Ayahs 7:159–162(1) امام فریابی اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ نے فرمایا اے میرے رب ! میں نے پایا ہے ایک امت کو کہ انجیل (یعنی کتاب) ان کے دلوں میں محفوظ ہوگی ؟ فرمایا یہ امت ہوگی تیرے بعد جو احمد کی امت ہے۔ عرض کیا اے میرے رب ! میں نے پایا ہے ایک امت کو جو پانچ نمازیں پڑھیں گے جو کفارہ ہوں گی ان کے درمیان (ہونے والے گناہوں) کا فرمایا یہ احمد کی امت ہے جو تیرے بعد ہوگی۔ عرض کیا اے میرے رب میں پاتا ہوں ایک امت کو جو اپنے مالوں کا صدقہ دیں گے پھر وہ ان کے درمیان لوٹ جائیں گے اور وہ اس کو کھائیں گے۔ فرمایا یہ احمد کی امت ہے جو تیرے بعد ہوگی۔ عرض کیا اے میرے رب مجھے احمد کی امت میں سے کر دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی رضا مندی کی خاطر موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے نازل فرمایا لفظ آیت ” ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون “
(2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابو لیلی کندی (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ بن مسعود ؓ نے (یہ آیت) ” ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون “ پڑھی تو ایک آدمی نے کہا میں نہیں محبوب رکھتا اس بات کو کہ میں ان میں سے ہوجاؤں عبد اللہ نے فرمایا کیوں نہیں (پھر فرمایا) اس کی مثل ہونے کی بنا پر تمہارے نیک لوگ بڑھ جائیں گے۔
(3) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ومن قوم موسیٰ امۃ “ کے بارے میں فرمایا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ بنی اسرائیل نے جب اپنے انبیاء کو قتل کیا اور ان کا انکار کیا اور یہ بارہ قبیلے تھے ان میں سے ایک قبیلہ دوسروں کے ساتھ شریک ہونے سے بری ہوگیا اور معذرت کی اور اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ ان کو دوسرے قبائل سے جدا کر دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے زمین میں ایک سرنگ کھول دی وہ اس میں چلتے رہے یہاں تک کہ چین کے پیچھے جانکلے۔ اور وہ وہیں ہیں اللہ کی طرف ہونے والے جو ہمارے قبلہ کا استقبال کرتے ہیں۔ ابن جریر نے کہا کہ ابن عباس نے فرمایا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” وقلنا من بعدہ لبنی اسرائیل اسکنوا الارض فاذا جاء وعد الاخرۃ جئنا بکم لفیفا “ (الاعراف آیت 104) اور آخرت کے وعدہ سے مراد عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ہیں ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ وہ اس سرنگ میں ڈیڑھ سال تک چلتے رہے۔
(4) امام ابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل اکثر فرقوں میں بٹ گئے ایک فرقہ کے علاوہ سب دوزخ میں ہوں گے۔ اور عیسیٰ کے بعد نصاری بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور ایک فرقہ کے علاوہ سب دوزخ میں ہوں گے اور یہ امت تہتر فرقوں میں بٹے گی ایک کے علاوہ سب دوزخ میں جائیں گے یہود کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق ونہ تعدلون “ اور نصاری کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” منھم امۃ مقتصدۃ “ (المائدہ آیت 66) اور یہ لوگ ہیں جو نجات پائیں گے اور ہمارے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” وممن خلقنا امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون “ یعنی یہ لوگ ہیں جو اس امت میں سے نجات پائیں گے۔
موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی زیارت
(5) امام ابو الشیخ نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ ان چیزوں میں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کی فضیلت عطا فرمائی ایک یہ بھی ہے۔ انہوں نے معراج کی رات کو موسیٰ کی قوم کو دیکھا جو چین کے پیچھے سکونت اختیار کئے ہوئے تھے یہ وہ لوگ تھے جب بنی اسرائیل نے گناہ کئے اور ان لوگوں کو قتل کیا اور ان انبیاء کو قتل کیا کہ انصار کو حکم کرتے تھے انہوں نے اپنے رب کو پکارا اور وہ مقدس زمین میں تھے۔ اور انہوں نے کہا اے اللہ ہم کو نکال دے ان کے درمیان سے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کے لئے زمین میں ایک سرنگ بنا دی وہ اس میں داخ (رح) ہوگئے اور ان کے ساتھ ایک نہر بھی بنا دی اور (اللہ تعالیٰ نے) ان کے آگے نور کے چراغ روشن کر دئیے وہ اس میں ڈیڑھ سال تک چلتے رہے اور (یہ سفر) بیت المقدس سے ان کی بیٹھنے کی جگہ کی طرف تھا۔ جس میں وہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس زمین کی طرف نکال دیا کہ اس میں شیز جانور درندے باہم مل جل کر رہتے ہیں۔ وہاں گناہ اور معصیت کا کوئی تصور نہیں نبی ﷺ اس رات ان کے پاس تشریف لائے اور آپ کے ساتھ جبرئیل (علیہ السلام) بھی تھے۔ یہ لوگ آپ پر ایمان لائے ان کی تصدیق کی اور ان کو نماز سکھائی اور انہوں نے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو اس بارے میں بشارت دی تھی۔
(6) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون “ کے بارے میں فرمایا کہ تمہارے اور ان کے درمیان ایک ریت کی نہر جاری ہے۔
(7) امام ابن ابی حاتم نے صفوان ابن عمرو (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” وممن خلقنا امۃ یھدون بالحق “ یعنی دو قبیلے تھے بنی اسرائیل کے قبیلوں میں سے جنہوں نے بڑی گھمسان کی جنگ کی، جنگ کے دن لوگ مدد کرتے تھے تو اسلام اور اسلام والوں کی۔
(8) امام ابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ کے کچھ بندے تھے اندلس کے پاس ہمارے اور اندلس کے درمیان یہ نہیں دیکھا گیا کہ مخلوق نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہو۔ ان کی کنکریاں موتی اور یاقوت ہیں اور ان کے پہاڑ سونے اور چاندی کے ہیں نہ وہ کھیتی کرتے ہیں نہ وہ کھیتی کو کاٹتے ہیں اور نہ وہ کوئی کام کرتے ہیں ان کے دروازوں پر درخت ہیں جس کے چوڑے پتے ہیں وہی ان کا لباس ہے۔ اور ان کے دروازوں پر ایسے درخت ہیں جن پر پھل لگا ہوا ہے۔ اور اس میں سے کھاتے ہیں۔
وقولہ تعالیٰ : فانبجست منہ اثنتا عشرۃ دینا :
(9) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” فانبجست “ یعنی پھوٹ پڑے۔
(10) امام طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ نافع بن ارزق نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” فانبجست منہ اثنتا عشرۃ عینا “ کے بارے میں بتائیے تو فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایک چٹان میں سے بارہ چشمے جاری فرما دئیے کہ یہ قبیلہ کا ایک چشمہ تھا جس میں سے وہ پیتے تھے۔ عرض کیا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے بشر بن ابی حازم کا قول نہیں سنا ؟ وہ فرماتے ہیں۔
فاسلبت العینان منی بوا کیف کما انھل من واھی الکلی المتبجس
ترجمہ : میری دونوں آنکھیں موسلا دھار آنسو بہاتی ہیں جیسے کمزور گردے والے کا پیشاب بہتا ہے۔
Ayahs 7:163–166(1) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور وہ (یہ آیت) ” وسئلہم رن القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر “ پڑھ رہے تھے۔ فرمایا اے عکرمہ ! کیا تو جانتا ہے یہ بستی کو نسی تھی عرض کیا نہیں فرمایا وہ ایلہ تھی۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وسئلہم عن القریۃ “ میں ” قریہ “ سے مراد طبریہ ہے۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وسئلہم عن القریۃ “ سے مراد وہ بستی ہے جس کو مقناطیسی کہا جاتا ہے۔ مدین اور عینونا کے درمیان ہے۔
(4) امام عبد بن حمید نے سعید بن جبیر سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وسئلہم عن القریۃ “ سے مدینہ مراد ہے۔
(5) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اذیعدون فی السبت “ سے مراد ہے کہ وہ ظلم کرتے ہیں۔
(6) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” شرعا “ سے مراد ہے ہر جگہ سے۔
(7) امام ابن جریر نے ابن عباس سے روایت کیا کہ ” شرعا “ سے مراد ہے پانی پر ظاہر ہونا۔
(8) امام ابن جریر نے ابن عباس سے روایت کیا کہ ” شرعا “ سے مراد ہے پانی پر آنے والی مچھلیاں۔
(9) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وسئلہم عن القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر “ سے مراد وہ بستی ہے جو ایسے سمندر کے کنارہ پر ہے جو مصر اور مدینہ کے درمیان ہے۔ اس کو ایلہ کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سنیچر کے دن کو ان پر مچھلیاں حرام کردیں چناچہ ہفتہ کے دن ان کے پاس ہر جانب سے مچھلیاں ساحل سمندر پر آجاتیں جب ہفتہ کا دن گزر جاتا تو وہ ان پر قادر نہ ہوتے تھے اسی طرح وہ ٹھہرے رہے جب تک اللہ نے چاہا پھر ایک جماعت نے ان میں سے سنیچر کے دن مچھلیاں پکڑیں ایک جماعت نے ان کو روکا وہ گمراہی میں اور زیادہ ہوگئے منع کرنے والوں میں سے ایک جماعت نے کہا تم جانتے ہو یہ ایسی قوم ہے کہ ان پر عذاب ثابت ہوچکا ہے (فرمایا) لفظ آیت ” لم تعظون قوما اللہ مھلکم “ اور وہ دوسری جماعت سے سخت ناراض اور غصے ہوتے اور ان تمام افراد سے بھی جو ان کو منع کرتے تھے جب ان پر اللہ کا غضب اور عذاب واقع ہوا تو دو جماعتوں نے نجات پائی جنہوں نے کہا تم کیوں نصیحت کرتے ہو اور وہ لوگ (جنہوں نے کہا تھا لفظ آیت ” قالوا معذرۃ الی ربکم “ اور اللہ تعالیٰ نے گناہ کرنے والوں کو ہلاک کردیا جنہوں نے مچھلیاں پکڑیں۔ (ہفتہ کے دن) تو ان کو بندر بنا دیا۔
یہود ہفتہ کے دن کی تعظیم کرتے ہیں
(10) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وسئلہم عن القریۃ ‘ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر ایک دن کو فرض فرمایا جیسے تم پر جمعہ کا دن فرض فرمایا تو انہوں نے ہفتہ کے دن کی تعظیم کرنے کی مخالفت کی اور جو حکم کئے گئے پھر ان کو چھوڑ دیا جب انہوں نے ہفتہ کے دن زیادتی کی تو اس دن میں امتحان میں مبتلا کئے گئے ان پر مچھلیاں ظاہر ہوجاتی تھیں اور وہ سمندر میں سے ہر طرف ان کو دیکھتے تھے۔ جب ہفتہ کا دن ختم ہوجاتا تو وہ چلی جاتیں۔ پھر وہ مچھلیاں کو نہ دیکھتے مگر آئندہ آنے والے ہفتہ کے دن جب ہفتہ کا دن آتا تو لوٹ آتیں اور ظاہر ہوجاتیں پھر ان میں سے ایک آدمی مچھلی کو پکڑتا اور اس کو ایک دھاگہ سے باندھ دیتا پھر اس دھاگہ کو ساحل میں اور کیل سے باندھ دیتا۔ اور (باندھنے کے بعد) پانی میں چھوڑ دیتا۔ جب کل کا دن ہوتا اس کو پکڑ کر چھپ کر کھا لیتا۔ انہوں نے اس طرح کیا اور وہ لوگ ان کو دیکھ رہے تھے ان کو روکتے تھے مگر جو ان میں باقی تھے (مچھلی کا شکار نہ کرنے والے) انہوں نے ان کو منع کیا یہاں تک کہ جب (یہ مچھلیاں علانیہ طور پر بازاروں میں طاہر ہونے لگیں تو ایک جماعت نے کہا ان لوگوں کے لئے جو منع کرتے تھے لفظ آیت ” لم تعظوا قوما اللہ مہلکہم او معذبھم عذابا شدیدا “ انہوں نے کہا لفظ آیت ” معذرۃ الی ربکم “ تاکہ تمہارے رب کے دربار میں معذرت پیش کرسکیں۔ ” ولعلہم یتقون “ (شائد کہ وہ ڈریں) تو اس طرح تین گروہوں میں بٹ گئے ایک تہائی نے منع کیا اور دوسری تہائی نے کہا ” لم تعظون “ (یعنی تم کیوں نصیحت کرتے ہیں تیسری تہائی گناہ کرنے والے تھے۔ تو نہیں نجات پائی مگر ان لوگوں نے جنہوں نے منع کیا اور باقی سب ہلاک ہوگئے۔ جو لوگ منع کرتے تھے وہ صبح کو اپنی مجلسوں میں آئے تو انہوں نے ان لوگوں کو گم پایا اور ان کو نہ دیکھا اور انہوں نے اس حال میں رات گزاری تھی کہ انہوں نے گھروں کے دروازے بند کر دئیے تھے۔ اور انہوں نے کہنا شروع کیا کہ لوگوں کے کئی حالات ہوئے ہیں تم دیکھو کہ ان کا کیا حال ہے اور ان کے گھروں میں داخل ہوئے تو دیکھا قوم کی شکلیں مسخ کردی گئیں وہ انہوں نے پہچان لیا کہ فلاں آدمی بندر بنا دیا گیا ہے اور فلاں عورت کو بندریا بنا دیا گیا۔
بنی اسرائیل کی سرکشی
(11) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے سنن میں عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ میں ایک دن ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور وہ رو رہے تھے اللہ کی کتاب ان کی گود میں تھی میں نے کہا آپ کیوں روتے ہیں ؟ اے ابن عباس فرمایا یہ وہ اوراق ہیں جن میں سورة اعراف لکھی ہے فرمایا تو ایلہ کو جانتا ہے میں کہا ہاں فرمایا وہاں یہودیوں میں سے ایک قبیلہ تھا کہ ہفتہ کے دن ان کی طرف مچھلیاں آتی تھیں پھر وہ پانی میں غوطہ لگا جاتی تھیں (یعنی غائب ہوجاتی تھیں) تو وہ اس پر ان کو نہ پکڑ سکتے تھے یہاں تک کہ وہ اس پر غوطلہ لگاتے تھے (پکڑنے کے لئے) بڑی کوشش اور سخت محنت کے ساتھ اور ہفتہ کے دن وہ ظاہر ہوتی تھیں سفید اور اتنی موٹی مچھلیاں گویا کہ وہ حاملہ ہیں کچھ عرصہ تک وہ اس حال پر رہے پھر شیطان نے ان کے دل میں ڈالا کہ تم کو کھانے سے منع کیا گیا ہے تو تم ہفتہ کے دن ان کو پکڑ لیا کرو اور دوسرے دنوں میں کھالیا کرو۔ ان میں سے ایک جماعت نے یونہی کہا اور دوسری جماعت نے اپنے آپ کو اپنے بیتوں کو اور اپنی عورتوں کو (شکار کے لئے تیار کیا) اور دائیں طرف والی جماعت الگ ہوگئی اور بائیں طرف والی جماعت بھی الگ ہوگئی اور خاموش ہوگئی دائیں طرف والوں نے کہا تمہارے لئے ہلاکت ہے۔ اللہ کی نافرمانی نہ کرو اور بائیں طرف والوں نے کہا لفظ آیت ” لم تعظون قوما اللہ مہلکہم او معذبھم عذابا شدیدا “ دائیں طرف والوں نے کہا لفظ آیت ” معذرۃ الی ربکم ولعلہم یتقون “ اگر وہ باز آگئے تو وہ زیادہ محبوب ہے ہمارے طرف کہ وہ تکلیف میں مبتلا کئے جائیں اور نہ وہ ہلاک کئے جائیں اگر وہ باز نہ آئے تو معذرت پیش کرسکیں گے تمہارے رب کی طرف (مگر) وہ لوگ گناہ اور غلطی کرتے رہے (یعنی لگے رہے) تو دائیں طرف والوں نے کہا تم اس طرح کیوں کر رہے ہو اے اللہ کے دشمنو ؟ اللہ کی قسم آج کی رات ہم تم کو تمہارے شہر میں چھوڑ کر جائیں گے۔ اور اللہ کی قسم تم صبح دکھائی نہیں دے گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تم کو صبح تک دھنسا دے گا یا پتھر پھینکے گا یو بعض وہ عذاب تم کو دے گا جو اس کے پاس ہے۔ جب صبح ہوئی لوگوں نے ان کے دروازوں کو کھٹکھٹایا آوازیں دیں مگر جواب نہ ملا پھر انہوں نے سیڑھیاں رکھ کر ایک آدمی کو شہر کی فصیل پر چڑھایا اس نے ان کی طرف دیکھا تو اس نے کہا اللہ کی قسم اللہ کے یہ بندے بندر بن چکے ہیں ان کی دمیں لٹک رہی ہیں انہوں نے دروازوں کو کھولا اور ان پر داخل ہوئے تو بندروں نے پہچان لیا اپنے رشتہ داروں کو انسانوں میں سے مگر انسان نے نہیں پہچانا اپنے رشتہ داروں کو بندروں میں سے وہ بندر آتے اپنے رشتہ داروں کے پاس انسانوں میں سے اس کے کپڑوں کو سونگھتے اور رونے لگے اس نے کہا کیا میں نے تم کو منع نہیں کیا تھا تو اس نے اپنے سر سے (اشارہ کرتے ہوئے) کہا ہاں پھر ابن عباس ؓ نے (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت ” فلما نسوا ما ذکروا بہ انجینا الذین ینھون عن السوء واخذنا الذین ظلموا بعذاب بئیس “ فرمایا بئیس کا معنی ہے دردناک اور سخت تکلیف وہ عذاب فرمایا کہ پس ان لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ جنہوں نے منع کیا تھا وہ نجات پاگئے اور دوسروں کو میں نے نہیں دیکھا جن کا ذکر کیا گیا۔ اور ہم کئی چیزوں کو دیکھتے ہیں جن کو ہم انکار کردیتے ہیں اور ہم ان کے بارے میں کچھ نہیں کہتے۔ میں نے کہا یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ پر قربان ہونے کے لئے بنایا ہے کیا آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے ناپسند کیا ان کے عمل کو اور ان کی مخالفت کی اور انہوں نے کہا لفظ آیت ” لم تعظون قوما اللہ مہلکہم “ پھر آپ نے مجھ کو حکم فرمایا تو میں نے دو موٹے کپڑے پہن لئے۔
ایلہ کے رہنے والوں کی سرکشی
(12) امام ابع بن حمید نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ دریا کے کنارہ پر ایک بستی تھی جس کو ایلہ کہا جاتا تھا دریا کے کنارہ پر پتھر کے دو بت تھے جن کا منہ پانی کی طرف تھا ان میں سے ایک کو لقیم اور دوسرے کو لقمانہ کیا جاتا تھا اللہ تعالیٰ نے مچھلیوں کو حکم فرمایا کہ ہفتہ کے دن بتوں کی طرف جائیں اور بستی والوں کو حکم فرمایا کہ میں نے مچھلی کو حکم دیا ہے کہ وہ ہفتہ کے دن بتوں کی طرف جائیں تم میں سے کوئی اس دن نہ مچھلیوں سے تعرض کرے اور نہ ان کو کوئی روکے جب ہفتہ کا دن گزر جائے تو تم کو اجازت ہے کہ تم اس کا شکار کرو۔ جب ہفتہ کے دن کی فجر طلوع ہوئی تو مچھلیاں ان بتوں کے پاس آئیں اور کئی پکڑنے والے شکار سے باز نہ رہے اور ہفتہ کے دن شہر میں مچھلی عام ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑیں گے اور ہم اتوار کے دن کو کھائیں گے جب دوسرا ہفتہ آیا تو پہلے کی نسبت زیادہ مچھلیاں آئیں اور دوسرے ہفتہ شہر میں مچھلیوں کی بہتات ہوگئی۔ تو ان میں سے ایک جماعت ان کی طرف ہوگئی ان کو نصیحت کرتے ہوئے کہا اللہ سے ڈرو پھر ایک دوسری جماعت نے ان سے کہا لفظ آیت ” لم تعظون قوما اللہ مہلکہم او معذبھم عذابا شدیدا، قالوا معذرۃ الی ربکم ولعلہم یتقون “ جب ان ہفتوں میں سے ایک ہفتہ تھا تو مچھلیاں شہر میں پھیل گئیں۔ وہ لوگ کھڑے ہوئے جنہوں نے برائی سے روکا تھا اور کہنے لگے ہم نے کہا ہم اس بستی میں تمہارے ساتھ رات نہیں گزاریں گے ان سے کہا گیا اگر تم نے صبح کی تو تم اپنی اولاد اور اپنی عورتوں کے ساتھ انہوں نے کہا ہم اس بشتی میں تمہارے ساتھ آج کی رات نہیں گزاریں گے اگر ہم نے صبح کی تو ہم اپنی اولادوں اور اپنے سامان کو تمہارے درمیان سے نکال لیں گے۔ یہ قوم دونوں کناروں پر آباد تھی جب شام ہوئی تو انہوں نے اپنے دروازے بند کر لئے جب صبح ہوئی تو قوم کی کوئی آواز نہ سنائی دی اور نہ چراغ دیکھا جیسے لے کر کوئی بستی سے باہر نکلا لوگوں نے کہا بستی والوں پر کوئی مصیبت پہنچ گئی ہے انہوں نے اس میں سے ایک آدمی کو بھیجا کہ ان کو دیکھے جب وہ بستی میں آیا تو دروازے بند تھے تو وہ ایک گھر میں جھانکا تو وہ سب کے سب بندر تھے عورتیں مؤنث اور مرد مذکر صنف بنے ہوئے تھے۔ پھر اس نے دوسرے گھر کی طرف جھانکا تو اسی طرح بچھے چھوٹے بندر بنے ہوئے تھے اور بڑے آدمی بڑے بندر بن چکے تھے وہ آدمی قوم کی طرف واپس آیا اور کہا اے میری قوم بستی والوں پر وہ عذاب آچکا ہے جس سے تم ڈراتے تھے وہ سب کے سب بندر بن چکے ہیں اور دروازوں کو نہیں کھول سکتے یہ لوگ ان پر داخل ہوئے تو وہ سب کے سب بندے تھے ایک آدمی نے ان میں سے ایک بندر کی طرف اشارہ کیا کہ تو فلاں ہے اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا ہاں اور وہ رو رہے تھے۔ ان لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ تم کو برباد کرے ہم اس عذاب سے تم کو ڈراتے تھے انہوں نے ان کے دروازے کھول دئیے تو وہ نکل گئے اور جنگل کی طرف چلے گئے۔
(13) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا منع کرنے والے نجات پاگئے اور نافرمانی کرنے والے ہلاک ہوگئے میں تمہیں جانتا کہ خاموش رہنے والوں کے ساتھ کیا ہوا۔
(14) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کی قسم اگر میں جان لوں کہ وہ قوم جنہوں نے کہا لفظ آیت ” لم تعظون قوما “ کہ وہ نجات پاگئے ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے برے کام سے منع کیا مجھے زیادہ محبوب ہے اس سے جس کے سبب عدول کیا گیا اور دوسرے لفظ میں ہے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہے لیکن میں ڈرتا ہوں کہ وہ عذاب ان سب پر نازل ہوا۔
(15) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا میں ان لوگوں کے بارے میں نہیں جانتا جنہوں نے کہا تم اس قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو کیا انہوں نے نجات پایہ یا نہیں ؟ پھر فرمایا میں مسلسل آپ کے ساتھ غور و فکر کرتا رہا یہاں تک کہ آپ کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ تحقیق نجات پاگئے۔ تو پھر آپ نے مجھے ایک جبہ پہنایا۔
(16) امام عبد بن حمید نے لیث بن ابی سلیم (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ پتھروں (کی شکل میں) مسخ کر دئیے گئے جنہوں نے کہا تھا لفظ آیت ” لم تعظون قوما مہلکہم “ (تم اس قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ تعالیٰ ہلاک کرنے والا ہے) ۔
(17) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وسئلہم عن القریۃ التی “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایک مچھلی تھی جسے اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام کردیا ایک دن میں۔ اور باقی دنوں میں ان کے لئے حلال کردیا گیا اور مچھلیاں ان کے پاس آتی تھیں اس دن میں جس کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام کردیا تھا گویا کہ وہ ایک الولادت اونٹنی ہے۔ جس سے ہر ایک کو روکا جاتا ہے چناچہ وہ اسے روکنے اور پکڑنے کی کوشش اور ارداہ کرنے لگے اور میں نے دیکھا ہے کہ جب کوئی بھی کثرت سے گناہ کرتا ہے تو وہ اسے کر گزرتا ہے۔ چناچہ وہ اہتمام کرتے رہے اور اسے روکنے کی کوشش کرتے رہے یہاں تک کہ وہ اسے پکڑنے میں کامیاب ہوگئے اور اسے کھالیا۔ اللہ کی قسم وہ سب سے زیادہ ثقیل اور نہ ہضم ہونے والا کھانا ہے جس قوم نے کبھی بھی اسے کھایا تو اس نے دنیا میں اسے پریشان اور رسوا باقی رکھا۔ اور آخرت میں اس کی سزا انتہائی شدید اور سخت ہے۔ اور اللہ کی قسم ! مؤمن کے لئے بری حرمت ہے اللہ کے نزدیک مچھلی سے بڑھ کر لیکن اللہ عزوجل نے قیامت قائم ہونے کا وعدہ کر رکھا ہے اور قیامت کا دن انتہائی شدید اور سخت تکلیف دہ ہے۔
(18) امام ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ نے ایک آدمی کو پکڑ لیا۔ جو ہفتہ کے دن لکڑیاں اٹھائے جا رہا تھا اور موسیٰ ہفتہ کا دن منا رہے تھے پھر آپ نے اسے سولی پر چڑھا دیا۔
(19) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ہفتہ کے دن لکڑیاں چنیں اور داؤد (علیہ السلام) ہفتہ کا دن منا رہے تھے پھر آپ نے اسے سولی پر لٹکا دیا۔
(20) امام عبد بن حمید نے ابوبکر بن عیاش (رح) سے روایت کیا کہ عاصم سے یہ حفظ کیا لفظ آیت ” بعذاب بئیس “ بروزن فعیل پھر مجھ سے اس میں سے شک داخل ہوگیا تو میں نے چھوڑ دیا اس کی روایت کو عاصم (رح) سے اور میں نے اعمش سے لے لیا۔ کہ ” بعذاب بئیس “ فعیل کے معنی پر۔
(21) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” بعذاب بئیس “ سے مراد ہے کہ اس عذاب میں کوئی رحمت (یعنی نرمی) نہ ہوگی۔
(22) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” بعذاب بئیس “ یعنی دردناک (عذاب) ۔
(23) امام عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” بعذاب بئیس “ سے مراد ہے سخت دردناک۔
(24) امام ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ تین آوازوں میں پکارا گیا ان لوگوں کو جنہوں نے ہفتہ کے دن میں زیادتی کی تھی ایک آواز لگائی گئی اے بستی والو ! تو ایک جماعت رک گئی پھر آواز دی گئی اے بستی والوں ! تو ایک جماعت رک گئی جو پہلے سے زیادہ تھی۔ پھر آواز دی گئی اے بستی والو ! تو مرد عورتیں اور بچے رک گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ لفظ آیت ” کونوا قردۃ حسبین “ جن لوگوں نے ان کو منع کیا تھا وہ ان پر داخل ہوئے اور کہتے تھے اے فلاں میں نے تم کو منع نہیں کیا تھا تو وہ اپنے سروں کو ہلا کر جواب دیتے ہاں کیوں نہیں۔
(25) امام عبد بن حمید نے سعید بن جبیر اور ماھان حنفی (رح) دونوں حضرات سے روایت کیا کہ جب وہ مسخ کر دئیے گئے تو ہر آدمی کے مشابہ بند بنا دیا گیا جب اسے کہا جاتا کہ تو فلاں ہے تو وہ اپنے ہاتھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا کہ میرے ہاتھوں کا کیا ہوا ہے۔
حرام کو حلال کرنے کا حیلہ بھی حرام ہے
(26) امام ابن بطہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (ایسے گناہوں کا) ارتکاب نہ کرو جو یہودیوں نے ارتکاب کیا اور انہوں نے اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو ادنی حیلے بہانے سے حلال کرلیا۔
(27) امام ابو الشیخ نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں نے عبد اللہ بن عبد العزیز العمری (رح) سے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے بارے میں کہا کہ آپ ان کو حکم کرتے ہو جو وہ آپ سے قبول نہیں کریں گے تو انہوں نے فرمایا کہ یہ معذرت ہوگی (میری طرف سے اللہ کے دربار میں) اور یہ آیت پڑھیں لفظ آیت ” قالوا معذرۃ الی ربکم “۔
Ayahs 7:167–168(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذتاذن ربک “ (الآیہ) کے بارے میں فرمایا یعنی اللہ تعالیٰ ایسے جابر بھیجتا رہے گا جو ان کو بڑا عذاب دیتے رہیں گے وہ اور محمد ﷺ اور ایک امت سے قیامت تک آنے والی اور ” سوء العذاب “ سے جزیہ مراد ہے۔
(2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذ تاذن ربک “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ یہودی ہیں ان پر عربوں کو مسلط کیا گیا جو ان سے خراج وصول کرنے لگے اور یہ بڑا عذاب ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے سوا کسی نبی نے خراج وصول نہیں کیا آپ نے تیرہ سال تک خراج پھر اس سے روک دیا گیا اور نبی ﷺ نے ” وقطعنھم “ کے بارے میں فرمایا کہ اس میں بھی یہود کا تذکرہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں پھیلا دیا اور زمین میں کوئی ٹکڑا ایسا نہیں ہے کہ اس میں سے ایک جماعت اس میں سے نہ ہو۔
(3) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن منذر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذ تاذن ربک “ کے بارے میں فرمایا کہ تیرے رب نے یہ اعلان فرمایا کہ ضرور بھیجا جائے گا ان پر یعنی یہود و نصاری پر قیامت کے دن تک لفظ آیت ” من یسومھم سواء العذاب “ (جو انہیں عذاب چکھائیں گے) تو اللہ تعالیٰ نے ان پر محمد ﷺ کی امت کو بھیجا کہ وہ اس سے لیتے ہیں جزیہ اور وہ ذلیل ہوتے ہیں لفظ آیت ” وقطعنھم فی الارض امما “ یعنی یہود (تو ہم نے ان کو کئی گروہوں میں بانٹ دیا) ” ومنھم الصلحون “ ان میں سے کچھ نیک ہیں اور وہ مسلمان اہل کتاب ہیں ” ومنھم دون ذلک “ اور کچھ ان کے سوا ہیں یعنی یہود ” وبلونھم بالحسنت “ اور ہم نے ان کو آزمایا نرمی اور عافیت کے ساتھ ” والسماء “ اور آزمائشوں اور سزا کے ساتھ۔
(4) امام ابن الانباری نے الوقف والابتداء میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” وقطعنھم فی الارض امما “ کے بارے میں بتائیے کہ ” امما “ سے کیا مراد ہے انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے گروہ اور فرقے اور اس میں بشر بن ابی حازم نے فرمایا :
من قیس غیلان فی ذوابءھا منھم وھم بعد قادۃ الأہم
ترجمہ : وہ قیس غیلان سے ہیں اور انہیں میں سے کچھ پہاڑ کی چوٹیوں پر موجود ہیں اور یہی لوگ بعد میں جماعتوں کے قائد ہے۔
(5) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وبلونھم بالحسنت والسیئات “ یعنی ہم نے ان کو آزمایا خوشحالی اور تنگدسی کے ساتھ۔
Ayahs 7:169–170دنیا کی خاطر دین فروشی سخت گناہ ہے
(1) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس آیت لفظ آیت ” فخلف من بعدھم خلف ورثوا الکتب یاخذون عرض ھذا الادنی “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ (بعض) قومیں دنیا کی طرف متوجہ ہوگئیں اسے خوب کھاتے ہیں اور قرآن مجید کی رخصتوں کی پیروی کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں عنقریب ہم کو بخش دیا جائے گا اور ان کے لئے کوئی چیز دنیا میں سے پیش کی جاتی ہے تو اسے پکڑ لیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ضرور ہم کو بخش دیا جائے گا۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فخلف من بعدھم خلف “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے انصاری مراد ہیں لفظ آیت ” یاخذون عرض ھذا الادنی “ کے بارے میں فرمایا دنیا کی جو چیز بھی مل جائے چاہے وہ حلال ہو یا حرام ہو وہ اس کی خواہش کرتے ہوئے اس کو لے لیتے ہیں اور وہ مغفرت کی تمنا کرتے ہیں اگر وہ پائیں گے اس کے مثل کسی دوسری چیز کو تو اس کو بھی لے لیں گے۔
حلام و حرام میں تمیز کا نر ایمان کا تقاضا ہے
(3) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فخلف من بعدھم خلف “ یعنی جن چیزوں تک وہ پہنچیں انہیں لے لیتے ہیں اور جن کو چاہیں چھوڑ دیتے ہیں حلال میں سے یا حرام میں سے اور وہ کہتے ہیں عنقریب ہم کو بخش دیا جائے گا۔
(4) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فخلف من بعدھم خلف “ یعنی ناخلف نااہل وارث ” ورثوا الکتب “ یعنی وہ ناخلف وارث ہوئے ہیں انبیاء اور رسولوں کے بعد جن کو اللہ تعالیٰ نے کتاب کا وارث بنایا اور ان سے وعدہ لیا لفظ آیت ” یاخذون عرض ھذا الادنی ویقولون سیغفرلنا “ یعنی ان کی امیدیں جو وہ اللہ پر امیدیں باندھتے ہیں اور وہ دھوکہ میں ہیں کہ جس کے ذریعہ وہ دھوکہ کھاتے ہیں لفظ آیت ” وان یاتھم عرض مثلہ یاخذوہ “ یعنی ان کو نہیں مشغول کرتی کوئی چیز کسی چیز سے اور کوئی چیز ان کو اس بات سے نہیں منع کرتی۔ اور جب بھی ان کے لئے کوئی چیز دنیا میں سے پیش کی جاتی ہے تو اس کو لے لیتے ہیں اور وہ حلال یا حرام کی پرواہ نہیں کرتے۔
(5) امام سعید بن منصور، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور بیہقی نے الشعب میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یاخذون عرض ھذا الادنی ویقولون سیغفرلنا “ یعنی وہ گناہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم کو عنقریب بخش دیا جائے گا۔
(6) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” یاخذون عرض ھذا الادنی ویقولون سیغفرلنا “ کے بارے میں فرمایا وہ دنیا کے سامان میں سے جو بھی ان کے پاس آجائے وہ اسے لے لیتے ہیں اور پھر وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور اس کی طرف توبہ کرتے ہیں۔
(7) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل کسی کو بھی قاضی مقرر نہیں کرتے تھے مگر ایسے شخص کو جو فیصلہ کرتے وقت رشوت لیتا ہے اسے کہا جاتا وہ کہتا کہ عنقریب مجھ کو بخش دیا جائے گا۔
(8) امام ابو الشیخ نے ابو الجلد (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان کے سینے قرآن سے ویران ہوں گے اور وہ اس طرح گرنے لگیں گے اور بوسیدہ ہوجائیں گے جیسے کپڑے بوسیدہ ہوتے ہیں وہ نہیں پائیں گے اپنے لئے نہ کوئی مٹھاس اور نہ لذت، وہ رک جائیں گے ان کاموں سے جن کا حکم دئیے گئے اور یہ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے اور وہ عمل کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا تھا اور یہ کہیں گے عنقریب ہماری مغفرت کردی جائے گی ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتے ان کا سارا کام لالچ کے طور پر ہوگا اور ان میں خوف نہیں ہوگا۔ وہ بھیڑوں کے دلوں پر بھیڑوں کے چمڑے پہنا دیں گے۔ ان کا افضل وہ ہوگا جو فی نفسہ دھوکہ باز ہوگا۔
(9) امام ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ مؤمن جانتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ویسے ہی ہوگا۔ اور مؤمن عمل کرنے والے اور لوگوں میں سے (اللہ تعالیٰ سے سخت ڈرنے والا ہے اگر اپنے مال میں سے پہاڑ کے برابر خرچ کر ڈالے جو ریا کاری اور دکھاوے سے محفوظ ہو تو وہ بھی اس کی اصلاح نیکی اور عبادت میں اضافہ نہیں کرسکتا۔ مگر زیادہ ہوتا ہے خوف میں اور کہتا ہے کہ نجات پاجاؤں گا اور منافق کہتا ہے کہ عوام الناس بہت زیادہ ہیں مجھے بخش دیا جائے گا اور میرے لئے کوئی حرج نہیں اور وہ برے عمل کرتا ہے اور اللہ پر امید رکھتا ہے۔
(10) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” الم یؤخذ علیہم میثاق الکتب ان لا یقولوا علی اللہ الا الحق “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنے ایسے گناہوں کو بخشش کے لئے اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے جن کا ارتکاب وہ بار بار کرتے ہیں۔ اور اس سے توبہ بھی نہیں کرتے۔
(11) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ودرسوا ما فیہ “ کے بارے میں فرمایا کہ جو کچھ انہوں نے کتاب میں پڑھا (پھر بھی) جہالت کی وجہ سے انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا۔
(12) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والذین یمسکون بالکتب “ یعنی وہ لوگ جو ان میں سے ایمان والے ہیں۔
(13) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والذین یمسکون بالکتب “ یعنی یہود اور نصاری میں سے جنہوں نے کتاب کو مضبوطی سے پکڑے رکھا۔
(14) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” یمسکون بالکتب “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے وہ کتاب مراد ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے۔
Ayah 7:171(1) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذنتقنا الجبل فوقھم کانہ ظلۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے پہاڑ ان کے اوپر اٹھا دیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے لفظ آیت ” ورفعنا فوقھم الطور بمیثاقھم “ (النساء آیت 154) پھر فرمایا لفظ آیت ” خذوا ما اتینکم بقوۃ “ (اس کو مضبوطی سے پکڑ لو) ورنہ میں اس کو تم پر چھوڑ دون گا (یعنی گرا دوں گا) ۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذنقنا الجبل “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کو فرشتے اٹھالائے ان کے سروں کے اوپر اور ان سے کہا گیا لفظ آیت ” خذوا ما اتینکم بقوۃ “ جب وہ اس پہاڑ کی طرف دیکھتے تھے تو کہتے تھے ہم نے (ان کے حکم کو) سنا اور ہم نے اطاعت کی اور جب وہ کتاب کی طرف دیکھتے تھے تو کہتے سنا ہم نے اور ہم نے نافرمانی کی۔
(3) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ میں خوب جانتا ہوں کہ یہودیوں نے ایک حرف پر سجدہ نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” واذ نتقنا الجبل فوقھم کانہ ظلۃ وظنوا انہ واقع بھم “ فرمایا تم میرے حکم ضرور پکڑو ورنہ میں اس پہاڑ کو تم پر پھینک دوں گا انہوں نے سجدہ کیا اور وہ اس کی طرف دیکھ رہے تھے ڈرتے ہوئے کہ وہ ان پر گرجائے اور یہ سجدہ تھا کہ اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوئے تو انہوں نے اس کو ایک طریقہ بنالیا۔
(4) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان کے پاس یہودی اور نصرانی آئے آپ نے یہودی سے فرمایا کس چیز نے تم کو یہ دعوت دی تم اپنی پیشانیوں کے ساتھ سجدہ کرو تو ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو جانتا ہو کہ وہ کیا جواب دے تو آپ نے فرمایا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے سبب سجدہ کیا۔ لفظ آیت ” واذنتقنا الجبل فوقھم کانہ ظلۃ “ پس تم گرپڑے اپنی پیشانیوں کے بل اور تم پہاڑ کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اور نصرانی نے فرمایا تم نے سجدہ کیا مشرق کی طرف اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے لفظ آیت ” اذا نتبذت من اہلہا مکانا شرقیا “۔
(5) امام ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ یہ پہاڑ طور کا پہاڑ تھا جس کو بنی اسرائیل پر اٹھایا گیا تھا۔
(6) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذ نقتنا الجبل “ کے بارے میں فرمایا کہ جیسے تم مکھن کو نکالتے ہو اس طرح ہم نے پہاڑ کو نکالا۔
(7) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ثابت بن الحجاج (رح) سے روایت کیا کہ تورات مکمل طور پر ایک ہی باران پر نال ہوئی تو یہ گراں گزری اور انہوں نے لینے سے انکار کردیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر پہاڑ کو سائبان کی طرح کھڑا کردیا۔ تو اس وقت انہوں نے تورات کو پکڑ لیا۔
پہاڑ کو جڑ سے اکھیڑ کر سر پر لاکھڑا کرنا
(8) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذنتقنا الجبل “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کی جڑ سے اکھاڑ لیا اور ان کے سروں کے اوپر کھڑا کردیا۔ پھر فرمایا تم میرے حکم کو ضرور مان لو یا یہ کہ میں تم پر اس کو پھینک دوں گا۔
(9) امام زبیری بطار نے الموفقیات میں کلبی (رح) سے روایت کیا کہ ہرقل قوم کے بادشاہ نے معاویہ ؓ کی طرف خط لکھا اور ان سے پوچھا شئی کے بارے میں اور لاشئی کے بارے میں اور اس دین کے بارے میں کہ اللہ تعالیٰ اس کے علاوہ کسی اور (دین) کو قبول نہیں فرماتے نماز کی چابی کیا ہے، جنت کے پودے کیا ہیں، ہر چیز کی نماز کیا ہے ان چار چیزوں کے بارے میں کہ، ان میں روح ہے مگر انہوں نے مردوں کی صلبوں اور عورتوں کے رحموں میں حرکت نہیں کی، اس آدمی کے بارے میں کہ جس کا باپ نہیں، اس آدمی کے بارے میں جس کی قوم نہیں۔ اس قبر کے بارے میں جو صاحب قبر کے ساتھ چلتی رہی، قوس قزح کے بارے میں، زمین کے اس ٹکڑے کے بارے میں جس پر سورج ایک مرتبہ طلوع ہوا کہ اس سے پہلے اور اس کے بعد (کبھی) طلوع نہ ہوگا۔ اس کوچ کرنے والے کے بارے میں جس نے صرف ایک مرتبہ کوچ کیا اس سے پہلے اور اس کے بعد (کبھی) کوچ کرے گا، اس درخت کے بارے میں جو بغیر پانی کے لگا اس چیز کے بارے میں جو سانس لیتی ہے (حالانکہ) اس میں روح نہیں ہے۔ آج کا دن گزرا ہو کل کا دن اور آنے والا دن اور برسوں کے دن سے کیا مراد ہے، اور کلام میں اس کے کیا حصے ہیں، اور برق اور اس کی آواز کے بارے میں، اور ستاروں کی ڈبیہ (یعنی کہکشاں) کے بارے میں اور چاند میں دکھائی دینے والے سیاہ داغ کے بارے میں کہ یہ سب کیا ہیں۔ آپ سے کہا گیا کہ یہ آپ کے بس کی بات نہیں۔ اگر غلطی ہوئی کسی چیز کی تیرے اس خط میں جو تو اس کی طرف بھیجے گا تو وہ اس بارے میں تجھ کو طعنہ دے گا (معاویہ ؓ نے فرمایا) کہ ابن عباس کی طرف لکھئے تو انہوں نے ان کی طرف لکھا تو ابن عباس نے یہ جواب دیا کہ شئی سے مراد پانی ہے (کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” وجعلنا من الماء کل شیء حی “ اور ” لاشیء “ مراد ہے کہ وہ دنیا ہے جو ہلاک ہوجائے گی اور فنا ہوجائے گی۔ اور وہ دین جو اللہ تعالیٰ اس کے علاوہ کسی اور دین کو قبول نہیں فرماتے وہ لا الہ الا اللہ ہے اور نماز کی چابی اللہ اکبر ہے اور ” غرس الجنۃ حول ولا قوۃ الا باللہ “ ہے اور ہر چیز کی نماز سبحان اللہ وبحمدہ ہے۔ اور وہ چار چیزیں جن کے اندر روح ہے مگر انہوں نے مردوں کی پشتوں اور عورتوں کے رحموں میں حرکت نہیں کی وہ آدم، حوا، موسیٰ کی لاٹھی اور وہ دنبہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اسحاق کا فدیہ دیا تھا۔ اور وہ آدمی جس کا کوئی باپ نہیں ہے۔ وہ عیسیٰ بن مریم ہیں اور وہ آدمی جس کی کوئی قوم نہیں ہے وہ آدم ہیں اور وہ قبر جو اپنے صاحب قبر کے ساتھ چلتی رہی وہ مچھلی ہے جو یونس کو دریا میں لے کر چلتی رہی۔ اور قوس قزح وہ اللہ کی امان ہے غرق ہونے سے اس کے بندوں کے لئے۔ اور وہ ٹکڑا جس پر سورج صرف ایک مرتبہ طلوع ہوا نہ اس کے بعد اور نہ اس سے پہلے کبھی طلوع ہوا سمند کا وہ مقام ہے جو بنی اسرائیل کے لئے پھٹ گیا تھا اور وہ کوچ کرنے والا جس نے صرف ایک مرتبہ کوچ کیا نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد اس نے کبھی کوچ کیا۔ وہ جبل طور سینا ہے کہ اس کے اور مقدس زمین کے درمیان چار راتوں کی مسافت تھی جب بنی اسرائیل نے نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ نے نور کے دو پروں کے ساتھ اڑا دیا جس میں عذاب کی نشانیاں تھیں اللہ تعالیٰ نے ان پر سایہ کردیا اور ان کو ایک آواز دینے والے نے آواز دی اگر تم تورات کو قبول کرو تو تم سے یہ ہٹا دیا جائے گا۔ ورنہ میں اسے تم پر پھینک دوں گا تو انہوں نے تورات کو پکڑ لیا معذور ہو کر تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی جگہ پر لوٹا دیا اس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” واذنتقنا الجبل فوقھم کانہ ظلۃ “ وہ درخت جو بغیر پانی کے اگا اس سے مراد بغیر تنے کے وہ بیل ہے۔ جو یونس پر اگی تھی اور وہ چیز جو بغیر روح کے سانس لیتی ہے وہ صبح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” والصبح اذا تنفس “ اور یوم سے مراد عمل ہے اور اس سے مراد مثل ہے اور غد سے مراد جل (یعنی موت) ہے اور بعد الغد سے مراد امید ہے اور برق سے مراد وہ کوڑے ہیں جو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں کہ جس کے ذریعہ وہ بادلوں کو مارتے ہیں اور غد ایک فرشتے کا نام ہے جو بادلوں کو چلاتا ہے اور اس کی آواز اس کی ڈانٹ ہے اور مجرہ (یعنی کہکشاں) وہ آسمان کے دروازے ہیں اور اس سے دروازے کھولے جاتے ہیں اور وہ جو چاند میں سیاہ داغ دکھائی دیتا ہے تو اس بارے میں تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے لفظ آیت ” وجعلنا اللیل والنھار ایتین فمحونا ایۃ اللیل “ (الاعراف آیت 22) وہ داغ نہ ہوتا تو رات کو سے نہ پہچانا جاتا تو (یہ جواب) معاویہ نے قیصر کی طرف بھیج دیا اور اس کی طرف اس کے مسائل کا جواب لکھا قیصر نے کہا ان کو نہیں جانتا مگر نبی یا نبی کے گھروالوں میں سے کوئی آدمی (واللہ تعالیٰ اعلم)