Ayahs 7:20–25(1) امام ابن ابی جریر نے محمد بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم اور حوا کو جنت میں ایک درخت کے کھانے سے منع فرمایا شیطان آیا اور سانپ کے پیٹ میں داخل ہوگیا۔ پھر اس نے حوا سے بات کی اور آدم کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہا تمہارے رب نے تم کو اس درخت سے منع نہیں کیا مگر یہ کہ تم دونوں فرشتے بن جاؤ گے یا ہمیشہ رہنے والے ہوجاؤ گے۔ اور اس نے قسمیں کھائیں کہ میں دونوں کو نصیحت کرنے والوں میں سے ہوں (یعنی تمہارا خیرخواہ ہو) حوا نے درخت کو کاٹ ڈالا تو درخت سے خون نکل آیا۔ اور ان دونوں سے ان کا فاخرانہ لباس اتر گیا جو ان پر تھا (اور فرمایا) لفظ آیت ” وطفقا یخصفن علیہما من ورق الجنۃ، ونادھما ربھما الم انھکما عن تلکما الشجرۃ واقل لکما ان الشیطن لکما عدو مبین “ تم نے کیوں کھایا کیا میں نے تجھ کو اس سے نہیں روکا تھا۔ آدم نے عرض کیا اے میرے رب مجھ کو حوا نے کھلایا حوا سے فرمایا تم نے آدم کو کیوں کھلایا اس نے کہا مجھ کو سانپ نے حکم دیا تھا سانپ سے فرمایا تو نے اس کو حکم کیوں دیا ؟ اس نے کہا مجھے ابلیس نے حکم دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ لعنت کیا ہوا اور دھتکارا ہوا ہے۔ اے حوا جیسے تو نے اس درخت سے خون نکالا تجھے بھی ہر چاند میں اس طرح خون آئے گا۔ اے سانپ اپنے پاؤں کاٹ دے۔ تو اپنے چہرے کے بل گھیسٹ کر چلے گا اور عنقریب تیرے سر کو پتھر کے ساتھ کچلے گا جو شخص بھی تجھے ملے گا تم سب نیچے اتر جاؤ۔ تمہارا بعض بعض کے لئے دشمن ہوگا۔
گانے بجانا گمراہی کا ذریعہ ہے
(2) امام ابن منذر نے ابو غنیم سعید بن حدین الحضرمی (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم و حوا کو جنت میں ٹھہرایا تو آدم جنت میں گھومنے کے لئے نکلے۔ ابلیس نے ان کے غائب ہونے کو غنیمت جانا اور اس مکان میں پہنچ گیا جس میں حوا تھی اس نے ایک بانس کے ساتھ سیٹی بجائی جس کو حوا نے سن لیا حالانکہ حوا اور ابلیس کے درمیان ستر خیمے تھے اور بعض بعض کے اندر تھے حوا اس پر جھانکیں ابلیس مسلسل سیٹی بجاتا رہا کہ سننے والوں نے اس طرح کی لذت شہوت اور سماع کبھی نہیں سنا تھا۔ یہاں تک کہ حوا کا عضو دوسرے کے ساتھ باقی نہیں رہا مگر اس میں خلجان اور اضطراب پیدا ہوگیا۔ کہنے لگیں۔ میں اللہ کی تجھ کو قسم دیتی ہوں جو عظیم ذات ہے۔ اگر تو نے مجھ سے دور نہ کیا تو مجھے ہلاک کر دے گا۔ اس نے بانس (یعنی بانسری کو) اپنے منہ سے نکال لیا۔ پھر اس کو الت دیا پھر دوسری آواز میں سیٹی بجنے لگی تو اس سے رونا نوحہ کرنا اور غم برپا ہوگیا۔ سننے والوں نے ایسی آواز نہ سنی تھی یہاں تک کہ اس کا دل کٹنے لگا غم سے اور رونے سے کہنے لگیں میں اس اللہ کی تجھ کو قسم دیتی ہوں جو عظیم ذات ہے تو مجھ سے باز آجا تو وہ رک گیا حوا نے اس سے کہا یہ کیا چیز ہے جو تو لایا ہے۔ (پہلے) تو میں خوش ہوگئی اور (پھر) میں غمگین ہوگئی۔ اس نے کہا میں نے جنت میں تمہارے گھر اور تمہاری عزت جو خاص طور پر تم کو ملی اس کا ذکر کیا۔ اور میں تمہارے اس مقام و مرتبہ سے خوش ہوا۔ اور میں نے یہ بھی ذکر کیا کہ تم دونوں کو اس سے نکال دیا جائے۔ تو میں تمہارے لئے رو دیا۔ اور تمہارے اوپر غم کرنے لگا۔ تمہارے رب نے اس درخت کے کھانے سے تم کو اس لئے منع کیا کہ تم مرجاؤ گے یا تم نکالے جاؤ گے۔ اے حوا میری طرف دیکھ میں اس کو کھاتا ہوں اگر میں مرجاؤں یا میری خلقت میں کوئی تبدیلی آجائے تو پھر تم اس سے نہ کھانا۔ میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ میں تمہارے لئے خیر خواہی کرنے والوں میں سے ہوں۔ ابلیس چلا یہاں تک کہ اس نے اس درخت میں سے لے کر کھالیا اور وہ کہہ رہا تھا اے حوا مجھے دیکھ کیا میری خلقت میں کوئی تبدیلی ہوئی یا کیا میں مرگیا میں نے تجھ کو بتادیا جو کچھ میں نے تجھ کو بتایا تھا۔
آدم (علیہ السلام) جنت کا چکر لگانے کے بعد اپنی جگہ پر واپس آئے تو حوا کو غمزدہ حالت میں اوندھے منہ لیٹے ہوئے دیکھا۔ آدم نے اس اس سے کہا تیرا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا میرے پاس ایک نصیحت کرنے والا مہربان آیا تھا آدم نے فرمایا افسوس ہے تجھ پر شاید کہ وہ ابلیس تھا جس سے اللہ تعالیٰ نے ہم کو ڈرایا ہے حوا نے کہا اے آدم اللہ کی قسم وہ اس درخت کی طرف گیا تھا اور اس میں سے کھایا تھا اور میں نے دیکھا کہ نہ وہ مرا اور نہ اس کے جسم میں کوئی تبدیلی ہوئی۔ حوا برابر آپ کو اس کے دھوکے اور مکر میں ڈالتی رہی۔ یہاں تک کہ آدم و حوا دونوں اس درخت کی طرف چلے۔ آدم نے اپنے ہاتھ کو پھل کی طرف بڑھایا کہ اس کو لے لیں تو جنت کے سب درختوں نے آواز دیاے آدم اس کو نہ کھاؤ اگر تو نے اس میں سے کھالیا تو یہاں سے نکالا جائے گا آدم نے معصیت کا پختہ ارادہ کیا ہوا تھا۔ تو درخت کو لینے کے لئے اس کو پکڑا تو درخت نے لمبا ہونا شروع کیا۔ اور انہوں نے اس کو پکڑنے کے لئے اپنے ہاتھ کو بڑھایا جب اپنا ہاتھ پھل پر رکھا تو وہ سخت ہوگیا جب اللہ تعالیٰ نے معصیت پر ان کے پختہ ارادہ کو دیکھا تب انہوں نے اس پھل کو لیا اور اس میں سے کھالیا۔ اور حوا کو بھی دیا تو انہوں نے بھی کھالیا۔ (کھانے میں) ان کے دن سے جنت کا حسین و جمیل لباس اتر گیا۔ اور ان کی شرم گاہیں ظاہر ہوگئیں تو وہ جنت کے پتوں سے (اپنے بدن کو) ڈھانپنے لگے۔ اور جنت کے پتے چپکانے لگے۔ اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں جو دکھائی دے رہا تھا۔
رب تعالیٰ نے جنت میں ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے آدم تو یہاں سے باہر نکل جا آدم نے عرض کیا اے میرے رب مجھے تیر طرف نکلتے ہوئے حیا آتی ہے۔ فرمایا شاید کہ تو نے اس درخت میں سے کھالیا کہ جس سے میں نے تجھ کو منع کیا تھا۔ عرض کیا اے میرے رب جس کو تو نے میرے ساتھ کردیا ہے یعنی حوا کو اس نے مجھ کو بہکا دیا فرمایا اے آدم تو کب تک چھپائے گا۔ کہا تو نہیں جانتا اے آدم کہ ہر چیز میری ہے۔ اور مجھ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے نہ اندھیرے میں اور نہ روشنی میں ؟ پھر (اللہ تعالیٰ نے) ان کی طرف فرشتے کو بھیجا انہوں نے ان کی گردنوں میں کچھ ڈالا یہاں تک کہ ان کو جنت سے نکال دیا۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے انہیں ننگا کھڑا کیا گیا اور ابلیس بھی ان کے ساتھ تھا پس اس وقت ابلیس کو ان دونوں کے ساتھ نیچے اتار دیا گیا۔ پھر آدم نے اپنے رب سے (چند) کلمات سیکھ لئے۔ (جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے) ان کی توبہ قبول فرمائی۔ اور ان سب کو نیچے اتار دیا گیا۔
(3) حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں، ابن جریر، ابن ابی حاتم ابو الشیخ اور ابن عساکر نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” لیبدی لہما ما وری عنھما من سواتھما “ کے بارے میں فرمایا کہ ان میں سے ہر ایک پر نور غالب تھا جس کی وجہ سے ان میں سے کوئی بھی دوسرے کی شرم گاہ کو نہ دیکھتا تھا۔ جب دونوں سے لغزش ہوگئی تو ان دونوں سے فورا اتر گیا۔
(4) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا تاکہ وہ ان کے لباس کو پھاڑ ڈالے۔ وہ جانتا تھا کہ ان دونوں کی شرم گاہیں ہیں کیونکہ وہ فرشتوں کی کتابوں میں پڑھا کرتا تھا آدم اس بات کو نہیں جانتے تھے اور ان دونوں کا لباس ظفر یعنی ناخن کی طرح تھا۔
(5) امام عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس ان کے پاس آیا اور کہا اللہ تعالیٰ نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہیں کیا مگر اس وجہ سے کہ تم فرشتے یا اس ذات یعنی اللہ عزوجل کی طرح نہ ہوجاؤ۔ لیکن انہوں نے اس کی بات کو سچ نہیں مانا یہاں تک کہ ابلیس سانپ کے پیٹ میں داخل ہوگیا اور ان دونوں سے بات کی۔
(6) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” الا ان تکونا ملکین “ لام کے کسرہ کے ساتھ۔
(7) امام ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھتے تھے۔ لفظ آیت ” الا ان تکونا ملکین “ لام کے نصب کے ساتھ یعنی فرشتوں میں سے۔
(8) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” الا ان تکونا ملکین “ کے بارے میں فرمایا کہ اس میں فرشتوں کی فضیلت کا ذکر کیا گیا کہ ان کو فضیلت دی گئی شکل صورت کی وجہ سے اور فضیلت دی پروں کی وجہ سے اور فضیلت دی عزت و کرامت کی وجہ سے۔
(9) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ جنت میں ایک درخت ہے اس کی دو ٹہنیاں ہیں ان میں سے ایک ٹہنی کے ساتھ فرشتے طواف کرتے ہیں اور دوسری کے بارے میں فرمایا لفظ آیت ” ما نھکما ربکما عن ھذہ الشجرۃ الا ان تکونا ملکین “ تاکہ تم ان فرشتوں میں سے نہ ہوجاؤ جو اس ٹہنی کے ساتھ طواف کرتے ہیں۔
(10) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس آیت کو یوں پڑھتے تھے۔ لفظ آیت ” ما نھکما ربکما عن ھذہ الشجرۃ الا ان تکونا ملکین “ یعنی اس نے تم دونوں کو خطا میں ڈالا تاکہ تم فرشتے نہ بن جاؤ اس لئے نہیں ڈالا کہ تم ہمیشہ رہنے والے بن جاؤ۔ اور تم اس میں کبھی نہیں مرو گے (اور فرمایا) ” وقاسمھما “ یعنی (ابلیس نے) ان دونوں سے قسم کھائی کہ لفظ آیت ” ان لکما لمن النصحین “ (کہ میں تمہارے لئے خیر خواہوں میں سے ہوں)
(11) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اوتکونا من الخلدین “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ تم کبھی نہیں مرو گے۔ (اور) ” وقاسمھما “ یعنی ان کے لئے اللہ کی قسم کھائی۔
شیطان کی اتباع کی دعوت
(12) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقاسمھما انی لکما لمن النصحین “ کے بارے میں فرمایا کہ ان دونوں کے لئے اللہ کی قسم کھائی یہاں تک کہ ان دونوں کو دھوکہ دیا اور مومن اللہ (کے نام) کے ساتھ دھوکہ کھاتا رہا۔ اور ان دونوں سے پہلے پیدا کیا گیا اور میں تم سے زیادہ جانتا ہوں میری اتباع کرو کہ میں تمہاری رہنمائی کروں قتادہ (رح) نے فرمایا بعض اہل علم کہا کرتے تھے کہ جس شخص نے ہمیں اللہ کے نام کے ساتھ دھوکہ دیا تو ہم اس کے دھوکہ میں آگئے۔
(3) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ بعض قرأت میں یوں ہے لفظ آیت ” وقاسمھما انی لکما لمن النصحین “
(4) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فدلہما بغرور “ کے بارے میں فرمایا کہ شیطان نے دونوں کو دھوکے کے ساتھ کمزور کردیا (یعنی دھوکہ میں ڈال دیا)
(15) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذرنے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلما ذاقا الشجرۃ بدت لہما سواتھما “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے پہلے انہوں نے شرم گاہوں کو نہ دیکھا تھا۔
(16) امام ابن شیبہ اور ابن منذر نے عکرمہ سے روایت کیا کہ ہر جانور کا لباس اس کا اپنا ہے اور انسان کا لباس ظفر ہے۔ پس آدم کو ان کے ناخن کے پاس توبہ نے پالیا۔
(17) امام فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ، بیہقی نے سنن میں اور ابن عساکر نے تاریخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آدم اور حوا کا لباس ناخن کی طرح تھا۔ جب دونوں نے درخت میں سے کھایا تو ان پر (لباس) باقی نہیں رہا مگر ناخن کی مانند (اور فرمایا) لفظ آیت ” وطفقا یخصفن علیہما من ورق الجنۃ “ انہوں نے انجیر کے پتے اتارے اور ان کو اپنی شرم گاہوں پر لگانے لگے۔
(18) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب آدم کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں ٹھہرایا تو ان کو ناخن میں سے کرتا پہنایا جب ان سے لغزش ہوگئی تو کرتا چھین لیا گیا اور صرف انگلیوں کے کناروں پر باقی رہا۔
(19) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتمن اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آدم کا لباس ناخن کا تھا اور یہ پرندے کے پیروں کی طرح تھا۔ جب ان سے لغزش ہوئی تو ان کا لباس ان سے اتر گیا اور زینت اور کئی دوسرے منافع کے لئے ناخنوں کو باقی چھوڑ دیا گیا۔
(20) امام ابن ابی حاتم نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ آدم کا لباس جنت میں یاقوت کا تھا۔ جب ان سے لغزش ہوئی تو وہ سمٹ گیا اور ناخن بن گیا۔
(21) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آدم کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس جلد کا لباس پہنایا اور اس کی مدد کی ناخن کے ساتھ وہ اس کے ساتھ کھجلا سکتے ہیں۔
(22) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وطفقا یخصفن “ کہ وہ پیوند لگاتے تھے کپڑے کی طرح۔
(23) ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وطفقا یخصفن علیہما “ کہ انہوں نے (اپنی شرم گاہوں کو جنت کے پتوں سے) ڈھانکنا شروع کیا۔
(24) عبد بن حمید، اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وطفقا یخصفن علیہما من ورق الجنۃ “ یعنی وہ ان پر جنت کے پتے چپکانے لگے۔
(25) ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وطفقا یخصفن علیہما من ورق الجنۃ “ کہ وہ ایسی چیزیں پکڑنے لگے کہ جس کے ذریعے ان کی شرمگاہیں چھپ جائیں۔
(26) ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ونادھما ربھما الم ابھکما عن تلکما الشجرۃ “ یعنی آدم نے عرض کیا اے میرے رب کہ اس نے میرے سامنے تیری قسم کھائی ہے اور میں بھی خیال کرتا تھا کہ تیری مخلوق میں سے کوئی سچ کے سوا بھی قسم کھا سکتا ہے۔
(27) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ” قالا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے آدم و حوا مراد ہیں لفظ آیت ” ربنا ظلمنا انفسنا “ ان دونوں نے کہا اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا یعنی ہم نے گناہ کا ارتکاب کیا تو اللہ تعالیٰ نے دونوں کو بخش دیا۔
(28) عبد بن حمید نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ربنا ظلمنا انفسنا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ وہ کلمات ہیں جو آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے سیکھ لئے۔
(29) احمد نے اور ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے کہ مومن اپنے رب سے گناہ کی وجہ سے شرم کرتا ہے۔ جب وہ اس میں واقع ہوجاتا ہے۔ پھر وہ اللہ کی حمد کے ساتھ جانتا ہے کہ (اس گناہ سے) نکلنے کا راستہ کیا ہے۔ اور بلاشبہ نکلنے کا راستہ اللہ کی بارگاہ میں استغفار اور توبہ میں ہے۔ پھر کوئی آدمی توبہ سے ہرگز شرم محسوس نہیں کرتا کیونکہ اگر تو بہ بہ ہو تو کوئی بھی اللہ کے بندوں میں سے (گناہ سے) پاک نہ ہو۔ اسی توبہ کے ذریعے تمہارے جد اعلیٰ (یعنی آدم) کی اللہ تعالیٰ نے مغفرت فرمائی جب ان سے لغزش ہوئی۔
(30) امام ابو الشیخ نے کریب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو ابن عباس ؓ نے بلایا اور فرمایا تو لکھ بسم اللہ الرحمن الرحیم عبد اللہ کی طرف سے تمہارے فلاں عالم کی طرف کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے اس قول سے یعنی لفظ آیت ” ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین “ کے بارے میں بیان کیا کہ اس کا ٹھکانہ زمین کے اوپر ہے اور کا ٹھکانہ رحم میں ہے اور اس کا ٹھکانہ زمین کے نیچے ہے اور اس کا ٹھکانہ وہاں ہے جہاں وہ پہنچے گا جنت کی طرف یا دوزخ کی طرف۔
Ayahs 7:26–27بنی آدم کے لباس کے فائدے
(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواتکم “ کے بارے میں فرمایا کہ عرب کے لوگ بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے تھے ان میں سے کوئی کپڑا نہیں پہنتا تھا۔ جس میں وہ طواف کرتا تھا ” وریشا “ یعنی مال۔
(2) امام ابن منذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواتکم “ کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) قریش میں سے حمس قبیلہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور جو اس کا ماخذ عرب کے قبائل کو قرار دیتے ہیں اور وہ انصار ہیں۔ اوس خزرج خزاعہ، ثقیف اور بنو عامر بن صعصہ اور کنانہ بن بکر یہ لوگ گوشت کو نہ کھاتے تھے اور گھروں میں پیچھے کی جانب سے آتے تھے اور کہتے تھے قریش (نہیں کرتے تھے) جب وہ آتے تھے تو اپنے کپڑوں کو اتار کر پھینک دیتے تھے جو پہن کر آتے تھے اور کہتے تھے یہ ہمارے کپڑے ہم کو (کیسے) پاک کریں گے اپنے رب کی طرف جس میں چھوٹے اور بڑے گناہ (ہم نے کئے) پھر وہ قریش سے کہتے تھے کون ہے جو ہم کو عاریۃ چادر دے سکتا ہے۔ اگر وہ بھی نہ پاتے تو ننگے طواف کرتے۔ جب وہ فارغ ہوجاتے طواف سے تو اپنے کپڑوں کو لے لیتے جو انہوں نے اتار دئیے تھے۔
(3) امام ابن جریر نے عروہ بن زبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لباسا یواری سواتکم “ میں لباس سے مراد ہے کپڑے اور ” وریشا “ سے مراد ہے مال اور ” لباس التقوی “ سے مراد ہے اللہ کا ڈر۔
(4) امام ابن ابی حاتم نے زید بن علی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” لباسا یواری سواتکم “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے عام لباس ” وریشا “ یعنی زینت ولا لباس ” و لباس التقوی “ سے مراد ہے اسلام۔
(5) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے چند طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” وریشا “ سے مراد ہے مال لباس عیش اور نعمتیں اور ” و لباس التقوی “ سے مراد ہے : ایمان اور نیک عمل ” ذلک خیر “ یعنی ایمان اور نیک عمل بہتر ہے مال اور لباس سے۔
(6) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” وریاشا “ سے مراد ہے مال۔
(7) امام احمد، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب نیا کپڑا پہنتے تو (یہ دعا) پڑھتے :
الحمدللہ الذی کسانی من الریاش ما اواری بہ عورتی وأتجمل بہ فی الناس
ترجمہ : سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے خوبصورت کپڑا پہنایا جس کے ذیعہ میں اپنی شرم گاہ کو چھپاتا ہوں اور اس کے ذریعہ لوگوں میں خوبصورت بنتا ہوں۔
(8) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا ” الریاش “ سے مراد ہے خوبصورتی۔
(9) امام طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ابن عباس ؓ سے پوچھا مجھے اللہ عزوجل کے اس قول ” وریشا “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا ” وریشا “ یعنی ” الریاش “ سے مراد ہے مال پھر انہوں نے پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :
فرشنی بضیر طال ما قد برتینی وخیر الموالی من یریش ولا یبری
ترجمہ : اس نے میرے ساتھ اچھا سلوک کیا جب کہ تو نے مجھے ذلیل و رسوا کیا بہترین دوست وہ ہے جو مال عطا کرتا ہے اور ذلیل و رسوا نہیں کرتا۔
(10) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” لباسا یواری سواتکم وریشا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے لباس مراد ہے ” و لباس التقوی “ سے مراد ہے ایمان اور اللہ تعالیٰ نے لباس کو نازل فرمایا پھر فرمایا بہترین لباس تقویٰ ہے۔
(11) امام عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت ” لباسا یواری سواتکم وریشا “ رفع کے ساتھ۔
(12) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا۔ ” وریشا “ بغیر الف کے ” و لباس التقوی “ رفع کے ساتھ۔
(13) امام ابن مردویہ نے عثمان ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یوں پڑھتے ہوئے سنا ” وریاشا “ اور آپ نے ” وریشا “ نہیں پڑھا۔
(14) امام ابن جریر نے زر بن حبیش (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا ” وریاشا “
(15) امام ابو عبید، عبد بن حمید، حکیم ترمذی، ابن منذر، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے معبد جنبی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” و لباس التقوی “ سے مراد ہے حیا کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواتکم وریشا، و لباس التقوی “ پس لباس وہ ہے جو چھپاتا ہے تمہاری شرم گاہوں کو وہی تمہارا لباس ہے۔ اور ریاش سے مراد ہے معاش اور لباس التقوی سے مراد ہے حیا۔
(16) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” و لباس التقوی “ سے مراد ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا ہے اور اپنی شرم گاہ کو چھپاتا ہے تو یہی تقویٰ کا لباس ہے۔
(17) امام ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” و لباس التقوی “ کے بارے میں فرمایا کہ جو متقی لوگ قیامت کے دن پہنیں گے ” ذلک خیر “ یعنی یہ بہتر ہے دنیا والوں کا لباس ہے۔
(18) امام ابو الشیخ نے عطاء سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” و لباس التقوی، ذلک خیر “ کے بارے میں فرمایا کہ جو متقی لوگ قیامت کے دن پہنیں گے وہ بہتر ہے ان لباسوں سے جو دنیا والے پہنتے ہیں۔
(19) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” و لباس التقوی “ سے مراد ہے کہ چہرہ میں خوبصورت خاموشی کا ہونا۔
ہر عمل لباس کی شکل میں ہوگا
(20) امام ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس بندہ نے کوئی نیک یا برا عمل کیا تو اس کو اس کے عمل کی چادر پہنائی جائے گی یہاں تک کہ وہ اس کو پہچان لیں گے۔ اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ہے۔ لفظ آیت ” و لباس التقوی، ذلک خیر “
(21) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عثمان ؓ کو منبر پر دیکھا کہ انہوں نے فرمایا اللہ سے ڈرو (اے لوگو) پوشیدہ کاموں میں بلاشبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کوئی شخص خفیہ طور پر کوئی عمل کرے گا تو اللہ تعالیٰ اعلانیہ طور پر اس کی چادر پہنائیں گے اگر اس نے اچھا عمل کیا تو اسے اچھی چادر پہنائی جائے گی۔ اگر اس نے برا عمل کیا تو اسے برائی کی چادر پہنائی جائے گی۔ پھر یہ تلاوت فرمائی ” وریاشا “ اور ” وریشا “ نہیں فرمایا لفظ آیت ” و لباس التقوی، ذلک خیر “ سے مراد خوبصورت خاموشی ہے۔
(22) امام ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لباسا یواری سواتکم وریشا “ یعنی کپڑے ” وریاشا “ یعنی مال اور ” و لباس التقوی “ یعنی ایمان ” ذلک خیر “ یعنی یہ بہتر مال سے اور اس لباس سے جو چھپاتا ہے تمہاری شرم گاہوں کو۔
(23) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ینزع عنھما لباسھما “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے تقوی (اور) لفظ آیت ” انہ یرکم ھو و قبیلہ “ یعنی جن اور شیاطین تمہیں دیکھتے ہیں۔
(24) امام عبد بن حمید نے ابن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ینزع عنھما لباسھما “ سے مراد ہے نور۔
(25) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید سے روایت کیا کہ ” و قبیلہ “ سے مراد ہے اس کی نسل۔
(26) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” انہ یرکم ھو و قبیلہ من حیث لاترونھم “ سے مراد ہے اللہ کی قسم بلاشبہ دشمن تجھ کو دیکھتا ہے ایسی جگہ سے جہاں تو اس کو نہیں دیکھتا وہ انتہائی تکلیف دینے والا ہے۔ مگر جس کو اللہ تعالیٰ بچالے۔
(27) امام ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اس نے یہ درخواست کی کہ وہ دیکھتا ہے لیکن اسے نہ دیکھا جائے اور وہ تحت الثری سے نکل جائے اور جب اسے بڑھاپا آجائے تو وہ پھر جوانی کی طرف لوٹ آئے تو اس کی یہ درخواست قبول کرلی گئی۔
(28) امام ابن ابی شیبہ نے مطرف (رح) فرمایا کرتے تھے اگر ایک آدمی شکار کو دیکھ لے اور شکار اسے نہ دیکھے تو وہ اسے دھوکہ دے سکتا ہے۔ کیا نہیں قریب ہے کہ وہ اس کو پکڑے۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں پھر فرمایا بلاشبہ شیطان ہم کو دیکھتا ہے اور ہم اس کو نہیں دیکھتے اور وہ ہم پر حملہ آور ہوتا ہے۔
(29) امام ابو الشیخ نے عظمۃ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کسی آدمی کے ذہن میں شیطان کے بارے میں خیال آیا یہاں تک کہ وہ اس کو دیکھنے لگا تو اسے چاہئے کہ اس سے دور نہ ہٹے اور قدم آگے بڑھاتا رہے کیونکہ وہ تم سے زیادہ خوف زدہ ہونے والا ہے جتنا کہ تم اس سے خوف زدہ رہتے ہو لہٰذا اگر وہ اس سے پیچھے ہٹا تو وہ اس پر سوار ہوجائے گا۔ اور اگر قدم آگے بڑھایا تو وہ بھاگ جائے گا۔ مجاہد (رح) نے فرمایا بلاشبہ میں اس کے ساتھ مبتلا ہوا یہاں تک کہ میں نے اس کو دیکھ لیا۔ پھر میں نے ابن عباس کے قول کو یاد کیا اور میں اپنے قدم بڑھاتے ہوئے چل دیا تو وہ بھاگ گیا۔
(30) امام ابو الشیخ نے عظمۃ میں نعیم بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جنات انسانوں کی طرح شیاطین کو نہیں دیکھتے ہیں۔
Ayah 7:28(1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا فعلوا فاحشۃ قالوا وجدنا علیہا اباء نا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرتے تھے تو اس سے ان کو روک دیا گیا۔
(2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا فعلوا فاحشۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ یعنی ان کی بےحیائی یہ تھی کہ وہ بیت اللہ کے گرد ننگے ہو کر طواف کرتے تھے۔
(3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا فعلوا فاحشۃ “ کے بارے میں فرمایا یمن والوں میں سے عرب کا ایک قبیلہ ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھا۔ جب ان سے کہا گیا تو تم ایسا کیوں کرتے ہو ؟ تو انہوں نے کہا ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایسا کرتے ہوئے پایا اور اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس کا حکم فرمایا۔
(4) امام ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ مشرک مرد دن کو ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے اور عورتیں رات کو ننگے ہو کر طواف کرتی تھیں۔ اور یہ کہتے تھے کہ ہم نے اپنے آباو اجداد کو ایسا کرتے ہوئے پایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی ہم کو حکم فرمایا ہے۔ جب اسلام اور اخلاق کریما نہ آئے تو انہیں اس کام سے روک دیا گیا۔
(5) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی بندے کو اپنی نافرمانی پر عزت و اکرام عطا نہیں فرمایا نہ اس پر راضی ہوا اور نہ ہی اس نے اس کا حکم دیا ہے۔ لیکن وہ راضی ہوتے ہیں تم سے اپنی اطاعت پر اور منع کرتے ہیں تم کو اپنی نافرمانی پر۔
Ayahs 7:29–30انصاف اور اخلاص کا حکم
(1) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قل امر ربی بالقسط “ سے مراد عدل ہے۔ لفظ آیت ” واقیموا وجوھکم عند کل مسجد “ یعنی کعبہ کی طرف رخ کرو ہر نماز کے وقت جہاں بھی تم نماز پڑھو بلکہ (عیسائیوں کی عبادت) میں ہو یا کسی اور جگہ لفظ آیت ” کما بداکم تعودون “ (یعنی جس طرح اس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا بدبخت یا نیک بخت) ۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وادعوہ مخلصین لہ الدین، کما بداکم تعودون “ یعنی اس کی عبادت خالص اللہ ہی کے واسطے کرو۔ جیسا کہ تم کو پیدا کیا آدم کے زمانہ میں اس طرح پر کہ ان کو پیدا کیا اسلام پر پھر فرماتے ہیں : خالص اسی کو پکارو اور اس کے علاوہ کسی غیر کو نہ پکارو اور ان کو حکم فرمایا کہ وہ دین، عبادت اور عمل کو خالص اللہ ہی کے واسطے کرو۔ پھر اپنے چہروں کو بیت الحرام کی طرف پھیر دو ۔
(3) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” کما بداکم تعودون “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں ہی آدم کو مومن اور کافر پیدا فرمایا۔ جیسے کہ فرمایا لفظ آیت ” ھو الذی خلقکم فمنکم کافر ومنکم مؤمن “ (التغابن آیت 2) پھر ان کو لوٹائیں گے قیامت کے دن جیسے کہ ان کو پیدا کیا تھا مومن اور کافر (کی حالت میں) ۔
(4) امام ابن جریر نے روایت کیا کہ جابر ؓ نے اس آیت کے بارے میں فرمایا ان کو اس حالت میں اٹھایا جائے گا جس دین پر رہ تھے۔ مومن اپنے ایمان پر اور منافق اپنے نفاق پر اٹھایا جائے گا۔
(5) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے روایت کیا کہ مجاہد (رح) نے فرمایا کہ لفظ آیت ” کما بداکم تعودون “ کا مطلب ہے لفظ آیت ” فریقا ھدی وفریقا حق علیہم الضللۃ “ (یعنی ایک فرقہ) ہدایت پر ہے اور ایک فرقہ گمراہی پر ہے)
(6) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے محمد بن کعب سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کما بداکم تعودون “ کے بارے میں فرمایا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہدایت پر اور سعادت پر یہاں تک کہ اس کو وفات دی مسلمان ہونے کی حالت میں اور جیسا کہ ابلیس کے ساتھ کی ابتداء اس کو پیدا کیا ایمان پر اور گمراہی پر اور اس نے فرشتوں والے عمل بھی کئے۔ مگر پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو کفر کی طرف لوٹا دیا جس پر اسے پیدا کیا تھا۔ اور اس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” وکان من الکفرین “ (البقرہ آیت 34)
(7) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” کما بداکم تعودون “ کے بارے میں فرمایا جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا اسی طرح پھر تم دوبارہ لوٹو گے۔
(8) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر اور ابن منذر نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” کما بداکم تعودون “ کے بارے میں فرمایا جیسا تم کو پہلی بار پیدا کیا کہ تم کچھ نہیں تھے کہ تم کو زندہ کردیا اسی طرح تم کو موت دیں گے پھر تم کو قیامت کے دن زندہ کریں گے۔
اپنی پیدائش کو یاد کرے تکبر نہ کرے
(9) امام ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” کما بداکم تعودون “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کو مٹی سے پیدا کیا اور مٹی کی طرف وہ لوٹ جائیں گے انہوں نے فرمایا اس میں حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ جسے مٹی سے پیدا کیا گیا اس نے مٹی کی طرف ہی لوٹنا ہے اور اس کے لئے تکبر زیبا نہیں جو آج زندہ ہے اور کل کر مو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے تکبر کرنے والوں سے وعدہ کیا کہ ان کو ذلیل کرے گا اور ضعیف لوگوں کو بلند کرے گا۔ اسی کو فرمایا لفظ آیت ” خلقنکم وفیہا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری “ (طہ آیت 55) پھر فرمایا ” فریقا ھدی وفریقا حق علیہم الضللہ، انھم اتخذوا الشیطین اولیاء من دون اللہ ویحسبون انھم مھتدون “
(10) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” کما بداکم تعودون “ کے بارے میں فرمایا اگر تم مرو گے تو ہدایت پانے والا گمان کرتا ہے کہ وہ ہدایت پر ہے اور مالدار گمان کرتا ہے کہ وہ ہدایت پر ہے۔ یہاں تک کہ موت کے وقت اس کے لئے سب ظاہر ہوجائے گا۔ (کہ وہ ہدایت پر تھا یا نہیں) اور اسی طرح تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ویحسبون انھم مھتدون “
(11) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کما بداکم تعودون “ یعنی جیسے تم پر لکھا گیا اسی حالت پر تم لوٹو گے (جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا) ” فریقا ھدی وفریقا حق علیہم الضللۃ “
(12) امام ابو الشیخ نے عمر بن ابی معروف (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو ایک ثقہ آدمی نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” کما بداکم تعودون “ کا مطلب ہے بےختنہ غیر مختون لوٹو گے جیسے اس نے تم کو پہلی بار پیدا فرمایا۔
(13) امام ابو الشیخ نے مقاتل بن وھب عبدی (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت ” کما بداکم تعودون “ کی تاویل اس امت کے آخر میں ظاہر ہوگی۔
(14) امام بخاری نے ضعفاء میں عبد الغفور بن عبد العزیز بن سعید انصاری سے روایت کیا کہ وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بہت سی مخلوق کی صورتیں مسخ کر دے گا۔ کیونکہ انسان علیحدگی میں گناہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس نے میری اہانت کی پھر اس کو مسخ کر دے گا۔ پھر اس کو قیامت کے دن انسان بنا کر اٹھائیں گے اسی کو فرماتے ہیں لفظ آیت ” کما بداکم تعودون “ تم اس کو دوزخ میں داخل کریں گے۔
Ayah 7:31(1) امام ابن ابی شیبہ، مسلم، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عورتیں ننگے ہو کر طواف کرتی تھیں۔ مگر یہ کہ ایک چیتھڑا اپنی شرم گاہ پر رکھ لیتی تھیں اور کہتی تھیں :
الیوم ببدو بعضہ وکلہ وما بدا منہ فلا احد
ترجمہ : آج کے دن ظاہر ہوا ہے اس کا بعض یا اس کا کل اور جو ظاہر ہے اس میں اس کو حلال قرار نہیں دیتی۔
(2) امام عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ یہ لوگ بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرتے تھے۔ اور کہتے تھے ہم ان کپڑوں میں طواف نہیں کریں گے کہ جس میں ہم نے گناہ کئے۔ تو ایک عورت آئی اور اس نے اپنے کپڑوں کو (اتار کر) ڈالا اور طواف کیا اور اپنے ہاتھ کو اپنے دل پر رکھ کر کہنے لگی :
الیوم ببدو بعضہ وکلہ وما بدا منہ فلا احد
ترجمہ : آج کے دن ظاہر ہورہا ہے اس کا بعض یا اس کا کل۔ اور جو اس میں سے ظاہر ہے تو میں اس کو حلال قرار نہیں دیتی۔
(3) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” خذوا زینتکم عند کل مسجد “ سے مراد ہے کہ مرد بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زینت کا حکم فرمایا اور زینت سے مراد ہے لباس کہ جس سے وہ اپنی شرم گاہ کو چھپاتا ہے۔ اور اس کے علاوہ ہے وہ محض عمدہ کپڑا اور سامان ہے۔
(4) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” خذوا زینتکم عند کل مسجد “ اس سے مراد ہر وہ شے ہے جو شرم گاہ کو چھپا سکے اگرچہ خبہ ہی کیوں نہ ہو۔
(5) امام عبد بن حمید، اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” خذوا زینتکم عند کل مسجد “ سے کپڑے مراد ہیں۔
(6) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے طاؤس سے روایت کیا کہ پگڑی بھی زینت میں سے ہے۔
(7) امام ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مشرک لوگ بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے تھے گھروں میں اس کی پشت سے آتے تھے اور اس کی پشت سے داخل ہوتے تھے۔ اور یہ ایک قبیلہ تھا قریش میں سے جس کو حمس کہا جاتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” یبنی ادم خذوا زینتکم عند کل مسجد “
(8) امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عرب میں سے کچھ لوگ بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک عورت بھی بیت اللہ کا ننگے طواف کرتی تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” یبنی ادم خذوا زینتکم عند کل مسجد “
(9) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یبنی ادم خذوا زینتکم عند کل مسجد “ سے مراد ہے کہ وہ لوگ رات کو ننگے طواف کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا کہ وہ اپنے کپڑے پہنیں اور ننگے نہ ہوں۔
ننگا طواف کرنے کی ممانعت
(10) امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عرب کے لوگ جب حج کرتے تھے تو وہ حرم کے قریب اترتے تھے اپنے کپڑوں کو اتار دیتے تھے اپنی چادروں کو (اتار کر) رکھ دیتے تھے اور مکہ میں بغیر چادر کے داخل ہوتے تھے۔ مگر یہ کہ اگر کسی آدمی کا اس میں سے کوٗی خمس قبیلہ میں سے دوست ہوتا تھا تو وہ اس کو عاریۃ اپنا کپڑا دیتا تھا اس کو اپنے کھانے میں سے کھلاتا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” یبنی ادم خذوا زینتکم عند کل مسجد “
(11) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ مشرک لوگ زمانہ جاہلیت میں ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” خذوا زینتکم عند کل مسجد “
(12) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ یمن والوں میں سے ایک قبیلہ ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتا تھا مگر یہ کہ کوئی ان میں سے اہل مکہ کی چادروں میں سے کوئی چادر عاریۃ مانگ لیتا تھا تو پھر اس میں طواف کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” یبنی ادم خذوا زینتکم عند کل مسجد “
(13) امام ابن ابی حاتم ابو الشیخ نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا ان کا حکم نہیں دیا گیا کہ وہ ریشم اور دیباج کا کپڑا پہنیں۔ وہ بیت اللہ کا ننگا ہو کر طواف کرتے تھے۔ جب وہ آتے تھے تو مسجد سے باہر اپنے کپڑوں کو اتار دیتے تھے پھر اندر داخل ہوتے تھے جب کوئی آدمی کپڑے پہن کر داخل ہوتا تھا تو اس کو مارتے تھے اور اس کے کپڑے اتار دیتے تھے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ لفظ آیت ” یبنی ادم خذوا زینتکم عند کل مسجد “
(14) امام ابن عدی ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نماز کا لباس پہن لیا کرو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ نماز کا لباس کیا ہے۔ آپ نے فرمایا اپنے جوتے پہن لو اور اس میں نماز ادا کرو۔
(15) امام عقیلی، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور ابن عساکر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” یبنی ادم خذوا زینتکم عند کل مسجد “ کے بارے میں فرمایا کہ اپنے جوتوں میں نماز پڑھو۔
(16) امام ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان چیزوں میں سے جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو عزت دی وہ اس کا جوتے پہننا ہے اپنی نمازوں میں۔
(17) امام ابو داؤد اور حاکم نے (اور حاکم نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) شداد بن اوس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہود کی مخالفت کرو کہ وہ اپنے موزوں اور اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے ہیں۔
(18) امام حاکم نے (اور آپ نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے جوتے اتاردے ان کے ذریعہ کسی کو تکلیف نہ پہنچائے اسے چاہئے کہ وہ ان دونوں کو اپنی ٹانگوں کے درمیان رکھ لیں۔ یا پھر ان دونوں میں نماز پڑھ لے۔
(19) ابو یعلی نے سند ضعیف کے ساتھ انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا نماز کا لباس جوتے ہیں۔
(20) بزار نے سند ضعیف کے ساتھ انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا یہود کی مخالفت کرو اور اپنے جوتوں میں نماز پڑھو کیونکہ وہ اپنے موزوں میں اور اپنے جوتوں میں نماز نہیں پڑھتے ہیں۔
(21) طبرانی نے الاوسط میں سند ضعیف کے ساتھ ابن مسعود ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نماز کو جوتوں میں پڑھنا نماز پورا کرنے میں سے ہے۔
سرخ خضاب مسنون ہے
(22) امام احمد نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ انصار کے بوڑھے لوگوں پر گزرے جن کی داڑھیاں سفید تھیں آپ نے فرمایا اے انصار کی جماعت ! اپنے بالوں کو سرخ اور زرد رنگ کرلیا کرو۔ اور اہل کتاب کی مخالفت کرو کہا گیا : یا رسول اللہ ! اہل کتاب شلوار پہنتے ہیں اور چادر نہیں پہنتے۔ شلوار پہنو اور چادر پہنو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ ہم نے عرض کیا رسول اللہ اہل کتاب موزے پہنتے ہیں اور جوتے نہیں پہنتے۔ آپ نے فرمایا تم موزے پہنو اور جوتے بھی پہنو۔ اور اہل کتاب کی مخالفت کرو ہم نے کہا یا رسول اللہ اہل کتاب اپنی بڑی داڑھیوں کو کٹواتے ہیں اور اپنی مونچھوں کو بڑھاتے ہیں آپ نے فرمایا اپنی مونچھوں کے بالوں کو کاٹو اور اپنی داڑھیوں کو بڑھاؤ اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔
(23) احمد، بخاری و مسلم، ترمذی اور نسائی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے فرمایا ہاں۔
(24) ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ علی بن ابی طالب نے میری توجہ ابن الکواء اور اس کے ساتھیوں کی طرف دلائی اور اس وقت میں باریک قمیض اور جنا پہنے ہوئے تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا تو اے ابن عباس اس طرح کے کپڑے پہنتا ہے۔ میں نے کہا سب سے پہلی دلیل جس کے ذریعہ میں تم سے مباحثہ کرسکتا ہوں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” لفظ آیت ” قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ “ (الاعراف آیت 23) (اور فرمایا) لفظ آیت ” خذوا زینتکم عند کل مسجد “ اور رسول اللہ ﷺ عیدین میں یمنی چادر پہنا کرتے تھے۔
(25) ابو داؤد نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب حروریۃ (فرقہ کے لوگ) نکلے تو میں علی (رح) کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا اس قوم کے پاس جاؤ تو میں نے یمن کے حلوں میں سے خوبصورت حلہ پہنا اور میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا خوش آمدید اے ابن عباس ؓ یہ حلہ کیسا ہے ؟ میں نے کہا تم مجھ پر تعجب کرتے ہو ؟ میں نے رسول اللہ ﷺ پر اس سے بھی خوبصورت حلہ دیکھا ہے۔
(26) طبرانی اور بیہقی نے سنن میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اس کو چاہئے کہ اپنے کپڑے پہنے اللہ عزوجل زیادہ حق دار ہیں کہ ان کے لئے لباس پہنا جائے اگر اس کے پاس دو کپڑے نہ ہوں تو اس کو چاہئے کہ چادر باندھ لے جب نماز پڑھے اور تم میں سے کوئی اپنی نماز میں یہودیوں کی طرح پوری طرح چادر میں نہ لپٹ جائے۔
(27) شافعی، احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی اور بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہرگز تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے اور کپڑے کا کوئی حصہ اس کے کندھوں پر نہ ہو۔
(28) ابو داؤد اور بیہقی نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے لحاف (یعنی بستر کی چادر) میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا جیسے وہ پہنے ہوئے نہ وہ۔ اور آدمی کو شلوار میں نماز پڑھنے سے بھی منع فرمایا کہ اس پر چادر نہ ہو۔
(29) ابن ماجہ نے ابو الدرداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خوبصورت ترین لباس جسے پہن کر تم اپنی قبروں میں اور اپنی مسجدوں میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو وہ سفید لباس ہے۔
(30) ابو داؤد، ترمذی، اور ابن ماجہ نے (اور ترمذی نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم سفید کپڑے پہنو اس لئے کہ یہ تمہارے بہترین کپڑوں میں سے ہیں اور اس میں اپنے مردوں کو کفن دو ۔
(31) ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے (ترمذی نے صحیح بھی کہا) سمرۃ بن جندب ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا سفید کپڑے پہنو کیونکہ زیادہ پاکیزہ اور زیادہ اچھے ہیں اور اس میں مردوں کو کفن دو ۔
(32) ابو داؤد نے ابو الاحوص (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گھٹیا کپڑوں میں آیا آپ نے پوچھا کیا تیرے پاس مال ہے ؟ عرض کیا جی آپ نے پھر پوچھا کون سا مال ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اونٹ بکریاں گھوڑے اور غلام دئیے ہیں آپ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے تجھ کو مال دیا ہے تو پھر تجھ پر اللہ کی نعمت کا اثر دکھائی دینا چاہئے۔
(33) ترمذی نے (اور آپ نے اس کو حسن بھی کہا) عمرو بن شعب (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں کہ اپنے بندے پر اس کی نعمت کے اثر کو دیکھیں۔
(34) امام احمد اور مسلم نے عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شخص آگ میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو اور وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو۔ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! مجھ کو پسند ہے کہ میرے کپڑے دھلے ہوئے ہوں میرے سر کا تیل لگا ہوا ہو میری جوتی کے تسمے نئے ہوں اور کئی چیزوں کا ذکر کیا گیا یہاں تک کہ اس نے اپنے کوڑے کی محبت اور تعلق کا بھی ذکر کیا تو کیا یہ چیزیں تکبر میں سے ہیں یا رسول اللہ آپ نے فرمایا نہیں۔ یہ خوبصورتی ہے اللہ تعالیٰ خوبصورت ہیں اور خوبصورتی کو پسند فرماتے ہیں لیکن تکبر یہ ہے کہ حق سے جاہل ہونا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔
(35) امام ابن سعد نے جند بن مکیث ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی وفد کے پاس تشریف لائے تو اپنے سب سے اچھے کپڑے پہنتے تھے اور اپنے اصحاب کو اس کا حکم فرماتے تھے۔
(36) امام احمد نے سہل بن حنظلہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ نے فرمایا تم اپنے بھائیوں کے پاس پہنچنے والے ہو۔ اپنے پالانوں کی اور اپنے لباس کی اصلاح کرلو۔ یہاں تک کہ لوگوں میں اس طرح ہوجاؤ گویا کہ تم ہی سردار ہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ نہیں پسند فرماتے بدزبانی کو اور بہ تکلیف بد زبانی کو
اما قولہ تعالیٰ : ” وکلوا وشربوا “: لآیہ
(37) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کھانے اور پینے کو حلال فرمایا ہے جب تک اسراف اور کبرو خود پسندی نہ ہو۔
(38) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کھانے اور پینے کو حلال فرمایا جب تک اسراف اور کبرو خود پسندی نہ ہو۔
(39) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کھانے اور پینے کو حلال فرمایا ہے جب تک اسراف اور کبرو خود پسندی نہ ہو۔
(40) امام ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ” ولا تسرفوا “ سے مراد ہے کہ (اسراف نہ کرو) کپڑے میں کھانے میں اور پینے میں۔
(41) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ ” ولا تسرفوا “ سے مراد ہے کہ حرام نہ کھاؤ یہ اسراف ہے۔
تکبر اور اسراق سے پرہیز کرو
(42) امام عبد بن حمید، نسائی، ابن ماجہ، مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں عمرو بن شعیب (رح) سے روایت کیا کہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کھاؤ اور پیو اور صدقہ کرو اور تکبر کے علاوہ کپڑا پہنو اور اسراف نہ کرو۔ بلاشبہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتے ہیں کہ وہ اپنے بندے میں اپنی نعمت کے اثر کو دیکھیں۔
(43) امام بیہقی نے (اور آپ نے اس کو ضعیف بھی کہا ہے) عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو نبی ﷺ نے دیکھا کہ میں نے دن میں دو مرتبہ کھایا ہے۔ آپ نے فرمایا اے عائشہ ! کیا تو اس بات کو پسند کرتی ہے کہ پیٹ کی خواہش کی تکمیل کے سوا تیری کوئی مصروفیت نہ ہو۔ (یعنی تو سارا دن کھانے ہی میں مشغول رہے) خبردار ! دن میں دو مرتبہ کھانا اسراف میں سے ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتے۔
(44) امام ابن ماجہ، ابن مردویہ اور بیہقی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اسراف میں سے یہ بھی ہے کہ تو ہر وہ چیز کھائے جس کو تیرا دل چاہے۔
(45) امام احمد نے زہد میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ اپنے بیٹے عبد اللہ بن عمر (رح) کے پاس آئے اچانک ان کے پاس گوشت تھا۔ انہوں نے فرمایا یہ گوشت کیا ہے ؟ عرض کیا میں اس کی خواہش رکھتا ہوں فرمایا جب بھی تو خواہش کرے کسی چیز کو تو اسے کھائے گا۔ آدمی کے اسراف کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ کھائے جب بھی اس کی خواہش ہو۔
(46) امام ابن شیبہ اور عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کھا جب تو چاہے اور پہن جب تو چاہے مگر دو چیزیں تجھ کو گمراہ کردیں گی۔ اسراف اور کبر و خود پسندی۔
(47) امام ابو الشیخ نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ اسراف میں سے یہ بھی ہے کہ انسان ایسا لباس پہنے اور ایسی چیز کھائے اور پیئے جس کی اس میں طاقت نہ ہو۔
(48) امام ابن ابی شیبہ اور ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا مال میں اسراف کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تجھ کو حلال مال عطا فرمائے اور تو اس کو حرام میں خرچ کرے جو تجھ پر اس کو حرام کردیا گیا۔
(49) امام ابن ماجد نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ وہ زیادہ کھانے کو ناپسند کرتے تھے کہ (آدمی) اس کو کھاتا ہے پھر فرمایا میرے لئے کافی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ دنیا میں لوگوں میں سے جو آدمی زیادہ سیر ہو کر کھائے گا۔ قیامت کے دن وہ اتنا زیادہ بھوکا ہوگا۔
(50) امام ترمذی اور ابن ماجہ نے (اور امام ترمذی نے اس کو حسن بھی کہا ہے) ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے پاس ڈکار لیا آپ نے فرمایا ہم سے ڈکار کو روک لے کیونکہ تم میں سے لمبی بھوک والے قیامت کے دن وہ لوگ ہوں گے جو اکثر دنیا کے گھر میں پیٹ بھرنے والے تھے۔
(51) امام احمد، ترمذی (اور ترمذی نے اس کو حسن بھی کہا ہے) نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان، ابن السنی نے الطب میں، حاکم نے (اور آپ نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ، ابو نعیم نے طب میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں مقدام بن معد یکرب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ابن آدم پیٹ سے بڑھ کر کوئی برابر تن نہیں بھرتا ہے۔ ابن آدم کے لئے کافی ہیں اتنے لقمے جو اس کی پیٹھ کو سیدھا کرسکیں اگر لامحالہ کھانا ہی ہو تو ایک تہائی کھانے کے لئے۔ ایک تہائی پینے کے لئے اور ایک تہائی اس کے سانس کے لئے ہو۔
(52) امام ابن السنی اور ابو النعیم نے طب نبوی میں عبد الرحمن بن مرقع ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے پیٹ سے بڑھ کر کوئی برتن نہیں پیدا فرمایا جب وہ بھر جائے تو پیٹ سے بڑھ کر برا ہو اور اگر (کھانا) ضروری ہوجائے تو بنا دو ایک تہائی کھانے کے لئے اور ایک تہائی پینے کے لئے اور ایک تہائی ہوا کے لئے۔
(53) امام ابن السماء اور ابو نعیم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر بیماری کی جڑ بدہضمی ہے۔
(54) امام ابو الشیخ نے ابو سعید خدری ؓ سے بھی اسی طرح روایت ہے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ بچو تم پیٹ بھر کر کھانے اور پینے سے کیونکہ یہ جسم کو خراب کردیتا ہے بیماری کو وارث بنا دیتا ہے۔ نماز سے سست اور غافل کردیتا ہے۔ لہٰذا کھانے پینے میں تم پر میانہ روی لازم ہے۔ کیونکہ وہ جسم کی اصلاح کرنے والی ہے اور اسراف سے دور کرنے والی ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ موٹے جسم والے عالم سے بغض رکھتے ہیں آدمی ہرگز ہلاک نہیں ہوتا یہاں تک کہ وہ اپنی شہوت کو اپنے دین پر غالب کر دے۔
(55) امام بیہقی نے شعب الایمان میں ارطاۃ (رح) سے روایت کیا کہ اہل طب میں سے کچھ لوگ جمع ہوئے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ نے ان سے پوچھا کی معدہ کی اصل دوا کیا ہے ہر آدمی نے اس میں سے (اپنی) بات کہی ان میں ایک آدمی خاموش رہا جب یہ لوگ فارغ ہوگئے تو بادشاہ نے اس سے کہا تو کیا کہتا ہے ؟ اس نے کہا کہ ان لوگوں نے (کئی) چیزوں کو ذکر کیا۔ یہ سب چیزیں کچھ نہ کچھ فائدہ دیتی ہیں۔ لیکن ان کی بنیاد تین چیزیں ہیں۔ کھانا نہ کھاؤ مگر جب کھانے کی شدید طلب ہو اور گوشت نہ کھاؤ جو تیرے لئے پکا یا گیا ہو یہاں تک کہ اچھی طرح اس کو پکا دیا جائے۔ اور لقمہ کو کبھی نہ نگلو یہاں تک کہ خوب زیادہ اس کو چبا لوتو ان صورتوں میں معدہ پر کوئی بوجھ نہ ہوگا۔
(56) امام بیہقی نے ابراہیم بن علی موصلی (رح) سے روایت کیا کہ سارے کلام سے چار ہزار کلمات بیان کئے گئے۔ پھر اس میں سے چار سو کلمے نکالے گئے پھر ان میں سے چالیس کلمے نکالے۔ پھر ان میں سے چار کلمے نکالے گئے اس کا پہلا یہ ہے کہ ہرگز نہ بھرسہ کرنا عورتوں پر۔ دوسرا اپنے معدہ میں وہ چیز نہ ڈالی جائے جسے ہضم کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ تیسرا مال تجھ کو ہرگز دھوکہ نہ دے چوتھا وہ علم تجھ کو کافی ہوگا جس سے تو نفع اٹھائے۔
(57) امام ابو محمد الحلال نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور مجھے تکلیف تھی۔ آپ نے فرمایا اے عائشہ لازم پکڑ و دوا کو اور معدہ بیماریوں کا گھر ہے۔ بدن کو وہ چیز دو جس کا وہ عادی ہو۔
(58) امام بیہقی نے ابن محب (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ معدہ جسم کا حوض ہے۔ اور رگیں اس میں کھلتی ہیں جو کچھ اس میں وارد ہوتا ہے صحت کے ساتھ تو واپس جائے گا صحت کے ساتھ اور جو کچھ اس میں داخل ہوتا ہے بیماری کے ساتھ تو واقع ہوتا ہے بیماری کے ساتھ۔
(59) امام طبرانی نے الاوسط میں، ابن السنی اور ابو نعیم (دونوں نے طب نبوی میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں اور آپ نے اس کو ضعیف بھی کہا ہے) ، ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا معدہ بدن کا حوض ہے۔ تمام رگیں اس میں داخل ہوتی ہیں۔ جب معدہ صحیح ہوگا تو رگیں ظاہر ہوں گی صحت کے ساتھ اور جب معدہ خراب ہوگا تو رگیں ظاہر ہوں گی بیماری کے ساتھ۔