Ayah 7:32(1) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم، طبرانی اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ننگے طواف کرتے تھے سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” قل من حرم زینۃ اللہ “ تو ان کو حکم فرمایا کہ کپڑے پہنو لفظ آیت ” قل ہی للذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا خالصۃ یوم القیمۃ “ فرمایا اہل ایمان میں دنیا میں اس کے ساتھ نفع اٹھاتے ہیں اور ان پر ان کے سبب قیامت کے دن کوئی گناہ نہ ہوگا۔
(2) امام وکیع نے غرر میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ پوچھا گیا کہ وہ مقانع القز کیا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد زینت کی وہ تمام چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دی ہیں۔
(3) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” قل ہی للذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا خالصۃ یوم القیمۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ مشرک لوگ ایمان والوں کے ساتھ شریک ہوتے ہیں دنیاوی زندگی کی رونق میں اور یہ صرف قیامت کے دن ایمان والوں کیلئے ہوں گی۔ سوائے کافروں کے (کہ مشرکین کو کوئی حصہ نہیں ملے گا)
(4) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” والطیبت من الرزق “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے چربی گوشت اور گھی۔
(5) امام ابو الشیخ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ قوم حرام کو دیتی تھی بکری میں سے اس کے دودھ کو اس کے گوشت کو اور اس کے گھی کو تو اللہ تعالیٰ نے اتارا۔ لفظ آیت ” قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبت من الرزق “ فرمایا زینت سے مراد ہے کپڑے۔
پاکیزہ روزی کھانے کا حکم
(6) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والطیبت من الرزق “ سے مراد ہے وہ اموال جو جاہلیت والوں نے اپنے اوپر حرام کر رکھے تھے یعنی بحیرہ، سائبہ وصیلہ اور حامی۔
(7) امام ابن جر یر، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جاہلیت والے کئی چیزوں کو حرام کردیتے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال فرمایا۔ کپڑے اور اس کے علاوہ میں سے اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔ لفظ آیت ” قل ارء یتم ما انزل اللہ لکم من رزق فجعلتم منہ حراما و حلال “ (یونس آیت 59) اور وہ یہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اتارا۔ لفظ آیت ” قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبت من الرزق ط قل ہی للذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا “ یعنی مسلمان شریک ہیں کافروں کے ساتھ پاکیزہ چیزوں میں دنیا کی زندگی میں پس انہوں نے پاکیزہ اور لذیذ کھانے اور عمدہ کپڑے پہنے اور نیک عورتوں سے نکاح کئے۔ پھر اللہ تعالیٰ خالص کردیں گے پاکیزہ چیزوں کو آخرت میں ایمان والوں کے لئے اور اس میں سے کوئی چیز بھی مشرکین کے لئے نہ ہوگی۔
(8) امام ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ زینت خالص ہوگی قیامت کے دن اس شخص کے لئے جو ایمان لائے گا دنیا میں۔
(9) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حجاج بن یوسف کو یوں پڑھتے ہوئے سنا لفظ آیت ” قل ہی للذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا خالصۃ “ رفع کے ساتھ عاصم نے فرمایا حجاج نے اس کے اعراب کو نہ دیکھا اور عاصم (رح) نے اس کو نصب کے ساتھ پڑھا (یعنی) ” خالصۃ “۔
Ayah 7:33(1) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” قل انما حرم ربی الفواحش ما ظھر منھا وما بطن “ کے بارے میں فرمایا کہ ” ما ظھر “ سے مراد ہے ننگا ہونا ” وما بطن “ سے مراد ہے زما کہ وہ لوگ ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، بخاری، مسلم، احمد ترمذی، نسائی، ابن منذر، ابن مردویہ، اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیرت مند نہیں ہے اس لئے بےحیائی کے کاموں کو حرام فرمایا جو اس میں سے علانیہ طور پر ہیں یا چھپے ہوئے ہیں۔
(3) امام ابن ابی شیبہ، مسلم اور ابن مردویہ نے مغیرہ بن شعبہ (رح) سے روایت کیا کہ سعد بن عبادہ ؓ نے فرمایا اگر میں کسی آدمی کو اپنی عورت کے ساتھ دیکھ لوں تو میں اس کو تلوار سے ماردوں گا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا کیا تم سعد ؓ کی غیر سے تعجب کرتے ہو اللہ کی قسم ! میں سعد سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہیں۔ اس وجہ سے سب بےحیائی کے کاموں کو حرام فرما دیا جو اس میں علانیہ طور پر یا چھپے ہوئے ہوں اور کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند نہیں۔
اللہ نے غیرت کے سبب بےحیائی کو حرام کیا
(4) امام ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ کہا گیا یا رسول اللہ ! کیا آپ کو بھی غیرت آتی ہے آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ! بلاشبہ میں بھی غیرت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہیں اور اپنی غیرت کے سبب اس نے سب بےحیائی کے کاموں سے روک دیا ہے۔
(5) امام ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قل انما حرم ربی الفواحش ما ظھر منھا وما بطن “ اس سے مراد ہے غسل کرنا بغیر پردے کے۔
(6) امام عبد الرزاق نے یحییٰ بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ کہ میں حد کو پہنچا ہوں مجھ پر حد قائم کیجئے۔ آپ نے اس کو کوڑے لگوائے پھر آپ منبر پر چڑھے اور آپ نے چہرے سے غصہ پہچانا جاتا تھا۔ پھر آپ نے فرمایا اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے تم پر بےحیائی کے کاموں کو حرام کیا ہے جو اس میں سے علانیہ ہو یا چھپا ہوا ہو۔ جو شخص اس میں سے کچھ پائے (یعنی کوئی بےحیائی کے کام کرلے) تو اس کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے پردے کے ساتھ اسے ڈھانپ لے۔ کیونکہ جو کوئی ان میں سے کوئی معاملہ ہمارے پاس لائے گا تو اس پر سزا ہوگی۔
(7) امام ابن ابی شیبہ نے ابو جعفر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ میں غیور ہوں اور ابراہیم بھی غیور تھے اور آدمی غیرت نہیں کھاتا مگر جس کا دل الٹا کردیا جائے۔
(8) امام ابن حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” والاثم “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے گناہ اور سرکشی اور فرمایا کہ تو سرکشی کرے گا لوگوں پر ناحق۔
Ayah 7:34(1) امام ابن ابی حاتم، طرابی، ابو الشیخ، ابن مردویہ، خطیب نے تالی التلخیص میں اور ابن النجار نے تاریخ میں ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے آپس میں ذکر کیا عمر کے زیادہ ہونے کا رسول اللہ ﷺ کے پاس ہم نے کہا جس نے صلہ رحمی کی تو اس کی عمر میں زیادتی کردی جاتی ہے۔ آپ نے فرمایا اس کی عمر میں زیادتی نہیں ہوتی (کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” فاذا جاء اجلہم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون “ لیکن کوئی آدمی جس کی نیک اولاد ہو اور وہ اللہ تعالیٰ سے اس کے بعد دعا کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس تک پہنچا دیتے ہیں یہ وہ چیز ہے جو اس کی مدت میں تاخیر کردیتی ہے۔ اور دوسرے لفظ میں یوں ہے تو ان کی دعا اس کی قبر میں ملتی ہے۔ اور یہ ہوتا ہے عمر کا زیادہ ہونا۔
(2) امام ابن حاتم نے سعید بن ابی عروبہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ حسن ؓ فرمایا کرتے تھے وہ قوم کتنی احمق ہے جو کہتی ہے اے اللہ اس کی عمر کو لمبا کر دے اور اللہ فرماتے ہیں لفظ آیت ” فاذا جاء اجلہم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون “
(3) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر نے زہر کے طریق سے ابن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ کو نیزہ مارا گیا تو کعب (رح) نے فرمایا اگر عمر ؓ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تو ان کی موت موخر ہوجاتی۔ ان سے کہا گیا کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا ؟ لفظ آیت ” فاذا جاء اجلہم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون “ کعب نے فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے (یہ بھی) فرمایا لفظ آیت ” وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرۃ الا فی کتب “ زہری نے فرمایا کوئی ایسا نہیں ہے کہ اس کی عمر لکھی گئی ہے۔ اور یہ دیکھا گیا جب اس کی مدت حاضر نہیں ہوتی کہ اللہ تعالیٰ موخر کردیتے ہیں جو چاہتے ہیں اور کم کردیتے ہیں (جو چاہتے ہیں) اور فرمایا لفظ آیت ” فاذا جاء اجلہم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون “
(4) امام ابن سعد نے طبقات میں کعب ؓ سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل میں ایک بادشاہ تھا۔ جب ہم نے اس کا ذکر کیا تو ہم نے عمر کا بھی ذکر کیا۔ اور جب ہم نے عمر کا ذکر کیا تو ہم نے اس کا بھی ذکر کیا۔ اور اور اس کے پہلو میں ایک نبی (رہتے) تھے کہ ان کی طرف وحی کی جاتی تھی اللہ تعالیٰ نے نبی کو وحی فرمائی کہ اس سے کہو کہ اپنا معاہدہ لکھ لے وصیت بھی لکھ دے کیونکہ وہ تین دن تک مرنے والا ہے نبی نے اس کو اس بات کی خبر دیدی۔ جب تیسرا دن تھا تو وہ دیوار اور تخت کے درمیان گرپڑا پھر اپنے رب سے درخواست کی اور کہا اے اللہ اگر تو چاہتا ہے کہ میں حکم میں انصاف کرنے والا تھا۔ اور جب معاملات بکھر جاتے ہیں تو میں آپ سے ہدایت اور رہنمائی طلب کرتا ہوں آپ میری عمر میں زیادتی کر دیجئے یہاں تک کہ میرے بچے بڑے ہوجائیں اور اپنی امت کی تربیت کروں تو اللہ تعالیٰ نے نبی کی طرف وحی بھیجی کہ اس نے ایسا ایسا کہا ہے۔ اور اس نے سچ کہا ہے۔ میں نے اس کی عمر میں پندرہ سال زیادہ کر دئیے اور اس (مدت) میں اس کے بچے بڑے ہوجائیں گے اور اس کی امت بھی پرورش پالے گی جب عمر ؓ کو نیزہ مارا گیا تو کعب نے فرمایا اگر عمر (اللہ تعالیٰ سے) سوال کریں تو وہ ضرور ان کو باقی رکھیں گے۔ عمر ؓ کو اس بات کی خبر دی گئی تو فرمایا اے اللہ مجھے قبض کرلے (یعنی موت دیدے) اس حال میں کہ نہ تو میں عاجز ہوں اور نہ مجھ پر ملامت کی جائے۔
(5) امام ابن سعد نے ابن ابی ملیکہ ؓ سے روایت کیا کہ جب عمر کو نیزہ مارا گیا تو کعب تشریف لائے اور دروازے کے پاس رونا شروع کردیا اور کہہ رہے تھے اللہ کی قسم اگر امیر المومنین اللہ تعالیٰ پر قسم کھالیں ان کی موت میں تاخیر دے دی جائے تو ضرور ان کی تاخیر کردی جائے گی۔ ابن عباس ان کے پاس تشریف لائے اور عرض کیا اے امیر المومنین یہ کعب اس طرح اور اس طرح کہتا ہے فرمایا تب تو میں اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ سے سوال نہیں کروں گا۔
(6) امام بیہقی نے دلائل میں اور ابن عساکر نے یحییٰ بن عبد الرحمن بن لبسہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص ؓ تشریف لائے اور فرمایا اے میرے رب میرے بیٹے چھوٹے ہیں مجھ سے موت کو مؤخر فرما دیں یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائیں تو ان سے موت بیس سال کے لئے مؤخر کردی گئی۔
(7) احمد نے ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کو یہ خوش لگے کہ اس کی موت موخر کردی جائے اور رزق میں اضافہ کردیا جائے تو اس کو چاہئے کہ صلہ رحمی کرے۔
(8) امام حکیم ترمذی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی میری امت کے معاملات میں کسی چیز کا نگران بنایا گیا اور اس کی نیت اچھی رہی تو رعب ڈال دیا جائے گا لوگوں کے دلوں میں اور جب اس نے لوگوں کی طرف خیر اور بھلائی کا ہاتھ بڑھایا تو محبت ڈال دی جائے گی اس کی ان کے دلوں میں اور جب اس نے زیادہ کردیا ان کے مالوں کو تو اللہ تعالیٰ بھی زیادہ کریں گے اس پر اس کے مال کو اور جب ضعیف کو انصاف دلائے گا قوی سے۔ تو اللہ تعالیٰ قوت دیں گے اس کی بادشاہی کو اور جب انصاف کرے گا تو اس کی عمر میں زیادتی فرما دیں گے۔
(9) امام ابن ابی شیبہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص اپنے رب سے ڈر گیا اور صلی رحمی کی تو اس کی عمر میں زیادتی کردی جائے گی اور اس کا مال بڑھ جائے گا اور اس سے اس کے اہل و عیال محبت کریں گے۔
Ayahs 7:35–36(1) امام ابن جریر نے ابو سیار سلمی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم اور اس کی اولاد کو اپنی ہتھیلی میں لیا اور فرمایا لفظ آیت ” یبنی ادم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم ایتی، فمن اتقی واصلح فلا خوف علیہم ولا ھم یحزنون “ پھر رسولوں کی طرف دیکھا اور فرمایا لفظ آیت ” یایھا الرسول کلوا من الطیبت واعملوا صالحا، انی بما تعملون علیم “ (اور فرمایا) ” وان ھذہ منکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فاتقون “ پھر ان کو پھیلا دیا۔
Ayah 7:37(1) امام فریابی، ابن جریر، ابو الشیخ اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس نے فرمایا کہ لفظ آیت ” اولئک ینالہم نصیبھم من الکتب “ سے مراد ہے جو مقدر کیا گیا ان کے لئے خیر اور شر میں سے۔
(2) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اولئک ینالہم نصیبھم من الکتب “ سے مراد ہے اعمال میں سے جو شخص نیک عمل کرے گا اس کا بدلہ پالے گا اور جو شخص برا عمل کرے گا اس کا بدلہ پالے گا۔
(3) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” نصیبھم من الکتب “ یعنی جو لکھا گیا ان پر بدبختی ہے اور نیک بختی سے وہ انہیں مل جائے گا۔
(4) امام ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اولئک ینالہم نصیبھم من الکتب “ سے مراد ہے ایک قوم ایسے اعمال کرے گی۔ ضروری ہے ان کے لئے کہ وہ اس پر عمل کرے۔
(5) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اولئک ینالہم نصیبھم من الکتب “ یعنی ان کو وہ حصہ مل جائے گا جو پہلے قسمت میں لکھا جا چکا ہے۔
(6) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” نصیبھم من الکتب “ سے مراد ہے کہ جو وہ وعدہ دئیے گئے اس میں خیر اور شر میں سے وہ ان کو مل جائے گا۔
(7) امام ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اولئک ینالہم نصیبھم من الکتب “ سے مراد ہے ان کا رزق ان کی موت اور ان کا عمل جو کچھ ان کے لئے لکھا جا چکا ہے وہ انہیں مل جائے گا۔
(8) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” نصیبھم من الکتب “ سے مراد ہے عذاب میں سے ان کا حصہ مقرر ان کو مل جائے گا۔
(9) امام عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ینالہم نصیبھم من الکتب “ سے مراد ہے ان چیزوں میں جو لکھا گیا ان کے لئے رزق میں سے وہ ان کو مل جائے گا۔
Ayahs 7:38–39(1) ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” قدخلت “ یعنی جو گزر چکی لفظ آیت ” کلما دخلت امۃ لعنت اختھا “ جب بھی ایک دین والے داخل ہوں گے تو وہ اس دین پر چلنے والے اپنے ساتھیوں پر لعنت کریں گے مشرک لوگ لعنت کریں گے مشرکوں پر یہودی لعنت کریں گے یہودیوں پر نصاری لعنت کریں گے نصاری پر صابی لعنت کریں گے صائبین پر مجوسی لعنت کریں گے مجوسیوں پر لفظ آیت ” حتی اذا ادارکوا فیہا جمیعا، قالت اخرہم “ یعنی وہ لوگ جو آخری زمانہ میں تھے وہ کہیں گے ” لاولہم “ ان پہلے لوگوں کے لئے جنہوں نے ان کے لئے اس دین کو شروع کیا تھا لفظ آیت ” ربنا ھولاء اضلونا “ سے لے کر ” قال لکل ضعف “ تک (یعنی ہر ایک کے لئے دگنا عذاب ہوگا۔ پہلوں کے لئے اور پچھلوں کے لئے لفظ آیت ” وقالت اولہم لاخرھم فما کان لکم علینا من فضل “ یعنی ان کے پہلے والے اپنے بعد والوں سے کہیں گے (جیسے) ہم گمراہ تھے (ویسے ہم نے) تم کو بھی گمراہ کیا۔
ہر کافر کو دوگنا عذاب ہوگا
(2) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” عذابا ضعفا “ سے مراد ہے دگنا ” قال لکل ضعف “ یعنی ہر ایک کے لئے دگنا ہوگا (اور فرمایا) لفظ آیت ” فما کان لکم علینا من فضل “ یعنی تمہارے لئے ہم پر کوئی فضیلت نہیں ہے کہ تم پر عذاب ہلکا ہوجائے۔
(3) امام عبدبن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ حسن (رح) نے فرمایا جنوں کو موت نہیں آئے گی۔ میں نے ان سے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ؟ لفظ آیت ” فی امم قد خلت من قبلکم من الجن والانس “ اور ماخلا وہی ہوتا ہے جو چلا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayah 7:40(1) امام ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لاتفتح لہم ابواب السماء “ یعنی ان کے عمل میں سے کوئی چیز بھی اللہ کی طرف اوپر نہیں چڑھے گی۔
(2) امام عبدبن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لاتفتح لہم ابواب السماء “ یعنی ان کے کسی عمل اور دعا کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔
(3) امام عبد بن حمید، ابن جریرابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لاتفتح لہم ابواب السماء “ یعنی عاردلائی اس کے ساتھ کافروں کو کہ آسمان کے دروازے نہیں کھو لے جائیں گے ان کی ارواح کے لئے اور وہ کھولے جائیں گے ایمان والوں کے لئے۔
(4) امام ابن مردویہ نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں پڑھا ” ” لاتفتح “ یاء کے ساتھ۔
(5) امام احمد، نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر ابن حبان، حاکم اور بیہقی نے البعث میں (اور حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مرنے والے کے پاس فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ اگر آدمی نیک ہو تو فرشتہ کہتا ہے باہر نکل آ اے پاکیزہ جان تو ایک پاکیزہ جسم میں تھی باہر نکل آ، تعریف کی ہوئی اور خوشخبری دی ہوئی تیرے لئے جنت کی راحتیں اور پھلوں کے بشارت ہے۔ اور تیرا رب تجھ پر راضی ہے اور تجھ پر ناراض نہیں ہے۔ برابر اس کو یہ بات کہی جائے گی یہاں تک کہ وہ روح ساتویں آسمان تک پہنچ جاتی ہے۔ جب برا آدمی ہو تو فرشتہ کہتا ہے باہر نکل اے ناپاک جان ! جو نا پاک جسم میں تھی۔ نکل آ مذمت کی ہوئی اور خوشخبری دی ہوئی جہنم کی اور پیپ کی اور اسی قسم کے دوسرے طرح طرح کے عذاب کی یہ بات برابر کہی جائے گی یہاں تک کہ تو نکلے گی اور آسمان کی طرف اٹھائی جائے گی اس کے لئے آسمان کو کھلوایا جائے گا تو کہا جائے گا یہ کون ہے ؟ کہا جائے گا یہ فلاں ہے کہا جائے گا اے ناپاک جان تیرا آنا مبارک ہے۔ تو ایک ناپاک جسم تھا لوٹ جا اے ذلیل اور رسوا تیرے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ آسمان سے اس کو نیچے بھیج دیا جاتا ہے پھر وہ قبر کی طرف آجاتی ہے۔
(6) امام طیالسی، ابن ابی شیبہ نے مصنف میں الالکائی نے الزہد میں اور بیہقی نے البعث میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ مومن کی جان نکلتی ہے تو وہ کستوری سے بھی زیادہ خوشبو والی ہوتی ہے۔ اس کو لے کر فرشتے اوپر جاتے ہیں جو اس کو فوت کرتے ہیں۔ پھر آسمان والے فرشتے ان سے ملاقات کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں تمہارے ساتھ کون ہے وہ کہتے ہیں فلاں ہے اور اس کے اچھے اعمال کا ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں اللہ تم کو سلامت رکھے اور اس کو بھی سلامت رکھے جو تمہارے ساتھ ہے۔ اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ اس دروازے سے اس کو لے کر چڑھتے ہیں کہ جس سے اس کے عمل چڑھتے تھے۔ اس کا چہرہ چمکتا ہے تو رب کے پاس اس حال میں آتا ہے کہ اس کا چہرہ سورج کی طرح ہوتا ہے اور جو کافر ہوتا ہے اس کی جان اس حال میں نکلتی ہے کہ مردار سے زیادہ اس کی بدبو ہوتی ہے۔ فرشتے اس کو اوپر لے جاتے ہیں جو اس کو فوت کرتے ہیں وہ آسمان والے فرشتوں سے ملاقات کرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں یہ کون ہے تو کہتے ہیں یہ فلاں ہے اور اسکے بہت برے عمل کا ذکر کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں اس کو واپس لوٹا دو ۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر ذرا ظلم نہیں کیا۔ تو وہ سب سے نچلی زمین کی طرف سے نرم زمین کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ اور ابو موسیٰ نے یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” ولا یدخلون الجنۃ حتی یلج الجمل فی سم الخیاط “
عذاب قبر برحق ہے
(7) طیالسی، ابن ابی شیبہ، احمد، عبد بن حمید، ابو داؤد نے سنن میں ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے کتاب عذاب القمر میں (اور حاکم نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ انصار میں سے ایک آدمی کے جنازہ میں نکلے ہم قبر تک پہنچے تو اس کی لحد نہیں بنائی گئی تھی۔ رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے اس حال میں ہمارے سروں پر ایک پرندہ بیٹھا ہوا ہے۔ اور آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی کہ جس سے آپ زمین میں کرید رہے تھے۔ آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا اللہ سے پناہ مانگو قبر کے عذاب سے دو یا تین مرتبہ آپ نے فرمایا۔ پھر آپ نے فرمایا مومن بندہ جب دنیا سے جدا ہوتا ہے اور آخرت کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کی طرف آسمان سے سفید چہروں والے نازل ہوتے ہیں گویا کہ ان کے چہرے سورج کی طرح (چمک رہے) ہوتے ہیں۔ ان کے پاس جنت کا کفن اور جنت کی خوشبو ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس سے حدنگاہ پر بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آتے ہیں یہاں تک کہ اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں اے پاکیزہ جان نکل اللہ کی مغفرت اور رضا مندی کی طرف۔ تو وہ ایسے بہتی ہوئی نکلتی ہے جیسے قطرہ مشکیزہ میں سے بہتا ہے۔ اگرچہ تم اس کے علاوہ (دوسری طرح) دیکھتے ہو۔ وہ اس کو لے لیتے ہیں جب اس کو لیتے ہیں تو اپنے ہاتھ میں پلک جھپکتے تک بھی نہیں رکھتے۔ یہاں تک کہ (دوسرے فرشتے) اس کو لے لیتے ہیں۔ اس کو اس کفن اور خوشبو میں رکھ دیتے ہیں تو اس میں سے کستوری کی طرح خوشبو نکلتی ہے جو زمین پر پائی جاتی ہے۔ وہ اس کو لے کر اوپر چڑھتے ہیں تو فرشتوں کی جس جماعت سے گزرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں یہ پاکیزہ روح کون ہے ؟ تو وہ کہتے ہیں کہ فلاں بیٹا فلاں کا ہے اس کے اچھے نام کے ساتھ کہ جس سے اس کو دنیا میں پکارا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس کیلئے آسمان کا دروازہ کھلواتے ہیں تو ان کے لئے کھول دیا جاتا ہے۔ ہر آسمان سے ہوتے ہوئے وہ جب دوسرے آسمان کی طرف قریب ہوتے ہیں جو اس سے ملا ہوا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کو لے کر ساتویں آسمان کی طرف پہنچتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے کے اعمال نامہ کو علیین میں رکھ دو ۔ اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو ۔ کیونکہ میں نے اس سے ان کو پیدا کیا اور اس میں ان کو لوٹاؤں گا اور اسی سے ان کو نکالوں گا دوسری مرتبہ۔ تو اس کی روح لو اس کے جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے۔
پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اس کو بٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں تیرا رب کون ہے وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے وہ پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے میرا دین اسلام ہے۔ پھر وہ پوچھتے ہیں : وہ آدمی کون ہے جو تمہارے درمیان بھیجا گیا ؟ وہ کہتا ہے وہ اللہ کا رسول ہے وہ پھر اس سے پوچھتے ہیں تیرا عمل کیا ہے۔ وہ کہتا ہے میں نے اللہ کی کتاب پڑھی ہے اس پر ایمان لایا اور اس کو سچا مانا۔ تو آسمان سے ایک آواز دینے والا آواز دے گا۔ میرے بندے نے سچ کہا جنت میں سے اس کو بچھونا بچھا دو ۔ اور جنت میں سے اس کو لباس پہنا دو ۔ اور جنت کی طرف سے ایک دروازہ اس کے لئے کھول دو ۔ تو اس کے پاس آتی ہے اس کی ہوا اور اس کی خوشبو میں سے اور حدنگاہ تک اس کی قبر کھول دی جاتی ہے اور اس کے پاس ایک آدمی اچھے چہرہ والا اچھے کپڑوں والا اور اچھی خوشبو والا آتا ہے اور کہتا ہے تجھ کو خوشخبری ہو اس چیز کے ساتھ جو تجھ کو خوشخبری دی جاتی تھی تیرے اس دن کے لئے جس کا وعدہ دیا گیا تھا وہ اس سے پوچھتا ہے تو کون ہے ؟ کہ تو متوجہ ہوا ایسے چہرے سے جو خیر کو لایا ہے ؟ وہ کہتا ہے میں تیرا نیک عمل ہوں۔ اور وہ کہتا ہے اے میرے رب قیامت قائم کر اے میرے رب قیامت قائم کر، یہاں تک کہ یہ لوٹ جائے اپنے اہل و عیال اور اپنے مال کی طرف۔
پھر فرمایا کہ جب کافر بندہ آخرت کی طرف جاتا ہے اور دنیا سے جدا ہوتا ہے تو آسمان سے کالے چہروں والے فرشتے نازل ہوتے ہیں ان کے ساتھ ٹاٹ ہوتا ہے۔ وہ اس سے حدنگاہ پر بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر ملک الموت آکر اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نکل اے ناپاک جان نکل اللہ کی ناراضگی اور غصہ کی طرف تو وہ اس کے جسم میں گھس جاتے ہیں۔ اور وہ اسے اس طرح کھینچتے ہیں جیسے سیخ کو کھینچا جاتا ہے بھیگی ہوئی اون سے۔ تو وہ اس کو لے لیتے ہیں جب اس کو لیتے ہیں تو فرشتے آنکھ جھپکتے تک بھی اپنے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے یہاں تک کہ اس کا ان ٹاٹوں میں لپیٹ دیتے ہیں تو اس میں زمین میں پائے جانے والے مردار کی بو کی طرح بدبو نکلتی ہے۔ وہ اس کو لے کر اوپر چڑھتے ہیں تو فرشتوں کی جس جماعت سے گزرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں یہ ناپاک روح کس کی ہے۔ وہ کہتے ہیں یہ فلاں بیٹا فلاں کا ہے۔ اس کے ناموں میں سے سب سے برا نام لے کر کہتے ہیں جس سے اس کو دنیا میں پکارا ناتا تھا۔ یہاں تک کہ اس کو لے کر آسمان دنیا تک پہنچتے ہیں اور اس کے کھولنے کی درخواست کرتے ہیں لیکن وہ اس کے لئے نہیں کھولا جاتا پھر رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت پڑھی) لفظ آیت ” لاتفتح لہم ابواب السماء “ تو اللہ عزوجل فرماتے ہیں اس کا اعمال نامہ سجین سب سے نچلی زمین میں لکھ دو ۔ تو اس کی روح کو (نیچے) پھینک دیا جاتا ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت) پڑھی ” ومن یشرک باللہ فکانما من السماء فتخطفہ الطیر او تھوی بہ الریح فی مکان سحیق “
اس کی روح کو لوٹا دیا جاتا ہے اس کے جسم میں اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اس کو بٹھلا کر اس سے پوچھتے ہیں تیرا رب کون ہے ؟ تو کہتا ہے ہائے ہائے پھر وہ اس سے پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے تو وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا پھر وہ اس سے پوچھتے ہیں اس آدمی کے بارے میں تو کیا جانتا ہے جو تمہارے درمیان بھیجا گیا وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا پھر ایک آواز دینے والا آسمان سے آواز دیتا ہے کہ میرے بندے نے جھوٹ کہا اس کا بچھونا آگ میں سے بچھا دو ۔ اور اس کے لئے دوزخ میں سے ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ پس اس کے پاس جہنم کی سخت گرم ہوا آتی رہتی ہے۔ اور اس پر قبر تنگ کردی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں اور اس کے پاس ایک آدمی برے چہروں والا گھٹیا کپڑوں والا اور بدبو والا ہے اور کہتا ہے تجھے خوشخبری ہو اس حالت کی جو تیرے لئے تکلیف دہ اور پریشان کن ہے یہی وہ دن ہے جس کا تجھے وعدہ دیا جاتا تھا۔ وہ اس سے پوچھتا ہے تو کون ہے تیرا چہرہ ایسا ہے جس سے شر ظاہر ہوتا ہے۔ تو وہ کہتا ہے میں تیرا برا عمل ہوں تو وہ کہتا ہے اے میرے رب قیامت کو قائم نہ کر۔
(8) امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا لفظ آیت ” لاتفتح لہم ابواب السماء “ سے مراد ہے کہ ان کا کوئی کلام یا کوئی عمل اوپر نہیں چڑھے گا۔
(9) امام ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لاتفتح لہم ابواب السماء “ سے مراد ہے کہ ان کا کوئی عمل اور کوئی دعا اوپر نہیں جائے گی۔
(10) امام ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لاتفتح لہم ابواب السماء “ کہ ان کی روحوں اور ان کے اعمال کے لئے (آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے)
کافروں کی روحوں کے لئے آسمان کا دروازہ نہ کھولا جائے گا
(11) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” لاتفتح لہم ابواب السماء “ کے بارے میں فرمایا کہ کافر کی روح جب پکڑی جاتی ہے تو اس کو زمین کے فرشتے آتے ہیں یہاں تک کہ وہ آسمان کی طرف اٹھ جاتی ہے۔ جب آسمان دنیا پر پہنچتی ہے تو آسمان کے فرشتے اس کو مار کر نیچے گرا دیتے ہیں۔ پھر زمین کے فرشتے اس کو مارتے ہیں تو وہ اوپر کو اٹھ جاتی ہے۔ پھر آسمان دنیا کے فرشتے اس کو مار مار کر سب سے نچلی زمین کی طرف گرا دیتے ہیں۔ اور جب مؤمن کی روح اوپر کو جاتی ہے تو اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جس فرشتہ کے ساتھ وہ گزرتی ہے تو وہ اس کو دعا دیتے ہیں اور اس کو سلام کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچ جاتی ہے۔ پھر (اللہ تعالیٰ ) اس کی حاجت اس کو عطا فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں میرے بندے کی روح کو زمین کی طرف لوٹا دو کیونکہ میں نے اس کی پیدائش مٹی سے کی تھی اور مٹی کی طرف لوٹاؤں گا۔ اور پھر مٹی سے اسے نکالا جائے گا۔
قولہ تعالیٰ : حتی یلج الجمل فی سم الخیاط :
(12) امام ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” حتی یلج الجمل “ یعنی ٹانگوں والا ” فی سم الخیاط “ یعنی سوئی کے ناکہ میں یعنی سوراخ میں۔
(13) امام سعید بن منصور فریابی، عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابو الشیخ اور طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” حتی یلج الجمل “ سے مراد ہے اونٹنی کا شوہر یعنی اونٹ۔
(14) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” حتی یلج الجمل “ سے مراد ہے اونٹنی کا بچہ جو باڑہ میں چار ٹانگوں پر کھڑا ہوتا ہے۔
(15) امام سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن الانباری نے مصاحف میں اور ابو الشیخ نے چند طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یوں پڑھتے تھے ” الجمل “ جیم کا ضمہ اور میم کی تشدید کے ساتھ اور فرمایا الجمل سے مراد ہے موٹی رسی اور وہ کشتی کی رسیوں میں سے ہے۔
(16) امام ابو عبید، ابن جریر، ابن منذر، ابن الانباری نے مصاحف میں اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ قرأت میں یوں ہے لفظ آیت ” حتی یلج الجمل فی سم الخیاط “
(17) امام ابن منذر نے مصعب ؓ سے روایت کیا کہ اگر تو جمل پڑھے تو ہم ایک پرندہ کو جانتے ہیں جس کو جمل کہا جاتا ہے۔
(18) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” حتی یلج الجمل فی سم الخیاط “ یعنی الجمل سے مراد ہے کشتی کی رسی۔ اور ” سم الخیاط “ سے مراد ہے سوراخ۔
(19) امام ابو الشیخ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا ” الجمل “ سے مراد ہے وہ رسی جس کے ذریعہ کھجور پر چڑھا جاتا ہے۔ جمل میں میم مرفوعہ مشدد ہے۔
(20) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے حسن (رح) و سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا یہاں تک کہ اونٹ داخل ہوجائے سوئی کے ناکہ میں۔
(21) امام عبد بن حمید نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فی سم الخیاط “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اونٹ (داخل ہوجائے) سوئی کے سوراخ میں۔
Ayahs 7:41–42(1) امام ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لہم من جھنم مھاد “ سے مراد ہے بچھونا اور ” ومن فوقھم غواش “ یعنی لحاف۔
(2) امام ابو الحسن القطان نے الطوالات میں، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے براء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کافر کو اس کی قبر میں آگ میں سے دو لوح (یعنی طوق) پہنائے جائیں گے۔ اسی کو فرمایا لفظ آیت ” لہم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش “
(3) امام ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے یہ آیت ” لہم من جھنم مھادو من فوقھم غواش “ تلاوت فرمائی اور فرمایا یہ طبقات ہیں اس کے اوپر کی جانب اور طبقات ہیں اس کے نیچے کی جانب یہ معلوم نہیں کہ اس کے اوپر زیادہ ہیں یا اس کے نیچے والے طبقات اسے اوپر اٹھاتے ہیں۔ اور اوپر والے طبقات اسے نیچے دباتے ہیں اور ان کے درمیان تنگ ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اس طرح پھنس جاتا ہے جیسے نیزے میں لوہا پھنستا ہے۔
Ayah 7:43(1) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے درمیان اللہ کی قسم اہل بدر تھے کہ یہ آیت ” ونزعنا ما فی صدورھم من غل “ (انہی کے بارے میں) نازل ہوئی۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ونزعنا ما فی صدورھم من غل “ سے مراد ہے دشمنی۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی کہ نبی ﷺ نے فرمایا اہل جنت کو روکا جائے گا پل صراط سے پار ہونے کے بعد یہاں تک کہ بعض سے بعض کے ساتھ دنیا میں کی جانے والی زیادتیوں کا مواخذہ کیا جائے گا۔ پھر وہ جنت میں داخل ہوں گے اس حال میں کہ ان کے دلوں میں کسی کے بارے میں کوئی کینہ نہ ہوگا۔
(4) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ جنت والوں کو جب جنت کی طرف لے جایا جائے گا اور وہاں پہنچ کر اس کے دروازے کے پاس ایک درخت کو پائیں گے کہ اس کے تنے کی جڑ میں دو چشمیں ہوں گے۔ ان میں سے ایک سے پئیں گے تو ان کے سینوں میں جو کچھ کینہ وغیرہ ہے وہ اسے کھینچ لے گا۔ اور وہ پاکیزہ شراب ہوگی اور دوسرے سے غسل کریں گے تو ان پر رونق اور حسن جمال ظاہر ہوجائے گا۔ اس کے بعد وہ کبھی بھی نہ پراگندہ حال ہوں گے اور نہ ان کے رنگ تبدیل ہوں گے۔
قیامت کے روز ہر ظلم کا بدلہ ہوگا
(5) امام ابن جریر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جنت والے جنت کے قریب روکے جائیں گے یہاں تک قصاص لیا جائے گا بعض سے بعض کا پھر وہ جنت میں داخل ہوں گے جب وہ اس میں داخل ہوں گے تو کوئی آدمی اس وقت کسی سے ناخن توڑنے کا بھی مطالبہ نہیں کرے گا کہ اس نے دنیا میں اس کے ساتھ یہ ظلم کیا تھا۔ اور دوزخ والوں کو دوزخ پر روک لیا جائے گا یہاں تک کہ ان کے بعض سے بعض کا قصاص لیا جائے گا۔ پھر وہ دوزخ میں داخل ہوں گے۔ جب اس میں داخل ہوں گے تو اس وقت ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے ناخن توڑنے کا مطالبہ بھی نہیں کرے گا کہ اس نے دنیا میں اس پر ظلم کیا۔
اما قولہ : وقالوا الحمد اللہ الذی ھدنا لھذا “
(6) امام نسائی، ابن ابی الدنیا، ابن جریر نے ذکر الموت میں اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر دوزخ والا اپنی منزل کو جنت میں سے دیکھے گا اور کہے گا اگر ہم کو اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا یہ کلمہ ان کی زبان پر بطور حسرت کے ہوگا۔ اور ہر جنت والا اپنی منزل کو دوزخ میں سے دیکھے گا تو وہ کہے گا اگر ہم کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہ کرتا (تو ہم دوزخ والے گھر میں جاتے) تو یہ کلمہ ان کی زبان پر بطور شکر جاری ہوگا۔
(7) امام سعید بن منصور، ابو عبیدہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الشعب میں ابو ہاشم (رح) سے روایت کیا کہ عدی بن ارطاۃ نے عمر بن عبد العزیز کو لکھا کہ بلاشبہ ہم سے پہلے اہل بصرہ کو خیر اور بھلائی خوب پہنچی ہے یہاں تک کہ انہی پر ہلکی اور کم ہوگئی عمر ؓ نے ان کی طرف لکھا میں نے تیرے خط کو سمجھ لیا اور اللہ تعالیٰ جب اہل جنت کو جنت میں داخل فرمائی گے تو ان سے راضی ہوں گے ان کے اس کہنے پر لفظ آیت ” وقالوا الحمدللہ الذی ھدنا لھذا “ اور تم سے پہلے گزارے ہیں کہ انہوں نے اللہ کی حمد بیان کی۔
(8) امام ابن ابی شیبہ، احمد، عبد بن حمید، دارمی، مسلم، ترمی، نسائی، ابن جریر ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ و ابو سعید ؓ دونوں سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے لفظ آیت ” وتودوا ان تلکم الجنۃ اور ثتموھا بما کنتم تعملون “ کے بارے میں فرمایا آواز دی جائے گی کہ تم صحت مند رہو کبھی بیمار نہ ہوں گے تم نعمتوں سے نوازے جاؤ گے پس تم مایوس اور ناامید نہ ہوگے۔ اور جوان رہو گے (کبھی بوڑھے) نہ ہوگے ہمیشہ رہو گے اور کبھی موت نہیں آئے گی۔
(9) امام داؤد، ابن جریر اور عبد بن حمید نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ جب جنت والوں کو جنت میں داخل کردیا جائے گا تو ایک آواز دینے والا آواز دے گا اے جنت والو ! تمہارے لئے (ہمیشہ) زندہ رہنا ہے کبھی نہیں مرو گے۔ تمہاری (ہمیشہ) نعمتیں ہوں گی اور کبھی مایوس نہ ہوگے۔ اور تمہارے لئے جوانی ہوگی تم کبھی بوڑھے نہ ہوگے۔ اور تمہارے لئے صحت ہوگی کبھی تم بیمار نہ ہوں گے۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” وتودوا ان تلکم الجنۃ اور ثتماھا بما کنتم تعملون “
(10) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وتودوا ان تلکم الجنۃ اور ثتموھا بما کنتم تعملون “ کے بارے میں فرمایا نہیں ہے کوئی مومن اور کوئی کافر کہ اس کے لئے جنت میں اور دوزخ میں ایک واضح ٹھکانہ ہے۔ جب جنت والے جنت میں داخل ہوں گے اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہوں گے اور اپنے ٹھکانوں میں داخل ہوجائیں گے تو دوزخ والوں کے لئے جنت کو اوپر اٹھایا جائے گا تو وہ لوگ اپنے ٹھکانوں کو اس میں دیکھیں گے کہا جائے گا یہ تمہارے ٹھکانے ہیں اگر تم اللہ کی اطاعت والے عمل کرتے پھر کہا جائے گا اے جنت والو تم جو عمل کرتے رہے تو ان کے ٹھکانوں (یعنی محلات) کو جنت والوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔
قبر سے نکلنے کے بعد اہل ایمان کا استقبال
(11) امام ابن ابی حاتم نے ابو معاذبصری ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے جب وہ اپنی قبروں سے نکلیں گے تو سفید اونٹنیاں ان کے استقبال کے لئے ہوں گی جن کے پر ہوں گے اور سونے کے کجاوے ہوں گے۔ ان کے جو توں کے تسمے ایسے نور سے ہو نگے جو چمک رہا ہوگا۔ ان کا ہر قدم حدنگاہ تک ہوگا وہ ایک درخت کی طرف پہنچیں گے کہ اس کی جڑ سے دو چشمے پھوٹیں گے ان میں سے ایک سے پئیں گے تو ان کے پٹھوں کی میل کچیل سب دھل جائے گی۔ اور دوسرے چشمے سے غسل کریں گے تو ان کی آنکھیں اور ان کے بال کبھی غبار آلود نہ ہوں گے۔ اور ان پر نعمت کی تروتازگی جاری ہوگی۔ پھر وہ جنت کے دروازہ پر پہنچیں گے تو اچانک سرخ یاقوت کا حلقہ ہوگا سونے کی سطح پر وہ لوگ حلقہ کی سطح پر ماریں گے تو اس سے بچنے کی آواز سنی جائے گی۔ وہ آواز پہنچے گی تو ہر حور کہ اس کا خاوند آپہنچا ہے پھر وہ اس کے متولی کو بھیجے گی اور وہ دروازہ کھولے گا۔ جب اس کی نظر اس پر پڑے گی تو سجدہ کرتے ہوئے گرجائے گا اس سے کہے گا اپنے سر کو اٹھائے بلاشبہ میں تیرا خادم ہوں میں تیرے حکم کے لئے مقرر کیا گیا ہوں۔ یہ اس کے پیچھے چلے گا اور اس کے قدم کے نشاناتا کی پیروی کرے گا یہ حور تیزی کرنے والی بڑی جلدی سے موتی اور یاقوت کے خیموں سے باہر نکلے گی یہاں تک کہ اس سے معانقہ کرے گی پھر وہ کہے گی تو میرا محبوب ہے اور میں تجھ سے محبت کرتی ہوں اور کبھی ناراض نہیں ہوں گی۔ میں مقیم رہوں گی اور کبھی یہاں سے کوچ نہیں کروں گی پھر وہ داخل ہوگا ایسے محل میں جس کی بلندی ایک لاکھ ذراع ہوگی۔ اس کی تعمیر موتیوں کی چٹان پر ہوگی۔ اس کے ستون زرد سرخ اور سبز ہوں گے اس میں سے کوئی ستون دوسرے کے مشابہ نہیں ہوگا۔ محل میں ستر پلنگ ہوں گے اور ہر پلنگ پر بستر ہوں گے اور ہر بستر پر ستر بیویاں ہوں گی۔ ہر بیوی پر ستر جوڑے ہوں گے۔ جن کے اندر سے ان کی پنڈلیوں کی سفیدی دکھائی دے گی ان سے جماع کا فیصلہ کرے گا پوری رات کی مقدار میں تمہاری راتوں میں سے۔ یہ نہریں ہوں گی ان کے نیچے سے پانی کی ایسی نہریں نکلیں گی جن کا پانی کبھی متغیر ہوگا۔ اگر چاہے تو کھائے گا کھڑے ہو کر اگر چاہے گا بیٹھ کر کھائے گا اگر چاہے گا تکیہ لگا کر کھائے گا پھر (یہ آیت) تلاوت فرمائی۔ لفظ آیت ” ودانیۃ علیہم ضللہا وذلک قطوفھا تذلیلا “ کھانے کی (جب) خواہش کرے گا تو اس کے پاس سفید پرندہ آئے گا۔ تو اپنے پروں کا اونچا کرے گا تو یہ اس کے پہلوں میں سے جو کھانا چاہے گا کھالے گا۔ پھر وہ پرندہ اڑ کر چلا جائے گا۔ پھر ایک فرشتہ آئے گا اور کہے گا۔ لفظ آیت ” سلام علیکم تلکم الجنۃ اور ثتموھا بما کنتم تعلمون “