں سے ایک خوشہ انگور کا یا کسی میوے کا شاید کہ وہ تجھ کو شفا دیدے۔ تو وہ پیغام لانے والا آیا اور ابوبکر نبی ﷺ کے پاس بیٹھے تھے تو ابوبکر ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان دونوں چیزوں (یعنی کھانا اور پانی) کو کافروں پر حرام کردیا ہے۔ (6) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ان افیضوا علینا من الماء او مما رزقکم اللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ ان سے پانی طلب کریں گے اور کھانا طلب کریں گے (تو کہا جائے گا) لفظ آیت ” ان اللہ حرمھما علی الکفرین “ یعنی اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے جنت کا کھانا اور پینا (کافروں پر) (7) امام عبد اللہ بن احمد زوائد الزھد میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں عقیل بن شھر الریاحی (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ بن عمر نے ٹھنڈا پانی پیا اور رونے لگے (جب) ان کا رونا سخت ہوا تو اس نے کہا گیا کس چیز نے آپ کو رولایا ؟ فرمایا اللہ کی کتاب میں یہ آیت مجھے یاد آئی لفظ آیت ” وحیل بینھم وبین ما یشتھون “ (السبا آیت 54) میں پہچان گیا کہ دوزخ والے نہیں چاہیں گے مگر ٹھنڈے پانی کو اللہ تعالیٰ نے فرما دیا (وہ کہیں گے) لفظ آیت ” افیضوا علینا من الماء او مما رزقکم اللہ “ (8) امام بخاری ابن مردوہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابراہیم اپنے باپ سے قیامت کے دن اس حال میں ملاقات کریں گے کہ ان کا چہرہ غبار آلودہ ہوگا تو وہ کہیں گے اے میرے رب آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ میں تجھ کو رسوا نہ کروں گا تو میرے باپ سے بڑھ کر میرے لئے اور کون سء رسوائی ہوگی کہ وہ آگ میں ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں نے جنت کو کافروں پر حرام کردیا ہے۔
Ayahs 7:51–52

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 7:51 in the Quran reader

جنہوں نے اپنے دین کو لہو ولعب بنایا اور انہیں دنیا والی زندگی نے دھوکہ دیا، سو آج ہم انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں گے جیسا کہ وہ آج کے دن کی ملاقات کو بھول گئے اور جیسا کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے تھے

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:52 in the Quran reader

اور اس میں شک نہیں کہ ہم نے انہیں ایسی کتاب دی ہے جسے علم کے مطابق کھول کر بیان کردیا جو ہدایت ہے اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔

(1) امام ابن منذر، ابن ا بی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” قالیوم ننسھم کما نسوا لقاء یومھم ھذا “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم ان کو چھوڑ دیں گے آگ میں ڈال کر جیسے کہ انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا۔ (2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کو خیر اور بھلائی سے بھول جائیں گے اور شریعی تکلیف اور عذاب سے نہیں بھولیں گے۔ (3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فالیوم ننسھم “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم ان کو آگ میں بہت پیچھے دھکیل دیں گے۔ (4) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فالیوم ننسھم “ یعنی ہم ان کو دور ہٹالیں گے رحمت سے لفظ آیت ” کما نسوا لقاء یومھم ھذا “ جیسا کہ انہوں نے اس دن کی ملاقات کے لئے عمل کرنا چھوڑ دیا تھا۔ (5) امام ابن ابی حاتم نے یزید بن ابی مالک (رح) سے روایت کیا کہ جہنم میں کنویں ہیں۔ جو شخص اس میں ڈال دیا گیا گویا وہ بلا دیا گیا اس میں ستر سال تک گرتا رہے گا اس کی جائے قراتر تک پہنچنے سے پہلے۔
Ayah 7:53

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 7:53 in the Quran reader

یہ لوگ بس اس انتظار میں ہیں کہ اس کا انجام ان کے سامنے آجائے۔ جس دن اس کا انجام سامنے آئے گا تو وہ لوگ کہیں گے جو اس کو پہلے بھول گئے تھے کہ ہمارے رب کے پیغمبر حق لے کر آئے سو کیا ہمارے سفارش کرنے والے ہیں جو ہمارے لئے سفارش کریں یا ہم واپس لوٹا دئیے جائیں سو ہم اس عمل کے علاوہ عمل کریں جو کیا کرتے تھے، ان لوگوں نے اپنی جانوں کو تباہی میں ڈالا اور جو کچھ افتراء پردازی کیا کرتے تھے وہ سب بےکار چلی گئی

(1) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ہل ینظرون الا تاویلہ “ سے مراد ہے اس کا انجام۔ (2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن منذر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یوم یاتی تاویلہ “ یعنی اس کی جزا ” یقول الذین نسوہ من قبل “ یعنی انہوں نے اس سے اعراض کیا تھا۔ (3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” یوم یاتی تاویلہ “ کے بارے میں فرمایا کہ یوم سے مراد ہے قیامت کا دن۔ (4) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” یوم یاتی تاویلہ “ کے بارے میں فرمایا کہ تاویل سے مراد ہے انجام مثلا بدر کا واقعہ قیامت اور دوسرے وہ وعدے جو ان سے کئے گئے ہیں۔ (5) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ برابر اس کے انجام میں سے کچھ ظاہر ہوتا رہے گا یہاں تک کہ اس کا انجام قیامت کے دن پورا ہوگا جب جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہوں گے تو اس دن اس کا انجام پورا ہوگا۔ اسی بارے میں نازل ہوا۔ لفظ آیت ” یوم یاتی تاویلہ “ یعنی جب اللہ تعالیٰ بدلہ دیں گے اپنے دوستوں کو اور اپنے دشمنوں کو ان کے اعمال کا بدلہ تو اس دن فرمائیں گے لفظ آیت ” الذین نسوہ من قبل قد جاءت رسل ربنا بالحق “ آیت کے آخر تک۔ (6) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یوم یاتی تاویلہ “ یعنی اس کی حقیقت ظاہر ہوگئی انہوں نے اور بطور تصدیق یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” یقول الذین نسوہ من قبل “ اور فرمایا یہ اس کی تحقیق ہے اور (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت ” وما یعلم تاویلہ الا اللہ “ (العمران آیت 7) یعنی اس کی حقیقت کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (7) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وضل عنھم ما کانوا یفترون “ کے بارے میں فرمایا کہ جو کچھ وہ دنیا میں جھوٹ بولا کرتے تھے (وہ سب کچھ ان سے گم ہوگیا) (8) امام ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ما کانوا یفترون “ کے بارے میں فرمایا کہ جو کچھ وہ شرک کیا کرتے تھے۔
Ayahs 7:54–56

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

: بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ دن میں پیدا فرمایا۔ پھر عرش پر استوار فرمایا، ڈھانپ دیتا ہے رات سے رن کو رات اسے طلب کرلیتی ہے جلدی سے، اور پیدا فرمایا چاند کو اور سورج کو اور ستاروں کو اس حال میں کہ اس کے حکم سے وہ مسخر ہیں خبردار ! پیدا فرمانا اور حکم دینا اللہ کے لیے خاص ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

تم اپنے رب کو پکارو عاجزی کے ساتھ اور چپکے چپکے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کو ناپسند فرماتا ہے جو حد سے آگے بڑھنے والے ہیں

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور فساد نہ کرو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد، اور پکارو اپنے رب کو ڈرتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے۔ بیشک اللہ کی رحمت اچھے کام کرنے والوں سے قریب ہے

(1) امام ابو الشیخ نے سمیط (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو ہمارے رب تبارک و تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی ذات کے بارے میں بتایا یعنی لفظ آیت ” ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض “ الآیہ۔ (2) امام ابن ابی الدنیا نے کتاب الدعاء میں اور خطیب نے تاریخ میں حسن بن علی (رح) سے روایت کیا کہ میں ضامن ہوں اس شخص کے لئے جو یہ بیس آیتیں پڑھے کہ اللہ تعالیٰ اس کو بچائیں گے ہر ظالم بادشاہ سے ہر سرکش شیطان سے ہر تکلیف دینے والے درندے سے اور ہر عادی چور سے آیۃ الکرسی تین آیات ( سورة ) اعراف میں سے۔ یعنی لفظ آیت ” ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض “ اور دس آیات (سورۃ) الصافات کے اول سے اور تین آیات ( سورة ) الرحمن میں سے یعنی ” یامعشر الجن “ (اور) سورة الحشر کی آخری آیات۔ (3) ابن ابی حاتم نے سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض فی ستۃ ایام “ نازل ہوئی گھوڑ سواروں کی ایک بڑی جماعت میں وہ عرب کے رہنے والے نہیں دکھائی دیتے تھے۔ انہوں نے ان سے کہا تم کون ہو ؟ تو انہوں نے بتایا کہ جنات میں سے ہم اس شہر سے نکلے ہیں ہم کو اس آیت نے نکالا ہے۔ (4) امام ابو الشیخ نے عبید بن ابی مرزوق (رح) سے روایت کیا کہ جو شخص اپنی نیند کے وقت (یہ آیت) لفظ آیت ” ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض “ پڑھے تو اس پر ایک فرشتہ اپنے پروں کو پھیلا دیتا ہے۔ یہاں تک کہ صبح ہوجاتی ہے اور چوری سے محفوظ رہتا ہے۔ ایک دن ایک رات کا سجدہ (5) امام ابو الشیخ نے محمد بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن عبد العزیز کے ساتھی تھے۔ اہل مدینہ میں سے ایک آدمی بیمار ہوا تو اس کے ساتھیوں میں سے ایک جماعت اس کے پاس آئی اور اس کے لئے دعا اور جھاڑ پھونک کرنے لگے ان میں سے ایک آدمی نے لفظ آیت ” ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض “ پوری آیت پڑھی۔ وہ آدمی خاموش ہوا تو مریض نے حرکت کی اور اٹھ کر بیٹھ گیا پھر اس نے اس دن اور اس رات میں سجدہ کیا یہاں تک کہ جب اگلے دن وہی وقت ہوا جس میں اس نے سجدہ کیا تھا تو اس کے گھر والوں نے اس سے کہا سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے تجھ کو عافیت دی (یہ سن کر) اس نے کہا میری طرف بھیجا گیا تھا تاکہ وہ اس کو فوت کرے جب تمہارے ساتھی نے وہ آیات پڑھیں تو فرشتے نے سجدہ کیا اور میں نے بھی اس کے سجدوں کے ساتھ سجدہ کیا پس اس وقت اس نے اب اپنے سر کو اٹھایا ہے پھر وہ جھکایا اور مرگیا۔ (6) امام ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” خلق السموت والارض فی ستۃ ایام “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا ان میں سے ہر دن علیحدہ علیحدہ نام ہے ابو جاد، ھواز، حطی، کلمون، صعفص اور قرشات۔ (7) امام سمویہ نے فوائد میں زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ اللہ جل شانہ نے آسمان اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا اور فرمایا ہر دن کی مقدار ہزار سال تھی۔ (8) امام سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ مخلوق کی ابتداء عرش پانی اور ہوا سے ہوئی اور زمین کو پانی سے پیدا فرمایا اور تخلیق کی ابتداء اتوار سے کی گئی۔ پھر پیر کے دن، منگل کے دن، بدھ کے دن اور خمس کے دن اور جمعۃ المبارک کے دن تخلیق کا عمل مکمل ہوگیا اور ہفتے کے دن یہودی یہودی بنے اور ان چھ دنوں میں ہر دن موجود دونوں کے اعتبار سے ہزار برس کے برابر تھا۔ (9) امام ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اتوار کے دن پھر عرش پر قرار پکڑا جمعہ کے دن تین ساعات میں۔ اور اس میں سے ایک ساعت میں عداوت پیدا فرمائی تاکہ لوگ رغبت کرتے رہیں اپنے رب کی طرف دعا میں اور سوال میں اور ایک ساعت میں بدبو کو پیدا فرمایا جو ابن آدم پر ظاہر ہوتی ہے تاکہ جب وہ مرے تو اس کے لئے قبر بنائی جائے۔ (10) امام بیہقی نے الاسماء والصفات میں حیان الاعرج (رح) سے روایت کیا ہے کہ یزید بن ابی مسلم نے جابر بن زید کی طرف لکھا کہ مخلوق کی ابتداء کس سے ہوئی انہوں نے فرمایا عرش پانی اور قلم سے واللہ اعلم اس میں کونسی پہلے پیدا کی اللہ ہی بہتر جانتے ہیں۔ (11) امام ابن ابی شیبہ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو اتوار کے دن پیدا کرنا شروع فرمایا پھر پیر منگل بدھ خمس اور جمعہ کے دن یہ سلسلہ جاری رہا اور ہر دن کو ہزار سال کا بنا دیا۔ (12) امام ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا ابوہریرہ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دنوں میں پیدا فرمایا پھر اپنی شان کے مطابق عرش پر متمکن ہوئے پھر مٹی کو ہفتہ کے دن پیدا فرمایا اور پہاڑوں کو اتوار کے دن اور درختوں کو پیر کے دن اور آدم کو منگل کے دن اور نور کو بدھ کے دن اور جمعرات کے دن چوپائے اور دیگر جانور اور آدم کو جمعہ کے دن، دن کے آخری ساعت میں تخلیق فرمایا۔ (13) امام ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ثم استوی علی العرش “ سے مراد ہے ساتویں دن اپنی شان قدرت کے مطابق عرش پر متمکن ہوا۔ (14) امام ابن ابی حاتم نے کعب احبار ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو پیدا فرمایا تو عرش پر متمکن ہوئے اور عرش نے اس کی تسبیح بیان کی۔ (15) امام ابن مردویہ اور الالکائی نے السنۃ میں ام سلمہ ام المومنین ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” شم استوی علی العرش “ کے بارے میں فرمایا کہ کیفیت سمجھ میں آنے والی نہیں ہے اور استواء غیر مجہول ہے اور اس کا اقرار کرنا ایمان ہے۔ اور اس کا انکار کرنا کفر ہے۔ (16) امام الالکائی نے ابن عینیہ (رح) سے روایت کیا کہ ربیعہ (رح) سے لفظ آیت ” ثم استوی علی العرش “ کے بارے میں پوچھا گیا کہ استوی کس طرح ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ استواء غیر مجہول ہے۔ اور کیفیت سمجھ میں آنے والی نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچانا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ پر لوگوں تک پہچانا لازم ہے اور ہم پر تصدیق کرنا واجب ہے۔ (17) امام الالکائی نے جعفر بن عبد اللہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی مالک بن انس کی طرف آیا اور اس نے کہا اے ابو عبد اللہ ” ثم استوی “ کس طرح ہے ؟ اس نے کہا میں نے مالک کبھی اس حال میں نہیں دیکھا کہ انہوں نے اپنے کلام میں اپنی ایجاد کی طرح کی کوئی چیز پائی اور ان پر پسینہ قوم نے سرجھکا لئے راوی نے کہا جب مالک سے یہ کیفیت دور ہوئی تو فرمایا کیفیت سمجھ میں آنے والی نہیں ہے۔ اور اس سے استوا غیر مجہول ہے۔ اور اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے اور میں ڈرتا ہوں کہ تو گمراہ ہوجائے۔ آپ نے اسے یہ بتایا اور وہاں سے نکال دیا۔ (18) امام بیہقی نے عبد اللہ بن وھب (رح) سے روایت کیا کہ ہم مالک بن انس کے پاس تھے۔ ایک آدمی داخل ہوا اور اس نے کہا اے ابو عبید اللہ لفظ آیت ” الرحمن علی العرش استوی “ میں اس کا استواء کس طرح ہے ؟ (یہ سن کر) مالک خاموش ہوگئے اور پسینہ پسینہ ہوگئے۔ پھر اپنا سر اٹھایا اور فرمایا لفظ آیت ” الرحمن علی العرش استوی “ کہ رحمن عرش پر متمکن ہوا جیسا کہ اس کی ذات کو زیبا ہے۔ اس کی کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی اس سے کیف اٹھا لیا گیا اور تو بڑا بدعتی آدمی ہے۔ (پھر فرمایا) اس کو نکال دو ۔ راوی نے کہا کہ اس کو وہاں سے نکال دیا گیا۔ (19) امام بیہقی نے احمد بن ابو الحواری (رح) سے روایت کیا کہ میں نے سفیان بن عینیہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جب بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنی ذات کے بارے میں کوئی صفت بیان فرمائی تو اس کی تفسیر اس کی تلاوت ہے اور اس پر خاموش رہنا ہے۔ (20) امام بیہقی نے اسحاق بن موسیٰ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عینیہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں جو وصف بیان کیا ہے تو اس کی تفسیر اس کی قرات ہے کسی کے یہ لائق نہیں کہ اس کی تفسیر کرے مگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول علیہم السلام۔ پوری زندگی سجدہ میں گزارنے کا ذکر (21) امام عبد بن حمید نے ابو عیسیٰ (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ عرش پر متمکن ہوئے تو ایک فرشتہ سجدہ میں گرپڑا اور وہ قیامت قائم ہونے تک سجدہ میں پڑا رہے گا۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو اپنا سر اٹھائے گا اور کہے گا تیری ذات پاک ہے میں تیری عبادت کا حق ادا نہیں کرسکا مگر یہ کہ میں نے کسی چیز کو تیرے ساتھ شریک نہیں بنایا۔ اور نہ تیرے سوا کسی کو ولی بنایا۔ (22) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” یغشی الیل النھار “ کے بارے میں فرمایا کہ رات سے دن کو ڈھانکتا ہے۔ اور دن اپنی روشنی سمیٹ لیتا ہے۔ اور اس کو بڑی تیزی کے ساتھ طلب کرتا ہے کہ یہاں تک کہ اس کو پالیتا ہے۔ (23) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” حثیثا “ سے مراد ہے جلدی سے۔ (24) امام ابن ابی حاتم نے قتادۃ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دن کو رات کا لباس پہنا دیتا ہے۔ (25) امام طبرانی نے الاوسط میں ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چاند سورج اور ستارے عرش کے نور سے پیدا کئے گئے۔ (26) امام ابن ابی حاتم نے سفیان بن عینیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” الا لہ الخلق والامر “ کے بارے میں فرمایا ” الخلق “ سے مراد پیدا کرنا ” والامر “ سے مراد ہے کلام کرنا۔ (27) امام ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں سفیان بن عینیہ (رح) سے روایت کیا کہ ” الخلق “ سے مراد ہے مخلوق اور ” والامر “ سے کلام مراد ہے۔ (28) امام ابن جریر نے عبد العزیز شامی سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں جو صحابی تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کی تعریف نہیں کرتا اس نیک عمل پر جو اس نے کیا۔ اور اپنی تعریف کرتا ہے تو اس نے کفر کیا اور ضایع کردیا جو اس نے عمل کیا۔ اور جس شخص نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے امر میں سے کچھ بندوں کے لئے بھی مقرر کیا ہے تو اس نے انکار کیا اس بات کا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء پر نازل فرمائی (یعنی) لفظ آیت ” الا لہ الخلق والامر، تبرک اللہ رب العالمین “ (خبر دار اسی کے لئے ہے پیدا کرنا اور حکم دینا) (29) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ادعوا ربکم تضرعا وخفیۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ چپکے چپکے (اپنے رب کو پکارو) پھر فرمایا لفظ آیت ” انہ لا یحب المعتدین “ (یعنی اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتے حد سے زیادہ بڑھنے والوں کو) دعا میں اور اس کے علاوہ میں۔ (30) امام ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” تضرعا “ سے مراد ہے علانیہ اور ” الخفیہ “ سے مراد ہے چپکے سے دعا کرنا (31) امام ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ادعوا ربکم تضرعا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے عاجزی کرتے ہوئے ” وخفیۃ “ یعنی آہستہ آواز سے اور سکون سے اپنی دنیوی اور اخروی حاجات کے بارے میں اپنے رب سے دعا کرو لفظ آیت ” انہ لا یحب المعتدین “ یعنی مومن مرد اور مومن عورت کے لئے برائی کی دعا نہ کرو (جیسے) اے اللہ اس کو رسوا کرے یا اس پر لعنت کرے اور اس طرح کے اور الفاظ کے ساتھ کیونکہ یہ عداوت اور دشمنی کی علامت ہے۔ (32) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” انہ لا یحب المعتدین “ کے بارے میں فرمایا کہ انبیاء کے منازل اور مراتب (پر پہنچنے) کی دعا نہ کرو۔ (33) امام ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ دیکھا گیا کہ اونچی آواز سے دعا کرنا حد سے بڑھنا ہے۔ (34) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض “ سے لے کر ” تبرک اللہ رب العالمین “ تک اس سے مراد ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنی قدرت اپنی عظمت اور اپنے جلال کی خبر دیدی اور تمہارے لئے بیان فرما دیا کہ کس طرح تم اس سے دعا مانگو کہ وہ اس کے غصے اور ناراضگی کا سبب نہ بنے اور فرمایا لفظ آیت ” ادعوا ربکم تضرعا وخفیۃ، انہ لا یحب المعتدین “ فرمایا تم جان لو کہ بعض دعاؤں میں حد سے تجاوز کرنا ہے۔ پس بچو تم ظلم سے اور حد سے تجاوز کرنے سے اگر تم طاقت رکھتے ہو۔ اور طاقت نہیں ہے مگر اللہ کی مدد کے ساتھ راوی نے کہا اور ہم کو ذکر کیا گیا کہ مجالد بن مسعود بنو سلیم کے بھائی نے ایک قوم کے بارے میں سنا کہ وہ اپنی دعا میں چلاتے ہیں تو وہ اس کی طرف گئے اور فرمایا اے قوم ! البتہ تحقیق تم نے فضیلت پائی ہے ان لوگوں پر جو تم سے پہلے تھے۔ یا البتہ تحقیق تم ہلاک ہوگئے تو (یہ بات سن کر) ایک آدمی نے (وہاں سے) کھسکنا شروع کیا یہاں تک کہ انہوں نے اپنی جگہ کو چھوڑ دیا جس میں وہ تھے۔ راوی نے کہا اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ ابن عمر ایک قوم کے پاس لائے جو اپنے ہاتھوں کو اوپر اٹھائے ہوئے تھے تو (ان کو دیکھ کر) فرمایا اس قوم نے کس چیز کا ارادہ کیا ہے ؟ اللہ کی قسم اگر یہ لوگ زمین میں پہاڑ سے بھی بڑھ کر لمبے ہوجائیں تو یہ اضافہ نہ کرسکتے اللہ تعالیٰ کے قرب میں قتادہ (رح) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے اس کی اطاعت سے پس جو کوئی تم میں سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے والا ہو تو اس کو چاہئے کہ اس میں اطمینان اور وقار ہو اس میں خاموشی سے لباس اور ہدایت بھی ہو اور راحت اور آسانی بھی ہو۔ (35) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابو داؤد، ابن ماجہ، ابن حبان، حاکم اور بیہقی نے عبد اللہ بن مقفل (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو سنا کہ وہ کہہ رہا تھا اے اللہ میں آپ سے جنت کے دائیں طرف سفید محل کا سوال کرتا ہوں۔ جب میں جنت میں داخ (رح) ہوجاؤں انہوں نے فرمایا اے میرے بیٹے اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کر اور دوزخ سے پناہ مانگ۔ کیونکہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا عنقریب اس مات میں ایک ایسی قوم آئے گی جو حد سے تجاوز کرے گی دعا میں اور طہور (یعنی پاکیزگی حاصل کرنے) میں۔ دعاء کے الفاظ میں مبالغہ کی ممانعت (36) امام طیالسی، ابن ابی شیبہ، احمد، ابو داؤد، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو سنا کہ وہ دعا کر رہا تھا۔ اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں جنت کا اور اس کی نعمتوں کا اور اس کی دیگر رونقوں اور خوبیوں کا اور میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں دوزخ سے اس کی زنجیروں سے اور ہتھکڑیوں سے۔ تو انہوں نے فرمایا تو نے اللہ تعالیٰ سے خیر کا سوال کیا اور تو نے کثیر شر سے پناہ مانگی۔ اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ عنقریب ایک قوم ہوگی جو دعا میں تجاوز کرے گی پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” ادعوا ربکم تضرعا وخفیۃ، انہ لا تحب المعتدین “ اور تجھ کو کافی ہے کہ تو یوں پڑھے اے اللہ میں آپ سے جنت کا سوال کرتا ہوں۔ اور جو اس کے قریب کر دے قول سے اور عمل سے اور میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں دوزخ سے اور جو اس کے قریب کر دے قول سے اور عمل سے۔ (37) امام ابو الشیخ نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا بچو تم اپنے رب سے ایسا سوال کرنے سے کہ جس سے منع کیا گیا یا جو میرے لئے لائق نہیں۔ (38) امام ابن مبارک، ابن جریر اور ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ مسلمان خوب کوشش کرتے تھے دعا کرنے میں اور اگر ان کی آواز ہوتی تو وہ سنائی نہ دیتی تھی مگر صرف اتنی کہ گویا ان کے اور ان کے درمیان ایک سرگوشی ہے۔ اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” ادعوا ربکم تضرعا وخفیۃ “ اور یہ اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کا ذکر فرمایا اور اس کے قول کو پسند کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” اذ نادی ربہ نداء خفیا “۔ (39) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے ابن جریج سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ دعا میں حد سے تجاوز کرنا یہ ہے کہ آواز کا بلند کرنا اور چیخ و پکار کرکے دعا کرنا ناپسندیدہ اور مکروہ ہے۔ اور حکم دیا گیا دعا میں عجزو انکساری کا اور اطمینان اور وقار کا۔