7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 7:180

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور اللہ کے لئے اچھے نام ہیں سو تم اسے ان ناموں سے پکارو، اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں کج روی اختیار کرتے ہیں عنقریب ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے

اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی (1) امام بخاری، مسلم، احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ، ابو عوانہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن حبان، طبرانی، ابو عبد اللہ بن منذر نے التوحید میں ابن مردویہ، ابو نعیم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو جو شخص ان کو شمار کرے گا جنت میں داخل ہوگا بیشک وہ ذات طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتی ہے۔ (2) امام ابو نعیم اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول الہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے سو نام ہیں سوائے ایک نام کے جو شخص ان کے ذریعہ دعا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرمائیں گے۔ (3) امام دار قطنی نے غرائب میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے ننانوے نام ہیں جو شخص ان کو پڑھتا رہا جنت میں داخل ہوگا۔ (4) ابن مردویہ اور ابو نعیم نے ابن عباس ؓ و ابن عمر ؓ دونوں حضرات سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو ہیں، جو شخص ان کو پڑھتا رہا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (5) امام ترمذی، ابن مندر، ابن حبان، ابن منذر طبرانی، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں (یعنی) ایک کم سو ہیں جس نے ان کو پڑھا وہ جنت میں داخل ہوگا بلاشبہ وہ زات طاق عدد ہے اور طاق عدد کو پسند فرماتا ہے۔ (اللہ تعالیٰ کے نام یہ ہیں) ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم۔ وہی اللہ ہے نہیں ہے کوئی معبود بہت مہربان اور نہایت رحمن کرنے والا ہے ٹیبل بنا لیں (6) امام ابن ابی الدنیا نے دعا میں طبرانی اور ابو الشیخ، حاکم، ابن مردویہ، ابو نعیم اور بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، جو شخص ان کو شمار کرے گا جنت میں داخل ہوگا میں سوال کرتا ہوں اللہ تعالیٰ سے جو رحمن ہے (بڑا مہربان) رحیم ہے (نہایت رحم والا) الہ ہے (معبود) رب ہے (پالنے والا) ملک ہے (بادشاہ) قدوس ہے (سب عیبوں سے پاک) سلام ہے (سلامتی والا) مومن ہے (امن دینے والا) مھیمن ہے (حفاظت والا) عزیز ہے (غلبہ والا) جبار ہے (دریش والا) متکبر ہے (بڑائی والا) خالق ہے (پیدا کرنے والا) باری ہے (ٹھیک بنانے والا) مصور ہے (صورت بنانے والا) حلیم ہے (بردبار) علیم ہے (بہت علم والا) سمیع ہے (بہت سننے والا) بصیر ہے (بہت دیکھنے والا) حی ہے (زندہ) قیوم ہے (قائم رکھنے والا) واسع ہے (گنجائش والا) لطیف ہے (پوشیدہ چیز کا جاننے والا) خبیر ہے (خبر رکھنے والا) حنان ہے (انتہائی مہربان) منان ہے (بہت احسان کرنے والا) بدیع ہے (ایجاد کرنے والا) غفور ہے (بخشنے والا) ودود ہے (محبت والا) شکور ہے (قدردان) مجید ہے (بزرگی والا) مبدی ہے (ابتداء پیدا کرنے والا) معید ہے (دوبارہ پیدا کرنے والا) نور ہے (حق کا ظہور) بادی ہے (شروع کرنے والا) اور دوسرے لفظ میں یوں ہے۔ قائم (قائم رکھنے والا) اول ہے (سب سے پہلے) آخر ہے (سب سے پچھلا) ظاہر ہے (صفات سے کھلا ہوا) باطن ہے (ذات سے چھپا ہوا) عفو ہے (بہت معاف کرنے والا) غفار ہے (بڑے گناہ بخشنے والا) وھاب ہے (بلا عوض دینے والا) فرد ہے (اکیلا) اور دوسرے لفظ میں یوں ہے قادر (قدرت والا) أحد (یکتا) صمد ہے (سب کا مقصود) وکیل ہے (کارساز) کافی ہے (کافی ہونے والا) باقی ہے (باقی رہنے والا) مغیث ہے (مدد کرنے والا) دائم ہے (ہمیشہ رہنے والا) متعالی ہے (بہت برتر) ذوالجلال والاکرام ہے (جلال اور اکرام والا) مولی ہے (مالک) نصیر ہے (مدد کرنے والا) حق ہے (سچا) مبین ہے (ظاہر کرنے والا) وارث ہے (سب کا وارث) منیر ہے (روشن) باعث ہے (پہنچنے والا) قدیر ہے (قدرت رکھنے والا) اور دوسرے الفاظ میں یوں ہے مجیب ہے (دعا قبول کرنے والا) محی ہے (زندہ کرنے والا) ممیث ہے (موت دینے والا) حمید ہے (تعریف کیا ہوا) اور دوسرے الفاظ میں یوں ہے جمیل (خوبصورت) صادق ہے (سچ بولنے والا) حفیظ ہے (حفاظت کرنے والا) محیط ہے (احاطہ کرنے والا) کبیر ہے (سب سے بڑا) قریب ہے (قریب) رقیب (نگہبان) فتاح ہے (رحمت کے دروازے کھولنے والا) تو اب ہے (رحمت سے متوجہ ہونے والا) قدیم ہے (سب سے پرانا) وتر (بےمثل) فاطر ہے (پیدا کرنے والا) رازق ہے (رزق دینے والا) علام ہے (بہت جاننے والا) علی ہے (سب سے برتر) عظیم ہے (بڑی عظمت و برکت والا) غنی ہے (خود غنی) ملیک ہے (مالک) مقتدر ہے (قدر ظاہر کرنے والا) اکرم ہے (بہت عزت والا) رؤف ہے (بہت مہربان) مدبر ہے (تدبیر کرنے والا) مالک ہے (مالک) قاہر ہے (زبردست) حادی ہے (ہدایت دینے والا) شاکر ہے (قدردانی کرنے والا) کریم ہے (کرم کرنے والا) رفیع ہے (بلند مرتبہ) شہید ہے (گواہ) واحد ہے (ایک) ذوالطول ہے (وسعت وال) ذوالمعارج ہے (سیڑھیوں والا) ذوالفضل ہے (فضل والا) کفیل ہے (ذمہ دار) جلیل ہے (بڑا بزرگ) (7) امام ابو نعیم نے ابن عباس و ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جس کسی نے ان کو پڑھا وہ جنت میں داخل ہوگا اور یہ قرآن میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ننانوے اسماء گرامی (8) امام ابو نعیم نے محمد بن جعفر (رح) سے روایت کی ہے کہ میں نے ابو جعفر بن محمد بن صادق ؓ سے ان ننانوے ناموں کے بارے میں پوچھا کہ ان کو جس نے پڑھا وہ جنت میں داخل ہوگا ؟ تو انہوں نے فرمایا یہ قرآن مجید میں ہیں سورة فاتحہ میں پانچ نام ہیں۔ یا اللہ (اے اللہ) یا رب (اے پالنے والے) یا رحمن (بڑے مہربان) یا رحیم (نہایت رحم والا) یا مالک (اے مالک) ۔ اور سورة البقرہ میں تینتیس نام ہیں : یا محیط (اے احاطہ کرنے والے) یا قدیر (اے قدرت رکھنے والے) یا علیم (اے جاننے والے) یا حکیم (اے حکمت والے) یا علی (اے سب سے برتر) یا عظیم (اے بڑی عظمت والے) یا تواب (اے رحم سے متوجہ ہونے والے) یا بصیر (اسے دیکھنے والے) یا ولی (اے وعدہ کرنے والے) یا واسع (اے گنجائش والے) یا کافی (اے کافی ہونے والے) یارؤف (اے بہت مہربانی کرنے والے) یا بدیع (اے ایجاد کرنے والے) یا شاکر (اے قدردانی کرنے والے) یا واحد (اے یکتا صفات والے) یا سمیع (اے بہت سننے والے) یا قابض (اے سمیٹنے والے) یا باسط (اے پھیلانے والے) یاحی (اے ہمیشہ زندہ رہنے والے) یا قیوم (اے قائم رہنے والے) یا غنی (اے بےپرواہ) یا حمید (اے تعریف کہنے والے) یا غفور (اے بخشنے والے) یا حلیم (اے بردبار) یا الہ (اے معبود) یا قریب (اے قریب ہونے والے) یا مجیب (اے جواب دینے والے) یا عزیز (غالب قوت والے) یا نصیر (اے مدد کرنے والے) یا قوی (اے قوت والے) یا شدید (اے سخت عذاب والے) یا سریع (اے جلدی کرنے والے) یاخبیر (اے جاننے والے) ۔ اور آل عمران میں (یہ ہیں) : یا وھاب (اے بلاعوض دینے والے) یا قائم (اے قائم رکھنے والے) یا صادق (اے سچ بولنے والے) یا باعث (مردوں کو زندہ کرنے والے) یا منعم (اے انعام دینے والے) یا متفضل (اے فضیلت دینے والے) اور سورة نساء میں (یہ ہیں) یا رقیب (اے نگہبان کرنے والے) یا حسیب (اے حساب لینے والے) یا شہید (اے گواہی دینے والے) یا مقیت (اے روزی پہچانے والے) یا وکیل (اے نگہبانی کرنے والے) یا علی (اے سب سے برتر ذات) یا کبیر (اے سب سے بڑے) اور سورة انعام میں (یہ ہیں) یا فاطر (اے وجود میں لانے والے) یا قاھر (اے قوت والے) یا لطیف (اے پوشیدہ کو جاننے والے) یابرھان (اے دلیل والے) اور سورة اعراف میں (یہ ہیں) یا محی (اے زندہ کرنے والے) یا ممیت (اے موت دینے والے) اور سورة انفال میں (یہ ہیں) یا نعم المولی (اے بہترین کارساز) یانعم النصیر (اے بہترین مدد کرنے والے) اور سورة ھود میں (یہ ہیں) یا حفیظ (اے بہت حفاظت کرنے والے) یا مجید (اے بزرگی والے) یا ودود (اے محبت والے) یا فعال لما یرید (اے وہ کام کرنے والے جس کا ارادہ کریں) اور سورة الرعد میں (یہ ہیں) یا کبیر (اے سب سے بڑی ذات) یا متعال (اے بہت برتر ذات) اور سورة ابراہیم میں (یہ ہیں) یا منان (اے بہت احسان کرنے والے) یا وارث (اے سب کے وارث) اور سورة الحجر میں (یہ ہیں) یا خلاق (اے بہت پیدا کرنے والے) اور سورة مریم میں (یہ ہیں) یا فرد (اے اکیلی ذات) اور سورة طہ میں ہے یا غفار (اے بہر بخشنے والا) اور سورة قد افلح میں یہ ہے یا کریم (اے کرم کرنے والے) اور سورة نور میں یہ ہے یا حق (اے سچی ذات) یا مبین (اے ظاہر کرنے والے) اور سورة فرقان میں یہ ہے : یا ھادی (اے ہدایت کرنے والے) اور سورة سبا میں ہے یا فتاح (اے بہت فیصلہ کرنے والے) اور سورة زمر میں ہے یا عالم اور سورة غافر میں ہیں یا غافر (اے معاف کرنے والے) یا قابل التوبۃ (اے توبہ قبول کرنے والے) یا ذوالطول (اے وسعت والے) یا رفیع (اے بلند مرتبے والے) اور سورة ذاریات میں (یہ ہیں) یا رزاق (اے رزق دینے والے) یا ذوالقوۃ (اے قوت والے) یا متین (اے مضبوطی والے) اور سورة طور میں ہے بابر (اے احسان کرنے والے) اور سورة اقتربت (القمر) میں ہے یا ملیک (اے بڑے بادشاہ) یا مقتدر (اے ہر طرح کی قدرت والے) اور سورة رحمن میں ہے یا ذوالجلال والاکرام (اے جلال اور اکرام والے) یا رب المشرقین (اے مشرقوں کے رب) یا رب المغربین (اے مغربوں کے رب) یا باقی (اے باقی رہنے والے) یا مھیمن (اے حفاظت کرنے والے) اور سورة حدید میں ہے یا اول (اے سب سے پہلے) یا آخر (اے سب سے آخر) یا ظاہر (اے ظاہر ہونے والے) یا باطن (اے چھپے ہوئے) اور سورة حشر میں ہے یا مالک (اے مالک) یا قدوس (اے سب عیبوں کے مالک) یا سلام (اے ہر آفت سے سلامت) یا مومن (اے امن دینے والے) یا مھیمن (اے حفاظت کرنے والے) یا عزیز (اے غلبہ والے) یا جبار (اے دوستی کرنے والے) یا متکبر (اے بڑائی والے) یا خالق (اے پیدا کرنے والے) یا باری (اے ٹھیک بنانے والے) یا مصور (اے صورت بنانے والے) اور سورة بروج میں ہے یا مبدی (اے ابتداء کرنے والے) یا معید (اے دوبارہ پیدا کرنے والے) اور سورة فجر میں ہے یا وتر (اے طاق ذات) اور سورة اخلاص میں ہے یا احد (اے اکیلی ذات) یا صمد (اے بےنیاز ذات) (9) امام بیہقی نے الاسماء والصفات میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کو کوئی فکر اور غم پہنچ جائے تو اس کو چاہئے کہ یہ دعا پڑھے۔ اللہم انی عبدک وابن عبدک وابن امتک ناصیتی فی یدک ماض فی حکمک، عدل فی قضائک أسألک بکل اسم ھولک سمیت بہ نفسک او انزلتہ فی کتابک او علمتہ احد من خلقک او استاثرت بہ فی علم الغیب عندک ان تجعل القرآن العظیم ربیع قلبی ونور بصری وذھاب ہمی وجلاء حزنی ترجمہ : اے اللہ بیشک میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں اور تیری باندی کا بیٹا ہوں میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے یہ میرے بارے میں تیرا حکم نافذ ہونے والا ہے اور تیرے فیصلے میں انصاف ہے میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ہر اس نام کے ساتھ جو تیرے لئے ہے کہ جس کے ذریعہ جو اپنی ذات کا نام لکھا ہے یا اس کو اپنی کتاب میں نازل کیا ہے یا اس کو تیری مخلوق میں سے کسی نے جانا ہو یا اس کو خاص کرلیا تو نے اس کے ذریعہ اس غیب کے علم میں جو آپ کے پاس ہو کہ تو اس قرآن عظیم کو میرے دل کے لئے خوشگواری کا ذریعہ بنا دے اور میری آنکھوں کا نور بنا دے اور میرے فکر کے دور کرنے کا اور میرے رنج کے دور کرنے کا ذریعہ بنا دے۔ غم و پریشانی سے نجات کا نسخہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی پریشان حال اور غم زدہ آدمی ان (کلمات) کو کہے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے غم اور پریشانی کو دور کردیں گے اور اس کے غم کو خوشی میں بدل دیں گے صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم ان کلمات کو سیکھ لیں آپ نے فرمایا ہاں کیوں نہیں تم خود بھی ان کو سیکھو اور دوسرے کو سکھاؤ۔ (10) امام بیہقی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے اللہ تعالیٰ کا وہ نام سکھائیے کہ جس کے ذریعہ میں دعا کروں تو قبول ہوجائے آپ ﷺ نے ان سے فرمایا تو کھڑی ہوجا اور وضو کرکے مسجد میں ہوجا اور دو رکعت نماز پڑھ پھر دعا کر یہاں تک کہ میں سن لوں میں نے ایسا ہی کیا جب میں دعا کے لئے بیٹھی تو نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ اسے توفیق عطا فرما تو حضرت عائشہ ؓ نے اس طرح دعا کی۔ اللہم انی اسئلک بجمیع اسمائک الحسنی کلہا ما علمنا فیہا وما لم نعلم واسألک باسمک العظیم الأعظم الکبیر الاکبیر الذی من دعا ک بہ اجبتہ، ومن سألک بہ اعطیتہ۔ ترجمہ : اے اللہ میں آپ سے آپ کے سارے اچھے ناموں کے ساتھ سوال کرتی ہوں جو کچھ ہم اس میں سے جانتے ہیں اور جو ہم نہیں جانتے اور میں تیری عظمت اور سب سے بڑے نام کے ساتھ سوال کرتی ہوں (پھر آپ نے فرمایا) جو ان کلمات کے ساتھ دعا کرتا ہے تو آپ اس کی دعا کو قبول فرماتے ہیں اور جو آپ سے ان کلمات کے ساتھ سوال کرتا ہے تو آپ اس کو عطا فرماتے ہیں یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا تو نے ٹھیک کہا تو نے ٹھیک کہا۔ وقولہ تعالیٰ : وذروا الذین یلحدون فی اسماۂ : (11) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الحاد “ سے مراد ہے جھٹلانا۔ (12) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وذروا الذین یلحدون فی اسماۂ “ کے بارے میں فرمایا کہ (کافروں نے) عزی کو (اللہ تعالیٰ کے نام) عزیز سے لیا ہے اور لات کو (اللہ تعالیٰ کے نام) اللہ سے لیا ہے۔ (13) امام ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے اس آیت کے بارے میں فرمایا ” الحاد “ سے مراد ہے نقل اتارنا۔ (14) امام ابن حاتم نے اعمش (رح) سے روایت کی کہ انہوں نے ” تلحدون “ کو ” یلحدون “ پڑھایا اور حاء کے نصب کے ساتھ اور یہ لحد ہے اور اس کی تفسیر میں فرمایا کہ وہ لوگ اس میں داخل کرتے ہیں حالانکہ وہ اس میں سے نہیں ہے۔ (15) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وذروا الذین یلحدون فی اسماۂ “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں شریک کرتے ہیں۔ (16) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” یلحدون فی اسماۂ “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں جھوٹ بولتے ہیں۔
Ayah 7:181

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور جن کو ہم نے پیدا کیا ان میں ایک جماعت ایسی ہے جو حق کے موافق ہدایت کرتے ہیں اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں

(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وممن خلقنا امۃ یھدون بالھق “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی ﷺ نے فرمایا یہ میری امت حق کے ساتھ حکم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں۔ اور (حق کے ساتھ کسی سے) لیتے ہیں اور حق کے ساتھ کسی کو دیتے ہیں۔ (2) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وممن خلقنا امۃ یھدون بالحق “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے جب اس کو پڑھتے تھے کہ یہ آیت تمہارے لئے ہے اور ایک قوم کو تم سے پہلے اس کی مثل دیا گیا تھا۔ (جیسے فرمایا) لفظ آیت ” وممن خلقنا امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون “۔ (3) امام ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وممن خلقنا امۃ یھدون بالھق “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے ایک قوم حق پر رہے گی یہاں تک کہ عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے جب وہ نازل ہوں گے۔ (4) امام ابو الشیخ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ایک فرقہ کے سوا سب فرقے آگ میں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” وممن خلقنا امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون “ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس امت میں سے نجات پائیں گے۔
Ayahs 7:182–183

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہم ان کو اس طرح ڈھیل دیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہو

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں انہیں ڈھیل دوں گا بیشک میری تدبیر مضبوط ہے۔

(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” سنستدرجھم “ یعنی ہم عنقریب ان کو پکڑیں گے لفظ آیت ” من حیث لایعلمون “ سے مراد بدکار عذاب ہے۔ استدراج سے ڈرتے رہنا چاہئے (2) امام ابو الشیخ نے یحییٰ بن مثنی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” سنستدرجھم من حیث لایعلمون “ کے بارے میں فرمایا جب بھی وہ کوئی نیا گناہ کرتے تھے تو ہم ان کو ایک نئی نعمت عطا فرماتے ہیں جو انہیں استغفار بھلا دیتی ہے۔ (3) امام ابن ابی الدنیا، ابو الشیخ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں سفیان (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” سنستدرجھم من حیث لایعلمون “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم ان پر نعمتوں کو بہادیں گے۔ اور ہم ان کو اس کا شکر ادا کرنے سے روک دیں گے۔ (4) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” اوملی لہم، ان کیدی متین “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے (عذاب کو) روک دیا گیا اور ان کو ان کے رسولوں کے خلاف مہلت دیں بیشک میری تدبیر انتہائی شدید ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو منسوخ کردیا اور یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم “ (توبہ آیت 5) (سو تم مشرکین کو قتل کرو جہاں بھی چاہو) (5) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کی تدبیر سے مراد عذاب اور سخت سزا ہے۔
Ayah 7:184

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے صاحب کو کوئی جنون نہیں ہے۔ وہ تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہے

(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی ﷺ صفا پر کھڑے ہوئے۔ اور قریش کو ان کے خاندانوں کے نام لے کر بلایا۔ اے بنو فلاں ! اے بنو فلاں ! آپ ﷺ نے صبح تک ڈرایا ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے رہے حتی کہ ان کے ایک کہنے والے نے کہا کہ تمہارا یہ ساتھی مجنون ہے چلاتے شور مچاتے رات گزار دی یہاں تک کہ صبح ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری ” اولم یتفکروا، ما بصاحبھم من جنۃ، ان ھو الا نذیر مبین “۔
Ayah 7:185

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت میں اور دوسری چیزوں میں غور نہیں کیا جو اللہ نے پیدا فرمائی ہیں اور ان بات میں کہ ان کی اجل قریب آپہنچی ہو۔ سو اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے

(1) امام احمد، ابن ابی شیبہ نے مصنف میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا معراج کی رات میں جب ہم ساتویں آسمان کے آخر تک پہنچے میں نے اپنے اوپر دیکھا اچانک میں نے گرج، چمک، بجلی اور کڑک کو دیکھا پھر فرمایا میں ایک ایسی قوم پر آیا کہ ان کے پیٹ گھروں کی طرح تھے اور ان میں سانپ تھے جو ان کے پیٹوں کے باہر نظر آرہے تھے میں نے کہا اے جبرئیل یہ کون ہیں ؟ فرمایا یہ لوگ سود کھانے والے ہیں۔ پھر (فرمایا) جب میں آسمان سے دنیا کی طرف اترا تو میں نے نیچے کی طرف دیکھا تو وہاں شور و شغب دھواں اور مختلف آوازیں تھیں میں نے کہا اے جبرئیل یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ شیاطین ہے جو بنی آدم کی آنکھوں کو بند کر رہے ہیں تاکہ وہ آسمان اور زمین کی نشانیوں میں غور نہ کریں اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ عجائبات قدرت کا مشاہدہ کرتے۔
Ayah 7:186

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

اللہ جسے گمراہ کرے سو اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ انہیں گمراہی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے

(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے جابیہ (ایک مقام) میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جس کو وہ گمراہ کر دے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ان کے آگے ایک نوجوان نے فارسی زبان میں ان سے کچھ کہا تو عمر ؓ نے ترجمہ کرنے والے سے فرمایا اس کی (بات کو) ترجمہ کرو۔ یہ کیا کہتا ہے ؟ تو ترجمہ کرنے والے نے کہا کہ یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو گمراہ نہیں کرے گا عمر ؓ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو نے جھوٹ کہا بلکہ اللہ تعالیٰ نے تجھ کو پیدا کیا اگر وہ چاہے تجھ کو گمراہ کر دے اور تجھ کو آگ میں داخل کر دے اگر تو معاہد نہ ہوتا تو میں تیری گردن مار دیتا تو لوگ لوگ متفرق ہوگئے اس حال میں کہ ان کے درمیان مسئلہ تقدیر میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ (واللہ اعلم)
Ayah 7:187

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

وہ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ اس کا واقع ہونا کب ہے ؟ آپ فرمادیجئے کہ اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے اسے اس کے وقت پر وہی ظاہر فرمائے گا، وہ آسمانوں میں اور زمین میں بھاری پڑجائے گی، تمہارے پاس اچانک ہی آجائے گا وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ گویا آپ اس کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرچکے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم صرف اللہ ہی کے پاس ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے

(1) امام ابن اسحق، ابن جریر اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حمل بن ابی قیش اور سمول بن زید نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ ہم کو بتائیے قیامت کب ہوگی اگر آپ نبی ہیں جیسے کہ آپ دعوی کرتے ہیں کیونکہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کیا چیز ہے ؟ تو الہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا قل انما علمھا عند ربی “ (سے لے کر) ” ولکن اکثر الناس لایعلمون “ تک۔ (2) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا “ کے بارے میں فرمایا یعنی وہ کب قائم ہوگی ” قل انما علمھا عند ربی، لا یجلیہا لوقتھا الا ھو “ فرمایا قریش نے کہا اے محمد ﷺ ہمارے لئے قیامت کی علامت بیان کیجئے کیونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان قرابت کا رشتہ ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” یسئلونک کانک حفی عنھا، قل انما علمھا عند اللہ “ قتادہ نے کہا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اللہ کے نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ قیامت لوگوں کو گرا دے گی (یعنی اچانک قائم ہوگی) اور ایک آدمی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہا ہوگا اور ایک آدمی اپنے حوض کو ٹھیک کر رہا ہوگا اور ایک آدمی اپنے ترازو کو نیچے اوپر کر رہا ہوگا۔ اور ایک آدمی اپنے سامان کو بازار میں لگا رہا ہوگا اللہ کا فیصلہ اچانک تم پر نافذ ہوجائے۔ (3) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” ایان مرسھا “ یعنی قیامت کی انتہاء کب ہوگی۔ (4) امام احمد نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا لفظ آیت ” قل انما علمھا عبد ربی، لا یجلیہا لوقتھا الا ھو “ لیکن میں تم کو اس کی نشانیاں بتاتا ہوں اور جو کچھ اس سے پہلے ظاہر ہوگا۔ بیشک اس سے پہلے فتنہ اور ہرج عام ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ فتنہ کو تو ہم نے سمجھ لیا لیکن ھرج کیا ہے آپ نے فرمایا حبشہ کی زبان میں (اس کا مطلب ہے) قتل۔ ظہور فتنے کی پیشنگوئی (5) امام طبرانی اور ابن مردویہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھا گیا اور میں بھی حاضر تھا آپ نے فرمایا لفظ آیت ” الا اللہ ولا یجلبھا لوقتھا الاھو “ لیکن میں عنقریب تم کو اس کی نشانیوں کے بارے میں بتاؤں گا کہ اس سے پہلے فتنے اور ھرج ہوگا ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! ھرج کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا حبشہ کی زبان میں اس کا معنی ہے قتل، لوگوں کے دل خشک ہوجائیں گے اور آپس میں نفرت پیدا ہوجائے گی۔ پس کوئی ایک دوسرے کو نہیں پہچانے گا صاحب عقل اٹھ جائیں گے اور کم عقل باقی رہ جائیں گے۔ وہ نیکی کو نہیں پہچانیں گے اور کسی برے کام کا انکار نہیں کریں گے۔ (6) مسلم، ابن ابی حاتم، حاکم اور ابن مردویہ نے (حاکم نے اس کو صحیح) بھی کیا ہے۔ جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ایک مہینہ وفات سے پہلے تم لوگ مجھ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں آج کے دن جو نو زائدہ بچہ زمین میں موجود ہے۔ اس پر سو سال گزریں گے۔ (7) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ عیسیٰ ، جبرائیل سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا السلام علیک یا روح اللہ تو انہوں نے بھی جواب میں سلام عرض کیا پھر حضرت عیسیٰ نے جبرائیل سے پوچھا، قیامت کب ہوگی۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنے پیروں کو جھاڑا پھر فرمایا مسؤل کو بھی سائل سے زیادہ علم نہیں نہیں پھر فرمایا لفظ آیت ” ایان مرسھا، لا یجلبھا الا ھو “ (یعنی اللہ تعالیٰ ہی اسے اپنے وقت پر ظاہر فرمائیں گے) (8) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لایجلبھا لوقتھا الاھو “ یعنی اس کو نہیں لائیں گے مگر اللہ تعالیٰ ۔ (9) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا وہی اس کو ظاہر کر دے گا اس کے وقت پر اور اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (10) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ثقلت فی السموت والارض “ کے بارے میں فرمایا نہیں ہے کوئی چیز مخلوق میں سے مگر پہنچے گی اس کو تکلیف قیامت کے دن۔ (11) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ثقلت فی السموت والارض “ کے بارے میں فرمایا بھاری ہے اس کا عمل (یعنی قیامت کا واقع ہونا) آسمانوں اور زمین کے رہنے والوں پر کیونکہ وہ نہیں جانتے حسن نے فرمایا جب آئے گی تو آسمان اور زمین والوں پر بہت بھاری ہوگی یا فرمایا ان پر انتہائی گراں ہوگی۔ (12) امام ابن جریر، ابن منذر، اور ابو الشیخ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ثقلت فی السموت والارض “ کے بارے میں فرمایا جب آئے گی تو آسمان پھٹ جائیں گے یہی جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور قیامت کی شدت زمین و آسمان دونوں پر ہوگی۔ (13) امام ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا تاتیکم الابغتۃ “ یعنی اچانک آجائے گی حالانکہ تم زمین میں ہوں گے۔ قیامت کیسے قائم ہوگی ؟ (14) امام ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم ہوگی ایک آدمی پر اس حال میں کہ اس کا لقمہ اس کے منہ میں ہوگا۔ نہ اس کو چبائے گا نہ اس کو نگلے گا اور نہ اس کو پھینکے گا اور ایسے دو آدمیوں پر قائم ہوگی کہ وہ اپنے درمیان کپڑا پھیلائے ہوئے ہوں گے خریدو فروخت کے لئے نہ وہ اس کو لپیٹ سکیں گے اور نہ وہ آپس میں خریف و فروخت کرسکیں گے (قیامت قائم ہوجائے گی) (15) امام ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ ایک آواز دینے والا آواز دے گا اے لوگو تم پر قیامت آچکی ہے تم پر قیامت آچکی ہتے یہ اعلان تین بار کرے گا۔ (16) امام ابن ابی جریر اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” لا یجلبھا لوقتھا الا ھو “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی اسے مقررہ وقت پر بھیجے گا لفظ آیت ” ثقلت فی السموت والارض “ یعنی وہ چھپی ہوئی ہے آسمانوں میں اور زمین میں اس کے قائم ہونے کو کوئی نہیں جانتا کہ کب قائم ہوگی نہ کوئی مقرب فرشتہ اور نہ نبی مرسل لفظ آیت ” لاتاتیکم الا بغتۃ “ یعنی اچانک ان پر آجائے گی اور وہ اس سے غافل ہوں گے۔ (17) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” کانک حفی عنھا “ کے بارے میں فرمایا کہ آپ اس کے بارے میں سوال کرکے تحقیق کرچکے ہیں یہاں تک کہ آپ نے اس کو جان لیا ہے۔ (18) امام ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے مجاہد اور سعید بن جبیر (رح) کے بارے میں لفظ آیت ” کانک حفی عنھا “ کے بارے میں ان میں سے ایک نے کہا گویا آپ اس کے بارے میں جانتے ہیں اور دوسرے نے کہا یہ ضروری ہے کہ اس کے بارے میں سوال کیا جائے۔ (19) امام ابن ابی شیبہ اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” کانک حفی عنھا “ کے بارے میں فرمایا کہ گویا یم نے قیامت کے بارے میں بار بار سوال کیا ہے یہاں تک کہ تم نے اس کو جان لیا ہے۔ (20) امام ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” کانک حفی عنھا “ کے بارے میں ان میں سے ایک نے کہا کہ گویا آپ اس کے بارے میں جانتے ہیں اور دوسرے نے کہا ضروری ہے کہ اس کے بارے میں سوال کیا جائے۔ (21) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” یسئلونک کانک حفی عنھا “ کے بارے میں فرمایا کہ گویا کہ آپ اس کے متعلق جانتے ہیں یعنی آپ اس کے متعلق نہیں جانتے ہیں۔ (22) ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کانک حفی عنھا “ گویا آپ اسے اچھی طرح (یعنی گہرائی) سے جاننے والے ہیں۔ (23) ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” یسئلونک کانک حفی عنھا “ کے بارے میں فرمایا کہ تیرے اور ان کے درمیان دوستی ہے گویا کہ تو ان کا دوست ہے ابن عباس نے فرمایا جب لوگوں نے محمد ﷺ سے قیامت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے آپ سے ایک قوم کا پوچھا گویا کہ وہ یقین رکھتے تھے کہ محمد ﷺ ان سے محبت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ایک طرف وحی بھیجی کہ اس کا علم اس کے پاس ہے . اس (ذات) نے اس کے علم کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے اور اس پر کسی فرشتے اور رسول کو مطلع نہیں کیا۔ (24) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” یسئلونک کانک حفی عنھا “ کے بارے میں فرمایا گویا کہ آپ ان کے دوست ہیں لہٰذا جب بھی وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے (اس بارے) میں سوال کرتے ہیں۔ (25) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” یسئلونک کانک حفی عنھا “ کے بارے میں فرمایا کہ گویا آپ یہ پسند کرتے ہیں کہ وہ آپ سے اس بارے میں سوال کریں۔ (26) عبد بن حمید نے عمر بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” کانک حفی عنھا “۔ (27) امام ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” یسئلونک کانک حفی عنھا “ کے بارے میں فرمایا گویا کہ قیامت کے متعلق ان کا آپ سے سوال کرنا آپ کو خوش کرتا ہے تاکہ اس کے متعلق ہم آپ کو آگاہ کریں تو اللہ تعالیٰ نے اسے آپ کے لئے چھپا دیا اور آپ کو مطلع نہ کیا۔ اور فرمایا لفظ آیت ” فیم انت من ذکرھا “ (النازعات آیت 43) اور فرمایا ” اکاد اخفیھا “ (طہ آیت 15) (میں اسے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں) اور ابی ؓ کی قرأت میں یوں ہے لفظ آیت ” اکاد اخفھا من نفسی “۔ (28) امام ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ قریش نے محمد ﷺ سے فرمایا کہ ہمارے اور تیرے درمیان رشتہ داری ہے لہٰذا ہم کو بتائیے کہ قیامت کب آئے گی ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” یسئلونک کانک حفی عنھا “۔
Ayah 7:188

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ میں اپنی جان کے لئے کسی نفع اور ضرر کا مالک نہیں ہوں مگر اتنا ہی جتنا اللہ نے چاہا، اور اگر میں غیب کو جانتا ہوتا تو بہت سے منافع حاصل کرلیتا اور مجھے کوئی ناگوار چیز نہ پہنچتی، میں تو ان لوگوں کو صرف بشارت دینے والا اور ڈرانے والا ہوں جو ایمان رکھتے ہیں

(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ولو کنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر “ کے بارے میں فرمایا میں یقیناً جان لیتا جب میں کوئی چیز خرید لیتا کہ اس میں مجھے اتنا نفع ہوگا اور میں کسی چیز کو نہ بیچتا مگر یہ کہ اس میں نفع ہوتا لفظ آیت ” وما مسنی السوء “ یعنی مجھ کو غربت نہ پہنچتی۔ (2) امام ابو الشیخ نے ابن جریج سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” قل لا املک لنفسی نفعا ولا ضرا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے ہدایت اور گمراہی کہ میں اپنے لئے ہدایت اور گمراہی کا مالک نہیں ہوں) اور فرمایا لفظ آیت ” ولو کنت اعلم الغیب “ یعنی اگر میں جان لیتا مجھے موت کب آئے گی۔ ” لاستکثرت من الخیر “ یعنی پھر تو خود عمل صالح بہت جمع کرلیتا۔ (3) امام ابو الشیخ نے امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے ابن زید سے لفظ آیت ” وما مسنی السوء “ کے متعلق روایت کیا کہ آپ نے فرمایا میں ہونے والے شر سے اس کے ہونے سے پہلے اجتناب کرتا۔
Ayahs 7:189–193

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنا دیا کہ وہ اس کے پاس ٹھکانہ پکڑے۔ پھر جب اس نے جوڑے کو ڈھنک تو عورت کو ہلکا سا حمل رہ گیا۔ پھر وہ اس کو لئے ہوئے چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب ہو بوجھل ہوگئی تو دونوں اللہ سے دعا کرنے لگے جو انکا رب ہے کہ اگر آپ نے ہمیں صحیح سالم بچہ عطا فرما دیا تو ہم شکر کرنے والوں میں سے ہوں گے

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

پھر جب اللہ نے ان کو صحیح سالم بچہ عطا فرما دیا تو جو چیز ان کو عطا فرمائی اس میں اللہ کے لئے شریک قرار دینے لگے

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

سو اللہ برتر ہے ان کے شریک بنانے سے۔ کیا وہ لوگ ان کو شریک بناتے ہیں جو کچھ پیدا نہیں کرتے اور وہ پیدا کئے جاتے ہیں

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

اور وہ ان کی مدد پر قدرت نہیں رکھتے اور نہ وہ اپنی جانوں کی مدد کرسکتے ہیں

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اور اگر تم ان کو ہدایت کی طرف بلاؤ تو تمہارے کہنے پر نہ چلیں گے برابر ہے تم ان کو پکارو یا تم خاموش رہو

(1) امام احمد، ترمذی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور ھاکم نے (ترمذی نے اس کو حسن اور حاکم نے صحیح کہا) سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب حواء کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اس کے گرد ابلیس گھوما اور لڑکا زندہ نہیں رہتا تھا شیطان نے کہا اس کا نام عہد الحارث رکھ دو ۔ تو وہ زندہ رہے گا تو انہوں نے اس کا نام عبد الحارث رکھ دیا تو وہ زندہ رہا۔ تو یہ شیطان کے الہام میں سے تھا اور اس کو حکم تھا۔ (2) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن مردویہ نے سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فلما اتھا صالحا جعلا لہ شرکاء “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اس (لڑکے) کا نام عبد الحارث رکھ دیا۔ (3) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ جب حواء کو حمل ہوا اور اس کا کوئی لڑکا زندہ نہیں رہتا تو اس کے پاس شیطان آیا اور اس نے کہا (اس کا نام عبد الحارث رکھ دو تو یہ تمہارے لئے زندہ رہے گا۔ تو انہوں نے اس کا نام عبد الھارث رکھ دیا تو (یہ نام) شیطان کے الہام اور اس کے حکم سے ہوا۔ شیطان کی حواء (علیہما السلام) سے گفتگو (4) امام عبد بن حمید، ان ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابی ابن کعب ؓ سے روایت کیا کہ جب حواء کو حمل ہوا تو اس کے پاس شیطان آیا اور کہا کہ تو میرا کہنا مانے گی اور تیری لئے تیرا لڑکا سلامت رہے گا۔ اس کا نام عبد الحارث رکھ دو لیکن حواء نے ایسا نہیں کیا بچہ پیدا ہوا اور مرگیا پھر حمل ہوا تو شیطان نے پھر ان سے اسی طرح کہا حواء نے ایسا نہیں کیا پھر تیسرا حمل ہوا تو شیطان پھر ان کے پاس آیا اور حواء سے کہا اگر تو میرا کہنا مانوگی تو (یہ بچہ) تیرے لئے سلامت رہے گا ورنہ وہ ایک جانور بن جائے گا۔ اس نے حواء کو ڈرایا تو دونوں نے اس کی اطاعت کی۔ (5) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید سے روایت کیا کہ آدم کا ایک لڑکا پیدا ہوا انہوں نے اس کا نام عبد اللہ رکھا۔ ابلیس ان دونوں کے پاس آیا اور کہا تم نے اپنے اس بچے کا نام کیا رکھا ہے ؟ فرمایا عبد اللہ اور اس سے پہلے بھی ان دونوں کا ایک لڑکا تھا جس کا نام بھی عبد اللہ تھا۔ ابلیس نے کہا کیا تم دونوں یہ خیال کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ چھوڑ دے گا اپنا غلبہ (یعنی بندہ) تم دونوں کے پاس۔ اللہ کی قسم ! وہ ضرور اس کو لے جائے گا۔ جیسا کہ دوسرے کو لے گیا میں تم کو ایسا نام بتاتا ہوں۔ تو یہ لڑکا تمہارے لئے باقی رہے گا اس کا نام عبد الشمس رکھ دو تو انہوں نے اس (بچہ) کا نام اسی طرح رکھ دیا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” ایشرکون مالا یخلق شیئا “ کہ سورج کسی چیز کو پیدا نہیں کرتا وہ تو ایک دھوکہ دیا اور ایک بار زمین میں دھوکہ دیا۔ (6) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم و حواء کو نیچے اتار دیا۔ تو ان کے دل میں شہوت کو ڈال دیا اپنی بیوی کی جانب اسی کے سببب آپ کے جذبات مضطرب ہوئے۔ آپ نے حواء سے جماع کیا وہ جب بھی ان سے جماع کرتے تو ان کو حمل ہوجاتا۔ اور جب حمل ہوجاتا تو اس کا بچہ اس کے پیٹ میں حرکت کرتا تھا۔ حواء نے کہا یہ کیا ہے ؟ ابلیس ان کے پاس آیا اور کہا تجھ کو حمل ہے اور تو بچہ جنے گی۔ حواء نے پوچھا کیا میں جنوں گی ؟ شیطان نے کہا تو دیکھ نہیں رہی مگر اونٹ کو یا گائے کو یا بکری کو یا بھیڑ کو کہ وہ بھی اسی عمل کا بعض ہے اور وہ بچہ تیری ناک یا تیری آنکھ کیا تیرے کان میں سے نکلے گا کہنے لگی اللہ کی قسم مجھ میں کوئی چیز نہیں ہے۔ مگر یہ وہ اس سے تنگ ہوگی شیطان نے کہا میرا کہنا مان لو۔ اور اس کا نام عبد الحارث رکھ دو ۔ اس کا نام فرشتوں میں حارث تھا۔ تو تو اپنی طرح کا بچہ جنے گی حواء نے آدم سے اس بات کا ذکر کیا انہوں نے فرمایا وہ ہمارا ساتھی ہے جس کو میں پہچانتا ہوں وہ بچہ مرگیا پھر دوسرا حمل ہوا پھر شیطان اس کے پاس آیا اور کہا میرا کہنا مان لو یا میں اس کو قتل کر دوں گا۔ بلاشبہ میں نے پہلے بچہ کو بھی قتل کیا تھا۔ حواء نے آدم کو اس بات کا ذکر کیا۔ انہوں نے پہلے کی طرح اب بھی کہا پھر تیسرا حمل ہوا تو شیطان حواء کے پاس آیا پہلے کی طرح اب بھی کہا حواء نے یہ بات آدم کو بتائی انہوں نے اسی طرح کہا تو اس بار انہوں نے اس کو ناپسند نہیں فرمایا اور اس کا نام حارث رکھ دیا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” جعلا کاء قیما ایھما “۔ اولاد کی موت اور شیطان کا اغواء (9) امام ابن جریر نے ابن عباس رضی اللیہ عنہ سے روایت کیا کہ حوا آدم کے لئے اولاد جنتی تھی۔ اور آپ اللہ کی رضا مندی کے لئے ان کی خدمت کرتی تھیں۔ ان کا نام عبد الہ اور عبید اللہ رکھتیں اسی طرح ہوتا۔ یہاں تک کہ ان کو موت آجاتی۔ ابلیس آدم اور غوا کے پاس آیا۔ اور کہا اگر تم ان دونوں (بچوں کے) نام ان کے علاوہ دوسرے نام رکھتے تو بچے زندہ رہتے۔ حوا نے ایک بچہ جنا تو اس کا نام عبد الحارث رکھا۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ” ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ “ آیت کے آخر تک۔ (10) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے حسن رحمۃ اللہ علہ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت بعض دین والوں کے بارے میں نازل ہوئی اور آدم کے بارے میں نہیں۔ (11) امام عبد حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت ” حملت حملا خفیفا فمرت بہ “۔ (12) امام ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” حملت حملا خفیفا “ کے بارے میں فرمایا (حمل کے ساتھ) ہلکا ہوتا ہے (جب تک) ظاہر نہیں ہوتا اور اس کو لے کر چلتی رہتی ہے اس کا حمل ظاہر ہوجاتا ہے۔ (تو بوجھل ہوجاتی ہے) ۔ (13) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ” فمرت بہ “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ شکایت کرتی ہے کہ وہ حامل ہے یا نہیں ؟ (14) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے ایوب (رح) سے روایت کی ہے کہ حسن (رح) سے لفظ آیت ” حملت حملا خفیفا فمرت بہ “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ عورت شکایت کرتی ہے کہ وہ حامل ہے یا نہیں ؟ (15) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے ایوب (رح) سے روایت کی ہے کہ لفظ آیت ” حملت حملا خفیفا فمرت بہ “ کے بارے میں ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اگر میں عربی ہوتا تو میں اس کو جانتا بیشک وہ برابر حمل سے رہتی ہے۔ (16) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” حملت حملا خفیفا “ یعنی (یہ حمل) نطفہ سے ہوتا ہے ” فمرت بہ “ یعنی وہ برابر حمل کے ساتھ رہتی ہے۔ (17) امام سعید بن منصور اور ابن منذر نے عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” حملت حملا خفیفا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اس حمل کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ (18) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” فمرت بہ “ یعنی وہ اپنے حمل کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ (19) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” فمرت بہ “ یعنی وہ اپنے حمل کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ (20) امام ابن ابی حاتم نے میمون بن مھر ان (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” فمرت بہ “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اس (حمل) کو ہلکا محسوس کرتی ہے۔ (21) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” فلما اثقلت “ یعنی بچہ اس کے پیٹ میں بڑا ہوجاتا ہے۔ (22) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” لئن اتینا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ دونوں ڈرتے ہیں کہ کوئی چوپایہ نہ ہو پھر دونوں کہتے ہیں۔ اگر تو ہم کو درست انسان عطا فرما دے۔ (23) امام ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ دونوں اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ (شاید) انسان ہی نہ ہو۔ (24) امام عبد الرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” اتھما صالحا “ کے بارے میں فرمایا کہ اگر درست لڑکا عطا فرما دے۔ (25) امام عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ” جعلا لہ شرکاء “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اطاعت میں اللہ کا شریک بناتے ہیں اور اس کی عبادت میں شریک بناتے۔ (26) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت ” فجعلا لہ شرکاء “ شین کے کسرہ کے ساتھ۔ (27) امام عبد بن حمید نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” جعلا لہ شرکاء “ کہ وہ دونوں کو نام میں اس کا شریک بنا لیتے ہیں اور فرمایا کہ ابلیس کی کنیت ابو کدوس ہے۔ (28) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن منذر اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ موصل اور مفصول سے ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے لفظ آیت ” جعلا لہ شرکاء فیما اتھما “ آدم اور ھوا کی شان میں ہے کہ انہوں نے ناموں میں اللہ تعالیٰ کو شریک بنایا ” فتعلی اللہ عما یشرکون “ یعنی اللہ تعالیٰ بلندو برتر ہے ان چیزوں سے جو مشرک لوگ شریک بناتے ہیں اور ان دونوں کے لئے معین نہیں ہے۔ (29) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آدم نے شرک نہیں کیا کہ بلاشبہ اس کا اول حصہ شکر ہے اور اس کا آخری ایک مثال ہے کہ جس کو بیان کیا ان کے بعد کے آنے والوں کے لئے۔ (30) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فتعلی اللہ عما یشرکون “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت آدم (علیہ السلام) سے متعلق آیات کے درمیان فضیلت کے طور پر مذکور ہے۔ اور یہ عرب کے باطل معبودوں کے ساتھ خاص ہے۔ (31) امام ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ آیت بطور فضل مذکور ہے کہ ان دونوں نے بچے کے سلسلے میں ابلیس کی اطاعت کی اور یہ آیت ” فتعلی اللہ عما یشرکون “ محمد ﷺ کی قوم سے متعلق ہے۔ (32) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” جعلا لہ شرکاء “ کے بارے میں فرمایا انہوں نے شرک کیا تھا اس کی اطاعت اور پیروی میں اور اس کی عبادت میں شرک نہیں کیا تھا۔ اور حسن (رح) فرمایا کرتے تھے کہ وہ یہود اور نصاری ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اولاد دی تو انہوں نے ان کو یہودی اور نصرانی بنا دیا۔ (33) امام ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فتعلی اللہ عما یشرکون “ کے بارے میں فرمایا اس سے مراد آدم کی اولاد اور وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کے بعد شرک کیا۔ (34) امام ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فتعلی اللہ عما یشرکون “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد پاکی بیان کرنا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو پاک کرلیا۔ فرماتے ہیں کہ اس نے اپنی عظمت بیان کی ہے اور فرشتوں نے اس کی پاکی بیان کی۔ ہر چیز نے اس کی تسبیح بیان کی۔ پریشانی کے وقت دعاء، پھر منہ موڑنا (35) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت کفار کے بارے میں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں جب (اللہ تعالیٰ ) ان کو تندرست (اولاد) عطا فرما دیتا ہے تو اس کو یہودی اور نصرانی بنا دیتے ہیں۔ پھر فرمایا لفظ آیت ” ایشرکون مالا یخلق شیئا وھم یخلقون “ یعنی وہ اطاعت کرتے ہیں ان کی کہ جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے اور وہ شیاطین کہ انہوں نے کسی چیز کو پیدا نہیں کیا حالانکہ وہ خود پیدا کئے گئے ” ولا یستطیعون لہم نصرا “ یعنی وہ ان کی مدد نہیں کرسکتے جس کے لئے وہ ان کو پکارتے ہیں۔
Ayahs 7:194–197

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

بیشک تم جن کو اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہارے جیسے بندے ہیں سو تم ان کو پکارو پھر وہ تمہاری پکار کو قبول کرلیں اگر تم سچے ہو ؟

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں ؟ آپ فرما دیجئے کہ اپنے شریکوں کو بلا لو، پھر میرے بارے میں ضرور پہنچانے کی جو تدبیر کرسکتے ہو کرلو اور پھر مجھے مہلت نہ دو

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

بیشک میرا مددگار اللہ ہے جس نے کتاب نازل فرمائی اور وہ نیک بندوں کی مدد فرماتا ہے

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو اس کے سوا تم پکارتے ہو وہ تمہاری مدد نہیں کرسکتے اور نہ اپنی جانوں کی مدد کرسکتے ہیں

(1) امام ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ سورج اور چاند کو اللہ تعالیٰ کے سامنے لایا جائے گا اور ان کو بھی لایا جائے گا جو ان کی عبادت کرتے تھے۔ اور اس سے کہا جائے گا۔ لفظ آیت ” فادعوہم فلیستجیبوا لکم ان کنتم صدقین “ (یعنی ان کو پکارو جو ان کی عبادت کرتے تھے اور اس سے کہا جائے گا۔ لفظ آیت ” فادعوھم فلیستجیبوا لکم ان کنتم صدقین “ (یعنی ان کو پکارو پھر ان کو چاہئے کہ تمہاری پکار کو قبول کریں اگر تم سچے ہو) ۔
Ayah 7:198

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

اور اے مخاطف اگر تو ان کو ہدایت کی طرف پکارے تو وہ نہ سنیں گے اور تو سمجھے گا کہ وہ تجھے دیکھ رہے ہیں، حالانکہ وہ نہیں دیکھ رہے ہیں

(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” ینظرون الیک “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے مشرکین مراد ہیں۔ (2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وترھم ینظرون الیک وھم لا یبصرون “ اور تو دیکھے گا کہ وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ ان کو نظر ہی نہیں آتا۔ جس ہدایت کی طرف تم ان کو بلا رہے ہو۔