7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 7:148

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور موسیٰ کی قوم نے ان کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کو معبود بنا لیا جو ایک ایسا جسم تھا کہ اس میں سے گائے کی آواز آرہی تھی۔ کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات نہیں کرتا اور نہ انہیں کوئی راستہ بتلاتا ہے۔ انہوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظلم کرنے والے تھے

(1) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید اور ابن منذر مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” واتخذ قوم موسیٰ من بعدہ من حلیہم عجلا جسدا “ کے بارے میں فرمایا کہ جس وقت انہوں نے اسے دفن کیا (یعنی زیورات کو پگھلا کر اس کا ڈھانچہ بنا لیا تو سامری نے اس پر ایک مشت مٹی پھینکی جو اس نے جبرئیل کے گھوڑے کے پاؤں کے نشان سے اٹھائی گئی تھی۔ (2) امام عبد الرزاق، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” عجلا جسدا لہ خوار “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے فرعون والوں سے زیورات عاریتا مانگے تھے سامری نے ان کو جمع کیا اور ان کو ایک بچھڑے کی شکل میں ڈھالا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو گوشت اور خون والا جسم بنا دیا جس کی ایک آواز تھی۔ (3) امام طستی نے مسائل میں ابن عباس سے روایت کیا کہ ابن ازرق (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” عجلا جسدا لہ حوار “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا : اس کی ایک چیخ تھی پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ کان بنی معاویۃ بن بکر الی الاسلام ضاحیۃ تحور ترجمہ : بنی معاویہ بن بکر کی اسلام کی خاطر ایسی قربانیاں ہیں جو آواز نکالتی ہیں۔ (4) امام ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ بچھڑے نے ایک دفعہ آواز نکالی پھر نہیں بولا کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” الم یروا انہ لایکلمہم “ (کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ وہ ان سے باتیں نہیں کرتا) ۔ (5) امام ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ” لہ خوار “ سے مراد ہے آواز۔
Ayah 7:149

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

اور جب وہ پچھتائے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ بلاشبہ وہ گمراہ ہوگئے تو کہنے لگے کہ اگر ہمارے رب ہم پر رحم نہ فرمائے اور ہمیں بخش نہ دے تو ہم تباہ کاروں میں سے ہوجائیں گے

ابن عباس ؓ نے لفظ آیت ” ولما سقط فی ایدیہم “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے جب وہ نادم ہوئے۔
Ayahs 7:150–151

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب موسیٰ اپنی قوم کی طرف اس حال میں واپس ہوئے کہ وہ غصہ میں اور رنج میں تھے تو انہوں نے کہا کہ تم لوگوں نے میرے بعد میری بری نیابت کی۔ کیا اپنے رب کا حکم آنے سے پہلے تم نے جلدی کرلی ؟ اور موسیٰ نے تختیوں کو ڈال دیا اور بھائی کے سر کو پکڑ لیا جسے اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ انہوں نے کہا اے میرے ماں جائے بلاشبہ قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کر ڈالیں، لہٰذا مجھ پر دشمنوں کو مت ہنسواؤ اور مجھے ظالموں میں شمار نہ کرو

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

موسیٰ نے عرض کیا اے میرے رب مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما اور آپ رحم الراحمین ہیں

(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے چند طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” اسفا “ یعنی غمگین ہونا۔ (2) امام ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولما رجع موسیٰ الی قومہ غضبان اسفا “ کے بارے میں فرمایا جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف واپس آئے غمگین ہوتے ہوئے اس عمل پر جو آپ کے بعد آپ کی قوم نے کیا۔ (3) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” غضبان اسفا “ یعنی غمگین اور سورة زخرف میں ہے۔ پس جب انہوں نے ہم کو ناراض کردیا پھر فرمایا اسف دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے ایک غضب (یعنی غصہ) اور دوسرا حزن (یعنی غم) ۔ (4) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” اسفا “ کا معنی ہے ” جزعا “ یعنی گھبرا جانا۔ (5) امام ابو الشیخ نے ابو داؤد ؓ سے روایت کیا کہ ” الاسف “ یعنی غصہ کے بعد جو اس سے بھی زیادہ سخت مقام ہے۔ (6) امام عبد بن حمید نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ ” الاسف “ سے مراد ہے سخت غصہ۔ (7) امام احمد، عبد بن حمید، بزار، ابن ابی حاتم، ابن حبان، طبرانی، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ پر واضح فرما رہے ہیں۔ آنکھ سے دیکھنے والا مانند خبر دینے والے کے نہیں کیونکہ رب تبارک و تعالیٰ نے آپ کو خبر دی کہ آپ کے بعد آپ کی قوم کو آزمائش میں ڈال دی گئی ہے۔ تو انہوں نے تختیاں نہیں پھینکیں۔ جب آپ نے ان کو دیکھا اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ تو (غصہ میں) تختیاں ہاتھ سے پھینک دیں اور ان میں سے ٹوٹ گئیں۔ (8) امام ابو الشیخ نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ جب غصہ ہوتے تو ان کی ٹوپی آگ سے بھڑک اٹھتی۔ (9) امام ابو عبید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب موسیٰ نے تختیاں پھینکیں تو وہ ٹوٹ گئیں تو ان میں سے چھٹے حصے کے سوا سب اٹھالیں گئیں۔ (10) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے لئے تختیوں میں لکھا جس میں لفظ آیت ” موعظۃ وتفصیلا لکل شیء “ یعنی نصیحت تھی اور ہر چیز کی تفصیل تھی۔ جب ان کو پھینک دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ حصوں میں سے چھ حصے اٹھالئے اور ساتویں کو باقی رکھا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” وفی نسختھا ھدی ورحمۃ “ (الاعراف آیت 154) یعنی جو اس میں سے باقی رہیں اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔ سبع مثانی سے کیا مراد ہے ؟ (11) امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو سبع مثانی عطا کی گی ان سے مراد طوال (سات لمبی سورتیں) ہیں اور موسیٰ کو چھ عطا کی گئیں۔ جب انہوں نے تختیوں کو نیچے ڈال دیا تو وہ اٹھالی گئیں اور باقی چار رہ گئیں۔ (12) امام ابو الشیخ نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” والقی الالواح “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ بات ذکر کی گئی کہ تختیوں میں سے پانچ چیزیں اٹھالیں گئیں اور یہ اس لائق نہیں تھیں کہ لوگ ان کو سیکھیں ان کا ذکر اس آیت میں ہے۔ لفظ آیت ” ان اللہ عندہ علم الساعۃ “ (لقمان آیت 24) آخری آیت تک۔ (13) امام ابو نعیم نے حلیہ میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ تختیاں زمرد کی تھیں جب موسیٰ نے ان کو نیچے ڈال دیا تو تفصیل چلی گئی اور ہدایت باقی رہ گئی۔ (14) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ خبر دی گئی کہ موسیٰ کی تختیاں نوتھیں ان میں سے دو اٹھالی گئیں اور سات باقی رہ گئیں۔ (15) امام ابن شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تجعلنی مع القوم الظلمین “ سے مراد ہے بچھڑے والوں کے ساتھ (ہم کو نہ بناؤ)
Ayah 7:152

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

بلاشبہ جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا انہیں ان کے رب کی طرف سے ضرور غصہ پہنچے گا اور ذلے پہنچے گی دنیا والی زندگی میں، اور اسی طرح ہم افتراء کرنے والوں کو سزا دیا کرتے ہیں

(1) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ایوب (رح) سے روایت کیا کہ ابو قلابہ (رح) نے یہ آیت ” ان الذین اتخذوا العجل سینالہم حغب من ربھم وذلۃ فی الحیوۃ الدنیا، وکذلک نجزی المفترین “ تلاوت کی اور فرمایا یہ بدلہ ہے برا افتراء باندھنے والے کا قیامت کے دن تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل کریں گے۔ (2) امام ابن ابی حاتم نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وکذلک نجزی المفترین “ سے مراد ہے کہ ہر بدعت والے کے لئے ذلت ہے۔ (3) امام بیہقی نے شعب الایمان میں سفیان بن عینیہ (رح) سے روایت کیا کہ تو کسی بدعتی کو نہیں پائے گا مگر تو اس کو ذلیل و رسوا پائے گا۔ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا لفظ آیت ” ان الذین اتخذوا العجل سینالہم غضب من ربھم وذلۃ فی الحیوۃ الدنیا “ (4) امام ابو الشیخ نے سفیان بن عینیہ (رح) سے روایت کیا کہ بدعتی زمین میں ایسا نہیں ہے مگر وہ ذلت کا پائے گا جو اس کو ڈھانک لے گی۔ اور وہ اللہ کی کتاب میں ہے لوگوں نے پوچھا وہ کہاں ہے۔ فرمایا کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا لفظ آیت ” ان الذین اتخذوا العجل “ (الآیہ) لوگوں نے کہا اے ابو محمد یہ تو بچھڑے والوں کے بارے میں خاص ہے فرمایا ہرگز نہیں تم پڑھ لو جو اس کے بعد ہے۔ لفظ آیت ” وکذلک نجزی المفترین “ اور یہ ہر افتراء باندھنے والے اور بدعتی کے لئے ہے قیامت کے دن تک۔
Ayah 7:153

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے گناہ کئے پھر ان کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو بلاشبہ آپ کا رب اس توبہ کے بعد ضرور بخش دینے والا ہے۔ مہربان ہے

(1) امام ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو ایک عورت سے زنا کرتا رہا پھر اس سے شادی کرلیتا ہے تو انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ لفظ آیت ” والذین عملوا السیات ثم تابوا من بعدھا وامنوا، ان ربک من بعدھا لغفور رحیم “۔
Ayah 7:154

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب موسیٰ کا غصہ فرد ہوا تو انہوں نے ان تختیوں کو اٹھالیا اور ان تختیوں میں جو لکھا ہوا تھا اس میں ہدایت تھی ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں

(1) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سیروایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو زبدجد کی سات تختیوں میں تورات عطا فرمائی۔ اس میں ہر چیز کا بیان تھا اور نصیحت تھی تورات لکھی ہوئی تھی جب اس کو لے کر آئے اور بنی اسرائیل کو بچھڑے پر بیٹھا ہوا دیکھا تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے تختیاں پھینک دیں تو وہ ٹوٹ گئیں۔ ہارون کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کے سر کو پکڑ لیا اللہ تعالیٰ نے اس میں سے چھ اٹھالیں اور ساتویں باقی رہ گئی (اسی کو فرمایا) لفظ آیت ” ولما سکت عن موسیٰ الضغب اخذ الالواح، وفی نسختھا ھدی ورحمۃ للذین ہم لربھم یرھبون “ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ تحریر ان میں سے باقی رہنے والی تختی میں تھی۔ (2) امام ابو عبید اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سعید بن جبیر (رح) سے روایت کی ہے کہ سعید بن جبیر (رح) نے فرمایا تختیاں زمرد کی تھیں جب موسیٰ نے ان کو ڈالا تو تفصیل چلی گئی اور ہدایت اور رحمت باقی رہ گئی۔ اور یہ آیت پڑھی ” وکتبنا لہ فی الالواح من کل شیء موعظۃ وتفصیلا لکل شیء “ (الاعراب 145) اور یہ آیت پڑھی ” ولما سکت عن موسیٰ الغضب اخذا الالواح، وفی نسختھا ھدی ورحمۃ “ فرمایا تفصیل کا یہاں ذکر نہیں کیا گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی مجلس شوریٰ (3) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا لمیقاتنا “ (الاعراف 155) کے بارے میں فرمایا موسیٰ نے ان افراد کو منتخب فرمایا تاکہ وہ ہارون کے ساتھ مل کر آپ کی قوم پر اللہ کا حکم قائم کریں لفظ آیت ” فلما اخذتھم الرجفۃ “ (الاعراف 155) یعنی زلزلے نے ان کو پکڑ لیا جب ان کی قوم کو پکڑا۔ (4) امام عبد بن حمید نے ابو سعد کے طریق سے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا لیمقاتنا “ بعد اس کے جب موسیٰ اپنی قوم میں سے ستر آدمیوں کو لے کر نکلے : اللہ تعالیٰ سے انہوں نے دعا کی اور سوال کیا کہ ان سے عذاب دور فرما دے تو ان کی دعا قبول نہ ہوئی۔ موسیٰ نے جان لیا کہ یہ لوگ اس گناہ میں اس طرح واقع ہوئے ہیں جیسے ان کی قوم۔ ابو سعید ؓ نے فرمایا مجھے محمد بن کعب قرظی نے فرمایا ان کی دعا قبول نہ ہوئی اس وجہ سے کہ انہوں نے برائی سے نہ روکا اور نہ ان کو نیکی کا حکم دیا تو ان کو زلزلہ نے پکڑ لیا اور وہ مرگئے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ فرمایا۔ (5) امام عبد بن حمید نے فضل بن عیسیٰ بن اخی الرقاشی (رح) سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل نے ایک دن موسیٰ سے فرمایا کیا تو ہمارے چچا کا بیٹا نہیں اور کیا تو ہم میں سے نہیں اور آپ کا خیال ہے کہ تو نے اللہ تعالٰٰ سے بات کی ہے۔ چناچہ ہم تیرے اوپر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا نہ دیکھ لیں۔ جب انہوں نے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی طرف وحی فرمائی کہ اپنی قوم میں سے ستر آدمیوں کو چن لو تو موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر شرفاء کو چن لیا پھر ان سے فرمایا تم نکل جاؤ ہر کھلے میدان میں پہنچے تو ان کی قوم کو زلزلے نے آپکڑا ان لوگوں نے کہا اے موسیٰ تو ہم کو واپس لوٹا دے موسیٰ نے ان سے فرمایا میرے اختیار میں کچھ نہیں۔ تم نے ایک چیز کا سوال کیا تمہارے پاس آگئی اور وہ سب مرگئے کہا گیا اے موسیٰ لوٹ جاؤ عرض کیا اے میرے رب کہاں لوٹ جاؤں ؟ فرمایا لفظ آیت ” قال رب لوشئت اہلکتھم من قبل وایای، اتھلکنا بما فعل السفھاء مما “ سے لے کر ” فساکتبھا للذین یتقون “ (الاعراف 155) الایہ عکرمہ (رح) نے فرمایا اس امت کے لئے اس دن رحمت لکھ دی گئی۔ (6) امام عبد بن حمید، ابن ابی الدنیا نے کتاب من عاش بعد الموت میں ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ جب ہارون کو موت حاضر ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ تو ہارون اور ابن ہارون چلو پہاڑ میں ایک غار کی طرف میں اس کی روح قبض کرنے والا ہوں کہ موسیٰ ہارون اور ابن ہارون چلے جب وہ غار پر پہنچے۔ اس پر داخل ہوئے اچانک اس میں ایک پلنگ تھا۔ موسیٰ اس پر لیٹ گئے پھر اس سے کھڑے ہوگئے پھر فرمایا یہ جگہ کتنی حسین اور اچھی ہے اے ہارون تو اس پر لیٹ جا تو ان کی روح قبض کرلی گئی۔ پھر موسیٰ اور ابن ہارون بنی اسرائیل کی طرف غمگین ہو کر واپس لوٹ گئے لوگوں نے ان سے کہا ہارون کہا ہے۔ فرمایا مرگئے ہیں لوگوں نے کہا بلکہ تو نے اس کو قتل کیا ہے۔ کیونکہ تم یہ جانتے ہو کہ ہم ان سے محبت کرتے ہیں۔ موسیٰ نے ان سے فرمایا تمہارے لئے ہلاکت ہو کیا میں اپنے بھائی کو قتل کر دوں گا حالانکہ میں نے اللہ تعالیٰ سے اس کے وزیر بننے کا سوال کیا تھا۔ اگر میں اس کے قتل کا ارادہ کرتا تو اس کا بیٹا مجھے چھوڑتا ؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ تم نے اس کو قتل کیا ہے کیونکہ تم ہماری وجہ سے حسد کرتے تھے پھر موسیٰ نے فرمایا تم ستر آدمیوں کو منتخب کرلو پس ایک ان کو ساتھ لے کر چلے دو آدمی راستے میں بیمار ہوگئے۔ آپ نے دونوں کے گرد خط کھینچ کر حصار بنایا (کہ تم یہاں رہو) اب موسیٰ ہارون کا بیٹا اور بنو اسرائیل چلے یہاں تک کہ ہارون تک پہنچے موسیٰ نے فرمایا اے ہارون تجھ کو کس نے قتل کیا فرمایا مجھے کسی نے قتل نہیں کیا لیکن مجھ کو موت آگئی ہے۔ انہوں نے کہا کیا تو حکم کرے گا اے موسیٰ کہ ہمارے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ ہم کو نبی بنا دے راوی نے کہا ان کو زلزلے نے پکڑا تو وہ مرگئے اور وہ دو آدمی تھے وہ بھی مرگئے موسیٰ کھڑے ہوئے اور اپنے رب سے یہ دعا فرمائی لفظ آیت ” اہلکنھم من قبل وایای، اتھلکنا بما فعل السفھاء منا “ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کردیا اور وہ قوم کی طرف نبی بن کر لوٹ گئے۔
Ayah 7:155

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

: اور موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر مرد ہمارے وقت معین کے لئے چن لئے پھر جب ان کو زلزلہ نے پکڑ لیا تو موسیٰ نے کہا کہ اے میرے رب اگر آپ چاہتے تو اس سے پہلے ہی ان کو اور مجھے ہلاک فرما دیتے۔ کیا آپ ہمارے چند بیوقوفوں کی حرکت کے سبب ہمیں ہلاک فرماتے ہیں۔ یہ محض آپ کی طرف سے آزمائش ہے آپ اس کے ذریعہ جس کو چاہیں گمراہی میں ڈالیں اور جس کو چاہیں ہدایت پر رکھیں۔ تو ہی ہمارا ولی ہے۔ لہٰذا ہماری مغفرت فرما اور ہم پر رحم فرما اور بخش دینے والوں میں تو سب سے بہتر ہے

(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واختار موسیٰ قومہ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا تھا کہ وہ اپنی قوم میں سے ستر آدمیوں کو چن لیں تو انہوں نے ستر آدمیوں کو چن لیا۔ ان کو لے کر کھلے میدان میں آئے۔ یہ اس لئے کہ تاکہ وہ تمہارے رب سے اس کے بارے میں دعا کریں۔ جس کے بارے میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور انہوں نے کہا اے اللہ ہم کو وہ چیز عطا فرما جو ہمارے بعد کسی کو عطا نہ فرمایا۔ ان کی دعاؤں میں سے اللہ تعالیٰ نے اس بات کو ناپسند فرمایا تو ان کو ایک زلزلہ سے پکڑ لیا موسیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” لوشئت اہلکنہم من قبل وایای، اتھلکنا بما فعل السفھاء منا، ان ہی الا فتنتک “ وہ کہہ رہے تھے نہیں ہے یہ مگر تیرا عذاب اے رب جسے تو چاہتا ہے اس میں مبتلا کردیتا ہے۔ اور پھیر دیتا ہے اس سے جس سے تو چاہتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ستر آدمیوں کی ممانعت (2) امام ابن حاتم اور ابو الشیخ نے نوف حمیری (رح) سے روایت کیا کہ جب موسیٰ نے اپنی قوم میں ستر آدمیوں کو چنا اپنے رب کے مقرر کردہ وقت کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے فرمایا میں تمہارے لئے زمین کو سجدہ کی جگہ اور پاکیزہ بنا دوں گا تمہارے گھروں میں تمہیں راحت اور سکون عطا کردوں گا۔ جو تمہارے ساتھ تمہارے گھروں میں ہوگی۔ اور تم کو ایسا بنا دوں گا کہ تم تورات کو اپنے دلوں میں محفوظ کرکے یاد کروگے۔ اور تم میں سے مرد عورتیں اور آزاد غلام اور چھوٹے اور بڑے سب تورات پڑھیں گے موسیٰ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے زمین کو سجدہ کرنے کی جگہ اور پاک بنا دیا ہے کہنے لگے ہم عبادت کرنا چاہتے ہیں مگر عبادت گاہوں میں پھر فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے گھروں میں راحت اور سکون عطا کرے گا۔ کہنے لگے ہم نہیں چاہتے مگر ویسا جیسا تورات میں تھا۔ پھر فرمایا اور تم کو ایسا بنا دے گا کہ تم زبانی تورات کو پڑھوگے۔ پس سب تورات یاد کریں گے تمہارے مرد عورتیں آزاد غلام چھوٹے بڑے کہنے لگے ہم نہیں چاہتے مگر دیکھ کر پڑھنے کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” فسا کتبھا للذین یتقون ویؤتون الزکوۃ “ سے ” مفلحون “ تک موسیٰ نے فرمایا میں آپ کے پاس آیا ہوں اپنی قوم کے ایک وفد کے ساتھ اور میں نے ان کو دوسرے کے لئے پیغام رساں بنایا ہے۔ اور مجھ کو نبی بنا دیجئے اس امت کا فرمایا ان کو نبی انہیں میں سے ہوگا عرض کیا مجھے اس وقت میں سے بنا دیجئے فرمایا تو ہرگز ان کو نہ پاسکو گے۔ عرض کیا اے میرے رب میں تیرے پاس اپنی قوم کا ایک وفد لے کر آیا ہوں۔ اور میں نے ان کو دوسروں کے لئے پیغام رساں بنایا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی (فرمایا) لفظ آیت ” ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون “ (الاعراف آیت 155) تو موسیٰ راضی ہوگئے نوف راوی نے کہا کیا تم اپنے رب کی حمد نہیں کرتے جو تمہارے چھپے ہوئے امور پر شاہد ہے۔ اور اس نے تمہارے لئے تمہارے نام بنائے ہیں اور تمہارے لئے دوسروں کو پیغام پہچانے والا بنایا۔ (3) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے نوف بکالی (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ نے جب اپنی قوم میں سے ستر آدمیوں کو چنا تو ان سے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف وفد بن کر چلو اور اس سے سوال کرو۔ موسیٰ کا بھی ایک سوال تھا اور ایک سوال ان کا تھا۔ جب طور پر پہنچے اس پر جہاں اللہ تعالیٰ سے وعدہ تھا۔ موسیٰ نے ان سے فرمایا اللہ سے سوال کرو۔ انہوں نے کہا لفظ آیت ” ارنا اللہ جھرۃ “ (کہ ہم اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا دیکھیں گے) موسیٰ نے فرمایا افسوس ہے تم پر تم اللہ تعالیٰ سے اس کا بار بار سوال کر رہے ہو ؟ انہوں نے کہا ہمارا یہی سوال ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا دیکھیں گے تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا اور وہ سب گرپڑے۔ موسیٰ نے فرمایا اے میرے رب کہ میں آپ کے پاس بنی اسرائیل میں سے ستر شرفاء لایا ہوں پس آپ انہیں ان کی طرف واپس لوٹا دیں کیونکہ میرے ساتھ ان میں سے ایک بھی نہیں ہے تو میں بنی اسرائیل کو کیسے مطمئن کروں گا۔ کیا وہ مجھ کو قتل نہ کردیں گے ؟ ان سے فرمایا گیا تو اپنا سوال کر عرض کیا اے میرے رب میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ ان کو آپ زندہ کر دیجئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کردیا تو آپ کا سوال ختم ہوگیا۔ اور اس دعوت کو اس امت کے لئے بنا دیا گیا وہ ستر افراد تیس سال سے اوپر کی عمر والے تھے۔ (4) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابو سعید رقاشی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا “ کے بارے میں فرمای وہ ستر افراد تیس سال سے اوپر والے تھے اور چالیس سال کو نہ پہنچے تھے یہ اس وجہ سے ہے کہ جو شخص تیس سال کی عمر سے تجاوز کر جائے تو اس کی جہالت اور بچپنا ختم ہوجاتا ہے۔ اور جو شخص چالیس سال کو پہنچ گیا وہ اپنی عقل اور فہم و فراست سے کوئی چیز کم نہیں پاتا۔ (5) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا لمیقاتنا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے وعدہ کی جگہ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” اخذتھم الرجفۃ “ کے بارے میں کہا کہ وہ مرگئے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو دوبارہ زندہ کردیا۔ (6) امام ابن شیبہ، ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ان ہی الا فتنتک “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے تیری آزمائش۔ (7) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان ہی الا فتنتک “ یعنی یہ نہیں ہے مگر تیری مرضی۔ (8) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے رب کیا اس سامری نے ان کو حکم دیا انہوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا آپ بتائیے کہ روح کس نے اس میں پھونکی تھی رب تعالیٰ نے فرمایا میں نے عرض کیا اے میرے رب پھر تو آپ نے ہی ان کو گمراہ کیا۔ موسیٰ کے عدم موجودگی میں فتنے کا ظہور (9) امام ابن حاتم نے راشد بن سعد (رح) سے روایت کیا کہ جب موسیٰ اپنے رب سے ملاقات کے لئے مقرر جگہ پر آئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ تیری قوم تیرے بعد فتنہ میں پڑگئی ہے۔ عرض کیا اے میرے رب وہ کس طرح فتنے میں پڑگئے ہیں حالانکہ آپ نے ان کو فرعون سے نجات دی اور ان کو سمندر سے بچا لیا اور ان پر انعام فرمائے ؟ (فرمایا) اے موسیٰ انہوں نے تیرے بعد ایک بچھڑے کو معبود بنا لیا جس کی آوزا بھی ہے۔ عرض کیا اے میرے رب کس نے اس میں روح کو ڈالا ؟ فرمایا میں نے۔ عرض کیا پھر تو آپ ہی نے ان کو گمراہ کیا فرمایا اے موسیٰ ، اے نبیوں کے سردار، اے حکماء کے باپ ! میں نے جب اس بات کو ان کے دلوں میں دیکھا تو میں نے ان کے لئے اس (فتنہ کو آسان کردیا) (10) امام عبد بن حمید، ابن ابی عمر العدنی نے مسند میں، ابن جریر اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ ستر آدمی تھے جن کو موسیٰ نے چنا تھا اپنی قوم میں سے ان کو بھی زلزلے نے پکڑ لیا کیونکہ وہ اگرچہ بچھڑے کی عبادت سے راضی نہیں تھے مگر انہوں نے اس سے (لوگوں کو) نہیں روکا۔ (11) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ ستر آدمی پاک کپڑے پہنے ہوئے تھے جن کو کنواری لڑکیوں نے کاتا اور بنا تھا پھر وہ بارش والی رات کو صبح کو کھلے میدان کی طرف نکلے اور اس میں وہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے لگے اللہ کی قسم نہیں سوال کیا کسی قوم نے اس دن کسی چیز کا مگر اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ عطا فرما دیا۔ (12) امام ابو الشیخ نے ابو الاسود محمد بن عبد الرحمن سے روایت کیا کہ یہ ستر آدمی جن کو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم میں سے چنا تھا وہ کالے خضاب کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔