3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 3:185

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 3:185 in the Quran reader

ہر متنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تم کو قیامت کے دن تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ تو جو شخص آتش جہنم سے دور رکھا گیا اور بہشت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے۔

185۔ (آیت)” کل نفس “۔ نفس منفوسہ کے معنی میں ہے (آیت)” ذائقۃ الموت “ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا تو زمین نے اپنے رب سے شکایت کی کہ میری مٹی سے آدم کو کیوں بنایا گیا ؟ زمین کے ساتھ وعدہ کیا گیا کہ وہ اس کو زمین میں ہی لوٹائے گا جو اس سے لیا نہیں ہے تم میں سے کوئی شخص جو مٹی سے پیدا کیا گیا ہو اور اس کو مٹی ہی میں دفن نہ کیا گیا ہو ، (آیت)” وانما توفون اجورکم “۔ وہ پورا پورا دے تمہارے اعمال کا بدلہ (آیت)” یوم القیامۃ “۔ اگر نیک اعمال کیے ہوں گے تو اس کے بدلے میں نیکیاں ملیں گی اور اگر برے اعمال کیے تو ان کو برے بدلے ملیں گے ، (آیت)” فمن زحزح “ پس ہم جس کو زندہ کریں اور اس کو آگ سے دور کردیں ۔ (آیت)” عن النار وادخل الجنۃ فقد فاز وما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور “۔ متاع سے مراد نفع اور فائدے کی چیز ہے جیسے پلیٹ ، رکابی ، کھانے کے برتن سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے ، پھر وہ نفع زائل ہوجاتا ہے اور وہ باقی نہیں رہتا ، حسن (رح) فرماتے ہیں کہ دنیا گھاس کے سبزے اور لڑکیوں کی گڑیوں کی طرح ہے جس کا کوئی حاصل نہیں ، قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ متاع (دنیا) ایک ایسا سامان ہے جو دوسروں کا چھوڑا ہوا ہے لہذا تم اس سامان سے اللہ کی فرمانبرداری کے ساتھ لے لو، یہاں غرور سے مراد باطل ہے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں شمار کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں اور نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ ہی ایسی نعمتیں کسی بندے کے دل میں آئی ہیں ، اگر تم چاہتے ہو تو یہ پڑھو۔ (آیت)” فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین جزاء بما کانوا یعملون “۔ اور جنت کے اندر ایک درخت ہے جس کے سایہ میں گھڑ سوار سو برس تک چلتا رہے پھر بھی طے نہ کر پائے گا اگر تم چاہتے ہو تو یہ پڑھو (آیت)” وظل ممدود “۔ اور جنت کی ایک کوڑے کی جگہ دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہے اگر تم چاہو تو پڑھو (آیت)” فمن زحزح عن النار وادخل الجنۃ فقد فاز وما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور “۔
Ayah 3:186

لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١۫ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ Open ayah 3:186 in the Quran reader

(اے اہل ایمان) تمہارے مال و جان میں تمہاری آزمائش کی جائے گی۔ اور تم اہل کتاب سے اور ان لوگوں سے جو مشرک ہیں بہت سی ایذا کی باتیں سنو گے۔ تو اگر صبر اور پرہیزگاری کرتے رہو گے تو یہ بہت بڑی ہمت کے کام ہیں۔

(شان نزول) (تفسیر) 186۔ : (آیت)” لتبلون فی اموالکم وانفسکم “۔ عکرمہ ؓ ، مقاتل (رح) ، کلبی (رح) ، ابن جریج (رح) ، فرماتے ہیں کہ یہ آیت ابی بکر اور فخاض بن عاز وراء کے متعلق نازل ہوئی ، اس کا واقعہ یہ ہوا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو فخاض بن عاز وراء بنو قینقاع کے سردار کے پاس کچھ مالی تعاون کے لیے بھیجا اور ایک تحریر بھی لکھ دی اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے فرمایا کہ میرے بغیر تیری میں کچھ حرکت نہ کر بیٹھنا یہاں تک کہ آپ میرے پاس لوٹ آئے ، حضرت ابوبکر صدیق ؓ گردن میں تلوار لٹکائے فخاض کے پاس پہنچے اور اس کو تحریر نامہ دیا ، جب اس نے پڑھا تو کہنے لگا کہ تیرا رب محتاج ہوگیا کہ وہ ہم سے مدد طلب کرتا ہے (نعوذ باللہ) یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے تلوار کی ضرب لگانی چاہی مگر آپ ﷺ کا فرمان یاد آگیا کہ واپس آجانا تیزی سے کوئی کام نہ کرلینا آپ اس بات سے رک گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا برا انجام) زہری (رح) کا قول ہے اس آیت کا نزول کعب بن اشرف کے بارے میں ہوا کیونکہ وہ آپ ﷺ کے خلاف ہجو اور مسلمانوں کو گالیاں دیتا تھا اور مشرکین کو اپنا اشعار میں آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے خلاف ورغلاتا تھا اور مسلمانوں کی عورتوں کے خلاف اشعار پڑھتا تھا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کون ہے جو اس کا بدلہ لے کہ کعب بن اشرف نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت پہنچائی ہے محمد بن سلمہ انصاری اس وقت موجود تھے ، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں یہ کام سرانجام دوں گا میں اس کو قتل کروں گا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تو اس طرح کر گزر، اس کے بعد محمد بن سلمہ واپس لوٹے اور تین تن تک نہ انہوں نے کھانا کھایا اور نہ پانی پیا مگر اتنی مقدار میں جس سے زندگی برقرار رہے ، اس بات کا تذکرہ آپ ﷺ کے سامنے کیا گیا ، آپ ﷺ نے ان کو بلایا اور ان سے فرمایا کہ آپ نے کھانا پینا کیوں چھوڑ رکھا ہے ؟ فرمایا اے اللہ کے رسول ! ﷺ میں ایسی بات کہہ چکا ہوں اب معلوم نہیں کہ وہ مجھے پورا ہوگا یا نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے اوپر کوشش کرنا ہے ، انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ اجازت دیں کہ اگر میں ذومعنی کچھ نازیبا الفاظ اس کے سامنے کہہ دوں (تو آپ ناراض تو نہیں ہوں گے) آپ ﷺ نے اس بات کی اجازت دے دی۔ (کعب بن اشرف کو قتل کرنے کے لیے ابو نائلہ اور محمد بن مسلمہ ؓ کا جانا) کعب بن اشرف کو قتل کرنے کے لیے محمد بن سلمہ ؓ ، سلکان بن سلام اور ابو نائلہ یہ دونوں کعب کے رضاعی بھائی تھے ، عباد بن بشر حارث بن اوس اور ابو عیسیٰ بن جبیر بھی ان کے ساتھ تھے ، آپ ﷺ ان کو الوداع کرنے بقیع الغرقد تک گئے ، پھر ان کو ارشاد فرمایا کہ آپ سب چلو اللہ کے اس بابرکت نام کے ساتھ وہ ہے ” اللھم اعنھم “۔ پھر آپ ﷺ واپس لوٹ آئے یہ چاندنی رات تھی جس میں وہ چل پڑے تھے ، یہاں تک کہ ان کے پاس محل میں پہنچ گئے ، ابونائلہ کو انہوں نے آگے بھیجا اور وہ اس کے پاس آیا اور اس کے ساتھ کچھ دیر باتیں کرنے لگا اور اشعار بھی پڑھنے لگا چونکہ ابو نائلہ بھی شعر کہا کرتے تھے پھر ابو نائلہ بولے ابن اشرف تو ہلاک ہو ، میں تمہارے پاس ایک کام کی غرض سے آیا ہوں اس کا ذکر میں تم سے کرتا ہوں لیکن اس کا تذکرہ کسی کے ساتھ نہیں کرنا ، کعب بن اشرف نے کہا کہ جی ہاں ایسا ہی ہوگا ، ابو نائلہ کہنے لگے کہ اس شخص کا ہمارے شہر میں آنا ہمارے لیے نامناسب بن گیا ہے تمام عرب ہمارا دشمن ہوگیا ہے اور ہمارے مقابلے میں ایک کمان بن گیا ہے، ہمارے سفر کے راستے منقطع ہوگئے ، یہاں تکہ بال بچے بھوک سے مرنے لگے ہیں اور ہم سخت دشواریوں میں پڑگئے ، کعب کہنے لگا کہ میں اشرف کا بیٹا ہوں ، میں نے تمہیں پہلے ہی بتادیا تھا کہ ایسا ہی ہونا ہے ابو نائلہ نے کہا کہ میرے ساتھ میرے اور ساتھی بھی ہیں ہم سب چاہتے ہیں کہ تم ہمارے ہاتھ کچھ غلہ فروخت کر دو ، ہم تمہارے پاس کچھ رہن رکھ دیں گے اور تمہارا اعتماد کرا دیں گے تم ہم سے اتنا سلوک کر دو ۔ کعب بن اشرف نے کہا کہ تم اپنے بیٹے ہمارے پاس رہن رکھ لو ، ابو نائلہ نے کہا ہم کو شرم آتی ہے کہ اپنی اولاد کو رہن ہونے کی عار میں مبتلا کردیں ، آئندہ آنے والے لوگ یہ کہیں کہ یہ وہی ہیں جو ایک وسق یا دو وسق کے عوض رہن رکھے گئے تھے ۔ کعب نے کہا کہ تم اپنی عورتیں ہمارے پاس رہن رکھ دو ، ابو نائلہ کہنے لگے کہ ہم اپنی عورتیں آپ کے پاس کس طرح رہن رکھیں تم عرب کے حسین ترین شخص ہو ہم تمہاری طرف سے بےخطر نہیں ہیں تمہاری خوبصورتی کو دیکھ کر کون عورت تم سے بچ سکتی ہے ، البتہ اسلحہ تمہارے پاس رہن رکھ سکتے ہیں اور تم واقف ہی ہو کہ ہم کو اسلحہ کی کتنی ضرورت ہے ، کعب بن اشرف نے کہا جی ہاں ۔ ابو نائلہ نے چاہا کہ کعب ہتھیاروں کو دیکھ کر کہیں انکار نہ کردے ، اس لیے اس سے دوبارہ آنے کا وعدہ کرکے لوٹ آئے اور اپنے ساتھیوں کو آکر اطلاع دے دی ، سب نے باتفاق رائے یہ طے کرلیا کہ شام کو مقررہ وعدہ کے مطابق کعب کے پاس جائیں گے پھر رات کو آکر رسول اللہ ﷺ کو اس تدبیر اور گفتگو کی اطلاع دے دی ، پھر ابو نائلہ حسب وعدہ رات کے وقت اس کے پاس آئے ، گڑھی کے پاس آکر ابو نائلہ نے اس کو آواز دی ، ابن اشرف کی شادی نئی نئی ہوئی تھی ، آواز سن کر وہ چادر لپیٹے ہی اٹھ کھڑا ہوا بیوی نے چادر کا کونہ پکڑ لیا اور کہنے لگی کہ میں ایسی آواز سن رہی ہوں جس سے خون ٹپک رہا ہے آپ گڑھی کے اوپر سے ہی ان سے گفتگو کرلیں ، اور آپ جنگی آدمی ہیں اور جنگی آدمی اس وقت نہیں اترا کرتے وہ کہنے لگا کہ وہ میرا بھانجا محمد بن مسلمہ ہے جو میرا رضاعی بھائی نائلہ ہے اگر یہ لوگ مجھے سوتا پائیں گے تو مجھے جگا دیں گے اور شریف آدمی کو اگر رات میں نیزوں کی طرف بھی بلایا جائے تو وہ قبول کرتا ہے تو وہ ان کی طرف اتر آیا ، وہ اس کے ساتھ کچھ دیر باتیں کرتے رہے، پھر کہنے لگے اے ابن اشرف ! چلو شعب عجوز تک ٹہلتے ہوئے چلیں ، وہاں پہنچ کر باقی رات باتیں کریں گے، کعب نے کہا کہ اگر چاہتے ہو تو چلیں ، ابونائلہ نے اپنے ساتھیوں سے کہہ دیا تھا کہ میں اس کے بال خوشبو سونگھنے کے لیے ہاتھ میں پکڑوں گا جب تم دیکھ لو کہ میں نے اس کے بال مضبوطی سے پکڑ لئے تو اپنا کام تمام کرنا اور تلواروں سے اس پر حملہ کرنا، پھر وہ چلتے ہوئے نائلہ نے اپنا ہاتھ مبارک اس کے بالوں سے لگایا اور سونگھا اور کہنے لگے کہ آج تمہاری طرف سے خوشبو کی مہک آرہی ہے کعب نے جواب دیا فلاں عورت جو عرب کی عورتوں میں سب سے زیادہ معطر رہنے والی ہے میری بیوی ہے ، ابو نائلہ نے کہا کہ کیا مجھے سونگھنے کی اجازت ہے ، کعب نے کہا ہاں ابو نائلہ نے اپنا ہاتھ کعب کے سر میں ڈالا پھر اپنے ہاتھ کو سونگھا اور کہا آج کی رات کی طرح میں نے کبھی کوئی خوشبو نہیں سونگھی پھر کچھ دیر مزید چلے پھر وہی عمل کیا جو پہلے کیا تھا ، پھر اور چلے اور پہلے کی طرح دوبارہ اس کے بالوں کو سونگھا پھر اس کے بعد اس کے سر کو مضبوطی کے ساتھ پکڑا اور کہا دشمن خدا کو مارو فورا تلواریں چلیں لیکن تلواروں کے اختلاف سے کچھ فائدہ نہیں ہوا محمد بن مسلمہ نے کہا کہ وہ مجھے خنجر یاد آگیا جو تلوار میں ، میں نے رکھا تھا ، فورا وہ خنجر میں نے ہاتھ میں لے لیا ، دشمن خدا نے ایک زور دار چیخ ماری ، چیخ کے ساتھ ہی ہمارے آس پاس کی تمام گڑھیاں روشن ہوگئیں ، میں نے خنجر اس کی پیٹھ میں گھونپ دیا اور خنجر پر دباؤ ڈال کر پیڑو کی ہڈی تک پہنچا دیا اور اللہ کا دشمن گرپڑا ، جب اس کو تلواروں سے حملہ کیا گیا تھا تو تلواروں کے مختلف ہونے کی وجہ سے حارث بن اوس کے سر میں چوٹ لگ گئی تھی ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین فرماتے ہیں کہ ہم وہاں سے نکلے ہم پہرے دار یہودیوں کے ڈر کی وجہ سے وہاں سے نکل کر تیزی سے بھاگے مگر ہمارا ساتھی حارث بن اوس سر کی چوٹ اور خون نکل جانے کی وجہ سے پیچھے رہ گیا اور اس نے ساتھیوں کو پکار کر کہا رسول اللہ ﷺ کو میرا سلام کہہ دینا آواز سن کر لوگ اس کی طرف مڑے اور اٹھا کرلے آئے آپ ﷺ کی خدمت میں چل دئیے ، وہاں پہنچ کر دیکھا کہ آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے ، ہم نے آپ ﷺ کو سلام کیا وہ ہمارے پاس تشریف لے آئے ہم نے آپ ﷺ کو کعب کے قتل کی خوشخبری دی اور اس کا سر کاٹ کر آپ ﷺ کے پاس لے آئے اور آپ ﷺ نے ہمارے ساتھی کے زخم پر تھتکارا جس کی وجہ سے زخم نے تکلیف نہیں پہنچائی اور لوگ اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ صبح کے وقت آپ ﷺ نے اعلان کردیا کہ جو یہودی تمہارے ہاتھ لگے اس کو قتل کر دو ، سفینہ یہودیوں کا تاجر تھا جس کا مسلمانوں سے اختلاط تھا وہ مسلمانوں میں خریدوفروخت کیا کرتا تھا محیصہ بن مسعود ؓ نے اس کو قتل کردیا ، محیصہ کا ایک بڑا بھائی خویصہ تھا اس وقت تک مسلمان نہیں ہوا تھا خویصہ نے محیصہ کو مارا اور کہا اے اللہ کے دشمن ! تو نے اس کو قتل کردیا حالانکہ خدا کی قسم ، تیرے پیٹ کے اندر جتنی چربی ہے اس کا اکثر حصہ اسی کے مال سے پیدا ہوا ہے ، محیصہ نے کہا کہ اگر محمد ﷺ مجھے تیرے قتل کرنے کا حکم دیدیں تو میں تیری گردن بھی اتار دوں گا ، وہ کہنے لگا واقعی اگر محمد ﷺ تجھے میرے قتل کرنے کا حکم دے دیں تو تم مجھے قتل کر دو گے، محیصہ نے کہا جی ہاں ۔ خویصہ کہنے لگا اچھا جس دین نے تجھے اس حد تک پہنچادیا خدا کی قسم ! وہ تو عجب دین ہے اس کے بعد خویصہ بھی مسلمان ہوگیا ، اللہ تعالیٰ نے کعب کے واقعہ کے متعلق یہ آیات نازل فرمائی ” لتبلون “۔ ہم تمہیں ضرور بضرور خبر دیں گے ، لام تاکید یہ ہے اور قسم کے معنی میں ہے اور نون تاکید بھی قسم کے لیے ہے ، ” فی اموالکم “ سے مراد مالی مصائب ، تباہیاں ، آفات اور تجارتی گھاٹا ” وانفسکم “ اور تمہارے نفسوں کو مرض میں مبتلا کر کے، بعض نے کہا کہ تمہارے اقارب کے مصائب اور تمہارے گھر والوں کی مشکلات کے باعث تمہیں تکالیف دیں گے ، عطاء فرماتے ہیں ان سے مراد مہاجرین ہیں جنہوں نے مشرکوں سے اموال وغیرہ قرض لیے تھے ، پھر ان کو تکالیف دیتے تھے ، حسن (رح) ، فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ اعمال جو ان کے نفسوں اور مالوں پر فرض کیے گئے تھے ، جیسا کہ نماز، روزہ ، حج ، جہاد ، زکوۃ ، (آیت)” ولتسمعن من الذین اوتوالکتاب من قبلکم “۔ اس سے مراد یہود و نصاری ہیں ، (آیت)” ومن الذین اشرکوا “۔ سے عرب کے مشرکین ہیں ۔ (آیت)” اذی کثیرا وان تصبروا “۔ اگر اس اذیت پر صبر کریں ، ” وتتقوا “۔ اور اللہ سے ڈریں ، (آیت)” فان ذلک من عزم الامور “۔ یعنی ان امور میں سے جن کا تاکیدی حکم دیا ہے، عطاء (رح) نے عزم الامور کا ترجمہ حقیقت ایمان کیا ہے۔
Ayah 3:187

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ Open ayah 3:187 in the Quran reader

اور جب خدا نے ان لوگوں سے جن کو کتاب عنایت کی گئی تھی اقرار لیا کہ (اس میں جو کچھ لکھا ہے) اسے صاف صاف بیان کرتے رہنا۔ اور اس (کی کسی بات) کو نہ چھپانا تو انہوں نے اس کو پس پشت پھینک دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت حاصل کی۔ یہ جو کچھ حاصل کرتے ہیں برا ہے۔

(تفسیر) 187۔: (آیت)” واذا اخذاللہ ۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔۔ ولا تکتمونہ “۔ ابن کثیر (رح) ، اہل بصرہ (رح) ، ابوبکر (رح) نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے ۔ ” فنبذوہ وراء ظھورھم “۔ دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے ۔ (آیت)” فنبذوھم وراء ظھورھم “۔ اس کو چھوڑ دیا اور اس کو ضائع کردیا اور اس پر عمل کرنا چھوڑ دیا ۔ (آیت)” واشتروا بہ ثمنا قلیلا “۔ حقیر معاوضہ اور رشوتیں لے لیں ، ” فبئس مایشترون “۔ قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ یہ وہ میثاق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اہل علم سے لیا تھا کہ جو تم میں سے کوئی علم سیکھنے تو اس کو چاہیے کہ وہ آگے علم سکھائے تو علم چھپانے سے بچو کیونکہ علم کا چھپانہ ہلاکت کا باعث ہے ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل علم سے یہ عہد لیا تھا کہ میں جو کچھ تم سے بیان کروں اس کو نہ چھپانا پھر آپ نے یہ آیت (آیت)” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتاب “۔ تلاوت فرمائی ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر کسی شخص سے کوئی ایسی علم کی بات پوچھی جائے جس کو وہ جانتا ہو اور وہ چھپائے رکھے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام ہوگی ، حسن بن عمارۃ (رح) نے بیان کیا کہ میں زہری کے پاس اس زمانہ میں گیا جب انہوں نے حدیث بیان کرنا چھوڑ دیا تھا ، میں نے اس کو دروازے پر پایا اور کہا اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھ سے کوئی حدیث بیان کریں یا پھر میں آپ سے ایک حدیث بیان کروں ، بولے تم بیان کرو میں نے کہا کہ مجھ سے حکم بن عیینہ نے یحییٰ بن خراز کے حوالے سے بیان کیا ، خراز نے کہا کہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جاہلوں سے علم سیکھنے کا عہد اس وقت تک نہیں لیا جب تک علماء سے علم سیکھنے کا وعدہ نہ لے لیا، پھر زہری نے مجھ سے چالیس حدیثیں بیان کیں ۔
Ayahs 3:188–189

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:188 in the Quran reader

جو لوگ اپنے (ناپسند) کاموں سے خوش ہوتے ہیں اور (پسندیدہ کام) جو کرتے نہیں ان کے لیے چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے ان کی نسبت خیال نہ کرنا کہ وہ عذاب سے رستگار ہوجائیں گے اور انہیں درد دینے والا عذاب ہوگا۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 3:189 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کو ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

188۔ (آیت)” لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا “۔ حمزہ (رح) ، عاصم (رح) ، کسائی (رح) ، نے ان کو تاء کے ساتھ پڑھا ہے ، مطلب یہ ہوگا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 9 ان کی خوشی آپ گمان نہ کریں ، دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے (آیت)” لایحسبن الذین “۔ وہ آپ کی خوشی میں خوش ہوتے ہیں کہ ہمیں بھی نجات ملے گی ،۔ ابن کثیر (رح) اور ابو عمرو نے (آیت)” فلا یحسبنھم “ یاء کے ساتھ اور اس پر ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے ، فارحین کی خبر ہے مطلب یہ ہے کہ وہ گمان نہ کریں اپنے نفسوں پر ، بعض قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور باء کے فتحہ سے اس صورت میں خطاب آپ ﷺ کو ہوگا ، پھر آگے (آیت)” فلا تحسبنھم تاکیدا لائے عبداللہ بن مسعود ؓ نے ۔ (ولا تحسبن الذین کا شان نزول) ” ولایحسبن الذین تا من العذاب “۔ تک بغیر تکرار کے ذکر فرمایا اس آیت کا شان نزول میں آئمہ کا اختلاف ہے ۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے زمانے میں منافقین میں سے کچھ لو گ ایسا کرتے تھے کہ جب آپ ﷺ کسی جہاد کے لیے جاتے تو یہ منافقین پیچھے رہ جاتے جہاد پر نہیں جاتے تھے اور پیچھے بیٹھے رہنے پر خوش ہوتے تھے لیکن حضور ﷺ جب واپس آتے تھے تو یہ لوگ قسمیں کھا کر معذرت پیش کرتے تھے اور ناکردہ فعل پر تعریف کے خواستگار ہوتے تھے اس پر یہ آیت (آیت)” ولا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا “۔ نازل ہوئی ۔ مروان نے ابو رافع سے پوچھا کہ اے رافع جاؤ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس ، اس آیت کے متعلق سوال کرو کہ یہ کس کے متعلق نازل ہوئی اور ان سے کہو کہ اگر یہ سب لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے کہ جب ہم میں سے ہر شخص اپنے کیے پر خوش اور ناکردہ نیکی پر تعریف کیے جانے کو پسند کرتا ہے اور ایسے شخص کو عذاب دیا جانا یقینی ہے تو کیا پھر ہم سب کو عذاب دیاجائے گا ؟ ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے ارشاد فرمایا تمہارا اس آیت سے کیا تعلق ، اس کا واقعہ تو یہ ہے کہ رسول ﷺ نے یہودیوں کو طلب فرمایا اور کوئی بات پوچھی ، یہودیوں نے اصل بات چھپالی اور کوئی دوسری بات بتائی اور رسول اللہ ﷺ پر یہ ظاہر کیا کہ آپ نے جو کچھ دریافت کیا تھا ہم نے وہی بتایا اس فعل پر انہوں نے مستحق تعریف بنانا چاہا لیکن اپنی جگہ پر وہ اس امر سے خوش تھے کہ ہم نے وہ بات چھپالی جو رسول اللہ ﷺ نے دریافت کی تھی اس کے بعد حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے یہ آیت (آیت)” واذ اخذ اللہ میثاق الذین “۔ آخر تک تلاوت فرمائی ۔ (آیت)” ویحبون ان یحمدوا بمالم یفعلوا “۔ عکرمہ ؓ کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول فخاض واسیبع اور یہود کے دوسرے سرداروں کے متعلق ہوا جو لوگوں کو گمراہ کرکے خوش ہوتے تھے کہ وہ علم جاننے والے ہیں حالانکہ ان کے پاس کسی چیز کا علم نہیں اور نہ ہی وہ علماء کہلانے کے مستحق ہیں ، مجاہد (رح) نے کہا یہودی خوش ہوتے تھے کہ اللہ نے آل ابراہیم کو مراتب عطا فرمائے حالانکہ وہ خود اس سے بےبہرہ تھے، قتادہ (رح) اور مقاتل (رح) کا قول ہے کہ خیبر کے یہودیوں نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا ہم آپ کو پہچانتے اور تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نبی موعود ہیں اور ہم تمہارے خیال سے متفق ہیں اور تمہارے مددگار ہیں مگر یہ باتیں ان کے دلوں میں نہیں تھیں جب حضور اقدس ﷺ کے پاس سے اٹھ کھڑے ہوئے تو مسلمانوں نے ان سے کہا کہ تم نے خوب کہا ، ایسا ہی کرنا غرض مسلمانوں نے ان کی تعریف کی اور ان کے لیے دعا کی اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی (آیت)” ویفرحون بما اتوا “۔ فراء نے کہا کہ وہ اپنے کاموں پر خوش ہوتے ہیں ، جو انہوں نے کئے ہوئے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (آیت)” لقد جئت شیئا فریا “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” فلا تحسبنھم بمفازۃ “ سے مراد نجات پانا ہے (آیت)” من العذاب ولھم عذاب الیم “۔
Ayah 3:190

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ Open ayah 3:190 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کر آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

(تفسیر) 190۔: حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں ایک دن آپ ﷺ کے ہاں سویا ، دیکھا کہ آپ ﷺ اٹھے اور مسواک کیا پھر وضو کیا اور یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت)” ان فی خلق السموت والارض “ آخر سورة تک ، پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں اس طور پر کہ اس میں قیام ، رکوع ، سجود کو خوب طویل کیا پھر آپ ﷺ نے نماز ختم کی پھر سو گئے ، یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی ، اس طرح آپ ﷺ نے تین مرتبہ کیا اور چھے رکعات پڑھی اور ہر دفعہ مسواک کیا پھر وضوء کیا ، پھر یہ آیات تلاوت فرمائی پھر تین وتر پڑھے پھر مؤذن آیا آپ ﷺ نماز کے لیے نکلے اور یہ ارشاد فرما رہے تھے اے اللہ تعالیٰ میری آنکھوں کو نور بنا دے ، میرے سننے کو نور ، میری زبان کو نور اور میرے پیچھے نور اور میرے آگے نور اور میرے پیچھے نور اور میرے نیچے نور بنا دے، اے اللہ ! مجھے نور عطا فرما ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے اس میں زیادہ کیا کہ اے اللہ ! میرے دل کو نور سے منور کر دے اور میری آنکھوں کو اور میرے کانوں کو اور میرے دائیں اور بائیں نور سے منور فرما دے ” لایات لاولی الالباب “ نشانیاں ہیں اہل عقل والوں کے لیے ۔
Ayah 3:191

الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا١ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 3:191 in the Quran reader

جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے ہیں) اے پروردگار تو نے اس (مخلوق) کو بےفائدہ نہیں پیدا کیا۔ تو پاک ہے تو (قیامت کے دن) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو۔

(تفسیر) 191۔: حضرت علی بن ابی طالب ؓ اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے نخی (رح) ، اور قتادہ (رح) ، فرماتے ہیں کہ یہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے بیان میں ہے اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہیں تو بیٹھ کر اور اگر بیٹھ کر طاقت نہیں تو ایک پہلو کے بل نماز پڑھے ، عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمـ سے مریض کی نماز کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے ارشادفرمایا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اگر بیٹھ کر پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو پھر پہلو کی بل نماز پڑھو، دوسرے مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے ہے کہ اس سے کسی عم پر مداومت اختیار کرنا مراد ہے ، تمام احوال میں کیونکہ انسان کی زندگی میں ہی تین حالات پیش آتے ہیں ، اس کی مثال (آیت)” فاذا قضیتم الصلوۃ فاذکروا اللہ قیام وقعودا وعلی جنوبکم “۔ (آیت)” ویتفکرون فی خلق السموت والارض “۔ اور وہ چیزیں جن کو ابتداء سے پیدا کیا تاکہ یہ سب اشیاء اللہ کی قدرت پر دلالت کریں تاکہ معلوم ہوجائے کہ ہر چیز کا بنانے والا قادر تدبیر کرنے والے حکیم ہے ، ابن عون کا بیان ہے غور و فکر انسان کی غفلت کو دور کردیتا ہے اور دل میں خوف الہی پیدا کرتا ہے جیسا کہ کھیتی کو پانی سیراب کرتی ہے اور دلوں کی مثال خزانوں کی طرح ہے اور یہ خزانے نہیں چمکتے مگر غور وفکر سے ، ” ربنا “ اور وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ” ما خلقت ھذا “ یہ اس لیے فرمایا کہ مخلوقات کو اسی طرف لوٹنا ہے ، صرف یہ نہیں فرمایا ” باطلا “ بلکہ درمیان میں تخلیق کا ذکر فرمایا دیا ” باطلا “ بیکار ، کھیل تماشا کے لیے نہیں بنایا بلکہ ایک بڑے کام کے لیے بنایا ، باطلا منصوب بنزع الخافض ہے ، اصل میں ” بالباطل “ تھا ۔ ” سبحانک فقنا عذاب النار “۔
Ayah 3:192

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 3:192 in the Quran reader

اے پروردگار جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا اسے رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

192۔ (آیت)” ربنا انک من تدخل النار فقد اخزیتہ “۔ بمعنی رسوا کرنا ، بعض نے کہا کہ ہلاک کرنا، بعض نے کہا اللہ نے اس کو رسوا کردیا، یہ معنی ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ۔ کا فرمان (آیت)” ولاتخزون فی ضیفی “۔ سوال : اگر کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ ۔ کا ارشاد ہے (آیت)” یوم لایخزی اللہ النبی والذین امنوا معہ “۔ اللہ نبی کو اور ان لوگوں کو اور ان کے ساتھ جو ایمان لائے رسوا نہیں کرے گا حالانکہ مؤمن دوزخ میں جائیں گے جب اس آیت میں ہے کہ جو شخص دوزخ میں جائے گا وہ رسوا ہوگا ، دونوں آیتوں کے تضاد کو دور کرنے کی کیا صورت ہوگی ؟ جواب : انس ؓ قتادہ ؓ اس آیت کا معنی یہ کرتے ہیں جب تک وہ دوزخ میں رہے گا اس وقت تک وہ رسوا ہوتا رہے گا سعید بن مسیب ؓ کا قول ہے یہ خاص ہے ان لوگوں کے لیے جو جہنم سے نکلیں گے نہیں جیسا کہ حضرت انس ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ ایک جماعت کو دوزخ میں داخل کرے گا ، پھر اس سے نکالے گا ۔ (آیت)” وما لظلمین من انصار “۔
Ayah 3:193

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا١ۖۗ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ Open ayah 3:193 in the Quran reader

اے پروردگار ! ہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا کہ ایمان کے لیے پکار رہا تھا (یعنی اپنے) پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے اے پروردگار ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیوں کو ہم سے محو کر۔ اور ہم کو دنیا سے نیک بندوں کے ساتھ اٹھا۔

(تفسیر) 193۔: (آیت)” ربنا اننا سمعنا منادیا “ ۔ منادی سے مراد محمد ﷺ ہیں ، ابن مسعود ؓ اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے اس سے مراد اکثر لوگ ہیں قرظی نے فرمایا اس سے مراد قرآن ہے کیونکہ ہر شخص کی ملاقات تو حضور اقدس ﷺ سے نہیں ہوسکتی ” ینادی للایمان “ ایمان کے لیے پکار رہا تھا ۔ (آیت)” ان امنوا۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ مع الابرار “۔ یعنی نیکی لوگوں کے ساتھ ۔
Ayah 3:194

رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ Open ayah 3:194 in the Quran reader

اے پروردگار تو نے جن جن چیزوں کے ہم سے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے وعدے کیے ہیں وہ ہمیں عطا فرما اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کیجیو۔ کچھ شک نہیں کہ تو خلاف وعدہ نہیں کرتا۔

194۔ (آیت)” ربنا واتنا ما وعدتنا علی رسلک “۔ تمہارے رسولوں کی زبان پر (آیت)” ولا تخزنا “ رسوا نہیں کرنا ، عذاب دینے کے ساتھ ہلاک کرنے کے ساتھ اور رسوائی کرنے کے ساتھ (آیت)” یوم القیامۃ انک لا تخلف المیعاد “۔ سوال : جب معلوم تھا کہ اللہ وعدہ خلافی نہیں فرمائے گا تو پھر ایسا ارشاد کیوں فرمایا ؟ جواب : لفظا دعا ہے اور معنی خبر ہے ۔ مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے جو اپنے رسولوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے اس کو ضرور پورا کریں گے ، تقدیر عبارت اس طرح ہے ، (آیت)” فاغفرلنا ذنوبنا وکفر عنا سیئاتنا “۔ ۔۔۔۔۔۔ ” ولا تخزنا یوم القیامۃ “۔ ہم ان کو اپنے فضل اور رحمت سے ضرور عطاء کریں گے بعض نے کہا کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنے ثواب کا مستحق بنا دے اور تو نے جو وعدہ کیا ہے وہ ہمیں عطا فرما کیونکہ وہ لوگ انبیاء کی اس کرامت پر یقین نہیں کرتے ، پس ہم سوال کرتے ہیں کہ تو ہمیں اس کا مستحق بنا دے ، بعض نے کہا کہ کفار کے مقابلے میں جو مدد ونصرت کا وعدہ کیا گیا تھا اس کی جلدی کرنے میں سوال کر رہے تھے اور کہنے لگے کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ وعدہ خلافی نہیں کرتے لیکن ہمیں حلم پر صبر نہیں ہمیں رسوائی پہنچ چکی اس لیے ہم پر مدد فرما۔
Ayah 3:195

فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَاۤ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى١ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ Open ayah 3:195 in the Quran reader

تو ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو مرد ہو یا عورت ضائع نہیں کرتا۔ تم ایک دوسرے کی جنس ہو تو جو لوگ میرے لیے وطن چھوڑ گئے اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور لڑے اور قتل کیے گئے میں ان کے گناہ دور کر دونگا اور ان کو بہشتوں میں داخل کرلوں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ (یہ) خدا کے ہاں سے بدلا ہے اور خدا کے ہاں اچھا بدلہ ہے۔

195۔ (آیت)” فاستجاب لھم ربھم انی “ یہ اصل ” بانی “ تھا ” لااضیع “ نہیں اکارت کرتا، ” عمل عامل منکم “ اے مؤمنین ” من ذکر اوانثی “۔ مجاہد (رح) کا قول ہے حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں سن رہی ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب وسنت میں مردوں کا ذکر کرتا ہے عورتوں کا کوئی تذکرہ نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، (آیت)” بعضکم من بعض “ دین میں ہم مدد کرنے میں اور آپس میں دوستی میں اور بعض نے کہا کہ اس کا تمام انسانیت کے تحت ایکدوسرے کا معاملہ مراد ہے کیونکہ سب آدم وحواء کی اولاد ہیں ، ضحاک (رح) ، نے کہا کہ تمہارے مرد عورتوں کی طرح اور عورتیں مردوں کی طرح نیکی میں برابر ہیں ۔ ” کما قال والمؤمنون والمؤمنات بعضھم اولیاء بعض “۔ (آیت)” فالذین ھاجروا واخرجوا میں دیارھم واوذوا فی سبیلی “۔ سبیل سے مراد اطاعت اور دین میں فرمانبرداری ہے ۔ اس سے مہاجرین مراد ہیں جن کو مشرکین نے مکہ سے نکالا تھا (آیت)” وقاتلوا وقتلوا “۔ ابن عامر اور ابن کثیر (رح) نے ” قتلوا “ تشدید کے ساتھ پڑھا ہے، حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ وہ معرکے میں مارے گئے ، دوسرے قراء نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اکثر قراء نے (آیت)” قاتلوا وقتلوا “۔ پڑھا ہے ، انہوں نے ان مشرکین کے ساتھ قتال کیا ، پھر انہوں نے انکوقتل کیا، حمزہ اور کسائی (رح) نے ” قتلوا وقاتلوا “۔ پڑھا ہے ، اس کی دو وجہیں ہیں ، معنی ہوگا کہ جو باقی بچ گئے تھے ان کے ساتھ قتال کیا اور ” قتلوا “ کا مطلب ہے ان کے ساتھ بعض نے قتال کیا ، ، جیسا کہ عرب والے کہتے ہیں ، کہ بنی فلاں نے قتل و غارت کی تو ان میں سے بعض قتل کیے گئے ، دوسری وجہ یہ ہے کہ ” وقتلوا “ کا معنی ہے ” وقد قاتلوا “ اور تحقیق وہ قتل کیے گئے ، ” لاکفرن۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ من عند اللہ منصوب علی القطع ہے ، مبرد کا قول ہے کہ ہم ضرور بضرور ان کو ثواب عطا کریں گے ، (آیت)” واللہ عندہ حسن التواب “۔
Ayah 3:196

لَا یَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِی الْبِلَادِؕ Open ayah 3:196 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکا نہ دے۔

(تفسیر) 196۔ : (آیت)” لایغرنک تقلب الذین کفروا فی البلاد “۔ یہ مشرکین کے متعلق نازل ہوئی کہ اے مسلمانو ! تم کافروں کی فراخ حالی ، عیش پرست ، ان کی تجارت اور نعمت سے تم خوردہ نہ ہو ! بعض مؤمن لوگوں نے کہا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے بہتری شمار کر کے رکھی ہے اور ہم کوشش میں لگے ہوئے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” لایغرنک تقلب الذین کفروا فی البلاد “۔ کہ ان کا زمین میں گھومنا پھرنا اور شہروں میں تجارت کرنا اور ان کے مختلف قسم کے ذرائع سے تم خوردہ نہ ہو ، خطاب تو نبی کریم ﷺ کو ہے مراد اس سے امت ہے۔
Ayah 3:197

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۫ ثُمَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:197 in the Quran reader

(یہ دنیا کا) تھوڑا سا فائدہ ہے پھر (آخرت میں) تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

197۔ (آیت)” متاع قلیل “۔ یہ تھوڑا سا حقیر مال ہے ، فناء ہونے والا زائل ہونے والا فائدہ ” ثم ماواھم “ پھر ان کا ٹھکانہ (آیت)” جھنم وبئس المھاد “۔ مھاد بمعنی فراش کے ہے۔
Ayah 3:198

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ Open ayah 3:198 in the Quran reader

لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ (یہ) خدا کے ہاں سے (انکی) مہمانی ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ نیکوکاروں کے لیے بہت اچھا ہے

198۔ (آیت)” لکن الذین اتقوا ربھم لھم جنت تجری میں تحتھا ۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔ نزلا “۔ بدلہ اور ثواب ہے (آیت)” من عند اللہ “ تفسیر یہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (آیت)” وما عند اللہ خیر للابرار “۔ دنیا کے فائدے سے یہ بہتر ہے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں بالاخانے میں خدمت گرامی میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ ایک کھردری چٹائی پر آرام فرما رہے ہیں سر کے نیچے چمڑے کا تکیہ ہے جس میں کھجور کے خوشے بھرے ہوئے تھے قدموں کے پاس کچھ پکا چمڑا تہہ کیا رکھا تھا ، سرہانے کچی کھال لٹک رہی تھی ، اور چٹائی کے نشان پہلو پر پڑگئے تھے میں یہ دیکھ کر رونے لگا فرمایا کس وجہ سے روتے ہو ، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کسری اور قیصر اس حالت میں ہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں، فرمایا کہ تم اس پر رضا مند نہیں کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت ۔
Ayah 3:199

وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰهِ١ۙ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:199 in the Quran reader

اور بعض اہل کتاب ایسے بھی ہیں جو خدا پر اور اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور اس پر جو ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں۔ اور خدا کے آگے عاجزی کرتے ہیں اور خدا کی آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہیں لیتے۔ یہی لوگ ہیں جن کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں تیار ہے اور خدا جلد حساب لینے والا ہے۔

199۔ (آیت)” وان من اھل الکتاب لمن یؤمن باللہ “۔
Ayah 3:200

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا١۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 3:200 in the Quran reader

اے اہل ایمان (کفار کے مقابلوں میں) ثابت قدم رہو اور استقامت رکھو اور (مورچوں پر) جمے رہو اور خدا سے ڈرو تاکہ مراد حاصل کرو۔

(نجاشی کے غائبانہ نماز جنازہ کا ذکر) 200۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، جابر ؓ ، انس ؓ ، قتادہ ؓ ، کے نزدیک نجاشی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ، اس کا نام اصمحہ تھا اور عربی میں اس کا نام عطیہ تھا جس روز اس کی وفات ہوئی اس روز جبرئیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی ، آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے عرض کیا باہر نکل کر اپنے بھائی نجاشی کی نماز پڑھو ، اس کا انتقال دوسرے ملک میں ہوگیا ، چناچہ وہ بقیع تشریف لے گئے ، آپ کے سامنے سے سرزمین حبشہ تک پڑدہ ہٹادیا اور نجاشی کا جنازہ آپ نے دیکھ کر پڑھایا ، چار تکبریں کہیں اور دعا مغفرت کی ، منافق کہنے لگے ان کو دیکھو ایک حبشی عیسائی کافر کا جنازہ پڑھ رہے ہیں ، جو ان کے دین پر نہیں تھا نہ اس کو کبھی انہوں نے دیکھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت چالیس نجرانیوں کے متعلق نازل ہوئی ، جن میں بتیس (32) حبشہ کے رہنے والے تھے اور آٹھ رومی تھے ، یہ سب پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مذہب پر تھے پھر آپ ﷺ پر ایمان لے آئے تھے، ابن جریج (رح) نے کہا کہ اس آیت کا نزول حضرت عبداللہ بن سلام اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں ہوا ، مجاہد (رح) کا قول ہے کہ ان تمام اہل کتاب کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا جو ایمان لے آئے تھے ۔ (آیت)” وان من اھل الکتاب لمن یؤمن باللہ “۔۔۔۔۔۔۔ وما انزل الیکم ‘۔ اس سے مراد قرآن ہے ۔ (آیت)” وما انزل الیھم “ اس سے مراد توریت اور انجیل ہے ، ” خاشعین للہ “ تواضع اور انکساری کرتے ہوئے ، ” لایشترون بایات اللہ ثمنا قلیلا “۔ نہ وہ اپنی کتابوں میں تحریف کرتے ہیں اور نہ محمد ﷺ کی صفات چھپاتے ہیں ، ریاست اور ماکلہ کی وجہ سے ، یعنی چند رشوتیں لے کر اللہ کے کلام کو بگاڑے والے نہیں جس طرح یہود کے بڑے بڑے سردار تھے ، (آیت)” اولئک لھم اجرھم عند ربھم ان اللہ سریع الحساب “ ” یایھا الذین امنوا اصبروا وصابروا ورابطوا “۔ حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے اپنے دین پر صبر اختیار کرو سخت اور نرمی میں اس کی اطاعت نہ چھوڑو ، قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کی اطاعت میں صبر اختیار کرو ، ضحاک (رح) اور مقاتل بن سلیمان (رح) ، فرماتے ہیں کہ اللہ کے اوامر پر عمل کرتے رہو صبر اختیار کرکے ۔ مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرائض کی ادائیگی میں صبر اختیار کرو ، زید بن اسلم کا بیان ہے کہ جہاد پر صبراختیار کرو ، کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ مصیبت پر صبر اختیار کرو ” وصابروا “ کفار کے قتال پر صبر اختیار کرو ، ” ورابطوا “۔ اور مشرکین کے ساتھ مقابلہ میں مستعد رہو ، ابوعبیدہ فرماتے ہیں کہ دفاع اور ثابت قدم رہو، ربط کہتے ہیں باندھنا ، رباط کا اصل معنی یہ ہے کہ سرحدوں پر گھوڑے باندھے رکھنا بعد میں اس معنی میں مزید توسیع ہوگئی اور معنی ہوگیا ، سرحد پر ہر مقیم کا دشمن کو دفع کرنے کے لیے مستعد رہنا خواہ اس کے پاس گھوڑو ہو یا نہ ہو ، سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی راہ میں سرحد پر ایک دن کی چوکیداری دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور جنت کے اندر ایک کوڑے کے برابر تم میں سے کسی کی جگہ دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے بہتر ہے اور جو شخص ایک شام یا ایک صبح کو اللہ کی راہ میں نکلتا ہے وہ اس کے لیے دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے بہتر ہے ۔ سلمان خیر ؓ کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن اور ایک رات پہریداری کی تو اس کو حالت اقامت میں ایک ماہ کے روزوں کا ثواب ملے گا اور جو پہرہ دیتے ہوئے مرگیا اس کے لیے اس جیسا اجر جاری رکھا جائے گا اور اس کو رزق ملتا رہے گا اور وہ قبر کے فتنوں سے محفوظ رہے گا ۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن ؓ کا فرمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کبھی کوئی جہاد ایسا نہیں ہوا کہ اس میں سرحد پر پہرہ نہ کیا گیا ہو ، لیکن ایک نماز سے دوسری تک کا انتظار ہی پہرہ ہوتا تھا ، اس تاویل کی دلیل وہ روایت ہے جس کو حضرت ابوہریرہ ؓ نے روایت کیا ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کیا میں تمہیں خبر نہ دوں ایسے عمل کی جو گناہوں کو مٹا دیتے ہیں (اور خطاؤں کو معاف کردیتے ہیں) اور درجات بلند کرتے ہیں ، وضو کو پورا پورا کرنا مشکل وقت میں بھی اور مساجد کی طرف اٹھنے والے زیادہ قدم ، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ، یہ تمہارا رباط ہے یہی تمہارا رباط ہے ، (آیت)” واتقواللہ لعلکم تفلحون “۔ بعض ارباب لسان فرماتے ہیں ، کہ نعمتوں پر شکر ادا کرنا اور سختی وتنگی میں صبر کرنا اور مضبوط رہنا دشمنوں کے ملک میں اور اللہ سے ڈرنا جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے تاکہ تم کامیاب ہو باقی رہنے والے گھر میں ۔